9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 9:79–94

اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:79 in the Quran reader

(وہ ان منافقوں کو خوب جانتا ہے) جو خوش دلی سے خیرات کرنے والے مومنوں پر (ریاکاری کا) طعن کرتے ہیں اور ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جن کو اپنی محنت و مشقت کی کمائی کے سوا اور کچھ میسر نہیں (پھر بھی وہ جتنا نکال سکتے ہیں اللہ کی راہ میں خرچ کردیتے ہیں) ۔ اللہ ان (مذاق اڑانے والوں) کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:80 in the Quran reader

(اے پیغمبر ' ) تم ان لوگوں کے لئے مغفرت کی دعا کرو یا نہ کرو ' (ان کی بخشش ہونے والی نہیں۔ ) اگر تم ستر مرتبہ بھی ان کے لئے مغفرت کی دعا کرو گے پھر بھی اللہ انہیں ہرگز نہ بخشے گا۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اللہ (ایسے) سرکش لوگوں کو ہدایت (کی توفیق) نہیں دیا کرتا۔

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:81 in the Quran reader

(یہ) پیچھے رہ جانے والے (منافق) اللہ کے رسول کے (جانے کے) بعد (اپنے گھر) بیٹھے رہنے پر خوش ہوگئے اور انہیں گوارا نہ ہوا کہ اپنے مال اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ انہوں نے (لوگوں سے) کہا کہ (ایسی سخت) گرمی میں (گھر سے) نہ نکلو۔ (اے پیغمبر ' ان سے) کہو کہ دوزخ کی آگ (اس سے بھی) زیادہ گرم ہے۔ کاش انہیں (اتنی) سمجھ ہوتی !

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:82 in the Quran reader

(اچھا) تو یہ (اس دنیا میں) تھوڑا ہنس لیں پھر (آخرت میں) انہیں بہت کچھ رونا ہے ان کاموں کے بدلے جو یہ کرتے رہے ہیں۔

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ Open ayah 9:83 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر ' ) اگر اللہ تمہیں (جہاد پر سے) ان (منافقوں) کے کسی گروہ کی طرف (صحیح سلامت) واپس لے جائے اور (پھر کبھی) یہ لوگ (جہاد کے لئے) نکلنے کی تم سے اجازت مانگیں تو تم ان سے (صاف) کہہ دینا کہ تم ہرگز میرے ساتھ نہ چلو گے اور نہ میرے ساتھ ہو کر دشمن سے لڑو گے۔ تم نے پہلی مرتبہ بیٹھ رہنا پسند کیا تو اب بھی پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ (گھروں میں) بیٹھے رہو۔

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 9:84 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ' ) اگر ان (منافقوں) میں سے کوئی مرجائے تو ہرگز اس (کے جنازے) پر نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر جا کر کھڑے ہونا (کیونکہ) انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اس حال میں مرے کہ وہ فاسق تھے۔

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:85 in the Quran reader

ان کے مال اور ان کی اولاد تمہارے لئے موجب حیرت نہ ہوں۔ اللہ تو چاہتا ہے کہ مال و اولاد کے ذریعے انہیں اسی دنیا میں عذاب دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:86 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ' ) جب (قرآن کی) کوئی سورت (اس بارے میں) نازل ہوتی ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ ہو کر جہاد کرو تو جو (لوگ) ان میں دولت مند ہیں (وہی) تم سے رخصت مانگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دیجئے کہ (دوسرے) بیٹھنے والوں کے ساتھ ہم بھی (گھروں میں) بیٹھے رہیں۔

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:87 in the Quran reader

انہوں نے (کمال بےغیرتی سے) پیچھے رہ جانے والیوں کے ساتھ (بیٹھ) رہنا پسند کیا اور ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ' پس وہ (جہاد کی مصلحتوں کو کچھ) سمجھتے ہی نہیں۔

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 9:88 in the Quran reader

لیکن (اللہ کے) رسول نے اور ان لوگوں نے جو رسول کے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنے مال اور اپنی جانوں سے (راہ حق میں) جہاد کیا۔ یہی لوگ ہیں جن کے لئے ساری بھلائیاں ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:89 in the Quran reader

ان کے لئے اللہ نے (ایسے) باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی (یہ) ان میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے (اور) یہ بڑی کامیابی ہے۔

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:90 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ' ) بدوی عربوں میں سے (بھی) کچھ بہانہ باز لوگ تمہارے پاس آئے تاکہ ان کو (بھی پیچھے رہ جانے کی) اجازت مل جائے۔ اور جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے (دعویٰ ایمان میں بالکل ہی) جھوٹ بولا تھا وہ بیٹھے ہی رہے ' (عذر کرنے بھی نہ آئے ' ) تو (اے پیغمبر ' ) ان لوگوں میں سے جن لوگوں نے کفر کیا عنقریب وہ دردناک عذاب سے دوچار ہوں گے۔

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:91 in the Quran reader

(اے پیغمبر ' ) ناتوانوں پر کچھ گناہ نہیں اور نہ بیماروں پر اور نہ ان لوگوں پر جنہیں خرچ کرنے کے لئے کچھ میسر نہیں (اگر وہ پیچھے رہ جائیں اور شریک جہاد نہ ہوں) بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خیرخواہی میں لگے رہیں۔ (ایسے) نیکوکاروں پر کوئی الزام نہیں اور اللہ غفورُ رَّحیم ہے۔

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 9:92 in the Quran reader

(اسی طرح) نہ ان لوگوں پر (کسی طرح کا الزام ہے) کہ جب وہ تمہارے پاس (درخواست لے کر) آئے کہ تم ان کے لئے سواری بہم پہنچا دو اور تم نے جواب دیا کہ میں تمہارے لئے کوئی سواری نہیں پاتا تو (مجبوراً ) وہ واپس گئے اس حال میں کہ ان کی آنکھیں اس غم میں اشکبار تھیں کہ انہیں کچھ میسر نہیں جو وہ (اللہ کی راہ میں) خرچ کریں۔

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:93 in the Quran reader

(اے پیغمبر) الزام تو (حقیقت میں) ان لوگوں پر ہے جو تم سے (گھر رہنے کی) اجازت مانگتے ہیں حالانکہ مالدار ہیں۔ انہوں نے پیچھے رہ جانے والیوں کے ساتھ (گھر بیٹھ) رہنا پسند کیا اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ' پس وہ (جہاد کی مصلحتوں کو) جانتے ہی نہیں۔

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

(مسلمانو) جب تم (جہاد سے لوٹ کر) ان (منافقوں) کے پاس واپس جاؤ گے تو (یہ) تمہارے سامنے (طرح طرح کے) عذر پیش کریں گے (مگر اے پیغمبر ' ان سے) کہہ دینا کہ بہانے نہ بناؤ ' ہم ہرگز تمہارا یقین نہ کریں گے۔ اللہ تمہارے (سب) حالات ہمیں بتاچکا ہے اور اب اللہ اور اس کا رسول تمہارا کردار دیکھیں گے ' پھر (بالآخر) تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو ظاہر و پوشیدہ (سب) کا جاننے والا ہے ' پھر وہ تمہیں بتادے گا جو کچھ تم (دنیا میں) کرتے رہے ہو۔

[49] یعنی ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے تاکہ یہ خوب مزے اڑا لیں تب ان کو وہاں سے پکڑے جہاں سے پکڑے جانے کا وہم و گمان بھی ان کو نہ ہو۔
Ayahs 9:95–99

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

(مسلمانو) جب تم (جہاد سے) لوٹ کر ان کے پاس واپس جاؤ گے تو ضرور یہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے صرف نظر کرو تو (بےشک) تم ان سے صرف نظر ہی کرلو۔ یہ ناپاک ہیں اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے ( اور یہ) اس کمائی کا بدلہ (ہوگا) جو (دنیا میں) وہ کرتے رہے۔

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہوجاؤ ' سو (یادرکھو) اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ ہرگز ایسے فاسقوں سے راضی نہ ہوگا۔

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

(یہ) بدوی عرب کفر اور نفاق میں بہت ہی سخت ہیں اور اسی لائق ہیں کہ (ان کی نسبت سمجھا جائے کہ) اللہ نے اپنے رسول پر جو کچھ نازل کیا ہے اس کی حدود سے بیخبر رہیں (کیونکہ آبادیوں میں نہ رہنے کی وجہ سے تعلیم و تربیت کے مواقع انہیں حاصل نہیں) ' اور اللہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

اور ان بدویوں میں کچھ لوگ (ایسے بھی) ہیں کہ جو کچھ (راہ حق میں) خرچ کرتے ہیں اس کو (ناحق کی) چٹی سمجھتے ہیں اور تم مسلمانوں کے حق میں (زمانے کی) گردشوں کے منتظر ہیں (کہ تمہیں مصائب ناگہانی سے دوچار ہونا پڑے تو یہ الٹ پڑیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زمانے کی) گردش بد ( کا اثر) انہی پر (پڑنے والا) ہے اور اللہ (سب کچھ) سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

اور ان بدویوں میں کچھ لوگ (ایسے بھی) ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ (راہ حق میں) خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے ہاں تقرب اور رسول کی دعاؤں کا وسیلہ بناتے ہیں ' سو بیشک یہ ان کے لئے (موجب) تقرب ہی ہے اور اللہ ضرور انہیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بلاشبہ وہ (اللہ بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[50] یعنی ان سے درگزر کرو۔ یہاں اعراض درگزر اور چشم پوشی کے معنی میں ہے۔ [51] یعنی قطع تعلق کرلو۔ یہاں اعراض تعلق ختم کرنے کے معنی میں ہے۔
Ayah 9:100

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

اور وہ مہاجرین و انصار جنہوں نے (اسلام قبول کرنے میں) سبقت کی اور وہ لوگ (بھی) جنہوں نے نیک کرداری میں ان کی پیروی کی ' اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں جہاں وہ ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے (اور) یہی بڑی کامیابی ہے۔

[52] نبوت کے تیرہویں سال رسول اللہ ﷺ کفار مکہ کی ایذا رسانیوں سے عاجز آ کر اللہ کے حکم سے مدینے چلے گئے۔ اس ترک وطن کا نام ہوا ہجرت۔ دوسرے مسلمان بھی رسول اللہ ﷺ کے آگے پیچھے مکہ سے ترک وطن کر کے مدینے میں جمع ہوتے گئے۔ یہ پردیسی مسلمان مہاجر کہلائے اور مدینے کے مسلمان جنہوں نے مہاجرین مکہ کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور اسلام اور پیغمبر اسلام کی ہر طرح خدمت و نصرت کی انصار کہلائے۔ [53] اس میں امت مسلمہ کے سارے طبقات قیامت تک کے لئے آگئے۔ [54] سابقون الاولون کی تشریح اوپر گزر چکی ہے ( آیت 100) ان کی محبت ایمانی کا یہ حال تھا کہ انہوں نے راہ حق کی مصیبتیں صرف جھیلی ہی نہیں بلکہ دل کی پوری خوشحالی اور روح کے کامل سرور کے ساتھ اپنی پوری زندگیاں ان میں بسر کر ڈالیں۔ انہوں نے مال کی ہر قربانی اس جوش و مسرت کے ساتھ کی کہ گویا دنیا جہان کی خوشیاں اور راحتیں ان کے لئے فراہم ہوگئی ہیں، اور جان کی قربانیوں کا وقت آیا تو اس طرح خوش خوش گردنیں کٹوا دیں کہ گویا سب سے بڑی خوشی زندگی میں نہیں بلکہ موت میں تھی۔ جنگ احد میں سعد بن ربیع کو لوگوں نے دیکھا کہ زخمیوں میں پڑے دم توڑ رہے ہیں۔ پوچھا کہ کوئی وصیت کرنی ہو تو کردو۔ کہا اللہ کے رسول کو میرا سلام پہنچا دینا۔ عمار بن زیاد زخموں سے چور جاں کنی کی حالت میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے سرہانے پہنچ گئے اور فرمایا کہ کوئی آرزو ہو تو کہہ دو ۔ عمار نے اپنا زخمی جسم گھسیٹ کر آپ کے قریب کردیا اور اپنا سر آپ کے قدموں پر رکھ دیا کہ اگر کوئی آرزو ہوسکتی ہے تو صرف یہی ہے۔ عورتوں تک کا یہ حال تھا کہ بیک وقت انہیں ان کے شوہر، بھائی اور باپ کے شہید ہوجانے کی خبر پہنچائی جاتی تھی تو وہ یہ کہتی تھیں یہ تو ہوا مگر بتلاؤ اللہ کے رسول ﷺ کا کیا حال ہے ؟ تاریخ اسلام میں جنگ حنین پہلی جنگ ہے جس میں بکثرت مال غنیمت ہاتھ آیا۔ یہ وقت تھا کہ سابقوں الاولون کو مال و دولت سے حصہ وافر ملتا لیکن رسول اللہ ﷺ نے ان باشندگان مکہ کو ترجیح دی جو فتح مکہ کے وقت نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور انصار مدینہ کے حصہ میں کچھ نہ آیا کیونکہ آپ کے پیش نظر تو مسلمانوں کی تالیف قلب تھی۔ یہ حالت دیکھ کر بعض نوجوانوں کو خیال ہوا کہ اہل مکہ سے لڑے تو ہم لیکن آج مال غنیمت کا حصہ انہیں مل رہا ہے۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ نے انصار کو جمع کیا اور فرمایا : کیا تمہاری خوشنودی کے لئے یہ بات کافی نہیں کہ لوگ یہاں سے مال غنیمت کے حصے لے کر جائیں اور تم اللہ کے نبی کو اپنے ساتھ لے کر جاؤ ؟ انصار بےاختیار پکار اٹھے : رضینا یا رسول اللہ رضینا (ہم خوشنود ہیں یا رسول اللہ ہم خوشنود ہیں) بخاری و مسلم۔ پس رضو عنہ میں اشارہ اسی طرف ہے کہ کلمہ حق کی راہ جو کچھ بھی پیش آیا انہوں نے اسے جھیلا ہی نہیں بلکہ کمال محبت ایمانی کی وجہ سے اس میں خوش حال و خوشنود رہے اور یہی مقام ہے جو ان کے درجہ کو تمام مدارج ایمان و عمل میں ممتاز کردیتا ہے۔
Ayah 9:101

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

(مسلمانو ' ) تمہارے آس پاس کے رہنے والے بدویوں اور خود مدینے کے رہنے والوں میں (ایسے) منافق ہیں جو نفاق میں منجھ گئے ہیں۔ (اے پیغمبر، ) تم انہیں نہیں جانتے (مگر) ہم انہیں (خوب) جانتے ہیں۔ ہم انہیں (دنیا میں) دہری سزا دیں گے ' پھر (آخرت میں) وہ بڑے (بھاری) عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

[55] یعنی یہ اپنی دوہری استعداد نفاق کی وجہ سے دوہرے عذاب کے مستحق ہوگئے۔ پہلی استعداد یہ کہ منافق ہوئے اور دوسری یہ کہ اس میں کامل ہوگئے۔
Ayahs 9:102–105

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:102 in the Quran reader

(کچھ) اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنی خطا کا اقرار کرلیا ہے۔ انہوں نے ملے جلے عمل کئے تھے ' کچھ اچھے کچھ برے۔ تو بعید نہیں کہ اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے (کیونکہ) وہ ( اللہ بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:103 in the Quran reader

(اے پیغمبر ' ) ان لوگوں کے مال سے زکوٰۃ قبول کرلو۔ انہیں (گناہوں سے) پاک صاف کردو۔ نیز ان کے لئے دعائے خیر کرو۔ بلاشبہ تمہاری دعا ان کے لئے (باعث) تسکین ہے اور اللہ (سب کچھ) سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 9:104 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ اللہ ہی بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور (ان کے) صدقات کو قبولیت عطا فرماتا ہے اور یہ کہ اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا (اور) رحیم ہے ؟

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 9:105 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ' ان لوگوں سے) کہہ دو کہ تم عمل کئے جاؤ ' اللہ دیکھے گا (کہ) تمہارا (طرز) عمل (اب کیا رہتا ہے) اور اللہ کا رسول اور مومنین (بھی دیکھیں گے) اور (پھر) تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو ظاہر و پوشیدہ (سب) کا جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتادے گا جو کچھ تم دنیا میں کرتے رہے۔

[56] غزوہ تبوک میں ساتھ نہ جانے والوں میں علاوہ منافقین کے کچھ مومنین بھی تھے جو محض کاہلی کی بناء پر پیچھے رہ گئے تھے۔ وہ اپنی غفلت و کوتاہی پر اس درجہ نادم تھے کہ جب ان کو رسول اللہ ﷺ کی واپسی کی خبر ملی تو انہوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا کہ رسول اللہ ﷺ کھولیں گے تو خیر ورنہ یوں ہی ختم ہوجائیں گے۔ یہاں انہی لوگوں کا ذکر ہے۔
Ayah 9:106

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:106 in the Quran reader

اور (تائب گروہ کے علاوہ) کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ اللہ کا حکم آنے تک ملتوی ہے۔ (اس کو اختیار ہے کہ) یا تو انہیں سزا دے یا ان کی توبہ قبول کرے۔ اور اللہ (سب کچھ) جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

[57] یہ کل تین آدمی تھے، مرارہ بن ربیع، کعب بن مالک اور بلال بن امیہ، انہوں نے پیچھے رہ جانے پر کوئی معذرت نہیں کی اور کہا کہ سچی بات یہ ہے کہ کوئی عذر نہ تھا۔ محض کاہلی اور سستی تھی جس نے نکلنے نہ دیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے حکم کا انتظار کرو۔ چناچہ آگے چل کر ان کا حکم ہے۔
Ayah 9:107

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

اور (منافقین میں سے وہ لوگ بھی ہیں) جنہوں نے (اس غرض سے) ایک مسجد بنا کھڑی کی کہ (دعوت حق کو) نقصان پہنچائیں ' (اللہ اور رسول کے ساتھ) کفر کریں اور مومنوں میں تفرقہ ڈالیں اور اس شخص کے لئے کمین گاہ بنائیں جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ پہلے لڑ چکا ہے۔ اور (اگر ان سے پوچھ گچھ کی جائے تو) وہ ضرور قسمیں کھا کر کہیں گے کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کے سوا کچھ نہ تھا۔ لیکن اللہ گواہ ہے کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں۔

[58] اشارہ ایک مسیحی راہب ابو عامر کی جانب ہے جو اسلام کا شدید دشمن تھا اور مسلمانوں کے خلاف مصروف جنگ رہا تھا۔ منافقین میں طے ہوگیا تھا کہ جب وہ مدینے آیا کرے گا تو اس کو اسی مسجد میں ٹھہرایا کریں گے۔
Ayahs 9:108–109

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

(پس اے پیغمبر ' ) تم کبھی اس (مسجد) میں کھڑے بھی نہ ہونا۔ (البتہ) جس مسجد کی بنیاد تقویٰ پر اول روز سے پڑی ہے وہ واقعی اس لائق ہے کہ تم اس میں (نماز کے لئے) کھڑے ہو (اور بندگان الٰہی تمہارے پیچھے نماز پڑھیں کیونکہ) اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک (صاف) رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ بھی پاک (صاف) رہنے والوں ہی کو پسند کرتا ہے۔

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

کیا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی خوشنودی پر رکھی یا وہ جس نے ایک کھائی کے گرتے ہوئے کنارے پر اپنی عمارت کی بنیاد رکھی اور وہ (عمارت دھڑام سے) اسے جہنم کی آگ میں لے گری ؟ (حقیقت یہ ہے کہ) اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

[59] نبی ﷺ جب مدینے تشریف لائے تو پہلے قبا نامی مقام میں قیام فرمایا۔ یہاں آپ کے حکم سے ایک مسجد تعمیر ہوئی جو عہد اسلام کی پہلی مسجد ہے۔ بعض منافقوں نے اس مسجد کے پاس ایک نئی مسجد تعمیر کی اور جب آپ تبوک کے لئے نکل رہے تھے تو آپ کی خدمت میں آ کر عرض کی کہ ایک دن وہاں آکر نماز پڑھا دیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابھی تو سفر درپیش ہے واپسی پر دیکھا جائے گا۔ جب آپ تبوک سے واپس ہوئے اور مدینے کے بالکل قریب پہنچ گئے تو یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے بانیان مسجد کے منافقانہ مقاصد سے آپ کو مطلع کردیا۔ چناچہ آپ کے حکم سے مسجد گرا دی گئی۔
Ayah 9:110

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

یہ عمارت جو ان لوگوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (کانٹا بن کر) کھٹکتی رہے گی۔ (یہ کانٹا نکلنے والا نہیں) مگر یہ کہ ان کے دلوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جائیں۔ اور اللہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

[60] یعنی مسجد ضرار۔ [61] یعنی ہمیشہ موجب حسرت و حرمان ہی رہے گی کہ جن اغراض سے عمارت بنائی وہ کوئی بھی پوری نہ ہوئیں اور رسوائی جو ہوئی وہ الگ۔ [62] کنا یہ ہے دوام حسرت سے۔ یہ مراد نہیں کہ موت کے بعد انہیں راحت نصیب ہوجائے گی۔
Ayah 9:111

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال (اس قیمت پر) خرید لئے ہیں کہ ان کے لئے بہشت (کی جاودانی زندگی) ہو۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے مرتے رہیں۔ (یہ) اللہ کے ذمے ایک سچا وعدہ ہے (اور یہ وعدہ) تورات اور انجیل اور قرآن (سب) میں (ہے) ' اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا کرنے والا کون ہوسکتا ہے ؟ پس (مسلمانو ' ) خوشیاں مناؤ اپنے (اس) سودے پر جو تم نے اللہ کے ساتھ کیا ہے، یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

[63] یہاں ایمان کے معاملے کو اللہ اور بندے کے درمیان خریدو فروخت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جب بندہ اللہ پر ایمان لاتا ہے تو گویا اس نے سب کچھ اللہ کے ہاتھ بیچ ڈالا اور اللہ نے اس کے معاوضے میں اس سے جنت کا وعدہ فرمایا۔ اللہ کی یہ کمال عزت افزائی اور شان کریمی ہے کہ وہ ہمارا خریدار بنے اور ہم سے وہ چیزیں خریدے جو نہ ہماری بنائی ہوئی ہیں نہ ہماری پیدا کی ہوئی۔ جان ہے تو اسی کی پیدا کی ہوئی، مال ہے تو اس کا عطا کیا ہوا۔
Ayahs 9:112–113

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

(اپنی لغزشوں اور خطاؤں سے) توبہ کرنے والے ' عبادت گزار ' (خدا کی) حمد (وثنا) کرنے والے ' (اس کی راہ میں) سفر کرنے والے، رکوع و سجود کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے، اللہ کی ٹھہرائی ہوئی حدبندیوں کی حفاظت کرنے والے، (یہ ہیں اوصاف ان مومنوں کے جو اللہ سے خریدوفروخت کا یہ معاملہ طے کرتے ہیں) اور (اے پیغمبر ' ) ان مومنوں کو (کامیابی وسعادت کی) خوشخبری سنا دو ۔

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 9:113 in the Quran reader

پیغمبر اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں سزاوار نہیں کہ مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی (کیوں نہ) ہوں جب کہ یہ بات ان پر کھل چکی ہے کہ وہ دوزخی ہیں

[64] جیسے مجاہد، حاجی، طالب العلم وغیرہ۔ [65] یعنی حدود شرعی سے تجاوز نہ کرنے والے۔ قرآن تمام واجبات و حقوق کو خواہ افراد کی زندگی سے تعلق رکھتے ہوں خواہ جماعت سے حدود اللہ سے تعبیر کرتا ہے۔ ان حدود کے ٹوٹنے سے انسانی امن وسعادت کا ٹوٹ جانا ہے۔
Ayah 9:114

وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ Open ayah 9:114 in the Quran reader

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت کرنا (محض) ایک وعدے (کی وجہ) سے تھا جو اس نے اپنے باپ سے کیا تھا۔ پھر جب اس پر یہ بات کھل گئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ باپ سے بےتعلق ہوگیا۔ بلاشبہ ابراہیم بڑا ہی نرم دل اور بردبار (انسان) تھا۔

[66] ملاحظہ ہو سورة مریم آیت 47 صفحہ 706 [67] بعض مسلمانوں کو خیال ہوا کہ جب اللہ کے رسول کی دعا مقبول ہے تو کیوں نہ ہم آپ سے اپنے عزیزوں کے لئے دعائے مغفرت کی التجا کریں جو مرچکے ہیں جب کہ خود قرآن میں ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت کی تھی۔ یہاں اسی شبہ کا ازالہ کیا گیا ہے۔
Ayahs 9:115–116

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 9:115 in the Quran reader

اور اللہ ایسا نہیں کہ وہ لوگوں کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کر دے تاوقتیکہ ان کو وہ ساری باتیں نہ بتادے جن سے انہیں بچنا چاہئے۔ بلاشبہ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:116 in the Quran reader

(اور یہ حقیقت ہے کہ) آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے۔ (وہی) زندہ کرتا ہے اور (وہی) مارتا ہے، اور (مسلمانو ' یاد رکھو) اللہ کے سوا نہ تمہارا کوئی حامی ہے اور نہ مدد گار۔

[68] یعنی اللہ پہلے سے لوگوں کو آگاہ کردیتا ہے کہ انہیں کن کن باتوں سے بچنا چاہئے۔ پھر جب وہ باز نہیں آتے اور نافرمانی پر ہی اصرار کئے جاتے ہیں تو وہ ان کے لئے وہی راہ کھول دیتا ہے جس پر وہ چلنا چاہتے ہیں۔ یہاں یہ آیت جس مناسبت سے آئی ہے وہ یہ ہے کہ جب مومنین کو مشرکین کے لئے استغفار سے منع فرما دیا گیا تو انہیں اندیشہ ہوا کہ ہم پہلے جو استغفار کرچکے ہیں کہیں اس پر گرفت نہ ہو۔ اس آیت میں انہیں تسکین دی گئی اور بتایا گیا کہ ممانعت بیان ہونے کے بعد نافرمانی کرنے سے مواخذہ ہوتا ہے اور کیونکہ اس سے پہلے استغفار مشرکین سے ممانعت نہیں کی گئی تھی اس لئے ان کا یہ استغفار قابل سزا نہیں۔
Ayah 9:117

لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:117 in the Quran reader

یقینا اللہ نے نبی پر اور مہاجرین اور انصار پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمائی جنہوں نے نبی کا ساتھ (بڑی) تنگی کے وقت میں دیا جب کہ (حالت ایسی ہوچکی تھی کہ) قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل کج ہوجائیں۔ پھر اس نے اپنی رحمت سے ان پر توجہ فرمائی۔ بلاشبہ وہ ان کے حق میں شفیق (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[69] یعنی غزوہ تبوک میں۔ اس غزوہ کو ساعت عسرت اس لئے فرمایا کہ گرمی شدید تھی، سفر دراز تھا، سواری اور سامان رسد کی شدید قلت تھی اور مقابلہ ایک باضابطہ شاہی لشکر سے تھا۔