8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsروح القرآن

Ayah 8:1

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 8:1 in the Quran reader

وہ تم سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دیجئے ! انفال اللہ اور رسول کے لیے ہے، پس تم اللہ سے ڈرو اور باہمی تعلقات کی اصلاح کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو۔

اور اس وقت کو یاد کرو جس وقت اللہ تم سے وعدہ کرتا تھا کہ دو جماعتوں میں سے ایک یقینا تمہارے لیے ہے اور تم چاہتے تھے کہ جس میں کانٹا نہ لگے وہ تم کو ملے اور اللہ چاہتا تھا کہ وہ اپنے کلمات سے حق کو حق ثابت کردے اور کافروں کی جڑ کاٹ ڈالے تاکہ وہ حق کو حق ثابت کرے اور باطل کو باطل ثابت کرے اگرچہ ناراض ہوں گناہ گار۔ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے تو اس نے تمہاری فریاد سنی کہ میں ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کروں گا جن کے پرے کے بعد پرے نمودار ہوں گے۔ اور نہیں کیا اللہ نے (فرشتوں کی خبر دینے کو) مگر خوشخبری تاکہ اس سے تمہارے دل مطمئن ہوجائیں اور مدد تو اللہ ہی کے پاس سے آتی ہے، بیشک اللہ زورآور حکمت والا ہے۔ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِط قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِج فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْ ص وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗٓ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ ۔ (الانفال : 1) (وہ تم سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجئے ! انفال اللہ اور رسول کے لیے ہے، پس تم اللہ سے ڈرو اور باہمی تعلقات کی اصلاح کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو۔ ) انفال کا مفہوم انفال ،” نفل “ کی جمع ہے۔ عربی زبان میں نفل اس چیز کو کہتے ہیں جو واجب سے یا حق سے زائد ہو۔ جب یہ تابع اور ماتحت کی طرف سے ہو تو اس سے مراد وہ رضاکارانہ خدمت ہوتی ہے جو ایک بندہ اور ملازم اپنے آقا کے لیے فرض سے بڑھ کر تطوعاً بجا لاتا ہے اور جب یہ متبوع کی طرف سے ہو تو اس سے مراد وہ عطیہ اور انعام ہوتا ہے جو آقا اپنے بندے کو اس کے حق سے زائد دیتا ہے۔ قرآن وسنت کی اصطلاح میں نفل اور انفال مال غنیمت کے لیے بھی بولا جاتا ہے جو کفار سے بوقت جہاد حاصل ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے مال غنیمت کے لیے تین الفاظ استعمال کیے ہیں۔ انفال، غنیمت، فئے۔ غنیمت عموماً اس مال کو کہتے ہیں جو جنگ و جہاد کے ذریعے مخالف فریق سے حاصل ہو اور فئے اس مال کو کہتے ہیں جو بغیر جنگ و قتال کے کفار سے ملے، خواہ وہ چھوڑ کر بھاگ جائیں یا رضامندی سے دینا قبول کرلیں اور نفل اور انفال کا لفظ جیسا کہ عرض کیا گیا اس انعام کے لیے بولا جاتا ہے جو امیرجہاد کسی خاص مجاہد کو اس کی کار گزاری کے صلہ میں علاوہ غنیمت کے حصہ کے بطور انعام عطاکرے اور کبھی یہ لفظ مطلقاً مال غنیمت پر بھی بولا جاتا ہے اور اس آیت کریمہ میں مال غنیمت ہی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ سوال کی نوعیت اس آیت میں جو سوال کیا گیا ہے اس سلسلے میں حضرت عبادہ ( رض) نے جو وضاحت فرمائی اسے مسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور مستدرک وغیرہ میں اس طرح روایت کیا گیا ہے کہ یہ آیت اصحابِ بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جس کا واقعہ یہ تھا کہ مال غنیمت کی تقسیم کے باعث مسلمانوں میں کچھ اختلاف پیدا ہوگیا۔ صورت یہ پیش آئی کہ مسلمان سب غزہ بدر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے دونوں فریق میں گھمسان کی جنگ کے بعد اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست دی۔ تو اب مسلمان لشکر کے تین حصے ہوگئے۔ کچھ لوگوں نے دشمن کا تعاقب کیا تاکہ دشمن واپس نہ آسکے۔ کچھ لوگ کفار کے چھوڑے ہوئے اموالِ غنیمت جمع کرنے میں لگ گئے اور کچھ لوگ رسول کریم ﷺ کے گرد اس لیے جمع رہے کہ کسی طرف سے چھپا ہوا دشمن آنحضرت ﷺ پر حملہ نہ کردے۔ جب جنگ ختم ہوگئی اور رات کو ہر شخص اپنے ٹھکانے پر پہنچاتوجن لوگوں نے مال غنیمت جمع کیا تھا وہ کہنے لگے کہ یہ مال تو ہم نے جمع کیا ہے اس لیے اس میں ہمارے سوا کسی کا حصہ نہیں، جو لوگ دشمن کے تعاقب میں گئے تھے انھوں نے کہا کہ تم لوگ ہم سے زیادہ اس کے حقدار نہیں ہو کیونکہ ہم ہی نے دشمن کو پسپا کیا اور تمہارے لیے موقع فراہم کیا کہ تم بےفکر ہو کر مال غنیمت جمع کرلو اور جو لوگ آنحضرت ﷺ کی حفاظت کے لیے آپ کے گرد جمع رہے انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے تو ہم بھی مال غنیمت جمع کرنے میں تمہارے ساتھ شریک ہوتے لیکن آنحضرت ﷺ کی حفاظت جو جہاد کا سب سے اہم کام تھا ہم اس میں مشغول رہے، اس لیے ہم بھی اس کے مستحق ہیں۔ مسلمانوں جیسی بلند اخلاق قوم میں مال غنیمت کے حوالے سے اختلاف پیدا ہونا بظاہر عجیب سا معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کیونکہ اسلام لانے کے بعد مسلمانوں کو پہلی مرتبہ پرچم اسلام کے نیچے لڑنے کا اتفاق ہوا تھا اور اسلام میں اب تک جنگ اور مال غنیمت کے بارے میں احکام نازل نہیں ہوئے تھے۔ ایسی صورتحال میں مسلمانوں کے ذہن میں صرف وہی تصورات تھے جو اسلام سے پہلے عربوں میں رائج تھے۔ قدیم زمانے سے طریقہ یہ چلا آرہا تھا کہ جو مال جس کے ہاتھ لگتا وہی اس کا مالک قرار پاتا۔ عربوں کی اسی روایت کے مطابق جن لوگوں نے مال غنیمت جمع کیا تھا وہ جائز طور پر اپنے آپ کو اس کا مالک سمجھنے لگے اور جب دوسرے لوگوں نے اپنا استحقاق جتلایا تو انھیں ناگوار گزرا اور ان کا انکار باقی مسلمانوں کے لیے دل گرفتگی کا باعث بنا۔ چونکہ یہ آنحضرت ﷺ کے تربیت یافتہ اور اللہ سے ڈرنے والے لوگ تھے اس لیے یہ اختلاف صرف زبانوں تک محدود رہا اس سے آگے نہ بڑھ سکا۔ ورنہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ افواج میں مال غنیمت کے اختلافات ہمیشہ نازک صورت اختیار کرجاتے ہیں۔ خانہ جنگی شروع ہوجاتی ہے اور اکثرایسا ہوتا ہے کہ جیتی ہوئی بازی ہار دی جاتی ہے۔ لیکن اس موقعہ پر مسلمانوں نے صرف یہ کیا کہ نبی ِ کریم ﷺ سے مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں پوچھا۔ چناچہ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اس کا آغازہی اس طرح ہوا کہ یہ لوگ آپ سے انفال کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ قرآن کریم نے اگرچہ مسلمانوں کے اس طرز عمل پر اصلاحی انداز میں تنقید فرمائی ہے۔ لیکن یہ بات امر واقعہ ہے کہ مسلمانوں کو اس سے پہلے اس حوالے سے کوئی ہدایات نہیں دی گئی تھیں۔ جنگی تہذیب کی ابھی تک بنیاد نہیں رکھی گئی تھی۔ بہت سے تمدنی معاملات ابھی تک اصلاحی احکام کے انتظار میں تھے۔ ایسی صورتحال میں یہ انسانی کمزوری ہے کہ انسان پرانے رسم و رواج کے طریقے پر چل پڑتا ہے چناچہ مسلمانوں میں بھی یہ اختلاف اسی سبب سے ہوا۔ جو اب میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس میں ایک تو مسلمانوں کو ان کی اصل حیثیت یا ددلائی گئی ہے اور دوسری یہ بات کہ اسلام جنگ اور اس سے متعلقہ امور میں جو اصلاح کرنا چاہتا ہے اس کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ مسلمانوں کی مقصدی حیثیت جہاں تک مسلمانوں کو ان کی مقصدی حیثیت یا ددلانے کا سوال ہے اس کی طرف اشارہ سوال کے انداز اور جواب کے اسلوب میں مضمر ہے کہ تم نے مال غنیمت کے بارے میں سوال اٹھاکر یہ تاثر دیا ہے کہ گویا تم جنگ اس لیے لڑتے ہو تاکہ تمہیں مال غنیمت ہاتھ آئے حالانکہ مسلمانوں کی کفار سے جنگ صرف جنگ نہیں بلکہ جہاد ہے۔ جس کا مقصد اعلائے کلمۃ الحق اور اللہ کی رضا کا حصول ہے اور یہی وہ مقصد ہے جس کی خاطر تمہیں اٹھایا گیا ہے۔ دنیا کو مقصد بنا کر شب وروز کی محنت، جان ماری اور پھر اس سلسلے میں ہر طرح کی صعوبتوں کا برداشت کرنا، دوسروں کے حقوق چھیننا، دوسروں کی محرومیوں پر اپنی کامیابیوں کے قلعے استوار کرنا، دنیا بھر کی قوموں کا رات دن کا معمول ہے اگر تمہارا مطلوب ومقصودبھی دنیا ہوتا تو پھر بطور ایک امت کے تمہیں برپا کرنے کی ضرورت کیا تھی ؟ یہ دنیا مختلف اقوام کی آماجگاہ ہے یہاں قدم قدم پر آویزشیں ہیں۔ ظلم اور فساد ہے، انسانوں کے حقوق کی تباہ کاری ہے۔ تمہارا کام اس کھیل میں شریک ہونا نہیں بلکہ اللہ کی زمین پر انسانوں کو نئی زندگی نئے دستور العمل، نئے اہداف اور نئی منزلوں سے آگاہ کرنا ہے۔ حق و باطل کی آویزش کی پہلی بنیاد ہی یہ ہے کہ اس میں صرف اللہ کے نام اور اس کے دین کی سربلندی سامنے ہوتی ہے، ایک مسلمان اسی کے لیے محنت کرتا، جان کھپاتا، زخمی ہوتا، حتی کہ اس راستے میں قربان ہوجاتا ہے۔ اس کے مقاصد اور اہداف میں دور دور تک دنیا طلبی اور سامانِ دنیا کے حصول کا کوئی تصور نہیں کیونکہ مسلمانوں کے لیے جاں سپاری اور سرفروشی کا اصل انعام تو آخرت میں ملے گا۔ جس میں جنت کی نعمتیں ان کے انتظار میں ہیں۔ البتہ ! کبھی کبھی فتح و کامرانی کی صورت میں بھی یہ انعام ملتا ہے اور فتح کی صورت میں مال غنیمت کا ہاتھ آجانا اصل مقصد سے ایک زائد بات ہے۔ جس کی طرف یہاں انفال کہہ کر اشارہ فرمایا گیا ہے کہ مال غنیمت تمہارا حق نہیں کیونکہ حق وہ ہوتا ہے جس کی خاطر جنگ لڑی جاتی ہے اور تمہاری لڑائیاں اور جنگیں تو اس مقصد کے لیے نہیں ہیں۔ رہی یہ بات کہ تمہیں جنگ میں کامیابی کی صورت میں مال غنیمت ملنا چاہیے تو یہ اللہ کا وہ انعام ہے جو وہ اپنی رضا کے ساتھ ساتھ عطا فرماتا ہے۔ لیکن اس کی خواہش تمہارے دل و دماغ میں دور تک نہیں ہونی چاہیے کیونکہ : شہادت ہے مقصود و مطلوبِ مومن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی اس لیے تمہارے سوال کا جواب یہ ہے کہ مال غنیمت چونکہ تمہارا حق نہیں اس لیے تمہیں اس کے مطالبے کا بھی حق نہیں۔ مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کا حق اور ان کی ملکیت ہے۔ اللہ کا چونکہ نمائندہ اللہ کا رسول ہوتا ہے اس لیے وہی اللہ کے حق کا استعمال کرتا ہے۔ اس لیے یہ مال غنیمت اللہ کے رسول کی تحویل میں ہوگا۔ جیسے وہ چاہے گا ویسے اس میں تصرف کرے گا۔ یہاں مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں کچھ نہیں فرمایا گیا۔ اس کی وضاحت آگے چل کر فرمائی گئی۔ یہاں مقصود چونکہ تصورات کی اصلاح ہے کیونکہ تصورات ہی اعمال کی بنیاد بنتے ہیں۔ اس لیے بات کو یہیں تک محدود رکھا گیا۔ البتہ ! یہ بات کہ مسلمانوں کا مال غنیمت پر اختلاف کرنا اور پھر دلوں کا اس سے متأثر ہونا چونکہ مسلمانوں کی شان کے لائق نہیں اس لیے ایسی ہدایات کا دینا ضروری ہے جس سے آئندہ یہ سوال پیدا نہ ہونے پائے اور اگر پیدا ہو تو اس کے برے اثرات دلوں تک نہ پہنچیں۔ اس کے بعد تین ہدایات عطا فرمائی گئی ہیں۔ 1: تقویٰ…2: اصلاح ذات البین… 3: اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت۔ ساتھ ہی یہ فرمایا کہ اگر تم واقعی مومن ہو اور تمہارے مومن ہونے میں کوئی شبہ نہیں کیونکہ جنگ بدر میں تم اپنے ایمان کو پوری طرح ثابت کرچکے ہو، البتہ ! اسے مزید جلا دینے اور اس کی روشنی کو مزید تیز کرنے کے لیے ان تین باتوں کی ضرورت ہے۔ 1…تقویٰ تقویٰ دل کی ایک خاص کیفیت کا نام ہے۔ جس میں نیکی کی طرف میلان اور برائی سے نفرت بڑھ جاتی ہے۔ ایک مومن کے دل کے احساسات اتنے مصفا ہوجاتے ہیں کہ اللہ کی رضا کی طلب اس کی زندگی بن جاتی ہے اور اللہ کی نافرمانی اسے موت محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس کا دل اللہ کی محبت سے بیدار ہوتا ہے اور اللہ کی طرف سے معمولی غفلت اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہوجاتی ہے۔ جس طرح مچھلی پانی سے باہر تڑپتی ہے اور پانی سے اسے آسودگی ملتی ہے اسی طرح اللہ کی یاد اس کے احکام کی اطاعت، اس کے دین کی سربلندی کے لیے کاوشیں، اس کے بندوں کی خدمت اور عاجزی اور فروتنی اس کی آسودگی کا سامان بن جاتی ہیں۔ دنیا اس کی ضرورت ضرور ہوتی ہے لیکن وہ اس کی خاطر کبھی دل کی پاکیزگی کو میلا نہیں ہونے دیتا۔ دعائے نیم شبی اور فغانِ سحر گا ہی اس کے دل کی پکار بن جاتی ہیں۔ 2…اصلاح ذات البین باہمی تعلقات کی درستی اور معاملات کی خوش اطواری جس طرح انفردی زندگی کا حسن ہے اسی طرح مسلمانوں کی معاشرتی زندگی کی ضرورت ہے۔ سورة نساء میں پروردگار نے تقویٰ اور رحمی رشتوں کو مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کی بنیاد ٹھہرایا ہے۔ رحمی رشتے ہوں یا صہری رشتے، معاشرتی روابط ہوں یا معاشی معاہدے، ملکی ضوابط ہوں یا قومی روابط، یہ سب چیزیں اجتماعی زندگی کی استواری کا باعث ہیں۔ ان میں جہاں بھی کسی خرابی سے دراڑیں پڑتی ہیں وہیں اجتماعی زندگی میں شکست وریخت شروع ہوجاتی ہے۔ اللہ کے تقویٰ سے جس طرح مسجدیں آباد ہوتی ہیں اسی طرح گھر اور تعلقات کے تمام ادارے بھی مضبوط ہوتے ہیں کیونکہ جس کے احساسات پاکیزہ نہیں اور اس کے دل میں اللہ کا خوف نہیں وہ تعلقات کی نزاکتوں کو بھی کبھی ملحوظ نہیں رکھ سکتا۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں۔ تقویٰ تو دل کی کیفیت کا نام ہے اور باہمی تعلقات دیکھا جانے والا تجربہ ہے جس سے صحیح اندازہ ہوتا ہے کہ ایک آدمی تقویٰ کی کس منزل میں ہے نمازوں میں خشوع و خضوع کے جاننے کا کوئی پیمانہ نہیں لیکن تعلقات اور معاملات میں قدم قد م پر ایسے پیمانے موجود ہیں جس سے انسان کا اللہ سے اور اس کے بندوں سے تعلق کا امتحان ہوتا ہے اور مزید یہ کہ مسلمان ایک مجاہد امت ہے جو دنیا کی اصلاح کے لیے اٹھی ہے۔ اسے قدم قدم پر مخالفتوں سے واسطہ پڑے گا۔ مخالفین اس کا راستہ روکنے کی کوشش کریں گے۔ اگر اس امت کے افراد میں باہمی محبت اور مؤدت نہیں ہوگی اور ان کے آپس کے تعلقات میں اخلاص اور گہرائی نہیں ہوگی تو یہ دشمن کے مقابلے میں کبھی سیسہ پلائی دیوار نہیں بن سکتے۔ اس لیے پہلے ہی معرکے میں باہمی تعلقات میں ہلکی سی خراش دیکھ کر پروردگار نے اس کے مستقل ازالے کے لیے یہ ہدایت نازل فرمائی اور اسی کا نتیجہ ہوا کہ میدانِ جہاد میں ایسے وفاشعار مسلمانوں کو بھی دیکھا گیا جنھوں نے موت کی جانکنی میں بھی دوسرے کو پہلے پانی پلانے کے لیے پیاس کے ہاتھوں جان دے دی۔ ایسے حیرت انگیز واقعات انہی لوگوں میں پیش آتے ہیں جو اللہ کے ان احکامات کو قلب ونظر میں بسا چکے ہوں۔ 3…اطاعتِ خدا اور رسول۔ زندگی کے تمام معاملات میں خوش اسلوبی اور بندوں کے اللہ سے تعلقات میں گہرائی اور خوش اطواری صرف ایک ہی صورت سے پیدا ہوتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی جائے۔ اللہ سے تعلق پیدا کرنے کے مختلف طریقے انسانوں نے ایجاد کیے ہیں لیکن وہ افراط وتفریط سے خالی نہیں ہیں۔ اسی طرح انسانی زندگی کو ہموار راستوں پر گزارنے کے لیے مختلف آداب اختیار کیے گئے ہیں۔ لیکن وہ بھی آلودگیوں سے بےگانہ نہیں۔ صحیح زندگی کا صحیح معیار صرف اللہ کے رسول کی زندگی ہے۔ اسی زندگی میں اللہ کے احکام کی اطاعت کا نمونہ دکھائی دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ کی اطاعت کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے اسوہ حسنہ اللہ کے رسول کی ذات ہے اور اگر اللہ کے رسول جیسی زندگی اختیار کرنا چاہتا ہے تو اس کا نمونہ بھی ذات رسالتِ مآب ہے۔ ایک ہی ذات میں اللہ اور رسول کی اطاعت جمع ہوجاتی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ زندگی کا کوئی معاملہ ہو عبادت سے متعلق ہو یا معاملات سے، جنگ کے بارے میں ہو یا مال غنیمت سے متعلق، تمہارے لیے ایک ہی بارگاہ ہے جہاں سے تمہیں صحیح راہنمائی ملے گی وہ ہے اللہ کا رسول۔ مال غنیمت کے بارے میں تفصیلی جواب تو بعد میں آئے گا اس وقت تو ضروری بات یہ ہے کہ اپنے احساسات اور تصورات کو ان تین حوالوں سے پاکیزہ بنالو۔ جب ہر طرح کے معاملے میں اللہ کے رسول کی ذات نمونہ قرار پائے گی تو پھر کبھی آپس کے اختلافات پیدا نہیں ہوں گے اور کبھی شیطان کو گمراہ کرنے کا موقعہ نہیں ملے گا۔ ایمان کی لازمی شرط اللہ اور رسول کی اطاعت ہے اور اس کا ہدف تقویٰ اور آپس کے معاملات کی پاکیزگی ہے۔ اگر تم مومن ہو تو اپنے ایمان کو ان بنیادی احکام کا پابند بنائو اور ساتھ ہی ساتھ اس بات کا جائزہ لیتے رہو کہ تمہارے اندر مومن کا وہ سراپا پیدا ہوسکا ہے یا نہیں جس کی تصویر اگلی آیت کریمہ میں کھینچی گئی ہے۔
Ayahs 8:2–4

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ Open ayah 8:2 in the Quran reader

بلاشبہ مومن وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے ان کے دل دہل جائیں اور جب اس کی آیتیں ان کو سنائی جائیں تو وہ ان کے ایمان میں اضافہ کریں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں۔

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 8:3 in the Quran reader

جو نماز قائم کریں اور اس مال میں سے جو ہم نے انھیں بخشا ہے خرچ کریں،

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 8:4 in the Quran reader

یہی لوگ سچے مومن ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس درجے اور مغفرت اور باعزت روزی ہے۔

اِنَّمَاالْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَاللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ اٰیٰـتُہٗ زَادَتْھُمْ اِیْمَانًاوَّعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ۔ ج الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰـھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔ ط اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاط لَھُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَرَبِّھِمْ وَمَغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ۔ ج (الانفال : 2 تا 4) بلاشبہ مومن وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے ان کے دل دہل جائیں اور جب اس کی آیتیں ان کو سنائی جائیں تو وہ ان کے ایمان میں اضافہ کریں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں۔ جو نماز قائم کریں اور اس مال میں سے جو ہم نے انھیں بخشا ہے خرچ کریں۔ یہی لوگ سچے مومن ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس درجے اور مغفرت اور باعزت روزی ہے۔ قانونی زبان میں ہر وہ شخص مومن ہے جو ان باتوں کا زبان سے اقرار کرتا ہے جن کا ماننا ایمان لانے کے لیے ضروری ہے۔ جب تک کوئی آدمی ایمانیات میں سے کسی بات کا انکار نہیں کرتا قانونی زبان میں اسے مومن ہی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حقیقی معنوں میں مومن صرف زبانی اقرار سے نہیں بنتا اس کے لیے دل ونگاہ کا مومن ہونا بھی ضروری ہے۔ پہلی صفت خشیت الہٰی اس لیے پیش نظر آیات کریمہ میں حقیقی مومن کی پانچ صفات بیان کی گئی ہیں جن میں پہلی صفت ” خشیتِ الہٰی “ ہے جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل اٹھتے ہیں، دلوں میں کپکپی طاری ہوجاتی ہے، کھالیں ان کی پھڑپھڑانے لگتی ہیں، جسم سکڑنے لگتا ہے، رنگ اڑجاتا ہے، اللہ کی کبریائی اس کی قدرتوں کی بےپناہی اور اس کی جلالتِ قدر کا تصور کرکے دل پگھلنے لگتا ہے۔ کبھی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں اور کبھی دل کے احساسات آہوں کی صورت میں ڈھل جاتے ہیں۔ راتوں کی نیند اچاٹ ہونے لگتی ہے اور آہ سحر گا ہی زندگی کا معمول بن جاتی ہے۔ جب بھی کوئی معاملہ کسی بھی مومن کے سامنے آتا ہے تو وہ فوراً سوچنے لگتا ہے کہ اس سے متعلق میرے اللہ کا حکم کیا ہے اور اگر کسی گوشے سے اس کی مخالفت سر اٹھاتی ہے تو اس کا دل چیخ اٹھتا ہے کہ خداوندِ ذوالجلال کی مخالفت بھی کی جاسکتی ہے ؟ جس کے جلال سے زمین کانپتی اور سمندر پایاب ہوجاتے ہیں جس کے غضب سے قوموں کا تختہ الٹ دیا جاتا ہے۔ جس کی برہمی سے انسانوں پر پتھر برستے ہیں۔ کیا اس کی نافرمانی اس آدمی سے ممکن ہے جسے واقعی اللہ کی کبریائی کا شعور حاصل ہے ؟ آدمی گناہ پر دلیر اسی وقت ہوتا ہے جب وہ اللہ سے غافل ہوتا ہے اور اس کے دل میں اللہ کے سوا غیر اللہ کی حکومت یا محبت ہوتی ہے۔ لیکن وہ شخص جسے اللہ کی کبریائی کا صحیح تصور حاصل ہے۔ وہ تو اپنے رب کی بڑائی، عظمت اور شان کا تصور کرکے کانپنے لگتا ہے۔ حضرتِ حسن ( رض) کو کسی نے دیکھا کہ جب وہ نماز کے لیے وضو کرنے لگتے ہیں تو ان کا رنگ اڑنے لگتا ہے اور جب وہ وضو کرکے نماز کے لیے آگے بڑھتے ہیں تو رنگ ان کا پیلا پڑجاتا ہے۔ پوچھا کہ اس کا سبب کیا ہے ؟ فرمایا : جب میں یہ سوچتا ہوں کہ اپنے رب کے سامنے پیشی کے لیے جارہا ہوں تو اس کی عظمت کا تصور کرکے میر ادل بےقابو ہوجاتا ہے اور میں سہم سہم جاتا ہوں۔ دوسری صفت ایمان میں ترقی ایسے شخص کے سامنے جب قرآن کریم کی آیات اور اللہ کے احکام پڑھ کر سنائے جاتے ہیں تو چونکہ اس کا دل اللہ کے تصور اور اس کی محبت سے آباد ہوچکا ہے اور اس کی نافرمانی کے خوف سے دہل اٹھتا ہے تو وہ ان احکام کو سن کر لپکتا ہوا اس کی طرف بڑھتا ہے اور اس میں دوسری صفت پیدا ہوجاتی ہے، وہ ہے ” ایمان میں ترقی “ ، یعنی اس کے دل کی وہ کیفیت جو ایمان کا نتیجہ ہے اس میں پہلے سے اضافہ ہوجاتا ہے۔ ایمان اگر ایک پودا ہے تو اس کے احکام اس کے برگ وبار ہیں۔ ایمان کا پودا جب برگ وبار نکالنے لگتا ہے تو اس کا مالک اور اس کا کاشتکار یقینا خوشی سے جھوم اٹھتا ہے اور وہ اپنی فصل کو لہلہاتا ہوا دیکھ کر شاد ہوجاتا ہے۔ اللہ کی آیات کی حیثیت اللہ کے پیغاموں کی ہے۔ جو دل اللہ کی محبت سے سرشار ہے وہ جب اس کی آیات کو سنتا ہے تو محسوس کرتا ہے کہ میرے محبوب کا پیغام میرے نام آیا ہے۔ دنیا میں کون سا ایسا محب ہے جو محبوب کے پیغام کو پاکر خوشی سے دیوانہ نہیں ہوجاتا۔ ایک عاشق صادق کے لیے محبوب کا تصور ہی فرحت بخش ہوتا ہے اسی تصور کے سہارے اس کی زندگی گزرتی ہے۔ محبوب کا معمولی التفات اس کی زندگی کو خوشیوں سے بھر دیتا ہے اور اگر کہیں محبوب کا کوئی سندیسہ یا کوئی محبت نامہ اسے وصول ہوجائے تو کوئی شخص اندازہ نہیں کرسکتا کہ اس کی وارفتگی کا عالم کیا ہوگا۔ یہی کیفیت اس مومن کی ہے جو صرف اپنے اللہ سے لولگا چکاہو۔ تیسری صفت توکل علی اللہ اللہ کی محبت تصور جاناں کی مانند نہیں کہ عاشق اس تصور کو لیے بیٹھا رہے بلکہ اس کی محبت زندگی کا ایک پیغام ہے۔ زندگی کا ایک ضابطہ ہے، باطل کے خلاف ایک کشمکش ہے، ہر غلط بات کے خلاف ایک جہاد ہے، ایک ایسا جہاد جس میں زندگی کے تمام وسائل جھونکنے پڑتے ہیں۔ ایک ایسی کشمکش جس میں بعض دفعہ ہر سہارا ٹوٹنے لگتا ہے، ارادے جواب دینے لگتے ہیں، ایسے موقعہ پر بھی مومن کبھی ہراساں اور سراسیمہ نہیں ہوتاکیون کہ وہ اپنے رب کے سوا کسی اور پر بھروسہ نہیں کرتا۔ وہ جانتا ہے کہ باقی ذرائع اور وسائل میری ضرورت ہیں مجھے انھیں فراہم کرنا چاہیے۔ لیکن اگر کبھی وسائل جواب دے جائیں یا نایاب ہوجائیں اور مقصد برابر پکار رہا ہو تو پھر ایک مومن کے لیے اللہ پر بھروسہ ایک ایسی قوت بن جاتا ہے جس کی موجودگی میں وہ کبھی مضمحل نہیں ہوتا۔ اگر کوئی بدوی برہنہ تلوار لے کر آنحضرت ﷺ سے پوچھتا ہے کہ بتا اب تجھے مجھ سے کون بچا سکتا ہے ؟ تو اللہ پر بھروسے کا یہ سب سے عظیم پیکر اور اسوہ حسنہ بڑے اطمینان سے فرماتا ہے ” ش “۔ بدوی اس سے اس قدر مرعوب ہوتا ہے کہ تلوار اس کے ہاتھ سے گر جاتی ہے۔ ایک مومن بلاوجہ کبھی خطرات میں داخل نہیں ہوتا، لیکن جب خطرات میں داخل ہونا اعلائے کلمۃ الحق کے لیے ضروری ہوجائے یا اللہ اور اس کے دین کی عزت و حرمت کی بقا کے لیے ضرورت بن جائے تو پھر وہ بےخطر اس آگ میں کود جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میرا اللہ میرے ساتھ ہے اور مجھے صرف اسی پر بھروسہ کرنا ہے کیونکہ : کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ مومن ہے تو بےتیغ بھی لڑتا ہے سپاہی کافر وسائلِ جنگ پر بھروسہ کرتا ہے اور مومن اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ وسائل کی فراہمی کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے لیکن ان پر بھروسہ نہیں کرتا۔ وسائل ہوں تو بھی اس کا بھروسہ اللہ ہی پر ہوتا ہے۔ چوتھی صفت اقامتِ صلوٰۃ وہ مومن جس کے ایمان کا اللہ کے یہاں اعتبار ہے اس کی ایک صفت ” اقامتِ صلوٰۃ “ بھی ہے۔ یہ مستقل ایک صفت بھی ہے اور باقی صفات کا مقدمہ اور تمہید بھی۔ مومن کی جو صفت بھی مندرجہ بالا صفات میں سے وجود میں آتی ہے اس کا دارومدار اقامتِ صلوٰۃ پر ہے۔ اقامتِ صلوٰۃ سے مراد صرف نماز پڑھنا نہیں بلکہ نماز کی اقامت ہے۔ اقامت کے لفظی معنی ” کسی چیزکو سیدھا کرنے “ کے ہوتے ہیں۔ مراد اس سے یہ ہے کہ نماز پورے آداب و شرائط کے ساتھ اس طرح بجا لائی جائے جس طرح نبی کریم ﷺ ادا فرماتے تھے۔ آپ کے عمل سے ہمیں نماز کے جن آداب و شرائط کا علم ہوا ہے ان کی پابندی کے بغیر اقامتِ صلوٰۃ کا مفہوم وجود میں نہیں آتا۔ اسی طرح قرآن وسنت میں نماز کے جو فوائد، آثار اور برکات ذکر فرمائی گئی ہیں اگر نماز کی پابندی سے ان کا ظہور نہیں ہوتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اقامتِ صلوٰۃ میں کمی ہے۔ فقہی نقطہ نگاہ سے تو اوقاتِ مخصوصہ میں چند مخصوص اعمال کا بجا لانا نماز کہلاتا ہے اور ایسا کرنے والا نمازی کہلائے گا لیکن حقیقی نماز جس کی اقامت کا حکم دیا گیا ہے اس کا تحقق اسی وقت ہوگا جب اس کے آثار اور فوائد نظر آئیں گے۔ مثلاً قرآن کریم کہتا ہے : ان الصلٰوۃ تنھٰی عن الفحشاء و المنکر (بیشک نماز بےحیائی اور ہر گناہ سے روکتی ہے۔ ) اگر کوئی شخص نماز پڑھتا ہے اور ساتھ بےحیائی اور منکرات کا ارتکاب بھی کرتا ہے تو اس نے اقامتِ صلوٰۃ نہیں کی محض نماز کی مشق کی ہے۔ اسی طرح قرآن کریم میں فرمایا گیا۔ اقم الصلٰوۃ لذکری (میری یاد کے لیے نماز قائم کرو) اگر کوئی شخص نمازی ہونے کے باوجود اللہ کی یاد سے غافل ہے وہ جب گناہ کرنے لگتا ہے اسے اللہ کی یاد نہیں آتی۔ جب وہ ظلم کرنے لگتا ہے تو اللہ کے خوف سے اس کا ہاتھ نہیں کانپتا، جب وہ بےحیائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اسے اللہ سے شرم نہیں آتی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی نماز محض فارمیلیٹی ہے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ حقیقی نماز وہ ہے جو قرآن کریم کے بیان کردہ آثار و نتائج کی حامل ہو، یہی وہ نماز ہے جسے ” رأس الصفات “ کہا گیا ہے۔ پانچ وقت ایسی نماز کی ادائیگی نمازی میں ان صفات کو پیدا کرتی ہے جو ایمان کا تقاضا ہیں اور اس سے وہ اسلامی زندگی وجود میں آتی ہے جیسی زندگی ایک مومن کی ہونی چاہیے۔ بعض اہل علم کے نزدیک اقامتِ صلوٰۃ، نظام صلوٰۃ کو قائم کرنے کا نام ہے کیونکہ کسی چیز کا قائم ہونا بہ ہمہ وجوہ قائم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ ہم جب کہتے ہیں عدالت قائم ہوگئی تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے عدالت کی عمارت بن گئی، ججز کا تقرر ہوگیا، مدعی اور مدعا علیہ پیش ہونے لگے، مقدمات کے فیصلے ہونے لگے، لوگوں کو انصاف ملنے لگا، غرضیکہ وہ تمام امور وجود میں آگئے جو عدالت کے لیے ضروری ہیں۔ ایسے ہی اقامتِ صلوٰۃ کا مفہوم ہے مسجدوں کی تعمیر، ائمہ کا تقرر، لوگوں کو نماز کی ترغیب اور اس کی پابندی، نماز کے آداب وسنن کی تعلیم اور ایک ایسی تحریک جو نماز کی فرضیت اور افادیت دلوں میں اتار دے۔ اس پورے پر اسس کو اقامتِ صلوٰۃ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پانچویں صفت انفاق فی سبیل اللہ پانچویں صفت انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ انسان کی بہت سی کمزوریاں جس طرح نفسانی تقاضوں سے وجود میں آتی ہیں اسی طرح مال و دولت کی حد سے بڑھی ہوئی محبت بھی انسان کے سیرت و کردار میں بہت سے مفاسد کا سبب بنتی ہے۔ مال انسان پر اثر انداز ہونے والی چیزوں میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ایک ایسی ضرورت بھی ہے جس کے بغیر زندگی کی گاڑی نہیں چلتی۔ لیکن ساتھ ہی ایک ابتلاء بھی ہے جو قدم قدم پر کبھی بخل پر اکساتا ہے اور کبھی تبذیر پر آمادہ کرتا ہے۔ اسی کے نتیجے میں کتنے منکرات کو راستہ ملتا ہے اور اگر اس کی جہت درست کردی جائے اور اس کے بارے میں تصورات پاکیزہ کردیئے جائیں تو یہ نیکی کی بہت بڑی قوت بن جاتا ہے۔ اسی سے خدمت خلق ممکن ہوتی ہے اور اسی سے غلبہ دین کو مدد ملتی ہے۔ اس لیے ایک مومن کی صفت کے طور پر اس کو خصوصی طور پر ذکر فرمایا گیا ہے۔ ایک مومن مال و دولت میں سے جو کچھ اپنے پاس رکھتا ہے اسے وہ اللہ کی دین سمجھتا ہے۔ اسے اللہ کی امانت سمجھ کر اس کے حق کی ادائیگی کی فکر کرتا ہے۔ اپنی ضرورتوں سے جو کچھ بچتا ہے اسے اللہ کے راستے میں خرچ کرکے اللہ کے سامنے سرخرو ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کے سیرت و کردار میں جلاپیدا ہوتی اور اللہ کے دین کو سربلندی ملتی ہے۔ ان پانچ صفات کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جنھیں سچے اور حقیقی مومن قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ محض ایمان کا دعویٰ کسی کو حقیقی مومن نہیں بنا دیتا۔ مؤ رخین لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت حسن بصری ( رح) سے پوچھا کہ اے ابو سعید ! کیا آپ مومن ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ بھائی ایمان دو قسم کے ہیں تمہارے سوال کا اگر مطلب یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، جنت و دوزخ، قیامت اور حساب کتاب پر ایمان رکھتا ہوں تو جواب یہ ہے کہ بیشک میں مومن ہوں اور اگر تمہارے سوال کا مطلب یہ ہے کہ میں وہ مومن کامل ہوں جس کا ذکر سورة الانفال کی آیات میں ہے تو مجھے کچھ معلوم نہیں کہ میں ان میں داخل ہوں یانھیں۔ یہی وہ حقیقی مومن ہیں جنھیں اللہ کے یہاں تقرب حاصل ہے اور جن پر ہمیشہ اللہ کی نوازشات کی بارش برستی ہے۔ اپنے خصوصی کرم کا اظہار فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان حقیقی مومنوں کے لیے تین قسم کے انعامات ہیں۔ 1: درجاتِ عالیہ… 2: مغفرت… 3: عمدہ رزق۔ (تفسیر بحر محیط میں ہے کہ اس سے پہلی آیات میں سچے مومنین کی جو صفات بیان ہوئی ہیں۔ وہ تین قسم کی ہیں۔ ایک وہ جن کا تعلق قلب اور باطن کے ساتھ ہے۔ جیسے ایمان، خوفِ خدا، توکل علی اللہ۔ دوسرے وہ جن کا تعلق جسمانی اعمال سے ہے، جیسے نماز وغیرہ۔ تیسرے وہ جن کا تعلق انسان کے مال سے ہے، جیسے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔ ان تینوں قسموں کے بالمقابل تین انعاموں کا ذکر آیا ہے۔” درجاتِ عالیہ “ ، قلبی اور باطنی صفات کے مقابلہ میں اور ” مغفرت “ ان اعمال کے مقابلہ میں جو انسان کے ظاہر بدن سے متعلق ہیں، جیسے نماز، روزہ وغیرہ۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ نماز گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہے اور ” رزقِ کریم “ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے مقابلہ میں کہ جو کچھ خرچ کیا اس سے بہت بہتر اور بہت زیادہ اس کو آخرت میں ملے گا۔ ) (ماخوذ از معارف القرآن)
Ayahs 8:5–6

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ Open ayah 8:5 in the Quran reader

اسی طرح نکالا آپ کو آپ کے رب نے آپ کے گھر سے ایک مقصد حق کی خاطر اور اہل ایمان کی ایک مختصر ٹولی ناخوش تھی

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 8:6 in the Quran reader

وہ آپ سے حق کے بارے میں جھگڑتے تھے۔ اس کے بعد کہ حق ظاہر ہوچکا تھا گویا کہ وہ موت کی طرف ہانکے جارہے تھے اور وہ دیکھ رہے تھے۔

کَمَااَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْ م بَیْتِکَ بِالْحَقِّ ص وَاِنْ فَرِیْقًامِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکٰرِھُوْنَ ۔ لا یُجَادِلُوْنَکَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ کَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَی الْمَوْتِ وَھُمْ یَنْظُرُوْنَ ۔ ط (الانفال : 5، 6) (اسی طرح نکالا آپ کو آپ کے رب نے آپ کے گھر سے ایک مقصد حق کی خاطر اور اہل ایمان کی ایک مختصر ٹولی ناخوش تھی۔ وہ آپ سے حق کے بارے میں جھگڑتے تھے اس کے بعد کہ حق ظاہر ہوچکا تھا گویا کہ وہ موت کی طرف ہانکے جارہے تھے اور وہ دیکھ رہے تھے۔ ) کما کا مفہوم قرآن کریم نے ” کذلک، کدأبک، کما “ یہ تینوں الفاظ مختلف مواقع پر تشریح کے لیے استعمال کیے ہیں۔ البتہ ! دوسرے حروفِ تشبیہ اور ان میں فرق یہ ہے کہ ان میں مشبہ اور مشبہ بہٖ متعین نہیں ہوتے بلکہ ایک واقعہ کو دوسرے واقعہ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ پیش نظر دونوں کا انجام ہوتا ہے اور یہ انجام اور نتیجہ دونوں واقعات میں مشابہت کا ذریعہ بنتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں ” کما “ کا لفظ تشبیہ کے لیے آیا ہے۔ تو تشبیہ کس چیز کو کس چیز سے دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں اہل علم کے مختلف اقوال ہیں۔ امامِ تفسیر ابو حیان نے تقریباً پندرہ (15) اقوال نقل کیئے ہیں۔ لیکن پوری صورتحال پر غور کرنے کے بعد دو مفہوم ایسے ہیں جو زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتے ہیں۔ 1 اس سورة کی پہلی آیت میں مسلمانوں کی طرف سے مال غنیمت کے بارے میں ایک سوال کا ذکر کیا گیا ہے اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سوال کی نوبت اس لیے آئی کہ جن لوگوں نے مال غنیمت جمع کیا تھا اور وہ ان کے قبضے میں تھا وہ عرب کی روایت کے مطابق یہ سمجھ رہے تھے کہ مال غنیمت اس کا ہوتا ہے جس کے قبضے میں ہو تو اس لیے یہ مال ہمارا ہے۔ دوسرے مسلمان اس میں شریک نہیں ہیں۔ اس سے اختلاف پیدا ہوا اور اس کے اثرات دلوں تک پہنچے چناچہ پروردگار نے اس پر تنبیہ فرمائی اور اصلاح کے لیے ہدایات جاری فرمائیں۔ اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ جس طرح تم نے مال غنیمت کے معاملے میں ایک غلطی کا ارتکاب کیا اگر اللہ تعالیٰ تمہیں بروقت ہدایت سے نہ نوازتا اور تمہیں اطاعتِ رسول کی توفیق نہ دیتا تو مال غنیمت میں پیدا ہونے والے اختلافات بعض دفعہ بڑی بڑی جنگوں میں بھی جیتی ہوئی بازی کو شکست میں تبدیل کردیتے ہیں۔ تو جس طرح تم نے مال غنیمت کے معاملے میں غلط اندیشی کا ثبوت دیا اسی طرح تم میں سے کچھ لوگوں نے اس وقت بھی غلط اندیشی کا ثبوت دیا جب نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ ایک مقصد حق کی خاطر گھر سے نکلنے کا حکم دے رہا تھا۔ اس پر بھی اللہ کا کرم یہ ہوا کہ تم نے اپنی بات پر ضد کرنے کی بجائے صحیح بات کو قبول کیا تو اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت کے اختلاف کی طرح اس اختلاف کو بھی ختم کردیا اور نہ صرف اس کے برے نتائج سے بچایا بلکہ بہتر نتائج سے نوازا۔ 2 بعض اہل علم کا خیال ہے کہ یہاں ” کما “ کا لفظ تشبیہ کے لیے نہیں بلکہ بیان سبب کے لیے ہے اور اس سے پہلے ” نصرک “ محذوف ہے۔ اس صورت میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ غزوہ بدر میں پروردگار کی جانب سے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کی جو نصرت وامداد فرمائی گئی اس کا سبب یہ تھا کہ آپ اس جہاد کے لیے اپنی کسی نفسانی خواہش کے لیے نہیں نکلے تھے۔ آپ کے پیش نظر کوئی مالی یا سیاسی منفعت نہیں تھی بلکہ آپ خالصۃً حکمِ خداوندی کے تابع ہو کر نکلے تھے اور ایک مقصد حق کے حصول کے سوا کوئی اور مقصد آپ کے پیش نظر نہیں تھا۔ بلاشبہ آپ کے ساتھیوں میں سے ایک محدود تعداد ایسی بھی تھی جو اس نکلنے میں خوش نہ تھی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنی عنایات سے نوازا اور اپنی نصرت اور تائید سے آپ کو کامیاب فرمایا۔ بدر کے لیے آنحضرت کا نکلنا ایماء الہٰی سے اور ایک مقصد حق کے لیے تھا اب اس کے مندرجات کو ملاحظہ فرمائیے۔ اس آیت کریمہ میں پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو ان کے گھر یعنی مدینہ منورہ سے ایک مقصد حق کے لیے نکلنے کا حکم دیا۔ اس میں پہلی بات تو یہ صاف ہوجاتی ہے کہ آپ خود کسی مقصد کے لیے نہیں نکلے تھے بلکہ آپ کا نکلنا اللہ کے حکم سے تھا اور اس کا ایک خاص مقصد تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ مقصد کیا تھا ؟ تیسری آیت کریمہ میں فرمایا ہے کہ : یُرِیْدُاللّٰہُ اَنْ یَّحِقّ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَیَقْطَعَ دَابِرَالْکٰفِرِیْنَ (اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ حق کو حق ثابت کرے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔ ) مقصدِ حق کے بروئے کار آنے کی صورت یہ وہ مقصد حق تھا جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو نکلنے کا حکم دیا تھا۔ جن لوگوں کی نظر قوموں کے عروج وزوال کے اسباب پر ہے اور وہ جانتے ہیں کہ قوموں کی عزت و حشمت اور ان کی بقا کے اساسی وسائل کیا ہوتے ہیں۔ ان کے لیے یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ قریش کا قافلہ تجارت اگرچہ اپنے ساتھ سیاسی اور جنگی مقاصد بھی رکھتا تھا اس لیے مکہ کے ہر مردو عورت نے مقدور بھر اس میں شرکت کی تھی اور یہ فیصلہ کیا تھا کہ اس کے پس انداز کو مسلمانوں کے استیصال کے لیے صرف کیا جائے گا۔ باایں ہمہ ! یہ ایک حقیقت ہے کہ قریش مکہ کی اصل طاقت ان کے قافلہ تجارت پر منحصر نہیں تھی، ان کی طاقت کا سب سے بڑا ذریعہ ان کی افرادی قوت اور جنگی مہارت تھی۔ یہ قافلہ تجارت شائد بھیجا ہی اس لیے گیا تھا کہ مسلمان اسے روکنے کے لیے نکلیں گے اور یا ہم ایک مفروضہ قائم کرکے قافلے کو بچانے کا نام دے کر مسلمانوں پر لشکر کشی کریں گے اور اس طرح سے ہمیں اس نوزائیدہ قوت کے استیصال کرنے کا موقع مل جائے گا۔ عرب ہمیں قطع رحمی کا طعنہ بھی نہیں دیں گے بلکہ وہ یہ سمجھیں گے کہ جب مسلمانوں نے خود ہی ایسے حالات پیدا کیے تو پھر قریش مکہ اس آخری اقدام کے لیے مجبور تھے۔ اس صورتحال میں یہ سمجھنا کہ نبی کریم ﷺ قافلہ تجارت کو لوٹنے کے لیے نکلے تھے یہ قرآن کریم کی وضاحت کے سراسر خلاف ہے کیونکہ اگر آپ اس کے لوٹنے کے لیے نکلتے اور آپ اس میں کامیاب بھی ہوجاتے تو اس کے نتیجے میں قریش اور اس کے حریفوں کی بےپناہ یورش کا مقابلہ کرنا آپ کے لیے آسان نہ ہوتا وہ درانہ وار مدینہ پر حملہ آور ہوتے اور ان کے حریف قبائل یہ محسوس کرکے کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے یقینا ان کا ساتھ دیتے اور پھر صورتحال بالکل مختلف ہوتی اور اگر فرض کریں کہ وقتی طور پر یہ آندھی نہ بھی اٹھتی تو آئندہ کسی وقت بھی پوری قوت سے اس طوفان کا اٹھنا اسی طرح قرین قیاس تھا جس طرح جنگ خندق میں اس کے اسباب پیدا ہوئے اور اس وقت تک مسلمان معاشرہ اتنے بڑے طوفان کا سامنا کرنے کی صلاحیت سے بہرور نہیں ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جیسے ہی نبی کریم ﷺ کو یہ اطلاع ملی کہ ایک طرف سے قافلہ آرہا ہے اور دوسری طرف سے قریش کا لشکر تو آپ سمجھ گئے کہ اب فیصلہ کن وقت آپہنچا ہے۔ اب آگے بڑھ کر میدان میں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ جینے کی صلاحیت کس میں ہے ورنہ مسلمانوں کی ایسی ہوا خیزی ہوگی کہ مدینہ کے اڑوس پڑوس میں رہنے والے قبائل اور خود مدینہ کی اندرونی قوتیں مسلمانوں پر دلیر ہوجائیں گی۔ اس لیے پروردگار نے مدینہ ہی سے آپ کو اس مقصد حق کی بجا آوری کے لیے بدر کی طرف نکلنے کا حکم دیا۔ لیکن مسلمانوں میں سے ایک مختصر سا گروہ جو یقینا مخلص لوگوں پر مشتمل تھا۔ لیکن بعض مخلص لوگ زیادہ محتاط بھی ہوتے ہیں۔ ان کی احتیاط پسندی کی وجہ سے ایسی صورتحال پیدا ہوئی کہ وہ لشکر ِ قریش کی طرف نکلتے ہوئے ناخوشی محسوس کررہے تھے اور آنحضرت ﷺ کو قائل کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ ابھی ہمیں قافلہ تجارت کی طرف نکلنا چاہیے جب طاقت مل جائے گی تو پھر ہم قریش سے بھی دو دو ہاتھ کرلیں گے۔ لیکن اس بےسروسامانی اور محدود افرادی قوت کے ساتھ اتنے بڑے طوفان کا رخ کرنا موت کے منہ میں جانے کے مترادف ہے۔ ان دونوں آیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے صاف محسوس ہوتا ہے کہ لشکر قریش کی طرف جانے کا فیصلہ گھر سے نکلتے ہوئے ہوا ہے یعنی مدینہ طیبہ ہی میں یہ بات طے ہوگئی تھی کہ ہمیں جانا کدھر ہے اور کس مقصد کے لیے جانا ہے اور اسی کو دیکھتے ہوئے مسلمان دلوں میں سہم رہے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ کفار کے لشکر کی تعداد بہت بڑی ہے اور ان کے پاس اسلحہ جنگ کی بھی فراوانی ہے۔ اگر بجائے لشکرِ قریش کے قافلہ تجارت کی طرف جانا ہوتا تو اس کے محافظوں کی تعداد تو چالیس یا ستر بیان کی جاتی ہے۔ اس کے لیے نہ تو تین سو تیرہ (313) افراد کی ضرورت تھی اور نہ مسلمانوں کے دلوں میں کسی اندیشہ کے درآنے کا کوئی موقعہ تھا۔ اس لیے بعض اصحابِ سیر کا یہ سمجھنا کہ مدینہ سے تو حضور قافلہ کے ارادے سے نکلے تھے لیکن راستے میں جاکر خبر ہوئی کہ قریش کا ایک لشکر عظیم آرہا ہے اور مزید یہ بات کہ اگر حضور قافلے کے لیے نکلتے تو آپ کا رخ ملک شام کی جانب ہوتا، آپ بدر کی طرف رخ کرکے کبھی سفر کا آغاز نہ کرتے کیونکہ قافلہ ملک شام سے آرہا تھا۔ اسے کسی ایسی جگہ روکنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی جہاں قریب قریب قریش کا کوئی حریف قبیلہ موجود نہ ہو تاکہ وہ اس کی مدد کے لیے نہ پہنچ سکیں اور وہ اسی صورت میں ممکن تھا کہ شام اور مدینہ کے مابین کسی جگہ قافلہ کو روکا جائے ورنہ جہاں تک مدینہ اور مکہ کے درمیان پھیلے ہوئے قبائل کا تعلق ہے ان میں بیشتر قریش کے زیر اثر تھے۔ البتہ ! یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ قافلہ تجارت کا نام مسلمانوں کی زبان پر کیسے آیا ؟ اس کا جواب اگلی آیت کریمہ سے ملتا ہے۔
Ayahs 8:7–8

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader

اور اس وقت کو یاد کرو جس وقت اللہ تم سے وعدہ کرتا تھا کہ دو جماعتوں میں سے ایک یقینا تمہارے لیے ہے اور تم چاہتے تھے کہ جس میں کانٹا نہ لگے وہ تم کو ملے اور اللہ چاہتا تھا کہ وہ اپنے کلمات سے حق کو حق ثابت کردے اور کافروں کی جڑ کاٹ ڈالے

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader

تاکہ وہ حق کو حق ثابت کرے اور باطل کو باطل ثابت کرے اگرچہ ناراض ہوں گناہ گار۔ )

وَاِذْ یَعِدُکُمُ اللّٰہُ اِحْدَی الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّھَا لَکُمْ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃِ تَکُوْنُ لَکُمْ وَیُرِیْدُاللّٰہُ اَنْ یَّحِقّ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَیَقْطَعَ دَابِرَالْکٰفِرِیْنَ ۔ لا لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْکَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ ۔ ج (الانفال : 7، 8) (اور اس وقت کو یاد کرو جس وقت اللہ تم سے وعدہ کرتا تھا کہ دو جماعتوں میں سے ایک یقینا تمہارے لیے ہے اور تم چاہتے تھے کہ جس میں کانٹا نہ لگے وہ تم کو ملے اور اللہ چاہتا تھا کہ وہ اپنے کلمات سے حق کو حق ثابت کردے اور کافروں کی جڑ کاٹ ڈالے۔ تاکہ وہ حق کو حق ثابت کرے اور باطل کو باطل ثابت کرے اگرچہ ناراض ہوں گناہ گار۔ ) مسلمانوں سے طائفتین میں سے ایک کا وعدہ اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پروردگار نے وحی الہٰی کے ذریعے اپنے رسول برحق کی معرفت مسلمانوں سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ تمہارے سامنے دو جماعتیں ہیں ایک جماعت قافلہ تجارت پر مشتمل ہے اور دوسری جماعت قریش کا عظیم الشان لشکر ہے۔ ان میں سے تم جس کے لیے کوشش کرو گے اس پر تمہارا قبضہ ہوجائے گا۔ روایات میں تجارتی قافلے کو ” عیر “ سے تعبیر کیا گیا ہے اور مسلح فوج کو جو مکہ سے آرہی تھی ” نفیر “ کا نام دیا گیا ہے چناچہ آنحضرت ﷺ نے یہی مبہم بات مشاورت کے لیے صحابہ کے سامنے رکھی کہ ایک طرف سے قافلہ تجارت آرہا ہے اور دوسری طرف سے قریش کا لشکر۔ مشورہ دو ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ لیکن خود آنحضرت ﷺ نے اپنی طرف سے کسی بات کا اظہار نہیں فرمایا کیونکہ اگر آپ دونوں باتوں میں سے کسی ایک بات کا تعین فرمادیتے تو پھر مشاورت کا کوئی مفہوم نہ تھا اور مسلمانوں کے لیے آنحضرت ﷺ کی طے کردہ بات پر عمل کرنا فرض ہوجاتا۔ آپ نے اس مبہم بات کو مسلمانوں کا امتحان بنادیا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ مسلمان خطرات سے کھیلنے کی ہمت رکھتے ہیں یا نہیں اور ان کے اندر اولوالعزم اور سرفروشوں کی تعداد کتنی ہے اور سہل انگاروں کی کتنی کیونکہ مسلمانوں کو آئندہ چل کر جو پرخطر معرکے پیش آنے والے تھے ان معرکوں سے عہدہ برآہ ہونے کے لیے ضروری تھا کہ مسلمانوں کو خطر پسند اور متوکل علی اللہ طبیعتوں کا مالک بنایا جاتا۔ چناچہ جیسے ہی آپ نے یہ سوال ان کے سامنے رکھا تو ان میں سے جو احتیاط کے راستے پر چلنے والے تھے اور جنھیں خطرات سے کھیلنا مشکل معلوم ہوتا تھا انھوں نے اسی بات پر اصرار کیا کہ ہمیں وہ راستہ اختیار کرنا چاہیے جس میں کوئی کانٹا نہ چبھے یعنی مشکلات پیش نہ آئیں۔ شوکۃ جسے اردو زبان میں ” عزت وہیبت “ کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ عربی زبان میں ” کانٹے “ کو کہتے ہیں۔ ذَاتِ الشَّوْکَۃ کا معنی ہے ” کانٹے والا “ ، یعنی پرخطر کام اور غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃ ” وہ کام جس میں کانٹا چبھنے کا اندیشہ نہ ہو “ ، جس میں کوئی مشکل پیش نہ آتی ہو۔ اس لیے کچھ لوگوں نے قافلہ تجارت پر حملہ کرنے کی رائے دی۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے بجائے ان کی طرف توجہ دینے کے فرمایا لوگو ! مجھے مشورہ دو ۔ اکابر مہاجرین سمجھ گئے کہ آنحضرت ﷺ لشکر کی طرف جانا چاہتے ہیں چناچہ حضرت ابوبکر صدیق ( رض) اور حضرت عمر فاروق ( رض) نے نہایت سروفاشانہ تقریریں کیں۔ آپ نے دونوں کو دعائوں سے نوازا اور پھر اپنی بات کو دہرایا۔ اس پر حضرت مقداد ( رض) کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ : (اے اللہ کے رسول ﷺ ! اللہ نے آپ کو جس بات کا حکم دیا ہے آپ اس کے لیے اقدام کیجئے۔ آپ جہاں کے لیے نکلیں گے ہم آپ کے ہم رکاب ہیں۔ ہم آپ سے وہ بات کہنے والے نہیں ہیں جو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہی تھی کہ ” تم اور تمہارا رب دونوں جاکر لڑوہم تو یہاں بیٹھتے ہیں “ بلکہ ہمارا قول یہ ہے کہ آپ اور آپ کا رب دونوں جنگ کے لیے نکلیں جب تک کہ ایک آنکھ بھی ہم میں گردش کرتی ہے ہم سرکٹانے کے لیے حاضر ہیں۔ ) آنحضرت ﷺ خوش ہوئے اور ان کو دعائیں دیں مگر ابھی تک حضراتِ انصار کی طرف سے موافقت میں کوئی آواز نہ اٹھی تھی اور یہ احتمال تھا کہ حضراتِ انصار نے جو معاہدہ نصرت وامداد کا آنحضرت ﷺ کے ساتھ کیا تھا وہ اندرونِ مدینہ کا تھا۔ مدینہ سے باہر امداد کرنے کے وہ پابند نہیں اس لیے آپ نے پھر مجمع کو خطاب کرکے فرمایا کہ لوگو مجھے مشورہ دو کہ اس جہاد پر اقدام کریں یا نہیں۔ اس خطاب کا روئے سخن انصار کی طرف تھا۔ حضرت سعد بن معاذ انصاری ( رض) سمجھ گئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ کیا آپ ہم سے پوچھنا چاہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔ سعد بن معاذ ( رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! ہم آپ پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے آپ کی تصدیق کی ہے۔ ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ جو دین آپ لے کر آئے ہیں وہی حق ہے ہم نے آپ سے سمع و اطاعت کا عہد ومیثاق کیا ہے۔ پس اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ نے جو ارادہ فرمایا ہے وہ پورا کیجئے اس خدا کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر آپ ہمیں اس سمندر کے کنارے لے جاکر اس میں کود پڑیں گے تو آپ کے ساتھ ہم بھی اس میں کود پڑیں گے اور ایک شخص بھی ہم میں سے پیچھے رہنے والا نہیں ہوگا۔ ہم اس بات سے نہیں گھبراتے کہ آپ ہمیں ہمارے دشمنوں کے مقابلہ کے لیے جا کھڑا کریں، ہم جنگ میں ثابت قدم رہیں گے۔ مقابلہ کے وقت ہم راست باز ثابت ہوں گے اور کیا عجب ہے کہ اللہ ہمارے ہاتھوں وہ کچھ دکھائے جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں تو اللہ کا نام لے کر آپ ہمیں ہم رکابی کا شرف بخشئے۔ رسول اللہ ﷺ یہ سن کر بہت مسرور ہوئے اور قافلہ کو حکم دے دیا کہ اللہ کے نام پر چلو اور یہ خوشخبری سنائی کہ مجھ سے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ ان دونوں جماعتوں میں سے ایک جماعت پر ہمارا غلبہ ہوگا۔ دونوں جماعتوں سے مراد، ایک ابوسفیان کا تجارتی قافلہ اور دوسرا یہ مکہ سے آنے والا لشکر ہے پھر فرمایا کہ اللہ کی قسم میں گویا اپنی آنکھوں سے مشرکین کی قتل گاہ کو دیکھ رہا ہوں۔ اس آخری جملے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہرچند کہ نبی کریم ﷺ سے دو جماعتوں میں سے ایک جماعت پر غلبے کا وعدہ فرمایا ہے لیکن آنحضرت ﷺ کے پیش نظر قافلہ نہیں بلکہ اس لشکر پر فتح پانا ہے جس کے نتیجے میں آپ ان کافروں کی قتل گاہیں دیکھیں گے جن کی قتل گاہیں آپ کو وحی کے ذریعے دکھادی گئیں تھیں اور اس طرح سے آپ باطل کو باطل ثابت کریں گے اور حق کا حق ہونا واضح کردیں گے اور قریش مکہ کی پہلی صف کے قتل ہونے کے نتیجے میں قریش مکہ کی جڑ کاٹ دی جائے گی کیونکہ جب کسی قوم کی قیادت قتل ہوجاتی ہے اور ان کے زعما مارے جاتے ہیں تو اس قوم کی جڑ کٹ جاتی ہے اور جس طرح سے اللہ تعالیٰ اپنے اس ارادے کا اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا ہے وہ بھی پورا ہوجائے گا۔
Ayah 8:9

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader

اور اس وقت کو یاد کرو ! جب تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے تو اس نے تمہاری فریاد سنی کہ میں ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کروں گا جن کے پرے کے بعد پرے نمودار ہوں گے۔ )

اِذْتَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّی مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُرْدِفِیْنَ ۔ (الانفال : 9) (اور اس وقت کو یاد کرو ! جب تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے تو اس نے تمہاری فریاد سنی کہ میں ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کروں گا جن کے پرے کے بعد پرے نمودار ہوں گے۔ ) مسلمانوں کی دعا کی استجابت ایک ہزار فرشتوں کی صورت میں مسلمان اللہ کے حکم کے مطابق میدانِ جنگ میں پہنچ گئے دونوں فوجوں نے اپنے اپنے پڑائو ڈال لیے تو مسلمانوں نے دیکھا کہ ان کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ قوت ہے۔ ان میں ایک ایک مقابلے میں تین کافر ہیں اور پھر مزید یہ کہ ان میں سے ہر شخص پوری طرح مسلح ہے۔ ان کے مقابلے میں مسلمان صرف افرادی قوت ہی میں کم نہیں بلکہ بےسروسامان بھی ہیں۔ چند آدمیوں کے سوا کسی کے پاس زرہ نہیں ہے، صرف آٹھ آدمیوں کے پاس شمشیریں ہیں باقیوں کے پاس معمولی ہتھیار ہیں اور بعض بالکل نہتے ہیں جنھیں آنحضرت ﷺ نے کھجور کی چھڑیاں عنایت فرمائیں جو ان کے ہاتھوں میں جاکر تلواریں بن گئیں۔ پوری فوج میں صرف دو گھوڑے ہیں۔ افراد کی کمی اور بےسروسامانی کی یہ کیفیت دیکھ کر مسلمانوں نے اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلادیئے اور اپنے اللہ سے فریاد کی کہ یا اللہ ! تیرے دین کی سربلندی کے لیے ہم بےسروسامانی کے باوجود کافروں کے مقابلے میں کھڑے ہیں ہمارے پاس جو کچھ تھا ہم لے کر حاضر ہوگئے ہیں۔ بظاہر کفر کے پاس بہت بڑی طاقت ہے لیکن ہمیں تیری طاقت پر بھروسہ ہے اگر تیری تائید اور نصرت ہمیں حاصل ہے تو پھر ہمیں کوئی اندیشہ نہیں۔ ادھر آنحضرت ﷺ نے بھی نہایت عاجزی کے ساتھ اپنے اللہ سے دعائیں مانگیں اور مسلمان اس پر آمین کہتے رہے۔ ان سب دعائوں کو یکجا ذکر فرماکر جمع کے صیغے کے ساتھ پروردگار نے ارشاد فرمایا : اس وقت کو یاد کرو ! جب تم اپنے اللہ سے فریاد کررہے تھے۔ پس اللہ نے تمہاری فریاد سنی اور اپنے رسول پر وحی اتاری کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں تمہارے سامنے اگر ایک ہزار کا لشکر ہے تو میں اس کے مقابلے میں ایک ہزار فرشتہ بھیج رہا ہوں اور فرشتے اس طرح آئیں گے کہ فرشتوں کی ٹکڑیاں یکے بعد دیگرے آپ کے پاس پہنچیں گی۔ جنگ میں اس بات کی بےحد اہمیت ہوتی ہے کہ لڑائی کا آغاز ہونے سے پہلے ہی فوج کو کمک پہنچنا شروع ہوجائے چناچہ اگر یہ کمک مسلسل پہنچتی رہے تو ایک ایک سپاہی کے پہنچنے پر فوج کے حوصلے میں اضافہ ہوتا ہے۔ شریانوں میں خون کی گردش تیز ہوجاتی ہے۔ ایک ایک سپاہی نئی توانائی محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس لیے ” مردفین “ فرمایا گیا۔ سورة آل عمران میں مزید دو خوشخبریوں کا ذکر بھی ہے۔ کفار کے ایک ہزار کے لشکر کے مقابلے میں پہلے ایک ہزار فرشتہ بھیجنے کا وعدہ فرمایا۔ دوسری خوشخبری اس وقت آئی جب مسلمانوں میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ کفار کے لشکر کے لیے نئی کمک پہنچنے والی ہے اور کرز بن جابر محاربی مشرکین کی امداد کے لیے ایک بڑا لشکر لے کر آرہا ہے اس خبر سے مسلمانوں میں بےچینی کا پیدا ہونا فطری تھا۔ چناچہ اس پر تین ہزار فرشتے بھیجنے کا وعدہ فرمایا اور تیسرا وعدہ اس وقت فرمایا جب یہ بات مشہور ہوئی کہ کفار کی فوج کا ایک بہت بڑا حصہ مسلمانوں پر شب خون مارنے آرہا ہے۔ اس پر پروردگار نے فرمایا : بلی ان تصبروا وتتقوا ویاتوکم من فورھم ھذا یمددکم ربکم بخمسۃ اٰلٰف من الملئکۃ مسوّمین (اگر تم ثابت قدم رہے اور تقویٰ پر قائم رہے اور مقابل لشکر یکبارگی تم پر ٹوٹ پڑا تو تمہارا رب تمہاری امداد پانچ ہزار فرشتوں سے کرے گا جو خاص نشان یعنی خاص وردی میں ہوں گے ) یہ بعد کے دونوں وعدے مشروط تھے کہ اگر کفار کو مزید کمک پہنچی اور انھوں نے اچانک یکبارگی حملہ کرنے کی کوشش کی تو پھر اللہ تعالیٰ تین ہزار ایسے فرشتے بھیجے گا جو پہلے سے زمین پر خدمات انجام دینے میں مصروف نہیں بلکہ آسمان سے تازہ دم فرشتے بھیجے جائیں گے اور اگر انھوں نے اچانک حملہ کردیا تو پھر پانچ ہزار فرشتے اتریں گے جن میں سے ایک ایک فرشتہ ایک خاص لباس اور علامت کے ساتھ نازل ہوگا۔ جیسا کہ روایاتِ حدیث میں ہے کہ بدر میں نازل ہونے والے فرشتوں کے عمامے ” سفید “ اور غزوہ حنین میں مدد کے لیے آنے والے فرشتوں کے عمامے ” سرخ “ تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ صبح کے وقت آپ نے مسلمانوں کی صفیں درست فرمائیں، جہاد کی ترغیب دی، اللہ کے وعدوں کی نوید سنائی، پھر اپنے سائبان میں تشریف لے گئے اور نہایت آہ وزاری کے ساتھ اللہ کے حضور دست بدعا ہوئے۔ اللھم انجزلی ماوعد تنی اللھم انشدک عہدک ووعدک (اے اللہ ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرمادے، اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے عہد اور تیرے وعدے کا سوال کرتا ہوں) پھر جب باقاعدہ حملہ ہوگیا اور لڑائی شروع ہوگئی تو آپ نے یہ دعا فرمائی اللھم ان تھلک ھذہ العصابۃ الیوم لا تعبد، اللھم ان شئت لم تعبد بعدالیوم ابداً اے اللہ ! اگر آج یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو تیری عبادت نہ کی جائیگی، اے اللہ ! اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت کبھی نہ کی جائے۔ آپ نے خوب تضرع کے ساتھ دعا کی یہاں تک کہ دونوں کندھوں سے چادر گرگئی۔ حضرت ابوبکر صدیق ( رض) نے چادر درست کی اور عرض پرداز ہوئے کہ اللہ کے رسول بس فرمائیے آپ نے اپنے رب سے بڑے الحاح کے ساتھ دعا فرمالی۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو ایک جھپکی آئی پھر آپ نے سر اٹھایا اور فرمایا : ابوبکر خوش ہوجاؤ تمہارے پاس اللہ کی مدد آگئی یہ جبریل (علیہ السلام) ہیں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے اور اس کے آگے آگے چلتے ہوئے آرہے ہیں اور گردوغبار میں اٹے ہوئے ہیں اس کے بعد رسول اللہ ﷺ چھپر کے دروازے سے باہر تشریف لائے آپ نے زرہ پہن رکھی تھی۔ آپ پرجوش طریقے سے آگے بڑھ رہے تھے اور فرماتے جارہے تھے۔ سیھزم الجمع ویولون الد بر (عنقریب یہ جتھہ شکست کھائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا) اس کے بعد آپ نے ایک مٹھی کنکریلی لی اور قریش کی طرف رخ کرکے فرمایا شاھت الوجوہ ( چہرے بگڑ جائیں) اور ساتھ ہی مٹھی ان کے چہروں کی طرف پھینک دی۔ مشرکین میں سے کوئی نہیں ہوگا جس کی آنکھوں، نتھنے اور منہ میں اس مٹھی کا کچھ نہ کچھ حصہ گیا نہ ہو۔