Ayahs 8:39–40وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ ج فَاِنِِ انْتَھَوْا فَاِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْ ٓ ا اَنَّ اللّٰہَ مَوْلٰـکُمْ ط نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ ۔ (الانفال : 39، 40 )
(ان سے جنگ کرو تاآنکہ فتنہ باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ کا ہوجائے پس اگر وہ باز آجائیں تو اللہ جو کچھ وہ کررہے ہیں اس کو دیکھ رہا ہے۔ اور اگر انھوں نے روگردانی کی تو خوب جان لو کہ اللہ تمہارا مولا ہے کیا ہی خوب مولا ہے اور کیا ہی اچھا مددگار ہے۔ )
مسلمانوں کو جہاد کا حکم
کفر کی طاقتیں اگر اپنا رویہ بدلنے کے لیے تیار نہیں تو پھر مسلمانوں کے لیے حکم یہ ہے کہ کافروں سے لڑائی لڑو اور یہ لڑائی اس وقت تک جاری رہے جب تک فتنے کا سدباب نہیں ہوجاتا اور دین سراسر اللہ کا نہیں ہوجاتا۔ سوال یہ ہے کہ یہاں دین سے کیا مراد ہے ؟ اور فتنہ کا کیا معنی ہے ؟
فتنہ سے کیا مراد ہے ؟
حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) سے جو تفسیر منقول ہے اس کے حوالے سے فتنہ سے مراد کفر ہے اور دین سے مراد دین اسلام ہے۔ مفہوم اس کا یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی براہ راست بعثت عربوں کی طرف ہوئی ہے۔ اس لیے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ عربوں پر اتمامِ حجت ہوا ہے۔ انھوں نے اپنی آنکھوں سے اللہ کے رسول کو دیکھا، اس کی دعوت کو سنا، اس کے کردار کو پرکھا، اس کے معجزات دیکھے، اب ان کے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہا کہ وہ اسلام کو قبول نہ کریں کیونکہ اللہ کے نبی کی شخصیت بجائے خود معجزہ ہوتی ہے۔ اس کی دعوت اپنے اندر بلا کی تاثیر رکھتی ہے۔ اس کے معجزات ہر زندہ ضمیر کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ یہ تو ہر نبی کی شان ہے، نبی آخرالزماں جو اہل زمین کے لیے اللہ کا آخری نمائندہ اور آخری حجت بن کر آیا ہے، اس کی شان کا تو اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا اس کو دیکھ لینے اور سن لینے کے بعد کسی طرح کی حیل وحجت کا امکان باقی نہیں رہتا۔ اس لیے جزیرہ عرب سے باہر تو نبی کریم ﷺ اور پروردگار نے کفر کے باقی رہنے کی اجازت دی کہ وہ مسلمان ملکوں میں شہری بن کر بھی رہ سکتے ہیں اور معاہد بن کر بھی، اور کافر اور مسلمان ملکوں میں باہمی معاہدات بھی ہوسکتے ہیں۔ لیکن جزیرہ عرب کی حدتک پابندی لگادی گئی کہ یہاں دو دین نہیں رہ سکتے۔ اللہ کے دین کے آجانے کے بعد کسی دوسرے دین کے لیے کوئی گنجائش نہیں اور اللہ کے رسول کی بعثت کے بعد کسی کفر کے لیے کوئی موقع نہیں۔ یہاں کسی کو کافر رہ کر رہنے کی اجازت نہیں ہوسکتی کیونکہ جزیرہ عرب اسلام کا مرکز اور Oase ہے۔ یہاں کے رہنے والے اسلام کا ہر اول ہوں گے۔ ان کے ساتھ ایسی قوتوں کو رہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جو مسلمانوں کو مذہبی، اخلاقی یا سیاسی طور پر پریشان کرسکتے ہوں۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے وصیت فرمائی کہ اہل کتاب کو جزیرہ عرب سے نکال دینا اور عربوں کے بارے میں حکم دیا کہ انھیں ایک محدود مدت تک مہلت دی جاتی ہے اسلام قبول کرلیں یا ملک چھوڑدیں ورنہ اس کے بعد ان کا خون مباح ہوجائے گا۔ چناچہ حضرت عمر فاروق ( رض) نے یہود کو خیبر سے نکال دیا اور عیسائیوں سے نجران خالی کرالیا گیا اور پورا جزیرہ عرب خالص مسلمانوں کا مرکز بن کر رہ گیا۔
دوسرا مفہوم یہ ہے کہ فتنہ سے مراد، حضرت عبداللہ ابن عمر ( رض) کی رائے کے مطابق وہ رویہ ہے جو قریش نے مسلمانوں کو دین حق سے روکنے کے لیے اختیار کررکھا تھا۔ انھوں نے امکانی حد تک لوگوں کے لیے دین قبول کرنا ناممکن بنادیا تھا اور اگر کوئی پھر بھی دین قبول کرنے کی جسارت کر گزرتا تو اس کے لیے زندگی عذاب بنادی جاتی۔ نہ اس کی عزت محفوظ رہتی اور نہ مال و دولت اور نہ اس کی جان کے لیے کوئی تحفظ رہتا۔ اسی صورتحال سے نکلنے کے لیے مسلمانوں کو جب بھی موقعہ ملا وہ ہجرت کرگئے۔ حتی کہ آنحضرت ﷺ بھی ہجرت فرما کر مدینہ پہنچ گئے۔ اب کوئی ایسا شخص مکہ میں باقی نہ رہ گیا جو ہجرت کی استطاعت رکھتاہو اور پھر بھی وہ مکہ میں قیام پذیر ہو۔ لیکن قریش کے ظلم وتعدی کو کسی حد پر بھی قرار نہ تھا انھوں نے جب دیکھا کہ مسلمان مدینہ کو اپنا مرکز بنا چکے ہیں تو انھوں نے مدینہ پر شب خون مارنا شروع کردیئے اور مدینہ میں بھی مسلمانوں کے لیے زندگی گزارنا مشکل کردیا۔ اس آیت کریمہ میں اس صوتحال کو فتنہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جہاں تک دین کا تعلق ہے اس سے مراد غلبہ دین ہے یعنی اسلام جزیرہ عرب کی حد تک ایک غالب قوت بن جائے کیونکہ اس کے بغیر نبی کریم ﷺ کی بعثت کا مقصد اولیٰ بھی پورانھیں ہوتا تھا کیونکہ آنحضرت ﷺ پوری دنیا کی ہدایت اور ساری زمین پر اللہ کے دین کے غلبے کے لیے تشریف لائے تھے۔ لیکن آپ کا اولین ہدف یہ تھا کہ اللہ کا وہ گھر جسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید کا مرکز اور ہدایت کا سرچشمہ بنایا تھا اور جہاں سے ایک ایسی امت کے اٹھائے جانے کی دعائیں مانگیں تھیں۔ امت مسلمہ یعنی خالص اللہ کے سامنے جھکنے والی اللہ کی توحید کی پرستار اور اپنا سب کچھ اللہ کی رضا اور غلبہ دین کے لیے جھونک دینے والی ہو اور اس منبع ہدایت کو پوری دنیا کا مرکز بنانے کے لیے ایک ایسے رسول کے لیے دعائیں مانگی تھیں جو قریش میں سے ہو یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہو اور جو اللہ کے اس گھر سے ہدایت کی ایسی تحریک لے کر اٹھے جو پوری دنیا کو روشنی سے منور کر دے۔ لیکن جب حضور کی بعثت مبارکہ ہوئی تو آپ کو یہ دیکھ کر انتہائی حیرت ہوئی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے موحّدِ اعظم کی اولاد نے توحید کے اس منبع کو بت خانہ میں تبدیل کردیا تھا۔ عرب کے تمام قبائل کے بتوں کو اللہ کے گھر میں جگہ دی گئی تاکہ عرب کے تمام قبائل اپنے بتوں کی وجہ سے مکہ معظمہ سے وابستہ رہیں اور قریش کو اللہ کے گھر کے متولی سمجھ کر ان کو پروہتوں کی طرح پوجتے رہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت کی ایک ایک بات کو انھوں نے بدل کر رکھ دیا تھا۔ مناسکِ حج تک تبدیل کردیئے گئے تھے۔ عبادت کے بنیادی تصورات کے بگاڑ کے ساتھ ساتھ انھوں نے اللہ کے اس گھر کو قومی معبد کی شکل دے دی تھی۔ جس میں مرضی خدا کی نہیں بلکہ قریش کی چلتی تھی۔ آنحضرت ﷺ چونکہ ملت ابراہیم پر مبعوث ہوئے تھے اس لیے آپ کی پہلی ذمہ داری یہ تھی کہ اللہ کے گھر کی اصل حیثیت کو بحال کیا جائے۔ اس کی عظمت واپس لائی جائے۔ شرک کی ایک ایک بات کو وہاں سے نکالاجائے اور اللہ کے گھر کو ان ہاتھوں میں دیا جائے جو اللہ سے ڈرنے والے اور اس کی توحید کے پرستار ہیں۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے مکہ معظمہ میں تیرہ سال تک اسی مقصد کو سامنے رکھ کر کام کیا۔ لیکن قریش بجائے اس کام کی قدر کرنے اور اسلام کی آغوش میں آنے کے انھوں نے اس دعوت کا قلع قمع کرنے کی کوشش کی اور مسلمان جب مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرگئے تو انھوں نے مسلمانوں پر اس گھر کے راستے ہمیشہ کے لیے بند کردیئے۔ 6 ہجری میں آنحضرت ﷺ نے اپنے صحابہ کے ساتھ اللہ کے گھر کا عمرہ کرنے کا ارادہ فرمایا تو قریش نے آپ کا مکہ معظمہ میں داخلہ بند کردیا آپ تمام تر کوششوں کے باوجود عمرہ ادا نہ کرسکے۔ یہ وہ فتنہ تھا جس نے اسلام کا ہر راستہ روک رکھا تھا۔ جہاں ملت ابراہیمی کے لیے مشکلات تھیں اور بت پرستی کے لیے آسانیاں۔ اللہ کا دین مظلوم ومقہور تھا اور کفر اور شرک کی قوتیں برسر اقتدار تھیں۔ جب تک کفر وشرک کے غلبہ کی جگہ دین کو غلبہ نہ ملے اور کفر کی جارحانہ قوت کا پنجہ نہ مروڑاجائے اس وقت تک توحید اور اسلام کے مستقبل کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔ اس کے لیے ایک ہی راستہ تھا کہ مسلمان اللہ کے بھروسے پر طاقت کا علم لے کر اٹھیں اور تلوار کے زور سے کفر وشرک کی طاقت کو جڑ سے اکھاڑدیں چناچہ اس آیت کریمہ میں اسی مقصد کے لیے قتال کا حکم دیا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے بعض ارشادات میں اس کی وضاحت بھی فرمائی۔ صحیح بخاری ومسلم کی ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :
(مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے کہ میں دشمنانِ اسلام سے قتال کرتارہوں یہاں تک کہ وہ کلمہلاَاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللّٰہ کو قبول کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور جب وہ ایسا کریں تو ان کے خون اور اموال سب محفوظ ہوجائیں گے بجز اس کے کہ اسلامی قانون کے تحت کسی جرم کی پاداش میں ان کو سزا دی جائے۔ )
مسلمانوں کو تسلی
آیت کے دوسرے حصے میں فرمایا کہ اگر اس قتال کے نتیجے میں کفار فتنہ پروری سے رک جائیں وہ اسلام قبول کرلیں یا اللہ کا گھر مسلمانوں کے حوالے کردیں تو پھر مسلمانوں کو بھی ہاتھ روک لینا چاہیے اور اس بات پر ان کو پریشان نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے رویے کی یہ تبدیلی ممکن ہے دھوکہ دہی کی ایک چال ہو فرمایا وہ تمہیں دھوکہ دے سکتے ہیں لیکن اللہ کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ مسلمانوں کو مطمئن رہنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے تمام اعمال سے باخبر ہے اور اگر وہ اپنا رویہ بدلنے سے انکار کردیں تو پھر خوب جان لو اللہ تمہارا مولا ہے، وہی تمہارا ملجا ہے، وہی تمہارا کارساز ہے، وہی تمہارا پشت پناہ ہے، کافروں کی کثرت تعداد اور اسلحہ کی قوت تمہیں پریشان نہ کرے کیونکہ جس کا مولا پروردگار ہو اس کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے کیونکہ اللہ سے بہتر نہ کوئی مولا ہے اور نہ کوئی مددگار۔ جس نے اس کا دامن پکڑ لیا دنیا اور آخرت کی سب سے بڑی قوت اس کے ہاتھ میں آگئی۔
کیا غم ہے اگر ہو ساری خدائی بھی مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے
Ayah 8:41وَاعْلَمُوْآ اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ لا اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰہِ وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتََقَی الْجَمْعٰنِ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ ( الانفال : 41 )
(اور جان رکھو کہ جو کچھ تمہیں غنیمت ملے تو بیشک اس کا خمس اللہ کے لیے ہے اور رسول کے لیے ہے اور قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری فیصلہ کے دن جس دن بھڑ گئیں دونوں جماعتیں اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ )
آپ کو یاد ہوگا کہ سورة ُ الانفال کی پہلی آیت میں مسلمانوں نے انفال یعنی مال غنیمت سے متعلق سوال کیا تھا۔ وہاں اس کا اجمالی جواب دیا گیا تھا اور پھر جنگ مسلمانوں اور ان کی مصلحت کے حوالے سے جو باتیں زیادہ ضروری تھیں ان کی طرف کلام کا رخ پھر گیا اور ایک سے دوسری حقیقت واشگاف ہوتی گئی ان بنیادی اور اساسی حقائق کا ذکر کرنے کے بعد اب اسی سوال کا تفصیلی جواب دیا جارہا ہے۔
مالِ غنیمت سے کیا مراد ہے ؟ اور اس کی حیثیت
میں نے عرض کیا کہ نفل اور غنیمت دونوں ایک ہی چیز ہیں غنیمت اس مال کو کہا جاتا ہے جو دشمن سے حاصل کیا جائے۔ اس لحاظ سے اسلامی شریعت میں اس کی دو قسمیں ہیں ایک وہ مال غنیمت ہے جو لڑائی اور دشمن کی شکست کے نتیجے میں مسلمانوں کے ہاتھ آتا ہے۔ اسے غنیمت یا نفل کہتے ہیں اور دوسرا وہ مال غنیمت ہے جو بغیر لڑائی کے صلح اور رضامندی سے حاصل ہوجائے۔ مثلاً دشمن مرعوب ہو کر جزیہ دینے پر صلح کرلے یا خراج دینا قبول کرلے یا اپنی دشمنی اور جرائم کی معافی کے لیے اپنے مکان اور اپنی زمینیں چھوڑ کر کسی دوسرے علاقے میں منتقل ہوجائے۔ ظاہر ہے کہ وہ جو کچھ چھوڑ کر جائے گا وہ سب کچھ مسلمانوں کے قبضے میں آجائے گا۔ اسے ” فَئی “ کہتے ہیں۔
مالِ غنیمت کے سہام کا ذکر کرتے ہوئے سب سے پہلی بات جس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور اس سورة کی پہلی آیت میں صرف اسی حقیقت کے ذکر پر اکتفا کیا گیا تھا وہ یہ ہے کہ اسلامی نقطہ نگاہ سے تمام کائنات کا اصل مالک اللہ جل جلالہٗ ہے۔ اس کائنات کی ایک ایک چیز پر اس کی ملکیت ہے۔ انسان براہ راست اپنی ذات میں کسی چیز کا مالک نہیں بجز اس کے کہ قانون کسی چیز کو اس کی ملکیت میں دے دے۔ سورة یٰسین میں جانوروں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
اولم یروا انا خلقنا لھم مما عملت ایدینا انعام فھم لھا مالکون
(کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ چوپائوں کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا پھر لوگ ان کے مالک ہوگئے۔ )
یعنی تخلیق کے اعتبار سے ذاتی ملکیت صرف اللہ کو حاصل ہے انسانوں کو جانوروں پر تصرف کا حق ذاتی ملکیت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس ملکیت کی وجہ سے ہے جو اللہ نے انھیں عطا کی ہے۔
انسانوں کی یہ ملکیت قانوناً اور اخلاقاً اس وقت تک حاصل رہتی ہے جب تک وہ اللہ کی حیثیت اور اس کے قانون کو تسلیم کرتے ہیں لیکن جب وہ کفر اور شرک کا راستہ اختیار کرکے اللہ سے بغاوت کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو وہ اللہ کی عطاکردہ ملکیت سے محروم ہوجاتے ہیں اور قانونی اور اخلاقی طور پر ان کا جان ومال مباح ہوجاتا ہے۔ لیکن اس کا عملی وقوع اس وقت ہوتا ہے جب ان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے رسول بھیجتے ہیں کتابیں اتارتے ہیں اور اس طرح سے ان پر اتمامِ حجت کردیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود اگر وہ راہ راست اختیار نہیں کرتے اور بغاوت سے اطاعت کی طرف نہیں آتے تو پھر اللہ اپنے رسول اور رسول پر ایمان لانے والوں کو ان سے جہاد و قتال کا حکم دے دیتا ہے۔ ان کا قتل جائز ٹھہرتا ہے اور ان کے مال دوبارہ پھر خالصتاً اللہ کی ملکیت میں چلے جاتے ہیں اور ان کا حق ملکیت ساقط ہوجاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے جہاد و قتال کے نتیجے میں مسلمانوں کو کافروں سے جو مال ہاتھ آتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ملک سے مسلمانوں کی طرف منتقل ہوتا ہے کیونکہ کافروں کی ملک جب ختم کردی گئی تو پھر ہر چیز اپنے اصل کی طرف لوٹ گئی اور صرف اس پر اللہ کی ملکیت باقی رہی۔ اب جب وہ مال مسلمانوں کی ملکیت میں آئے گا تو وہ اللہ کی ملکیت سے براہ راست منتقل ہو کر آئے گا اور درمیان میں کسی انسانی ہاتھ کا واسطہ نہیں ہوگا جبکہ انسان کے پاس جتنا مال اور جیسا مال بھی آتا ہے وہ انسانوں کے واسطہ سے آتا ہے چاہے وہ ہبہ کی صوت میں ہو، میراث کی صورت میں یاتجارت کے نتیجے میں ہر جگہ انسان انسانوں سے وصول کرتا دکھائی دیتا ہے اور یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ جو مال انسانی ہاتھوں سے آئے گا اس میں انسانی ہاتھوں کا میل بھی شامل ہوگا اور جو مال براہ راست اللہ کی ملک سے مسلمانوں کی ملک میں منتقل ہوگا وہ ایسی ہر آلودگی سے پاک ہوگا۔ چناچہ مال غنیمت کی اسی طہارت، پاکیزگی اور فضیلت کی وجہ سے پہلی امتوں کو اس کے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ خالصتاً اللہ کی ملکیت ظاہر کرنے کے لیے حکم دیا گیا کہ ایسے مال کو کسی بلند جگہ پر رکھ دو تاکہ اللہ کی طرف سے آگ آکر اسے جلا دے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے اسے قبول فرمالیا۔ نبی کریم ﷺ پر پروردگار کے جو خصوصی انعامات ہوئے ہیں ان میں سے ایک انعام یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت کو جسے حدیث میں ” اطیب الاموال “ کہا گیا ہے، اس امت کو استعمال کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔ لیکن اس تصور کو ان کے دل و دماغ میں راسخ کردیا کہ یہ کبھی مت بھولنا کہ یہ مال براہ راست اللہ کی ملکیت ہے۔ تمہاری ملک میں اللہ نے اپنی عطا کے طور پر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ اس بنیادی تصور نے مسلمانوں کو مال غنیمت کے بارے میں اس حد تک محتاط کردیا تھا کہ وہ اپنے طور پر مال غنیمت میں سے ایک سوئی لینے کے بھی روادار نہیں ہوتے تھے۔ ہر چیز اپنی اصل حالت میں مرکز پر پہنچائی جاتی تھی۔ مرکز کی طرف سے جب اس کی تقسیم ہوتی تو ہر ایک کو اس کا حصہ مل جاتالیکن وہ اپنے طور پر کسی چیز کو روکنا اس لیے حرام سمجھتے تھے کہ یہ سارا مال اللہ کا ہے جسے اللہ کے رسول کی تحویل میں دیا گیا ہے وہ جیسے سمجھیں گے اسے تقسیم فرمائیں گے۔ اسی تصور نے قرون اولیٰ میں مسلمانوں کے اندر وہ اخلاق پیدا کیا کہ بڑی بڑی جنگوں میں ایک واقعہ بھی ایسا پیش نہیں آیا کہ کسی سپاہی نے اپنے طور پر مال غنیمت میں سے کوئی چیز ہتھیانے کی کوشش کی ہو۔ قیصر وکسریٰ جیسی حکومتوں کے تخت الٹ دیئے گئے ان کی صدیوں کی جمع کی ہوئی دولت مسلمانوں کے ہاتھوں میں آئی اور وہاں سے سینکڑے میل دور اسے مدینہ منورہ میں منتقل کیا گیا لیکن انتہائی تعجب کی بات ہے کہ جنگ کے دوران، جنگ کے بعدیا مدینہ کے سفر میں کوئی ایک مثال بھی ایسی سامنے نہ آئی جسے خیانت سے تعبیر کیا جاسکتا بلکہ مورخین یہ کہتے ہیں کہ جب یہ اربوں روپے کا مال غنیمت مدینہ منورہ پہنچا ہے تو مسلمانوں کے سالار نے اس سامان کی جو فہرست ساتھ بھجوائی تھی اس فہرست میں اور اس مال میں ایک سوئی کا بھی فرق نہیں تھا۔
دوسرا تصور
دوسرا تصور جو نفل اور غنیمت کے لفظ سے لیا گیا وہ یہ ہے کہ غنیمت کارکردگی کا صلہ نہیں بلکہ سرتاسر انعام ہے کیونکہ غنم الشیء کے معنی ہوتے ہیں فاز بہ ونالہ بلابدل اس نے فلاں چیز بغیر کسی عوض کے حاصل کرلی اور جو چیز کسی کے عوض میں حاصل ہو اسے غنیمت نہیں کہتے اسے اجرت کہا جاسکتا ہے یا کوئی اور نام دیا جاسکتا ہے لیکن غنیمت نہیں کہا جاسکتا۔ مقصود یہ تصور دینا ہے کہ اسلامی جہاد و قتال میں اگرچہ گردنیں اترتی ہیں، خون بہتا ہے، جسم زخمی ہوتے ہیں، ایک قیامت سے آدمی گزرتا ہے، لیکن ان میں سے کسی قربانی کا صلہ بھی دنیا کی کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ ان میں سے ہر قربانی کا بدلہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس طرح عطا فرمائیں گے کہ جب لینے والا ان بیش قیمت نعمتوں کو دیکھے گا تو آنحضرت کے ارشاد کے مصداق وہ تمنا کرے گا کہ کاش ! میری کھال اللہ کے راستے میں قینچیوں سے کاٹی گئی ہوتی تاکہ آج میں اس کا اور بھی صلہ وصول کرتا۔ غزا اور شہادت کا صلہ اللہ کے ہاں اخروی انعامات ہیں جو اس کی ابدی زندگی میں محفوظ کردیئے جاتے ہیں۔ دنیا میں وہ کسی عوض اور معاوضے کا روادار نہیں ہوتاوہ جانتا ہے کہ جہاد و قتال میرا فرض ہے اس راستے میں اگر جان چلی گئی تو یہ فرض کی ادائیگی ہے اور اگر اس راستے میں پوری زندگی بھی صرف ہوگئی تو یہ فرض کی ادائیگی کی ایک کوشش ہے جس پر مجاہد کبھی یکسو اور مطمئن ہو کر نہیں بیٹھ جاتا بلکہ اس کے دل میں یہ کھٹک باقی رہتی ہے کہ اللہ نہ کرے میری قربانیوں کو رد کردیا جائے۔ وہ بڑی سے بڑی قربانی دیتا ہے اور ساتھ ہی قبولیت کی بھیک بھی مانگتا ہے۔ جس دین نے اپنے ماننے والوں کو یہ تصورات دیئے ہوں اس میں مال غنیمت کے حوالے سے کسی اختلاف کے پیدا ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی۔ لیکن جب یہ تصورات ماند پڑنے لگتے ہیں اور دلوں میں مال غنیمت کی ہوس پیدا ہونے لگتی ہے تو محض اس ہوس کی وجہ سے جیت بھی ہار میں تبدیل ہوجاتی ہے اور کامیابیاں ناکامیاں بن جاتی ہیں۔ خوارزم شاہ نے دولت دنیا کی ہوس اور تخت وتاج کی نخوت میں مبتلا ہو کر ایک بہت بڑی سلطنت تباہ کروالی۔ اس کا بیٹا تلافی کے لیے اٹھا اس نے شجاعت اور بہادری کے بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے اور ایک دو جنگوں میں تاتاریوں کو عبرتناک شکست بھی دی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب تاریخ بدل جائے گی اور مسلمان اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو شاید حاصل کرلیں گے۔ لیکن محض مال غنیمت میں اختلاف کی وجہ سے چالیس ہزار کا لشکر اسے چھوڑ کر چلا گیا جی سے ہی تاتاریوں کو اس کی خبر ہوئی تو وہ اپنے زخم چاٹنے کی بجائے آندھی کی طرح اٹھے اور طوفان بن کر حملہ آور ہوئے اب سلطان کے پاس فرار کے سوا کوئی راستہ نہ تھا۔ ایسے ہی عبرتناک نتائج سے بچنے کے لیے قرآن کریم نے مال غنیمت کے بارے میں وہ تصورات دیئے کہ جس نے عموماً مسلمانوں کو ایسی شرم ناک صورتحال سے دوچار ہونے سے محفوظ رکھا۔
ضابطہ تقسیم
ان بنیادی تصورات کے بعد اس ضابطہ تقسیم کو بیان کیا جارہا ہے جس کے مطابق مال غنیمت تقسیم کیا جائے گا۔ سورة انفال کی پہلی آیت میں یہ بات واضح کردی گئی تھی کہ مال غنیمت اجتماعی ملکیت ہے اس کا براہ راست مالک اللہ ہے اور اس کے عملی نمائندے اللہ کے رسول ہیں۔ اس لیے اس کی تقسیم فوج کے ذمہ دار اپنی مرضی سے نہیں کرسکیں گے بلکہ پہلے یہ مال جمع کرکے اجتماعی تحویل میں دیا جائے گا اس کے بعد نبی کریم اسے اللہ کے نبی اور سربراہِ مملکت کی حیثیت سے تقسیم فرمائیں گے اور آپ کے بعد یہ ذمہ داری اسلامی مملکت کے سربراہ پر ہوگی۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس ضابطہ تقسیم کو تفصیلاً بیان کرنے کی بجائے صرف اس کے خمس کو بیان کیا گیا۔ لیکن قرآن کریم کے اسلوب کو جاننے والے جانتے ہیں کہ اسی میں پورے ضابطے کو بیان کردیا گیا ہے کیونکہ ماغنتم کے لفظ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت میں مجاہدین کا حق تسلیم کیا ہے اور اللہ نے محض اپنے فضل و کرم سے اپنے حق سے اس مال کو ان کے حق میں منتقل فرمایا۔ اب رہی یہ بات کہ ان کا حق کتنا ہے تو اس میں سب سے پہلے اس حق کو ذکر فرمایا جو سب سے اہم اور سب سے اشرف ہے وہ یہ کہ پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول اور ذوی القربیٰ اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہوگا۔ باقی چار حصے مجاہدین میں تقسیم کیے جائیں گے۔ البتہ ! اس تقسیم کا طریقہ کار کیا ہوگا ؟ اس کی تفصیل احادیث اور فقہ کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کی ذات کے حصے کا تعلق ہے تو یہ بات معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تو ہر چیز سے بےنیاز اور غنی ہے اس کا حق رسول اللہ ﷺ کی طرف منتقل ہوجاتا ہے اس لیے اصلاً پانچواں حصہ رسول اللہ ﷺ کا ہے اور یہ حق آپ کا اسلامی ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے ہے اور اسے آپ بعد میں بیان کردہ مستحقین پر صرف فرمائیں گے۔ رسول ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کی تمام ذمہ داریاں اپنے سر لے رکھی تھیں۔ لیکن سربراہِ مملکت کی حیثیت سے جب آپ کا ایک ایک لمحہ ریاست کی ذمہ داریوں کی ادائیگیوں کے لیے صرف ہونے لگا تو اب ضروری تھا کہ ریاست کے واسطے سے جو وسائل پیدا ہوتے ہیں اس میں آنحضرت ﷺ کا حق بھی رکھا جاتا۔ چناچہ اسی لیے مال غنیمت میں سب سے پہلے آپ کا حق رکھا گیا کہ آپ اس خمس میں اپنی ذات اور اپنی ازواجِ مطہرات پر بھی خرچ کریں گے اور ان ذوی القربیٰ پر بھی جن کی کفالت کی ذمہ داری آپ پر ہے یا آپ اخلاقاً جن کی مدد کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ ان میں بنوہاشم تو اس لیے شریک تھے کہ وہ آپ کا خاندان تھا اور بنو مطلب کو آپ نے اس لیے شریک فرمالیا تھا کیونکہ شعب ابی طالب کے ہولناک مصائب میں انھوں نے خود اپنے آپ کو بنی ہاشم کے ساتھ شریک رکھا تھا اور مزید یہ بات بھی کہ آنحضرت ﷺ پر اور آپ کی وجہ سے آپ کے خاندان بنی ہاشم پر زکوٰۃ کا لینا ممنوع قرار دیا گیا ہے کیونکہ زکوٰۃ لوگوں کے ہاتھوں کا میل ہے جو آپ کی ذات اور آپ کے خاندان کے لیے مناسب نہیں اور اگر کہیں اسلام اس کی اجازت دے دیتا تو مسلمان آنحضرت ﷺ کے قرابت داروں کو آپ کی نسبت کی وجہ سے دوسروں کو محروم کرکے بھی زیادہ سے زیادہ زکوٰۃ دینے کی کوشش کرتے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بنی ہاشم کو مستقلاً ریاست کے وسائل سے محروم نہیں کیا جاسکتا تھا اس لیے مال غنیمت کے خمس میں سے ان کا بھی حق رکھا اور ذوی القربیٰ پر ” لام “ لاکر بطور خاص اس کی اہمیت کو واضح فرمایا۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی میں تو ذوی القربیٰ سے مراد بنی ہاشم اور بنی مطلب ہی تھے اور انھیں کا خمس میں حصہ رکھا گیا۔ لیکن آپ کی وفات کے بعد ذوی القربیٰ کا حصہ کس کو پہنچتا ہے ؟ اس میں مسلمانوں میں اختلاف ہوا۔ ایک گروہ کی رائے یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد یہ حصہ منسوخ ہوگیا۔ دوسرا گروہ یہ کہتا ہے کہ حضور کی وفات کے بعد یہ حصہ اس شخص کے اقربا کو پہنچے گا جو حضور کی جگہ خلافت کی خدمت انجام دے گا۔ تیسرے گروہ کے نزدیک یہ حصہ خاندانِ نبوت کے فقراء میں تقسیم کیا جاتا رہے گا۔ تحقیق سے تیسری بات صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ خلفائے راشدین کے زمانے میں حضرت علی ( رض) کو تمام ذوی القربیٰ کا ذمہ دار ٹھہرا کر ان کے واسطے سے ذوی القربیٰ میں یہ حصہ تقسیم کیا جاتا تھا۔
رہے یتیم، مسکین اور مسافرتو یہ ذوی القربیٰ میں سے بھی ہوسکتے ہیں اور اس سے باہر بھی خمس کو ان پر خرچ کرنے کا بھی اختیار دیا گیا۔ خمس میں ان کے متعین حقوق نہیں بلکہ اس کا اختیار سربراہِ مملکت کو ہے کہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق ان پر خرچ کرے اور ان کی ذمہ داریوں کو محسوس کرے۔ ذوی القربیٰ کے تحت ان کو ذکر کرنا بجائے خود اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس طبقے کی عزت افزائی فرمائی ہے اور ان کی ضرورتوں کا احساس دلایا ہے۔ اسلامی نظام کو غور سے دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یتیموں اور مسکینوں کی حیثیت سربراہِ ریاست کے کنبے کی ہے۔ سربراہِ حکومت کو جس طرح اپنے کنبہ کی فکر کرنی پڑتی ہے اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ اس کو یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کی مدد کرنی پڑتی ہے۔ خلفائے راشدین کا طرز عمل اس کی بہترین مثال ہے۔ وہ راتوں کو چھپ کر اس لیے گشت کرتے تھے تاکہ وہ ضرورت مندوں کی ضرورت سے آگاہ ہوسکیں اور کہیں مدینہ سے باہر کے مسافروں کا قافلہ اترا ہے تو اس کے حالات کا جائزہ لے سکیں اور پھر ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے جس طرح اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جوابدہ سمجھتے تھے اس طرح تو ایک باپ بھی شائد اپنے بچوں کے حوالے سے نہیں سوچتا۔ وہ ہرمسکین اور یتیم اور مسافر کی ذمہ داری براہ راست اپنے اوپر محسوس کرتے تھے۔ وہ اسلام کے مزاج شناس تھے وہ جانتے تھے کہ جس مملکت میں یتیم دھکے کھائیں، مسکین لاوارث ہوں اور مسافر کا کوئی پرسانِ حال نہ ہو اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوسکتا۔
اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰہِ وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتََقَی الْجَمْعٰنِ تقسیمِ غنیمت سے متعلق احکام محض انتظامی احکام نہیں ہیں بلکہ اس کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے فرمایا کہ اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اس پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر فرقان کے دن نازل کیا یعنی جس دن دونوں جماعتیں ایک دوسرے سے ٹکرائیں تو پھر تمہیں ان احکام کی پابندی میں کمزوری نہیں دکھانی چاہیے اور اگر ان احکام کی بجاآوری میں ذرا سا پس وپیش ہوا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے ایمان میں بھی کمزوری ہے اور بدر کے دن تم نے جس طرح اللہ کی طرف سے نصرت و تائید اترتے دیکھی ہے اس کی بھی ناقدری ہے۔ ایسی صورتحال میں تم اس دن سے کیا فائدہ اٹھاسکتے ہو جبکہ وہ ” یوم الفرقان “ ہے یعنی حق و باطل میں فرق کرنے والا دن۔ جس دن ایک مٹھی بھر جماعت نے ایک بڑے لشکر کو محض اللہ کی تائید اور نصرت اور حق کی پاسداری کی برکت سے شکست سے دوچار کیا اور جس نے بھی اس صورتحال پر غور کیا اسے یقین ہوگیا کہ آج کے دن حق و باطل کا فیصلہ ہوگیا۔ حق کے حق ہونے کا کوئی شبہ نہیں رہا اور باطل کے باطل ہونے میں کوئی اخفا نہیں رہا اور اسے یقین ہوگیا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو اس کے راستے میں سب کچھ قربان کرنے کے لیے نکل کھڑے ہونگے وہ تھوڑے بھی ہوں، بےدست وپا بھی ہوں تب بھی اللہ کی قدرت سے کامیاب ہوں گے۔
Ayah 8:42اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ بِالْعُدْوَۃِ الْقُصْوٰی وَالرَّکْبُ اَسْفَلَ مِنْکُمْ ط وَلَوْتَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِیْ الْمِیْعٰدِ لا وَلٰکِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰہُ اَمْرًا کَانَ مَفْعُوْلًا 5 لا لِّیَھْلِکَ مَنْ ھَلَکَ عَنْ م بَیِّنَۃٍ وَّیَحْییٰ مَنْ حَیَّ عَنْم بَیِّنَۃٍ ط وَاِنَّ اللّٰہَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ لا
(الانفال : 42 )
(یا دکرو ! جب تم وادی کے قریبی کنارے پر تھے اور وہ دور کے کنارے پر اور قافلہ تم سے نیچے تھا اگر تم آپس میں میعاد ٹھہرا کرنکلتے تو میعاد پر پہنچنے میں ضرور تم مختلف ہوجاتے لیکن اللہ کو کر ڈالنا تھا ایک کام جو مقرر ہوچکا تھا تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے حجت دیکھ کر ہلاک ہو اور جسے زندگی حاصل کرنی ہے وہ حجت دیکھ کر زندگی حاصل کرے اور بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ )
جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ کی کارسازی
جنگ بدر جس طرح وقوع پذیر ہوئی اور جیسے کچھ اس کے نتائج نکلے اس پر غور کرنے سے قدم قدم پر اللہ کی تدبیر اور قدرت نگاہوں کے سامنے آجاتی ہے۔ ہر صاحب بصیرت محسوس کرنے لگتا ہے کہ جن حالات سے مسلمان گزر رہے تھے اور مسلمانوں کی جماعتی حیثیت جس صورتحال سے دوچار تھی اور وسائل کی کمیابی نے مسلمانوں کے لیے جس طرح کے مسائل پیدا کر رکھے تھے اسے دیکھتے ہوئے مسلمانوں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ قریش مکہ کی طاقت سے ٹکرانے کی کبھی غلطی کرسکتے تھے۔ مسلمان امت تعمیر کے مراحل سے گزر رہی تھی اور اسلامی ریاست ابھی پوری طرح استحکام پیدا نہیں کرسکی تھی۔ مدینہ میں پھیلے ہوئے دشمن ابھی تک مسلمانوں کے لیے ایک مسئلہ بنے ہوئے تھے۔ ایسی صورتحال میں کسی بڑے اقدام کا فیصلہ کرنا آسان کام نہ تھا۔ دوسری طرف قریش مکہ بھی ابھی تک لشکر کشی کا فیصلہ نہیں کرپائے تھے۔ وہ عرب کی روایت کو دیکھتے ہوئے ڈرتے تھے کہ جنگوں کا سلسلہ شروع نہ ہوجائے۔ اگرچہ انھیں اپنی طاقت کا زعم تھا لیکن ابھی مزید تیاری کی فکر میں تھے اور اسی تیاری کے لیے انھوں نے ایک بڑا قافلہ ٔ تجارت ملک شام بھیجا تھا تاکہ اس کے منافع سے فوجی ضرورتیں پوری کی جاسکیں۔ لیکن ان تمام موانع کی موجودگی میں جنگ بدر کے حالات کا پیدا ہوجانا اور پھر دونوں فوجوں کا بیک وقت میدانِ جنگ میں پہنچ جانا اللہ کی قدرت کے ظہور کے سوا کچھ نہیں۔ فوجیں ہزار منصوبہ بندی کے ساتھ کسی جنگ کا فیصلہ کرتی ہیں لیکن میدانِ جنگ میں اس طرح ایک ساتھ دونوں فوجوں کا پہنچنا کہ جس میں نہ تقدیم کی شکایت ہو نہ تاخیر کی، ایک حیران کن بات ہے۔ چناچہ انہی باتوں کی طرف توجہ دلانے کے لیے اس آیت کریمہ میں پروردگار نے میدانِ جنگ کا نقشہ کھینچا ہے تاکہ ہر صاحب بصیرت جان سکے کہ یہاں قدم قدم پر اللہ کی منصوبہ بندی کارفرما دکھائی دیتی ہے۔” عدوۃ “ عربی زبان میں ایک جانب کو کہتے ہیں اور ” دنیا “ ادنیٰ سے بنا ہے جس کے معنی ہوتے ہیں قریب تر۔ آخرت کے مقابلے میں اس جہان کو بھی دنیا اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ عالم آخرت کی نسبت انسان کے زیادہ قریب ہے۔” قصویٰ “ ، اقصیٰ سے بنا ہے۔ اقصیٰ کے معنی ہیں بعید تر۔ میدانِ جنگ کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا کہ بغیر کسی منصوبہ بندی کے تم اور قریش جس طرح میدانِ بدر میں پہنچے حیرانی کی بات ہے کہ اس کے قریبی کنارے پر تم تھے اور دوسرے کنارے قریش تھے اور جس قافلے کو بچانے کے لیے قریش نکلے تھے وہ ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ تین میل کے فاصلے پر جارہا تھا۔ بغیر کسی منصوبہ بندی کے دو فوجوں کا ایک ہی میدان میں اور ایک ہی دن صبح شام کے فاصلے سے پہنچ جانا جنگ کی تاریخ کا ایک حیرت ناک واقعہ ہے کیونکہ فوجوں کا پس وپیش اور فوجوں کا دوسرے کو دھوکہ دینے کی کوشش، عزائم کو چھپا کر رکھنے کے لیے اقدام کا رخ کسی اور طرف رکھنا یہ فوجوں کے معمولات میں سے ہیں۔ لیکن دونوں فوجوں کا اچانک آمنے سامنے آجانا اور دونوں کا آمادہ جنگ ہونا اور پس وپیش کے کسی امکان کا باقی نہ رہنا یہ سراسر اللہ کی منصوبہ بندی تھی جو کھلی آنکھوں سے نظر آتی تھی۔
جنگ کا مقصد
اس کے بعد فرمایا کہ یہ منصوبہ بندی بےسبب نہیں تھی اور یہ محض حسن اتفاق نہ تھا بلکہ یہ حسن اتفاق اللہ کی منصوبہ بندی سے وجود میں آیا تھا اور پیش نظر یہ تھا کہ قریش اور مسلمانوں کا ایک تصادم ہو جس میں نظربظاہر فتح کی تمام علامتیں اور تمام اسباب قریش کے ساتھ ہوں اور مسلمانوں کے پاس بجز اللہ کی تائید ونصرت کے یقین اور حسن کردار کے اسباب کی دنیا کے کوئی چیزنہ ہو۔ دنیا اس تصادم سے پہلے یقین رکھتی ہو کہ مسلمان موت کے منہ میں جارہے ہیں اور ان کے دین نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ لیکن جب تصادم کا غبار چھٹے اور جنگ کا نتیجہ سامنے آئے تو مسلمانوں کی مٹھی بھر جماعت کامیاب اور کامران دکھائی دے اور قریش کی بےپناہ قوت لاشوں کے انبار میں بدل جائے اور ایک بڑی تعداد قیدیوں کی صورت رسیوں میں بندھی ہوئی دکھائی دے، پورا لشکر ڈرے ہوئے جنگلی جانوروں کی طرح بھاگتا ہوا دکھائی دے، تو یہ ساری صورتحال خود منہ سے بولتی ہے کہ جس پروردگار نے اس جنگ کی منصوبہ بندی فرمائی تھی اس کے پیش نظر یہ بات تھی کہ ہم یہ جنگ اس لیے کروا رہے ہیں تاکہ حق و باطل کا فرق واضح ہوجائے۔ حق غالب آجائے اور باطل مغلوب ہوجائے۔ دنیا کو معلوم ہوجائے کہ باطل مٹ جانے والی چیز ہے اور حق غالب آنے والی قوت ہے۔ حق کی قبولیت زندگی کی علامت ہے اور کفر سے تعلق ہلاکت اور بربادی ہے۔ اس جنگ کی صورت میں سب کچھ واضح ہوجانے کے بعد اب جسے زندہ رہنا ہے وہ بھی زندگی اور حق کی دلیل دیکھ کر زندہ رہے اور جس کی قسمت میں ہلاک ہونا ہے وہ بھی دلیل دیکھ کر ہلاک ہو تاکہ اہل کفر کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے اور ایمان لانے والوں کے لیے ابہام کی دھند چھٹ جائے۔ چناچہ یہ ہے وہ حقیقت جسے بروئے کار لانے کے لیے اللہ نے اس جنگ کا اہتمام فرمایا اور اسے فرقان بنادیا۔ بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔
Ayahs 8:43–44اِذْ یُرِیْکَھُمُ اللّٰہُ فِیْ مَنَامِکَ قَلِیْلًا ط وَلَوْاَرٰکَھُمْ کَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ سَلَّمَ ط اِنَّہٗ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ وَاِذْ یُرِیْکُمُوْھُمْ اِذِالْتَقَیْتُمْ فِیْٓ اَعْیُنِکُمْ قَلِیْلًا وَّیُقَلِّلُکُمْ فِیْٓ اَعْیُنِھِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰہُ اَمْرًا کَانَ مَفْعُوْلًا ط وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۔ ع (الانفال : 43، 44 )
(یاد کرو ! جب اللہ نے آپ کو وہ کافر دکھلائے آپ کے خواب میں تھوڑے اور اگر آپ کو وہ کافر زیادہ دکھا دیتا (تو اے مسلمانو) تم پست ہمت ہوجاتے اور معاملے میں اختلاف کرتے لیکن اللہ نے بچالیا بیشک وہ دلوں کی باتوں کا جاننے والا ہے۔ اور یاد کرو ! کہ جب اس نے تمہیں ان کافروں کو دکھایا تمہارے مقابلہ کے وقت تمہاری آنکھوں میں تھوڑا اور تمہیں ان کی نظروں میں تھوڑا دکھلایا تاکہ اس امر کا فیصلہ کردے جس کا ہوناطے شدہ تھا اور سارے معاملات اللہ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔ )
اللہ کی کارسازی کی دوسری مثال
ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کارسازی کی دوسری مثال بیان فرمائی ہے کہ جس طرح اس نے اپنی قدرت کاملہ سے مسلمانوں اور قریش کو ایک ساتھ میدانِ جنگ میں پہنچایا اور جنگ کے امکانات پیدا فرمائے اسی طرح اس نے کچھ ایسے اقدامات بھی فرمائے جن کی وجہ سے دونوں فوجوں کے لیے ایک دوسرے پر حملہ آور ہونے میں تردد اور تأمل کے تمام امکانات ختم ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلا احسان یہ فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کو خواب میں قریش مکہ کی جو فوج دکھائی گئی اسے قلیل التعداد دکھایا گیا۔ آنحضرت ﷺ نے محسوس کیا کہ وہ کوئی بہت بڑی فوج نہیں بلکہ ایک چھوٹا لشکر ہے اور ساتھ ہی اللہ نے یہ وعدہ بھی فرمایا کہ اس لشکر پر مسلمانوں کو غلبہ عطا کیا جائے گا۔ اسی آیت کے دوسرے حصے میں یہ بھی فرمایا کہ ہمارا کوئی کام بےمقصد نہیں ہوتا ہم نے اپنے پیغمبر کے خواب میں اس فوج کی تعداد اس لیے تھوڑی دکھائی تاکہ مسلمانوں کے حوصلوں پر اس کا اثر نہ پڑے جب آنحضرت ﷺ لوگوں کے سامنے اپنا خواب بیان فرمائیں تو ان کے اندرپست ہمتی کی بجائے امیدوں کے چراغ جلنے لگیں اور اگر قریش کی فوج جیسی تھی ویسی ہی آپ کے خواب میں دکھائی جاتی اور آپ یقینا اسی طرح مسلمانوں کے سامنے بیان فرماتے تو کوئی تعجب کی بات نہ تھی کہ بعض مسلمانوں کے حوصلے کمزور پڑنے لگتے اور وہ آنحضرت ﷺ سے درخواست کرتے کہ ہمیں اس جنگ کو ٹالنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ہمیں تیاری کے لیے موقعہ مل جائے ورنہ اس صورت میں تو مقابلے کی کوئی صورت بنتی ہی نہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ایسے تمام امکانات کو ختم کرنے کے لیے آپ کی نگاہوں میں انھیں تھوڑا کرکے دکھایا۔ دوسری آیت میں ایک اور کارسازی کا ذکر فرمایا کہ جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے آئیں اور دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو حیرت کی بات ہے کہ مسلمان دیکھنے کے باوجود کفار کو اپنے آپ سے کم دیکھ رہے تھے اور کفار کا حال یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کی تعداد کو کم دیکھ رہے تھے۔ مسلمانوں کو قریش کی تعداد عین لڑائی کے وقت اس لیے کم دکھائی جارہی تھی تاکہ وہ جرأت اور ہمت سے آگے بڑھیں اور ان کی افرادی قوت سے مرعوب نہ ہوں اور کافروں کو مسلمانوں کی تعداد اس لیے تھوڑی دکھائی گئی کہ کافر تو بنیادی طور پر بزدل ہوتا ہے۔ انھیں اگرچہ اپنی افرادی قوت پر ناز تھا لیکن دل ان کے پھر بھی دھڑک رہے تھے۔ اب جب کہ مسلمانوں کو انھوں نے اپنے آپ سے کم دیکھاتو اس بات کا امکان کم ہوگیا کہ وہ مسلمانوں سے مرعوب ہو کر جنگ سے بچنے کی کوشش کریں گے اور پروردگار کے پیش نظر صرف ایک ہی مقصد تھا کہ حق و باطل کا فیصلہ ہوجائے۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی فوج بھی میدانِ جنگ سے راہ فرار اختیار کرے کیونکہ اس کے بعد ہر فوج کو تاویل اور توجیہ کرنے کا موقع باقی رہے گا اور اصل صورتحال پردوں میں لپٹی رہے گی۔ لیکن اگر حق و باطل کا تصادم ہوگیا اور حق نے باطل کو تہہ وبالا کرڈالاتو دنیا پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اسباب اور قوت رکھنے کے باوجود قریش کو اس لیے شکست ہوئی کہ وہ اہل باطل تھے اور مسلمانوں کو اس لیے فتح ہوئی کہ وہ اہل حق تھے۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ مسلمانوں نے کافروں کو کم تعداد میں دیکھا اور کافروں نے مسلمانوں کو۔ اس کی تائید روایات سے بھی ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) فرماتے ہیں کہ لڑائی شروع ہونے کے وقت ہم نے جب اپنے مقابل لشکر کی طرف نظر ڈالی تو میں نے اپنے قریب ایک آدمی سے کہا کہ یہ لوگ نوے (90) آدمیوں کی تعداد میں ہوں گے اس شخص نے کہا کہ نہیں سو (100) ہوں گے۔ اسی طرح بعض روایات میں ہے کہ ابوجہل نے مسلمانوں کے لشکر کو دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مسلمانوں کی تعداد اس سے زیادہ معلوم نہیں ہوتی جن کی خوراک ایک اونٹ ہو۔ عرب میں کسی لشکر کی تعداد معلوم کرنے کے لیے اس سے اندازہ کیا جاتا تھا کہ کتنے جانور ان کی خوراک کے لیے ذبح ہوتے ہیں۔ ایک اونٹ سو (100) آدمیوں کی تعداد کے لیے سمجھا جاتا ہے۔
فوجوں کی نفسیات پر نگاہ رکھنے والے جانتے ہیں کہ فوجیں دوسری فوجوں کے بارے میں ہمیشہ وہی احساسات رکھتی ہیں جن کی امنگ اور ترنگ ان کے دل و دماغ سے پھوٹتی ہے۔ اگر کوئی فوج عددی قوت کو ہی سب کچھ سمجھتی ہو اور اسلحہ جنگ کو فیصلہ کن حیثیت دیتی ہے اور ہر چیز کو ظاہر بین نگاہوں سے دیکھتی ہے تو اس کے سامنے ایک بڑی فوج بھی چھوٹی دکھائی دیتی ہے لیکن جب معرکہ کارزار گرم ہوتا ہے تو ایسی سرسری نگاہ رکھنے والی فوجیں ہمیشہ ریت کا انبار ثابت ہوتی ہیں۔
اسی طرح وہ فوجیں جو معنوی اور اخلاقی حیثیت کو اصل قوت سمجھتی ہیں اور ان کے فیصلے ہمیشہ دل کے تابع ہوتے ہیں وہ جب محسوس کرتی ہیں کہ ان کے دلوں میں ایک حوصلہ اور ایک امنگ ہے ایمان واعتماد ہے جذم و یقین ہے مقصد کی صداقت اور اس کے لیے مرمٹنے کا جذبہ ہے انھیں اپنے سامنے بڑی سے بڑی فوج بھی چھوٹی دکھائی دیتی ہے۔ شاید اسی حقیقت سے اس آیت کریمہ میں پردہ اٹھایا گیا ہے۔ کافروں کا مسلمانوں کو قلیل التعداد دیکھنایا تو اس لیے تھا کہ مسلمانوں کی تعداد ہی تھوڑی تھی یا اس لیے تھا کہ طاقت کے زعم نے انھیں ایک نشہ میں مبتلا کر رکھا تھا اور مسلمانوں کا کافروں کو اپنے سے قلیل دیکھنا اس وجہ سے تھا کہ کافروں کے سروں کی تعداد تو زیادہ تھی لیکن ان کے اندر معنوی اور اخلاقی قوت نہیں تھی اور مسلمانوں کے دل اسی قوت سے ابل رہے تھے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ ان کے سامنے پہاڑ بھی ایک تودہ ریگ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا تھا۔
بعض لوگوں کو یہ گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو بعض دفعہ کوئی غلط چیز بھی دکھا دیتا ہے جیسے یہاں فوج کی تعداد کو غلط دکھا یا گیا ہے۔ یہ بات بالکل غلط ہے اس لیے کہ پیغمبرکا خواب وحی الہٰی ہوتا ہے اس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں ہوتا البتہ ! یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ خواب میں کوئی حقیقت مجاز کے لباس میں دکھائی جائے یا کوئی چیز ظاہر کی بجائے معنوی حقیقت میں سامنے لائی جائے۔ ایسی صورت میں خواب کی تعبیر میں غلطی کا امکان ہوسکتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے خواب میں قریش کی فوج کو کم دکھانا درحقیقت ان کی معنوی اور اخلاقی حیثیت کو دکھانا تھا کہ وہ تعداد میں اگرچہ زیادہ ہیں لیکن اخلاقی اور معنوی قوت کے اعتبار سے نہایت فروتر۔ ان کے اندر جزم و یقین نہیں عزائم کا فقدان ہے وہ صرف قوت پر اعتماد کرنا جانتے ہیں۔ ایسی فوج بڑی تعداد میں بھی ہو تو کوئی معرکہ انجام نہیں دے سکتی چناچہ جنگ بدر میں ایسا ہی ہوا۔
وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرمعاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں یعنی معاملات کا سررشتہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے فتح دیتا ہے، جسے چاہتا ہے شکست دیتا ہے، جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے، جسے چاہتا ہے ذلت کا شکار کردیتا ہے۔ اس لیے ایک مسلمان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنا فرض انجام دے لیکن بھروسہ اللہ پر رکھے۔ کبھی اس غلط فہمی کا شکار نہ ہو کہ میں اللہ سے بےنیاز ہو کر بھی کوئی کامیابی حاصل کرسکتا ہوں۔