Ayah 8:24یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَادَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ ج وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْئِ وَقَلْبِہٖ وَاَنَّہٗٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ۔ (الانفال : 24 )
(اے ایمان والو ! اللہ اور رسول کی دعوت پر لبیک کہو جبکہ وہ تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے اور خوب جان لو کہ اللہ حائل ہوجاتا ہے آدمی اور اس کے دل کے درمیان اور یاد رکھو کہ اسی کی طرف تم جمع کیے جاؤ گے)
تین حقائق کا انکشاف
اس آیت کریمہ میں تین باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے بلکہ تین حقائق کی نقاب کشائی کی گئی ہے۔ سب سے پہلی بات جو ایک بہت بڑی حقیقت ہے اور جسے نظر انداز کردینے سے انسان کی بدنصیبی اور اس کی ضلالت میں ہمیشہ اضافہ ہوا ہے 0 وہ بات یہ ہے کہ انسان نے اپنی عقل وخرد سے کام لے کر جن مختلف علوم وفنون کو وجود دیا ہے ان میں سے ایک ایک پر غور کرکے دیکھ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سب کا موضوع اور سب کا ہدف صرف یہ ہے کہ انسانی ضروریاتِ زندگی کو بہتر سے بہتر سے صورت میں اور زیادہ سے زیادہ فراوانی کے ساتھ کس طرح حاصل کیا جائے اور ہر انسان اور انسانوں کے مختلف گروہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ ہم وسائلِ رزق پر زیادہ سے زیادہ کس طرح قبضہ حاصل کرسکیں۔ نفس کی ایک بھوک ہے جسے کہیں سیری نصیب نہیں ہوتی۔ معدے کی ایک آگ ہے جو کسی حد تک بھی بجھنے کا نام نہیں لیتی۔ دل و دماغ کی آرزوئوں اور امنگوں کی ہوس ہے جسے کسی حد پر پہنچ کر بھی قرار نہیں۔ پیٹ کی ضرورتیں، نفس کے تقاضے، حیوانی اور سفلی جذبات کے حصول کے لیے دماغی کاوشیں، ایسا معبود ہیں کہ صبح سے لیکر شام تک بلکہ بعض دفعہ راتوں کو بھی ہر شخص اسی کی پوجا میں لگا ہوا ہے۔ معدہ ایک ایسا کعبہ مقصود بن چکا ہے کہ پوری دنیا اس کے طواف میں مصروف ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے مطاف میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ علم وفن کے نام سے انسانی دماغ نے جو کچھ اختراع کیا ہے اس کے ناموں پر نہ جائیے اس کی حقیقت میں اتر کر دیکھئے ہر جگہ آپ کو اسی رویے اور اسی فکر کی کارفرمائی دکھائی دے گی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ شکم کی ضرورتوں نے انسانیت کو دبا کر ہر جگہ اپنی حکمرانی قائم کرلی ہے اور دل کی دنیا آہستہ آہستہ مردنی کا شکار ہوتی جارہی ہے کیونکہ انسان جس راستے پر پڑچکا ہے اس کی فکر جو اسلوب اختیار کرچکی ہے اور اس کی تگ وتاز اپنے لیے جو میدان منتخب کرچکی ہے اس کا کوئی راستہ دل کی طرف نہیں جاتا بلکہ سب کے پیش نظر شکم پروری اور شکم پرستی کے سوا کچھ نہیں اور ستم ظریفی یہ ہے کہ شکم اور قلب کے تقاضوں میں ایسا بعدالمشرقین ہے کہ یہ دونوں کبھی یکجا نہیں ہوسکتے۔ اقبال نے ٹھیک کہا :
دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامانِ موت
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے دل یاشکم
پیغمبر اس کے بالکل برعکس ایک دوسری دعوت لے کر آتے ہیں جس کا موضوع شکم پروری نہیں بلکہ دل کی بیداری ہے۔ وہ انسان کو اس کے خالق ومالک کے وجود کی خبر دیتے ہیں۔ اسے اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں کہ تجھے تیرے مالک نے ایک مقصد حیات دے کر پیدا کیا ہے یہ دنیا تیرے لیے میدانِ عمل بنائی گئی ہے اور زندگی مہلت عمل کے لیے بخشی گئی ہے۔ عمل کے اصول و ضوابط اور حسن وقبح کے معیارات سے تیرے مالک نے اپنے رسول بھیج کر اور کتابیں اتار کر تمہیں آگاہ کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات واضح کی ہے کہ تمہارے مالک کے بھیجے ہوئے ضابطہ حیات کے مطابق جو زندگی گزرے گی اسے یہاں بھی بھلائی کا پھل لگے گا اور آخرت میں بھی سرخرو ہوگی۔ لیکن جو زندگی اس ضابطہ حیات کے انکار پر اٹھے گی وہ وقتی طور پر چکا چوند بھی پیدا کرسکتی ہے۔ لیکن اس کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتاکیون کہ اس کی چکا چوند اور دل آویزی جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری کے سوا کچھ نہیں۔ بالآخر ایک وقت آتا ہے جبکہ اہل دنیا خود اس سے تنگ آکر خودکشی کی موت مرتے ہیں یا آپس میں ٹکرا کر ایک دوسرے کی ہلاکت کا باعث بنتے ہیں کیونکہ زندگی کا وہ رویہ جو شکم پروری کے سوا کچھ اور نہیں سکھاتا اور جس نے انسانی اقدار کو جلادینے کی بجائے حیوانی صفات کو عزت واحترام دیا ہے اس کے نتیجے میں بھوک میں تو اضافہ ہوسکتا ہے، آرام و راحت کی طلب تو بڑھ سکتی ہے، درہم و دینار اور عہدہ ومنصب کی ہوس میں تو افزونی ہوسکتی ہے، اپنے منڈیر کو اونچا کرنے کے لیے دوسروں کی عمارتیں گرانے کا شوق تو پیدا ہوسکتا ہے، اپنے آپ کو سب سے بڑا ثابت کرنے اور اپنے ملک کو وسیع کرنے کے لیے ظلم اور ظالمانہ فتوحات کے شوق میں اضافہ تو ہوسکتا ہے لیکن اس سے دل میں وہ رعنائی پیدا نہیں ہوسکتی جو دل کی بیداری کا باعث ہو جس سے بصارت کو بصیرت نصیب ہو جس سے عقل کو وہ نور حاصل ہو جو آفاق وانفس کے اسرار و حقائق سے پردہ اٹھا سکے اور دل کو وہ زندگی نصیب ہو جو تجلیات و انوارِ الہٰی کا مہبط بن سکے۔ یہ دولت صرف اللہ کے نبیوں کی دعوت کے نتیجے میں نصیب میں آتی ہے۔ اس سے وہ دل بیدار پیدا ہوتا ہے جو خالق و مخلوق کے رشتہ کی حقیقت کو جانتا اور جو مخلوق کے آئینہ میں اپنے خالق کی جھلک دیکھ سکتا ہے۔ جس میں ایسی نزاکت پیدا ہوجاتی ہے کہ دوسرے انسان کی معمولی تکلیف اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہوجاتی ہے۔ وہ خود دکھ اٹھاکر دوسروں کو سکھ پہنچاتا ہے اور اسی میں راحت محسوس کرتا ہے اور یہی درحقیقت وہ حقیقت ہے جس کے نتیجے میں ایسا انسان وجود میں آتا ہے جس پر خلافتِ ارضی ناز کرتی ہے اور جس کے دامن میں فرشتے نماز پڑھ کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اسی سے فاروقی اور حیدری صفات وجود میں آتی ہیں اور انسانی کائنات کی ایک ایک بگڑی ہوئی کل ٹھیک جگہ پر بیٹھ جاتی ہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا ؎
دلِ بیدار فاروقی دل بیدار کراری
مسِ آدم کے حق میں کیمیا ہے دل کی بیداری
دلِ بیدار پیدا کر کہ دل خوابیدہ ہے جب تک
نہ تیری ضرب ہے کاری نہ میری ضرب ہے کاری
2 اس آیت کریمہ میں دوسری حقیقت جو منکشف فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ منافقین یا کمزور مسلمانوں کو ایک تنبیہ کی جارہی ہے کہ اللہ کے نبی تمہیں جس حیات بخش پیغام کی طرف بلا رہے ہیں اور تمہارے دلوں کی زندگی کا جو سامان کررہے ہیں یہ مت سمجھو کہ یہ بلاوا اور یہ دعوت مسلسل اسی طرح جاری رہے گی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آسانی اور پھر اتمامِ حجت کے لیے ایک خاص وقت تک اپنے پیغمبر کے ذریعے دعوت کا اہتمام جاری رکھتا ہے۔ پیغمبر دکھ اٹھاکر مخالفین کی مخالفتوں کے باوجود خون کے گھونٹ پی پی کر لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دیتے رہتے ہیں۔ لیکن جب پروردگار محسوس فرماتا ہے کہ انسانوں کی طرف سے اس پیغام کی ناقدری اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے تو پھر وہ زیادہ دیر تک مہلت کو جاری نہیں رکھتا، تنبہیات سے کام لیتا ہے، کبھی جھٹکے بھی دیتا ہے۔ جب یہ ساری کوششیں اکارت جاتی ہیں تو پھر اللہ کا قانون حرکت میں آتا ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ جب ایک شخص اپنے انکار اور عناد سے یہ ثابت کردیتا ہے کہ مجھے اللہ کے دین اور اللہ کے رسول کی دعوت سے کوئی سروکار نہیں میں یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ اللہ میرا خالق ومالک ہے اور اسے یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ میرے لیے ایک ضابطہ حیات نازل کرے اور میرے لیے لازم ہے کہ میں اس ضابطہ حیات کے مطابق زندگی گزاروں۔ میں ان میں سے ہر بات کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہوں، میں تو من مرضی کی زندگی گزاروں گا۔ مجھے کسی آنے والی زندگی سے کوئی خطرہ نہیں، مجھے کہیں بھی جواب دہی کا اندیشہ نہیں۔ اس پر اللہ کا قانون حرکت میں آتا ہے تو وہ ایسے آدمی سے قبولیتِ حق کی استعداد چھین لیتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جسے دلوں پر مہر کرنا کہتے ہیں اور اسی کو قرآن کریم نے ” رَین “ قرار دیا ہے۔
انسان کا دل ایک آئینے کی مانند ہے جس کی آب وتاب انسان کے رخ زیبا کے عکس کو منعکس کرتی ہے۔ لیکن آئینے کا یہ انعکاس اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک وہ داغ دھبوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر اس کے چہرے پر مسلسل زنگ چڑھتا رہے یا مختلف قسم کے داغ اس کی آب وتاب کو مٹاتے رہیں تو ایک وقت آئے گا جب یہ آئینہ بےنور ہو کر رہ جائے گا۔ اب آپ اس میں دیکھنا چاہیں گے تو وہ موجود ہوتے ہوئے بھی آپ کو کچھ نہ دکھا سکے گا۔ اپنے اسی قانون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے منافقو ! تمہارے پاس ابھی وقت باقی ہے کہ تم اللہ کے رسول کی دعوت پر لبیک کہو اور اپنے دلوں کی دنیا کو آباد کرلو اور اگر تم نے اپنا رویہ نہ بدلا اور تم اپنی روش پر قائم رہے تو پھر یاد رکھو وہ وقت دور نہیں کہ جب اللہ تعالیٰ تمہارے اور تمہارے دلوں کے درمیان حائل ہوجائے گا یعنی اس کا قانون حائل ہوجائے گا۔ وہ تم سے قبولیت کی استعداد چھین لے گا، تمہارے دلوں کی آب وتاب زنگ آلود کردے گا۔ اس کے بعد کوئی کوشش بھی کامیاب نہ ہوسکے گی۔ دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ تم نے اگر رسول اللہ ﷺ کی دعوت کی ناقدری جاری رکھی اور تم اپنے نفاق سے تائب نہ ہوئے تو یاد رکھو انسانوں کے دل اللہ کی دوانگلیوں میں ہیں وہ جب چاہتا ہے الٹ دیتا ہے۔ ابھی وقت ہے کہ تم دل کی استعداد کو بروئے کار لائو اور ہدایت کی دولت پالو اور اگر اللہ نے تمہارے دلوں کی حالت بدل ڈالی تو پھر تم ہمیشہ کے لیے محروم رہ جاؤ گے۔
نیکی کا خیال معزز مہمان کی مانند ہے
ہدایت و ضلالت کا یہ عقدہ تو نہایت نازک موقعہ ہے جو ہاتھ سے چھوٹ گیا تو چھوٹ گیا۔ بزرگانِ دین تو فرماتے ہیں کہ ہر نیکی کے بارے میں ایک مومن کو نہایت محتاط ہونا چاہیے جب نیکی کا کوئی خیال دل میں آتا ہے تو یوں سمجھ لیجئے کہ ایک معزز مہمان آپ کے گھر کے دروازے پر آیا ہے۔ کوئی بھی معزز مہمان اپنی عزت کے معاملے میں نہایت حساس ہوتا ہے اگر میزبان اس کے استقبال میں ذرا بھی سرد مہری کا ثبوت دیتا ہے تو معزز مہمان دروازے ہی سے واپس لوٹ جاتا ہے۔ نیکی کا خیال بھی ایک معزز مہمان کی مانند ہے جیسے ہی آئے تو لپکتے ہوئے اسے تھام لینا چاہیے اور پہلی فرصت میں اس پر عمل کرنا چاہیے اور اگر تساہل سے کام لیا تو یہ آیا ہوا مہمان لوٹ بھی سکتا ہے تو پھر عین ممکن ہے کہ کبھی لوٹ کر نہ آئے۔
3 آیتِ کریمہ میں تیسری بات جو ایک سخت تنبیہ بھی ہے وہ یہ ہے کہ منافقین سے کہا گیا ہے کہ آج اگر تم اپنے مفادات اور تعلقات میں اندھے ہو کر زندگی بخش پیغام کی بھی قدر نہیں کررہے ہو تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمہیں یہاں ہمیشہ زندہ نہیں رہنا ہے۔ بہت جلد یہ زندگی ختم ہونے والی ہے تو پھر بالآخر تمہیں اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے وہاں تم سب جمع کیے جاؤ گے اور وہاں ہر شخص اپنے اپنے ایمان وعمل کے مطابق اپنا انجام دیکھے گا پھر سوچ لو کہ آج کی یہ بےنیازیاں اس روز کتنی مہنگی ثابت ہوں گی۔ اس وقت عمل یا توبہ کا کوئی موقعہ نہیں ہوگا۔ وہ تو فیصلے کا دن ہے اس دن کا پچھتاوا بہت بڑا پچھتاوا ہے۔ بہتر ہے کہ اس دن کے آنے سے پہلے اپنی حالت کی اصلاح کرلی جائے۔
Ayah 8:25وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃً ج وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ (الانفال : 25 )
(اور بچو اس فتنہ سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف انہی لوگوں تک نہیں پہنچے گی جنھوں نے جرم کا ارتکاب کیا ہوگا اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ )
فتنہ سے بچو
معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کریمہ میں خطاب صرف منافقین اور کمزور مسلمانوں سے ہی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں سے ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بعض لوگوں کی بےحسی، ناقدری یا اندھی مخالفت سے تنگ آکر صحابہ کرام نے مسلمانوں میں ایسے عناصر کی طرف سے اپنا رخ پھیرلیا ہے اور یہ سمجھنے لگے تھے کہ ان پر اب وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، ہمیں اپنی اصلاح یا اسلام کی دوسری ذمہ داریوں کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ لیکن پروردگار نے ایسے لوگوں کو متنبہ فرمایا اور قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے ایک مستقل ہدایت قائم کردی جس کا حاصل یہ ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر آدمی اپنی ذات کے حوالے سے براہ راست اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔ اس لیے اسے سب سے زیادہ اپنے ایمان وعمل کی فکر کرنی چاہیے لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمان ایک امت ہیں ان کی انفرادی زندگی اجتماعی زندگی سے الگ کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ ان کا ایک ایک فرد ربط ملت سے قائم ہے افراد کے سیرت و کردار کی بھی ایک اہمیت ہے کیونکہ انہی سے ملکر امت تشکیل پاتی ہے۔ لیکن اگر ربط ملت میں کمی رہ جائے اور پوری امت کے مفادات کو سامنے نہ رکھا جائے اور پوری امت کی یکساں فکر نہ کی جائے تو افراد بھی دیر تک اپنی ایمانی صحت کو برقرار نہیں رکھ سکتے۔ اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھنا چاہیے کہ اگر کسی بستی میں رہنے والے یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ہماری بستی کا ایک ایک فرد صحت مند رہے تو انھیں لازماً اس بات کی پابندی کرنا ہوگی کہ کہیں بھی حفظانِ صحت کے اصولوں کی مخالفت نہ ہونے پائے۔ کہیں بھی جوہڑوں میں مچھر نہ پلنے پائیں، کہیں بھی گندگی کے ڈھیر نہ دکھائی دیں، اگر بستی کا ایک ایک گھر یہ سمجھنے لگے کہ مجھے تو صرف اپنے گھر کی فکر کرنی ہے میرے گھر کے اندر میرے گھر کے باہر کہیں گندگی کے ڈھیر نہیں ہونے چاہئیں اور اگر میرے اڑوس پڑوس یا بستی میں کسی اور جگہ گندگی پھیل رہی ہے جو کسی بھی وبا کا باعث بن سکتی ہے۔ تو مجھے اس سے کیا غرض۔ میرا گھر تو صاف ستھرا ہے۔ ایسی سوچ رکھنے والا نہ صرف اپنی بستی کا دشمن ہے بلکہ اپنا بھی دشمن ہے کیونکہ جب اس طرح کے لوگ زیادہ ہوجائیں گے جو دوسروں کو کہنا سننا پسند نہیں کریں گے اور پوری بستی کی صفائی کی فکر نہیں کریں گے تو ایک نہ ایک دن یہ گندگی وبا کی صورت اختیار کرجائے گی اور پھر اس کے نتیجے میں فضا میں بھی سمیت سرایت کرجائے گی، ہوا بھی اپنے دوش پر گندگی کے اثرات کو لے کر اڑے گی پھر بستی کا کوئی گوشہ اس کے اثرات سے محفوظ نہیں ہوگا۔ یہی حال اخلاقی اور روحانی نجاستوں کا بھی ہے اگر وہ انفرادی طور پر بعض افراد میں موجود رہیں اور صالح سوسائٹی کے رعب سے دبی رہیں تو ان کے نقصانات محدود ہوتے ہیں۔ لیکن جب سوسائیٹی کا اجتماعی ضمیر کمزور ہوجاتا ہے، جب اخلاقی برائیوں کو دبا کر رکھنے کی طاقت اس میں نہیں رہتی، جب اس کے درمیان برے اور بےحیا اور بداخلاق لوگ اپنے نفس کی گندگیوں کو اعلانیہ اچھالنے اور پھیلانے لگتے ہیں اور جب اچھے لوگ اپنی انفرادی اچھائیوں پر قانع ہو کر بیٹھ جاتے ہیں اور اجتمائی برائیوں پر چپ سادھ لیتے ہیں تو مجموعی طور پر پوری سوسائیٹی کی شامت آجاتی ہے اور وہ فتنہ عام برپا ہوتا ہے جس میں چنے کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔ اس لیے اکثر اہل علم نے فتنہ سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو چھوڑ دینا مراد لیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مختلف مواقع پر اس کی تاکید بھی فرمائی اور اس کو مثالوں سے واضح بھی فرمایا۔ ایک موقعہ پر ایک کشتی کی مثال دے کر سمجھایا کہ اگر کچھ لوگ ایک کشتی میں سفر کریں کچھ اس کے اوپر کے حصے میں، کچھ نیچے والے حصے میں۔ نیچے والے یہ محسوس کرکے کہ انھیں پانی کے لیے اوپر جانے کی زحمت اٹھانی پڑتی ہے یہ فیصلہ کریں کہ ہم کیوں نہ کشتی کے نیچے کے حصے میں سوراخ کرلیں اور اوپر والے یہ خیال کرکے کہ وہ اپنے حصے میں سوراخ کررہے ہیں ہمیں اس سے کیا سروکار، اس پر خاموش رہیں تو نیچے والوں کے اس فعل کے نتیجے میں جب کشتی ڈوبے گی تو اوپر والوں اور نیچے والوں دونوں کو لے کر ڈوبے گی۔ یہی حقیقت ہے جس کی وجہ سے اسلام نے امربالعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری ہر شخص پر عائد کی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ :
” تم میں سے کوئی شخص بھی کوئی برائی دیکھے اگر ہاتھ سے اس کو روک سکتا ہو تو ہاتھ سے روکے اور اگر ہاتھ سے نہ روک سکتا ہو تو زبان سے روکنے کی کوشش کرے اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو تو دل سے اسے برا سمجھے لیکن اسے اضعف الایمان یعنی ایمان کا سب سے کمزور درجہ قرار دیا “
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے گھر یا معاشرے یا دفاتر یا اداروں میں کوئی سی برائی دیکھتا ہے اور اس کے دل کو ٹھیس نہیں پہنچتی، اسے بالکل تکلیف محسوس نہیں ہوتی، اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے دل میں ایمان کی رتی بھی نہیں۔ بیشک وہ اٹھتا بیٹھتا ایمان کی باتیں کرتاہو، بیشک وہ تہجد گزار اور وظائف کا پابند بھی ہو لیکن اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی اور شریعتِ اسلامی کے احکام کا تمسخر اور کھلی بےحیائی اس کی پیشانی پر شکن بھی نہیں پیدا نہیں کرتی تو اس کے سارے وظائف کے باوجود اسے اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے۔
اسی طرح یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ ہر آدمی کی ذمہ داری اس کی اپنی ذات کے بعد اس کے گھر سے شروع ہوتی ہے۔ گھر کا سربراہ یقینا اپنے گھر میں حاکمانہ اقتدار رکھتا ہے وہ اگر سنجیدگی سے کوشش کرے تو بہت سی برائیوں کو روک سکتا ہے لیکن اگر وہ بیوی بچوں کی دلجوئی کی خاطر چپ رہتا ہے تو اسے اس کا جواب دینا ہوگا۔
اسی طرح ہر ادارے اور ہر دفتر کا سربراہ اپنے اپنے دائرہ کار میں جواب دہ ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اصولی طور پر یہ بات بیان فرمائی ہے کہ :
کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ
(تم میں سے ہر ایک آدمی چرواہا اور حکمران ہے اور ہر شخص اپنی رعیت کے بارے میں مسئول اور جواب دہ ہے)
گھر کے سربراہ سے گھر کے بارے میں، ماں سے بیٹیوں کے بارے میں، افسر سے ماتحتوں کے بارے میں، بڑے آفیسر سے اپنے وسیع تر دائرہ اقتدار کے بارے میں اور حکمرانوں سے مملکت کے بارے میں سوال ہوگا۔ جہاں جہاں بھی شریعت کے احکام ٹوٹ رہے ہیں وہیں وہیں اس کے ذمہ دار سے باز پرس ہوگی۔ پھر اس پر آخرت میں جو سزا ہوگی وہ تو آخرت میں دیکھا جائے گا دنیا میں جو کچھ ہوگا اس کے بارے میں آپ نے ارشاد فرمایا اور نہائیت جوش سے فرمایا۔ بیان کرنے والا کہتا ہے کہ آپ ٹیک لگائے بیٹھے تھے جوش میں آکر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ :
” تمہیں نیکی کا حکم دینا ہے اور برائی سے روکنا ہے اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم دعائیں مانگو گے اور تمہاری دعائیں سنی نہیں جائیں گی “
حضرت ابوبکر صدیق ( رض) نے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جب لوگ کسی ظالم کو دیکھیں اور ظلم سے اس کا ہاتھ نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب عام کردیں۔
حاصل کلام یہ کہ اس آیت کریمہ کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جس اصلاح و ہدایت کے کام کے لیے اٹھے ہیں اور تمہیں جس خدمت کے کام میں ہاتھ بٹانے کے لیے بلا رہے ہیں اسی میں درحقیقت شخصی واجتماعی دونوں حیثیتوں سے تمہارے لیے زندگی ہے۔ اگر اس میں سچے دل سے مخلصانہ حصہ نہ لو گے اور ان برائیوں کو جو سوسائٹی میں پھیلی ہوئی ہیں برداشت کرتے رہو گے تو ایک ایسا فتنہ اٹھے گا جس کی لپیٹ میں آئے بغیر کوئی نہ بچے گا۔
Ayah 8:26وَاذْکُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ فَاٰوٰکُمْ وَ اَیَّدَکُمْ بِنَصْرِہٖ وَرَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ ( الانفال : 26 )
(اور یاد کرو ! جس وقت تم تھوڑے تھے اور ملک میں دبے ہوئے تھے ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک نہ لیں تو اللہ نے تمہیں ٹھکانہ دیا اور اپنی نصرت سے نوازا اور تم کو پاکیزہ نعمتوں کا رزق بخشا تاکہ تم شکر گزار بنو۔ )
اللہ کے خصوصی احسانات کا تذکرہ
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ان احسانات کا ذکر فرما رہے ہیں جو مسلمانوں پر بطور خاص کیے گئے ہیں اور جن کا بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا۔ مکہ معظمہ میں تیرہ سال تک مسلمانوں نے نہایت اذیت ناک زندگی گزاری۔ ان کا اپنا شہر جس میں اللہ کا گھر اور اللہ کا حرم موجود ہے ان کے لیے جہنم بنادیا گیا تھا۔ قریش کی جانب سے جب ایذا رسانی انتہا کو پہنچ گئی تو مسلمانوں نے چھپ کردو دفعہ حبشہ کی طرف ہجرت کی لیکن مستقل طور پر تیرہ سالوں میں کہیں بھی دارالامان میسر نہ آسکا اور نہ دور دور تک کہیں اس کے آثار دکھائی دیتے تھے۔ اہل مکہ نے جب رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے لیے اپنے دل بالکل بند کرلیے تو آپ نے طائف کا سفر فرمایا لیکن طائف کے سرداروں نے جو سلوک آپ کے ساتھ کیا اسے آپ ساری زندگی نہ بھول سکے۔ اسے اللہ کا غیر معمولی فیصلہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ اچانک مدینہ منورہ کی جانب سے ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا آیا۔ مدینہ کے آئے ہوئے حاجیوں میں سے 6 آدمی آپ سے ملے اور مشرف بہ اسلام ہوئے۔ پھر دوسرے سال ایک معقول تعداد آپ سے ملنے کے لیے آئی اور انھوں نے محض تقدیرِ الہٰی سے وہ فیصلہ کیا جو آپ کی ہجرت کا سبب بنا اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے حالات میں ایک ٹھکانہ اور دارالامان بخشا جبکہ مسلمانوں کی تعداد بھی بہت تھوڑی تھی اور قریش مکہ آپ کے اور دیگر مسلمانوں کے بارے میں نہایت مکروہ عزائم رکھتے تھے۔ آپ کے قتل کی منصوبہ بندی تو اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والی تھی جب اللہ تعالیٰ نے دستگیری فرمائی اور آپ قریش کی تمام کوششوں کے باوجود بخیریت تمام مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ پھر ابھی یہاں پہنچے ایک سال ہی ہوا ہوگا کہ آپ پر جنگ مسلط کردی گئی بلکہ مدینہ منورہ پہنچنے کے ساتھ ہی آپ کو دھمکیاں دی جانے لگیں دشمنوں کو آپ کے خلاف انگیخت کیا جانے لگا۔ سازشوں کا ہر طرف جال پھیلادیا گیا لیکن ان تمام حالات میں اللہ تعالیٰ نے قدم قدم پر اپنی نصرت سے آپ کو نوازا۔ قریش نے جو قدم بھی اٹھایا وہ ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔ بالآخر جنگ بدر ایک ہی سال کے بعد قریش کے لیے عذاب کی پہلی قسط ثابت ہوئی۔ ان کی اصل قوت میدان میں ڈھیر ہوگئی جبکہ مسلمانوں کے پاس مقابلے کی کوئی طاقت نہ تھی۔ لیکن یہ سراسر اللہ کی تائید ونصرت تھی جس نے مسلمانوں کو جزیرہ عرب میں ایک قابل لحاظ قوت بنادیا۔ مزید حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مدینہ منورہ کوئی بہت بڑی بستی نہ تھی جس میں ہزاروں آدمیوں کے وسائل معاش کا انتظام ہوسکتا۔ لیکن ہجرت کے فرض ہوجانے کے بعد ہر مسلمان ہونے والا مدینہ منورہ کا رخ کرنے لگا اب ہونا یہ چاہیے تھا کہ اہل مدینہ تنگ آکر ہر آنے والے کو اگلنا شروع کردیتے لیکن اس پر تاریخ ہمیشہ انگشت بدنداں رہے گی کہ آج جبکہ کہیں بھی مہاجرین کا سیلاب آتا ہے تو حکومتیں ہل کر رہ جاتی ہیں حالانکہ ہر حکومت کے پاس آج کے دور میں بےپناہ وسائل ہیں۔ لیکن اہل مدینہ نے جس طرح آنے والوں کے لیے اپنے دل وا کیے اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے وسائل میں برکت عطا فرمائی وہ بجائے خود اللہ کا بہت بڑا احسان ہے۔ جس کو بطور خاص ذکر فرمایا کہ اللہ نے تمہیں پاکیزہ نعمتوں کا رزق بخشا اور یہ سب کچھ اس لیے ہوا تاکہ مسلمان اللہ کے شکر گزار ثابت ہوں۔ دنیا میں جابجا اللہ کی نعمتیں پھیلی ہوئی ہیں اور بڑے سے بڑا کافر ان سے شاد کام ہورہا ہے۔ لیکن مسلمان جو اپنے اللہ اور کائنات کے بارے میں حقیقی تصورات کا حامل ہے اسے جب یہ نعمتیں ملتی ہیں تو اس کا مقصد صرف ایک ہی ہوتا ہے کہ ان نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے۔
شکر ادا کرنے کی تین صورتیں ہیں۔
1 زبان سے محسن کے احسانات کا تذکرہ کیا جائے، حمد وثنا کے کلمات سے اس کی تحسین کی جائے اور زبان کی پوری طلاقت لسانی کو ادائے شکر میں صرف کردیا جائے۔
2 اعضاء وجوارح کو محسن کا شکر ادا کرنے کے لیے ہر ممکن خدمت کے لیے تیار کیا جائے۔ محسن آئے تو اس کے قدموں میں بچھنے سے دریغ نہ کیا جائے۔ وہ کوئی کام کہے تو بلاتاخیر اسے بجا لایاجائے۔ یہ آرزو کی جائے کہ ایسی کون سی صورت ہو کہ میں اپنے محسن کے کسی کام آسکوں اور اس کی کسی ضرورت کو پورا کرسکوں جس سے میرا محسن مجھ سے خوش ہوجائے۔
3 دل و دماغ کو محسن کے احسان کے تصور سے آباد رکھا جائے۔ دل حمد وثناء کے تصور سے معمور رہے جب بھی دل و دماغ میں محسن کا تصور آئے تو یوں محسوس ہو کہ بہارآگئی ہے۔
اللہ کریم کے بارے میں اس کی نعمتوں کو دیکھتے ہوئے اس کے مسلمان بندوں کے ایسے ہی تشکر کے جذبات ہونے چاہیئں۔ وہ زبان سے اللہ کی حمد وثناء کریں، زیادہ سے زیادہ اس کا ذکر کریں، دل و دماغ میں اس کی نعمتوں کی یاد تازہ کریں اور اپنے اعضاء وجوارح کو اس کی اطاعت پر لگا دیں۔ عبادات کے وقت میں عبادت ہو، معاملات میں عہد کی پابندی اور زبان کی پاسداری ہو۔ لوگوں سے میل جول میں حقوق کی رعایت ہو اجتماعی زندگی میں عدل و احسان کی عمل داری ہو، ہر سانس اس کی یاد میں آباد رہے اور دل کی ہر دھڑکن اسی کے تصور سے شاداب ہو اسی کے دین کے غلبے کی فکر رہے اسی کی رضا کا حصول زندگی کا سب سے بڑا ہدف بن جائے، حتٰی کہ اس کے دین پر زندگی کو قربان کردینا کامیابی کی علامت ٹھہرے۔
Ayahs 8:27–28یٰٓاَیُّھَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَخُوْنُْوْٓا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِکُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ لا وَّ اَنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۔ ع (الانفال : 27 تا 28)
(اے ایمان والو ! خیانت نہ کرو اللہ سے اور رسول سے اور خیانت نہ کروآپس کی امانتوں میں، اس حال میں کہ تم جانتے ہو۔ اور جان لو کہ بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں اور بیشک اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ )
شانِ نزول
مفسرین نے ان آیات کا ایک شان نزول بھی لکھا ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہود کے قبیلوں میں سے بنو قریظہ کا قبیلہ ابھی تک مدینہ میں آباد تھا اس سے پہلے دو قبیلے اپنے انجام کو پہنچ چکے تھے۔ یہ قبیلہ مسلمانوں کے ساتھ بقائے باہمی اور مدینہ کے دفاع کے معاہدے میں شریک تھا۔ لیکن غزوہ خندق میں جب یہود کے دوسرے قبیلے کے سرداروں نے انھیں انگیخت کیا اور بہکایا تو ان کے بہکاوے میں آکر انھوں نے مسلمانوں سے معاہدہ توڑ ڈالا اور مسلمانوں کے لیے ایک ایسی خطرناک صورتحال پیدا کردی جس سے عہدہ برآ ہونا بظاہر ناممکن دکھائی دیتا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے خصوصی تائید اور نصرت سے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ ایک تیز آندھی اور طوفان نے کفار کی فوج کے خیمے الٹ دیئے، دیگیں اوندھی ہوگئیں، جانور رسیاں تڑاکر بھاگ نکلے، ایک ایسا ہراس طاری ہوگیا جس کا جدھر منہ اٹھا وہ پناہ کی تلاش میں ادھر چل پڑا۔ صبح ہونے تک ہزاروں کا لشکر میدان چھوڑ کر بھاگ چکا تھا۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا غلبہ عطا فرمایا اور مسلمان دوپہر تک اپنے خیموں سے گھروں کو لوٹ آئے۔ لیکن عصر کی نماز سے پہلے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور اللہ کا حکم پہنچایا کہ بنو قریظہ کو عہد شکنی کی سزا دینے کے لیے فوراً ان کا محاصرہ کرلیاجائے۔ شروع شروع میں تو بنو قریظہ نے بڑی ہیکڑی دکھائی لیکن 21 روز کے محاصرے نے ان کے تمام کس بل نکال دئیے۔ مجبور ہو کر انھوں نے نبی کریم ﷺ سے وطن چھوڑ کر ملک شام چلے جانے کی درخواست کی۔ لیکن آپ نے ان کی گزشتہ عہد شکنیوں کو دیکھتے ہوئے اس کو منظور نہیں فرمایا بلکہ صرف یہ فرمایا کہ صلح کی ایک ہی صورت ہے کہ سعدبن معاذ ( رض) تمہارے بارے میں جو کچھ فیصلہ کریں اس پر راضی ہوجاؤ۔ انھوں نے درخواست کی کہ سعد بن معاذ ( رض) کی بجائے ابولبابہ ( رض) کو یہ کام سپرد کردیا جائے کیونکہ حضرت ابو لبابہ کے اہل و عیال اور جائداد بنو قریظہ میں تھے۔ اس لیے بنو قریظہ کا خیال تھا کہ حضرت ابو لبابہ ہمارے معاملہ میں رعایت کریں گے۔ آپ نے ان کی درخواست پر حضرت ابو لبابہ ( رض) کو بھیج دیا۔ بنو قریظہ کے سب مرد وزن ان کے گرد جمع ہو کر رونے لگے اور یہ پوچھا کہ اگر ہم رسول اللہ ﷺ کے حکم پر اتر آئیں تو کیا ہمارے معاملہ میں وہ کچھ نرمی فرمائیں گے۔ ابو لبابہ ( رض) کو معلوم تھا کہ ان کے معاملہ میں نرمی برتنے کی رائے نہیں ہے۔ انھوں نے کچھ ان لوگوں کی گریہ وزاری سے اور کچھ اپنے اہل و عیال کی محبت سے متاثر ہو کر اپنے گلے پر تلوار کی طرح ہاتھ پھیر کر اشارہ سے بتلا دیا کہ ذبح کیے جاؤ گے۔ گویا اس طرح آنحضرت ﷺ کا راز فاش کردیا۔
مال واولاد کی محبت میں یہ کام کر تو گزرے مگر فوراً تنبہ ہوا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے خیانت کی ہے۔ جب وہاں سے واپس ہوئے تو اس درجہ ندامت سوار ہوئی کہ آپ کی خدمت میں لوٹنے کی بجائے سیدھے مسجد میں پہنچے اور مسجد کے ایک ستون کے ساتھ اپنے آپ کو باندھ لیا اور قسم کھائی کہ اب انھیں رسول اللہ ﷺ ہی اپنے دست مبارک سے کھولیں گے اور وہ آئندہ بنو قریظہ کی سرزمین میں کبھی داخل نہ ہوں گے۔ ادھر رسول اللہ ﷺ محسوس کررہے تھے کہ ان کی واپسی میں دیر ہورہی ہے پھر جب تفصیلات کا علم ہوا تو فرمایا اگر وہ میرے پاس آگئے ہوتے تو میں ان کے لیے مغفرت کی دعا کردیتا اور توبہ قبول ہوجاتی۔ لیکن جب وہ وہی کام کربیٹھے ہیں تو اب میں بھی انھیں ان کی جگہ سے کھول نہیں سکتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لے۔ حضرت ابو لبابہ ( رض) 6 رات مسلسل ستون سے بندھے رہے ان کی بیوی ہر نماز کے وقت آکر کھول دیتی اور وہ نماز سے فارغ ہو کر پھر اسی ستون سے بندھ جاتے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ پر صبح دم ان کی توبہ نازل ہوئی۔ اس وقت آپ حضرت ام سلمہ ( رض) کے مکان میں تشریف فرما تھے۔ حضرت ابو لبابہ ( رض) کا بیان ہے کہ حضرت ام سلمہ نے اپنے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہو کر مجھ سے کہا : اے ابو لبابہ ! خوش ہوجاؤ اللہ نے تمہاری توبہ قبول کرلی۔ یہ سن کر صحابہ انھیں کھولنے کے لیے اچھل پڑے، لیکن انھوں نے انکار کردیا کہ انھیں رسول اللہ ﷺ کی بجائے کوئی اور نہ کھولے گا۔ چناچہ جب نبی کریم ﷺ نماز فجر کے لیے نکلے اور وہاں سے گزرے تو انھیں کھول دیا۔
شانِ نزول میں اگرچہ صرف حضرت ابولبابہ ( رض) کا واقعہ بیان کیا گیا ہے لیکن آیت کریمہ کا مفہوم ایک واقعہ میں محدود نہیں۔ پوری امت میں یہ بات مسلمہ ہے کہ اگر کوئی حکم قرآن کریم میں کسی خاص موقعہ پر نازل ہوا ہے تو اس موقعہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتا بلکہ پوری امت اور تمام مواقع کے لیے عام ہوتا ہے۔ لیکن اس کے عموم کا ذکر کرنے سے پہلے اس واقعہ پر بھی ایک نظر ڈال لینی چاہیے۔ حضرت ابو لبابہ ( رض) نے کوئی خیانت نہیں کی کوئی جرم نہیں کیا، بجز اس کے کہ بنو قریظہ سے پرانے تعلقات اور ان کے مردو زن کا رونا دھونا دیکھ کر ان کی طبیعت پسیج گئی اور انھوں نے چونکہ آپ کو مشورہ کے لیے طلب کیا تھا کہ ہمیں اپنے آپ کو قلعوں سے اتر کر نبی کریم ﷺ کے سپرد کردینا چاہیے یا نہیں۔ تو آپ کو چونکہ معلوم تھا کہ ان کے کرتوت اور ان کی خطرناک عہد شکنیوں نے معافی کے تمام دروازے بند کردیئے ہیں اور آنحضرت ﷺ کوئی سخت فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تو اس لیے انھوں نے اشارۃً یہ بتلادیا کہ تمہاری خیر نہیں۔ اس سے یہ تو ممکن تھا کہ وہ چند دن اور اڑے رہتے اور مسلمانوں کو محاصرے کی مزید صعوبتیں اٹھانی پڑتیں۔ لیکن جو طے ہوچکا تھا اور جو نوشتہ تقدیر بن چکا تھا وہ تو صاف نظر آرہا تھا۔ لیکن اس تھوڑی سی کوتاہی پر آنحضرت ﷺ کے راز کے افشا ہونے کے خیال سے حضرت ابو لبابہ پر خشیت الہٰی کا ایسا حملہ ہوا کہ وہ آنحضرت ﷺ کا سامنا بھی نہ کرسکے بلکہ براہ راست اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کی تربیت کس قدر مکمل تھی اور وہ کس طرح اللہ سے ڈرتے تھے اور ہر معاملے میں اللہ اور رسول کی رضا کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کی کوتاہی تاریخ میں وہ اہمیت نہیں رکھتی جو اہمیت ان کی توبہ کو ہے اور ان کے اس رویے کو ہے جو انھوں نے اختیار کیا۔ غلطی ہوجانا اور حالات کے تاثر میں بہہ جانا اگرچہ ایک کمزوری ہے لیکن یہ انسانی کمزوری ایسی ہے جس کا صدور عموما ً ہوجاتا ہے۔ لیکن جس طرح سے انھوں نے توبہ کی اور اپنی ذات کو اللہ کے سامنے سپر انداز کردیا وہ ایک ایسی مثال ہے جس پر تاریخ ہمیشہ ناز کرتی رہے گی کیونکہ :
اس دل پہ خدا کی رحمت ہو جس دل کی یہ حالت ہوتی ہے
اک بار خطا ہوجاتی ہے سو بار ندامت ہوتی ہے
جہاں تک اس آیت کے مضمون کے عموم کا تعلق ہے۔ اس کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں امانتوں سے مراد وہ تمام ذمہ داریاں ہیں جو کسی بھی شخص پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے سپرد کی جاتی ہیں۔ خواہ وہ عہد وفا کی ذمہ داریاں ہوں یا اجتماعی معاہدات کی یا جماعت کے رازوں کی یا شخصی یا جماعتی اموال کی یا کسی ایسے عہدہ ومنصب کی جو کسی شخص پر بھروسہ کرتے ہوئے جماعت اس کے حوالے کردے۔ بالعموم یہ سمجھا جاتا ہے کہ امانت اس سرمائے کا نام ہے جو آدمی کسی شخص کے پاس حفاظت کے لیے بطور امانت رکھتا ہے۔ بلاشبہ یہ بھی امانت ہے لیکن جیسے میں نے عرض کیا کہ امانت کا ایک وسیع تصور ہے جس میں پوری انفرادی اور اجتماعی زندگی سمٹ آتی ہے۔ ہم جس ذمہ داری اور جس منصب کو ایک حلف اور وعدے کے ساتھ قبول کرتے ہیں وہ درحقیقت ایک امانت ہے جس میں کسی قسم کی کوتاہی خیانت کہلاتی ہے۔ اس لحاظ سے اگر آپ دیکھیں تو دو آدمیوں کا آپس میں قول وقرار، دو قوموں کے درمیان معاہدات، ہر ذمہ داری سے متعلق رازوں اور فنڈز کی حفاظت، حتی کہ مجلسی باتوں کو دوسروں تک نہ پہنچانے کی احتیاط، یہ سب امانت کا حصہ ہیں۔ لیکن مسلمانوں نے ایک تو امانت کے تصور کو محدود کردیا اور دوسرا اس کی اہمیت آہستہ آہستہ زندگی سے خارج کردی۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ پوری قوم زندگی کے ہر دائرے میں بےاعتبار ہو کر رہ گئی۔ جس مومن کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ مومن وہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنی زندگی بھی اس کے پاس امانت رکھنے کے لیے تیار ہوجائیں اور انھیں بھروسہ ہو کہ ہماری زندگی کو ٹھیس نہیں لگے گی۔ وہ مومن ہر ملکی سطح پر بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی پوری طرح برہنہ ہو کر رہ گیا ہے اور ہماری زندگی کے فیصلے کرنے والوں کو نہ صرف کہ اس کا احساس نہیں بلکہ اس کا اندازہ بھی نہیں کہ ہم کتنے بڑے حادثے سے دوچار ہوچکے ہیں۔
دوسری آیت کریمہ میں وہ تمام ایمانی کمزوریاں جن کا تعلق عہد وفا سے ہو یا حقوق و معاملات سے، وہ مالی خیانتیں ہوں یا ذمہ داری کی خیانتیں، ان کا حقیقی سبب واضح فرمایا گیا ہے۔ انسان جب بھی راہ راست سے پھسلتا ہے یا کسی بھی خیانت کا ارتکاب کرتا ہے تو ہمیشہ اس کے پس منظر اور تہہ منظر میں مال کی محبت یا اولاد کی محبت کی کار فرماہوتی ہے۔ جو آدمی زندگی کا سب سے بڑا مقصد مال و دولت کے حصول کو بنالیتا ہے اسے دولت کی کوئی مقدار بھی آسودگی نہیں بخشتی بلکہ جب وہ کسی ایک مقدار پر پہنچتا ہے تو اس کی جوع البقر اور بھڑکتی ہے وہ استسقاء کے بیمار کی طرح اور زیادہ بےچین ہوتا ہے۔ ایک کارخانے کے بعد دوسرا کار خانہ اور ایک کوٹھی کے بعد دوسری کوٹھی اس کی بےکلی کا سبب بن جاتی ہے۔ جیسے جیسے وہ آگے قدم بڑھاتا جاتا ہے ویسے ویسے اس کی بھوک اور پیاس میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور یہ آگ برابر پھیلتی چلی جاتی ہے تاآنکہ آدمی پر سکرات الموت طاری ہوجاتے ہیں۔ جس طرح مال و دولت کی محبت میں کہیں نقطہ انجماد نہیں اور نہ کہیں نقطہ اختتام ہے یہی حال اولاد کی محبت کا بھی ہے۔ آدمی اپنی ذات میں کفایت بھی کرلیتا ہے، محنت بھی کرتا ہے، مشکل وقت بھی گزار لیتا ہے، لیکن اولاد کا موہوم مستقبل ہمیشہ اسے پریشان رکھتا ہے۔ بچوں کی اعلیٰ تعلیم کی ہوس اور بہتر سے بہتر سکول میں تعلیم اپنی بساط سے باہر ہاتھ پائوں مارنے پر مجبور کرتی ہے۔ جب کوئی جائز راستہ نظر نہیں آتا تو پھر ناجائز راستے اختیار کرنے میں بھی تأمل نہیں ہوتا۔ تاریخ کی بڑی بڑی غداریاں اور بڑی بڑی سازشوں میں شرکت یا مال و دولت کی محبت کی وجہ سے ہوئی ہے اور یا اولاد کی محبت کی وجہ سے۔ اس لیے قرآن کریم نے باربار انہی دونوں چیزوں کو انسان کے لیے آزمائش قرار دیا ہے کہ دیکھنا مال کی محبت تمہیں حلال اور حرام اور جائز ناجائز سے بےنیاز نہ کر دے۔ اسی طرح اولاد کی محبت حق سے انحراف کا ذریعہ نہ بنے۔ اگر تم نے محبت کے ان دونوں رشتوں پر حق کی مہر نہ لگائی اور تقویٰ کی زنجیر نہ پہنائی اور اللہ کا خوف دامن گیر نہ ہوا تو پھر یاد رکھو کہ تم اس آزمائش میں ناکام ہوجاؤ گے۔ یہ صحیح ہے کہ مال و دولت میں بڑی اپیل ہے اور اولاد بڑھاپے کا سہارا ہے لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جو شخص ان دونوں کمزوریوں پر قابو پالیتا ہے اس کے لیے اللہ کے یہاں اجر عظیم ہے۔ اگر اجر عظیم پر ایک مومن مراقبہ کرلے تو کوئی غلط سے غلط اکساہٹ اسے خیانت پر مجبور نہیں کرسکتی۔