7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsروح القرآن

Ayahs 7:182–183

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہم ان کو آہستہ آہستہ پکڑیں گئے ایسی جگہ سے جہاں سے ان کو خبر بھی نہ ہوگی

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں انھیں ڈھیل دوں گا بیشک میری تدبیر محکم ہے۔

اسلوبِ قرآن کے فہم کے لیے ضروری ہدایات اگلی آیات کریمہ کی تشریح سے پہلے ضروری ہے کہ چند ایسی باتیں ذکر کردی جائیں جن سے قرآن کریم کے اسلوب کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ قرآن کریم اپنے متنوع مضامین اور موضوعات کے اعتبار سے اپنے محضوص انداز میں گفتگو کرتا ہے وہ کسی بھی موضوع پر جب اظہارِ خیال کرتا ہے تو کبھی تو ایک رواں دواں ندی کی طرح آگے بڑھتا ہے اور کبھی اس کے انداز میں دریا کی روانی سمٹ آتی ہے جو صرف ایک موضوع میں سمٹ کر نہیں رہ جاتی بلکہ انسانی طبیعت اور فطرت کے تنوع کو دیکھتے ہوئے ذیلی مضامین اور متعلقات کو بھی ساتھ ساتھ سمیٹتا چلا جاتا ہے۔ چناچہ جب تک ایک قاری کے ذہن میں موضوع کے تمام گوشے نہ ہوں وہ قرآن کریم کی بعض باتوں کو سمجھنے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہر سورت کے آخری چند رکوع میں عموماً چند خصوصیات نمایاں دکھائی دیتی ہیں جن میں ایک تو یہ کہ اس سورت کے نزول کے وقت دعوت کے مخاطبین کی جو ذہنی کیفیت ہوتی ہے اسے مختلف طریقوں سے کبھی خفی اور کبھی جلی طریقے سے زیر بحث لایا جاتا ہے۔ چونکہ لوگوں کی طبیعتوں میں ایک تفاوت قدرتی طور پر موجود ہے وہی تفاوت قرآن کریم کی آیات میں بھی ہمیں دکھائی دیتا ہے ان آیات میں چونکہ مختلف طبیعتوں اور صلاحیتوں کے حوالے سے بات کی جاتی ہے اس لیے ہر طبیعت اور صلاحیت کا حامل اپنے سے متعلق بات کو خود بخود سمجھتاچلا جاتا ہے لیکن دوسری طبیعت اور صلاحیت کا شخص بعض دفعہ اس کا پوری طرح ادراک نہیں کرسکتا اس بناء پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب تک مخاطبوں کی ذہنی کیفیت ‘ صلاحیتوں اور طبعی رجحانات کو پوری طرح نہ سمجھ لیا جائے قرآن پاک کی گفتگو کے ہدف کو سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ قرآن کریم عام معمول کی کوئی درسی کتاب نہیں اور نہ ایسی دعوتی کتاب ہے جس میں اسلام کے تمام ضروری امور کی وضاحت کے بعد قارئین کو اپنے طور پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے بلکہ یہ تو ایک ایسی کتاب ہے جو خطبات کی شکل میں اللہ کے رسول پر ضرورت کے مطابق نازل ہوتی رہی ہے اور وہ اسی کی مدد سے قوم کے سامنے اسلام کی دعوت کو پیش کرتا رہا ہے چناچہ دعوت کو پیش کرتے ہوئے اسے جس صورتحال سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور جن سوالات سے واسطہ پڑتا ہے اور جن جن مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے اور مخالفین کی جانب سے جیسے جیسے الجھائو پیش کیے جاتے ہیں، قرآن کریم کبھی تو ساتھ ساتھ ان تمام ضرورتوں کا تدارک کرتا چلا جاتا ہے۔ لیکن بہت ساری باتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جنھیں دعوت کی روا روی میں پیش کرنا آسان نہیں ہوتا، وہ چونکہ گہرے غور و فکر کی متقاضی ہوتی ہے اور مخالفین غور و فکر تو دور کی بات ہے سننے کے بھی روا دار نہیں ہوتے۔ اس لیے ایسے سوالات اور ایسی ضرورتوں کے حوالے سے ہر سورت کے آخر میں توضیحی آیات نازل کی جاتی ہیں جس میں ایسے تمام سوالات کے جوابات دئیے جاتے اور ذہنی الجھنوں کو دور کیا جاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والوں کو تسلی بھی دی جاتی اور استقامت کی تلقین بھی کی جاتی ہے۔ یہ باتیں تو وہ ہیں جنھیں تمام مفصل سورتوں کی آخری آیات کو پڑھتے ہوئے ذہن میں رکھنا چاہیے لیکن پیش نظر آیات کو پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جب یہ آیات نازل ہو رہی تھیں وہ حق و باطل کے درمیان شدید کشمکش کا وقت تھا مشرکین مکہ مخالفت میں شدت پیدا کرچکے تھے لیکن اسلام کے اثر و نفوذ سے خوف زدہ بھی تھے اس لیے اگر ایک طرف وہ سختی اور تشدد کے ذریعے مسلمانوں کو ہراساں کر کے اس دعوت کو روک دینا چاہتے تھے تو دوسری طرف عجیب و غریب سوالات اٹھا کر ذہنوں کو مسموم بھی کرنا چاہتے تھے اور اپنے معاشرے کے ہم مذہب لوگوں کو بدگمان کر کے اسلام سے دور رکھنے کی بھی کوشش کر رہے تھے۔ اس لیے ان آیات کریمہ میں ایسے ہی تمام سوالات کا جواب بھی دیا گیا ہے اور مسلمانوں اور آنحضرت ﷺ کو کامیابی کی نوید سنا کر تسلی بھی دی گئی ہے۔ اس رکوع کی سب سے پہلی آیات کریمہ میں ایسے ہی سوالات کا جواب دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے : وَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بَاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُھُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَ ۔ وَاُمْلِیْ لَھُمْ اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ۔ (الاعراف : 183، 182) ” اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہم ان کو آہستہ آہستہ پکڑیں گئے ایسی جگہ سے جہاں سے ان کو خبر بھی نہ ہوگی اور میں انھیں ڈھیل دوں گا بیشک میری تدبیر محکم ہے “۔ اس آیت کریمہ میں سَنَسْتَدْرِجُھُمْ کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کا مصدر استدراج ہے۔ استدراج کا معنی درجہ بدرجہ ‘ آہستہ آہستہ کوئی کام کرنے کے آتے ہیں۔ قرآن و سنت کی اصطلاح میں استدراج اس کو کہا جاتا ہے کہ آدمی کے گناہ پر دنیا میں جلدی گرفت نہ ہو بلکہ جوں جوں وہ گناہ میں آگے بڑھتا چلا جائے دنیاوی مال و اسباب اور منصب و اقتدار میں اضافہ ہوتا جائے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ایسا شخص اپنی بد عملی اور بد کرداری میں اور پختہ ہوجائے گا اور وہ یہ سمجھنا شروع کر دے گا کہ اگر یہ میرے اعمال برے ہوتے تو مجھ پر اللہ کی یہ عنایات نہ ہوتیں۔ ایک سوال اور اس کا جواب ان آیات کریمہ میں ایک شبہ یا ایک سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کے ذہنوں میں بعض دفعہ یہ سوال پیدا ہوتا تھا اور آج بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر راست بازی کی زندگی اختیار کرنا اللہ کو پسند ہے اور اس کے تمام وعدے ایسے ہی لوگوں کے لیے ہیں جو اللہ کے دین پر عمل کرتے ہوئے راست بازی کی زندگی گزارتے ہیں تو پھر ہونا یہ چاہیے کہ دنیا میں اللہ کی نعمتیں بھی ایسے ہی لوگوں کو نصیب ہوں اور جن لوگوں کی زندگیاں اس راستے سے بالکل متصادم ہیں وہ اسلامی تعلیمات کو نہ تسلیم کرتے ہیں اور نہ انھیں قابل عمل سمجھتے ہیں وہ اللہ کی نعمتوں سے نہ صرف محروم رہیں بلکہ دنیا ہی میں انھیں اس طرح اللہ کی گرفت میں آنا چاہیے کہ ہر دیکھنے والا محسوس کرے کہ یہ لوگ اللہ کے نافرمان تھے اس لیے اپنے پاداشِ عمل میں پکڑے گئے ہیں لیکن دنیا کے حالات دیکھتے ہوئے صاف نظر آتا ہے کہ معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے۔ بڑے سے بڑا کافر اور مشرک اور بڑے سے بڑا اللہ کا باغی اس دنیا میں بڑے سے بڑے منصب پر فائز اور دنیا کے وسائل پر قابض ہے مسلمان قومیں روز بروز پستی کی طرف جا رہی ہیں اور کافر قومیں آئے دن ترقی کی طرف بڑھ رہی ہیں آخر یہ تضاد کیوں ہے ؟ اس شبہ اور اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم جن لوگوں کو بظاہر بہت سرفراز اور نہایت خوشحال دیکھ رہے ہو یہ ان کے اعمال کا صلہ نہیں بلکہ انھیں انجام کی طرف لے جانے کی ایک ایسی تدبیر ہے جس کو نہ وہ سمجھتے ہیں نہ سرسری نگاہوں سے دیکھنے والے سمجھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ ہے کہ راہ راست سے ہٹے ہوئے لوگوں کو سیدھے راستے کی طرف لانے کے لیے اللہ اپنے نبیوں کو بھیجتا اور اپنی کتابیں اتارتا ہے نبی ان کی اصلاح کے لیے اپنی امکانی مساعی کو بروئے کار لاتے ہیں لیکن جب وہ بگڑے ہوئے لوگ ان پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ انھیں مختلف قسم کے مصائب میں مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ تکلیفوں سے پریشان ہو کر اللہ کے سامنے جھکیں اور اپنی سرکشی سے باز آجائیں لیکن جب یہ تکلیفیں اور مصیبتیں بھی انھیں راہ راست پر لانے کے لیے کافی نہیں ہوتیں بلکہ وہ اس کی بھی کوئی نہ کوئی توجیہ کر کے اپنے آپ کو حق بجانب قرار دیتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ ان کو دوسری آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے مصیبتوں کو ختم کر کے آسانیوں اور سہولتوں کے دروازے ان پر کھول دیتا ہے اور زندگی کی کامرانیاں اس طرح ان کی طرف بڑھتی ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ہر چیز کے دروازے ان پر کھول دئیے ہیں ‘ کاروبار روز بروز چمکتا چلا جاتا ہے ‘ فصلیں لہلہانے لگتی ہیں ‘ صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ‘ لوگ جس چیز میں ہاتھ ڈالتے ہیں وہ سونا بن جاتی ہے ان نعمتوں سے سرشار لوگ دولت کی اس ریل پیل کو اپنے لیے کامیابی سمجھتے ہوئے اپنے رویہ میں مزید پختہ ہوجاتے ہیں اور پہلے اگر کوئی نصیحت کی بات سننے کی زحمت کر ہی لیتے تھے تو اب وہ اس کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے انھیں یقین ہوجاتا ہے کہ ہماری زندگی کے طور اطوار اور ہمارے فیصلے بالکل صحیح اور حق بجانب ہیں۔ اس طرح ان کا حالات کے تأثر میں ڈوب جانا اور اپنی خواہشات کی گرفت میں آجانا یہ درحقیقت اللہ کی جانب سے ہلاکت کا وہ پھندا ہے جس کی طرف وہ قوموں کو آہستہ آہستہ لے کرجاتا ہے وہ مادی عیش و عشرت میں ڈوب کر اسے اپنی کامیابی سمجھتی رہتی ہیں حالانکہ وہ اپنی ہلاکت کی طرف بڑھ رہی ہوتی ہیں جس طرح مچھلی کا شکاری مچھلی کے شکار کے لیے جب کنڈی لگاتا ہے تو کنڈی پانی میں پھینکنے سے پہلے وہ اس کی نوک پر گوشت کا کوئی ٹکڑا بھی لگاتا ہے تاکہ مچھلی اسے اپنی خوراک سمجھے چناچہ مچھلی جب اسے اپنی خوراک سمجھ کر آ کر کھانا شروع کرتی ہے تو وہ اپنی ڈور ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے مچھلی یہ سمجھتی ہے کہ آج مجھے بہت مزیدار خوراک ملی ہے لیکن شکاری خوب سمجھتا ہے کہ یہ بیوقوف مچھلی جسے خوراک سمجھ رہی ہے درحقیقت اس کی موت کا پروانہ ہے وہ جیسے جیسے منہ مارتی ہے ویسے ویسے وہ کانٹا اس کے حلق میں اترتا چلا جاتا ہے جب شکاری سمجھتا ہے کہ مچھلی نے خواہشِ نفس سے مغلوب ہو کر کانٹا حلق میں اتار لیا ہے تو وہ بڑی آسانی سے اسے کھینچ لیتا ہے مچھلی اگر ڈور سے زور آزمائی کرتی بھی ہے تو وہ شکاری اسے کھینچنے میں جلدی نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میری ڈور اتنی مضبوط ہے کہ مچھلی ہزار کوشش سے بھی اسے توڑ نہیں سکتی۔ یہی حال ایسے افراد اور قوموں کا بھی ہے جو مادی ترقی اور وسائل کی ہمہ ہمی کو زندگی کی کامیابیاں سمجھ کر اسی کے حصول میں ڈوب جاتے ہیں اور پھر اسی کو اپنا مقصد بنا لیتے ہیں قدرت جیسے جیسے ان کو آگے بڑھنے کا موقع دیتی ہے وہ ویسے ویسے بد کردار اور بد اطوار ہوتے چلے جاتے ہیں قدرت ان کو ڈھیل دیتی چلی جاتی ہے تاکہ وہ اچھی طرح اپنے پیمانے کو بھر لیں اور جب اللہ کی جانب سے پکڑ آئے تو پھر ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے لیکن اپنی پکڑ اور گرفت میں اللہ تعالیٰ کبھی جلدی نہیں کرتا کیونکہ جلدی وہ کیا کرتا ہے جسے شکار کے نکل جانے کا اندیشہ ہو یا وہ حکمران مجرموں کو پکڑنے میں بےصبری کا مظاہرہ کرتا ہے جسے یہ خطرہ ہو کہ مجرم اگر طاقت پکڑ گئے تو میری گرفت سے نکل جائیں گے اور پھر اگر میں کوشش بھی کروں گا تو ان پر قابونہ پا سکوں گا اس لیے ان آیتوں میں فرمایا کہ تم جن قوموں کو بظاہر بہت خوشحال اور سرفراز دیکھ رہے ہو وہ تو استدراج کا شکار ہیں ہم انھیں آہستہ آہستہ ان کے انجام کی طرف لے جا رہے ہیں جب وہ اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے تو پھر اچانک ہم ان کو دبوچ لیں گے مزید فرمایا کہ میں ان کو مسلسل ڈھیل دیتا رہتا ہوں تاکہ وہ اپنے خبث نفس کو پوری طرح کھلنے دیں اور اپنے بغاوت کے سوتوں کو پوری طرح ابلنے دیں اور اپنی فائل کو اچھی طرح مکمل ہونے دیں تاکہ کل کو ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے لیکن میری تدبیر ان کے ساتھ ساتھ چلتی ہے اور وہ اس قدر محکم ہے کہ یہ اس سے بچ کر نکل نہیں سکتے تم یہ سمجھ رہے ہو کہ پروردگار کا ان کو گرفت نہ کرنا شائد ان کے برسر حق ہونے کی دلیل ہے یا اللہ کے کمزور ہونے کی۔ یہ دونوں باتیں غلط ہیں وہ خود اپنے انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں اور میں پکڑنے میں اس لیے جلدی نہیں کرتا کیونکہ میری تدبیر نہایت محکم اور مضبوط ہے جب میں پکڑنا چاہوں گا تو اس وقت انھیں میری پکڑ سے کوئی بچا نہیں سکے گا۔ اس استدراج کے حوالے سے ایک اور بات بھی قابل غور ہے وہ یہ کہ جس طرح استدراج کفار کے ساتھ ہوتا ہے جس کی تفصیل ابھی آپ نے پڑھی اسی طرح استدراج مسلمان گناہ گاروں کے ساتھ بھی ہوتا ہے جو اسی مرض کا شکار ہوتے ہیں جس مرض نے کافروں کو ان کے انجام تک پہنچایا وہ یہ ہے کہ جب ایک مسلمان، مسلمان کہلاتے ہوئے بھی اسلامی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کرتا بلکہ اس کی انفرادی اور اجتماعی زندگی اسلام سے سرکشی اور بغاوت میں بسر ہوتی ہے وہ فرائض کا تارک ‘ واجبات سے لاپرواہ ‘ حقوق العباد سے یکسر بےنیاز ‘ حلال و حرام کی پابندیوں سے لاتعلق، اس کے ذہن پر صرف دنیا اور دولت دنیا کا بھوت سوار ہوتا ہے اور اسی میں شب و روز لگے رہنا اس کی زندگی کا معمول بن جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے استدراج یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں پکڑنے کی بجائے ڈھیل دیتے چلے جاتے ہیں وہ رشوت لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے رشوت کے اسباب اور پیدا فرما دیتے ہیں وہ ظلم کرتے ہیں تو اللہ ان کی رسی کھلی چھوڑ دیتا ہے ان کے عہدہ و منصب میں اور ترقی دے دیتا ہے وہ اپنی اس حالت میں ایسے سر شار اور گم ہوجاتے ہیں کہ کوئی نصیحت کی بات ان پر اثر نہیں کرتی ان کی اس حالت کا برقرار رہنا بلکہ روز افزوں ترقی ہونا یہ وہ استدراج ہے جس کے پھندے میں پھنس کر شائد ہی کوئی بدقسمت نکل سکا ہو۔ چناچہ اسی کو محسوس کرتے ہوئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلف صالحین جب یہ دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ انھیں دنیا کی نعمتیں فراوانی سے عطا فرما رہا ہے تو وہ اللہ سے پناہ طلب کرنے لگتے اور اپنی حالت کا مسلسل جائزہ لینے لگتے کہ دولت کی یہ فراوانی اللہ کی جانب سے کہیں استدراج نہ ہو۔ اے کاش ! امت مسلمہ کے سربرآوردہ لوگ اور طبقہ امراء کے افراد کبھی اس طرف توجہ دینے کی زحمت کریں تو شائد ہماری قومی زندگی میں کچھ بہتری کے آثار پیدا ہوجائیں۔
Ayah 7:184

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

کیا انھوں نے اس بات پر غور نہیں کیا ؟ کہ ان کے ساتھی کو کوئی جنون نہیں ہے۔ وہ تو بس ایک کھلا ہوا ہوشیار کرنے والا ہے۔

اگلی آیت کریمہ میں قریش نے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو بےاثر کرنے کے لیے ایک اشغلاء چھوڑا تھا اس کا جواب دیا جا رہا ہے۔ اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْاسکتۃ مَا بِصَاحِبِہِمْ مِّنْ جِنَّۃٍط اِنْ ھُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ۔ (الاعراف : 184) ” کیا انھوں نے اس بات پر غور نہیں کیا ؟ کہ ان کے ساتھی کو کوئی جنون نہیں ہے۔ وہ تو بس ایک کھلا ہوا ہوشیار کرنے والا ہے “۔ نبی کریم ﷺ نے جب اہل مکہ کے سامنے اللہ کے دین کی دعوت پیش کی تو شروع شروع میں تو قریش مکہ نے اسے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا لیکن رفتہ رفتہ جب اس دعوت نے نفوذ اختیار کرنا شروع کیا اور لوگ آہستہ آہستہ اس سے متاثر ہونے لگے اور ہر گھرانے اور خاندان میں یہ دعوت اپنے حامی پیدا کرنے لگی تو اب ان کو فکر ہوئی لیکن ان کے لیے مشکل یہ تھی کہ اس دعوت کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا وہ اگرچہ نہایت بہترین عربی زبان جانتے تھے اور ان میں بڑے بڑے ادیب اور شاعر بھی پائے جاتے تھے اور ان کی فصاحت و بلاغت میں بھی کوئی شبہ نہ تھا لیکن قرآن کریم کے سامنے ان کی زبانیں گنگ ہو کر رہ گئی تھیں۔ آنحضرت ﷺ کی دل آویز شخصیت آپ کا بےعیب کردار آپ کی خاندانی وجاہت آپ کا زور بیان آپ کا دلوں میں اتر جانے والا اخلاق بجائے خود اپنے اندر بےپناہ دعوتی اثر رکھتا تھا اور پھر اس کے ساتھ ساتھ جب آپ قرآن پاک کی تلاوت کرتے تو چھوٹے بڑے اپنا دل تھام کر رہ جاتے قریش کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ ہم آخر اس دعوت کا راستہ کیسے روکیں آخر انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جہاں بھی قرآن پڑھا جائے اس کے قریب شور مچائو تاکہ لوگ قرآن کو سن نہ سکیں اور جہاں حضور ﷺ دعوت پیش کریں اس کا تمسخر اڑائو تاکہ لوگ اسے سنجیدگی سے لینے کے بجائے محض ایک مذاق سمجھیں لیکن جب اس کے باوجود بھی دعوت کے اثرات رکنے کی بجائے مزید آگے بڑھنے لگے تو اب انھوں نے بہت سوچ بچار کے بعد آنحضرت ﷺ کی ذات کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ آپ ﷺ کو ساحر یعنی جادو گر کہا گیا لیکن جب یہ بات نہ چل سکی تو پھر آپ ﷺ کو مجنون اور دیوانہ کہا جانے لگا۔ قرآن کریم نے ان کے اس الزام اور ان کی اس حرکت کا نہایت سنجیدگی اور دلیل کے ساتھ جواب دیا ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ میں اس جواب کو واضح کروں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ آنحضرت ﷺ کو کس بنیاد پر مجنون اور پاگل قرار دیتے تھے یا یہ کہتے تھے کہ آپ ﷺ میں جنون کے آثار پائے جاتے ہیں اور کبھی کبھی آپ سے اس کا اظہار بھی ہونے لگتا ہے۔ اس حوالے سے قرآن کریم نے دو باتوں کی طرف راہنمائی کی ہے پہلی بات یہ کہ قریش دیکھ رہے تھے کہ آنحضرت ﷺ ان کے سامنے جو دعوت پیش کر رہے ہیں وہ کسی طرح بھی اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں حضور جیسے جیسے دعوت میں تیزی پیدا کرتے جا رہے ہیں ویسے ویسے قریش کی جانب سے مخالفت میں شدت پیدا ہوتی جار ہی ہے اس کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ حضور یا تو مایوس ہو کر دعوت بند کردیتے اور یا دعوت کی تیزی میں کمی کردیتے لیکن آپ نے اس کے بالکل برعکس دعوتی کوششوں میں اضافہ فرما دیا اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہ اب آپ صرف دعوت ہی پیش نہیں فرماتے تھے بلکہ یہ وارننگ بھی دیتے تھے کہ اگر تم نے میری دعوت کو قبول نہ کیا تو یاد رکھو تمہارا انجام وہی ہوگا جو اس سے پہلے قوم عاد وثمود کا ہوچکا ہے تم دنیا میں ہی اللہ کے عذاب کی گرفت میں آجاؤ گے اور اگر پروردگار نے تمہیں مزید ڈھیل دے بھی دی تو قیامت کے عذاب سے تم کسی طرح نہیں بچ سکتے۔ آپ کا تمام مخالفتوں اور اذیتوں کے باوجود نہایت ہمدردی ‘ غم گساری اور جان کا ہی کے ساتھ ایک ایک شخص تک دعوت پہنچانا اور اس کے اذیت ناک رویے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خون جگر پی پی کر راہ راست پہ لانے کی کوشش کرنا یہ ایک ایسا طرز عمل تھا جو ایک طرف اگر قریش کے لیے ناقابلِ فہم تھا تو دوسری طرف عام افراد کے لیے اثر انگیز تھا ایک خالی الذہن آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا تھا کہ یہ ہمارے شہر کا ایک عالی نسب شخص جسے ہم سے کوئی غرض نہیں وہ ہم سے کسی معاوضہ کا طالب نہیں وہ محض ہماری بھلائی کے لیے جس طرح دکھ اٹھا اٹھا کر اور ٹوٹ ٹوٹ کر ہماری ہدایت کے لیے کوششیں کر رہا ہے آخر اس میں کوئی تو صداقت ہوگی۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ لوگ آنحضرت ﷺ کے اس رویہ کے باعث پہلے سوچنے پر مجبور ہوتے اور پھر ایمان کی طرف بڑھنے لگتے۔ قریش کو اس صورت حال نے پریشان کردیا کہ آخر لوگوں کو اس دعوت کے اثر سے کیسے بچایا جائے انھوں نے لوگوں کو سمجھایا کہ دیکھو تم محمد ﷺ کی دل آویز شخصیت اور اس کے خیر خواہانہ رویے پر نہ جاؤ بلکہ یہ دیکھو کہ وہ جس طرح بار بار تمہیں عذاب سے ڈرا رہا ہے اور کبھی آنے والی قیامت کی خبریں دیتا ہے اور پھر تم ہزار انکار کرو وہ کبھی اپنی بات کہنے سے نہیں رکتا۔ کسی عقلمند آدمی کا یہ رویہ تو نہیں ہوتا معلوم ہوتا ہے کہ اسے اس بات کا فوبیا ہوگیا ہے اور اس کے دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی ہے اور اس نے ایک جنون کی شکل اختیار کرلی ہے وہ اپنی ذات میں چاہے کتنا ہی عظیم سہی لیکن بڑے بڑے لوگ بھی بعض دفعہ اختلالِ دماغ یا وہم کا شکار ہوجایا کرتے ہیں چناچہ یہ بھی ایسے ہی کسی عارضہ میں مبتلا ہے جو باتیں وہ محض اپنے جنون کی وجہ سے کہہ رہا ہے تم اسے چنداں اہمیت نہ دو اور مجنون سمجھ کر اس کی بات کو ٹال دو اس طرح قریش نے وقتی طور پر آنحضرت ﷺ کی دعوت کو بےاثر کرنے کی کوشش کی۔ قرآن کریم نے دو باتیں اس سلسلے میں ارشاد فرمائی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ تم جس شخص کے بارے میں جنون کا الزام لگا رہے ہو وہ کوئی اجنبی آدمی تو نہیں کسی دوسرے ملک یا کسی دوسرے شہر سے تو نہیں آیا وہ کسی دور کے خاندان سے تعلق بھی نہیں رکھتا تمہارے اپنے شہر کا رہنے والا ہے ‘ تمہارے ہی قبیلے قریش کا ایک معزز فرد ہے ‘ تمہارے سامنے اس کا بچپن ‘ اس کا لڑکپن ‘ اس کا بےداغ شباب گزرا تم ہمیشہ اس کے بےداغ کردار ‘ اس کی اصابت رائے ‘ اس کی سلامت روی ‘ اس کی صداقت شعاری ‘ اس کی بےغرضی ‘ اس کی پاک بازی اور اس کی دانش و بینش کی پختگی کے ہمیشہ گواہ رہے ہو وہ جوان تھا تو تمہارے بڑے بوڑھے اپنے جوان بیٹوں کو اس کا حوالہ دے دے کر سمجھایا کرتے تھے ‘ بنی ہاشم اس کی ذات اور اس کے طور اطوار پر فخر کیا کرتے تھے وہ عملی زندگی میں داخل ہوا اور تجارتی اسفار کیے تو اس کی تجارت کی دھوم مچ گئی اور اسی شہرت کی وجہ سے حضرت خدیجہ ( رض) نے اپنا مال تجارت لے جانے کے لیے ان سے درخواست کی۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ تعمیر کعبہ کے وقت تم میں اس بات پر اختلاف پیدا ہوا کہ حجر اسود کو کون اٹھا کر اس کی جگہ پر نصب کرے ؟ یہ چونکہ ایک یاد گار بن جانے والا عمل تھا اور اس کے سبب سے ایک افتخار اور اعزاز ملنے والا تھا تو اس لیے ہر قبیلہ کے سردار کی خواہش تھی کہ یہ عزت میرے حصے میں آئے چناچہ جب سب نے اسے حاصل کرنے پر اصرار کیا تو نوبت خون ریزی تک پہنچ گئی قریب تھا کہ تلواریں بےنیام ہوجاتیں کہ کسی نے مشورہ دیا کہ تم یہ معاملہ اللہ پر چھوڑو اور اس بات پر راضی ہوجاؤ کہ صبح سب سے پہلے جو شخص حرم میں داخل ہو اسے منصف بنا لیا جائے اور اس کے فیصلے کو قبول کرلیا جائے۔ چناچہ صبح کے وقت اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ رسول ﷺ سب سے پہلے حرم میں داخل ہوئے آپ کو دیکھ کر تمام سردرانِ قریش خوشی سے چیخ اٹھے کہ الامین آگیا اور الصادق آگیا ہم اس کے فیصلے پر راضی ہیں چناچہ آپ نے نہایت تدبر کا ثبوت دیتے ہوئے ایک ایسا فیصلہ کیا جس سے تمام سردارانِ قریش کو برابر کی عزت ملی اور ایک بڑا خطرہ جو بہت بڑا فتنہ بن سکتا تھا ٹل گیا۔ آپ نے اپنی چادر زمین پر بچھائی اس پر حجر اسود رکھا فرمایا کہ تمام سردار چادر کے پلو پکڑ کر اوپر اٹھائیں جب حجر اسود اتنا بلند ہوگیا کہ اسے اٹھا کر اپنی جگہ پر نصب کیا جاسکتا تھا تو آپ نے خود اٹھا کر اسے نصب فرمادیا۔ کہنا یہ ہے کہ جس ذات عزیز کے بارے میں نبوت سے پہلے تمہارے یہ تصورات تھے کہ تم اس کے سیرت و کردار اور اس کی اصابتِ فکر کے بارے میں دو رائے نہیں رکھتے تھے بلکہ پورا مکہ بیک زبان اس کی عقل و دانش کا معترف اور اس کے بےداغ سیرت و کردار کا گواہ تھا آج آخر ایسی بات کیا ہوگئی ہے کہ تم نے اس کو مجنون قرار دینا شروع کردیا ہے۔ تمہارا یہ رویہ خود اس بات کا گواہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے دماغ میں تو کوئی جنون نہیں البتہ تمہاری نیت میں فتور ضرور ہے۔ رہی یہ بات کہ تمہاری ساری مخالفتوں اور اذیتوں کے باوجود حضور ﷺ اپنی دعوتی کاوشوں میں کمی کرنے کی بجائے روز بروز اضافہ فرماتے جارہے ہیں تم ان سے بد سلوکی کرتے، گالیاں بکتے اور مذاق اڑاتے ہو اور ہر ممکن طریق سے ان کی دعوت کو بےاثر کرنے کی کوشش کرتے ہو لیکن ان کے اندر کوئی منفی رویہ پیدا نہیں ہوتا جس طرح ایک ماں اپنے بگڑے ہوئے بچہ کی بد تمیزیاں دیکھ کر ناراض ہونے کی بجائے آنکھوں میں آنسو بھر کر پھر اسے پکار کے اور سمجھانے کی کوشش کرتی ہے۔ اسی طرح حضور ﷺ بھی ان کی ساری بد تمیزیوں کے باوجود اپنی اصلاحی کوششوں کو کسی طرح بھی روکنے کو تیار نہیں ہوتے تھے تو اس کا سبب کوئی جنون نہیں بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نذیر مبین بنا کر بھیجا ہے۔ عربوں کا طریقہ یہ تھا کہ جب وہ کسی طرف سے خطرہ محسوس کرتے تھے کہ شائد رات کی تاریکی یا ہماری غفلت میں فلاں قبیلہ ہم پر حملہ کر دے تو اس قبیلے سے آگاہ رہنے کے لیے کسی شخص کو مقرر کردیا جاتا تھا تاکہ وہ کسی بلند جگہ سے اس قبیلہ کی نگرانی کرے اور جب بھی اسے خطرہ کا احساس ہو وہ اپنی قوم اور اپنے قبیلے کو فوراً آگاہ کرے۔ چناچہ جب اسے خطرہ کا یقین ہوجاتا اور وہ دیکھتا کہ فلاں قبیلہ ہم پر حملہ آور ہونے والا ہے تو وہ کپڑے پھاڑ کر چیختا ہوا اپنی قوم کی طرف بھاگتا اور انھیں آنے والے خطرے سے آگاہ کردیتا قوم چونکہ اس سے بیخبر ہوتی لیکن یہ خبر دار کرنے والا چونکہ اس خطرہ کو دیکھ چکا ہوتا اس لیے اپنی ساری صلاحیتیں اپنی قوم کو بچانے کے جذبے سے بروئے کار لاتا ‘ چیختا چلاتا جو بھی اس سے ہوسکتا وہ قوم کو اس خطرے سے بچانے اور خبردار کرنے کے لیے کر گزرتا ایسے شخص کو عرب نذیر عریان یعنی برہنہ خبردار کرنے والا کہتے تھے۔ قرآن کریم نے ان کے اسی تصور کے حوالے سے انھیں بتلایا ہے کہ ہمارے پیغمبر کی تمہارے لیے بےچینی اور بےکلی صرف اس لیے ہے کہ وہ نذیر مبین یعنی کھلا کھلا ڈرانے والا اور خبردار کرنے والا ہے۔ وہ جن خطرات سے تمہیں آگاہ کر رہا ہے جس عذاب سے تمہیں ڈرا رہا ہے جس آنے والی قیامت سے تمہیں ہوشیار کر رہا ہے یہ اس کے لیے دیکھی بھالی حقیقتیں ہیں وہ ان خطرات کا پوری طرح یقین رکھتا ہے اور یہ جانتا ہے کہ اگر تم نے غفلت نہ چھوڑی اور ان خطرات سے بچنے کی کوشش نہ کی تو آخر تم تباہ ہوجاؤ گے ہونا تو یہ چاہیے کہ تم اس کے اس خیر خواہانہ جذبے اور اس کے ہمدرادانہ رویے کی قدر کرو اور اس کی دعوت کو قبول کر کے اپنی زندگی بنا لو لیکن تم نے اس کی بجائے اسے مجنون کہنا شروع کردیا ہے ہر پیغمبر اللہ کی جانب سے جب مبعوث ہوتا ہے تو وہ اللہ کی جانب سے ان صفات کا حامل ہو کر آتا ہے اور آنحضرت ﷺ تو تمام صفات ِ نبوت کے جامع تھے اور آپ نے جب عام دعوت کا آغاز کیا ہے تو اس کے لیے جو طریقہ اختیار فرمایا ہے اس میں اسی حقیقت کا اظہار کیا گیا تھا آپ نے کوہ صفا کی بلندی پر چڑھ کر تمام قبائل کو پکارا لوگ جب پہاڑ کے دامن میں جمع ہوگئے تو آپ نے سب سے پہلے ان سے یہی بات پوچھی کہ اے آل غالب تمہاری میرے بارے میں کیا رائے ہے ؟ تم مجھے ایک سچا آدمی سمجھتے ہو یا جھوٹا ؟ جب سب نے آپ کی سچائی کا اقرار کیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم واقعی مجھے ایک سچا آدمی سمجھتے ہو تو میں تمہیں اگر یہ کہوں کہ فوجِ گراں پشت کوہ صفا پر پڑی ہے کہ لوٹے تمہیں گھات پا کر تو بتائو تمہارا کیا جواب ہوگا ؟ کہا تیری ہر بات کا یاں یقیں ہے کہ بچپن سے صادق ہے تو اور ا میں ہے کہا گر مری بات یہ دل نشیں ہے تو سن لو خلاف اس میں ہرگز نہیں ہے کہ سب قافلہ ہے یاں سے ہے جانے والا ڈرو اس سے جو وقت ہے آنے والا اس میں آپ غور کیجیے کہ آنحضرت ﷺ ایک بلند جگہ پر کھڑے ہیں اور تمام لوگ پستی میں بیٹھے ہیں اس سے یہ بتانا مقصود تھا کہ میں نبوت کے بلند مقام سے بول رہا ہوں جس سے میں سامنے بھی دیکھ رہا ہوں اور پیچھے بھی۔ تم اس پہاڑ کے پیچھے کچھ نہیں دیکھ سکتے میں تمہیں دیکھ کر بتاسکتا ہوں کہ کوئی حملہ آور ہے کہ نہیں۔ چناچہ زندگی کے اس پہاڑ کے پیچھے دیکھ کر میں تمہیں بتارہا ہوں کہ یہ قافلہ یہاں سے ایک نہ ایک دن چلا جائے گا یعنی سب کو ایک نہ ایک دن موت کا شکار ہونا ہے اور اس کے بعد اللہ کے روبرو حاضری ہوگی۔ حاصل کلام یہ کہ آنحضرت ﷺ چونکہ اللہ کے نبی اور رسول ہیں۔ آپ اللہ کی جانب سے جس عظیم منصب پر فائز ہوئے ہیں اس کی خصوصیت یہ ہے کہ نبی جو بات کہتا ہے وہ پورے یقین سے اور دیکھ کر کہتا ہے اس لیے جب لوگ اس کی بات کو قبول نہیں کرتے تو اس کی بےچینی اور بےکلی میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے وہ دیکھ رہا ہوتا ہے خطرہ ان کے سر پر کھڑا ہے اور اگر انھوں نے اس کی فکر نہ کی تو یہ خطرے کا شکار ہوجائیں گے وہ جیسے جیسے انکار کرتے ہیں یہ ویسے ویسے خطرے کو محسوس کر کے بےچین ہوتا جاتا ہے۔ قریش مکہ سے یہ کہا جارہا ہے کہ حضور ﷺ کی یہ بےچینیاں اس لیے نہیں ہیں کہ آپ پر جنون کا اثر ہے بلکہ اس لیے ہیں کہ آپ کو اللہ نے نذیر مبین بنا کر بھیجا ہے۔ دوسری بات جس سے قریش مکہ کی مخالفت اور آپ کو مجنون کہنے کی حقیقت واضح ہوتی ہے اس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے۔
Ayah 7:185

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

کیا انھوں نے آسمانوں اور زمین کے نظام اور ان چیزوں پر غور نہیں کیا جو خدا نے پیدا کی ہیں۔ اور اس بات پر کہ کیا عجب کہ ان کی اجل قریب آگئی ہو تو اس کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

ارشاد ہوتا ہے۔ اَوَلَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَکُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنْ شَیْئٍلا وَّاَنْ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُہُمْج فَبِاٰیِّ حَدِیْثٍٍ ٍمبَعْدَہٗ یُؤْمِنُوْنَ ۔ ” کیا انھوں نے آسمانوں اور زمین کے نظام اور ان چیزوں پر غور نہیں کیا جو خدا نے پیدا کی ہیں۔ اور اس بات پر کہ کیا عجب کہ ان کی اجل قریب آگئی ہو تو اس کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے “۔ ایک دوسرے پہلو سے جنون کی تردید گزشتہ آیت سے یہ بات ہمیں معلوم ہوگئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نبوت سے پہلے اہل مکہ کی ایک ہر دلعزیز شخصیت تھے آپ کی دانش و بینش ‘ آپ کی اصابت رائے اور معاملہ فہمی پر سب کو بھروسہ تھا اور آپ کی شخصیت کا ہر پہلو دوسروں کے لیے نمونہ کی حیثیت رکھتا تھا اور کبھی کسی نے چالیس سالہ زندگی میں اس بات کا تصور بھی نہیں کیا تھا کہ آپ کو کوئی جنون بھی لاحق ہے لیکن نبوت کے بعد جیسے جیسے دعوت آگے بڑھتی گئی ویسے ویسے مشرکینِ مکہ کی جانب سے نئے نئے اتہامات تصنیف ہونے لگے انھیں میں سے ایک تہمت یہ بھی تھی کہ آپ پر جنون کا اثر ہوگیا ہے اور آپ جنون کے تحت الٹی سیدھی باتیں کرتے تھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بنی کریم ﷺ جس بات کی انھیں دعوت دے رہے تھے اور جو حقائق ان کے سامنے منکشف فرما رہے تھے اور جس انجام سے انھیں خبر دار کر رہے تھے وہ ان کے لیے انہونی اور ناقابلِ فہم باتیں تھیں۔ بجائے اس کے کہ وہ انھیں سمجھنے کی کوشش کرتے انھوں نے آنحضرت ﷺ پر جنون کا الزام لگا کر اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی بھی کوشش کی اور لوگوں کو بھی آپ کی دعوت کے اثر سے بچانا چاہا۔ قرآن کریم اس آیت کریم میں توجہ دلا رہا ہے کہ کیا یہ لوگ زمین و آسمان کے ملکوت اور اللہ کی مخلوقات میں غور نہیں کرتے اگر انھوں نے غور کیا ہوتا تو آنحضرت کی دعوت کو کبھی جنون کا نتیجہ قرار نہ دیتے کیونکہ آپ کی دعوت کی ایک ایک بات اور آپ کی تعلیمات کا ایک ایک پہلو ایسا ہے جس پر کائنات کا گوشہ گوشہ گواہ ہے اور ہر چھوٹی بڑی مخلوق اس کی منہ بولتی شہادت ہے۔ اس آیت کریمہ میں ملکوت کا لفظ استعمال ہوا ہے اس لفظ کے دو معنی کیے جاتے ہیں ایک تو یہ کہ یہ ملک کے معنی میں مبالغہ کا صیغہ ہے اس کا معنی ہے ملک عظیم۔ اور دوسرا معنی ہے زمین و آسمان کا نظام اور اس کا بندوبست، دونوں حوالوں سے توجہ دلائی جا رہی ہے کہ کائنات کی وسعتوں کو دیکھو اور پھر اس بات پر غور کرو کہ یہ ساری کائنات اللہ کا ملک اس کی سلطنت اور اس کی زیر انتظام ہے۔ آسمان میں بیشمار کرئے ہیں جو اللہ کے حکم کے تحت مصروفِ حرکت ہیں زمین و آسمان میں بیشمار مخلوقات ہیں جن میں سے بعض کو ہم جانتے ہیں اور بیشتر کو نہیں جانتے پھر اس پوری کائنات میں حکمت کا ایک خزانہ ہے جو غور و فکر کرنے والوں کے لیے اپنی آغوش کھولتا ہے اس میں بیشمار قوتیں کار فرما ہیں جو اپنی اپنی ڈیوٹی انجام دینے میں ہر طرح کی کوتاہی سے مبرا ہیں ایک ایک مخلوق ایک ایک کرہ ایک ایک سیارہ ایک ایک پودا ایک ایک عنصر اپنی اپنی جگہ مصروفِ عمل ہے اور مجال نہیں کہ کوئی اپنے عمل میں سرتابی کرے سورج نے آج تک چمکنے سے انکار نہیں کیا، چاند نے دمکنے میں کبھی کوتاہی نہیں کی، ستارے جھلملانے سے کبھی نہیں رکے، چشموں نے ابلنے سے، آبشاروں نے گرنے سے، دریائوں نے بہنے سے، زمین نے قوت روئیدگی کو بروئے کار لانے سے، پانی نے پیاس بجھانے سے، خوراک نے بھوک مٹانے سے، آگ نے جلانے سے اور برف نے ٹھنڈک پہنچانے سے کبھی دریغ نہیں کیا، پھر ان میں بیشمار مخلوقات ایسی ہیں جو اپنے خواص و افعال میں ایک دوسرے کے متخالف اور متضاد ہیں۔ بایں ہمہ ! وہ اپنے مفوضہ فرائض انجام دینے میں باہم دگر موافق اور معاون ہیں۔ کائنات کی اس پوری صورتحال کو اگر سامنے رکھا جائے تو چند باتیں ہیں جو نمایاں دکھائی دیتی ہیں صاف نظر آتا ہے کہ اس کائنات کا جس طرح ایک خالق ہے اسی طرح وہ اس کائنات کا مالک و حاکم بھی ہے کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی ملکیت اور حاکمیت کے تحت زندگی بسر کر رہا اور اپنے فرائض انجام دینے کا پابند ہے اور دوسری یہ بات کہ اس حاکم مطلق نے ان میں سے ہر مخلوق کے مقاصدِ زندگی متعین کر دئیے ہیں اور انھیں اس بات کا حکم دے دیا گیا ہے کہ تم جب تک زندہ ہو تمہارا کام یہ ہے کہ اپنی زندگی اور وجود کے مقاصد کو اللہ کے قانون کے مطابق انجام دیتے رہو اور تیسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس پوری کائنات کی زندگی کا دارومدار اسی اطاعت اور بندگی پر ہے جب تک وہ اللہ کے قانون کے فرماں بردار ہیں اس وقت تک ان کی زندگی کو کوئی خطرہ نہیں لیکن اگر ان میں سے ایک کرہ بھی اپنے محور سے باہر نکل جائے یا اپنی رفتار کو بدل لے یا اپنی سمت سفر تبدیل کرلے تو ایک ہمہ گیر تباہی ان کا مقدر بن کر رہ جائے گی تو اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ تم اس کائنات میں غور کرو اس کی ایک ایک مخلوق کو دیکھو کیا یہ ساری باتیں تمہیں اسے دیکھ کر خود بخود سمجھ نہیں آرہیں اور اگر یہ باتیں واقعی کائنات کے ایک ایک ذرے سے نمایاں ہیں تو پھر پیغمبر تمہیں ایسی کونسی بات کہتا ہے جسے تم جنون کی علامت سمجھتے ہو وہ تمہیں یہی بات تو سمجھانا چاہتا ہے کہ اگر کائنات کی ایک ایک مخلوق اللہ کی ملکیت اور اس کی اطاعت کی پابند ہے تو تم تو کائنات کے گل سر سبد ہو، یہ کیسے ممکن ہے کہ تم اللہ کی ملکیت سے نکل جاؤ اور اسکی اطاعت سے انحراف کا رویہ اختیار کرلو جب کہ پوری کائنات اس کی بندگی میں جکڑی ہوئی ہے اور پھر یہ بات بھی کہ جب کائنات کی ایک ایک چیز کا مقصد زندگی متعین کیا جا چکا اور وہ اپنے اپنے مقصد کو بروئے کار لانے میں لگے ہوئے ہیں اور اسی میں ان کی زندگی کا راز مضمر ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ تمہاری زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو اور تم اگر اس مقصد کا انجام دینے سے انکار کردو اور تمہیں اس سے خبردار کیا جائے کہ اس کے نتیجے میں تم پر عذاب بھی آسکتا ہے تو تم اس کو جنون کا نتیجہ سمجھو ذرا اندازہ کرو کہ اس میں جنون کی کیا بات ہے کائنات کی ایک ایک چیز نے تو فطری الہام سے اپنے مقصد کو پا لیا لیکن تم پر اللہ کا یہ خاص احسان ہے کہ اس نے تمہیں مقصد زندگی سمجھانے کے لیے اپنے رسول بھیجے اور کتابیں اتاریں اب بجائے اس کے کہ تم شکر گزاری کا ثبوت دیتے رہو آگے بڑھ کر اللہ اور رسول پر ایمان لائو تم بجائے اپنے جنون کے علاج کے اسے جنون کا مریض قرار دے رہے ہو۔ تمہارے پاس سواری کے جانور ہیں، دودھ دینے والے جانور ہیں، باربرداری کے جانور ہیں، انھیں فطرت اور جبلت کے ذریعے یہ بات بتادی گئی ہے کہ انسان تمہارا حاکم ہے اس کی خدمت انجام دینا تمہاری زندگی کا مقصد ہے انھوں نے جبلت کی راہنمائی قبول کرتے ہوئے اپنے مالک اور حاکم کے سامنے اطاعت کی گردن جھکا دی اور زندگی اسی مقصد کو انجام دیتے ہوئے گزار دی اور تم رات دن ان سے یہی خدمت لے بھی رہے ہو لیکن تمہیں کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ ان جانوروں نے تو اپنے مالک اور حاکم کو پا لیا اور اپنے مقصد زندگی کو انجام دینے میں جت گئے لیکن ہمارا بھی کوئی حاکم اور مالک ہوگا اور ہماری زندگی کا بھی کوئی مقصد ہوگا کیا ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں ہونی چاہیے یہی بات پیغمبر بار بار تمہیں سمجھا رہا ہے لیکن تم یہ بات سمجھنے کی بجائے اسے دیوانہ قرار دیتے ہو۔ مزید فرمایا کہ تم کائنات کی ایک ایک مخلوق پر غور کرو تم دیکھو گے کہ ہر چیز کی ایک ابتداء بھی ہے اور انتہاء بھی اور قدرت نے ہر مخلوق کی ایک اجل یعنی وقت مقرر طے کر رکھا ہے جب اس کی زندگی کا سفر ختم ہوجاتا ہے بالکل اسی قانون کے تحت انسانون کی بھی ایک اجل ہے جس پر وہ موت کا شکار ہوتے ہیں اسی بنیاد پر پیغمبر یہ بات سمجھاتے ہیں کہ جس طرح ہر مخلوق اور خود انسان کی ایک اجل ہے کہ ایک ایک شخص اپنے وقت پر دنیا سے جا رہا ہے۔ یاد رکھو ! اسی طرح اس پوری کائنات کی بھی ایک اجل ہے اور اس کے سفر کی ایک انتہاء ہے جب وہ اجل اور انتہاء آجائے گی تو پھر پوری کائنات تباہی کا شکار ہوجائے گی اسی کو قیامت کہتے ہیں۔ لیکن یہ تباہی کائنات کی اصل انتہاء نہیں بلکہ اس کے بعد پھر ان مخلوقات کو زندہ کیا جائے گا جنھیں اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی ہے جن میں سب سے پیش پیش یہ حضرت انسان ہے یہ باتیں اس قدر واضح ہیں کہ معمولی غور و فکر سے انسانی عقل اگر سمجھنا چاہے تو سمجھ سکتی ہے اور یہی وہ باتیں ہیں پیغمبر جن کی تبلیغ اور تفہیم کرتا ہے۔ چناچہ ان حقائق کی طرف توجہ دلانے کے بعد ارشاد فرمایا اے مشرکینِ مکہ ! تمہیں اس بات کی فکر ہونی چاہیے کہ ممکن ہے تمہاری اجل بھی قریب آگئی ہو یہ اجل انفرادی بھی ہے اور اجتماعی بھی۔ انفرادی اس طرح کہ ایک ایک فرد اپنے اپنے وقت پر موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے تو اے اہل مکہ تم میں سے بھی ہر فرد موت کے نشانے پر ہے کوئی پتہ نہیں کب کس کی باری آجائے اس لیے بجائے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو ناکام کرنے کے اپنے انجام کی فکر کرو تم میں سے جس کا وقت آگیا اس کی مہلت عمل تو ختم ہوگئی یہ موت سے بےفکری ہی تمام گمراہیوں کی جڑ ہے اگر تم میں ہر شخص کو اس کا احساس ہونے لگے کہ میں موت کی طرف بڑھ رہا ہوں نہ جانے کب بلا وا آجائے تو وہ ان خرمستیوں سے ضرور رک جائے جس میں تم مبتلا ہو اور ضرور سنجیدگی سے اللہ کے نبی کے دعوت پر غور کرنے لگے۔ اجتماعی اجل یہ ہے کہ اگر تم اپنے رویے سے باز نہیں آتے ہو اور آنحضرت ﷺ کی دعوت پر کسی طرح بھی توجہ دینے کے لیے تیار نہیں ہو تو پھر سوچ لو کہ تمہارا انجام بھی کہیں وہ نہ ہو جو قوم عاد اور قوم ثمود کا ہوچکا ہے۔ انھیں بھی بار بار سمجھایا گیا کہ جب کوئی رسول کسی قوم کی طرف دعوت لے کر آتا ہے تو اس قوم کی زندگی کا دارومدار اس دعوت کے قبول یا عدم قبول پر ہوتا ہے اگر وہ قبول کرلیتی ہے تو سرافراز ہوتی ہے اور قبولیت میں تاخیر کرتی ہے تو اسے مہلت دی جاتی ہے لیکن جب مکمل طور پر رد کردیتی ہے تو پھر اس کی وہ اجل آپہنچتی ہے جس پر وہ اللہ کے عذاب کا شکار ہوجاتی ہے یہاں بھی یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اے اہل مکہ ممکن ہے کہ وہ تمہاری اجتماعی اجل قریب آچکی ہو اور تمہارا آخری فیصلہ ہونے والا ہو اور تمہاری مہلت عمل اپنے انجام کو پہنچنے والی ہو۔ اگر واقعی ایسا ہوگیا تو پھر بتائو اس کے بعد کیا ہوگا ؟ عذاب کے آجانے کے بعد تو کسی کو ایمان لانے کی مہلت نہیں ملتی وہ ایمان کا اظہار بھی کرے تو قبول نہیں کیا جاتا تم اگر اسی اجل کے انتظار میں ہو تو اس کے آجانے کے بعد تو سارا معاملہ ختم ہو کر رہ جائے گا اس لیے اس سے پہلے پہلے موقع ہے کہ اپنے آپ کو بچا لو اور اللہ کے انعامات کے مستحق بن جاؤ۔
Ayah 7:186

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جن کو اللہ گمراہ کر دے ان کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ وہ ان کو ان کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے۔

اگلی آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے لیے تسلی بھی ہے اور مشرکین مکہ کے لیے آخری وارننگ بھی۔ ارشاد فرمایا : مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلاَ ھَادِیِ لَہٗط وَیَذَرُھُمْ فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ ۔ (الاعراف : 186) ” جن کو اللہ گمراہ کر دے ان کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ وہ ان کو ان کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے “۔ آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی اور مشرکین کو وارننگ آنحضرت ﷺ کی مسلسل اور بےپناہ تبلیغی کاوشوں کے باوجود بھی جب مشرکین مکہ ایمان نہیں لاتے تھے تو آپ پر سخت انقباض کی کیفیت طاری ہوتی آپ نہایت مضمحل اور پریشان ہوجاتے اور کبھی کبھی آپ کو یہ فکر مندی ہوتی کہ شائد میری اور میرے ساتھیوں کی تبلیغی مساعی میں کوئی کمزوری ہے جس کی وجہ سے لوگ ایمان قبول نہیں کر رہے اس احساس کے ساتھ آپ کی پریشانیوں میں اور اضافہ ہوجاتا یہاں آپ کو اور مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ لوگ اگر ایمان نہیں لا رہے تو اس میں کسی کوتاہی کا دخل نہیں آپ نے اپنا فرض ہمت سے بڑھ کر ادا کیا ہے لیکن ہدایت و ضلالت کا سر رشتہ اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے وہ نہ چاہے اسے کوئی دوسرا ہدایت نہیں دے سکتا اور مزید یہ بات بھی کہ اللہ کسی کو نہ بےسبب ہدایت دیتا ہے اور نہ بےسبب گمراہ کرتا ہے اس نے ایک قانون نافذ کر رکھا ہے کہ جو آدمی اپنے فہم و شعور کو استعمال کر کے ہدایت اختیار کرنے کے لیے بڑھے گا میں اس کے لیے اسباب مہیا کر دوں گا وہ جیسے جیسے آگے بڑھتا جائے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانیاں فراہم کرتا جائے گا اسی طرح جو آدمی گمراہی کا راستہ اختیار کرلیتا ہے اور اللہ کی عطا کردہ فہم و شعور کی قوتوں کو بروئے کار لا کر ہدایت قبول کرنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اس کا سفر الٹی سمت میں جاری رہتا ہے تو وہ اللہ کے اس قانون کے تحت ہدایت سے محروم کردیا جاتا ہے وہ جیسے جیسے ہدایت سے دور ہٹتا جاتا ہے پروردگار اس کے لیے اور دوریاں پیدا فرماتے جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ زبردستی کسی کو نہ ہدایت دیتے ہیں نہ گمراہ کرتے ہیں۔ آدمی اپنی آزادی اور سوچ سمجھ کے ساتھ جو راستہ اختیار کرتا ہے قدرت اسی راستے کے لیے اس کی مدد کرتی ہے چناچہ یہاں یہی فرمایا جا رہا ہے کہ انھوں نے اگر سرکشی اور روگردانی کو اپنا رویہ بنا لیا ہے تو آپ پریشان نہ ہوں یہ اللہ کے قانون کی گرفت میں آچکے ہیں اس لیے اب ہدایت انھیں نصیب نہیں ہوسکتی اور جسے اللہ ہدایت نہ دے اسے دنیا میں اور کوئی شخص ہدایت نہیں دے سکتا اور ایک طرح سے مشرکینِ مکہ کو وارننگ بھی دی جا رہی ہے کہ ہم نے تمہیں اگرچہ مہلت دے رکھی ہے لیکن یہ مت سمجھو کہ اس مہلت سے کوئی فائدہ اٹھا سکو گے کیونکہ تمہاری بھلائی اور عاقبت کا دارومدار تمہارے اپنے رویے کی اصلاح پر ہے اگر تم اصلاح کی کوشش نہیں کرو گے تو تمہاری محرومی کا فیصلہ کردیا جائے گا اس کے بعد تم ہر طرح کی ہدایت کے امکان سے محروم ہوجاؤ گے۔ پروردگار تمہیں تمہاری سرکشی کے حوالے کر دے گا تم اندھوں کی طرح ٹامکٹوئیاں مارتے پھرو گے لیکن تمہارے لیے کوئی راستہ نہیں کھلے گا۔ اگلی آیت کریمہ میں مشرکین مکہ کے ایک سوال کا ذکر اور اس کا جواب ہے۔