9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 9:41–47

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:41 in the Quran reader

(مسلمانو ' ) ہلکے ہو یا بوجھل، (جس حال میں ہو) نکل کھڑے ہو اور اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ Open ayah 9:42 in the Quran reader

(اے پیغمبر ' ) اگر کچھ مال لگے ہاتھ مل جانے والا ہوتا اور سفر بھی ہلکا ہوتا تو یہ (منافق بلاتامل) تمہارے پیچھے ہو لیتے۔ لیکن انہیں تو مسافت ہی دور دراز معلوم ہوئی اور (تم دیکھو گے کہ) یہ قسمیں کھا کھا کر (مسلمانوں سے) کہیں گے کہ اگر ہم مقدور رکھتے تو ضرور تم لوگوں کے ساتھ نکل کھڑے ہوتے۔ یہ لوگ (جھوٹی قسمیں کھا کر) اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ یہ قطعا جھوٹے ہیں۔

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

(اے پیغمبر ' ) اللہ تمہیں معاف کرے ' تم نے (ان کی منافقانہ عذرداریوں پر) انہیں (پیچھے رہ جانے کی) اجازت کیوں دے دی ؟ (تمہیں چاہئے تھا کہ اجازت نہ دیتے) تاکہ سچے لوگ تم پر ظاہر ہوجاتے اور جھوٹوں کو بھی تم جان لیتے۔

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ (کبھی) تم سے اجازت نہ مانگیں گے کہ اپنی جان و مال سے جہاد نہ کریں۔ اور اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے۔

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

تم سے اجازت مانگنے والے تو وہی ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ' جن کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں اور وہ اپنے شک (کی حالت) میں متردد ہیں (کہ کیا کریں کیا نہ کریں) ۔

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

اور اگر انہوں نے (گھر سے) نکلنے کا ارادہ کیا ہوتا تو اس کے لئے کچھ سامان کرتے مگر اللہ نے ان کا اٹھنا پسند ہی نہیں کیا اس لئے انہیں بوجھل کردیا اور (انہیں) کہہ دیا کہ دوسرے بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ تم بھی بیٹھ رہو۔

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر یہ لوگ تمہارے ساتھ نکلتے تو تمہارے حق میں شرارت کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے اور تمہارے درمیان فتنہ انگیزی کے لئے گھوڑے دوڑاتے۔ اور (غضب یہ ہے کہ) تم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ان کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

[26] یعنی خوشی یا گرانی سے، سرو سامان کے ساتھ یا بےسروسامانی سے، حالات خواہ موافق ہوں یا ناموافق، جب نکلنے کا حکم ہوچکا تو جس حال میں ہو نکل کھڑے ہو۔ یہ آیت اس باب میں قطعی ہے کہ دفاع کے لئے جب امام بلائے تو بجزان معذوروں کے جنہیں آگے چل کر آیت 91 میں مستثنیٰ کردیا ہے ہر شخص پر واجب ہوجاتا ہے کہ جان و مال سے شریک جہاد ہو اور اس بارے میں کسی عذر کی گنجائش نہیں۔
Ayah 9:48

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

(اے پیغمبر ' ) یہ واقعہ ہے کہ ان لوگوں نے اس سے پہلے بھی فتنہ انگیزی کی کوششیں کی ہیں اور تمہارے خلاف ہر طرح کی تدبیروں کا الٹ پھیر کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ حق آگیا اور اللہ کا حکم غالب ہو کر رہا اگرچہ ان کو ناگوار ہی گزرا۔

[27] اشارہ ہے جنگ احد کی طرف۔ اس موقع پر یہ لوگ راستے سے لوٹ آئے تھے۔
Ayahs 9:49–50

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

اور ان (منافقوں) میں کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے '' مجھے (پیچھے رہ جانے کی) اجازت دیجئے اور فتنے میں نہ ڈالئے ''۔ تو سن رکھو کہ فتنے میں تو یہ پڑ ہی چکے ہیں اور بلاشبہ جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

(اے پیغمبر ' ) اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچ جائے تو ان (منافقوں) کو برا لگتا ہے اور اگر تم پر کوئی مصیبت آپڑے تو کہنے لگتے ہیں کہ ہم نے اپنا معاملہ پہلے ہی (ٹھیک) کرلیا تھا اور (یہ کہتے ہوئے) خوشی خوشی منہ موڑ کر چل دیتے ہیں

[28] منافقین نے جنگ تبوک سے بچنے کے لئے طرح طرح کے حیلے تراشے۔ ان میں سے کسی نے یہ کہا کہ میں عورتوں کے معاملے میں کمزور ہوں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ رومی عورتوں کو دیکھوں گا تو مجھ سے صبر نہ ہو سکے گا۔ اس لئے مجھے فتنے میں نہ ڈالئے۔
Ayah 9:51

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

(اے پیغمبر ' ان لوگوں سے) کہہ دو کہ ہمیں ہرگز (کوئی بھلائی یا برائی) نہیں پہنچ سکتی مگر جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دی ہے۔ اللہ ہی ہمارا کارساز ہے اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔

[29] یعنی ایک اللہ کی پرستش کرنے والا انسان جو کچھ کرتا ہے۔ اللہ کی رضا کے لئے کرتا ہے اور اس کام میں اس کا بھروسہ اللہ کی ذات پر ہوتا ہے۔ اگر راہ حق میں کام کرتے ہوئے اس پر مصائب نازل ہوں یا کامرانیاں، دونوں کو وہ اپنے حق میں اللہ کی طرف سے سمجھتا ہے۔ وہ ناسازگار حالات میں بھی اسی عزم و ہمت سے کام کئے جاتا ہے جس کا اظہار اہل دنیا سے صرف سازگار حالات ہی میں ہوا کرتا ہے۔ اس کے پیش نظر صرف یہ بات ہوتی ہے کہ اللہ کی راہ میں جان و مال کی بازی لگانے کا جو فرض اس پر عائد ہوتا ہے اس نے کہاں تک انجام دیا۔ اگر یہ فرض اس نے ادا کردیا ہو تو خواہ دنیا میں اس کی بازی بالکل ہی ہر گئی ہو لیکن اسے بھروسہ اللہ پر رہتا ہے جس کی رضا کے لئے اس نے مال کھپایا ہے اور جان دی ہے، وہ اس کے اجر کو ضائع کرنے والا نہیں ہے۔
Ayahs 9:52–54

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

(ان لوگوں سے) کہو کہ تم ہمارے حق میں دوبھلائیوں میں سے ایک بھلائی کے منتظر رہتے ہو۔ اور ہم تمہارے حق میں اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ اپنی طرف سے تم پر کوئی عذاب کرتا ہے یا ہمارے ہاتھوں سے (تم کو سزا دلواتا ہے۔ اچھا) تو اب انتظار کرو ہم (بھی) تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

(اے پیغمبر ' ان سے) کہو کہ تم (اللہ کی راہ میں) خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے ' تمہارا خرچ کرنا کبھی قبول نہ کیا جائے گا کیونکہ تم لوگ نافرمان ہو۔

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

اور ان کی خیرات قبول ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں بجز اس کے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے کفر کیا اور نماز کے لئے آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں تو بددلی سے۔

[30] مطلب یہ ہے کہ تم ہمارے لئے دو باتوں کو فرض کرسکتے ہو یعنی فتح یا موت، تو ہمارے لئے دونوں ہی باتوں میں خیر ہی خیر ہے۔ فتح کا خیر ہونا تو اجر اخروی اور منافع دنیوی دونوں کے اعتبار سے ظاہر ہی ہے۔ رہی موت تو اگر مومن اللہ کی راہ میں مارا جائے تو اس سے بڑی سعادت اس کے لئے کیا ہوسکتی ہے۔
Ayahs 9:55–59

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر ' ) ان کے مال (ودولت) اور (ان کا صاحب) اولاد (ہونا) تمہارے لئے موجب حیرت نہ ہوں ' اللہ تو چاہتا ہے کہ انہی (نعمتوں) کے ذریعے سے انہیں دنیا کی زندگی میں عذاب دیتا رہے اور ان کی جان بھی اس حالت میں نکلے کہ وہ کافر ہوں۔

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

اور (اے مسلمانو ' یہ منافق تمہارے سامنے) اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں بلکہ ایک گروہ ہے ڈرا اور سہما ہوا۔

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

اگر وہ کوئی پناہ کی جگہ پائیں یا (چھپ رہنے کے قابل) غار یا گھس بیٹھنے کی (کوئی اور) جگہ تو یہ (فوراً ) ادھر پھرجائیں اور (حالت یہ ہو کہ گویا) رسی توڑ کر بھاگے جا رہے ہیں۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

(اے پیغمبر ' ) ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو صدقات (کی تقسیم) میں تم پر (بےانصافی کا) الزام لگاتے ہیں۔ لیکن اگر ان کو اس میں سے (ان کی خواہش کے مطابق) دے دیا جائے تو خوش ہوجائیں اور اگر (ان کی خواہش کے مطابق) نہ دیا جائے تو بس فوراً یہ بگڑ بیٹھتے ہیں۔

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

(کیا اچھا ہوتا کہ) جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے ان کو دیا تھا اگر وہ اس پر رضامند ہوجاتے اور کہتے کہ اللہ ہمارے لئے کافی ہے ' وہ اپنے فضل (وکرم) سے ہمیں (بہت کچھ) دے گا اور اس کا رسول بھی (ہم پر عنایت فرمائے گا ' ) ہم تو اللہ ہی سے لَو لگائے بیٹھے ہیں۔

[31] مطلب یہ ہے کہ کفار و منافقین کے مال و اولاد ان کے لئے نعمت نہیں عذاب ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ دنیا کی محبت میں انہماک ان کے لئے ایک مستقل عذاب اور مصیبت بن جاتا ہے کیونکہ اول تو مال و دولت جمع کرنے میں بیحد کوفت اٹھاتے ہیں پھر ذرا سا نقصان یا صدمہ پہنچ گیا تو جس قدر محبت ان چیزوں سے ہے اسی قدر غم ہوتا ہے حتیٰ کہ بعض اوقات دماغی توازن برقرار نہیں رہتا۔ پھر جب موت ان محبوب چیزوں سے جدا کرتی ہے اس وقت کے صدمے اور حسرت کا تو اندازہ مشکل ہے۔ غرض دنیا کے عاشق اور حریص کو کسی وقت بھی چین و آرام میسر نہیں ہوتا۔
Ayah 9:60

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:60 in the Quran reader

صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لئے ہیں اور ان کارکنوں کے لئے جو صدقات (وصول کرنے) پر (مامور) ہوں ' اور ان لوگوں کے لئے جن کی دل جوئی منظور ہو، نیز گردنیں چھڑانے میں، اور قرض داروں (کے قرضے ادا کرنے) میں، اور اللہ کی راہ میں، اور مسافروں (کی امداد) میں۔ یہ (سب) فرض ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

[32] یہاں صدقہ سے مراد صدقہ واجب ہے یعنی زکوٰۃ۔ [33] فقیر وہ ہے جس کے پاس ضروریات زندگی کے لئے کچھ نہ ہو اور مسکین وہ ہے جس کی احتیاج اس آخری درجے تک تو نہیں پہنچی مگر پہنچ جائے گی اگر اس کی خبرگیری نہ کی جائے۔ [34] یعنی وہ غیر مسلم جن کے مسلمان ہوجانے کی امید ہو یا ان کے شر سے بچنا مقصود ہو، یا پھر ایسے نومسلم جو اگرچہ غریب نہ ہوں لیکن اسلام سے محبت پیدا کرنے کے لئے مالی امداد دی جائے۔ [35] یعنی غلاموں کے آزاد کرنے میں کسی غلام کو اس کے آقا نے کہہ دیا ہو کہ تو اتنا روپیہ دے دے تو آزاد ہے تو اس غلام کو زکوٰۃ دی جائے تاکہ اپنے آقا کو دے کر آزاد ہوجائے۔ [36] یعنی وہ قرضدار جو بغیر کسی گناہ کے مبتلائے قرض ہوئے ہوں اور اتنا مال نہ رکھتے ہوں جس سے قرض ادا کریں انہیں ادائے قرض میں مال زکوٰۃ سے مدد دی جائے۔ [37] وہ تمام کام جو براہ راست دین و ملت کی حفاظت وتقویت کے لئے ہوں اللہ کی راہ کے کام ہیں۔ جن کے تحت جہاد سے لے کر دعوت دین اور تعلیم دین کے سارے کام آتے ہیں مثلاً قرآن اور علوم دینیہ کی ترویج اور اشاعت، مدارس کے اجرا و قیام۔ [38] مسافر اگر حالت سفر میں مدد کا محتاج ہوجائے تو اس کی مدد زکوٰۃ سے کی جائے گی۔
Ayahs 9:61–64

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

اور ان (منافقوں) میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو (اللہ کے) نبی کو (اپنی بدگوئی سے) اذیت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص کان (کا بڑا کچا) ہے۔ (اے پیغمبر ' ان سے) کہو کہ اس کا کان (کا کچا) ہونا تمہاری بہتری کے لئے ہے۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور مومنوں (کی بات) پر بھی یقین رکھتا ہے اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو تم میں سے ایمان لائے ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

(مسلمانو ' یہ لوگ) تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ تمہیں راضی کرلیں حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ حقدار ہیں کہ یہ ان کو راضی کریں اگر یہ مومن ہیں۔

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

کیا انہیں معلوم نہیں کہ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے اس کے لئے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ (ہمیشہ) رہے گا (اور) یہ بڑی ہی رسوائی (کی بات) ہے۔

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

یہ منافق (اس بات سے بھی) ڈرتے ہیں کہ (کہیں ایسا نہ ہو کہ) مسلمانوں پر (ایسی) سورت نازل ہوجائے (کہ) جو کچھ ان کے دلوں میں (چھپا ہوا) ہے اس سے مسلمانوں کو آگاہ کر دے۔ (اے پیغمبر ' ان سے) کہو ' اچھا (اپنی عادت کے مطابق) مذاق اڑالو ' یقینا اللہ اس چیز کو ظاہر کر کے رہے گا جس (کے اظہار) سے تم ڈرتے ہو۔

[39] یعنی جو کچھ کسی نے کہا یقین کرلیا۔ [40] یعنی اگر وہ سننے والا بھی ہے تو خیر و صلاح کا سننے والا ہے شر و فساد کا نہیں۔ وہ صرف انہی باتوں پر توجہ کرتا ہے جن میں امت کی بھلائی ہے۔
Ayah 9:65

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اگر تم ان لوگوں سے پوچھو (کہ ایسی باتیں کیوں کرتے ہو) تو وہ ضرور یہی جواب دیں گے کہ ہم تو محض مذاق اور خوش طبعی کر رہے تھے۔ (ان سے) کہو ' استہزا کرنا تھا تو تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی آیتوں ہی کے ساتھ کرنا تھا ؟

[41] غزوہ تبوک کے زمانے میں منافق اپنی مجلسوں میں نبی ﷺ کا مذاق اڑایا کرتے، مثلاً کہتے کہ دیکھو یہ لوگ روم و شام کے قلعے فتح کرنے چلے ہیں، انہوں نے رومیوں کی جنگ کو عربوں کی باہمی جنگ پر قیاس کر رکھا ہے۔ کل دیکھ لینا یہ سب رومیوں کے سامنے رسیوں سے بندھے ہوئے کھڑے ہوں گے۔ یہاں منافقوں کی اسی قسم کی بدگوئیوں کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 9:66

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

اب بہانے نہ بناؤ۔ حق تو یہ ہے کہ تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا۔ اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف بھی کردیں تاہم دوسرے گروہ کو ضرور عذاب دیں گے کہ (اصل میں) وہی مجرم ہیں۔

[42] یعنی اگر ہم نے تمہارے ایک گروہ سے اس دنیا میں درگزر بھی کرلیا اور اس کے معاملے کو آخرت پر اٹھا رکھا تو دوسرا گروہ لازماً اسی دنیا میں ہمارے عذاب سے دوچار ہوگا۔
Ayahs 9:67–69

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد اور منافق عورتیں (سب) ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں، برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے روکتے ہیں اور (راہ حق میں خرچ کرنے سے) اپنی مٹھیاں بند رکھتے ہیں۔ (حقیقت یہ ہے کہ) یہ اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا۔ بلاشبہ منافق بڑے ہی نافرمان ہیں۔

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں کے لئے آگ کا وعدہ کر رکھا ہے جس میں وہ ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے ' وہی ان کے لئے کافی ہے۔ ان پر اللہ کی لعنت ہے اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے۔

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

(منافقو ' تم بھی) ان لوگوں کی طرح ہو جو تم سے پہلے تھے۔ وہ تم سے زیادہ قوت والے تھے اور مال و اولاد بھی تم سے زیادہ رکھتے تھے۔ پھر انہوں نے اپنے (دنیوی) حصے سے خوب فائدہ حاصل کیا اور تم نے بھی اپنے (دنیوی) حصے سے خوب فائدہ حاصل کیا جس طرح تم سے پہلوں نے اپنے حصے سے فائدہ حاصل کیا تھا۔ اور ویسی ہی بحثوں میں تم بھی پڑے جیسی بحثوں میں وہ پڑے تھے۔ یہی وہ لوگ ہیں کہ دنیا اور آخرت (دونوں) میں ان کا کیا دھرا (سب) اکارت ہوا اور وہی خسارے میں ہیں۔

[43] اصل الفاظ ہیں (بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ 67؀) 9 ۔ التوبہ :67) جن کا لفظی ترجمہ ہے کہ بعض ان کے بعض میں سے ہیں۔ یعنی سب کا ایک ہی حال ہے۔
Ayahs 9:70–72

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا ان (منافقوں) کو ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ (یعنی) نوح کی قوم ' عاد ' ثمود ' ابراہیم کی قوم ' مدین کے لوگ اور الٹی ہوئی بستیوں کے رہنے والے ؟ ان کے رسول ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے (لیکن انہوں نے رسولوں کی ایک نہ سنی اور مبتلائے عذاب الٰہی ہوئے ' ) سو اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا مگر وہ (اس کی نافرمانی کر کے) آپ ہی اپنے پر ظلم کرتے رہے۔

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

اور (جو) مومن مرد اور مومن عورتیں (ہیں) یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں ' بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ' نماز قائم کرتے ہیں ' زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ ضرور رحمت فرمائے گا۔ یقینا اللہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:72 in the Quran reader

اس نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے (ایسے) باغوں کا وعدہ کر رکھا ہے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ اور (اس کا وعدہ ہے ان) سدا بہار باغوں میں پاکیزہ مکانوں کا ' اور ان سب سے بڑھ کر (یہ نعمت کہ) کہ اللہ کی خوشنودی (انہیں حاصل ہوگی اور) یہی بڑی کامیابی ہے۔

[44] مراد ہیں قوم لوط کی بستیاں جو زیر و زبر کر ڈالی گئی تھیں۔
Ayah 9:73

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 9:73 in the Quran reader

اے پیغمبر ' کافروں اور منافقوں (دونوں) سے جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ (کہ وہ اس کے مستحق ہیں) اور بالآخر ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے !

[45] جہاد کے معنی ہیں کسی ناپسندیدہ چیز کے دفع کرنے میں انتہائی کوشش کرنا۔ یہ کوشش کبھی عطیات سے ہوتی ہے، کبھی زبان سے، کبھی قلم سے، کبھی کسی اور طریق سے۔ منافقین جو زبان سے اسلام کا اظہار کریں اور دل سے مسلمان نہ ہوں ان کے مقابلے میں تلوار سے جہاد جمہور علماء کے نزدیک جائز نہیں، نہ عہد نبوت میں ایسا ہوا اس لئے اس آیت میں ان کی نسبت ذرا سخت رویہ اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔ تبوک کے موقع پر جب منافقین نے کھلم کھلا عناد اور دشمنی کا انداز اختیار کیا تو رسول اللہ ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ ان کے معاملے میں سختی اختیار کیجئے۔ یہ شریر خوش اخلاقی اور نرمی سے ماننے والے نہیں ہیں۔
Ayahs 9:74–78

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:74 in the Quran reader

یہ (منافق) اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے (فلاں) بات نہیں کہی ' حالانکہ یقینا انہوں نے کفر کی بات کہی تھی۔ اور (وہ بات کہہ کر) اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے اور انہوں نے ایسی بات کا بھی ارادہ کیا تھا جسے وہ حاصل نہ کرسکے۔ اور جس بات پر سیخ پا ہوئے وہ یہی تھی نا کہ اللہ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول نے (اپنی مہربانی سے) انہیں (مال غنیمت دے دے کر) مال دار کردیا۔ بہرحال اگر یہ لوگ اب بھی توبہ کریں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوگا اور اگر روگردانی کریں تو اللہ انہیں دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب دے گا اور (روئے) زمین پر نہ کوئی ان کا حامی ہوگا اور نہ مددگار۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 9:75 in the Quran reader

اور (دیکھو ' ) ان (منافقوں) میں سے بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ عہد کیا تھا کہ اگر اس نے اپنے فضل سے ہمیں (مال و دولت) عطا کیا تو ہم ضرور خیرات کریں گے اور (اس کے) نیک بندے بن کر رہیں گے۔

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 9:76 in the Quran reader

پھر جب اللہ نے ان کو اپنے فضل سے (مال و دولت) عطا کیا تو لگے اس میں بخل کرنے اور (اپنے عہد سے) پھرگئے اور (حقیقت یہ ہے کہ) وہ ہیں ہی پھرے ہوئے۔

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 9:77 in the Quran reader

پس تو (اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ) اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس دن تک کے لئے (جس دن) یہ اس سے ملیں گے اور یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا نہ کیا اور (نیز) اس لئے کہ وہ جھوٹ بولتے رہے۔

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ Open ayah 9:78 in the Quran reader

کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ان کے بھیدوں اور ان کی سرگوشیوں تک سے واقف ہے اور یہ کہ وہ تمام غیب کی باتوں سے بھی پوری طرح آگاہ ہے۔

[46] منافقین اپنی مجلس میں نبی ﷺ کا مذاق اڑایا کرتے اور جب پکڑے جاتے تو کہتے کہ ہم نے کچھ نہیں کہا۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ [47] اشارہ ہے اس سازش کی طرف جو تبوک سے واپسی کے موقع پر منافقوں نے نبی ﷺ کو قتل کرنے کے لئے کی تھی۔ [48] یہ ایک لطیف طنز منافقوں کی کمینہ فطرت پر ہے۔ فرمایا کہ ہمارے نبی پر ان منافقین کا سارا غصہ اس کے اس '' قصور '' کی پاداش میں ہے جس کی بدولت وہ مالدار ہوگئے۔