Ayah 8:72اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْابِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ اٰوَوْاوَّنَصَرُوْآ اُولٰٓئِکَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍط وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یُھَاجِرُوْا مَالَکُمْ مِّنْ وَّلَایَتِھِمْ مِّنْ شَیْئٍ حَتّٰی یُھَاجِرُوْا ج وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْکُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰی قَوْمٍ م بَیْنَکُمْ وَبَیْنَھُمْ مِّیْثَاقٌ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔
( الانفال : 72 )
(بےشک جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اپنی جان ومال سے اللہ کی راہ میں اور وہ لوگ جنھوں نے پناہ دی اور مدد کی یہی لوگ باہم دگر ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان تو لائے لیکن انھوں نے ہجرت نہیں کی تمہارا ان سے کوئی رشتہ ٔ ولایت نہیں یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں اور اگر وہ مدد طلب کریں تم سے دین کے معاملے میں تو تم پر مدد واجب ہے مگر یہ کہ یہ مدد کسی ایسی قوم کے مقابلے میں ہو جن کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہو اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس کو دیکھ رہا ہے۔ )
اسلام میں اجتماعی زندگی کی اہمیت اور اس کی اساسات
پیشِ نظر آیات کریمہ سے پیشتر آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے سامنے یہ بات کھول کر رکھ دی ہے کہ تم نے ہدایت کا جو راستہ اختیار کیا ہے اور دنیا کو جس نئی روشنی کی طرف بلانے کے لیے اٹھے ہو اس کے نتیجے میں راتوں کے مسافر اور گمراہیوں کو زندہ رکھنے والے تمہارے لیے جینا مشکل کردیں گے۔ ان کے ہاتھوں سے جنگل کے درندوں کو کوئی خطرہ نہیں۔ چور اور ڈاکو ان کے لیے قابل برداشت ہیں۔ لیکن جو لوگ انھیں کسی طرح گوارا نہیں وہ تم ہو کیونکہ وہ تمہاری زندگی میں اپنی موت دیکھتے ہیں۔ عنقریب تمہیں ایک بڑی کشمکش اور ایک بڑے تصادم سے سابقہ پیش آنے والا ہے۔ اس کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ تم اپنی شیرازہ بندی کی بنیادوں کو اچھی طرح سمجھ لو اور جو چیزیں تمہارے وجود اور تمہاری بقا کی ضامن ہیں انھیں اچھی طرح ذہن نشین کرلو اور اپنی اجتماعی زندگی کو انھیں اساسات پر اٹھائوجن پر تمہاری اجتماعی زندگی کی عمارت استوار ہوسکتی ہے۔
اسلام جس ماحول میں آیا اس میں اجتماعی زندگی کی بنیاد اور باہمی توافق اور تخالف کی اساس قبیلے کی عصبیت پر قائم تھی۔ خاندان کی مختلف شاخیں پھیل کر جب ایک قبیلے کی شکل اختیار کرلیتی تھیں تو وہ اجتماعی زندگی کا حصار بن جاتا تھا۔ قبیلے کا ہر فرد قبیلے کی عصبیت کو اپنی قوت اور طاقت سمجھتا تھا اور قبیلہ اپنے ایک ایک فرد کی حفاظت ونصرت اپنا فریضہ خیال کرتا تھا۔ قبیلے کے کسی فرد سے باہر کے کسی آدمی کی لڑائی ہوجاتی تو قبیلے کے فرد کے لیے صرف قبیلے کا نام لے کر دہائی دینا اور مدد کے لیے پکارنا کافی تھا۔ قبیلے کا کوئی فرد یہ جاننا ضروری نہیں سمجھتا تھا کہ لڑائی میں حق پر کون ہے اور ناحق پر کون۔ انھیں تو صرف اتنا معلوم تھا کہ جب ہمارے قبیلے کا کوئی آدمی قبیلے کے نام پر ہمیں مدد کے لیے پکارتا ہے تو ہمیں اس کی مددصرف اس لیے کرنی ہے کہ وہ ہمارے قبیلے کا آدمی ہے۔ قطع نظر اس سے کہ وہ غلطی پر ہے یا صواب پر۔ قبیلے کا غلام بھی قبیلے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے اتنا اہم ہوجاتا تھا کہ دوسرے قبیلے کا سردار بھی اس کی مخالفت مول نہیں لے سکتا تھا ورنہ اسے قبیلے کی دشمنی سے واسطہ پڑتا تھا۔
توافق و تخالف اور تعاضد و تناصر کی یہ بنیاد اس قدر پختہ اور ہمہ گیر تھی کہ حلیف قبائل بھی اس میں شریک ہوجاتے تھے اور پھر اسی بنیاد پر سالوں تک لڑائیاں چلتی تھیں اور ہزاروں لوگ تہِ تیغ ہوتے تھے۔ اسلام نے سب سے زیادہ زور اسی بنیاد کو بدلنے پر صرف کیا۔ کوئی بھی اجتماعی نظم اس بات کا انکار نہیں کرسکتا کہ اجتماعی زندگی کے لیے باہمی تعاون کی کوئی مشترکہ بنیاد ہونی چاہیے۔ جس کی وجہ سے اجتماعی زندگی میں شریک ایک ایک فرد حرکت میں آجائے۔ لیکن اصل سوال یہ تھا کہ وہ بنیاد کیا ہو ؟ عربوں نے قبیلے کی وحدت کو اجتماعیت کی بنیاد بنایا، اسی کی عصبیت کو اس کی مضبوطی کے لیے استعمال کیا لیکن اس کا نتیجہ جو ہر صاحب بصیرت پر روشن تھا وہ یہ تھا کہ اس کے نتیجے میں قبائل کی آویزش اور دشمنی بجائے کم ہونے کے روزافزوں تھی۔ جس کی وجہ سے پورا عرب دہکتا ہوا جہنم بن چکا تھا۔ اسلام نے اجتماعیت کی بنیاد کو تسلیم کیا لیکن قبیلے کی عصبیت کو صالح اجتماعیت کا دشمن قرار دیا۔ اس نے اجتماعیت کے لیے وہ بنیادیں فراہم کیں جس کی نتیجے میں نہ صرف قبیلے کی عصبیت ختم ہوئی اور انسان اس تنگ نائے سے نکلنے پر قادرہوا بلکہ عرب سے باہر دنیا نے رنگ ونسل اور جغرافیے کو جس طرح وحدت کا ذریعہ سمجھ رکھا تھا اس گمراہی کا بھی ازالہ فرمایا اور مسلمانوں پر نہایت کامیابی سے یہ راز آشکارا کیا کہ تم ایک ایسے دین کے داعی بن کر اٹھے ہو جو پوری نوع انسانی کی ضرورت ہے جس طرح اس کا محتاج عرب ہے اسی طرح عجم بھی ہے۔ جس طرح کالے اور سانولے اس سے فائدہ اٹھانے کے پابند ہیں اسی طرح گورے اور سرخ بھی اسی کی تعلیم کے محتاج ہیں۔ اگر تم اپنی پرانی بنیادوں کو نہیں توڑوگے اور قبیلے کے محدود ماحول سے نہیں نکلو گے تو دنیا کے دوسرے ملکوں اور انسانوں کے پورے قافلے میں تمہاری دعوت کیسے قبول کی جائے گی ؟ اور یہ بات بھی ان پر واضح کی کہ دنیائے کفر جب تمہارے خلاف متحد ہو کر تم پر حملہ آور ہوگی تو تم نے اگر وسیع تر بنیادوں پر اپنی صف بندی نہ کی تو ان کا مقابلہ کیسے کرسکوگے ؟ چناچہ ان ضرورتوں کے پیش نظرآیاتِ کریمہ میں ان اساسات کو واضح فرمایا جن پر مسلمانوں کی قومی وحدت استوار کی جاسکتی ہے۔
پانچ بنیادیں
پیشِ نظر آیت کریمہ میں اسلامی اجتماعیت اور اسلامی وحدت کے لیے پانچ بنیادوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
1 ایمان : ایمان چند بنیادی حقائق کا زبان سے اقرار کرنے، دل سے تصدیق کرنے اور اعضاء وجوارح سے اس کے مطابق عمل کرنے کا نام ہے۔ ایمان یقین کی وہ قوت ہے جس سے ایک عام آدمی کا رشتہ اپنے خالق ومالک سے قائم ہوجاتا ہے۔ وہ اس کی کبریائی کو اس طرح دل ونگاہ میں بٹھا لیتا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کی نظروں میں جچتی نہیں۔ دنیا کا کوئی نظریہ اس کے لیے قابل قبول نہیں رہتا کسی آستانے پر اس کا سر نہیں جھکتا اور کسی کے سامنے وہ دست سوال دراز نہیں کرتا۔ وہ زندگی کا ہر فیصلہ اس شریعت کے مطابق کرتا ہے جو اسے اپنے اللہ سے ملی ہے اور اس کی زندگی کے لیے عملی نمونہ وہ رسول گرامی ہے جسے اللہ نے انسانوں کے لیے ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا ہے۔ وہ اپنے ہر عمل سے پہلے یہ سوچتا ہے کہ جب اللہ کے روبرو حاضری ہوگی تو کیا میں اپنے عمل کا جواب دے سکوں گا یانھیں ؟ یہ زندگی دارالعمل ہے اس کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ یہ زندگی آنے والی زندگی کی تیاری میں صرف ہوجائے۔ جو شخص ان بنیادی حقائق کو تسلیم کرلیتا ہے وہ ایک نئی امت اور نئی اجتماعی قوت کا رکن بن جاتا ہے اس کا قبیلے کی عصبیت سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ تعاضد و تناصر میں قبیلے کے اشتراک کو نہیں دیکھتا بلکہ ایمان کے اشتراک کو دیکھتا ہے۔ وہ اگر قریشی ہے تو اس کا ابو لہب اور ابوجہل سے کوئی رشتہ نہیں حالانکہ وہ اس کے خاندان کے لوگ ہیں۔ اس کا رشتہ بلال ( رض) سے ہے، صہیب ( رض) سے ہے یا ایسے ہی دوسرے لوگوں سے جو اللہ کے رسول کی دعوت پر ایمان لا چکے ہیں۔ بلال کالا کلوٹاسہی اور صہیب رومی غلام سہی، لیکن یہ اس نئی اجتماعیت کے افراد ہیں جن کی بنیاد ایمان پر ہے۔ اس اجتماعیت میں شریک لوگ نفع و ضرر کے احساسات میں ایک دوسرے کے شریک ہیں۔ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے لیے جیتے اور ایک دوسرے کے لیے مرتے ہیں۔ ان سب کے پیش نظراسی نئی بنیاد اور وحدت پر امت کے دائرے کو وسیع کرنا ہے۔ وہ شب وروز اسی دھن میں گزار تے ہیں کہ کس طرح ایک ایک شخص کو اس نئی وحدت میں شامل کیا جائے۔ جب مخالف قوت ان کا جینا مشکل کردیتی ہے اور ان کی دعوت کے راستے بند کردیتی ہے تو وہ اپنے اس مضبوط تعلق کو ثابت کرنے کے لیے ایک فیصلہ کرتے ہیں، جس سے اسلامی اجتماعیت کی دوسری بنیاد جنم لیتی ہے۔
2 ہجرت : ہجرت درحقیقت ایمان کی قیمت ادا کرنا ہے اور یہ ثابت کرنا ہے کہ ہمارا وہ شہر جس میں ہمیں وجود ملا اور ہمارے وہ گھر جس میں ہم نے شب وروز گزارے اور ہمارے وہ بڑے جن کی شفقت کے سائے میں ہم پروان چڑھے اور ہمارے وہ بھائی اور ساتھی جن کے ساتھ کھیلتے ہوئے ہم جوان ہوئے۔ ہمارے مکانات، ہمارے باغات، ہمارے کاروباران میں سے کوئی چیز ایمان اور دین کا بدل نہیں ہوسکتی۔ اگر کفر کی طاقتیں ہمارے لیے ایمان کے ساتھ جینامشکل کررہی ہیں تو ہم ایسے شہر، ایسے تعلق دار اور ایسے ماحول کو اپنے دین پر قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ چناچہ وہ محض اپنے ایمان کی حفاظت اور اسلامی ذمہ داریوں کی بجاآوری کے لیے اپنا وطن چھوڑدیتے ہیں۔ وہ دیس کی راحتوں پر اس پردیس کو ترجیح دیتے ہیں جس میں ان کی ایمانی زندگی سلامت ہو۔ چناچہ ایمانی زندگی کی حفاظت کے لیے وطن چھوڑدینا اور ایک ایک تعلق سے دستبردار ہوجانا ” ہجرت “ کہلاتا ہے۔
آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ہجرت بھی ایمان کی طرح فرض تھی۔ چناچہ جو لوگ ہجرت کرنے میں تأمل کرتے تھے ان کے ایمان کو بےاعتبار ٹھہرادیا جاتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایمان کوئی ساکت وجامد چیز نہیں۔ یہ عمل کی صورت میں اسلام بن جاتا ہے اور اسلام اللہ کے تمام احکام کی اطاعت کا نام ہے اور اللہ کے احکام آنحضرت ﷺ پر مسلسل نازل ہورہے تھے جنھیں آہستہ آہستہ پایہ تکمیل کو پہنچنا تھا۔ جو شخص ہجرت کرکے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں نہیں پہنچتا تھا وہ اسلامی احکام سے بہرہ ور نہیں ہوسکتا تھا۔ اس کی اسلامی زندگی بھی ادھوری رہتی اور اسلامی تربیت بھی نامکمل رہتی تھی اور دوسری یہ بات کہ مسلمان جس روشنی کو لے کر اٹھے تھے اس کا چراغ صرف ان کے اپنے گھروں ہی میں نہیں جلنا تھا بلکہ اس شمع کو ہر اس جگہ پہنچنا تھا جہاں کہیں انسان بستے تھے اور جہاں دھرتی پانی دیتی تھی۔ یہ ایک جانگسل کشمکش کا آغاز تھا جس میں حق و باطل کے قدم قدم پر معرکے تھے۔ اس لیے یہ بات انتہائی ناگزیر تھی کہ آنحضرت ﷺ کی صحبت میں زیادہ سے زیادہ ایسے افراد کا ہجوم ہوتا جن میں سے ایک ایک کے دل میں طوفان موجزن ہوتے۔ آئے دن جن کی تعداد میں اضافہ ہوتا تاکہ اہل حق کی اتنی بڑی قوت وجود میں آجائے جو کفر کے اجتماعی جتھوں کا مقابلہ کرسکے۔ ان ضرورتوں کے پیش نظر مسلمانوں پر لازم کردیا گیا کہ وہ جہاں کہیں بھی ایمان لائیں اپنا گھر اور وطن چھوڑ کر اللہ کے رسول کی خدمت میں مدینہ طیبہ ہجرت کرجائیں۔ ان دو بنیادوں نے ایک امت کی تشکیل و تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا۔
3 پناہ دینا : مختلف علاقوں سے لوگ جب ہجرت کر کے مرکز اسلام میں پہنچیں گے تو سب سے پہلی ضرورت جو پہلے ہی دن پیش آئے گی وہ یہ ہے کہ کیا مرکز اسلام اور وہاں کے رہنے والے ان نئے آنے والے مہمانوں کے لیے پناہ گاہ بننے کے لیے بھی تیار ہیں یا نہیں کیونکہ کسی بھی ملک یا شہر پر مہاجرین کا ہجوم ایک ایسا مسئلہ ہے جو قوموں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ کسی ملک میں حالات خراب ہوتے ہیں تو بعض دفعہ وہاں کے عوام پناہ کے لیے ہمسایہ ملک کا رخ کرتے ہیں اور ہمسایہ ملک کے لیے انھیں پناہ دینا اور ان کی ضروریات کا فراہم کرنا بعض دفعہ ایسا مسئلہ بن جاتا ہے کہ دوسرے ملکوں سے اپیلیں کرنی پڑتی ہیں۔ لیکن جب معاملہ ایک ایسی امت کا ہو جو نئی بنیادوں پر وجود میں آرہی ہے اور پرانی جاہلیت اور پرانا سماج انھیں کسی طرح گوارا کرنے کو تیار نہیں تو ایسی صورت میں ان کی مدد کے لیے اپیل بھی بےمعنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس ہجرت کا بوجھ تمام تر ان لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے جو پہلے سے ان کی نظریاتی زندگی سے وابستہ اور ایمانی توانائی سے آراستہ ہوں کیونکہ دوسرا کوئی شخص اس میں شریک ہونے کے لیے تیار نہیں ہوسکتا۔ اس لیے جس طرح ہجرت ایک مشکل معاملہ ہے اور اس کا فیصلہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جو سوچ سمجھ سے اللہ سے وابستگی کا عہد کرچکے ہوں، اسی طرح انھیں پناہ دینے کا فیصلہ بھی آسان نہیں۔ اس کا ارادہ بھی وہی لوگ کرسکتے ہیں جو پوری دنیا سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
4 نصرت : مہاجرین کو صرف پناہ دینا کافی نہیں بلکہ ان کے لیے ضروریات کی فراہمی بھی ناگزیر ہے۔ ان کی رہائش کا بندوبست، ان کے کھانے پینے کا انتظام، ان کے کاروبار کی کوئی شکل و صورت، ان میں سے کوئی بات ایسی نہیں جسے نظرانداز کیا جاسکے یہی وہ چیز ہے جسے ” نصرت “ کہا گیا ہے۔ چناچہ جن لوگوں نے ہجرت کی اور مرکز اسلام کو اپنا وطن بنایا انھیں ” مہاجر “ کہا گیا اور جن لوگوں نے انھیں ٹھکانہ دیا اور نصرت کی انھیں ” انصار “ کے معزز لقب سے یاد کیا گیا۔ جس طرح مہاجرین نے ہجرت کی صعوبتیں اٹھاکر ایمان واخلاص کی نئی نئی جہتوں کو آشکارا کیا اسی طرح انصار نے نصرت و ایثار کی وہ مثالیں قائم کیں جنھیں چشم فلک نے کبھی نہ دیکھا تھا۔ انصار نے اپنے گھر مہاجرین کے لیے خالی کردیئے، اپنی زمینیں تقسیم کرنے کے لیے تیار ہوگئے، بعض لوگ تو اس حد تک سراپا ایثار بن گئے کہ ان میں سے کسی ایک کی اگر دو بیویاں تھیں تو اس نے اپنے مہاجر بھائی سے کہا کہ میں ایک بیوی کو طلاق دے دیتا ہوں تم اس سے نکاح کرلو۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے اس کی اجازت نہیں دی۔ مہاجر اور انصار دونوں اسی عرب قوم کے افراد تھے جو اپنے قبیلے سے باہر کسی آدمی کے لیے کلمہ خیر کہنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ ان کی ہمدردیاں اور محبتیں صرف اپنے قبیلے کے افراد تک محدود تھیں اور اب ان کی محبت اور نصرت کے لیے ایمان اور ہجرت کا حوالہ کافی تھا۔ اس تعلق نے ان کے درمیان ایک ایسے مضبوط رشتے کو وجود دیا جس کی وجہ سے باقی تمام رشتے ماند پڑگئے۔ اس مضبوط شیرازہ بندی اور مخلصانہ معنوی وحدت نے عزم و حوصلہ کی ایک ایسی قوت کو جنم دیاجس کے نتیجے میں وہ اپنے مال اور اپنی جانیں اللہ کے راستے میں قربان کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ چناچہ یہ وہ جذبہ بےپناہ ہے جسے ” جہاد “ سے یاد کیا جاتا ہے۔
5 جہاد : جہاد ایک جہدِ مسلسل کا نام ہے۔ جس میں نہ اپنی ذات پیش نظر ہوتی ہے نہ مال ومتاع کا حصول، نہ شہرت وناموری، نہ کسی ملک پر قبضہ کرنا، نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی، صرف ایک فکر ہوتی ہے کہ اللہ کے دین کی دعوت تمام نوع انسانی تک پہنچ جائے۔ جن قوتوں نے اس دعوت کا راستہ روک رکھا ہے اور وہ اس آب حیات کو دوسروں تک پہنچنے کی اجازت نہیں دیتے ان قوتوں سے ٹکرانا اور راستے سے ہٹانا جہاد کی ایک ضرورت بن جاتا ہے۔ مقصود صرف اللہ کی دعوت کو پہنچانا ہے اگر اس کے لیے راستے ہموار ہیں تو کوئی تصادم نہیں ہوتا۔ لیکن اگر تخت وتاج کے مالک اس دعوت کو اپنے تخت و تاج کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں تو پھر ان سے نبردآزما ہوجانا ضروری ہوجاتا ہے۔
بہرحال یہ پانچ بنیادیں ہیں جن پر ایک امت کی عمارت اٹھائی جاتی ہے۔ جن میں نظریاتی وحدت کی قوت بھی ہے اور اس راستے میں ہر چیز کو چھوڑدینے کی صلاحیت بھی اور اگر اس کے لیے اپنا مال ومتاع قربان کرنا پڑتا ہے تو اس کے لیے ایثار کی قوت بھی ہے۔ پھر یہ تمام معنوی قوتیں مل کر ایک ایسے لشکر میں بدل جاتی ہیں جو اللہ کے نام کی سربلندی اور اس کے دین کی بالادستی کے لیے بہ ہمہ وجود تیار رہتا ہے اور یہ لوگ آپس میں ایسا گہرا رشتہ رکھتے ہیں جس کی گہرائی خونی رشتے سے زیادہ ہے۔ ان میں صرف اخوت ہی قائم نہیں ہوتی بلکہ ان کے درمیان ایک ولایت کا رشتہ قائم ہوجاتا ہے جو اپنی وسعت میں اخوت کے رشتے سے بڑھ کر ہے۔ انھیں کے بارے میں فرمایا کہ یہ باہم دگر ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ اسلامی اخوت کا رشتہ صرف ایمان سے وجود میں آتا ہے لیکن اسلامی ولایت کے لیے ہجرت اور نصرت ضروری ہیں اور جو لوگ ہجرت نہیں کرتے ان کے درمیان اسلامی اخوت تو ضرور باقی رہتی ہے بشرطیکہ ان کا اسلام سے مخلصانہ تعلق ہو لیکن ان میں ولایت کا قانونی رشتہ قائم نہیں ہوتا اس لیے یہاں فرمایا گیا کہ جو لوگ ہجرت پر آمادہ نہیں ہوتے تمہارے اور ان کے درمیان ولایت کا کوئی رشتہ نہیں۔ یعنی وہ رشتہ جو اسلامی حکومت اور اس کے زیر سایہ رہنے والوں کے درمیان ہوتا ہے جس کے نتیجے میں اسلامی حکومت اپنی رعایا کے ایک ایک فرد کے بنیادی حقوق کی ضامن ہوتی ہے اور اسلامی ریاست کے زیر اثر رہنے والے افراد میں سے ایک ایک فرد اپنی ریاست کا ہمدرد اور غمگسار ہوتا ہے وہ اس کے مفادات کو اپنے مفادات پر ترجیح دیتا ہے اور اسلامی ریاست اس کے مفادات کو اپنے مفادات سمجھتی ہے اور وہ کسی ممکن طریقے سے کسی طرف سے بھی اس کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیتی۔ حضور ﷺ کا مشہور ارشاد ہے :
(اگر خدانخواستہ میں ایک طرف کعبہ کو گرتا ہوا دیکھوں اور دوسری طرف مسلمان کا خون بہتا ہوا تو میں پہلے مسلمان کو بچانے کی فکر کروں گا کیونکہ مسلمان ریاست کو اس کا پاسبان بنایا گیا ہے۔ )
اس لیے حضرت عمر فاروق ( رض) نے فرمایا کہ :
( اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھوکا مرجائے تو مجھے اندیشہ ہے کہ قیامت کے دن مجھ سے اس کا سوال کیا جائے گا۔ )
اور جہاں تک مسلمانوں اور ان کے بچوں کا تعلق ہے اس کے لیے تو مسلمان خلفاء کی راتوں کی نیندیں اڑ جاتی تھیں۔ حضرت عمر فاروق ( رض) مدینہ سے باہر پڑائو ڈالنے والے قافلوں کی ضرورتوں کا جائزہ لینے کے لیے رات کو گشت فرماتے تھے اور جب کبھی معلوم ہو تاکہ ان کے بچے بھوکے ہیں تو خود اپنی کمر پر بوجھ لاد کر ان کی ضروریات پوری کرتے اور اس وقت انھیں چین آتا تھا جب ان کے بچے کھا پی کر خوشی سے کھیلنے لگتے تھے اور جب حضرت عمر فاروق کو یہ معلوم ہوا کہ بعض مائیں بچے کے وظیفے کی خاطر بچے کا قبل از وقت دودھ چھڑا دیتی ہیں تو صبح کی نماز آپ کے لیے پڑھانا مشکل ہوگیا گریہ وزاری کا آپ پر اس قدر غلبہ ہوا کہ باربار نماز میں چیخ نکل جاتی تھی۔ نماز کے ختم ہوتے ہی فرمایا ” عمر برباد ہوگیا نہ جانے کتنی مائوں نے بچے قبل از وقت دودھ چھڑا کر ہلاک کردیئے اس لیے میں حکم جاری کرتا ہوں کہ ہر بچہ کا وظیفہ پیدا ہوتے ہی لگا دیا جائے تاکہ کسی ماں کو قبل ازوقت دودھ چھڑانے کی ضرورت نہ پڑے “۔ یہی وہ ولایت کا رشتہ ہے جو حکومت اور رعیت کے درمیان ہے۔ جس کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے کے پاسبان ہیں اور ایک دوسرے کے حقوق کے پاسبان ہیں اور یہ رشتہ ہجرت کے بعد قائم ہوتا ہے اس لیے اس آیت میں حکم دیا گیا کہ اگر کچھ مسلمان ہجرت نہیں کرتے اور دارالکفر میں رہنا ان کے لیے گوارا ہے تو مسلمانوں سے ان کا کوئی رشتہ ولایت نہیں جس کی وجہ سے مسلمان ان کے حقوق اور مفادات کی نگرانی کی ذمہ داری محسوس کریں کیونکہ ولایت کا لفظ عربی زبان میں (حمایت، نصرت، مددگاری، پشتیبانی، دوستی، قرابت، سرپرستی اور اس سے ملتے جلتے مفہومات) کے لیے بولا جاتا ہے اور اس آیت کے سیاق وسباق میں صریح طور پر اس سے مراد وہ رشتہ ہے جو ایک ریاست اپنے شہریوں سے اور شہریوں کا اپنی ریاست سے اور خود شہریوں کا آپس میں ہوتا ہے۔ پس یہ آیت دستوری اور سیاسی ولایت کو اسلامی ریاست کے ارضی حدود تک محدود کردیتی ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے فرمایا :
(میں کسی ایسے مسلمان کی حمایت اور حفاظت کا ذمہ دار نہیں ہوں جو مشرکین کے درمیان رہتاہو۔ )
معاہدے کا احترام ضروری ہے :
وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْکُمُ النَّصْرُ اور اگر وہ مسلمان جنھوں نے ہجرت نہیں کی تم سے مدد طلب کریں تو پھر تم پر مدد کرنا لازم ہے۔ یعنی وہ اس طرح کی شکایت کریں کہ جس شہر یا جس ملک میں وہ رہ رہے ہیں وہ اس لیے ان پر ظلم کررہے ہیں کہ وہ مسلمان کیوں ہیں۔ اس طرح انھیں مسلمان ہونے کی سزا دی جارہی ہے تو مسلمانوں کے لیے لاز م ہے کہ وہ جس طرح بھی ہوسکے۔ غیرمسلموں کے مظالم کو رکوائیں ورنہ یہ اندیشہ ہے کہ کافر انھیں دوبارہ کفر میں لے جائیں گے۔ ان کے ایمان کی حفاظت کے لیے ان کی مددضرور کی جائے لیکن اگر مدد ایسی قوم کے خلاف مانگی جارہی ہے جن کے اور مسلمانوں کے درمیان کوئی معاہدہ ہے۔ تو پھر معاہدے کی پابندی پہلے ضروری ہے کیونکہ مسلمان کسی حال میں بھی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ معاہدے کی پابندی کرتے ہوئے کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جائے گا جو معاہدے کی روح کے خلاف ہو البتہ ! مسلمانوں کو بالکل بےسہارا بھی نہیں چھوڑاجائے گا کیونکہ انھوں نے دارالاسلام کی طرف ہجرت نہ کرکے خود اپنے آپ کو غیر محفوظ کرلیا ہے اس لیے مسلمان ایک خاص حد سے آگے ان کی مدد کرنے کے مکلف نہیں ہیں۔ البتہ ! سفارتی ذرائع سے اخلاقی اور سیاسی دبائو استعمال کرکے مسلمانوں کی کسی نہ کسی حدتک مدد ضرور ہونی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیبیہ میں نبی کریم ﷺ قریش کے نمائندے کی طرف سے معاہدے کی یہ دفعہ جب قبول کرچکے کہ ” اگر کوئی شخص مکہ معظمہ سے مسلمان ہو کر مدینہ منورہ جائے گا تو مسلمان اسے واپس کرنے کے پابند ہوں گے “ تو اسی دوران ابو جندل ( رض) جو قریش کے نمائندہ کے بیٹے اور قریش کے خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ وہ اس حال میں مسلمانوں کے سامنے پہنچے کہ ان کے پائوں میں بیڑیاں اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں۔ وہ نہ جانے کس طرح بیڑیاں کھینچتے ہوئے حدیبیہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کی ٹانگوں سے خون بہہ رہا تھا اور جسم پر تشدد کے آثار تھے۔ انھوں نے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو اپنے زخم دکھاتے ہوئے درخواست کی کہ مجھے اس ظلم سے نجات دلائیں اور اپنے ساتھ مدینہ لے چلیں۔ قریش کے نمائندہ نے فوراً کہا کہ ہم یہ شق قبول کرچکے ہیں کہ اگر کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ جائے گا تو مسلمان اسے واپس کرنے کے پابند ہوں گے۔ آپ اگر معاہدے کے پابند ہیں تو آپ اسے اپنے ساتھ نہیں لے جاسکتے۔ آنحضرت ﷺ نے ہرچند اصرار کیا کہ ابھی معاہدہ مکمل نہیں ہوا لیکن قریش کا نمائندہ کسی طرح ماننے پر آمادہ نہ ہوا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میں ذاتی طور پر تم سے درخواست کرتا ہوں کہ تم میری خاطر لڑکے کو میرے حوالے کردو لیکن اس نے صاف کہا کہ اگر آپ اسے لے جانے پر اصرار کریں گے تو میں معاہدہ توڑ دوں گا۔ چناچہ آپ نے معاہدہ کی پابندی کرتے ہوئے ابو جندل ( رض) کو واپس جانے کا حکم دیا اور ساتھ ہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے کوئی نہ کوئی راستہ نکالے گا۔ اسی طرح ابو بصیر ( رض) مکہ سے بھاگ کر مدینہ پہنچ گئے اور ان کے پیچھے پیچھے قریش کے دو قاصد انھیں لینے کے لیے پہنچے آنحضرت ﷺ نے انھیں ان کے حوالے کیا اور ساتھ جانے کا حکم دے دیا۔ انھوں نے راستے میں موقع پاکر ایک کو قتل کردیا اور دوسرا بھاگ گیا اور پھر مدینے چلے آئے۔ دو میں سے جو شخص جان بچاکر بھاگا تھا، وہ بھی پیچھے پیچھے مدینہ جاپہنچا اور جاکر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں سارا واقعہ سنایا آپ نے ابوبصیر کو بلایاتو انھوں نے عرض کیا کہ حضور آپ معاہدے کی پابندی کرتے ہوئے مجھے ان کے حوالے کرچکے ہیں اب آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں۔ لیکن حضور ﷺ نے فرمایا یہ شخص جنگ کی آگ بھڑکانے والا ہے۔ ابوبصیر ( رض) سمجھ گئے کہ حضور دوبارہ مجھے اس شخص کے ساتھ جانے کا حکم دیں گے۔ چناچہ وہ مدینہ سے نکلے اور ساحل سمندر پر جابیٹھے اور وہیں انھوں نے اپنا ٹھکانہ بنالیا۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ وہ مسلمان جو دارالکفر میں رہتے ہوں اور ہجرت نہ کرسکے ہوں ان سے اس حد تک ہمدردی ہوسکتی ہے جس میں کسی معاہدے کی شکست کا خطرہ نہ ہو یا جنگ کی آگ بھڑکنے کا اندیشہ نہ ہو۔ لیکن بالکلیہ انھیں کافروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔
آخر میں فرمایا تم جو کچھ کررہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں کہ تم مسلمانوں کی جتنی مدد کرسکتے تھے وہ بھی نہیں کررہے اور یا تم حدود سے بڑھ کر اس طرح مدد کررہے ہو کہ تمہیں معاہدے کی پابندی کا احساس نہیں رہا۔ یعنی دونوں پہلوئوں پر اللہ کی نگاہ ہے نہ معاہدے کو نقصان پہنچے اور نہ مسلمان نظر انداز ہوں۔
Ayah 8:73وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍط اِلَّا تَفْعَلُوْہُ تَکُنْ فِتْنَۃٌ فِی الْاَرْضِ وَفَسَادٌ کَبِیْرٌ۔ ط ( الانفال : 73)
(اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ اگر تم یہ نہ کروگے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد مچے گا۔ )
مسلمانوں کی مندرجہ بالا بنیادوں پر تشکیل کیوں ضروری ہے ؟
سابقہ آیت کریمہ میں امت مسلمہ کی اجتماعی زندگی کی ان اساسات کو بیان کیا گیا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس کا سبب اور حکمت بیان کی گئی ہے کہ اگر مسلمان ایمان، ہجرت، نصرت اور جہاد کو اپنی اجتماعی زندگی کی بنیاد نہیں بناتے اور اس طرح سے وہ ایک مضبوط سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی صورت اختیار نہیں کرتے اور تفریق اور امتیاز کے تمام اسباب کو ختم کرکے صرف انھیں بنیادوں پر اپنی شیرازہ بندی نہیں کرتے تو پھر انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیائے کفر انھیں دنیا میں زندہ رہنے کا حق دینے کے لیے کبھی تیار نہ ہوگی۔ کافر مسلمانوں کا بطور مسلمان زندہ رہنے کو کبھی گوارا نہیں کرتے۔ جیسے میں عرض کرچکا ہوں دنیا میں ان کے لیے ہر طرح کی مخلوق گوارا ہے بلکہ وہ درندوں تک سے پیار کرتے ہیں، حیوانات کی بقا کے لیے وہ نہ صرف اسباب فراہم کرتے ہیں بلکہ قانون بھی بناتے ہیں، ان کی نمود وپرداخت کے لیے چڑیا گھر بنائے جاتے ہیں تاکہ لوگوں میں ان کی ضرورت ودلچسپی کا شعور پیدا کرکے ان کے لیے مراعات کو یقینی بنائیں۔ انسدادِ بےرحمیِ حیوانات مستقل محکمہ ہے جو ہر جگہ کام کرتا ہے۔ جس جانور کی نسل کم ہونے لگتی ہے اس کے شکار کو ممنوع قرار دے دیا جاتا ہے۔ اگر کبھی سمندر کے کنارے پر وہیل مچھلیاں ریت میں پھنس جائیں تو ان کو نکالنے کے لیے مملکت کے پورے وسائل حرکت میں آجاتے ہیں۔ لیکن اگر کسی بدنصیب گروہ کے لیے ان کے دلوں میں جگہ ہے نہ ان کی آبادیوں میں تو وہ صرف امت مسلمہ کے افراد ہیں۔ ان سے بطور مزدور کام لیا جاسکتا ہے کیونکہ ان کے اپنے مفادات اس سے وابستہ ہیں۔ لیکن انھیں عزت واحترام نہیں دیا جاسکتا ان کی عزت نفس کی پاسداری نہیں کی جاسکتی، ان کی کتاب مقدس اور رسول مقدس کی حرمت کا کوئی انتظام نہیں کیا جاسکتا، ان کے ملکوں پر چڑھ دوڑنا ان کے وسائل پر قبضہ کرلینا، ان کے غداروں کو استعمال کرکے ملکی معیشت کو تباہ کرنا، اور ان کی تہذیب و تمدن کو برباد کرنا وہ ان باتوں کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے کسی ملک میں کسی کی مداخلت کو کبھی برداشت نہیں کرتے لیکن مسلمان ملکوں میں ان کی مداخلت ایک معمول بن کر رہ گئی ہے۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ اسلام اور مسلمان دشمنی میں ان میں کوئی اختلاف نہیں حالانکہ ان میں ایسے ایسے اختلافات موجود ہیں جنھیں کبھی کوئی قوم گوارا نہیں کرتی۔ لیکن وہ تمام اختلافات بھلا کر مسلمان دشمنی میں اکٹھے ہیں۔ یہودیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ جو کچھ کیا جس طرح سے ان کی والدہ پر بدچلنی کا الزام لگایا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو ناجائز اولاد قرار دیا اور پھر انھیں بقول ان کے سولی پر چڑھایا اور اس طرح سے انھیں لعنت کی موت مرنے پر مجبور کیا۔ لیکن عیسائی دنیا ان کی ان تمام باتوں کو جاننے کے باوجود اور ان تمام الزامات کو سننے کے باوجود محض مسلمان دشمنی میں نہ صرف انھیں گوارا کرتی ہے بلکہ لے پالک بچے کی طرح انھیں پالتی بھی ہے اور قلب عرب میں ایک ناسور بنا کر اس لیے گاڑ دیتی ہے تاکہ مسلمان ہمیشہ اس اذیت کا شکارر ہیں اور مسلسل انھیں ہر طرح کی مدد باہم پہنچا کر عربوں کے لیے ناقابلِ تسخیر بنا دیتی ہے۔ وہ یہ سب کچھ اس لیے کرتے ہیں کیونکہ اس آیت کے مطابق وہ ایک دوسرے کے ولی، ہمدرد، غمگسار اور کارساز ہیں۔ اسی طرح دنیا میں پھیلے ہوئے اور کافر بھی اسلام دشمنی میں ان کے ساتھ ہیں۔ ہندو، نہ عیسائی کو برداشت کرتا ہے نہ یہودی کو لیکن مسلمان دشمنی اور اسلام کی عداوت میں وہ ان دونوں سے کندھا سے کندھا ملا کر چلتا ہے۔ ان کے اس متحدہ محاذ اور متحدہ قوت کا مقابلہ کرنے کی ایک ہی صورت ممکن ہے کہ مسلمان بھی اپنے تمام اختلافات اور امتیازات اور ملکوں کے تفرقات اور مسالک کے تفردات کو مٹا کر ایکحبل اللہ المتین کو تھام لیں اور وہ یہ عہد کرلیں کہ جس طرح دنیائے کفر ایک ہے اس طرح دنیائے اسلام بھی ایک ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو دنیا میں ایک فتنہ اٹھے گا اور بہت فساد مچے گا۔ تاریخ باربار اس بات کی سچائی کو ثابت کرچکی ہے۔ مسلمان جب اندلس میں داخل ہوئے تو صرف مسلمان تھے ان میں عربی، عجمی اور کالے، گورے کی کوئی تمیز نہ تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قلت تعداد کے باوجود چند دنوں میں پورے اندلس کے حاکم ہوگئے۔ پھر جب تک اسلام ہی ان کی اصل قوت رہا اسی کی راہنمائی میں انفرادی اور اجتماعی زندگی گزرتی رہی تو عیسائی اپنی ساری کوششوں کے باوجود اندلس کے مسلمانوں کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ لیکن جب مسلمانوں میں عربی اور اندلسی کا سوال پیدا ہوا، بربر اور غیر بربر کے امتیاز نے سر اٹھایا۔ اسلام کی بجائے دوسرے امتیازات مرغوب ہوتے گئے، حبِّ دنیا دین کی محبت پر غالب آگئی، نتیجہ معلوم ہے کہ آٹھ سو سال تک اندلس پر حکمرانی کرنے والی قوم اس طرح وہاں سے نکالی گئی کہ ایک فرد بھی مسلمان نام کا وہاں باقی نہ رہا۔ مسلمان بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کیے گئے ان کی یونیورسٹیاں اور ان کی دانش گاہیں جو کبھی پورے یورپ کے لیے علم و دانش کا سرچشمہ تھیں انھیں آگ لگادی گئی۔ مسلمانوں کے علمی مراکز جلاکر راکھ کردیئے گئے۔ جو ترکی یا مراکش کی طرف ہجرت کرنے میں کامیاب ہوگئے وہ زندہ رہے اور جو نکل نہ سکے یا جن کو بہلاوے دے کر روک لیا گیا انھیں قتل کردیا گیا یا عیسائی بنالیا گیا۔ آج بھی پوری دنیا میں جگہ جگہ اس حقیقت کو دہرایا جارہا ہے۔ اقوامِ متحدہ اسلام دشمنی کا مرکز بن چکی ہے ایک فتنے کی آگ ہے کہ پوری دنیائے اسلام اس کی لپیٹ میں ہے۔ لاکھوں مسلمان موت کی نیند سلائے جاچکے ہیں۔ کتنی مسلمان ریاستیں ہیں جو اپنے حقوق کی بازیافت کے لیے ہر طرح کی اذیتوں کا شکا رہیں۔ جگہ جگہ فساد کی آگ بھڑک رہی ہے اور اس کا ایندھن صرف مسلمان ہیں۔ ہندوستان جہاں صدیوں تک مسلمانوں کی حکومت رہی وہاں مسلمان کا خون پانی سے ارزاں ہوگیا ہے۔ اس سے بڑھ کر فتنہ سامانی اور کیا ہوگی کہ خود مسلمان ملکوں میں اسلامی زندگی گزارنا ایک الزام بن گیا ہے۔ مختلف الزامات کے تحت احتسابی ادارے جس کو پکڑ لیتے ہیں اس کی کوئی داد ہے نہ فریاد۔ یوں تو تاریخ کے ہر دور میں یہ آیت مسلمانوں کو پکارتی رہی ہے لیکن آج تو مسلمانوں کا نوشتہ تقدیر معلوم ہوتی ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے مسلمان کب اس پر کان دھریں گے اور اس حقیقت کو سمجھ کر ازسر نو اپنی عظمت رفتہ کے لیے کوشش کرنے کا عہد کریں گے۔ اپنی ناکامیوں کے اصل اسباب کو سمجھیں گے اور اس حقیقت کا پوری طرح ادراک کریں گے کہ امت مسلمہ کی کسی ایک نسل یا کسی ایک جغرافیے میں سمٹ کر رہنے والی امت کا نام نہیں۔ اس میں بیسیوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ بیسیوں نسلوں کے لوگ ہیں جن کے رنگ ایک دوسرے سے مختلف ہیں، ہر براعظم میں ان کا وجو دپایا جاتا ہے۔ کوئی محدود جغرافیہ انھیں اپنے اندر سمیٹ نہیں سکتا۔ اس طرح تفرقات اور امتیازات میں بٹی ہوئی امت اگر کسی بنیاد پر اکٹھی ہوسکتی ہے اور ان کا شیرازہ کسی ایک رسی سے باندھا جاسکتا ہے اور ان کے جہاز کسی ایک لنگر سے باندھے جاسکتے ہیں اور ان کے اجزائے ہستی کو کسی ایک سریش سے جوڑا جاسکتا ہے تو وہ صرف ” اسلام “ ہے۔ صرف وہ نسخہ شفا ہے جسے نبی کریم ﷺ لے کر آئے تھے۔ وہ کل بھی ہماری قوت تھا آج بھی ہماری قوت ہے۔ یہی وہ تاریخی حقیقت ہے جو اس آیت کریمہ سے نمایاں ہو رہی ہے۔
اس آیت کریمہ میں اولیاء کے لفظ پر غور کرتے ہوئے ذہن ایک اور بات کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ ایمان کی بنیاد پر مسلمانوں میں اخوت کا رشتہ قائم ہوتا ہے اور یہی اخوت ہے جسے اسلامی اخوت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور جس کی اسلام میں بہت قدرومنزلت ہے۔ لیکن دوسرا وہ رشتہ ہے جو ہجرت کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اس رشتہ کو سابقہ آیت کریمہ میں ولایت کا نام دیا گیا ہے۔ ولایت کا رشتہ اخوت کے رشتے سے بڑھ کر ہے۔ جب مسلمان ہجرت کرجاتے ہیں تو اخوت اور ولایت کے دونوں رشتے جمع ہوجاتے ہیں۔ لیکن جو شخص ہجرت نہیں کرتا وہ اخوت کا رشتہ رکھتے ہوئے بھی اخوت کے بعض مظاہر سے محروم ہوجاتا ہے کیونکہ ہجرت نہ کرنے کی صورت میں ایک تو اس چیز کا فیصلہ نہیں ہوسکتا کہ جو شخص ایمان کا دعویٰ کررہا ہے کیا وہ اپنے دعوے میں مخلص بھی ہے یا نہیں کیونکہ اخلاص کا ثبوت ہجرت ہی سے ملتا ہے اور دوسری یہ بات کہ ہجرت ہی وہ ذریعہ ہے جو مسلمانوں کو مسلمانوں سے جوڑتا اور ایک متحدہ طاقت کا حصہ بناتا ہے اور یہی طاقت وقت آنے پر جہاد کی قوت ثابت ہوتی ہے۔ جو شخص ہجرت نہیں کرتا وہ دریا سے نکلی ہوئی ایک لہر ہے جس کی زندگی کی کوئی ضمانت نہیں اور جس کے وجود سے دریا کی قوت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایساوجو د ہے جو بےاصل بھی ہے اور بےثمر بھی۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مسلمانوں تم ایک دوسرے کے ولی ہو اس لیے ولی ہونے کی حیثیت سے تمہارے آپس میں رشتے دہرے ہیں۔ تم باہمی بھائی بھائی بھی ہو اور ایک دوسرے کے ولی بھی۔ جس طرح تمہارا آپس کا ایک رشتہ ہے اسی طرح تمہارا رشتہ ریاست کے ساتھ بھی ہے۔ تم سب ایک دوسرے کے خیرخواہ اور ہمدرد ہو۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی رعیت کے ایک ایک فرد کے حقوق کی نگہداشت کرے۔ ان میں ایسے ادارے قائم کرے جو ان میں عدل و انصاف کو بروئے کار لائیں۔ ان کے گرے پڑے طبقے بےبسی کا شکار ہونے کی بجائے ریاست کی طاقت اور افرادِ امت کی طاقت سے اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کے قابل ہوسکیں۔ ریاست جس حد تک افراد کے حقوق کی نگہداشت کرے گی اور افراد جس حد تک ریاست کے ساتھ اخلاص کا ثبوت دیں گے اسی حد تک امت اسلامیہ اپنی قوت و عظمت میں پختہ تر ہوتی چلی جائے گی اور اگر دونوں نے اپنی اپنی سطح پر اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کی تو زمین میں فتنہ پھیلنے اور فساد کو بھڑکنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
Ayah 8:74وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْا فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ اٰوَوْاوَّنَصَرُوْٓا اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاط لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ۔ (الانفال : 74 )
(اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنھوں نے پناہ دی اور مدد کی یہی لوگ پکے مومن ہیں۔ ان کے لیے مغفرت اور باعزت روزی ہے۔ )
مندرجہ بالا صفات کے حامل ہی اسلام کی اصل قوت ہیں
اس آیت کریمہ میں باردگر اس حقیقت کا اظہار کیا جارہا ہے کہ امت مسلمہ کی اصل قوت مسلمان ہیں چونکہ یہ ایک نظریاتی گروہ ہے اس لیے کوئی دوسرا گروہ اولاً تو اس میں شامل نہیں ہوسکتا اور اگر ریاست کا شہری بن کر شامل ہو بھی جائے تو اصل قوت کا سبب نہیں بن سکتا کیونکہ نظریاتی تفاوت کبھی بھی اخلاص پیدا ہونے نہیں دیتا۔ لیکن یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ مومن اور مسلمان کوئی ایسا گروہ نہیں جن کے لیے صرف نام اختیار کرلینا کافی ہو۔ مومن اور مسلم دراصل چند صفات کے حامل کو کہتے ہیں اگر امت کے افراد اپنے آپ کو مومن تو کہتے ہوں لیکن ان میں مومنانہ صفات نہ پائی جاتی ہوں تو ان کی تعداد چاہے ریت کے ذروں کی طرح کیوں نہ ہوں وہ امت اسلامیہ کی قوت میں اضافہ تو کیا کریں گے اسے باقی بھی نہیں رکھ سکتے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں زور دے کر فرمایا کہ اللہ کے نزدیک سچے اور پکے مومن وہ ہیں جن کے اندر ایمان ہو، جنھوں نے ایمان کی خاطر ہجرت کی ہو، اپنا سب کچھ اللہ کی رضا اور دین کی خاطر قربان کرچکے ہوں اور انھوں نے ہجرت کرکے آنے والوں کو پناہ دی ہو اور نصرت کی ہو اور پھر دونوں کا اصل جوہر یہ کہ انھوں نے کفر کی طاقتوں سے پنجہ آزمائی کرنے کا حوصلہ بھی کیا ہو۔ وہ تعداد اور اسلحہ جنگ سے بےنیاز ہو کر محض اللہ کی رضا کے لیے خلعت شہادت سے بہرہ ور ہونے کے لیے جنگ کی آگ میں کود چکے ہوں۔ وہ نفع وضرر سے بےنیاز اور سود و زیاں کے پیمانوں سے لاتعلق ہو کر صرف اسلام کو اپنا مستقبل قرار دے چکے ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے یہاں حقیقی مومن ہیں کیونکہ عرصہ حیات اور کارزارِ حیات میں جو قوتیں کام آتی ہیں وہ محض نام کی قوتیں نہیں ہوتیں بلکہ صفات کی قوتیں ہوتی ہیں۔ زندگی کا بوجھ زندگی کا جوہر اٹھاتا ہے۔ اس شخص سے زندگی پناہ مانگتی ہے جسے خود زندگی گزارتی ہے۔ جو شخص ایمان کا نام لیتا ہو لیکن اصول اسلام پر یقین نہ رکھتاہو، جو اللہ کے راستے میں کوئی قربانی دینے کے لیے تیار نہ ہو اور اگر کفر سے تصادم کا خطرہ پیدا ہوجائے تو مصلحت کا جال بننے لگے اور کوئی ایسا راستہ نکالنے کی تدبیر کرے جس میں کفر کے ساتھ سازگاری ہوسکے۔ ایسا شخص نام کا تو مومن ہوسکتا ہے لیکن اسے سچا اور پکا مومن نہیں کہا جاسکتا اور اسلام اپنے ترکش کا اسے تیر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اس کا وجود امت مسلمہ کے لیے ایک ایسے خطرے کی علامت ہے جس کے باقی رہنے سے کفر سرافراز ہوتا اور اسلام سرنگوں ہوتا ہے لیکن اس کے برعکس اگر امت مسلمہ کے افراد واقعی آیت میں بیان کردہ صفات کا حقیقی مرقع بن جاتے ہیں اور ان کا ایک ایک فرد ان کی چلتی پھرتی تصویر بن جاتا ہے۔ تو ایسی امت جب اللہ کے پاس جائے گی تو مغفرت اور بخشش اس کے انتظار میں ہوگی اور جب تک وہ دنیا میں رہے گی عزت کی روزی اس کا مقدر ہوگی۔ روزی تو ہر جاندار کو ملتی ہے لیکن کرگس کی روزی اور شاہین کی روزی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ عزت وافتخار سے صرف وہی قوم جیتی ہے جو ان صفات کی حامل بن کر غیرت سے زندگی گزارنا جانتی ہے کیونکہ یہی وہ وصف ہے جس کی موجودگی چھوٹوں کو بڑا کردیتی ہے اور جس سے محرومی بڑوں بڑوں کی گردنیں جھکادیتی ہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا :
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ ودو میں
پہناتی ہے درویش کو تاج سرِ دارا
Ayah 8:75وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْم بَعْدُ وَھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْا مَعَکُمْ فَاُولٰٓئِکَ مِنْکُمْط وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ۔ ع
( الانفال : 75 )
(اور جو ایمان لائیں اس کے بعد اور ہجرت کریں اور تمہارے ساتھ جہاد میں شریک ہوں تو وہ بھی تم ہی میں سے ہیں اور رحمی رشتے والے اللہ کے قانون میں ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، بیشک اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ )
دارالکفر کے مسلمانوں کو ترغیب اور دارالاسلام کے مسلمانوں کو تنبیہہ
ایک نوزائیدہ امت جو امت مسلمہ کے نام سے وجود میں آئی ہے اور جس کی تعمیر ایسی بنیادوں پر اور شیرازہ بندی ایسے وسائط سے کی جارہی ہے جس کی مثال اس وقت کی موجود دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی۔ اس لیے پیش نظر یہ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ یہ ایک نیا تجربہ ہے اس لیے اس کے اندر کوئی سقم کوئی خرابی اور کوئی کمزوری نہیں رہنی چاہیے۔ مکہ معظمہ میں چونکہ دعوت صرف ایمان کی دی جارہی تھی تو جو لوگ ایمان لائے وہ یقینا ایمان ہی کو اسلامی زندگی کا حاصل سمجھتے تھے۔ لیکن جب ایمان ہی کی طرح ہجرت کو بھی فرض قراردے دیا گیا تو اگرچہ مسلمانوں کی فیصلہ کن اکثریت نے اس کو سمجھا اور اس پر عمل کیا لیکن پھر بھی کچھ لوگ پیچھے رہ گئے۔ ہجرت کی اہمیت کے پیش نظر انھیں دوسرے درجے کے مسلمان قرار دیا گیا۔ یہ تو تسلیم کیا گیا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ ایمانی اخوت میں شریک ہیں لیکن وہ ولایتِ اسلامی سے محروم کردیئے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نہ وہ دوسرے مسلمانوں کے وارث ہوں گے اور نہ مسلمان ان کے وارث ہوں گے اور نہ مہاجرین کے ساتھ ان کے نکاح کا رشتہ قائم ہوسکے گا اور نہ اسلامی ریاست ان کے اجتماعی حقوق کی محافظ رہے گی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ اگر اپنے دل میں ایمان رکھتے ہیں تو امید کی جاسکتی ہے کہ وہ کسی وقت بھی ہجرت کرنے کی کوشش کریں۔ اس لیے پیش نظر آیت کریمہ میں انھیں ایک طرح سے شوق دلایا جارہا اور ترغیب دی جارہی ہے کہ تم اگر واقعی امت مسلمہ کا حصہ بن کر زندگی گزارنا چاہتے ہو تو وہ اس کے بغیر ممکن نہیں کہ تمہیں ہجرت کرکے مرکز اسلام میں امت مسلمہ کے دکھ درد میں شریک ہونا چاہیے اور ساتھ ایک اور بات بھی معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ جو لوگ ہجرت کرکے مدینہ آچکے ہیں وہ مسلسل مصائب کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ہر آنے والا دن ان کے لیے نئی آزمائشیں لے کر آتا ہے۔ عرب کا کفر اور اہل کتاب کا حسد ان کے لیے بہت بڑا خطرہ بنتا جارہا ہے۔ لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود مسلمانوں کا یہ مختصر سا گروہ پوری توانائی جاں فروشی اور اعتماد علی اللہ کے ساتھ ان مشکلات کا سامنا کررہا ہے۔ اب اگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نئے لوگ ہجرت کرکے ان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں تو اندیشہ ہے کہ مسلمانوں کے دل و دماغ انھیں قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوں اور اس طرح کی غلط فہمیاں پیدا ہونا شروع ہوجائیں کہ اب جبکہ آہستہ آہستہ مسلمانوں کی سرفروشیوں اور اللہ کی تائید ونصرت کے ساتھ حالات بدلنے لگے ہیں کافر طاقتیں اپنے زخم چاٹنے لگی ہیں اور مسلمانوں کو روز بروز قوت ملتی جارہی ہے تو ہجرت کرنے والے لوگ یہ سمجھ کر شاید آرہے ہیں کہ اب آسانیوں کا زمانہ شروع ہونے ولا ہے ہمیں جاکر اس میں حصہ بٹانا چاہیے۔ چناچہ ایسے ہی اندیشہ ہائے دوردراز کو سامنے رکھتے ہوئے پروردگار نے حکم دیا کہ جس وقت بھی کوئی شخص ہجرت کرکے تمہارے ساتھ شامل ہوجاتا ہے اور نہایت اخلاص کے ساتھ جہاد میں تمہارا دست وبازو بنتا ہے تو تمہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ تمہارا ایسا ساتھی ہے جو ہمیشہ ہی تمہارے ساتھ تھا۔ اسے فیصلہ کرنے میں دیر ضرور لگی لیکن تمہیں انھیں قبول کرنے میں دیر نہیں لگنی چاہیے۔ اپنے دلوں کے دروازے ان کے لیے کھلے رکھو وہ تمہارے ہی وجودِملی کے اجزا ہیں۔ تمہارے اندر ان کے بارے میں کوئی احساسِ برتری پیدا ہونا نہیں چاہیے اور نہ انھیں قبول کرنے میں دلوں میں کوئی تنگی ہونی چاہیے۔ یہ صحیح ہے کہ جن لوگوں نے حدیبیہ سے پہلے ہجرت کی وہ ان لوگوں سے مرتبہ ومقام میں یقینا بلند ہیں جنھوں نے حدیبیہ کے بعد ہجرت کی لیکن مقامات کی بلندی اللہ کی طرف سے انھیں عطا ہوتی ہے جو کبھی احساسِ برتری کا شکار نہیں ہوتے۔ وہ تمام مراتب کے باوجود ہمیشہ تواضع کا پیکر بنے رہتے ہیں۔ ان کے لیے امت مسلمہ کا ایک ایک فرد جسم کے اعضاء کی طرح ہے۔ جن کی افادیت اور ضرورت اپنی جگہ مسلم ہے اور جن میں بعض کو بعض پر یقینا ترجیح بھی حاصل ہے۔
اُولوُاالْاَرْحَامِ کے حقوق مقدم ہیں
والوالارحام بعضھم اولیٰ ببعض فی کتب اللہ من المومنین والمہاجرین الا ان تفعلوا الی اولیاء کم معروفاً ط کان ذلک فی الکتب مسطوراً ۔
(الاحزاب)
(اور مومنین اور مہاجرین میں رحمی رشتے والے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں اللہ کے قانون میں مگر یہ کہ تم اپنے اولیا کے ساتھ کوئی حسن سلوک کرو یہ چیز کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔ )
اُولُوا الْاَرْحَامِکی وضاحت
اُولُوا الْاَرْحَام کی کچھ تفصیل ہم معارف القرآن سے نقل کرتے ہیں۔
(لفظ اولوعربی زبان میں صاحب کے معنی میں آتا ہے۔ جس کا ترجمہ اردو میں ” والے “ سے کیا جاتا ہے جیسے اولوالعقل عقل والے، اولوالامرـ’ امر والے ‘، اس لیے اولوالارحام کے معنی ہوئے ’ ارحام والے ‘۔ ارحام، رَحِم کی جمع ہے۔ جو اصل میں اس عضو کا نام ہے جس کے اندر بچہ کی تخلیق عمل میں آتی ہے اور چونکہ رشتہ داری کا تعلق رحم کی شرکت سے قائم ہوتا ہے اس لیے اُولُوا الْاَرْحَام رشتہ داروں کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگرچہ ایک ولایت عامہ سب مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ حاصل ہے جس کے سبب بوقت ضرورت ایک دوسرے کی امداد واعانت بھی واجب ہوتی ہے اور ایک دوسرے کے وارث بھی ہوتے ہیں لیکن جو مسلمان آپس میں قرابت اور رشتہ کا تعلق رکھتے ہوں وہ دوسرے مسلمانوں سے مقدم ہیں۔ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ کے معنی اس جگہ فِیْ حُکْمِ اللّٰہِ کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم خاص سے یہ قانون بنادیا ہے۔
اس آیت نے یہ ضابطہ بتادیا کہ تقسیمِ وراثت رشتہ داری کے معیار پر ہونا چاہیے اور لفظ اُولُوا الْاَرْحَاممطلقاً اقرباء اور رشتہ داروں کے لیے بولا جاتا ہے۔ ان میں سے خاص خاص رشتہ داروں کے حصے تو خود قرآن کریم نے سورة نساء میں متعین فرمادیئے جن کو علم میراث کی اصطلاح میں اہل فرائض یا ذوی الفروض کہا جاتا ہے ان کو دینے کے بعد جو مال بچے وہ اس آیت کی رو سے دوسرے رشتہ داروں میں تقسیم ہونا چاہیے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ سب رشتہ داروں میں کسی مال کا تقسیم کرنا کسی کی قدرت میں نہیں کیونکہ دور کی رشتہ داری تو ساری دنیا کے انسانوں کے درمیان بلاشبہ موجود ہے کہ سب کے سب ایک ہی باپ اور ماں آدم وحواء (علیہما السلام) سے پیدا ہوئے ہیں۔ اس لیے رشتہ داروں میں تقسیم کرنے کی عملی صورت یہی ہوسکتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں کو بعید پر مقدم رکھ کر قریب کے سامنے بعید کو محروم کیا جائے۔ جس کا تفصیلی بیان احادیثِ رسول کریم ﷺ میں اس طرح موجود ہے کہ ذوی الفروض کے حصے دینے کے باوجود جو کچھ بچے وہ میت کے عصبات یعنی جدی رشتہ داروں کو درجہ بدرجہ دیا جائے یعنی عصبہ قریب کو بعید پر مقدم رکھ کر قریب کے سامنے بعید کو محروم کیا جائے۔
اور اگر عصبات میں سے کوئی بھی زندہ موجود نہیں تو پھر باقی رشتہ داروں میں تقسیم کی جائے۔
عصبات کے علاوہ جو دوسرے رشتہ دار ہوتے ہیں علم میراث و فرائض کی خاص اصطلاح میں لفظ ذوی الارحام انھیں کے لیے مخصوص کردیا گیا ہے۔ لیکن یہ اصطلاح بعد میں مقرر کی گئی ہے ہے قرآن کریم میں اولوالارحام کا لفظ لغوی معنی کے مطابق تمام رشتہ داروں پر حاوی ہے جس میں ذوی الفروض اور عصبات اور ذوی الارحام سب اجمالی طور پر داخل ہیں۔
پھر اس کی کچھ تفصیل سورة نساء کی آیات میں آگئی ہے جن میں خاص خاص رشتہ داروں کے حصے حق تعالیٰ نے خود مقرر فرمادئیے ہیں جن کو اصطلاحِ میراث میں ذوی الفروض کہتے ہیں اور باقی کے متعلق رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
الحقوا الفرائض باھلھا فما بقی فھولِاُ ولِی رجل ذکر۔ (بخاری)
یعنی جن کے حصے قرآن نے مقرر کردیئے ہیں وہ پورے ان کو دینے کے بعد جو کچھ بچے وہ ان لوگوں کو دیئے جائیں جو میت سے قریب تر مرد ہوں۔
ان کو اصطلاحِ میراث میں عصبات کہا جاتا ہے۔ اگر کسی میت کے عصبات میں کوئی موجودنہ ہو تو رسول کریم ﷺ کے ارشاد کے مطابق پھر دوسرے رشتہ داروں کو دیا جاتا ہے جن کو اصطلاح میں ذوی الارحام کہتے ہیں جیسے ماموں، خالہ وغیرہ)
اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ
(بےشک اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے)
امت کی تاسیس و تعمیر کے لیے کیسی بنیادیں ہونی چاہئیں، امت مسلمہ کے اہداف کیا ہونے چاہئیں، افرادِ امت کے باہمی تعلقات کی نوعیت کیا ہونی چاہیے، دینی اخوت وولایت کا دائرہ کیا ہونا چاہیے اور رحمی قربت و قرابت کے کیا حقوق ہونے چاہئیں۔ ان میں سے ایک ایک چیز اللہ نے اپنے بےپایاں علم کے ذریعے امت کو جو عطا فرمائی ہے، اس میں کسی طرح بھی غلطی، کوتاہی اور نارسائی کا شائبہ بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ اللہ کی ذات اور اس کا علم ایسے ہر شائبہ سے پاک ہے۔ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر بات کے انجام سے باخبر ہے۔ اس لیے امت کے لیے لازم ہے کہ اس نے جس مقام کے لیے جو احکام دیئے ہیں اور جس بات کے لیے جو ہدایت عطا فرمائی ہے وہ اسے زندگی کا دستور بنالے اسی میں اس کی دنیا اور اسی میں اس کی عقبیٰ ہے۔