Ayah 7:72ارشاد ہوتا ہے :
فَاَنْجَیْنٰہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَمَا کَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ ۔ (الاعراف : 72)
” آخر کار ہم نے اپنی مہربانی سے ہود اور اس کے ساتھیوں کو بچا لیا اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی ‘ جو ہماری آیات کو جھٹلا چکے تھے اور ایمان لانے والے نہ تھے “۔
اس آیت کریمہ میں پروردگار نے اپنے اس اصول کا ذکر فرمایا ہے جس کے تحت قوموں پر عذاب آتا ہے اس میں تین باتیں ارشاد فرمائیں۔ ایک تو یہ بات کہ ہم کسی قوم پر اس وقت تک عذاب نہیں بھیجتے جب تک اس کے اندر قبولیتِ ایمان کے تمام سوتے خشک نہیں ہوجاتے۔ جب تک کچھ بھی ان میں ایمان کی قبولیت کی امید باقی رہتی ہے تو عذاب کو روکا جاتا ہے۔ ان کو پوری طرح دودھ کی طرح بلویا جاتا ہے اور جب تک مکھن کی آخری پھٹکی بھی باقی رہتی ہے یہ بلونا بند نہیں کیا جاتا۔ پیغمبر اپنی دعوت تمام موانع کے باوجود پوری قوت سے پیش کرتا ہے ان کی اذیتوں کو پورے صبر کے ساتھ برداشت کرتا ہے لیکن جب وہ اپنی قبولیت کی استعداد سے بالکل محروم ہوجاتے ہیں تو پھر اللہ کے عذاب کا کوڑا ان پر برستا ہے وَمَا کَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ سے اسی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ دوسری بات جو فرمائی گئی ہے وہ یہ کہ ہم جب عذاب نازل کرتے ہیں تو اللہ کے رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کو وہاں سے ہجرت کا حکم دیتے ہیں اور انھیں اپنی پناہ میں لے کر دشمنوں کی اذیت سے اور عذاب کے اثرات سے محفوظ کردیتے ہیں چناچہ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی قوم پر عذاب آیا ‘ اللہ کے رسول اور مومنین کو وہاں سے نکال لیا گیا۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا کہ حضرت ہود (علیہ السلام) اور آپ پر ایمان لانے والوں کو یا تو کسی قریبی سرزمین میں جانے کا حکم دیا گیا اور یا وہیں ان کو اپنی پناہ میں لے لیا گیا اور تیسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ عذاب کی صورت میں ہم کافر قوم کی جڑ کاٹ کے رکھ دیتے ہیں کیونکہ وہ زمین کا ایک ایسا بگڑا ہوا عنصر بن چکی ہوتی ہے جن کے باقی رہنے سے زمین کی خرابی اور اہل زمین کے بگاڑ میں مزید وسعت کا اندیشہ ہوتا ہے۔ جس طرح کسی ناسور کو جسم میں باقی رکھنا پورے جسم کو فاسد کرنے کا باعث بنتا ہے اسی طرح بگڑی ہوئی قوموں کو باقی رکھنا بھی پوری زمین کی تباہی کا باعث ہوتا ہے۔ چناچہ اسی اصول کے تحت قوم عاد کا بھی اس طرح استیصال کیا کہ ان کا نام و نشان تک مٹا ڈالا۔ یہ بات خود اہل عرب کی تاریخی روایات سے بھی ثابت ہے اور موجودہ اثری اکتشافات بھی اس پر شہادت دیتے ہیں کہ عاد اولیٰ بالکل تباہ ہوگئے اور ان کی یادگاریں تک دنیا سے مٹ گئیں چناچہ مؤرخین عرب ان کو عرب کی امم بائدہ یعنی معدوم اقوام میں شمار کرتے ہیں۔ پھر یہ بات بھی عرب کے تاریخی مسلمات میں سے ہے کہ عاد کا صرف وہ حصہ باقی رہا جو حضرت ہود کا پیرو تھا۔ انہی بقایائے عاد کا نام تاریخ میں عاد ثانیہ ہے اور حصن غراب کا کتبہ انہی کی یادگاروں میں سے ہے اس کتبہ کو جسے تقریباً اٹھارہ سو برس قبل مسیح کی تحریر سمجھا جاتا ہے ماہرین آثار نے جو عبارت پڑھی ہے اس کے چند جملے یہ ہیں (ہم نے ایک طویل زمانہ اس قلعہ میں اس شان سے گزارا ہے کہ ہماری زندگی تنگی و بدحالی سے دور تھی۔ ہماری نہریں دریا کے پانی سے لبریز رہتی تھیں اور ہمارے حکمران ایسے بادشاہ تھے جو برے خیالات سے پاک اور اہل شر و فساد پر سخت تھے وہ ہم پر ہود کی شریعت کے مطابق حکومت کرتے تھے اور عمدہ فیصلے ایک کتاب میں درج کرلیے جاتے تھے اور ہم معجزات اور موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان رکھتے تھے) یہ عبادت آج بھی قرآن کے اس بیان کی تصدیق کر رہی ہے کہ عاد کی قدیم عظمت و شوکت اور خوشحالی کے وارث آخر کار وہی لوگ ہوئے جو حضرت ہود پر ایمان لائے۔
آخر میں صرف ایک بات کا ذکر کرنا ضروری ہے وہ ہے حضرت ہود (علیہ السلام) کی وفات۔ اہل عرب حضرت ہود (علیہ السلام) کی وفات اور ان کی قبر مبارک کے متعلق مختلف دعوے کرتے ہیں مثلاً اہل حضرموت کا دعویٰ ہے کہ عاد کی ہلاکت کے بعد وہ حضرموت کے شہروں میں ہجرت کر آئے تھے ‘ وہیں ان کی وفات ہوئی اور وادی برہوت کے قریب حضرموت کے مشرقی حصہ میں شہر تریم سے قریباً دو مرحلے پر دفن ہوئے۔
حضرت علی ( رض) سے ایک اثر منقول ہے کہ ان کی قبر حضرموت میں کثیب احمر (سرخ ٹیلہ) پر ہے اور ان کے سرہانے جھائو کا درخت کھڑا ہے۔
اہل فلسطین کا دعویٰ ہے کہ وہ فلسطین میں دفن ہیں اور انھوں نے وہاں ان کی قبر بھی بنا رکھی ہے اور اس کا سالانہ عرس بھی کرتے ہیں۔
مگر ان تمام روایات میں سے حضرموت کی روایت صحیح اور معقول معلوم ہوتی ہے اس لیے کہ عاد کی بستیاں حضرموت ہی کے قریب تھیں لہٰذا قرینہ یہی چاہتا ہے کہ ان کی تباہی کے بعد قریب ہی کی آبادیوں میں حضرت ہود (علیہ السلام) نے قیام فرمایا ہوگا اور وہیں پیغام اجل کو لبیک کہا اور وہ یہی حضرموت کا مقام ہے۔
Ayah 7:73مشرکینِ مکہ اور باقی نوع انسانی کو یہ بات سمجھانے کے لیے کہ اگر تم رسول اللہ کی دعوت کو قبول نہیں کرو گے اور آپ کے مقابلے میں معاندانہ روش اختیار کرو گے تو تمہارا انجام بھی یقینا وہی ہوگا جو اس سے پہلے ان قوموں کا ہوچکا جن کی طرف اللہ کے رسول آئے اور انھوں نے ان کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا۔ مختلف انبیاء کرام کی دعوت اور ان کی قوموں کی طرف سے معاندانہ جواب اور پھر ان پر اترنے والے عذاب کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے قوم نوح کا ذکر آیا اس کے بعد قوم عاد کا اب اسی غرض سے قوم ثمود کا ذکر کیا جا رہا ہے اور یہ بات واضح کی جا رہی ہے کہ اللہ کے یہاں ایک ہی ترازو میں ساری قومیں تلتی ہیں کسی کے ساتھ ترجیحی سلوک نہیں ہوتا۔ وہ عادل ذات ہے ہر ایک کے ساتھ عدل کا معاملہ کرتی ہے جس رویے نے سابقہ امتوں کو عذاب کا مستحق بنایا تم اگر وہی رویہ اختیار کرو گے تو یقینا تم اس عذاب سے بچ نہیں سکو گے چناچہ قوم ثمود کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا :
وَ اِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاھُمْ صٰلِحًا م قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہ َ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط قَدْ جَآئَتْکُمْ بَیِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ ط ھٰذِہٖ نَاقَۃُ اللہِ لَکُمْ اٰیَۃً فَذَرُوْھَا تَاْکُلْ فِیْٓ اَرْضِ اللہِ وَلَا تَمَسُّوْھَا بِسُوْٓئٍ فَیَاْخُذَکُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (الاعراف : 73)
” اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا ‘ اس نے کہا : اے برادرانِ قوم ! اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ‘ تمہارے پاس تمہارے رب کی کھلی دلیل آگئی ہے ‘ یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی کے طور پر ہے ‘ لہٰذا اسے چھوڑے رکھو کہ اللہ کی زمین میں چلتی پھرے اس کو کسی برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک دردناک عذاب تمہیں آلے گا “۔
ثمود کی تاریخ
قومِ ثمود کا ذکر قرآن کریم کی نو سورتوں میں کیا گیا ہے یہ قوم عرب کی قدیم ترین اقوام میں سے دوسری قوم ہے جو عاد کے بعد سب سے زیادہ مشہور ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ عاد اور ثمود ایک ہی دادا کی اولاد تھے۔ ارم کے دو بیٹے تھے جن میں سے ایک بیٹے کی اولاد عاد کہلائی اور دوسرے کی ثمود۔ ثمود کو عاد ثانیہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ قوم عاد کے بقایا ہیں جب اللہ کا عذاب قوم عاد پر ٹوٹا تو جو لوگ اس عذاب سے محفوظ رکھے گئے آگے چل کر وہ قوم ثمود کے نام سے معروف ہوئے کیونکہ ثمود ان کے جد امجد کا نام تھا۔ زمانہ جاہلیت کے اشعار اور خطبوں میں بکثرت اس قوم کا ذکر ملتا ہے۔ اسیریا کے کتبات اور یونان ‘ اسکندریہ اور روم کے قدیم مؤرخین اور جغرافیہ نویس بھی اس کا ذکر کرتے ہیں۔ مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے تک اس قوم کے کچھ بقایا موجود تھے۔ چناچہ رومی مؤرخین کا بیان ہے کہ یہ لوگ رومن افواج میں بھرتی ہوئے اور نبطیوں کے خلاف لڑے۔ اس قوم کا مسکن شمال مغربی عرب کا وہ علاقہ تھا جو آج بھی الحجر کے نام سے موسوم ہے۔ موجودہ زمانہ میں مدینہ اور ترکی کے درمیان حجاز ریلوے پر ایک اسٹیشن پڑتا ہے جسے مدائن صالح کہتے ہیں یہی ثمود کا صدر مقام تھا اور قدیم زمانے میں حجر کہلاتا تھا۔ حجاز اور شام کے درمیان وادی قریٰ کا جو میدان نظر آتا ہے یہ سب اس قوم کے مقام سکونت کا حصہ تھا اور آج کل فج الناقہ کے نام سے مشہور ہے۔ ثمود کی بستیوں کے کھنڈرات اور آثار آج تک موجود ہیں۔ ہزاروں ایکڑ کے رقبے میں وہ سنگین عمارتیں آج بھی موجود ہیں جن کو ثمود کے لوگوں نے پہاڑوں میں تراش تراش کر بنایا تھا اور اس شہر خموشاں کو دیکھ کر اندازہ کیا جاتا ہے کہ کسی وقت اس شہر کی آبادی چار پانچ لاکھ سے کم نہ ہوگی۔ نزولِ قرآن کے زمانے میں حجاز کے تجارتی قافلے ان آثار قدیمہ کے درمیان سے گزرا کرتے تھے اس لیے اہل مکہ اور دوسرے عرب قوم عاد کی طرح قوم ثمود کی تاریخ سے بھی واقف تھے۔ حجر کا یہ مقام جو حجر ثمود کہلاتا ہے شہر مدین سے جنوب مشرق میں اس طرح واقع ہے کہ خلیج عقبیٰ اس کے سامنے پڑتی ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کو اسی قوم ثمود کی طرف اللہ نے رسول بنا کر بھیجا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نسب اور وطن کے اعتبار سے قوم ثمود ہی کے ایک فرد تھے کیونکہ وہ بھی سام ہی کی اولاد میں سے تھے اس لیے قرآن کریم میں ان کو قوم ثمود کا بھائی فرمایا ہے۔ ثمود بھی قوم عاد کی طرح خدائے واحد کے علاوہ بہت سے معبودانِ باطل کے پرستار اور شرک میں مبتلا تھے۔ ان کا بنیادی مرض بھی شرک میں مبتلا ہونا تھا اور اسی بنیادی مرض کے باعث باقی مشرک قوموں کی طرح ان میں بھی سیرت و کردار میں ہزاروں عیوب پیدا ہوگئے تھے کیونکہ جب کوئی قوم توحید سے بیگانہ ہوجاتی ہے تو پھر وہ اللہ کی ذات ہی سے لاتعلق نہیں ہوتی بلکہ اس کی صفات سے بھی کٹ جانے کے باعث زندگی میں ایسے ایسے اخلاقی امراض کا شکار ہوتی ہے جس کا تصور بھی عام حالات میں نہیں کیا جاسکتا۔ اپنی اصل حیثیت کا عرفان جو توحید کے عقیدے کا لازمی نتیجہ ہے۔ انسان اس سے محروم ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں کبھی وہ کسی کے سامنے جھکتا ہے اور کبھی کسی کے سامنے۔ اولوالعزمی ‘ حوصلہ مندی ‘ قوت تسخیر اس طرح اس سے رخصت ہوجاتی ہیں کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت رکھتے ہوئے بھی انتہائی منفعل زندگی گزارتا ہے۔ ہر قوت سے خوف کھاتا ہے ‘ ہر آستانے پر سر جھکاتا ہے اور زندگی کے اصل مقاصد کے علاوہ تمام چھوٹے بڑے مقاصد پر جان دیتا ہے اس لیے پروردگار عالم انسانی اصلاح کے لیے جب کسی پیغمبر کو بھیجتا ہے تو سب سے پہلے پیغمبر کی دعوت کا عنوان ہی یہ ہوتا ہے کہ لوگو ! ایک ہی اللہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہرائو ‘ تمام قوتوں کا مالک صرف ایک اللہ ہے اسی کو اطاعت مطلقہ زیب دیتی ہے۔ ہر طرح کی کبریائی اسی کے لیے مناسب ہے۔ وہ چونکہ تمہارا خالق ہے اس لیے حکم دینا بھی اسی کا حق ہے اور تم چونکہ اس کے مخلوق ہو اس لیے تمہارے لیے اس کے سوا کسی اور کا محکوم اور مامور ہونا ہرگز زیبا نہیں۔ اس تصور کے قبول کرلینے کے بعد انسان میں وہ بنیادی تبدیلی آتی ہے جو انسانی سیرت و کردار کی ضامن بنتی ہے۔ چناچہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے بھی ان کے سامنے یہی دعوت پیش کی اور اس قوم نے بھی سابقہ امتوں کی طرح حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت سے وہی سلوک کیا جو سابقہ امتیں کر چکیں۔ نہ صرف کہ اس دعوت کو قبول کرنے سے انکار کیا بلکہ حضرت صالح (علیہ السلام) کا راستہ روکنے کے لیے آپ کو ہر طرح کی اذیت کا نشانہ بنایا۔ آپ پر ایمان لانے والوں کو ہراساں کیا اور آپ کی ذات پر قسم قسم کے اتہامات باندھے۔ کبھی آپ کو جھوٹا کہا گیا ‘ کبھی یہ کہا گیا کہ تم پر جادو کردیا گیا ہے۔ یعنی ہر ممکن طریق سے یہ کوشش کی گئی کہ لوگ آپ کی دعوت کے قریب نہ پھٹکیں اور جب دیکھا کہ ہماری ساری اذیتوں اور ہمارے سارے اتہامات کے باوجودصالح اپنی دعوت سے باز نہیں آتے اور لوگوں میں آپ کا اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے تو پھر انھوں نے آپ سے قسم قسم کے معجزات کا مطالبہ شروع کردیا اور گمان یہ کیا کہ جب ہم آپ سے غیر معمولی قسم کے مطالبات کریں گے اور حضرت صالح اسے پورا نہیں کرسکیں گے تو خود بخود ان کی ہوا اکھڑ جائے گی اور لوگ ان کے قریب آنا چھوڑ دیں گے اور جو لوگ ایمان لا چکے ہیں وہ مایوس ہو کر اور مخالفتوں سے تنگ آکر دوبارہ اپنے آبائی دین میں پلٹ جائیں گے۔
اونٹنی کا معجزہ
معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے جو غیر معمولی مطالبات کیے ان میں سے ایک مطالبہ غیرمعمولی اونٹنی کا بھی تھا۔ انھوں نے آپ سے کہا کہ اگر آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں تو ہماری فلاں پہاڑی جس کا نام کاتبہ ہے اس کے اندر سے ایک ایسی اونٹنی نکال کر دکھایئے جو دس مہینے کی گابھن ہو اور قوی اور تندرست ہو اور اس چٹان سے نکلنے کے بعد وہ ایک بچہ بھی جنے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ اگرچہ اس طرح کے مطالبات کرنا کوئی اچھی بات نہیں لیکن تم اگر اس پر اصرار کرتے ہو تو پھر مجھ سے وعدہ کرو کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارا یہ مطالبہ پورا کردیا تو تم مجھ پر ایمان لے آئو گے۔ چناچہ ساری قوم نے آپ سے ایمان لانے کا وعدہ کیا تو صالح (علیہ السلام) نے دو رکعت نماز پڑھ کر دعا مانگی کہ الٰہی آپ کی قدرت سے تو کوئی کام مشکل نہیں اگر آپ ان کا یہ مطالبہ پورا کردیں تو یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ایمان لے آئیں گے چناچہ تھوڑی ہی دیر بعد پہاڑی کے اندر جنبش پیدا ہوئی اور اس کی ایک بڑی چٹان پھٹ کر اس میں سے ایک اونٹنی اسی طرح کی نکل آئی جیسا ان کا مطالبہ تھا۔ صالح (علیہ السلام) کا یہ کھلا ہوا حیرت انگیز معجزہ دیکھ کر ان میں سے کچھ لوگ تو مسلمان ہوگئے اور باقی تمام قوم نے بھی ارادہ کرلیا کہ ایمان لے آئیں مگر قوم کے چند سردار جو بتوں کے خاص بجاری اور بت پرستی کے امام تھے انھوں نے ان کو بہکا کر اسلام قبول کرنے سے روک دیا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ قوم نے عہد شکنی کی اور خطرہ ہوا کہ ان پر کوئی عذاب نہ آجائے تو پیغمبرانہ شفقت کی بناء پر ان کو یہ نصیحت فرمائی کہ اس اونٹنی کی حفاظت کرو اس کو کوئی تکلیف نہ پہنچائو پھر شاید تم عذاب سے محفوظ رہو ورنہ فوراً تم پر عذاب آجائے گا۔ اس آیت کریمہ میں اسی معجزے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا ہے کہ دیکھو تم نے جس معجزے کا مطالبہ کیا تھا وہ ناقۃ اللہ کی صورت میں تمہارے سامنے موجود ہے۔ تمہارے عہد کا تقاضہ تو یہ تھا کہ تم فوراً ایمان لے آتے لیکن اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو اب بھی تمہیں مہلت دی جا رہی ہے اس سے فائدہ اٹھائو لیکن یہ یاد رکھنا کہ اس اونٹنی کو تکلیف نہ پہنچانا۔ یہ اپنی مرضی سے جہاں چاہے جائے اور جہاں چاہے چارہ کھائے تم ہرگز اسے نہیں روکو گے۔ بلکہ دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی فرمایا گیا کہ جس کنویں سے تمہارے جانور پانی پیتے ہیں اسی کنویں سے یہ بھی پانی پیئے لیکن اب شرط یہ ہوگی کہ ایک دن یہ اونٹنی پانی پیئے گی اور دوسرے دن تمہارے جانور پانی پئیں گے۔ قرآن کریم نے اونٹنی کو ناقتہ اللہ کہہ کر اس کو بطور ایک معجزہ کے پیش کیا ہے لیکن اس کے وجود میں آنے کا وہ واقعہ جس کا ہم نے ذکر کیا ہے اس کا ذکر نہیں فرمایا۔ اس کا ذکر ہمیں یا تو اخبار آحاد میں ملتا ہے یا اسرائیلی روایات میں لیکن ناقتہ اللہ کا لفظ اور بطور معجزہ کے اس کا ذکر کیا جانا اور پھر اس اونٹنی کا بےجھجک ہر جگہ گھومتے پھرنا اور ایک مدت تک قوم کا اس اونٹنی کو برداشت کرنا یہ ضرور اشارہ کرتا ہے کہ اس اونٹنی کا وجود میں آنا یقینا کسی محیر العقول طریقے سے ہوا ہوگا ورنہ حضرت صالح (علیہ السلام) اگر کسی عام اونٹنی پر ہاتھ رکھ کر یہ فرما دیتے کہ آج سے یہ اونٹنی اللہ کی اونٹنی ہے دیکھنا تم اس کو گزند نہ پہنچانا ورنہ اللہ کا عذاب تم پر ٹوٹ پڑے گا تو محض یہ بات حضرت صالح (علیہ السلام) کے ارشاد فرمانے کے باوجود قوم پر اثر انداز نہیں ہوسکتی تھی اس لیے کہ وہ لوگ حضرت صالح (علیہ السلام) کو اللہ کا پیغمبر ہی کب مانتے تھے کہ ان کی بات پر یقین کرلیتے وہ جو ایک مدت تک اونٹنی کو برداشت کرتے رہے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ اونٹنی جس طرح وجود میں آئی ہے یقینا اس کے پیچھے کوئی غیبی طاقت ہے اگر ہم نے اسے کوئی نقصان پہنچایا تو وہ غیبی طاقت ہمارا نقصان کرے گی۔ اس اندیشے نے انھیں مدت تک روکے رکھا۔ اگرچہ ہم نے ضروری حد تک یہ واقعہ بیان کردیا ہے لیکن مزید تفصیل اور تحقیق کے لیے قصص القرآن کا ایک نوٹ نقل کرتے ہیں۔ اس کے مصنف لکھتے ہیں قرآن عزیز سے اس سلسلہ میں صرف دو باتیں ثابت ہیں ‘ ایک یہ کہ ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے نشان (معجزہ) طلب کیا اور حضرت صالح (علیہ السلام) نے ” ناقہ “ کو بطور نشانی پیش کیا ‘ دوسرے یہ کہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو یہ ہدایت کردی تھی کہ وہ اس کو ضرر نہ پہنچائے اور پانی کی باری مقرر کرلے کہ ایک روز ناقہ کا اور دوسرا قوم کا اور اگر اس کو نقصان پہنچایا تو یہی قوم کی ہلاکت کا نشان ہوگا چناچہ انھوں نے ” ناقہ “ کو ہلاک کردیا اور خدا کے عذاب سے خود بھی ہلاک ہوگئے۔
اس سے زائد جو کچھ ہے اس کا مداریا ان روایاتِ حدیث پر ہے جو اخبارِ آحاد کے درجہ میں شمار ہیں اور یا بائبل اور تاریخِ قدیم کی روایات پر ‘ جہاں تک اخبارِ آحاد کا تعلق ہے محدثین کے نزدیک ان میں سے بعض صحیح روایات ہیں اور بعض ضعیف ‘ اس لیے حافظ عماد الدین ابن کثیر نے سورة اعراف کی تفسیر میں ” ناقۃ اللہ “ کے وجود میں آنے کی روایت کو سند روایات کے اصول پر نقل نہیں فرمایا بلکہ ایک تاریخی واقعہ کی طرح تحریر فرمایا ہے۔
واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ قوم ثمود جب حضرت صالح (علیہ السلام) کی تبلیغِ حق سے اکتا گئی تو اس کے سرخیل اور سر کردہ افراد نے قوم کی موجودگی میں مطالبہ کیا کہ اے صالح ! اگر تو واقعی خدا کا فرستادہ ہے تو کوئی نشانی دکھا تاکہ ہم تیری صداقت پر ایمان لے آئیں۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ نشانی آنے کے بعد بھی انکار پر مصر اور سرکشی پر قائم رہو ‘ قوم کے ان سرداروں نے بتاکید وعدہ کیا کہ ہم فوراً ایمان لے آئیں گے۔ تب حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہی سے دریافت کیا کہ وہ کس قسم کا نشان چاہتے ہیں ‘ انھوں نے مطالبہ کیا کہ سامنے والے پہاڑ میں سے یا بستی کے اس پتھر میں سے جو کنارہ پر نصب ہے ایک ایسی اونٹنی ظاہر کر کہ جو گابھن ہو اور فوراً بچہ دے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے درگاہِ الٰہی میں دعا کی اور اسی وقت ان سب کے سامنے پہاڑ یا پتھر میں سے حاملہ اونٹنی ظاہر ہوئی اور اس نے بچہ دیا۔ یہ دیکھ کر ان سرداروں میں جندع بن عمرو تو اسی وقت مشرف باسلام ہوگیا اور دوسرے سرداروں نے بھی جب اس کی پیروی میں اسلام لانے کا ارادہ کیا تو ان کے ہیکلوں اور مندروں کے مہنتوں ذؤاب بن عمرو اور جناب اور ان کے کاہن رباب بن صفر نے ان کو اس سے باز رکھا اور اسی طرح باقی دوسروں کو بھی اسلام لانے سے روکا۔
اب حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کے تمام افراد کو تنبیہ کی کہ دیکھو یہ نشانی تمہاری طلب پر بھیجی گئی ہے ‘ خدا کا یہ فیصلہ ہے کہ پانی کی باری مقرر ہو ایک دن اس ناقہ کا ہوگا اور ایک دن ساری قوم اور اس کے سارے چوپائوں کا اور خبردار اس کو کوئی اذیت نہ پہنچے ‘ اگر اس کو آزار پہنچا تو پھر تمہاری بھی خیر نہیں ہے۔
قوم نے اگرچہ اس حیرت انگیز معجزہ کو دیکھ کر ایمان قبول نہ کیا لیکن دلوں کے اقرار نے اس کو آزار پہنچانے سے باز رکھا اور یہ دستور جاری رہا کہ پانی کی باری ایک روز ناقہ کی رہتی اور تمام قوم اس کے دودھ سے فائدہ اٹھاتی اور دوسرے روز قوم کی باری ہوتی اور ناقہ اور اس کا بچہ بغیر روک ٹوک چراگاہوں میں چرتے اور آسودہ رہتے ‘ مگر آہستہ آہستہ یہ بات بھی ان کو کھٹکنے لگی اور آپس میں صلاح و مشورے ہونے لگے کہ اس ناقہ کا خاتمہ کردیا جائے تو اس باری والے قصے سے نجات ملے ‘ کیونکہ ہماری چوپائوں کے لیے اور خود ہمارے اپنے لیے یہ قید ناقابل برداشت ہے۔ یہ باتیں اگرچہ ہوتی رہتی تھیں لیکن کسی کو اس کے قتل کرنے کی ہمت نہ پڑتی تھی ‘ مگر ایک حسین و جمیل مالدار عورت صدوق نے خود کو ایک شخص مصدع کے سامنے اور ایک مالدار عورت عنیزہ نے اپنی ایک خوبصورت لڑکی کو قیدار کے سامنے یہ کہہ کر پیش کیا کہ اگر وہ دونوں ناقہ کو ہلاک کردیں تو یہ تمہاری ملک ہیں ‘ تم ان کو بیوی بنا کر عیش کرو۔ آخر قیدار بن سالف اور مصدع کو اس کے لیے آمادہ کرلیا گیا اور طے پایا کہ وہ راہ میں چھپ کر بیٹھ جائیں گے اور ناقہ جب چراگاہ جانے لگے تو اس پر حملہ کردیں گے اور چند دوسرے آدمیوں نے بھی مدد کا وعدہ کیا۔
غرض ایسا ہی کیا گیا اور ناقہ کو اس طرح سازش کر کے قتل کر ڈالا اور پھر آپس میں حلف کیا کہ رات ہونے پر ہم سب حضرت صالح (علیہ السلام) اور اس کے اہل و عیال کو بھی قتل کردیں گے اور پھر اس کے اولیاء کو قسمیں کھا کر یقین دلائیں گے کہ یہ کام ہمارا نہیں ہے۔
اور بچہ یہ دیکھ کر بھاگ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور چیختا اور بولتا ہوا پہاڑی میں غائب ہوگیا۔
حضرت صالح (علیہ السلام) کو جب یہ خبر ہوئی تو حسرت و افسوس کے ساتھ قوم کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ آخر وہی ہوا جس کا مجھے خوف تھا ‘ اب اللہ کے عذاب کا انتظار کرو جو تین دن کے بعد تم کو تباہ کر دے گا ‘ اور پھر بجلی کی چمک اور کڑک کا عذاب آیا اور اس نے رات میں سب کو تباہ کردیا اور آنے والے انسانوں کے لیے تاریخی عبرت کا سبق دے گیا۔
اس واقعہ کے ساتھ ساتھ محدث ابن کثیر نے چند روایاتِ حدیثی بھی بیان فرمائی ہیں۔ مثلاً
غزوہ تبوک کے موقعہ پر جب آپ ﷺ کا گزر حجر پر ہوا تو صحابہ نے ثمود کے کنوئیں سے پانی بھرا اور آنا گوندھ کر روٹیاں تیار کرنے لگے۔ نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوا تو پانی گرا دینے ‘ ہانڈیاں اوندھی کردینے اور آٹا بیکار کردینے کا حکم فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ یہ وہ بستی ہے جس پر اللہ کا عذاب ہوا ‘ یہاں نہ قیام کرو اور نہ یہاں کی اشیاء سے فائدہ اٹھائو ‘ آگے بڑھ کر پڑائو ڈالو ایسا نہ ہو کہ تم بھی کسی بلا میں مبتلا ہوجاؤ۔
ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم ان حجر کی بستیوں میں یا تو اللہ سے ڈرتے عجز وزاری کرتے اور روتے ہوئے داخل ہوا کرو ورنہ ان میں داخل ہی نہ ہوا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی اپنی غفلت کی وجہ سے عذاب کی مصیبت میں مبتلا ہوجاؤ۔ اور ایک رویت میں ہے کہ جب رسول اکرم ﷺ حجر میں داخل ہوئے تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے نشانیاں طلب نہ کیا کرو ( دیکھو صالح۔ ) کی قوم نے نشان طلب کیا تھا اور وہ ناقہ پہاڑ کی کھوہ سے نکلتی اور اپنی باری میں کھا پی کر وہیں واپس چلی جاتی اور جو اس کی باری کا دن تھا اس میں قوم ثمود کو اپنے دودھ سے سیراب کرتی تھی ‘ مگر ثمود نے آخرکار سرکشی کی اور ناقہ کی کونچیں کاٹ کر اس کو ہلاک کردیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ نے ان پر ” چیخ کا عذاب “ مسلط کردیا اور وہ اس عذاب سے گھروں کے اندر ہی مردہ ہو کر رہ گئے صرف ایک شخص ابورغال نامی باقی بچا جو حرم میں گیا ہوا تھا لیکن جب وہ حدود حرم سے باہر آیا تو فوراً اسی عذاب کا شکار ہوگیا۔
حافظ ابن کثیر نے یہ تینوں روایات سند کے ساتھ مسند احمد سے نقل کر کے ان کی توثیق کی ہے۔
اس پوری تفصیل کا حاصل یہ ہے کہ قرآن عزیز سے یہ تو یقین کے ساتھ ثابت ہے کہ ” ناقۃ اللہ “ اللہ کا ایک نشان تھی اور اپنے اندر ضرور کوئی ایسی خصوصیت رکھتی تھی جس کی وجہ سے وہ ایسا نشان کہلا سکے جس کا ذکر قرآن عزیز اس اہمیت کے ساتھ کر رہا ہے ” ھٰذِہٖ نَاقَۃُ اللہِ لَکُمْ اٰیَۃ “ یہ ناقۃ اللہ تمہارے لیے نشان ہے اور پھر پانی کی باری جس طرح ناقہ اور قوم ثمود کے درمیان تقسیم فرمائی وہ خود ایک مستقل دلیل ہے کہ یہ ” ناقہ “ ضرور اپنے اندر ایسی حیثیت رکھتی تھی جو نشان الٰہی کہلا سکے۔ لیکن یہ بات کہ ” ناقہ “ کا وجود کس طرح ہوا اور کن وجوہ سے ” نشانِ الٰہی “ یا ” معجزہ “ بنی ‘ قرآن عزیز اس سے ساکت ہے۔ البتہ مختلف صحیح اخبارِ آحاد سے اس واقعہ پر ضرور روشنی پڑتی ہے جس کی تفصیل ابن کثیر سے ابھی نقل ہوچکی مگر واقعہ کی تفصیلی صراحت و وضاحت وہاں بھی موجود نہیں ہے بلکہ کتب تفسیر میں اسرائیلیات سے منقول ہے یا ضعیف روایات سے اخذ کی گئی ہے ‘ لہٰذا مناسب یہی ہے کہ واقعہ کے اجمال و تفصیل میں فرقِ مراتب کا ضرور خیال رکھا جائے ‘ جس قدر قرآن عزیز نے تصریح کی ہے وہ بغیر کسی تاویل کے واجب الاعتقاد ہے اور جس قدر صحیح روایات سے (اگرچہ وہ آحاد ہی کے درجہ کی ہیں) اس اجمال کی تفصیل کا پتہ ملتا ہے وہ اجمال کی تفصیل کی حیثیت سے قابل قبول ہیں گو قرآن عزیز کی تصریحات کے درجہ کو نہ پہنچ سکیں اور ان سے زیادہ باقی تفصیلات کی حیثیت وہی ہے جو عام تاریخی وقائع اور اسرائیلیات کی حیثیت ہے۔
قوم نے اگرچہ ایمان نہ لا کر عہد شکنی کی لیکن جیسا کہ عرض کیا ان کو مزید مہلت دی گئی اور عذاب کے فوری وقوع کا فیصلہ نہیں فرمایا گیا اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی تبلیغی کاوشیں مزید تیز کردیں اور ہر اس پہلو سے انھیں سمجھانے کی کوشش کی جس سے طبیعتیں متاثر ہوسکتی ہیں چناچہ اگلی آیت کریمہ میں اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
Ayah 7:74ارشاد ہوتا ہے :
وَاذْکُرُوْٓا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَآئَ مِنْم بَعَدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَکُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُھُوْلِھَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا ج فَاذْکُرُوْٓا اٰلَآئَ اللہِ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ ۔ (الاعراف : 74)
” یاد کرو وہ وقت جب اللہ نے قوم عاد کے بعد تمہیں اس کا جانشین بنایا اور ملک میں تم کو تمکن بخشا ‘ تم اس کے میدانوں میں عالیشان محل بناتے اور اس کے پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو تو اللہ کی شانوں کو یاد کرو اور ملک میں اودھم مچاتے نہ پھرو “۔
ترغیب وترہیب
اس آیت کریمہ کے آغاز میں حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو نصیحت فرماتے ہوئے ترغیب اور ترہیب دونوں سے کام لیا آپ نے انھیں اللہ کے شکر کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تمہیں خوب معلوم ہے کہ تم قوم عاد کے بقایا ہو اور تم جانتے ہو کہ قوم عاد پر اللہ کا ہولناک عذاب آیا جس سے نہ صرف ان کا اقتدار اور خوشحالی ختم ہوئی بلکہ انھیں ہر سطح پر فنا کر ڈالا گیا اور آج دنیا میں ان کا کوئی نام لیوا نہیں۔ ان کے کھنڈرات تک تباہ ہوگئے اور ان کی ایک ایک نشانی جس پر وہ فخر کرتے تھے۔ فناکے گھاٹ اتر گئی۔ تم انہی کے چچازاد ہو لیکن اللہ تعالیٰ نے کس طرح تمہاری نسل میں برکت دی اور تمہیں زمین کے ایک بڑے حصے پر تمکن عطا فرمایا۔ آج تم دنیا کی ایک طاقت ور اور مضبوط قوم شمار ہوتے ہو اور پھر تمہاری سرزمین کو اللہ نے ایسا زرخیز بنایا ہے کہ قدم قدم پر اللہ کی نعمتوں کی بہار چھائی ہوئی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قوم عاد اللہ کے کفران نعمت اور ایمان نہ لانے کے نتیجے میں تباہ ہوئی تم اس سے توبہ کرتے اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے عقیدہ و عمل کی اصلاح کرتے اور زمین پر اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزارتے اور اہل زمین پر اسکے احکام نافذ کرتے لیکن تم نے اسکے بالکل برعکس تباہ ہونے والی قوموں کا انداز اختیار کرلیا ہے اور آج تم وہیں کھڑے ہو جہاں کبھی قوم عاد تھی اور تم نے اپنے آپ کو بالکل انہی اعمال کا رسیا بنا لیا ہے اور تمہارے اعتقادات میں وہ ساری خرابیاں جمع ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے قوم عاد تباہ ہوئی اس لیے میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور اس کا شکر بجا لاتے ہوئے مجھ پر ایمان لائو اور اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کا عہد کرو۔
مزید غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ترہیب کا پہلو بھی ہے قوم کو ڈراتے ہوئے حضرت صالح علیہ (علیہ السلام) انھیں توجہ دلا رہے ہیں کہ دیکھو تم اس قوم عاد کی سرزمین پر بس رہے ہو اور اس کی تاریخ کے وارث ہو تمہیں خوب معلوم ہے کہ ان پر اللہ کا عذاب کیوں آیا تھا ‘ ان کے کیا کرتوت تھے جن کی وجہ سے اللہ نے ناراض ہو کر ان کو تباہ کردیا۔ اب اگر تم بھی وہی طور اطوار اختیار کرتے ہو اور اسی طرح اللہ کے ساتھ دوسری قوتوں کو شریک کرتے ہو اور اپنے عقیدہ و عمل میں وہ ساری خرابیاں پیدا کرلیتے ہو تو پھر میں تمہیں تمہارے انجام سے ڈراتا ہوا یہ نصیحت کرتا ہوں کہ یہ بات یاد رکھو اللہ کے یہاں کبھی ترجیحی فیصلے نہیں ہوتے۔ اس کے ترازو میں برابر کے تول تلتے ہیں۔ ایک ہی قانون عدل ہے جس کے ساتھ تمام قوموں کے معاملات فیصل ہوتے ہیں۔ جس رویے اور جس عقیدہ و عمل کے باعث قوم عاد تباہ ہوئی تو تم کیا سمجھتے ہو کہ اسی طرح کا رویہ اختیار کرنے کے باوجود تم اس عذاب سے بچ جاؤ گے یہ تمہاری سمجھ کا پھیر ہے میں تمہیں آنے والے انجام سے ڈراتے ہوئے وارننگ دیتا ہوں کہ اپنے کردار و عمل کا جائزہ لو اور گزشتہ تاریخ سے سبق سیکھو تو شاید بچ جاؤ ورنہ تم بری طرح جس تباہی کی طرف بڑھ رہے ہو اس کا انجام نہایت ہولناک ہے۔
ایک عمل پر تنقید
اس کے بعد ان کے اعمال میں سے ایک عمل پر تنقید کی گئی ہے یہ کہنے کو تو ایک عمل ہے لیکن حقیقت میں یہ اس سوچ کا نتیجہ ہے جس سے بے خدا تہذیب وجود میں آتی ہے جس سے وہ تمدن پھوٹتا ہے جس کی بنیاد صرف مادہ پرستی ہوتی ہے۔ جس سے وہ معاشرہ جنم لیتا ہے ‘ جسے آخرت پر بالکل یقین نہیں ہوتاجس سے وہ فکر پروان چڑھتی ہے ‘ جس کے پیش نظر نفع عاجل یعنی صرف دنیوی منفعت ہوتی ہے جو دل سے سوچنے کی بجائے پیٹ سے سوچتے ہیں۔ جن کی عبادت گاہیں ویران ہوتی اور ان کے ہوٹل آباد ہوتے ہیں۔ جن کے غریب سڑکوں پر مرتے ہیں لیکن ان کی کوٹھیاں اور محلات روز بروز بلند ہوتے چلے جاتے ہیں اس رویہ پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا حال یہ ہے کہ ہر ہموار زمین پر تم عالیشان محلات اٹھاتے ہو اور ان محلات کا حد سے بڑھا ہوا شوق ہے جس کے نتیجے میں تم پہاڑ تراش تراش کر گھر بناتے ہو اور تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ محلات اور پہاڑوں میں تراشے ہوئے یہ گھر شاید تمہیں دوام عطا کردیں گے اور تم اس سرزمین پر ہمیشہ رہو گے ؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس نعمت کے نہ ہونے کی وجہ سے قوم عاد تباہ ہوئی تم اس کے حصول کی فکر کرتے۔ جس فکر سے بےبہرہ ہونے کے باعث وہ عذاب کا شکار ہوئے تم اس فکر سے اپنے آپ کو آراستہ کرتے۔ جس طرح وہ آخرت سے بےنیاز ہو کر اور صرف دنیا بنانے کی ہوس میں اندھے ہو کر عذاب کی نذر ہوئے تم اس سے توبہ کر کے اپنے آپ کو آخرت کا مسافربناتے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ تم بھی اسی راستے پر چل نکلے ہو جو ترقی اور خوشحالی کا راستہ نہیں بلکہ تباہی کا راستہ ہے جو قومیں سیرت و کردار کی تعمیر کی بجائے عمارتوں کی تعمیر پر جان دیتی ہیں اور اسی کو اپنی تہذیب و تمدن کی علامت سمجھتی ہیں وہ قومیں کبھی دیر تک زندہ نہیں رہتیں۔ عالیشان اور لق و دق عمارتیں بنانا قوم کے عروج کی نہیں بلکہ تمدن کے فساد اور قوم کے زوال کی نشانی ہے۔ یہی فلک بوس عمارتیں بالآخر ایسی قوموں کے عروج و کمال کے مقبرے اور مدفن بنتی ہیں اور ایک دن زاغ و زغن ان میں اپنے آشیانے بناتے ہیں۔ قوموں کی تاریخ ہمارے سامنے ہے جب بھی مادی تہذیب ‘ مادی تمدن اور مظاہر تہذیب قوموں کی ترقی کی علامت بن گئے ہیں وہ مسلمان بھی ہوں تب بھی تباہی سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اندلس میں مسلمانوں نے آٹھ سو سال حکومت کی لیکن بجائے اپنے فکری سرمائے کو بڑھانے ‘ سیرت و کردار کی تعمیر کے لیے کوشش کرنے اور قلب یورپ میں گھس کر اسلام کی نشر و اشاعت کے انھوں نے جب مظاہر تہذیب کو اپنا مقصد بنا کر الحمرا جیسی عمارتوں کو زندگی کی علامت سمجھ لیا تو نتیجہ سامنے ہے کہ دنیا کی نہایت ترقی یافتہ قوم ہوتے ہوئے بھی زوال اور ہلاکت سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اقبال نے ٹھیک کہا تھا ؎
سبب کچھ اور ہے تو خود جسے سمجھتا ہے
زوال بندہ مومن کا بےزری سے نہیں
جب بھی جوہر دنیا میں آشکار ہوا
قلندری سے ہوا ہے تونگری سے نہیں
قوت و طاقت کے سیلاب ہمیشہ ان جھونپڑوں سے نکلتے ہیں جن میں زندگی پروان چڑھتی ہے اور یہ بڑی بڑی عمارتیں اور محلات ہمیشہ ان سیلابوں میں بہتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ اس لیے حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو یاد دلایا کہ لوگو ! اللہ کی شانوں اور اس کی عظیم قدرتوں کو یاد کرو اور اللہ کی زمین میں مفسد بن کر سر نہ اٹھائو۔
حضرت صالح (علیہ السلام) کی اس واضح تنبیہ کے باوجود اور زندگی کے بارے میں ان کے اہداف باطلہ پر تنقید کے باوجود اس قوم کے رویے اور سوچ میں کوئی تبدیلی پیدا نہ ہوئی بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کا وہ استکبار جو ان کی انفرادی اور اجتماعی شخصیت کا سب سے بڑا روگ بن گیا تھا اور کھل کر سامنے آیا اور انھوں نے اب صرف پیغمبر ہی کی مخالفت پر اکتفا کرنا کافی نہیں سمجھا بلکہ غریب مسلمانوں پر بھی مظالم توڑنے کے ساتھ ساتھ ان کی تحقیر میں اور اضافہ کردیا۔ اگلی آیت کریمہ میں اسی طرف اشارہ فرماتے ہوئے
Ayah 7:75ارشاد فرمایا گیا :
قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّہٖط قَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ ۔ (الاعراف : 75)
” اس کی قوم کے ان بڑوں نے جنھوں نے گھمنڈ کیا ‘ ان زیر دستوں سے کہا جو ان میں سے ایمان لائے ‘ کیا تم سمجھتے ہو کہ صالح اپنے رب کا فرستادہ ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : کہ ہم تو اس پیام پر جو وہ دے کر بھیجے گئے ہیں ایمان رکھتے ہیں “۔
متکبرین اور مومن مستضعفین میں مکالمہ اور بعض حقائق
اس آیت کریمہ میں قوم کے ان بڑے لوگوں جنھیں ان کے تکبر اور گھمنڈ نے ہر طرح سے اندھا کر رکھا تھا اور وہ لوگ جن کو معاشی اور معاشرتی طور پر بری طرح دبا کے رکھا گیا تھا اور ان میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئے تھے ان کے درمیان مکالمہ دکھایا گیا ہے۔ امراء کا متکبر طبقہ ان پسے ہوئے کمین لوگوں سے مخاطب ہو کر حیرانی سے یہ کہتا ہے کہ تم نے جو صالح پر ایمان لانے کا اعلان کیا ہے تو کیا تم واقعی اسے اللہ کا پیغمبر سمجھتے ہو یعنی تمہاری یہ مجال کہ تم نے ایک ایسے شخص کو پیغمبر مان کر اس کا اتباع کرنا شروع کردیا ہے جسے ہم کسی طرح قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں وہ ایک غریب فرد ہے اور غریبوں سے رشتہ رکھتا ہے اسے کسی طرح مالی یا شخصی تفوق حاصل نہیں۔ ہم اپنے قبیلے اور اپنے ملک کے سربرآوردہ اور مقتدر لوگ ہیں اگر اللہ نے کسی کو رسول بنانا ہی ہوتا تو وہ یقینا یہ منصب ہم میں سے کسی کو عطا کرتا۔ صالح اپنی غربت اور کم مائیگی کے باعث تو کسی طرح اس کے مستحق نہیں اس لیے ہم نے انھیں ماننے سے انکار کردیا ہے اور انھیں یہ بات سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تم اپنے آپ میں رہو اور اپنی چادر سے باہر پائوں مت پھیلائو لیکن عجیب بات یہ ہے کہ تم ہماری عظمتوں سے آگاہ ہوتے ہوئے بھی اور ہمارے دست نگر ہوتے ہوئے بھی ایک ایسے شخص کو پیغمبر تسلیم کر رہے ہو جسے ہم پیغمبر تسلیم کرنے سے انکار کرچکے ہیں یعنی تم ایک ایسا فیصلہ کر رہے ہو جو ہمارے فیصلے کے بالکل برعکس ہے تمہیں یہ جرأت کیسے ہوئی کہ از خود فیصلہ کرو اور وہ بھی ایسا فیصلہ جو ہمارے فیصلے کے خلاف ہے کیونکہ قبائل کی زندگی یا غیر مہذب دنیا میں یہ ایک ناقابل یقین بات سمجھی جاتی ہے کہ کسی بستی کے پسماندہ ‘ محکوم اور پسے ہوئے لوگ اپنے طور سے اپنی زندگی کے فیصلے کرنے لگیں اس روشنی کے دور میں آج بھی کسی گائوں کے کمین چوہدری کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے۔ کسی زمیندار کے مزارع ‘ کسی و ڈیرے کے ہاری کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہم اپنے بڑے کی مرضی کے خلاف کوئی سا کام کر گزریں اور پھر اس بستی میں رہنے کے قابل بھی رہیں تو ہزاروں سال پہلے کے معاشرے میں اس کا تصور کیونکر کیا جاسکتا ہے ؟ اسی حوالے سے وہ متکبر لوگ بھی ان غریب مسلمانوں سے حیرت اور ڈراوے کے انداز میں یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا واقعی تم نے یہ ناقابلِ یقین فیصلہ کرلیا ہے ؟ اس سے پہلے کہ ان غریب مسلمانوں کا جواب نقل کیا جائے ہم اس حقیقت کا اظہار کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہر نبی ٔ برحق کی دعوت کو سب سے پہلے پسے ہوئے اور غریب طبقے نے قبول کیا ہے۔ امیروں میں سے اگر کچھ لوگ آئے بھی ہیں تو بہت کم اور یا وہ لوگ جو طبقہ امراء سے ضرور تعلق رکھتے تھے لیکن امارت اور دولت کے برے اثرات نے ان کے دل و دماغ کو مسموم نہیں کیا تھا ورنہ عموماً امراء کا طبقہ اور حکمرانوں کا گروہ ہمیشہ اللہ کے نبیوں کی دعوت کو نہ صرف کہ قبول کرنے سے انکار کرتا ہے بلکہ انھیں ناکام کرنے حتیٰ کہ ان کی زندگیاں چھین لینے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ وجہ اس کی ظاہر ہے کہ غربا کا طبقہ جب یہ دیکھتا ہے کہ ہم برسوں سے زندگی کے جس جہنم میں زندہ ہیں وہ زندگی نہیں بلکہ موت سے بدتر ہے۔ ہم انسانوں میں رہتے ہوئے بھی انسانوں کی طرح نہیں بلکہ حیوانوں سے بدتر زندگی گزارتے ہیں اللہ کے نبی کی دعوت میں جب انھیں ایک انقلاب کی نوید سنائی دیتی اور انھیں اپنی قسمت سنورنے کی جھلک دکھائی دیتی ہے اور وہ دیکھتے ہیں کہ یہ پیغمبر غریب اور امیر کے لیے یکساں اصول زندگی لے کر آیا ہے اور خودبھی غریبوں میں اٹھتا بیٹھتا اور غریبوں میں ہی رہنا پسند کرتا ہے تو یہ دعوت انھیں اپنے دل کی آواز معلوم ہوتی ہے اور پھر اس سے بڑی بات یہ کہ وہ پیغمبر کی دعوت کو ایک قوت کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں وہ جب یہ سنتے ہیں کہ عظمتوں اور قدرتوں کی مالک صرف اللہ کی ذات ہے۔ زندگی اور موت اس کے قبضے میں ہے ‘ خوشحالی اور بدحالی کے فیصلے بھی وہیں سے ہوتے ہیں ‘ کوئی بڑے سے بڑا آدمی بھی جب تک اللہ نہ چاہے اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا اور تمام انسانوں کو اللہ نے یکساں پیدا کیا ہے ‘ پیدائشی طور پر نہ کوئی بڑا ہے نہ چھوٹا ‘ ذمہ داریاں کسی کو گراں بارتو کرسکتی ہیں اور صلاحیتیں کسی کو رہنما تو بنا سکتی ہیں اس سے اس کی زندگی میں فرائض کی ذمہ داری تو بڑھسکتی ہے لیکن حقوق کے اعتبار سے کسی انسان کو دوسرے انسان پر کوئی فوقیت نہیں۔ پیغمبر کی دعوت میں اس طرح کی باتیں ان کے ضمیر میں ایک انقلاب بن کر اٹھتی ہیں وہ پسے ہوئے ہونے کے باوجود زخمی شیر کی طرح انگڑائی لے کر اٹھتے ہیں اور ان کی مخفی صلاحیتیں اور قوتیں جو آج تک سلا کر رکھی گئی تھیں بیدار ہو کر اپنا کام کرنے لگتی ہیں اسی سے ان کو یہ ہمت ملتی ہے کہ وہ اپنے بڑوں کے سامنے نہایت جرأت اور جسارت کے ساتھ پیغمبر کا ساتھ دیتے اور کلمہ حق کہتے ہیں لیکن ان کے بڑوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ لوگ جو کل تک ہمارے برابر بیٹھنے کی جرأت نہیں رکھتے تھے آج ہمارے سامنے کھڑے کیسے ہوگئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی دعوت میں بھی ہمیں یہی حقیقتیں چلتی پھرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اگرچہ آپ کی دعوت کو حضرت ابوبکر۔ ‘ حضرت عثمان۔ ‘ حضرت عبدالرحمن ابن عوف ( رض) جیسے طبقہ امراء کے لوگوں نے بھی آگے بڑھ کر قبول کیا لیکن زیادہ تر ایمان لانے والے غریب لوگ ہی تھے اور یہ حقیقت معلوم ہوتا ہے پیغمبر کی سچائی کی ایک علامت بن گئی تھی چناچہ ہرقل شاہ روم نے ابوسفیان جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے ان سے پوچھا تھا کہ نبوت کے اس مدعی پر ایمان لانے والے امیر لوگ ہیں یا غریب ؟ ابو سفیان نے بتایا کہ غریب لوگ۔ تو ہرقل نے کہا کہ اللہ کے سچے نبیوں پر ہمیشہ غریب لوگ ہی پہلے ایمان لایا کرتے ہیں اور پھر یہی وہ لوگ ہیں جنھیں پیغمبر کی دعوت سے قوت اور جرأت ملتی ہے جو پیغمبر کی دعوت کے لیے قوت کا سامان بنتی ہے۔ حضرت عمر فاروق ( رض) کے ایمان لانے کا واقعہ مشہور واقعہ ہے جب انھیں خبر ہوئی کہ میری بہن اور بہنوئی مسلمان ہوچکے ہیں تو وہ غصے سے بےقابو ہوگئے چھپٹتے ہوئے ان کے گھر پہنچے ‘ دروازے پر دستک دی وہ دونوں حضرت خباب ( رض) سے قرآن کریم سیکھ رہے تھے خباب ( رض) کو اندر چھپا دیا بہنوئی نے دروازہ کھولا تو حضرت عمر ( رض) نے انھیں مار مار کے زخمی کردیا بہن چھڑانے کے لیے آگے بڑھی تو اس پر بھی جھپٹے وہ بہن جو کبھی بھائی کے قدموں کی چاپ سے سراسیمہ ہوجایا کرتی تھی اور جس نے کبھی بھائی سے آنکھیں چار کرنے کی جرأت نہیں کی تھی نہایت جرأت سے کہنے لگی جسے حفیظ نے شعر کی زبان دی ہے ؎
بہن بولی عمر ہم کو اگر تو مار بھی ڈالے
شکنجوں میں کسے یا بوٹیاں کتوں سے نچوا لے
مگر ہم اپنے دین حق سے ہرگز پھر نہیں سکتے
بلندی معرفت کی مل گئی ہے گر نہیں سکتے
چناچہ بہن کی یہ قوت اور خود اعتمادی سے بھرپور رعد آسا آواز تھی جس نے عمر کو ہلا کے رکھ دیا وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کے رہ گئے بالآخر نہایت انکساری سے بولے کہ مجھے وہ کتاب دکھائو جسے تم پڑھ رہے تھے اور جس نے تمہاری کایا پلٹ کے رکھ دی ہے۔ کہنا صرف یہ ہے کہ اس آیت کریمہ سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ غربت اور امارت اور چھوٹا اور بڑا ہونا یہ انسانیت کے بنیادی اوصاف نہیں یہ وقتی عوارض ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں وہ حقیقی عظمت جو چھوٹوں کو بڑا بناتی اور پھر اجتماعی شکل میں طوفان کا روپ دے دیتی ہے وہ اللہ کے نبیوں کی وہ دعوت ہے جس سے ان کے اندر بجلیاں کوندنے لگتی ہیں۔ وہ نہتے بھی ہوں تو مسلح لوگوں سے لڑ جاتے ہیں۔ دنیا کی کوئی طاقت کبھی انھیں مرعوب نہیں کرسکتی اور اگر کسی فرد یا کسی قوم کے اندر مسلمان ہوتے ہوئے یعنی اللہ کے نبیوں کی دعوت سے تعلق رکھتے ہوئے بھی یہ جرأت اور یہ بسالت پیدا نہیں ہوتی اور خود اعتمادی کا دیا اندر روشن نہیں ہوتا تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ میرا اللہ سے اور اس کے نبی کی دعوت سے اولاً تو کوئی رشتہ نہیں اور اگر ہے تو محض واجبی سا ہے اس لیے اسے سب سے پہلے اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے۔ اسے علم و دانش کے حوالے سے اپنی کمزوریوں پر پردہ نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ زمینی اور معروضی حالات کے الفاظ سے کھیلتے ہوئے حقائق کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ امت مسلمہ کا یہ المیہ ہے کہ وہ اسلام کی دعوت کے بنیادی اوصاف سے محروم ہوگئی ہے اللہ سے اس کا رشتہ کٹ کے رہ گیا ہے اس کے دانشور بجائے دل سے سوچنے کے پیٹ سے سوچنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ ان کے پیش نظر دنیا اور دولت دنیا کے سوا کچھ نہیں وہ آخرت کو محض ایک فریب سمجھتے ہیں اور اپنے اس آلودہ علم و دانش سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی شب و روز کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ اللہ ہمیں اس سے اپنی پناہ میں رکھے۔
غریب مومنوں کا جواب اور اس کے متضمنات
قوم کے بڑے لوگوں کے اس سوال پر کہ کیا تم واقعی صالح کو پیغمبر سمجھتے ہو جواب میں غریب لوگوں نے کہا پیغمبر سمجھنے کا کیا معنی وہ تو یقینا اپنی ذات میں پیغمبر ہیں ان کی دلآویز شخصیت ‘ قوم سے ان کی گہری ہمدردی ‘ ان کا استغناء اور خودداری ‘ محض لوگوں کی خاطران کی بھلائی کے لیے ان کے ظلم سہنا اور پھر ان کا بےعیب کردار جس کے تم بھی واقف ہو ان سب باتوں کے ہوتے ہوئے وہ اگر پیغمبر نہیں تو اور کیا ہیں اس لیے یہ سوال تو خارج از بحث ہے کہ ہم ان کو پیغمبر کیوں سمجھتے ہیں ان کے تو طور اطوار خود بولتے ہیں کہ وہ یقینا اللہ کے پیغمبر ہیں ہم تو ایک قدم آگے بڑھ کر آپ سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم صرف انھیں پیغمبر ہی نہیں سمجھتے بلکہ جو کچھ انھیں دے کر بھیجا گیا ہے ان میں سے ایک ایک بات پر ہم ایمان رکھتے ہیں۔ میرا وجدان کہتا ہے کہ اس سے مراد صرف بنیادی اعتقادات اور شرعی احکام ہی نہیں بلکہ ایک اور بہت اہم بات کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ دنیا میں جتنے بھی رسول آئے انھوں نے آکر ایک بات ضرور کہی اور ہمارے رسول پاک ﷺ نے بھی اسی بات کو زیادہ تفصیل سے بیان فرمایا وہ بات یہ ہے کہ ہر رسول اپنی قوم سے یہ کہتا رہا ہے کہ میں تمہاری طرف جو دعوت لے کر آیا ہوں اگر تم اسے قبول کرلو تو میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ دنیا کی ساری خوشحالیاں تمہیں عطا کی جائیں گی ‘ دنیا کی خلافت پر تم فائز کیے جاؤ گے۔ اس کی امامت و سیادت کا منصب تمہیں دیا جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ آخرت کی سرافرازیاں بھی تمہارا مقدر ہوں گی۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک سے زیادہ موقعوں پر یہ بات فرمائی کہ یہ کلمہ جو میں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں یہ ایک مکمل دعوت ہے اگر تم اسے قبول کرلو تو تم عرب کے مالک ہوجاؤ گے اور عجم تمہارے سامنے جھک جائے گا اور قرآن کریم نے بھی واضح طور پر فرمایا کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ اگر تم اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو اور انفرادی اور اجتماعی زندگی اسی کے احکام کے مطابق گزارو اور اس کی زمین پر اس کی شریعت نافذ کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں خلافت ارضی سے نوازے گا ‘ تمہاری خوف کی حالت کو امن سے بدل دے گا اور تمہارے دین کو تمکن عطا فرمائے گا اور بعض جگہ یہاں تک فرمایا کہ اگر بستیوں والے ایمان لائیں اور تقویٰ کی زندگی اختیار کریں تو ہم ان پر آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیں گے۔ یہی وہ دعوت ہے جو ہر رسول نے پیش کی اور دنیا کو اسی انقلاب کی خبر دی۔ چناچہ یہاں اسی جانب اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ہمیں جس انقلاب کی نوید سنائی ہے اور جس کی کامیابی سے حیرت انگیز تبدیلیاں آنے والی ہیں ہم ان میں سے ہر بات پر یقین رکھتے ہیں وہ وقت دور نہیں جب قیادتیں اور سیادتیں بدلیں گیں۔ آنے والے وقت میں ہر غلط چیز مٹے گی اور ہر صحیح چیز کو اس کا جائز مقام ملے گا آج کے پسے ہوئے لوگ کل کے حکمران ہوں گے چناچہ وہ طبقہ امراء اس طرح کی باتیں سن کر بجائے اثر قبول کرنے کے مشتعل ہو کر یا جھنجھلا کر اس کے سوا کچھ نہ کہہ سکا :
Ayah 7:76قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْٓا اِنَّا بِالَّذِیْٓ اٰمَنْتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ ۔ (الاعراف : 76)
” متکبروں نے کہا کہ ہم تو اس چیز کے منکر ہیں ‘ جس پر تم ایمان لائے ہو “۔
یعنی جس انقلاب کو تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو اور تمہارے سینوں میں جو کروٹیں لیتا ہوا محسوس ہو رہا ہے ہم تو اس کو کسی طرح قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کی کامیابی کا مطلب تو یہ ہوگا کہ تم کل کو حکمران ہو گے اور ہم تمہاری چاکری کریں گے۔ کم از کم ہماری زندگی میں تو ایسا ہونا ممکن نہیں گمان یہ کہتا ہے کہ اس کے بعد ان کی جھنجھلاہٹ میں مزید اضافہ ہوگیا ہوگا انھوں نے مسلمانوں کو ادھیرنے کھدیڑنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ہوگی۔ ہر جگہ ان کا تمسخر اڑایا ہوگا کہ ماشاء اللہ کیا بات ہے ان کی۔ یہ مستقبل کے حکمران ہیں جوتا پہننے کو نصیب نہیں کبھی ڈھنگ کے کپڑے انھوں نے نہیں دیکھے۔ ایک وقت کھانے کو ملتا ہے تو دوسرے وقت فاقہ ہوتا ہے اور خواب یہ حکمرانی کے دیکھ رہے ہیں پھر وقت کے ساتھ ساتھ ان کی جھنجھلاہٹ اور ان کے غصے میں اضافہ ہوتا گیا حتیٰ کہ انھوں نے وہ اقدام کر ڈالاجس نے امان کی وہ دیوار توڑ ڈالی جس کی وجہ سے وہ اب تک پناہ میں تھے اور عذاب کا وہ بند کھول دیا جس کے بندھے رہنے کی وجہ سے آج تک وہ اللہ کے غضب سے بچے ہوئے تھے چناچہ قرآن کریم اس کی خبر دیتے ہوئے کہتا ہے :
Ayah 7:77فَعَقَرُوا النَّاقَۃَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّھِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ (الاعراف : 77)
” تو انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی ‘ اور بولے اے صالح ! اگر تم خدا کے فرستادہ ہو تو وہ عذاب ہم پر لائو جس کی دھمکی دے رہے ہو “۔
ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ اونٹنی کی پیدائش قوم کے مطالبے پر ہوئی تھی اور انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ اگر اس طرح حیرت انگیز طریقے سے اونٹنی ایک چٹان سے نکل آئے اور وہ مطلوبہ صفات کی حامل بھی ہو تو ہم ایمان لے آئیں گے لیکن جب وہ اونٹنی کو اسی طرح دیکھ چکے جس طرح وہ چاہتے تھے تو بجائے ایمان لانے کے انھوں نے ایمان لانے سے انکار کردیا اصولاً تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ اسی وقت اللہ کا عذاب ان پر ٹوٹ پڑتا لیکن اللہ نے ان پر کرم فرمایا اور ان کو مہلت دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ اس اونٹنی کی حفاظت کرو اس کو کوئی گزند پہنچانے کی کوشش نہ کرنا اب تمہارے اور عذاب کے درمیان یہ اونٹنی ہے اگر تم نے اس کو نقصان پہنچایا تو عذاب تم پر ٹوٹ پڑے گا۔ اب جبکہ وہ یہ بھی کر گزرے تو اب تو انھیں کسی مزید مہلت کے ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رحمت کرنے اور کرم فرمانے میں تو بہت جلدی فرماتے ہیں لیکن عذاب دینے میں ہمیشہ مہلت دینا پسند فرماتے ہیں اس لیے یہاں بھی بجائے فوری عذاب دینے کے تین دن کی مہلت دیتے ہوئے فرمایا کہ تین دن تک زندگی سے اور فائدہ اٹھا لو لیکن یہ آخری موقع ہے جو تمہیں دیا گیا ہے اس میں چاہو تو توبہ کر کے بچ جاؤ لیکن تین دن کے بعد تم میں سے کسی کو زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔ لیکن اس بگڑی ہوئی قوم کا حال یہ تھا کہ بجائے اس کے کہ اللہ کی طرف رجوع کریں حضرت صالح (علیہ السلام) سے پوچھنے لگی کہ اس عذاب کی علامتیں کیا ہیں۔ آپ نے انھیں بتایا کہ کل جمعرات کو تمہارے چہرے زردپڑ جائیں گے ‘ جمعہ کو سرخ اور ہفتے کو سیاہ ہوجائیں گے اور اسی دن خدا کا عذاب آجائے گا چناچہ ہفتے کے دن ان پر خدا کا عذاب آیا۔ قرآن کریم اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتا ہے :
Ayah 7:78فَاَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 78)
” پس ان کو کپکپی نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے “۔
عذاب کی کیفیت
قرآن کریم نے اس عذاب کے لیے مختلف تعبیریں اختیار کیں یہاں رجفۃ سے تعبیر فرمایا جس کے معنی کپکپی کے بھی ہوتے ہیں اور زلزلے کے بھی اور دوسری جگہ اسے صیحۃ کا نام دیا جس کا معنی ڈانٹ اور چیخ کے ہیں۔ تیسری جگہ اس پر صاعقہکا لفظ بولا گیا جس کے معنی کڑکے کے ہیں اور سورة حاقہ میں اسے طاغیہ سے تعبیر کیا جس کے معنی حد سے بڑھ جانے والی اور دہشت ناک ہے۔ مولانا حمید الدین فراہی مرحوم نے ان چاروں تعبیرات کو سمیٹتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ انھوں نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے ( اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ان کے اوپر اللہ تعالیٰ نے سرمائی بادلوں ‘ تند ہوا اور ہولناک کڑک کا عذاب بھیجاچون کہ اصل تباہی ہوا کے تصرفات سے واقع ہوئی اس وجہ سے اگر اثر سے موثر پر استدلال کرنے کا طریقہ اختیار کیا جائے تو یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ثمود پر اللہ تعالیٰ نے سرما کے دھاریوں والے بادل بھیجے جن کے اندر ہولناک کڑک اور بہری کردینے والی چیخ بھی چھپی ہوئی تھی جس طرح کہ قوم عاد پر رعد و برق والے بادل بھیجے) مولانا نے تو رجفۃ کا معنی کپکپی کیا ہے اور اسی کو سامنے رکھتے ہوئے باقی الفاظ کو اس کا مؤید بنایا ہے لیکن رجفۃ کا معنی زلزلہ بھی غلط نہیں اگر یہی معنی مراد لیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ ثمود پر زلزلہ بھی آیا جس سے وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرگئے اور ان پر تیز ہوائیں بھی چلیں جس نے ہر چیز کو تہس نہس کر کے رکھ دیا اور یہ بھی ہم نے دیکھا ہے کہ زلزلے میں اگر شدت ہو تو اس میں سیٹیوں اور چیخوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں عین ممکن ہے کہ ہوا کے طوفان اور زلزلے دونوں نے جمع ہو کر وہ شدت پیدا کی ہو جس کے لیے چار لفظ اختیار کیے گئے ہیں۔ اس طرح سے دنیا کی یہ سب سے مضبوط اور متمدن قوم عذاب کا شکار ہو کر تبا ہوگئی اور عبرت کے طور پر اس کا ذکر باقی رکھا گیا۔
اس کے بعد کی آیت کریمہ میں حضرت صالح (علیہ السلام) کے آخری رویے اور آپ کے اظہار حسرت کو بیان کیا گیا ہے۔