9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 9:1–2

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

(مسلمانو ' ) صاف جواب ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کو جن کے ساتھ تم نے (صلح و امن کا) معاہدہ کیا تھا۔

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

پس (اے مشرکو ' ) ملک میں چار مہینے (اور) چل پھر لو (کوئی روک ٹوک نہیں ' اس کے بعد جنگ کی حالت قائم ہوجائے گی) ' اور جان لو کہ تم اللہ کو کبھی عاجز نہ کرسکو گے اور یہ کہ اللہ کافروں کو رسوا کرنے والا ہے۔

[1] اس سورت کو سورة برآء َۃ بھی کہا جاتا ہے، برآء َۃ اس لئے کہ اس میں کفار سے بری الذمہ ہونے کا اعلان ہے اور توبہ اس لئے کہ اس میں بعض مسلمانوں کی توبہ قبول ہونے کا بیان ہے۔ قرآن مجید کی صرف یہی ایک سورت ہے جس کے شروع میں بسم اللہ نہیں لکھی جاتی۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) اس سورت کے ساتھ بسم اللہ لے کر نازل نہیں ہوئے تھے۔ اس لئے نبی ﷺ نے بسم اللہ لکھنے کا حکم نہیں فرمایا۔ نیز سیدنا علی ؓ سے مروی ہے کہ بسم اللہ امان ہے اور سورت برآء َۃ میں کفار کے امان اور عہد و پیمان کو ختم کرنے کا بیان ہے جو بسم اللہ کے مناسب نہیں۔ [2] صلح حدیبیہ کی بنیادی شرط یہ تھی کہ دس برس تک دونوں فریق یعنی مسلمان اور مشرکین مکہ صلح و امن پر قائم رہیں گے لیکن ابھی اس معاہدے کو دو برس بھی نہیں گزرے تھے کہ مشرکین نے عہد شکنی کی۔ چناچہ انہیں نوٹس دیا جا رہا ہے کہ تم سے معاہدہ ختم، بس اب تلوار ہی تمہارا فیصلہ کرے گی۔
Ayahs 9:3–4

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اور حج اکبر کے دن اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کے لئے (عام) منادی کی جاتی ہے کہ اللہ مشرکین سے بری الذمہ ہے اور اس کا رسول بھی۔ پس (اے مشرکو ' ) اگر تم توبہ کرلو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر روگردانی کرتے رہے تو جان رکھو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے۔ اور (اے پیغمبر ' ) کافروں کو عذاب دردناک کی خوشخبری سنا دو ۔

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

ہاں مشرکین میں سے جن کے ساتھ تم نے (صلح و امن کا) معاہدہ کیا تھا پھر انہوں نے (ایفائے عہد میں) تمہارے ساتھ کسی طرح کی کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی وہ (اس حکم سے) مستثنیٰ ہیں ' تو ان کے ساتھ جو معاہدہ ہے اسے اس کی مدت (مقررہ) تک پورا کرو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے۔

[3] یعنی وہ حج جو ذی الحجہ کی مقررہ تاریخوں میں کیا جاتا ہے، اس کو حج اکبر اس لئے کہا گیا کہ اہل عرب عمرے کو حج اصغر یعنی چھوٹا حج کہتے تھے۔
Ayahs 9:5–6

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

پھر جب حرمت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو جہاں پاؤ قتل کرو اور انہیں گرفتار کرو اور ان کا محاصرہ کرو اور ہر گھات کی جگہ پر ان کی تاک میں بیٹھو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں ' نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو کیونکہ اللہ (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ' ) مشرکین میں سے کوئی پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دو تاکہ وہ (اچھی طرح) کلام الٰہی سن لے پھر اسے اس کے امن کی جگہ پہنچا دو ۔ یہ (رعایت ان لوگوں کے حق میں) اس وجہ سے ہے کہ وہ (دین کی حقیقت کا) علم نہیں رکھتے۔

[4] یعنی وہ چار مہینے جن کی مہلت مشرکین کو دی گئی تھی۔ ان مہینوں کو حرمت کے مہینے اس لئے کہا گیا کہ ان میں یعنی اس مہلت کے زمانے میں مسلمانوں کے لئے مشرکین پر حملہ آور ہونا جائز نہ تھا۔ [5] یعنی ان سے کسی طرح کا تعرض نہ کرو، بشرطیکہ وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ محض کفر و شرک سے توبہ کرنے سے یہ نہیں مانا جائے گا کہ انہوں نے کفر چھوڑ کر اسلام اختیار کیا ہے۔
Ayahs 9:7–11

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

(یہ) کیسے ہوسکتا ہے کہ (ان) مشرکین کا عہد اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک (عہد) ہو ؟ ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد حرام کے قریب (حدیبیہ میں صلح کا) معاہدہ کیا تھا (اور انہوں نے اسے نہیں توڑا) تو جب تک وہ تمہارے ساتھ ( عہد پر) قائم رہیں تم بھی ان کے ساتھ (عہد پر) قائم رہو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے۔

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

(مگر ان کے سوا دوسرے مشرکین کے ساتھ عہد) کیسے ہوسکتا ہے (جن کا حال یہ ہے) کہ اگر تم پر غلبہ پائیں تو تمہارے بارے میں نہ تو قرابت کا پاس کریں اور نہ عہد (وپیمان) کا۔ (یہ لوگ) اپنی زبانوں سے تمہیں راضی (کرنے کی کوشش) کرتے ہیں مگر ان کے دل (ان باتوں سے) انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر بدعہد ہیں۔

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

ان لوگوں نے اللہ کی آیتیں تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالیں پھر اللہ کی راہ سے (لوگوں کو) روکنے لگے۔ (افسوس ان پر ! ) بہت ہی برے کام تھے جو یہ کرتے رہے۔

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

یہ کسی مومن کے بارے میں نہ تو قرابت کا پاس کرتے ہیں نہ عہد (وپیمان) کا اور یہی لوگ زیادتی کرنے والے ہیں۔

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

بہرحال اگر یہ توبہ کرلیں ' نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں ' اور جو لوگ سمجھ دار ہیں ان کے لئے ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کردیتے ہیں۔

[6] یعنی بظاہر تو وہ صلح کا معاہدہ کرتے ہیں مگر دل میں بدعہدی کا ارادہ ہوتا ہے۔ چناچہ جب کبھی معاہدہ کیا تو توڑنے ہی کے لئے کیا۔ ایسے لوگوں کا عہد کیونکر عہد سمجھا جاسکتا ہے۔ [7] یعنی بنی کنانہ اور بنی ضمرہ کے ساتھ
Ayahs 9:12–15

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر طعن کریں تو (ان) کفر کے سرغنوں سے جنگ کرو ' ان کی قسمیں (قَسمیں) نہیں ' (اور تمہیں ان سے جنگ اس لئے کرنی چاہئے) کہ یہ (اپنی شرارتوں سے) باز آجائیں۔

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

(مسلمانو ' ) کیا تم ان سے نہ لڑو گے جنہوں نے عہد کرنے کے بعد اپنی قسمیں توڑ ڈالیں اور اللہ کے رسول کو (اس کے وطن سے) نکال دینے کا قصد کیا اور تم سے (لڑائی میں) پہل بھی انہوں نے کی ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو۔

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

(مسلمانو ' ) ان لوگوں سے (بلاتامل) لڑو ' اللہ تمہارے ہی ہاتھوں انہیں عذاب دے گا اور ان کو رسوا کرے گا اور ان پر تمہیں غلبہ دے گا اور مومنوں کے دلوں کو ٹھنڈا کرے گا

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور ان کے دلوں میں (کافروں کی طرف سے) جو غصہ (بھرا ہوا) ہے اس (کی خلش) کو بھی دور کرے گا اور جس کی چاہے گا توبہ قبول فرمائے گا۔ اور اللہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

[8] یعنی مسلمان ہونے کا عہد کرنے اور اسلام سے اپنی وفاداری کی قسمیں کھانے کے بعد عہد شکنی کریں اور اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں۔ بالفاظ دیگر مسلمان ہونے کے بعد کفر کی طرف پلٹ جائیں۔
Ayahs 9:16–18

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

(مسلمانو ' ) کیا تم نے سمجھ رکھا ہے کہ (یونہی) چھوٹ جاؤ گے ؟ جبکہ ابھی تک اللہ نے ان لوگوں کو جانا ہی نہیں جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا اور اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کے سوا کسی (اور) کو اپنا جگری دوست نہیں بنایا۔ اور (یاد رکھو ' ) جو کچھ بھی تم لوگ کرتے ہو اللہ کو اس کی (سب) خبر ہے

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

مشرکین کو یہ حق نہیں کہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں (اور مشرکانہ اقوال و افعال سے) اپنے اوپر کفر کی گواہی بھی دیتے جائیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے (سارے) عمل اکارت گئے اور یہ دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

اللہ کی مسجدوں کو آباد کرنا تو ان لوگوں کا کام ہے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہوں ' نماز قائم کرتے ہوں ' زکوٰۃ دیتے ہوں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں۔ سو ایسے لوگوں سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ہدایت پانے والے ہوں گے۔

[9] اللہ کو علم تو پہلے ہی سے ہے لیکن ازروئے عدل و انصاف ایک شخص نہ تو کسی جزاء کا مستحق ہوسکتا ہے نہ سزا کا جب تک اس کی صلاحیت اور استعداد کا عملاً ظہور نہیں ہوجاتا۔
Ayahs 9:19–23

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

(لوگو ' ) کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کو آباد رکھنے کو اس شخص کے (عمل کے) برابر سمجھ لیا ہے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا ؟ اللہ کے نزدیک تو یہ (لوگ ایک دوسرے کے) برابر نہیں اور اللہ ظالموں کی راہنمائی نہیں کیا کرتا۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

اللہ کے نزدیک درجے میں بڑے وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یہی لوگ کامیاب ہیں۔

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

ان کا رب انہیں اپنی رحمت اور خوشنودی کی بشارت دیتا ہے ' نیز ایسے باغوں کی جن میں ان کو دائمی آسائش ملے گی

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

(اور وہ) ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بیشک اللہ کے پاس (نیکو کاروں کے لئے) بڑا اجر ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ' اگر تمہارے باپ اور تمہارے بھائی ایمان کے مقابلے میں کفر کو عزیز رکھیں تو ان کو اپنا رفیق نہ بناؤ اور تم میں سے جو انہیں رفیق بنائے گا تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں۔

[10] کیونکہ خانہ کعبہ مشرکین کے نزدیک بھی مقدس تھا، اس کی خدمت اور اس کے زائرین کی خدمت بھی سرداران قریش نے اپنے ذمے لے لی تھی اور اس پر فخر کرتے تھے۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 9:24

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

(اے پیغمبر ' مسلمانوں سے) کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہاری برادری اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں ' اور وہ تجارت جس کے مندا پڑجانے کا تمہیں اندیشہ ہے اور وہ مکانات جو تمہیں پسند ہیں ' (اگر یہ ساری چیزیں) اللہ اور اس کے رسول اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ پیاری ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ (تمہارے سامنے) لے آئے اور اللہ (کا مقررہ قانون ہے کہ وہ) فاسقوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

[11] یعنی اس تن آسانی اور دنیا طلبی پر اللہ کی طرف سے سزا کے حکم کا انتظار کرو۔
Ayahs 9:25–26

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

(مسلمانو ' ) اللہ نے بہت سے موقعوں پر تمہاری مدد کی ہے اور (خاص کر جنگ) حنین کے دن جب کہ تم اپنی کثرت پر اترا گئے تھے مگر وہ (کثرت) تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے۔

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر اپنی طرف سے سکون (قلب) نازل فرمایا اور (ان کی مدد کے لئے فرشتوں کے) ایسے لشکر اتارے جو تمہیں نظر نہ آتے تھے اور (اس طرح) ان لوگوں کو جنہوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا تھا عذاب دیا اور کافروں کی یہی سزا ہے۔

[12] حنین، طائف اور مکہ کے درمیان ایک وادی کا نام ہے۔ فتح مکہ کے دو ہی ہفتے کے بعد یہاں مسلمانوں کا مقابلہ ہوازن اور ثقیف کے مشہور تیر انداز قبیلوں سے ہوا۔ اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد دشمنوں سے تین گنا زیادہ تھی اس لئے اپنی کثرت تعداد پر گھمنڈ ہوگیا تھا۔ کہتے تھے کہ اب وہ دن نہیں رہا کہ تعداد کی کمی کی وجہ سے مغلوب ہوجائیں لیکن دشمنوں نے اس غضب کی تیراندازی کی کہ مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے اور صرف رسول اللہ ﷺ اور چند مٹھی بھر صحابہ اپنی جگہ پر جمے رہے اور ان کی ثابت قدمی کی وجہ سے دوبارہ فوج کی ترتیب قائم ہوسکی اور بالآخر مسلمان فتح یاب ہوئے۔
Ayahs 9:27–28

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر (تم دیکھ چکے ہو کہ) اس (سزا) کے بعد اللہ جسے چاہتا ہے توبہ کی توفیق بھی دیتا ہے اور اللہ (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ' یہ حقیقت ہے کہ مشرک ناپاک ہیں لہذا اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس بھی نہ آنے پائیں۔ اگر (ان کے ساتھ لین دین بند ہوجانے سے) تمہیں مفلسی کا اندیشہ ہے تو اللہ (پر بھروسہ رکھو، وہ) چاہے گا تو تمہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ بیشک اللہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

[13] یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنگ حنین میں جو کفار مغلوب ہوئے ان میں سے اکثر مشرف با اسلام ہوئے۔
Ayah 9:29

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

(مسلمانو ' ) لڑو اہل کتاب میں سے ان لوگوں سے جو نہ اللہ کو مانتے ہیں (جیسا کہ اس کے ماننے کا حق ہے) اور نہ روز آخرت کو اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور نہ دین حق (اسلام) قبول کرتے ہیں۔ (ان سے لڑو) یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔

[14] اگرچہ اہل کتاب اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے کے مدعی ہیں لیکن فی الواقع کہ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ آخرت پر۔ اللہ پر ایمان رکھنے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ آدمی بس اس بات کو مان لے کہ اللہ ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی اللہ کو واحد اِلٰہ تسلیم کرے اور اس کی ذات، صفات، حقوق اور اختیارات میں نہ خود شریک ہو اور نہ کسی کو شریک ٹھہرائے اسی طرح آخرت کو ماننے کے معنی صرف یہی نہیں ہیں کہ آدمی یہ بات مان لے کہ ہم مرنے کے بعد بھی اٹھائے جائیں گے، اس کے ساتھ یہ ماننا بھی ضروری ہے کہ وہاں کوئی سعی و سفارش اور فدیہ کام نہ آئے گا اور نہ کوئی کسی کا کفارہ بن سکے گا اور یہ کہ اللہ کی عدالت میں بےلاگ انصاف ہوگا اور آدمی کے ایمان و عمل کے سوا کسی چیز کا لحاظ نہ کیا جائے گا اس عقیدے کے بغیر آخرت کو ماننا لاحاصل ہے۔ [15] یعنی جنگ کا مقصد یہ نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہوجائیں بلکہ یہ کہ ان کی حکمرانی ختم ہوجائے اور نظام زندگی کی باگیں اہل ایمان کے ہاتھوں میں ہوں اور اہل کتاب ان کے مطیع بن کر رہیں اور جزیہ ادا کریں۔ جزیہ کے لفظی معنی بدلے اور جزا کے ہیں۔ اصطلاح شرع میں جزیہ بدل ہے اس امان کا جو ذمیوں کو اسلامی حکومت میں عطا کی جائے گی۔ ان کی جان و مال اور آبرو کی حفاظت اسلامی حکومت کے ذمے ہوگی اور ان کے مذہبی رسوم میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ ہاتھ سے جزیہ دینے کے معنی یہ ہیں کہ جزیہ کا دینا اسلامی غلبے کو تسلیم کرتے ہوئے اور اسلامی حکومت کے ماتحت رہنے کی حیثیت سے ہو۔ اور چھوٹے بن کر رہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ اسلام کے تمام قوانین کی اطاعت کو اپنے ذمے لازم قرار دیں۔
Ayah 9:30

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

اور یہودی کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ باتیں ہیں محض ان کی زبان سے نکالی ہوئی (جن کی کوئی حقیقت نہیں) ۔ ان لوگوں نے بھی انہی کی سی بات کہی جو ان سے پہلے مبتلائے کفر ہوئے۔ اللہ ان کو غارت کرے ! یہ کدھر بہکے جا رہے ہیں۔

[16] عزیر (یا عزرا) یہود کے مجدد۔ بخت نصر (متوفی 561 ق، م) کے حملے کے بعد جب تورات کے نسخے یہود کے پاس سے بالکل غائب ہوگئے تو انہیں عزیر یا عزرا نے تورات کو ازسر نَو اپنی یاد داشت سے لکھا۔
Ayahs 9:31–32

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے علماء اور مشائخ کو اپنا رب بنا لیا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو بھی ' حالانکہ انہیں ایک معبود (برحق) کے سوا (کسی اور کی) بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا ' وہ ( اللہ) جس کے سوا کوئی (اور) معبود نہیں ' وہ ان کی مشرکانہ باتوں سے پاک ہے۔

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں۔ مگر اللہ اپنی روشنی پوری کئے بغیر رہنے والا نہیں گو کافروں کو ناگوار (ہی کیوں نہ) لگے۔

[17] احادیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے جب یہ آیت پڑھی تو نومسلم عیسائی عدی بن حاتم نے عرض کیا کہ ہم اپنے علماء و مشائخ کو اِلٰہ کب مانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ کیا ایسا نہیں ہے کہ جس بات کو وہ حرام ٹھہرا دیتے ہیں تم حرام سمجھ لیتے ہو اور جس بات کو حلال کہہ دیتے ہیں تم حلال مان لیتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ یہ تو ہم ضرور کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ بس یہی ان کو اِلٰہ بنا لینا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اپنے پیشواؤں کو تشریع دین کا حق دے دینا یعنی اس بات کا حق کہ جو کچھ وہ اپنی خواہش اور رائے سے ٹھہرا دیں اس کی بلاچون و چرا اطاعت کرنی قرآن کے نزدیک انہیں اِلٰہ بنا لینا ہے۔ افسوس کہ مسلمان بھی اس گمراہی سے نہ بچ سکے۔ انہوں نے بھی اپنے آئمہ و مشائخ کو مستقل مطاع قرار دے کر عملاً انہیں اِلٰہ کے درجے پر پہنچا دیا ہے۔ یہ قرآن اور سنت کو چھوڑ دیں گے لیکن اپنے امام یا شیخ کے قول کو نہ چھوڑیں گے۔
Ayah 9:33

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

وہ ( اللہ) ہی (تو) ہے جس نے اپنے رسول (محمد ﷺ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے گو مشرکوں کو ناگوار (ہی کیوں نہ) لگے۔

[18] اصل الفاظ ہیں (لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ 33؀) 9 ۔ التوبہ :33) دین کا لفظ عربی زبان میں اس نظام زندگی یا طریق کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کے قائم کرنے والے کو مطاع تسلیم کر کے اس کا اتباع کیا جائے پس بعثت رسول کی غرض اس آیت میں یہ بتائی گئی ہے کہ جس ہدایت اور دین حق کو وہ اللہ کی طرف سے لایا ہے اسے دین کی نوعیت رکھنے والے تمام طریقوں اور نظاموں پر غالب کر دے اگر کوئی دوسرا نظام زندگی دنیا میں رہے بھی تو اسے اسلامی نظام کی گنجائشوں میں سمٹ کر رہنا چاہئے جیسا کہ جزیہ ادا کرنے کی صورت میں ذمیوں کا نظام زندگی رہتا ہے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اسلام کا غلبہ باقی ادیان پر معقولیت، حجت اور دلیل کے اعتبار سے ہر زمانے میں نمایاں طور حاصل رہا ہے۔ باقی حکومت و سلطنت کے اعتبار سے وہ اس وقت حاصل ہوا اور ہوگا جب کہ مسلمان اسلام کے پوری طرح پابند اور ایمان اور تقویٰ کی راہوں میں مضبوط اور جہاد فی سبیل اللہ میں ثابت قدم تھے یا آئندہ ہوں گے۔ دین حق کا ایسا غلبہ کہ باطل ادیان کو مغلوب کر کے بالکل صفحہ ہستی سے مٹا دے تو یہ نزول عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد قیامت کے قریب ہوگا جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔
Ayahs 9:34–35

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:34 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ' (یاد رکھو ' ان اہل کتاب کے) اکثر علماء و مشائخ (کا حال یہ ہے کہ وہ) لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے (لوگوں کو) روکتے ہیں۔ اور (اے پیغمبر ' ) جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو ایسے لوگوں کو عذاب دردناک کی خوشخبری سنا دو

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ Open ayah 9:35 in the Quran reader

(وہ عذاب) اس دن (واقع ہوگا) جب کہ اس (سونے چاندی) کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیاں ' ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی۔ (اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ) یہ ہے جو تم نے (دنیا میں) اپنے لئے جمع کیا تھا ' تو جو کچھ جمع کرتے رہے (آج) اس کا مزا چکھو۔

[19] سنن ابی داؤد میں سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب سورة التوبہ کی آیت (وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ 34؀ۙ ) 9 ۔ التوبہ :34) نازل ہوئی تو جو صحابہ کرام دولت مند تھے بہت گھبرائے اور کہنے لگے کہ اس آیت کی رو سے ہم سب گنہگار ٹھہرے، اس پر سیدنا عمر ؓ نے کہا کہ میں اس آیت کا مطلب رسول اللہ ﷺ سے پوچھ کر آتا ہوں، چناچہ سیدنا عمر ؓ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے نبی ﷺ یہ آیت آپ ﷺ کے صحابہ پر گراں ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ اس لئے فرض کی ہے کہ وہ تمہارے اموال کو پاک کر دے۔ پس جس مال پر زکوٰۃ دی گئی ہو وہ پاک ہوگیا اور کنز نہیں رہا۔ سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ یہ سن کر سیدنا عمر ؓ نے جوش مسرت سے اللہ اکبر کہا۔
Ayah 9:36

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:36 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے کتاب الٰہی میں بارہ ہی ہے (اور) ان میں سے چار (مہینے) حرمت کے ہیں۔ یہی دین (کا) سیدھا (راستہ) ہے۔ لہذا (مسلمانو ' ) ان (حرمت کے مہینوں) میں (جنگ و خونریزی کر کے) اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔ اور تمام مشرکین سے (بلا استثناء) جنگ کرو جس طرح وہ تم سب سے (بلا استثنائ) جنگ کرتے ہیں اور یہ جان رکھو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔

[20] یعنی لوح محفوظ میں۔ [21] یعنی رجب، ذیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم۔ یہ مہینے حرمت والے اس لئے کہلاتے ہیں کہ ان میں جنگ وجدال ممنوع ہے۔ [22] مطلب یہ ہے کہ اگر مشرکین حرمت کے مہینوں میں تم سے لڑیں تو تم بھی ان سے لڑو۔
Ayah 9:37

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 9:37 in the Quran reader

مہینوں کا آگے پیچھے کردینا ایک مزید کفر ہے جس سے کافر گمراہی میں پڑتے ہیں۔ کسی سال ایک مہینے کو حلال کرلیتے ہیں اور کسی سال اس کو حرام کردیتے ہیں (اور اس سے ان کی غرض یہ ہوتی ہے) کہ ان (مہینوں) کی تعداد بھی پوری کرلیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور اللہ کے حرام کئے ہوئے (مہینے) کو حلال بھی کرلیں۔ ان کی بداعمالیاں ان کے لئے خوشنما بنادی گئی ہیں اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

[23] عرب میں اسماعیل (علیہ السلام) کے زمانے سے ان حرمت کے مہینوں میں لڑائی ممنوع تھی۔ ایک مدت تک تو اہل عرب اس کے پابند رہے لیکن پھر یہ پابندی ان پر شاق گزرنے لگی، اول تو اس لئے کہ حج کا مہینہ یعنی ذی الحجہ ہمیشہ ایک ہی موسم میں نہیں آتا، کبھی گرمی میں کبھی جاڑے میں جس کی وجہ سے قریش کے سفر تجارت میں خلل پڑتا، دوسرے اس لئے کہ جب کبھی لڑائی کے زمانے میں یہ مہینے آجاتے تو ان پر شاق گزرتے اس لئے حسب ضرورت امن کے مہینے پیچھے ڈال دیتے یا حج کا مہینہ موخر کردیتے۔
Ayahs 9:38–39

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 9:38 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ' تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں (لڑنے کے لئے) نکلو تو تم زمین سے لگے جاتے ہو۔ کیا تم نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی پسند کرلی ہے ؟ (اگر یہ بات ہے) تو (یہ تمہاری سخت غلط فہمی ہے کیونکہ) دنیوی زندگی کا سروسامان (متاع) آخرت کے مقابلے میں بہت ہی قلیل ہے۔

اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 9:39 in the Quran reader

اگر تم (بلائے جانے پر بھی لڑنے کے لئے) نہ نکلو تو اللہ تمہیں دردناک سزا دے گا اور تمہاری جگہ دوسری قوم کو لے آئے گا اور تم اس کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکو گے ' اور اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔

[24] یہاں سے سورت کے آخر تک غزوہ تبوک کے بارے میں بیان ہے۔ تبوک مدینے کے شمال میں سرحد شام پر ایک مقام کا نام ہے۔ شام اس وقت سلطنت روما کا ایک صوبہ تھا۔ نبی ﷺ جب غزوہ حنین سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ آئے تو آپ کو اطلاع ملی کہ رومی فوجیں تبوک میں جمع ہو رہی ہیں اور عنقریب مدینے پر حملہ کرنے والی ہیں۔ آپ نے خود ہی بڑھ کر مقابلہ کرنا چاہا چناچہ تیس ہزار کی جمعیت آپ کے ہمراہ روانہ ہوئی۔ تاہم ایک طرف مقابلہ کسی قبیلے سے نہیں باضابطہ مسلح شاہی فوج سے کرنا تھا، پھر موسم بھی شدید گرمی کا، فصل کے پکنے اور کٹنے کا بھی۔ جب اطلاع ملی کہ مسلمانوں نے پیش قدمی کی ہے تو ان کے حوصلے پست ہوگئے اور قیصر روم نے مسلمانوں سے مقابلے کا ارادہ ترک کردیا۔ تبوک میں قیام کے دوران آپ ﷺ نے چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو جو سلطنت روم اور مسلمانوں کے علاقوں کے درمیان تھیں سلطنت اسلامی کا باجگزار اور تابع کرلیا۔
Ayah 9:40

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:40 in the Quran reader

اگر تم اللہ کے رسول کی مدد نہ کرو گے تو (کچھ پروا نہیں ' اللہ اس کا مددگار ہے ' ) اس نے اپنے رسول کی مدد اس وقت کی تھی جب کافروں نے اسے (اس حال میں گھر سے) نکالا تھا جبکہ دو (آدمیوں) میں دوسرا وہ تھا (اور) دونوں غار (ثور) میں تھے (اور) وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا '' غمگین نہ ہو ' یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے ''۔ پھر اللہ نے اپنی طرف سے اس پر سکون (قلب) نازل کیا اور اس کی مدد (فرشتوں کے) ایسے لشکروں سے کی جو تمہیں دکھائی نہ دیتے تھے اور (بالآخر) کافروں کی بات پست کردی اور (سدا) اللہ ہی کا بول بالا رہا۔ اور وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

[25] اشارہ ہے واقعہ ہجرت کی طرف جب مشرکین مکہ نبی ﷺ کے قتل پر تل گئے تھے اور آپ سیدنا ابوبکر ؓ کے ہمراہ غارثور میں چھپتے ہوئے مدینے کی طرف روانہ ہوگئے تھے۔