Ayahs 7:1–2الٓمّٓصٓ۔ کِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْکَ فَلَا یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہٗ لِتُنْذِرَ بِہٖ وَ ذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الاعراف : 1، 2)
(المص۔ یہ ایک کتاب ہے جو تمہاری طرف اتاری گئی ہے تو اس کے باعث تمہارے دل میں کوئی پریشانی نہ ہو ‘ تاکہ تم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ہوشیار کردو اور اہل ایمان کے لیے یاددہانی ہے)
مخالفتوں کے ہجوم میں آنحضرت ﷺ کو تسلی اور آپ کی دعوتی ذمہ داری کی حد
اس آیت کریمہ میں حرج کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ لغت میں حرج اس گھنی جھاڑی کو کہتے ہیں جس میں سے گزرنا مشکل ہو۔ دل میں حرج ہونے کا مطلب یہ ہوا کہ مخالفتوں اور مزاحمتوں کے درمیان اپنا راستہ صاف نہ پا کر آدمی کا دل آگے بڑھنے سے رکے۔ اسی مضمون کو قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ضیق صدر کے لفظ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ مثلاً
وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ (الحجر : 97)
(اے محمد ﷺ ! ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان سے تم دل تنگ ہوتے ہو)
یعنی تمہیں پریشانی لاحق ہوتی ہے کہ جن لوگوں کی ضد ‘ ہٹ دھرمی اور مخالفت حق کا یہ حال ہے انھیں آخر کس طرح سیدھی راہ پر لایا جائے۔
فَلَعَلَّکَ تَارِکٌم بَعْضَ مَا یُوْحٰیٓ اِلَیْکَ وَ ضَائِقٌم بِہٖ صَدْرُکَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْہٖ کَنْزُ اَْ جَآئَ مَعَہٗ مَلَکٌ (ھود : 12)
(تو کہیں ایسا نہ ہو کہ جو کچھ تم پر وحی کیا جا رہا ہے اس میں سے کوئی چیز تم بیان کرنے سے چھوڑ دو اور اس بات سے دل تنگ ہو کہ وہ تمہاری دعوت کے جواب میں کہیں گے اس پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتارا گیا اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا)
حرج کے معنی کی اس وضاحت سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہاں پروردگار آنحضرت ﷺ کو جس حرج سے بچانا چاہتے ہیں وہ اس وقت کے حالات کی پیدا کردہ وہ صورت حال ہے جس سے آنحضرت ﷺ دوچار تھے قریش مکہ کی جانب سے روز بروز مخالفت میں شدت پیدا ہوتی جا رہی تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اسلامی قوت کو بالکل کچل دینے کے لیے تیاری کر رہے ہیں انھوں نے اپنے دل تو اس دعوت کی طرف سے بند کر ہی لیے تھے ان کا گردو پیش بھی ان کے رویے سے متاثر ہو رہا تھا جس کے نتیجے میں طائف میں حضور کو جو صورت حال پیش آئی وہ اسلامی تاریخ کا ایک اندوہناک باب ہے۔ ان ناگفتہ بہ حالات میں حضور کی طبیعت میں بار بار ایک انقباض طاری ہوتا اور ایک اضطراب پیدا ہوتا تھا کہ ایسی بےپناہ مخالفتوں کے نرغے میں آخر یہ دعوت کس طرح کامیابی کا سفر جاری رکھ سکتی ہے اور میں ایک آخری رسول ہونے کی حیثیت سے نوع انسانی کی حالت کو بدلنے کا جو ارادہ رکھتا ہوں اس کے آخر امکانات کس طرح پیدا ہوسکتے ہیں۔ جبکہ بظاہر حالات میں اس کی کوئی گنجائش نظر نہ آتی تھی۔ آپ کو تسلی دیتے ہوئے پروردگار آیت کے پہلے حصے میں یہ فرما رہے ہیں کہ اے پیغمبر آپ نے پیغمبری خود مانگ کے نہیں لی یہ کتاب آپ پر آپ کی خواہش پر نہیں اتاری جا رہی اور جو ذمہ داریاں آپ پر عائد کی گئی ہیں آپ نے خود ان کی کبھی طلب نہیں کی جب یہ سب کچھ آپ کا خود اختیار کردہ نہیں ہے تو آخر اس کی تمام ذمہ داریاں آپ کے سر کیسے ہوسکتی ہیں اللہ نے خود آپ کو نبوت اور پیغمبری عطا فرمائی ہے وہی آپ پر یہ کتاب اتار رہا ہے اسی نے آپ کو اس کتاب کی تبلیغ و دعوت کے کام پر مامور کیا ہے اب اس راستے میں اگر ایسی رکاوٹیں حائل ہو رہی ہیں جس سے اس دعوت کے ناکام ہوجانے کے اندیشے پیدا ہوگئے ہیں تو اس کے لیے آپ کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ اللہ کا دین ہے اسی نے محض اپنے فضل و کرم سے اس کے پہنچانے کی ذمہ داری خود لے رکھی ہے۔ اسی نے آپ کو اس کام کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ اس لیے اس کام کے راستے میں حائل ہونے والے مشکلات کی فکر اگر ہونی چاہیے تو اسے ہونی چاہیے آپ کا کام تو ایک ذمہ داری ادا کرنا ہے اور اپنی ہمت کے مطابق انجام دینا ہے اگر اس کے بعد بھی یہ کام آگے نہیں بڑھتا تو آپ تو ہرگز اس کے ذمہ دار اور مکلف نہیں کیونکہ جس طرح نبوت آپ کو اللہ نے عطا کی ہے اسی طرح اس کے وسائل پیدا کرنے کی ذمہ داری بھی اس پر ہے۔ اسی کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ ناممکن حالات کو ممکن بنائے اور اس کے لیے ایسا کام کرنا کوئی مشکل کام نہیں جب اس کی حکمت کا تقاضا ہوگا تو وہ اپنی قدرت سے ان بند راستوں کو کھول دے گا۔ آپ کو فکر اس بات کی تو ضرور ہونی چاہیے کہ آپ اللہ کے دین کی دعوت کو کس طرح بندوں تک پہنچائیں لیکن اس کے لیے امکانات پیدا کرنا یا اس راستے میں پیدا ہونے والے خدشات سے فکرمند ہونا یہ ہرگز آپ کا کام نہیں یہ اسی کا کام ہے جس نے آپ کو یہ کام سونپا ہے کیونکہ ؎
اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا
مجھے فکرِجہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا
اس طرح سے آپ کو ایک تسلی دی جا رہی ہے اور آپ کے پریشاں دل پر اطمینان اور سکینت کا مرہم رکھا جا رہا ہے۔ یہی وہ اطمینان افزا آیات تھیں جن کے نزول سے اللہ کے نبی کو حوصلہ ملتا تھا اور آپ وہ کام کر گزرتے تھے جو بظاہر انسانی ہمت سے کہیں بڑھ کر تھا۔
اسی سلسلے میں دوسری فکر جو ہمیشہ آنحضرت ﷺ کو متأثر کرتی اور اندر ہی اندر آپ کو مضمحل کرتی رہتی تھی وہ یہ شدید احساس تھا کہ لوگ اگر ایمان نہیں لا رہے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ میری کاوشوں میں اور میری تبلیغ و دعوت میں کوئی کمی ہو۔ کہیں میرے انذار و ابلاغ میں کوئی ایسی کوتاہی ہو جس کی وجہ سے لوگ متأثر نہیں ہو رہے ہوں چناچہ اس تصور کے پیش نظر جیسے جیسے قریش مکہ کا آپ کی دعوت کی طرف سے انکار بڑھتا جا رہا تھا ویسے ویسے آپ کی یہ پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔ چناچہ آیت کے دوسرے حصے میں آپ کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ آپ اللہ کی طرف سے پیغمبر بنا کر بھیجے گئے ہیں آپ کا کام یہ ہے کہ آپ اللہ کے دین کو ٹھیک ٹھیک اس کے بندوں تک پہنچا دیں اور اس تبلیغ و دعوت میں آپ کی طرف سے کوئی تساہل ہونا چاہیے اور نہ کوئی کمی ہونی چاہیے رہی یہ بات کہ لوگ آپ کی دعوت پر ایمان کیوں نہیں لاتے تو آپ کی ہرگز یہ ذمہ داری نہیں کیونکہ آپ کا کام لوگوں تک دین پہنچانا ہے ان سے منوانا نہیں دل و دماغ اللہ کے قبضے میں ہے وہ جب چاہے اور جدھر چاہے انھیں پھینک سکتا ہے لیکن اس نے چونکہ انسان کو اختیار کی آزادی دے رکھی ہے اس لیے جب تک کوئی شخص اپنے اختیار سے دین کی طرف میلان اختیار نہیں کرتا اور اس دعوت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا اس وقت تک اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا نہیں فرماتے اس لحاظ سے یہ بات قریش مکہ کے سوچنے کی ہے کہ اللہ کے رسول جیسی دل آویز شخصیت اور آپ کی لسان نبوت سے ہدایت کا ابلتا ہوا سرچشمہ اور آپ کا بےمثال فصاحت و بلاغت لیے ہوئے پیغام اگر ان پر اثر انداز نہیں ہو رہا تو یہ تو ان کی فکر مندی کی بات ہے کہ یقینا ان میں کوئی خرابی ہے اور ان کے مزاجوں میں کوئی ٹیڑھ پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے وہ اس دعوت سے فائدہ نہیں اٹھا رہے۔ آپ کو اس سے ہرگز فکرمند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آپ کا کام انذار ہے اور اس میں بفضلہ تعالیٰ آپ نے کبھی کوئی کمی نہیں کی اس کے لیے آپ نے زندگی کا ایک ایک لمحہ صرف کیا ہے اور اپنی صلاحیتوں کا ایک ایک قطرہ نچوڑ دیا ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لا رہے تو اس آیت میں فرمایا گیا کہ یہ قرآن کریم تو ایک نصیحت ہے جو صرف اس آدمی کو نصیب ہوتی ہے جو ایمان لانے کے ارادے سے اس کی طرف بڑھتا ہے کیونکہ نصیحت تو اس دل میں دھیرے دھیرے اترتی ہے جو دل اپنے دروازے اس کے لیے کھولتا ہے اور جو اپنے کواڑ بند کرلیتا ہے غیور خدا کا یہ غیرت مند دین کبھی اس کے دروازے کا راستہ اختیار نہیں کرتا۔ یہ مکہ کے لوگ چونکہ اپنے اندر تبدیلی کا ادنیٰ سا ارادہ بھی پیدا نہیں کرسکے اور وہ اپنی جہالت کو نہ صرف کہ چھوڑنا نہیں چاہتے بلکہ انھیں اس پر ایک طرح سے ناز ہے۔ ایسی صورت حال میں اللہ تعالیٰ انھیں کیونکر ہدایت عطا فرما سکتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ اگر ایمان نہیں لائے تو اس کی ذمہ داری ان پر ہے آپ پر نہیں۔ اس لیے آپ اطمینان رکھیں ان کے ایمان نہ لانے کی باز پرس آپ سے ہرگز نہ ہوگی۔ اس لیے آپ کو پورے انشراح صدر سے اپنا کام جاری رکھنا چاہیے جس پروردگار نے آپ کو نبوت عطا فرمائی ہے وہ یقینا راستے کی مشکلات سے باخبر ہے پھر وہ ان کو دور کرنے پر چونکہ قادر بھی ہے اس لیے جب وقت آئے گا تو وہ ان موانع کو خود دور فرما دے گا۔ اس تمہید کے بعد اگلی آیت کریمہ میں اصل بات کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
Ayah 7:3ارشاد فرمایا :
اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئَ ط قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ ۔
(الاعراف : 3)
(لوگو ! جو چیز تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے ماسوا سرپرستوں کی پیروی نہ کرو بہت کم تم لوگ یاد دہانی حاصل کرتے ہو)
مشرکینِ قریش کو عذاب کی دھمکی
اس آیت کریمہ میں بعض اہل علم کا خیال ہے کہ خطاب مسلمانوں سے ہے لیکن سیاق کلام پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خطاب مسلمانوں سے نہیں بلکہ قریش مکہ سے ہے آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے بعد براہ راست پروردگار قریش مکہ سے خطاب کرتے ہوئے فرما ہے ہیں کہ تم نے اس دعوت کا راستہ روکنے کے لیے اب تک جو کچھ کیا وہ تمہارے نامہ عمل کو سیاہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اب تم پر عذاب کا کوڑا برسنا شروع ہوجائے لیکن آخری وارننگ کے طور پر تمہیں حکم دیا جا رہا ہے کہ جو کچھ تمہاری طرف نازل کیا جا رہا ہے اس کی پیروی کرو ‘ اسی میں تمہاری زندگی اور بقا ہے اور جن کو تم نے اللہ کے شریک بنا رکھا ہے ان کی پیروی مت کرو یہ خیالی اولیاء اور اصنام تمہارے کسی کام نہیں آسکتے۔ وہ نہیں جانتے تمہاری زندگی کی ضروریات کیا ہیں۔ وہ جس طرح تمہیں پیدا کرنے پر قادر نہیں اسی طرح تمہیں رزق بھی نہیں دے سکتے تمہاری زندگی کے الجھے ہوئے مسائل میں ان کے پاس تمہارے لیے کوئی حل نہیں وہ خیالی اور مصنوعی قوتیں ہیں وہ تمہیں زندگی میں کیا رہنمائی دے سکتی ہیں۔ رہنمائی تو وہ دے سکتا ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور جس نے تمہاری فطرت تخلیق فرمائی ہے جو تمہاری انفرادی اور اجتماعی ضرورتوں کو جانتا ہے جس کا علم بےپناہ ہے اور جس کی حکمت بےحد وسیع ہے جو تمہارے احساسات اور انفعالات کے ایک ایک گوشے سے واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ تمہارے احساسات سے لے کر تمہارے اعمال تک ہر چیز کی تعمیر کس چیز سے ممکن ہے اس لیے اگر چاہتے ہو کہ تمہارے گھر تمہیں آسودگی دیں اور تمہارا معاشرہ انسانوں کا معاشرہ بن جائے اور تمہارے سماج میں ہمدردی اور غمگساری کے پھول کھلیں اور تمہاری اجتماعیت مضبوط بنیادوں پر اٹھے اور اس کا در و بست مضبوط آداب کے ساتھ باندھا جائے۔ تمہارے حکمران فی الواقع تمہارے لیے چرواہے ثابت ہوں اور تمہارا ایک ایک فرد ایک دوسرے کے لیے توانائی کا باعث ہو تو پھر اللہ کے رسول پر ایمان لائو اور ان مصنوعی اولیاء سے اپنا تعلق توڑو اور جو کچھ اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اس کا اتباع کرو۔ اس کے بعد باانداز حسرت و افسوس فرمایا ہے قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ کہ تم ایسے بدنصیب لوگ ہو کہ تم پر آسمان سے رحمت کی صورت ہدایت اتر رہی ہے۔ ایک ایسا پیغام تم پر نازل کیا جا رہا ہے جس کی ایک ایک بات تمہارے لیے زندگی بخش ہے۔ تمہاری طرف ایک ایسا رسول بھیجا گیا ہے جس کی دیانت و امانت اور پاکیزہ زندگی کے تم خود گواہ ہو اور ایک ایسی کتاب تم پر اتاری جارہی ہے جس کا ایک ایک بول اپنے اندر معجزانہ شان رکھتا ہے اور جس کی فصاحت و بلاغت نے تمہارے بڑے بڑے فصحاء کی زبانیں بند کردی ہیں اور جس کا ہر لفظ تاثیر میں ڈوبا ہو ادلوں میں اترتا جا رہا ہے اس کے باوجود تم اگر ایمان نہیں لائے تو اس کے سوا کیا کہا جائے کہ تم نہایت بدنصیب لوگ ہو کہ ایسی یاددہانی اور ایسی نصیحت بھی تم پر اثر انداز نہیں ہو رہی اور کس قدر کم ہیں وہ لوگ جنھوں نے اس نصیحت سے اثر قبول کیا ہے ورنہ تمہاری اکثریت تو ایسے پتھروں پر مشتمل ہے جن پر نہ شبنم اثر کرتی ہے نہ بارش اثر انداز ہوتی ہے۔
اگلی آیت کریمہ میں اس دعوت اور اس تنبیہ پر کان نہ دھرنے کے نتیجے میں جو قیامت برپا ہوسکتی ہے اس کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔
Ayahs 7:4–5ارشاد ہوتا ہے :
وَکَمْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَھْلَکْنٰھَا فَجَآئَھَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْھُمْ قَآئِلُوْنَ ۔ فَمَا کَانَ دَعْوٰھُمْ اِذْ جَآئَھُمْ بَاْسُنَآ اِلَّآ اَنْ قَالُوْآ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 4، 5)
” اور کتنی ہی بستیاں ہوئی ہیں جن کو ہم نے ہلاک کردیا تو آیا ان پر ہمارا عذاب رات میں اچانک یا دن دہاڑے جب وہ دوپہر کے آرام میں تھے تو جب ہمارا عذاب ان پر آیا تو اس کے سوا وہ کچھ نہ کہہ سکے کہ بلا شبہ ہم ہی ظالم تھے “
معذب قوموں کی تاریخ سے استدلال
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے کفر ‘ مشرکوں کے شرک اور ان کی بدکرداریوں کا انجام بیان کیا ہے اور ساتھ ہی اس بات کا بھی ذکر فرمایا ہے کہ تم محض اس کو ایک نصیحت سمجھ کر نظر انداز نہ کردینا تمہارے رب کا یہ مستقل قانون رہا ہے کہ جب بھی لوگوں نے اللہ کے رسول کی دعوت کو قبول کرنے اور اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے سے انکار کیا ہے تو انھیں ہرچند سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن جب وہ اپنی ضد پر اڑے رہے تو پھر بالآخر اللہ کا عذاب ان پر ٹوٹا اور ان کو اس طرح تباہ کردیا گیا ہے کہ وہ بعد کے آنے والوں کے لیے عبرت کا نمونہ بن گئے۔ پھر اس عذاب کی ہولناکی کو بیان کرنے کے لیے فرمایا گیا کہ ہمارا عذاب کبھی رات کو آیا ‘ کبھی دن کو آیا۔ کوئی سا لمحہ بھی اس کے عذاب کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتا وہ جب چاہے کسی نافرمان قوم کو رات کو پکڑ لیتا ہے اور سوتے میں فنا کردیتا ہے اور جب چاہے تو دن دہاڑے اس کا عذاب آتا ہے اور کوئی اسے روکنے والا نہیں ہوتا۔ اس میں قاء لون کا لفظ استعمال ہوا ہے یہ قیلولہ سے ہے۔ ہمارے یہاں یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ قیلولہ کا معنی دوپہر کو سونا ہے حالانکہ سونا اس کے لوازم میں سے نہیں ہے بلکہ اس کا معنی دوپہر کو آرام کرنا ہے۔ عرب کا ملک چونکہ گرم ملک ہے اس وجہ سے وہاں دوپہر میں لوگ مجبور ہوتے ہیں کہ اپنے اپنے مقاموں ‘ ڈیروں ‘ خیموں اور باغوں میں دوپہر کو آرام کریں یہاں اس کا ذکر صرف اس لحاظ سے کیا جا رہا ہے کہ جس طرح رات کو سونے والوں پر عذاب آتا ہے اسی طرح دن دہاڑے جاگنے والوں اور خوش گپیاں کرنے والوں اور دوپہر کو آرام کرنے والوں پر بھی آتا ہے۔ بگڑے ہوئے لوگوں کی چونکہ راتیں جاگتی ہیں اور عموماً دن سویا کرتے ہیں۔ شاید اس کی طرف بھی اشارہ کیا جا رہا ہے کہ تم اپنی بدمستیوں اور نافرمانیوں میں کسی حال میں بھی اور کسی وقت بھی اللہ کے عذاب سے مامون نہیں ہو۔ اس نے تمہیں ایک مہلت عمل دے رکھی ہے وہ محض اپنی رحمت سے اس میں ڈھیل دیتا رہتا ہے کہ شاید تم اپنی بدکرداریوں سے توبہ کر کے راہ راست اختیار کرلو لیکن اگر تم نے اپنی روش ترک نہ کی تو اللہ کا یہ قانون ضرور حرکت میں آئے گا کہ تم اللہ کے عذاب کے شکار ہوجاؤ اور اگر تمہیں ہمارے رسول کی بار بار تنبیہات کے باوجود بھی یقین نہیں ہو رہا کہ تم پر اللہ کا عذاب آسکتا ہے تو تم اپنے گردوپیش میں پھیلی ہوئی ان بستیوں کو دیکھ لو جو اللہ کے عذاب سے تباہ ہوچکی ہیں۔ تم اپنے تجارتی اسفار میں ان بستیوں کے کھنڈرات سے گزرتے ہو اور پھر ان پر گزرنے والی قیامت کی تفصیلات سینہ بہ سینہ تم تک پہنچ چکی ہیں۔ تمہارے عام افراد بھی ان کی تاریخ سے واقف ہیں اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ جس طرح تم پر اللہ کا رسول آیا ہے اسی طرح ان قوموں کی طرف بھی ان کی ہدایت کے لیے اللہ کی طرف سے رسول آئے تھے اور پھر جب انھوں نے وہی رویہ اختیار کیا جو تم اختیار کرچکے ہو تو پھر ان پر اللہ کا عذاب آیا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ جس طرح آج تمہارے عجب اور تکبر کا عالم یہ ہے کہ تم اللہ کے رسول کی دعوت پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہو بلکہ تم اللہ کے رسول اور مسلمانوں کے ساتھ نہایت ذلت آمیز رویہ اختیار کرنے سے بھی جھجھکتی نہیں ہو۔ لیکن جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم جیسے بگڑے ہوئے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس وقت عذاب سے بچنے کے لیے اپنے جرائم کا بار بار اعتراف کیا جاتا ہے اور دہائی دی جاتی ہے کہ یا اللہ ہم اعتراف کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی زندگیوں میں بہت ظلم کیا ہم نے خود اپنے آپ پر بھی ظلم ڈھایا کہ ہمیں بار بار ہدایت کی جاتی رہی لیکن ہم نے ہمیشہ اس سے اعراض کیا۔ اگر ہمیں موقع دیا جائے تو ہم اپنی اصلاح کرنے کو تیار ہیں لیکن اللہ کا عذاب جب آتا ہے تو پھر وہ اس آہ وزاری پر بھی رکتا نہیں۔ عذاب کا شکار لوگ ہزار منت سماجت کریں اور رونے دھونے سے بیشک آسمان سر پر اٹھا لیں لیکن ان کی آہ وزاری پر اس لیے توجہ نہیں فرمائی جاتی کہ چونکہ تم نے اللہ کے رسول کی دعوت پر توجہ نہیں کی تھی آج تمہاری گریہ وزاری پر کوئی توجہ نہیں کی جائے گی۔ اس لیے یہاں بتایا جا رہا ہے کہ جن معذب قوموں کے تم کھنڈرات سے گزرتے ہو ان پر جب اللہ کا عذاب آیا تھا تو انھوں نے ہرچند اپنے گناہوں اور اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور اللہ سے معافیاں مانگیں لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی اور وہ فناکر دیئے گئے تم بھی اسی صورت حال سے دوچار ہونے والے ہو وہ وقت دور نہیں جب تمہاری یہ سب اکڑ فوں نکل جائے گی اس لیے اگر تم اپنی جان کے دشمن نہیں ہوگئے ہو اور تم نے اپنی نسلوں کو تباہ کرنے کا ارادہ نہیں کرلیا ہے تو آج اپنا رویہ بدلنے کی کوشش کرو۔ آج بدل جاؤ گے تو سب کچھ بچ جائے گا اور نہیں بدلو گے تو کل کو تمہارے آنسو بھی کام نہیں آئیں گے اور تم اپنے جرم کا اعتراف بھی کرو گے تو یہ اعتراف بھی تمہارے لیے سودمند نہیں ہوگا۔
اللہ کے رسول جس قوم کی طرف مبعوث ہوتے ہیں اسے بالعموم دو چیزوں سے ڈراتے ہیں ایک ان کی پاداش عمل میں اچانک آنے والے عذاب سے اور دوسرے قیامت کے دن اللہ کے سامنے جواب دہی سے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی سزا سے چناچہ یہاں تک ذکر اس عذاب کا ہوا ہے جو کسی وقت بھی قریش مکہ یا مشرکینِ مکہ پر آسکتا ہے اور اس طرح کے عذاب پہلے کئی قوموں پر آچکے ہیں جو اصلاً اس بات کی خبر دیتے ہیں کہ یہاں انسان خود رو گھاس کی طرح پیدا نہیں ہوا کہ پائوں سے مل دل کے ختم ہوجائے بلکہ اس کا ایک آقا ہے جس نے اسے ایک مقصد زندگی دے کر دنیا میں بھیجا ہے یہ جب تک اس مقصد زندگی کے مطابق اجتماعی ذمہ داریوں کو ادا کرتا ہے تو وہ دنیا میں ہر لحاظ سے پھلتا پھولتا اور آسودگی سے زندگی گزارتا ہے لیکن جب وہ اللہ کے احکام سے اجتماعی طور پر انکار کرنے لگتا ہے اور پھر اس کا انکار اللہ کے خاص قانون کی حدود سے ٹکرانے لگتا ہے اور اللہ کی مشیت کی برداشت سے آگے بڑھ جاتا ہے تو پھر اس پر اللہ کے عذاب کی گرفت آتی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب تک قومیں انفرادی بداعمالیوں کا شکار رہتی ہیں لیکن اجتماعی طور پر اللہ کی حدود کو پامال نہیں کرتیں یا اجتماعی طور پر اللہ کے رسول اور اس کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار نہیں کرتیں تو اللہ ایسی قوموں کو برداشت کرتا ہے اور ان کا معاملہ صرف آخرت پر چھوڑتا ہے لیکن جب وہ اجتماعی زندگی میں حد سے آگے بڑھ جاتی ہیں تو پھر اس کائنات کا حقیقی شہنشاہ ان نام نہاد زمین کے باسیوں اور اس کے حکمرانوں پر عذاب کے ذریعے گرفت کرتا ہے اور انھیں دنیا سے مٹا کر اپنی زمین ان سے بہتر لوگوں کے حوالے کردیتا ہے اور پھر وہ ایک مدت تک آزمائش کے ترازو میں تلتے رہتے ہیں۔ شاید یہی وہ بات ہے جس کا اقبال مرحوم نے ذکر کیا ہے ؎
فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے
مگر کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف
چناچہ ان آیات میں اب تک قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ نے قریش مکہ کو اللہ کے اس عذاب سے ڈرایا اور پہلے جو قومیں اس عذاب کا شکار ہوچکی ہیں ان کی تاریخ کے حوالے سے انھیں یقین دلانے کی کوشش کی اب اگلی آیت میں قیامت کے عذاب سے اور قیامت کی باز پرس سے ڈرایا جا رہا ہے کہ جو لوگ اپنی بداعمالیوں کے باوجود اس اچانک عذاب سے بچے رہتے ہیں وہ قیامت کے دن جواب دہی کے لیے پیش ہوں گے اور جو لوگ اس عذاب کا شکار بھی ہوتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ ان کے جرائم کی پوری سزا ہے بلکہ اس کی حیثیت تو بالکل ایسی ہے کہ جیسے کوئی مجرم چھوٹا پھر رہا تھا اور اچانک گرفتار کرلیا گیا اور مزید ظلم و فساد کے مواقع اس سے چھین لیے جائیں۔ تاریخ انسانی اس قسم کی گرفتاریوں کی بیشمار نظیروں سے بھری پڑی ہے لیکن اصل بازپرس تو آخرت اور قیامت کی باز پرس ہے یہ لمحوں میں گزرنے والا عذاب اس باز پرس کا حق ادا نہیں کرتا لیکن قیامت کی باز پرس کے نتیجے میں پھر ایک لمبی سزا سے اور دائمی عذاب سے واسطہ پڑنے والا ہے جس کا اگلی آیات میں ذکر کیا جا رہا ہے۔
Ayahs 7:6–7ارشاد فرمایا :
فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْھِمْ وَلَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْھِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا کُنَّا غَآئِبِیْنَ ۔ (الاعراف : 6، 7)
” سو یاد رکھو ہم ان لوگوں سے پرسش کریں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور خود رسولوں سے بھی ہم استفسار کریں گے پھر ہم ان کے سامنے سب بیان کریں گے پورے علم کے ساتھ اور ہم کہیں غائب نہیں رہے “۔
انذار کی تفصیل
سب سے پہلے ان آیات کے اسلوب پر غور کیجیے کہ اس کے تیور کس قدر تیکھے ہیں یہ تصور دیا جا رہا ہے کہ ذرا اس وقت کو ذہن میں تازہ کرو جب تم سب اپنی ان تمام بےایمانیوں اور بد اعمالیوں سمیت اور اپنے تمام پندار اور تکبر و غرور کا سرمایہ ساتھ لیے ہوئے اللہ کے سامنے بےبسی کے حالت میں کھڑے ہو گے اور وہ تم سے تمہاری ایک ایک بات اور تمہاری ایک ایک حرکت کے بارے میں سوال کرے گا آج جبکہ تم اپنے اقتدار کے نشے میں اور اپنی طاقت کے گھمنڈ میں بڑی سے بڑی بات کہنے اور ہولناک سے ہولناک ظلم ڈھانے سے دریغ نہیں کر رہے اللہ کے رسول کی عظیم اور دلآویز شخصیت بھی تمہیں گستاخیوں سے روکنے کے لیے کافی نہیں اور ان پر ایمان لانے والوں کے لیے تم نے عذاب کی بھٹیاں سلگا رکھی ہیں۔ بلال جیسے وفا شعاروں کے لیے تمہارے پاس رحم و مروت کا نام تک نہیں ‘ خباب جیسے سرفروشوں کے لیے تمہارے پاس دہکتے انگاروں کے بستر ہیں جن پر تم انھیں لٹا کر ان کے ایمان کا امتحان لیتے ہو۔ تم ایک سے ایک بڑی ظالمانہ حرکت کرتے ہو لیکن تمہارے ضمیر میں خلش تک نہیں ہوتی۔ لیکن اس دن جب تمہیں اللہ کے سامنے کھڑا ہونا پڑے گا تو تم خود اپنی نگاہوں سے تصور میں اپنا ایک ایک ظلم دیکھو گے تمہیں اپنی ایک ایک بات یاد آئے گی جس سے تم نے اللہ کے رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کی دل آزاری کی تھی اور جو تم بارگاہ اقدس میں گستاخیاں کرتے رہے تھے اب پروردگار پورے جلال سے تمہارے ایک ایک عمل کی تم سے باز پرس کرے گا اور وہ تم سے پوچھے گا کہ دیکھو ہمارے رسول نے جس طرح خون جگر پی پی کر تمہیں سمجھانے اور اللہ کا دین پہنچانے کی کوشش کی تم نے اس کے جواب میں کیا رویہ اختیار کیا۔ سوچ لو اس وقت تمہاری کیا حالت ہوگی اور تم اپنے موجودہ رویے کا کیا جواب پیش کرسکو گے اور پھر اس کے بعد اگلے جملے سے اللہ کے مزید جلال کا اظہار ہوتا ہے کہ وہاں سوال ان مجرموں سے تو ہوگا ہی خود اللہ کے نبیوں سے بھی پوچھا جائے گا جس کا ذکر دوسری جگہ قرآن کریم میں یہ کہہ کر فرمایا گیا ہے۔ یَوْمَ یَجْمَعِ اللہ ُ الرُّسُلَ مَاذَا اُجِبْتُمْ ” جس دن اللہ تمام رسولوں کو جمع کرے گا پھر پوچھے گا تمہیں کیا جواب ملا “ یعنی ایک طرف تو ان مجرموں سے جواب طلبی ہوگی لیکن اللہ کے جلال کا کیا ٹھکانہ ہے کہ خود اللہ کے رسول بھی جواب طلبی کی زد میں ہوں گے اور وہ اس قدر اللہ کے جلال سے کانپ رہے ہوں گے کہ صرف یہ کہہ کر چپ ہوجائیں گے کہ یا اللہ ہم جن لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے ان کے رویے کی پوری کیفیت سے ہم پوری طرح واقف نہیں کیونکہ ان کی اندرونی باتیں اور ان کی پوشیدہ حرکتیں اور ان کے بعد کے آنے والی نسلوں کا رویہ وہ تو ہم نہیں جانتے کیونکہ غیبوں کے جاننے والے تو آپ ہی ہیں حالانکہ رسولوں سے جو بات پوچھی جائے گی اس کا تعلق ان کی اپنی زندگی سے نہیں نہ ان کی ذمہ داریوں سے ہے بلکہ صرف ان کی امتوں کے بارے میں ان سے پوچھا جائے گا کہ انھوں نے تمہاری دعوت سے کیا سلوک کیا لیکن وہ چونکہ اللہ کے جلال کی حقیقت سے واقف ہیں اس لیے وہ کھل کے بات کہنے کی ہمت نہیں کرسکیں گے بلکہ احادیث میں قیامت کی جو تفصیلات ہمیں ملتی ہیں اس سے جو صورت حال سامنے آتی ہے اس کو تو محسوس کر کے ہی پتہ پانی ہونے لگتا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن جب لوگ حساب کتاب کے انتظار میں کھڑے ہوں گے تو ان کی کیفیت یہ ہوگی کہ ہر شخص اپنے پسینے میں ڈوبا ہوگا اور اللہ کے جلال کی وجہ سے ایک ایسی ہیبت طاری ہوگی کہ کوئی شخص نہ بولنے کی ہمت کرے گا نہ دائیں بائیں دیکھنے کی ہمت کرے گا جب یہ انتظار ناقابل برداشت ہونے لگے گا تو کچھ لوگ اپنے اپنے انبیاء و رسل کی طرف رجوع کریں گے کہ آپ اللہ سے دعا کریں کہ کم از کم حساب کتاب تو شروع ہو لیکن ہر رسول اور پیغمبر اللہ کے جلال سے خوف زدہ ہونے کے باعث زبان کھولنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ بالآخر سب آنحضرت ﷺ سے گزارش کریں گے کہ آپ اللہ سے دعا فرمائیں اور شفاعت کریں کہ وہ اپنی مخلوق کا حساب شروع کرے تب حضور فرماتے ہیں کہ میں کچھ کہنے کی بجائے سرسجدے میں رکھ دوں گا اور اب میں نہیں جانتا کہ میں کن کلمات کے ساتھ اللہ کی حمد وثناء کروں گا اس وقت وہ کلمات اللہ میرے دل میں ڈالے گا اور ان کے ذریعے سے میں اپنے اللہ کو پکاروں گا۔ دیرتک سجدے میں پڑے رہنے کے بعد اللہ کی طرف سے آواز آئے گی کہ اے محمد ﷺ ! سر اٹھائو ‘ مانگو ہم عطا کریں گے۔ تب حضور ساری امتوں کے لیے حساب کتاب شروع کرنے کی شفاعت فرمائیں گے۔ یہی وہ شفاعت کبریٰ کا مقام ہے جس پر ہمارے رسول پاک کو فائز کیا جائے گا لیکن اس صورت حال سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس دن اللہ کے جلال کی کیفیت کیا ہوگی ؟ چناچہ لوگوں سے جب ان کا حساب لیا جائے گا تو نہ صرف کہ بارگاہ ایزدی میں ان سے باز پرس ہوگی بلکہ جہنم میں انھیں ڈالتے ہوئے جہنم کے داروغے بھی ان سے پوچھیں گے کہ آج تمہیں جس طرح عذاب کے حوالے کیا جا رہا ہے ذرا بتلائو تو سہی کہ تمہاری طرف اللہ کے رسول تمہیں ہدایت دینے کے لیے نہیں آئے تھے چناچہ قرآن کریم میں اس کی تفسیر اس طرح بیان کی گئی ہے :
کُلَّمَا اُلْقِیَ فِیْھَا فَوْجٌ سَأَلَھُمْ خَزَنَتُھَا اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَذِیْرٌ قَالُوْا بَلٰی قَدْ جَآئَنَا نَذِیْرٌ فَکَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللہ ُ مِنْ شَیْئٍ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ کَبِیْرٍ وَقَالُوْا لَوْ کُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا کُنَّا فِیْٓ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْبِھمْ فَسُحْقًا لاِّ َصْحٰبِ السَّعِیْرِ
” جب جب ان کی کوئی بھیڑ دوزخ میں جھونکی جائے گی اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ہوشیار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟ وہ کہیں گے ہاں ہمارے پاس ایک ہوشیار کرنے والا آیا تو تھا پر ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ خدا نے کوئی چیز بھی نہیں اتاری ہے ‘ تم تو ایک بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔ وہ اعتراف کریں گے کہ اگر ہم سنتے سمجھتے ہوتے تو جہنم میں پڑنے والے نہ بنتے۔ پس وہ اپنے جرم کا اقرار کریں گے تو لعنت ہو ان دوزخیوں پر “ (الملک : 8-11)
اگلی آیت کریمہ میں اس دن کی کیفیت کو اور پر جلال بنادیا گیا ہے مقصد یہ ہے کہ اگر آج اس کے پڑھنے والے پوری طرح اس کا ادراک کرلیں تو بہت ممکن ہے وہ راہ راست اختیار کرلیں ورنہ اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ یہ محض سخن آرائی نہیں بلکہ ایک حقیقت کا بیان ہے کہ اس دن کافروں کو ایسی ہی صورت حال سے دوچار ہونا ہوگا بلکہ اگر یہ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو کہ اس دن کے ہولناک منظر کا پورا نقشہ تو شاید الفاظ ادا کرنے سے ویسے بھی قاصر ہوں کیونکہ کسی زبان میں بھی ابھی تک وہ وسعت پیدا نہیں ہوسکی جس میں پوری طرح اس دن کی ہولناکی کا نقشہ کھینچا جاسکے۔ ذرا اندازہ فرمایئے جب اللہ تعالیٰ عدالت کی مسند پر پورے جلال سے جلوہ افروز ہوں گے اور کافر مجرموں کی صورت اس عدالت میں اپنے کرتوتوں کو سامنے پا کر آنے والے انجام کا تصور کر کے کانپ رہے ہوں گے تو زیادہ سے زیادہ اس سے بچنے کی کوئی ہلکی سی امید ہوسکتی ہے یا عذاب میں تخفیف کی اگر کوئی کوشش کی جاسکتی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ اپنے جرائم کو ماننے سے انکار کردیا جائے یا جھوٹ بول کر اپنے جرائم کی شدت کو کم کر کے دکھایا جائے لیکن اللہ فرماتا ہے کہ تم ایسی کوئی کوشش بھی کرنے کی جرأت نہیں کرسکو گے کیونکہ ہم تمہاری سخن سازی سے پہلے ہی ایک ایک بات کو کھول کھول کر بیان کردیں گے کیونکہ تمہاری کوئی بات بھی ہمارے علم سے مخفی نہیں ہے اور تمہارا کوئی کام بھی ایسا نہیں کہ جب تم وہ کام کر رہے تھے تو ہوسکتا ہے کہ تاریکی اور تنہائی میں تمہاری اپنی ذات بھی اس سے پوری طرح باخبر نہ ہو اور تمہاری نگاہیں اس سے نہ دیکھ سکیں لیکن اللہ کی ذات تو اس سے پوری طرح باخبر ہے کیونکہ اللہ فرماتا ہے کہ تم نے اپنی زندگی میں جو کچھ کیا ہے تم نے یہ سمجھ کے کیا ہے کہ شاید تمہارے ان کاموں کو حالات کی رفتار فنا کر دے گی اور وقت اس پر غبار ڈال کے آگے نکل جائے گا لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم جب بھی کوئی کام کرتے ہو اور جس حال میں بھی ہوتے ہو اللہ تم سے غائب نہیں ہوتا۔ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم برابر تمہارے ایک ایک عمل سے واقف رہے ہیں اور تمہارے کسی کام کے وقت بھی ہم وہاں سے غیر حاضر نہ تھے پھر ان کو اپنے علم و خبر کے مطابق ایک ایک بات کھول کھول کے بتائی جائے گی جہاں ان کی زندگی کا روزنامچہ ان کے سامنے کھول دیا جائے گا وہاں اللہ کے رسولوں نے جس طرح حق ابلاغ ادا کیا اور ان کی تکذیب کرنے والوں نے جس طرح جان بوجھ کر ان کی تکذیب کی اور انھوں نے جس طرح اپنے خون سے ہدایت کے دیپ جلائے اور انھوں نے جس طرح روشنی کے سامنے آنکھیں بند رکھیں انھوں نے جس طرح ان کی اذیتیں خندہ پیشانی سے برداشت کیں اور ان کی گالیاں سن کر دعائیں دیتے رہے ایک ایک چیز ان کے سامنے کھول کھول کر بیان کردی جائے گی۔ آج شاید اس کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہو کہ ایسی صورت حال میں ان کافروں کی کیفیت کیا ہوگی اور وہ خوف و دہشت کے کس عالم سے گزر رہے ہوں گے۔
مشرکینِ مکہ کی ایک خاصی بڑی تعداد قیامت ہی کی منکر تھی لیکن جو لوگ قیامت کے آنے کو ممکن سمجھتے تھے ان کے لیے بھی یہ بات سمجھنا بہت مشکل تھی کہ اربوں کھربوں مخلوق کو کس طرح بیک وقت زندہ کردیا جائے گا ؟ اور اگر زندہ کر بھی دیا جائے تو اتنی بڑی تعداد کا حساب لینا کس طرح ممکن ہوگا ؟ اور پھر یہ بات تو ان کے لیے اور بھی حیران کن تھی کہ ہم نے زندگی بھر جو اعمال کیے ہیں جو شاید ہمیں بھی پوری طرح یاد نہ ہوں ان میں سے ایک ایک بات کی باز پرس کیسے ہوگی ؟ اور ایک ایک عمل کس طرح ہمارے سامنے لایا جاسکے گا ؟ یعنی قیامت میں جواب دہی کا پورا طریق کار اور اس کی پوری تفصیلات ان کے لیے ناقابل یقین تھیں اور اس لیے وہ ہمیشہ ان کا تمسخر اڑاتے تھے چناچہ اگلی آیت کریمہ میں انہی تفصیلات میں سے چند باتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
Ayahs 7:8–9ارشاد فرمایا :
وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذِ نِ الْحَقُّ ج فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ وَمَنْ خَفَّتْ مِوَازِیْنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَھُمْ بِمَا کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ ۔ (الاعراف : 8، 9)
” اس دن وزن دار صرف حق ہوگا تو جن کے پلڑے بھاری ٹھہریں گے وہی لوگ فلاح پانے والے بنیں گے اور جن کے پلڑے ہلکے ہوئے وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالاکیون کہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتائو کرتے رہے تھے “۔
بعض بزرگوں نے اس کے پہلے جملے کا ترجمہ اس طرح کیا ہے ” اور تول اس دن ٹھیک ہوگی “ لیکن دونوں صورتوں میں مطلب اور مفہوم میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔
آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس دن خدا کی میزان عدل میں وزن اور حق دونوں ایک دوسرے کے ہم معنی ہوں گے حق کے سوا کوئی چیز وہاں وزنی نہ ہوگی اور وزن کے سوا کوئی چیز حق نہ ہوگی جس کے ساتھ جتنا حق ہوگا اتنا ہی وہ باوزن ہوگا اور فیصلہ جو کچھ بھی ہوگا وزن کے لحاظ سے ہوگا کسی دوسری چیز کا وزن ذرہ برابر لحاظ نہ کیا جائے گا۔ باطل کی پوری زندگی خواہ وہ دنیا میں کتنی ہی طویل و عریض رہی ہو اور کتنے ہی بظاہر شاندار کارنامے اس کی پشت پر ہوں اس ترازو میں سراسر بےوزن قرار پائیں گے۔ باطل پرست جب اس میزان میں تولے جائیں گے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ دنیا میں جو کچھ وہ مدت العمر کرتے رہے وہ سب ایک پرکاہ کے برابر بھی وزن نہیں رکھتا یہی بات ہے جو سورة کہف کی آیات 103 تا 105 میں فرمائی گئی ہے :
ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ وَ لِقَآئِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَزْنًا (الکہف : 103-105)
” ہم تمہیں بتائیں گے کہ اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے کون ہوں گے ؟ وہ جن کی ساری سرگرمیاں طلب دنیا میں برباد ہوئیں اور وہ اس خوش گمانی میں رہے کہ وہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں ‘ وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کی آیات اور ملاقات کا انکار کیا تو ان کے اعمال ڈھے گئے ‘ تو ہم قیامت کے دن ان کے لیے کوئی وزن نہیں قائم کریں گے “۔
وزن کی وضاحت، احادیث کے شواہد
بعض لوگوں کو آج بھی اور مشرکینِ مکہ کو خاص طور پر یہ شبہ ہوتا تھا کہ چیزوں کا وزن تو سمجھ میں آنے والی بات ہے لیکن ایمان و کفر کا وزن اور اچھے برے اعمال کا وزن آخر اس کو کس طرح سمجھا جاسکتا ہے تو اس آیت میں ایک بات تو یہ صاف کردی گئی کہ اس دن ایمان اور نیک اعمال کا وزن تو ہوگا اور یہ باقاعدہ اپنا تول تلیں گی لیکن جہاں تک کفر اور برائیوں کا تعلق ہے وہ اپنے اندر کوئی وزن نہیں رکھیں گی۔ چناچہ احادیث سے اور قرآن کریم سے بھی ان دونوں آیتوں کی وضاحت ملتی ہے اور جہاں تک آج کے دور کا تعلق ہے آج تو بہت ساری ایسی چیزیں ایجاد ہوچکی ہیں جو ایسی چیزوں کو تول رہی ہیں جن کو ایک زمانہ پہلے تک تولنے کا کبھی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ گزشتہ زمانے میں کون تصور کرسکتا تھا کہ ہوا بھی تولی جاسکتی ہے ‘ برقی رو تولی جاسکتی ہے ‘ سردی اور گرمی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ‘ ان کے الگ الگ میٹر تیار ہوچکے ہیں ‘ باقاعدہ ان کو ترازو میں تولا جاتا ہے۔ ہمیں بخار ہوتا ہے تو منہ میں میٹر رکھ کر بتادیا جاتا ہے کہ کس درجے کا بخار ہے۔ گاڑیوں والے جگہ جگہ اپنی گاڑیوں میں پائونڈوں کے حساب سے ہوا بھرواتے ہیں۔ روزانہ محکمہ موسمیات والے ہمیں موسم کا ٹمپریچر تول تول کر بتاتے ہیں اس لیے آج یہ باتیں سمجھنا ہمارے لیے مشکل نہیں رہا کہ قیامت کے دن اعمال کیسے تلیں گے۔ آج تو ہمارے لیے یہ بات سمجھنا بھی کوئی مشکل نہیں رہا کہ برسوں پہلے دنیا سے گئے ہوئے لوگوں کو کس طرح ان کے اعمال سمیت دیکھا جاسکتا ہے کیونکہ کتنے بڑے بڑے مرحومین ہیں کہ جب ان کی برسیاں منائی جاتی ہیں تو ہر روز ٹیوی کی سکرین ہمیں ان کی آواز سناتی ہے ‘ ان کو چلتا پھرتا دکھایا جاتا ہے ‘ ان کو دفتر کے کام کرتے اور مختلف امور سرانجام دیتے ہوئے ہمارے سامنے لایا جاتا ہے اس لیے آج یہ تصور کرنا کوئی مشکل نہیں رہا کہ یہ کوئی ناممکن بات نہیں کہ کبھی کوئی دن ایسا آئے جب ہماری اس فضا کو ایک ٹیوی سکرین کی شکل دے دی جائے اور قیامت تک پیدا ہونے والی مخلوقات کو اس میں چلتا پھرتا دکھایا جائے اور ان کے اعمال کو مجسم شکل میں سب کے سامنے لا کر کھڑا کردیا جائے کیونکہ حدیث سے جس طرح یہ معلوم ہوتا ہے کہ اعمال کے وزن ہوں گے اسی طرح یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بہت سارے اعمال کو مجسم شکل میں سامنے لایا جائے گا۔ آنحضرت ﷺ کے ارشادات اس بات پر شاہد ہیں کہ برزخ اور محشر میں انسانی اعمال خاص خاص شکلوں اور صورتوں میں آئیں گے ‘ قبر میں انسان کے اعمال صالحہ ایک حسین صورت میں اس کے مونس بنیں گے اور برے اعمال سانپ بچھو بن کر لپٹیں گے ایک حدیث میں ہے کہ جس شخص نے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کی وہ مال ایک زہریلے سانپ کی شکل میں اس کی قبر میں پہنچ کر اس کو ڈسے گا اور کہے گا میں تیرا خزانہ ہوں اسی طرح معتبر احادیث میں ہے کہ میدان حشر میں انسان کے اعمال صالحہ اس کی سواری بن جائیں گے اور برے اعمال بوجھ بن کر اس کے سر پر لادے جائیں گے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ قرآن مجید کی سورة البقرہ اور سورة آل عمران میدان حشر میں دو گہرے بادلوں کی شکل میں آ کر ان لوگوں پر سایہ کریں گی جو ان سورتوں کے پڑھنے والے تھے۔ جہاں تک ایمان و عمل کے وزن دار ہونے کا تعلق ہے اس میں بعض احادیث میں صرف ایمان یا کلمہ طیبہ کے بھاری وزن کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ترمذی ‘ ابن ماجہ ‘ ابن حبان ‘ بیہقی اور حاکم نے حضرت عبد اللہ ابن عمر سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ محشر میں میری امت کا ایک آدمی ساری مخلوق کے سامنے لایا جائے گا اور اس کے ننانوے نامہ اعمال لائے جائیں گے اور ان میں سے ہر نامہ اعمال اتنا طویل ہوگا کہ جہاں تک اس کی نظر پہنچتی ہے اور یہ سب نامہ اعمال برائیوں اور گناہوں سے لبریز ہوں گے۔ اس شخص سے پوچھا جائے گا کہ ان نامہ اعمال میں جو کچھ لکھا ہے وہ سب صحیح ہے یا نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں نے تم پر کوئی ظلم کیا ہے اور خلاف واقعہ کوئی بات لکھی ہے وہ اقرار کرے گا کہ اے میرے پروردگار جو کچھ لکھا ہے سب صحیح ہے اور دل میں گھبرائے گا کہ اب میری نجات کی کیا صورت ہوسکتی ہے۔ اس وقت حق تعالیٰ فرمائیں گے آج کسی پر ظلم نہیں ہوگا ان تمام گناہوں کے مقابلے میں تمہاری ایک نیکی کا پر چہ بھی ہمارے پاس موجود ہے جس میں تمہارا کلمہ شہادت لکھا ہوا ہے۔ وہ عرض کرے گا کہ اے پروردگار اتنے بڑے سیاہ نامہ اعمال کے مقابلے میں یہ چھوٹا سا پر چہ کیا وزن رکھے گا اس وقت ارشاد ہوگا کہ تم پر ظلم نہیں ہوگا اور ایک پلہ میں وہ سارے گناہوں سے بھرے ہوئے نامہ اعمال رکھے جائیں گے اور دوسرے میں یہ کلمہ ایمان کا پر چہ رکھا جائے گا اور اس کلمہ کا پلہ بھاری ہوجائے گا اور سارے گناہوں کا پلہ ہلکا ہوجائے گا اس واقعہ کو بیان کر کے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز بھاری نہیں ہوسکتی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر کی زندگی کے کروڑوں اعمال میں جو چاہے اپنے اندر کیسی بھی شناعت رکھتے ہوں ایک کلمہ ایمان ان سب پر بھاری ہوجائے گا لیکن جہاں تک اعمال کا تعلق ہے ان کا الگ وزن ہوگا جس کی نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگا وہ نجات پا جائے گا اور جس کے گناہوں کا پلہ بھاری ہوگا وہ عذاب کا شکار ہوگا۔ یہی بات قرآن کریم کی ان آیات میں کہی گئی ہے۔
وَنَضَعُ الْمَوَزِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ اِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِھَا وَ کَفٰی بِنَا حَاسِبِیْنَ 5 ط
’ ’ ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو قائم کریں گے اس لیے کسی شخص پر ادنیٰ ظلم نہیں ہوگا جو بھلائی یا برائی ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی کسی نے کی ہو وہ سب میزان عمل میں رکھی جائے گی اور ہم حساب کے لیے کافی ہیں “۔
اور سورة قارعہ میں ہے :
فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ فَھُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃ وَ اَمَّا مَنْ خَفََّتْ مَوَازِیْنُہٗ فَاُمُّہٗ ھَاوِیَۃ
” جس کا نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگا وہ عمدہ عیش میں رہے گا اور جس کا پلہ نیکی کا ہلکا ہوگا اس کا مقام دوزخ ہوگا “۔
حضرت عبد اللہ ابن عباس ( رض) نے ان آیات کی تفسیر میں فرمایا کہ جس مومن کی نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگا وہ اپنے اعمال کے ساتھ جنت میں ہوگا اور جس کا پلہ گناہوں کا بھاری ہوگا وہ اپنے اعمال کے ساتھ جہنم میں بھیج دیا جائے گا۔
وزنِ اعمال کے سلسلے میں مندرجہ ذیل احادیث کو غور سے دیکھ لینا چاہیے۔
بخاری و مسلم میں بروایت ابوہریرہ ( رض) یہ حدیث منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز بعض موٹے فربہ آدمی آئیں گے جن کا وزن اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگا اور اس کی شہادت میں آپ ﷺ نے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی :
فَلَا نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا ط ” یعنی قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن قرار نہ دیں گے۔ (مظہری)
اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود ( رض) کے مناقب میں یہ حدیث آئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ان کی ٹانگیں ظاہر میں کتنی پتلی ہیں لیکن قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ قیامت کے میزان ِ عدل میں ان کا وزن احد پہاڑ سے بھی زیادہ ہوگا۔
اور حضرت ابوہریرہ ( رض) کی وہ حدیث جس پر امام بخاری نے اپنی کتاب کو ختم کیا ہے اس میں یہ ہے کہ دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر بہت ہلکے ہیں مگر میزان عمل میں بہت بھاری ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ہیں ‘ اور وہ کلمے یہ ہیں :
سُبْحَانَ ﷲِ وَ بِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْم
حضرت عبد اللہ ابن عمر ( رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ سبحان اللہ کہنے سے میزان عمل کا آدھا پلہ بھر جاتا ہے اور الحمد اللہ سے باقی آدھا پورا ہوجاتا ہے۔
ابو دائود ‘ ترمذی ‘ ابن حبان نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابوالدردا ( رض) سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میزانِ عمل میں حسن خلق کے برابر کوئی عمل وزنی نہیں ہوگا۔
حضرت ابوذر غفاری ( رض) سے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں ایسے دو کام بتاتا ہوں جن پر عمل کرنا انسان کے لیے کچھ بھاری نہیں اور میزان عمل میں وہ سب سے زیادہ بھاری ہوں گے ایک حسن خلق دوسرے زیادہ خاموش رہنا یعنی بلا ضرورت کلام نہ کرنا۔
امام احمد ( رح) نے کتاب الزہد بروایت حضرت حازم ( رض) نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مرتبہ جبرئیل امین تشریف لائے تو وہاں کوئی شخص خوف خدا تعالیٰ سے رو رہا تھا تو جبرئیل امین نے فرمایا کہ انسان کے تمام اعمال کا تو وزن ہوگا مگر خدا و آخرت کے خوف سے رونا ایسا عمل ہے جس کو تولا نہ جائے گا بلکہ ایک آنسو بھی جہنم کی بڑی سے بڑی آگ کو بجھا دے گا۔ (مظہری)
ایک حدیث میں ہے کہ میدان حشر میں ایک شخص حاضر ہوگا جب اس کا نامہ اعمال سامنے آئے گا تو وہ اپنے نیک اعمال کو بہت کم پا کر گھبرائے گا کہ اچانک ایک چیز بادل کی طرح اٹھ کر آئے گی اور اس کے نیک اعمال کے پلے میں گرجائے گی اور اس کو بتلایا جائے گا کہ یہ تیرے اس عمل کا ثمرہ ہے جو تو دنیا میں لوگوں کو دین کے احکام و مسائل بتلاتا اور سکھاتا تھا اور یہ تیری تعلیم کا سلسلہ آگے چلا تو جس جس شخص نے اس پر عمل کیا ان سب کے عمل میں تیرا حصہ بھی لگایا گیا۔ (مظہری عن ابن المبارک)
طبرانی نے بروایت ابن عباس ( رض) نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص جنازہ کے ساتھ قبرستان تک جائے اس کی میزان عمل میں دو قیراط رکھ دی جائیں گی اور دوسری روایت میں ہے کہ اس قیراط کا وزن احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔
طبرانی نے بروایت جابر ( رض) نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انسان کی میزان عمل میں سب سے پہلے جو عمل رکھا جائے گا وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے اور ان کی ضروریات پورا کرنے کا نیک عمل ہے۔
امام ذہبی ( رح) نے حضرت عمران بن حصین ( رض) سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن علماء کی روشنائی جس سے انھوں نے علم دین اور احکام دین لکھے ہیں اور شہیدوں کے خون کو تولا جائے گا تو علماء کی روشنائی کا وزن شہیدوں کے خون کے وزن سے بڑھ جائے گا۔
اس طرح کی روایاتِ حدیث قیامت کے وزن اعمال کے سلسلہ میں بہت ہیں ‘ یہاں چند کو اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ ان سے خاص خاص اعمال کی فضیلت اور قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے۔
ان تمام روایات حدیث سے وزن اعمال کی کیفیت مختلف معلوم ہوتی ہے بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ عمل کرنے والے…انسان تولے جائیں گے وہ اپنے اپنے عمل کے اعتبار سے ہلکے بھاری ہوں گے اور بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نامہ اعمال تولے جائیں گے اور بعض سے ثآبت ہوتا ہے کہ خود اعمال مجسم ہوجائیں گے وہ تولے جائیں گے۔ امام تفسیر ابن کثیر ( رح) نے یہ سب روایات نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ ہوسکتا ہے کہ وزن مختلف صورتوں سے کئی مرتبہ کیا جائے اور ظاہر ہے کہ پوری حقیقت ان معاملات کی اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں اور عمل کرنے کے لیے اس حقیقت کا جاننا ضروری بھی نہیں صرف اتنا ہی کافی ہے کہ ہمارے اعمال کا وزن ہوگا ‘ نیک اعمال کا پلہ ہلکا رہا تو عذاب کے مستحق ہوں گے۔ یہ دوسری بات ہے کہ حق تعالیٰ کسی کو خود اپنے فضل و کرم سے یا کسی نبی یا ولی کی شفاعت سے معاف فرما دیں اور عذاب سے نجات ہوجائے۔ اس کو اختصار سے یوں سمجھنا چاہیے کہ انسان کا کارنامہ زندگی دو پہلوئوں میں تقسیم ہوگا ‘ ایک مثبت پہلو اور دوسرا منفی پہلو۔ مثبت پہلو میں صرف حق کو جاننا اور ماننا اور حق کی پیروی میں حق ہی کی خاطر کام کرنا شمار ہوگا اور آخرت میں اگر کوئی چیز وزنی اور قیمتی ہوگی تو وہ بس یہی ہوگی۔ بخلاف اس کے حق سے غافل ہو کر یا حق سے منحرف ہو کر انسان جو کچھ بھی اپنی خواہشِ نفس یا دوسرے انسانوں اور شیطانوں کی پیروی کرتے ہوئے غیر حق کی راہ میں کرتا ہے وہ سب منفی پہلو میں جگہ پائے گا اور صرف یہی نہیں کہ یہ منفی پہلو بجائے خود بےقدر ہوگا بلکہ یہ آدمی کے مثبت پہلوئوں کی قدر بھی گھٹا دے گا۔
پس آخرت میں انسان کی فلاح و کامرانی کا تمام تر انحصار اس پر ہے کہ اس کے کارنامہ زندگی کا مثبت پہلو اس کے منفی پہلو پر غالب ہو اور نقصانات میں بہت کچھ دے دلا کر بھی اس کے حساب میں کچھ نہ کچھ بچا رہ جائے۔ رہا وہ شخص جس کی زندگی کا منفی پہلو اس کے تمام مثبت پہلوئوں کو دبا لے تو اس کا حال بالکل اس دیوالیہ تاجر کا سا ہوگا جس کی ساری پونجی خساروں کا بھگتان بھگتنے اور مطالبات ادا کرنے ہی میں کھپ جائے اور پھر بھی کچھ نہ کچھ مطالبات اس کے ذمہ باقی رہ جائیں۔
زیر تشریح رکوع کی پہلی آیت میں آنحضرت ﷺ کے فرض منصبی کے حوالے سے آپ کو تسلی بھی دی گئی اور مخالفین کی مخالفت کی حقیقت بھی واشگاف کی گئی اس کے بعد آپ کی دعوت اور آپ پر نازل کردہ کتاب کی اتباع کا براہ راست حکم دیا گیا اور ساتھ ہی نہایت تأسف سے فرمایا کہ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو اور بہت کم یاددہانی حاصل کرتے ہو لیکن تمہیں اس کے انجام کی کچھ خبر نہیں ہے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے نتیجے میں اللہ کا عذاب بھی آسکتا ہے اور پھر اس کی تائید میں مختلف قوموں کے حوالے دیئے اور پھر قیامت کی یاد دلائی اور تفصیل سے اس دن کی ہولناکی کا ذکر کیا اور اس دن کافروں کے ساتھ جو کچھ گزرنے والی ہے اس کا تذکرہ فرمایا اور یہ بات بھی یاد دلائی کہ اس دن تمہارا ایک ایک عمل حتیٰ کہ تمہاری نیتیں بھی حق و عدل کے ترازو میں تلیں گی اور تم اپنی آنکھوں سے اپنا انجام دیکھو گے۔ اب اس رکوع کی آخری آیت میں آخری بات فرمائی جا رہی ہے کہ تمہیں ہم جو پیغمبر کی دعوت اور قرآن کے اتباع کا حکم دے رہے ہیں تو اور کچھ نہیں تو اس حوالے سے ہی اس پر غور کرو کہ اللہ کے تم پر کیا کیا احسانات ہیں تو کیا اسکے احسانات کے شکر کے طور پر اسکے دین کا اتباع کرنا اور اس کے کھولے ہوئے صراط مستقیم پر چلنا تمہارے لیے ضروری نہیں چناچہ اس حوالے سے ارشاد فرمایا گیا :