7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsروح القرآن

Ayahs 7:37–39

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

تو ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا ‘ جو بالکل جھوٹی باتیں گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کریں یا اللہ کی سچی آیات کو جھٹلائیں ؟ ان لوگوں کو ان کے نوشتہ کا حصہ پہنچے گا ‘ یہاں تک کہ وہ گھڑی آجائے کہ جب ان کے پاس ہمارے فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کے لیے آئیں گے تو ان سے پوچھیں گے کہ اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے تھے ‘ کہاں ہیں ؟ وہ جواب دیں گے ‘ وہ تو سب ہم سے گم ہوگئے اور یہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ واقعی منکر حق تھے۔

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

اللہ فرمائے گا ‘ جائو ! تم بھی اسی جہنم میں چلے جائو ‘ ان امتوں کے ساتھ ‘ جو تم سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے گزریں۔ ہر گروہ ‘ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے ساتھی گروہ پر لعنت کرے گا۔ یہاں تک کہ جب سب اس میں جمع ہوجائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے رب ! یہی لوگ ہیں ‘ جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا ‘ ان کو دوہرا عذاب نار دیجئے۔ ارشاد ہوگا ! تم سب کے لیے دوہرا عذاب ہے ‘ مگر تم جانتے نہیں ہو۔

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

اور ان کے اگلے اپنے پچھلوں سے کہیں گے ! تم کو بھی ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوئی ‘ تم بھی اپنے کیے کی پاداش میں عذاب چکھو۔

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ط اُولٰٓئِکَ یَنَالُھُمْ نَصِیْبُھُمْ مِّنَ الْکِتٰبِ ط حَتّٰٓی اِذَا جَآئَتْھُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَھُمْ لا قَالُوْآ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ ط قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَھِدُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ اَنَّھُمْ کَانُوْا کٰفِرِیْنَ ۔ قَالَ ادْخُلُوْا فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِی النَّارِ ط کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَھَا ط حَتّٰٓی اِذَا ادَّارَکُوْا فِیْھَا جَمِیْعًا لا قَالَتْ اُخْرٰھُمْ لِاُوْلٰھُمْ رَبَّنَا ھٰٓؤُلَآئِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِھِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ 5 ط قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰکِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ ۔ وَقَالَتْ اُوْلٰھُمْ لِاُخْرٰھُمْ فَمَا کَانَ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ ۔ (الاعراف : 37، 38، 39) ” تو ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا ‘ جو بالکل جھوٹی باتیں گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کریں یا اللہ کی سچی آیات کو جھٹلائیں ؟ ان لوگوں کو ان کے نوشتہ کا حصہ پہنچے گا ‘ یہاں تک کہ وہ گھڑی آجائے کہ جب ان کے پاس ہمارے فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کے لیے آئیں گے تو ان سے پوچھیں گے کہ اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے تھے ‘ کہاں ہیں ؟ وہ جواب دیں گے ‘ وہ تو سب ہم سے گم ہوگئے اور یہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ واقعی منکر حق تھے۔ اللہ فرمائے گا ‘ جاؤ ! تم بھی اسی جہنم میں چلے جاؤ ‘ ان امتوں کے ساتھ ‘ جو تم سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے گزریں۔ ہر گروہ ‘ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے ساتھی گروہ پر لعنت کرے گا۔ یہاں تک کہ جب سب اس میں جمع ہوجائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے رب ! یہی لوگ ہیں ‘ جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا ‘ ان کو دوہرا عذاب نار دیجئے۔ ارشاد ہوگا ! تم سب کے لیے دوہرا عذاب ہے ‘ مگر تم جانتے نہیں ہو۔ اور ان کے اگلے اپنے پچھلوں سے کہیں گے ! تم کو بھی ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوئی ‘ تم بھی اپنے کیے کی پاداش میں عذاب چکھو “۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے اور اس کی آیات کی تکذیب کا انجام مشرکینِ مکہ سے فرمایا جا رہا ہے کہ اتنی واضح ہدایات کے بعد بھی جو شخص اللہ پر جھوٹ باندھے یعنی اس کی نازل کردہ ہدایت کو قبول کرنے کی بجائے خود ایک شریعت تصنیف کرے اور پھر اللہ کی طرف اس کو منسوب کرے کہ اللہ نے اس کا حکم دیا ہے۔ فرمایا تم بتائو کہ ایسے شخص یا ایسی قوم سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے کہ اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ اس کے اس رویے کے نتیجے میں اس کی دنیا بھی برباد ہوجائے گی اور آخرت بھی جہاں تک اس چند روزہ زندگی کا تعلق ہے وہ تو یہ نوشتہ تقدیر کے مطابق گزار ہی لیں گے لیکن انھیں اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ جن نام نہاد شریکوں کے ذریعے تم اللہ کے عذاب سے بےنیاز ہوگئے ہو جب تمہاری جان نکالنے والے فرشتے تمہارے پاس آئیں گے تو وہ تمہیں سب سے پہلے یہی پوچھیں گے کہ بتائو وہ تمہارے شرکاء کہاں ہیں اب ہم تمہاری گرفتاری کے لیے آگئے ہیں انھیں آواز دو وہ تمہیں بچائیں۔ کہا اس دن یہ لوگ جو آج بات سننے کے روادار نہیں ہیں اس دن صاف اعتراف کریں گے کہ آج ہمارا کوئی مددگار نہیں ہم واقعی آج تک کفر کا ارتکاب کرتے رہے۔ جب اس طرح وہ اپنی بےبسی کا اعتراف کریں گے تو اللہ تعالیٰ نہایت بےالتفاتی کے ساتھ حکم دیں گے کہ جاؤ ان گروہوں میں شامل ہوجاؤ جو تمہارے جیسے جرم کی وجہ سے تمہارے جیسے انجام سے دوچار ہونے والے ہیں اور تمہارا انجام یہ ہے کہ تم اگلے اور پچھلے سارے جہنم میں پہنچ جاؤ۔ کہا جب یہ اپنے آگے آگے جانے والے اور جہنم کی طرف بڑھنے والے کفار کو دیکھیں گے اور ان میں ان کو وہ لوگ بھی نظر آئیں گے جن میں ان کے سیاسی لیڈر بھی ہوں گے ‘ ان کے نام نہاد مذہبی راہنما بھی اور ان کے جھوٹے پیر بھی ہوں گے جو بڑے بزرگوں کے نام پر جعلی پیری کا ڈھونگ رچاتے رہے اور ان لوگوں سے یہ کہتے رہے کہ احکام شریعت پر عمل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تمہیں بخشوانے کی ذمہ داری ہم لیتے ہیں۔ تمہیں فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ انھیں دیکھتے ہی یہ لوگ سرتاپا غضب بن کر ان کی طرف لپکیں گے اور اللہ سے التجا کریں گے کہ یا اللہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہمیں بگاڑا تھا اور آج یہ لوگ ہماری بات سننے کے روادار نہیں۔ پس آپ انھیں دوہرا عذاب دیجئے۔ ایک ان کے خود بگڑنے کا اور دوسرا ان کو دوسروں کو گمراہ کرنے کا۔ وہ جواب میں ان سے یہ کہیں گے کہ ہم نے تمہیں کوئی مجبور تو نہیں کیا تھا تم اگر چاہتے تو ہماری پیروی سے انکار کرسکتے تھے اور مزید یہ بات بھی کہ اگر ہم نے راہ راست سے بہک کر اپنی عاقبت تباہ کی اور تمہیں بھی تباہ کیا تو تم نے بھی تو صحیح راستہ اختیار کرنے کی کوشش نہ کی تمہاری وجہ سے بھی نجانے کتنے لوگ گمراہ ہوئے اس لیے ایک دوسرے پر الزام دھرنے سے کوئی فائدہ نہیں اب تو ہم سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ اللہ کی طرف سے جواب آئے گا کہ تم سب کو دگنا عذاب دیا جائے گا لیکن تم نہیں جانتے کہ تم دگنے عذاب کے مستحق کیوں ہو ؟ اس کی توجیہ کرتے ہوئے صاحب تفہیم القرآن نے جو کچھ لکھا ہے ہم چاہتے ہیں آپ بھی اسے پڑھیں۔ ” بات یہ ہے کہ تم میں سے ہر گروہ کسی کا خلف تھا تو کسی کا سلف بھی تھا۔ اگر کسی گروہ کے اسلاف نے اس کے لیے فکر و عمل کی گمراہیوں کا ورثہ چھوڑا تھا تو خود وہ بھی اپنے اخلاف کے لیے ویسا ہی ورثہ چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوا۔ اگر ایک گروہ کے گمراہ ہونے کی کچھ ذمہ داری اس کے اسلاف پر عائد ہوتی ہے تو اس کے اخلاف کی گمراہی کا اچھا خاصا بار خود اس پر بھی عائد ہوتا ہے۔ اسی بنا پر فرمایا کہ ہر ایک کے لیے دوہرا عذاب ہے۔ ایک عذاب خود گمراہی اختیار کرنے کا اور دوسرا عذاب دوسروں کو گمراہ کرنے کا۔ ایک سزا اپنے جرائم کی اور دوسری سزا دوسروں کے لیے جرائم پیشگی کی میراث چھوڑ آنے کی۔ “ حدیث میں اسی مضمون کی توضیح یوں بیان فرمائی گئی ہے کہ من ابتدع بدعۃ ضلالۃ لا یرضاھا اللہ و رسولہ کان علیہ من الاثم مثل اثامہ من عمل بھا لا ینقص ذالک من اوزارھم شیئا یعنی جس نے نئی گمراہی کا آعاز کیا جو اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ناپسندیدہ ہو تو اس پر ان سب لوگوں کے گناہ کی ذمہ داری عائد ہوگی جنھوں نے اس کے نکالیے ہوئے طریقہ پر عمل کیا بغیر اس کے کہ خود ان عمل کرنے والوں کی ذمہ داری میں کوئی کمی ہو۔ دوسری حدیث میں ہے لا تقتل نفس ظلما الا کان علی ابن ادم الاول کفل من دمھا لانہ اول من سن القتل یعنی دنیا میں جو انسان بھی ظلم کے ساتھ قتل کیا جاتا ہے اس کے خون ناحق کا ایک حصہ آدم کے اس پہلے بیٹے کو پہنچتا ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا تھا کیونکہ قتل انسان کا راستہ سب سے پہلے اسی نے کھولا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص یا گروہ کسی غلط خیال یا غلط رویہ کی بنا ڈالتا ہے وہ صرف اپنی ہی غلطی کا ذمہ دار نہیں ہوتا بلکہ دنیا میں جتنے انسان اس سے متاثر ہوتے ہیں ان سب کے گناہ کی ذمہ داری کا بھی ایک حصہ اس کے حساب میں لکھا جاتا رہتا ہے اور جب تک اس کی اس غلطی کے اثرات چلتے رہتے ہیں اس کے حساب میں ان کا اندراج ہوتا رہتا ہے نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر شخص اپنی نیکی یا بدی کا صرف اپنی ذات کی حد تک ہی ذمہ دار نہیں ہے بلکہ اس امر کا بھی جواب وہ ہے کہ اس کی نیکی یا بدی کے کیا اثرات دوسروں کی زندگیوں پر مرتب ہوئے۔ مثال کے طور پر ایک زانی کو لیجیے جن لوگوں کی تعلیم و تربیت سے ‘ جن کی صحبت کے اثر سے ‘ جن کی بری مثالیں دیکھنے سے اور جن کی ترغیبات سے اس شخص کے اندر زناکاری کی صفت نے ظہور کیا وہ سب اس کے زناکار بننے میں حصہ دار ہیں اور خود ان لوگوں نے اوپر جہاں جہاں سے اس بدنظری و بدنیتی اور بدکاری کی میراث پائی ہے وہاں تک اس کی ذمہ داری پہنچتی ہے حتیٰ کہ یہ سلسلہ اس اولین انسان پر منتہی ہوتا ہے جس نے سب سے پہلے نوع انسانی کو خواہش نفس کی تسکین کا یہ غلط راستہ دکھایا۔ یہ اس زانی کے حساب کا وہ حصہ ہے جو اس کے ہم عصروں اور اس کے اسلاف سے تعلق رکھتا ہے۔ پھر وہ خود بھی اپنی زناکاری کا ذمہ دار ہے۔ اس کو بھلے اور برے کی جو تمیز دی گئی تھی اس میں ضمیر کی جو طاقت رکھی گئی تھی اس کے اندر ضبط نفس کی جو قوت ودیعت کی گئی تھی اس کو نیک لوگوں سے خیر و شر کا جو علم پہنچا تھا ‘ اس کے سامنے اخیار کی جو مثالیں موجود تھی اس کو صنفی بدعملی کے برے نتائج سے جو واقفیت تھی ان میں سے کسی چیز سے بھی اس نے فائدہ نہ اٹھایا اور اپنے آپ کو نفس کی اس اندھی خواہش کے حوالے کردیا جو صرف اپنی تسکین چاہتی تھی خواہ وہ کسی طریقہ سے ہو۔ یہ اس کے حساب کا وہ حصہ ہے جو اس کی اپنی ذات سے تعلق رکھتا ہے پھر یہ شخص اس بدی کو جس کا اکتساب اس نے کیا اور جسے خود اپنی سعی سے وہ پرورش کرتا رہا ‘ دوسروں میں پھیلانا شروع کرتا ہے۔ کسی مرض خبیث کی چھوت کہیں سے لگا لاتا ہے اور اسے اپنی نسل میں اور خدا جانے کن کن نسلوں میں پھیلا کر نہ معلوم کتنی زندگیوں کو خراب کردیتا ہے۔ کہیں اپنا نطفہ چھوڑ آتا ہے اور جس بچہ کی پرورش کا بار اسے خود اٹھانا چاہیے تھا اسے کسی اور کی کمائی کا ناجائز حصہ دار ‘ اس کے بچوں کے حقوق میں زبردستی کا شریک ‘ اس کی میراث میں ناحق کا حقدار بنا دیتا ہے اور اس حق تلفی کا سلسلہ نہ معلوم کتنی نسلوں تک چلتا رہتا ہے۔ کسی دوشیزہ لڑکی کو پھسلا کر بداخلاقی کی راہ پر ڈالتا ہے اور اس کے اندر وہ بری صفات ابھار دیتا ہے جو اس سے منعکس ہو کر نہ معلوم کتنے خاندانوں اور کتنی نسلوں تک پہنچتی ہیں اور کتنے گھر بگاڑ دیتی ہیں۔ اپنی اولاد ‘ اپنے اقارب ‘ اپنے دوستوں اور اپنی سوسائٹی کے دوسرے لوگوں کے سامنے اپنے اخلاق کی ایک بری مثال پیش کرتا ہے اور نہ معلوم کتنے آدمیوں کے چال چلن خراب کرنے کا سبب بن جاتا ہے جس کے اثرات بعد کی نسلوں میں مدتہائے دراز تک چلتے رہتے ہیں یہ سارا فساد جو اس شخص نے سوسائٹی میں برپا کیا ‘ انصاف چاہتا ہے کہ یہ بھی اس کے حساب میں لکھا جائے اور اس وقت تک لکھا جاتا رہے جب تک اس کی پھیلائی ہوئی خرابیوں کا سلسلہ دنیا میں چلتا رہے۔ اسی پر نیکی کو بھی قیاس کرلینا چاہیے۔ جو نیک ورثہ اپنے اسلاف سے ہم کو ملا ہے اس کا اجر ان سب لوگوں کو پہنچنا چاہیے جو ابتدائے آفرینش سے ہمارے زمانہ تک اسکے منتقل کرنے میں حصہ لیتے رہے ہیں پھر اس ورثہ کو لے کر اسے سنبھالنے اور ترقی دینے میں جو خدمت ہم انجام دیں گے اس کا اجر ہمیں بھی ملنا چائے۔ پھر اپنی سعی خیر کے جو نقوش و اثرات ہم دنیا میں چھوڑ جائیں گے انھیں بھی ہماری بھلائیوں کے حساب سے اس وقت تک برابر درج ہوتے رہنا چاہیے جب تک یہ نقوش باقی رہیں اور ان کے اثرات کا سلسلہ نوع انسانی میں چلتا رہے اور ان کے فوائد سے خلق خدا متمتع ہوتی رہے۔ جزا کی یہ صورت جو قرآن پیش کر رہا ہے ہر صاحب عقل انسان تسلیم کرے گا کہ صحیح اور مکمل انصاف اگر ہوسکتا ہے تو اسی طرح ہوسکتا ہے۔ اس حقیقت کو اگر اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو اس سے ان لوگوں کی غلط فہمیاں بھی دور ہوسکتی ہیں جنھوں نے جزا کے لیے اسی دنیا کی موجودہ زندگی کو کافی سمجھ لیا ہے اور ان لوگوں کی غلط فہمیاں بھی جو یہ گمان رکھتے ہیں کہ انسان کو اس کے اعمال کی پوری جزاء تناسخ کی صورت میں مل سکتی ہے۔ دراصل ان دونوں گروہوں نے نہ تو انسانی اعمال اور ان کے اثرات و نتائج کی وسعتوں کو سمجھا ہے اور نہ منصفانہ جزا اور اس کے تقاصوں کو ایک انسان آج اپنی پچاس ساٹھ سال کی زندگی میں جو اچھے یا برے کام کرتا ہے ان کی ذمہ داری میں نہ معلوم اوپر کی کتنی نسلیں شریک ہیں جو گزر چکیں اور آج یہ ممکن نہیں کہ انھیں اس کی جزاء یا سزا پہنچ سکے پھر اس شخص کے یہ اچھے یا برے اعمال جو وہ آج کر رہا ہے اس کی موت کے ساتھ ختم نہیں ہوجائیں گے بلکہ ان کے اثرات کا سلسلہ آئندہ صدہا برس تک چلتا رہے گا ‘ ہزاروں ‘ لاکھوں بلکہ کروڑوں انسانوں تک پھیلے گا اور اس کے حساب کا کھاتہ اس وقت تک کھلا رہے گا جب تک یہ اثرات چل رہے ہیں اور پھیل رہے ہیں۔ کس طرح ممکن ہے کہ آج ہی اس دنیا کی زندگی میں اس شخص کو اس کے کسب کی پوری جزا مل جائے درآں حالے کہ ابھی اسکے کسب کے اثرات کا لاکھواں حصہ بھی رونما نہیں ہوا ہے۔ پھر اس دنیا کی محدود زندگی اور اس کے محدود امکانات سرے سے اتنی گنجائش ہی نہیں رکھتے کہ یہاں کسی کو اس کے کسب کا پورا بدلہ مل سکے۔ آپ کسی ایسے شخص کے جرم کا تصور کیجیے جو مثلاً دنیا میں ایک جنگ عظیم کی آگ بھڑکاتا ہے اور اس کی اس حرکت کے بیشمار برے نتائج ہزاروں برس تک اربوں انسانوں تک پھیلتے ہیں۔ کیا کوئی بڑی سے بڑی جسمانی ‘ اخلاقی ‘ روحانی ‘ یا مادی سزا بھی ‘ جو اس دنیا میں دی جانی ممکن ہے ‘ اس کے اس جرم کی پوری منصفانہ سزا ہوسکتی ہے ؟ اسی طرح کیا دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا انعام بھی جس کا تصور آپ کرسکتے ہیں کسی ایسے شخص کے لیے کافی ہوسکتا ہے جو مدۃ العمر نوع انسانی کی بھلائی کے لیے کام کرتا رہا ہو اور ہزاروں سال تک بیشمار انسان جس کی سعی کے ثمرات سے فائدہ اٹھائے چلے جا رہے ہوں۔ عمل اور جزاء کے مسئلے کو اس پہلو سے جو شخص دیکھے گا اسے یقین ہوجائے گا کہ جزا کے لیے ایک دوسرا ہی عالم درکار ہے جہاں تمام اگلی اور پچھلی نسلیں جمع ہوں ‘ تمام انسانوں کے کھاتے بند ہوچکے ہوں ‘ حساب کرنے کے لیے ایک علیم وخبیر خدا انصاف کی کرسی پر متمکن ہو اور اعمال کا پورا بدلہ پانے کے لیے انسان کے پاس غیر محدود زندگی اور اس کے گرد و پیش جزا و سزا کے غیر محدود امکانات موجود ہوں۔ پھر اسی پہلو پر غور کرنے سے اہل تناسخ کی ایک اور بنیادی غلطی کا ازالہ بھی ہوسکتا ہے جس میں مبتلا ہو کر انھوں نے آواگون کا چکرتجویز کیا ہے وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھے کہ صرف ایک ہی مختصر سی پچاس سالہ زندگی کے کارنامے کا پھل پانے کے لیے اس سے ہزاروں گنی زیادہ طویل زندگی درکار ہے ‘ کجا کہ اس پچاس سالہ زندگی کے ختم ہوتے ہی ہماری ایک دوسری اور پھر تیسری ذمہ دارانہ زندگی اسی دنیا میں شروع ہوجائے اور ان زندگیوں میں بھی ہم مزید ایسے کام کرتے چلے جائیں جن کا اچھا یا برا پھل ہمیں ملنا ضروری ہو۔ اس طرح تو حساب بےباق ہونے کے بجائے اور زیادہ بڑھتا ہی چلا جائے گا اور اس کے بےباق ہونے کی نوبت کبھی آہی نہ سکے گی۔
Ayah 7:40

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

بیشک ! جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان کے مقابلہ میں تکبر کیا ‘ ان کے لیے آسمان کے دروازے ہرگز نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے ‘ یہاں تک کہ گھس جائے اونٹ سوئی کے ناکے میں۔ ہم اسی طرح مجرموں کو بدلہ دیتے ہیں۔

چند آیات پیشتر ایک عہد و میثاق کا ذکر ہے جو حضرت آدم اور ان کی اولاد سے اس وقت لیا گیا تھا جب انھیں زمین پر بھیجا گیا تھا اس میں یہ فرمایا گیا تھا کہ تم زمین پر چلے جاؤ لیکن یہ بات یاد رکھو کہ تمہاری غذائی ضروریات تو تمہیں زمین سے مہیا کی جائیں گی لیکن جہاں تک زندگی گزارنے کے لیے رہنمائی اور ہدایت کا تعلق ہے وہ تمہیں ہماری طرف سے آئے گی جس نے ہماری اس ہدایت کے مطابق زندگی گزاری اس کے لیے نہ تو دنیا میں خوف ہوگا نہ آخرت میں کوئی غم لیکن جن لوگوں نے ہماری آیات اور ہماری ہدایات سے انکار کیا اور اس کے خلاف رویہ اختیار کیا یہ وہ لوگ ہیں جو جہنم میں ڈالے جائیں گے اور وہ ہمیشہ اس عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اسی عہد و میثاق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ آج بھی جو لوگ چاہے وہ مشرکینِ مکہ ہوں یا کوئی اور اللہ کی آیات سے تکذیب اور استکبار کا رویہ اختیار کریں گے ان کا انجام کیا ہوگا اس کی ایک تفصیل بیان کی جا رہی ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے : اِنَّ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَاسْتَکْبَرُوْا عَنْھَا لَا تُفَتَّحُ لَھُمْ اَبْوَابُ السَّمَآئِ وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ ط وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 40) ” بیشک ! جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان کے مقابلہ میں تکبر کیا ‘ ان کے لیے آسمان کے دروازے ہرگز نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے ‘ یہاں تک کہ گھس جائے اونٹ سوئی کے ناکے میں۔ ہم اسی طرح مجرموں کو بدلہ دیتے ہیں “۔ تکذیب اور استکبار کا مفہوم اس آیت کریمہ میں مجرمین کے دو جرائم کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ -1 تکذیب -2 استکبار۔ تکذیب کا معنی ہے جھٹلانا اور استکبار کا معنی ہے تکبر کرنا۔ یہ حقیقت میں ایک ہی رویے کے دو پہلو ہیں ایک کا تعلق ابتدا سے ہے اور دوسرے کا انتہا سے کوئی بھی شخص جب کسی بات کو ماننے سے انکار کرتا ہے تو وہ کہنے والے کو یا اس کی بات کو جھوٹا بتلاتا ہے اور وہ یہ کہتا ہے کہ میں کسی طرح بھی تمہاری اس بات کو قبول نہیں کرسکتا کیونکہ تم جھوٹے آدمی ہو اور یا یہ کہ تمہاری بات جھوٹی ہے جو ہرگز قابل اعتبار نہیں۔ اللہ کے نبی جب بھی کسی قوم کی طرف مبعوث ہوتے ہیں تو اس قوم کے بڑے بڑے لوگ خصوصاً اور عام لوگ عموماً یہی رویہ اختیار کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی کی بات کا اعتبار کرنا ان کے لیے اس لیے مشکل ہوتا ہے کہ وہ ان کے یہاں ایک نئی بات ہوتی ہے اور پھر جب پیغمبر عالم غیب کی خبریں دیتا ہے اور وہ خبریں چونکہ ان کے احاطہ علم میں نہیں آتیں تو وہ عموماً یا ان باتوں اور خبروں کی تردید کرتے ہیں اور یا نبی پر جھوٹا ہونے کا الزام دھرتے ہیں ایسا بہت کم ہوا ہے کہ اللہ کے نبی نے اپنی قوم کو ایمان لانے کی دعوت دی ہو اور انھوں نے فوراً اسے قبول کرلیا ہو۔ بہت کم ایسی سعید روحیں ہوتی ہیں جو پہلی دعوت پر ایمان لے آتی ہیں ورنہ عموماً افراد قوم کا رویہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اس دعوت کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہیں اور کبھی دعوت میں اور کبھی حامل دعوت میں عیب نکالنے کی کوشش کرتی ہیں۔ طریقے طریقے سے دعوت کو بےاثر کرنے اور حامل دعوت کو بےاعتبار ٹھہرانے کی کوششیں کی جاتی ہیں پھر رفتہ رفتہ ان میں تقسیم ہونے لگتی ہے جن لوگوں میں کسی حد تک قبولیت کا مادہ ہوتا ہے یا وہ شخصی پندار میں مبتلا نہیں ہوتے وہ آہستہ آہستہ اس دعوت کے قریب آنے لگتے ہیں اور بالآخر دعوت کو قبول کرلیتے ہیں لیکن دوسری طرح کے لوگ جو شخصیت کے پندار میں محصور اور اپنی عصبیت کے حصار سے نکلنے کی کبھی کوشش نہیں کرتے وہ نہ صرف کہ اس دعوت کو قبول نہیں کرتے بلکہ آہستہ آہستہ ان میں ایک ضد اور ہٹ دھرمی پیدا ہوجاتی ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کسی بھی نئی اور اجنبی بات کو آغاز ہی میں قبول کرلینا کسی کے لیے بھی آسان نہیں ہوتا بالخصوص ایسی قوم کے لیے تو بہت ہی مشکل ہوتا ہے جسے اپنی تاریخی عصبیتوں یا مذہبی رسوم سے جامد قسم کا تعلق ہو۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ جن باتوں کو وہ اپنا دین قرار دے چکے ہیں اور جس دین پر وہ اپنے آبائو اجداد کو چلتا ہوا دیکھ چکے ہیں اسے کسی طرح بھی چھوڑنے کے لیے تیار نہ ہوں۔ اقبال مرحوم نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے ؎ آئینِ نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں لیکن جن لوگوں کا رویہ اسی طرح کا ہوجائے کہ وہ دلیل کی کسی بات کو سننے پر آمادہ نہ ہوں اور اپنی انا کے گنبد سے باہر جھانکنا بھی انھیں گوارا نہ ہو ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف اس دعوت کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں بلکہ اس کو اپنی انا کا مسئلہ بنا کر اس دعوت کے ساتھ حقارت کا سلوک کرتے ہیں۔ انھیں یہ بات کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہوتی کہ وہ اپنے دنیوی تفوق کے باوجود ایک غریب آدمی کی بات چاہے وہ اپنے شخصی کردار میں کیسا ہی عظیم کیوں نہ ہو قبول کرلیں وہ دلیل کے وزن کو نہیں دیکھتے بلکہ دولت کے وزن سے ہر چیز کو جانچتے ہیں۔ ان کے نزدیک کردار میں عظمت نہیں ہوتی بلکہ نسب کے حوالوں اور زمینی نسبتوں کو اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو استکبار کا شکار ہوجاتے ہیں اور یہ ایک ایسا خطرناک مرض ہے جس کسی کو بھی لاحق ہوجاتا ہے کوئی بھی عقل یا ہدایت کی بات اس کے دماغ میں داخل ہونا تقریباً ناممکن ہوجاتی ہے۔ چناچہ جس خرابی کا آغاز تکذیب سے ہوتا ہے وہ بڑھتے بڑھتے جب استکبار کی شکل اختیار کر جاتی ہے تو پھر بالعموم اللہ کی طرف سے ایسے لوگوں کی محرومی کا فیصلہ ہوجاتا ہے اس آیت کریمہ میں جہالت اور کفر کے اس رویے کی ابتدا اور انتہا کو ذکر فرما کر ایک طرح سے قرآن کریم کے مخاطبین کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تم جس رویے کی طرف بڑھ رہے ہو ایسا نہ ہو کہ یہ رویہ تمہیں محرومی کی منزل تک پہنچا دے۔ اس لیے اگر بچنا چاہتے ہو تو اس سے بچنے کی کوشش کرو ورنہ سوچ لو کہ اس کا انجام کیا ہوگا ؟ کہ تم اس رویے کے ساتھ جب تک زندہ رہو گے تمہارے لیے آسمانوں کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے کیونکہ اللہ کا یہ قانون ہے کہ جو لوگ بھی ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے آسمانوں کے دروازے نہیں کھولے جاتے۔ اب سوال یہ ہے کہ آسمانوں کے دروازے نہ کھولے جانے سے مراد کیا ہے ؟ آسمانوں کے دروازے نہ کھولے جانے کا مفہوم تفسیر بحر محیط میں حضرت عبد اللہ بن عباس ( رض) سے اس آیت کی تفسیر میں یہ نقل کیا گیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے اعمال اور ان کی دعائوں کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے یعنی ان کا کوئی عمل قبولیت کے مقام کو نہیں پہنچے گا اور اسی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کی کوئی دعا بھی قبول نہیں ہوگی کیونکہ اعمال کی قبولیت کا دارومدار ایمان پر ہے جب کسی کو ایمان کی دولت نصیب ہوتی ہے تو اس کے اعمال کو آسمانوں میں اس جگہ رکھا جاتا ہے جس کو قرآن کریم میں علیین کہا گیا ہے اور جب کسی کے اعمال قبولیت کے مقام کو پہنچ جاتے ہیں تو پھر ان اعمال کی برکت سے اللہ تعالیٰ صاحب عمل کی دعائیں بھی قبول فرماتا ہے۔ قرآن کریم میں ایک دوسری آیت میں اسی مضمون کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جس میں ارشاد ہے : اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗ ط (فاطر : 10) یعنی انسان کے کلمات الطیبات ‘ اللہ کے پاس لے جائے جاتے ہیں اور ان کا نیک عمل ان کو اٹھاتا ہے۔ یعنی انسان کے اعمال صالحہ انسان کی مناجاتوں اور دعائوں کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک پہنچانے کا باعث بنتے ہیں اور جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں کہ کسی بھی عمل کو عمل صالح بننے کے لیے ایمان کی ضرورت ہے اور کسی بھی دعا کو قبولیت کے مقام تک پہنچنے کے لیے عمل صالح کی ضرورت ہے اور یہ آپس میں لازم و ملزوم ہیں اگر ایمان میسر نہیں ہوگا تو کسی عمل کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوگی اور اگر اعمال صالح نہیں ہوں گے یعنی شریعت کے مطابق نہیں ہوں گے تو اللہ کے یہاں دعائیں قبولیت کا مقام حاصل نہیں کر پائیں گی۔ یہ صحیح ہے کہ دعائیں تو اللہ کافروں کی بھی سنتا ہے اور بدعمل مسلمانوں کی بھی لیکن اس حوالے سے یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جہاں تک کافر کی دعائوں کا تعلق ہے ان کی دعائیں اس لیے سنی جاتی ہیں تاکہ دنیا میں وہ جو انسانی بھلائی کے کام کرتے ہیں ان کا بدلہ ان کو دنیا ہی میں دے دیا جائے اور رزق اور زندگی اور اس کے متعلقات کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے ذمے لے رکھا ہے وہ اس لیے عطا کردیا جاتا ہے تاکہ قیامت کے دن اسی کے حوالے سے ان سے ایمان نہ لانے کی بازپرس کی جائے۔ البتہ بدعمل مسلمانوں کی دعائیں اس لیے بعض دفعہ قبول کرلی جاتی ہیں تاکہ یہی دعائیں اور اس کے جواب میں عطا کی جانے والی نعمتیں ان کے لیے آزمائش بنادی جائیں اور اس طرح انھیں آزمایا جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں پا کر شکر کرتے ہیں یا کفران نعمت کرتے ہیں لیکن وہ دعائیں جو انسان کے لیے خیر کا باعث بنتی ہیں اور جس سے ایک مومن کے ایمان و عمل میں ترقی ہوتی ہے اور جس کے نتیجے میں دلوں کو سکون کی دولت ملتی ہے یہ دعائیں تو صرف اسی وقت نصیب ہوتی ہیں جب انسان اعمال صالحہ کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور اگر وہ اس میں کوتاہی کرتا ہے تو بعض دفعہ دنیا ہی میں اس کو تنبہ کرنے یا آزمائش کے لیے بعض تکالیف میں مبتلا کیا جاتا ہے اور پھر جب وہ اپنے رب کو ان تکالیف کے ازالے کے لیے پکارتا ہے اور بار بار اپنی مصیبتوں کا حوالہ دیتا ہے تو ادھر سے ایک ہی آواز آتی ہے جس کو اکبر مرحوم نے نہایت احسن طریق سے ذکر کیا ہے ؎ جب میں کہتا ہوں کہ یا اللہ میرا حال دیکھ حکم ہوتا ہے کہ اپنا نامہ اعمال دیکھ تو اس تفسیر کے مطابق یہاں یہی فرمایا جا رہا ہے کہ ان کے لیے آسمانوں کے دروازے نہیں کھولے جاتے یعنی نہ ان کے اعمال قبولیت کا مقام پاتے ہیں اور نہ ان کی دعائیں سنی جاتی ہیں۔ ایک اور روایت میں حضرت عبد اللہ ابن عباس ( رض) اور بعض دوسرے صحابہ کرام سے اس آیت کی تفسیر میں یہ بات نقل کی گئی ہے کہ آسمان کے دروازے نہ کھولے جانے سے مراد یہ ہے کہ کفار کی ارواح کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے یعنی ان کی روحیں نیچے پٹخ دی جائیں گی۔ اس روایت کی تائید حضرت براء ابن عازب ( رض) کی روایت کردہ ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے جسے ایک سے زیادہ محدثین نے ذکر کیا ہے جس کا اختصار یہ ہے کہ : رسول اللہ ﷺ کسی انصاری صحابی کے جنازہ میں تشریف لے گئے۔ ابھی قبر کی تیاری میں کچھ دیر تھی تو ایک جگہ بیٹھ گئے اور صحابہ کرام آپ ﷺ کے گرد خاموش بیٹھ گئے ‘ آپ نے سر مبارک اٹھا کر فرمایا کہ مومن بندہ کے لیے جب موت کا وقت آتا ہے تو آسمان سے سفید چمکتے ہوئے چہروں والے فرشتے آتے ہیں جن کے ساتھ جنت کا کفن اور خوشبو ہوتی ہے اور وہ مرنے والے کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں ‘ پھر فرشتہ موت عزرائیل (علیہ السلام) آتے ہیں اور اس کی روح کو خطاب کرتے ہیں کہ اے نفس مطمئنہ رب کی مغفرت اور خوشنودی کے لیے نکلو ‘ اس وقت اس کی روح اس طرح بدن سے بآسانی نکل جاتی ہے جیسے کسی مشکیزہ کا دہانہ کھول دیا جائے تو اس کا پانی نکل جاتا ہے ‘ اس کی روح کو فرشتہ موت اپنے ہاتھ میں لے کر ان فرشتوں کے حوالہ کردیتا ہے ‘ یہ فرشتے اس کو لے کر چلتے ہیں ‘ جہاں ان کو کوئی فرشتوں کا گروہ ملتا ہے وہ پوچھتے ہیں یہ پاک روح کس کی ہے ‘ یہ حضرات اس کا وہ نام و لقب لیتے ہیں جو عزت و احترام کے لیے اس کے واسطے دنیا میں استعمال کیا جاتا تھا اور کہتے ہیں کہ یہ فلاں ابن فلاں ہے۔ یہاں تک کہ یہ فرشتے روح کو لے کر پہلے آسمان پر پہنچتے ہیں اور دروازہ کھلواتے ہیں ‘ دروازہ کھولا جاتا ہے۔ یہاں سے اور فرشتے بھی ان کے ساتھ ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں۔ اس وقت حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے اس بندے کا اعمال نامہ علیین میں رکھو اور خود اس کو واپس کردو یہ روح پھر لوٹ کر قبر میں آتی ہے اور قبر میں حساب لینے والے فرشتے آکر اس کو بٹھاتے اور سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے اور تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ تعالیٰ ہے اور دین اسلام ہے۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ یہ بزرگ جو تمہارے لیے بھیجے گئے ہیں کون ہیں ؟ وہ کہتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ ہیں ‘ اس وقت ایک آسمانی ندا آتی ہے کہ میرا بندہ سچا ہے ‘ اس کے لیے جنت کا فرش بچھا دو اور جنت کا لباس پہنا دو اور جنت کی طرف اس کا دروازہ کھول دو اس دروازہ سے اس کو جنت کی خوشبوئیں اور ہوائیں آنے لگتی ہیں اور اس کا نیک عمل ایک حسین صورت میں اس کے پاس اس کو مانوس کرنے کے لیے آجاتا ہے۔ اس کے بالمقابل کافر و منکر کا جب وقت موت آتا ہے تو آسمان سے سیاہ رنگ مہیب صورت فرشتے خراب قسم کا ٹاٹ لے کر آتے ہیں اور بالمقابل بیٹھ جاتے ہیں ‘ پھر فرشتہ موت اس کی روح اس طرح نکالتا ہے جیسے کوئی خار دار شاخ جو گیلی اون میں لپٹی ہوئی ہو اس میں سے کھینچی جائے ‘ یہ روح نکلتی ہے تو اس کی بدبو مردار جانور کی بدبو سے بھی زیادہ تیز ہوتی ہے ‘ فرشتے اس کو لے کر چلتے ہیں ‘ راہ میں جو دوسرے فرشتے ملتے ہیں تو پوچھتے ہیں کہ یہ کس خبیث کی روح ہے ‘ یہ حضرات اس وقت اس کا وہ برے سے برا نام و لقب ذکر کرتے ہیں جن کے ساتھ وہ دنیا میں پکارا جاتا تھا کہ یہ فلاں بن فلاں ہے ‘ یہاں تک کہ سب سے پہلے آسمان پر پہنچ کر دروازہ کھولنے کے لیے کہتے ہیں تو اس کے لیے آسمان کا دروازہ نہیں کھولا جاتا بلکہ حکم ہوتا ہے کہ اس بندہ کا اعمال نامہ سجین میں رکھو جہاں نافرمان بندوں کے اعمال نامے رکھے جاتے ہیں اور اس روح کو پھینک دیا جاتا ہے ‘ وہ بدن میں دوبارہ آتی ہے فرشتے اس کو بٹھا کر اس سے بھی وہی سوالات کرتے ہیں جو مومن بندہ سے کیے تھے ‘ یہ سب کا جواب یہ دیتا ہے ھَاہْ ھَاہْ لَا اَدْرِیْ یعنی میں کچھ نہیں جانتا ‘ اس کے لیے… جہنم کا فرش ‘ جہنم کا لباس دے دیا جاتا ہے اور جہنم کی طرف دروازہ کھول دیا جاتا ہے جس سے اس کو جہنم کی آنچ اور گرمی پہنچتی رہتی ہے اور اس کی قبر اس پر تنگ کردی جاتی ہے۔ نعوذ باللہ منہ اس حدیث سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کفار کی ارواح آسمان تک لے جائی تو جاتی ہیں لیکن آسمان کا دروازہ ان کے لیے نہیں کھلتا وہ وہیں سے پھینک دی جاتی ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں آیت کے اس ٹکڑے کا مفہوم تو واضح ہے البتہ اس کا مرادی معنی مراد لیتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ضمنی طور پر اس آیت سے یہ بات بھی مفہوم ہوتی ہے کہ جس طرح آسمان پر صاحب ایمان لوگوں کا خیر مقدم ہوگا اور وہ نہایت عزت و احترام سے جنت میں لے جائے جائیں گے۔ اس کے بالکل برعکس کافروں کے ساتھ نہایت توہین آمیز رویہ اختیار کیا جائے گا۔ انھیں مجرموں اور بدمعاشوں کی طرح ہنکاتے ہوئے اس مقام تک پہنچا دیا جائے گا جو ان کے لیے مقدر ہوگا۔ اس کے بعد کے جملے کہ وہ کافر لوگ جنت میں داخل نہیں ہوں گے تاوقتیکہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہ ہوجائے۔ یہ اس قسم کا اسلوب بیان ہے جس کو تعلیق بالمحال کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح اونٹ کے سوئی کے ناکے میں داخل ہونا محال ہے اسی طرح ان متکبرین کا جنت میں داخل ہونا بھی محال ہے۔ تعبیر کا یہ اسلوب قدیم صحیفوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔ مثلاً انجیل میں ہے : (اور یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ دولت مند کا آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونا مشکل ہے اور پھر تم سے کہتا ہوں کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے سے نکل جانا اس سے آسان ہے کہ دولت مند خدا کی بادشاہی میں داخل ہو) استکبار کا انجام قرآن اور انجیل کی تعبیر میں بس یہ فرق ہے کہ سیدنا مسیح نے سبب استکبار یعنی دولت کا حوالہ دیا ہے اور قرآن نے اصل جرم یعنی استکبار کا اور پیچھے ہم حضرت آدم اور ابلیس کے قصے میں یہ پڑھ چکے ہیں کہ ابلیس کے جنت سے نکالے جانے کا اصل سبب استکبار ہی تھا کیونکہ استکبار ایک ایسی تباہ کن برائی ہے کہ جس دل میں یہ پیدا ہوجاتی ہے اس کے بعد اس کی روحانی اور اخلاقی موت کا واقع ہونا یقینی ہوجاتا ہے وہ اس کے نتیجے میں قبولیت کی استعداد کھو دیتا ہے وہ ایمان سے اتنا دور نکل جاتا ہے جس کے بعد لوٹ آنے کے سارے امکانات ختم ہوجاتے ہیں ‘ انسانیت دم توڑ جاتی ہے ‘ اخلاق کی ایک ایک قدر آہستہ آہستہ موت کا شکار ہوجاتی ہے ایسی صورت حال میں ایسے شخص کے جنت میں داخل ہونے کی کیا امید کی جاسکتی ہے اس لیے یہ بات فرمائی گئی ہے کہ جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گزرنا قطعی محال ہے اسی طرح ایسے شخص کا داخل ہونا بھی بالکل محال ہے اس میں ہمارے لیے سوچنے کی دعوت بھی موجود ہے کیونکہ جدید تعلیم نے جو فکری گمراہیاں پیدا کی ہیں ان میں سب سے بڑی گمراہی یہ ہے کہ یہاں کا ہر پڑھا لکھا آدمی جہلِ مرکب کا شکار ہے یعنی ایک شخص جس نے ساری عمر انگریزی زبان پڑھی اور ان علوم و فنون کے سیکھنے میں زندگی گزار دی جس کا علوم اسلامی سے کوئی دور کا رشتہ نہیں اور وہ عربی زبان کی شدبدھ سے بھی واقف نہیں لیکن جب کبھی تاریخ مذاہب ‘ حقیقت مذاہب یا خود اسلام پر بات ہوتی ہے تو وہ اپنے آپ کو ایک اتھارٹی سمجھتا ہے اور جن لوگوں نے علوم اسلامیہ کی تحصیل میں عمریں کھپائیں ہیں نہایت تحقیر کے انداز میں ان کی طرف رجوع کرنے سے انکار کردیتا ہے۔ دنیا کے سارے علوم بھی آدمی حاصل کرلے تو یہ سامنے کی بات ہے کہ ان کا تعلق زمینی معلومات اور انسانی عقل سے ہے اور مذہب وحی الٰہی کے نتیجے میں ملتا ہے یہ انسان کی نارسائی سے وجود میں نہیں آیا بلکہ اللہ کی ابدی راہنمائی سے عطا ہوا ہے جس میں کسی غلطی کا امکان نہیں اور یہ ان پیغمبروں کے واسطے سے انسانوں کو پہنچا ہے جو معصوم پیدا ہوتے ہیں اور پھر جس کی تفہیم و تشریح میں ان لوگوں نے زندگیاں کھپائیں ہیں جو تقویٰ اور پارسائی میں اپنی مثال آپ تھے لیکن جو شخص ان تمام کے مقابلے میں اپنی ذات اور اپنے فہم پر اصرار کرتا ہے وہ حقیقتاً استکبار کا مریض ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے اکبر مرحوم نے کہا تھا کہ انھوں نے دین کب سیکھا ہے رہ کر شیخ کے گھر میں پلے کالج کے چکر میں مرے صاحب کے دفتر میں اس آیت کریمہ میں ایسے ہی لوگوں کے لیے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں ایک مجرمین کا اور دوسرا ظالمین کا۔ ایک سے زیادہ مرتبہ ان دونوں الفاظ کی تشریح ہوچکی ہے اسے اگر پیش نظر رکھا جائے تو یہ بات سمجھنا آسان ہوجاتا ہے کہ ایسے لوگ جو استکبار کے مریض ہیں وہ انسانیت کے مجرم بھی ہیں اور خود اپنی جانوں کے لیے ظالم بھی ہیں۔ اگلی آیت کریمہ میں ایسے لوگوں کو قیامت میں جو عذاب دیا جائے گا اس کی مزید شدت کو بیان کیا جا رہا ہے۔
Ayah 7:41

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

ان کے لیے جہنم ہی کا بچھونا اور اوپر سے اسی کا اوڑھنا ہوگا اور ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیں گے۔

لَھُمْ مِّنْ جَھَنَّمَ مِھَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِھِمْ غَوَاشٍ ط وَ کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 41) ” ان کے لیے جہنم ہی کا بچھونا اور اوپر سے اسی کا اوڑھنا ہوگا اور ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیں گے “۔ مھاد۔ غواش کا مفہوم ” مہاد “ کا معنی ہے بچھونا اور ” غواش “ غاشیہ کی جمع ہے جس کا معنی ہے ڈھانپ لینے والی چیز ‘ اس سے مراد ہے اوڑھنا۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے لیے اوپر اور نیچے سے جہنم ہی اوڑھنا بچھونا ہوگی۔ کسی شخص کو نہایت اذیت دینا مقصود ہو تو اس کے لیے سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ اسے دہکتے انگاروں پر لٹا دیا جائے۔ آگ سے بڑا عذاب شاید ہی دنیا میں کوئی ہو۔ آدمی کے جسم کو آگ کی لپٹ بھی چھو جائے تو ناقابل برداشت ہوتی ہے چہ جائیکہ اسے آگ کے بستر پر لٹا دیا جائے جب تک اس کی کھال جل کر اور اس کی چربی پگھل کر اس کے کوئلوں کو نہیں بجھاتی اس کی اذیت میں کمی نہیں آسکتی لیکن ایسی اذیت کے بارے میں تصور کرنا بھی کس قدر تکلیف دہ ہے جس میں صرف آگ کا بسترہی نہ ہو بلکہ اس کے اوپر بھی آگ کا لحاف دے دیا جائے یعنی نیچے دہکتے انگارے بچھا دیئے جائیں اور اوپر آگ ہی سے اسے ڈھانپ دیا جائے۔ اس ہولناک عذاب کا تصور کرنا بھی انسانی احساس کے لیے بہت تکلیف دہ ہے چہ جائیکہ اسے برداشت کرنا۔ چناچہ یہاں اس عذاب کو ان مستکبرین کے لیے بیان کیا جا رہا ہے کہ قیامت کے دن یہ لوگ اس عذاب سے دوچار کیے جائیں گے۔ اے کاش ! آج دنیا میں اس عذاب سے بچنے کے لیے وہ کوئی کوشش کریں۔ اصلاح و تربیت کے دو موثر طریقے دنیا میں اصلاح اور تربیت کے لیے جتنے طریقے اختیار کیے گئے ہیں یا جتنے اسلوب آزمائے گئے ہیں ان میں سب سے موثر دو ہی طریقے ہیں ایک ہے ترغیب اور دوسرا ہے ترہیب یعنی کسی بھی آدمی کو اگر آپ آمادہ عمل کرنا چاہیں تو اسے یا تو اس کے عمل کے نتیجے کے طور پر کسی بہت بڑے انعام کی ترغیب دیجئے اور یا پھر اسے کسی بہت برے انجام سے ڈرایئے یہی دو طریقے ہیں جس سے کسی بھی شخص کو آمادہ حرکت یا آمادہ عمل کیا جاسکتا ہے۔ آپ نے بارہا تجربہ کیا ہوگا کہ ایک شخص جو کوئی پابندی قبول کرنے یا کسی طرح کی زحمت اٹھانے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتا لیکن اگر آپ اسے یقین دلا دیجئے کہ اس کے نتیجے میں تمہیں بہت بڑا کوئی منصب مل سکتا ہے یا کوئی مالی منفعت حاصل ہوسکتی ہے تو آپ کو یہ دیکھ کر حیرت ہوگی کہ وہ شخص سرتاپا عمل بن جائے گا۔ مثال کے طور پر ایک شخص اپنے گھر میں لحاف میں لپٹا پڑا ہے شدید سردی کا موسم اور باہر ہلکی پھلکی پھوار اور یخ بستہ رات۔ اس کی بیوی کو اچانک یاد آتا ہے کہ صحن میں کچھ چیزیں پڑی رہ گئی ہیں نہ اٹھائی گئیں تو بارش سے خراب ہوجائیں گی وہ بچے کو لیے لیٹی ہوئی اپنے شوہر سے کہتی ہے کہ میں اس حال میں اٹھ کر اگر باہر نکلوں گی تو اندیشہ ہے کہیں بیمار نہ پڑجاؤں۔ آپ ماشاء اللہ صحت مند ہیں باہر جائیں اور صحن میں جو چیزیں پڑی ہیں وہ اٹھا لائیں وہ کہتا ہے بھاڑ میں جائیں یہ چیزیں میں ان کی خاطر اپنی صحت کو دائو پر نہیں لگا سکتا۔ اس نے ہرچند اصرار کیا لیکن یہ شخص اپنے لحاف سے نکلنے پر آمادہ نہ ہوا۔ اچانک باہر دروازے پر دستک ہوئی اس نے وہیں سے پکار کر پوچھا کون ہے جواب ملا کہ یہاں سے چار میل کے فاصلے پر گیسٹ ہائوس سے میں آیا ہوں وہاں تیرے افسر اعلیٰ تشریف لائے ہیں انھوں نے اسی وقت تمہیں طلب کیا ہے اگر تم نے تساہل کیا تو نوکری سے نکال دیئے جاؤ گے یہ شخص جو لحاف سے نکلنے پر مستعد نہیں تھا وہ فوراً لحاف سے نکلا گرم کپڑے پہنے ‘ دُھسہ اوڑھا ‘ چھتری لی اور اس کے ساتھ ہوگیا۔ چار میل گیا اور چار میل واپس آیا لیکن سردی نے نہ جانے سے اسے روکا اور نہ آنے سے جبکہ یہ شخص اپنے صحن تک جانے کے لیے تیار نہیں تھا دونوں طرح کی صورتحال میں فرق یہ ہے کہ اس کے صحن میں جو چیزیں پڑی خراب ہو رہی تھیں وہ اتنی قیمتی نہیں تھیں جسے یہ آسانی سے بنا نہ سکتا ہو اس لیے ان چیزوں کی خرابی کا ڈر اس کو ہلانے میں کامیاب نہ ہوسکا لیکن جب اس کے سامنے ایک ایسا خوف آیا یعنی نوکری سے نکالے جانے کا تو فوراً اس کی قوت متخیلہ نے پوری صورتحال کو اس کے سامنے متشکل کردیا۔ اس نے تصور میں دیکھا کہ اگر میری نوکری جاتی رہی تو گھر کا چولہا بجھ جائے گا ‘ بچے سکول کی فیس نہیں دے سکیں گے ‘ کرائے کا مکان چھن جائے گا ‘ ہمارا سامان فٹ پاتھ پر پڑا ہوگا ‘ زندگی موت سے بدتر ہوجائے گی۔ اس خوفناک انجام نے اس کو ہلا کے رکھ دیا اور وہ سردی کا مقابلہ کرنے پر تیار ہوگیا۔ اسی طرح آپ دیکھتے ہیں کہ غلامی کے دنوں میں لوگوں نے مالی فوائد کی خاطر ایمان بیچے ‘ عہدہ و منصب کی خاطر اسلامی غیرت کو تیاگ دیا ‘ جاگیریں حاصل کرنے کے لیے اپنی قوم کے افراد جنگوں میں جھونک دیئے ‘ محض فاتحین کا قرب حاصل کرنے کے لیے آزادی کے بدلے میں غلامی لے لی۔ اس سے یہ بات سمجھنا آسان ہوجاتا ہے کہ ترغیب اور ترہیب یہ دو ایسے محرکات ہیں جو انسان کو غلط یا صحیح کرنے پر آمادہ کردیتے ہیں۔ قرآن کریم کا اسلوب بھی یہ ہے کہ اس نے جہاں پاکیزہ فکر اور طہارت قلب کے ذریعے انسان کو بدلا وہیں اسے ان دونوں فطری محرکات سے بھی آمادہ عمل کرنے کی کوشش کی چناچہ پہلے جہنم کے عذاب کا ذکر فرما کر ترہیبی محرک کا ذکر کیا اور اب اگلی آیتوں میں جنت اور اس کی نعمتوں کا ذکر فرمایا جا رہا ہے تاکہ انسان کو اندازہ ہو سکے کہ اگر میں ایمانی زندگی اختیار کروں تو مجھے دنیا اور آخرت میں ایک آسودہ اور کامیاب زندگی نصیب ہوسکتی ہے
Ayah 7:42

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:42 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک کام کیے ‘ ہم کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے ‘ وہی جنت والے ہیں ‘ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

چناچہ ارشاد فرمایا : وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُکلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَآ ز اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (الاعراف : 42) ” اور جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک کام کیے ‘ ہم کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے ‘ وہی جنت والے ہیں ‘ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے “۔ سابقہ آیت کریمہ میں اہل جہنم کا جو طرز عمل بیان فرمایا گیا تھا یہ اس کے بالکل برعکس ہے کہ وہ لوگ پیغمبر اور اس کی دعوت کی تکذیب کرتے تھے یہ لوگ ایمان لاتے ہیں انھوں نے استکبار کا رویہ اختیار کیا ‘ ان کی زندگی کا اصل سرمایہ عمل صالح یعنی حسن عمل ہے اس کا منطقی نتیجہ ایک ہی ہونا چاہیے کہ وہ لوگ اپنے برے طرز عمل کے باعث اپنے برے انجام کو پہنچے اور یہ اپنے خوب صورت طرز عمل کے باعث اللہ کی جنت کے مستحق ہوئے یہ تو وہ بات ہے جو قرآن کریم میں بار بار دہرائی گئی ہے کیونکہ اصلاً یہی بات ہے جو دل و دماغ میں راسخ کرنے کی ضرورت ہے اور اسی کے نتیجے میں غلبہ دین کی منزل قریب آسکتی ہے اور انسان اپنی حقیقی زندگی اور حقیقی مقصد کو پاسکتا ہے لیکن اس آیت کریمہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایمان اور عمل صالح اور اس کے نتیجے کے درمیان ایک جملہ ارشاد فرمایا گیا ہے : لَا نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا آخر اس کی کیا ضرورت تھی ؟ واقعہ یہ ہے کہ اسلام ایک فطری دین ہے جس طرح اس کے احکام فطرت پر مبنی ہیں اسی طرح اس کی دعوت بھی سراسر اپنے اندر فطری اسلوب رکھتی ہے اس لیے اس میں دعوت کے سلسلے میں ترغیب اور ترہیب سے کام لیا گیا ہے کیونکہ انسانی فطرت اس کے بغیر متوجہ ہی نہیں ہوتی یہ جملہ بھی اصلاً انسانی فطرت کی ایک ضرورت ہے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اس جملہ کو لایا گیا ہے۔ انسانی احساس یہ ہے یا انسانی فطرت یہ ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے لیے پابندیاں پسند نہیں کرتی اور جہاں بھی اسے مشکلات سے گزرنا پڑے وہ اس سے کوسوں دور بھاگتی ہے اور جہاں تک تعلق ہے ایمان و عمل کا وہ تو سراسر ایک مشکل گھاٹی ہے جس پر چڑھنا آسان نہیں۔ ایمان دل و دماغ کی پاکیزگی اور نظریاتی یکسوئی کا نام ہے جبکہ عقل نارسا کی نارسائیاں اور اس کج فکر کی کج ادائیاں اور طاغوتی قوتوں کی طرف سے پیدا کردہ فکری پیچیدگیاں اور موہوم غیر مرئی قوتوں کے حوالے سے دل و دماغ میں در آنے والے واہمے اور خدشات اور اقتدار کی ہر چوکھٹ پر جھکانے کی کوششیں کسی طرح بھی دل و دماغ کو یکسو نہیں رہنے دیتیں اسی طرح عمل صالح نام ہے اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی غیر مشروط اطاعت اور اللہ اور اس کے رسول سے بےپناہ وابستگی کا جبکہ خواہشات کی ہمہ گیری اور مفادات سے وابستگی انسان کو قدم قدم پر اللہ کی اطاعت سے پھیرتی اور اللہ اور اس کے رسول سے وابستگی سے کنارہ کرنے کی تلقین کرتی ہے۔ آج بھی آپ کسی تعلیم یافتہ آدمی سے اسلامی عقائد اور اسلامی احکام کے حوالے سے بات کر کے دیکھئے وہ ہر اسلامی عقیدے میں قدم قدم پر تشکک اور اضطراب کا اظہار کرے گا اور شرعی احکام کو آج کے دور میں ناقابل عمل ٹھہرائے گا۔ آپ کسی بھی دانشور سے کہیئے کہ سچ اچھا ہے یا جھوٹ تو وہ سچ پر پورا لیکچر دے دے گا لیکن اگر آپ اسے سچی زندگی گزارنے کی تلقین کریں تو وہ کانوں پر ہاتھ رکھے گا۔ کسی چھوٹے یا بڑے منصب پر فائز آدمی سے یہ نصیحت کر کے دیکھئے کہ رزق حلال انسانی سیرت و کردار کی پہلی بنیاد ہے جس قوم میں رزق حلال باقی نہیں رہتا وہ صدق مقال سے بھی محروم ہوجاتی ہے اور پھر اس کی زندگی سیرت و کردار کے ایسے عوارض کا شکار ہوتی ہے کہ انفرادی اور اجتماعی طور پر ایسی قوم اخلاقیات سے عاری ہو کر رہ جاتی ہے اس لیے صاحب منصب لوگوں کو بالخصوص دوسرے لوگوں کے لیے نمونہ بن کر رزق حلال کی پابندی اختیار کرنی چاہیے اور صرف اپنی تنخواہوں پر اکتفا کر کے باقی آمدنی کا ہر راستہ بند کردینا چاہیے تو اس کے جواب میں آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ آپ کا مذاق اڑایا جائے گا بلکہ الٹا آپ سے سوال کیا جائے گا کہ کیا اس دور میں صرف تنخواہ پر گزارا کیا جاسکتا ہے ؟ زندگی اس قدر مہنگی ہوگئی ہے اور زندگی کی ضروریات اس قدر گراں ہوگئی ہیں کہ وہ صرف رزق حلال میں تو پوری نہیں کی جاسکتیں۔ یہ اس قوم کے افراد کا حال ہے جو اپنے آپ کو خیر الامم کہتی ہے اور جو اب دنیا میں اللہ کے آخری دین کی امین ہے۔ ایسے ہی احساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے اقبال نے کہا تھا ؎ یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا تصور کیجیے اس وقت کا جب یہ قرآن کریم نازل ہو رہا تھا تو قرآن کریم اپنے مخاطبین کو جب ایمان و عمل کی ترغیب دے رہا تھا تو بجا طور پر سننے والوں کے دلوں میں یہ اندیشے لہرا رہے تھے کہ ایک ایسے دور میں جبکہ ہر طرف دل و دماغ کے لیے آلودگیاں بکھری ہوئی ہیں اور قدم قدم پر بداعمالیوں کے کانٹے بچھے ہوئے ہیں۔ دل و دماغ کی یکسوئی اور سیرت و کردار کی پاکیزگی کا ایسے ماحول میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ ایمان و عمل کی جو دعوت پیش کر رہے ہیں اسے قبول کرلیا جائے ؟ یہی وہ احساسات ہیں جن کے ازالے کے لیے یہ جملہ یہاں لایا گیا ہے۔ مسلسل عبارت کو نامکمل چھوڑ کر اس طرح کسی جملے کا لانا جو اس عبارت سے پیدا ہونے والے خیالات کا ازالہ کر دے اس کو جملہ معترضہ کہتے ہیں چناچہ انہی احساسات کا ازالہ کرتے ہوئے اور ان شبہات کا جواب دینے کے لیے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تمہارا یہ سمجھنا کہ آج کے دور میں ایمان و عمل کے حکم پر عمل کرنا ممکن نہیں یہ سراسر کج فکری یا کوتاہ فہمی ہے اس لیے کہ جس پروردگار نے تمہیں پیدا کیا وہ خوب جانتا ہے کہ اس نے تمہاری فطرت کیسی بنائی ہے تمہیں کس طرح کی صلاحیتوں سے نوازا ہے تم کن باتوں کا تحمل کرسکتے ہو اور کن باتوں پر عمل کرنے سے تم عاجز ہو ؟ اس لیے یہ کیونکر ممکن ہے کہ تمہارا خالق ومالک تمہیں ایسی باتوں کا حکم دے جن باتوں کو قبول کرنا اور عمل کرنا تمہارے لیے ممکن نہیں اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے اپنے اوپریہ بات لازم کرلی ہے کہ ہم کسی کو بھی ایسے حکم کا پابند نہیں ٹھہراتے جس حکم کی تعمیل کی اس میں طاقت نہ ہو۔ اگر تم میں ایمان و عمل کی طاقت نہ ہوتی تو ہم تمہیں کبھی اس بات کا حکم نہ دیتے۔ رہی یہ بات کہ تم اسے اپنی ہمت سے بہت بڑا خیال کرتے ہو تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ حکم تمہاری ہمت سے بڑھ کر ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تم نے اپنی ہمتوں کو بہت حد تک تباہ کر کے رکھ دیا ہے یہ تو بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی آدمی مسلسل بیٹھ کر کام کرنے کی وجہ سے چلنے پھرنے میں دشواری محسوس کرنے لگے اور چند سو گز کا فاصلہ بھی اسے پہاڑ پر چڑھنا محسوس ہو تو کیا آپ یہ کہیں گے کہ یہ چند سو گز کا فاصلہ انسانی ہمت سے بڑی بات ہے۔ یقینا آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ جو آدمی مناسب عمر میں ہوتے ہوئے بھی یہ فاصلہ طے نہیں کرسکتا اس نے اصلاً خود اپنے آپ کو اس ہمت اور توانائی سے محروم کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اتنا فاصلہ طے کرنا انسانی ہمت کے لیے مشکل بات ہے جب کسی نوجوان کو فوج میں بھرتی کیا جاتا ہے تو یہ دیکھ کے کیا جاتا ہے کہ وہ صحت مند آدمی ہو۔ لیکن جب شروع شروع میں ایسے نوجوان کو ٹریننگ سے گزارا جاتا ہے تو وہ چونکہ اس کا عادی نہیں ہوتا اس لیے بہت سارے لوگ اس سے نکل بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن رفتہ رفتہ جب وہ اس ٹریننگ میں لگے رہتے ہیں تو ان کی ہمت ان کا ساتھ دینے لگتی ہے۔ یہی حال پوری انسانی زندگی کا ہے کہ انسان غلط ماحول ‘ غلط تربیت ‘ خواہشات کی بالادستی کی عادت ‘ ارادوں کی کمزوری اور اولوالعزمی کے فقدان کے باعث کسی بھی بڑے کام کی ہمت اپنے اندر نہیں پاتا بلکہ ایسے کام بھی جو انسانی زندگی کے معمولات میں داخل ہیں وہ بھی اس کو دوبھر معلوم ہوتے ہیں۔ مثلاً جو آدمی دن چڑھے تک سو رہنے کا عادی ہوجائے اس کے لیے علی الصبح اٹھناآسان نہیں ہوتا حالانکہ دیر تک سوئے رہنا انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور انسانی معمولات کے لیے الجھنوں کا باعث ہے۔ یہاں بھی یہی بات فرمائی جا رہی ہے کہ ہم نے کوئی ایسا حکم نہیں دیا جو انسانی فطرت پر گراں گزرتا ہو ‘ جو انسانی طاقت کے لیے کلفت کا باعث ہوسکتا ہو لیکن تم اگر اپنے لیے مشکل محسوس کر رہے ہو تو یہ تمہاری اپنی پیدا کردہ ہے۔ اب اس کا علاج یہ نہیں کہ تم ایمان و عمل سے جی چرائو بلکہ اس کا علاج یہ ہے کہ تم اپنی بری عادتوں اور ناپختہ ارادوں سے جان چھڑانے کی کوشش کرو۔ یہ جو کچھ کہا گیا یہ تو عام سطح کی انسانی زندگی کے لیے ہے۔ رہے وہ افراد یا وہ قومیں جن سے کوئی بڑا کام لینا مقصود ہوتا ہے انھیں تو ہمیشہ ذمہ داریاں تفویض کرنے سے پہلے بڑی مشقتوں سے گزارا جاتا ہے جس طرح ہم اوپر فوج کی مثال دے چکے ہیں اور ان سے اس بات کی امید کی جاتی ہے کہ وہ دوسروں سے بڑھ کر اپنے آپ کو مشقتیں برداشت کرنے کا عادی بنائیں کیونکہ جن کے رتبے ہیں سوا ان کی سوا مشکل ہے ایسے ہی نوجوانوں کی تربیت چونکہ اقبال کے پیش نظر تھی اس لیے وہ ہمیشہ تمنا کرتا تھا کہ کاش نوجوانوں میں ایسی صفات پیدا ہوجائیں اس لیے کبھی وہ ترغیب کے انداز میں کہتا ؎ اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد اور کبھی حسرت سے کہتا ؎ جو راہ کی سختی کو سامانِ سفر سمجھے اے وائے تن آسانی کمیاب ہے وہ راہی حقیقت یہ ہے کہ کسی حکم کا نرم یا سخت ‘ قابل عمل یا ناقابل عمل ہونے کا دارومدار بہت حد تک انسانی سوچ پر ہے جس سوچ پر اولوالعزمی غالب ہے اور جو اپنی منزل کو پہچان چکا ہے اور اس کے لیے ہمہ تن آمادہ عمل ہوچکا ہے اس کے لیے کٹھن سے کٹھن حکم بھی ایک معمول کی بات معلوم ہوتی ہے حتیٰ کہ اس راستے میں اسے بڑی سے بڑی قربانی بھی اگر دینا پڑے تو وہ بڑی آسانی سے کر گزرتا ہے انسانی زندگی انسان کے لیے سب سے گراں سب سے قیمتی اور سب سے محبوب متاع ہے لیکن جن لوگوں کے پیش نظر ایسے مقاصد ہوتے ہیں جو انھیں اپنی زندگی سے بھی زیادہ عزیز ہوں تو وہ اپنے مقاصد کے حصول میں زندگی کو بھی نہایت آسانی سے قربان کردیتے ہیں صحابہ کی پوری زندگی اور شہدائے اسلام کی داستانیں ہمیں یہ سمجھانے کے لیے کافی ہیں وہ نہ صرف کہ زندگی قربان کردینے کی ہمت اپنے اندر رکھتے تھے بلکہ اس کے لیے اللہ سے دعائیں مانگتے تھے اور جب کبھی ایسا موقع آتا تھا تو خوشی خوشی اپنی زندگی اللہ کے حوالے کردیتے تھے۔ اسی کی ترجمانی کرتے ہوئے کسی نے کہا تھا ؎ اے دل تمام نفع ہے سودائے عشق میں اک جان کا زیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں قرون اولیٰ کی مثالیں تو بیشمار ہیں وہ تو بارگاہ نبوی کے تربیت یافتہ لوگ تھے یا ان تربیت یافتگان کے تربیت یافتہ تھے لیکن اس دور میں بھی جن لوگوں نے اس راز کو پا لیا ہے ان کی مثالیں کم نہیں۔ افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے وہاں ہزاروں شہداء کی فصل ہماری نظروں کے سامنے کٹی ہے۔ کشمیر ‘ چیچنیا ‘ فلسطین میں آج بھی اسی تاریخ کو دھرایاجا رہا ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ سید قطب شہید کو جب پھانسی کے لیے لے جایا جا رہا تھا تو میں نے ان کی تصویر دیکھی تھی وہ پیچھے پلٹ کے دیکھ رہے تھے اور مسکرا رہے تھے۔ ان کی تصویر کے نیچے کسی نے لکھا تھا ؎ جس شان سے مقتل تک پہنچا وہ شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف یہاں اشارہ فرمایا گیا کہ جو لوگ جنت کے مسافر ہیں اور جنت کا حصول جن کی منزل ہے ان کے لیے ایمان و عمل کے تقاضوں کو پورا کرنا کوئی مشکل کام نہیں اور جن کو یہ کام مشکل معلوم ہوتا ہے انھیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی ہمتوں میں کمزوری ہے اور یہ کمزوری انھوں نے خود پیدا کی ہے ورنہ ہم نے کوئی حکم ایسا نہیں دیا جو ان کی فطری توانائیوں سے بڑھ کر ہو اور ویسے بھی جنت کوئی ایسی معمولی نعمت تو نہیں جسے آسانی سے حاصل کیا جاسکتا ہو جو نعمتیں عظیم ہوتی ہیں ان کے لیے قربانیاں بھی عظیم ہوتی ہیں ؎ بہرِ غفلت یہ تری ہستی نہیں دیکھ جنت اس قدر سستی نہیں اگلی آیت کریمہ میں اہل جنت کو جو نعمتیں عطا فرمائی جائیں گی ان میں سے چند ایک کا ذکر کیا گیا ہے اور ساتھ ہی اہل جنت کے احساسات کو بھی ریکارڈ پر لایا گیا ہے جو بجائے خود ایک نعمت ہے۔