Ayahs 8:65–66یٰٓاَیُّھَاالنَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَالِ ط اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ ج وَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّائَۃٌ یَّغْلِبُوْآ اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْابِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لاَّ یَفْقَھُوْنَ ۔ اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا ط فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّائَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ ج وَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْآاَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ۔ (الانفال : 65 تا 66)
(اے نبی ! مومنوں کو جنگ پر ابھارو اگر تم میں سے بیس (20) صابر ہوں تو وہ دو سو (200) پر غالب آئیں گے اور اگر سو (100) آدمی ہوں تو وہ ہزار (1000) کافروں پر غالب رہیں گے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔ اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کردیا اور یہ بات واضح ہوگئی کہ تم میں کمزوری ہے پس اگر تم میں سے سو (100) آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو (200) پر غالب رہیں گے اور اگر ہزار (1000) آدمی ایسے ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے دو ہزار (2000) پر بھاری رہیں گے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ )
مسلمانوں کو قتال پر ابھارنے کی ہدایت
اے پیغمبر ! اللہ کی تائید ونصرت اور ایسے جاں نثاروں کی موجودگی میں آپ کے لیے پریشانی کا کوئی موقعہ نہیں آپ کا کام صرف یہ ہے کہ اب چونکہ کفر سے لڑائی چھڑ چکی ہے اب حق و باطل کا فیصلہ معرکہ کارزار میں ہونے والا ہے اس لیے آپ مسلمانوں کو قتال پر ابھاریئے انھیں اللہ کے وعدے یاد دلا کر ہر طرح کے دشمن دیں سے نبر دآزما ہونے کے لیے تیار کیجئے اور انھیں یہ یاد دلائیے کہ تم اپنی ذات میں کمزور صحیح لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے اندر وہ بجلیاں بھر دی ہیں جن کا سامنا کرنا خس و خاشاک کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس لیے تمہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ تمہارا کام اتنا عظیم اور تمہارے عزائم اتنے بلند ہیں کہ تم اگر بیس آدمی صبر کی تصویر بن کر میدانِ کارزار میں اترو تو یقین جانو کہ تم دو سو پر غالب آسکتے ہو اور اگر تمہاری تعدا دایک سو ہو تو تم ایک ہزار پر بھاری ہو یعنی تم میں سے ایک ایک فرد دس کے مقابلے کے لیے کافی ہے۔ تمہارے اندر اللہ پر اعتماد اس کے وعدوں کا یقین، جان پر کھیل جانے کا جذبہ اور خطرات کے مقابلے میں استقامت، اس درجے کی ہے کہ تمہارا ایک ایک شخص دس پر بھاری ہے اور ایک سو، ایک ہزار پر غالب ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں دو باتیں ارشاد فرمائی جارہی ہیں۔ ایک تو حکم دیا جارہا ہے کہ تم دس گنا دشمن کے مقابلے میں بھی استقامت کا ثبوت دینا۔ دس گنا دشمن کے سامنے سے بھی تمہیں ہٹنے اور پسپائی اختیار کرنے کی اجازت نہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ بشارت دی جارہی ہے کہ اگر تم دس گنا دشمن کے سامنے بھی صبر دکھائوگے اور حوصلے کا ثبوت دو گے تو ہم یقینا تمہیں فتح عطا فرمائیں گے۔ بس شرط صرف ایک ہی ہے کہ تمہارے کسی عمل سے بےصبری کا اظہار نہ ہو۔ دشمن کی تعداد اور ان کی اسلحی قوت دیکھ کر تمہارے دل میں خوف زدگی کے احساسات پیدا ہونے نہ پائیں۔ تم انسان ہوتے ہوئے میدانِ جنگ کی ضرورتوں سے بےنیاز نہیں رہ سکتے لیکن تمہیں یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ افراد اور اسلحے میں طاقت پیدا کرنے والی اللہ کی ذات ہے۔ فیصلہ کن قوت نہ افراد ہیں نہ اسلحہ بلکہ وہ اللہ کی ذات ہے۔ وہ چاہے تو چڑیوں سے ابرہہ جیسا لشکر تباہ کرادے اور چاہے تو فرعون جیسے طاقتور دشمن خدا کو بحر قلزم میں غرق کردے۔ جب بھی کسی فوج کے دل میں یہ تصور اتر جائے کہ فیصلہ کن قوت اللہ کی ذات ہے اور وہ ہمیشہ اہل حق کا ساتھ دیتی ہے تو وہ باطل کی بڑی سے بڑی قوت کو بھی کبھی خاطر میں نہیں لاتی۔ وہ شعلہ بھی ہو تو خس و خاشاک کے ڈھیر کو جلا کر رکھ دیتا ہے اور جن شعلوں کو اللہ نے دنیا کی روشنی کا سامان کرنے اور کفر کے محلات کو جلانے کے لیے اٹھایا ہو ان کی قوت کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا :
وہ چنگاری بھلا خس و خاشاک سے کیونکر دب جائے
جسے حق نے کیا ہو نیستاں کے واسطے پیدا
مسلمان کافر پر بھاری کیوں ہوتا ہے ؟
آیت کے آخر میں اس کی وجہ بھی بیان فرمائی کہ ایک مومن دس کافروں پر بھاری کیوں ہوتا ہے ؟ فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ کافر سمجھ بوجھ نہیں رکھتے۔ مفہوم اس کا یہ ہے کہ کافر یہ تو جانتا ہے کہ لڑنے کے لیے افرادی قوت درکار ہے اور اسلحہ کی قوت کے بغیر کوئی لڑائی جیتی نہیں جاسکتی۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ حق اور باطل میں فرق کیا ہے۔ حق کی طاقتوں کا سررشتہ اللہ کے ہاتھوں میں ہوتا ہے اور باطل ہمیشہ شیطانی سہاروں سے کھڑا ہوتا ہے۔ کافر چاہے کیسی بہادری دکھائے مگر اس کے پیش نظر اپنی جان بچانا اور فتح حاصل کرنے کے سوا اور کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ وہ امکانات کے سہارے آگے بڑھتا ہے۔ وہ زندگی سے پیار کرتا اور موت سے ڈرتا ہے۔ اگر اس کے سامنے چند لاشے گرجائیں تو وہ اپنی موت کا تصور کرکے حوصلہ چھوڑ دیتا ہے۔ اسے اس بات کا بالکل شعور نہیں ہے کہ کسی مقصد کی خاطر خون دینا اور بدرجہ آخر جان دے دینے میں کیا مزہ ہے ؟ اس کے نزدیک انسانی منزل دنیوی نعمتیں ہیں اس کے ادراک سے یہ بات کوسوں دو رہے کہ موت کے بعد بھی ایسی نعمتیں میسر آسکتی ہیں جن کا خیال نہ کبھی کسی دل میں آیا، نہ کسی آنکھ نے انھیں دیکھا اور نہ کبھی کسی کان نے اس کی خوبصورتی کے متعلق کچھ سنا اور جسے اس بات کا یقین ہوجائے کہ اللہ کے راستے میں زندہ رہنا امانت کی ادائیگی ہے اور اس کے راستے میں مرجانا ابدی زندگی کی ضمانت ہے۔ دنیا میں قیام کی مدت گنے چنے چند سال ہیں اور آخرت کے قیام کی مدت ہمارے پیمانوں میں نہیں آسکتی۔ جس شخص کو موت کے بعد کی زندگی اور وہاں ملنے والی آسائشوں اور نعمتوں کا یقین آجائے وہ زندہ رہنے کے لیے نہیں مرنے کے لیے جیتا ہے۔ زندگی کا حریص ہمیشہ کمزوری کا شکار ہوتا ہے اور موت سے کھیلنے والازندگی سے بےنیاز ہو کر جب آگے بڑھتا ہے تو موت اس سے خائف ہوجاتی ہے۔ کافرچون کہ ان تصورات سے بالکل بیخبر ہے اور مومن کا اصل اسلحہ یہی تصورات ہیں اس لیے ایک مومن دس کے مقابلے میں بھی کیا سو کے مقابلے میں بھی کھڑا ہوسکتا ہے۔
مسلمانوں کی ذمہ داری میں تخفیف
اس کے بعد تیسری آیت کریمہ میں فرمایا کہ مومن اور کافر کے اصل مقابلے کا معیار تو یہی ہے اور جب بھی مومن صبر کی ایسی قوت سے میدان میں اترے گا تو اللہ کا یہ وعدہ کہ وہ دس پر ایک مومن کو بھاری رکھے گا ضرور پورا ہوگا لیکن یہ بھی ایک امر واقعہ ہے کہ جیسے جیسے نظریاتی قوت میں وسعت آتی ہے اور حق کے پرستاروں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے تو ان میں ایسے مخلصین بھی ہوتے ہیں جو اپنے اخلاص کے باجود سابقون الاولون کے معیار کو برقرار نہیں رکھ سکتے کبھی نہ کبھی چھوٹی موٹی انسانی کمزوریاں مسلمانوں میں در آتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان انسانی کمزوریوں کا لحاظ فرماتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اب تمہاری ذمہ داریوں میں کمی فرمادی ہے کہ تم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اس بات کو بہت گراں سمجھتے ہیں کہ ایک شخص دس کے مقابلے میں کیسے پورا اتر سکتا ہے ؟ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس تناسب کو کم فرماتے ہوئے اور ان کمزوریوں کا لحاظ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اب ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اب اگر تمہاری تعداد ایک سو ہوگی تو اسے دو سو کے مقابلے میں ثابت قدم رہنا ہوگا اور اگر وہ ایک ہزار ہوں گے تو انھیں دوہزار سے بےساختہ ٹکراجانا ہوگا۔ اب یہ قیامت تک کے لیے مسلمانوں پر لازم کردیا گیا کہ تمہارا اصل معیار تو وہی ہے کہ تم اسے دس گنا دشمن سے بھی خوف نہ کھائو لیکن قیامت تک مسلمانوں کا معیار یکساں نہیں رہ سکتا اس لیے آخری معیار یہ ہے کہ اپنے دگنے دشمن کے مقابلے سے کبھی پسپائی اختیار نہ کرنا۔ کوشش کرنا کہ سیرت و کردار اور اللہ پر اعتماد اور ثابت قدمی اور جاں نثاری میں روز بروز اضافہ ہو اور تم اپنے سے دس گنا دشمن کے سامنے ٹھہرنے کا اپنے اندر حوصلہ پائو۔ لیکن تمہارا معیار اس سے فروتر تو کبھی نہ ہونا چاہیے کہ تم اپنے دوگنا دشمن کے سامنے سے بھی فرار کا راستہ اختیار کرو اور اس بات کو ہمیشہ کے لیے یاد رکھو کہ حق و باطل کی کشمکش یا قوموں کے تصادم میں خوفزدگی ہمیشہ تباہی کی طرف لے جاتی ہے اور ایسی احتیاط جو بزدلی کو بھی شرمادے وہ تاریخ کا حلیہ بگاڑ دیتی ہے۔ جس قوم کے سربراہ اپنے سے بڑے دشمن کے مقابلے میں ہمیشہ وسائل اور اسباب کو سامنے رکھ کر سوچتے ہوں اور دشمن کے وسائل کی فراوانی کو دیکھتے ہوئے خوف زدگی کی بنیاد پر منصوبہ بندی کرتے ہوں ان سے زیادہ اپنی قوم کا دشمن اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ جو قوم مرنے کا فیصلہ کرلیتی ہے اسے دنیا میں کوئی نہیں مارسکتا اور جو قوم بہرصورت زندہ رہنا چاہتی ہے وہ صرف ذلیل ہو کر زندہ رہ سکتی ہے عزت کی زندگی کا راستہ خطرات سے گزرتا ہے۔ آزادی اور سرافرازی کے نخلستان، اس سرزمین پر لہلہاتے ہیں جو شہیدوں کے خون سے سیراب ہوتی ہے۔ جو قوم حبِّ دنیا میں مبتلا ہو کر یا موت سے ڈر کر خون دینے میں کوتاہی کرتی ہے وہ پھر ندامت کے آنسوئوں سے اپنی تاریخ لکھتی ہے جس کا کوئی عنوان عزت اور سربلند نہیں ہوتا۔
جو دیکھی ہسٹری تو دل کو پھر کامل یقیں آیا
جسے مرنا نہیں آیا اسے جینا نہیں آیا
وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ کا یہی مفہوم ہے۔
Ayah 8:67مَاکَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِیْ الْاَرْضِط تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا صلیق وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ ط وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔ (الانفال : 67)
کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دیں۔ تم دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔
سیرت و کردار کا اعلیٰ ترین معیار
گزشتہ آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ مسلمانوں کی سیرت و کردار کی تعمیر کے لیے اعلیٰ ترین معیار مسلمانوں کے سامنے رکھا جارہا ہے اور یہ بتایا جارہا ہے کہ مسلمان دنیا میں واحد گروہ ہیں جو اللہ کے لیے جیتے اور اللہ کے لیے مرتے ہیں۔ وہ نفع وضرر کے تمام پیمانوں کو توڑ کو اور خواہشاتِ دنیا سے منہ موڑ کر ایک ایسے راستے پر چل نکلے ہیں جس میں قدم قدم پر قیامت یں ہیں لیکن اس کی منزل اور انجام اللہ کی خوشنودی اور آخرت کی کامیابی ہے۔ وہ اسلام کا ایسا ہر اول ہیں جس سے تاریخ وجود میں آئے گی اور دنیا ایسے انسانوں کو دیکھے گی جس کی نظیر اس سے پہلے چشم فلک نے نہیں دیکھی۔ اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے جب ہم پیش نظر آیت کریمہ کو دیکھتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی سیرت و کردار کا بلند معیار اللہ کو ایسا عزیز ہے کہ وہ اس میں معمولی کمی بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ مسلمان جب جنگ میں اترتے ہیں تو ان کے پیش نظر اعلائے کلمۃ الحق اور اللہ کی خوشنودی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ فتح عطا فرماتے ہیں تو لوگوں کو قیدی بنانا اور مال غنیمت کا ہاتھ آنا یہ جنگ کے معمولات میں سے ہے اور کسی قوم کو بھی اس سے گریز نہیں۔ لیکن اس سے فی الجملہ چونکہ دنیا اور دولت دنیا کی طرف رغبت معلوم ہوتی ہے اور بلند معیا رسے زوال کے سفر کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے اس لیے پروردگار نے ایسی بات پر بھی سخت سرزنش فرمائی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہی باتیں کسی اور گروہ میں ہوتیں تو قابل قدر سمجھی جاتیں، لیکن مسلمانوں کی فکری اور عملی پاکیزگی کو دیکھتے ہوئے اسے بھی قابل گرفت سمجھا گیا۔ ہم جانتے ہیں کہ استاد اور شاگرد کی سطح کبھی یکساں نہیں ہوتی، راہنما ئوں اور پیچھے چلنے والوں سے ایک جیسے معیار کا تقاضا نہیں کیا جاتا۔ علماء اور مشائخ اور سیاسی لیڈروں کو کبھی ایک ترازو میں نہیں تولا جاتا۔ اسی طرح وہ امت جو دنیا کی سیادت کے لیے اٹھائی جارہی ہے اسے چونکہ مینارہ نور بن کر زندگی گزارنی ہے اور امتوں کے لیے سنگ ہائے میل چھوڑنے ہیں۔ ان کی معمولی فروگزاشت بھی دوررس اثرات کی حامل ہوسکتی ہے۔ اس لیے ان پر گرفت فرمائی اور سخت گرفت فرمائی حالانکہ بات صرف اتنی ہے کہ جب جنگ بدر ختم ہوئی تو مسلمانوں نے اگرچہ بھاگنے والوں کا تعاقب بھی کیا لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زیادہ توجہ تعاقب کی بجائے مال غنیمت اکٹھا کرنا اور دشمن کے افراد کو گرفتار کرنے کی طرف رہی۔ بجائے اس کے کہ وہ قتل عام کے ذریعے ان کی طاقت ہمیشہ کے لیے توڑ دیتے انھوں نے گرفتار کرکے ان کی زندگیاں محفوظ کردیں اور مال غنیمت سمیٹ لینے میں اس لیے بھی زیادہ دلچسپی لی کیونکہ مسلمان بری طرح وسائل کی کمیابی کا شکار تھے اور جب ان گرفتار قیدیوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا وقت آیا تو بجائے ان کی طاقت کچلنے کے فدیہ لے کر انھیں چھوڑ دیا گیا۔ پروردگار نے ان پر گرفت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان اپنی انتہائی ذہانت و فراست اور تقویٰ اور للہیت کے باوجود ابھی تک نبی کریم ﷺ کے اصل ہدف کو سمجھ نہیں سکے۔ ان کا گمان یہ ہے کہ ہم مال اس لیے لے رہے ہیں تاکہ آئندہ دشمنوں سے جنگوں کی تیاری کرسکیں اور قیدیوں سے حسن سلوک اس لیے کررہے ہیں ممکن ہے وہ اسلام کی آغوش میں آجائیں۔ لیکن وہ اس بات کو نہیں سمجھ سکے کہ اللہ کا نبی دنیا میں نہ قیدیوں کو گرفتار کرنے کے لیے آتا ہے اور نہ مال و دولت کو جمع کرنے کے لیے۔ اس کے پیش نظر دشمن کی قوت کو توڑ کر اللہ کے دین کو غالب کرنا ہے۔ وہ تخت وتاج کا طلب گار نہیں بلکہ وہ جھونپڑے میں رہ کر زمین پر اللہ کے نام کو بلند کرنا چاہتا ہے۔ مسلمانوں کو خوب معلوم ہے کہ قیدیوں کا ایک ایک فرد واپس جاکر کفر کی طاقت ثابت ہوگا اور کفر ازسر نو شیرازہ بندی بھی کرے گا اور منصوبہ بندی بھی۔ اگر ان کی طاقت کو کچل دیا جاتا تو پہلی ہی جنگ ان کی طاقت توڑنے کے لیے کافی تھی۔ اصل بات یہ ہے کہ مسلمان اپنی ساری للہیت کے باوجود ابھی تک دنیا کی طلب اور دنیا کی محبت سے کنارہ کش نہیں ہوسکے۔ درحقیقت یہ ایک ایسی فطری طلب ہے جس سے مکمل کنارہ کشی ممکن ہی نہیں۔ لیکن جس قدر کنارہ کشی ہوسکے اس کی اگر امید کی جاسکتی ہے تو مسلمانوں ہی سے کی جاسکتی ہے کیونکہ :
طلب جس کی صدیوں سے تھی زندگی کو
وہ راز اس نے پایا انھیں کے جگر میں
Ayah 8:68لَوْ لَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ ( الانفال : 68)
اگر اللہ کا نوشتہ سبقت نہ کرچکا ہوتا تو جو کچھ تم لوگوں نے لیا ہے اس کی پاداش میں تمہیں بڑا عذاب پہنچتا۔
اس آیت کریمہ میں پروردگار نے مسلمانوں کو سخت تنبیہ فرمائی ہے اور یہ ایسی تنبیہ ہے جو اس کے علاوہ قرآن کریم میں مسلمانوں کو کہیں نہیں فرمائی گئی۔ سوال یہ ہے کہ تنبیہ کس بات پر ہے ؟
دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ ہے کہ مسلمان عذاب عظیم کا شکا رہوجاتے اگر اس سے پہلے اللہ کا نوشتہ نہ لکھا جاچکا ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ یہ نوشتہ کیا ہے ؟
مسلمانوں کو تنبیہہ
جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے اس کا جواب تو پچھلی آیت کریمہ میں موجود ہے اس میں صاف فرمایا گیا ہے کہ تم دنیا کا سامان چاہتے ہو حالانکہ اللہ آخرت چاہتا ہے۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جو کسی اور قوم سے ہو تو شاید قابل معافی ہو، لیکن مسلمانوں سے اس کا صدور قیامت سے کم نہیں کیونکہ دنیا کا ہر فرد اور ہر قوم دنیا کی مسافر ہے۔ ہر مسافر کے پیش نظر ضروریاتِ زندگی ہی نہیں بلکہ دولت دنیا کا حصول ہے۔ دنیا کی محبت سے آزاد ہوجانا دنیا میں رہ کر ممکن دکھائی نہیں دیتا، اس لیے لوگوں نے ترک دنیا یعنی رہبانیت کا راستہ اختیار کیا۔ جو سراسر انسانی فطرت اور اللہ کی مشیت کے خلاف ہے۔ لیکن اس کے خطرناک نتائج سے کسی کو انکار نہیں اگر دنیا اور آخرت کی طلب میں توازن باقی نہ رہے تو دنیا طلبی انسانی زندگی کا مقصد تبدیل کردیتی ہے۔ اس لیے ازبس ضروری ہے کہ کوئی قوم ایسی اٹھائی جائے جو دنیا سے تعلق کو ضبط میں رکھے۔ وہ اسے زیادہ سے زیادہ ضرورت کا درجہ دے، لیکن ہدف اور منزل آخرت ہو۔ مسلمان اسی کار عظیم کے لیے اٹھائے گئے ہیں، اگر وہ بھی اس صراط مستقیم پر نہ چل سکیں تو پھر ہدایت کا نور بجھ جائے گا۔ انسانی راہنمائی کے لیے کوئی ذریعہ باقی نہ رہے گا۔ اس لیے اس پر سخت تنبیہ فرمائی گئی۔ البتہ ! یہ بات دیکھنے کی ہے کہ مسلمانوں نے جنگ بدر میں کس چیز کو ترجیح دی تھی جسے دنیا طلبی کہا گیا ہے ؟ ہمارے محترم مفسرین نے بعض روایات کے حوالے سے لکھا ہے کہ مال غنیمت تم سے پہلے کسی قوم اور کسی امت کے لیے حلال نہیں تھا۔ بدر کے موقعہ میں جب مسلمان مال غنیمت اکٹھا کرنے میں لگ گئے حالانکہ ابھی تک ان کے لیے مال غنیمت حلال نہیں کیا گیا تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ مال غنیمت کے حلال ہونے کا حکم نازل ہونے سے پہلے مسلمانوں کا یہ اقدام ایسا گناہ تھا کہ اس پر عذاب آجانا چاہیے اسی طرح ابھی تک فدیہ لے کر قیدیوں کو چھوڑنے کا حکم بھی نازل نہیں ہوا تھا۔ اس لیے قیدیوں سے فدیہ لینا ایک طرح سے حدود سے تجاوز کرنا تھا۔ لیکن اس بات پر ایک اعتراض ہوتا ہے کہ اگر مال غنیمت یا فدیہ لینا حلال نہیں تھا یا اس کی حلّت کا حکم نازل نہیں ہوا تھا تو آنحضرت ﷺ اور جلیل القدر صحابہ ( رض) نے اس کا فیصلہ کیسے فرمالیا ؟
نوشتہ سے مراد
جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے کہ وہ نوشتہ کیا تھا جس کی وجہ سے عذاب ٹل گیا ؟ ہمارے قدیم مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ حکم ہے جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے کہ اس امت کے لیے مال غنیمت حلال کیا جائے گا اور وہ حکم عنقریب نازل ہونے ہی والا تھا۔ اس حکم کی وجہ سے مسلمانوں سے عذاب ٹال دیا گیا۔
ایک دوسری تحقیق صاحب تفہیم القرآن کی ہے وہ لکھتے ہیں :
(میرے نزدیک اس مقام کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ جنگ بدر سے پہلے سورة محمد میں جنگ کے متعلق جو ابتدائی ہدایات دی گئی تھیں ان میں یہ ارشاد ہوا تھا کہ :
فَاِذَا لَقِیْتُمُُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ ط حَتّٰیٓ اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْ ھُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ قلا فَاِمَّا مَنًّام بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآئً حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَھَا 5 ج (محمد : 4 )
اس ارشاد میں جنگی قیدیوں سے فدیہ وصول کرنے کی اجازت تو دے دی گئی تھی لیکن اس کے ساتھ شرط یہ لگائی گئی تھی کہ پہلے دشمن کی طاقت کو اچھی طرح کچل دیا جائے پھر قیدی پکڑنے کی فکر کی جائے۔ اس فرمان کی رو سے مسلمانوں نے بدر میں جو قیدی گرفتار کیے اور اس کے بعد جو ان سے فدیہ وصول کیا وہ تھا تو اجازت کے مطابق مگر غلطی یہ ہوئی کہ ” دشمن کی طاقت کو کچل دینے “ کی جو شرط مقدم رکھی گئی تھی اسے پورا کرنے میں کوتاہی کی گئی۔ جنگ میں جب قریش کی فوج بھاگ نکلی تو مسلمانوں کا ایک بڑا گروہ غنیمت کو لوٹنے اور کفار کے آدمیوں کو پکڑپکڑ کر باندھنے میں لگ گیا اور بہت کم آدمیوں نے دشمنوں کا تعاقب کیا حالانکہ اگر مسلمان پوری طاقت سے ان کا تعاقب کرتے توقریش کی طاقت کا اسی روز خاتمہ ہوگیا ہوتا۔ اسی پر اللہ تعالیٰ عتاب فرمارہا ہے اور یہ عتاب نبی ﷺ پر نہیں ہے بلکہ مسلمانوں پر ہے۔ فرمانِ مبارک کا منشا یہ ہے کہ ” تم لوگ ابھی نبی کے مشن کو اچھی طرح نہیں سمجھے ہو نبی کا اصل کام یہ نہیں ہے کہ فدیے اور غنائم وصول کرکے خزانے بھرے بلکہ اس کے نصب العین سے جو چیز براہ راست تعلق رکھتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ کفر کی طاقت ٹوٹ جائے۔ مگر تم لوگوں پر باربار دنیا کا لالچ غالب ہوجاتا ہے پہلے دشمن کی اصل طاقت کے بجائے قافلے پر حملہ کرنا چاہا پھر دشمن کا سرکچلنے کے بجائے غنیمت لوٹنے اور قیدی پکڑنے میں لگ گئے پھر غنیمت پر جھگڑنے لگے۔ اگر ہم پہلے فدیہ وصول کرنے کی اجازت نہ دے چکے ہوتے تو اس پر تمہیں سخت سزا دیتے۔ خیر اب جو کچھ تم نے لیا ہے وہ کھالومگر آئندہ ایسی روش سے بچتے رہو جو اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے “۔ میں اس رائے پر پہنچ چکا تھا کہ امام جصاص کی کتاب احکام القرآن میں یہ دیکھ کر مجھے مزید اطمینان حاصل ہوا کہ امام موصوف بھی اس تاویل کو کم ازکم قابل لحاظ ضرور قرار دیتے ہیں پھر سیرت ابن ہشام میں یہ روایت نظر سے گزری کہ جس وقت مجاہدینِ اسلام مال غنیمت لوٹنے اور کفار کے آدمیوں کو پکڑ پکڑکر باندھنے میں لگے ہوئے تھے نبی ﷺ نے دیکھا کہ حضرت سعد بن معاذ ( رض) کے چہرے پر کچھ کراہت کے آثار ہیں۔ حضور نے ان سے دریافت فرمایا کہ ” اسے سعد ! معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کی یہ کارروائی تمہیں پسند نہیں آرہی ہے۔ “ انھوں نے عرض کیا ” جی ہاں یارسول اللہ ! یہ پہلا معرکہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اہل شرک کو شکست دلوائی ہے “ اس موقع پر انھیں قیدی بنا کر ان کی جانیں بچالینے سے زیادہ بہتر یہ تھا کہ ان کو خوب کچل ڈالا جاتا۔ (جلد 2۔ صفحہ 28۔ 281)
اس ناچیز کے خیال میں دونوں تحقیقات میں کوئی بنیادی فرق نہیں صرف تعبیر کا اختلاف ہے۔ صاحب تفہیم القرآن اصل کوتاہی اثخان فی الارض میں کوتاہی کو قرار دیتے ہیں اور جمہور مفسرین مال غنیمت اور فدیہ یعنی دنیا کا مال لینے کو اصل غلطی سمجھتے ہیں اور دوسری یہ بات کہ صاحب تفہیم القرآن کی تحقیق کا دارومدار ” سورة محمد “ کی آیت پر ہے۔ لیکن اس کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ ” سورة محمد “ کو ” سورة الانفال “ پر مقدم مانا جائے جبکہ اہل علم میں اس معاملے میں اختلاف ہے کہ دونوں سورتوں میں نزول کے اعتبار سے تقدم کسے حاصل ہے۔
Ayah 8:69فَکُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلاً طَیِّبًا صلیز وَاتَّقُوا اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ ع (الانفال : 69)
(پس کھائو اس سے جو تمہیں غنیمت سے ملا ہے، وہ حلال اور پاک ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو یقینا اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ )
مالِ غنیمت سے متعلق حکم
گزشتہ دو آیتوں میں چونکہ مال غنیمت حاصل کرنے پر مسلمانوں پر سخت تنقید کی گئی جس سے بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے کہ شاید مال غنیمت مسلمانوں کے لیے حلال نہیں اور سابقہ مذاہب کی روایات سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ سابقہ مذاہب میں مال غنیمت سے فائدہ اٹھانا حلال نہیں تھا بلکہ جنگ میں فتح کے بعد جو مال غنیمت مسلمانوں کو ملتا تھا وہ بجائے اس سے فائدہ اٹھانے کے اسے کسی بلند جگہ پر رکھ دیتے تھے، اگر اللہ کو مسلمانوں کی وہ فتح قبول ہوتی تو آسمان سے ایک آگ نازل ہوتی وہ اس مال غنیمت کو جلا دیتی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرمالیا اور اگر مال غنیمت جلایا نہ جاتا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ اللہ نے اسے قبول نہیں فرمایا، پھر وہ مال وہیں پڑا رہ جاتا، مسلمان اسے منحوس سمجھتے اور کوئی اس کے قریب نہ جاتا۔ ان روایات سے یہ شبہ ہوتا تھا کہ شاید اب بھی مال غنیمت مسلمانوں کے لیے حلال نہیں ہے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں اس شبہ کو دور کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ
(تمھیں جو مال غنیمت ملا ہے اسے شوق سے کھائو وہ تمہارے لیے حلال بھی ہے، پاکیزہ بھی)
تنقید اس بات پر نہیں کہ مال غنیمت حلال ہے یا نہیں بلکہ تنقید اس بات پر ہے کہ تم نے دشمن کی قوت توڑنے سے پہلے مال غنیمت جمع کرنا شروع کردیا۔ اس طرح سے ایک ایسی چیز کو ترجیح دی جو ترجیح کے قابل نہ تھی۔ مزید فرمایا کہ یہ حلال بھی ہے اور طیب بھی اس لیے کہ حلال اور حرام ٹھہرانا یہ سراسر اللہ کا اختیا رہے چناچہ اس نے جب اسے مسلمانوں کے لیے جائز قرار دے دیا تو اب اس کے حلال ہونے میں کوئی شبہ نہ رہا اور اسی طرح جس چیز کو پروردگار حلال کردیتے ہیں وہ پاکیزہ بھی ٹھہرتی ہے کیونکہ مسلمانوں کے لیے تمام پاکیزہ نعمتیں حلال کی گئی ہیں اور جن چیزوں میں کسی طرح کی نجاست پائی جاتی ہے چاہے وہ عقیدے کی نجاست ہو یا خلقی نجاست ان چیزوں کو اللہ نے حرام قرار دے دیا ہے۔ اس لیے تمام خبائث کو حرام قرار دیا گیا ہے اور غیر اللہ کے نام پر پُن کیے جانے والے یا ذبح کیے جانے والے جانور حرام قرار دیئے گئے ہیں کیونکہ ان میں عقیدے کی گندگی پائی جاتی ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے کہ مسلمانوں سے مال غنیمت کے معاملے میں اگرچہ جلد بازی میں کچھ کو تاہیاں ہوگئیں لیکن اللہ تعالیٰ انھیں معاف فرماچکا ہے، اب وہ سرتاسر اللہ کے رحم کے مستحق ہیں۔
Ayahs 8:70–71یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْٓ اَیْدِیْکُمْ مِّنَ الْاَسْرٰٓیلا اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰہُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ خَیْرًا یُّؤْتِکُمْ خَیْرًامِّمَّآ اُخِذَ مِنْکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ وَاِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَکَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰہَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْکَنَ مِنْھُمْطوَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (الانفال : 70، 71)
اے نبی ! کہہ دیجئے ان سے جو آپ کے ہاتھوں میں قیدی ہیں، اگر اللہ تمہارے دلوں میں کوئی بھلائی پائے گا تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر تم کو وہ عطا فرمائے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ اور اگر یہ تم سے بد عہدی کریں گے تو اس سے پہلے انھوں نے اللہ سے بد عہدی کی تو اللہ نے تم کو ان پر قابو دے دیا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے۔
بدر کے قیدیوں سے خطاب
ان آیات کریمہ میں جنگ بدر میں پکڑے قیدیوں سے آنحضرت ﷺ کے واسطے سے خطاب فرمایا جارہا ہے۔ جس میں ان کے لیے ایک پیغام بھی ہے اور دھمکی بھی۔ پیغام یہ ہے کہ تمہاری واضح اکثریت ان لوگوں پر مشتمل ہے جنھوں نے اسلام کا راستہ روکنے اور مسلمانوں کی اذیت رسانی میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تمہارے لگائے ہوئے زخم ابھی تک مسلمانوں کے دلوں پر تازہ ہیں اور پھر جنگ بدر کی صورت میں تمہارا حملہ بجائے خود مسلمانوں کے استیصال کے لیے تھا تم یہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ تمہیں ایسی رسوا کن ہزیمت سے واسطہ پڑے گا۔ تمہاری تاریخ اور تمہارے کارنامے باربار سفارش کررہے ہیں کہ تمہیں زندہ نہ چھوڑا جائے اور اگر تمہیں زندہ چھوڑا گیا تو تم واپس جاکر اسلام اور مسلمانوں کی بیخ کنی کے سوا اور کچھ نہیں کروگے۔ لیکن اس کے باوجود اللہ کے نبی اور اس کے ساتھیوں نے تم سے فدیہ لے کر آزاد کردینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ایک ایسی نعمت غیر مترقبہ اور ایسا احسانِ عظیم ہے جس کا تصور بھی تمہارے دلوں میں نہیں گزرا ہوگا۔ لیکن یہ احسان تم پر اس لیے کیا گیا ہے تاکہ تمہیں اندازہ ہوجائے کہ اسلام دنیا میں گردنیں کاٹنے اور ملکوں پر قبضہ کرنے کے لیے نہیں آیا بلکہ اس کے پیش نظر ایک ایسا انقلاب ہے جس کے نتیجے میں انسان کے اندر تبدیلی آئے اور وہ اپنے کفر وجحود اور غفلت سے نکل کر اللہ کے آستانے پر جھک جائے اور وہ ہدایت کا راستہ اختیار کرکے دنیا اور آخرت کی تباہی سے بچ جائے۔ تمہیں زندہ رہنے کا موقعہ اس لیے دیا جارہا ہے کہ تم آزاد ہو کر آزادانہ سوچ کے بعدخوش دلی سے یہ فیصلہ کرو کہ اسلام اور اللہ کی اطاعت بہتر ہے یا کفر اور شرک ؟ اور پھر اگر تم صحیح فیصلہ کرنے میں کامیاب ہوجاؤ تو یاد رکھو ! ایک طرف تو اللہ تعالیٰ تمہیں جہنم سے آزادی دے کر جنت کا وارث بنا دے گا اور دوسری طرف فدیہ کی صورت میں جو کچھ تم سے حقیر مال لیا گیا ہے اس سے بہت زیادہ تمہیں واپس کرے گا۔ چناچہ جن لوگوں نے اس کے بعد اسلام قبول کیا اس میں سے ایک ایک شخص کی زندگی اس سچائی کی منہ بولتی تصویر تھی اور حضرت عباس ( رض) کا واقعہ جو مفسرین نے اس آیت کے شان نزول کے طور پر بیان کیا ہے وہ بجائے خود اس کی وضاحت کے لیے کافی ہے۔
حضرت عباس ( رض) بھی بدر کے قیدیوں میں شامل تھے چناچہ جب ان سے فدیہ کا مطالبہ کیا گیا تو انھوں نے آنحضرت ﷺ سے گزارش کی کہ میں اپنے ساتھ سات سوگنی سونا لے کر آیا تھا جو مسلمانوں نے میری گرفتاری کے وقت مجھ سے لے لیا۔ آپ فدیہ کی رقم میرے اس مال میں سے کاٹ لیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آپ یہ مال کفر کی مدد اور کافروں پر خرچ کرنے کے لیے لائے تھے چناچہ آپ کی گرفتاری کے ساتھ وہ مال بھی مال غنیمت بن گیا اب وہ مال مسلمانوں کا ہے آپ کا اس پر کوئی حق نہیں۔ مزید فرمایا کہ آپ کے دو بھتیجے بھی مسلمانوں کی قید میں ہیں، عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث، ان دونوں کا فدیہ بھی آپ ادا کیجئے کیونکہ وہ اپنے طور پر فدیہ ادا نہیں کرسکتے اور آپ ان کے ولی اور بزرگ ہیں اس لیے آپ کو ان کا زرِ فدیہ ادا کرنا چاہیے۔ حضرت عباس ( رض) نے کہا کہ اگر آپ اتنا مالی بار مجھ پر ڈالیں گے تو مجھے واپس جا کر قریش سے بھیک مانگنا پڑے گی کیونکہ میں اس کے بعد بالکل فقیر ہوجاؤں گا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آپ نے مکہ سے روانگی کے وقت جو مال اپنی زوجہ ام الفضل کو دیا تھا وہ مال بھی تو آپ کا ہے۔ حضرت عباس نے حیران ہو کر کہا : آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا ؟ کیونکہ میں نے وہ مال رات کی تاریکی اور تنہائی میں اپنی بیوی کے سپرد کیا تھا، کوئی تیسرا آدمی اسے دیکھنے والا نہ تھا۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے میرے رب نے اس کی تفصیل بتائی ہے۔ حضرت عباس ( رض) جو پہلے ہی آپ سے مخلصانہ تعلق رکھتے تھے یہ جواب سن کر ان کی عقیدت میں اور اضافہ ہوگیا اور انھیں یقین ہوگیا کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ آپ اسی وقت اسلام کا اظہار کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے لیے مشکل یہ تھی کہ ان کا بہت سا روپیہ قریش کے ذمہ قرض تھا۔ اگر وہ اس وقت مسلمان ہونے کا اعلان کردیتے تو وہ روپیہ مارا جاتا اور مزید یہ بات بھی کہ آنحضرت ﷺ یہ پسند نہیں فرماتے تھے کہ کوئی قیدی قید سے مجبور ہو کر اسلام قبول کرنے کا اعلان کرے۔ فتح مکہ سے پہلے حضرت عباس ( رض) نے ایک دفعہ پھر اپنے اسلام کے اظہار اور ہجرت کی آنحضرت ﷺ سے اجازت چاہی لیکن آپ نے ان کو یہی مشورہ دیا کہ آپ مکہ میں رہیں تاکہ ہمیں قریش کے حالات کی اطلاع ملتی رہے۔
قرآن کریم کا یہ پیغام کہ قیدیوں سے جو کچھ لیا گیا ہے اس سے بہت بہتر ان کو دیا جائے گا اس کے بارے میں حضرت عباس ( رض) کہتے ہیں کہ میں تو اس وعدہ کا ظہور اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں کیونکہ مجھ سے بیس اوقیہ سونا فدیہ میں لیا گیا تھا۔ اس وقت میرے بیس غلام مختلف جگہوں میں تجارت کر رہے ہیں اور کسی کا کاروبار بیس ہزار درہم سے کم نہیں ہے اور اس پر مزید انعام یہ ہے کہ مجھے حجاج کو آب زم زم پلانے کی خدمت سپرد کی گئی ہے جو میرے نزدیک ایسا گراں قدر کام ہے کہ سارے مکہ کے اموال بھی اس کے مقابلہ میں ہیچ ہیں۔
دوسری آیت کریمہ میں مسلمانوں کے ایک خدشے کا جواب دیا گیا ہے کہ اگر مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ قیدی آزادی کے بعد وطن جاکر اپنے وعدوں کا ایفا نہیں کریں گے اور مسلمانوں کے احسانات کو یکسر نظرانداز کرکے پھر مسلمانوں کی دشمنی اور اسلام کو نقصان پہنچانے کا کام شروع کردیں گے تو اس سلسلہ میں میں آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے اور قیدیوں کو دھمکی دی گئی ہے۔ تسلی کا مضمون یہ ہے کہ اگر یہ آپ سے واپس جاکرخیانت کریں اور آپ کے احسانات سے یکسر بےوفائی برتیں تو اس میں نئی بات کیا ہے ؟ یہ تو پہلے بھی ایسا کرچکے ہیں۔ اللہ نے ان پر کیسے کیسے احسانات کیے، انھیں حرم کا مکین بنایا، حرم کی پاسبانی ان کے حوالے کی، ملتِ ابراہیم کی وراثت ان کے سپرد کی گئی۔ انھوں نے نہ حرم کے تقدس کا خیال کیا اور نہ ملت ابراہیمی کے بگاڑ سے باز آئے۔ بدر میں جو کچھ بھی ان کے ساتھ ہوا یہ اسی بےوفائی کی پہلی سزا ہے اور اگر اب بھی یہ اس طرز عمل سے باز نہ آئے تو اے پیغمبر ! یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ ہم نے جس طرح پہلے آپ کو ان پر حاوی کیا اور انھیں آپ کے قابو میں دے دیا اسی طرح آئندہ بھی ہم آپ کو ان پر غالب رکھیں گے۔ لیکن ہم انھیں زندگی دے کر انھیں سنبھلنے کا ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں تاکہ اگر وہ چاہیں تو اپنی زندگی بھی بنالیں اور آخرت بھی۔