8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsروح القرآن

Ayah 8:10

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader

(اور نہیں کیا اللہ نے ( فرشتوں کی خبر دینے کو) مگر خوشخبری تاکہ اس سے تمہارے دل مطمئن ہوجائیں اور مدد تو اللہ ہی کے پاس سے آتی ہے، بیشک اللہ زور آورحکمت والا ہے )

وَمَا جَعَلَہُ اللّٰہُ اِلَّا بُشْرٰی وَلِتَطْمَئِنَّ بِہٖ قُلُوْبُکُمْ ج وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔ ع (الانفال : 10) (اور نہیں کیا اللہ نے ( فرشتوں کی خبر دینے کو) مگر خوشخبری تاکہ اس سے تمہارے دل مطمئن ہوجائیں اور مدد تو اللہ ہی کے پاس سے آتی ہے، بیشک اللہ زور آورحکمت والا ہے ) اللہ تعالیٰ کی نصرت اسباب کے پردے میں اس آیت کریمہ میں دو باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ایک تو یہ بات کہ کسی شخص کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کسی کی مدد کے لیے فرشتوں یا اسباب کا محتاج ہے۔ کائنات کی ہر مخلوق اپنی قوتوں اور اپنے خواص کے لیے اللہ کی محتاج ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی مخلوق کا محتاج نہیں۔ فرشتے اگر کسی کی مدد کرتے ہیں تو اللہ کے حکم اس کے اذن اور اس کی دی ہوئی طاقت سے کرتے ہیں۔ اپنے طور سے وہ کسی کی مدد کرنے پر قادر نہیں۔ البتہ ! اللہ کی ایک سنت ہے جس کے مطابق دنیا کا نظام چل رہا ہے کہ وہ جب بھی کسی کی مدد کرتا ہے تو اسباب کے پردے میں کرتا ہے۔ انسانی نظر چونکہ اسباب کو دیکھتی ہے اور اسباب ہی سے متأثر ہوتی ہے اس لیے جب وہ اسباب کو حرکت میں دیکھتی ہے تو اسے ایک گونہ سکون اور حوصلہ ملتا ہے۔ اس لیے پروردگار نے فرشتوں کے بھیجنے کا وعدہ فرمایا لیکن ساتھ یہ بتانا ضروری سمجھا کہ تم کہیں اپنے آپ کو فرشتوں کا محتاج نہ سمجھ لینا اور نہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہونا کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کا محتاج ہے۔ جب بھی کسی کی مدد ہوتی ہے تو اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ البتہ ! نگاہیں اسباب کے پردے میں الجھ کر رہ جاتی ہیں۔ روشنی پاور ہائوس سے آتی ہے لیکن نگاہیں ٹیوب اور بلب کو دیکھتی ہیں۔ لیکن بجلی کے نظام کو جاننے والا جانتا ہے کہ بجلی کہاں سے آرہی ہے۔ ایک مسلمان کو بھی اس بات سے آگاہ ہونا چاہیے کہ اس کا سررشتہ کس کے ہاتھ میں ہے اور اس کا ہاتھ کس کے سامنے پھیلنا چاہیے۔ دوسری بات جس کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ جنگ بدر میں پروردگار نے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے فرشتوں کی فوج بھیجی لیکن اس سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ اللہ کی نصرت کا یہ وعدہ صرف جنگ بدر کے ساتھ مخصوص تھا یا اس وقت کے مسلمانوں کے ساتھ خاص تھا کیونکہ ان میں اللہ کے آخری رسول موجود تھے بلکہ مسلمانوں کو یہ یقین رکھنا چاہیے کہ جب بھی تقویٰ اور صبر کی تصویر بن کر صرف اللہ کی رضا کے حصول اور اعلائے کلمۃ الحق کے لیے مسلمان دشمن سے نبرد آزما ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کی مدد ضرور اترے گی۔ ضروری نہیں کہ فرشتوں کی شکل میں مدداترے کسی بھی صورت میں مدد آسکتی ہے۔ وہ چاہے تو پرندوں کو فرشتوں کی طاقت دے دے، چاہے تو سمندر کی موجوں کو بےلگام کردے، وہ چاہے تو آسمان کے دروازے بارشوں کے لیے کھول دے، لیکن عموماً وہ اپنے بندوں کی مدد کے لیے فرشتے اتارتا ہے۔ اس لیے ہر کٹھن وقت اور خطرناک حق و باطل کے معرکے میں مسلمانوں کو یقین رکھنا چاہیے کہ اگر انھوں نے کوئی کمزوری نہ دکھائی اور تقویٰ اور صبر کو ملحوظ رکھا اور وہی فضا پیدا کردی جو جنگ بدر میں تھی اور اللہ کے سامنے گڑگڑا کر اس سے مدد مانگی تو کوئی وجہ نہیں کہ مدد کے لیے فرشتے نازل نہ ہوں۔ فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ (مدد جب بھی آتی ہے اللہ کی طرف سے آتی ہے بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔ ) مسلمانوں کے عقیدے کی بنیاد ہی یہ ہے کہ مدد جب بھی آتی ہے اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ اس لیے بھروسہ اللہ پر ہونا چاہیے دست سوال اسی کے سامنے دراز ہونا چاہیے، امیدیں اسی سے باندھنی چاہئیں، وجہ اس کی یہ ہے کہ وہی ایک ذات ہے جو سب سے زور آور اور سب پر غالب ہے۔ جب وہ کسی کی مدد کرنا چاہے تو کوئی اس کا ہاتھ پکڑ نے والا نہیں، کوئی راستے میں رکاوٹ کھڑی نہیں کرسکتا۔ البتہ ! یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ مسلمان اللہ سے مدد طلب کرے لیکن ادھر سے مدد نہ آئے اور بظاہر یہ سمجھا جائے کہ اللہ نے اپنے بندوں کو اپنی مدد سے محروم کردیا ہے۔ اگر کبھی ایسا ہو تو مسلمانوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ جس طرح ” عزیز “ ہے اسی طرح ” حکیم “ بھی ہے۔ اگر اس کی حکمت کا تقاضایہ ہے کہ اہل ایمان کو تربیت کے لیے مصائب سے گزارا جائے تو وہ مصائب میں مبتلا کردیتا ہے۔ لیکن اس سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ اس نے محروم کردیا ہے بلکہ یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اس میں بھی اہل ایمان کے لیے کوئی مصلحت ہے۔
Ayah 8:11

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

اس وقت کو یاد کرو ! جب وہ تم پر نیند طاری کررہا تھا اپنی طرف سے چین دینیذ کے لیے اور اس نے تم پر آسمان سے پانی برسایا تاکہ اس سے تم کو پاکیزگی بخشے اور تم سے شیطان کی نجاست کو دور کردے اور تاکہ اس سے تمہارے دلوں کو مضبوط کرے اور قدموں کو جمائے

اِذْ یُغْشِیْکُمُ النُّعَاسَ اَمَنَۃً مِّنْہُ وَیُنَزِّلُ عَلَیْکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ مَآئً لِیُطَھِّرَ کُمْ بِہٖ ویُذْھِبَ عَنْکُمْ رِجْزَالشَّیْطٰنِ وَلِیَرْبِطَ عَلٰی قُلُوْبِکُمْ وَیُثَبِّتَ بِہِ الْاَقْدَامَ ۔ ط (الانفال : 11) (اس وقت کو یاد کرو ! جب وہ تم پر نیند طاری کررہا تھا اپنی طرف سے چین دینے کے لیے اور اس نے تم پر آسمان سے پانی برسایا تاکہ اس سے تم کو پاکیزگی بخشے اور تم سے شیطان کی نجاست کو دور کردے اور تاکہ اس سے تمہارے دلوں کو مضبوط کرے اور قدموں کو جمائے۔ ) اللہ تعالیٰ کے مزید احسانات کا بدلہ اس آیت کریمہ میں پروردگار نے مسلمانوں پر اپنے مزید احسانات کا ذکر فرمایا ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ مسلمان جب میدانِ بدر میں پہنچے تو کفار کا لشکر اس سے پہلے ایک ایسے مقام پر قبضہ کرچکا تھا جو نسبتاً بلندی پر تھا اور زمین اس کی سخت اور ہموار تھی۔ چناچہ مسلمانوں کو وادی کے نچلے حصے میں جگہ ملی جس کی تفصیل اس سورة کی بیالیسویں (42) آیت میں آرہی ہے۔ حضرت حباب بن منذر ( رض) نے اس جگہ کو جنگی اعتبار سے نامناسب دیکھ کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ ! جو مقام آپ نے پسند فرمایا ہے یہ وحی الہٰی ہے یا جنگی حکمت عملی ہے ؟ آپ نے فرمایا : وحی نہیں۔ تو حضرت حباب بن منذر ( رض) نے عرض کیا تو پھر بہتر یہ ہے کہ اس سے آگے بڑھ کر قریش مکہ کے قریب ایسی جگہ پر قبضہ کیا جائے جس میں پانی بھی قریب ہو چناچہ آنحضرت ﷺ نے اس مشورے کو پسند فرمایا اور آگے بڑھ کر پانی پر قبضہ کرلیا لیکن یہ جگہ بھی نشیبی اور ریتلی تھی جس میں پائوں دھنس دھنس جاتے تھے۔ مسلمان اس صورتحال کو دیکھ کر محسوس کررہے تھے کہ ہماری تعداد بھی دشمن کے مقابلے میں تشویش ناک حد تک کم ہے، وسائلِ جنگ نہ ہونے کے برابر ہیں اور اس پر طرّہ یہ ہے کہ جگہ ایسی ملی ہے کہ جس میں چلنا پھرنا بھی دشوار ہے۔ ان تمام باتوں کو سوچ کر دلوں میں عجیب و غریب خیالات آتے تھے اور شیطان کو وسوسہ اندازی کا موقع ملتا تھا۔ اب اگر یہ خیالات طبیعت کی بےسکونی اور پریشانی کا سبب بنے رہتے تو نیند کسے آتی۔ نتیجہ اس کا یہ ہوتا کہ صبح معرکہ کارزار میں مسلمان وہ کارکردگی نہ دکھاسکتے جس کی ان سے توقع کی جاسکتی تھی۔ چناچہ پروردگار نے ایسے دو احسانات فرمائے جس نے پوری صورتحال کو بدل ڈالا۔ پہلا احسان یہ کیا کہ طبیعتوں کو سکون دینے اور شیطان کی وسوسہ اندازی کو روکنے کے لیے مسلمانوں پر نیند طاری کردی۔ وہ رات کو بیشتر حصہ اطمینان کی نیند سوئے، تازہ دم ہو کر اٹھے تو طبیعت کا بوجھ ہلکا ہوچکا تھا کیونکہ انسانی کمزوری یہ ہے کہ وہ خالی پیٹ تو کسی حد تک لڑ سکتا ہے لیکن مسلسل بےآرامی جسم کو توڑ کر رکھ دیتی ہے، اعصاب جواب دینے لگتے ہیں۔ اس لیے آج کی ملٹری سائنس میں اس بات کی شدید کوشش کی جاتی ہے کہ دشمن پر اعصابی حملے کیے جائیں، افواہیں پھیلائی جائیں جس سے دشمن کی بےسکونی میں اضافہ ہو۔ راتوں کی نیند اچاٹ ہوجائے، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وقت سے پہلے ہی دشمن ہتھیار ڈال دے گا۔ اس لیے مدبر جرنیل اور ہمدرد حکومتیں ہمیشہ اپنی فوج اور اپنی قوم کو پرسکون رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ چناچہ پروردگار نے اسی لیے نیند کی صورت میں مسلمانوں پر بہت بڑا احسان کیا۔ حضرت علی ( رض) فرماتے ہیں کہ اس رات ہم میں سے ہر شخص خواہ وہ سونا چاہتا تھا یا نہیں ضرور نیند کی گرفت میں آیا اور جی بھر کر آرام کیا۔ نعاسکا مفہوم ممکن ہے کسی کو یہ خیال آئے کہ آیت میں ” نعاس “ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو عربی میں ” ابتدائی نیند “ یعنی اونگھ اور جھپکی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہنع اس کا لفظ مطلق نیند کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور ” نوم “ کے معنی میں آتا ہے اور دوسری یہ بات کہ ایک ذمہ دار فوج جسے صبح ایک فیصلہ کن معرکہ میں اترنا ہے، اس کا ایک ایک سپاہی قوت کارکردگی کی بحالی کے لیے آرام کی خواہش تو ضرور رکھتا ہے لیکن گھوڑے بیچ کر سونا کبھی پسند نہیں کرتا۔ وہ سوتا ہے تو کھٹکے کی نیند سوتا ہے۔ اس لیے نعاس کے لفظ نے دونوں باتوں کی طرف اشارہ کردیا کہ مسلمانوں کو آرام اور چین بھی ملالیکن ذمہ داری کا احساس ان سے الگ بھی نہ ہوا۔ دوسرا احسان اللہ نے یہ فرمایا کہ بارش نازل فرمادی۔ لیکن اس کے لیے تعبیر یہ اختیار فرمائی کہ آسمان سے پانی اتارا۔ یہ نہایت دلنواز تعبیر ہے جس میں شائد اشارہ اس طرف ہے کہ اگر کفار قریش نے تمہیں زمین کے پانی سے محروم کرنے کی کوشش کی ہے تو کیا ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں آسمان سے پانی نازل فرمادیا اور نازل بھی اس طرح فرمایا جس طرح کہ روایات میں مذکور ہے کہ قریش کی طرف زور کی بارش اتری اور مسلمانوں کی طرف ہلکی ہلکی بارش نازل ہوئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قریش کی طرف کی زمین کیچڑ کیچڑ ہوگئی جس سے پھسلن پیدا ہوگئی اور چلنا دشوار ہوگیا اور مسلمانوں کی زمین ریتلی ہونے کی وجہ سے جم گئی اور سخت ہو کر ہر طرح کی آمدورفت کے لیے آسان ہوگئی۔ مزید فائدہ یہ ہوا کہ کفار کی طرح پانی کی ضرورت مسلمانوں کے لیے صرف پینے کی حد تک نہیں تھی کیونکہ اسلام نے ان کے ذوق ورجحان پر جو اثرڈالا ہے اس کے نتیجے میں ان کی نئی اقدار وجود میں آئیں اور نئے پیمانے تشکیل پائے۔ پانی کی کمی ان کے لیے اس لیے پریشانی کا باعث تھی کہ نماز کے لیے وضو کیسے کریں، غسل واجب ہوا اس کا کیا کیا جائے گا، جسم کی طہارت جو روح کی پاکیزگی کا پیش خیمہ ہے پانی کے بغیر اگرچہ تیمم سے بھی ممکن ہے لیکن ہر آدمی یہ خواہش کرتا ہے کہ کاش پانی میسر آجائے تاکہ میں صحیح معنی میں پاکیزہ ہوسکوں اور یہ بھی امر واقعہ ہے کہ گندے جسم میں شیطان کو وسوسہ اندازی کا زیادہ موقعہ ملتا ہے۔ بارش ہوجانے کے بعد جب طہارت کی ساری ضرورتیں پوری ہوگئیں اور شیطانی وساوس کی گندگیاں دور ہوگئیں، نیند سے طبیعت کا بوجھ اترا، پانی نے اس فرحت اور مسرت میں اضافہ کیا، اس کے نتیجے میں دلوں کے حوصلے توانا ہوگئے اور قدموں میں استقلال آگیا۔ ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ بارش کا ہوجانا ایک اتفاقی امر ہے۔ اتفاقات کو احسانات کا نام دینا عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے۔ لیکن یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ اللہ کی سلطنت میں اتفاق کا کہیں گزر نہیں، اس کے قوانین اتنے مستحکم اور اس قدر حاوی ہیں کہ کوئی واقعہ اپنے طور پر وجود میں نہیں آسکتا اور جب ہم تاریخ کے جھروکوں میں نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسے ہی اتفاقی واقعات تاریخ میں انقلاب کا ذریعہ بنے ہیں۔ نپولین کا ایک جرنیل واٹر لو کے میدان میں اگر سات منٹ دیر سے نہ پہنچتا تو نپولین کو جنگ میں شکست نہ ہوتی۔ اس شکست نے فرانس کی تاریخ بدل ڈالی اور یہ ثابت کردیا کہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ ” میرے لغت میں ناممکن کا لفظ نہیں۔ میں ہر بات کے ممکن کردینے پر قادر ہوں “ اس کے انجام کو دیکھئے جس کا سبب صرف بارش کا ایک واقعہ بنا۔ یہاں بھی اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ بارش کو جس طرح اللہ تعالیٰ نے بطور احسان کے ذکر فرمایا ہے اس نے حالات کی تشکیل میں کیسا کچھ رول ادا کیا ہوگا۔
Ayahs 8:12–14

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

اس وقت یاد کرو ! جب تیرے رب نے فرشتوں کو حکم بھیجا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم ایمان والوں کو جمائے رکھو میں عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا۔ سو مارو گردنوں پر اور مارو ان کے پور پور پر۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

یہ اس سبب سے ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے کے لیے اٹھے ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے کے لیے اٹھتے ہیں تو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

یہ تو تم نقد چکھو اور جان رکھو کہ کافروں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّی مَعَکُمْ فَثَبِّتُوْاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاط سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْ مِنْھُمْ کُلَّ بَنَانٍ ۔ ط ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ شَآقُّوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ ج وَمَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ ذٰلِکُمْ فَذُوْقُوْہُ وَاَنَّ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ ۔ (الانفال : 12 تا 14) (اس وقت کو یاد کرو ! جب تیرے رب نے فرشتوں کو حکم بھیجا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم ایمان والوں کو جمائے رکھو میں عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا۔ سو مارو گردنوں پر اور مارو ان کے پور پور پر۔ یہ اس سبب سے ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے مقابلہ کے لیے اٹھے ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کے مقابلہ کے لیے اٹھتے ہیں تو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ یہ تو تم نقد چکھو اور جان رکھو کہ کافروں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے) فرشتوں کو احکام جو فرشتے مسلمانوں کی مدد کے لیے بھیجے گئے تھے اس آیت کریمہ میں انہی کا تذکرہ ہے کہ فرشتوں کی یہ فوج براہ راست رب الافواج کی کمانڈ میں تھی۔ جنگ کے دوران پروردگار کی جانب سے براہ راست انھیں یہ پیغام مل رہے تھے اور احکام کا ذریعہ وہی وحی الہٰی تھا جو اللہ اور اس کے پیغمبروں کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فرشتے اپنے تمام تر مقامات کی بلندی اور معصومیت کے باوجود براہ راست اللہ تک رسائی کی طاقت نہیں رکھتے، انھیں بھی جب حکم پہنچتا ہے تو وحی کے ذریعے پہنچتا ہے۔ انھیں پہلا حکم یہ دیا گیا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تمہارا کام یہ ہے کہ تم مسلمانوں کو ثابت قدم رکھو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معیت اور تائید ونصرت کے بغیر فرشتے بھی کچھ نہیں کرسکتے۔ ان کی تمام طاقتیں صرف اللہ کی دین ہی نہیں بلکہ اس کی تائید سے حرکت میں آتی ہیں۔ باوجود اس کے کہ فرشتوں کو اللہ نے بےپناہ قوتوں کا حامل بنایا ہے، روایات میں آتا ہے کہ قوم لوط پر عذاب حضرت جبریل (علیہ السلام) کے واسطے سے آیا۔ حضرت جبریل نے اپنے ایک پر سے اس دھرتی کو اٹھایا جس پر قوم لوط آباد تھی اور اوپر لے جاکر اسے الٹ دیا۔ پھر ان پر پتھر برسائے گئے۔ آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ جو ذات اپنے ایک پر سے زمین کا ایک بڑا حصہ اٹھاسکتی ہے اس کی طاقت کا کیا عالم ہوگا ؟ لیکن یہ حقیقت ہے کہ کوئی فرشتہ اپنی مرضی سے کوئی کام کرنے پر قادر نہیں تاوقتیکہ اسے اللہ کی طرف سے حکم نہ ملے اور اللہ کی تایئد اسے حاصل نہ ہو۔ یہاں فرشتوں سے یہ نہیں کہا گیا کہ تم جاکر لڑائی کا سارا کام سنبھال لو اور مسلمانوں سے کہہ دو کہ وہ اطمینان سے اپنے کیمپ میں بیٹھیں، فرشتے خود دشمن کو نیست ونابود کردیں گے بلکہ یہ فرمایا کہ تم اپنے تصرف سے مسلمانوں کے دلوں کو مضبوط کروان کے حوصلوں میں اضافہ کرو۔ تم دیکھو گے کہ میں جلد ہی کافروں کے دلوں میں رعب اور دہشت پیدا کردوں گا۔ فوج کی اصل قوت حوصلہ اور مورال (Morale) ہی ہوتی ہے۔ جب کوئی قوم حوصلہ ہاردیتی ہے تو پھر وہ بھیڑوں کا ریوڑ ہو کر رہ جاتی ہے اور حوصلہ مند فوج اسے بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتی ہوئی لے جاتی ہے۔ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ …الخ کا مفہوم دوسرا حکم یہ دیا : فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْ مِنْھُمْ کُلَّ بَنَانٍ (ان کی گردنوں پر مارو اور ان کے پور پور پر مارو۔ ) اس آیت کی تفسیر میں اہل علم کا اختلاف ہے بعض اہل علم اس آیت کا خطاب فرشتوں سے سمجھتے ہیں اور سیاق کلام کا تقاضا بھی یہی ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فرشتوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم مسلمانوں کے حوصلے بھی توانا رکھو اور ساتھ ساتھ کسی حد تک قتال میں بھی شرکت کرو اور کافروں کی گردنوں پر چوٹیں لگائو اور ان کی ایک ایک پور پر مارو۔ بعض احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ تفسیر مظہری نے بعض واقعات کا کسی حد تک تذکرہ کیا ہے۔ ابن سعد کی روایت میں حضرت عکرمہ سے مروی ہے کہ اس دن آدمی کا سرکٹ کر گرتا اور یہ پتہ نہ چلتا کہ اسے کس نے مارا ہے اور آدمی کا ہاتھ کٹ کر گرتا اور یہ معلوم نہ ہوتا کہ اسے کس نے کاٹا۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان ایک مشرک کا تعاقب کررہا تھا کہ اچانک اس مشرک کے اوپر کوڑے کی مار پڑنے کی آواز آئی اور ایک شاہسوار کی آواز سنائی دی جو کہہ رہا تھا کہحیزدم ( آگے بڑھ) مسلمان نے مشرک کو اپنے آگے دیکھا کہ وہ چت گرا۔ لپک کر دیکھا تو اس کی ناک پر چوٹ کا نشان تھا۔ چہرہ پھٹا ہوا تھا جیسے کوڑے سے مارا گیا ہو اور اس کا پورا جسم ہرا پڑگیا تھا۔ اس انصاری مسلمان نے آکر رسول اللہ ﷺ سے یہ ماجرابیان کیا۔ تو آپ نے فرمایا : تم سچ کہتے ہو یہ تیسرے آسمان کی مدد تھی۔ ابو دائود مازنی کہتے ہیں کہ میں ایک مشرک کو مارنے کے لیے دوڑ رہا تھا کہ اچانک اس کا سر میری تلوار پہنچنے سے پہلے ہی کٹ کر گرگیا ۔ میں سمجھ گیا کہ اسے میری بجائے کسی اور نے قتل کیا ہے۔ ایک انصاری حضرت عباس بن عبدالمطلب کو قید کرکے لایاتو حضرت عباس کہنے لگے واللہ ! مجھے اس نے قید نہیں کیا ہے مجھے تو ایک بےبال کے سر والے آدمی نے قید کیا ہے جو نہایت خوبرو تھا اور ایک چتکبرے گھوڑے پر سوار تھا۔ اب میں اسے لوگوں میں دیکھ نہیں رہا۔ انصاری نے کہا اے اللہ کے رسول انھیں میں نے قید کیا ہے۔ آپ نے فرمایا خاموش رہو اللہ نے ایک بزرگ فرشتے سے تمہاری مدد فرمائی ہے۔ دوسرے اہل علم کا خیال یہ ہے کہ اس جملے کے مخَاطَب مسلمان ہیں۔ انھیں حکم دیا جارہا ہے کہ میں نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا ہے اب یہ بھیڑوں کا ریوڑ ہیں تم آگے بڑھو اور انھیں گاجر مولی کی طرح کاٹ کر ڈال دو ۔ ان کی گردنوں پر مارو، ان کے ایک ایک پور پر مارو، یہ مرعوبیت کے باعث تمہارے سامنے سر نہیں اٹھا سکیں گے کیونکہ جب کوئی آدمی حوصلہ ہار دیتا ہے تو اس کے اعصاب ڈھیلے پڑجاتے ہیں تو پھر جو شخص چاہے اس کی چندیا پر جوتے لگادے، اس کی کیسی ہی تحقیر و تذلیل کرے وہ مدافعت پر قادر نہیں ہوتا۔ اگلی آیت کریمہ میں فرمایا کہ کافروں کے دلوں میں رعب ڈالنے اور انھیں بےبسی کے ساتھ مارنے کا سبب یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے کے لیے اٹھے ہیں اللہ کے رسول کی دعوت نے پوری طرح ان پر اتمامِ حجت کردیا ہے انھیں اس بارے میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اس کے باوجود اللہ اور رسول کے مقابلے میں آنا ایک ایسی جسارت ہے جس پر کوئی عذر قابل قبول نہیں تو ایسے لوگوں کو دنیا میں بھی خطرناک سزاملتی ہے اور آخرت میں تو ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جس میں وہ سخت ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ تیسری آیت کریمہ میں قریش کو مخاطب کرکے فرمایا کہ جنگ بدر میں جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا یہ تھوڑا سا عذاب ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ عذاب کی پہلی قسط ہے۔ اگر تم اب بھی راہ راست اختیار کرلو تو تم بڑے عذاب سے بچ سکتے ہو اور اگر اپنے آپ کو بدلنے کے لیے تیار نہیں ہو تو پھر تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ نے کافروں کے لیے جہنم کا عذاب تیار کررکھا ہے۔
Ayahs 8:15–16

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تمہارا کفار سے مقابلہ ہو فوج کشی کی صورت میں تو پھر ان سے پیٹھ مت پھیرو

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

جو کوئی ان سے پیٹھ پھیرے اس دن مگر یہ کہ جنگ کے لیے پینترا بدلنا چاہتا ہو یا کسی جماعت کی طرف سمٹ رہا ہو تو وہ لوٹا اللہ کا غضب لے کر اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا زَحْفًا فَلاَ تُوَلُّوْھُمُ الْاَدْبَارَ ۔ ج وَمَنْ یُّوَلِّھِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَہٗٓ اِلَّا مُتَخَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْمُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَۃٍ فَقَدْ بَآئَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَمَاْوٰہُ جَھَنَّمُ ط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ (الانفال : 15، 16) (اے ایمان والو ! جب تمہارا کفار سے مقابلہ ہو فوج کشی کی صورت میں تو پھر ان سے پیٹھ مت پھیروجو کوئی ان سے پیٹھ پھیرے اس دن مگر یہ کہ جنگ کے لیے پینترا بدلنا چاہتاہویا کسی جماعت کی طرف سمٹ رہا ہو تو وہ لوٹا اللہ کا غضب لے کر اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔ ) عرب میں جنگ کے دو معروف طریقے عرب میں جنگ کے دو معروف طریقے تھے۔ ایک طریقہ تو وہ تھا جس میں باقاعدہ دو منظم فوجیں آمنے سامنے منظم طریقے سے لڑتی تھیں۔ ایسی جنگ میں عرب بھی بھاگ نکلنے کو عار سمجھتے تھے۔ جو قبیلہ بھی کسی منظم جنگ میں پشت دکھاتا اور بھاگ نکلتا تھا مدتوں تک وہ عربوں کے سامنے سر اٹھا کر نہیں چل سکتا تھا۔ شاعر ہجو کے ذریعے اس کا جینا مشکل کردیتے تھے۔ ان کے شعرا کی زبانیں شرم کی وجہ سے گنگ ہو کر رہ جاتی تھیں۔ ایسی ہی جنگ کے بارے میں یہاں فرمایا جارہا ہے کہ جب تمہاری کافروں سے ایسی کوئی جنگ ہو تو دیکھنا کبھی پشت نہ دکھانا اور جو شخص یا جو فوج ایسا کرے گی وہ اللہ کے غضب کی سزا وار ہوگی۔ مسلمان ہونے کے باوجود ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا اور یہ کون نہیں جانتا کہ جہنم کتنا بر اٹھکانہ ہے۔ البتہ ! اس میں دو باتوں کا استثناء کیا گیا ہے۔ 1: متحرفا لّقتال … 2: متحیزاً الی فئۃٍ یعنی پشت پھیرنا صرف دو حالتوں میں جائز ہے۔ تحرف کسی ایک جانب مائل ہونے کو کہتے ہیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ مسلمانوں کا کمانڈر محسوس کرتا ہے کہ دشمنوں کی فوجی ترتیب توڑنے کے لیے اپنی فوج کو قدم قدم پیچھے ہٹایا جائے جس سے دشمن اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجائے کہ مسلمان شاید پسپائی اختیار کرنے والے ہیں۔ اس کی صفیں بکھر کر مسلمانوں کو گھیرنے کی کوشش کریں تو جیسے ہی اس کی صفوں میں شگاف پڑے تو مسلمان یکبارگی حملہ کردیں ایسی پسپائی جو کسی جنگی چال کے لیے یا پینترا بدلنے کے لیے ہو اس کی اجازت دی گئی ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ مسلمان اپنی فوج کا ایک پہلو کمزور دیکھ کر اسے پیچھے ہٹنے کی ترغیب دیں اور اسے اس بازو کے ساتھ ملا دیا جائے جس کی طاقت اس سے بہتر ہو اور یا پیچھے سے کمک پہنچنے کے انتظار میں وقتی طور پر فوج کے کسی دستے کو پیچھے ہٹالیاجائے۔ یہ دوسری شکل ہے جسے اختیار کرنے کی اجازت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حرام صرف میدانِ جنگ سے فرار ہے لیکن میدانِ جنگ میں ایسی تبدیلی اور ایسی پہلو تہی جو بہتر جنگ کا پیش خیمہ ہو اس کی نہ صرف اجازت ہے بلکہ جنگی حکمت عملی کے تحت اس کی تحسین بھی کی جانی چاہیے۔ جنگ کی دوسری قسم گوریلا وار ہے۔ جسے عربی زبان میں ” کرّوفرّ “ کی جنگ کہتے ہیں۔ یہ منظم فوج کشی نہیں ہوتی بلکہ چھوٹے چھوٹے دستے دشمن کو پریشان کرنے کے لیے نکلتے ہیں یا جنگی فوائد حاصل کرنا پیش نظر ہوتا ہے۔ ان کے پیش نظر جم کر لڑنا نہیں ہوتا بلکہ وہ تیزی سے حملہ کرتے ہیں اور اپنا مقصد پورا کرکے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس کا کوئی مخصوص ضابطہ نہیں ہوتا۔ پس جس طرح کامیاب چھاپہ مارا جاسکے اور اپنے آپ کو بچایا جاسکے وہی اس کا اصلی ہنر ہے۔ یہ طریقہ اس وقت بھی رائج تھا اور آج بھی رائج ہے۔ کمزور قوتیں عموماً یہ طریقہ اختیار کرتی ہیں۔ اس میں پسپائی اور بھاگ کھڑا ہونا کہیں بھی عیب نہیں سمجھا جاتا۔ احکام میں تخفیف ان آیتوں میں پسپائی کی حرمت کے بارے میں اور جنگ کے پہلو تہی کے حوالے سے جو سخت احکام دیئے گئے ہیں یہ جنگ بد رکے زمانے کی بات ہے۔ ان احکام کا حاصل یہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہے کتنی بڑی تعداد سے مقابلہ درپیش ہو اور دشمن چاہے کتنا بھی زبردست کیوں نہ ہو کسی صورت بھی دشمن کے مقابلے سے بھاگنا بدترین حرام ہے۔ لیکن اس کے بعد سورة الانفال ہی میں تخفیف کے احکام نازل ہوئے۔ چناچہ آیت نمبر 66 میں فرمایا کہ اب اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے آسانی کردی اور تمہاری کمزوری کے پیش نظر یہ قانون جاری کردیا کہ اگر مسلمان سو آدمی ثابت قدم ہوں تو دو سو کفار پر غالب آسکیں گے اس میں اشارہ کردیا کہ اپنے سے دوگنی تعداد تک تو مسلمانوں کے ہی غالب رہنے کی توقع ہے اس لیے پشت پھیرناجائز نہیں ہاں ! فریقِ مخالف کی تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہوجائے تو ایسی حالت میں میدان چھوڑ دینا جائز ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) نے فرمایا کہ جو شخص اکیلا تین آدمیوں کے مقابل سے بھاگا وہ بھاگا نہیں ہاں جو دو آدمیوں کے مقابلہ سے بھاگا وہ بھاگنے والا ہے یعنی گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے۔ اب یہی حکم قیامت تک باقی ہے۔ جمہور امت اور ائمہ اربعہ کے نزدیک حکم شرعی یہی ہے کہ جب تک فریقِ مخالف کی تعداد دوگنی سے زائد نہ ہو اس وقت تک میدانِ جنگ سے بھاگنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔
Ayahs 8:17–18

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

پس تم لوگوں نے انھیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا ہے اور آپ نے نہیں پھینکی (مٹھی خاک کی) جس وقت آپ نے پھینکی لیکن اللہ نے پھینکی تاکہ کرے ایمان والوں پر اپنی طرف سے خوب احسان، بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

یہ جو کچھ ہوا سامنے ہے اور جان رکھو کہ اللہ سست کردے گا تدبیر کافروں کی

فَلَمَ تَقْتُلُوْھُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَھُمْ ص وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰیج وَلِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْہُ بَلَآئً حَسَنًاطاِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ ذٰلِکُمْ وَاَنَّ اللّٰہَ مُوْھِنُ کَیْدِ الْکٰفِرِیْنَ ۔ (الانفال : 17، 18) (پس تم لوگوں نے انھیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا ہے اور آپ نے نہیں پھینکی (مٹھی خاک کی) جس وقت آپ نے پھینکی لیکن اللہ نے پھینکی تاکہ کرے ایمان والوں پر اپنی طرف سے خوب احسان ` بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ یہ جو کچھ ہوا سامنے ہے اور جان رکھو کہ اللہ سست کردے گا تدبیر کافروں کی۔ ) آنحضرت ﷺ کی آستین سے دست غیب کے کارنامے ابنِ جریر طبری اور بیہقی وغیرہ نے حضرت عبداللہ ابن عباس سے یہ نقل کیا ہے کہ معرکہ بدر کے دن جب مکہ کے ایک ہزار جوانوں کا لشکر ٹیلہ کے پیچھے سے میدان میں آیا تو اپنی کثرت وقوت پر فخر کرتا اور اتراتا ہوا اور مسلمانوں کی کمزوری کا مذاق اڑاتا ہوا سامنے آیا۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے پروردگار کے سامنے دعا کے لیے ہاتھ پھیلادیئے کہ الہٰی یہ تیرے جھٹلانے والے قریش فخر وتکبر کرتے ہوئے آرہے ہیں۔ پس اب وہ فتح بھیج دے جس کا تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے۔ اس پر جبریلِ امین تشریف لائے اور عرض کیا کہ آپ ایک مٹھی خاک لے کر دشمن کے لشکر کی طرف پھینک دیں آپ نے ایسا ہی کیا۔ بعض روایات میں ہے کہ آپ نے تین مرتبہ مٹی اور کنکروں کی مٹھی بھری ایک لشکر کے داہنے حصے پر دوسری بائیں حصے پر اور تیسری سامنے کی جانب پھینکی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس ایک یا تین مٹھی بھر کنکریوں کو قدرت نے معجزانہ انداز میں اس طرح پھیلادیا کہ مخالف لشکر کا کوئی آدمی باقی نہ رہا جس کی آنکھوں میں اور چہروں پر یہ دھول اور کنکریاں نہ پہنچی ہوں۔ بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ آپ نے مٹھی خاک کی پھینکتے ہوئے یہ بھی فرمایا : شاھت الوجوہ (چہرے بگڑ جائیں) عربی میں یہ لعنت کا فقرہ ہے۔ ویسے بھی کسی کے اوپر خاک جھونکنا لعنت ہی کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔ آپ نے ان پر لعنت فرماتے ہوئے مسلمانوں کو یکبارگی حملہ کرنے کا حکم دیا۔ مسلمانوں نے جیسے ہی زور دار حملہ کیا دشمن کے پائوں اکھڑ گئے ایک بھگدڑ مچ گئی۔ مسلمانوں نے کافروں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنا شروع کیا۔ اور جو ہتھیار پھینک چکے تھے انھیں باندھنا شروع کردیا۔ ان واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کریم کہتا ہے کہ مسلمانوں کو اس فتح کی نسبت اپنی طرف نہیں کرنی چاہیے یہ فتح سراسر اللہ کی توفیق اور تائیدونصرت کا نتیجہ ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قریش مسلمانوں کے ہی ہاتھوں قتل ہوئے اور مٹھی خاک کی آنحضرت ہی نے پھینکی تھی۔ لیکن بعض مرتبہ فعل کی نفی سے مقصود نفس فعل کی نفی نہیں ہوتی بلکہ اس فعل کے ساتھ ان شاندار نتائج کی نسبت کی نفی ہوتی ہے جو اس فعل کے پردے میں ظاہر ہوں۔ مٹھی بھر نہتے مسلمانوں کے ہاتھوں قریش کے عظیم لشکر کا کٹ جانا اور آنحضرت ﷺ کے دست مبارک سے پھینکی ہوئی خاک کی ایک مٹھی کا طوفان بن جانا یہ وہ غیر معمولی نتیجہ ہے جو سراسر اللہ کی قدرت کا ظہور ہے۔ اللہ کے نبی کا تو ہر کام اللہ ہی کے دست غیب سے وجود میں آتا ہے اور اس کے حلق سے نکلا ہوا ہر بول اللہ ہی کا قانون کہلاتا ہے لیکن مسلمان بھی جب اپنا سب کچھ اللہ کی رضا کے حوالے کردیتے ہیں اور وہ سرتاسر اللہ کے دین کے دست وبازو بن جاتے ہیں تو اللہ کی قوت بھی ان کے ہاتھ، آنکھیں اور پائوں بن جاتی ہے وہ دیکھتے ہیں تو اسی کی قوت سے دیکھتے ہیں، پکڑتے ہیں تو اسی کی قوت سے پکڑتے ہیں چلتے ہیں، تو اسی کی قوت سے چلتے ہیں وہ اپنے کسی کارنامے کو اپنی طرف منسوب نہیں کرتے بلکہ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اسی سے عقیدہ توحید کی قوت کو جلا ملتی ہے۔ جب ہر مومن یہ سمجھتا ہے کہ پیغمبر کے معجزات بھی اللہ کی نصرت و تائید کا اظہار ہوتے ہیں اور مسلمانوں کے کارنامے بھی اللہ کی توفیق سے وجود میں آتے ہیں۔ اصل قوت اللہ کی قوت ہے اس سے اسباب کی بجائے مسبب الاسباب کا تصور دلوں میں راسخ ہوتا چلا جاتا ہے اور مومن بڑے سے بڑا کارنامہ سرانجام دے کر بھی کسی عجب میں کبھی مبتلا نہیں ہوتا۔ وَلِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْہُ بَلَآئً حَسَنًا (تاکہ کرے ایمان والوں پر اپنی طرف سے خوب احسان) بلٰی کے لفظی معنی ” امتحان “ کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کبھی مصیبت ومشقت میں مبتلا کرکے امتحان لیتے ہیں اور کبھی راحت و دولت دے کر آزماتے ہیں۔ راحت و دولت کی صورت میں امتحان یہ ہوتا ہے کہ جسے یہ نعمتیں نصیب ہوتی ہیں وہ اسے اپنی ذاتی قابلیت کا نتیجہ سمجھ کر فخر وناز میں مبتلا تو نہیں ہوجاتا۔ چناچہ یہاں اللہ نے اپنے جن انعامات کا ذکر فرمایا ہے اس کے بعد فرمایا کہ دیکھنا ان انعامات کو اپنی ذاتی قابلیت کا نتیجہ نہ سمجھ لینا اور انھیں اپنی طرف منسوب کرکے اللہ کی نصرت و تائید سے محروم نہ ہوجانا۔ یہی وہ مومنوں کی آزمائش ہے جو یہاں کی جارہی ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں فرمایا کہ یہ تو ہیں اللہ کے وہ احسانات جو غزوہ بدر کی نسبت سے تم پر ہوئے۔ لیکن ابھی تمہارا سفر رکنے والا نہیں ابھی اس کلی کو پھول بننے میں وقت لگے گا، ابھی اسلامی انقلاب کی منزل دور ہے، ابھی اس کشمکش میں بہت سے مراحل پیش آنے والے ہیں۔ اگر تم نے اپنے آپ کو اللہ کے انعامات کا مستحق ثابت کیا تو اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ کافروں کی ہر تدبیر کو کمزور سے کمزور تر کرتا چلاجائے گا۔ مسلمان اپنی غلطیوں سے مشکلات پیدا کریں تو اور بات ہے کافروں کی تدبیریں ان کا کچھ نہیں بگاڑسکیں گی کیونکہ اللہ کی تائید ونصرت ان کے ساتھ ہے۔
Ayah 8:19

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

اگر تم فیصلہ چاہتے ہو تو آگیا تمہارے پاس فیصلہ اور اگر تم باز آجائو تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اگر یہی کرو گے تو ہم بھی یہی کریں گے اور کچھ کام نہ آئے گی تمہارے تمہاری جماعت خواہ وہ کتنی زیادہ ہو اور جان لو کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآئَ کُمُ الْفَتْحُ ج وَاِنْ تَنْتَھُوْا فَھُوَ خَیْرٌلَّکُمْ ج وَاِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ ج وَلَنْ تُغْنِیَ عَنْکُمْ فِئَتُکُمْ شَیْئًا وَّلَوْ کَثُرَتْ لا وَاَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ ع (الانفال : 19) (اگر تم فیصلہ چاہتے ہو تو آگیا تمہارے پاس فیصلہ اور اگر تم باز آجاؤ تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اگر یہی کرو گے تو ہم بھی یہی کریں گے اور کچھ کام نہ آئے گی تمہارے تمہاری جماعت خواہ وہ کتنی زیادہ ہو اور جان لو کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے۔ ) آیت کا پس منظر اس آیت کریمہ کا پس منظر یہ ہے کہ قریش مکہ جب مسلمانوں کے استیصال کے لیے مکہ سے نکل رہے تھے تو لشکر کے سب سے فتنہ پرور آدمی ابوجہل نے بیت اللہ کا پردہ پکڑ کر کچھ دعائیں مانگیں جس کا ذکرہماری روایات میں موجود ہے۔ اس نے اپنی دعا میں یہ بھی کہا تھا یا اللہ دونوں لشکروں میں سے جو اعلیٰ اور افضل ہے اور دونوں جماعتوں میں جو زیادہ ہدایت پر ہے اور دونوں پارٹیوں میں سے جو زیادہ کریم وشریف ہے اور دونوں میں سے جو دین افضل ہے اس کو فتح عطا فرمادیجئے۔ یہ جاہل اور بیوقوف یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ مسلمانوں کے مقابلے میں اعلیٰ اور افضل بھی ہیں اور زیادہ ہدایت پر بھی۔ اس کی ایک دعا کے الفاظ تو یہ ہیں ” فریقین میں سے جو سب سے زیادہ قطع رحم کا مجرم ہوا ہے توکل اس کو کچل دے۔ “ چناچہ اس آیت کریمہ میں قریش مکہ کی انہی دعائوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے تمہاری دعا قبول کی تم نے اعلیٰ اور افضل اور ہدایت والے کے لیے فتح مانگی تھی چناچہ ہم نے اس فریق کو فتح دے دی جو اعلیٰ اور افضل بھی ہے اور ہدایت یافتہ بھی اور وہی تم میں کریم اور شریف بھی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر میں حق و باطل کا فیصلہ کردیا۔ اسی لیے جنگ بدر کے دن کو ” یوم الفرقان “ قرار دیا گیا۔ قریش مکہ سے کہا جارہا ہے کہ تمہیں اپنی دعا کے مطابق اس فیصلے کو قبول کرلینا چاہیے اور نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پر ایمان لے آنا چاہیے۔ لیکن اگر تمہاری سرکشی اب بھی رکنے والی نہیں اور خدائی فیصلہ کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہو تو پھر یاد رکھو کہ تمہاری سرکشی تمہیں لے بیٹھے گی اگر تم اب بھی رک جاؤ اور راہ راست پر آجاؤ تو تمہارے لیے بہتر ہے اور اگر تم نے پھر مسلمانوں پر لشکر کشی کی اور تم نے اپنی مخالفت اور معاندت کو جاری رکھا تو یاد رکھو ہم کہیں چلے نہیں گئے ہیں ہم یہیں ہیں تم اپنی عادتوں کی طرف لوٹو گے تو ہم بھی اپنی سنت کی طرف لوٹیں گے اور تمہارا سرکچلنے کے لیے پھر آموجو دہوں گے اور اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ تم آئندہ ایک بڑی افرادی قوت لے کر مسلمانوں پر حملہ کروگے تو یاد رکھو تمہاری قوت اور کثرت تمہارے کام نہیں آئے گی اور آخر میں ایک ایسا جملہ ارشاد فرمایا جو کافروں کی کمر توڑ دینے والا اور مسلمانوں کے لیے حوصلوں کا سرمایہ ہے۔ فرمایا : وَاَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ (اور بیشک اللہ مومنوں کے ساتھ ہے ) اس کے بعد کسی بات کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔
Ayah 8:20

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اس سے روگردانی نہ کرو اس حال میں کہ تم سنتے ہو

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓااَطِیْعُوْا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْہُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ ۔ ج (الانفال : 20) (اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اس سے روگردانی نہ کرو اس حال میں کہ تم سنتے ہو۔ ) منافقین کو خطاب گزشتہ دو رکوعوں میں ہم نے دیکھا کہ خطاب نبی کریم ﷺ سے رہا یا مسلمانوں سے روئے سخن تمام تر مسلمانوں سے متعلق رہا۔ مسلمانوں میں بیخبر ی یا انسانی کمزوری کے باعث اگر کوئی کمزوری پیدا ہوئی تو اس پر تنبیہ فرمائی۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ان کے اخلاص اور استقامت کا ثمر یہ دیا کہ مسلسل ان پر عنایات فرمائیں اور پھر ایک ایک عنایت کا تذکرہ بھی فرمایا اور مزید یہ کہ ان عنایات کی صورت میں جو باتیں پیش نظر رکھنے کی تھیں ان کی طرف بھی توجہ دلائی۔ جس سے عقیدے میں قوت پیدا ہوئی اور آئندہ ہمیشہ کے لیے اسلامی زندگی کو ایک راہنمائی میسر آئی۔ جب ہم مسلمانوں پر اللہ کی عنایات اور اس کے ابرکرم کو برستا ہوا دیکھتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ بدر اللہ کی نگاہ میں مقبول ترین لوگ ہیں یہ امت مسلمہ کا وہ ہر اول دستہ ہے جنھوں نے اپنے خون کی روشنائی سے تاریخ کا سنہری باب رقم کیا ہے اور اپنی استقامت سے حق و باطل میں فرقان بن گئے ہیں۔ قیامت تک کے لیے ان کا یہ کارنامہ درخشندہ وتابندہ رہے گا اور آنے والی نسلیں اس سے ہمیشہ حوصلہ پائیں گی۔ اہلِ بدر کی قربانی اور استقامت میں صرف یہی نہیں کہ اللہ سے فتح ونصرت کا انعام پایا ہے بلکہ آنحضرت ﷺ کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں مستقل مغفرت کے ساتھ ساتھ فضائل ورفعِ درجات کی ایسی بشارتیں ملی ہیں جس نے ان کا مقام و مرتبہ باقی تمام صحابہ سے بلند کردیا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ فتحِ مکہ کے لیے قریش مکہ پر لشکر کشی کی تیاریوں میں مصروف تھے تو آپ کی خواہش یہ تھی کہ ہماری تیاریوں کی خبر قریش مکہ تک نہ پہنچنے پائے تاکہ ہم اچانک مکہ پر حملہ آور ہوں اور انھیں سنبھلنے کا موقعہ دیئے بغیر مکہ فتح کرلیں۔ اس سے حرم کی حدود میں خون ریزی کا اندیشہ کم سے کم ہوجائے گا۔ لیکن اچانک ایک واقعہ پیش آیا جس نے صحابہ کرام کو مشتعل کردیا۔ واقعہ یہ ہوا کہ حاطب ابن بلتعہ ( رض) جو اصحابِ بدر میں سے تھے انھوں نے مکہ والوں کو ایک خط لکھا جو مکہ معظمہ جانے والی ایک عورت کے ہاتھ بھیجا۔ جس میں یہ اطلاع دی گئی تھی کہ نبی کریم ﷺ عنقریب تم پر حملہ آور ہونے والے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو وحی الہٰی کے ذریعے اس کی اطلاع دی گئی چناچہ آپ نے دو صحابہ کو اس عورت کے تعاقب میں بھیجا اور آپ نے بتادیا کہ وہ تمہیں فلاں جگہ جاتی ہوئی مل جائے گی۔ انھوں نے اسے جاپکڑا اور اس سے خط کے بارے میں پوچھا تو اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ حضرت علی ( رض) نے اسے دھمکی دی کہ اس بات میں تو شبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں کہ خط تمہارے پاس ہے کیونکہ اس کی اطلاع نبی کریم ﷺ ہمیں دے چکے ہیں۔ البتہ ! یہ ممکن ہے کہ تم نے ایسی جگہ چھپایا ہو جہاں انسانی نظر مشکل سے پہنچتی ہے تو ہمیں اس کے لیے اگر تمہیں برہنہ بھی کرنا پڑا تو ہم اس سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ اس نے جب دیکھا کہ یہ معاملہ ٹلنے والا نہیں تو اس نے اپنے سر کے بالوں میں چھپایا ہوا خط نکال کر ان کے حوالے کردیا اور اس نے بتایا کہ مجھے حاطب نے یہ خط دیا ہے۔ جب یہ بات یقینی ہوگئی کہ حضرت حاطب نے ایک ایسی غلطی کی ہے جو اسلامی ریاست سے غداری کے مترادف ہے تو حضرت عمر فاروق ( رض) نے آنحضرت ﷺ سے اجازت طلب کی کہ آپ مجھے اجازت دیں میں اسے قتل کردوں کیونکہ یہ شخص منافق ہے۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر فاروق ( رض) سے فرمایا کہ ” عمر ! تم کیا جانو کہ اللہ نے اہل بدر کو ایک نظر دیکھا اور فرمایا آج کے بعد تم جو چاہو کرو تمہیں کوئی گناہ نقصان نہیں دے گا۔ حاطب نے بڑا قصور کیا ہے لیکن وہ اہل بدر میں سے ہیں۔ وہ یقینا منافقین میں سے نہیں ہوسکتے “۔ حاطب ( رض) کو بلا کر پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ حضور میں ایک مخلص مسلمان ہوں میرے اخلاص میں کوئی شبہ نہیں میری اس غلطی کا سبب یہ ہے کہ میرے اہل خانہ ابھی تک مکہ معظمہ میں ہیں اور قریش کے رحم و کرم پر ہیں۔ میں نے قریش پر یہ ایک چھوٹا سا احسان کرکے یہ چاہا ہے کہ وہ میرے بچوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔ میرے اطلاع دینے سے انشاء اللہ اللہ تعالیٰ کی مشیت نہیں بدلے گی اور اسلامی کاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا البتہ یہ امید ضرور پیدا ہوجاتی ہے کہ اس احسان کے بدلے میں قریش میرے بچوں کی حفاظت کریں گے۔ اس واقعہ سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اہل بدر کا مقام و مرتبہ کیا ہے۔ ایک طرف تو یہ بات ذہن میں رکھئے اور دوسری طرف پیش نظر آیت کریمہ کا لب و لہجہ اور تنقیدی اسلوب جو اگلی آیات میں اور نکھر گیا ہے وہ بھی پیش نظر رکھئے تو خو بخود یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بظاہر یہ خطاب مسلمانوں سے ہے لیکن حقیقت میں یہ خطاب اہل بدر سے نہیں بلکہ مدینہ کے منافقین سے ہے۔ اہل بدر تو وہ ہیں جنھوں نے جنگ بدر میں اپنے ایمان کا ثبوت دیا لیکن مدینہ طیبہ میں اہل بدر کے ساتھ ساتھ جہاں کچھ دوسرے مخلص مسلمان ہیں وہیں ان کے ساتھ ایک محدود تعداد منافقین کی بھی ہے اور آیات کے اسلوب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منافقین وہ ہیں جو یا تو یہود میں سے آئے ہیں اور یا یہود کے زیر اثر ہیں۔ کیونکہ اگلی آیت کریمہ میں جن لوگوں کی مشابہت سے روکا گیا ہے وہ یقینا یہود ہیں۔
Ayah 8:21

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائو جنھوں نے کہا ہم نے سن لیا حالانکہ وہ سنتے نہیں

ارشاد فرمایا : وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ قَالُوْاسَمِعْنَا وَھُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ ۔ (الانفال : 21) (ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنھوں نے کہا ہم نے سن لیاحالان کہ وہ سنتے نہیں۔ ) یہود کی طرف اشارہ ہے اس آیت کریمہ میں جن لوگوں کی مشابہت سے روکا گیا ہے اور ان کی بطور خاص ایک صفت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ وہ صفت خود بول رہی ہے کہ اشارہ یہود کی طرف ہے کیونکہ قرآن کریم نے متعدد مواقع پر یہود کی اس عادت بد کا ذکر فرمایا کہ جب بھی ان کے پیغمبروں نے ان سے کہا کہ ” سنو اور اطاعت کرو “ تو وہ جواب میں کہتے ” سمعنا وعصینا “ سمعنا کو بلند آواز سے کہتے اور عصینا دبی آواز سے کہتے۔ جس کا معنی یہ ہے کہ ” ہم نے سن لیا اور ہم نے نافرمانی کی “ یا ممکن ہے یہ ان کے حال کی تصویر ہو کہ وہ زبان سے توسمعنا کہتے تھے کہ ہم نے آپ کا حکم سن لیا ہے لیکن اپنے عمل سے یہ ثابت کرتے تھے کہ ہم وہ لوگ ہیں جو سننے کے بعد عمل نہیں کیا کرتے بلکہ بعض دفعہ تو ان کی سنگدلی اور حق دشمنی اس انتہا کو پہنچ جاتی کہ وہ صاف کہتے کہ ہمارے دل غلافوں میں ملفوف ہیں تم جو کہتے ہو ہمارے دلوں میں اترتا نہیں۔ اس لیے ہم اس کے قبول کرنے سے معذور ہیں۔ یہاں ان کے اسی رویے کی طرف اشارہ فرما کر مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تم ان یہود کی طرح بننے کی کوشش مت کرو کہ وہ لوگ اپنے پیغمبروں کی تعلیمات اور تنبیہات کو سنتے ضرور تھے لیکن قبول نہیں کرتے تھے اور سننے سے مقصود اصل تو قبول کرنا ہی ہوتا ہے کیونکہ محض سننا اور پھر اس کا کوئی اثر قبول نہ کرنا یہ وہ چیز ہے جو حیوانیت کی سطح سے بھی گری ہوئی ہے کیونکہ حیوانوں میں سے جن جانوروں کو سدھایا جاتا ہے وہ نہ صرف سنتے ہیں بلکہ اس کے نتیجے میں وہی کچھ کرنے لگتے ہیں جو انھیں سکھایا جاتا ہے۔ انسانوں میں یہ طرز عمل صرف منافقین کا ہوتا ہے کیونکہ کافر تو سرے سے سنتاہی نہیں آپ اصرار کریں تو وہ سننے سے انکار کردیتا ہے بلکہ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ دوسروں کو بھی نہ سننے دیا جائے۔ لیکن منافق اپنے آپ پر پردہ ڈالنے کے لیے بظاہر قریب ہو کر سنتا ہے لیکن کسی بات کو دل میں اترنے نہیں دیتاکیون کہ اس کے دل اور زبان کے درمیان نفاق کی دیوار حائل ہوجاتی ہے۔ تو تم اگر یہی رویہ اختیار کرکے منافقت کے راستے پر چلنے کا ارادہ رکھتے ہو تو پھر سوچ لو تمہارا انجام بھی وہی ہوگا جو اس سے پہلے یہود کا ہوچکا ہے۔ وہ دنیا میں عبرت کے طور پر زندہ رکھے گئے ہیں لیکن انسانوں کا عجیب حال ہے بجائے ان سے عبرت حاصل کرنے کے ان کے راستے پر چلنا پسند کرتے ہیں حالانکہ یہ راستہ مسلمانوں سے تو فروتر ہے ہی انسانوں کی سطح سے بھی گرا ہوا ہے۔
Ayah 8:22

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

بیشک سب جانداروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ بہرے گونگے ہیں جو سمجھتے نہیں

اِنَّ شَرَّالدَّ وَآبِّ عِنْدَاللّٰہِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِیْنَ لَایَعْقِلُوْنَ ۔ (الانفال : 22) (بےشک سب جانداروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ بہرے گونگے ہیں جو سمجھتے نہیں۔ ) بدترین خلائق لایعقل جانور ہیں ” دَوَآبٌّ“ دابّۃٌ کی جمع ہے۔ اہل لغت کے نزدیک ہر زمین پر چلنے والے کو دابّۃ کہا جاتا ہے۔ مگر عرف ومحاورہ میں صرف چوپایہ جانوروں کو دابّۃ کہتے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے تمام حیوانات سے افضل پیدا فرمایا ہے۔ اس کی تخلیق احسن تقویم میں ہوئی ہے۔ اسے صلاحیتوں سے مالا مال کیا گیا ہے۔ اسے حواس خمسہ عطا فرمائے گئے ہیں۔ جس سے وہ محسوسات میں راہنمائی لیتا ہے۔ پھر اسے جوہرِ عقل عطا فرمایا گیا ہے جس سے حواس سے حاصل کردہ معلومات کو عقل کی قوت سے کام لے کر ایجادات واختراعات میں تبدیل کردیتا ہے اور اس طرح دنیا میں ایسا تنوع، ایسی رنگا رنگی اور ایسی جدت کو بروئے کار لاتا ہے جس سے انسانی زندگی حیوانیت سے بالکل الگ ہو کر اپنی وسعت اور ہمہ ہمی میں کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے اور پھر یہی وہ عقل ہے جو قوت تمیز بن کر خیر وشر کی شناخت میں انسان کو راہنمائی مہیا کرتی ہے۔ اللہ کے ہاں جزا وسزا کا ترتب اللہ کی عطا کردہ اسی قوت پر ہوتا ہے۔ تو جو شخص عقل سے کام نہیں لیتا اس کے لیے ناممکن ہے کہ وہ جہانِ خیر وشر میں کسی ایسے فیصلے تک پہنچ سکے جو دنیا اور آخرت میں خیر و فلاح کا باعث ہو۔ یہ وہ انسانی سطح ہے جو ہدایت و ضلالت کے حوالے سے پیغمبروں کی اصل مخاطب ہے۔ اس لیے جو آدمی اس سطح سے گر جاتا ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ حیوانیت کی سطح پر اتر گیا کیونکہ حیوان بھی اپنے پاس حواس کی دولت تو رکھتے ہیں۔ اسی کے نتیجے میں وہ اپنی زندگی کے معمولات انجام دیتے ہیں۔ زندگی کی ضروریات فراہم کرتے ہیں۔ بچوں کو پالتے ہیں۔ موسم کی شدت سے بچنے کے لیے اپنے بھٹ بناتے ہیں۔ لیکن جب کوئی شخص حواس کی سطح سے بھی نیچے گر جاتا ہے صحیح فیصلہ کرنا تو دور کی بات ہے وہ کسی بات کو نہ سنتا ہے اور نہ بولتا ہے یعنی کوئی اسے پکارتا ہے تو وہ سنتانھیں اور نہ خود کسی کو پکارتا ہے تاکہ کوئی اس کے کام آسکے۔ تو یہ وہ حیوان ہے جسے حیوانوں میں سے بھی بدترین قرار دیا گیا ہے۔ حیوانوں میں بھی عزت کے لائق وہی حیوان ہوتے ہیں جو اپنے مالک کی بات سنتے ہیں اور وہ حیوان جو گدھے کی طرح صرف ڈنڈے کی زبان سمجھتے ہیں وہ حیوانوں میں بھی حیوانوں جیسی عزت نہیں پاتے۔ مدارج کی اس تقسیم کی طرف اشارہ کرنے کے بعد فرمایا کہ جو منافقین اللہ کے رسول جیسی دلآویز شخصیت اور دل میں اتر جانے والے لب و لہجہ کو بھی سننے کے قابل نہیں سمجھتے اور اگر سنتے بھی ہیں تو سننے کے تقاضوں پر کان نہیں دھرتے۔ تو یہ تو ایسے حیوان ہیں جو حیوانی صفات سے بھی محروم ہیں اور ایسے انسان ہیں جو انسانی صفات سے محروم ہیں کیونکہ یہ بہرے بھی ہیں اور گونگے بھی۔ یہی حیوانی صفات ہیں اور یہ عقل سے کام نہیں لیتے یہ انسانی صفت ہے۔ ایسے لوگوں کو خود سوچنا چاہیے کہ اس روش کا آخر انجام کیا ہوگا ؟ کیونکہ انسانی زندگی کا آغاز ہی یہاں سے ہوتا ہے کہ انسان دوسروں کی سنے، دوسروں سے پوچھے اور سمجھے اور پھر اپنی حاصل کردہ معلومات سے عقل کے ذریعے کچھ اخذ کرنے کی کوشش کرے اور جہاں تک انسان کی اجتماعی زندگی کا تعلق ہے اس کا آغاز سمع و اطاعت سے ہوتا ہے تو اس اجتماعیت میں رہنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ اپنے نظم اور اپنے نظم کے سربراہ کی ہدایات کو سنیں، سمجھیں اور انھیں قبول کریں کیونکہ کوئی بھی اجتماعی نظم جسے دنیا میں اپنا وزن ڈالنا ہو اور جسے ایک مضبوط قوت بن کر اٹھناہو اور جس کے پیش نظر ایک صالح معاشرے کی تشکیل ہو اور جو خیر کی قوت بن کر دنیا کو راہ راست دکھانے کی فکر بھی رکھتاہو اس کی اصل قوت سمع و اطاعت میں مضمر ہوتی ہے۔ فوج ہر ملک کی منظم اور مضبوط قوت سمجھی جاتی ہے۔ اس کی تنظیم اور اس کی قوت کا راز کس بات میں ہوتا ہے ؟ صرف سمع اطاعت میں۔ کوئی سپاہی یا کوئی افسر فوج میں رہ کر اپنی مرضی کرنے کی عادت نہیں بنا سکتا۔ وہاں سب کو اپنے سے بالا کی بات سننا اور اطاعت کرنا پڑتی ہے اور اسی کے نتیجے میں ان کے اندر ایک ڈسپلن پیدا ہوتا ہے اور فوج کے تمام افراد ایک اکائی بن کر سیسہ پلائی دیوار میں ڈھل جاتے ہیں۔ ان تین آیتوں میں بنیادی طور پر یہی حقیقت واشگاف کی گئی ہے کہ ایک مضبوط قوت بننے کے لیے تمہیں اپنے اندر سمع اطاعت کی خو پیدا کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو تم حیوانوں کی ایک بھیڑتو بن سکتے ہو ایک مضبوط امت نہیں بن سکتے۔
Ayah 8:23

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ ان میں کچھ بھلائی جانتا تو ان کو ضرور سنا دیتا اور اگر بدوں بھلائی انھیں سناتا تو وہ ضرور بھاگ جاتے اس لیے کہ وہ ہیں ہی اعراض کرنے والے

وَلَوعَلِمَ اللّٰہُ فِیْھِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَھُمْ ط وَلَوْ اَسْمَعَھُمْ لَتَوَلَّوْا وَّھُمْ مُعْرِضُوْنَ ۔ (الانفال : 23) (اگرا للہ تعالیٰ ان میں کچھ بھلائی جانتا تو ان کو ضرور سنا دیتا اور اگر بدوں بھلائی انھیں سناتا تو وہ ضرور بھاگ جاتے اس لیے کہ وہ ہیں ہی اعراض کرنے والے ) سنت اللہ اس آیت کریمہ میں ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے جو ذہنوں میں پیدا ہوسکتا ہے۔ وہ اعتراض یہ ہے کہ یہاں منافقین کی جس عادت بد کا ذکر فرمایا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ ہر طرح کے خیر سے محروم ہوگئے ہیں وہ ان کانہ سننا ہے یا سن کر اثر قبول نہ کرنا ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے کام لے کر انھیں سننے کی طرف مائل کردے اور جو وہ سنیں ان کے دلوں میں اتاردے ؟ اس طرح سے وہ بنیادی رکاوٹ جو ان کی ہدایت کے راستے میں حائل ہے وہ دور ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس اعتراض کا جواب دینے کے لیے یا اس شبہ کو دور کرنے کے لیے اپنی ایک سنت اور قانون کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اللہ کا قانون یہ ہے کہ اس نے ہر انسان کو عقل اور قوت تمیز سے نوازا ہے پھر اس کی عقل کی رہنمائی کے لیے پیغمبر بھیجے اور کتابیں اتاری ہیں جو ان کے سامنے حق اور باطل کو پوری طرح واضح کرکے رکھ دیتے ہیں۔ حق کا حق ہونا دلائل سے ثابت کردیا جاتا ہے اور باطل کا باطل ہونا پوری طرح مبرّہن کردیا جاتا ہے جس آدمی کی عقل ہر طرح کے ٹیڑھ، الجھن، آلودگی اور جانب داری سے پاک ہے اس کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں رہتا ہے کہ حق مجھ سے کس بات کا تقاضا کرتا ہے۔ چناچہ اب اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ اسے حق کا ساتھ دے کر اللہ کے نبی پر ایمان لانا ہے یا باطل کا ساتھ دے کر خیر کی قوتوں کی مخالفت کرنی ہے۔ وہ اگر حق کی حمایت کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے حواس اور اس کی عقل میں توفیق کا چراغ جلا دیتا ہے وہ حق کی بات کو سنتابھی ہے اور سمجھتا بھی ہے۔ حق کے راستہ میں اس کے لیے کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہتی۔ لیکن اگر وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ مجھے باطل کا ساتھ دینا ہے اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کرنی ہے تو پروردگار اسے مہلت عمل دیتا ہے۔ اس کے نبی تبلیغ و دعوت میں تیزی پیدا کردیتے ہیں لیکن جب وہ پوری طرح اپنے بارے میں ثابت کردیتا ہے کہ اس کے اندر خیر کی ہر قوت دم توڑ چکی ہے اور خیر کے سوتے خشک ہوچکے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ اسے توفیق دینے کی بجائے اس کی محرومی کا فیصلہ کردیتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں بھی یہی فرمایا گیا ہے کہ اگر اس نے خیر کی قوتوں کو مفلوج نہ کردیا ہوتا اور بھلائی کے سوتے خشک نہ ہوگئے ہوتے تو ضرور اللہ تعالیٰ اسے حق کی آوز سناتا اور ضرور یہ حق کی آواز اس کے دل و دماغ میں اترتی لیکن چونکہ وہ اپنے آپ کو پوری طرح اس سے محروم کرچکا ہے۔ تو اب اگر اللہ تعالیٰ اسے زبردستی بھی سنائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کی روگردانی میں اور اضافہ ہوگا۔ اس کو مثال میں یوں سمجھئے کہ جب کسی شخص کا معدہ خراب ہوجاتا ہے اور اس میں ہضم کرنے کی قوت ختم ہوجاتی ہے تو آپ اسے جتنی بہتر سے بہتر غذا دینے کی کوشش کریں گے اتنا ہی معدہ اسے قبول کرنے سے انکار کرے گا۔ آپ اس کی کمزوری کو دیکھتے ہوئے اس کے لیے مرغن اور طاقت بخش غذائیں تجویز کریں گے لیکن اس کا معدہ چونکہ ہضم کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوچکا ہے اس لیے فوراً قے کر کے اسے نکال دے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مریض کی صحت پہلے سے بھی زیادہ بگڑ جائے گی۔