Ayah 7:10وَلَقَدْ مَکَّنّٰکُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَکُمْ فِیْھَا مَعَایِشَ ط قَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَ ۔
(الاعراف : 10)
” اور ہم نے تمہیں زمین میں اقتدار بخشا اور تمہارے لیے معاش کی راہیں کھولیں پر تم بہت ہی کم شکر گزار ہوتے ہو “۔
احسانات کے ذکر سے ملامت بھی اور دعوت بھی
اس آیت کے الفاظ کو دیکھیں تو ان میں چونکہ عمومیت پائی جاتی ہے اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس میں خطاب پوری نوع انسانی کو ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ تمام نوع انسانی کی طرف اللہ کے رسول بن کے آئے اور یہ قرآن سب کی طرف اللہ کا پیغام ہے اس لیے تمام انسانوں سے خطاب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ دیکھو اس زمین پر اللہ نے تمہیں رہنے کی سہولتیں عطا فرمائیں اور اسی میں تمہاری زندگی کے امکانات رکھے اور تمہارے پھلنے پھولنے کے اسباب پیدا فرمائے۔ زمین کا ایک ایک انچ اس نے تمہارے لیے مسخر کردیا اور زمین میں مضمر قوتیں تمہاری خدمت میں لگا دیں اس کے مدفون خزانے تمہاری قوت تسخیر کے لیے ہموار کردیئے گئے۔ اس کی فضائیں اس کی ہوائیں اس کے سمندر ‘ اس میں چمکنے والے سورج اور چاند اور اس پر تنی ہوئی آسمان کی چھت سب تمہاری خدمت میں لگا دی گئی اور پھر اس میں تمہارے لیے روزی کا سامان رکھا گیا ‘ معیشت کی راہیں کھولی گئیں ‘ قسم قسم کے غلے اگائے گئے اور نوع بہ نوع پھل پیدا کیے گئے۔ خوبصورتی کے وہ وہ مناظر رکھے گئے کہ آدمی دیکھ کر دنگ رہ جائے آنے جانے کے لیے راستے کھول دیئے گئے ‘ پانی کو حکم دیا گیا کہ ہماری کشتیوں کو اٹھائے پھرے ‘ ہوائوں نے ہمارے بادبانوں کو سہارا دیا اور ہمارے لیے جوہر عقل کی وہ نعمت عطا کی گئی جس نے ہمیں ایجادات کی دولت مرحمت کی اور ہم اس قابل ہوئے کہ ہوائوں میں اڑنے لگے اور سمندر کی گہرائیوں کی خبر لانے لگے اور پوری زمین ہماری لیے ہاتھ کی لکیروں کی طرح سمٹ کے رہ گئی۔ ان تمام احسانات کا ذکر فرمانے کے بعد اس کا نتیجہ ہمارے لیے چھوڑ دیا گیا کہ خود سوچو کہ اس کے بعد تمہیں کیا کرنا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ کسی بھی محسن کے احسانات کا بدلہ احسان شناسی سے ہوتا ہے اور احسان شناسی کا حق اطاعت اور خدمت کی صورت میں ادا کیا جاتا ہے۔ اللہ کے احسانات کا بدلہ بھی انسان کی طرف سے یہ ہونا چاہیے کہ وہ اللہ کی بندگی اور اس کی اطاعت کرے اور اس کے احکام کو قبول کر کے اس کے عطا کردہ مقاصد کو اپنی زندگی کے مقاصد بنائے اور اس کی طرف سے آنے والے رسول کی زندگی کو اپنے لیے رہنما سمجھے لیکن اگر ایسا نہ کیا جائے تو اس کو ادائے شکر نہیں بلکہ کفرانِ نعمت کہا جائے گا۔ انسانوں نے چونکہ بالعموم یہی رویہ اختیار کیا اس لیے نہایت افسوس سے فرمایا گیا کہ تم بہت کم شکر بجا لاتے ہو۔ بجائے اللہ کی عبادت و اطاعت کے تم نے اس کے شریک بنا رکھے ہیں اور بجائے اس کے رسول کی دعوت کو قبول کرنے کے تم نے اس کے رسول کی مخالفت میں کمر باندھ رکھی ہے۔
اگر سیاق کلام کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں خطاب قریش مکہ سے ہے اور ان پر جو اللہ نے احسانات کیے ان کا تذکرہ فرمایا جا رہا ہے اس لحاظ سے اس آیت کی تشریح یہ ہوگی کہ اے قریش ہم نے تمہیں اس سرزمینِ حرم میں اقتدار بخشا اور تمہیں یہاں کے اختیارات کا مالک بنایا کیونکہ تمکین فی الارض کا معنی زمین میں اختیار و اقتدار بخشنا ہے۔ سورة یوسف میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حوالے سے یہی لفظ اختیار کیا گیا اور یہاں چونکہ خطاب قریش سے ہے اس لیے الارض سے مراد سرزمین حرم ہوگا اور معایش سے اشارہ ان معاشی سہولتوں اور برکتوں کی طرف ہے جو ایک وادی غیر زی زرع میں حضرت ابراہیم کی دعا اور بیت اللہ کی برکت سے اہل عرب کو عموماً اور قریش کو خصوصاً حاصل ہوئیں ہم جانتے ہیں کہ مکہ کے سرزمین میں کوئی چیز پیدا نہیں ہوتی۔ وہاں تو کھجور کے درخت بھی دیکھنے کو نہیں ملتے۔ خشک پہاڑ اور پتھریلی زمین کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنی اولاد کو یہاں ٹھہرایا اور اللہ کا گھر تعمیر کیا تو اللہ سے دعا کی کہ یا اللہ میری اولاد کے دل میں اپنے گھر کی محبت پیدا فرما اور ان کو پھلوں کا رزق عطا فرما۔ چناچہ اللہ نے ان کی دعا ایسی قبول فرمائی کہ حرم کی سرزمین مرجع خلائق بن گئی اور دنیا بھر کی نعمتیں اس سرزمین میں کھینچ کے آنے لگیں۔ اس سے چند میل کے فاصلے پر ایسی وادیاں بسائی گئیں جس میں ضرورت کی ہر چیز اگنے لگی اور قسم قسم کے پھل مکہ کے بازاروں میں دستیاب ہونے لگے۔ آنحضرت کی بعثت کے وقت بھی مکہ میں ہر طرح کی نعمتیں میسر تھیں اور آج بھی وہاں جانے والا ہر شخص اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھتا ہے کہ وہاں بظاہر کوئی چیز اگتی نظر نہیں آتی لیکن دنیا کی ہر نعمت اس کے بازاروں میں دکھائی دیتی ہے اور پھر اللہ نے مزید احسان قریش پر یہ فرمایا کہ حضور کی بعثت سے پہلے پورا عرب نفرتوں کا جہنم بن چکا تھا۔ کسی کی نہ جان سلامت تھی نہ مال ‘ راہ چلتے قافلے لوٹ لیے جاتے تھے ‘ ہر قبیلہ دوسرے قبیلے کے لیے درندوں سے کم نہ تھا۔ لیکن قریش کو اللہ کے گھر کے متولی ہونے کے باعث احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا یہ اپنا تجارتی قافلہ لے کر جب دوسرے ملکوں کی طرف جاتے تھے تو راستے میں پڑنے والے عرب قبیلے نہ صرف کہ ان پر حملہ نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی حفاظت کرنا اور ان کو سہولتیں بہم پہنچانا اپنا فرض سمجھتے تھے اس طرح قریش کو تجارت میں وہ آسانی پیدا ہوئی کہ جس کا اس زمانے میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا اور اللہ کے اس گھر کی وجہ سے سرزمین حرم امن کا گہوارہ بن گئی۔ کوئی شخص حرم کی حدود میں اور خاص طور پر بیت اللہ کے پاس اپنے باپ کے قاتل پر بھی ہاتھ اٹھانے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔ پورا عرب جو نفرتوں کی آگ میں جل رہا تھا اس میں مکہ کی سرزمین ایک جنت کا نمونہ تھی۔ جس میں قریش کو اللہ نے اقتدار اور اختیار بخش رکھا تھا اور انھیں حصول رزق کی آسانیاں بہم پہنچا رکھی تھیں چناچہ ان پر اپنے احسانات کا ذکر فرما کر انھیں یاد دلایا جا رہا ہے کہ تمہیں چاہیے تو یہ تھا کہ اللہ کے ان احسانات کا تم شکر ادا کرتے اور تم اللہ کی بندگی کرتے ہوئے شیطانی قوتوں کے راستے پر چلنے سے انکار کردیتے لیکن افسوس یہ ہے کہ تم نے اللہ کی اطاعت کی بجائے شیطان کی اطاعت کی اور اللہ کے رسول پر ایمان لانے کی بجائے تم نے رسول کی مخالفت پر کمر باندھ لی حالانکہ شیطان پہلے دن سے تمہارا دشمن چلا آرہا ہے لیکن تم عجیب بیوقوف ہو کہ اپنے دشمن کو پہچاننے کی بجائے اس کی اطاعت کر رہے ہو چناچہ اگلی آیات میں انسان اور ابلیس کے تعلق کی تاریخ کو دھرایا جا رہا ہے تاکہ بالعموم نوع انسانی اور بالخصوص قریش اپنے رویے کی غلطی کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ارشاد فرمایا جاتا ہے :
Ayahs 7:11–22وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ صلے ق فَسَجَدُوْٓا اِلَّا اِبْلِیْسَ ط لَمْ یَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ ۔ (الاعراف : 11)
” اور ہم نے تمہارا خاکہ بنایا پھر تمہاری صورت گری کی پھر فرشتوں کو فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا “۔
تخلیقِ انسان کا اسلامی نقطہ نگاہ اور اس کی وضاحت
سب سے پہلے آیت کے بعض الفاظ پر غور فرمایئے۔ سب سے پہلے فرمایا خَلَقْنٰکُمْ اور پھر فرمایا صَوَّرْنٰکُمْ ۔ بات اصل میں یہ ہے کہ جب خَلَقَ کا لفظ اکیلا استعمال ہوتا ہے تو یہ اپنے لوازم سمیت استعمال ہوتا ہے یعنی اس میں تخلیق کے تمام مدارج شامل ہوتے ہیں لیکن جب اس کے متعلقات میں سے کوئی متعلق اس کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے تو پھر اس کا معنی ہوتا ہے خاکہ بنانا۔ تو یہاں اس کے ساتھ چونکہ صَوَّرْنٰکُمْ کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے پہلے تمہاری تخلیق کا منصوبہ بنایا اور تمہارا مادہ آفرینش تیار کیا پھر اس مادے کو انسانی صورت عطا کی۔ پھر جب یہ ایک زندہ ہستی کی حیثیت سے انسان وجود میں آگیا تو اسے سجدہ کرنے کے لیے فرشتوں کو حکم دیا۔ تخلیق انسانی کے اس آغاز کو اس کی تفصیلی کیفیت کے ساتھ سمجھنا ہمارے لیے مشکل ہے۔ ہم اس حقیقت کا پوری طرح ادراک نہیں کرسکتے کہ مواد ارضی سے بشر کس طرح بنایا گیا ‘ پھر اس کی صورت گری اور تعدیل کیسے ہوئی اور اس کے اندر روح پھونکنے کی نوعیت کیا تھی۔ لیکن بہرحال یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ قرآن مجید انسانیت کے آغاز کی کیفیت ‘ ان نظریات کے خلاف بیان کرتا ہے جو موجودہ زمانہ میں ڈاردن کے متبعین سائنس کے نام سے پیش کرتے ہیں۔ ان نظریات کی رو سے انسان غیر انسانی اور نیم انسانی حالت کے مختلف مدارج سے ترقی کرتا ہوا مرتبہ انسانیت تک پہنچا ہے اور اس تدریجی ارتقاء کے طویل خط میں کوئی نقطہ خاص ایسا نہیں ہوسکتا جہاں سے غیر انسانی حالت کو ختم قرار دے کر ” نوع انسانی “ کا آغاز تسلیم کیا جائے۔ بخلاف اس کے قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ انسانیت کا آغاز خالص انسانیت ہی سے ہوا ہے اس کی تاریخ کسی غیر انسانی حالت سے قطعاً کوئی رشتنہ نہیں رکھتی وہ اول روز سے انسان ہی بنایا گیا تھا اور خدا نے کامل انسانی شعور کے ساتھ پوری روشنی میں اس کی ارضی زندگی کی ابتدا کی تھی۔
انسانیت کی تاریخ کے متعلق یہ دو مختلف نقطہ نظر ہیں اور ان سے انسانیت کے دو بالکل مختلف تصور پیدا ہوتے ہیں۔ ایک تصور کو اختیار کیجیے تو آپ کو انسان اصل حیوانی کی ایک فرع نظر آئے گا۔ اس کی زندگی کے جملہ قوانین ‘ حتیٰ کہ اخلاقی قوانین کے لیے بھی آپ بنیادی اصول ان قوانین میں تلاش کریں گے جن کے تحت حیوانی زندگی چل رہی ہے۔ اس کے لیے حیوانات کا سا طرز عمل آپ کو بالکل ایک فطری طرز عمل معلوم ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ جو فرق انسانی طرز عمل اور حیوانی طرز عمل میں آپ دیکھنا چاہیں گے وہ بس اتنا ہی ہوگا کہ حیوانات جو کچھ آلات اور صنائع اور تمدنی آرائشوں اور تہذیبی نقش و نگار کے بغیر کرتے ہیں انسان وہی سب کچھ ان چیزوں کے ساتھ کرے۔ اس کے برعکس دوسرا تصور اختیار کرتے ہی آپ انسان کو جانور کی بجائے ” انسان “ ہونے کی حیثیت سے دیکھیں گے۔ آپ کی نگاہ میں وہ ” حیوانِ ناطق “ یا ” متمدن جانور “ نہیں ہوگا بلکہ زمین پر خدا کا خلیفہ ہوگا۔ آپ کے نزدیک وہ چیز جو اسے دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے اس کا نطق یا اس کی اجتماعیت نہ ہوگی بلکہ اس کی اخلاقی ذمہ داری اور اختیارات کی وہ امانت ہوگی جسے اللہ نے اس کے سپرد کیا ہے اور جس کی بنا پر وہ اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔ اس طرح انسانیت اور اس کے جملہ متعلقات پر آپ کی نظر پہلے زاویہ نظر سے یک سر مختلف ہوجائے گی۔ آپ انسان کے لیے ایک دوسرا ہی فلسفہ حیات اور ایک دوسرے ہی نظام اخلاق و تمدن و قانون طلب کرنے لگیں گے اور اس فلسفے اور اس نظام کے اصول و مبادی تلاش کرنے کے لیے آپ کی نگاہ خود بخود عالم اسفل کے بجائے عالم بالا کی طرف اٹھنے لگے گی۔
اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ یہ دوسرا تصور انسان چاہے اخلاقی اور نفسیاتی حیثیت سے کتنا ہی بلند ہو مگر محض اس تخیل کی خاطر ایک ایسے نظریہ کو کس طرح رد کردیا جائے جو سائنٹفک دلائل سے ثابت ہے لیکن جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں ان سے ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا فی الواقع ڈاروینی نظریہ ارتقاء سائنٹفک دلائل سے ثابت ہوچکا ہے ‘ سائنس سے محض سرسری واقفیت رکھنے والے لوگ تو بیشک اس غلط فہمی میں ہیں کہ یہ نظریہ ایک ثابت شدہ علمی حقیقت بن چکا ہے لیکن محققین اس بات کو جانتے ہیں کہ الفاظ اور ہڈیوں کے لمبے چوڑے سروسامان کے باوجود ابھی تک یہ صرف ایک نظریہ ہی ہے اور اس کے جن دلائل کو غلطی سے دلائلِ ثبوت کہا جاتا ہے وہ دراصل محض دلائلِ امکان ہیں یعنی ان کی بنا پر زیادہ سے زیادہ بس اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ ڈاروینی ارتقاء کا ویسا ہی امکان ہے جیسا براہ راست عمل تخلیق سے ایک ایک نوع کے الگ الگ وجود میں آنے کا امکان ہے۔
سجدہ کے حکم کی توضیحات
مزید اس آیت میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہاں حضرت آدم کو خطاب نہیں بلکہ مجموعی طور پر پوری نوع انسانی کو ہے تو اس کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ آدم (علیہ السلام) کو جو سجدہ کرایا گیا تھا وہ آدم ہونے کی حیثیت سے نہیں بلکہ نوع انسانی کا نمائندہ فردہونے کی حیثیت سے تھا تو آدم (علیہ السلام) کے حوالے سے جو شرف یا جو ذمہ داری یہاں مفہوم ہو رہی ہے اس میں پوری نوع انسانی برابر کی شریک ہے۔ تیسری بات جو اس میں ذکر کی گئی ہے وہ آدم کو سجدہ کرنے کی ہے تو یہاں جو سجدہ کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ اس کو اصطلاحی سجدہ کے معنی میں لیا جائے جس طرح ہم نماز میں سجدہ کرتے ہیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس سجدہ میں حضرت آدم صرف جہت کا کام دے رہے تھے۔ مقصود انھیں سجدہ کرنا نہ تھا بلکہ ان کی طرف سجدہ ان کو نہیں بلکہ اللہ کو کیا جا رہا تھا کیونکہ ان کو سجدہ کرنے کا حکم اللہ نے دیا تھا اس لیے ان کی طرف منہ کر کے سجدہ کرنا درحقیقت اللہ کو سجدہ کرنا تھا جس طرح آج ہم بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں تو وہ سجدہ بیت اللہ کو نہیں بلکہ اللہ کو ہوتا ہے اگر کوئی آدمی اللہ کی بجائے صرف بیت اللہ کو سجدہ کرنے کی نیت کرے تو یقین جانیئے کہ نہ صرف کہ اس کی نماز نہیں ہوگی بلکہ ایسا سجدہ بت پرستی کہلائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر ( رض) نے اپنے دور خلافت میں جب حج ادا کیا تو حجر اسود کو بوسہ دینے سے پہلے اس کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے حجر اسود تو صرف ایک پتھر ہے تو نہ مجھے نفع دے سکتا ہے نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اگر تجھے رسول اللہ ﷺ نے نہ چوما ہوتا اور ہمیں چومنے کا حکم نہ دیا ہوتا تو میں تجھے کبھی نہ چومتا۔ دین چونکہ اتباع رسول کا نام ہے اس لیے ہم ہر اس کام کے کرنے کے پابند ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہو اس لیے کوئی ذات یا کوئی چیز کتنی بھی محترم ہو ہم اس کے ساتھ وہی تعلق استوار کریں گے جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہو۔
دوسری صورت یہ ہے کہ سجدہ یہاں اصطلاحی معنوں میں مراد نہ لیاجائے بلکہ لغوی معنوں میں مراد لیا جائے۔ لغت میں سجدے کا معنی صرف جھکنا ہے یعنی کسی کے احترام میں سر جھکا دینا یا رکوع کی حالت اختیار کرلینا اس کیفیت کو سجدہ تعظیمی یا سجدہ تحیت کہا جاتا تھا اور پہلی شریعتوں میں اس کی اجازت تھی۔ ہماری شریعت میں چونکہ ہر کام کی تکمیل کردی گئی اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے سوا ہر ایک کے لیے ہاتھ باندھ کے قیام کرنا یا رکوع کرنا بھی حرام ٹھہرا دیا۔ چناچہ فرشتوں کو یہی سجدہ تعظیمی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم کیوں دیا گیا اور اس کا مقصد کیا ہے۔ غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ زمین اور اس سے تعلق رکھنے والے طبقہ کائنات میں جس قدر فرشتے مامور ہیں ان سب کو انسان کے لیے مطیع و مسخر ہوجانے کا حکم دیا گیا چونکہ اس علاقے میں اللہ کے حکم سے انسان خلیفہ بنایا جا رہا تھا اس لیے فرمان جاری ہوا کہ صحیح یا غلط جس کام میں بھی انسان اپنے ان اختیارات کو جو ہم اسے عطا کر رہے ہیں استعمال کرنا چاہے اور ہم اپنی مشیت کے تحت اسے ایسا کرلینے کا موقع دے دیں تو تمہارا فرض ہے کہ تم میں سے جس جس کے دائرہ عمل سے وہ کام متعلق ہو وہ اپنے دائرے کی حد تک اس کا ساتھ دے۔ وہ چوری کرنا چاہے یا نماز پڑھنے کا ارادہ کرے ‘ نیکی کرنا چاہے یا بدی کے ارتکاب کے لیے جائے ‘ دونوں صورتوں میں جب تک ہم اسے اس کی پسند کے مطابق عمل کرنے کا اذن دے رہے ہیں تمہیں اس کے لیے سازگاری کرنی ہوگی۔ مثال کے طور پر اس کو یوں سمجھیئے کہ ایک فرماں روا جب کسی شخص کو اپنے ملک کے کسی صوبے یا ضلع کا حاکم مقرر کرتا ہے تو اس علاقے میں حکومت کے جس قدر کارندے ہوتے ہیں ان سب کا فرض ہوتا ہے کہ اس کی اطاعت کریں اور جب تک فرمانروا کا منشا یہ ہے کہ اسے اپنے اختیارات کے استعمال کا موقع دے ‘ اس وقت تک اس کا ساتھ دیتے رہیں ‘ قطع نظر اس سے کہ وہ صحیح کام میں ان اختیارات کو استعمال کر رہا ہے یا غلط کام ہیں۔ البتہ ! جب جس کام کے بارے میں بھی فرماں روا کا اشارہ ہوجائے کہ اسے نہ کرنے دیا جائے تو وہیں ان حاکم صاحب کا اقتدار ختم ہوجاتا ہے اور انھیں ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ سارے علاقے کے اہل کاروں نے گویا ہڑتال کردی ہے۔ حتیٰ کہ جس وقت فرمانروا کی طرف سے ان حاکم صاحب کی معزولی اور گرفتاری کا حکم ہوتا ہے تو وہی ماتحت و خدام جو کل تک ان کے اشاروں پر حرکت کر رہے تھے ‘ ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال کر انھیں کشاں کشاں دارالفاسقین کی طرف لے جاتے ہیں۔ فرشتوں کو آدم کے لیے سربسجود ہوجانے کا جو حکم دیا گیا تھا اس کی نوعیت کچھ اسی قسم کی تھی۔ ممکن ہے کہ صرف مسخر ہوجانے ہی کو سجدہ سے تعبیر کیا گیا ہو مگر یہ بھی ممکن ہے کہ اس انقیاد کی علامت کے طور پر کسی ظاہری فعل کا بھی حکم دیا گیا ہو اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔
سرگزشتِ آدم وابلیس پر مکرر نظر
آگے بڑھنے سے پہلے ذرا ایک نظر حضرت آدم اور ابلیس کی سرگزشت پر ڈال لینی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کرے لیکن اس نے اس حکم کی تعمیل کی بجائے جو رویہ اختیار کیا اس میں سرسری نگاہ سے بھی جو باتیں ہمارے سامنے آتی ہیں وہ ہمارے لیے راہنمائی کا اپنے اندر بہت بڑا ذخیرہ رکھتی ہیں بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اس حکم کی تعمیل کرنے سے انکار کردیا لیکن کسی بھی حکم کی تعمیل سے انکار کبھی تو اس لیے ہوتا ہے کہ جسے حکم دیا جا رہا ہے وہ حکم کو سمجھ نہیں سکا اور یا اس لیے ہوتا ہے کہ اس پر ہوائے نفس کا غلبہ ہوا اور وہ اس غلبے سے مغلوب ہو کر تعمیل حکم میں کوتاہی کر گیا لیکن اس دونوں صورتوں میں وہ حکم دینے والے سے نہ کٹتا ہے اور نہ بغاوت کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ اپنی اس بدعملی یا نافرمانی میں کتنا بھی دور نکل جائے اس کی واپسی کا امکان ہر وقت رہتا ہے لیکن ابلیس نے حکم کی تعمیل سے پورے شعور کے ساتھ انکار کیا اور پھر کبھی اپنے اس انکار پر ندامت تو دور کی بات ہے غور کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوا بلکہ ہر لحاظ سے اپنے آپ کو حق بجانب قرار دیتا رہا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کا یہ انکار اسے بغاوت تک لے گیا۔ اس کے مقابلے میں تعمیلِ حکم میں کوتاہی تو حضرت آدم اور حضرت حوا سے بھی ہوئی لیکن ان کی اس کوتاہی میں انکار کو دخل نہ تھا وہ کبھی اس کا تصور بھی نہ کرسکتے تھے کہ اللہ کا حکم ماننے سے انکار بھی ہوسکتا ہے ان سے جو کچھ بھی سرزد ہوا وہ ان کے ارادے سے نہیں ہوا بلکہ ابلیس نے حکم کے فہم میں خلط مبحث سے کام لیا اور ان کو اس بات میں الجھا دیا کہ تمہیں جس بات کا حکم دیا گیا ہے اس کا مقصود تم نہیں سمجھ سکے اس طرح جب ان کے سامنے اصل حکم کا مفہوم غیر واضح کردیا گیا تو ان کے لیے تعمیلِ حکم میں ابہام پیدا ہوگیا اور مزید یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ شیطان نے بار بار انھیں اپنی ہمدردی اور خیر خواہی کا یقین دلایا لیکن جب وہ اس پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے تو اس نے اللہ کے نام کی قسم کھا کر انھیں یقین دلایا اور وہ اس طرح سے اس کی باتوں میں آگئے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انھیں تعمیلِ حکم سے شیطان کے بہکاوے نے روکا ورنہ ان کے اندر تعمیل حکم کے سوا کوئی جذبہ نہ تھا اس لیے سب سے پہلے اس سرگزشت سے ہمیں جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ ابلیس اللہ کے حکم کا انکار کرتا ہے۔ حضرت آدم اور حضرت حوا اللہ کے حکم سے انکار نہیں کرتے بلکہ وہ ایک ابہام کا شکار ہو کر اور ایک بہکاوے میں مبتلا ہو کر تعمیلِ حکم سے قاصر رہ جاتے ہیں۔
دوسری بات جو ہمیں معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ شیطان سے جب پروردگار نے یہ فرمایا کہ تم نے میرے حکم کی تعمیل سے انکار کیوں کیا ؟ تمہیں میرے حکم کو نہ ماننے کی جرأت کیسے ہوئی ؟ تو اس نے ایک لمحے کے لیے بھی عذر پیش کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ اسے اپنے رویے پر کوئی ندامت ہوئی بلکہ اس نے اپنے رویے پر اصرار کرتے ہوئے یہ کہا کہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے۔ آگ کی فطرت میں بلندی اور رفعت ہے اور مٹی کی فطرت میں پستی ہے تو میں بلندی اور رفعت کا نمائندہ ہو کر پستی کی نمائندہ مخلوق کے سامنے کیسے جھک سکتا تھا اس لیے اگر میں نے آدم کے سامنے جھکنے سے انکار کیا ہے تو مجھے ایسا ہی کرنا چاہیے تھا لیکن جب حضرت آدم سے پروردگار نے یہ فرمایا کہ اے آدم اور حوا کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ اس درخت کے قریب نہ جانا اور یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا کھلا دشمن ہے تو پھر تم نے اس پر اعتماد کرتے ہوئے میرے حکم سے سرتابی کیوں کی تو حضرت آدم اور حوا نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنے اس عمل کی کوئی تأویل کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ جیسے ہی انھیں تنبہ ہوا وہ سرتاپا عجز کی تصویر بن کر اللہ کے سامنے جھک گئے اور مسلسل اللہ کے سامنے اپنی اس غلطی کی معافی مانگتے ہوئے روتے اور گڑگڑاتے رہے۔ سورة البقرہ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حضرت آدم کو چونکہ پہلی دفعہ ایسی صورت حال سے واسطہ پیش آیا تھا اس لیے وہ بالکل نہیں جانتے تھے کہ اگر کبھی غلطی ہوجائے تو اس کے بعد کیا کرنا چاہیے چناچہ جب ان سے اس غلطی کا صدور ہوا تو انھیں یہ ہرگز معلوم نہ تھا کہ اب ہم اپنے پروردگار سے اس غلطی کی معافی کیسے مانگیں۔ ان کے ذہن میں وہ الفاظ نہیں آتے تھے جو پروردگار کی شان کے لائق ہوں اور ان کے ذریعہ وہ اپنے رب کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کرسکیں چناچہ ان کی عاجزی اور گریہ وزاری نے اللہ کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کیا اور اللہ نے محض اپنے فضل و کرم سے ان کو وہ الفاظ سکھائے جن الفاظ کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے۔
تیسری بات جو یہاں معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ابلیس نے صرف اپنی برتری ہی کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ اس نے اپنی گمراہی کا الزام بھی اپنے پروردگار کو دیا اور صاف کہا کہ پروردگار آپ نے مجھے اس گمراہی میں ڈالا کیونکہ آپ نے مجھے ایک ایسے امتحان میں ڈالا جس میں سرخرو ہونا میرے بس کی بات نہ تھی اب جبکہ میں اس بارگاہ سے نکالا جا چکا ہوں اور اس کا سبب آدم بنے ہیں تو اب میں زندگی بھر انھیں اور ان کی اولاد کو گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ یہ بات ثابت ہوجائے کہ آدم کو جو مجھ پر فضیلت دی گئی ہے وہ ہرگز اس کے حقدار نہ تھے لیکن اس کے برعکس ہم حضرت آدم کو دیکھتے ہیں کہ جیسے ہی ان کے رب نے انھیں ان کی غلطی پر ٹوکا تو وہ بجائے اپنی غلطی کا الزام اپنے رب کو دینے کے فوراً اللہ کے سامنے جھک گئے اور بار بار اس بات کا اعتراف کیا کہ مجھ سے اور حوا سے یہ غلطی ہوئی ہے اس کے ذمے دار بھی ہم خود ہیں۔ چناچہ انہی باتوں کی طرف پیش نظر آیت کریمہ میں اشارات فرمائے گئے۔
Ayah 7:23قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا سکتہ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ (الاعراف : 23)
” وہ دونوں بولے : اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اب اگر آپ نے ہم سے درگزر نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم یقینا نامرادوں میں سے ہوجائیں گے “۔
یعنی جیسے ہی انھیں تنبہ ہوا اور پروردگار نے انھیں ان کی غلطی پر ٹوکتے ہوئے پکارا تو بےساختہ ان پر وہ کیفیت طاری ہوئی جو گناہ کے شدید احساس کے بعد طاری ہوتی ہے اور فوراً انھوں نے اپنے رب کے دروازے پر دستک دی اور جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے انھوں نے سب سے پہلے نجانے کتنی گریہ وزاری کے بعد اپنے رب سے وہ کلمات سیکھے جن سے وہ اپنے رب کو پکار سکیں اور پھر انھوں نے اپنے رب کو پکارتے ہوئے کہا کہ اے ہمارے رب ! ہم کوئی عذر پیش نہیں کرتے کہ ہم سے یہ گناہ کیوں سرزد ہوا ہم اعتراف کرتے ہیں کہ ہم نے یہ حرکت کر کے آپ کی شان میں کوئی کمی نہیں کی بلکہ اپنے نفسوں کو تباہ کیا اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھایا ہے۔ کیونکہ ہماری جانیں آپ کی عطیہ ہیں ‘ ہمارا جسم آپ کی دین ہے ‘ ہمارے احساسات آپ کی عطا کردہ نعمت ہیں ‘ ہماری قوتیں سراسر آپ کی بخشش ہیں ‘ ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ سب آپ کا ہے اس لحاظ سے ان سب کا آپ کے سامنے جھکنا آپ کا حق ہے ہم نے اس حق کو کسی دوسرے کے حوالے کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اب ہم اپنے اس گناہ کا اعتراف کرتے ہوئے آپ ہی سے دست بستہ پوری عاجزی کے ساتھ عرض کرتے ہیں کہ آپ ہمارے اس گناہ کو معاف فرما دیں ہم اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ آپ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں۔
جس نے دیا ہے درد وہی چارہ گر بھی ہے
کہنی ہے چارہ گر سے ہی خود چارہ گر کی بات
ہمارے اس درد کی چارہ گری صرف آپ کے ہاتھ میں ہے اس لیے ہم آپ ہی کے دروازے پر دستک دیتے ہیں اور آپ ہی کے آستانے پر سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس آستانے کے سوا ہمارا کوئی آستانہ نہیں اور اس خزانے کے سوا کوئی اور خزانہ نہیں جہاں سے یہ قیمتی سوغات ملتی ہو اس لیے آپ ہم پر رحم فرمائیں اور ہمارے گناہ کو معاف فرما دیں کیونکہ ہماری معافی کا تعلق سراسر آپ کے رحم و کرم سے ہے۔ گناہ گار کا گناہ صرف رحم و کرم کے پانی ہی سے دھل سکتا ہے اس کے علاوہ دنیا کے سمندر بھی اس گندگی کو ختم نہیں کرسکتے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ( رح) کے حالات میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ وہ اللہ کے گھر کا طواف کر رہے تھے کہ انھوں نے عالم غیب سے ایک آواز سنی کہ کسی شخص کا نام لے کر کہا جا رہا ہے کہ ہمارے گھر سے نکل جاؤ تمہارا یہاں آنا ہمیں منظور نہیں۔ شیخ نے اس نام کے آدمی کو تلاش کرنا شروع کیا حتیٰ کہ وہ انھیں مل گئے پوچھا کہ یہ آواز جو میں سن رہا ہوں آپ کو بھی سنائی دیتی ہے یا نہیں ؟ کہنے لگے میں بھی سنتا ہوں پوچھا پھر آپ یہاں سے چلے کیوں نہیں جاتے انھوں نے نہایت تعجب سے شیخ کی طرف دیکھا اور کہا بھلے آدمی آپ ہی مجھے بتائیں میں کہاں جاؤں ؟ کیا اس دروازے کے علاوہ کوئی اور دروازہ ہے جہاں جا کر دستک دوں یا اس آستانے کے علاوہ کوئی اور آستانہ ہے جہاں جا کر سر جھکائوں جب اس چوکھٹ کے سوا کوئی اور چوکھٹ نہیں تو میں تو جب تک معافی نہیں مل جاتی یہیں جبہ سائی کرتا رہوں گا اور یہیں اپنا سر پٹختا رہوں گا۔ اس لیے حضرت آدم اور حضرت حوا بھی یہ فرما رہے ہیں کہ تیرے سوا اور آستانہ کوئی نہیں کہ جہاں ہم جا کر معافی کے طلبگار ہوں اس لیے تو نے اگر ہمیں معاف نہ فرمایا تو پھر ہماری نامرادی اور تباہی میں کوئی کسر باقی نہیں رہ جائے گی اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ گناہ ابلیس سے بھی ہوا لیکن اس نے بجائے عجز و اعتراف کے انکار و بغاوت کا راستہ اختیار کیا اور ہمیشہ کے لیے راندہ درگاہ ہوگیا اور گناہ حضرت آدم اور حضرت حوا سے بھی ہوا لیکن وہ فوراً اللہ کی بارگاہ میں جھک گئے جس سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ گناہ فرشتوں اور اللہ کے پیغمبروں کے سوا ہر مخلوق سے ہوسکتا ہے کیونکہ
؎ چلے بچ کر کوئی کتنا وہ ٹھوکر کھا ہی جاتا ہے
کوئی چال لڑکھڑاہٹ سے پاک نہیں ہوتی ‘ کوئی عمل معصیت کی جراہتوں سے محفوظ نہیں ہوتا ‘ کوئی خیال آوارہ خیالی سے بچا ہوا نہیں ہوتا۔ یہاں قدم قدم پر محرکات شر اور آلودگیوں کے بھنور موجود ہیں جن سے ہر وقت محفوظ رہنا اولاد آدم کے لیے آسان نہیں کسی بھی وقت گناہ کا ظہور ہوجانا بالکل ممکن ہے اس لیے حضرت آدم کا رویہ ہمیں یہ راستہ دکھاتا ہے کہ تم گناہوں سے معصوم پیدا نہیں کیے گئے ہو تمہارا کام یہ ہے کہ کبھی اپنے اندر انکار کی جرأت نہ پیدا ہونے دینا یہ ابلیس کا رویہ ہے تم سے اگر غلطی ہوجائے اور کبھی معصیت کے راستے پر پڑجاؤ تو تنبہ ہوجانے کے بعد فوراً توبہ کا راستہ اختیار کرنا یہی ابلیس اور آدم کے رویے میں فرق ہے اور اللہ کریم کا یہ وعدہ ہے کہ کسی کے گناہ اگر زمین و آسمان کے درمیانی حصے کو بھر بھی دیں لیکن وہ جب بھی اخلاص اور عاجزی کے ساتھ ہم سے معافی مانگے گا اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا یقین دلا دے گا تو ہم اسے معاف کردیں گے بلکہ اس کا کرم اس حد تک بےپایاں ہے کہ وہ صرف گناہوں کو معاف ہی نہیں کرتا ‘ بلکہ گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیتا ہے۔ سورة الفرقان میں اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو آدمی توبہ کرتا ہے اور پھر نیک عمل کا راستہ اختیار کرلیتا ہے :
فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللہ ُ سَیِّاٰتِھِمْ حَسَنَاتٍ ط (الفرقان : 70)
(تو اللہ ان لوگوں کے گناہوں کو نیکیوں سے تبدیل کردیتا ہے)
بلکہ بعض دفعہ تو یہ رحمت ایسے جھوم کر برستی ہے کہ گناہ صرف نیکی ہی میں تبدیل نہیں ہوتا بلکہ معافی اور توبہ کی صورت میں ڈھیروں نیکیوں کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ ایک صحابی کا واقعہ ہے کہ ایک دن نیند نہ کھلنے کے باعث ان کی تہجد چھوٹ گئی جب آنکھ کھلی تو فجر کی اذان ہوچکی تھی۔ فجر کی نماز پڑھی لیکن دل غم سے نڈھال ہو رہا تھا اور بار بار آنکھوں میں آنسو آرہے تھے کہ ہائے مجھ سے تہجد کیوں چھوٹ گئی۔ پورا دن اللہ سے معافی مانگتے گزرا کہ میں یہ غفلت کی نیند کیوں سویا جس کی وجہ سے میری تہجد رہ گئی چناچہ دوسرے روز رات کو سوتے ہوئے جب تہجد کا وقت ہوا تو دیکھا کہ انھیں کوئی جگا رہا ہے انھیں حیرت ہوئی کہ میری خواب گاہ میں کون آگیا پوچھا کہ تم کون ہو ؟ وہ بولا میں شیطان ہوں۔ پوچھا : تم کیوں آئے ہو ؟ کہا میں اس لیے آیا ہوں کہ تمہیں تہجد کے لیے اٹھا دوں۔ انھوں نے حیران ہو کر کہا کہ شیطان تو لوگوں کو تہجد کے وقت سلاتا ہے تاکہ وہ تہجد نہ پڑھ سکیں تم کیسے شیطان ہو جو مجھے تہجد کے لیے اٹھا رہے ہو ؟ اس نے کہا کہ کل تمہاری تہجد چھوٹ گئی اور تم نے دن بھر رو رو کر برسوں کی تہجدیں اپنے نام لکھوا لیں۔ میں آج اس لیے آیا ہوں کہ اٹھو تہجد پڑھو اور ایک ہی تہجد کا ثواب پائو۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ آج پھر اگر تمہاری تہجد چھوٹ جائے تو تم برسوں کی تہجدیں پھر اپنے نام لکھوا لو۔ اس سے معلوم ہوا کہ تہجد پڑھنے سے تو ایک تہجد کا ثواب ملتا ہے لیکن معافی اور توبہ کی صورت میں نجانے کتنی تہجدوں کا ثواب مل جاتا ہے۔ جس اللہ کی کرم نوازیوں کا یہ عالم ہے اسے پکارنے والا کیسے محروم رہ سکتا ہے۔ چناچہ حضرت آدم اور حضرت حوا نے جب اپنی اس غلطی پر پروردگار کو مغفرت و توبہ کے لیے پکارا اور پھر بار بار عاجزی سے اس بات کا اظہار بھی کیا کہ یا اللہ تیرے سوا کوئی دروازہ نہیں جہاں ہم جائیں ‘ تیرے سوا کوئی معاف کرنے والا نہیں اگر آپ نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کھایا تو ہم تباہ و برباد ہوجائیں گے۔ سورة البقرہ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے پھر ان کی توبہ قبول فرما لی اور گناہ کا یہ داغ جو ان کے دامن پر لگ گیا تھا اسے دھو ڈالا اور قیامت تک کے لیے ان کے اس حسن عمل کے طفیل یہ اصول ٹھہرا :
التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ
(گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ نہیں کیا)
اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم اور حضرت حوا جب دنیا میں تشریف لائے ہیں تو وہ اللہ سے گناہ کی مغفرت کی سند لے کر آئے ہیں یعنی ان کا دامن ان چھینٹوں سے بالکل پاک ہوچکا تھا وہ زمین پر اس لیے نہیں بھیجے گئے تھے کہ وہ گناہ گار ہونے کے بعد جنت میں رہ نہیں سکتے تھے بلکہ ان کا زمین پر بھیجا جانا گناہوں کی معافی کے بعد تھا اور وہ اس لیے تھا کہ انھیں ان کی پیدائش سے بھی پہلے زمین پر اللہ اپنا خلیفہ بنا چکا تھا۔ پہلے پارے میں اللہ نے اس واقعے کو بیان کرنے سے پہلے فرمایا ہے کہ ہم نے فرشتوں کو یہ بات بتائی تھی کہ ہم زمین پر آدم کو اپنا خلیفہ بنا رہے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت آدم کی پیدائش سے پہلے اور جنت میں انھیں بھیجنے سے پہلے اور اس واقعے کے ظہور پذیر ہونے سے پہلے یہ بات طے ہوچکی تھی کہ حضرت آدم زمین پر اللہ کے نائب اور خلیفہ ہوں گے اور وہ زمین پر اللہ کی طرف سے اللہ کے احکام کی تنفیذ کریں گے تو اس حقیقت کے باوجود یہ سمجھنا کہ حضرت آدم اور حضرت حوا اپنے گناہ کی سزا کے طور پر دنیا میں بھیجے گئے تھے۔ یہ سراسر قرآن مجید اور پہلی آسمانی کتابوں کی صراحتوں کے خلاف ہے۔ اسی طرح یہ بات کہنا کہ وہ جب زمین پر آئے تو وہ گناہ گار تھے یہ بھی حقیقت کے خلاف ہے کیونکہ قرآن کریم واضح طور پر یہ بات بیان کرچکا ہے کہ ان کے زمین پر آنے سے پہلے اللہ ان کی توبہ قبول فرما چکا تھا اس کے باوجود عیسائیوں کا اس مغالطے میں مبتلا ہونا کہ انسان بھی شیطان کی طرح اس دنیا میں لعنتی ہو کر اترا ہے ‘ ایک بہت بڑی گمراہی ہے جس میں آج تک عیسائی دنیا مبتلا ہے اور پھر اس غلط عقیدے کو اختیار کرنے کے نتیجے میں عیسائیوں نے جس طرح گمراہیوں کے ردے پر ردے چڑھائے ہیں اور جس طرح کج رویوں کا راستہ اختیار کیا ہے وہ بجائے خود ایک داستان ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ چونکہ حضرت آدم اور حضرت حوا ایک گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے گناہ گار ہوگئے تھے اور وہ اسی حالت میں دنیا میں اتارے گئے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جتنی ان کی اولاد پیدا ہوئی وہ ان کے گناہ کی وجہ سے گناہ گار ٹھہری۔ ذرا اس عقیدے کی غیر معقولیت پر توجہ فرمایئے کہ فرض کریں حضرت آدم و حوا اگر گناہ گار بھی ہیں تو اس کے نتیجے میں ان کی اولاد کیسے گناہ گار ٹھہرے گی کیا باپ کا گناہ اور اس کی غلطیاں اولاد کو گناہ گار بنا دیتی ہیں ؟ کیا عیسائی دنیا کے قانون میں واقعی ایسا ہے کہ اگر باپ جرم کرے تو اس کی پاداش میں اس کی اولاد کو پکڑ لو ؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے قانون میں اس حقیقت کو قبول کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں اور اسلام تو صاف صاف اس کی تردید کرتا ہے اور پھر اس پر بھی مزیدجہالت یہ ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ چونکہ ہر انسان پیدائشی طور پر گناہگار ہے تو اب اس کے گناہوں سے نجات حاصل کرنے کی اس کے سوا کوئی صورت ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا غیر انسانی بیٹا دنیا میں آکر انسانوں کے گناہوں کا کفارہ بنے۔ چناچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو (جو عیسائیوں کے بقول اللہ کا بیٹا ہیں) دنیا میں بھیجا گیا اور وہ صلیب پر چڑھ کر انسانوں کے گناہوں کا کفارہ بنے اور اس طرح انسان اپنے گناہوں سے پاک ہوسکا۔ لیکن قرآن یہاں صاف بتارہا ہے کہ حضرت آدم و حوا نے اللہ سے اپنے گناہ کی معافی مانگی اور توبہ کی تو اللہ نے یہ توبہ قبول فرمائی اور اس کے بعد انھیں دنیا میں اترنے کا حکم دیا
Ayahs 7:24–25چناچہ ارشاد فرمایا :
قَالَ اھْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ج وَ لَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ ۔ قَالَ فِیْھَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْھَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْھَا تُخْرَجُوْنَ ۔ (الاعراف : 24، 25)
(فرمایا : اتر جاؤ ! تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک خاص مدت تک زمین ہی میں جائے قرار اور سامان زیست ہے اور فرمایا وہیں تم کو جینا اور وہیں مرنا ہے اور اسی میں سے تم کو آخر نکالا جائے گا)
حضرت آدم وابلیس کو دومتحارب فریقوں کے طور پر زمین پر بھیجا
زمین پر حضرت آدم اور حضرت حوا کو بھیجتے ہوئے بعض بنیادی حقیقتوں کا شعور بھی بخشا۔ سب سے پہلی یہ حقیقت ان پر منکشف فرمائی گئی کہ ہم تمہیں زمین پر محض انتقال مکانی کے لیے نہیں بھیج رہے بلکہ تمہارے بھیجنے کا ایک خاص مقصد ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ تم میں سے ہر ایک کو ہم زمین کے دار الامتحان میں بھیج کر یہ امتحان کرنا چاہتے ہیں کہ تمہیں جس آزمائش میں ڈالا جا رہا ہے اس میں تم پورا اترتے ہو یا نہیں وہ آزمائش یہ ہے کہ صرف تمہیں ہی نہیں بھیجا جا رہا بلکہ تمہارے ساتھ ابلیس کو بھی بھیجا جا رہا ہے۔ زمین پر تمہارا جانا درحقیقت ایک معرکہ کارزار میں اترنا ہے۔ ایک طرف تم اور تمہاری اولاد ہوگی اور دوسری طرف ابلیس اور اس کا لائو لشکر ہوگا۔ ابلیس نے جس طرح حضرت آدم اور حضرت حوا کو بہکانے کی کوشش کی اور اپنی حد تک تو اس نے انھیں بہکا ہی دیا لیکن اللہ نے اپنی رحمت سے انھیں تھاما اور وہ اپنی عاجزی اور استغفار سے اللہ کی اس راہ ہدایت کو پانے میں کامیاب ہوگئے اور اپنی اولاد کے لیے بھی انھوں نے اس راستے کا دروازہ کھول دیا کہ اگر تم سے کبھی غلطی ہوجائے تو بجائے شیطان کی روش اختیار کرنے کے تمہاری روش یہ ہونی چاہیے کہ تم فوراً اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اپنے گناہوں سے توبہ کرو اس طرح اللہ تمہیں اپنی رحمت سے نوازے گا۔ چناچہ یہاں یہی فرمایا جا رہا ہے کہ ابلیس نے جس طرح جنت میں تمہیں گمراہ کرنے کی کوشش کی اسی طرح اب وہ دنیا میں بھی پہلے سے بڑھ کر اپنی کاروائیاں جاری رکھے گا ‘ تمہاری کامیابی کا راستہ صرف اس احساس کو مستحضر رکھنے میں ہے کہ شیطان تمہارا بدترین دشمن ہے اور تم زمین پر اس کی دشمنی کا ہدف ہو اگر تم اس کی دشمنی کو یاد رکھو گے تو یقینا اس کے مقابلے کے لیے کوشش بھی کرو گے لیکن اگر تم اپنے دشمن ہی کو بھول گئے اور بجائے اس کو دشمن سمجھنے اور اس کی وارداتوں سے بچنے کی کوشش کرنے کے تم نے اگر اس سے سازگاری پیدا کرلی اور اس کی ہدایت پر چلنے لگے تو پھر تم اپنی دنیا بھی برباد کرلو گے اور آخرت میں بھی ناکامی تمہارا مقدر بن جائے گی۔ یہاں یہ جو فرمایا جا رہا ہے کہ تم زمین پر اتر جاؤ اور وہاں تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے اس کا یہی مطلب ہے کہ شیطانی قوتیں اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں گی اور یہی اس کی اصل دشمنی ہے۔ دوسری حقیقت جو یہاں واشگاف فرمائی گئی وہ یہ ہے کہ زمین ہمیشہ کے لیے تمہارا وطن نہیں وہ تمہاری عارضی رہائشگاہ ہے۔ وہاں تمہیں صرف ایک آزمائش اور امتحان کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ وہاں تمہیں جو سروسامان دیا جائے گا وہ بھی ایک خاص وقت تک کے لیے ہے یعنی تم زمین میں ایک مختصر عمر کے لیے جا رہے ہو۔ تم میں سے ہر ایک کی ایک مختصر اور متعین عمر ہوگی اور پوری نوع انسانی کا قیام زمین میں ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ ایک مختصر مدت کے لیے ہوگا۔ اس کے بعد ہم تمہیں واپس بلا لیں گے اور یہاں تمہاری زمین پر گزری ہوئی عمر کے بارے میں جواب طلبی کریں گے اور یہ تم سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اس عارضی اور فانی وطن ہی کو اپنا حقیقی وطن سمجھ کر جس طرح اللہ کو اور اپنی حقیقی منزل جنت کو بھلایا بتائو تمہارے پاس اس کا کیا جواز تھا۔ چناچہ جو لوگ زمین کی نعمتوں ہی کو اپنا سب کچھ جان کر آخرت کو نظر انداز کرچکے ہوں گے وہ آخرت میں بہت برے نتائج کا سامنا کریں گے اور جنھوں نے اپنی حقیقی منزل یعنی جنت کو یاد رکھا ہوگا اور اسی نعمت گم گشتہ کو پانے کے لیے دنیا میں کوششیں کی ہوں گی وہ بالآخر اس جنت میں پہنچ جائیں گے جہاں سے ان کے جد امجد کو نکالا گیا تھا کیونکہ اصل وطن تو ان کا وہی ہے۔ زمین میں تو ایک مختصر مدت کے لیے اور ایک خاص مقصد کے لیے انھیں بھیجا جا رہا ہے۔ اس کے بعد دوسری آیت کریمہ میں اسی بات کی وضاحت فرمائی گئی ہے کہ اب تم اسی زمین پر زندہ رہو گے یعنی زندگی گزارو گے اور اسی زمین میں تمہیں بالآخر موت آئے گی یعنی یہ زندگی تمہاری فانی ہوگی جس کا پہلا انجام موت ہوگا لیکن یہ مت سمجھنا کہ اس موت کے بعد تمہاری دوسری کوئی زندگی نہیں اور یہ موت تمہارے ہمیشہ کے لیے فنا ہوجانے کا نام ہے۔ ایسا نہیں ہوگا بلکہ اس کے بعد تمہیں زندہ کیا جائے گا اور اسی زمین جس میں تمہیں دفن کیا جائے گا اسی سے تمہیں نکالا جائے گا یہ اصلاً اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اولاد آدم میں ایسی گمراہ قومیں بھی ہوں گی جو یہ سمجھتی ہوں گی کہ زمین کا قیام ہی سب کچھ ہے اور یہیں کی زندگی اصل زندگی ہے ‘ یہیں کی خوشیاں اور یہیں کے دکھ ابدی ہیں جس نے یہاں جو کچھ پا لیا وہی اس کا اصل مقدر ہے۔ یہاں موت کا شکار ہونے کے بعد ہمیشہ کے لیے فنا ہے اس کے بعد کسی دوسری زندگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس لیے کہ جس کو زمین کے سپرد کردیا جاتا ہے اسے زمین کھا جاتی ہے اور زمین پر آج تک نجانے کتنی نسلیں گزر چکیں۔ اس لیے جن کو زمین کھا گئی اور وہ مٹی کی خوراک بن گئے اب انھیں کیسے تلاش کیا جاسکتا ہے کہ وہ کہاں دفن ہوئے ہیں اور اسی مٹی سے دوبارہ زندہ کر کے کیسے اٹھائے جاسکتے ہیں۔ ان کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ جو ذات تمہیں یہاں زندگی کے اسباب فراہم کر رہی ہے اور جو ذات تمہیں یہاں موت دے گی اس کے لیے کوئی مشکل نہیں کہ دوبارہ اسی زمین اور اسی مٹی سے تمہیں اٹھا کھڑا کرے تو یہاں اسی حقیقت کو آدم اور اولاد آدم کے گوش گزار کیا جا رہا ہے کہ زمین پر جاؤ تو یہ سمجھ کر جاؤ کہ تم ایک دارالامتحان میں جا رہے ہو۔ وہاں تمہیں ایک خاص معرکہ درپیش ہے ‘ ایک خطرناک دشمن تمہاری تاک میں ہے۔ وہ اس زمین ہی کے قیام کو تمہارے لیے مقصد زندگی بنانے کی کوشش کرے گا اور زمین کی نعمتوں کو تمہارا مقصودِ نگاہ بنا دے گا۔ دیکھنا اس کے فریب میں نہ آنا ‘ اپنی موت کو ہمیشہ یاد رکھنا اور موت کے وقت سے چونکہ کوئی آشنا نہیں اس لیے ہمیشہ اس ناگہانی مہمان کے استقبال کے لیے اپنے آپ کو تیار رکھنا اور اس تصور کے ساتھ زندگی گزارنا کہ موت تمہاری منزل نہیں بلکہ تمہیں اصل منزل کی طرف لے جانے کا ایک راستہ ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ جب تمہیں اسی مٹی کی آغوش سے نکالا جائے گا۔ زمین چاہے تمہیں بالکل نگل جائے لیکن اللہ کے علم میں تمہارے وجود ‘ تمہارے احساسات اور تمہارے عمل کی ایک ایک چیز محفوظ ہے۔ وہ اس روز تم سے ایک ایک عمل کا حساب لے گا۔ چناچہ یہ مختصر بنیادی حقائق جو زندگی کے سفر کی تمہید بن سکتے تھے انھیں ذہن نشین کر کے حضرت آدم اور حضرت حوا کو دنیا میں اتارا گیا تاکہ وہ اپنی اور اپنی اولاد کے لیے انھیں رہنما اصول بنا کر زندگی گزاریں اور اسی کی آسان تعبیر وہ ہے جو ہمیں پہلے پارے میں اسی حوالے سے ملتی ہے کہ ہم نے حضرت آدم اور حضرت حوا سے کہا کہ تم زمین پر چلے جاؤ لیکن یہ یاد رکھو کہ وہاں میری جانب سے تمہارے پاس ہدایت یعنی زندگی گزارنے کا طریقہ پہنچے گا تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا اس کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا نہ کوئی حزن ‘ لیکن جو لوگ میری اس ہدایت کے ساتھ کفر اور تکذیب کا رویہ اختیار کریں گے یہی لوگ ہیں جو اصحابِ نار ہوں گے اور ہمیشہ اس عذاب میں مبتلا رہیں گے۔
چناچہ اس کے بعد آنے والی آیت کریمہ میں خطاب بھی اسی حوالے سے ہے اور جو ہدایت عطا فرمائی جا رہی ہے اس میں بھی اس حوالے کی یاد دہانی ہے اور یہ بھی فرمایا جا رہا ہے کہ ہم نے حضرت آدم کو جو ابتدائی ہدایات دے کر بھیجی تھیں یہ انہی میں سے ایک ہے اور اب ہم اس لیے اس کا تذکرہ کر رہے ہیں تاکہ لوگ اس سے یاددہانی حاصل کریں۔ چناچہ ارشاد فرمایا :