7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsروح القرآن

Ayahs 7:109–110

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 7:109 in the Quran reader

قوم کے سرداروں نے کہا یہ تو بڑا ماہر جادوگر ہے

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 7:110 in the Quran reader

یہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہاری سرزمین سے نکال دے پس تم کیا رائے دیتے ہو۔

گزشتہ رکوع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی فرعون اور آل فرعون کی طرف بعثت کے سلسلے میں جو تفصیل بیان کی گئی ہے ان میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ایک مکالمہ ہے اس میں جو اہم باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں اگرچہ وہ ان آیات کی وضاحت میں مذکور ہو چکیں لیکن آئندہ آیات سے ان کو مربوط کرنے کے لیے ایک ترتیب کے ساتھ میں ان کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلی جو بات ارشاد فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اے فرعون تم جو اپنے آپ کو اپنی رعایا کا سب سے بڑا رب قرار دے رہے ہو یہ سراسر ایک جھوٹ اور فریب ہے تمہارا اور تمہاری رعایا کا رب بھی وہی ہے جو رب العالمین ہے۔ وہ رب العالمین اپنی مخلوق سے کیا چاہتا ہے وہ بتانے کے لیے اس نے مجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اس اہم بات کو سن کر فرعون کا چونک اٹھنا ایک فطری بات تھی۔ اس نے یقینا نہایت حیرانی اور سراسیمگی کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف دیکھا جس سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو۔ مجھے اس کا یقین نہیں آرہا تم میرے ساتھ پلے بڑھے اور جوان ہوئے ہو۔ تم میری طرح کے ایک آدمی ہو ‘ تم نے میری ہی طرح تعلیمی اداروں میں تعلیم پائی ہے اور میری ہی طرح بعض مہمات میں شریک رہے تو یکایک یہ بات کیسے ممکن ہوگئی کہ تمہیں یہ معلوم ہوگیا کہ کوئی اور ذات رب العالمین ہے اور اس نے تمہیں اپنا رسول بنایا ہے۔ اس کی نگاہوں سے یہ سب کچھ پڑھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جس علم کا میں نمائندہ بن کر آیا ہوں تم اس سے بالکل جاہل ہو۔ اس لیے میں تمہیں اس علم حقیقی کے حوالے سے بتاتا ہوں کہ جو اللہ کے رسول ہوتے ہیں وہ کبھی اللہ کے بارے میں غلط بات نہیں کہتے۔ تمہیں پہلے بھی تجربہ ہے کہ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اب اس عمر میں میں اللہ پر جھوٹ کیسے باندھ سکتا ہوں اور مزید یہ کہ میں اگر یہ دعویٰ کر رہا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو جہاں میری سیرت و کردار کی بلندی اور میری دیانت و امانت اس بات کا ثبوت ہے کہ میں واقعی اس کا رسول ہوں اسی طرح ایک اور بات بھی میری رسالت کا ثبوت ہے وہ یہ کہ میں اپنے ساتھ چند نشانیاں بھی لے کر آیا ہوں جنھیں دیکھ کر تمہیں اندازہ ہوجائے گا کہ میں واقعی اللہ کا رسول ہوں۔ وہ رسول کی حقیقت کو ویسے تو نہیں سمجھ سکتا تھا لیکن یہ بات اس کے لیے قابل فہم تھی کہ تم واقعی اپنے ساتھ ایک شناخت بھی لے کر آئے ہو اور وہ چند نشانیاں ہیں جو تمہارے رسول ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انھیں ہمارے سامنے پیش کرو۔ چناچہ عصا اور ید بیضا کی صورت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ نشانیاں اس کے سامنے پیش کیں جس سے وہ بھی اور اس کے اعیان حکومت بھی نہ صرف کہ حیران و ششدر ہوئے بلکہ ایک طرح سے مرعوب اور مبہوت ہو کے رہ گئے۔ اب بجائے اس کے کہ وہ ان نشانیوں کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شناخت سمجھ کر آپ کو اللہ کا رسول مان لیتے وہ نہ صرف کہ انھیں سمجھنے سے قاصر رہے بلکہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے رسالت کے اس دعوے کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ تم مجھ پر ایمان بھی لائو اور بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے کی اجازت دے دو تو انھوں نے اس کے پردے میں اندیشہ ہائے دور دراز کی بو سونگھی اور وہ کچھ محسوس کرنے لگے جس کا ذکر انھوں نے باہمی مشاورت میں کیا۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں ان کی آپس کی مشاورت کا ذکر ہے اور پھر ان خدشات کا اظہار بھی ہے جس کو وہ اس گفتگو میں محسوس کرنے لگے تھے۔ ارشاد فرمایا جا رہا ہے : قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ ھٰذَا الَسٰحِرٌ عَلِیْمٌ۔ یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَکُمْ مِّنْ اَرْضِکُمْ ج فَمَاذَا تَاْ مُرُوْنَ ۔ (الاعراف : 109، 110) ” قوم کے سرداروں نے کہا یہ تو بڑا ماہر جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہاری سرزمین سے نکال دے پس تم کیا رائے دیتے ہو “۔ قومِ فرعون کے سرداروں کی باہمی مشاورت اور اس کے پس پردہ معتقدات یہ قوم فرعون کی باہمی مشاورت ہے جو انھوں نے فرعون کو رائے دینے سے پہلے آپس میں کی ہے اور جس کے نتیجے میں وہ یہ رائے اختیار کرنے پر آمادہ ہوئے کہ موسیٰ جو اپنے آپ کو اللہ کے رسول کہتے ہیں اور جو کچھ انھوں نے ہمارے سامنے دکھایا ہے اس کو وہ رسول ہونے کی نشانی بتاتے ہیں یہ سراسر غلط بات ہے وہ اللہ کے رسول نہیں بلکہ وہ ایک بہت بڑے جادوگر ہیں اور جو کچھ انھوں نے ظاہر کیا ہے وہ سراسر جادوگری کا اظہار ہے اور ساتھ ہی انھوں نے یہ نتیجہ بھی نکالا کہ انھوں نے یہ جو کہا تھا کہ میرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیجو تو اس سے ان کے سیاسی عزائم کا اظہار ہوتا ہے وہ صرف ہماری اصلاح نہیں کرنا چاہتے بلکہ حقیقت میں وہ ہم سے ہمارا ملک چھیننا چاہتے ہیں تو ایک شخص جو جادوگر ہو اور جادوگر بھی بہت کمال کا اور پھر اپنے ساتھ سیاسی عزائم بھی رکھتا ہو تو تم خود سوچو کہ وہ ہمارے لیے کتنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ اس میں سب سے پہلی بات جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ نشانیاں جو سراسر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات تھیں۔ قوم فرعون بجائے انھیں معجزات سمجھنے کے انھیں جادو قرار دے رہے ہیں۔ جتنی قومیں بھی گمراہ ہوئیں اور پھر اللہ کے رسول ان کی ہدایت کے لیے تشریف لائے ‘ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ ہر قوم نے پیغمبروں کے معجزات کو سحر اور شعبدہ بازی قرار دیا۔ کسی نے یہ بات تسلیم نہیں کی کہ یہ معجزات ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس کے ہاتھ سے ان معجزات کا صدور ہو رہا ہے وہ واقعی اللہ کا رسول ہے اس لیے سب سے پہلے تو ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ قوم موسیٰ کی طرح ہر قوم کو یہ جو غلطی لاحق ہوتی رہی ہے اس کا آخر سبب کیا ہے۔ غور و فکر کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی کسی قوم کی طرف اللہ کا رسول آتا ہے تو اس وقت آتا ہے جب وہ قوم اللہ سے برگشتہ ہوچکی ہوتی ہے۔ اولاً تو وہ اللہ کے وجود کو تسلیم نہیں کرتی اور اگر کرتی بھی ہے تو اس کی صفات سے یکسر بےبہرہ ہوچکی ہوتی ہے۔ چناچہ جب پیغمبر اللہ کا نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور پھر معجزات اس کے ہاتھ سے صادر ہوتے ہیں تو قوم یہ سمجھنے سے قاصر رہتی ہے کہ اس طرح کی خرق عادت باتیں کیا جادو کے علاوہ کسی اور طریق سے بھی ظاہر ہوسکتی ہیں ان کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ یہ کائنات جن قوانین کے تحت رواں دواں ہے اور جن قوانین اور اسباب کے تحت اعمال ظہور پذیر ہو رہے ہیں اور مخلوقات کا سفرجاری ہے۔ اس میں کسی طرح سے کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔ سانپ یا اژدھا ہمیشہ سانپ کے انڈے سے نکلتا ہے۔ لکڑی سے اژدھا بن جانا کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ اسی طرح کسی اور چیز کا معمول سے ہٹ کر وجود میں آنا یا کسی چیز کے اثر کا اس سے منفک ہوجانا یا سبب اور مسبب کے رشتے کا شکست ہوجانا یہ انسانوں کی نگاہ میں ممکن نہیں وہ خواہی نہ خواہی اس یقین سے وابستہ ہوتے ہیں کہ جس طرح کائنات کا سفر جاری ہے اس میں کسی طرح کی تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چناچہ پیغمبر جب معجزات دکھاتا ہے تو وہ یہ ماننے کو تیار تو نہیں ہوتے کہ اللہ تعالیٰ سبب اور مسبب کے رشتے کو توڑ بھی سکتا ہے البتہ ان کے سامنے چونکہ سحر اور شعبدہ بازی سے بعض غیر معمولی چیزیں وجود پذیر ہوتی ہیں اس لیے وہ ہر معجزے کو بھی سحر اور جادوہی کا نام دیتے ہیں۔ حالانکہ پیغمبر جن بنیادی باتوں کی اصلاح کے لیے آتا ہے ان میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ دنیا کو یہ بتائے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے ان میں کوئی چیز بھی ذاتی طور پر کسی چیز کی مالک نہیں۔ پانی پیاس بجھاتا ہے ‘ آگ جلاتی ہے ‘ برف ٹھنڈک پہنچاتی ہے ‘ بیج اگتا ہے ‘ بارشیں آبیاری کا کام کرتی ہیں۔ ان تمام چیزوں کے اثرات ذاتی نہیں بلکہ اللہ کے عطا کردہ ہیں۔ ان میں سے کوئی چیز بھی اپنے اثر اور تاثیر میں آزاد نہیں بلکہ ان میں سے ہر چیز کی تاثیر ہر فعل کی فعلیت ‘ ہر سبب کی سببیت اللہ کے فیصلے کے تابع ہے۔ اسی نے پانی میں پیاس بجھانے کی صلاحیت پیدا کی ہے جس طرح وہ یہ صلاحیت پیدا کرنے پر قادر ہے اسی طرح چھین لینے پر بھی قادر ہے۔ جس طرح سانپ انڈے سے نکلنے والے جرثومے سے پیدا ہوتا ہے اسی طرح اللہ اگر چاہے تو لکڑی سے بھی سانپ وجود میں آسکتا ہے۔ آگ ہمیشہ جلاتی ہے لیکن اگر پروردگار کو منظور نہ ہو تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جلانے کی قدرت نہیں رکھتی۔ چھری ہمیشہ کاٹتی ہے لیکن جب پروردگار نہ چاہیں تو وہ ابراہیم خلیل اللہ کے ہاتھ میں بھی کاٹنے سے معذور ہوجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی موثر اور قادر مطلق ذات صرف اللہ وحدہٗ لاشریک کی ہے۔ جس طرح اشیاء کی تاثیر میں وہ قادر مطلق اور حاکم حقیقی ہے اسی طرح انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں راہنمائی دینا ‘ مطلق اطاعت اور بندگی کروانا اور حاکمیت کے لیے آئین و قانون بہم پہنچانا یہ بھی اسی کی صفات ہیں اور ان میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ یہی باتیں ہر رسول اپنی قوم کو سمجھانے کے لیے آتا ہے۔ اس لیے جب وہ یہ کہتا ہے کہ اللہ رب العالمین ہے تو دنیا میں ہر ایک کی حاکمیت کی جڑ کٹ جاتی ہے اور پھر جب وہ یہ کہتا ہے کہ میں اس کا رسول ہوں تو دنیا میں ہر راہنمائی کا ذریعہ اور ہر حاکمیت کا طریقہ آپ اپنی موت مرجاتا ہے۔ اس لیے دنیا جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتی اس وقت تک وہ معجزات کی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہتی ہے۔ چناچہ فرعون اور آل فرعون بھی اسی مخمصہ میں گرفتار تھے جسے ان کی بےبصیرتی نے پیدا کیا تھا مزید ایک بات جو ان کے لیے پریشانی کا باعث تھی وہ یہ تھی کہ جب موسیٰ یہ کہتا ہے کہ میں رب العالمین کا نمائندہ ہوں تو اس سے خود بخود یہ بات نکلتی ہے کہ جس طرح رب العالمین کی موجودگی میں کسی اور کی ربوبیت تسلیم نہیں کی جاسکتی اسی طرح اس کا نمائندہ بھی کسی اور کی حاکمیت قبول کرنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوسکتا۔ وہ حقیقت میں جب اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے تو وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ تم نے یہ جو حاکمیت کے لیے تخت اقتدار بچھا رکھا ہے اور تم نے اللہ کی مخلوق کو جس طرح اپنا غلام بنا رکھا ہے میرے آجانے کے بعد ان میں سے کسی کے لیے کوئی سند جواز نہیں۔ اب صرف رب العالمین کی حاکمیت ہوگی اور میں دنیا میں اس کا نمائندہ ہو کر اس کے ایمان لانے والے بندوں پر اور ان کے واسطے سے دوسرے لوگوں پر اس کی حاکمیت کو نافذ کروں گا۔ اس سے خود بخود یہ بات نکلتی ہے کہ جب اللہ کی حاکمیت نافذ ہوگی اور موسیٰ اور اس پر ایمان لانے والے حکومت کریں گے تو پھر فرعون اور آل فرعون کے لیے کہاں گنجائش ہوگی۔ انھیں یا تو ایمان لانا ہوگا اور یا اس ملک سے نکل جانا ہوگا اور تیسری بات جس سے انھوں نے بڑی شدت سے خطرہ محسوس کیا وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ مطالبہ تھا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دیجئے۔ اب اگر اس مطالبے کو تسلیم کرلیا جاتا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ایک ایسی قوم جس کی تعداد لاکھوں میں ہے اور جو محض اس لیے مغلوب ہے کہ فرعونیوں نے اسے اپنا غلام بنا رکھا ہے اور غلامی نے نہ صرف ان کی تمام صلاحیتوں کو ختم کر کے رکھ دیا ہے بلکہ ان کی اجتماعیت بھی دم توڑ چکی ہے ‘ اولوالعزمی کا دور دور تک ان میں پتہ نہیں ‘ وہ افراد کا ایک انبوہ ہے جس میں زندگی نام کی کوئی شے نہیں۔ اب اگر موسیٰ (علیہ السلام) جیسا ایک مضبوط اور بیدار مغز لیڈر ان کو میسر آجاتا ہے جو اپنی ذہنی عبقریت ‘ اپنی علمی صلاحیت ‘ اپنی انتظامی قابلیت اور اپنے تجربے کی بنیاد پر فرعون اور آل فرعون کے یہاں ایک مسلمہ حیثیت کا مالک ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ کس طرح شہزادوں کی طرح پلا بڑھا اور کس طرح اس نے اداروں کو چلانے کی تربیت پائی اور تلمود کی روایت کے مطابق افریقہ میں کس طرح وہ کامیاب لڑائیاں لڑ کر اپنے آپ کو ایک کامیاب جنرل ثابت کرچکا ہے تو لاکھوں پر مشتمل ایک قوم جب ایک ایسے عبقری کی راہنمائی میں زندگی کے آداب سیکھے اور وہ ان میں شیرازہ بندی کرنے میں کامیاب ہوجائے تو کیا قومی بقا کا خطرہ پیدا نہیں ہوجاتا ؟ یہ وہ اندیشہ ہائے دور دراز تھے جس کی بنیاد پر انھوں نے یہ خدشہ محسوس کیا کہ موسیٰ اپنی پیغمبری کے پردے میں اصلاً اس ملک پر حکومت کرنا چاہتا ہے اس لیے ہمیں نہایت احتیاط کے ساتھ اس مصیبت کا کوئی حل نکالنا چاہیے۔ یہاں ایک اور بات بھی قابل توجہ ہے وہ یہ کہ قوم فرعون نے اپنے لیے جن خطرات کو محسوس کیا ممکن ہے آگے چل کر وہ حقیقت ثابت ہوں لیکن موجود لمحوں میں تو اس کا دور دور کوئی امکان نہیں تھا۔ موسیٰ اور ہارون دو بےنوا افراد ہیں جن کی قوم غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ عصا اور ید بیضا کے سوا کوئی قوت نہیں۔ آخر فرعون اپنی پولیس کو کیوں حکم نہیں دیتا کہ تم ان دونوں کو قتل کر ڈالو تاکہ تمام خطرات کی جڑ کٹ جائے ؟ اس کی کیا ضرورت ہے کہ وہ ان کے مقابلے کا ڈول ڈالیں اور اس کے اعیانِ حکومت کیوں اس طرح کے اندیشوں میں گھر گئے ہیں جیسے ان کے پائوں تلے سے زمین نکلی جا رہی ہو ؟ بات اصل میں یہ ہے کہ فرعون اور اس کے سردار دونوں حضرت موسیٰ کے معجزات دیکھ کر انتہائی مرعوب ہوگئے تھے ان کو اس بات کا یقین ہوگیا تھا کہ اگر ہم نے موسیٰ اور ہارون پر ہاتھ ڈالا تو وہ مافوق الفطرت قوت جو ان کی پشت پناہی کر رہی ہے وہ یقینا ہمیں تباہ کرنے سے دریغ نہیں کرے گی۔ اس لیے وہ عام معمول کے طریقوں سے ان کا مقابلہ کرنا چاہتے تھے۔ براہ راست ان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں کر رہے تھے۔ چناچہ قوم فرعون کے سرداروں نے بنیادی خطرے کے تعین کے بعد فرعون کو مشورہ دیا :
Ayahs 7:111–112

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

قومِ فرعون کے سرداروں نے کہا ابھی اس کو اور اس کے بھائی کو انتظار میں رکھو اور تمام شہروں میں ہر کارے بھیجو

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

جو تمام ماہر جادوگروں کو جمع کر کے تمہارے پاس لائیں۔

قَالُوْٓا اَرْجِہْ وَاَخَاہُ وَاَرْسِلْ فِی الْمَدَ آئِنِ حٰشِرِیْنَ ۔ یَاْتُوْکَ بِکُلِّ سٰحِرٍعَلِیْمٍ ۔ (الاعراف : 111، 112) ” قوم فرعون کے سرداروں نے کہا ابھی اس کو اور اس کے بھائی کو انتظار میں رکھو اور تمام شہروں میں ہر کارے بھیجو جو تمام ماہر جادوگروں کو جمع کر کے تمہارے پاس لائیں “۔ اس آیت کریمہ میں اَرْجِہْ کا لفظ استعمال ہوا ہے یہ اصل میں اَرْجِئہُ ہے اِرْجَاء کے معنی ٹالنے ‘ کسی معاملے کو کسی دوسرے وقت پر مؤخر کرنے اور کسی کو منتظر بنانے کے ہیں۔ قرآن میں اس کے مختلف صیغے استعمال ہوئے ہیں۔ یہاں یہ ہمزہ کے حذف اور ہ کے سکون کے ساتھ آیا ہے۔ تلفظ کا یہ اسلوب اہل عرب کے قاعدے کے مطابق ہے بعض دفعہ وہ لفظ کو ہلکا کرنے کے لیے اس طرح کا تصرف کردیتے ہیں۔ قومِ فرعون کے سرداروں نے فرعون کو مشورہ دیا کہ موسیٰ نے جو نشانیاں ہمارے سامنے پیش کی ہیں وہ اگرچہ سحر اور شعبدہ بازی کی قسم سے ہیں لیکن یہ عام قسم کا سحر اور جادو نہیں اس لیے ہمیں اس کے مقابلے میں کسی جلد بازی کا ثبوت نہیں دینا چاہیے۔ یوں تو اس شہر میں بھی بہت سے جادوگر ہوں گے لیکن ہوسکتا ہے وہ اس سطح کا جادو نہ کرسکیں۔ اس لیے مصلحت کا تقاضہ یہ ہے کہ آپ موسیٰ اور ہارون کو ابھی انتظار میں رکھیں اور ان سے کہیں کہ ہم چند دنوں کے بعد تم سے بات کریں گے اور ہم تمہارے ان معجزات کو دیکھیں گے کہ ان کی اصل حقیقت کیا ہے اور اس دوران آپ اپنے پورے ملک میں اپنے کارندوں کو بھیج دیجئے کہ وہ تمام ملک کے بڑے بڑے جادوگروں کو ایک متعین دن میں یہاں جمع کردیں چناچہ قرآن کریم میں دوسری جگہ بتایا گیا ہے کہ بالآخر موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ طے پایا کہ تمہارے اس جادو کا مقابلہ ہمارے جادوگر کریں گے اور اس کے لیے ہم نے عید کا دن اور دوپہر کا وقت مقرر کیا ہے۔ اس وقت لوگ آسانی سے جمع ہو سکیں گے۔ چناچہ بہت بڑے گرائونڈ میں اس کا انتظام کیا گیا۔ خود مصر کا حکمران اور رب کہلانے والا فرعون بنفسِ نفیس تخت حکومت پر فائز تھا اور تمام اعیان حکومت اس کے پہلو میں تھے۔ فوجیں دائیں پائیں پرے باندھے کھڑی تھیں درمیان میں بےپناہ انسانوں کا ہجوم تھا۔ سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں جادوگر اپنی اپنی جگہ کھڑے حکم کے منتظر تھے اور ایک طرف تنہا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کھڑے تھے کہ اچانک آگے بڑھ کر بڑے بڑے جادوگروں نے ایک التجا کی بلکہ اپنی آرزو کا اظہار کیا جس سے ان کی ذہنی سطح اور اخلاقی پستی کا اندازہ ہوتا ہے۔
Ayahs 7:113–114

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوئے کہنے لگے بڑا صلہ ملے گا ہمیں اگر ہم ہی غالب رہے۔

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

فرعون نے کہا ہاں بیشک اور تم ہمارے مقربین میں بھی داخل ہو گے۔

وَجَآئَ السَّحَرَۃُ فِرْعَوْنَ قَا لُوْآاِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ کُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ ۔ قَالَ نَعَمْ وَاِنَّکُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ ۔ (الاعراف : 114، 113) ” جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوئے کہنے لگے بڑا صلہ ملے گا ہمیں اگر ہم ہی غالب رہے۔ فرعون نے کہا ہاں بیشک اور تم ہمارے مقربین میں بھی داخل ہو گے “۔ جادوگروں کی ذہنی سطح جادوگروں نے جس آرزو اور خواہش کا اظہار کیا ذرا اس پر غور فرمایئے کہ فرعون اور آل فرعون کے سامنے ملکی بقا کا سوال ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ موسیٰ اور ہارون ہم سے ملک اور حکومت چھین لینا چاہتے ہیں اتنے بڑے سنجیدہ خطرے کو محسوس کرتے ہوئے انھوں نے ملک کے نامور جادوگروں کو دارالحکومت میں آنے کی تکلیف دی ہے اور پھر یہ اعزاز ان کے لیے کیا کم ہے کہ خود بادشاہ سلامت انھیں دعوت دے رہے ہیں اور اپنے سامنے انھیں اپنے کمال فن کے اظہار کا موقع دے رہے ہیں لیکن ان کی دناءت اور خست کا عالم یہ ہے کہ وہ بالکل ہمارے میراثیوں اور بھانڈوں کی طرح آتے ہی اپنے مفاد اور اپنی طلب کا اظہار کر کے بھیک مانگنے لگتے ہیں کہ ہم تو اس لیے حاضر ہوئے ہیں کہ اگر آج کے معرکے میں غالب رہے تو بادشاہ سلامت ہمارے گھر دولت سے بھر دیں گے اور ہمیں اتنا نوازیں گے کہ ہماری نسلیں سدھر جائیں گی۔ بادشاہ نے ان کی ذہنی سطح کے مطابق جواب دیا کہ تم معاوضے کی کیا بات کرتے ہو اگر تم نے یہ معرکہ جیت لیا تو ہم جو عطا و بخشش کی بارش کریں گے وہ تو اپنی جگہ رہی ہم تو تمہیں اپنے مقربین میں شامل کرلیں گے۔ ہمارے دربار میں تمہارے لیے کرسی رکھی جائے گی۔ تمہارا شمار ملک کے معزز ترین لوگوں میں ہونے لگے گا۔ قرآن کریم نے جادوگروں کی ذہنی سطح کا نقشہ کھینچ کر ہمارے سامنے کردار کے اعتبار سے انسان کی حقیقت کو کھول کر نمایاں کردیا ہے کہ ذرا غور سے اس منظر کو دیکھو کہ جادوگر اتنے بڑے معرکے میں کامیابی کے بدلے میں کیا مانگ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ انسان جن کا ہدف صرف حیات دنیا ہوتی ہے ان کے اہداف اس سے مختلف نہیں ہوتے۔ ان کی آخری معراج عہدہ و منصب کی ہوس اور درہم و دینار کے انبار سے آگے نہیں بڑھتی۔ وہ چاہے کسی بھی فن کے عروج پر ہوں ہدف ان کا ہمیشہ یکساں رہتا ہے چناچہ یہاں ہمیں اسی کا ایک آئینہ دکھایا گیا ہے اور آگے چل کر انہی جادوگروں کی ایک اور صورت آرائی کی گئی ہے جو اس سے بالکل مختلف ہے جس سے ہمیں بہت سی باتیں سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ چناچہ تھوڑا سا آگے بڑھ کر ہم وہ منظر بھی دیکھیں گے۔ یہاں تو صرف یہ بتایا جا رہا ہے کہ جادوگر جب فرعون کے جواب سے پوری طرح آسودہ ہوگئے تو اب وہ مقابلے کی طرف متوجہ ہوئے اور پیشہ وارانہ اخلاق کا اظہار کرتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا :
Ayahs 7:115–116

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

بولے اے موسیٰ ! یا تو پہلے تم پیش کرو یا ہم ہی پیش کرنے والے بنتے ہیں اس نے کہا تم ہی پیش کرو

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

تو جب انھوں نے پیش کیا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور ان پر دہشت طاری کردی اور بہت بڑا کرتب دکھایا۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِمَّآ اَنْ تُلْقِیَ وَاِمَّآ اَنْ نَّکُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ ۔ قَالَ اَلْقُوْا ج فَلَمَّآ اَلْقَوْا اسَحَرُوْٓا اَعْیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْھَبُوْھُمْ وَ جَآئُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ ۔ (الاعراف : 115، 116) ” بولے اے موسیٰ یا تو پہلے تم پیش کرو یا ہم ہی پیش کرنے والے بنتے ہیں اس نے کہا تم ہی پیش کرو تو جب انھوں نے پیش کیا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور ان پر دہشت طاری کردی اور بہت بڑا کرتب دکھایا “۔ جادوگروں کے جادو کی حقیقت جادوگروں نے کہا : اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تم پہلے اپنے کمال فن کا اظہار کرو گے اور لوگوں کے سامنے اپنا ساحرانہ کارنامہ دکھائو گے اور یا اگر تم چاہو تو ہم پہل کرنے کے لیے تیار ہیں یعنی ہمیں اپنی مہارت پر پوری طرح اعتماد ہے اور ہم تو ظاہر ہے کہ اسی کے لیے چل کر آئے ہیں تم چاہو پہل کرو اور چاہے ہمیں پہل کرنے کی اجازت دے دو ‘ اب یہ فیصلہ ہو ہی جانا چاہیے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو اللہ پر بےپناہ اعتماد رکھتے تھے انھوں نے محض اللہ کے بھروسے پر جواب دیا کہ تم ہی اپنے کرتب دکھائو کیونکہ میرے پاس تو کوئی کرتب نہیں۔ میں تو تمہارے کرتبوں کا توڑ کروں گا میں کوئی جادوگر تو نہیں کہ شعبدہ بازیاں دکھائوں۔ میں تو جس طرح دنیا کا چلن بدلنے کے لیے اٹھا ہوں اسی طرح ہر غلط بات کو ختم کرنا بھی میری ذمہ داری ہے اس لیے تم جادو کے زور سے جس طرح لوگوں کو گمراہ کرتے ہو تم اپنا کام کرو میں تو اس کا ازالہ کروں گا۔ چناچہ جادوگروں نے اپنے کمال فن کا اس طرح اظہار کیا کہ سینکڑوں کی تعداد میں انھوں نے لوگوں کے سامنے لاٹھیاں اور رسیاں بچھا دیں اور پھر کوئی منتر پھونکا تو لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ تمام لاٹھیاں اور رسیاں سانپوں کی طرح حرکت کرنے لگیں۔ اندازہ فرمایئے کہ بےپناہ ہجوم کے درمیان ہزاروں لاٹھیوں رسیوں کا سانپوں کی طرح حرکت کرتے ہوئے لہرانے لگنا کس قدر وحشت ناک منظر ہوگا۔ لوگ سراسیمہ ہو رہے ہوں گا کہ اگر ان سانپوں نے ہماری طرف رخ کرلیا تو ہمارا کیا حال ہوگا اور جادوگر یقینا اپنے کرتب پر اترا رہے ہوں گے اور فرعون اور اس کے اعیانِ حکومت یقینا فخر کر رہے ہوں گے کہ اتنے بڑے جادو کا توڑ کون کرسکتا ہے چناچہ اسی کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم کہتا ہے اور ساتھ ہی ان کے جادو کی حقیقت بھی واشگاف کرتا ہے کہ یہ جو کچھ انھوں نے کیا تھا اس کا نتیجہ یہ تھا کہ انھوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔ ان کی آنکھیں یہی دیکھ رہی تھیں کہ میدان میں سانپ حرکت کرتے دکھائی دیتے ہیں اور یہ منظر دیکھ کر ان کے دل دحشت زدہ ہوگئے تھے اور ان کے نزدیک واقعی جادوگر ایک بہت بڑا جادو لائے تھے جس سے بڑھ کر شاید ناظرین کی نگاہوں میں کسی اور جادو کا تصور بھی ممکن نہ تھا لیکن اس سے یہ حقیقت خودبخود واضح ہوجاتی ہے کہ ان جادوگروں نے جو کچھ بھی کیا وہ فریب نظر کے سوا کچھ نہ تھا۔ نہ لاٹھیوں کی حقیقت بدلی تھی اور نہ رسیوں کی ماہیت تبدیل ہوئی تھی۔ صرف جادوگروں کے جادو کے اثر سے نگاہوں نے غلط دیکھنا شروع کردیا تھا اور وہ وہ کچھ دیکھ رہی تھیں جو انھیں جادوگر دکھانا چاہتے تھے۔ جیسے آج کے دور میں ہپناٹزم ‘ اور میسمریزم کا بہت چرچا ہے۔ یورپ میں جابجا اس کا کھیل دکھانے والے نظر آتے ہیں بلکہ لوگ اس کے ذریعے روزی کماتے ہیں اور اس میں بھی اسکے سوا اور کیا ہوتا ہے کہ ایک شخص دیکھنے والوں کو ہپناٹائز کرلیتا ہے اس کی توجہ کے اثر سے دیکھنے والے وہی کچھ دیکھتے ہیں جو وہ دکھانا چاہتا ہے اور بعض دفعہ وہ اپنی توجہ کے زور سے ایک شخص کو بیہوش کردیتا ہے اور اسکی زبان سے وہی الفاظ ادا ہوتے ہیں جو ہپناٹائز کرنے والا اس سے کہلوانا چاہتا ہے اور بعض دفعہ ایک شخص کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی ہے اور ہپناٹائز کرنے والا شخص اس کے دل میں وہ بات ڈال دیتا ہے جس کی طرف وہ اسے لے جانا چاہتا ہے۔ یہ کھیل آج کی دنیا کا جانا پہچانا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں معلوم ہوتا ہے جادوگروں نے بھی یہی کچھ کیا تھا۔ انھوں نے کسی چیز کی ماہیت نہیں بدلی تھی البتہ ایک طلسم ضرور پیدا کردیا تھا جس نے ناظرین کو مبہوت کر کے رکھ دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے کہ اللہ کی طرف سے وحی آئی :
Ayahs 7:117–119

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ Open ayah 7:117 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ تم اپنا عصا ڈال دو تو وہ دفعتاً نگلنے لگا اس کو جو وہ گھڑتے تھے

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 7:118 in the Quran reader

تو حق ظاہر ہوگیا اور جو کچھ وہ کر رہے تھے وہ سب باطل ہوگیا

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ Open ayah 7:119 in the Quran reader

تو تب وہ مغلوب ہوئے اور ذلیل ہو کر رہ گئے۔

وَ اَوْحَیْنَٓا اِلیٰ مُوسٰٓی اَنْ اَلْقِ عَصَاکَ ج فَاِذَ ھِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْ فِکُوْنَ ۔ فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ فَغُلِبُوْا ھُنَالِکَ وَانْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَ ۔ (الاعراف : 117، 118، 119) ” اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ تم اپنا عصا ڈال دو تو وہ دفعتاً نگلنے لگا اس کو جو وہ گھڑتے تھے تو حق ظاہر ہوگیا اور جو کچھ وہ کر رہے تھے وہ سب باطل ہوگیا تو تب وہ مغلوب ہوئے اور ذلیل ہو کر رہ گئے “۔ اللہ کے حکم کے مطابق جیسے ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا زمین پر ڈالا تو وہ ایک اژدھا بن گیا لوگ جو اب تک جادوگروں کی رسیوں اور لاٹھیوں کو سانپوں کی طرح لہراتا ہوا محسوس کرتے مبہوت اور مرعوب ہو رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ اس بات پر خوش بھی تھے کہ ہمارے جادوگر جیت رہے ہیں ‘ ہمارا نقطہ نگاہ غالب آگیا ہے اب موسیٰ اور ہارون کو فرار کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ملے گا وہ اتنے بڑے جادو کے مقابلے میں کیا کرسکیں گے اور یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ موسیٰ اور ہارون نبوت اور رسالت کے نام پر جو کھڑاک رچا رہے تھے وہ سراسر ایک فریب تھا حقیقت میں وہ بھی جادوگر تھے اور ان کا جادو دوسرے عظیم جادوگروں کے مقابلے میں شکست کھا گیا لیکن جیسے ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا اور وہ اژدھا بن کر سامنے آیا تو دیکھنے والے یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہ سب کچھ نگل گیا جس سے جادوگروں نے ایک تہلکہ مچا رکھا تھا۔ بعض لوگوں نے اس نگل جانے سے یہ مراد لیا ہے کہ وہ تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل گیا لیکن یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ جادو کسی چیز کی ماہیت کو تبدیل نہیں کرتا بلکہ نظروں پر اثر انداز ہو کر زاویہ نگاہ کو بگاڑ دیتا ہے جس سے چیز کی حقیقت اوجھل ہوجاتی ہے اور نظروں کو وہ کچھ دکھائی دیتا ہے جو جادوگر چاہتا ہے۔ یہاں بھی جادوگروں نے یہی کیا تھا، یہ اژدھا جب ان رسیوں اور لاٹھیوں کے اوپر سے گزرا تو جادوگروں نے جو طلسم برپا کر رکھا تھا جس کے نتیجے میں فریبِ نظر کی ایک کیفیت پیدا ہوگئی تھی وہ اس سارے طلسم کو ہڑپ کر گیا اور دیکھنے والوں کو نظر آنے لگا کہ یہ لاٹھیاں تو لاٹھیاں ہی ہیں اور رسیاں رسیاں ہی ہیں اور ہم جو سمجھ رہے تھے وہ فریبِ نظر کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ اس انقلابِ حال کے بعد آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ کیسی صورت حال پیدا ہوگئی ہوگی۔ فرعون ‘ اس کے اعیانِ حکومت ‘ اس کے امراء ‘ اس کی فوجیں اور دیکھنے والوں کا جم غفیر فتح کی جس خوشی میں اب تک سرشار نعرے لگا رہا تھا وہ یکسر ختم ہو کر رہ گیا۔ نعروں پر اوس پڑگئی ‘ پہلے ایک سناٹا طاری ہوا پھر تنی ہوئی گردنیں جھکنے لگیں۔ ہر ایک نے نہایت ندامت اور شرمندگی محسوس کی اور دل اس بات کا اقرار کرنے لگے کہ واقعی حق وہی ہے جسے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) پیش کر رہے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں عصا کی صورت میں اللہ کی تائید و نصرت کا ایک نشان اور اللہ کی جانب سے سند ماموریت ہے جس کو یہ لوگ جادو کا کرشمہ سمجھ رہے تھے۔ اس طرح اس پورے ماحول اور دلوں کی گہرائیوں میں حق غالب آگیا اور ان کی ساری کاوشیں باطل اور برباد ہو کر رہ گئیں۔ اب وہ زبان سے چاہے بولیں یا نہ بولیں لیکن فضا کی ایک ایک لہر بول رہی تھی کہ کس حد تک عبرت کا مقام ہے کہ اپنے آپ کو رب الاعلیٰ کہلانے والا کس ذلت سے دوچار ہو رہا ہے۔ وہ دو بےنوا فقیروں کے سامنے سر جھکائے بیٹھا ہے اور اس کی فوجیں جن کی شجاعت کی دھاک پوری دنیا میں بیٹھی ہوئی تھی وہ نہایت سراسیمگی کی حالت میں کھڑی ہیں۔ اس طرح یہ پورا مجمع ذلت اور رسوائی کی تصویر بن کر رہ گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی رسوائی اور یہی ذلت اتنی بڑی تھی کہ فرعون اور اس کے حواریوں کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے تھا۔ لیکن ابھی وہ اس پر سوچ ہی رہے تھے کہ ذلت کا ایک اور زور دار حملہ ان پر ہوا جس نے انھیں بری طرح پامال کر کے رکھ دیا۔
Ayah 7:120

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ Open ayah 7:120 in the Quran reader

اور جادوگر سجدے میں گرپڑے

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیْنَ ۔ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ رَبِّ مُوْسٰی وَھٰرُوْنَ ۔ (الاعراف : 122، 121، 120) ” اور جادوگر سجدے میں گرپڑے اور پکار اٹھے کہ ہم اس رب العالمین پر ایمان لے آئے جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے “۔ فرعون اور اس کے عمائدین پر شکست کا دوسرازور دار حملہ یہ وہ زور دار اور ناقابل برداشت حملہ تھا جو فرعون اور اس کے درباریوں پر ہوا اور جس نے پورے تماشائیوں کے ہجوم کو ہلا کر رکھ دیا کہ ملک بھر کے نامور جادوگر جنھیں پورے ملک سے تلاش کر کے لایا گیا تھا اور جن کے کمال فن پر بادشاہ اور پورے ملک کے لوگوں کو اس حد تک اعتماد تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کی شکست کو یقینی سمجھ رہے تھے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا اژدھا بن کر جادوگروں کے سارے طلسم کو نگل گیا تو جادوگر اور ان کو لانے والے حق و باطل کے اس معرکے میں اس طرح پسپا ہوئے گویا ان کے مقابل فریق نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مقابلے میں شکست کھائی یہی بات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے برسرحق اور فرعون اور اس کے ماننے والوں کے برسر باطل ہونے کی کافی دلیل تھی اور ایک ایسی چوٹ تھی جس کا مداوا کسی طرح ممکن نہیں تھا اور جس کو فرعون اور اس کے ساتھ باقی تمام لوگ ابھی تک بیٹھے سہلا رہے تھے کہ اس سے بڑی بدقسمتی ان کے سامنے آکھڑی ہوئی کہ ان جادوگروں نے پسپائی اختیار کر کے اپنی شکست کا اعتراف ہی نہیں کیا بلکہ سجدے میں گر کر انھوں نے دو باتیں تسلیم کیں ایک تو یہ بات کہ جس بات پر ہمیں اصرار تھا اس مقابلے نے ثابت کردیا کہ وہ بات جھوٹی تھی اور موسیٰ اور ہارون حق پر تھے اور دوسری یہ بات کہ ہمارا اور موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا سرے سے کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ ہم انتہائی خاکباز لوگ ہیں اور وہ حقیقتوں اور صداقتوں کے آسمان کی رفعتوں کے شن اور ہیں۔ ہم اس قابل نہیں کہ عظمت کے ان میناروں کے سامنے کھڑے رہ سکیں چناچہ ہم ان کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے سامنے سجدہ کرتے ہیں۔ اس سجدے سے دو باتیں مراد لی جاسکتی ہیں ایک تو یہی بات جس کا ابھی ہم نے تذکرہ کیا۔ کسی کی عظمت کے اعتراف میں سجدے میں گر جانا یا رکوع کی طرح جھک جانا مصریوں ‘ عربوں اور اسرائیلیوں میں اس کا عام رواج رہا ہے۔ چناچہ اہل علم جانتے ہیں کہ عرب کے سات عظیم شاعروں میں سے ایک بہت بڑے شاعر لبید بھی ہیں جنھیں اللہ نے ایمان کی توفیق عطا فرمائی۔ حضور کی بعثت سے پہلے عربوں کے ایک مجمع عام میں ان کے ایک شعر پر ان کی عظمت کے اعتراف کے طور پر تمام حاضرین نے سجدہ کیا۔ اس طرح سے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ اپنے وقت کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ یہاں معلوم ہوتا ہے جادوگر بھی اعتراف عظمت کے طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے جھک گئے اور اس صورت حال کی تعبیر کے لیے اس آیت کریمہ میں اُلْقِیَ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو مجہول کا صیغہ ہے۔ جس سے بتانا مقصود ہے کہ جادوگروں کا یہ سجدے میں پڑنا حقیقت میں ان کے جذبہ تعظیم و احترام سے مغلوبیت کا نتیجہ تھا۔ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے احترام اور عقیدت میں اس حد تک سرشار ہوئے کہ ان کے سامنے کھڑا رہنا ان کے لیے مشکل ہوگیا اور دوسرا مطلب اس کا یہ ہوسکتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے اس معجزے کو دیکھ کر انھیں یقین ہوگیا کہ یہ جادوگری نہیں بلکہ معجزہ ہے کیونکہ سحر اور معجزے میں امتیاز ایک جادوگر سے بڑھ کر کسے ہوسکتا ہے۔ ایک جادوگر سحر کی حقیقت اور اس کی حدود کو خوب سمجھتا ہے چناچہ جیسے ہی انھوں نے اس معجزے کو دیکھا وہ جادوگری کے فن میں مہارت کاملہ کے باعث اس یقین سے سرشار ہوگئے کہ یہ جادوگری نہیں بلکہ نبوت و رسالت کا اعجاز ہے۔ چناچہ جیسے ہی انھیں آپ کے نبی اور رسول ہونے کا یقین ہوا اور آپ کی دعوت پر اطمینان ہوگیا اور وہ سمجھ گئے کہ رب العالمین وہی ہے جس کی طرف دعوت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دے رہے ہیں فرعون ہمارا رب نہیں وہ تو ہماری ہی طرح ایک محتاج بندہ ہے جس نے خواہ مخواہ رب ہونے کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ چناچہ وہ بےساختہ اللہ کے سامنے سجدے میں گرگئے۔ جس سے اللہ کی کبریائی کا اعتراف بھی مقصود ہے اور ساتھ ہی اس بات کا شکر بھی کہ اللہ نے ہمیں راہ راست کی ہدایت عطا فرمائی۔ اس لیے سر سجدے سے اٹھاتے ہی انھوں نے اعلان کردیا کہ ہم اس رب العالمین پر ایمان لانے کا اقرار کرتے ہیں جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ ساری کائنات کا رب ہے۔ اندازہ فرمایئے ! فرعون اور آل فرعون کے لیے اس سے بڑھ کر چوٹ اور کیا ہوسکتی تھی کہ ابھی تک تو وہ میدان میں ہارنے کی ذلت کے صدمے ہی سے سنبھل نہیں پائے تھے کہ جادوگروں کے ایمان لانے اور برسرمیدان ایمان کا اعلان کرنے نے انھیں بالکل حواس باختہ کر کے رکھ دیا لیکن داد دینی چاہیے فرعون کو کہ اتنے بڑے حادثے میں بھی اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور صورت حال کو سنبھالنے کی بھی کوشش کی اور تلملاتے ہوئے اس نے پینترا بدلا اور پھنکارتے ہوئے کہا : قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِہٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَکُمْ ج اِنَّ ھٰذَا لَمَکْرٌ مَّکَرْتُمُوْہُ فِی الْمَدِیْنَۃِ لِتُخْرِجُوْا مِنْہَآ اَھْلَہَا ج فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۔ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِ یَکُمْ وَاَرْجَُلَکُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّکُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ (الاعراف : 123، 124) ” فرعون نے کہا تم اس پر ایمان لے آئے ہو اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دوں یہ یقینا کوئی خفیہ سازش ہے جو تم نے شہر میں اس غرض سے کی ہے کہ اس کے باشندوں کو یہاں سے نکالو تو تم عنقریب جان لو گے میں تمہارے ہاتھ اور پائوں بےترتیب کاٹوں گا پھر تم سب کو سولی چڑھائوں گا “۔ فرعون کی ذہانت نے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی فرعون نے کہا کہ تم نے ایمان لانے کے لیے میری اجازت کا انتظار ہی نہیں کیا اور میری اجازت سے پہلے ہی تم ایمان لے آئے ہو۔ اس سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں ایک تو یہ بات کہ فرعون کے زیر حکومت لوگوں میں کوئی بھی فیصلہ کرنے کی آزادی نہ تھی جس طرح ایک ہاری اپنے و ڈیرے کے بغیر اور ایک مزارع اپنے زمیندار کی مرضی کے بغیر عموماً کوئی فیصلہ نہیں کر پاتے کیونکہ یہ لوگ اپنے بڑوں کے سامنے غلامی کی زندگی گزارتے ہیں۔ فرعون کی رعایا کو بھی اس بات کا کوئی حق نہ تھا کہ وہ کوئی بھی فیصلہ اپنی آزادانہ مرضی سے کریں اور مذہب تبدیل کرنا تو عام فیصلوں سے بڑھ کر بات ہے۔ اس کی آزادی کا ایسے بند نظام میں تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے فرعون نے انھیں ڈانٹے ہوئے کہا کہ تم اسی ملک کے رہنے والے ہو تمہیں خوب معلوم ہے کہ یہاں کوئی کام میری مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتا تو پھر تم نے اجازت لیے بغیر مذہب کی تبدیلی کا اعلان کیسے کردیا۔ تمہیں یقینا اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ غلام رعایا کے سامنے جنھیں آزادی کا کبھی سانس نصیب نہیں ہوتا جو قفس میں رہنا ہی اپنے لیے آزادی سمجھتے ہیں۔ فرعون کا اس طرح برہم ہونا کوئی قابل تعجب بات نہ تھی انھیں اس سے کوئی غرض نہ تھی کہ صحیح مذہب کیا ہے اور غلط مذہب کیا ہے وہ تو صرف اتنا جانتے تھے کہ بادشاہ جو ہمارا رب بھی ہے اس کی مرضی کے خلاف کوئی بات اختیار کرنا اور پھر اس کا اعلان کردینا ایک بہت بڑی جسارت ہے جو قابل معافی نہیں اور دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ فرعون نے نہایت حکمت و دانش سے اس صورت حال کو سنبھالتے ہوئے ایک معتدل رویہ اختیار کیا۔ اس نے یہ کہا کہ مجھے اس پر اعتراض نہیں کہ تم نے موسیٰ کی دعوت کو قبول کیوں کیا ؟ یہ ساری مقابلہ آرائی تو اسی مقصد کے لیے تھی کہ اگر موسیٰ اپنی بات میں سچے ثابت ہوں تو ہم خود اس پر غور کریں اور لوگوں کو اسے قبول کرنے کی اجازت دے دیں لیکن تم نے ہماری اجازت کا انتظار کیے بغیر جس جلد بازی سے کام لیا ہے وہ اس لیے غلط ہے کہ ابھی تک اس بات کا فیصلہ نہیں ہوا کہ موسیٰ اور ہارون اپنی بات میں سچے ہیں یا نہیں کیونکہ کسی ایک مقابلے میں کسی ایک جانب کا شکست کھا جانا فیصلہ کرنے کے لیے کافی نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ جن جادوگروں نے آج مقابلہ کیا ہے وہ موسیٰ کے پائے کے جادوگر نہ ہوں اور ہم جادوگروں کے انتخاب میں غلطی کر گئے ہوں اس لیے ضروری ہے کہ مزید ماہرین فن کو تلاش کیا جائے اور ایک سے زیادہ مقابلوں سے پوری طرح یہ بات طے کرنے کی کوشش کی جائے کہ موسیٰ اپنی دعوت میں برسرحق ہیں یا نہیں لیکن تم نے اس پوری کشمکش کا نتیجہ نکلنے سے پہلے جس جلد بازی کا ثبوت دے کر ہمارے مؤقف کو رسوا کیا ہے اور ہماری اجازت کا انتطار نہ کر کے تم نے سرکشی کا مظاہرہ کیا ہے اور ساتھ ہی دوسری بات یہ کہی کہ تمہاری یہ سرکشی بےسبب نہیں تم اپنے طور سے کبھی نہ ہمت نہیں کرسکتے اصل بات یہ ہے کہ تم حقیقت میں موسیٰ کے ساتھی ہو وہ بھی تمہاری طرح ایک جادوگر ہے بلکہ وہ جادوگروں کا سرغنہ ہے تم نے آپس میں ملی بھگت کر کے ایک سازش تیار کی ہے جس کا مقصد اس ملک کے اقتدار پر قبضہ کرنا ہے۔ تم نے جس پسپائی اور ایمان کا اعلان کیا ہے یہ تمہاری پہلے سے سوچی سمجھی ایک سکیم تھی کہ اس طرح سے تم اپنے مؤقف کو مضبوط کرو گے اور ہمارے نقطہ نگاہ کو کمزور کردو گے اور دیکھنے والے یہ سمجھیں گے کہ تم واقعی موسیٰ کے سامنے شکست کھا گئے ہو اور وہ شخص جادوگر نہیں بلکہ واقعی اللہ کا نبی ہے لیکن ہم تمہاری اس سکیم کو پوری طرح سمجھتے ہیں اور ہم جان گئے ہیں کہ یہ پہلے سے طے شدہ ایک منصوبہ تھا جس پر تم نے عمل کیا ہے۔ یاد رکھو ! تم نے اگر اس سے توبہ نہ کی تو عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم تمہیں اس کی کیا سزا دیتے ہیں اور پھر ہراس پیدا کرنے کے لیے اس سزا کا اعلان بھی کردیا کہ میں خلاف ترتیب تمہارے ہاتھ پائوں کاٹوں گا یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پائوں یا بایاں ہاتھ اور دایاں پائوں اور پھر اسی پر بس نہیں کروں گا پھر تمہیں سولی بھی دوں گا یعنی تمہارے ہاتھ پائوں میں میخیں گاڑوں گا اور صلیب پر کھڑا کر کے نیزوں سے تمہیں بھنبھوڑا جائے گا۔ یہ تمہاری اس سرکشی اور بغاوت کی سزا ہے جس کا تم نے آج اظہار کیا لیکن اس کے جواب میں جادوگروں نے جو کچھ کہا وہ بالکل ایک ناقابل یقین اور ناقابل تصور داستان ہے یہ جادوگر وہی لوگ ہیں کہ جب انھیں مقابلے کے لیے میدان میں لایا گیا تو انھوں نے میدان میں پہنچتے ہی اور فرعون کے سامنے حاضر ہوتے ہی بھانڈوں ‘ نقالوں اور مسخروں کی طرح اپنے فن کے مظاہرہ پر بھرپور انعام کی التجا پیش کی اور نہایت دناء ت ‘ خست اور پست اخلاقی کا ثبوت دیتے ہوئے چند ٹکوں کے حصول کو اپنی زندگی کی معراج ثابت کیا۔ گویا ان کے نزدیک سب سے بڑا اعزاز یا سب سے بڑا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ انھیں بادشاہ کے ہاتھوں سے انعام کی صورت میں بڑی دولت ہاتھ آئے اور انھیں بادشاہ کا قرب نصیب ہو لیکن جیسے ہی ان کے دلوں میں ایمان داخل ہو اتو ہم اسی پست ہمت ‘ پست اخلاق اور دولت دنیا کی پوجا کرنے والوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ ایک ہی جست میں انسانی رفعتوں کی چوٹی پر جا کھڑے ہوئے اور نہایت بےخوفی سے کہتے ہیں :
Ayahs 7:121–126

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

اور پکار اٹھے کہ ہم اس رب العالمین پر ایمان لے آئے

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

فرعون نے کہا تم اس پر ایمان لے آئے ہو اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دوں یہ یقینا کوئی خفیہ سازش ہے جو تم نے شہر میں اس غرض سے کی ہے کہ اس کے باشندوں کو یہاں سے نکالو تو تم عنقریب جان لو گے

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

میں تمہارے ہاتھ اور پائوں بےترتیب کاٹوں گا پھر تم سب کو سولی چڑھائوں گا۔

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

انھوں نے جواب دیا بہرحال ہمیں پلٹنا اپنے رب ہی کی طرف ہے

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

تو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آگئیں تو ہم نے انھیں مان لیا اے رب ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرمانبردار ہوں۔

قَا لُوْآاِنَّآ اِلیٰ رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ۔ وَمَا تَنْقِمُ مِنَّٓآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰ یٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآئَتْنَا ط رَبّنَآ آفِرْغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 125، 126) ” انھوں نے جواب دیا بہرحال ہمیں پلٹنا اپنے رب ہی کی طرف ہے تو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آگئیں تو ہم نے انھیں مان لیا اے رب ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرمانبردار ہوں “۔ جادگروں کا جواب جو ایمان کی رفعتوں کا امین ہے اے فرعون ! تم ہمیں موت سے ڈراتے ہو اور سولی پر چڑھانے اور ہاتھ پائوں میں میخیں گاڑھنے کی دھمکیاں دیتے ہو لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جو لوگ اللہ رب العالمین پر ایمان لاتے ہیں وہ پہلے سے اس بات کا فیصلہ کر کے ایمان کا اعلان کرتے ہیں کہ یہ زندگی اللہ کی عطا ہے جب ضرورت پڑے گی اسی کے لیے اس کے دین کی خاطر قربان کردیں گے۔ مرنا تو ہر ایک کو ہے لیکن ایک مومن کے لیے اس سے بڑی سعادت اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ اس کی موت اللہ کے دین کے راستے میں آئے وہ تو اس بات کے انتظار میں رہتا ہے کہ یہ سر کا بوجھ جو میں کندھوں پر اٹھائے پھرتا ہوں یہ اللہ کی امانت ہے۔ کب وہ موقع آئے جب اللہ مجھ سے اس کا مطالبہ کرے اور میں اسے اس کے حوالے کر دوں یہ یقین وہ قوت ہے جو ایک مومن کو موت پر غلبہ دے دیتی ہے وہ موت کو لقائے رب کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھتا ہے اور اللہ سے ملاقات ایک مومن کی معراج ہے اس لیے اس کے دین کی خاطر موت کی وہ اس لیے تمنا کرتا ہے تاکہ اللہ کے حضور حاضری کا موقع ملے اور وہ اپنے آپ کو اس بحر ناپیدا کنار میں شامل کر کے لافانی بنا لے۔ چناچہ تم ہمیں جس چیز سے ڈرا رہے ہو وہ چونکہ ہمارا مقصود ہے اس لیے اس سے ڈر کیسا ہمارے لیے تو وہ نہ صرف عین سعادت ہے بلکہ ہمارا مطلوب بھی ہے تاریخ کے مختلف ادوار میں ہم اس حقیقت کو بار بار ایک زندہ قوت کے طور پر ابھرتا ہوا دیکھتے ہیں کہ جب بھی کبھی لوگوں میں اللہ سے محبت کا شعلہ روشن ہوا ہے اور موت کے آئینہ میں انھوں نے روئے دوست کی جھلک دیکھ لی ہے تو پھر ان کے لیے زندگی دشوار اور موت آسان ہوگئی ہے۔ ہماری قریبی تاریخ میں اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کے جرم میں جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ان میں ایک محمد یحییٰ تھا نیسری اور ان کے ساتھی بھی تھے جب ان کو پھانسی کی سزا سنائی گئی اور اس کے چند دنوں بعد ان کے بارے میں رپورٹ مانگی گئی تو جیل کے آفیسرز یہ جان کر حیران رہ گئے کہ مولانا اور ان کے ساتھی پہلے سے کہیں زیادہ صحت مند اور نہایت خوش و خرم شب و روز گزار رہے ہیں۔ انھیں حیرت ہوئی کہ پھانسی کے قیدی تو وقت سے پہلے ہی قریب المرگ ہوجایا کرتے ہیں۔ آخر ان کی خوشی اور صحت کا باعث کیا ہے۔ انھوں نے جب تحقیق کی تو انھیں معلوم ہوا کہ یہ لوگ چونکہ شہادت کو اپنے لیے خوشی کا باعث سمجھتے ہیں اور یہی ان کی زندگی کا حقیقی مطلوب بھی ہے اس لیے جیسے جیسے شہادت کا دن قریب آتا جاتا ہے ان کی خوشیوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ جس عشق کی وارفتگیوں نے انھیں مسحور کر رکھا ہے اس میں موت کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ ان میں سے ہر ایک کا عزم یہ ہے ؎ اے دل تمام نفع ہے سودائے عشق میں اک جان کا زیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں اسی جذبہ سے سرشار ان نوواردانِ ایمان نے فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ تم ہمیں جو جان لینے کی دھمکیاں دے رہے ہو آخر یہ کس جرم کی سزا ہے ؟ ہم نے اس شہر میں کوئی قانون شکنی نہیں کی ‘ کوئی اخلاقی جرم نہیں کیا۔ ہمارا جرم اگر کوئی ہے تو صرف یہ ہے کہ ہمارے سامنے اللہ کی نشانیاں آئیں ‘ اللہ کے دو بندوں کے ذریعے ہم نے اللہ کی وہ نشانیاں جب اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھیں اور ہمیں یقین ہوگیا کہ جن نشانیوں کو تم جادو سمجھ رہے ہو حقیقت میں وہ اللہ کے بندوں کی شناخت اور ان کی حقانیت کے دلائل ہیں جو اس بات کی شہادت دے رہی ہیں کہ حقیقی رب اس کائنات کا صرف وہ اللہ ہے جو رب العالمین ہے اور یہ موسیٰ اور ہارون دونوں اس کے نمائندہ ہیں۔ ہم پر جب یہ حقیقت منکشف ہوئی تو ہم اپنے رب پر ایمان لے آئے۔ ہم نے اس رب کو پہچان لیا جس کی طرف موسیٰ اور ہارون دعوت دے رہے ہیں یہ اگر جرم ہے تو ہمیں اس جرم کا اقرار ہے ؎ خونے نہ کردہ ایم و کسے را نہ کشتہ ایم جرمم ہمیں کہ عاشق روئے تو گشتہ ایم (ہم نے کوئی جرم نہیں کیا اور نہ کسی کو قتل کیا ہے ہمارا جرم صرف یہ ہے کہ ہم تیرے روئے زیبا کے عشق میں مبتلا ہوگئے ہیں) یہ اگر جرم ہے تو ہمیں اس کا سو بار اقرار ہے ہم اس جرم کی خاطر ہر سزا برداشت کرنے کو تیار ہیں تو نے اس جرم کی اگر سزا کا اعلان کردیا ہے تو ہم اس سے خوفزدہ نہیں۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ ایمان کے نتیجے میں ایسی ہی قیامتوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے البتہ ہمیں اپنے عجز کا بھی اعتراف ہے اس لیے اب ہم یہ معاملہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں کہ یا اللہ ہم نے تیری رضا کی خاطر ایک اقدام کر ڈالا ہے لیکن اس کے نتائج برداشت کرنا ہماری ہمت سے فزوں تر ہے۔ اس کے لیے جس صبر کی ضرورت ہے وہ صبر صرف تیری بارگاہ سے ملتا ہے اس لیے تجھ سے التجا ہے کہ تو اس صبر کی دولت سے ہمارے دل کو مضبوط کر دے اور ہمیں اتنی قوت عطا فرما کہ اس راستے میں ہم جو آخری سانس لیں وہ سانس تیری اطاعت اور تیری فرمانبرداری میں آنا چاہیے۔ اس منظر کو دوبارہ اپنے تصور میں تازہ کیجیے کہ یہ وہی جادوگر ہیں کہ جب وہ فرعون کے دربار میں اپنے کمال فن کے اظہار کے لیے لائے گئے تو کس طرح انھوں نے بھانڈوں اور نقالوں کی طرح انتہائی دناءت اور کمینگی کا ثبوت دیتے ہوئے حق و باطل کے اس معرکے میں اپنی قیمت وصول کرنے کی کوشش کی ہے اور ان کی بلند نگاہی میں سب سے بڑا مرتبہ یہ ہے کہ انھیں دولت دنیا سے کچھ ہاتھ آجائے اور بادشاہِ وقت کے تقرب کا سایہ انھیں نصیب ہوجائے لیکن اب یہی لوگ جب ایمان سے بہرہ ور ہوتے ہیں اور ایمان کی روشنی ان کے دلوں میں پہنچتی ہے تو کس طرح ان کا دل اس روشنی سے جگمگا اٹھتا ہے کہ پست ہمتی اور دنیا طلبی کی کوئی پرچھائیں بھی ان کے سیرت و کردار میں دور دور تک دکھائی نہیں دیتی۔ حق کے لیے قربانی اور مصائب کے مقابلے میں استقامت کی وہ ایسی تصویر بن جاتے ہیں کہ یوں لگتا ہے کہ وہ گوشت پوست کے بنے ہوئے انسان نہیں بلکہ عزیمت و استقامت کے پہاڑ ہیں اور ان کے دلوں سے دنیا کی محبت تو دور کی بات ہے اس فانی دنیا میں رہنے کی ہوس بھی اس طرح نکل جاتی ہے کہ وہ آخرت کو اپنی منزل بنا کر باقی ہر چیز سے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں اور اس سفر پر نکل کھڑے ہوتے ہیں جس سفر میں قدم قدم پر کھائیاں اور گھاٹیاں ہیں جس میں اللہ کی توفیق کے بغیر کوئی آدمی کبھی منزل تک نہیں پہنچ پاتا۔ اس لیے وہ دنیا سے ہر طرح کا تعلق توڑ کر صرف اللہ سے تعلق جوڑنے کی استدعا کرتے ہوئے اللہ ہی سے توفیق کے طلبگار ہوتے ہیں۔ اس سے ہمیں ایک بات سمجھ میں آتی ہے کہ انسان اپنی ذات میں سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں۔ وہ دنیا میں چاہے دنیا کے کیسے ہی عظیم منصب کو حاصل کرلے اور دولت دنیا سے بیشک اس کی تجوریاں بھر جائیں اور بیشک دنیا کی ہر نعمت اسے میسر آجائے لیکن سیرت و کردار کی کوئی بلندی بھی اس کے قریب سے نہیں گزرتی۔ انسانیت ہمیشہ اس سے دامن کشاں رہتی ہے۔ وہ اللہ کی دھرتی پر اپنے آپ کو چاہے کتنا بڑا سمجھے لیکن حقیقت میں وہ دھرتی کے بوجھ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ حالات کا معمولی سا جھٹکا بھی اسے زمین پر ڈھیر کر کے رکھ دیتا ہے لیکن جب اسی شخص کو ایمان کی دولت نصیب ہوتی ہے تو وہ چیتھڑوں میں لپٹ کر بھی شاہوں کے تاج نوچتا ہے وہ فاقے میں ہو کر بھی سیر چشمی اور استغناء کی چلتی پھرتی تصویر ہوتا ہے۔ نہ اسے دولت اور عہدہ و منصب جھکنے پر مجبور کرسکتے ہیں اور نہ بڑی سے بڑی آزمائش کبھی اسے گرا سکتی ہے۔ وہ بظاہر نہایت نرم ‘ نہایت سادہ اور نہایت متواضع ہوتا ہے لیکن اس کے اندر کا انسان پہاڑوں سے زیادہ بلند ‘ سمندروں سے زیادہ گہرا ‘ پھولوں سے زیاد دلآویز اور آندھیوں سے زیادہ پر عزم ہوتا ہے۔ ٹھیک کہا جگر مراد آبادی نے کہ انسان کی ساری کہانی کا حاصل یہ ہے ؎ گرے اگر تو بس ایک مشت خاک ہے انساں بڑھے تو وسعت کونین میں سما نہ سکے جادوگروں کی ساری سرگزشت ہمارے سامنے اسی حقیقت کو واشگاف کرتی ہے کہ انسان کی ضرورتیں بیشمار ہیں جن میں ایک بہت اہم ضرورت سائنس اور ٹیکنالوجی بھی ہے لیکن اس کی حقیقی قوت سیرت و کردار کی وہ پختگی ہے جسے ایمان کہتے ہیں جب وہ آدمی میں نہیں ہوتا تو آدمی سے زیادہ حقیر شے کوئی نہیں ہوتی وہ ٹیکنالوجی کا بادشاہ بھی بن جائے تو وہ انسان نہیں درندہ بن کر تاریخ کے افق پر جلوہ گر ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے ساتھ اگر ایمان جمع ہوجائے تو پھر وہ قوت وجود میں آتی ہے جو اسلام کا اصل مطلوب ہے۔ حق و باطل کے معرکے میں فرعون اور آل فرعون کی ناکامی اور حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کی کامیابی سے جو صورت حال پیدا ہوئی اس نے فوری طور پر کیا صورت اختیار کی ؟ جادوگروں کو انتہائی سزائوں کی دھمکی کے علاوہ قرآن کریم اور کسی چیز کا ذکر نہیں کرتا۔ یقینا اس کے بعد حالات میں کشیدگی بڑھ گئی ہوگی ہوسکتا ہے مخالف قوتوں نے نئی حکمت عملی کی تیاری میں چند دن انتظار کیا ہو۔ اگلی آیت کریمہ سے انتظار ہی کی کیفیت محسوس ہوتی ہے البتہ یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اپنے زخم چاٹ رہی ہے لیکن عمائدین حکومت غصے میں جلے بھنے حکومت اور دوسرے لوگوں کو کو سنے دے رہے ہیں اسی کیفیت میں انھوں نے فرعون سے بھی ملاقات کی اور اسے حالات کی نزاکت سمجھاتے ہوئے یہ کہا .