7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsروح القرآن

Ayah 7:168

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:168 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو منتشر کردیا زمین میں گروہ گروہ کر کے۔ ان میں کچھ نیک بھی ہیں اور کچھ اس سے مختلف بھی ہیں اور ہم نے ان کی آزمائش کی خوشحالیوں اور بدحالیوں سے تاکہ وہ رجوع کریں۔

ارشاد فرمایا وَقَطَّعْنٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًاج مِنْھُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَمِنْہُمْ دُوْنَ ذٰلِکَز وَبَلَوْنٰھُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَالسَّیِّاٰتِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ (الاعراف : 168) ” اور ہم نے ان کو منتشر کردیا زمین میں گروہ گروہ کر کے۔ ان میں کچھ نیک بھی ہیں اور کچھ اس سے مختلف بھی ہیں اور ہم نے ان کی آزمائش کی خوشحالیوں اور بدحالیوں سے تاکہ وہ رجوع کریں “۔ بنی اسرائیل کا قومی انتشار گزشتہ آیت کریمہ میں پروردگار نے انبیاء کرام کی معرفت بنی اسرائیل کو اس بات کو نوٹس جاری کیا تھا کہ اگر تم نے اپنی حالت نہ بدلی اور تم بداعمالیوں سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ تم پر ظالم حکمرانوں کو مسلط کرے گا وہ خود تمہارے اندر سے ہوں یا باہر سے۔ عموماً ہوتا یہ ہے کہ بعض ظالم حکمران جو قوم کے اندر سے ہوں وہ اپنی قوم کو اپنی خواہشات کو پوری کرنے کے لیے ظلم کا نشانہ بناتے ہیں لیکن جب قوم اپنی حدود سے بالکل نکل جاتی ہے اور ہر طرح اجتماعی صلاحیتوں سے محروم ہوجاتی ہے اور ان کا آپس کا ربط و ضبط انتشار و افتراق میں بدل جاتا ہے تو پھر باہر سے ظالم لوگوں کو حملہ کرنے کا موقع ملتا ہے تو وہ بالعموم ایسی قوموں کی اجتماعی قوت کو توڑنے کے لیے انھیں منتشر کردیا کرتے ہیں۔ چناچہ بنی اسرائیل کے ساتھ اللہ کی نافرمانی کے باعث ایسے ہی حوادث پیش آئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصریوں کی غلامی سے نجات دلا کر صحرائے سیناء میں انھیں ایک قوم بنانے اور اس میں تنظیم پیدا کرنے کی کوشش کی۔ آپ مسلسل اس کے لیے محنت فرماتے رہے لیکن یہ غلامی کی ماری ہوئی قوم آزاد قوم کی سی صلاحیت پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ جب بھی انھیں قومی توانائی کا ثبوت دینے کے لیے کسی بھی امتحان میں ڈالا گیا تو یہ بری طرح ناکام ہوئے یہ چونکہ چار سو سال تک انسانوں کی چاکری کر کے روٹی کھانے کے ہنر کے سوا اور ہر قومی خصوصیت سے محروم ہوچکے تھے اس لیے اپنے اندر عزت اور وقار کی زندگی کا شعور پیدا کرنا اور قومی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ان کے لیے آسان نہ تھا وہ روٹی حاصل کرنے کے لیے مزدوری تو کرسکتے تھے اور اپنے آقا کی خوشنودی کے لیے ذلت آمیز بیگار سے بھی انھیں انکار نہ تھا لیکن قوموں کو اپنا وجود ثابت کرنے کے لیے ایثار و قربانی کی جن کٹھن وادیوں سے گزرنا پڑتا ہے جواں ہمتی اور اولوالعزمی کی جو تاریخ رقم کرنا پڑتی ہے وہ ان کے بس کی بات نہ تھی۔ اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) مسلسل محنت کے باوجود غلامی کی پروردہ نسل کو تو کسی تبدیلی سے آشنا کرنے سے معذور رہے البتہ جو نسل صحرا میں پیدا ہوئی اور پروان چڑھی ان سے امیدیں وابستہ کی جاسکتی تھیں وہ لوگ جب اپنی ذ مہ داریوں کی عمر کو پہنچے تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) تو اللہ کو پیارے ہوگئے لیکن ان کے جانشینوں نے اس تنظیمی عمل کو آگے بڑھایا اور ان میں قومی شعور توانا کر کے ایک ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ تاریخ کا یہ سفر آگے بڑھتا رہا حتی کہ حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں بنی اسرائیل اپنی تنظیم اور قومی خصوصیات میں اپنی معراج کو پہنچے لیکن جیسے ہی حضرت سلیمان (علیہ السلام) اللہ کو پیارے ہوئے تو بنی اسرائیل کے زوال کا سفر شروع ہوگیا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہر قوم جب اپنی ترقی کے معراج پر پہنچتی ہے تو بالعموم وہیں سے اس کے زوال کا سفر شروع ہوتا ہے کیونکہ جب کسی چیز کو حاصل کرنا پیش نظر ہوتا ہے تو محنت اور کوشش کی لگن رواں دواں رہتی ہے اس سفر کے ہر شریک کار کو مسلسل یہ خیال رہتا ہے کہ ہم لوگ ایک منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں اگر ہم نے ذرا بھی محنت سے جی چرایا تو وہ منزل کبھی بھی ہمارے ہاتھ نہیں آئے گی لیکن جب وہ منزل کے قریب پہنچتے ہیں یا جب منزل حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو پھر عموماً لمبی تان کر سو جاتے ہیں۔ محنت و کاوش ‘ علم و دانش ‘ ربط و تنظیم اور ایثار و قربانی ہر چیز اپنی صف لپیٹ دیتی ہے اب ان کے پیش نظر محنت نہیں بلکہ محنت کا پھل ہوتا ہے ہر ایک کوشش کرتا ہے کہ میں اس پھل سے زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کرسکوں۔ پہلے ان کا سرمایہ سفر ارادے کی قوت ‘ عمل ِ پیہم ‘ باہمی ارتباط اور دوسروں کے لیے ایثار ہوتا ہے لیکن منزل پر پہنچنے کے بعد ان کی منزل ان کے لیے خوان یغما بن جاتی ہے۔ ہر شخص اپنی ہمت سے بڑھ کر ہاتھ مارنے اور سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے ایسی صورت میں خود غرضی ‘ نفسانیت ‘ مفاد پرستی اور ہوس زر کا دور دورہ ہوجاتا ہے ایسی صورت میں زوال اور انحطاط کے سوا کسی اور چیز کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ برصغیر میں مسلمانوں کے عروج کا دور اور نگزیب عالمگیر کا زمانہ ہے۔ جیسے ہی عالمگیر کی آنکھیں بند ہوئیں تو اس کے جانشینوں اور صوبوں کے امراء نے وہ لوٹ کھسوٹ مچائی کہ پورا ملک زوال کی گرفت میں آگیا۔ خلافتِ راشدہ کے بعد بنی امیہ کی تاریخ ‘ بنی امیہ کے بعد بنی عباس کی تاریخ اور پھر مختلف خاندانوں کی حکومتوں کی تاریخ ایک سے ایک بڑھ کر اس تاریخی حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کر رہی ہے۔ بنی اسرائیل کے ساتھ بھی یہی حادثہ پیش آیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دنیا سے جاتے ہی ان کا بیٹا ان کا جانشین ہوا اور اس نے اس زمانے کی سب سے اس بڑی حکومت کو اپنی میراث سمجھ کر اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھانا شروع کردیا۔ پورے ملک میں فسق و فجور کو پھیلنے کا موقع مل گیا۔ امراء میں رقابت شروع ہوگئی ہر کوئی حکومت کا خواب دیکھنے لگا اس انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ایک غلام نے الگ حکومت بنا لی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت جس کی قوت و شوکت کے سامنے کبھی کسی دوسری ریاست کو سر اٹھانے کی ہمت نہ ہوئی خلفشار کا شکار ہوگئی۔ ایک متحدہ سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی ایک کا نام اسرائیل ٹھہرا اور دوسری کا یہودیہ۔ ایک کا دارالحکومت سامرہ تھا اور دوسری کا یروشلم۔ اب ان دونوں حکومتوں میں تصادم شروع ہوا چناچہ 937 ق م سے لے کر 586 ق م تک بنی اسرائیل کی تاریخ خانہ جنگی کی تاریخ ہے دونوں ریاستیں آپس میں ٹکراتی رہیں اور ان کے باہمی جنگ و جدل کے باعث قریبی ریاستوں کو یہ جرات ہوئی اور انھوں نے بار بار ان پر حملے کرنے شروع کیے کبھی مصر کا حکمران چڑھ دوڑتا اور کبھی صورو صیدا میں سے کوئی حکمران حملہ آور ہوتا لیکن بنی اسرائیل نے اس سے بھی کوئی سبق نہ سیکھا حتی کہ ان کا یہ اختلاف و انتشار اس وقت اپنی انتہاء کو پہنچ گیا جب بخت نصر نے ان پر حملہ کر کے یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ان کے ہزاروں لوگ قتل ہوگئے۔ ہزاروں لوگوں کو اپنی ریاست کے مختلف شہروں میں تتر بتر کردیا اور ہزاروں کو غلام بنا کر اپنے ساتھ لے گیا اور پھر ان کا یہ انتشار و افتراق اور مختلف ملکوں میں ان کا بکھیرا جانا ایک ایسی حقیقت ہے کہ موجودہ اسرائیلی حکومت سے پہلے جسے اپنی آنکھوں سے دیکھا جاسکتا تھا اور اب بھی یہ بڑی طاقتوں کے سائے میں پلنے والا ناسور کسی لمبی عمر کی خبر نہیں دے رہا بلکہ اس کے طور اطوار یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ قدرت کی طرف سے کوئی بھی فیصلہ دوبارہ انھیں ان کے انجام سے دوچار کر دے گا۔ چناچہ اس پوری صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو زمین میں گروہ گروہ کر کے منتشر کردیا۔ اجتماعی اصلاح کے لیے اہل خیر کا مضبوط ہونا ضروری ہے قطعناتقطیع سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں ٹکڑے ٹکڑے کردینا ‘ منتشر کردینا۔ اور امم امت کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ایک جماعت یا ایک فرقہ یا گروہ۔ ان الفاظ میں اسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے اس کے بعد دوسرا جملہ ہے : ( مِنْھُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَمِنْہُمْ دُوْنَ ذٰلِک ان میں سے کچھ نیک لوگ تھے اور کچھ ان سے مختلف تھے۔ ) اس جملہ میں بھی ایک بہت بڑی حقیقت منکشف کی گئی ہے وہ حقیقت یہ ہے کہ قوموں کا زوال جب آخری حدوں کو چھونے لگتا ہے اور ان کی قومی زندگی کو گھن کی طرح کھا جاتا ہے اور ان میں ایک ایک کر کے قومی خصوصیات ختم ہوتی جاتی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس قوم میں تمام لوگ بگڑ چکے ہیں اور سرے سے ان میں کوئی صالح طبقہ موجود نہیں ہے بلکہ زوال پذیر اور بگڑی ہوئی قوموں میں بھی نیک لوگ بھی موجود ہوتے ہیں اس کے باوجود ان کا زوال بڑھتا چلا جاتا ہے اس کی وجہ کیا ہوتی ہے ؟ اس وجہ کو بیان کرنے سے پہلے ہم یہ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ قوم کے اندر صالح لوگوں کے ہونے سے ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وہ عذاب جس سے قوموں کی جڑ کٹ جاتی ہے اور خیر کے تمام سوتے خشک ہوجاتے ہیں اور قدرت ایسی قوم کو دھرتی کا بوجھ سمجھ کر مٹادیتی ہے ایسی قوم پر نہیں آتا جس میں کچھ نہ کچھ نیک لوگ موجود ہوں یعنی ان میں نیکی اور خیر کی دعوت دینے والے اور اپنی ہمت اور وسائل کے مطابق دین کی خدمات انجام دینے والے اور قوم کے انکار اور استہزاء کے باوجود انھیں آخرت یاد دلانے والے موجود ہوں ان کی وجہ سے قوم کا بڑا حصہ جو برائیوں میں مبتلا ہوچکا ہوتا ہے وہ فیصلہ کن عذاب سے بچا رہتا ہے اور قدرت ان کو ڈھیل دیتی رہتی ہے کہ تمہارے اندر خیر کی دعوت دینے والے ابھی تک موجود ہیں تمہارے لیے ابھی موقع ہے کہ ان کی دعوت قبول کر کے اپنے برئے انجام سے بچ جاؤ۔ لیکن جہاں تک تباہی کی طرف بڑھنے کا سوال ہے یہ نیک لوگ اس سے انھیں نہیں روک سکتے وہ اپنی ساری کوششوں کے باوجود تباہی کی طرف جانے کے نتائج سے انھیں آگاہ تو کرسکتے ہیں لیکن ان کا رخ پھیرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے وجہ اس کی یہ ہے کہ قوموں کو لیڈ اور فیڈ کرنے والے پالیسیاں بنانے والے پالیسیوں پر عمل کرنے والے قوم اور ملک کو جہتِ سفر دینے والے اور ان کے اعصاب اور ان کے مرکز اعصاب کو کنڑول کرنے والے صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جو طبقہ خواص سے تعلق رکھتے ہیں ‘ جو عدالتوں میں ججز کی کرسی پر بیٹھتے۔ ایوانِ حکومت میں حکمرانی کرتے ‘ پارلیمینٹ میں قانون سازی کرتے ‘ تعلیمی اداروں کو نصاب تعلیم دیتے ‘ ابلاغ کو ابلاغ کی جہت دیتے، تربیتی اداروں میں مختلف شکلوں میں تربیت کا سامان کرتے اور انتظامی اداروں میں اختیارات پر قابض ہوتے اور انھیں استعمال کرتے ہیں۔ جب یہ طبقات بگڑ جاتے ہیں تو پھر عام لوگ آہستہ آہستہ ان کے رنگ میں رنگنا شروع ہوجاتے ہیں اور بےبسی کا شکار ہو کر ان کے اشاروں پر چلنے لگتے ہیں۔ زندگی کے مقاصد دم توڑ جاتے اور ضروریاتِ زندگی مقاصدِ زندگی بن کر عام آدمی کی زندگی میں حکمرانی کرنے لگتے ہیں اس صورت حال میں اگر ان میں کچھ نیک لوگ موجود بھی ہوں تو ان کی نیکی عبادت گاہوں یا چند دینی اداروں تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ بنی اسرائیل اسی صورتحال سے دوچار تھے وہ مکمل طور پر برائی کی گرفت میں کبھی نہیں آئے ان میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی طبقہ نیکی اور خیر کے ساتھ وابستہ رہا ہے اور اسی وجہ سے وہ اجتماعی عذاب سے بچے رہے۔ لیکن یہ انفرادی نیکی اجتماعی تباہی کا راستہ نہ روک سکی جس کے نتیجے میں نہ ان کا کوئی ملک محفوظ رہا نہ قومی زندگی محفوظ رہی۔ وہ انفرادی یا جماعتی طور پر دولت کمانے یا دوسروں کے خلاف سازشیں کرنے میں تو ضرور کامیاب رہے لیکن اپنی اجتماعی زندگی کو بروئے کار لانے اور اپنے فیصلے آپ کرنے سے محروم ہوگئے۔ بنی اسرائیل کی زندگی کا یہ وہ آئینہ ہے جس میں ہم اپنی قومی زندگی کو دیکھ سکتے ہیں۔ ہم نے یہ مملکتِ خداداد اسلامی زندگی گزارنے اور اسلامی نظام نافذ کرنے کے لیے اللہ سے مانگ کرلی تھی اور اس کے لیے ہم نے اتنی بڑی قربانی دی کہ معلوم تاریخ میں اس کی مثالیں کم کم ملیں گیں۔ لیکن جب ہم نے اللہ سے کیے ہوئے اس وعدے سے انحراف کیا بلکہ رفتہ رفتہ اس وعدے کے خلاف بغاوت کردی اس کا سب سے پہلا نتیجہ وہی نکلا جو بنی اسرائیل کو پیش آیا تھا کہ ہماری اجتماعی زندگی میں دراڑیں پڑیں حتی کہ عالم اسلام کی یہ سب سے بڑی مملکت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں گروہوں میں منتشر کر کے رکھ دیا۔ آج آدھا پاکستان ہمارے پاس ہے لیکن اس میں بھی ہمارے صوبائی تعصبات ‘ لسانی عصبیتں ‘ گروہی مفادات پوری طرح اپنا رنگ دکھا رہے ہیں قوم میں نیک لوگوں کی کمی نہیں لیکن آہستہ آہستہ ہمارے اجتماعی فیصلہ کرنے کے سر چشمے لا دینیت کے قبضے میں جا رہے ہیں۔ ہماری پارلیمینٹ اولاً تو خیر کی نمائندہ نہیں رہی اور اگر اس کی کچھ امید بھی کی جاسکتی ہو تو ایک پیر تسمہ پا ہے جو ان کے سروں پر بیٹھا ان کو کچھ کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہمارے تعلیمی ادارے نہ صرف لادینیت کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں بلکہ جہاں کہیں دین کی کوئی تھوڑی بہت خدمت ہو رہی ہے اس کا برداشت کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ ہمارے ذرائع ابلاغ تو پوری طرح شیطانی قوتوں کے نرغے میں ہیں اور یہ شیطانی قوتیں شب و روز کروڑوں لوگوں کے ذہنوں کو مسموم کرنے کا فرض انجام دے رہی ہیں۔ ہمارے اخبارات چند ایک کو چھوڑ کر نہ جانے کس کی خدمت بجا لا رہے ہیں اس طرح سے ہماری اجتماعی زندگی اس ملک کے مقصد وجود سے رفتہ رفتہ منحرف ہوتی جا رہی ہے ایسی صورتحال میں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں اور بنی اسرائیل کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے اس آخری امت کے بارے میں تشویش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ہمیں بار بار بنی اسرائیل کی تاریخ سے سبق سیکھنے کا حکم دیا ہے اور قرآن کریم اسی لیے پلٹ پلٹ کر ان کی تاریخ ہمارے سامنے لا رہا ہے تاکہ یہ حامل دعوت امت سابقہ حامل دعوت امت کے زوال کے اسباب سے آگاہ ہو کر اپنے بچائو کی کوشش کرسکے۔ آزمائش کے دو طریقے اس آیت کریمہ میں تیسرا جملہ : { وَبَلَوْنٰھُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَالسَّیِّاٰتِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ } ہے۔ ” اور ہم نے ان کو خوشحالیوں اور بد حالیوں سے آزمایا شائد وہ رجوع کریں “۔ بنی اسرائیل کو راہ راست پر لانے کے لیے پروردگار نے دو طریقے اختیار فرمائے اور یہ بنی اسرائیل کی خصوصیت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہر قوم کو سمجھانے اور راہ راست پر لانے کے لیے یہی دونوں طریقے اختیار فرماتے رہے ہیں۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ کوئی قوم اللہ کے راستے سے انحراف اختیار کرتی ہے تو پروردگار اسے مصیبتوں اور تکلیفوں میں مبتلا کر کے غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے اور انھیں یہ بات باور کروائی جاتی ہے کہ تم اس زمین پر اس طرح زندگی گزار رہے ہو جس طرح ایک ایسی قوم زندگی گزارتی ہے جس کا کوئی خدا نہ ہو اور اسے یہ یقین ہو کہ اسے کبھی موت نہیں آئے گی اور اسے کبھی کسی کے سامنے جواب دہی نہیں کرنی وہ زمین ہی کو اپنا اول و آخر مسکن سمجھتی ہے اور اسی میں مر مٹنا اس کی زندگی کی انتہاء ہے جو اس کے جی میں آتا ہے وہ فیصلے کرتی ہے اور جو چاہتی ہے وہ اپنی منزل متعین کرلیتی ہے اس کی کامیابی اور ناکامی کے اپنے پیمانے ہیں کیونکہ اس کی زندگی اس کے اپنے گرد گھومتی ہے ان کو یہ بتلانے کے لیے کہ تمہیں یہ غلط فہمی ہے کہ تم یہاں ہر فیصلہ کرنے کے مجاز ہو تمہارے اوپر کوئی اور بڑی ذات بھی ہے جس نے تمہیں بےمقصد پیدا نہیں کیا اور پھر تمہیں اندھیرے میں بھی نہیں رکھا بلکہ اس مقصد سے آگاہی دینے کے لیے وہ بار بار پیغمبر بھیجتا رہا ہے اب یہ مصیبتیں ‘ تکلیفیں ‘ وبائیں ‘ زلزلے اور بیماریاں بھیج کر وہ تمہیں توجہ دلانا چاہتا ہے کہ دیکھو ! اگر تم اپنی زندگی اور اپنی قسمتوں کے خود مالک ہوتے تو تمہیں یہ حوادث پیش نہ آتے تم جب چاہتے ان حوادث کا راستہ روک لیتے یا انھیں اپنے سے دور کردیتے لیکن تم اس پر قادر نہیں ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے اوپر ایک اور ذات ہے جس نے تمہیں زندگی گزارنے اور زمین پر رہنے کی آزادی بخشی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ تم اس سے آزاد ہو کر زندگی گزار سکتے ہو اس کے احکام کو سمجھو ‘ قبول کرو اور اس کے مطابق زندگی گزارو۔ لیکن جب وہ قوم ان مصیبتوں کے باجود بھی اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتی اور وہ اس کی بھی کوئی نہ کوئی تاویل کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اسے زمانے کے پھیر کا نتیجہ سمجھتی ہے تو پھر پروردگار اس سے سخت تر آزمائش میں انھیں مبتلا کردیتا ہے یہ سخت تر آزمائش بظاہر نرم دکھائی دیتی ہے لیکن اس آزمائش پر پورا اترنا چونکہ زیادہ مشکل ہے اس لیے میں اس کو سخت تر کہہ رہا ہوں وہ آزمائش یہ ہے کہ اب پروردگار بجائے مصیبتوں کے انھیں راحتوں ‘ آسانیوں ‘ نعمتوں ‘ آسائشوں ‘ عشرتوں اور مسرتوں سے گراں بار کردیتا ہے۔ ان کے کاروبار سنبھل جاتے ہیں۔ کھیتیاں سونا اگلنے لگتی ہیں بارشیں وقت پر ہونے لگتی ہیں ‘ بین الاقوامی دنیا میں ساکھ بڑھنے لگتی ہے ‘ مالی پریشانیاں کم ہونے لگتی ہیں اس تبدیلی کو دیکھ کر قوم یہ سمجھتی ہے کہ پہلے اگر پروردگار ہم سے ناراض تھا تو اب وہ راضی ہوگیا ہے یا پہلے زمانہ ہم سے بگڑا ہوا تھا تو وہ اب ہمارے موافق ہوگیا ہے اس لیے جیسے جیسے ان کی دولت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے ان کے عشرت کدے آباد ہونے لگتے ہیں۔ جیسے جیسے ان کا کاروبار سنبھلتا جاتا ہے ویسے ویسے اللہ کی نافرمانی کے مراکز پھلنے پھولنے لگتے ہیں انسانی فطرت یہ ہے کہ وہ دکھوں میں مبتلا ہو کر تو بعض دفعہ سوچنے لگتی ہے لیکن عیش و عشرت کی زندگی تو عموماً بگاڑ کا ذریعہ بنتی ہے۔ چناچہ قدرت جس قوم کو اس آزمائش میں مبتلا کرتی ہے انھیں ایک طوفان سے وابستہ کردیتی ہے۔ طوفان ان کے سر پر تلا کھڑا ہوتا ہے لیکن ان کی مستیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ بنی اسرائیل بھی انھیں دونوں آزمائشوں سے بار بار گزرتے رہے تاکہ وہ اللہ کی طرف رجوع کریں اور اپنی زندگی کو بدل سکیں۔ لیکن بنی اسرائیل کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ان آزمائشوں سے سبق سیکھنے کی بجائے وہ ہمیشہ اور بگڑتے چلے گئے اگر پروردگار نے انھیں بد حالیوں میں مبتلا کیا تو انھوں نے اللہ پر اعتراض کرنے شروع کر دئیے معلوم ہوتا ہے آج کل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں (یداللہ مغلولۃ) اور اگر انھیں خوشحالیوں سے نوازا گیا اور اس کے بدلے میں انھیں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی تو پکار اٹھے : ان اللہ فقیر ونحن اغنیاء (بےشک اللہ تعالیٰ فقیر ہیں اور ہم غنی اور مال دار ہیں) یعنی نعمتیں ملیں تو انھوں نے شکر نہیں کیا اور مصیبت میں مبتلا ہوئے تو صبر نہ دکھایا حالانکہ شکر اور صبر ہی تو اسلامی زندگی ہے جسے انھوں نے اختیار کرنے کی کوشش نہیں کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی اجتماعی زندگی اللہ کی نافرمانی اور اس سے بغاوت کی آئینہ دار بن گئی۔ بنی اسرائیل کے زوال کا یہ سفر ایک طویل داستان ہے جس میں ہم مختلف نشیب و فراز دیکھتے ہیں اسی کا ایک پہلو جو کئی پہلوئوں کو اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے اگلی آیت کریمہ میں بیان کیا جا رہا ہے۔
Ayah 7:169

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 7:169 in the Quran reader

پھر ان کے بعد آئے ایسے نالائق جانشین جو کتاب کے وارث بنے جو اس دنیا کی متاع اختیار کرتے اور کہتے ہیں ہمارے لیے سب معاف کردیا جائے گا اور اگر ایسا ہی کوئی اور سامان ان کو مل جائے تو اسے بھی لے لیں کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا ؟ کہ وہ اللہ پر حق کے سواء کوئی اور بات نہ کہیں اور انھوں نے اچھی طرح پڑھا بھی ہے جو کچھ اس میں لکھا ہے اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کریں کیا تم سمجھتے نہیں۔

فَخَلَفَ مِنْم بَعْدِھِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْکِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ ھٰزَاالْااَدْنٰی وَیَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُلَنَا ج وَاِنْ تَاْتِہِمْ عَرَضٌ مِّثْلُہٗ یَاْخُذُوْہُط اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْھِمْ مِّیْثَاقُ الْکِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الْحَقَ وَدَرَسُوْا مَافِیْہِط وَالدَّارُالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ۔ (الاعراف : 169) ” پھر ان کے بعد آئے ایسے نالائق جانشین جو کتاب کے وارث بنے جو اس دنیا کی متاع اختیار کرتے اور کہتے ہیں ہمارے لیے سب معاف کردیا جائے گا اور اگر ایسا ہی کوئی اور سامان ان کو مل جائے تو اسے بھی لے لیں کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا ؟ کہ وہ اللہ پر حق کے سواء کوئی اور بات نہ کہیں اور انھوں نے اچھی طرح پڑھا بھی ہے جو کچھ اس میں لکھا ہے اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کریں کیا تم سمجھتے نہیں “۔ مشکل الفاظ کے معنی اس آیت کریمہ میں چند الفاظ وضاحت طلب ہیں۔ پہلا لفظ خَلَفْ مصدرخلافت سے مشتق ماضی کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں ” قائم مقام اور خلیفہ ہوگئے “ اور دوسرا لفظ خَلْفٌ مصدر ہے جو ” قائم مقام اور خلیفہ “ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ‘ مفرد اور جمع دونوں کے لیے بولا جاتا ہے یہ اکثر برے خلیفہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے مقابل نیک اور قابل خلیفہ کے لیے خَلَفْ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ ” عرض “ سامان کے معنی میں بولا جاتا ہے جو نقد کے بدلا میں خریدا جاتا ہے۔ اور کبھی مطلقاً مال کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے خواہ نقد ہو یا سامان اور اس جگہ اسے مال کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ ادنیٰ دُنُوٌ سے بھی مشتق ہوسکتا ہے اس صورت میں ادنیٰ کا معنی ہوگا اقرب۔ اسی کا مؤنث دنیا ہے۔ جس کے معنی قریب کے ہیں آخرت کے مقابلے میں یہ جہاں چونکہ انسان کے زیادہ قریب ہے اس لیے اس کو ادنیٰ اور دنیا کہا جاتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ادنیٰ دناء ۃ سے ہے اس کا معنی ہے ذلت ‘ اس صورت میں ادنیٰ کے معنی ذلیل اور حقیر کے ہوجائیں گے ‘ دنیا اور اس کے سب سامان چونکہ آخرت کے مقابلے میں حقیر اور ذلیل ہیں اس لیے اس کو ادنیٰ اور دنیا کہا گیا ہے۔ بنی اسرائیل کے تدریجی زوال کے اسباب دریا کے جب کسی بند میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں تو ہوش مند لوگ فوراً اس کی فکر کرتے ہیں وہ سمجھ لیتے ہیں کہ اگر ان دراڑوں کو برابر نہ کیا گیا اور بند کی کمزوریوں کو دور نہ کیا گیا تو کہیں نہ کہیں شگاف بھی پڑ سکتا ہے لیکن اگر بند کے نگران اور اس کے آس پاس رہنے والے لوگ اسے معمولی بات سمجھ کر نظر انداز کردیں کہ ابھی صرف دراڑیں ہی پڑی ہیں پانی باہر نکلنا تو شروع نہیں ہوا نا ‘ تو پھر یہ بات یقینی ہے کہ یہ غفلت کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے اور ایک نہ ایک دن بند میں شگاف پڑجاتا ہے۔ شگاف بھی اچانک نہیں پڑتا شروع میں پانی رسنے لگتا ہے پھر آہستہ آہستہ بہنے لگتا ہے پھر کہیں کہیں سوراخ ہونے لگتے ہیں اور جب اس کی فکر نہیں کی جاتی تو پھر شگاف کھل جاتا ہے اور کھلتا ہی چلا جاتا ہے۔ آغاز میں معمولی کوشش سے اصلاح ہوسکتی ہے لیکن جب شگاف بڑا ہوجائے تو پھر بعض دفعہ زندگیاں دے کر بھی اسے بند نہیں کیا جاسکتا یہی حال قوموں کی زندگی کا بھی ہے مقاصدِ زندگی کے حوالے سے جب ان میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں تو پیغمبر اس کی طرف متوجہ کرنے لگتے ہیں لیکن جب قوم ان کی بات نہیں سنتی تو پھر ایک تدریج کے ساتھ زوال کا عمل آگے بڑھنے لگتا ہے کہیں اخلاقی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ‘ کہیں عقائد کو گھن لگتا ہے ‘ کہیں معاملات میں ناہمواری جنم لیتی ہے اور کہیں اجتماعی زندگی انتشار اور افتراق کا شکار ہوتی ہے لیکن جب قوم ان میں سے کسی بات کا بھی ادراک کرنے کو تیار نہیں ہوتی تو پھر زوال کا عمل بڑھتے بڑھتے ناقابلِ اصلاح ہوجاتا ہے۔ بنی اسرائیل کے اسی تدریجی زوال کو ان آیات میں بیان کیا جا رہا ہے ایک ایسی امت جس کی بنیاد اللہ کے دین پر استوار ہو اور جس کی اجتماعی زندگی کا دارومدار تعلق باللہ ‘ اطاعت و خشیت اور خلق خدا کی خدمت پر ہو اس کے زوال اور تباہی کی تکمیل میں جو چیز سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ جن مذہبی علماء اور راہنمائوں نے لوگوں کے اندر ان بنیادی اقدار کو زندہ رکھنا اور توانا کرنا ہے وہ خود ان بنیادی اقدار سے تہی دامن ہوجائیں ان کے اہداف اور مقاصد زندگی تبدیل ہوجائیں اور ان کی ترجیحات یکسر بدل کر رہ جائیں اس وقت اس قوم کا حال ایک ایسی گاڑی کا ہوجاتا ہے جس کے سٹیئرنگ پر کوئی ڈرائیور نہ ہو اور اگر ہو تو اسے بالکل معلوم نہ ہو کہ مجھے اس گاڑی اور اس کے مسافروں کو لے کر کہاں جانا ہے مسافر کہیں اور جانا چاہتے ہوں اور اس کا رخ کسی اور طرف ہو ایسی صورت میں ان کی تباہی کے بارے میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا۔ اس آیت کریمہ میں بنی اسرائیل کے زوال کی اسی آخری علامت کو بیان کیا جار ہا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ لوگ قومی خصوصیات سے محروم ہوچکے تھے۔ انتشار اور افتراق کے باعث ان کی اجتماعی زندگی تباہ ہوچکی تھی۔ بایں ہمہ ! ان میں خیر بالکل ختم نہیں ہوا تھا صالحین کا ایک گروہ ان میں باقی تھا جو ان کی اصلاح کے لیے کوشاں رہتا تھا۔ ان صالحین کے راہنما اور مقتداء یقینا کتاب اللہ کے علماء ہوں گے جو کسی نہ کسی حد تک اپنا فرض ادا کرنے کی کوشش کرتے ہوں گے لیکن اب ان کی بدنصیبی یہاں تک پہنچ گئی کہ اب کتاب کے جو وارث ہوئے اور جنھوں نے اللہ کی کتاب کے علم کو اپنی زندگی کا مقصد بنا کر لوگوں کی اصلاح کے فرض کو انجام دینا تھا ان کا حال یہ ہوگیا کہ اس کتاب نے ان کے لیے آخرت کے حصول کو مقصد زندگی ٹھہرایا تھا اور انھیں حکم دیا گیا تھا کہ تمہاری زندگی اس طرح گزرنی چاہیے کہ ہر دیکھنے والا محسوس کرے کہ یہ لوگ آخرت کے مسافر ہیں ہر کام کرنے سے پہلے تمہیں فکر اس بات کی ہونی چاہیے کہ اس بارے میں اللہ کی کتاب نے کیا احکام دئیے ہیں اور شریعت ہماری کیا راہنمائی کرتی ہے ؟ تمہیں اپنی ضروریاتِ زندگی کے حصول میں ہر قدم پر سوچنا چاہیے کہ میرے لیے کیا چیز حلال ہے اور کیا چیز حرام ہے ؟ اور زندگی گزارتے ہوئے مجھے کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس سے میرا اللہ ناراض ہوجائے لیکن اب جو لوگ کتاب کے وارث اور حامل ٹھہرے ان کی زندگی کا رخ بالکل دوسری طرف ہوگیا وہ بجائے آخرت کے دنیا کو اپنا ہدف بنا چکے بجائے آخرت کے مسافر بننے کے وہ دنیا کے حریص ہوگئے بالکل دنیا داروں کی طرح انھیں رات دن یہ فکر رہنے لگی کہ ہم ایک پر تعیش زندگی کس طرح اختیار کرسکتے ہیں انھوں نے کتاب خداوندی کو بھی دنیا طلبی کا ذریعہ بنا لیا اصحابِ اقتدار اور امرائے دولت کی خوشنودی کے لیے اگر اللہ کی کتاب میں انھیں تحریف اور ترمیم کرنا پڑی تو اس سے بھی دریغ نہ کیا اور عوام کو ایسے ایسے مذہبی فریب دئیے جس سے ان کی مالی زندگی مستحکم ہوتی گئی۔ دنیا کی روایت یہ ہے کہ جب کسی قوم کے مذہبی رہنماء سیرت و کردار سے عاری ہوجاتے ہیں یا ان کے کردار میں کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں تو عوام ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مذہب کا قلادہ گلے سے اتار پھینکتے ہیں اور حکمران جب دیکھتے ہیں کہ یہی ایک طبقہ تھا جو ہمیں روکتا تھا اور اب وہ خود دنیا کی دلدل میں دھنس گیا ہے تو پھر انھیں اپنے مقاصدِ مذمومہ کو حاصل کرنے میں کوئی روک نہیں رہتی نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ پوری قوم عقائد کی کمزوری ‘ اخلاق کی خرابی اور معاملات میں نا ہمواری کا شکار ہو کر بےدریغ تباہی کی طرف دوڑنے لگتی ہے۔ بنی اسرائیل نے بھی جب دیکھا کہ ہمارے مذہبی راہنما خود حب دنیا کے اسیر ہو کر کہاں سے کہاں جا پہنچے ہیں تو اب انھیں دنیا طلبی کی ناروا حدود تک پہنچنے سے کون روک سکتا تھا حقوق اللہ پہلے ہی تباہ ہوچکے تھے اب حقوق العباد بھی تباہ ہوگئے ہر چیز پر حب دنیا کے غلبے کے باعث ایک ایسی لوٹ کھسوٹ مچی جس نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا۔ دیانت و امانت ‘ حلال و حرام کی پابندی ‘ قناعت اور سادگی ‘ بےغرضی اور بےلوثی قصہ پارینہ بن کر رہ گئیں۔ اجتماعی زندگی ان کی پہلے ہی تباہ ہوچکی تھی رہی سہی کسر حب دنیا کے بحران نے پوری کردی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم جب بھی قوموں کے عروج وزوال پر غور کرتے ہیں تو حیرت انگیز حد تک یہ بات سامنے آتی ہے کہ قوموں نے نامساعد حالات ‘ وسائل کی کمی ‘ آسانیوں کے فقدان اور مالی حالات میں ابتری کے دور میں ہی ترقی کی ہے یہی وہ دور ہوتا ہے جب ان کے اندر ہمت و شجاعت اور محنت و جانکاہی کا جذبہ ابلتا ہے۔ اولوالعزمی اور بلند ہمتی ان کا راستہ روشن کرتی ہے ان کے پیش نظر مقاصدِ زندگی اور قومی اہداف کے سواء اور کچھ نہیں ہوتا وہ نان شبینہ پر گزارا کرتے ہیں ‘ پیوند لگے کپڑے پہنتے ہیں ‘ جھونپڑوں میں سکونت رکھتے ہیں لیکن تخت و تاج ان کے پائوں کی ٹھوکروں میں ہوتے ہیں ‘ زمین ان کے لیے سمٹنے لگتی ہے ‘ سر اور دل ان کی عظمتوں کے سامنے جھکنے لگتے ہیں لیکن جیسے ہی ان کے اندر دنیا اپنا راستہ بنانے میں کامیاب ہوتی ہے اور وہ مظاہرِ دنیا کو عزت و عظمت کی علامت سمجھنے لگتے ہیں زمین پر بیٹھنے کی بجائے تخت پر بیٹھنا اور تاج پہننا ان کی معراج بن جاتا ہے اور طاقت اور قوت سے وہ لوگوں کی گردنوں پر سوار رہنا چاہتے ہیں اور درہم و دینار ‘ دولت کی ریل پیل ‘ معاشرت کا ٹھاٹھ بھاٹھ ان کا مقصود بن جاتا ہے تو پھر انھیں زوال کی طرف بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا قوت ہمیشہ جھونپڑوں سے نکلتی ہے اور محلات میں جا کر ڈوب جاتی ہے۔ سخت زندگی اولوالعزمی کو جنم دیتی ہے جس کے نتیجے میں فتوحات کا راستہ کھلتا ہے دنیا اور دولت دنیا سے محبت اور وابستگی ذلت اور نکبت کا سبب بنتی ہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا ہے ؎ سبب کچھ اور ہے تو خود جسے سمجھتا ہے زوال بندہ مومن کا بےزری سے نہیں جب بھی میرا جوہر آشکار ہوا قلندری سے ہوا ہے تونگری سے نہیں بنی اسرائیل اپنے مقتدائوں اور راہنمائوں کی اسی کمزوری اور گمراہی کے باعث اپنے زوال کی انتہاء کو پہنچ گئے حتی کہ ان کا یہ حال ہوگیا کہ اگر کبھی انھیں توجہ دلائی جاتی کہ تم ایک حامل دعوت امت ہو لوگوں کی اصلاح تمہاری ذمہ داری ہے تمہیں لوگوں کو دین سکھانا اور اللہ کی دھرتی پر دین کو قائم کرنا ہے تو عوام تو عوام ان کے مذہبی راہنما ایسی باتوں کے جواب میں کہتے کہ ہمیں اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں کہ ہمارا طرز عمل قیامت کے دن ہمارے لیے عذاب کا باعث ہوگا کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ ہم چونکہ انبیاء کرام کی اولاد ہیں اور ہمارا اللہ سے خاص رشتہ ہے اس لیے یقینا ہماری مغفرت کردی جائے گی اور کسی صورت بھی اللہ کا عذاب ہماری طرف متوجہ نہیں ہوگا لیکن اگر ایسی کوئی بات ہوئی بھی تو ہمارے آبائو اجداد یقینا ہمیں اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے۔ اندازہ فرمائیں ! یہ ایسی امت ہے جن کے ہاتھوں میں اللہ کی کتاب موجود ہے اور اللہ کے کتنے انبیاء و رسل ان کی ہدایت کے لیے آچکے ہیں۔ بایں ہمہ ! اپنے گھڑے ہوئے غلط عقائد پر انھیں اس حد تک اعتماد ہے کہ وہ ایمان و عمل کو چھوڑ کر ایسے ہی عقائد کے سہارے مغفرت کو یقینی سمجھتے ہیں یہ باتیں پڑھ کر بظاہر حیرت ہوتی ہے لیکن اگر ہم امت مسلمہ کے بعض طبقات کی زندگی دیکھیں تو پھر یہ بات سمجھنا مشکل نہیں رہتا کہ امتیں جب زوال پذیر ہوتی ہیں تو ان کا حال ایسا ہی ہوتا ہے۔ اندازہ فرمائیے اس امت کے پاس اللہ کی آخری کتاب موجود ہے اور پھر یہ واحد امت ہے جس کے پاس اللہ کے رسول کی سنت محفوظ ہے زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے بارے میں ہمیں واضح راہنمائی میسر نہ ہو بایں ہمہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارے غلط علماء اور پیشوائوں نے عوام کی ایک بہت بڑی تعداد کو یہ یقین دلا رکھا ہے کہ تمہیں اسلامی شریعت پر عمل کرنے اور ایمان کے تقاضوں کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تم نے جن لوگوں کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہے یعنی جن کو اپنا پیر اور مرشد مانا ہے تمہیں بس ان کی خدمت کرنی چاہیے وہ تمہاری بخشش کے لیے کافی ہیں۔ چناچہ ملک کے مختلف حصوں میں دیہات ہی میں نہیں شہروں میں بھی آپ کو ایسے پیرانِ کرام ملیں گے جن کی اپنی زندگی سراسر اسلامی تعلیمات سے بیگانہ ہے۔ بعض تو ایسے بھی مشہور بزرگ ہیں کہ جن میں تمام شرعی عیوب پائے جاتے ہیں لیکن عوام کی سادگی کا کیا کہنا کہ وہ سال بسال ان کے درشن کو اپنی بخشش کا ذریعہ سمجھ کر بےتابانہ وہاں پہنچتے ہیں اور جیسے ہی انھیں ایک جھلک دیکھنے کو ملتی ہے وہ اپنی ساری جمع پونجی ان کی خدمت میں پیش کردیتے ہیں لیکن جو تعلیم یافتہ لوگ اس حدتک سادہ نہیں ان کی بیخبر ی کا بھی یہ عالم ہے کہ انھیں ایمان و عمل سے کوئی بڑاتعلق نہیں رہا ہے وہ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے اعمال چاہے کچھ بھی ہوں قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کی شفاعت ہماری نجات کے لیے کافی ہے ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ارکانِ اسلام کے تارک ہیں ایسے بھی ہیں جن کی کمائی سراسر حرام کے ذرائع کی مرہونِ منت ہے اور ایسے بھی ہیں جنھیں نہ حقوق اللہ کی فکر ہے اور نہ حقوق العباد کی لیکن جب کبھی انھیں ان سے آخرت کی بات ہوتی ہے تو وہ بڑے اطمینان سے جواب دیتے ہیں کہ ہم جس رسول پاک ﷺ پر ایمان لائے ہیں وہ قیامت کے دن ہماری سفارش فرمائیں گے تو پھر ہمیں کسی عمل کی ضرورت کیا ہے ؟ زیادہ سے زیادہ یہ کرلینا چاہیے کہ رمضان المبارک میں خیرات کرلی جائے ‘ ربیع الاول میں میلاد کی محفلیں رچا دی جائیں، کسی مسجد میں قالین بچھا دیا جائے ‘ شبِ برأت میں حلوہ پوری سے لوگوں کی تواضع کردی جائے، یہ سب کچھ کرلینے کے بعد تو نجات میں کوئی شبہ ہی باقی نہیں رہ جاتا۔ اسی طرح کے سہاروں نے بنی اسرائیل کی زندگی برباد کی تھی اور انہی سہاروں نے اس امت کی دینی زندگی تباہ کردی ہے۔ اس آیت کریمہ میں آگے چل کر فرمایا گیا ہے کہ اے بنی اسرائیل کے لوگو ! تم نے جن مفروضوں پر اپنی پوری دینی زندگی کو استوار کرلیا ہے اور جس میں آخرت کی بجائے دنیا طلبی تمہارا مقصود بن کر رہ گئی ہے۔ کیا تمہاری کتاب نے تمہیں یہی تعلیم دی تھی ؟ اور آج بھی وہ اللہ کی کتاب تمہارے پاس موجود ہے بتائو کیا اس میں یہ باتیں موجود ہیں ؟ تمہیں خوب معلوم ہے کہ اس میں ایسی کوئی بات موجود نہیں البتہ اسی کتاب میں تم سے یہ عہد ضرور لیا گیا تھا کہ تم اسی کتاب کے احکام کے مطابق زندگی گزاروگے اور اپنی طرف سے کوئی بات بنا کر اس کتاب یعنی اللہ کی طرف منسوب نہیں کرو گے۔ تم میں ایسے لوگ بکثرت پائے جاتے ہیں جو اس کتاب کو پڑھتے بھی ہیں اور وہ خوب جانتے ہیں کہ اس کتاب میں کیا ہے اور کیا نہیں حتی کہ اس کتاب کو پڑھنے کا عالم یہ ہے کہ انھوں نے یہ کتاب پڑھ پڑھ کر گھس ڈالی ہے کیونکہ یہاں ” دَرَسُوْا “ کا لفظ استعمال ہوا ہے درس کا معنی گھسنا ہے جب کوئی کتاب ہر سطر پر انگلی رکھ کر بار بار پڑھی جائے تو عموماً اس کے الفاظ گھس جاتے ہیں آج بھی آپ نے بعض لوگوں کو دیکھا ہوگا کہ وہ قرآن کریم پر انگلی رکھ کر پڑھتے ہیں اور تورات کے زمانے میں کتابت اور طباعت کے اتنے خوبصورت انتظام بھی نہیں تھے یقینا اس وقت کتاب کو پڑھتے ہوئے ساتھ ساتھ انگلی بھی پھیرنا پڑتی ہوگی تاکہ کسی سطر کا اشتباہ نہ ہوجائے تو یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ تم نے کتاب پڑھ پڑھ کر گھس ڈالی ہے اور تمہیں خوب معلوم ہے کہ اس کتاب میں تمہیں کیا تعلیمات دی گئی ہیں اور تمہارے لیے کیا ترجیحات قائم کی گئی ہیں اور کس طرح آخرت کو تمہارا مقصود ٹھہرایا گیا تھا لیکن تم نے اس کی بجائے دنیا کے مال کو اپنا مقصود بنایا اور اس پوری تبدیلی کے لیے ان تصورات میں پناہ لی جنھیں تم نے اپنی خواہش سے پیدا کیا۔ حالانکہ اس کتاب نے تمہیں کھول کر یہ بات بتائی تھی کہ بخشش اور آخرت کا گھر کسی کا ذاتی اور خاندانی اجارہ نہیں بلکہ یہ تو ان لوگوں کو ملے گا جو دنیا میں خدا ترسی سے کام کریں گے جس کی زندگی ایک متقی کی زندگی ہوگی وہ بجائے دنیا کو اپنا مطلوب بنانے کے آخرت کی تیاری کی فکر کریں گے لیکن تم نے اس بنیادی تعلیم سے منحرف ہو کر اور کتاب خداوندی کی ہدایات کو نظر انداز کر کے نہ صرف دنیا طلبی کو اپنا محبوب اور مقصود بنایا بلکہ غلط عقائد اور تصورات گھڑ کر پوری دینی زندگی کو تباہ کر کے رکھ دیا تمہارے نزدیک بنی اسرائیل میں سے ہونا نجات کے لیے کافی ہے اگر ایسا ہوتا تو پھر کتابیں اور پیغمبر بھیجنے کی ضرورت ہی کیا تھی کیا تم اتنی معمولی بات کو نہیں سمجھتے کہ جو لوگ بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے انھیں اگر اپنے نسب کے اعتبار سے جنت میں جانا ہے تو ان کی طرف موسیٰ (علیہ السلام) کا تشریف لانا اور پھر ان پر تورات کا نازل ہونا اور پھر تورات کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے ان کا مصر سے نکل کر صحرائے تیہ اور وادیٔ سیناء میں آنا اور شہری زندگی کو چھوڑ کر صحرائی زندگی کو اختیار کرنا تاکہ اللہ کے دین کے تقاضوں کو پورا کیا جاسکے اس کی آخر کیا ضرورت تھی۔ اب بھی اگر تم سمجھنا چاہو تو ہم تمہیں بتائے دیتے ہیں کہ اللہ کے یہاں نجات اور بخشش کا دارومدار کس چیز پر ہے اور وہ کون لوگ ہیں جو اللہ کے ہاں مصلحین کہلا سکتے ہیں۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا :
Ayahs 7:170–171

وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 7:170 in the Quran reader

اور جو لوگ کتاب الٰہی کو مضبوطی سے تھامتے اور نماز قائم کرتے ہیں تو ہم مصلحین کا اجر ضائع نہیں کریں گے

وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 7:171 in the Quran reader

اور یاد کرو جب ہم نے ان کے اوپر پہاڑ کو معلق کردیا گویا وہ سائبان ہے اور انھوں نے گمان کیا کہ وہ ان پر گرا ہی چاہتا ہے ‘ (ہم نے کہا) پکڑو اس چیز کو جو ہم نے تم کو دی ہے مضبوطی سے ‘ اور یاد رکھو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم اللہ کے عذاب سے محفوظ رہو۔

وَالَّذِیْنَ یُمَسِکُوْنَ بِالْکِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَط اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَالْمُصْلِحِیْنَ ۔ وَاِذْ نَتَقْنَالْجَبَلَ فَوْقَھُمْ کَانَّہٗ ظُلَّۃٌ وَّطَنُوْٓا اَنَّہٗ وَاقِعٌمبِھِمْج خُذُوْامَآاٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّۃٍ وَّاذْکُرُوْا مَافِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَتَقُوْنَ ۔ (الاعراف : 171 170) ” اور جو لوگ کتاب الٰہی کو مضبوطی سے تھامتے اور نماز قائم کرتے ہیں تو ہم مصلحین کا اجر ضائع نہیں کریں گے اور یاد کرو جب ہم نے ان کے اوپر پہاڑ کو معلق کردیا گویا وہ سائبان ہے اور انھوں نے گمان کیا کہ وہ ان پر گرا ہی چاہتا ہے ‘ (ہم نے کہا) پکڑو اس چیز کو جو ہم نے تم کو دی ہے مضبوطی سے ‘ اور یاد رکھو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم خدا کے عذاب سے محفوظ رہو۔ “۔ نجات کا دارومدار تمسیک بالکتاب اور اقامتِ صلوٰۃ پر ہے اس آیت کریمہ کو سابقہ آیت کریمہ کے ساتھ ملا کر پڑھیں اور اس کی روشنی میں اس کے الفاظ پر غور کریں تو تب اس آیت کریمہ کو سمجھنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ گزشتہ آیت کریمہ میں بنی اسرائیل کے حوالے سے جو کچھ کہا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا زوال بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ گیا کہ جس کتاب کے ذریعے سے انھوں نے دنیا کی امامت و قیادت کرنی تھی اور جس کے واسطے سے انھوں نے اپنی اور دنیا کی اصلاح کا کام کرنا تھا انھوں نے اس کتاب کو صرف تلاوت کی حد تک قبول کیا باقی پوری زندگی انھوں نے خواہشات کے حوالے کردی ہماری طرح وہ بھی یہی سمجھتے رہے کہ اللہ کی کتاب کا حق صرف یہ ہے کہ اسے پڑھا جائے اور اس سے ثواب حاصل کیا جائے یا زیادہ سے زیادہ اس سے شفاء حاصل کرلی جائے یعنی تعویذ وغیرہ میں استعمال کیا جائے اور اگر بہت ہی زیادہ اس تعلق کو نبھانا ہو تو پھر اس سے ایصالِ ثواب کا کام لے لیا جائے رہی یہ بات کہ اس کتاب کو زندگی کا راہنما بنا کر اس کی راہنمائی میں زندگی گزاری جائے اسی کو آئین اور قانون کا درجہ دیا جائے جس طرح عبادت گاہوں میں اس کا چلن ہو اسی طرح زندگی کے ہر دائرے میں حتی کہ عدالتوں اور ایوان ہائے حکومت میں بھی اسی کی حکومت ہو اس سے انھوں نے یکسر انحراف کر کے کتاب کو اپنے گھروں یا زیادہ سے زیادہ اپنی عبادت گاہوں تک محدود کرلیا اور اپنی زندگی کی باگ ڈور وضعی قوانین اور طاغوتی قوتوں کے ہاتھ میں دے دی۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ تمہاری انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تمام تر خرابی کا دارومدار اسی ایک تصور کے بگڑ جانے پر ہے کہ ہم نے تمہیں اس کتاب سے تمسک کا حکم دیا تھا اور اب بھی وہی لوگ اس کتاب سے فائدہ اٹھائیں گے جو اس کتاب سے تمسک کریں گے۔ تمسک کا معنی ہے ” کسی چیز کو مضبوطی سے پکڑ لینا یا تھام لینا “۔ کتاب کو مضبوطی سے پکڑ لینے کا مطلب یہ ہے جیسا پہلے عرض کرچکا ہوں کہ اس کتاب کو زندگی کی راہنماء بنایا جائے جس طرح عبادت کرتے ہوئے یہ کتاب راہنمائی کرے اسی طرح معاشرت ‘ معیشت ‘ تعلیم ‘ سیاست ‘ تفریح ‘ حکومت ‘ معاملات ‘ آدابِ زندگی غرضیکہ ہر شعبہ زندگی میں کبھی اس کے ماننے والے اسے اپنے سے علیحدہ نہ کریں جس طرح جسم و جان میں موت سے پہلے علیحدگی نہیں ہوسکتی ‘ جس طرح پھول اور خوشبو کبھی الگ الگ نہیں ہوسکتے ‘ جس طرح چاند سے اس کی آب و تاب الگ نہیں کی جاسکتی ‘ جس طرح پانی سے اس کا بہائو نہیں چھینا جاسکتا ‘ جس طرح سورج سے اس کی کرنیں الگ نہیں کی جاسکتیں اسی طرح کتاب اور اہل کتاب کو بھی جدا جدا نہیں کیا جاسکتا۔ اس انتہائی قریبی تعلق اس وابستگی اور وارفتگی اور ایمان و عمل کے اس رشتے کو کتاب سے تمسک کا نام دیا گیا ہے اور پھر یہ دکھانے کے لیے کہ کتاب سے تمسک کے بعد انسان میں کیا تبدیلی آتی ہے۔ اقامتِ صلوٰۃ کا ذکر کیا گیا ہے کہ جو لوگ صاحب ایمان ہیں وہ کتاب سے تمسک کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں کیونکہ کتاب سے تمسک کا سب سے پہلا مقصد یہ ہے کہ بندے کو اس کے معبود سے جوڑ دیا جائے۔ بندے کا اپنے رب سے ٹوٹا ہوا رشتہ بحال ہوجائے انسان جو مختلف آستانوں پر سر جھکاتا پھرتا ہے یا بغاوت کا شکار ہو کر خود طاغوت بن بیٹھا ہے اسے اللہ کے آستانے پر جھکا دیا جائے جو انسان قوت اور طاقت کا مدعی بن کر لوگوں پر ظلم توڑنے لگا ہے اس کے ذہن میں یہ بات ڈال دی جائے کہ طاقت کا حقیقی سر چشمہ اللہ کی ذات ہے اسی کی قدرتیں اور قوتیں بےپناہ ہیں اس کے سامنے کسی کی قدرت اور قوت کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ اسی طرح جو لوگ تخت و تاج یا دولت و امارت کو عظمت و بلندی کا مصدر و منبع جان کر اس کی بندگی کرنے لگتے ہیں انھیں بتایا جائے کہ وہ ذات جو سب عظمتوں کی مالک ‘ سب کبریائیوں کی حامل اور تمام بلندیوں سے بلند ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ دنیا میں جہاں جہاں عظمت و سطوت کی نمود دیکھتے ہو وہ فریبِ نظر کے سوا کچھ نہیں انسانوں کی کمزوریوں نے انسانوں کو خدا بنایا ہے، سر جھکانے والوں نے آستانوں کو وجو دبخشا ‘ جھکنے والوں نے دماغوں میں ربوبیت کا سودا پیدا کیا ہے۔ ان تمام کمزوریوں کا علاج صرف نماز سے ممکن ہے جس کا ایک ایک بول ‘ جس کا قیام و قعود ‘ جس کا رکوع و سجود ‘ جس کی تسبیح و مناجات ایک ایک کمزوری کا علاج ہے۔ ایک نمازی جب نماز کے ارادے سے ہاتھ اٹھا کر اللہ اکبر کہتا ہے تو وہ اصل میں اعلان کرتا ہے کہ میں تمام دنیا کی قوتوں ‘ شوکتوں ‘ تمام دنیا کے ازموں اور تمام دنیا کے آستانوں کو ماننے سے انکار کرتا ہوں میں دنیا کے ہر فرعون اور نمرود کی عظمت کو پائوں کی ٹھوکر پر اچھالتا ہوں ‘ میں ساری دنیا کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینکتا ہوں اور میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اللہ سب سے بڑا ہے وہ بادشاہوں کی عظمت سے بھی بڑا ہے اور مشیخیت اور تقدس کے دعوے داروں سے بھی بڑا ہے اس کائنات کے عناصرِ قدرت و فطرت اسی کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ ایک ایک مخلوق اسی کی تسبیح میں لگی ہوئی ہے جہاں کہیں بھی عظمت وقدرت کی نمود ہے وہ سب اس کی دین ہے یہیں سے آدمی کو وہ رفعت و منزلت ملتی ہے جس سے وہ تمام مخلوقات سے بلند ہو کر اللہ سے جڑ جاتا ہے اب کوئی دیوتا یا اوتار یا کوئی قبہ یا کوئی دستار اسے اپنے سامنے جھکنے پر مجبور نہیں کرسکتی ‘ کائنات کی منہ زور قوتیں اس کے ذوق تسخیر کو انگیخت تو کرسکتی ہیں ہراساں نہیں کرسکتیں۔ اسے ایک طرف اپنی ذات کی معرفت نصیب ہوتی ہے تو دوسری طرف اپنے خالق ومالک اور اپنے آقا کی پہچان ملتی ہے۔ انسان کی تمام سرفرازیوں اور اس کی تمام ذلتوں کا راز صرف اسی ایک بات میں مضمر ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے آقا کو پہچانتا ہے کہ نہیں ‘ وہ اس دولت سے بہرہ ور ہوجائے تو دنیا کی سب سے بڑی قوت بن جاتا ہے بےبہرہ رہے تو اس کی حیثیت مشت خاک سے زیادہ نہیں ‘ جگر مرادآبادی نے ٹھیک کہا ؎ گھٹے اگر تو بس ایک مشت خاک ہے انساں بڑھے تو وسعت کونین میں سما نہ سکے اپنے آقا کی معرفت اور اپنی ذات کا شعور یہی انسان کا حقیقی سرمایہ ہے اور نماز انسان میں یہی روح پوری توانائیوں کے ساتھ پیدا کرنے کا کردار ادا کرتی ہے۔ اللہ اکبر سے اس کا آغاز ہوتا ہے اور پھر قدم قدم یہ شعور اور یہ معرفت آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اللہ کی کبریائی کے اعلان کے بعد ایک نمازی اس کی تسبیح وتحمید کرتا ہے ‘ اس کی صفات کی تنزیہ کرتا ہے ‘ اس کی برکتوں اور اس کی بزرگی کے تصور سے اپنے دل و دماغ کو روشن کرتا ہے اور ہاتھ باندھ کر پوری طرح اسی کی غلامی میں ڈوب جاتا ہے اور پھر جب اسے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ صرف ایک اللہ کی بندگی کرنا اس دنیا میں آسان نہیں تو پھر وہ فوراً اسی سے پناہ کا طلب گار ہوتا ہے اور شیطانی قوتوں سے برأ ت کا اظہار کرتے ہوئے اللہ کی رحمت کے سائے میں دعا کے لیے زمزمہ سنج ہوجاتا ہے اس کی ربوبیت کے اعتراف ‘ اس کی بےپایاں رحمتوں کا شکر اور ساتھ ہی اس کی صفت عدالت کو یاد کرتے ہوئے پروردگار سے التجا کرتا ہے کہ الہٰی ! تیری صفت عدل یقینا میری زندگی کے اعمال کے مطابق میرے ساتھ معاملہ کرے گی تو نے اگرچہ مجھے حواس اور جوہرِ عقل کی دولت سے نوازا ہے لیکن انسانی معاملات ‘ طبعی خواہشات ‘ مفادات کا ہجوم ‘ گروہی مفادات کا دبائو ‘ جبلت کی پیچیدگیاں ‘ تعلقات کی ناہمواریاں ‘ نفع و ضرر کی نارسائیاں اور ذہن و خرد کی ناتمامیاں ایک ایسا گھنا اور خار دار جنگل ہے جس میں راستے کا تلاش کرنا اور کانٹوں سے بچ کر نکلنا تیری ہدایت کے بغیر ممکن نہیں میرے مالک تو مجھے اس ہدایت سے بہرہ ور فرما تاکہ میں زندگی کے راستے پر ان لوگوں کا طریقہ اختیار کروں جو تیرے انعامات کے مستحق ٹھہرے اور ان لوگوں کے طریقوں سے بچوں جو تیرے غضب کے مستحق ہوئے پروردگار اس کے جواب میں وہ کتاب ہدایت کھول کر سامنے رکھ دیتا ہے جس کی موجودگی میں زندگی کا کوئی بھی زاویہ الجھا ہوا نہیں۔ اس نے انسانی زندگی کے راستے پر اس طرح نور پھیلا دیا ہے کہ سوائے دلوں کے اندھوں کے کسی کے لیے ٹھوکر کھانے کا خوف نہیں ہے۔ ایک بندہ جب اس عظیم دولت سے بہرہ ور ہوتا ہے اور پھر اسے بار بار پڑھتا بھی ہے تو اللہ کی اس نعمت سے گراں بار ہو کر فوراً وہ اپنے مالک کے سامنے جھک جاتا ہے اور اس کی تسبیح وتحمید کے زمزمے اس کی زبان پر جاری ہوجاتے ہیں پھر وہ اس کیفیت میں ایسا سرشار ہوتا ہے کہ حالت قیام میں اس کی زبان پر حمد وثناء کے ساتھ ساتھ اللہ کی جانب سے قبولیت کا بھی اعلان ہونے لگتا ہے زبان پر اس جملے کے آتے ہی طبیعت ایسی بےقابو ہوتی ہے کہ وہ سر تاپا بندگی بن کر اپنے آقا کے سامنے ڈھیر ہوجاتا ہے ‘ دیر تک اس کی حمد وثناء میں ڈوبا رہتا ہے طبیعت کو کچھ اطمینان ملتا ہے تو قعدہ میں اطمینان سے بیٹھ کر اپنی بندگی کا سارا اثاثہ ‘ اپنی توانائیوں کا سارا خزانہ ‘ اپنی قوت گویائی کی ساری جولانیاں اور اپنے کسب و اکتساب کا سارا سرمایہ اللہ کے حضور نذر کرتے ہوئے کہتا ہے ؎ مرے دیدہ تر کی بےخوابیاں مرے دل کی پوشیدہ بےتابیاں مرے نالہ نیم شب کا نیاز مری خلوت و انجمن کا گداز امنگیں مری آرزوئیں مری امیدیں مری جستجوئیں مری یہی کچھ ہے ساقی متاع فقیر اسی سے فقیری میں ہوں میں امیر ایسے ہی احساسات میں ڈوبتا ابھرتا بندگی کی معراج کو چھوتا ہوا ایک بندہ نماز کو پورا کرتا ہے اور اسی سے اس کو وہ دولت نصیب ہوتی ہے جو تمسک باالکتاب کی حقیقی منزل ہے اور پھر یہ کوئی ایک دفعہ کا معاملہ نہیں بلکہ دن میں پانچ مرتبہ یہ مشق کروائی جاتی ہے۔ صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے ان تأثرات کو دل و دماغ میں ابھارا جاتا ہے، بندے اور اس کے رب کے رشتے کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے ایک بندے کو اس کی اصل حیثیت کا احساس دلایا جاتا ہے تاکہ جب وہ دن کے وقت فرائضِ زندگی اور کاروبارِ معیشت کا آغاز کرے تو یہ احساسات اور تأثرات ہمہ وقت اس کے ہمرکاب اور ہم نشین رہیں اور جب وہ اپنے معمولات میں حدود سے تجاوز کرنے لگے ‘ مسرت و شادمانی کے لمحات میں بہکنے لگے ‘ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے امانتوں میں خیانت کرنے لگے ‘ اقتدار و حکومت کے نشے میں ظلم وتعدی پر آمادہ ہو ‘ یا محکومیت و مظلومیت میں اپنے تئیں بےسہارا پا کر ڈولنے لگے تو اللہ کی کبریائی اور عظمت اور اپنی بندگی و اطاعت کا گہرا شعور ہر قدم پر اس کی دستگیری کرے۔ ہمارے پروردگار سے بڑھ کر ہماری کمزوریوں کو اور کون جانتا ہے اسے خوب علم ہے کہ نسیان و زھول اور خواہشات و جذبات سے مغلوبیت ہمارا وطیرہ ہے۔ اس لیے نماز جیسی یاد دہانی اور ذکر کو صرف صبح تک محدود نہیں رکھا بلکہ ہر بدلتی ہوئی حالت کا لحاظ فرماتے ہوئے بار بار اس کا حکم دیا۔ ہمارا سب سے زیادہ مصروفیت کا وقت سہ پہر اور شام کا وقت ہے جب کاروبارِ معیشت زوروں پر ہوتا ہے اور اندیشہ ہوتا ہے کہ حبِّ دنیا ‘ ہوسِ زر اور دیگر عوامل کہیں اساسی مقاصد پر غالب نہ آجائیں تو ظہر ‘ عصر اور مغرب کی نمازیں فرض فرما کر اصل حیثیت اور حقیقی مقاصد کی یاد دہانی فرمائی اور انسانیت کو پستی میں ڈوب جانے اور غفلت میں بہک جانے سے بچایا اور پھر سونے سے پہلے عشاء کی نماز فرض فرما کر اور نسبتاً لمبی نماز پڑھا کر دن بھر کی کوتاہیوں پر استغفار اطاعت و خدمت پر استقامت کی صورت میں شکر کے اظہار اور آنے والے کل کے لیے دعا و مناجات کا موقع عطا فرمایا۔ اس طرح دن میں پانچ مرتبہ اللہ سے بندگی و عبودیت کا عہد لیا گیا اور اسلامی سیرت و کردار کی ایک مضبوط بنیاد فراہم کردی۔ جب تک اس عہد و پیمان میں شعور و آگہی کی کارفرمائی باقی رہے گی اسلامی سیرت و کردار میں ضعف پیدا ہوجانے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ کہا جاسکتا ہے جس کی طرف اس آیت کریمہ میں اشارہ بھی محسوس ہوتا ہے وہ یہ کہ تمسک باالکتاب اور اقامتِ صلوٰۃ سے جس سیرت و کردار کی تعمیر ہوگی اس کی روشنی صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ یہ ایک ایسا نور ہوگا جس سے قریب و بعید کا ماحول بھی روشن ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا نماز سے پیدا ہونے والے سیرت و کردار کے نتیجے میں ایک ایسا شعور جنم لے گا جس سے اصلاح کا عمل قوت پکڑے گا اور یہ لوگ اپنے ماحول کے مصلح بن کر رفتہ رفتہ اپنی قوم کو راہ راست دکھائیں گے لیکن یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ وہ اللہ کی کتاب کی راہنمائی کو قبول کریں اور اپنی زندگیوں کو نماز کے نور سے روشن کریں کیونکہ یہی وہ حقیقی بنیاد ہے جو کسی بھی فرد اور قوم کی زندگی کی تعمیر کی بنیاد بن سکتی ہے اس لیے اگلی آیت کریمہ میں اسی بات کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ قومی زندگی میں کتاب خداوندی کی راہنمائی کی حیثیت ‘ اس کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ جب ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور انھوں نے بنی اسرائیل کے سامنے اسے پیش کیا تو انھوں نے اس کے احکام کو دیکھتے ہوئے اسے قبول کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا تھا تو پروردگار نے ان کی اس کوتاہی کو نظر انداز کرنے کے بجائے کوہ طور کو ان کے سروں پر معلق کردیا اور یہ تصور دیا کہ اگر تم نے پورے اخلاص کے ساتھ اس کتاب کی دی ہوئی راہنمائی اور اس کی پیش کردہ شریعت کے مطابق زندگی کا چلن نہ بنایا تو تمہیں اس کوہ طور کے نیچے مسل دیا جائے گا۔ کیونکہ جو زندگی اللہ کے اقرار اور اس پر ایمان کے باوجود کتاب اللہ کے راہنمائی سے عاری ہو اور کتاب کی پیش کردہ شریعت پر عمل کرنے کے لیے تیار نہ ہو محض اقرار و ایمان نہ اس کی دنیا بنا سکتے ہیں اور نہ اس کے آخرت میں کام آسکتے ہیں بندگی کا بنیادی تقاضا ہی یہ ہے کہ زندگی کے ہر مرحلے اور ہر شعبے میں اللہ کی حاکمیت قائم کی جائے اس کے نازل کردہ احکام نافذ ہوں اور اس کی کتاب انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک مکمل طور پر حاوی ہو یہ ضرورت اور یہ تقاضا ظاہر ہے صرف ایمان لانے سے پورا نہیں ہوتا اس کے لیے تو اللہ کے دین کا نافذ ہونا ضروری ہے۔ یہاں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے تو دین میں جبر نہیں رکھا اسے یہ پسند نہیں کہ کسی کو زبردستی مومن بنایا جائے لیکن یہاں تو بنی اسرائیل پر جبر کیا جا رہا ہے کہ اگر تم نے تورات کو قبول نہ کیا تو تم پر پہاڑ گرا کر تمہیں تباہ کردیا جائے گا حقیقت یہ ہے کہ بنی اسرائیل صحرائے سیناء میں آنے اور نزول کتاب سے پہلے ایمان لا چکے تھے اب سوال ان کے ایمان کا نہیں تھا بلکہ سوال یہ تھا کہ جس پروردگار اور جس رسول پر وہ ایمان لائے ہیں اس کے پیش کردہ صحیفہ ہدایت کو قبول کرنے سے کیسے انکار کرسکتے ہیں لیکن اگر وہ انکار کریں تو ان کا یہ انکار بغاوت کے مترادف ہوگا اور بغاوت کی اجازت تو دنیا کا کوئی مہذب آدمی نہیں دیتا۔ کوئی بھی مہذب قوم کسی شخص کو اپنے ملک کا شہری بننے پر مجبور نہیں کرتی لیکن جب کوئی شخص اپنی آزادانہ رائے سے کسی ملک کی شہریت کو قبول کرلیتا ہے تو پھر اسے مجبور کیا جاتا ہے کہ تمہیں اس ملک کے قوانین کی پابندی بھی کرنا ہوگی اب اگر وہ شہری تو رہنا چاہتا ہے لیکن وہ ملک کے آئین اور قانون کا احترام اور اطاعت کرنے کے لیے تیار نہیں بلکہ اسے ماننے سے ہی انکار کردیتا ہے تو اب اس پر ضرور جبر کیا جائے گا یہی صورتحال یہاں بھی ہے کہ یہ لوگ آزادانہ مرضی سے ایمان لانے کے بعد اطاعت اور عمل میں کوتاہی کا ارتکاب کرنا چاہتے تھے جس پر انھیں تنبیہ کی گئی کہ تمہارا معاملہ ایک ایسے خداوندِ ذوالجلال سے ہے جو تمہیں سزا دینے پر بھی قادر ہے اور اس کی قوت کا معمولی سا اظہار یہ ہے کہ اس نے میلوں تک پھیلے ہوئے کوہ طور کو تمہارے سروں پر معلق کردیا ہے تو تم اگر اس کے جلال اور اس کے غضب سے بچنا چاہتے ہو تو اس کی نازل کردہ کتاب کے مطابق زندگی گزارو اس کے بغیر تم ایک کامیاب زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔