8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 8:41

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 8:41 in the Quran reader

اور تمہیں معلوم ہو کہ جو کچھ بطور غنیمت تمہیں حاصل ہوا ہے اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول کے لئے ' (رسول کے) قرابت داروں کے لئے ' یتیموں ' مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے۔ (اور اس تقسیم پر تمہیں عمل کرنا چاہئے) اگر تم اللہ پر اور اس (مدد غیبی) پر ایمان رکھتے ہو جو فیصلے کے دن (یعنی) دونوں فوجوں کی مڈبھیڑ کے دن ہم نے اپنے بندے پر نازل کی تھی اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

[11] سورت کی ابتداء میں ارشاد ہوا تھا کہ مال غنیمت کی تقسیم کا اختیار اللہ اور اس کے رسول کو ہے۔ یہاں اس کی تقسیم کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ اس تقسیم میں اللہ اور رسول کا حصہ ایک ہی ہے جو نبی ﷺ کو زمانہ حیات میں ملتا تھا۔ نائب الٰہی کی خدمت میں پیش کردینا گویا اللہ کے حضور ہی پیش کردینا تھا۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کا اور آپ کے قرابت داروں کے حصے ساقط ہوگئے اور یہ یتیموں اور مسکینوں کو ملیں گے یعنی خمس اب تین حصوں میں تقسیم ہوگا۔ خلفاء راشدین کا اسی پر عمل تھا۔ [12] یعنی معرکہ بدر کے دن۔
Ayah 8:42

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:42 in the Quran reader

(یہ وہ وقت تھا) جب تم (میدان جنگ کے) نزدیک والے کنارے پر تھے اور وہ دور والے کنارے پر اور قافلہ تم سے نیچے (ساحل) کی طرف تھا۔ اور اگر تم (دونوں فریقوں) نے (پہلے سے) آپس میں (لڑائی کی) بات ٹھہرائی ہوتی تو ضرور اس تقرر کے بارے میں تم میں اختلاف ہوجاتا، لیکن (اللہ نے دونوں فریقوں کو بھڑا دیا تاکہ) اللہ اس بات کو پورا کر دکھائے جو ہونے والی تھی، (نیز اس لئے) کہ جسے ہلاک ہونا ہے، وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے۔ بلاشبہ اللہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

[13] یعنی عام دستور تو یہ ہے کہ لڑائی کے لئے فریقین اپنے قصد ومرضی سے کوئی میدان اور تاریخ مقرر کرتے تھے یہاں بھی اگر یہی صورت رہنے دی جاتی تو تم دشمنوں کی کثرت اور اپنی قلت اور بےسروسامانی کی وجہ سے جنگ سے ضرور پہلو تہی کر جاتے۔ [14] یعنی اللہ کو یہ جنگ اس لئے منظور ہوئی کہ اس سے اسلام کا برحق ہونا ظاہر ہوجائے اور دنیا دیکھ لے کہ قلت عدد و کم سامانی کے باوجود مسلمان غالب آئے۔ اس سے حجت الٰہی تمام ہوگئی۔ اس کے بعد جو گمراہ ہوگا اس کے لئے عذر کی گنجائش نہیں رہتی۔ اسی طرح جسے ہدایت پانا ہے وہ یقین کے ساتھ ایمان لائے اور حجت وبرہان سے جان لے کہ دین اسلام برحق ہے۔
Ayah 8:43

اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 8:43 in the Quran reader

(اے پیغمبر ' وہ وقت یاد کرو) جب اللہ تمہیں خواب میں کافروں کو تھوڑا دکھا رہا تھا اور اگر انہیں زیادہ دکھاتا تو (مسلمانو ' ) تم ضرور ہمت ہار جاتے اور اس امر میں ضرور آپس میں جھگڑنے لگتے (کہ لڑیں یا نہ لڑیں) مگر اللہ نے (تمہیں اس صورت حال سے) بچا لیا۔ بلا شبہ وہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے۔

[15] اس آیت میں اس خواب کی طرف اشارہ ہے جو جنگ بدر سے پہلے نبی ﷺ نے دیکھا تھا۔ آپ ﷺ نے صحاب ؓ سے یہ خواب بیان کیا جس سے ان کے دل قوی ہوگئے۔ آپ ﷺ کا خواب غلط نہ تھا کیونکہ مقابل لشکر میں سے اکثر لوگ وہ تھے جو آگے چل کر ایمان لائے۔ اور خواب میں قلت کی تعبیر ضعف سے ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غالب فرما کر کفار کا ضعف ظاہر کردیا۔
Ayahs 8:44–52

وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 8:44 in the Quran reader

اور (مسلمانو ' وہ وقت یاد کرو) جب کہ تم (کافروں کے) مقابل ہوئے (تو) اللہ نے انہیں تمہاری نظر میں تھوڑا دکھایا اور ان کی نگاہوں میں تمہیں تھوڑا دکھایا تاکہ اللہ اس بات کو پورا کر دکھائے جو ہونے والی تھی اور (آخرکار) سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع ہوں گے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 8:45 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ' جب تم کسی گروہ کے مقابل ہو تو ثابت قدم رہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ Open ayah 8:46 in the Quran reader

اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ کم ہمت ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور (لڑائی کی تکلیفوں پر) صبر کرو۔ بلاشبہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 8:47 in the Quran reader

اور (دیکھو ' ) ان (کافروں) جیسے نہ بنو جو اپنے گھروں سے (لڑنے کے لئے) اتراتے ہوئے اور لوگوں کو (اپنی شان) دکھاتے ہوئے نکلے تھے اور جن کا حال یہ ہے کہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور جو کچھ بھی یہ لوگ کرتے ہیں اللہ (اپنے علم وقدرت سے) اس پر چھایا ہوا ہے۔

وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 8:48 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب کہ شیطان نے ان (کافروں) کے کرتوت انہیں خوشنما کر کے دکھا دئیے تھے اور (ان سے) کہا تھا کہ آج ان لوگوں میں کوئی نہیں جو تم پر غالب آسکے اور میں تمہارا رفیق ہوں۔ پھر جب دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں تو وہ الٹے پاؤں بھاگا اور کہنے لگا کہ میں تم سے بری الذمہ ہوں۔ میں وہ (کچھ) دیکھ رہا ہوں جو تم لوگ نہیں دیکھتے۔ میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ سزا دینے میں سخت ہے۔

اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:49 in the Quran reader

(یہ وہ وقت تھا) جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں (شک کا) روگ لگا ہوا تھا کہہ رہے تھے کہ ان (مسلمانوں) کو تو ان کے دین نے مغرور کردیا ہے۔ (وہ نہیں جانتے تھے کہ مسلمانوں کا بھروسہ اللہ پر ہے) اور جس کسی نے اللہ پر بھروسہ کیا تو یقینا اللہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 8:50 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ' ) کاش تم (کافروں کی حالت) دیکھ سکتے جب کہ فرشتے (ان) کافروں کی روحیں قبض کر رہے تھے اور ان کے چہرے اور پیٹھوں پر ضربیں لگاتے جاتے تھے اور (کہتے جاتے تھے کہ لو اب) عذاب دوزخ (کے مزے) چکھو۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ Open ayah 8:51 in the Quran reader

یہ (سزا) تمہارے ان (اعمال بد) کا نتیجہ ہے جو خود تمہارے ہاتھوں نے پیشگی مہیا کر رکھا تھا ' ورنہ اللہ تو اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:52 in the Quran reader

(ان کے ساتھ ویسا ہی معاملہ ہوا) جیسا (معاملہ) فرعونیوں اور ان لوگوں سے پہلے (سرکش) لوگوں کے ساتھ (ہوا تھا) ۔ انہوں نے اللہ کی آیتوں سے انکار کیا تھا تو اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا۔ بلاشبہ اللہ (بڑی) قوت والا (اور) سخت سزا دینے والا ہے۔

[16] کفار کو مسلمانوں کی نظر میں تھوڑا دکھایا جس سے مسلمانوں میں استقامت کی روح پیدا ہوگئی، نیز مسلمانوں کو کفار کی نظر میں تھوڑا دکھایا (اور فی الواقع وہ تھے بھی تھوڑے) تاکہ وہ مقابلے پرجم جائیں اور بھاگ نہ کھڑے ہوں۔
Ayahs 8:53–55

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:53 in the Quran reader

یہ بات اس لئے ہوئی (کہ اللہ کا مقررہ قانون ہے) کہ جو نعمت وہ کسی قوم کو عطا فرماتا ہے اسے اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک خود اس قوم کے افراد اپنی حالت نہ بدل لیں۔ بیشک اللہ (سب کچھ) سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 8:54 in the Quran reader

(چنانچہ ان کا معاملہ ویسا ہی ہے) جیسا معاملہ فرعونیوں کا اور ان سے پہلے (سرکش) لوگوں کا۔ انہوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا تو ہم نے ان کے گناہوں کے بدلے انہیں ہلاک کر ڈالا اور فرعونیوں کو (تو) غرق (ہی) کردیا۔ اور (یہ) سب (کے سب بڑے ہی) ظالم تھے۔

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ Open ayah 8:55 in the Quran reader

(اے پیغمبر ' ) بلاشبہ اللہ کے نزدیک بدترین حیوان وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے تو وہ کسی طرح ایمان لانے والے نہیں '

[17] یعنی جس قوم کو اللہ تعالیٰ نعمتوں سے سرفراز فرماتا ہے اس سے وہ اس وقت تک واپس نہیں لیتا جب تک وہ اپنے حالات و اعمال کو بدل کر خود ہی اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دے۔ حالات اور اعمال کے بدلنے سے مراد یہ ہے کہ اچھے اعمال اور اچھے حالات کو بدل کر برے اعمال اور برے حالات اختیار کرے یا یہ کہ اللہ کی نعمتیں پانے کے وقت جن اعمال بد اور گناہوں میں مبتلا تھی ان سے زیادہ برے اعمال میں مبتلا ہوجائے۔
Ayah 8:56

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 8:56 in the Quran reader

(خصوصاً ) وہ لوگ جن سے تم نے معاہدہ کیا پھر وہ ہر موقع پر اپنا عہد توڑتے رہتے ہیں اور (اللہ سے ذرا) نہیں ڈرتے۔

[18] نبی ﷺ جب ہجرت کر کے مدینے تشریف لائے تو یہاں کے رہنے والے یہودیوں سے امن و صلح اور باہم دگر اعانت کا معاہدہ کیا۔ لیکن ابھی معاہدے کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ یہودیوں نے خلاف وزری شروع کردی اور قریش مکہ سے مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے لگے۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 8:57

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 8:57 in the Quran reader

پس اگر تم انہیں لڑائی میں (موجود) پاؤ تو انہیں ایسی سزا دو کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہیں ان کو بھاگتے دیکھ کر خود بھی بھاگ کھڑے ہوں۔

[19] یعنی مشرکین مکہ۔
Ayahs 8:58–59

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ Open ayah 8:58 in the Quran reader

اور شاید (بدعہدی کے اس انجام سے) عبرت پکڑیں۔ اور اگر تمہیں کسی قوم کی طرف سے دغا کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو (علانیہ) اس کے سامنے پھینک دو تاکہ تم اور وہ برابر ہوجائیں۔ یقینا اللہ دغابازوں کو پسند نہیں کرتا۔

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ Open ayah 8:59 in the Quran reader

اور کافر یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ بازی لے گئے۔ یقینا وہ (ہمیں) عاجز نہیں کرسکتے۔

[20] یعنی کھلے طور پر خبر دے دو کہ معاہدہ فسخ ہوگیا تاکہ فسخ معاہدہ کے علم میں دونوں فریق برابر ہوجائیں اور تیاری کے لئے دونوں کے مواقع یکساں ہوں۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ قرآن نے ہر معاملے میں حتیٰ کہ جنگ میں بھی سچائی اور دیانت کا جو معیار قائم کیا ہے وہ کتنا بلند ہے۔
Ayahs 8:60–65

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

اور (مسلمانو، ) جہاں تک تم سے ہو سکے قوت پیدا کر کے اور گھوڑے تیار رکھ کر دشمنوں (کے مقابلے) کے لئے اپنا سازوسامان مہیا کئے رہو کہ اس طرح اللہ کے اور اپنے دشمنوں پر اپنی دھاک بٹھائے رکھو گے ' (نیز) ان کے سوا دوسروں پر بھی جنہیں تم نہیں جانتے (مگر) اللہ انہیں (خوب) جانتا ہے۔ اور اللہ کی راہ میں جو کچھ بھی خرچ کرو گے وہ پورا پورا تمہیں دے دیا جائے گا اور (ذرا بھی) تمہاری حق تلفی نہ ہوگی

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ' ) اگر (دشمن) صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی ان کی طرف جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ بلاشبہ وہی (سب کچھ) سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر ان کا ارادہ تمہیں دھوکہ دینے کا (بھی) ہو تو (تم کچھ پروا نہ کرو) اللہ تمہارے لئے کافی ہے۔ وہی تو ہے جس نے تمہیں اپنی مدد سے اور مومنین (کی جماعت) سے تمہاری تائید کی

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور مومنوں کے دلوں میں باہم الفت پیدا کردی اگر تم وہ سب کچھ خرچ کر ڈالتے جو زمین میں ہے تو بھی ان کے دلوں میں باہم الفت نہ پیدا کرسکتے مگر (وہ تو) اللہ ہی (تھا جس) نے ان میں باہم الفت پیدا کردی بلاشبہ وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

(پس) اے پیغمبر ' تمہارے لئے اللہ کافی ہے اور ان مومنین کے لئے بھی جنہوں نے تمہارا اتباع کیا۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اے پیغمبر ' مومنوں کو (کافروں کے ساتھ) جنگ پر ابھارو۔ اگر تم میں سے بیس آدمی بھی ثابت قدم ہوں گے تو وہ دو سو (کافروں) پر غالب رہیں گے اور اگر تم میں سے سو آدمی (ایسے) ہوں گے تو کافروں کے ایک ہزار پر غالب رہیں گے کیونکہ یہ (کافر) ایسے لوگ ہیں جو (اجرآخرت کو) سمجھتے ہی نہیں (کہ اس کے لئے جان دینے میں مضائقہ نہ کریں) ۔

[21] اس آیت میں بڑی گہری حقیقت بیان کی گئی ہے وہ یہ کہ کفار تو برابر تمہارے اور تمہارے دین کے دشمن رہا ہی کریں گے لہذا تمہارے پاس جنگ اور مستقل فوج ہمیشہ تیار رہنی چاہئے جن سے ان پر ہیبت طاری ہوتی ہو اور ان کے دل دہلتے ہوں۔
Ayah 8:66

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

(مسلمانو ' ) اب اللہ نے تم پر تخفیف فرمائی۔ اس نے جان لیا کہ تم میں (ابھی) کمزوری ہے ' تو اگر تم میں سے ثابت قدم رہنے والے سو ہوں گے تو وہ دو سو (کافروں) پر غالب رہیں گے اور اگر تم میں سے ایک ہزار (ایسے) ہوں گے تو وہ اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب رہیں گے اور (یادرکھو) اللہ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے۔

[22] مطلب یہ ہے کہ اصلی قاعدہ اور وعدہ تو وہی رہا جو آیت 65 میں بیان ہوچکا ہے ' صرف مشقت تم پر سے گھٹا دی گئی کیونکہ تم لوگوں کی اخلاقی تربیت مکمل نہیں ہوئی ہے اور تمہیں پورا شعور حاصل نہیں ہوا ہے۔ یہ یاد رہے کہ یہ ارشاد 2 ھ کا ہے جب کہ مسلمانوں میں بہت سے لوگ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے اور ان کی تربیت ابتدائی حالت میں تھی۔
Ayah 8:67

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:67 in the Quran reader

نبی کے لئے سزاوار نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ ملک میں غلبہ حاصل نہ کرے۔ (مسلمانو ' ) تم تو دنیا کی متاع چاہتے ہو اور اللہ (تمہیں) آخرت (کی نعمتیں) دینا چاہتا ہے اور اللہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

[23] اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ معرکہ بدر کے بعد دشمن کے ستر آدمی گرفتار ہوئے تو سوال پیدا ہوا کہ ان کے ساتھ کیا کیا جائے کیونکہ اس وقت مسلمان بڑی تنگی اور افلاس کی حالت میں تھے اس لئے عام رائے یہ تھی کہ قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے لیکن بعض لوگوں کی رائے یہ تھی کہ انہیں قتل کردینا چاہئے۔ عمر ؓ بھی انہی میں تھے لیکن نبی اکرم ﷺ نے عام رائے کے مطابق فیصلہ فرمایا اور قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا۔
Ayahs 8:68–70

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اگر اس بارے میں اللہ کا نوشتہ پہلے نہ لکھا جا چکا ہوتا تو جو کچھ تم لوگوں نے لیا تھا اس کی پاداش میں تمہیں بڑا عذاب پہنچتا۔

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

بہرحال جو کچھ تمہیں غنیمت میں ہاتھ لگا ہے اسے حلال و طیب سمجھ کر کھاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بلاشبہ اللہ بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 8:70 in the Quran reader

اے پیغمبر ' (بدر کے) قیدی جو (ہنوز) تم لوگوں کے قبضے میں ہیں ان سے کہہ دو کہ اگر اللہ کو تمہارے دلوں میں کچھ نیکی کا عمل معلوم ہوا تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر وہ تمہیں عطا فرمائے گا اور تمہیں بخش دے گا کیونکہ وہ بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[24] جنگ بدر سے پہلے سورة محمد ﷺ میں جنگ کے بارے میں جو آیت نازل ہوئی تھی اس میں فرمایا گیا تھا کہ جب کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہو تو پہلا کام ان کی گردنیں مارنا ہے یہاں تک کہ جب تم انہیں اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو۔ اس کے بعد احسان کرو یا فدیہ کا معاملہ کرلو (آیت 4) ۔ اسی حکم کی رو سے مسلمانوں نے بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑا لیکن غلطی یہ ہوئی کہ دشمن کی طاقت کو کچلنے کی جو شرط مقدم رکھی گئی تھی اسے پورا کرنے سے پہلے مسلمان دشمنوں کو قیدی بنانے اور مال غنیمت جمع کرنے میں مشغول ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات ناپسند ہوئی کیونکہ اگر دشمن کی پسپائی کے بعد مسلمان اس کا تعاقب کرتے تو اس کی طاقت بالکل ختم ہوجاتی۔
Ayah 8:71

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:71 in the Quran reader

لیکن اگر وہ تم سے خیانت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو (کوئی وجہ نہیں کہ اس اندیشے سے تم اپنا طرز عمل بدل ڈالو ' ) یہ اس سے پہلے خود اللہ کے ساتھ خیانت کرچکے ہیں تو (اس کی پاداش میں) اس نے ان کو (تمہارے ہاتھ) گرفتار کروا دیا اور اللہ بڑا علم والا (اور) حکمت والا ہے۔

[25] بعض قیدیوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ ان کے بارے میں ارشاد ہوا کہ اگر واقعی وہ سچے دل سے ایمان لائے ہیں تو جو کچھ زر فدیہ ان سے وصول کیا گیا ہے اس سے کہیں بڑھ کر اجر اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرمائے گا۔ اور اگر قبول اسلام سے پیغمبر اسلام کو فریب دینا مقصود ہے یا دغابازی کرنے کا ارادہ ہے تو اس سے پہلے وہ اللہ سے دغابازی کرچکے ہیں جس کے نتیجے میں وہ آج مسلمانوں کی قید و قابو میں آگئے۔ اللہ سے دغابازی سے مراد وہ فطری عہد الست ہے جس کا ذکر سورة اعراف آیت 172 صفحہ 372 میں کیا گیا ہے اور جس کا انہوں نے پاس نہیں کیا۔
Ayah 8:72

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:72 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے جان و مال سے جہاد کیا اور جن لوگوں نے (مہاجرین کو) جگہ دی اور (ان کی) مدد تو یہی لوگ ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور جو لوگ ایمان تو لے آئے اور ہجرت نہیں کی تو ان سے تمہارا (اعانت اور) رفاقت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک وہ ہجرت نہ کریں۔ ہاں اگر دین کے بارے میں تم سے مدد طلب کریں تو ان کی مدد کرنا تم پر لازم ہے ' مگر اس قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا (صلح کا) معاہدہ ہو۔ اور جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔

[26] اس آیت میں آزاد اور غلام مسلمانوں کے تعلقات کو بیان کیا گیا ہے۔ جو مسلمان دارالکفر میں رہنے پر مجبور ہوں ان سے دارلاسلام کے مسلمانوں کے تمدنی اور سیاسی تعلقات نہیں رہ سکتے جب تک وہ دارالکفر سے ہجرت کر کے دارلاسلام کی رعایا نہ بن جائیں۔ لیکن ان سے تعلقات منقطع کرنے کے باوجود دین کے بارے میں مددگاری کا تعلق قائم رہے گا۔ اگر دارالکفر کے مسلمانوں کے دین کو کوئی خطرہ ہو یا ان پر ظلم ہو اور وہ دینی رشتے کا واسطہ دے کر مدد مانگیں تو دارلاسلام کے مسلمانوں پر فرض ہے کہ ان کی مدد کو پہنچیں بشرطیکہ جس کے خلاف مدد مانگی گئی ہے اس سے مسلمانوں کا صلح کا معاہدہ نہ ہو۔
Ayahs 8:73–74

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ Open ayah 8:73 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا وہ ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ و فساد برپا ہوگا۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 8:74 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے (مہاجرین کو) جگہ دی اور (ان کی) مدد کی تو یہی لوگ سچے مومن ہیں۔ ان کے لئے مغفرت ہے اور عزت (وآبرو) کی روزی

[27] یعنی آپس کی مخالفتوں اور دشمنیوں کے باوجود مسلمانوں کے مقابلے میں ایک ہوجاتے ہیں۔ [28] یعنی جو ہدایات آیت 27 میں دی گئی ہیں اگر ان پر عمل نہ کرو گے تو کفار قوی ہوں گے اور مسلمان کمزور جس کا نتیجہ فتنہ و فساد کی صورت میں رونما ہوگا۔
Ayah 8:75

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 8:75 in the Quran reader

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کی تمہارے ساتھ ہو کر جہاد بھی کیا تو وہ بھی تم ہی میں داخل ہیں۔ (باقی رہے) قرابت دار تو وہ اللہ کے حکم کے مطابق ایک دوسرے (کی میراث) کے زیادہ حقدار ہیں۔ یقینا اللہ ہر شے کا علم رکھتا ہے۔

[29] یعنی وراثت اسلامی بھائی چارے کی بنیاد پر نہیں بلکہ رشتہ داری کی بنیاد پر تقسیم ہوگی۔ یہ اس لئے فرمایا گیا کہ ہجرت کے بعد نبی اکرم ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان جو مواخاۃ کرائی تھی اس نے مسلمانوں میں ایسا ولولہ پیدا کردیا تھا کہ لوگ دینی بھائیوں کو خون کے رشتہ داروں سے زیادہ اپنا سمجھنے لگے تھے۔ اس لئے بعض لوگوں کو یہ خیال ہوا کہ یہ دینی بھائی ایک دوسرے کے وارث بھی ہوں گے۔ تشریح غزوہ بدر 17۔ رمضان المبارک کو بدر ( بدر مدینے سے تقریباً 80 میل دور مکہ کی طرف واقع ہے۔ ) کے مقام پر فریقین کا مقابلہ ہوا۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام کی تعداد تین سو سے کسی قدر زیادہ تھی۔ یہ تعداد مختلف روایتوں میں 305 سے 319 تک بتائی گئی ہے۔ ان میں سے مہاجرین 74 یا 76 تھے باقی سب انصار تھے۔ ان کے ساتھ دو گھوڑے اور ستر اونٹ تھے۔ ہر اونٹ کی سواری میں تین تین افراد شریک تھے اور باری باری سوار ہوتے تھے۔ قریش کے لشکر کی تعداد کم از کم 590 تھی اور ان کے ساتھ ایک سو گھوڑے تھے۔ لشکر کا سپہ سالار عقبہ بن ربیعہ تھا۔ اونٹوں کی کثرت کا اندازہ اسی سے ہوسکتا ہے کہ ہر منزل پر وہ نو یا دس اونٹ ذبح کرتے چلے آئے تھے۔ زرہیں اور باقی سازو سامان جنگ بھی بہت زیادہ تھا۔ سعد بن معاذؓ نے رسول اللہ ﷺ کے لئے ایک ٹیلے پر سائبان سا بنادیا تھا۔ ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور سعد بن معاذ ؓ دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ آپ نے رات دعاؤں میں گزاردی مولانا شبلی مرحوم نے لکھا ہے : یہ عجیب منظر تھا۔ اتنی بڑی وسیع دنیا میں توحید کی قسمت صرف چند جانوں پر منحصر تھی۔ رسول اللہ ﷺ پر سخت مصنوع کی حالت طاری تھی۔ دونوں ہاتھ پھیلا کر فرماتے تھے :" اے اللہ تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اسے آج پورا کر " محویت اور بےخودی کے عالم میں چادر کندھے سے گر گر پڑتی تھی اور آپ کو خبر تک نہ ہوتی تھی کبھی سجدے میں گرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اے اللہ اگر یہ چند نفوس آج مٹ گئے تو پھر قیامت تک توُ پو جا نہ جائے گا۔ اس معرکہ کار زار میں سب سے زیادہ سخت امتحان مہاجرین مکہ کا تھا جن کے اپنے بھائی سا منے صف آراء تھے۔ کسی کا باپ، کسی کا بیٹا، کسی کا چچا، کسی کا ما موں، کسی کا بھائی اس کی اپنی تلوار کی زد میں آرہا تھا اور اپنے ہاتھوں اپنے جگر کے ٹکڑے کا ٹنے پڑ رہے تھے۔ اس کڑی آزمائش سے صرف وہی لوگ گزر سکتے تھے جنہوں نے پوری سنجیدگی کے ساتھ حق سے رشتہ جوڑا ہو اور جو باطل کے ساتھ سارے رشتے قطع کر ڈالنے پر تل گئے ہوں۔ انصار کا امتحان بھی کچھ کم سخت نہ تھا۔ اب تک تو انہوں نے عرب کے طاقتور ترین قبیلے قریش اور اس کے حلیف قبائل کی دشمنی صرف اسی حد تک مول لی تھی کہ ان کے علی الرغم مسلمانوں کو اپنے ہاں پناہ دے دی تھی۔ لیکن اب تو وہ اسلام کی حمایت میں ان کے خلاف لڑنے بھی جا رہے تھے جس کے معنی یہ تھے کہ ایک چھوٹی سی بستی جس کی آبادی چند ہزار نفوس سے زیادہ نہیں تھی سارے ملک عرب سے لڑائی مول لے رہی تھی۔ یہ جسارت صرف وہی لوگ کرسکتے تھے جو کسی طاقت پر ایسا ایمان لے آئے ہوں کہ اس کی خاطر اپنے ذاتی مفاد کی انہیں ذرّہ برابر پرواہ نہ رہی ہو۔ آخر کار ان لوگوں کی صداقت ایمان اللہ کی طرف سے نصرت کا انعام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی اور قریش اپنے سارے غرور طاقت کے باوجود ان بےسرو سامان فدائیوں کے ہاتھوں شکست کھا گئے۔ ان کے سترّ آدمی مارے گئے اور سترّ قید ہوگئے اور ان کا سامان غنیمت بھی مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔ قریش کے بڑے بڑے سردار جو اسلام کی مخالف تحریک کے روح رواں تھے اس معرکے میں ختم ہوگئے اور اس فیصلہ کن فتح نے عرب میں اسلام کو ایک قابل لحاظ طاقت بنادیا۔ جیسا کہ ایک مغربی محقق نے لکھا ہے۔ " بدر سے پہلے اسلام محض ایک مذہب اور ریاست تھا مگر بدر کے بعد وہ مذہب ریاست بلکہ خود ریاست بن گیا "۔ شہدائے بدر صحابہ کرام میں سے چودہ شہید ہوئے، ان میں سے چھ مہاجرین میں سے اور آٹھ انصار میں سے تھے۔