8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsروح القرآن

Ayahs 8:55–57

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ Open ayah 8:55 in the Quran reader

بیشک سب جانداروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ لوگ ہیں جنھوں نے حق کو ماننے سے انکار کردیا پھر وہ کسی طرح ایمان نہیں لاتے۔

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 8:56 in the Quran reader

(خصوصاً ان میں سے وہ لوگ) جن سے آپ نے معاہدہ کیا ہے پھر وہ ہر مرتبہ اس معاہدے کو توڑ دیتے ہیں اور وہ بالکل نہیں ڈرتے،

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 8:57 in the Quran reader

سو اگر آپ پائیں انھیں لڑائی میں تو انھیں ایسی مار ماریں کہ تتر بتر ہوجائیں وہ لوگ جو ان کے پیچھے ہیں امید ہے کہ وہ نصیحت حاصل کریں گے۔

اِنَّ شَرَّالدَّ وَآبِّ عِنْدَاللّٰہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَھُمْ لَایُؤْمِنُوْنَ ۔ ج اَلَّذِیْنَ عٰھَدْتَّ مِنْھُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَھُمْ فِیْ کُلِّ مَرَّۃٍ وَّھُمْ لَایَتَّقُوْنَ ۔ فَاِمَّا تَثْقَفَنَّھُمْ فِیْ الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِھِمْ مَّنْ خَلْفَھُمْ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ ۔ ( الانفال : 55 تا 57) (بےشک سب جانداروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ لوگ ہیں جنھوں نے حق کو ماننے سے انکار کردیا پھر وہ کسی طرح ایمان نہیں لاتے۔ (خصوصاً ان میں سے وہ لوگ) جن سے آپ نے معاہدہ کیا ہے پھر وہ ہر مرتبہ اس معاہدے کو توڑ دیتے ہیں اور وہ بالکل نہیں ڈرتے۔ سو اگر آپ پائیں انھیں لڑائی میں تو انھیں ایسی مار ماریں کہ تتر بتر ہوجائیں وہ لوگ جو ان کے پیچھے ہیں امید ہے کہ وہ نصیحت حاصل کریں گے ) شَرَّالدَّ وَآبِّکامفہوم دَ وَآبٌّ، دابّۃٌ کی جمع ہے۔ اس کا لغوی معنی ” زمین پر چلنے پھرنے والا جاندار “ ہے۔ اس لحاظ سے اس میں حیوانات بھی شامل ہیں اور انسان بھی۔ لیکن بالعموم اس کا اطلاق حیوانات پر ہوتا ہے۔ اللہ کی مخلوق ہونے کے اعتبار سے تمام جاندار برابر ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی صلاحیتوں اور ان کی زندگی کے مقاصد کے حوالے سے بعض مخلوقات کو دوسری مخلوقات پر فوقیت دی ہے۔ اس لیے یہ بات کہی جاتی ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے اسے سوچنے سمجھنے، غور وفکر کرنے اور اس کے نتیجے میں صحیح بات تک پہنچنے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے جبکہ حیوانات اور حشرات الارض وغیرہ اس صلاحیت سے محروم ہیں۔ حیوانات کو جن مقاصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے اس کے لیے حواس کی راہنمائی کافی ہے۔ انھیں غور و فکر کرنے اور سوچنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تمام حیوانات کو انسان کی تحویل میں دیا گیا ہے۔ وہ اپنی اپنی حیثیت میں انسان کی چاکری کر رہے ہیں اور اس چاکری کے لیے غور وفکر کی نہیں مکمل اطاعت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے ہر حیوان کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ زود یابدیر اپنے مالک کی اطاعت کے خوگر ہوجاتے ہیں۔ لیکن انسان کو جس قسم کی زندگی اور زندگی کے مقاصد عطا کیے گئے ہیں، ان کی قبولیت اور ادائیگی کے لیے انسان کو غور وفکر کی صلاحیت یعنی عقل اور ضمیر کا نور عطا کیا گیا ہے۔ حیوان سے اس کا مالک جو کام بھی لینا چاہتا ہے، وہ بالجبر اور طاقت کے زور سے لے لیتا ہے۔ لیکن انسان کوفی الجملہ آزادی دی گئی ہے کہ وہ جو بھی فیصلہ کرے آزادی سے اور سوچ سمجھ کر کرے۔ اس لحاظ سے آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ انسان اور حیوان میں بنیادی فرق سوچنے اور غور وفکر کرنے کا ہے۔ لیکن اگر کوئی انسان اپنی زندگی کا مقصدکھانا، پینا اور اپنی خواہشات کو پورا کرنا بنالے اور انسانی اقدار اور انسانی مقاصد پر غور و فکر کرنے کے لیے کبھی تیا رنہ ہو تو اس میں اور حیوان میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ زندگی کی بقا کے لیے جس طرح کی ضرورتیں انسان کو لاحق ہیں یعنی اسے غذا چاہیے، آرام چاہیے، گھر کی چھت چاہیے اور اپنے ارادے کے مطابق زندگی گزارنے کی صلاحیت چاہیے۔ یہی بنیادی چیزیں کم وبیش معیار کے فرق کے ساتھ حیوانوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ وہ بھی کھاتے پیتے ہیں، موسم کی شدت سے بچتے ہیں، مکان کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ایک بھٹ بنا لیتے ہیں۔ انسان اپنی ضرورتیں بہتر اور خوبصورت انداز میں پوری کرتا ہے اور حیوان نہائیت سادگی کے ساتھ۔ انسان ایک سادہ چیز کو اپنی ذہانت سے کچھ سے کچھ شکل دے لیتا ہے اور لطف ولذت میں اسے کہیں کا کہیں پہنچا دیتا ہے۔ حیوان ان باتوں سے محروم ہے، لیکن بنیادی ضرورتیں وہ بھی بہرحال پوری کرتا ہے۔ اگر انسان اسی حد تک محدود رہتا تو یقینا حیوان میں اور اس میں کوئی فرق نہ ہوتا۔ وہ انسانیت کی صف میں اس وقت شامل ہوتا ہے جب وہ اپنی عقل کو استعمال کرتا ہے اور عقل سے کام لے کر ان صداقتوں کو قبول کرلیتا ہے جن کا عقل سلیم مطالبہ کرتی ہے اور زندگی کی ان وادیوں میں جہاں عقل کام نہیں دیتی وہ وحی الہٰی کو قبول کرلیتا ہے کیونکہ اس کی عقل یہ تسلیم کرتی ہے کہ ہماری زندگی جن دوائر میں پھیلی ہوئی ہے ان کا تعلق صرف محسوسات اور معقولات تک ختم نہیں ہوجاتا بلکہ ہماری زندگی کے رشتے مابعد الطبیعات سے بھی ہیں اور عالم غیب سے بھی۔ اس آیت میں پروردگار اس بنیادی حقیقت کی طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ کافر جب پیغمبر کی دعوت پر کان نہیں دھرتا جبکہ پیغمبر کی دعوت عقل کا تقاضا ہے اور اس کی دعوت کی ہر بات عقل اور فطرت کے ترازو میں تل کر نکلتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے سوچنے سمجھتے اور غور و فکر کرنے سے انکار کردیا ہے اور یہ ایک ایسا رویہ ہے جو حیوان کا تو ہوسکتا ہے انسان کا نہیں ہوسکتا۔ اگر معاملہ یہیں تک ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں۔ لیکن یہاں تو معاملہ اس سے ایک قدم آگے ہے۔ حیوان کا مالک انسان ہے اور جس انسان کے تصرف میں جس حیوان کو بھی دیا گیا ہے، آپ کبھی نہیں دیکھیں گے کہ اس حیوان نے اپنے مالک کو پہچاننے میں غلطی کی ہو یا اس کی اطاعت کرنے سے اس نے انکار کیا ہو۔ باربرداری کے جانور اپنے مالک کے لیے باربرداری کا فرض انجام دیتے ہیں۔ سواری کے جانور اپنے مالک کا بوجھ اٹھانے سے کبھی انکار نہیں کرتے۔ ہل جوتنے والے اور فصل کاشت کرنے والے بیل کبھی اس خدمت سے پہلو تہی نہیں کرتے۔ لیکن انسان کو جن مقاصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے، ان مقاصد سے اس کا انحراف جب خطرناک حدود کو چھونے لگتا ہے تو تب اللہ کے نبی تشریف لاتے ہیں اور اللہ کی جانب سے کتابیں اترتی ہیں۔ لیکن جو شخص اللہ کے نبی کی بات کو سننے اور اللہ کی کتاب کو پڑھنے سے انکار کردے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حیوانیت کی سطح سے بھی گرگیا ہے کیونکہ اگر اس میں حیوانیت بھی بدرجہ کمال ہوتی تو وہ اپنے مالک، محسن اور مربی کی پہچان میں کبھی غلطی نہ کرتا۔ وہ اپنے رزق دینے والے کو ضرور پہچانتا اور یہی بنیادی باتیں اسے اللہ کے نبی کے دین کو قبول کرنے پر آمادہ کردیتیں۔ لیکن جو شخص ان باتوں کو قبول کرنا تو دور کی بات ہے اللہ کے نبی کی دشمنی پر تل جاتا ہے اور وہ ہر قیمت پر اس کی دعوت کا راستہ روکنا چاہتا ہے۔ تو ایسے شخص کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ ایسا شخص بدترینِ خلائق ہے کیونکہ انسان کا اشرف المخلوقات ہونا اس سبب سے نہیں ہے کہ اسے کوئی سرخاب کے پر لگے ہیں یا وہ بڑی سے بڑی مخلوق سے زیادہ طاقتور ہے یا اس کے جسم میں دوسری مخلوقات کی نسبت کوئی غیر معمولی چیز پائی جاتی ہے۔ اس کے اشرف ہونے کی تو ایک ہی وجہ ہے کہ وہ اپنے مقاصدِ حیات کی بجاآوری اور اس کے لیے محنت اور قربانی کرنے میں سب سے عظیم واقع ہوا ہے۔ لیکن اگر وہ پست ترین مقاصد کا شکا رہوکر حیوانیت کی سطح پر اتر جاتا ہے تو وہ یقینا اپنی شرافت کھو دیتا ہے۔ جگر نے بالکل ٹھیک کہا : گرے اگر تو بس ایک مشت خاک ہے انساں بڑھے تو وسعت کونین میں سما نہ سکے انسان جب راہ راست اختیار کرتا ہے تو وہ اقدارِ انسانی اور مکارمِ اخلاق کو اپنے عمل کی صورت میں اس طرح پیش کرتا ہے کہ فرشتے اس کے دامن میں نماز پڑھنا فخر محسوس کرتے ہیں۔ وہ ظلم کا راستہ روکنے کے لیے بڑے سے بڑے ظالم سے ٹکرا جاتا ہے۔ اپنا پیٹ کاٹ کر دوسروں کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ خود چیتھڑوں میں لپٹ کر دوسروں کی تن پوشی کا سامان کرتا ہے۔ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے سر کٹوانا اور خون بہانا اپنے لیے باعث اعزاز سمجھتا ہے۔ لیکن جب وہ بگڑتا ہے اور حیوانیت کی سطح پر اترتا ہے تو اس کا ظلم درندوں کی درندگی کو شکست دے دیتا ہے۔ اس کا دجل و فریب لومڑی کی مکاری کو ماند کردیتا ہے۔ بھیڑیا ظلم کی ایک مثال سمجھا جاتا ہے، لیکن آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ بھیڑیوں نے مل کر کوئی فوج تیار کی ہو تاکہ وہ انسانوں کی بستیاں اجاڑیں۔ چیتا بڑا ظالم جانور ہے لیکن اس کا ظلم ایک انسان کا خون پی کر اپنی نیند سو جاتا ہے۔ لیکن انسان جب درندگی پر اترتا ہے تو وہ ایسے تباہ کن آلات تیار کرتا ہے جن سے وہ ایک لمحے میں آباد اور بستے ہوئے شہروں کو جہنم میں تبدیل کردیتا ہے۔ انسان کا بنایا ہوا ایک بم ایک لمحے میں شہروں کو صفحہ ہستی سے غائب کرسکتا ہے۔ کل تک ہیروشیما اور ناگاسا کی ایسے ہی انسانی کمالات کی بولتی ہوئی مثالیں تھیں لیکن آج کے مہذب انسان کو اگر اس کے اصل روپ میں دیکھنا ہو تو عراق، افغانستان، چیچینیا، کشمیر اور فلسطین میں دیکھ لیجئے۔ کہنا صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جو لوگ اللہ کو اپنا خالق ومالک ماننے اور نبی کی دعوت پر ایمان لانے سے انکار کرتے ہیں وہ صرف حیوان ہی نہیں بلکہ حیوانوں سے بھی بدتر ہیں “۔ شَرَّالدَّ وَآبِّ کی ایک مثال دوسری آیت کریمہ میں ایسے انسان جو حیوانوں سے بھی بدتر ہیں ان کی ایک مثال دی ہے۔ نام اگرچہ نہیں لیا گیا لیکن آنحضرت ﷺ کی معاصر تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس سے مراد مدینہ کے یہود اور گردوپیش کے وہ قبائل ہیں جن سے آنحضرت ﷺ نے بقائے باہمی کے معاہدے کیے تھے۔ آپ نے مدینہ طیبہ پہنچ کر مسلمانوں کی معاشرت کی ابتدا کرتے ہوئے ان میں مواخات قائم فرمائی اور مدینہ کے ماحول کو پرامن رکھنے کے لیے آپ نے یہود اور باہر کے قبیلوں سے ایک معاہدہ کیا جسے ” میثاقِ مدینہ “ کہتے تھے۔ اس میثاق کی رو سے یہود اور پڑوسی قبائل اس بات کے پابند تھے کہ وہ مسلمانوں کے دشمن کی مدد نہ کریں اور مدینہ پر حملہ کی صورت میں مدینہ کے دفاع کے لیے مسلمانوں کی مدد کریں۔ لیکن ان کی حیوانیت کا عالم یہ ہے کہ جب بھی انھیں موقعہ ملتاتو وہ معاہدے کی پرواہ کیے بغیر قریش کی درپردہ مدد کرنے کی کوشش کرتے۔ قریش کو مسلمانوں کے حالات کے بارے میں اطلاعات دیتے رہتے بلکہ بنو نضیر کا سردار کعب بن اشرف تو وقتاً فوقتاً قریش کو اکساتا رہتا۔ جنگ بدر میں جب قریش کو رسوا کن ہزیمت سے رسو اہونا پڑاتو قریش پر جو مصیبت گزری سو گزری کعب بن اشرف نے ان سے بڑھ کر محسوس کیا اور بےساختہ پکا راٹھا کہ ” اب زمین کی سطح سے زمین کا پیٹ ہمارے لیے بہتر ہے “ یعنی اب زندگی میں کوئی مزہ نہیں اس زندگی سے تو موت بہتر ہے۔ چناچہ وہ اپنے ساتھیوں کو ساتھ لے کر مکہ معظمہ گیا وہاں قریش کے مقتولین کے مرثیے کہے اور ان کو اپنے مقتولین کا قصاص لینے کے لیے بہت شدت سے اکسایا۔ ان کی اس معاہدہ شکنی کی مثال دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یوں تو تمام کافر بھی اپنے رویے کی وجہ سے بدترینِ خلائق ہیں لیکن خصوصاً یہود اور وہ قبائل جو عہد شکنی میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے وہ تو یقینا حیوانوں سے بھی گئے گزرے ہیں کیونکہ کافروں میں بھی کچھ نہ کچھ اخلاقی اصول تھے۔ انھیں میں سے یہ بات عربوں میں ہمیشہ مسلّم رہی کہ وہ عہد شکنی کو بہت بڑا عیب سمجھتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ قبائل کی زندگی میں عہد کی پابندی ایک بہت بڑا سہارا ہے اور اگر یہ سہار اٹوٹ گیا تو اس کا انجام بہت خطرناک ہوگا۔ لیکن مسلمانوں کے ساتھ عہد شکنی کرتے ہوئے انھیں کسی بات کی پرواہ نہیں تھی۔ اہل کتاب ہونے کے باجود نہ آخرت کا خوف تھا اور عرب میں رہنے کے باوجود نہ عہد شکنی کے انجام کی پرواہ تھی۔ ایسے لوگ ظاہر ہے اس قابل نہیں ہیں کہ ان سے کوئی بھی رعایت کی جائے اس لیے تیسری آیت کریمہ میں ان کے ساتھ سختی کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہود کی تاریخ یہ ہے کہ ان سے بڑھ کر سازشی قوم روئے زمین پر کوئی نہیں۔ کہیں بھی حق اور صداقت کے خلاف کوئی سازش ہو تحقیق سے معلوم ہوگا کہ اس کے پیچھے ڈور ہلانے والے یہود تھے۔ دنیا میں جتنے بھی بڑے بڑے فتنے اٹھے ہیں آپ تحقیق کرکے دیکھ لیجئے ہر جگہ آپ کو فتنے کا تانا بانا تیار کرنے والاہمیشہ یہودی ذہن نظر آئے گا۔ فتنے اٹھانا اور سازش کرنا اس میں کوئی قوم ان کی ہمسر نہیں لیکن جہاں تک میدان میں آکر جرأت اور بہادری سے مقابلہ کرنے کا تعلق ہے اس لحاظ سے وہ نہایت بزدل واقع ہوئے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں یہی فرمایا جارہا ہے کہ یہود خود کھل کر تمہارے مقابلے میں نہیں آئیں گے۔ البتہ ! یہ ممکن ہے کہ کسی دوسرے گروہ کے ساتھ مل کر یا اس کے پردے میں مسلمانوں سے دشمنی کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔ اگر ایسا ہو تو پھر آپ لوگوں کو بھی اس بات کی ہرگز پرواہ نہیں کرنی چاہیے کہ آپ کے اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ ہے کیونکہ معاہدے کی پابندی اس وقت ضروری ہوتی ہے، جب دونوں فریق اس کی پابندی کریں اور اگر ایک فریق معاہدے کی پرواہ نہیں کرتا تو دوسرے فریق کو بھی اجازت ہے کہ وہ اس معاہدہ شکنی کی دوسرے فریق کو سزا دے۔ چناچہ یہاں یہی فرمایا جارہا ہے کہ اگر آپ یہود کے کچھ افراد کو دوسروں کی مدد کرتے ہوئے ان کی تائید میں لڑتا ہوا پالیں تو آپ ان کا وہ حشر کریں اور ایسی مار ماریں کہ نہ صرف ان کا دماغ درست ہوجائے بلکہ جو ان کے پشت پناہ ہیں اور پیچھے بیٹھ کر ڈوریاں ہلا رہے ہیں ان کے حواس بھی ٹھکانے لگ جائیں۔ یَذَّکَّرُوْنَ کے دو مفہوم لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ آپ ان پر ایسا زور دار حملہ کیجئے اور ایسی کڑی سزا دیجئے کہ ان کے حواس درست ہوجائیں اور وہ آئندہ کے لیے عہد شکنی کی کبھی جرأت نہ کریں اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ ممکن ہے وہ نصیحت قبول کرلیں۔ یعنی ایک طرف تو آپ ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کریں لیکن ساتھ ہی اگر کبھی ایسا موقعہ مل جائے کہ آپ انھیں نصیحت کرسکتے ہوں تو یہ سوچ کر نصیحت کرنے سے احتراز نہ کریں کہ یہ تو مسلمانوں کے چھپے دشمن ہیں اور ہمیشہ مسلمانوں کے درپے رہتے ہیں اس لیے انھیں نصیحت کرنے کا کیا فائدہ۔ دل و دماغ اللہ کے قبضے میں ہیں وہ جس طرح بعض انسانوں کے برے اعمال اور حق دشمنی کے باعث ان کی حق سے محرومی کا فیصلہ کردیتا ہے۔ اسی طرح بدترین کافر بھی دین کی طرف رغبت کے باعث اللہ سے رحمت کی امید کرسکتا ہے اور ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایمان کا فیصلہ فرمادیں۔ اس لیے ایک داعی الی اللہ کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی تبلیغ اور سمجھانے بجھانے کے سلسلے کو کبھی ختم نہ کرے۔ نہ جانے کس وقت کس کی قسمت سنور جائے۔
Ayah 8:58

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ Open ayah 8:58 in the Quran reader

اگر آپ کو کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو پھینک دیجئے ان کی طرف کا عہد اس طرح کہ آپ اور وہ برابر ہوجائو، یقینا اللہ تعالیٰ خائنوں کو پسند نہیں کرتا۔

وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَۃً فَانْبِذْاِلَیْھِمْ عَلٰی سَوَآئٍ ط اِنَّ اللّٰہَ لَایُحِبُّ الْخَائِنِیْنَ ۔ ع (اگر آپ کو کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو پھینک دیجئے ان کی طرف ان کا عہد اس طرح کہ آپ اور وہ برابر ہوجاؤ، یقینا اللہ تعالیٰ خائنوں کو پسند نہیں کرتا۔ ) (الانفال : 58) اس آیت کی تفسیر میں صاحب تفہیم القرآن نے جو کچھ لکھا ہے وہ اس قابل ہے کہ اسے یہاں نقل کیا جائے۔ معاہدات سے متعلق ضروری ہدایات اس آیت کی رو سے ہمارے لیے یہ کسی طرح جائز نہیں ہے کہ اگر کسی شخص یا گروہ یا ملک سے ہمار امعاہدہ ہو اور ہمیں اس کے طرز عمل سے یہ شکایت لاحق ہوجائے کہ وہ عہد کی پابندی میں کوتاہی برت رہا ہے یا یہ اندیشہ پیدا ہوجائے کہ وہ موقع پاتے ہی ہمارے ساتھ غداری کربیٹھے گا تو ہم اپنی جگہ خود فیصلہ کرلیں کہ ہمارے اور اس کے درمیان معاہدہ نہیں رہا اور یکایک اس کے ساتھ وہ طرز عمل اختیار کرنا شروع کردیں جو معاہدہ نہ ہونے کی صورت ہی میں کیا جاسکتا ہو۔ اس کے برعکس ہمیں اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ جب ایسی صورت پیش آئے تو ہم کوئی مخالفانہ کارروائی کرنے سے پہلے فریقِ ثانی کو صاف صاف بتادیں کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اب معاہدہ باقی نہیں رہا تاکہ فسخ معاہدہ کا جیسا علم ہم کو حاصل ہے ویسا ہی اس کو بھی ہوجائے اور وہ اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ معاہدہ اب بھی باقی ہے۔ اسی فرمان الٰہی کے مطابق نبی ﷺ نے اسلام کی بین الاقوامی پالیسی کا یہ مستقل اصول قرار دیا تھا کہ : من کان بینہ وبین قوم عہد فلا یحلن عقدہ حتی ینقضی امدھا اوینبذ الیھم علی سواء ” جس کا کسی قوم سے معاہدہ ہو اسے چاہیے کہ معاہدہ کی مدت ختم ہونے سے پہلے عہد کا بند نہ کھولے۔ یا نہیں تو ان کا عہد برابری کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کی طرف پھینک دے۔ “ پھر اسی قاعدے کو آپ نے اور زیادہ پھیلا کر تمام معاملات میں عام اصول یہ قائم کیا تھا کہ لاتخن من خانک ” جو تجھ سے خیانت کرے تو اس سے خیانت نہ کر “ اور یہ اصول صرف وعظوں میں بیان کرنے اور کتابوں کی زینت بننے کے لیے نہ تھا بلکہ عملی زندگی میں بھی اس کی پابندی کی جاتی تھی۔ چناچہ ایک مرتبہ جب امیر معاویہ نے اپنے عہد بادشاہی میں سرحد روم پر فوجوں کا اجتماع اس غرض سے کرنا شروع کردیا کہ معاہدہ کی مدت ختم ہوتے ہی یکایک رومی علاقہ پر حملہ کردیا جائے تو ان کی کارروائی پر عمروبن عَنْبَسَہ صحابی ( رض) نے سخت احتجاج کیا اور نبی کریم ﷺ کی یہی حدیث سنا کر کہا کہ معاہدہ کی مدت کے اندر یہ معاندانہ طرز عمل اختیار کرنا غداری ہے۔ آخرکار امیر معاویہ کو اس اصول کے آگے سر جھکادینا پڑا اور سرحد پر اجتماعِ فوج کو روک دیا گیا۔ یک طرفہ فسخِ معاہدہ اور اعلانِ جنگ کے بغیر حملہ کردینے کا طریقہ قدیم جاہلیت میں بھی تھا اور زمانہ حال کی مہذب جاہلیت میں بھی اس کا رواج موجود ہے۔ چناچہ اس کی تازہ ترین مثالیں جنگ عظیم میں روس پر جرمنی کے حملے اور ایران کے خلاف روس و برطانیہ کی فوجی کارروائی میں دیکھی گئی ہیں۔ عموماً اس کارروائی کے لیے یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ حملہ سے پہلے مطلع کردینے سے دوسرا فریق ہوشیار ہوجاتا اور سخت مقابلہ کرتایا اگر ہم مداخلت نہ کرتے تو ہمارا دشمن فائدہ اٹھالیتا۔ لیکن اس قسم کے بہانے اگر اخلاقی ذمہ داریوں کو ساقط کردینے کے لیے کافی ہوں تو پھر کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جو کسی نہ کسی بہانے نہ کیا جاسکتا ہو۔ ہر چور، ہر ڈاکو، ہر زانی، ہر قاتل، ہر جعل ساز اپنے جرائم کے لیے ایسی ہی کوئی مصلحت بیان کرسکتا ہے۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ یہ لوگ بین الاقوامی سوسائٹی میں قوموں کے لیے ان بہت سے افعال کو جائز سمجھتے ہیں جو خود ان کی نگاہ میں حرام ہیں جب کہ ان کا ارتکاب قومی سوسائٹی میں افراد کی جانب سے ہو۔ اس موقع پر یہ جان لینا بہت ضروری ہے کہ اسلامی قانون صرف ایک صورت میں بلا اطلاع حملہ کرنے کو جائزرکھتا ہے اور وہ صورت یہ ہے کہ فریقِ ثانی علی الاعلان معاہدہ توڑ چکا ہو اور اس نے صریح طور پر ہمارے خلاف معاندانہ کارروائی کی ہو۔ ایسی صورت میں یہ ضروری نہیں رہتا کہ ہم اسے آیت مذکورہ بالا کے مطابق فسخ معاہدہ کا نوٹس دیں بلکہ ہمیں اس کے خلاف بلا اطلاع جنگی کارروائی کرنے کا حق حاصل ہوجاتا ہے۔ فقہائے اسلام نے یہ استثنائی حکم نبی کریم ﷺ کے اس فعل سے نکالا ہے کہ قریش نے جب بنی خزاعہ کے معاملہ میں صلح حدیبیہ کو اعلانیہ توڑ دیا تو آپ نے پھر انھیں فسخ معاہدہ کا نوٹس دینے کی کوئی ضرورت نہ سمجھی بلکہ بلا اطلاع مکہ پر چڑھائی کردی۔ لیکن اگر کسی موقع پر ہم اس قاعدہ استثناء سے فائدہ اٹھانا چاہیں تو لازم ہے کہ وہ تمام حالات ہمارے پیش نظر رہیں جن میں نبی ﷺ نے یہ کارروائی کی تھی تاکہ پیروی ہو تو آپ کے پورے طرز عمل کی ہو نہ کہ اس کے کسی ایک مفید مطلب جز کی۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں سے جو کچھ ثابت ہے وہ یہ کہ : اولاً ، قریش کی خلاف ورزی عہد ایسی صریح تھی کہ اس کے نقض عہد ہونے میں کسی کلام کا موقع نہ تھا خود قریش کے لوگ بھی اس کے معترف تھے کہ واقعی معاہدہ ٹوٹ گیا ہے۔ انھوں نے خو دابوسفیان کو تجدیدِ عہد کے لیے مدینہ بھیجا تھا جس کے صاف معنی یہی تھے کہ ان کے نزدیک بھی عہد باقی نہیں رہا تھا۔ تاہم یہ ضروری نہیں ہے کہ ناقض عہد قوم کو بھی اپنے نقض عہد کا اعتراف ہو۔ البتہ ! یہ یقینا ضروری ہے کہ نقض عہد بالکل صریح اور غیر مشتبہ ہو۔ ثانیاً ، نبی ﷺ نے ان کی طرف سے عہد ٹوٹ جانے کے بعد پھر اپنی طرف سے صراحتہً یا اشارۃً وکنایۃً ایسی کوئی بات نہیں کی جس سے یہ ایماء نکلتا ہو کہ اس بدعہدی کے باوجود آپ ابھی تک ان کو ایک معاہد قوم سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ آپ کے معاہدانہ روابط اب بھی قائم ہیں۔ تمام روایات بالاتفاق یہ بتاتی ہیں کہ جب ابوسفیان نے مدینہ آکر تجدید معاہدہ کی درخواست پیش کی تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا۔ ثالثاً ، قریش کے خلاف جنگی کارروائی آپ نے خود کی اور کھلم کھلا کی۔ کسی ایسی فریب کاری کا شائبہ تک آپ کے طرز عمل میں نہیں پایا جاتا کہ آپ نے بظاہر صلح اور بباطن جنگ کا کوئی طریقہ استعمال فرمایا ہو۔ یہ اس معاملہ میں نبی کریم ﷺ کا اسوہ حسنہ ہے، لہٰذا آیت مذکورہ بالا کے حکم عام سے ہٹ کر اگر کوئی کارروائی کی جاسکتی ہے تو ایسے ہی مخصوص حالات میں کی جاسکتی ہے اور اسی سیدھے سیدھے شریفانہ طریقہ سے کی جاسکتی ہے جو حضور نے اختیار فرمایا تھا۔ مزید برآں اگر کسی معاہد قوم سے کسی معاملہ میں ہماری نزاع ہوجائے اور ہم دیکھیں کہ گفت و شنید یا بین الاقوامی ثالثی کے ذریعہ سے وہ نزاع طے نہیں ہوتی یا یہ کہ فریقِ ثانی اس کو بزورطے کرنے پر تلا ہوا ہے تو ہمارے لیے یہ بالکل جائز ہے کہ ہم اس کو طے کرنے میں طاقت استعمال کریں۔ لیکن آیت مذکورہ بالا ہم پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ ہمارا یہ استعمالِ طاقت صاف صاف اعلان کے بعد ہونا چاہیے اور کھلم کھلا ہونا چاہیے، چوری چھپے ایسی جنگی کارروائیاں کرنا جن کا اعلانیہ اقرار کرنے کے لیے ہم تیار نہ ہوں ایک بداخلاقی ہے جس کی تعلیم اسلام نے ہم کو نہیں دی ہے۔
Ayah 8:59

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ Open ayah 8:59 in the Quran reader

اور گمان نہ کریں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہے کہ وہ نکل بھاگیں گے، وہ ہمارے قابو سے باہر نہیں جاسکیں گے۔

وَلَایَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَبَقُوْاطاِنَّھُمْ لَایُعْجِزُوْنَ ۔ (الانفال : 59) (اور گمان نہ کریں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہے کہ وہ نکل بھاگیں گے، وہ ہمارے قابو سے باہر نہیں جاسکیں گے۔ ) دشمنانِ اسلام کو وارننگ جنگ بدر میں جو لوگ بچ کر نکل گئے وہ بجائے نصیحت حاصل کرنے کے آئندہ کے لیے اسلام کے خلاف مزید منصوبہ بندیوں میں مصروف ہوگئے۔ قافلہ تجارت کے منافع کو اسلام اور مسلمانوں کے استیصال میں صرف کرنے کے فیصلے ہونے لگے۔ یہود نے اس آگ میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے قریش کے حوصلے بڑھائے اور انھیں یقین دلایا کہ تم نے جلد بازی میں مکمل تیاری کیے بغیر لڑائی کا ڈول ڈال دیا۔ لیکن اس لڑائی کو آخری لڑائی مت سمجھو۔ ابھی تو آغاز ہوا ہے مستقبل تمہارا ہے۔ جو لوگ بچ کر آگئے ہیں وہ مسلمانوں کی تباہی کا باعث بنیں گے۔ اللہ تعالیٰ قریش اور دوسرے دشمنانِ دین کو تنبیہ کرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ (یہ لوگ یہ گمان نہ کریں کہ وہ ہم سے بچ کر نکل گئے ہیں اور آئندہ وہ ہمارے قابو میں نہیں آئیں گے) انھیں اللہ کی بےپناہ قدرتوں کا علم نہیں۔ انھیں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ اب وہ ہماری گرفت میں نہیں آسکتے۔ جو لوگ جنگ بدر میں بچ کر نکلے تھے انھیں بچ نکلنے کا موقع اس لیے دیا گیا تاکہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر راہ ہدایت اختیار کریں۔ یہ مہلت ان کے لیے رحمت ثابت ہوسکتی ہے بشرطیکہ اسلام کی آغوش میں آجائیں ورنہ یہی مہلت ان کے جرائم کو بڑھانے اور فائل کو موٹا کرنے میں موثر ہوگی اس کے بعد جب اللہ کی گرفت آئے گی تو پھر ان کے لیے بھاگ نکلنے کا کوئی موقع نہیں ہوگا۔ انھم لایعجزون …اعجزہ الصید کے معنی ہیں فاتہ ولم یقدر علیہ ” شکار قابو سے باہر نکل گیا، پکڑا نہ جاسکا “۔ یہ لوگ ایسا شکار نہیں جو اللہ کے ہاتھ سے نکل گیا ہوا اور اب وہ قابو میں نہیں آسکتا کیونکہ اللہ کی قدرت اور طاقت اس قدر عظیم ہے کہ وہ جب کسی کو پکڑنے پر آتا ہے تو اس کے بچ نکلنے کے تمام امکانات ختم ہوجاتے ہیں اور جب اسے بچ نکلنے کا موقع ملتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ابھی مزید سنبھلنے کا موقع دے رہا ہے۔ پکڑ نے میں جلد بازی کرنا کمزور حکمرانوں کا کام ہے۔ وہ اپنی کمزوری کے باعث خدشات کا شکا ررہتے ہیں، لیکن طاقتور حکمران مجرموں کو پکڑنے میں جلدی نہیں کرتے انھیں یقین ہوتا ہے کہ جب چاہیں گے پکڑ لیں گے۔
Ayah 8:60

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

اور تیار کرو ان سے لڑائی کے لیے جتنی طاقت رکھتے ہو قوت سے بندھے ہوئے گھوڑوں سے، ہیبت زدہ کردو اس سے اللہ کے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو اور ان کے علاوہ دوسروں کو بھی جنھیں تم نہیں جانتے اللہ انھیں جانتا ہے اور جو کچھ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا کردیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

وَ اَعِدُّوْ لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْھِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّااللّٰہِ وَعَدُوَّکُمْ وَاٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِھِمْ ج لاَ تَعْلَمُوْنَھُمْج اَللّٰہُ یَعْلَمُھُمْط وَمَاتُنْفِقُوْا مِنْ شَیْئٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یُوَفَّ اِلَیْکُمْ وَاَنْتُمْ لَاتُظْلَمُوْنَ ۔ (الانفال : 60) (اور تیار کرو ان سے لڑائی کے لیے جتنی طاقت رکھتے ہو قوت سے اور بندھے ہوئے گھوڑوں سے، ہیبت زدہ کردو اس سے اللہ کے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو اور ان کے علاوہ دوسروں کو بھی جنھیں تم نہیں جانتے اللہ انھیں جانتا ہے اور جو کچھ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا کردیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ ) قوت اور رباط کا مفہوم ” قوت “ قرآن کریم کی زبان میں فوج اور افرادی قوت کو بھی کہتے ہیں اور اسلحہ جنگ کو بھی۔” رباط “ مصدری معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور مربوط کے معنی میں بھی۔ مصدر کی صورت میں اس کے معنی ہوں گے ” گھوڑے باندھنا “ اور مفعول کی صورت میں اس کے معنی ہوں گے ” بندھے ہوئے گھوڑے “۔ ما استطعتم ” جتنی تم میں طاقت ہے “۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں پر اب جس تیاری کو لازم کیا جارہا ہے اس سے مراد مقدور بھر تیاری ہے۔ ملکی وسائل، ملکی حالات اور ملکی آبادی کو سامنے رکھتے ہوئے ملک کے دفاع کے لیے جو کچھ بھی کیا جانا ممکن ہو ہر ملک کے مسلمان اس کے مکلف ہیں۔ اس میں تساہل اور غفلت کی اللہ کے یہاں جواب دہی کرنا ہوگی۔ میں اس سے پہلے عرض کرچکا ہوں کہ جنگ بدر کے بعد دشمن نے اپنی تیاریوں میں کہیں زیادہ اضافہ کردیا تھا اور ایسے دشمن جو یہ سمجھتے تھے کہ قریش تنہا مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے کافی ہیں وہ بھی قریش کی شکست سے بجائے ہراساں ہونے کے مسلمانوں کے استیصال کے لیے اپنی ذمہ داریاں پہلے سے بڑھ کر محسوس کرنے لگے تھے اور مسلمانوں نے بھی دیکھ لیا کہ اب بات زبان سے گزر کر میدان اور اسلحہ جنگ تک پہنچ گئی ہے۔ اس صورتحال میں پروردگار نے مسلمانوں کو آئندہ کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تیاری کرنے کا حکم دیا ہے۔” وَ اَعِدُّوْ “ امر کا صیغہ ہے۔ جس طرح ” اقیموا “ امر کا صیغہ ہے۔ اقیموالصلوٰۃ سے نماز فرض ہوگئی، اسی طرح ” اَعِدُّوْ “ سے بھی مسلمانوں پر اتنی تیاری فرض ہوگئی کہ جو ملکی دفاع کے لیے کافی ہو اور اس میں کوئی بھی کمزوری اللہ کے یہاں سخت جواب دہی کا باعث ہوگی۔ تیاری کے لیے ” قوت “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق قوت فراہم کرو۔ اس سے مراد فوج بھی ہوسکتی ہے اور اسلحہ جنگ بھی۔ اگر اس سے مراد فوج لی جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مسلمان عربوں کی طرح لڑائی کے وقت ہی اپنے پاس موجود اسلحہ اور گھوڑا لے کر نکلتے اور اسی سے لڑائی کا سامان تیار ہوتا۔ لیکن اب یہ فرمایا جارہا ہے کہ مسلمانوں کی اجتماعی قوت کی نمائندہ حکومت کو اس ذمہ داری کی ادائیگی خود اپنے ذمہ لینی چاہیے۔ مسلمان انفرادی طور پر مجاہد ہے اور اسے ہر وقت جہاد کی فکر رہتی ہے اور اس کے لیے مناسب تیاری بھی رکھتا ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دشمنوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے مقدور بھر جتنی افرادی قوت یعنی فوج مہیا کرسکتی ہے اس میں کوتاہی نہ کرے اور اس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ عین جنگ کے پیش آجانے کے وقت لوگوں کو نکلنے کا حکم نہ دیا جائے بلکہ مسلمان مملکت کی ایک سٹینڈنگ آرمی بھی ہونی چاہیے جو مختصر سے مختصر وقت میں میدانِ جنگ میں اتر سکتی ہو ورنہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ دشمن اچانک حملہ کردے اور مسلمان مجاہدین کے جمع ہونے تک وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچا کر راہ فرار اختیار کرے اور اگر اس سے مراد اسلحہ جنگ لیا جائے تو اس سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حکومت کو اپنی سطح پر زیادہ سے زیادہ اسلحہ مہیا رکھنا چاہیے۔ وَمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ کا ذکر نمونے کے طور پر کیا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں جنگ میں کامیابی کا زیادہ تر مدار بہتریں عربی گھوڑوں کی فراہمی پر تھا ہر گھوڑا لڑائی کے قابل نہیں ہوتا ایسے گھوڑے جو جنگ کی تربیت پاچکے ہوں وہ جنگ کی کامیابی میں سب سے موثر رول ادا کرتے ہیں۔ اس لیے کوئی عرب بہترین گھوڑے کی تیاری سے غافل نہیں ہوتا تھا۔ خوشحال لوگ بڑی تعداد میں قیمتی گھوڑے اپنے اصطبل میں رکھتے تھے۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ لوگ اپنے طور پر چاہے کیسا ہی اہتمام کریں حکومت کی ذمہ داری کے بغیر جنگی ضرورتیں پوری نہیں ہوسکتیں۔ اس لیے فرمایا کہ بندھے ہوئے گھوڑے یعنی بہترین تربیت یافتہ گھوڑے بڑی تعداد میں حکومت کی زیر نگرانی تیار رہنے چاہییں کیونکہ اسلحہ جنگ میں گھوڑا اس زمانے میں سب سے کارآمد سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اس زمانے کے اسلحہ جنگ میں بھی گھوڑے کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں شامل تھیں ایک ایسی چیز کا نام لے کر جو جنگ کے لیے ناگزیر تھی دوسری چیزوں کی طرف اشارہ کردیا کہ تلواریں، نیزے، شمشیریں، ڈھالیں، بہتر سے بہتر اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں مہیا ہونی چاہییں اور آنے والے دنوں میں نئی نئی ضرورتوں کے مطابق جو نیا نیا اسلحہ وجود میں آئے، اس کی ایک ایک چیز مسلمان کی ضرورت ہے جسے دینی فریضہ سمجھ کر اسے مہیا کرنا ہے۔ آج کے دور میں ٹینک، راکٹ، میزائل، ہیلی کاپٹر، جنگی جہاز، بحری جہاز، آبدوزیں، بم، حتی کہ ایٹم بم بھی جنگ کی ضرورت ہیں اور ان کی تیاری مسلمانوں کے دینی فرائض میں شامل ہے۔ ان میں کوتاہی اللہ کے یہاں بالکل اسی طرح ایک جرم ہے، جس طرح نماز نہ پڑھنا، زکوٰۃ نہ دینا، فرض ہوجانے کے بعد حج نہ کرنا۔ نبی کریم ﷺ نے اسی لیے اپنی مبارک زندگی میں ہمیشہ اس تیاری کا اہتمام فرمایا حالانکہ آپ اللہ کے نبی تھے فرشتے آپ کے ہمرکاب رہتے تھے، آپ کی دعائوں سے اللہ کی تائید ونصرت میسر ہوتی تھی۔ باایں ہمہ ! اپنی استطاعت کے مطابق نئے نئے آلات کی فراہمی کی بھی کوشش فرماتے تھے۔ جنگی تیاری آنحضرت ﷺ کی سنت ہے ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں ذکر کیا ہے کہ جنگ حنین میں طائف کے قلعوں پر سنگ باری کے لیے آنحضرت ﷺ نے اپنے ہاتھ سے منجنیق تیار فرمائی اور اپنے دو صحابہ کو شام کے مشہور صنعتی شہر ” حبرش “ میں جدید اسلحہ کی ٹیکنیک حاصل کرنے کے لیے بھیجا۔ اس لیے دونوں صحابہ جنگ حنین میں شرکت نہ کرسکے۔ اس وقت اس شہر میں زبور، دبابہ اور منجنیق کی صنعت عروج پر تھی۔ زبور اور دبابہ اس دور کے ٹینک سمجھ لیجئے۔ آپ نے ان دونوں صحابہ کو اس کی ٹیکنیک اور تیاری کے ضروری مراحل کی ٹریننگ حاصل کرنے کے لیے بھیجا تاکہ یہ اسلحہ یہاں آسانی سے تیار کیا جاسکے۔ اس سے پہلے بھی آنحضرت ﷺ نے حسب ضرورت نئی جنگی ٹیکنیک کو استعمال کرنے سے کبھی احتراز نہیں فرمایا۔ جنگ احزاب میں جب دیکھا کہ قریش ایک بہت بڑا لشکر لے کر مدینہ پر حملہ آور ہورہے ہیں اور مسلمانوں کی افرادی قوت اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تو آپ نے حضرت سلمان فارسی کے مشورے سے خندق کھود کر اور اس کے پیچھے مورچوں میں بیٹھ کر شہر کا دفاع کرنے کا فیصلہ فرمایا حالانکہ اس سے پہلے عرب اس طرح کی جنگ کے طریقے سے بالکل بیخبر تھے لیکن آپ نے اس کو نہ صرف اختیار کیا بلکہ اس کی تحسین بھی فرمائی۔ غزوہ ذات السلاسل 7 ہجری میں حضرت عمرو ابن العاص کی زیر قیادت ہوا۔ آپ نے اس جنگ میں تین راتوں تک آگ جلانے کی اجازت نہیں دی تاکہ دشمن کو مسلمانوں کی قلت تعداد کا علم نہ ہوسکے۔ یہ غالباً تاریخ کا پہلا ” Blackout “ ہے جو آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہواجب کہ دنیا میں کوئی بھی اس سے واقف نہیں تھا۔ آنحضرت ﷺ کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نہائیت خوش ہوئے اور حضرت عمروابن العاص کو دعادی۔ جنگی تیاری کا معیار تُرْھِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّااللّٰہِ وَعَدُوَّکُمْ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی جنگی تیاری کس سطح کی ہونی چاہیے۔ عام طور پر یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ مسلمانوں کو اپنی فوج اور اسلحہ جنگ کو اس حدتک ترقی دینی چاہیے کہ اس سے ملک کا دفاع ممکن ہوسکے۔ لیکن آیت کے اس حصے میں جو معیار مقرر کیا ہے وہ اس سے بہت آگے ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے پیش نظر صرف اپنے ملک کا دفا ع ہی نہیں بلکہ ان کی ـذمہ داری اس حد تک جنگی تیاری کرنا ہے اور اس کے لیے اسلحہ جنگ کو وجود دینا ہے جس سے دشمن خوف زدہ ہوجائے اور وہ حملہ کرنے سے پہلے سو دفعہ سوچے کہ جس ملک کی دفاعی قوت اس حد کو پہنچی ہوئی ہو اس پر حملہ کرنا موت کو دعوت دینا ہوگا۔ اور دشمن کے بارے میں بھی وضاحت فرمائی کہ دشمن کے تعین میں سب سے پہلے یہ دیکھو کہ اس کے ساتھ تمہاری دشمنی محض چند معاملات میں اختلاف کی وجہ سے ہے یا وہ اس وجہ سے تمہارا دشمن ہے کہ تم اللہ کے دین کی بات کیوں کرتے ہو۔ اللہ کی زمین پر اللہ کے قانون کو بالاتر کیوں بنانا چاہتے ہو ؟ ایسے لوگ یقینا دشمنی میں عام دشمنوں سے بہت بڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اگر وہ بھی خوف زدہ ہوجائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ واقعی مسلمانوں نے تیاری کا حق ادا کیا ہے۔ مزید فرمایا کہ ہم جو تمہیں بطور خاص مقدور بھر تیاری کا حکم دے رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہارے دشمن صرف وہی نہیں ہیں جنھیں تم جانتے ہو بلکہ ایسے لوگ بھی تمہارے دشمن ہیں جنھیں تم نہیں جانتے لیکن اللہ جانتا ہے۔ اس وقت مسلمانوں کے سامنے کھلا دشمن صرف قریش تھے کیونکہ وہ پہلے دن سے اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کا تہیہ کیے ہوئے تھے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن کی دشمنی ابھی پردے میں تھی اور وہ پردے میں رہ کر سازشوں اور ریشہ دوانیوں میں مصروف تھے۔ ان سے مراد یہود ہیں اور وہ قبائل بھی جن کے ساتھ آنحضرت ﷺ نے غیر جانبداری کا معاہدہ کررکھا تھا لیکن اب وہ بھی مسلمانوں کے خلاف پر تولنے لگے تھے۔ علاوہ ازیں ! مدینہ کے اندر اور مدینہ کے ہمسائے میں منافقین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، جو دشمنوں کو مدد پہنچانے کے لیے ہر وقت آمادہ رہتی تھی۔ قرآن کریم نے انھیں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ وَمِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَطوَمِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ قف مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ قفلَا تَعْلَمُھُمْ ط نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ط سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیْمٍ ۔ ج (توبہ : 101) (اور تمہارے اردگرد جو اعراب ہیں ان میں بہتیرے منافق ہیں اور اہل مدینہ میں بھی منافق ہیں یہ اپنے نفاق میں بڑے مشاق ہیں تم ان کو نہیں جانتے ہم ان کو جانتے ہیں ہم ان کو دو مرتبہ عذاب دیں گے پھر یہ ایک عظیم عذاب کی طرف دھکیلے جائیں گے۔ ) اندرونی دشمنوں کے علاوہ کچھ بیرونی دشمن بھی تھے جو ابھی تک پردہ اخفا میں تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ تو خوب جانتے تھے کہ وہ وقت دور نہیں جب مسلمانوں کا ان سے بھی تصادم ہوگا۔ ان میں رومی، غسانی اور ایرانی وغیرہ تھے۔ غسانیوں سے تو آنحضرت ﷺ کو بھی کسی حد تک سابقہ پڑا جنگ تبوک ایک طرح سے رومیوں ہی سے لڑی جانے والی جنگ تھی۔ لیکن قیصر نے سرحد پر نہ پہنچ کر اس جنگ کو ٹال دیا۔ اس طرح سے آنحضرت ﷺ کے زمانے میں قیصر سے تصادم نہیں ہوا لیکن خلافتِ راشدہ میں قیصر و کسریٰ دونوں بڑی قوتوں سے اس طرح تصادم ہوا کہ صدیوں کی جمی ہوئی ان قوتوں کو مسلمانوں نے ادھیڑ کر رکھ دیا۔ انفاق فی سبیل اللہ : وَمَاتُنْفِقُوْا مِنْ شَیْئٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : جنگ میں جس طرح فوج اور اسلحہ جنگ اپنا رول ادا کرتے ہیں اسی طرح مال کا بھی اپنا ایک رول ہے۔ فوج اخراجات پورے کیے بغیر تیار نہیں ہوسکتی اور اسلحہ کی تیاری یا خریداری تو سراسر مالی قوت پر منحصر ہے۔ کتنے ایسے جدید ہتھیار ہیں جنھیں بعض ملک اس لیے نہیں خرید سکتے کہ ان کے مالی حالات اس کی اجازت نہیں دیتے جبکہ آج کے دور میں ہر حکومت کے اپنے مستقل وسائل ہیں دفاعی بجٹ اکثر ممالک میں سب سے بڑا بجٹ ہوتا ہے۔ لیکن جب جنگ چھڑ جاتی ہے تو دفاعی بجٹ اور ملکی وسائل ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ پھر حکومت کی جانب سے قوم سے اپیلیں ہوتی ہیں کہ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق انفاق کرے تاکہ فوجی ضرورتیں پوری کی جاسکیں اور آیت کریمہ میں جس زمانے کی بات ہورہی ہے اس وقت تو مسلمانوں کے پاس اپنا بیت المال بھی نہیں تھا۔ اخراجات کا تمام تر بوجھ مسلمانوں کے جذبہ انفاق پر تھا۔ اس لیے جنگی تیاری کا حکم دینے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب دی اور ساتھ ہی ایک مژدہ بھی سنایا کہ ہمیں معلوم ہے کہ تم اپنا پیٹ کاٹ کر اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔ لیکن یہ اطمینان رکھو کہ تم جو کچھ اللہ کے راستے میں دوگے وہ پورے کا پورا تمہیں لوٹایاجائے گا۔ اللہ کے یہاں پائی پائی کا حساب ہوتا ہے بلکہ امید یہ ہے کہ جو اس کا قانون اعمال کے اجر وثواب کے سلسلے میں ہے کہ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا دیا جاتا ہے اور اخلاص میں ترقی کے ساتھ ساتھ اجروثواب میں بھی ترقی ہوتی جاتی ہے انفاق فی سبیل اللہ میں بھی یہی قانون کارفرما ہوگا اور اللہ کے راستے میں دینے والوں کو اسی حساب سے واپس کیا جائے گا۔
Ayahs 8:61–63

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی اس کے لیے جھک جائیے اور اللہ پر بھروسہ رکھئے۔ بیشک وہی ہے سننے والا جاننے والا۔

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینا چاہیں گے تو اللہ آپ کے لیے کافی ہے اور وہی ہے جس نے آپ کی تائید کی اپنی مدد سے اور مومنین کے ذریعے سے۔

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور ان کے دلوں میں ان کے لیے الفت ڈال دی اگر آپ سارا خرچ کردیتے جو کچھ زمین میں ہے تو بھی ان کے دلوں میں آپ محبت نہ ڈال سکتے لیکن اللہ نے ان کے درمیان الفت ڈال دی بیشک وہ غالب اور حکیم ہے۔

وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط اِنَّہٗ ھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ وَاِنْ یُّرِیْدُوْآاَنْ یَّخْدَعُوْکَ فَاِنَّ حَسْبَکَ اللّٰہُ ط ھُوَالَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَ ۔ لا وَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ ط لَوْاَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ اَلَّفَ بَیْنَھُمْ ط اِنَّہٗ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔ ( الانفال : 61 تا 63) (اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی اس کے لیے جھک جائیے اور اللہ پر بھروسہ رکھئے بیشک وہی ہے سننے والا جاننے والا۔ اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینا چاہیں گے تو اللہ آپ کے لیے کافی ہے اور وہی ہے جس نے آپ کی تائید کی اپنی مدد سے اور مومنین کے ذریعے سے۔ اور ان کے دلوں میں ان کے لیے الفت ڈال دی اگر آپ ساراخرچ کردیتے جو کچھ زمین میں ہے تو بھی ان کے دلوں میں آپ محبت نہ ڈال سکتے لیکن اللہ نے ان کے درمیان الفت ڈال دی بیشک وہ غالب اور حکیم ہے۔ ) مصالحت کی اجازت مسلمانوں کی غیرمسلموں سے لڑائی، قتال فی سبیل النفس یا فی سبیل البلاد نہیں بلکہ فی سبیل اللہ ہے۔ اس کا مقصد دنیا سے فتنہ ختم کرنا اور اللہ کے دین اور اس کی حاکمیت کو غالب کرنا ہے۔ ظاہر ہے یہ مقصد کفر کو ختم کیے یا مغلوب کیے بغیر ممکن نہیں لیکن یہ حیرانی کی بات ہے کہ ایسا واضح مقصد رکھنے والی قوم کو یہ حکم دیا جارہا ہے کہ اگر تمہارا دشمن تمہاری طرف صلح کا ہاتھ بڑھائے تو تم ان کے مظالم اور زیادتیوں کی طرف نہ دیکھو بلکہ اس کا ہاتھ تھام لو اور تم بھی صلح کے لیے تیار ہوجاؤ کیونکہ مقصد دنیا میں خون بہانا نہیں بلکہ فساد فی الارض کو ختم کرنا ہے۔ غلبہ دین کی ضرورت کے لیے بعض دفعہ لڑائی لڑنی پڑتی ہے لیکن درحقیقت اس کا مقصد دنیا سے خون ریزی اور فساد کے تمام امکانات کو ختم کرنا ہے۔ یہ امکانات جس طرح غلبہ سے ختم ہوتے ہیں اسی طرح دعوت الی اللہ کے امکانات پیدا ہونے سے بھی ختم ہوتے ہیں۔ اگر دشمن اس شرط پر صلح کرلیتا ہے کہ مجھے مسلمانوں کی تبلیغ و دعوت پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا تو مسلمانوں کو اپنا ہدف حاصل کرنے میں ایک ایسا موثر ذریعہ مل جاتا ہے جس کے نتیجے میں دلوں کی دنیا بدل جاتی ہے۔ نیا انسان پیدا ہوتا ہے نئی سوسائٹی وجود میں آتی ہے۔ معاہدہ حدیبیہ جو صرف دو سال تک چل سکا لیکن اس کے نتائج دیکھ کر آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ حدیبیہ میں پندرہ سو مسلمانوں کو ساتھ لے کر آئے تھے اور اس وقت تک آپ کی نبوت کو انیس سال گزر چکے تھے۔ لیکن دو سال کے بعد آپ جب فتح مکہ کے لیے نکلے تو آپ کے ساتھ دس ہزار قدوسیوں کا لشکر تھا۔ یہ حیران کن اضافہ دوسالوں میں مسلمانوں کی دعوت وتبلیغ، مسلمانوں کے اخلاق اور معاملات میں مسلمانوں کی صفائی اور دیانت و امانت کا نتیجہ تھا۔ اس لیے یہاں بھی حکم دیا گیا ہے کہ بین الاقوامی معاملات میں مسلمانوں کا رویہ صلح جویانہ لیکن جسورانہ ہونا چاہیے۔ اس وقت کے حالات کو دیکھتے ہوئے بظاہر یہ ایک رسک معلوم ہوتا ہے کیونکہ قریش سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔ وہ کسی وقت بھی مسلمانوں کو دھوکہ دے سکتے تھے۔ لیکن جس قوم کو اپنے نظریے اور اپنے اخلاق سے تاریخ بنانا ہوتی ہے وہ ایسے خطرات سے کھیلے بغیر نہیں رہ سکتی۔ لیکن اللہ کا یہ بےحد کرم ہے کہ ان خطرات کو دیکھتے ہوئے پروردگار نے اللہ پر بھروسہ کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی یہ اطمینان بھی دلایا کہ وہ سننے والا ہے جاننے والا ہے۔ دشمن جو کچھ کررہا ہے یا کرے گا اللہ ہر وقت اسے سنتا ہے اور ان کی درپردہ سازشوں کو جانتا بھی ہے۔ تم اللہ کے بھروسے پر ان خطرات کو انگیخت کرو۔ اللہ اس کے برے نتائج سے تمہاری حفاظت کرے گا کیونکہ دنیا میں لوگوں سے تمہاری دشمنی کسی ذاتی مفاد کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اللہ کی خاطر ہے۔ تم آج اللہ سے اپنا رشتہ توڑ لو تمہارے آج کے دشمن تمہارے دوست بن جائیں گے۔ تمہاری دوستی اور دشمنی جب صرف اللہ کی رضا کے لیے ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ اپنے وفاداروں کو لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑدے۔ اس کا اصول ہی یہ ہے کہ جو اس کا ہوجاتا ہے اللہ بھی اس کا ہوجاتا ہے۔ سچ کہا ظفر علی خاں نے ؎ یثرب سے اب بھی گونجتی ہے یہ صدا سنو ! وہ جو خدا کے ہوگئے ان کا خدا ہوا رہی یہ فکر کہ وہ آپ کو دھوکہ دیں گے تو آپ کو اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ جسے اللہ اپنی حفاظت میں لے لے اسے دنیا کی کوئی قوت گزند نہیں پہنچا سکتی۔ بڑی سے بڑی قوت کسی کے لیے کفائت نہیں کرسکتی لیکن اللہ آپ کی مدد کے لیے کافی ہے۔ اس کی تائید ونصرت کا مشاہدہ کرنا ہو تو قریبی تاریخ میں جنگ بدر کا واقعہ پیش آیا ہے اس کے واقعات میں غور کر کے دیکھ لو کس طرح اس نے اپنی نصرت سے تمہاری مدد کی اور کس طرح مٹھی بھر مسلمانوں سے آپ کی فتح کا سامان کیا اور کس طرح مسلمانوں کو آپ کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنادیا۔ غورکیجئے ! ان لوگوں کی اپنی تاریخ کیا ہے مکہ کے مہاجرین مختلف قبائلی تعصبات میں بٹے ہوئے اور کبر ونخوت میں گرفتار تھے۔ اسی طرح اوس و خزرج کے لوگ جو ہمیشہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے رہتے تھے۔ جنھوں نے سالہا سال تک ” حربِ بسوس “ لڑی جس میں ہزاروں آدمی کام آئے ان کے اختلافات، تعصبات، مفادات اور رسوم وآداب کو دیکھتے ہوئے کوئی آدمی توقع نہیں کرسکتا تھا کہ یہ بھی کبھی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چل سکتے ہیں۔ جو لوگ ایک دوسرے کے دیوتا کو برداشت نہیں کرتے تھے، جنھوں نے پوجا پاٹ کے لیے الگ الگ بت بنا رکھے تھے، جو قبیلے کی عصبیت کی دیواروں سے کبھی باہر جھانکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے، ان کے دلوں کو جس طرح جوڑا گیا، جس طرح وہ ایک دوسرے کے قریب ہوئے اور جس طرح باہمی اخوت میں پروئے گئے، جس طرح وہ ایک دوسرے کی ضرورت کی خاطر جان دینے کے لیے بھی تیار ہوگئے، یہ ایک ایسی حیرت انگیز تبدیلی ہے جس کو ممکن بنانے والی اللہ کی ذات کے سوا دنیا میں کوئی اور قوت نہیں اس لیے پروردگار نے فرمایا کہ اگر آپ زمین بھر کے خزانے ان کے اختلافات دور کرنے کے لیے خرچ کر ڈالتے تو بھی آپ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے تھے۔ یہ سراسر اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ان کے دلوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا اور ان کے دلوں میں محبت پیدا کردی۔ بیشک وہ عزیز اور حکیم ہے۔ وہ جب کسی کام کو کرنے کا ارادہ کرلیتا ہے تو کوئی رکاوٹ اس کے راستے میں حائل نہیں ہوسکتی اور ساتھ ہی ساتھ وہ حکمت والا بھی ہے اس لیے وہ جو کام بھی کرتا ہے وہ حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔
Ayah 8:64

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے نبی ! کافی ہے آپ کے لیے اللہ اور وہ مومن جو آپ کے پیروکار ہیں۔

یٰٓاَیُّھَاالنَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ ع (اے نبی ! کافی ہے آپ کے لیے اللہ اور وہ مومن جو آپ کے پیروکار ہیں۔ ) سیاقِ کلام کے اعتبار سے آیت کا مفہوم پہلی آیت کریمہ کے دو ترجمے ہوسکتے ہیں ایک تو وہ جو ہم نے آیت کے نیچے لکھا ہے اور دوسرا یہ کہ (اے نبی ! اللہ آپ کو کافی ہے اور آپ کے پیروکار مومنوں کے لیے کافی ہے ) ان دونوں میں معنویت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں لیکن سیاق کلام کے اعتبار سے پہلا معنی زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کیونکہ آیت نمبر 61 میں فرمایا گیا ہے : اے نبی ! اگر دشمن آپ کے ساتھ دھوکہ کرنے کی کوشش کرے تو آپ کو پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہرحال میں اللہ آپ کے لیے کافی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جنگ بدر میں اس نے اپنی نصرت سے آپ کی تائید کی یعنی آسمان سے فرشتے بھیجے اور دوسرا ان قلیل اور غیر مسلح مسلمانوں سے آپ کی مدد کرائی جو اپنے بچائو کے لیے بھی کافی نہ تھے انھیں دیکھ کر کوئی اندازہ نہ کرسکتا تھا کہ یہ کسی بڑی فوج کا مقابلہ کرسکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت سے ان کے دلوں میں وہ اعتماد وہ حوصلہ اور وہ طاقت بھر دی کہ وہ اپنے سے کئی گنا بڑی فوج سے اس طرح ٹکراگئے کہ ان کا بھرکس نکال کر رکھ دیانہ وہ ان کی تعداد سے مرعوب ہوئے اور نہ ان کی اسلحی قوت سے اثر قبول کیا۔ ان کا یہ حیران کن کارنامہ اور ان کی جسارت و استقامت ان کے اپنے ذاتی کمال کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ سراسر اللہ کی عطا اور توفیق ہے جس نے ممولوں کو شہباز کی طاقت عطا فرمادی اور ان میں ایسی وفاشعاری اور جاں سپاری کا جوہر بھر دیا کہ وہ ہر وقت اور ہر میدان میں نبی کریم ﷺ کی حفاظت اور آپ کے مشن کی تکمیل کے لیے ہر قربانی کے لیے آمادہ ہیں۔ جس طرح فرشتے اللہ ہی کے حکم اور مدد سے اس کے بندوں کی مدد کرتے ہیں اسی طرح یہ مسلمان بھی اللہ ہی کی توفیق سے آنحضرت ﷺ کے ہمرکاب ہیں اور کسی بھی طوفان سے لڑنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اسی مقصد کے لیے تیار کیا ہے۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں اسی بات کو دوسرے اسلوب سے ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تو ہمیشہ اپنے نبیوں اور اپنے بندوں کے لیے کافی ہوتاہی ہے لیکن وہ جب چاہتا ہے تو اس پر ایمان لانے والوں کو بھی ایسی قوت میں تبدیل کردیتا ہے اور ایسے عزائم سے آشنا کردیتا ہے کہ وہ بھی اللہ کی تائید ونصرت کی شکل میں پیغمبر کے لیے کافی ہوجاتے ہیں۔ وہ تعداد میں تھوڑے اور غیر مسلح بھی ہوں تب بھی وہ فیصلہ کن قوت کی حیثیت رکھتے ہیں۔