Ayahs 8:29–30یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوْا اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا وَیُکَفِّرْعَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ ط وَاللّٰہُ ذُوْالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔ ( الانفال : 29 )
(اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو تو وہ تمہیں کسوٹی عطا کرے گا اور تم سے تمہاری برائیاں جھاڑ دے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ )
گزشتہ رکوع کی آخری دو آیات میں دونصیحتیں فرمائی گئی ہیں اور پھر تمام برائیوں اور بیماریوں کا حقیقی سبب بتایا گیا ہے جس کی وجہ سے اکثر اخلاقی امراض پیدا ہوتے ہیں جو بالآخر عقیدے کی خرابی پر منتج ہوتے ہیں۔ جو دو نصیحتیں فرمائی گئی ہیں ان میں سے پہلی یہ ہے کہ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول سے خیانت نہ کرو یعنی تم نے اللہ اور رسول کے ساتھ جو ایمان کی صورت میں عہدوپیمان کیا ہے اگر تم نے اس میں کچھ بھی کمزوری دکھائی اور اس کے تقاضوں کے خلاف کوئی کام کیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے خیانت کررہے ہو اور یہ بات ایسی ہے کہ جسے ہم پورے دین کی بنیاد کہہ سکتے ہیں۔
دوسری جو نصیحت فرمائی وہ یہ ہے کہ مسلمانوتم اپنی امانتوں میں خیانت نہ کرو یعنی تمہارے مالی معاملات، عدالتی معاملات، تجارتی معاملات، قومی معاملات، اور بین الاقوامی معاملات کی بنیاد تمہارا آپس کا عہدوپیمان اور تمہارے باہمی معاہدے ہیں۔ جب بھی ایفائے عہد اور ایفائے معاہدہ میں نیت کی خرابی پیدا ہوتی ہے تو وہیں خیانت کا ارتکاب شروع ہوجاتا ہے اور پوری اجتماعی زندگی اس کے نتیجے میں تلپٹ ہو کر رہ جاتی ہے۔
ان دونصیحتوں کے بعد تمام ایمانی، اخلاقی اور معاملاتی خرابیوں کے پیدا ہونے کے جو دوسبب ہیں انھیں واضح طور پر متعین کرکے بیان فرمایا گیا ہے کہ تم جب بھی کبھی اللہ اور رسول کے تعلق میں کمزوری کا شکار ہوتے ہو یا باہمی معاملات کی کسی بھی جہت میں خیانت کا ارتکاب کرتے ہو تو اس کے سبب صرف دو ہوتے ہیں ایک مال و دولت کی محبت اور دوسرا اولاد کی محبت۔ یہ دونوں محبتیں فطری ہیں لیکن جب یہ حد سے گزر جاتی ہیں تو پھر یہ کسی انتہا پر بھی رکتی نہیں اور اس کے نتیجے میں اسلامی خوبیاں تو ایک طرف رہیں انسانی خوبیاں بھی رخصت ہوجاتی ہیں۔ آدمی دولت کے حصول کو زندگی کا مقصد بنالیتا ہے اور اولاد کو بہتر سے بہتر مستقبل دینے کے لیے اپنے ایمان اخلاق اور عزت وآبرو کو بھی دائو پر لگا دیتا ہے۔ ان بنیادی بیماریوں اور کمزوریوں سے بچنے کے لیے پیش نظر آیت کریمہ میں ایک علاج تجویز کیا گیا ہے۔ یہ علاج ایسا ہے جس سے ایک طرف برائیاں ختم ہوتی ہیں اور برائیوں کے اسباب دور ہوتے ہیں تو دوسری طرف اللہ کی طرف سے ایک ایسا انعام ملتا ہے جس سے پوری زندگی راہ صواب پر چل نکلتی ہے۔
تقویٰ تمام کمزوریوں کا علاج اور فرقان کی شرط اولیں ہے
اس آیت میں جو علاج تجویز کیا گیا ہے اس کا نام ہے ” تقویٰ “۔ قرآن کریم نے تقویٰ پر جتنا زور دیا ہے کسی اور چیز پر اتنازور نہیں دیا۔ معلوم ہوتا ہے تقویٰ پورے دین کی اساس، اس کی روح اور اس کا سَت ہے۔ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ بیشتر آیات کے اول یا آخر میں تقویٰ کا حکم دیا ہے۔ تمام عبادات حتی کہ عدل و احسان کا مقصد اس نے تقویٰ کا حصول بتایا ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ بڑی سے بڑی نیکی بھی تقویٰ کی روح سے اگر خالی ہو تو وہ قبول نہیں ہوتی۔ جنت کی جتنی نعمتیں ہیں انھیں بالعموم اہل تقویٰ کے لیے مخصوص فرمایا ہے۔
تقویٰ کا معنی تو ہے ” ڈرنا اور بچنا “۔ لیکن اصطلاحِ قرآنی میں یہ دل کی ایسی کیفیت کا نام ہے جس میں نیکی کی گہری طلب اور تڑپ ہو اور برائی سے انتہائی نفرت۔ نیکی کی طرف دل اس طرح لپکتا جائے جیسے پیاسا ٹھنڈے پانی کی طرف لپکتا ہے اور بدی سے اس طرح وحشت اور خوف محسوس ہو جیسے آدمی دہکتے انگاروں سے بچتا ہے۔ آدمی کے اندر یہ احساس روز بروز پختہ ہوتا جاتا ہے کہ میں ہر وقت اپنے اللہ کے سامنے ہوں میرا کوئی عمل اس سے مخفی نہیں۔ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب اپنے اعمال کی جواب دہی کے لیے میں اللہ کے حضور پیش کیا جاؤں گا۔ جیسے جیسے یہ احساس یقین کی صورت اختیار کرتا جاتا ہے ویسے ویسے آدمی کی زندگی پاکیزہ ہوتی جاتی ہے۔ وہ ہر قدم سوچ کر اٹھاتا ہے، منہ سے کوئی لفظ بولنے سے پہلے اسے تول کر دیکھتا ہے، اس کی سوچ پر جواب دہی کا پہرہ رہتا ہے۔ کسی دوسرے شخص سے معاملہ کرتے ہوئے وہ اس شخص کو سامنے نہیں رکھتا بلکہ اللہ کو سامنے رکھتا ہے۔ ایسے شخص سے بہت مشکل ہے کہ وہ امانت میں خیانت کا ارتکاب کرے یا مال کی محبت اللہ کی محبت پر غالب آجائے یا اولاد کی محبت اللہ کے حضور جواب دہی سے بےنیاز کر دے۔ دل و دماغ کے ان احساسات کے نتیجے میں دل کے اندر ایک قوت پیدا ہوتی ہے جسے قوت تمیز یا ضمیر کی قوت کہا جاتا ہے۔ ایک ایسا نور طلوع ہوتا ہے جس کی روشنی میں آدمی بند راستوں میں دیکھنے پر بھی قادر ہوجاتا ہے۔ زندگی کی الجھنیں اور اڑچنیں اولاً تو پیدا نہیں ہوتیں اور اگر کبھی پیدا ہوجائیں تو قدرت قدم قدم پر دستگیری کرتی ہے۔ قرآن کریم نے اس قوت کو ” فرقان “ کہا ہے۔ فرقان کا معنی ہوتا ہے ” حق و باطل اور غلط اور صحیح میں فرق کرنے والا “ اس کی دو صورتیں ممکن ہیں ایک تو یہ کہ دل کی ایسی بیداری اور ضمیر کی ایسی روشنی جو زندگی کے ہر معاملے میں صحیح راہنمائی کرے۔ جب لوگ یہ محسوس کریں کہ ہم قومی معاملات میں ایک بند گلی میں داخل ہوگئے ہیں جس میں نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تو جسے اللہ نے فرقان عطا فرمایا ہے وہ اس بند گلی میں بھی نکلنے کا راستہ دیکھ لے۔ قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد ہے :
ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً
(جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ اسے نکلنے کا راستہ عطا فرماتا ہے۔ )
اس لحاظ سے یہ ایک نور ہے جو تاریک راستوں کو روشن کرتا اور الجھی ہوئی گتھیوں کو حل کرتا ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ فرقان ایک کسوٹی ہے۔ کسوٹی کا کام کھرے اور کھوٹے کو الگ کرکے بتانا ہے۔ ایک مومن کے اندر ایک ایسی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ زندگی کے معاملات میں ہر مرحلے پر کسوٹی کی طرح اس کو بتاتی ہے کہ تمہارے لیے کھرا کیا ہے اور کھوٹا کیا ہے، صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے، چناچہ ایک مومن اپنی اس خداداد صلاحیت کی وجہ سے زندگی کے معاملات میں غلطی کرنے سے محفوظ رہتا ہے۔
ان دونوں صورتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے صاحب ایمان لوگ جب امت کی شکل اختیار کرلیتے ہیں تو پھر ان کے اجتماعی فیصلے، باطل قوتوں سے ان کا تصادم اور مفسد طاقتوں سے ان کی لڑائی، بجائے خودفرقان بن جاتی ہے۔ ان کا وجود باقی امتوں کے لیے فرقان ہوتا ہے۔ ان کے کارنامے تاریخ کے لیے فرقان بن جاتے ہیں۔ ان کی جنگیں حق و باطل میں فرقان ہوتی ہیں۔ تاریخ ہمیشہ ان کے وجود اور ان کے کارناموں سے استدلال کرتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں معلوم ہوتا ہے کہ یہی کچھ فرمایا جارہا ہے کہ اگر تم نے اپنے اندر تقویٰ کی صلاحیت پیدا کرلی تو ہم تمہارے اندر ایک ایسا نور روشن کردیں گے جو کسوٹی کا کام دے گا اور تمہاری حیثیت دوسری قوموں کے لیے ایک مثال بن جائے گی اور تمہارے کارنامے حق و باطل کی تمیز میں منارہ نور بن جائیں گے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ اولاً تو تم سے کو تاہیاں ہوں گی نہیں اور اگر کہیں بشری تقاضوں سے کچھ فروگزاشتیں ہو ہی گئیں تو اللہ تعالیٰ ایسی فروگزاشتوں کو جھاڑ دے گا اور معاف کردے گا کیونکہ اللہ بڑے فضل والا ہے لیکن اس کے فضل کے حصول کے لیے دل و دماغ میں تقویٰ کی فصل کاشت کرنی پڑتی ہے۔
وَ اِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ اَوْ یُخْرِجُوْکَ ط وَیَمْکُرُوْنَ وَ یَمْکُرُاللّٰہُ ط وَاللّٰہُ خَیْرُالْمٰکِرِیْنَ ۔ (الانفال : 30 )
(اس وقت کو یاد کرو ! جب کافر تیرے خلاف تدبیر کررہے تھے تاکہ وہ تجھے قید کردیں یا تجھے قتل کردیں یا تجھے ملک بدر کردیں وہ بھی تدبیر کررہے تھے اور اللہ بھی تدبیر کررہا تھا اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ )
اہلِ تقویٰ پر اللہ کے انعامات
” مکر “ اردو زبان میں برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے اس کی نسبت اللہ کی طرف دیکھ کر بعض لوگوں کو حیرانی ہوتی ہے۔ لیکن عربی زبان میں اس کا وہ مفہوم نہیں عربی زبان میں مکر اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور برے معنوں میں بھی۔ کوئی آدمی اگر کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی تدبیر کرتا ہے تو وہ بھی مکر ہے ظاہر ہے کہ اسے برا ہی کہا جائے گا اور اگر دوسراشخص اس کی تدبیر کو ناکام کرنے یا اس کے برے ارادوں کو واشگاف کرنے کے لیے کوئی تدبیر عمل میں لاتا ہے تو اسے بھی ہم مکر کہتے ہیں اور یہ یقینا ایک اچھائی ہے۔ کافروں کا مکر اور تدبیر سراسر رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچانے اور اسلام کا راستہ روکنے کے لیے تھی لیکن اللہ کی تدبیر ان کی تمام تدبیروں کو ناکام کرنے کے لیے تھی۔
آنحضرت ﷺ کی ہجرت تاریخ کے آئینہ میں
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ بیعت عقبہ ثانیہ کی بھنک جیسے ہی قریش مکہ کے کانوں میں پڑی تو انھیں آنے والے خطرات کا صحیح اندازہ ہوگیا۔ وہ سمجھ گئے کہ اب تک آنحضرت کی دعوت مکہ معظمہ تک محدود تھی ہم نے اپنی طاقت اور مخالفت سے اس کے تمام راستے بند کردیئے تھے لیکن اب جبکہ اس کے اثرات مدینہ منورہ تک پہنچ گئے ہیں اور وہاں سے ایک معقول تعداد میں اشراف نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلی ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے آنحضرت ﷺ کو مدینہ آنے کی دعوت دے دی ہے اور اسی مقصد کی خاطر مسلمان رفتہ رفتہ مکہ سے غائب ہوتے جارہے ہیں۔ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مدینہ منورہ کو دارالہجرت قرار دے چکے ہیں۔ اب بھی اگر ہم نے آنحضرت ﷺ کو مزید مہلت دینے کی غلطی کی تو نتیجہ اس کا یہ ہوگا کہ کسی روز اچانک آنحضرت ﷺ ہماری بیخبر ی میں مدینہ منورہ پہنچ جائیں گے اور اس طرح انھیں ایک آزاد مرکز ہاتھ آجائے گا جس کو بنیاد بنا کر ممکن ہے وہ ایک ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں پھر ایک ایسا وقت بھی آسکتا ہے کہ وہ مکہ پر حملہ آور ہو کر مکہ فتح کرلیں۔
قریش ذہین لوگ تھے انھوں نے اپنی فراست سے ان تمام خطرات کا اندازہ کرلیا اور انھوں نے سوچا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم کوئی ایسا فیصلہ کریں تاکہ یہ خطرہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو کر رہ جائے۔ چناچہ انھوں نے تمام اشرافِ قریش کو دارالندوہ میں جمع ہونے کی دعوت دی۔ دارالندوہ کی عمارت قصی ابن کلاب نے حرم کے ساتھ تعمیر کی تھی۔ آج جہاں باب الزیادات ہے کہا جاتا ہے اسی جگہ پر وہ عمارت تھی۔ جب بھی قریش کو کوئی اہم فیصلہ کرنا ہوتا تھا تو وہ اسی عمارت میں مشاورت کے لیے جمع ہوتے تھے۔ چناچہ اب بھی وہ جمع ہوئے اور آنحضرت ﷺ اور آپ کی دعوت کے استیصال کے لیے غور وفکر شروع کیا کہ اچانک دروازے پر ایک سفید ریش بزرگ نمودار ہوا جس کی شخصیت نہایت وجیہ اور مسحور کن تھی۔ وہ سلام کہہ کر آگے بڑھا اور اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ میں نجد سے آیا ہوں اور وہاں کے ایک قبیلے کا رئیس ہوں۔ مجھے معلوم ہوا کہ آپ ایک اہم معاملے کا فیصلہ کرنے والے ہیں تو میں بھی اس لیے حاضر ہوگیا ہوں کہ شائد اس سلسلے میں میں بھی کوئی مشورہ دے سکوں۔ چناچہ اشرافِ قریش نے بڑے احترام سے اس کا استقبال کیا اور اسے اپنے پہلو میں بٹھایا یہ آنے والا بزرگ درحقیقت ابلیس تھا جو انسانی شکل میں ان کی راہنمائی کے لیے آیا تھا۔ چناچہ مشاورت کا آغاز ہوا تو سب سے پہلی تجویز جو سامنے آئی وہ یہ تھی کہ محمد ﷺ کو ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگا کر اور پائوں میں زنجیریں ڈال کر ایک مکان میں بند کردیا جائے تاآنکہ موت وہیں ان کا فیصلہ کر دے۔ ابلیس نے یہ سن کر کہا کہ یہ رائے کوئی مناسب رائے نہیں اس لیے کہ محمد ﷺ کے پیروکار جو ہجرت کرکے جاچکے ہیں انھیں جیسے ہی پتہ چلے گا کہ ان کے پیغمبر کو قید کردیا گیا ہے تو وہ طاقت فراہم کرکے کوئی بھی موقعہ غنیمت دیکھ کر حملہ کریں گے اور آپ کو چھڑا کرلے جائیں گے۔ اس لیے کوئی اور تجویز سامنے لائو۔
دوسری تجویز یہ دی گئی کہ آپ کو ملک بدر کردیا جائے، اس سے ہماری جان چھوٹ جائے گی وہ جہاں کہیں جائے گا تو وہاں کا اجنبی ماحول، اجنبی لوگ، خود ہی اس کا کام تمام کردیں گے۔ ہم تو یہاں تیرہ سال تک قرابت داری کی وجہ سے کوئی فیصلہ کن اقدام کرنے سے رکے رہے لیکن اجنبی لوگوں کے لیے ایسی کوئی دشواری نہیں ہوگی اور جہاں تک اس دین کی مخالفت کا تعلق ہے ہم جانتے ہیں کہ پورے عرب میں کوئی قبیلہ ایسا نہیں جو اس دعوت کو آسانی سے قبول کرسکتا ہو بلکہ وہ اپنے مذہب کی عصبیت میں ہم سے بھی آگے ہیں تو ان کے لیے اس قصے کا ختم کرنا اور اس کے داعی کا کام تمام کردینا بڑی آسان بات ہوگی۔
لیکن ابلیس نے کہا کہ تمہاری یہ رائے بھی قابل عمل نہیں کیونکہ تم جانتے ہو کہ محمد ﷺ ایک دلآویز شخصیت کے مالک ہیں ان کی دعوت میں بلا کی تاثیر ہے وہ اپنے کردارو عمل میں بےپناہ اپیل رکھتے ہیں۔ ایسے شخص کے لیے اجنبی لوگوں اور اجنبی ماحول میں بھی اپنے ہم خیال تیار کرلینا کوئی مشکل کام نہیں۔ وہ ایک مختصروقت میں ایک بڑی قوت فراہم کرکے تم پر چڑھ دوڑیں گے تو تمہارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ کسی اور تدبیر پر غور کرنا چاہیے۔ کہا جاتا ہے کہ ابوجہل نے رائے دی کہ میرا خیال یہ ہے کہ عرب کے تمام معزز قبیلوں سے ایک ایک تنومند نوجوان جو تلوار کا دھنی ہو انتخاب کیا جائے۔ تمام قبیلوں کے نوجوان مل کر آپ کے گھر کا محاصرہ کرلیں جیسے ہی موقعہ ملے ایک ساتھ تلواریں ان کے جسم میں پیوست کردیں۔ اس طرح ہمیشہ کے لیے اس فتنے کا سد باب ہوجائے گا۔ ہماری اس مصیبت سے جان چھوٹ جائے گی اور قتل کی ذمہ داری بھی تمام قبائل پر تقسیم ہوجانے کے باعث کسی ایک قبیلے پر اس کا بوجھ نہیں پڑے گا۔ بنو عبد مناف جب دیکھیں گے کہ ہم سارے قبیلوں سے جنگ نہیں کرسکتے تو وہ بھی دیت لینے پر راضی ہوجائیں گے اور ہم دیت ادا کرکے معاملے کو ختم کردیں گے۔
ابلیس نے کہا یہ وہ رائے ہے جسے قابل عمل کہا جاسکتا ہے چناچہ سب نے اس رائے پر اطمینان کا اظہار کیا اور طے پایا کہ پہلی فرصت میں نوجوانوں کا انتخاب کیا جائے اور رات کو آپ کے گھر کا محاصرہ کرلیا جائے۔ چناچہ جس دن یہ فیصلہ ہوا اسی روز آنحضرت ﷺ کو اللہ کی جانب سے اس کی اطلاع دے دی گئی اور آپ کو ہجرت کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ اسی دن کی دوپہر کو آنحضرت ﷺ حضرت ابوبکر صدیق ( رض) کے گھر تشریف لے گئے تاکہ ان کے ساتھ ہجرت کے سارے پروگرام اور مرحلے طے فرمالیں۔ حضرت عائشہ ( رض) کا بیان ہے کہ ٹھیک دوپہر کے وقت ہم لوگ اپنے مکان میں بیٹھے تھے کہ کسی کہنے والے نے حضرت ابوبکر ( رض) سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سر ڈھانکے تشریف لارہے ہیں یہ ایسا وقت تھا جس میں آپ تشریف نہیں لایا کرتے تھے۔ حضرت ابوبکر ( رض) نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ اس وقت کسی اہم معاملے ہی کی وجہ سے تشریف لائے ہیں۔
حضرت عائشہ ( رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اجازت طلب کی۔ آپ کو اجازت دی گئی اور آپ اندر داخل ہوئے پھر حضرت ابوبکر ( رض) سے فرمایا تمہارے پاس جو لوگ ہیں انھیں ہٹادو۔ ابوبکر نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کے اہل خانہ ہی ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ مجھے اللہ کی طرف سے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔ حضرت ابوبکر ( رض) نے یہ سنا تو نہایت بےتابی سے پوچھا کہ میں بھی معیت کی عزت سے نوازا جاؤں گا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔
ادھر قریش نے جن اکابر مجرمین کا انتخاب کیا ان کی تعداد گیارہ ہے۔ ان کے نام یہ ہیں۔
1: ابوجہل بن ہشام، 2: حکم بن عاص، 3: عقبہ بن ابی معیط، 4: نضر بن حارث، 5: امیہ بن خلف، 6: زمعہ بن اسود، 7: طعیمہ بن عدی، 8: ابولہب، 9: ابی ٔ، 10: نبیہ بن الحجاج، 11: منبہ بن الحجاج
ابنِ اسحاق کا بیان ہے کہ جب رات ذرا تاریک ہوگئی تو یہ لوگ گھات لگا نبی کریم ﷺ کے دروازے پر بیٹھ گئے کہ جیسے ہی آپ باہر نکلیں تو یہ لوگ آپ پر ٹوٹ پڑیں۔ ان لوگوں کو پختہ یقین تھا کہ ان کی یہ ناپاک سازش کامیاب ہو کر رہے گی۔
ادھر آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ( رض) سے فرمایا کہ تم میرے بستر پر لیٹ جاؤ اور میری یہ سبز حضرمی چادر اوڑھ کر سو رہو۔ تمہیں ان کے ہاتھوں کوئی گزند نہیں پہنچے گی۔ رسول اللہ ﷺ یہی چادر اوڑ ھ کر سویا کرتے تھے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لے آئے مشرکین کی صفیں چیرتے ہوئے نکلے ایک مٹھی سنگریزوں والی مٹی لے کر ان کے سروں پر ڈالی۔ لیکن اللہ نے ان کی نگاہیں پکڑ لیں وہ آپ کو دیکھ نہ سکے۔ اس وقت آپ یہ آیت تلاوت کررہے تھے۔
وجعلنا من بین ایدیھم سدا ومن خلفھم سدا فاغشینا ھم فھم لا یبصرون
(ہم نے ان کے آگے رکاوٹ کھڑی کردی اور ان کے پیچھے رکاوٹ کھڑی کردی پس ہم نے انھیں ڈھانک لیا ہے اور وہ دیکھ نہیں رہے۔ )
اس موقعہ پر کوئی بھی مشرک باقی نہ بچا جس کے سر پر آپ نے مٹی نہ ڈالی ہو اس کے بعد آپ حضرت ابوبکر صدیق ( رض) کے گھر تشریف لے گئے اور پھر ان کے مکان کی ایک کھڑکی سے نکل کر دونوں حضرات نے رات ہی رات یمن کا رخ کیا اور چند میل پر واقع ثور نامی پہاڑ کے ایک غار میں جاچھپے ادھر محاصرہ کرنے والوں کے پاس ایک غیر متعلق شخص آیا اور انھیں آپ کے دروازے پر دیکھ کر پوچھا کہ آپ لوگ کس کا انتظار کررہے ہیں ؟ انھوں نے کہا : محمد ﷺ کا۔ اس نے کہا آپ لوگ ناکام اور نامراد ہوئے۔ خدا کی قسم محمد ﷺ تو آپ لوگوں کے پاس سے گزرے اور آپ لوگوں کے سروں پر مٹی ڈالتے ہوئے اپنا کام کرگئے۔ لیکن محاصرہ کرنے والوں کو یقین نہیں آیا، انھوں نے دروازے سے جھانک کر دیکھا حضرت علی ( رض) چونکہ حضور کی چادر اوڑھ کر دلیٹے ہوئے تھے انھوں نے سمجھا کہ حضور لیٹے ہوئے ہیں صبح تک انتظار کرتے رہے، جب حضرت علی ( رض) بستر سے اٹھے تو مشرکین کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔
آنحضرت ﷺ حضرت ابوبکر صدیق ( رض) کے ساتھ غار ثور جا پہنچے۔ غار کے پاس پہنچ کر ابوبکر ( رض) نے کہا اللہ کے لیے ابھی آپ غار میں داخل نہ ہوں پہلے میں داخل ہو کر دیکھے لیتا ہوں اگر اس میں کوئی چیز ہوئی تو آپ کی بجائے مجھے اس سے سابقہ پیش آئے گا چناچہ حضرت ابوبکر ( رض) اندر داخل ہوئے، غار کو صاف کیا ایک جانب چند سوراخ تھے انھیں اپنی چادر پھاڑ کر بند کیا لیکن دوسوراخ باقی بچے رہے۔ ان دونوں پر حضرت ابوبکر نے اپنے پائوں رکھ دیئے۔ پھر رسول اللہ سے عرض کی کہ اندر تشریف لائیں آپ اندر تشریف لے گئے اور حضرت ابوبکر کی آغوش میں سر رکھ کر سو گئے۔ ادھر ابوبکر کے پائوں میں کسی چیز نے ڈس لیا مگر اس ڈر سے ہلے بھی نہیں کہ رسول اللہ ﷺ جاگ نہ جائیں۔ لیکن ان کے آنسو رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر ٹپک گئے اور آپ کی آنکھ کھل گئی۔ آپ نے فرمایا : ابوبکر تمہیں کیا ہوا ؟ عرض کی میرے ماں باپ آپ پر قربان مجھے کسی چیز نے ڈس لیا ہے۔ رسول اللہ نے اس پر لعاب دہن لگا دیا اور تکلیف جاتی رہی۔
قریش کو جیسے ہی اپنی ناکامی کا احساس ہوا انھوں نے آپ کی گرفتاری کے لیے چاروں طرف تعاقب کرنے والے دوڑا دیئے اور اعلان کیا کہ جو ان میں سے کسی ایک کو زندہ یا مردہ حاضر کرے گا اسے ہر ایک کے بدلے سواونٹوں کا گراں قدر انعام دیا جائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ تلاش کرنے والے غار کے دھانے تک پہنچ گئے۔ حضرت انس ( رض) روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ( رض) نے فرمایا میں نبی ِکریم ﷺ کے ساتھ غار میں تھا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگوں کے پائوں نظر آرہے ہیں میں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! اگر ان میں سے کوئی شخص محض اپنی نگاہ نیچی کردے تو ہمیں دیکھ لے گا۔ آپ نے فرمایا : ” ابوبکر خاموش رہو ہم دو ہیں جن کا تیسرا اللہ ہے “۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں :
ماظنک یا ابا بکر باثنین اللہ ثالثھما
(ابوبکر ایسے دو آدمیوں کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے۔ )
مختصر یہ کہ تین دن کے بعد حضور غار سے نکلے۔ راہنما کی نگرانی میں ساحل کا راستہ اختیار کیا مختلف راستوں سے بچتے ہوئے اور اجنبی راستوں سے گزرتے ہوئے دو شنبہ 8 ربیع الاول 14 سنِ نبوی مطابق 23 ستمبر 622 عیسوی کو قبا میں وارد ہوئے۔
کفارِ قریش کی آپ کے بارے میں منصوبہ بندی اور آنحضرت کا سفرِ ہجرت دونوں کو واقعات کے آئینہ میں دیکھیں صاف نظر آتا ہے کہ قریش نے ایک مکر کیا یعنی حضور کی جان لینے کی کوشش کی اور وہ تمام ممکن کوششیں پایہ تکمیل کو پہنچا دیں جس کو دیکھتے ہوئے آپ کے زندہ رہنے کے امکانات صفر معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے مقابلے میں ایک مکر اللہ نے کیا یعنی اللہ نے قریش کے مکر اور تدبیر کو ناکام کرنے کی تدبیر کی۔ جس کے نتیجے میں ان کی تمام یقینی کوششیں ناکام ثابت ہوئیں اور اللہ کے نبی بخیریت تمام ان کی منصوبہ بندی کے جال کو توڑتے ہوئے اور ان کی سازشوں کو ناکام کرتے ہوئے منزلِ مقصود پر پہنچ گئے۔ قریش اگرچہ آنحضرت کے بچ کے نکل جانے سے سخت برہم تھے لیکن ایک ان کو اطمینان بھی تھا کہ ان کے پہلو کا کانٹا نکل گیا اور وہ امید کرتے تھے کہ اجنبی ماحول میں آپ کی دعوت خود اپنی موت مرجائے گی۔ لیکن بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ اب تک سورج گہن میں تھا اب وہ گہن سے نکل آیا ہے اور پوری آب وتاب سے مدینہ کے افق پر جگمگانے لگا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ اس کے نکل جانے سے قریش کے جسدِ قومی کی روح نکل گئی۔ اس کی ذات سے انھیں جو ایک تحفظ حاصل تھا وہ تحفظ اٹھ گیا۔
گزشتہ آیت کریمہ میں تمام کامیابیوں کی کلید تقویٰ کو ٹھہرایا گیا ہے اور یہ آیت اس کی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ متقیوں کے امام آنحضرت ﷺ ہیں۔ ان کی زندگی سرتاپا تقویٰ سے عبارت ہے چناچہ ان کو مشکل ترین حالات میں جس طرح اللہ نے محفوظ رکھا اور کامیابیوں سے نوازا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے اور اس کے راستے پر چلنے والے اور اپنا تن من دھن اسی کے سپرد کردینے والے چاہے ہزاروں مشکلات میں بھی گھر جائیں اللہ کبھی ان کو بےسہارا نہیں چھوڑتا۔ وہ اس طرح ان کی مدد کرتا ہے کہ دشمن کی منصوبہ بندیاں دھری رہ جاتی ہیں۔
Ayahs 8:31–32وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآئُ لَقُلْنَا مِثْلَ ھٰذَآ لا اِنْ ھٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (الانفال : 31)
(اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں بس سن لیا اگر ہم چاہیں ہم بھی ایسا کلام پیش کردیں یہ تو بس اگلوں کی کہانیاں ہیں۔ )
قریش کا اسلام سے متعلق عام رویہ
گزشتہ آیت کریمہ میں کافروں نے جس طرح آنحضرت ﷺ کی جان لینے اور اسلامی دعوت کو فنا کرنے کی تدبیر کی اور اللہ نے جس طرح اسے ناکام بنایا اس کا تذکرہ ہم نے پڑھا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ بتایا جارہا ہے کہ قریش نے اس آخری منصوبہ بندی سے پہلے بھی کوئی تدبیر ایسی نہیں چھوڑی جس سے اسلامی دعوت کو ناکام کیا جاسکتا ہو اور قریش نے اسے بروئے کار لانے کی کوشش نہ کی ہو۔ آنحضرت ﷺ جب اپنی دعوت کے مبادی کا ذکر اور بنیادی عقائد کی وضاحت فرماتے تو اس کی تائید میں جستہ جستہ انبیائے کرام کی دعوت کا ذکر بھی ضرور فرماتے۔ اسی طرح جب قریش کو ان کے انجام سے باخبر کرنے کے لیے تنبیہ فرماتے تو سابقہ انبیائے کرام کی امتوں پر آئے ہوئے عذابوں کا ذکر بھی کرتے۔ مقصود صرف یہ ہو تاکہ قریش آنحضرت ﷺ کی دعوت کو کوئی نئی بات یا اجنبی خیال نہ کریں اور جب سابقہ امتوں پر عذاب کا ذکر کرتے تو مقصد یہ تھا کہ انھیں اس بات کا یقین آجائے کہ ہم کوئی سابقہ امتوں سے کوئی مختلف امت نہیں ہیں اگر ہم نے اپنا رویہ نہ بدلا تو اللہ کا عذاب ہم پر بھی اتر سکتا ہے۔ لیکن قریش کے بگڑے ہوئے سردار بجائے اس سے اثر قبول کرنے کے مذاق اڑاتے انبیائے کرام کی عبرت آموز اور پر از حکمت دعوت اور حالاتِ زندگی کو گزشتہ لوگوں کے قصے کہانیوں سے تعبیر کرتے اور لوگوں کو یہ تصور دیتے کہ کہانیاں تو ہمیشہ دل بہلانے کے لیے ہوتی ہیں ہم تمہیں اس سے بہتر کہانیاں سنا سکتے ہیں۔ قریش کا ایک سربرآوردہ آدمی نضر بن حارث جو اپنی تجارت کے سلسلے میں ملکوں ملکوں گھومتا اور مختلف قوموں کے حالات سے آشنا تھا وہ وہاں سے بطور خاص ایسی دلچسپ کہانیاں خرید کر لاتا تاکہ قرآن کریم کے مقابلے میں انھیں لوگوں کو سنایا جاسکے۔ اس لیے جب کبھی اس کے سامنے قرآن پڑھا جاتا تو وہ اپنی لائی ہوئی کہانیوں کو سنانا شروع کردیتا اور قرآن کریم کو بھی کہانیوں پر مشتمل کتاب قرار دیتا اور یہ دعویٰ کرتا کہ میں اگر چاہوں تو اس سے بہتر کہانیاں لکھ سکتا ہوں۔ اندازہ کیجئے کہ اللہ کی آخری کتاب جس کی نظیر روئے زمین پر کہیں نہیں اور عرب اپنی ساری کاوشوں کے باوجود اس کی ایک سورة کا جواب نہ لاسکے اور اس کتاب کے پیش کرنے والے کی دلآویز شخصیت اور اس کا ہر عیب سے پاک کردار جس پر قریش کبھی کوئی چھینٹا نہ اڑاسکے ان کو دیکھتے ہوئے بھی جو شخص یا قریش کے سربرآوردہ لوگ اس طرح کی باتیں کریں تو ان کے بارے میں یہ کہنا مشکل نہیں کہ وہ اللہ کے بارے میں انتہائی جسارتوں کا ارتکاب کررہے ہیں اور اس کے دین کے بارے میں اس حد تک دلیر ہوچکے ہیں کہ انھیں کوئی بات کہتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے نہ اللہ کے عذاب کا خوف لاحق ہوتا ہے۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں ان کی ایسی ہی حد سے بڑھی ہوئی جسارت کا حوالہ دیا گیا ہے۔
وَاِذْ قَالُوا اللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَالْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآئِ اَوِائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ ( الانفال : 32 )
(اور یاد کرو ! جب انھوں نے کہا کہ اے اللہ ! اگر یہی حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لا۔ )
جسارت کی انتہا
کفار کے اس مطالبے کو دیکھئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے کفر میں ہر حد سے گزر چکے تھے اور ان کی جسارت کا عالم یہ تھا کہ وہ اللہ کو چیلنج کرنے سے بھی باز نہیں آتے تھے۔ انھوں نے سالوں تک اللہ کے دین کا مذاق اڑایا رسول اللہ ﷺ کی توہین کی اور صحابہ کرام کو انتہائی ایذا رسانی کانشانہ بنایا لیکن پروردگار نے بار بار ان کو مہلت دی، باربار انھیں سنبھلنے کا موقعہ دیا، کبھی ترغیب سے کام لیا کبھی ترہیب سے، اس سے انھوں نے یہ سمجھا کہ یہ عذاب کی باتیں محض ڈراوے ہیں جس کی کوئی حقیقت نہیں اگر عذاب کو آنا ہوتا تو کبھی کا آچکا ہوتا یہ ایسا جہاز ہے جو کہیں بھی لنگر انداز ہونے کا نام نہیں لیتا۔ اسی تصور کے تحت انھوں نے یہ انتہائی مطالبہ کرڈالا۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں پروردگار نے اس عقدہ سے نقاب اٹھایا ہے کہ ہم نے آج تک قریش پر عذاب کیوں نہیں نازل کیا اور ساتھ ہی ساتھ یہ حقیقت بھی ان پر واضح کی ہے کہ جس ذات عزیز کی تم توہین کی جرأت کر گزرتے ہو تمہیں اندازہ ہی نہیں کہ ان کا مقام و مرتبہ کیا ہے اور پروردگار کو وہ کس حد تک عزیز ہیں۔
Ayah 8:33وَمَاکَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّ بَھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ ط وَمَاکَانَ اللّٰہُ مُعَذِّ بَھُمْ وَ ھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ۔
( الانفال : 33)
اور اللہ ہرگز ان کو عذاب دینے والا نہ تھا جب تک آپ ان میں تھے اور اللہ ان کو عذاب دینے کا روادار نہیں ہوسکتا ہے جب تک وہ معافی مانگتے رہیں گے۔
عذاب نہ دینے کے دو سببـ
قریش کا یہ سمجھنا کہ چونکہ اللہ کی طرف سے اب تک عذاب نہیں آیا ہے حالانکہ پیغمبر نے انھیں باربار تنبیہ کی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عذاب آنے کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے پروردگار نے اپنی ایک سنت ذکر فرمائی ہے۔ اللہ کی سنت اور قانون یہ ہے کہ جب تک اللہ کا رسول اپنی قوم میں موجود ہوتا ہے اس کی حیثیت قوم میں ایک سپر اور ڈھال کی ہوتی ہے۔ قوم کے کرتوت اللہ کے عذاب کو دعوت دیتے ہیں لیکن پیغمبر کی ذات اور اس کا استغفار اس عذاب کو اترنے نہیں دیتاچنانچہ اب تک جو قریش پر اللہ کا عذاب آنے سے رکا رہا ہے تو اس کا سبب صرف یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی مکہ معظمہ میں موجود تھی۔ لیکن اب جبکہ آپ نے ہجرت فرمائی ہے تو قریش اپنے تحفظ سے محروم ہوگئے ہیں وہ ایک ایسا جسد ہیں جن کے اندر سے روح نکل گئی ہے۔ کسی وقت بھی اللہ کے عذاب کا کوڑا ان پر برس سکتا ہے۔ قریش نے جس طرح آنحضرت ﷺ کی زندگی دشوار کرکے اور قتل کا منصوبہ بنا کر آپ کو ہجرت پر مجبور کیا اس سے انھوں نے ہر طرح سے اپنے آپ کو غیر محفوظ کرلیا۔ وہ امان اور سپراٹھ گئی اور وہ روح نکل گئی جس سے انھیں زندگی میسر تھی۔ لیکن ان کی خوش قسمتی کہہ لیجئے کہ اللہ کے ایک اور قانون نے ان کو کسی حدتک تحفظ دیا۔ عذاب کے جھٹکے آئے لیکن مکمل تباہی سے محفوظ رہے۔ جنگ بدر عذاب ہی کی ایک شکل تھی، ایک جھٹکا دیا گیا جس نے ان کی قومی قیادت کی پہلی صف لپیٹ دی اور وہ تمام سردار اپنے انجام کو پہنچ گئے جو آج تک اسلام کے راستے کی سب بڑی رکاوٹ تھے۔ باقی رہ جانے والوں کو چند سال کی زندگی اس لیے مل گئی کہ مکہ کے لوگوں نے اندر ہی اندر اسلام سے تعلق قائم رکھا اور ان کی ایک محدود تعداد درپردہ مسلمان ہوگئی۔ وسائل کی نایابی کے باعث وہ ہجرت تو نہ کرسکے لیکن مسلسل اپنے استغفار اور اپنی عبادتوں سے مکہ پر اللہ کے عذاب کے اترنے کے راستے میں حائل رہے کیونکہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ :
وَمَاکَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ وَ ھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ
(اللہ ان کو ہرگز عذاب دینے والا نہیں اس حال میں کہ ان کے اندر استغفار کرنے والے موجود ہیں۔ )
معاہدہ حدیبیہ میں قریش جب یہ شرط منوانے میں کامیاب رہے کہ اگر کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ پہنچے گا تو مسلمان اسے واپس کرنے کے پابند ہوں گے۔ چناچہ ابوبصیر مسلمان ہو کر مدینہ پہنچے لیکن آنحضرت ﷺ نے معاہدے کی پابندی کرتے ہوئے انھیں واپس کردیا۔ وہ ساحل سمندر پر جابیٹھے چند مہینوں کے اندر اندر ستر (70) کی تعداد میں مسلمان جو مکہ میں چھپے ہوئے تھے موقعہ ملنے پر ان کے پاس پہنچ گئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اہل مکہ نے مکمل طور پر اسلامی دعوت کو دیس نکالا نہیں دیاکیون کہ ان ستر کے علاوہ بھی ایسے لوگ مکہ میں موجود تھے جو مسلمان تھے لیکن نکلنے کا راستہ نہیں پا رہے تھے۔ چناچہ انھیں لوگوں کے استغفار نے اہل مکہ کو اللہ کے عذاب سے بچائے رکھا۔ حق و باطل کے معرکوں میں جو لوگ حق سے ٹکراتے رہے وہ اللہ کے عذاب کا شکا رہوتے رہے لیکن مجموعی طور پر استغفار کرنے والوں کی برکت سے اللہ نے انھیں عذاب کا نشانہ نہیں بنایا۔
آج امت مسلمہ کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ہم نے جس طرح اللہ کے قانون کو پورے عالم ِ اسلام میں یتیم بنادیا ہے اور کسی ایک مسلمان ملک میں بھی اسے حاکمانہ اقتدار حاصل نہیں وہ عام مسلمانوں کا عقیدہ تو ہے لیکن اسے دین کے طور پر اختیار کرنے اور پھر زندگی کے ہر شعبے میں نافذ کرنے سے جس طرح ہم نے گریز کیا ہے یہ ایسا جرم ہے جس کے نتیجے میں کسی وقت بھی اللہ کا عذاب آسکتا ہے اور پھر ہماری جسارتوں کی یہی انتہا نہیں بلکہ ہم نے تو مخلص اور وفا شعار مسلمانوں کا جینا اپنے ملکوں میں مشکل کردیا ہے۔ جس دین نے انسان کو عزت و حرمت عطا کی وہی دین آج انسانوں کی بےبسی کا حوالہ بن گیا ہے۔ آج ہمارے کندھے کفر کے لیے استعمال ہورہے ہیں ہمارے وسائل مسلمانوں کے خلاف استعمال کیے جارہے ہیں۔ ہم غیر مسلم قوتوں کے ہاتھوں بالکل مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں چونکہ اس پوری صورتحال کے ہم خود ذمہ دار ہیں اس کا نتیجہ لازماً یہ ہونا چاہیے تھا کہ اس امت کی بڑی تعداد اللہ کے عذاب ہاتھوں تباہ ہوجاتی۔ لیکن جس چیز نے ہمیں پناہ دے رکھی ہے اور جس کی وجہ سے ہم اللہ کے عذاب کانشانہ بننے سے بچے ہوئے ہیں، وہ دینی مدارس ہیں جن کے اندر ابھی تک یتیم اور مسکین بچے اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات کے حصول میں شب وروز لگے ہوئے ہیں۔ وہ مساجد ہیں جہاں اللہ کا ذکر ہوتا اور اس کی عبادت ہوتی ہے۔ وہ خانقاہیں ہیں جہاں ابھی تک آہ سحر گا ہی کی دولت سے مالامال لوگ موجود ہیں۔ انہی لوگوں کا استغفار، دین سے گہری محبت اور دین کے لیے بےپناہ تڑپ، وہ سائبان ہے جس کے سائے میں امت اجتماعی عذاب سے بچی ہوئی ہے۔ آخرت میں تو سب کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے لیکن دنیا میں اجتماعی عذاب سے بچائو کی یہی پناہ گاہیں ہیں جنھیں ہم نے اپنے ہاتھوں مسمار کرنے کا فیصلہ کررکھا ہے۔ کس سے یہ بات کہی جائے :
جنھیں حقیر سمجھ کر بجھا دیا تم نے
وہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی
Ayah 8:34وَمَا لَھُمْ اَلَّا یُعَذِّبَھُمُ اللّٰہُ وَھُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِالْحَرَامِ وَمَاکَانُوْآ اَوْلِیَآئَ ہٗ ط اِنْ اَوْلِیَآؤُ ہٗٓ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَایَعْلَمُوْنَ ۔ (الانفال : 34)
(اور ان میں کیا بات ہے کہ اللہ انھیں عذاب نہ دے ؟ جبکہ وہ مسجد حرام سے روکتے ہیں حالانکہ وہ اس کے متولی نہیں۔ اس کے متولی تو وہی ہیں جو پرہیز گار ہیں۔ لیکن ان میں سے اکثر اس حقیقت سے واقف نہیں۔ )
کعبہ کی تولیت کے حقدار متقی لوگ ہیں، قریش جیسے لوگ نہیں
اللہ کو ماننے والی یا کسی بھی مذہب کی پرستار قومیں جب بگڑتی ہیں تو وہ اللہ کے دین اس کے احکام اور اس کے عطاکردہ ضابطہ حیات کو بالائے طاق رکھ دیتی ہیں اور خانہ ساز قسم کی چند مذہبی رسوم کو مکمل مذہب قرار دے کر اور اللہ سے اپنی چند نسبتیں اختراع کرکے مطمئن ہو کر بیٹھ جاتی ہیں اور یہ یقین کرلیتی ہیں کہ ہماری زندگی کا یہ رویہ اور اللہ سے ہماری نسبتیں ہمارا وہ سرمایہ ہیں جس کی موجودگی میں ہمیں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ اللہ کی نوازشات ہمارے ساتھ ہیں اس کی رحمتیں ہمارے ہی لیے ہیں اور آخرت میں بھی ہم اس کی نعمتوں سے سرافراز کیئے جائیں گے۔
قریش نے بھی ایسی ہی چند مذہبی رسوم اور اللہ سے چند تعلق کی بنیادوں کو اپنے لیے وجہِ اختصاص بنا رکھا تھا اور وہ مطمئن تھے کہ ہمیں اللہ کی طرف سے کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی۔ وہ اپنا سب سے بڑا امتیاز یہ سمجھتے تھے کہ ہم خانہ کعبہ کے متولی ہیں، رفادہ اور اسقایا کی خدمتیں انجام دینے والے ہیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ اللہ کے گھر کے سائے میں رہتے ہیں اس کی حفاظت کرتے ہیں اور اس کی حفاظت میں آباد ہیں۔ ایسی صورت میں اللہ کا عذاب ہمیں کیسے چھو سکتا ہے ؟ اس کے جواب میں اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ کے یہاں کوئی حسب نسب نہیں چلتا بلکہ وہاں ایمان و عمل کا سکہ چلتا ہے۔ اس لحاظ سے تم نے کبھی غور کیا ہے کہ تمہارے اندر ایسی کون سی خصوصیت ہے جو تمہیں اللہ کے عذاب سے بچانے کی ضمانت دے سکتی ہو۔ تم اپنا سب سے بڑا امتیاز مسجد حرام سے وابستگی کو سمجھتے ہو اور حال تمہارا یہ ہے کہ تم لوگوں کو مسجد حرام آنے سے روکتے وہ تم نے اپنے آپ کو اللہ کے گھر کا متولی سمجھ رکھا ہے حالانکہ تم خوب جانتے ہو کہ اللہ کے گھر کے متولی اللہ سے ڈرنے والے اس کی عبادت کرنے والے اور اس دین کے پیروکار ہی ہوسکتے ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) لے کر آئے تھے کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب امامت کے منصب پر سرفراز کرنے کا وعدہ فرمایا گیا تھا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے وچھا تھا کہ ” کیا یہ منصب میری ذریت کو بھی حاصل رہے گا ؟ “ تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں ارشاد فرمایا تھا :
لاینال عہد ی الظالمین ( میرا یہ عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا۔ )
اس کے مستحق صرف صالحین ہوں گے اور صالحین وہ ہوں گے جو حضرت ابراہیم کے طریقے پر چلنے والے اور ان کی پیروی کرنے والے ہوں گے۔ تم نے حضرت ابراہیم کی پیروی تو کیا کرنا تھی تم نے تو اس گھر کی روایت تک بدل کر رکھ دی۔ اس گھر کو جس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا وہ مقصد تم نے فراموش کردیا۔ یہ اللہ کی توحید کا مرکز تھا تم نے تین سو ساٹھ (360) بت لاکر یہاں بٹھا دیئے۔ ایسی صورتحال میں تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ تمہیں اللہ کا عذاب نہیں چھوسکتا ؟ تمہارے کرتوت تو اللہ کے عذاب کو ہر وقت دعوت دے رہے ہیں۔ اگر تمہارے اندر اللہ کے رسول نہ ہوتے اور اب ان کے بعد درپردہ ایمان لانے والے کمزور مسلمان نہ ہوتے تو تم ہر لحاظ سے اس کے مستحق تھے کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا تم پر برستا۔ لیکن تم میں سے اکثر کو کچھ خبر ہی نہیں کہ جس گھر کے متولی ہونے کا ہم دعویٰ کرتے ہیں اس گھر کے بنانے والے نے بناتے ہوئے اللہ سے کیا التجائیں کی تھیں ؟ حضرت ابراہیم اس سرزمین پر کیوں تشریف لائے تھے ؟ ان کی دعوت کیا تھی ؟ وہ جس ملت کے داعی ہوئے اس کی امتیازی خصوصیات کیا ہیں ؟ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو انھوں نے یہاں کیوں بسایا تھا ؟ تم نے اللہ کے اس گھر کی حیثیت بدل کر اسے قومی معبد بنادیا جس کی کلید برداری اور اس کے مختلف شعبوں کی سربراہی وراثت کے طور پر مختلف خاندانوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے اور تم آبائی جاگیر کی طرح اس پر فخر کرتے ہو۔ تمہاری یہ مجرمانہ حرکتیں تو اس قابل ہیں کہ تم پر اللہ کی طرف سے پتھر برسیں لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ تم اپنے ان کرتوتوں کے باوصف اس کے متولی ہونے کے دعویدار ہو۔
Ayah 8:35وَمَاکَانَ صَلَا تُھُمْ عِنْدَالْبَیْتِ اِلَّا مُکَآئً وَّتَصْدِیَۃً ط فَذُوْقُوْا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ ۔ ( الانفال : 35 )
(نہیں ہے ان کی نماز بیت اللہ کے پاس مگر سیٹی بجانا اور تالیاں پیٹنا تو اب چکھو عذاب اپنے کفر کی پاداش میں۔ )
تمہاری بیخبر ی کا عالم تو یہ ہے کہ تمہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کیا کیا دعائیں مانگی تھیں اور اس میں بطور خاص اقامتِ صلوٰۃ کی جو دعا مانگی تھی اس کی شکل و صورت اور اس کا مفہوم کیا تھا ؟ قرآن کریم نے سورة ابراہیم میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی چند دعائوں کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہے :
وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا الْبَلَدَاٰمِنًا وَّاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ ۔ ط رَبِّ اِنَّھُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ ج فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ ج وَمَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ رَبَّنَآ اِنِّیْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ لا رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَھْوِیْٓ اِلَیْھِمْ وَارْزُقْھُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّھُمْ یَشْکُرُوْنَ ۔ (ابراہیم : 35 تا 37)
(اور یاد کرو ! جب ابراہیم نے دعا کی اے میرے رب ! اس سرزمین کو پرامن سرزمین بنا دے اور مجھ کو اور میری اولاد کو بتوں کی پرستش سے محفوظ رکھ۔ اے میرے رب ! ان بتوں نے بہتوں کو گمراہ کررکھا ہے سو جو میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو تو غفور رحیم ہے۔ اے ہمارے رب ! میں نے اپنی اولادوں میں سے کچھ کو تیرے محترم گھر کے پاس ایک بن کھیتی کی سرزمین میں بسایا ہے۔ اے ہمارے رب ! تاکہ وہ نماز کا اہتمام کریں پس تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر اور ان کو پھلوں کی روزی عطا فرماتا کہ وہ تیرے شکر گزار ہوں۔ )
اس دعا کو غور سے پڑھئے تو اندازہ ہوجائے گا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت اسماعیل کو کس مقصد کے لیے مکہ معظمہ بسایا تھا اور انھوں نے اپنی اولاد کے لیے کیا دعائیں مانگی تھیں۔ ربنا لیقیموالصلٰوۃ کے الفاظ سے بطور خاص معلوم ہوتا ہے کہ بیت اللہ کو عبادت کا مرکز بنایا گیا تھا اور حضرت اسماعیل اور ان کی اولاد کو اس گھر کے پڑوس میں بسانے سے اصل مدعا نماز کا اہتمام و قیام تھا۔ لیکن قریش نے جس طرح بیت اللہ کو توحید کا مرکز بنانے کی بجائے بت خانہ بنا کر رکھ دیا اسی طرح جس نماز کی خاطر انھیں یہاں بسایا گیا تھا اس کی صرف شکل ہی نہیں بگاڑی بلکہ اسے کھیل تماشے میں بدل ڈالا۔
مُکَآئً کا معنی ہے ” منہ سے سیٹی بجانا “۔ تَصْدِ یَۃً کا معنی ہے ” تالی پیٹنا “۔ یہ لوگ بیت اللہ کے پاس سیٹیاں بجاتے تالیاں پیٹتے اور اس مسخرہ پن کو نماز سمجھتے۔ جس قوم کو عبادت کا ذرا سا بھی تصور میسر ہو وہ کم از کم اسے ایسی شکل تو نہیں دے سکتی جسے دیکھنے والا کھیل تماشا سمجھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ قومیں جب نفسانیت کا شکار ہوتی ہیں اور ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی سے متانت رخصت ہوجاتی ہے تو جس طرح وہ عام زندگی میں میلوں ٹھیلوں کی رسیا ہوجاتی ہیں اور ہر وقت یہ چاہتی ہیں کہ ان کی نفسانی خواہشات اور سفلی جذبات کی تسکین کا سامان ہوتا رہے اسی طرح وہ اپنے مذہب کو بھی بگاڑ کر اسی ڈھب میں لے آتی ہیں۔ عیسائیوں نے جس طرح اپنے عبادت خانوں میں گھنٹے بجانے کی رسم ڈالی اور ہندوؤں نے بھجن گانے کے ساتھ ساتھ دوشیزائوں کے رقص کو عبادت کا حصہ بنایا اور مسلمانوں نے تعزیہ داری کی رسوم، مزاروں پر ہونے والی خرافات اور ذکر اللہ کی مجلسوں میں ناچ اور بھنگڑا، اسی بگڑے ہوئے ذوق کی علامتیں ہیں۔ قریش چونکہ اپنے بگاڑ میں حیوانی سطح تک اتر چکے تھے انھوں نے نماز جو اللہ کے ساتھ قرب اور تعلق کا سب سے اہم ذریعہ ہے کو بگاڑ کر ایسی شکل میں تبدیل کردیا جس سے کبھی وہم بھی نہیں ہوسکتا کہ ایسی چیز کبھی نماز رہی ہوگی۔ تو ایسی قوم جنھوں نے اللہ کے گھر کی ہیئت بدل ڈالی روایات پامال کردیں، تاریخ مسخ کردی، مقاصد تبدیل کردئیے، بیت اللہ کی بجائے قومی معبد کی شکل دے دی اور عبادت اور نماز کو سیٹی اور تالیوں میں تبدیل کردیا ان کا انجام عذاب کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے ؟ اس لیے پروردگار نے براہ راست ان سے خطاب کرکے فرمایا کہ تم اب بگاڑ کی جس انتہا کو پہنچ گئے ہو کہ اب اس کی پاداش میں اللہ کا عذاب چکھنے کے لیے تیار ہوجاؤ۔ چناچہ اس عذاب کا پہلا تھپڑ تو میدانِ بدر میں انھیں مارا گیا اور آئندہ کے لیے انھیں وارننگ دی گئی کہ اگر تم نے اپنے آپ کو نہ بدلا تو پھر ایسے ہی اور تھپڑ لگیں گے اور بالآخر تمہاری ہر حیثیت تباہ کردی جائے گی۔
Ayahs 8:36–37اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط فَسَیُنْفِقُوْنَھَا ثُمَّ تَکُوْنُ عَلَیْھِمْ حَسْرَۃً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ 5 ط وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اِلٰی جَھَنَّمَ یُحْشَرُوْنَ ۔ لا لِیَمِیْزَاللّٰہُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَیَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَہٗ عَلٰی بَعْضٍ فَیَرْکُمَہٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَہٗ فِیْ جَھَنَّمَ ط اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ ع (الانفال : 36 تا 37)
(بےشک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے وہ اپنے مال خرچ کررہے ہیں تاکہ وہ اللہ کے راستے سے روکیں سوابھی وہ اور خرچ کریں گے پھر یہ ان کے لیے سرمایہ حسرت بنیں گے اور آخر مغلوب ہوں گے اور یہ کافر جمع کرکے جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے۔ تاکہ اللہ خبیث کو طیب سے جدا کردے اور رکھے ناپاک کو ایک کو ایک پر اور پھر اس کو ڈھیر کردے اکٹھا پھر اس کو جہنم میں جھونک دے یہی لوگ نامراد ہونے والے ہیں۔ )
کفار کی زرپاشیاں بھی اسلامی انقلاب کو روک نہ سکیں گی
ہم نے گزشتہ آیات میں دیکھا ہے کہ کفار کی جسارتیں اور اسلام سے عداوتیں اپنی انتہا کو پہنچ گئی تھیں۔ اللہ کا رسول جو دنیا میں اللہ کا نمائندہ اور انسانیت کا شاہکار ہوتا ہے، اسے قتل کرنے کی تدبیریں کی گئیں۔ قرآن کریم جو اللہ کا اہل زمین کے لیے پیغام ہے اس کا مذاق اڑایا گیا اور جب انھیں تنبیہ کی گئی تو منہ پھاڑ کر یہاں تک کہہ ڈالا کہ اگر یہ دین اللہ کی جانب سے ہے تو ہم بجائے اسے قبول کرنے کے اس بات کو ترجیح دیں گے کہ ہم پر آسمان سے پتھر برسائے جائیں۔ نماز جو عبد اور معبود کے درمیان رابطہ کی سب اہم صورت ہے اسے کھیل تماشہ بنادیا گیا۔ ان تمام باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر اپنے آخری دائو کھیلنے کے لیے تیار ہوچکا ہے۔ چناچہ اسی سلسلے کی ایک بات اس آیت کریمہ میں فرمائی گئی ہے کہ کسی بھی ضابطہ حیات طرز زندگی اور انقلابی فکر کو ناکام کرنے کے لیے دو ہی چیزیں ضروی ہوتی ہیں ایک یہ کہ مخالفین اپنی افرادی قوت کو اسے روکنے پر لگادیں اور دوسری یہ کہ اپنی تجوریوں کا منہ اپنی مخالفت اور عناد کو مستحکم کرنے کے لیے کھول دیں۔ چناچہ کفر نے افرادی قوت کے ساتھ ساتھ مالی قوت کو بھی مکمل طور پر اس راستے پر لگا دیا ہے۔ جب وہ لوگ میدانِ بدر میں ہمیشہ کے لیے اسلامی قوت کو کچلنے کے لیے آئے تھے تو مکہ کی پوری طاقت میدان میں آگئی تھی اور ساتھ ساتھ ان کے جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ ان کے سرداروں میں سے ایک ایک آدمی ایک ہزار کے لشکر کو تنہا کھانا کھلاتا اور اس کی جنگی ضرورتیں پوری کرتا تھا۔ لیکن نہ ان کی قوت کام آئی اور نہ ان کی زر پاشیاں کام آئیں۔ ان کی قیادت کی پہلی صف اس طرح ڈھیر ہوئی کہ ایک اندھا کنواں ان کا مدفن بنا اور ان کا تمام سرمایہ خود اپنی موت کا ذریعہ بن گیا۔ لیکن ابھی تک ان میں کس بل باقی تھا۔ وہ اتنانقصان اٹھا کر بھی اپنی دشمنی اور رعونت سے باز آنے والے نہیں تھے۔ چناچہ جن لوگوں کے عزیز جنگ بدر میں مارے گئے انھوں نے اکٹھے ہو کر ابوسفیان سے درخواست کی کہ تم جو ایک بڑا قافلہ تجارت لے کر ملک شام گئے تھے اور وہاں سے تم بہت کچھ کما کر واپس آئے ہو ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس قافلہ ٔ تجارت کا سارا منافع آئندہ جنگ کی تیاری اور مسلمانوں کے استیصال پر صرف کردیا جائے۔ اس آیت میں فرمایا گیا کہ یہ لوگ پہلے بھی خرچ کرکے اس کا انجام دیکھ چکے ہیں۔ یہ آئندہ بھی خرچ کریں گے اور تم دیکھو گے کہ آئندہ کا سارا خرچ کیا ہوامال حسب سابق ان کے لیے سرمایہ حسرت بن جائے گا۔ یہ جس طرح اپنے مقتولوں پر روئیں گے اسی طرح اپنے مال و دولت کے ضائع ہونے پر بھی آنسو بہائیں گے۔ لیکن انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی ساری کاوشیں اس طوفان کو روک نہیں سکیں گی جو اسلام کے نام پر آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ اپنی تمام انسانیت دشمن کارروائیوں سے اس چشمہ صافی سے لوگوں کو زیادہ دیرتک دور رکھنے میں کامیاب نہیں ہوں گے جس چشمہ کا ایک ایک قطرہ آب حیات کا حکم رکھتا ہے بلکہ ان کا اپنا انجام یہ ہوگا کہ دنیا میں بھی رسوا ہوں گے اور آخرت میں انھیں جہنم کی طرف ہانک کرلے جایا جائے گا اور وہاں اس فرقان کا پوری طرح ظہور ہوگا جو مسلمانوں کا اصل سرمایہ ہے۔ وہاں خبیث کو طیب سے الگ کردیا جائے گا۔ ہر کافر خبیث ہے اور ہر مومن طیب ہے۔ طیب طیب جگہ میں یعنی جنت میں رکھے جائیں گے اور ان تمام خبثاء کو ایک دوسرے پر تہہ بہ تہہ ڈھیر کردیا جائے گا۔ رَکَمَ کا معنی کسی شے کو ایک دوسرے پر تہہ بہ تہہ ڈھیر کرنا ہے۔ کوڑے کرکٹ کو جلانا ہو تو سارا کوڑا جمع کر کے تہہ بہ تہہ ڈھیر کردیا جاتا ہے اور پھر اس کو آگ دکھادی جاتی ہے۔ تہہ بہ تہہ جمع کرنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آگ زیادہ مقدار میں ایندھن دستیاب ہونے کی وجہ سے پوری قوت سے بڑھکتی ہے اور جمع شدہ انبار کا ہر حصہ دوسرے حصے کو جلانے میں مددگار بن جاتا ہے۔ اہل کفر نے جس طرح اسلام کا راستہ روکنے میں ایک دوسرے کی مدد اور پشت پناہی کی ہے اسی طرح جہنم میں یہ ایک دوسرے کو جلانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ لاشیں ایندھن کی طرح جلیں گی اور ہر لاش دوسرے کو جلانے کا کام دے گی۔ اس وقت انھیں اندازہ ہوگا کہ قرآن کریم نے اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ فرماکر انھیں کس انجام کی خبر دی تھی۔ لیکن اس وقت کفِ افسوس ملنے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔
Ayah 8:38قُلِّ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اِنْ یَّنْتَھُوْا یُغْفَرْلَہُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ ج وَاِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (الانفال : 38)
(کہہ دیجئے ! ان کفر کرنے والوں سے کہ اگر وہ بازآجائیں تو جو کچھ ہوچکا ہے معاف کردیا جائے گا اور اگر وہ پہلا رویہ ہی جاری رکھیں تو پہلوں کے بارے میں سنت الہٰی گزر چکی ہے۔ )
سابقہ آیات کریمہ میں مشرکینِ مکہ کے بڑے بڑے جرائم کو ذکر فرمانے کے بعد ان کے دنیوی اور اخروی انجام کا ذکر فرمایا اور ان پر یہ بات واضح کردی کہ تم بہت جلد دنیا میں دیکھو گے کہ اسلام کی راہ میں تمہاری مخالفتیں، تمہاری تگ ودو اور تمہاری خرچ کی ہوئی دولت تمہارے لیے سرمایہ حسرت بن جائے گی اور آخرت میں تم سب کوڑے کرکٹ کی طرح ایک انبار کی شکل میں جہنم میں پھینک دیئے جاؤ گے۔
اللہ تعالیٰ کی شان کریمی کا اظہار
اب اس آیت کریمہ میں پروردگار نے اپنی شان کریمی اور دعوت الی اللہ کے تقاضے کے مطابق ایک ایسی بات ارشاد فرمائی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم واقعی اللہ کی کتاب ہے اور اس کا بھیجنے والا پروردگارِ عالم ہے جس نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کررکھا ہے اور وہ رسول جس کی زبان سے یہ اعلان کروایا جارہا ہے وہ واقعی رحمۃ للعالمین ہے۔ کہنا یہ ہے کہ تمہارے کرتوت تو اس قابل ہیں کہ دنیا میں بھی تم پر عذاب کا کوڑا برسے اور آخرت میں تمہیں جہنم کی نذر کردیا جائے۔ لیکن اللہ کو کسی سے انتقام نہیں لیناوہ تمہارے تمام تر عناد کے باوجود کسی شخصی جذبے کی گرفت میں اسیر نہیں ہوتا۔ جس طرح اس کی ذات ہر طرح کے نفسیاتی عوارض سے پاک ہے اسی طرح اس کی دعوت اور اس کا دین بھی اپنے اندر بےپناہ وسعت رکھتا ہے۔ تمہاری اذیتیں اور مخالفتیں اپنی جگہ لیکن آنحضرت ﷺ سے کہا جارہا ہے کہ آپ ان کافروں سے کہئے کہ اگر یہ لوگ اپنے رویے کو بدل لیں اور اسلام کی مخالفت سے باز آجائیں اور انھوں نے اللہ کے گھر کو جس طرح اللہ والوں پر ممنوع قراردے رکھا ہے اس سے توبہ کرلیں اور اسلام کی آغوش میں آجائیں تو وہ اب تک جتنے بڑے بڑے جرائم کرچکے ہیں اس کے بارے میں ان سے بالکل نہیں پوچھا جائے گا بلکہ ان کی تمام چھوٹی بڑی غلطیاں اور زیادتیاں معاف کردی جائیں گی۔
اسلام ایک ایسی انمول نعمت ہے کہ اسلام لانے والا کسی ذہنی یا عرفی شکست سے دو چار نہیں ہوتا اور اسے اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا کہ میں اب تک اسلامی دعوت اور اللہ کے پیغمبر سے جو سلوک کرچکا ہوں مجھ سے اس کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی اور امت مسلمہ مجھے قبول کرنے سے پہلے میرے بڑے بڑے جرائم کی سزا دے گی۔ آنحضرت ﷺ نے تو ایک شخص کو جو اپنی ایک سے زیادہ بیٹیاں زندہ درگور کرچکا تھا اور اب اسلام کی وجہ سے جب ضمیر نے انگڑائی لی تو شدید کرب کی حالت میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا قصہ سنا رہا تھا اسے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ
( اسلام حالت کفر میں کیے ہوئے ہر گناہ کو ختم کردیتا ہے۔ )
اگر کسی شخص کے گناہوں سے زمین و آسمان کے درمیان ساری فضا بھر جائے تو کلمہ طیبہ کے چند بول اسے ختم کرکے رکھ دیتے ہیں۔ اس آیت میں بھی اسی رحمت کا اظہار ہورہا ہے اور آنحضرت ﷺ جو عملی قرآن تھے اور جن کے اخلاق سے اللہ کے پسندیدہ اخلاق کا اظہارہوتا تھا انھوں نے بھی فتح مکہ کے موقعہ پر جب کہ بدترین دشمن آپ کے سامنے ہاتھ باندھے اور سرجھکائے اپنی قسمتوں کا فیصلہ سننے کے انتظار میں کھڑے تھے فرمایا تھا کہ
میں تم سے آج وہی کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا کہ تم سب آزاد ہو آج تم سے کوئی بازپرس نہیں ہوگی اللہ تمہیں معاف کرے وہ سب رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
ترغیب کے بعد تنبیہہ
آیت کے دوسرے حصے میں تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر تم نے اللہ کی اس دعوت استغفار کو قبول نہ کیا اور کفر سے نکل کر اسلام کی آغوش میں نہ آئے بلکہ تم نے اپنے اندھے پن پر اصرار جاری رکھا تو پھر یاد رکھو اس سے پہلے لوگوں کے ساتھ اللہ کی جو سنت رہی ہے وہ گزرچکی ہے۔ یعنی اللہ کی جس سنت، اللہ کے جس طریقے اور اللہ کے جس قانونِ عدل سے سابقہ امتیں دوچار ہوچکی ہیں ان کی تاریخ تمہارے سامنے ہے۔ تم قوم عاد اور قوم ثمود، مدین اور قوم لوط وغیرہ کے کھنڈرات سے تجارتی اسفار میں گزرتے رہتے ہو۔ ان کے تمام علاقے اللہ کے عذاب کی منہ بولتی تصویر ہیں۔ وہ اپنے اپنے زمانے کے نہایت ترقی یافتہ اور مضبوط لوگ تھے۔ پہاڑوں میں کھدے ہوئے ان کے محلات آج بھی فنِ تعمیر میں ان کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اگرچہ ان کی آبادیاں ریت کے طوفانوں کے نیچے دب گئی تھیں لیکن ان کے آثار اتنی بڑی تعداد میں اس وقت تک باقی تھے جس سے یہ اندازہ کرنا کوئی مشکل نہ تھا کہ جب ان قوموں نے بغاوت اور تمرد کو جاری رکھنے پر اصرار کیا تو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے کس طرح ان کی کمر توڑی۔ قریش سے کہا جارہا ہے کہ تم اللہ کی اس سنت کو آج بھی ان کے کھنڈرات میں شناخت کرسکتے ہو اور اس آئینے میں بڑی آسانی سے اندازہ کرسکتے ہو کہ جس بدترین صورت حال سے وہ قومیں دوچار ہوئی تھیں اسی صورتحال سے تم بھی دوچار ہوسکتے ہو۔ اس لیے کہ تمہارے اور ان کے رویے اور اعمال میں کوئی فرق نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کا قانونِ عدل اور قانونِ اتمامِ حجت علی حالہٖ قائم ہے۔ جس طرح باطل نے اپنی سرشت نہیں بدلی حق نے بھی اپنے قوانین نہیں بدلے۔ حق و باطل کے معرکوں میں قوموں کے نام بدل جاتے ہیں لیکن معرکہ حق و باطل کے خصائص میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ اقبال نے ہر دو رکے لیے ٹھیک کہا :
نہ ستیزہ گاہ جہاں نئی نہ حریفِ پنجہ شکن نئے
وہی قوت اسداللّٰہی وہی مرحبی وہی عنتری