Ayahs 8:45–46یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوْا وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ ج وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَاتَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْھَبَ رِیْحُکُمْ وَاصْبِرُوْاط اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ۔ ج (الانفال : 45، 46 )
(اے ایمان والو ! جب تم بھڑو کسی فوج سے تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم فلاح پاجاؤ۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں مت جھگڑو ورنہ تم کمزور ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ )
آئندہ پیش آنے والے حالات کے لیے ہدایات
ان آیات میں مسلمانوں کو آئندہ پیش آنے والے حالات میں خصوصی ہدایات دی گئی ہیں۔ جنگ بدر سے ان غزوات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا مسلمان جن سے مستقبل قریب میں دوچارہو نے والے تھے۔ جنگ بدر میں قریش کو ایک سخت ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا۔ اس میں اگرچہ ان کا بہت نقصان ہوا لیکن یہ نقصان ایسا نہ تھا جس سے ان کی کمر ٹوٹ جاتی اور آئندہ وہ مسلمانوں کے مقابلے میں آنے کی جرأت نہ کرتے۔ وہ ایک زخمی شیر کی طرح حملے کے لیے مناسب موقع کی تلاش میں تھے اور حالات پر نگاہ رکھنے والا ہر صاحب بصیرت دیکھ سکتا تھا کہ آئندہ حق و باطل کے درمیان ایک طویل معرکوں کا سلسلہ پیش آنے والا ہے۔ پروردگار تو اپنے ابدی اور جامع علم کے حوالے سے یقینی طور پر جانتا تھا کہ مسلمانوں کو کیسے کیسے حالات سے گزرنا ہوگا۔ چناچہ ان آیات میں ایسے ہی حالات کو سامنے رکھ کر ایسی موثر ہدایات دی گئی ہیں جن پر عمل کے نتیجے میں اللہ کی تائید ونصرت مسلمانوں کے شامل حال ہوسکتی ہے اور حق و باطل کی کشمکش میں مسلمان فلاح پاسکتے ہیں۔
ثابت قدمی
پہلی آیت کریمہ میں دوہدایات دی گئیں۔ پہلی ہدایت یہ دی گئی کہ مسلمانو ! جب بھی کبھی تمہارا کافروں سے تصادم ہو، کافروں کی تعداد تھوڑی ہو یا زیادہ ہو، ان کے پاس اسلحہ جنگ کی کیسی ہی فراوانی ہو اور تم ان کے مقابلے میں جیسی بھی پوزیشن رکھتے ہو تمہیں بہر صورت ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہے۔ فَاثْبُتُوْا کا مصدر ” ثبات “ ہے۔ اس کا معنی ثبات قلب اور ثبات قدم ہے جسے ہم ” ثابت قدمی “ کہتے ہیں۔ مسلمان کا اصل جوہر میدانِ جنگ میں کھلتا ہے۔ جب دیکھنے والی نگاہیں دیکھتی ہیں کہ جنگی نکتہ نگاہ سے کمزور پوزیشن میں ہونے کے باوجود مسلمان کبھی ہراساں نہیں ہوتا۔ وہ بڑی سے بڑی قوت سے ٹکرا جاتا ہے لیکن پسپائی کے بارے میں کبھی نہیں سوچتا۔ مسلمانوں میں جب تک اسلامی زندگی غالب رہی ہے کسی چھوٹی بڑی جنگ میں انھوں نے کبھی پشت نہیں دکھائی۔ باطل سے آویزش حق کا مقدر رہا ہے اور یہ سلسلہ کبھی نہیں رکا اور آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد تو دنیائے کفر نے اسلام کو مٹانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن مسلمان حق کی قوت بن کر اس طرح اٹھے کہ جزیرہ عرب کی حد تک تو عہد نبوت ہی میں مسلمانوں کے پھریرے لہرانے لگے۔ لیکن اسکے بعد خلافتِ راشدہ اور بعد کے ادوار میں مسلمانوں کی فتوحات کی تگ وتاز کے سامنے زمین سمٹنے لگی۔ کتنے ملکوں کے جغرافیے بدل گئے، کتنی مملکتیں اسلامی مملکت کا حصہ بن گئیں۔ صدیوں کی جمی ہوئی اور مستحکم حکومتیں، قیصرو کسریٰ کے نام سے جو دنیا کی عظیم قوت سمجھی جاتی تھیں، مسلمان قلت تعداد اور بےسروسامانی کے باوجود مسلسل اس وقت تک ان سے نبرد آزما رہے جب تک انھیں ختم نہیں کرڈالا۔ عجیب بات یہ ہے کہ کسی بھی معرکے میں مسلمانوں کے پاس ایسی قوت کبھی نہ تھی جس سے ان کی کامیابی کی امید کی جاسکتی۔ لیکن کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں جس میں مسلمانوں نے پسپائی کی تہمت اٹھائی ہو یا راہ فرار اختیار کی ہو۔ مسلمانوں کے دل و دماغ میں یہ بات پیوست کردی گئی تھی کہ تمہیں اللہ کا پیغام بہرصورت اللہ کے بندوں تک پہنچانا ہے اور ان کے لیے اللہ کی زمین پر اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنا ممکن بنا نا ہے اور اگر ظالم قوتیں ان کو اس بات کی اجازت نہیں دیتیں تو تمہیں ایسے تخت وتاج کو ختم کرنا ہے اور ایسی قوتوں کی حکمرانی کو سرنگوں کرنا ہے۔ اس کے لیے تمہیں بڑی سے بڑی قوت سے ٹکرانا ہوگا یاد رکھو یہ سوچ کر کبھی میدانِ جنگ میں نہ اترنا کہ تمہیں بہر صورت فتح حاصل کرنی ہے۔ تمہارے سامنے ایک فرض کی انجام دہی ہے اس فرض کو انجام دیتے ہوئے اگر تمہیں کامیابی ملتی ہے تو یہ مزیدادائے فرض کے لیے آگے بڑھنے کا پیغام ہے اور اگر تم اس راستے میں کام آجاتے ہو تو شہادت ہی اصل مقصود اور اصل اللہ کا انعام ہے جس کی ہمیشہ ایک مومن تمنا کرتا ہے۔ یہی وہ پختہ اعتقاد تھا جو مسلمانوں کو میدانِ جنگ میں ثابت قدم رکھتا تھا۔ اس لیے آیت کریمہ میں سب سے پہلے اسی کا حکم دیا گیا۔
اللہ کی یاد
دوسری جس بات کا حکم دیا گیا وہ یہ ہے کہ تم کثرت سے اللہ کو یاد کرو۔ جنگ کی تیاری کے ایام ہوں یا جنگ کی ہولناکی کے لمحات۔ ایک مومن کی اصل قوت اور محبوب متاع اللہ کا ذکر اور اس کی یاد ہے۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ کسی مشکل میں مبتلا ہوتایا کسی معرکے میں شریک ہوتا ہے تو اسے ہمیشہ اپنی محبوب ترین چیز کی یاد آتی ہے۔ کوئی اپنی اولاد کو یاد کرتا ہے، کوئی مال ومتاع کو یاد کرتا ہے اور کوئی اپنی جان کی فکر میں پریشان ہوتا ہے۔ ایک مومن کی محبوب ترین متاع چونکہ اللہ کا ذکر اور اسکی یاد ہے اس لیے وہ عین حالت جنگ میں بھی اسی کو یاد کرتا ہے۔ زبان سے اسی کا ذکر کرتا ہے اور دل اسی کی محبت سے آباد رہتا ہے اور پھر یہ محبوب ایسا ہے جو صرف دل کی تسکین ہی کا باعث نہیں بنتا بلکہ مومن کی قوت کا اصل سرچشمہ بھی وہی ہے۔ مومن کی تگ وتاز کا اصل مقصد ومنزل بھی وہی ہے۔ ایک مومن اسی کی رضا کے لیے میدانِ جنگ میں اترتا ہے، اسی کی نصرت و تائید کے سہارے بڑی سے بڑی قوت سے ٹکراتا ہے، اسی کو اپنی کمزوریوں کا مداویٰ سمجھتا ہے اور اسی کو اپنی کامیابی یا ناکامی کے نتیجے میں اجر وثواب اور جز اکا مالک سمجھتا ہے۔ اس لحاظ سے اس کی یاد، یادوں کا ایک گلدستہ ہے جس کی ہر پتی خوش رنگ اور جس کی ہر لہر مشام جاں کو ہمیشہ کے لیے معطر رکھنے والی ہے۔ اس کی یاد میں ڈوب کر ایک مومن جب آگے بڑھتا ہے تو پھر وہ اپنی ذات میں بظاہر ایکدہوتا ہے لیکن حقیقت میں وہ اللہ کی تجلیات کا پر موردتو ہوتا ہے۔ وہ بظاہر ایک قطرہ ہوتا ہے لیکن وہ ایک ایسے سمندر کا قطرہ ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ وہ سمندر سے کٹ جائے تو اسے گرم ہوا کا ایک جھونکا ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔ لیکن سمندر سے متعلق رہ کر وہ ایک ایسا طوفان ہے جس کا سامنا کرنے کی کسی میں ہمت نہیں۔ اس کے جسم کا ایک ایک عضو اللہ کی چاکری کا غماز ہے۔ اس کے احساس کی ایک ایک لہر اللہ کی یاد کی خوشبو ہے۔ وہ دیکھتا ہے تو اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ وہ چلتا ہے تو اللہ کی تائید سے چلتا ہے، وہ پکڑتا ہے تو اس کی قوت سے پکڑتا ہے۔ اقبال نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ؎
ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ
غالب وکار آفریں کار کشا وکار ساز
اس قوت کا اصل سرچشمہ اللہ کا ذکر اور اس کی یا د ہے۔ اسی طرح یہ ذکر اور یاد ایک مومن کا حصار بھی ہے اور اس کا نگران بھی۔ وہ جب بھی کسی کام ارادہ کرتا ہے تو یہ تصور کبھی اس سے الگ نہیں ہوتا کہ میں اپنے اللہ کی نگاہوں میں ہوں۔ اس کے دماغ میں سوچ کی ایک لہر اٹھتی ہے۔ تو وہ جانتا ہے کہ میری سوچ بھی اللہ کے علم سے باہر نہیں اسی لیے نہ اس کا دماغ بھٹکتا ہے نہ اس کا عمل سرکشی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ یہ چونکہ ایک ہمہ وقتی اور ہمہ جہت کام ہے اس لیے اذکروا کے ساتھ کثیراً کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کہ اللہ کو زیادہ سے زیادہ اور کثرت سے یاد کرو۔ جب کہ کسی اور عبادت کے بارے میں کہیں بھیکثیراً کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔ کہیں یہ نہیں فرمایا نماز کثرت سے پڑھو، روزہ کثرت سے رکھو، اس کی وجہ یہ ہے کہ باقی تمام عبادات وقت مخصوص میں اعمالِ مخصوصہ کی ادائیگی کا نام ہے لیکن ذکر کے لیے کوئی وقت نہیں نہ اس کا کوئی خاص طریقہ ہے، نہ اس کی کوئی خاص شرائط ہیں، نہ اس میں وضو کی پابندی ہے، نہ اس میں لباس لازمی ہے، نہ قبلہ کی طرف رخ کرنا ضروری ہے۔ ہر شخص ہرحال میں باوضو، بےوضو، کھڑے، بیٹھے، لیٹے، اللہ کا ذکر کرسکتا ہے۔ یوں تو یہ ذکر ہرحال میں مومن کی زندگی ہے لیکن جنگ میں یہی ذکر مومن کے لیے کبھی سہارا بنتا ہے اور کبھی قوت کے اظہار کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ کبھی دل ہی دل میں اللہ سے مدد مانگنا ذکر ہے اور کبھی کفر کو ہراساں کرنے کے لیے ” نعرہ تکبیر “ لگانا اللہ کا ذکر ہے۔ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ مسلمان جب اللہ کی یاد میں ڈوب کر اپنی زندگی اس کی اطاعت میں دے کر اسی پر توکل اور بھروسہ کرتے ہوئے اور صرف اسی کی قوت کے سہارے اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے تھے تو فی الواقع کفر کے چھکے چھوٹ جاتے تھے۔ بعض دفعہ تو ایسا بھی ہوا کہ قلعہ کی فصیلیں گرگئیں۔ اس لیے کہ بظاہر یہ ایک لفظ ہے جس کو انسانی لہجہ ادا کرتا ہے لیکن حقیقت میں یہ اللہ کی قوت کا ظہار ہے اس لیے فرمایا کہ اگر تم نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اورا للہ کی یاد کو حرز جان بنایا تو امید کی جاسکتی ہے کہ اللہ تمہیں فلاح سے نوازے گا۔
اسباب کے پردے میں اللہ کی مدد
اللہ جب کسی کی مدد کرنا چاہتا ہے تو اسے اسباب کی ضرورت نہیں ہوتی وہ اسباب کے بغیر بھی مدد کرسکتا ہے۔ لیکن اس کا قانون یہ ہے کہ وہ جب بھی مدد کرتا ہے اسباب کے پردے میں کرتا ہے۔ وہ کبھی ایسا نہیں کرتا کہ اپنے پیغمبر پر ایمان لانے والوں کو یہ کہہ دے کہ تم آرام سے گھر بیٹھو، تمہیں معرکہ کارزار میں جانے کی زحمت اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہماری قدرتیں اس کے لیے کافی ہیں۔ ہم تمہارے دشمن کو فنا کیے دیتے ہیں شہروں کے راستے تمہارے لیے کھول دیتے ہیں تم خراماں خراماں چلو اور شہروں پر جاکر قابض ہوجاؤ۔ بنی اسرائیل کے ایسے ہی بگڑے ہوئے تصورات تھے جس نے انھیں اللہ کی رحمت سے محروم کردیا۔ اس لیے مسلمانوں کو صاف صاف بتایا گیا کہ میدانِ جنگ میں اترنا دشمن سے نبرد آزما ہونا استقامت اور پامردی کی تصویر بن جانا اور کہیں بھی کمزوری کا اظہار نہ کرنا اور ہر طرح کے حالات میں اللہ کو یاد کرنا اور اسی سے سہارا چاہنایہ تمہاری ذمہ داری ہے اس کے بعد نصرت و تائید کے لیے فرشتے اتارنا، دشمن کے دلوں میں رعب ڈال دینا مٹھی بھر سنگریزوں میں بموں کی طاقت بھردینا۔ یہ پروردگا رکا کام ہے۔ لڑو گے تم لیکن قوت وہ عطا کرے گا، حوصلہ تم دکھائو گے حوصلوں کو ثمر بار وہ کرے گا۔ اسلام کا یہی وہ راز ہے جس کا کفر کو کبھی ادراک نہ ہوسکا لیکن وہ نہ سمجھتے ہوئے بھی آج تک اس سے لرزاں وترساں ہے۔ دنیا اس بات کو جانتی ہے کہ میدانِ جنگ میں ہمیشہ فوجوں کے حوصلے لڑتے ہیں مورال کام آتا ہے بےحوصلہ فوجیں تو دھرتی کا بوجھ ہوتی ہیں اور حوصلہ مند مختصر تعداد میں بھی ہوں تو وہ قوت کی علامت ہوتے ہیں لیکن دنیا اس راز کو نہیں پاس کی کہ حوصلہ اور مورال ظاہری تدبیروں سے نہیں بلکہ اپنے موقف کی صداقت اپنے راستے کی سچائی اور اللہ پر اعتماد اور توکل اور اس کے ذکر سے پیدا ہوتا ہے اور یہ وہ دولت ہے جس کی اس آیت کریمہ میں خبر دی گئی ہے۔
اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت
دوسری آیت کریمہ میں کچھ تو مزید ہدایات دی گئی ہیں اور کچھ چیزوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پہلی بات یہ فرمائی کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ ذکر اللہ کا لازمی نتیجہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہی ہونا چاہیے۔ ایسا ذکر اور ایسی یاد جس کے نتیجے میں اپنی محبوب ذات کی اطاعت پیدا نہیں ہوتی وہ محض زبان کا جمع خرچ اور دماغ کی عیاشی ہے۔ ایسی یاد کو نفاق تو کہا جاسکتا ہے ایمان کا نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا، اس لیے ضروری ہے کہ حالات کیسے ہی ہوں کبھی اللہ اور رسول کی اطاعت سے قدم باہر نہیں جانا چاہیے۔ ممکن ہے اس آیت کریمہ میں اللہ اور رسول کی عام اطاعت کے ساتھ ساتھ حالت جنگ میں بطور خاص رسول اللہ ﷺ کے احکام کی اطاعت پر توجہ دلائی گئی ہو کیونکہ جنگ کی حالت میں عام حالت کی نسبت احکام کی اطاعت میں ذرا بھی کمزوری آجائے تو فوج کا ڈسپلن تباہ ہوجاتا ہے۔ جس کی ایک مثال مسلمانوں نے جنگ احد میں دیکھی اور اس کے نتیجے میں بہت نقصان بھی اٹھایا۔ آنحضرت ﷺ نے کچھ تیراندازوں کو جبل الرماۃ پر متعین فرمایا تھا اور حکم دیا تھا کہ جنگ کا نتیجہ کچھ بھی ہو تمہیں اپنی جگہ سے نہیں ہلنا لیکن جب قریش کا لشکر بھاگ نکلا تو ان تیراندازوں نے یہ سمجھا کہ اب جنگ ختم ہوگئی ہے چناچہ وہ بھی مال غنیمت سمیٹنے کے لیے پہاڑ سے نیچے اتر آئے ان کے امیر نے ہرچند سمجھانے کی کوشش کی کہ ہمیں ہرحال میں آنحضرت ﷺ نے یہاں سے قدم ہٹانے سے منع کیا تھا لیکن ان کی اکثریت نے یہ کہہ کر جگہ چھوڑدی کہ جب جنگ ہی ختم ہوگئی ہے تو اب یہاں رک کر کیا کرنا۔ خالد بن ولید نے جب دیکھا کہ میدان خالی ہے، انھوں نے پہاڑ کے اوپر سے چکر کاٹ کر ادھر سے حملہ کیا اور جنگ کا پانسہ پلٹ دیا، جیتی ہوئی جنگ شکست میں تبدیل ہوگئی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے حکم کی تعمیل میں کوتاہی ہوئی۔ اس لیے یہاں فرمایا کہ دیکھنا اللہ اور رسول کی اطاعت میں کمی نہ کرنا ورنہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم آپس میں اختلاف کا شکار ہوجاؤ گے۔ کچھ لوگ حکم کی تعمیل پر زور دیں گے اور کچھ لوگ اس کی تاویل کرکے حکم کی تعمیل سے نکل جائیں گے۔ اس لیے مستقل حکم دیا کہ آپس میں مت جھگڑوآپس میں اختلاف مت کرو۔ تمہیں ہر معاملے میں اللہ اور رسول کی اطاعت کرنی ہے اور اگر تم آپس میں اختلاف کرنے لگے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم کمزور ہوجاؤ گے تم میں کمزوری اور بزدلی آجائے گی کیونکہ کوئی بھی فوج ہو ان کا باہمی اتحاد ان کی اصل قوت ہوتا ہے۔ اگر اس اتفاق و اتحاد میں دراڑیں پڑجائیں تو یوں سمجھئے کہ قوم کی عمارت میں دراڑیں پڑجاتی ہیں۔ قومی زندگی کے قلعے کی فصیلوں میں ڈھے جانے کے آثار پیدا ہوجاتے ہیں اور باہر کی قوتوں کو جب اس کا اندازہ ہوتا ہے تو مسلمانوں کی قوت کی ہوا اکھڑ جاتی ہے۔ دشمن اس خیال سے ہمیشہ لرزاں براندام رہتا ہے کہ مسلمان ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں ان میں شگاف ڈالنا ممکن نہیں۔ لیکن جب مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہوتا ہے تو دشمن کے دلوں سے ان کا رعب جاتا رہتا ہے اور یہ وہ خطرناک بات ہے جس سے زیادہ تباہ کن بات کوئی نہیں ہوسکتی۔ اس لیے ایسی تمام کمزوریوں پر قابو پانے کے لیے ایک ایسا حکم دیا جس پر عمل کے نتیجے میں تمام ممکن کمزوریوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
صبر کی تلقین
فرمایا ” وَاصْبِرُوْا “ اور صبر کرو۔ یعنی اپنے جذبات و خواہشات کو قابو میں رکھوکیون کہ جذبات و خواہشات کے بےقابو ہونے کے نتیجے میں اختلافات کو درآنے کا موقعہ ملتا ہے۔ جلد بازی، گھبراہٹ، ہراس، طمع اور نامناسب جوش سے بچو۔ ٹھنڈے دل اور جچی تلی قوت فیصلہ کے ساتھ کام کرو۔ خطرات اور مشکلات سامنے ہوں تو قدموں میں لغزش نہ آنے پائے۔ اشتعال انگیز مواقع پیش آئیں تو غیض وغضب کا ہیجان غالب نہ آنے پائے۔ مصائب کا طوفان بھی کبھی اللہ کے اعتماد کو شکست نہ دے سکے اور بڑی سے بڑی پریشانی بھی کبھی حواس پر اپنی گرفت قائم نہ کرسکے۔ کبھی دنیوی منافع اور فوائد اور لذات نفس کی ترغیبات، طبیعت کی آسودگی کو شکست نہ دے سکیں۔ ایسے تمام کمزور جذبات کو صبر کی زنجیر پہنا کر رکھو اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ اگر کبھی رائے کا اختلاف پیدا ہو اور ایسا پیدا ہونا ناگزیر بھی ہے تو دیکھو اپنی رائے پر ضرورت سے زیادہ جمائو اختیار نہ کرو اور اپنی بات پر حد سے زیادہ اصرار نہ کرو۔ نیت میں کبھی اپنی ہی رائے پر پسندیدگی کے اثرات غالب نہ آنے پائیں۔ اپنی بات کہنا اور دوسروں کی سننا یہ دو متوازن پلڑے ہیں جس کے نتیجے میں صراط مستقیم کھلتی ہے ان تمام پہلوئوں کو برابر رکھنے کا نام صبر ہے۔ اس صبر کے نتیجے میں تنازعات پر غلبہ پایا جاسکتا ہے اور اسی سے باہمی تلخیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے اور اسی سے اللہ کا وہ انعام میسر آسکتا ہے جسے اللہ کی معیت کہا گیا ہے اور یہ وہ انعام ہے جب مسلمان کو نصیب ہوجاتا ہے تو پھر دنیا کی کوئی قوت نہ اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے نہ اس کے سامنے کھڑی رہ سکتی ہے۔ اس لیے فرمایا : اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ۔
Ayah 8:47وَلَاتَکُوْنُوْاکَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بَطَرًاوَّرِئَآئَ النَّاسِ وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۔ (الانفال : 47)
(اور ان لوگوں کی طرح نہ بنوجو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے اور وہ اللہ کے راستے سے روکتے تھے اور اللہ کے قابو میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔ )
مسلمان کا کردار اس کی پہچان ہے
مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے سیرت و کردار کے جس معیا رکو اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے ان میں سے کچھ ہدایات تو وہ ہیں جن کا تعلق مسلمانوں کی امن کی زندگی سے ہے۔ لیکن اس رکوع میں وہ ہدایات دی جارہی ہیں جن کا تعلق حالت جنگ سے ہے۔ گزشتہ دو آیات میں جنگ کے دوران مسلمانوں کو جس کردار کا نمونہ ہونا چاہیے اس کے بارے میں ہدایات دی گئیں۔ اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ جس طرح تم حق کے علمبردار اور حق کے گواہ بن کر اٹھے ہو تمہاری ایک ایک بات اور تمہارا ایک ایک عمل بالکل اسی طرح اس کا منہ بولتا ثبوت ہونا چاہیے۔ جس طرح قریش مکہ کا لشکر جس جاہلیت کا علمبردار بن کر اٹھا ہے اور اس کی بقا اور اسلام کو ختم کرنے کے لیے جس طرح وہ قوت کا اظہار کرتا ہوا اور اپنے کردار کو اچھالتا ہوا میدانِ جنگ میں پہنچا اس سے دیکھنے والی نگاہوں کو اچھی طرح اندازہ ہوگیا کہ اسلام جس جاہلیت اور کفر کو مٹانے کے لیے اٹھا ہے وہ دراصل وہ سیرت و کردار اور وہ رویہ ہے جس کی عملی تصویر قریش مکہ ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کے لیے لازم ہے کہ آئندہ کی زندگی میں کبھی کسی کافر گروہ کے کردار کا عکس ان میں دکھائی نہیں دینا چاہیے۔ ورنہ ان کی اصل حیثیت گم ہوجائے گی۔ وہ جس چیز کو اپنے ایمان اور عمل سے ختم کرنے کے لیے اٹھے ہیں اگر اسی چیز کے اثرات ان میں بھی دکھائی دینے لگیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حکیم اور طبیب جن امراض اور وبائوں کے علاج کے لیے جان پر کھیل کر نکلے تھے انھوں نے انھیں امراض کے ساتھ سازگاری پیدا کرلی ہے تو اب ان کا شمار اطباء میں نہیں بلکہ بیماروں میں ہوگا۔ اللہ حق کی گواہی کے لیے جس گروہ کو اٹھاتا ہے وہ اللہ سے کسی نسبت سے نہیں پہچانے جاتے بلکہ ان کی پہچان ان کی سیرت و کردار ہوتا ہے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں قریش مکہ کی نمایاں علامتوں کو واضح فرما کر حکم دیا گیا ہے کہ مسلمانوں یہ باتیں تمہارے اندر کبھی نہ آنے پائیں ورنہ تم اپنی شناخت گم کردو گے۔
قریشِ مکہ کی تین برائیاں
قریشِ مکہ کی تمام برائیوں کو سمیٹ کر تین بڑی بڑی خرابیوں کی صورت میں بیان فرمایا۔ جن میں سے پہلی بات یہ ہے کہ وہ لوگ اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور تکبر اور نخوت کا اظہار کرتے ہوئے نکلے ہیں۔ وہ اپنے بندہ ہونے کو بھول کر اپنی خدائی کا ناسور پھونکنا چاہتے ہیں۔ انھیں بالکل یاد نہیں کہ انھیں ایک دن مرنا ہے۔ دنیوی اسباب چند دنوں کی بات ہے آج اس کے پاس ہے کل اس کے پاس۔ موت کی ایک پھونک ہمیشہ کے کروفر کو بجھا کر رکھ دیتی ہے۔ مصیبت کا ایک جھونکا آرام و راحت کی صف لپیٹ دیتا ہے۔ زندگی کا کوئی حادثہ خوشحالیوں کو تلخ یادوں میں تبدیل کردیتا ہے۔ لیکن وہ زندگی کے ان حقائق کو بالکل بھول کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اس وقت کی سب سے بڑی قوت ہیں۔ کوئی قوم بھی جب اپنی اصل حقیقت کو بھول کر مصنوعی زندگی اختیار کرلیتی ہے تو انسانیت کا پیراہن باقی نہیں رہتا۔ انسانی سیرت و کردار کی بجائے حیوانی خصلتیں اور بہیمانہ جبلتیں دل و دماغ پر غالب آجاتی ہیں۔ وہ زندگی کا حاصل انسانی کمالات کو نہیں سمجھتے بلکہ عیش کوشی اور سفلی جذبات کی تسکین ان کی زندگی کا حاصل بن جاتی ہے۔ جب انھیں وسائل کی وسعت نظر آتی ہے تو وہ نفسانی آلودگیوں میں ڈوب جانے کو آسودگی سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔ جب بھی انھیں موقع ملتا ہے بےحیائی کی مجالس، نائو نوش کے سامان، قحبہ گری کے امکانات، ان کے وسائل کا ہدف بن جاتے ہیں۔ چناچہ قریش مکہ بھی جب ایک عظیم لشکر لے کر نکلے تو وہ اپنی بڑائی کے زعم میں یہ سمجھتے تھے کہ ہماری بڑائی کا زعم ناتمام رہے گا۔ اگر ہم نے صرف طاقت کا اظہار کیا لیکن عیش و عشرت کو بہ ہمہ وجوہ بروئے کار نہ لاسکے۔ چناچہ وہ اپنے ساتھ گانے بجانے والی لونڈیاں لے کر نکلے جن کے ساتھ وہ جگہ جگہ ٹھہر کر رقص و سرود اور شراب نوشی کی محفلیں برپا کرتے ہوئے جارہے تھے۔ جو سردار شراب کے نشے میں زیادہ مخمور ہوتا اور بےحیائی کا زیادہ اظہار کرتا وہ اتنا ہی زیادہ اپنے آپ کو بڑا آدمی سمجھتا تھا کیونکہ ان کے نزدیک یہی بڑائی کی علامت تھی۔ مسلمانوں سے فرمایا جارہا ہے کہ دیکھنا اس راستے پر چلنے کی کبھی کوشش نہ کرنا وسائل کو اللہ کی امانت سمجھنا اور ان کا حق ادا کرکے اللہ کے سامنے سرخرو ہو کر جانا۔
قریشِ مکہ کے لشکر کی دوسری صفت جس کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ تھی ” َرِئَائَ النَّاسِ “ کہ وہ اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے۔ جو قبیلہ یا جو قریہ راستے میں آیا۔ ان پر اپنی طاقت اور شوکت اور اپنی کثرت تعداد اور اپنے سروسامان کا رعب جماتے ہوئے نکلے۔ ان کی زبانوں پر اپنی بڑائی کے نعرے اور ان کے سروں میں اپنی عظمت کا سودا سمایا ہوا تھا۔ جاو بےجا چیلنج کرتے کہ آج ہمارے مقابل کون آسکتا ہے کس میں اتنی طاقت ہے کہ وہ ہمارا راستہ روک سکے۔ وہ اپنے آپ کو وقت کی سب سے بڑی قوت سمجھتے تھے جب اس طرح کا پندار کسی بھی قوم کے سروں میں سما جاتا ہے تو ظلم کی کھیتی ہری ہوتی اور مظلومیت کے سائے گہرے ہوجاتے ہیں۔ کمزور، کمزور تر اور مظلوم، مظلوم تر ہوجاتا ہے۔ زمین جنگل کی طرح صرف طاقت ور کو جگہ دیتی ہے اور کمزور شکار ہونے کے لیے رہ جاتا ہے۔ اب دنیا میں کشمکش حق و باطل کی نہیں بلکہ طاقت اور ضعیفی کے درمیان ہوتی ہے۔ اس لیے مسلمانوں سے فرمایا کہ جب کبھی اللہ تمہیں طاقت و قوت عطا فرمائے تو دیکھنا اپنی طاقت کو اللہ کی طاقت سمجھنا اور اپنا سر اس کی طاقت کے سامنے جھکا دینا اسی کی کبریائی کا اعلان کرنا اور اپنی بندگی کو بندگی کے آداب سکھانا۔
آیتِ کریمہ میں ایک تیسری بات کا بھی ذکر فرمایا گیا ہے۔ پہلی دونوں باتیں قریش مکہ کے کردار اور خصائل کا حصہ تھیں تو یہ تیسری بات ان کے لیے مقصد کا درجہ رکھتی ہے۔
وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (وہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ )
ان کی زندگی کا اصل مقصد صرف یہ ہے کہ کسی شخص کو اللہ کے راستے پر نہ چلنے دیں۔ ان کی اخلاقی حالت کا بگاڑ کہاں تک پہنچا تھا وہ تو ہم نے ان کی دو خصلتوں کے آئینے میں دیکھا لیکن ان کے مقصد زندگی کی شناعت نے ان کے اخلاقی بگاڑکو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ وہ اتنی بڑی قوت لے کر مکہ سے اس لیے نہیں نکلے کہ اچھائی کی کسی بات کو توانا کیا جائے اور سچائی کی کسی بات کو عظمت دی جائے بلکہ وہ اس لیے نکلے ہیں کہ حق وراستی اور عدل و انصاف کا جو پرچم لے کر مسلمان اٹھے ہیں اس کو ہمیشہ کے لیے سرنگوں کردیا جائے تاکہ ہماری طاغوتی زندگی اور ہمارا نمرودی تخت وتاج ہر طرح کی تنقید اور تصادم سے پاک رہے۔ ہم اللہ کی زمین میں شیطانی زندگی گزارنے میں آزاد ہوں۔ ہمارے ظلم کو روکنے والا کوئی نہ ہو اور ہماری مصنوعی عظمتوں کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ اٹھے۔ مسلمانوں کو متنبہ کیا جارہا ہے کہ تم دنیا کے لیے مینارہ نور ہو، قیامت تک کے لیے ہر طرح کی تاریکیوں میں روشنی کا سامان تمہارے دم سے ہے اگر تمہاری روشنی بادلوں میں ڈوب گئی یا تم خود تاریک راہوں کے مسافر بن گئے تو دنیا اندھیر ہوجائے گی اور یہ مت سمجھو کہ جاہلیتِ قدیمہ کے بعد جاہلیتِ جدیدہ نہیں آئے گی۔ اشرارِ قریش کے بعد کہیں اشرار کا لشکر تیار نہیں ہوگا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ جس طرح اہل حق کا قافلہ آگے بڑھے گا اسی طرح اہل باطل بھی جب موقع ملے گا سر اٹھائیں گے۔ چناچہ آج ہم کفار کے لشکر اور کفر کی طاقتوں کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت جو حال قریش مکہ کا تھا ان کا حال ان سے بھی بدتر ہے۔ آج بھی وہی قحبہ خانے، فواحش کے اڈے، شراب کے مٹکے، ہر لشکر کے لیے لازمی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے پیش نظر بھی اسلامی قوتوں کو ختم کرنا اور اسلامی مراکز کی جڑ اکھاڑنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ اقبال نے انھیں کو دیکھتے ہوئے شاید کہا تھا :
نہ ستیزہ گاہ جہاں نئی نہ حریفِ پنجہ شکن نئے
وہی قوت اسد اللّٰہی وہی مرحبی وہی عنتری
اخلاقی بگاڑ پہلے سے کہیں بڑھ چکا کفر کے مکروہ ارادوں میں پہلے سے زیادہ طاقت آگئی ہے۔ وسائلِ جنگ میں پہلے سے کہیں فراوانی ہے۔ ٹیکنالوجی کی قوت نے کافر طاقتوں کو خدائی کے منصب پر بٹھا دیا ہے۔ شیطان پوری طرح مطمئن ہے کہ میرے اسلحہ جنگ میں کوئی کمی نہیں۔ لیکن مومن کی بےسروسامانی پہلے سے بڑھ گئی ہے نہ عقیدے میں قوت ہے نہ اخلاق میں دلآویزی اور نہ مقصد کی لگن حالانکہ :
مومن کو ہے پھر معرکہ روح وبدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
اللہ کو ہے پامردیِ مومن کا بھروسہ
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
آج شدید ضرورت ہے کہ مسلمان اپنے عہد رفتہ کو یاد کریں۔ اپنے مقاصدِ زندگی کو سمجھیں۔ اپنے فرائض کو پہچانیں۔ کافر قوتوں کے تزویری دائوپیچ کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ آندھی جو سر پر تلی کھڑی ہے اس کے آنے سے پہلے اپنے بکھرے ہوئے شیرازے کو سمیٹ لیں اور اس بات کا یقین رکھیں کہ اگر یہ اللہ کے بھروسے پر اسلامی احکام پر عمل کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں گے تو کفر کی طاقت چاہے کیسے بھی سہی :
وَاللّٰہُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ (وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں جاسکتے۔ )
Ayah 8:48وَاِذْ زَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَھُمْ وَقَالَ لَاغَالِبَ لَکُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَاِنِّیْ جَارٌ لَّکُمْ ج فَلَمَّا تَرَآئَ تِ الْفِئَتٰنِ نَکَصَ عَلٰی عَقِبَیْہِ وَقَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓ ئٌ مِّنْکُمْ اِنِّیْٓ اَرٰی مَالَا تَرَوْنَ اِنِّیْٓ اَخَافُ اللّٰہَ ط وَاللّٰہُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ ع (الانفال : 48)
(اور یاد کرو ! جب مزین کردیئے ان کے لیے شیطان نے ان کے اعمال اور کہا کہ آج لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہیں ہوگا اور میں تمہارا حمائیتی ہوں تو جب دونوں گروہ آمنے سامنے ہوئے تو وہ الٹا پھرا اپنی ایڑیوں پر اور بولا کہ میں تم سے بری ہوں، میں وہ کچھ دیکھ رہاں ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ )
ایک اہم حقیقت کا انکشاف
اس آیت کریمہ میں پروردگار نے واقعات کے تناظر میں ایک ایسی حقیقت کا انکشاف فرمایا ہے جس کے سمجھ لینے سے بہت سی گتھیاں سلجھ جاتی ہیں اور اس حقیقت کی اہمیت کے پیش نظر پروردگار نے قرآن کریم میں متعدد مواقع پر اس کا ذکر فرمایا ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے اور آپ کو بھی بعض دفعہ اس صورتحال سے واسطہ پڑا ہوگا کہ آپ اپنے کسی ایسے عزیز کو غلط کام سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں جو پے درپے غلطیوں کا ارتکاب کررہا ہے۔ لیکن آپ کو اس وقت انتہائی تعجب ہوتا ہے جب آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کی ساری کوششیں اکارت جارہی ہیں۔ وہ شخص یا تو آپ کی بات ہی نہیں سنتا یا سنتا ہے تو آپ کی کوئی دلیل کارگر نہیں ہوتی۔ بالکل سطحی سی باتوں پر اس کا اصرار جاری رہتا ہے۔ آپ اسے جن نقصانات کا حوالہ دے کر روکنا چاہتے ہیں وہ انھیں نقصانات کو فوائد سمجھتا ہے۔ اگر آپ غور کریں گے تو آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ کسی وجہ سے اس شخص کے دل و دماغ میں اس کے اپنے اعمالِ بد یا اس کے غلط فیصلے ایک ایسی شکل اختیار کرچکے ہیں جو اس کو اچھی لگنے لگی ہے۔ وہ بری ہونے کے باجود اسے بری نہیں لگتی بلکہ وہ اسی میں خوش رہتا ہے اور اسی کو اپنی خوشیوں کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ شراب نوشی ہر سمجھ دار آدمی کے نزدیک ” ام الخبائث “ ہے۔ لیکن شراب نوشوں کو عقلی دلائل یا اخلاقی نصیحتوں سے قائل نہیں کیا جاسکتا۔ کام چوروں کو باور نہیں کرایا جاسکتا کہ تم اپنی زندگی برباد کررہے ہو۔ بد محنت اور نکمے لوگوں کو یہ سمجھانا آسان نہیں کہ جو وقت تمہارے ہاتھوں سے نکل رہا ہے وہ لوٹ کر نہیں آئے گا کیونکہ ان میں سے ہر ایک کو اپنا رویہ ایسا خوشنما محسوس ہوتا ہے کہ وہ اسے بدلنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتا۔ یہ وہ چیز ہے جسے قرآن کریم تزئینِ شیطان کا نام دیتا ہے کہ شیطان نہائیت چابک دستی اور ہوشیاری سے انسانی برائیوں اور کوتاہیوں کو خوشنما شکل میں ارتکاب کرنے والوں کے سامنے رکھتا ہے اور ایسے ایسے سبز باغ ان کو دکھاتا ہے کہ وہ پوری طرح مطمئن ہوجاتے ہیں کہ جو کچھ ہم کررہے ہیں وہی صحیح ہے۔ ایک سگریٹ پینے والا اپنے ہاتھوں سے اپنی دولت کو آگ لگاتا ہے، شراب پینے والا جانتا ہے کہ میں خود اپنی عقل کا دشمن ہوں۔ باایں ہمہ ! وہ شیطان کے جال سے نکلنے کی کبھی کوشش نہیں کرتا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس حقیقت کے انکشاف کے ساتھ ساتھ قریش مکہ کی صورتحال کی توجیہ پیش کی گئی ہے۔ تیرہ سال تک نبی کریم ﷺ نے ان کے سامنے اللہ کے دین کی دعوت پیش کی، حق کا حق ہونا واضح فرمایا اور باطل کا باطل ہونا کھول کر رکھ دیا۔ اپنی صداقت و حقانیت کے عجیب عجیب نشانات دکھائے اپنی استقامت سے اپنا برسر حق ہونا پوری طرح واضح کردیا لیکن قریش کی اکثریت اور بڑے بڑے سردار کسی طرح ایمان لانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اب وہ حق کی اس آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرنے کی خاطر ایک بڑی قوت لے کر مکہ سے نکل رہے ہیں اور شیطان نے ان کے ایک ایک عمل کو اس طرح ان کے سامنے مزین کیا ہے کہ وہ پوری طرح مطمئن ہیں کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں اس میں کسی غلطی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
مفسرین نے ان کی ایک پریشانی کا بھی ذکر کیا ہے جسے شیطان نے اپنی عیاری سے دور کرنے کی کوشش کی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حق کے مقابلے میں ان کی تمام کوششیں شیطان کی اسی فنکاری کا نتیجہ تھیں۔
امام ابن جریر نے حضرت عبداللہ ابن عباس کی روایت سے نقل کیا ہے کہ جب قریش مکہ کا لشکر مسلمانوں کے مقابلے کے لیے مکہ سے نکلا تو ان کے دلوں میں ایک پریشانی تھی کہ ہمارے قریب میں قبیلہ بنو بکر آباد ہے وہ ہمارا دشمن ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ہم مسلمانوں کے مقابلہ پر جائیں اور یہ دشمن قبیلہ موقعہ پاکر اپنا ہاتھ دکھا جائے۔ ابو سفیان کے اطلاع دینے پر قریش گھبرا کر یا طیش میں آکر نکل تو کھڑے ہوئے لیکن یہ خطرہ برابر ان کے لیے پریشانی کا باعث تھا۔ چناچہ شیطان نے اس خطرے کے علاج کے لیے سراقہ ابن مالک کی صورت اختیار کی اور اس طرح قریش کے سامنے آیا کہ اس کے ہاتھ میں جھنڈا تھا اور اس کے ساتھ ایک دستہ بہادر فوج کا تھا۔ سراقہ بن مالک اس علاقہ اور قبیلہ کا بڑا سردار تھا۔ وہ آگے بڑھ کر قریش سے ملا اور انھیں یقین دلایا کہ تمہیں کسی طرح کی بھی پریشانی نہیں ہونی چاہیے تم عرب کی سب سے بڑی قوت ہو۔
لَاغَالِبَ لَکُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ ( آج لوگوں میں سے تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ )
کیونکہ عرب میں تمہارے مقابلے کی کوئی طاقت نہیں یہ مٹھی بھر مسلمان تمہارا کیا بگاڑ سکتے ہیں یا کوئی اور قبیلہ تمہاری طرف کیسے میلی نگاہ سے دیکھ سکتا ہے اور دوسری یہ بات اِنِّیْ جَارٌ لَّکُمْ (میں تمہارا حمائتی ہوں) اگر کوئی ایسا خطرہ وہوا بھی تو میں ہر طرح تمہاری مدد کروں گا اس طرح شیطان نے سراقہ ابن مالک کی شکل میں انھیں یقین دلادیا کہ تم سب سے بڑی قوت ہو آج کوئی خطرہ تمہارا راستہ نہیں روک سکتا۔ اس طرح سے وہ قریش کو لے کر میدانِ بدر میں پہنچ گیا۔ لیکن جب دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں اور شیطان نے دیکھا کہ مسلمانوں کے ساتھ حضرت جبرئیل اور میکائیل کی قیادت میں فرشتے بھی مدد کے لیے کھڑے ہیں تو اب اسے حقیقی خطرے کا احساس ہوا۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) کی روایت کے مطابق شیطان ایک قریشی جوان حارث بن ہشام کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے کھڑا تھا جیسے ہی فرشتوں کو دیکھا فوراً اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگنا چاہا حارث نے ٹوکا کہ یہ کیا کررہے ہو ؟ تم عرب کے سردار ہو اور تم نے ہماری معاونت کا وعدہ کیا ہے۔ اب عین وقت پر ہمارا ساتھ کیوں چھوڑ رہے ہو ؟ تو اس نے کہا کہ میں تم سے بری ہوں کیونکہ میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے کیونکہ وہ تو فرشتوں کو دیکھ رہا تھا لیکن انسانوں کو فرشتے نظر نہیں آرہے تھے۔ اس طرح وہ کفار کو میدان میں چھوڑ کر اپنا لشکر لے کر بھاگ گیا۔
شیطان کی خاص عادت
ابنِ کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ شیطان کی یہ ہمیشہ سے عادت ہے کہ جب تک انسان برائی میں مبتلا نہیں ہوجاتا وہ برابر اس کے ساتھ لگا رہتا ہے اور برائی کو خوشنمابنا کر اس کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن جب وہ شخص برائی میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پھر اسے چھوڑ کر الگ ہوجاتا ہے کیونکہ شیطان کے پیش نظر کسی انسان کا ہمیشہ ساتھ دینا نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد گمراہ کرنا ہے جب مقصد پورا ہوجاتا ہے تو وہ الگ ہوجاتا ہے۔ قرآن کریم نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :
کَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اکْفُرْج فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓئٌ مِّنْکَ اِنِّیْٓ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ۔
شیطان کی عادت یہ ہے کہ وہ انسان سے کہتا ہے کہ کفر کرو یعنی اسے ترغیب دیتارہتا ہے اور جب انسان کفر میں مبتلا ہوجاتا ہے تو یہ کہہ کر الگ ہوجاتا ہے کہ میں تو تجھ سے بری ہوں کیونکہ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ (الحشر : 16)
حاصل کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کو عقل وخرد اور قوت تمیز دے کر خیر وشر کی پہچان عطا فرمائی ہے اور مزید کرم یہ فرمایا کہ اپنے رسول اور کتابیں بھیج کر حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا پوری طرح واضح فرمادیا۔ اسی طرح انسان کے امتحان کے لیے اللہ نے شیطان کو دجل وتلبیس کی مختلف صلاحیتوں سے بہرہ ور کیا ہے۔ وہ کبھی دل میں وسوسہ ڈالتا ہے اور کبھی سامنے آکر انسانی شکل میں بہکانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا خاص ہنر یہ ہے کہ انسان جس برائی کی طرف میلان اختیار کرتا ہے اس کو وہ زیادہ سے زیادہ خوشنما بنا کر دکھاتا ہے۔ لیکن اس کی انسان دشمنی کا عالم یہ ہے کہ جب انسان گمراہی میں ڈوب جاتا ہے اور حق کے راستوں سے پوری طرح منہ موڑ لیتا ہے اور وہ اسے چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔ اللہ کا مزید احسان یہ ہے کہ اس نے شیطانی طریق واردات کو کھول کر بیان کردیا ہے تاکہ انسان اگر اس سے بچنا چاہے تو بچ سکے۔
اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ شیطانی تلبیسات سے بچنے کے لیے اللہ کے دین و شریعت کا علم بہت ضروری ہے کیونکہ شیطان بعض دفعہ نیکی کی صورت میں برائی دلوں میں اتار دیتا ہے۔ دین کا نام دے کر بےدینی کا بیج بو دیتا ہے۔ جو شخص شرعی احکام سے واقف نہیں ہے وہ بعض دفعہ نیکی کی محبت سے بدعات و خرافات کو نیکی سمجھنے لگتا ہے اور اس میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ لیکن جو شخص اللہ کی شریعت سے واقف ہے اسے اس طرح فریب دینا شیطان کے لیے آسان نہیں ہوتا۔
مزید یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ شیطان چونکہ وسوسہ اندازی میں بہت مہارت رکھتا ہے اس لیے اس کی تلبیس سے بچنے کے لیے جہاں علم و احساس کی ضرورت ہے وہیں اللہ کی توفیق کی اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ اس لیے ایک مومن کا فرض ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے اللہ سے صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق مانگتا رہے اور شیطانی تلبیسات سے محفوظ رہنے کے لیے ان تمام اعمال کو بروئے کار لائے جس کا ذکر حدیث وسنت میں موجود ہے۔
Ayah 8:49اِذْیَـقُوْلُ الْمُنٰـفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ غَرَّھٰٓؤُلَآئِ دِیْنُھُمْ طوَمَنْ یَّتََوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌحَکِیْمٌ۔ (الانفال : 49)
(یاد کرو ! جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہتے تھے ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے اور جو اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں تو اللہ عزیز و حکیم ہے )
منافقین کا تبصرہ
مسلمان جب قریش کے مقابلے میں میدانِ بدر کی طرف نکلے تو جو لوگ صرف سر کی آنکھوں سے دیکھتے اور دماغ سے سوچتے تھے ان کے لیے یہ بات ناقابلِ فہم تھی کہ یہ مٹھی بھر لوگ قریش کے عظیم لشکر کا مقابلہ کیسے کرپائیں گے۔ افرادی قوت توجیسی کچھ ہے وہ سامنے ہے، وسائلِ جنگ کا نام نہیں، نہ جانے کس برتے پر اتنا بڑا اقدام کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ان میں وہ لوگ بھی تھے جو ابھی تک نفاق کے مریض تھے۔ ایک منافق کے لیے یقینا دل سے سوچنا اور ایمان کے نور سے دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی طرح وہ لوگ بھی یہی بات کہہ رہے تھے جن کے دلوں میں بیماری تھی۔ دلوں کی بیماری کو نفاق بھی کہتے ہیں اور حسد بھی۔ یہاں یقینا نفاق تو مراد نہیں کیونکہ اس کا ذکر ” منافقون “ کے لفظ میں آگیا، البتہ ! اس سے مراد حسد ہوسکتا ہے اور حسد کرنے والے یوں تو بہت سے ہوں گے لیکن ان میں نمایاں گروہ یہود کا تھا معلوم ہوتا ہے یہاں وہی لوگ مراد ہیں۔ وہ حسد کے مارے دل کے پھپھولے پھوڑنے کے لیے ایسی باتیں کرتے تھے حالانکہ وہ جانتے تھے کہ طالوت اور جالوت کی جنگ میں منظر نامہ اس سے مختلف نہیں تھا۔ طالوت کا لشکر اتنا ہی تھا جتنا مسلمانوں کا اور جالوت کے ساتھ ایک جمِ غفیر تھا۔ لیکن نتیجہ کیا رہا ؟ اہل تورات خوب جانتے تھے۔ لیکن حسد کے مارے یہ تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے کہ جس حق کو لے کر حضرت طالوت قلت تعداد کے باوجود نکلے تھے آج اسی حق کو لے کر مسلمان نکلے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی بجائے یہ کہہ رہے تھے کہ درحقیقت مسلمانوں کو ان کے دین نے دھوکہ میں مبتلا کردیا ہے ان کے پیغمبر کی شخصیت اور دعوت نے ایک ایسا افسوں پھونکا ہے کہ نفع وضرر کے پیمانے انھوں نے توڑ ڈالے ہیں۔ جنت کی خواہش نے زندگی کی خواہش کو شکست دے دی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ انھیں موت کی طرف نکلتے ہوئے خوف نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان مادہ پرست لوگوں کو اس حقیقت کا ادراک کیسے ہوسکتا ہے ؟ کہ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرلیتا ہے اور پھر اسی کے دین کی سربلندی کے لیے سب کچھ اس کی رضا کی خاطر جھونک دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں کو کبھی ضائع نہیں ہونے دیتا۔ وہ ہمیشہ ان کی مدد فرماتا ہے، وہ چونکہ عزیز ہے اس لیے اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جس کی وہ مدد کررہا ہے اس کے مقابلے میں کتنی بڑی طاقت ہے اور وہ چونکہ حکیم ہے اس لیے اس کا ہر فیصلہ حکمت کی تصویر ہوتا ہے۔
Ayahs 8:50–51وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ یَتَوَفَّی الَّذِیْنَ کَفَرُوا لا الْمَلٰٓئِکَۃُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْھَھُمْ وَاَدْبَارََھُمْ ج وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ ۔ ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْکُمْ وَاَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ ۔ لا (الانفال : 50، 51 )
(اور اگر تم دیکھ پاتے جب روح قبض کرتے ہیں فرشتے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا ہے، مارتے ہیں ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر (اور یہ کہتے ہیں) اب چکھو مزہ جلنے کے عذاب کا۔ یہ بدلہ ہے اسی کا جو تم نے آگے بھیجا اپنے ہاتھوں سے اور اللہ بندوں پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا۔ )
جواب شرط کے حذف کا فائدہ
وَلَوْ تَرٰٓی میں ” لَوْ “ حرف شرط ہے۔ لیکن اس کا جوابِ شرط آیت میں ذکر نہیں فرمایا گیا۔ اہل بلاغت کا طریقہ یہ ہے کہ جب کسی چیز کے ہولناکی یا اس کے کمال کو بیان کرنا مقصود ہو تو وہاں عموماً جوابِ شرط محذوف کردیا جاتا ہے۔ یہاں بھی ایسا ہی ہے کہ اگر آپ دیکھ لیتے کہ جب کافروں کی جانیں نکالی جاتی ہیں ان کے ساتھ کیا گزرتی ہے تو آپ کو اندازہ ہوتا کہ وہ کس عظیم مصیبت اور ہولناک عذاب سے دوچار ہوتے ہیں۔ لفظوں میں اسے ذکر کرنے کی بجائے اسے محذوف فرما کر اس کی ہولناکی کے منظر کو کہیں زیادہ ہولناک بنادیا ہے۔
مبالغہ فی النفی کا مفہوم
آیت کے آخر میں فرمایا : لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ اس کا بظاہر یہ معنی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر زیادہ ظالم نہیں کیونکہ ظَلَّامٍ اسم مبالغہ ہے حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ پروردگار بالکل ظالم نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عربی زبان میں جب مبالغہ پر نفی آتی ہے تو اس سے مبالغہ فی النفی کا مضمون پیدا ہوتا ہے۔ یہاں بھی اس کا مفہوم یہ نہیں کہ وہ بندوں پر زیادہ ظالم نہیں بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں۔
اب آیت کا مفہوم دیکھئے۔ سیاق کلام دیکھتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پروردگار یہ فرما رہے ہیں کہ مشرکینِ مکہ کے ساتھ میدانِ بدر میں جو کچھ گزری بظاہر وہ ایسی چوٹ ہے جس کی گہرائی کا اندازہ کرنا آسان نہیں۔ وہ لشکر جسے زعم یہ تھا کہ آج اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا وہ جزیرہ عرب کی سب سے بڑی قوت ہے اسے چند غیر مسلح اور نہتے مسلمانوں نے وہ سبق سکھایا جو ہمیشہ یاد رہے گا۔ ان کی پوری قیادت تہِ تیغ کردی گئی، قیادت کی دوسری صف زنجیروں میں باندھ لی گئی، اس شکست سے پورے عرب میں ان کی طاقت کا بھرم کھل گیا، وہ رسوائی ہوئی کہ الامان والحفیظ۔ لیکن اللہ فرماتا ہے کہ یہ تو کچھ بھی نہیں اگر تم کہیں اس منظر کو دیکھ لیتے جبکہ جنگ بدر میں قتل ہونے والوں کی جانیں نکالی جارہی تھیں۔ فرشتے کوڑوں اور گرزوں سے ان کے چہروں پر مار رہے تھے اور ان کے کو لہوں پر ضربیں لگا رہے تھے اور جو کچھ ان پر گزر رہی تھی تب شائد آپ کو اندازہ ہوتا کہ ان پر کیا قیامت گزری ہے اور پھر اسی پر بس نہیں ان کو مارتے اور ادھیڑتے ہوئے یہ بھی کہتے تھے کہ موت تو ایک وقتی لمحاتی تکلیف ہے اصل عذاب تو جہنم میں تمہارا انتظار کررہا ہے۔ وہاں کی آگ جو پتھروں کو پگھلادیتی ہے، تمہاری تواضع کے لیے چشم براہ ہے اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ کافر دنیا سے تو گزر ہی جائیں گے، اصل ان کا عذاب دیکھنے کا تو وہ ہے جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرتے ہیں۔ ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر مارتے ہیں اور پھر انھیں جہنم کے عذاب سے ڈراتے ہیں اور یہ انجام ہر کافر کا ہوتا ہے۔ کاش ! تم ان کی اس کیفیت کو دیکھ سکتے تو تمہیں اندازہ ہوتا کہ کس طرح ان پر قیامت سے پہلے قیامت آجاتی ہے اور یہ جو کچھ ان کے ساتھ بیتتی ہے، یہ ایسا نہیں کہ ان پر ظلم ہوتا ہے بلکہ انھوں نے زندگی بھر جو فصل بوئی اور پروان چڑھائی یہ اسی کا پھل ہے جو ان کو کاٹنا پڑتا ہے۔ یہ انہی کے ہاتھوں کی کمائی ہے جسے وہ مرتے ہوئے سمیٹتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں پر رتی بھر ظلم کا روادار نہیں۔ اس کا قانونِ عدل بےلاگ ہے۔ وہ اپنی ذات میں نہایت رحیم وکریم ہے لیکن اس کے عدل کا تقاضا یہ ہے کہ کوئی جیساکرے گا ویسا بھرے گا۔
Ayahs 8:52–54کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ لاوَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْط کَفَرُوْابِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاَخَذَھُمُ اللّٰہُ بِذُنُوْبِھِمْط اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَھَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَابِاَنْفُسِھِمْ لاوَاَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ لا وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ط کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ فَاَھْلَکْنٰـھُمْ بِذُنُوْبِھِمْ وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ ج وَ کُلٌّ کَانُوْا ظٰلِمِیْنَ ۔ (الانفال : 52 تا 54)
(ان کا حال وہی ہے) جیسے حال تھا قوم فرعون اور ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے انھوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا تو اللہ نے انھیں ان کے گناہوں کی پاداش میں پکڑا بیشک اللہ زور آورسخت عذاب دینے والا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہرگز بدلنے والا نہیں اس نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو دی ہو جب تک وہی نہ بدل ڈالیں اپنے طرز عمل کو اور بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ ان کا حال وہی ہے جو حال تھا آل فرعون کا اور ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے انھوں نے اپنے رب کی آیتوں کی تکذیب کی تو ہم نے انھیں ہلاک کردیا ان کے گناہوں کی پاداش میں اور آل فرعون کو ہم نے غرق کردیا اور یہ سارے کے سارے ظالم تھے۔ )
تاریخِ دعوت اور سنت اللہ
” دأبٌ“ کا معنی ہوتا ہے (حال یا عادت) آیت سے پہلے دأبھم کا لفظ محذوف ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ قریش مکہ کے ساتھ جو کچھ ہوا اور جو کچھ آئندہ ہوگا، وہ انبیاء کی تاریخِ دعوت اور اللہ کی سنت کے خلاف نہیں ہے۔ اس کا ہمیشہ یہ معمول رہا ہے کہ وہ انسانوں کو فہم و شعور عطا فرماتا ہے نعمتوں سے نوازتا ہے ہر طرح کے وسائل سے بہرور کرتا ہے اور جب وہ لوگ فہم و شعور سے کام لینے سے عاجز رہتے ہیں تو اللہ ان پر مزید احسان یہ کرتا ہے کہ اپنے رسول بھیجتا ہے اور اپنی کتابیں اتارتا ہے اور افہام و تفہیم کے تمام ذرائع سے کام لے کر ان پر حجت تمام کردیتا ہے۔ لیکن اگر وہ رسول کی دعوت کو قبول کرنے کی بجائے مخالفت پر تل جاتے ہیں اور راہ راست اختیار کرنے کی بجائے ہدایت کے راستے پر چلنا مشکل بنا دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں تنبیہ کرنے اور متوجہ کرنے کے لیے آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے۔ کبھی کوئی وبا ان پر بھیجتا ہے کبھی کسی تکلیف میں مبتلا کردیتا ہے اور اللہ کا نبی انھیں باربار آگاہ کرتا ہے کہ یہ مصائب کے جھٹکے دیکر تمہیں جگانے کی کوشش کی جارہی ہے اور ساتھ ساتھ وارننگ بھی دی جارہی ہے کہ اگر تم اپنا رویہ نہیں بدلو گے تو تم پر اللہ کا عذب بھی نازل ہوسکتا ہے۔ یہ اس کی چھوٹی چھوٹی تنبیہات جن کی برداشت کی تم میں طاقت نہیں اور اگر اس کا عذاب آگیا تو پھر سوچو تمہارا کیا بنے گا ؟ تمہاری بستیاں تباہ ہوجائیں گی، تمہارا وجود ختم ہوجائے گا۔ اس آیت کریمہ میں خاص طور پر آل فرعون کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ بھی اشارہ فرمایا گیا ہے کہ ان سے پہلے جو قومیں تباہ ہوئیں ان کا حال بھی ان سے مختلف نہ تھا۔ آل فرعون سے مراد صرف فرعون کے اہل و عیال اور اس کا خاندان نہیں بلکہ اس کی پوری قوم ہے۔ ان کی طرف اللہ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو رسول بنا کر بھیجا۔ انھوں نے سالوں تک مصر میں تبلیغ کا فرض انجام دیاجب آل فرعون نے حق کو قبول کرنے سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے مختلف مصائب میں انہین مبتلا کیا۔ کبھی زلزلہ آیا، کبھی قحط سالی آئی، کبھی ٹڈیوں اور مینڈکوں کی وبا پھیلی، کبھی دریائوں کا پانی خون میں بدل دیا گیا، ہر تنبیہ کے بعد فرعون اور آل فرعون وعدہ کرتے کہ اس تکلیف کو واپس لے لیا جائے تو ہم راہ راست اختیار کرلیں گے۔ لیکن جب تکلیف ہٹا دی جاتی تو وہ پھر اپنی ڈگر پر چل پڑتے۔ ان کی اس تاریخ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے قرآن کریم قریش مکہ سے کہہ رہا ہے کہ تمہارے ساتھ بدر کے میدان میں جو کچھ گزری ہے اور تم جس عذاب اور رسوائی سے دوچار ہوئے ہو یہ اللہ کی اسی سنت کا تسلسل ہے۔ جس میں آل فرعون اور دوسری قومیں مبتلا ہوتی رہی ہیں۔ لیکن آپ غور فرمائیے ! اس آیت کریمہ میں یہ تو فرمایا کہ اللہ نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انھیں پکڑا لیکن یہ نہیں فرمایا کہ انھیں ہم نے ہلاک کردیا۔ پکڑنے سے مراد وہی تنبیہات ہیں جن سے مقصود قوموں کو جگانا اور ہوشیار کرنا ہوتا ہے اور ساتھ ہی یہ تصور دینا ہوتا ہے کہ اگر اللہ کی طرف سے ان تنبیہات کی گرفت اور وسعت کا یہ عالم ہے تو خود اندازہ کرو اس کا عذاب کتنا شدید ہوگا اس لیے اس کے عذاب آنے سے پہلے اپنی حالت کو بدلنے کی کوشش کرو۔
اللہ تعالیٰ نعمت سے محروم کیوں کرتا ہے ؟
اللہ تعالیٰ کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں وہ تو رحمن اور رحیم ہے۔ اس کی رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔ وہ کبھی اپنے بندوں پر ظلم تو دور کی بات ہے معمولی تکلیف کا بھی روادار نہیں۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ عادل بھی ہے، بندوں کے اعمال کی جزا اور سزا اس کے عدل کا تقاضا ہے۔ تمہیں اس نے وجود بخشا، تمہاری نمود وپرداخت کے انتظامات کیے، تمہاری ضرورتوں کے لیے غذا کا دسترخوان بچھایا۔ زندگی کے راستوں پر چلنے کے لیے حواس اور عقل کے چراغ بخشے۔ وہ وہ نعمتیں عطا فرمائیں جس کا شمار تو دور کی بات ہے ان کا ادراک کرنا بھی مشکل ہے اور یہ سب کچھ اس لیے کرم فرمایا تاکہ تم اس کو پہچانو، اس کا شکر ادا کرو، اپنے آپ کو پہچانو اور اپنی بندگی کا حق ادا کرو۔ لیکن جب تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی بجائے کفرانِ نعمت کرتے ہو اور تمہارے دل و دماغ میں اس کے شکر کی بجائے ناشکری پلنے لگتی ہے اور اس کے اعتراف کی بجائے تم اس کا انکار کرنے لگتے ہو اس کے سامنے جھکنے کی بجائے اکڑنے لگتے ہو، اسی کا کھا کر اور اسی کی عطا کردہ زندگی سے مستفید ہوکراسی کے دشمنوں کا دم بھرتے ہو اور اس کی مخلوقات میں سے نہ جانے کس کس کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو تو پھر اللہ تعالیٰ کی سنت اور قانون حرکت میں آتا ہے تو وہ ان نعمتوں کو واپس لے لیتا ہے جو نعمتیں اس نے محض اس لیے عطا کی تھیں تاکہ ان کے ذریعے سے انسان اپنے منعم اور محسن کو پہچانے۔ وہ اپنے وجود کو دیکھے اور خالق تک پہنچے۔ ربوبیت کے فیضان کو دیکھ کر رب کو پہچانے، رزق کی ہمہ گیری کو دیکھ کر رازق کو دیکھنے کی کوشش کرے۔ ہر طرف پھیلی ہوئی نعمتوں کو دیکھ کر نعمتوں کے دینے والے کا ادراک کرے۔ لیکن جب اس کی بجائے انسان الٹے راستے پر چل پڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم کسی قوم کو نعمت دے کر کبھی نہیں چھینتے لیکن جب وہ قوم اپنا طرز عمل بدل دیتی ہے اپنے اندر کی دنیا بدل دیتی ہے ان کے نفسوں میں اللہ کی جگہ طاغوت اترآتا ہے اور وہ اپنے اندر بندگی کی پرورش کی بجائے سرکشی اور بغاوت کو پالتی ہے تو پھر ہم ان سے اپنی نعمتیں چھین لیتے ہیں۔ شروع میں کچھ نعمتیں چھین کر تنبیہ کرتے ہیں اور اگر وہ قوم اس تنبیہ کو سمجھ کر اللہ کے سامنے جھک جاتی ہے اور پیغمبر پر ایمان لے آتی ہے تو ہم اس کی نعمتوں کو بحال کردیتے ہیں بلکہ اپنی طرف سے مزید بھی عطا کرتے ہیں اور وہ عزت اور سرافرازی ان کا مقدر بنادیتے ہیں جس سے وہ ساری دنیا کے لیے ایک نمونہ بن جاتی ہے۔ لیکن اگر وہ آل فرعون اور دوسری معذب قوموں کی طرح پلٹنے کی بجائے کفر اور سرکشی کے راستے پر بڑھتی چلی جاتی ہے اور اپنی تکذیب پر مزید اڑ جاتی ہے تو پھر ہمارے عذاب کا کوڑا حرکت میں آتا ہے۔ اور ہم انھیں ان کی تکذیب کی پاداش میں ایسا پکڑتے ہیں کہ انھیں ہلاکت کی نذر کردیتے ہیں۔ کبھی ان کی دھرتی الٹ دیتے ہیں، کبھی ان پر پتھروں کی بارش کرتے ہیں، کبھی ان کے لیے زمین کا سینہ شق کردیتے ہیں اور کبھی آل فرعون کی طرح انھیں بحر قلزم میں غرق کردیتے ہیں۔ لیکن یہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ اپنے آپ کو پوری طرح ظالم ثابت کردیتے ہیں۔ یعنی وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ہر چیز کو الٹ پلٹ کر رکھ دیتے ہیں اور اللہ کی تنبیہات کو پلے باندھنے کی تیار نہیں ہوتے۔
جنگ بدر پہلی آیت کے مصداق ایک بہت بڑی تنبیہ کی صورت تھی۔ اس طرح قریش کو ایک جھٹکا دیا گیا کہ وہ اب بھی اپنے طرز عمل کو بدلنے کی کوشش کریں تو وہ ازسر نو اللہ کی رحمت کے مستحق بن سکتے ہیں۔ لیکن اگر انھوں نے اپنا طرز عمل نہ بدلا اور یہ ثابت کردیا کہ معذب قوموں کی طرح وہ ہر طرح کے خیر کی صلاحیت سے محروم ہوگئے ہیں اور ان کے اندر قبولیتِ حق کے سوتے بالکل خشک ہوگئے ہیں تو پھر انھیں انتظار کرنا چاہیے آل فرعون کی طرح بالآخر انھیں بھی تباہ کردیا جائے گا۔ تیسری آیت کریمہ میں آپ دیکھ رہے ہیں کہا ھلکنھم کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یعنی آل فرعون جب تنبیہ کے مرحلے میں ناکام ہوگئے تو پھر اللہ کی سنت کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگیا کہ اللہ نے انھیں ہلاک کردیا۔ لیکن قریش اس لحاظ سے خوش قسمت نکلے انھوں نے اگرچہ اسلام اور آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی لیکن ساتھ ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ قبولیتِ اسلام کا سلسلہ یکسر ختم نہیں ہوا اندر ہی اندر حق کی رو بہتی رہی اور اس سے سیراب ہونے والے خاموشی سے سیراب ہوتے رہے۔ ایک وقت آیا کہ چپکے چپکے ستر ( 70) نوجوان ساحل سمندر پر بسیرا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ جس کی وجہ سے قریش مکہ کے قافلوں کا گزرنا خطرے سے خالی نہ رہا۔ انھوں نے خود ہی آنحضرت ﷺ سے گزارش کی کہ آپ ان سرپھروں کو اپنے پاس بلالیجئے۔ یہ انہی سرپھروں کا فیض تھا کہ مختصر سی مدت کے بعد مکہ سرنگوں ہوگیا اور قریش کو اپنی قسمت بدلنے کا موقعہ ہاتھ آگیا۔ گنتی کے چند افراد کو چھوڑ کر سب لوگ ایمان لے آئے اس طرح یہ لوگ اللہ کے عذاب سے محفوظ رہے۔