7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsروح القرآن

Ayah 7:32

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ) ان سے کہئے کہ اللہ کی اس زینت کو جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کیا ہے ‘ کس نے حرام ٹھہرایا اور رزق کی پاکیزہ چیزوں کو ؟ کہہ دو کہ وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لیے ہے اور قیامت کے روز تو خالصتاً انہی کے لیے ہوں گی۔ اسی طرح ہم اپنی آیات کی تفصیل کر رہے ‘ ہیں ان لوگوں کے لیے ‘ جو علم رکھنے والے ہیں۔

مشرکینِ عرب نے بالعموم اور مشرکینِ مکہ نے بالخصوص عبادت کے تصور اور عبادت کی ادائیگی کے حوالے سے جو خلط مبحث پیدا کر رکھا تھا اور جو انھوں نے اپنی طرف سے عجیب و غریب قسم کی بدعات ایجاد کرلی تھیں اور جسے وہ منسوب بھی اللہ کی طرف کرتے تھے۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس پر سخت گرفت فرماتے ہوئے نہایت محکم تنقید فرمائی ہے لیکن اگلی آنے والی آیات میں ایک دوسرے پہلو سے عتاب کے انداز میں اسی بحث کی تکمیل فرمائی گئی ہے۔ گویا کے ان آیات کی حیثیت تتمہ اور استدراک کی ہے اور پھر عتاب کے ساتھ ساتھ ایک محکم دلیل ارشاد فرمائی گئی ہے اور انہی کے رویے کو ان کے سامنے اس طرح واضح کیا گیا ہے جس سے ہر اس آدمی کو شرم محسوس کرنی چاہیے جس کے اندر کچھ نہ کچھ اخلاقی حس اور شعور کی رمق باقی ہو۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا : قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللہِ الَّتِیْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ ط قُلْ ھِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِیْ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا خَالِصَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ۔ (الاعراف : 23) ”(اے پیغمبر ! ) ان سے کہئے کہ اللہ کی اس زینت کو جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کیا ہے ‘ کس نے حرام ٹھہرایا اور رزق کی پاکیزہ چیزوں کو ؟ کہہ دو کہ وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لیے ہے اور قیامت کے روز تو خالصتاً انہی کے لیے ہوں گی۔ اسی طرح ہم اپنی آیات کی تفصیل کر رہے ‘ ہیں ان لوگوں کے لیے ‘ جو علم رکھنے والے ہیں “۔ اللہ کی نعمتوں پر پابندی اللہ کے سوا کوئی نہیں لگاسکتا غور فرمایئے ! اس آیت کریمہ کے پہلے جملے میں مشرکین سے ایک سوال کیا جا رہا ہے لیکن اس کا انداز عتاب کا ہے گویا نہایت برہمی سے ان سے یہ پوچھا جا رہا ہے کہ تم نے حج اور طواف کے دوران لباس کو جس طرح اپنے اوپر ممنوع قرار دے لیا ہے اور اللہ کی پاکیزہ نعمتوں کو تم نے دنیا داری جان کر حتی الامکان اس سے جو گریز کی عادت بنا لی ہے اور تم یہ سمجھتے ہو کہ لباس جو انسان کے لیے ایک زینت ہے اسے اللہ کے گھر کا طواف کرتے ہوئے پہننا اس لیے حرام ہے کہ یہ تو ایک عاشقانہ عبادت ہے اس میں کسی طرح بھی انسانی جسم پر دنیا کی آلائش نہیں ہونی چاہیے اور اسی طرح تم امکانی حد تک کھانے سے بچتے ہو یہ سمجھ کر کہ عبادت میں کم سے کم کھانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ دنیا کی ان چیزوں کا اثر انسان پر کم سے کم پڑے۔ بتائو تمہارے لیے ان چیزوں کو حرام کس نے کیا ؟ اللہ نے بہرصورت ان چیزوں کو حرام نہیں کیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے یا تو ان چیزوں کو خود حرام کیا ہے اور یا تمہارے نام نہاد دیوتائوں اور معبودوں نے کیا ہوگا۔ کوئی سی صورت بھی ہو اللہ کی پیدا کردہ نعمتوں کو حلال یا حرام کرنے کا حق نہ تمہیں ہے اور نہ انھیں جن کو تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے کیونکہ کسی بھی نعمت میں تبدیلی یا پابندی کا حق صرف اسے ہوسکتا ہے جس نے اسے پیدا کیا اور جس نے اسے تمہیں بخشا ہے اور جو ان نعمتوں کو محض عطا و بخشش کے طور پر حاصل کر کے فائدہ اٹھا رہا ہے اسے تو بہرحال اس کا حق نہیں دیا جاسکتا تو پھر تم نے ایک ایسی چیز جس کا حق سراسر اللہ کی ذات کو تھا اسے تم نے ازخود کیسے اختیار کرلیا اس میں غور کیجیے پہلے جملے میں سوال کی صورت میں عتاب کیا جا رہا ہے اور دوسرے جملے میں اس کی دلیل بیان فرمائی جا رہی ہے کہ ان ساری نعمتوں کو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کیا ہے۔ عجیب بات ہے کہ جن کے لیے یہ نعمتیں پیدا کی گئی ہیں انہی کو ان کے استعمال سے روکا جا رہا ہے اور مزید عجیب بات یہ ہے کہ جس نے ان نعمتوں کو پیدا کیا ہے اس سے بالا بالا ہی یہ حرکتیں ہو رہی ہیں۔ اس سے بڑا جرم قانونی اور اخلاقی دونوں حوالوں سے کوئی اور نہیں ہوسکتا کہ بادشاہ کی حیثیت کو نظر انداز کرتے ہوئے خود بادشاہ بننے کی کوشش کی جائے یا اس کے نام پر جعلی احکامات جاری کیے جائیں یہ دونوں صورتیں صرف دھوکہ دہی کی واردات نہیں بلکہ ایک باغیانہ روش کی عکاسی کرتی ہیں اس لیے مشرکین سے پوچھا جا رہا ہے کہ اس کا جواب دو کہ تم نے یہ حرکت کیوں کی اور اگر آج تم اس کا جواب نہیں دیتے ہو تو کل کو اس کا جواب دینا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ تمہارے پاس نہ آج اس کا کوئی جواب ہے نہ کل کو ہوگا پھر سوچ لو اس کا انجام کیا ہوگا۔ اس کے بعد مزید فرمایا کہ نادانو جن نعمتوں پر تم پابندی لگا رہے ہو اور انھیں اپنے اوپر ممنوع قرار دے رہے ہو تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ اللہ نے ان نعمتوں کو اپنے بندوں ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔ اب ایسے لوگ یا ایسے مذہب کے حاملین جو یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ کی پاکیزہ نعمتیں اور اس کے عطا کردہ لباس کو اللہ کی عبادت کرتے ہوئے استعمال کرنا دنیا داری اور گناہ ہے اور وہ اس کو مایا کا جال قرار دے کر اس سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں ان کے بارے میں یہ سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ وہ نہ صرف اللہ کے دین سے باغی ہیں بلکہ وہ فطرت سے بھی بغاوت کا ارتکاب کر رہے ہیں کیونکہ اچھے سے اچھا لباس اور بہتر سے بہتر نعمت کا حصول یہ تو انسان کی فطرت کا اقتضا ہے جو مذہب اس پر پابندی لگاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نہ صرف اللہ کے دین سے بلکہ اپنی فطرت سے بھی جنگ کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے ایک فطری مذہب ہونے کے جہاں اور بہت سارے دلائل ہیں ان میں سے ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس نے انسان کے فطری تقاضوں کو صحیح راستے پر ڈالا اور اس کو صحیح طریقے سے ارتقاء پذیر ہونے کا موقع دیا ہے اور ہرگز اس پر کوئی ایسی پابندی نہیں لگائی جس سے اس کی فطری صلاحیتوں کو نقصان پہنچتا ہو اور جہاں تک اسلام کے نظام اخلاق و معاشرت کا تعلق ہے دنیا کی ان تمام پاکیزہ نعمتوں کو اس طرح اس میں سمو دیا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے قوت کا سامان بن گئی ہیں یہ صحیح ہے کہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے طریقے پر چلنے والے اللہ کے نیک بندوں نے دنیا اور دنیا کی نعمتوں سے کبھی جی نہیں لگایا انھوں نے ہمیشہ اس کو ضروریات کا درجہ دیا ‘ دل کو ان کی محبت سے ہمیشہ آزاد رکھا اور زندگی کی ساری توجہ اور ساری قوتیں انھوں نے مقاصد زندگی پر صرف کیں اور اپنی زندگی کو ہمیشہ سادگی کا نمونہ بنائے رکھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اگر اللہ نے ان کو خوشحالی عطا فرمائی تو انھوں نے اللہ کی نعمت کے شکر کے طور پر اچھا کھایا اور پہنا اور کبھی محض اس لیے ان سے اعراض نہیں برتا کہ یہ چیزیں روحانیت کے ارتقاء میں رکاوٹ بنتی ہیں البتہ یہ کوشش ضرور کی کہ ان چیزوں کو نہ مقاصد زندگی بننے دیا جائے اور نہ یہ عزت کا معیار اور علامت ٹھہریں تاکہ غریبوں کو سر اٹھا کر اسی طرح چلنے کا موقع نصیب رہے جس طرح اہل دولت و ثروت چلتے ہیں جب غربا یہ دیکھیں کہ ہمارا سربراہ مملکت اور ہمارا حکمران نہایت سادہ کھاتا اور پہنتا ہے تو پھر وہ کبھی احساس کمتری کا شکار نہیں ہوتے لیکن انھوں نے کبھی کبھی اچھا کھایا بھی اور پہنا بھی تاکہ لوگ اس سے غلط تأثر لے کر وہ راستہ اختیار نہ کرلیں جس کا شکار غلط مذاہب ہوئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ہمیشہ سادہ لباس پہنا۔ کبھی ایسا بھی دیکھا گیا کہ آپ کے لباس میں پیوند لگے ہوئے ہیں اور ہمیشہ روکھا پھیکا کھایا اور بہت کم ایسا ہوا کہ آپ نے دو وقت کھانا تناول فرمایا ہو لیکن یہ بھی دیکھا گیا کہ اللہ نے اگر عطا کیا تو آپ نے قیمتی لباس بھی پہنا اور گوشت بھی کھایا۔ صحابہ کہتے ہیں کہ ہم نے آنحضرت ﷺ کو چودھویں رات کے چاند کی روشنی میں مسجد نبوی کے صحن میں قیمتی یمنی حلہ پہنے ہوئے تشریف فرما دیکھا تو آپ کے حسن کے جوبن کا عالم یہ تھا کہ چاند کی روشنی آپ کے چہرے کی روشنی کے سامنے مدہم پڑگئی تھی۔ ایک صحابی کہتے ہیں کہ میں آنحضرت ﷺ سے ملنے گھر پر حاضر ہوا ‘ آپ باہر تشریف لائے تو جو چادر آپ کے جسم مبارک پر تھی اس کی قیمت کم از کم ایک ہزار درہم تھی۔ اس سے یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ اگر اللہ عطا کرے تو یہ اس کی نعمتیں ہیں ‘ نعمت سمجھ کر اظہار شکر کے لیے انھیں استعمال کرنا چاہیے۔ چناچہ ہمارے وہ بڑے لوگ جنھیں ہم اپنی دینی زندگی میں راہنما اور مقتدا کا درجہ دیتے ہیں ان میں امام ابوحنیفہ ( رح) کا نام بہت وقیع ہے۔ اللہ نے انھیں علم و عمل کے ساتھ ساتھ خوشحالی سے بھی نوازا تھا۔ پورے ملک میں آپ کی تجارت پھیلی ہوئی تھی ‘ کروڑوں کا کاروبار تھا اور اسی کے شکر کے طور پر آپ کا حال یہ تھا کہ بعض دفعہ آپ کی اوڑھی ہوئی چادر کی قیمت چار سو گنی تک پہنچتی تھی لیکن اس خوشحالی اور دولت کا اثر آپ کے دل پر نہیں تھا۔ راتوں کی عبادت ‘ علمی معمولات ‘ فقراء کی سرپرستی ‘ اہل علم کی درپردہ اعانت ‘ اہل دنیا سے گریز ‘ مقتدر لوگوں کے سامنے استغنا اور خودداری اور جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے کی جرأت میں کبھی کمی نہیں آئی۔ اس لیے یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ یہ نعمتیں اس لیے نہیں دی گئیں کہ تم اس کو دنیا یا دنیاداری کی علامت سمجھ کر اسے گندگی سمجھو بلکہ اسے اللہ کی نعمت جان کر اللہ کی ہدایت کے مطابق انھیں استعمال کرو اور اس پر اس کا شکر بجا لائومزید فرمایا کہ اے پیغمبر ان سے یہ بات کہہ دو کہ امر واقعہ یہ ہے کہ جن نعمتوں کو تم دنیا داری سمجھ کر یا آلائش دنیا جان کر روحانی ارتقاء کے خلاف سمجھتے ہو وہ تو اصلاً اللہ نے صاحب ایمان لوگوں کے لیے ہی عطا فرمائی ہیں۔ کافروں کو تو صرف ان میں شامل فرمایا گیا ہے کیونکہ زندگی گزارنے کے لیے انھیں ان نعمتوں کی بھی ضرورت ہے اگر انھیں غذائی ضرورتیں فراہم نہ کی جاتیں اور زندگی کے اور اسباب مہیا نہ کیے جاتے تو آخر وہ دنیا میں زندہ کیسے رہتے اور جس امتحان میں انھیں ڈالا گیا ہے وہ اس امتحان کا سامنا کیسے کرتے۔ البتہ ! یہ بات ضرور سمجھنے کی ہے کہ دنیا میں بعض دفعہ کافروں کو مسلمانوں سے زیادہ نعمتیں کیوں دی جاتی ہیں جبکہ یہاں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ یہ نعمتیں حقیقت میں تو مسلمانوں اور مومنوں ہی کا حصہ ہیں ‘ کافر تو محض ان کی وجہ سے یہ نعمتیں پا رہا ہے۔ بات یہ ہے کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ یہ نعمتیں مومنوں ہی کا حصہ ہیں تو یہ بات بالکل واضح ہے اس لیے کہ دنیا کی ہر نعمت اللہ کی عطا و بخشش ہے وہی ان نعمتوں کا خالق ہے اور وہی ان کا عطا کرنے والا ہے اور دنیا کا قاعدہ یہ ہے کہ کوئی بھی عطا کرنے والا ہمیشہ اپنے وفاداروں کے علاوہ کسی اور پر اپنی بخششوں کی بارش نہیں کیا کرتاکیون کہ نمک صرف نمک حلالوں کا حصہ ہوتا ہے جو نمک حرام ہوتے ہیں وہ نعمتوں کے نہیں بلکہ سزا کے مستحق ہوتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ یہاں پھر کافروں کو کیوں دیا جا رہا ہے بلکہ بعض دفعہ مسلمانوں سے زیادہ دیا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کا موجودہ انتظام آزمائش اور مہلت کے اصول پر چل رہا ہے۔ یہاں نعمتیں اس لیے نہیں دی جاتیں کہ وہ کسی کا حق ہیں بلکہ اس لیے دی جاتی ہیں تاکہ آزمائش کی جائے کہ جس کو دیا جا رہا ہے وہ اس پر شکر ادا کرتا ہے یا کفرانِ نعمت کرتا ہے۔ کافروں کو زیادہ سے زیادہ عطا فرما کر زیادہ سے زیادہ امتحان کا سامان کیا جاتا ہے اس لیے کہ کسی کو زیادہ ملنا اس کے زیادہ امتحان کی دلیل ہوتی ہے جسے چھوٹا منصب دیا جاتا ہے اس کی آزمائش بھی چھوٹی ہوتی ہے اور جسے بڑا منصب دیا جاتا ہے اور بڑے مرتبے سے نوازا جاتا ہے اس کی آزمائش بھی اسی تناسب سے ہوتی ہے یہی وہ عطا و بخشش ہے جس کے حوالے سے قیامت میں کافروں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اللہ کی بیشمار نعمتیں استعمال کیں ‘ بتائو ان نعمتوں کے دینے والے کا حق کیا ادا کیا اسی پر وہ پکڑے جائیں گے اور اسی حوالے سے ان کی سزا میں کمی بیشی ہوگی۔ مزید یہاں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ مسلمانوں کو بالعموم کافروں سے کم دینا ایک طرف ان پر اللہ کا یہ احسان ہے اور دوسری طرف ان کے لیے دو گونہ آزمائش ہے۔ احسان ان معنوں میں ہے کہ جسے جتنی نعمتیں ملیں گی اتنا ہی زیادہ اسے حساب دینا ہوگا اور جس کو کم نعمتیں ملیں گی اس کا حساب بھی مختصر ہوگا۔ مسلمانوں سے اللہ چونکہ ہلکا حساب لینا چاہتا ہے اور ان پر اللہ کو آسانی مطلوب ہے اس لیے وہ انھیں کسی بڑی مشقت میں ڈالنا پسند نہیں کرتا البتہ یہ اپنی اپنی ہمت ہے کہ بعض ڈوبنے والے پایاب پانی میں بھی ڈوب جاتے ہیں اور دو گونہ آزمائش اس طرح سے ہے کہ کسی کو نعمت کا کم ملنا یہ بھی ایک آزمائش ہے کیونکہ اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کبھی کسی کو دے کر آزماتا ہے اور کبھی کسی سے چھین کر آزماتا ہے جسے دیتا ہے اس کے بارے میں تو یہ دیکھتا ہے کہ یہ شکر ادا کرتا ہے یا نہیں اور جسے نہیں دیتا یا کم دیتا ہے اس کی یہ آزمائش کرتا ہے کہ وہ صبر کرتا ہے یا نہیں ؟ کیا وہ اللہ کے بارے میں شکایت کا دفتر کھول کر تو نہیں بیٹھ جاتا اور دوسری آزمائش یہ ہے کہ مسلمانوں کو یہ سکھایا گیا ہے کہ اللہ کی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت وہ دنیا اور دولت دنیا نہیں بلکہ ایمان اور حسن عمل ہے جسے اللہ نے ایمان کی دولت دے دی اور اپنے راستے پر چلنے کی توفیق بخشی ‘ بیشک اسے دنیا کم ملی ہو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ نے اس پر نظر کرم فرمائی ہے اور اسے وہ چیز عطا فرمائی ہے جو اسکی نگاہوں میں سب سے گراں ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک آدمی گناہوں کا بہت بڑا ذخیرہ لے کر اللہ کے سامنے پیش ہوگا اور وہ یہ دیکھ کر سہم سہم جائے گا کہ یا اللہ اب میرا کیا بنے گا کہ اچانک اس کے ترازو کے پلڑے میں ایک عمل لا کر رکھا جائے گا جس کے نتیجے میں گناہوں کا پلڑا اوپر اٹھ جائے گا۔ یہ شخص حیران ہو کر دیکھے گا کہ میرے پاس ان گناہوں کے مقابلے میں کوئی ایسا عمل نہیں تھا جس سے میرا عمل کا پلڑا جھک سکتا یہ کیا چیز ہے جس نے مجھے مالا مال کردیا ہے تو اسے بتایا جائے گا کہ یہ وہ کلمہ طیبہ ہے جسے پڑھ کر تم ایمان لائے تھے۔ اس سے آپ اندازہ فرما سکتے ہیں کہ اللہ کی نگاہ میں ایمان اور حسن عمل کتنی بڑی دولت ہے اگر ایک مسلمان یا امت مسلمہ اس بڑی دولت کو رکھتے ہوئے بھی ان لوگوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھے جو ایمان و عمل کے لحاظ سے بیشک مفلس ہوں لیکن دولت کی ان کے یہاں ریل پیل ہو اور انھیں دیکھ کر ان کے منہ میں پانی بھر بھر آئے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ انھوں نے ایمان و عمل جیسی نعمت کا حق نہیں پہچانا۔ حالانکہ دنیا اور دین کا اور ایمان اور دولت دنیا کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں۔ ایمان اسے ملتا ہے جس پر اللہ کی خصوصی نگاہ ہوتی ہے اور دنیا تو ہر ایک کو مل جاتی ہے جو اس کے لیے کوشش کرتا ہے یا جسے آزمائش میں ڈالنا چاہتا ہے اس لیے حضور نے فرمایا تھا کہ ” اگر پوری دنیا کی قدر و قیمت اللہ کی نگاہ میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ کسی کافر کو کبھی پانی کا گھونٹ تک نہ دیتا “۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ کی ساری پیدا کردہ نعمتیں حقیقت میں تو اہل ایمان ہی کا حصہ ہیں البتہ کافروں کو محض آزمائش کے لیے اس میں شامل کرلیا گیا ہے اور جہاں تک آخرت کا تعلق ہے اس میں تو یہ ساری نعمتیں اہل ایمان ہی کا مقدر ہوں گی۔ آخرت میں کافر کو سوائے نار جہنم کے اور کچھ نہیں ملے گا کیونکہ دنیا میں انھوں نے جو رفاہی کام کیے تھے رزق کی صورت میں اس کا بدلہ ان کو دے دیا گیا لیکن اس کی بےبہا نعمتوں کا چونکہ انھوں نے حق ادا نہیں کیا اور اللہ کی ابدی حیثیت کو انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا اس لیے انھیں ہمیشہ کے عذاب کی سزا دی جائے گی اور اہل ایمان نے چونکہ دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی اور انھوں نے دنیا کی زندگی آخرت کی تیاری اور اس کے حصول میں صرف کردی اس لیے اللہ کی ساری نعمتیں قیامت میں ان کا حصہ ہوں گی۔ آیت کے آخر حصے میں فرمایا کہ دیکھو یہ ہمارا تم پر بےپایاں احسان ہے کہ ہم تم پر اپنے احکام اور اپنی آیات کی حکمتیں کس قدر تفصیل سے بیان کر رہے ہیں۔ ان گزشتہ آیات ہی کو دیکھ لیجیے کہ جن باتوں میں اس دور کا انسان بری طرح الجھا ہوا تھا اللہ نے کس طرح مسلمانوں کے لیے ان کو آسان فرما دیا اور ایسی حکمتیں جن سے قوموں کی قومیں خالی ہوچکی تھیں۔ بےساختہ ان کی چابیاں مسلمانوں کو عطا کردی گئیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ فرمایا کہ علم و حکمت کا یہ سرمایہ صرف ان لوگوں کے نصیب میں ہوتا ہے جو علم رکھتے ہیں یا وہ علم حاصل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یعلمون فعل اور ارادہ فعل دونوں طرح استعمال ہوسکتا ہے اور کوئی تعجب نہیں کہ یہاں دونوں مراد ہوں کہ جو جانتے ہیں وہی ان حکمتوں کے قدردان ہوں گے اور یا یہ نعمتیں ان کے لیے چشم کشا ثابت ہوں گی جو جاننا چاہیں گے اور جو علم کے پیاسے ہوں گے۔ اگلی آیت کریمہ میں مشرکین مکہ کے رویے کو سامنے رکھتے ہوئے انھیں اس طرح شرم دلائی جا رہی ہے جس سے ایک بےساختہ دلیل کی صورت بھی پیدا ہوگئی ہے اور ایک بےساختہ تأثر بھی اس سے ابھر رہا ہے۔
Ayah 7:33

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ) کہہ دیجئے کہ میرے رب نے تو حرام کی ہیں ‘ بےحیائیاں خواہ کھلی ہوں ‘ خواہ پوشیدہ اور حق تلفی اور ناحق زیادتی اور اس بات کو حرام ٹھہرایا ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرو ‘ جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ تم اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو ‘ جس کا تم علم نہیں رکھتے۔

ارشاد ہوتا ہے : قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِکُوْا بِ اللہ ِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَی اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ (الاعراف : 33) ”(اے پیغمبر ! ) کہہ دیجئے کہ میرے رب نے تو حرام کی ہیں ‘ بےحیائیاں خواہ کھلی ہوں ‘ خواہ پوشیدہ اور حق تلفی اور ناحق زیادتی اور اس بات کو حرام ٹھہرایا ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرو ‘ جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ تم اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو ‘ جس کا تم علم نہیں رکھتے “۔ اللہ کی حرام ٹھہرائی ہوئی اصل چیزیں اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ ان سے یہ کہئے کہ تم عجیب نادان واقع ہوئے ہو کہ جن چیزوں کو اللہ نے حلال اور طیب پیدا فرمایا تھا اور جو اس نے اپنے بندوں کے لیے حلال کی تھیں ان کو تو تم نے اپنی نادانی اور حماقت سے حرام قرار دے دیا لیکن جو چیزیں میرے رب نے حرام کی ہیں تمہیں نہ تو ان کے بارے میں کوئی علم ہے کہ وہ کیا ہیں اور اگر تمہیں کچھ علم ہے بھی تو تم نے اپنے عمل سے ان حرام کردہ چیزوں کو اپنے لیے حلال بنا رکھا ہے اس سے بڑی تعجب کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ جو چیزیں حلال ہیں تم ان کو حرام کردیتے ہو اور جو حرام ہیں ان کو تم حلال کردیتے ہو پھر آپ نے ان محرمات میں سے چند چیزیں بیان فرمائیں۔ سب سے پہلی چیزیہ کہ میرے رب نے تمام بےحیائی کی باتوں کو حرام کیا ہے۔ فواحش فاحشہ کی جمع ہے۔ فاحشہ ہر اس بےحیائی کو کہتے ہیں جسے ہر وہ شخص برا سمجھے اور اس سے گھن کھائے جس کی فطرت سلیم ہو اور جس کا فطری احساس زندہ ہو کیونکہ جب فطرت مردہ ہوجاتی ہے اور احساس مرجاتا ہے یا فطرت بگڑ جاتی ہے تو ایسے آدمی کو سامنے کی بات بھی دکھائی نہیں دیتی۔ اسے آپ ہزار سمجھایئے وہ کبھی سمجھ کے نہیں دے گا۔ آپ یوں محسوس کریں گے کہ آپ ایک دیوار سے مخاطب ہیں بلکہ بعض دفعہ اس کے رویے اور اس کی باتوں سے آپ سٹپٹا کے رہ جائیں گے کہ جن باتوں کو ایک معمولی آدمی اپنی فطری بصیرت سے بڑی آسانی سے سمجھ لیتا ہے ایک بڑے سے بڑا تعلیم یافتہ دانشور جس کی فطرت تعلیم اور ماحول نے بگاڑ دی ہے کبھی نہیں سمجھتا۔ وہ اس کے خلاف ایسے ایسے دلائل لائے گا کہ آپ حیرانی میں ڈوبتے چلے جائیں گے۔ ان دونوں جشن بہاراں اور بسنت کو ایک تہوار کے طور پر بھی حکومتی سرپرستی میں منایا جا رہا ہے۔ ارباب حل و عقد اور دسترخوانی قبیلے کے دانشور اس کے حق میں وہ وہ دلیلیں ڈھونڈ ڈھونڈ کے لا رہے ہیں کہ ہر درد رکھنے والا شخص دل تھام کے رہ جاتا ہے اور آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ جس قوم کے لیڈ اور فیڈ کرنے والے لوگ اس سطح تک گرجائیں اس قوم کی راہنمائی کا فریضہ کون انجام دے گا اور اس ملک کے مقدر کا کیا بنے گا ؟ چنددن پہلے کی بات ہے میرے اہل خانہ نے مجھ سے کہا کہ گزشتہ دو سال ہمارے پڑوسیوں نے بسنت کا تہوار نہیں منایا اس لیے کہ سوئے اتفاق سے دونوں سالوں میں انھیں کوئی نہ کوئی موت کا صدمہ پیش آتا رہا اس لیے انھوں نے اس خوشی کے موقع کو منانا مناسب نہیں سمجھا۔ میں اس بات پر بہت دیر تک سوچتا رہا کہ ان کے گھروں میں ایک موت واقعہ ہوئی تو انھوں نے بسنت منانے سے انکار کردیا اور ہم یہ جو جشن بہاراں اور بسنت منا رہے ہیں کیا اس قوم کا ان دنوں کوئی نہیں مرا۔ یہ جو فلسطین میں روزانہ جنازے اٹھتے ہیں ‘ مقبوضہ کشمیر میں ہر روز عزتیں پامال ہوتی ہیں اور کئی نوجوانوں کو خون میں نہلایا جاتا ہے اور ہزاروں ان کے قیدی جیلوں میں سسک سسک کر مر رہے ہیں اور ہم نے اپنے پڑوس میں جس طرح مسلمانوں کے خون کو ارزاں کیا ہے اور خود اپنے ملک میں جس طرح راتوں کے اندھیرے میں عزتیں پامال کی جا رہی ہیں اور ملک کی آزادی ایک سوالیہ نشان بن کے رہ گئی ہے کیا ان میں سے کوئی غم بھی ہمارے سوچنے کے لیے کافی نہیں ہے ؟ اس کے باوجود ہمارے چھوٹے بڑے سمجھ سوچ سے عاری ہوتے جا رہے ہیں اور کوئی دلیل کی بات سننے کا روادار نہیں تو کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری فطرتیں بگڑ گئی ہوں۔ آج ہی کے اخباروں میں دیکھ لیجیے کہ صرف لاہور میں جو مالی نقصانات ہوئے ان کو تو جانے دیجئے دس افراد موت کی بھینٹ چڑھے اور تین سو آدمی زخمی ہوئے۔ اندازہ فرمایئے ! یہ اتنی بڑی قربانی کس عظیم مقصد کے لیے دی گئی ہے اور دو راتیں جس طرح ہلڑ بازی میں گزری ہیں اور اس میں جس طرح ڈوپٹے ہوا میں لہراتے رہے اور آنچل نہ جانے کس کس سے ہم آغوش ہوتے رہے اور خصوصی تقریبات میں جس طرح نائونوش کی محفلیں گرم ہوئیں اور جس طرح شرم و حیا کا جنازہ نکلا ہے۔ کیا کوئی سوچنے کی زحمت نہیں کرے گا کہ کیا مسلمانوں کے چلن یہی ہوتے ہیں۔ کہیں ہم اللہ کے عذاب کو دعوت تو نہیں دے رہے ؟ اگر ان تمام باتوں کے باوجود بھی ہم جشن بہاراں اور بسنت پر اصرار جاری رکھتے ہیں تو اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ ہم اللہ کی غلامی سے نکل کر نجانے کس کس طاغوت کی غلامی میں مبتلا ہو رہے ہیں اور غلامی کا طوق پہن لینے کے بعد پھر سوچنے سمجھنے کی قوتیں کام نہیں کیا کرتیں۔ اقبال نے ٹھیک کہا تھا ؎ تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا کہ غلامی میں بدل جاتے ہے قوموں کا ضمیر اللہ نے جو بےحیائی کی باتیں حرام قرار دی ہیں اور جس کو ہر مسلمان کا زندہ ضمیر پہچانتا ہے ان کے ساتھ یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ وہ صرف کھلی کھلی بےحیائیاں ہی حرام نہیں ہیں بلکہ جو پوشیدہ اور درپردہ بےحیائیاں ہیں وہ بھی حرام ہیں مراد اس سے یہ ہے کہ کھلی بےحیائی تو وہ ہوتی ہے جس کو ہر دیکھنے والی نگاہ دیکھتی اور سننے والے کان سنتے ہیں لیکن بعض بےحیائیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا احساس صرف ان کا ارتکاب کرنے والا ہی رکھتا ہے۔ مثلاً آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ” آنکھ بھی زنا کرتی ہے “ آنکھ کا زنا کیا ہے نا محرم کو دیکھنا اور پھر بار بار دیکھنے کی کوشش کرنا اور اس سے ایک لذت لینا اور پھر دل اور دماغ کا زنا یہ ہے کہ منصوبہ بندی کرنے لگنا کہ بار بار دیکھنے کے مواقع کیسے پیدا ہوسکتے ہیں اور کس طرح اس بات کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے اور کونسی صورت ہو کہ ملاقات کا اہتمام ہو سکے تاکہ یہ برائی اپنے منطقی انجام کو پہنچے یہ پورا پر اسس جو برائی کی تکمیل تک جاری رہتا ہے اسے سوائے کرنے والے کے اور کوئی نہیں جانتا۔ دوسروں کو کیا خبر کہ نگاہیں کس کے تعاقب میں ہیں اور دل و دماغ میں کون بسا ہوا ہے اور کس گناہ کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے یہ وہ خفیہ اور پوشیدہ بےحیائی ہے جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ کوئی برائی ہو یا نیکی اس کا اصل سررشتہ اور اس کی جڑ وہ آنکھوں یا کانوں میں نہیں ہوتی وہ دماغ اور دل میں ہوتی ہے جب تک کوئی برائی دل میں اپنا مسکن نہیں بنا لیتی اس وقت تک اس کے اثرات متعدی نہیں ہوتے۔ اگر آنکھوں میں کوئی لہر پید اہوتی بھی ہے تو چند لمحوں کے بعد غائب ہوجاتی ہے لیکن اگر اس برائی کی جڑیں دل میں اتر جاتی ہیں تو پھر اندیشے پیدا ہونے لگتے ہیں اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض دفعہ کوئی شخص کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے اور پھر اس سے تائب ہوجاتا ہے لیکن اس برائی کا احساس اس کے دل سے نکلنے نہیں پاتا چناچہ باہر کے عوامل دل کے اس احساس کو توانا کرتے رہتے ہیں پھر ایک وقت آتا ہے جب یہ اظہار کی صورت بھی پیدا کرلیتا ہے تو اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ پوشیدہ بےحیائی وہ ہے جو دل میں جگہ بنا لے یا دل میں باقی رہے بیشک باہر سے اس کے رشتے کٹ گئے ہوں۔ اللہ نے اسے بھی حرام قرار دیا ہے کہ جب تک تم دل کی پاکیزگی کا سامان نہیں کرو گے اس وقت تک بےحیائی سے بچ نہیں سکو گے۔ دوسری چیز جس کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے وہ ہے اثم۔ اس کا معنی ہے کوتاہی آثمہ اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو تیز چل سکتی ہو مگر جان بوجھ کر سست چلے۔ اسی سے اس لفظ میں گناہ کا مفہوم پیدا ہوا ہے یعنی انسان کا اپنے رب کی اطاعت و فرمانبرداری میں قدرت و استطاعت کے باوجود کوتاہی کرنا اور اس کی رضا کو پہنچنے میں جان بوجھ کر قصور دکھانا۔ بعض احکام ایسے ہیں جن کے بجا لانے کی آدمی میں ہمت نہیں ہوتی یا کسی عارضے کے باعث ہمت باقی نہیں رہتی اس میں کوتاہی ہوجانا یہ تو ایک عذر ہے لیکن جس حکم کی تعمیل کی آدمی میں ہمت ہو اور اس کے اسباب بھی میسر ہوں پھر آدمی اس میں کوتاہی کرے یہ گناہ ہے۔ کبھی یہ گناہ چھوٹا ہوتا ہے اور کبھی بڑا مثلاً گناہ کی ایک صورت تو یہ ہے کہ پڑوس میں کوئی شخص بیمار تھا میں نے اس کی تیمار داری نہیں کی اور دوسری صورت یہ ہے کہ وہ جان بہ لب تھا مجھ سے کہا گیا کہ اس کی جان کو خطرہ ہے آپ گاڑی نکالیئے اسے ہسپتال لیکر جانا ہے میں نے کوئی بہانہ کردیا اور وہ شخص مرگیا یہ وہ گناہ ہے جو پہلے گناہ سے بہت بڑا ہے۔ اسی پر آپ قیاس کرتے چلے جایئے کہ یہ سارے گناہ کوتاہی عمل کا نتیجہ ہیں لیکن اپنے نتائج کے اعتبار سے یکساں نہیں اس لیے ان کو گناہ صغیرہ اور گناہ کبیرہ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ تیسری چیز جس کو حرام کیا گیا ہے وہ ہے اَلْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ اس کا معنی ہے تعدی اور سرکشی۔ یعنی اللہ نے ایک مومن کی زندگی میں حدود کھینچ دی ہیں کہ تم ان حدود سے آگے نہیں بڑھ سکتے وہ خالق کائنات کا ممنوعہ علاقہ ہے مثلاً تم ہر چیز کھا سکتے ہو مگر حرام چیز نہیں کھا سکتے یہ تمہارے کھانے پینے کے ذوق کی آخری حد ہے اس سے آگے نہ بڑھنا۔ یہی حال تمام احکام شریعت کا ہے کوئی آدمی یا کوئی قوم اگر حرام کردہ چیزوں کا ارتکاب کرنے لگتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حد سے تجاوز کر رہی ہے۔ انھوں نے ایمان لا کر اللہ کی اطاعت اور بندگی کا عہد کیا تھا وہ نافرمانی کی صورت میں اس عہد کو توڑ کر حدود سے تجاوز کر رہی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی قوم صرف محرمات شرعیہ کا ارتکاب ہی نہ کرے بلکہ قانون سازی کرتے ہوئے سراسر اللہ کے قانون اور احکام کو نظر انداز کر دے یا پالیسی بناتے ہوئے اور منصوبہ بندی کرتے ہوئے قطعاً اس بات کی پرواہ نہ کرے کہ اس بارے میں اللہ کے احکام کیا ہیں ؟ یہ سرکشی ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس بغی کا ارتکاب کرنے والا کبھی تو محض ایک بےعملی کا ارتکاب کرتا ہے اور کبھی وہ بغاوت کا ارتکاب کرتا ہے جب وہ بندگی کی حد سے نکل کے اللہ کے ملک میں خود مختارانہ رویہ اختیار کرتا ہے یا خدا کی خدائی میں اپنی کبریائی کے ڈنکے بجانے لگتا ہے اور اسی طرح وہ شخص بھی جو بندگان خدا کے حقوق پر دست درازی کرنے لگتا ہے۔ البَغْیَ کے ساتھ جو بَغَیْرِ الْحَقِّ کی قید لگائی گئی ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی تعدی اور سرکشی حق بھی ہوتی ہے بلکہ یہ قید صرف اس جرم کی شناعت اور گھنائونے پن کو نمایاں کرنے کے لیے ہے جیسا قرآن پاک میں یہود کے جرائم کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ نبیوں کو بغیر الحق قتل کرتے تھے حالانکہ کسی نبی کو قتل کرنا حق نہیں ہوسکتا۔ مراد یہ ہے کہ وہ ایک بہت برے فعل کا ارتکاب کرتے تھے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ کے مقابلے میں سرکشی اور اللہ کے مقابلے میں اپنی بندگی کی حدود سے تجاوز یہ بَغَیْرِ الْحَقِّ کے سوا اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا یعنی ایک بندے کا دوسرے بندے سے معاملہ چاہے کتنا بھی غلط ہو اس بات کا بہرحال امکان رہتا ہے کہ شاید اس میں حق کا کوئی پہلو پایا جاتا ہو لیکن جہاں تک اللہ کے مقابلے میں سرکشی اور تعدی کا تعلق ہے اس میں تو ایسے کسی امکان کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا اس لیے اسے بَغَیْرِ الْحَقِّ سے تعبیر کیا گیا۔ چوتھی چیز جو اس آیت کریمہ میں حرام قرار دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ تم کسی کو شریک ٹھہرائو۔ شریک ٹھہرانے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کی ذات اس کی صفات اس کے حقوق اور اس کے اختیارات میں کسی دوسرے کو شریک کردیا جائے یعنی یہ سمجھا جائے کہ جیسی اللہ کی ذات ہے ویسا کوئی اور بھی ہے یا جیسے اس کی خصوصی صفات ہیں ایسی ہی صفات کسی اور میں بھی ہیں یا جیسے اس کے حقوق اس کے بندوں پر ہیں ایسے ہی کسی اور کے حقوق بھی ہیں اور یا جیسے وہ اختیارات رکھتا ہے ایسے ہی اختیارات کسی اور کو بھی حاصل ہیں۔ ان میں سے کوئی بات بھی اختیار کی جائے وہ اللہ کے ساتھ شرک ہے۔ اللہ کی ذات میں شرک تو بہت کم ہوا ہے البتہ باقی تینوں طرح کے شرک ہر زمانے میں موجود رہے ہیں۔ امت مسلمہ جو توحید کی قیامت تک کے لیے علمبردار بنائی گئی ہے اس کا بھی حال یہ ہے کہ اللہ کا یہ حق کہ وہ اپنے بندوں پر مطلق العنان حاکم ہے اور غیر مشروط اطاعت اس کا حق ہے اسی طرح اختیارات اور قدرتوں میں اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ جس طرح اس کے سوا کسی اور کو سجدہ روا نہیں اسی طرح اس کے سوا کسی اور کی غیر مشروط اطاعت اور کسی اور کی محبت سے دل کو آباد کرنا اور کسی اور کی قدرت کو بےپناہ سمجھ کر مرعوب ہوجانا اور بجائے اس کو سہاراجاننے کے کسی اور قوت کو اپنا سہارا سمجھ لینا اور بجائے اس کے قانون کو اپنا قانون بنانے کے کسی اور وضعی قانون کو اپنا قانون بنانا اور اپنے ملک میں اس کو نافذ کردینا یہ شرک کی چند در چند صورتیں ہیں جس کا آج بھی پورے عالم اسلام میں ارتکاب کیا جا رہا ہے اور اسی وجہ سے امت مسلمہ تاریخ کے بدترین حالات کا سامنا کر رہی ہے۔ ساتھ ہی اس کے یہ بھی فرمایا جا رہا ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو جس کی اللہ نے کوئی سند اور کوئی دلیل نہیں اتاری۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ جہاں تک اللہ کو ماننے کا تعلق ہے وہ تو عقل و فطرت کا ایک بدیہی تقاضہ ہے اور مشرک بھی اللہ کو مانتا ہے لیکن جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اللہ کا کوئی شریک بھی ہے تو اس کے لیے دلیل کی ضرورت ہے اور دلیل بھی ایسی جو برہان یعنی ایک حجت قاطع کی حیثیت رکھتی ہو۔ اس لیے کہ خدا کی خدائی میں یوں ہی کسی کو جوڑ دینا سارے نظام عقل و فطرت اور پورے نظام عدل و قسط کو درہم برہم کردینا ہے۔ اتنی بڑی بات بغیر اس کے مان لینے کا کوئی جواز نہیں ہے کہ اللہ نے اس کی کوئی نقلی ‘ عقلی یا فطری دلیل اتاری ہو۔ پانچویں چیز جو حرام کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ تم اللہ کے بارے میں کوئی ایسی بات کہو جو تم نہیں جانتے ہو یعنی تم اپنی مرضی سے حلت و حرمت کا فیصلہ کرنے لگو اور اپنی خواہشوں کی پیروی میں بدعتیں ایجاد کر ڈالو اور ہو سکے تو پوری نئی شریعت تصنیف کر ڈالو لیکن دعویٰ یہ کرو کہ یہ سب کچھ ہمیں خدا نے حکم دیا ہے حالانکہ تم اللہ کی جانب سے ایسا کوئی علم نہیں رکھتے کیونکہ مشرکین مکہ کے پاس کسی شریعت کا علم محفوظ نہیں تھا۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ لوگ مانتے تھے لیکن ان پر جو صحیفے نازل ہوئے ان میں سے کچھ بھی ان کے پاس موجود نہیں تھا اس کے باوجود یہ جتنے مشرکانہ اعمال کرتے تھے سب کی نسبت اللہ کی طرف کرتے تھے جس طرح گزشتہ رکوع میں ہم نے پڑھا ہے کہ وہ اپنی تمام بداعمالیوں کے بارے میں یہ کہتے تھے کہ اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے تو یہاں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر ان سے کہو کہ اللہ نے جو چزیں تم پر حرام کی ہیں ان میں سے یہ ایک بات بھی ہے کہ تم اللہ پر اس طرح جھوٹ باندھنے لگو اور جھوٹی باتیں اس کی طرف منسوب کرنے لگو۔ اگلی آیت کریمہ میں وارننگ دی جا رہی ہے کہ آج جبکہ اللہ کے آخری نبی تم میں آچکے ہیں اور قرآن کریم نازل ہو رہا ہے اور ایک ایک بات تم پر کھول کھول کر بیان کی جا رہی ہے لیکن تم ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہو تو پھر سوچ لو کہ تمہارا انجام آخر کیا ہوگا ؟
Ayah 7:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

ہر قوم کے لیے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے۔ پھر جب کسی قوم کی مدت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تاخیر و تقدیم نہیں ہوتی۔

وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ج فَاِذَا جَآئَ اَجَلُھُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ ۔ (الاعراف : 24) ” ہر قوم کے لیے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے۔ پھر جب کسی قوم کی مدت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تاخیر و تقدیم نہیں ہوتی “۔ اس رکوع کا آغاز مشرکینِ مکہ پر عتاب سے ہوا ہے ان سے برہمی کے انداز میں ایک سوال کیا گیا ہے کہ اس سوال کے جواب پر تمہاری پوری زندگی کا مدار ہے اور پھر ان کی کوتاہیوں اور بداعمالیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے صحیح راستہ ان پر واضح کیا گیا ہے اب انھیں آخری وارننگ دی جا رہی ہے کہ تم یہ مت سمجھو کہ جس طرح تم اب تک اللہ کی گرفت سے بچے ہوئے ہو اسی طرح بچے رہو گے۔ یہ فی الحقیقت تمہیں ایک مہلت عمل دی گئی ہے لیکن قوموں کو دی جانے والی مہلت ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی جس طرح افراد کے لیے زندگی کی ایک مدت مقرر ہے انھیں بہرصورت اس مدت کے بعد موت کا شکار ہونا ہے اسی طرح قوموں کے لیے بھی مہلت عمل کی ایک مدت مقرر ہے جب قومیں اپنی اس مدت تک پہنچ جاتی ہیں تو پھر قدرت انھیں مٹا دیتی ہے اور ان کی جگہ دوسری قومیں لائی جاتی ہیں اور انھیں اس دارالامتحان میں امتحان کے لیے بٹھا دیا جاتا ہے۔ رہی یہ بات کہ قوموں کے لیے مقررہ مہلت عمل کیا ہے تو اس کا تعین مہینوں اور سالوں سے نہیں ہوتا جس طرح ہر فرد کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ سالوں کے اعتبار سے ایک عمر گزارتا ہے لیکن قومیں بعض دفعہ صدیوں تک بھی زندہ رہتی ہیں ان کا دارومدار ان کی ایمانی اور اخلاقی زندگی پر ہوتا ہے ان کے لیے ایک اخلاقی حد مقرر کردی جاتی ہے جس کا علم سراسر اللہ کو ہوتا ہے جب تک وہ اپنی بداعمالیوں کے باعث اس اخلاقی حد سے نیچے نہیں گرتیں اس وقت تک انھیں اس میدان عمل سے واپس نہیں بلایا جاتا اور انھیں برابر موقع دیا جاتا ہے کہ اب بھی سنبھلنا چاہو تو سنبھل جاؤ۔ کبھی سمجھانے والے ان کی طرف بھیجے جاتے ہیں ‘ کبھی مختلف حوادث کی صورت میں انھیں تنبیہات کی جاتی ہیں ‘ کبھی باہر کی قومیں ان پر چڑھ دوڑتی ہیں اور اس طرح ان کو سنبھلنے پر مجبور کیا جاتا ہے لیکن جب وہ تنزل کے گڑھے میں گرتی چلی جاتی ہیں اور ان کے خیر کے سوتے آہستہ آہستہ خشک ہونے لگتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب ان پر نازل ہوتا ہے اور وہ تباہ کردی جاتی ہیں اس لیے کسی بھی قوم کو اگر یہ اندازہ کرنا ہو کہ میری مہلت عمل باقی ہے یا قریب الاختتام ہے تو اسے اپنی ایمانی اور اخلاقی حالت کا جائزہ لینا چاہیے۔ قرآن کریم نے مختلف قوموں کی مثالیں دے کر ہمیں اس بات کو سمجھنے میں مدد دی ہے البتہ ایک بات بار بار واضح کی گئی ہے کہ کوئی قوم بھی حادثاتی طور پر نہیں مرتی کیونکہ یہ کائنات اللہ کے زیر نگرانی محو سفر ہے یہاں از خود کوئی حادثہ نہیں ہوتا۔ جب بھی کوئی قوم اللہ کی گرفت میں آتی ہے تو اللہ فرماتا ہے کہ ہم اسے اس کے گناہ کی پاداش میں پکڑتے ہیں اس لیے جس قوم کو اپنی زندگی اور اپنی بہتری مقصود ہو اسے اپنی اخلاقی حالت کے بارے میں غیر جانبدارانہ جائزہ لینا چاہیے کہ زندگی کے تمام شعبوں میں قوم کی اخلاقی حالت کس سطح پر ہے۔ قوم کے حکمران ‘ انتظامیہ ‘ سیاست دان ‘ تعلیم یافتہ طبقہ ‘ مذہبی علماء ‘ تاجر ‘ کاشتکار ‘ ملوں اور کارخانوں کے مزدور اور تعلیمی اداروں سے متعلق لوگ ایک ایک شعبہ زندگی کو گہری نظر سے دیکھا جائے ‘ ان میں اخلاقی توانائی باقی ہے یا دم توڑ رہی ہے اس سے اندازہ لگانے میں دشواری نہیں ہوتی کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ یہاں بھی مشرکین مکہ سے صاف فرمایا جا جا رہا ہے کہ تم ہمیشہ باقی نہیں رہو گے ہر قوم کی طرح تمہاری بھی ایک مہلت عمل ہے اور ہم نے اس کی ایک مدت مقرر کر رکھی ہے تم اگر یہ چاہتے ہو کہ وہ مدت تمہاری دراز ہوتی جائے تو پھر اچھی طرح اپنا جائزہ لے کر اپنی اصلاح کی کوشش کرو۔ اللہ کا نبی تمہیں حق کی طرف بلا رہا ہے اس کی بات کو قبول کرو اور اس کی پیروی کرتے ہوئے اپنی زندگی بچا لو اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو یاد رکھو جب وہ مقررہ مدت یعنی اجل آجائے گی تو پھر نہ وہ آگے ہوگی نہ پیچھے ہوگی یعنی پھر تمہیں ایک لمحہ بھی سنبھلنے کے لیے نہیں ملے گا اور یہ بات تم سے کوئی پہلی دفعہ نہیں کہی جا رہی جب ہم نے تمہارے والدین یعنی حضرت آدم اور حضرت حوا (علیہما السلام) کو دنیا میں بھیجا تھا تو ہم نے یہی بات ان سے بھی کہی تھی آج پھر تم سے کہہ رہے ہیں۔ یہی وہ بات ہے جس پر عمل کرنے سے تم ایک آبرو مندانہ زندگی گزار سکتے ہو
Ayahs 7:35–36

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

اے بنی آدم ! اگر تمہارے پاس تم ہی میں سے ایسے رسول آئیں ‘ جو تمہیں میری آیات سنائیں تو جو کوئی نافرمانی سے بچا اور اس نے اپنی اصلاح کرلی تو ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور تکبر کر کے ان سے اعراض کیا ‘ وہی ہیں دوزخ والے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

چناچہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے : یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ لا فَمَنِ اتَّقٰی و اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌج عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْٓا بِاٰیٰتِنَا وَاسْتَکَْبَرُوْا عَنْھَآ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (الاعراف : 35، 36) ” اے بنی آدم ! اگر تمہارے پاس تم ہی میں سے ایسے رسول آئیں ‘ جو تمہیں میری آیات سنائیں تو جو کوئی نافرمانی سے بچا اور اس نے اپنی اصلاح کرلی تو ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور تکبر کر کے ان سے اعراض کیا ‘ وہی ہیں دوزخ والے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ دنیا وعقبیٰ میں امان اللہ کی فرمانبرداری میں ہے یہ وہ بات ہے جو حضرت آدم (علیہ السلام) کو دنیا میں بھیجتے ہوئے فرمائی گئی اور پھر ہر رسول نے اس کا اعادہ کیا۔ اب رسول اللہ ﷺ اسی بات کی یاددہانی فرما رہے ہیں کہ اے مشرکینِ مکہ اگر تم اللہ کے عذاب سے بچنا چاہتے ہو تو یاد رکھو کہ تمہاری غذائی ضرورتوں کا سامان تو اللہ نے زمین میں رکھا ہے لیکن تمہاری زندگی گزارنے کی راہنمائی وہ اللہ کی طرف سے آتی ہے چناچہ وہ راہنمائی تمہارے پاس آچکی۔ اللہ کی کتاب اتر رہی ہے میں مینارہ نور کی طرح تمہارے اندر موجود ہوں تم میری دعوت کو قبول کرو ‘ اپنے انجام سے اور اللہ کے عذاب سے ڈرو اور اعمال کو درست کرلو تو پھر یہ زندگی بھی تمہاری ہے اور آخرت بھی تمھاری۔ لیکن اگر تم نے اس دعوت کو قبول نہ کیا بلکہ تم نے تکبر کی روش اختیار کی اور مسلسل اس سے اعراض برتا تو پھر یاد رکھو یہاں بھی تم پر عذاب آسکتا ہے اور آخرت میں بھی تمہیں جہنم کا ایندھن بننا ہوگا۔ زندگی کے سفر کو آسان کرنے کے لیے اس سے واضح راہنمائی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا جس طرح قدم قدم ان آیات میں مشرکینِ مکہ کو راہنمائی دی جا رہی ہے ایسا لگتا ہے کہ آنحضرت ﷺ ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں جنت میں لے جانا چاہتے ہیں لیکن اگر وہ پھر بھی اپنی روش سے بار نہیں آتے تو پھر ان سے آخری سوال کیا جا رہا ہے کہ تم ہی بتائو اس روش کے نتیجے میں جو کچھ تم پر گزرنے والی ہے اس کی ذمہ داری آخر کس پر ہے۔