7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsروح القرآن

Ayahs 7:127–129

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

قوم فرعون کے سرداروں نے فرعون سے کہا کیا تو اسی طرح موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑے رکھے گا کہ وہ ملک میں بدامنی پھیلائیں اور تجھ کو اور تیری مورتوں کو ٹھکرائیں اس نے کہا کہ ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھیں گے اور ہم ان پر پوری طرح حاوی ہیں۔

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد چاہو اور ثابت قدم رہو زمین اللہ کی ہے وہ جس کو اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے اس کو وارث بناتا ہے اور انجام کار کی کامیابی خدا سے ڈرنے والوں ہی کے لیے ہے

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

وہ بولے ہم تو تمہارے آنے سے پہلے بھی ستائے گئے اور تمہارے آنے کے بعد بھی اس نے کہا توقع ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو پامال کرے گا اور تم کو ملک کا وارث بنائے گا کہ دیکھے تم کیا روش اختیار کرتے ہو۔

وَقَا لَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَزُ مُوْسٰی وَقَوْمَہٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَکَ وَ اٰ لِھَتَکَ ط قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآئَھُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآئَھُمْ ج وَ اِنَّا فَوْقَہُمْ قٰھِرُوْنَ ۔ (الاعراف : 127) ” قوم فرعون کے سرداروں نے فرعون سے کہا کیا تو اسی طرح موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑے رکھے گا کہ وہ ملک میں بدامنی پھیلائیں اور تجھ کو اور تیری مورتوں کو ٹھکرائیں اس نے کہا کہ ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھیں گے اور ہم ان پر پوری طرح حاوی ہیں “۔ شکست کے بعد عمائدینِ سلطنت کی بوکھلاہٹ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی کامیابی کے بعد فرعون کے سرداروں پر بری طرح بوکھلاہٹ طاری تھی انھیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر اتنی بڑی ناکامی اور رسوائی کے بعد ہم کس طرح حالات کو سنبھالیں اگر ہم خاموش رہتے ہیں تو حالات اور بگڑ جائیں گے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت لوگوں میں اپنا اثر پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائے گی اور اگر ہم کوئی پکڑ دھکڑ شروع کرتے ہیں تو سب لوگ یہ سمجھیں گے کہ ہم اپنی ناکامی کا انتقام لے رہے ہیں اور یہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ بالآخر انتقام کا جوش ان پر غالب آیا تو انھوں نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ آپ موسیٰ اور اس کی قوم کے بارے میں کچھ کرنے کا حکم دیجئے۔ اگر آپ نے اسی طرح ان کو آزاد چھوڑے رکھا تو اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہوگا کہ موسیٰ اور اس کی قوم بنی اسرائیل تمہاری گرفت سے نکل جائیں گے اور وہ زمین میں فساد پھیلاتے پھریں گے۔ فساد سے ان کی مراد یہ ہے کہ وہ تمہارے احکام کی پرواہ نہیں کریں گے۔ نہ تمہارا احترام کریں گے اور نہ تمہارے بتوں کے سامنے سر جھکائیں گے۔ عام لوگوں کو یہ تأثر پیدا ہوجائے گا کہ فرعون کی حکومت اپنی گرفت کھو چکی ہے اب ہمیں مستقبل کی قیادت کے طور پر موسیٰ کی طرف دیکھنا چاہیے۔ اس لیے اس بات کی فوری ضرورت ہے کہ موسیٰ اور اس کی قوم کو قابو میں لایا جائے اور یہ جو ڈھیل ان کو دے رکھی ہے اسے ختم کیا جائے۔ فرعون نے اس کے جواب میں کہا کہ تمہیں فکر مند نہیں ہونا چاہیے۔ ہماری حکومت پوری طرح مستحکم ہے اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ موسیٰ اور بنی اسرائیل اس ملک میں بغاوت کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ البتہ اب ہم ان پابندیوں میں اضافہ کیے دیتے ہیں جو پہلے عدم توجہ کے باعث کسی حد تک ناکامی کا شکار ہوئیں۔ یہ جو ہماری پرانی پالیسی تھی کہ ہم بنی اسرائیل کے بچوں میں لڑکیوں کو زندہ رکھتے تھے اور ذکور کو قتل کردیتے تھے یہ دائیوں کی لاپرواہی کے باعث ناکام ہوگئی کیونکہ دائیاں عموماً بنی اسرائیل ہی سے تعلق رکھتی تھیں۔ بنی اسرائیل کے گھرانوں سے ان کا ہمدردی کا تعلق ایک فطری بات تھی جب فرعون کی حکومت نے ان دائیوں کو حکم دیا کہ جس گھر میں بھی لڑکا پیدا ہو اس کا گلا گھونٹ دیا جائے تو انھوں نے اس حکم کو نافذ کرنے میں بہت کچھ تأمل کیا جہاں کہیں بچہ پیدا ہوتا وہ گھر والوں سے مل کر اسے چھپانے میں کامیاب ہوجاتیں اور پولیس کو اس کا سراغ نہ لگنے دیتیں اس طرح یہ پالیسی تقریباً ناکام ہوگئی۔ اب حق و باطل کے معرکے میں ناکامی کے بعد فرعون نے ازسرنو حکم جاری کیا کہ کسی لڑکے کو زندہ نہ چھوڑا جائے لیکن اس حکم کی بجاآوری کی ذمہ داری دائیوں پر نہیں بلکہ عام لوگوں پر ڈالی کہ جہاں کہیں بھی ان کے علم میں یہ بات آئے کہ اسرائیلیوں کے گھر میں کوئی بچہ پیدا ہوا ہے تو وہ اسے پکڑ کر دریا میں پھینک دیں تو فرعون نے اپنے سرداروں کو اطمینان دلایا کہ اس سزا کے پوری طرح نافذ ہوجانے کے بعد چونکہ کوئی بچہ زندہ نہیں رہے گا تو بنی اسرائیل میں یہ طاقت کہاں سے آئے گی کہ وہ بغاوت کردیں اور مزیدتاریخ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس حکم کے نفاذ کے ساتھ ساتھ یہ حکم بھی دیا گیا کہ بنی اسرائیل کی بیگار میں سختی کی جائے۔ بیگار کے وقت میں اضافہ کردیا جائے تاکہ وہ لمبی مشقت اور اذیت کے بعد کسی اور بات کے سوچنے کے قابل ہی نہ رہیں۔ اس طرح سے ایک طرف ان کی نسل کشی کا سامان کیا گیا تاکہ آئندہ نسل وجود میں نہ آسکے اور جو زندہ نسل موجود تھی ان کو بیگار کی شدت میں کس کر اس قابل نہ چھوڑا جائے کہ وہ کسی بھی کام کے بارے میں سوچ سکیں یا اس کا ارادہ کرسکیں۔ اس آیت کریمہ میں سرداروں نے فرعون سے یہ کہا کہ اگر آپ نے موسیٰ اور اس کی قوم کو یوں چھوڑے رکھا تو وہ زمین میں فساد پھیلائیں گے اور تجھے بھی چھوڑ دیں گے اور تیرے اٰ لِھَہ یعنی تیرے معبودوں کو بھی چھوڑ دیں گے۔ یہاں اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فرعون تو اپنے آپ کو سب سے بڑا رب قرار دیتا تھا اور اسی لیے اپنی قوم سے اپنی پوجا کرواتا تھا جو شخص اپنے آپ کو رب اعلیٰ کہتا ہو وہ دوسرے کسی کو اپنا معبود کیسے مان سکتا ہے۔ اس لیے یہاں قوم کا یہ کہنا کہ یہ لوگ تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں گے آخر اس کا کیا مفہوم ہے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ فرعون اپنے زعم کے مطابق اپنے آپ کو مصریوں کے سب سے بڑے دیوتا یعنی سورج کا اوتار سمجھتا تھا اس طرح اس کی حیثیت اوتار بادشاہ کی تھی یعنی وہ بیک وقت مصریوں کا بادشاہ بھی تھا اور ان کے سب سے بڑے دیوتا کا مظہر اور اوتار ہونے کے سبب سے ان کا رب اعلیٰ بھی تھا اس نے اپنے بیشمار مجسمے (اسٹیچو) اور بت بنوا کر اپنی مملکت میں جابجا نصب کروا دیئے تھے اور رعایا کو حکم تھا کہ وہ ان کے درشن کے لیے جائیں اور ان کے سامنے ڈنڈوت بجا لائیں۔ اس طرح بادشاہ کو بیک وقت رعایا پر خدائی اور شاہی دونوں کے اختیارات حاصل تھے۔ انہی مجسموں اور بتوں کی طرف اشارہ کر کے قوم فرعون کے سردار فرعون سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ نے بنی اسرائیل کو ڈھیل دیئے رکھی تو یہ لوگ آپ کے مجسموں کا احترام کرنا چھوڑ دیں گے اور آپ کی عظمت ان کے دلوں سے نکل جائے گی۔ اگر آپ کو اپنی عظمت کا احساس ہے اور یقینا ہوگا کیونکہ اسی احساس پر آپ کی حکومت قائم ہے تو پھر آپ بنی اسرائیل پر اپنی گرفت میں شدت پیدا کیجیے اور انھیں اٹھنے کا موقع نہ دیجئے۔ جب ان باتوں کی خبر بنی اسرائیل تک پہنچی تو انھیں یقینا بہت فکر ہوئی کہ پہلے ہی ہماری زندگی جس اذیت سے گزر رہی ہے وہ بھی ہمارے لیے ناقابل برداشت ہے یہ فرعون کے نئے احکام تو ہمیں زندہ درگور کردیں گے تو انھوں نے یقینا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے شکایت کی ہوگی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان مصیبتوں کا سامنا کرنا کے لیے اللہ کے حکم سے جو نسخہ تجویز کیا اس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں ہے۔ ارشاد فرمایا : قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰہِ وَاصْبِرُوْا ج اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰہِ قفلا یُوْرِثُھَا مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ ط وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ قَالُوْآ اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْ تِیَنَا وَمِنْ م بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ط قَالَ عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّھْلِکَ عَدُوَّکُمْ وَ یَسْتَخْلِفَکُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ ۔ (الاعراف : 128، 129) ” موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد چاہو اور ثابت قدم رہو زمین اللہ کی ہے وہ جس کو اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے اس کو وارث بناتا ہے اور انجام کار کی کامیابی خدا سے ڈرنے والوں ہی کے لیے ہے وہ بولے ہم تو تمہارے آنے سے پہلے بھی ستائے گئے اور تمہارے آنے کے بعد بھی اس نے کہا توقع ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو پامال کرے گا اور تم کو ملک کا وارث بنائے گا کہ دیکھے تم کیا روش اختیار کرتے ہو “۔ فرعون کی اذیتوں پر اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے یہ نہیں کہا کہ میں تمہارے پاس خوش عیشیوں ‘ خوش حالیوں اور آرام طلبیوں کا سامان لے کر آیا ہوں اور میرے ساتھ چل کر تمہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوگی بلکہ ان کو یہ تصور دیا کہ اللہ کے راستے میں چلنے والوں کو ہمیشہ مخالفتوں اور مصیبتوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ تم اگر غلامی سے آزادی کا سفر کرنا چاہتے ہو اور فرعون کی ربوبیت چھوڑ کر اللہ کی ربوبیت کے سائے میں آنا چاہتے ہو تو یہ سفر پھولوں کی سیج پر نہیں ہوگا اس راستے میں تو قدم قدم پر دشواریاں ہوں گی۔ مخالفتوں کا سامنا ہوگا اور فرعون اپنی قہرمانی طاقتوں سے تم پر ہر ممکن مصیبت لائے گا۔ تمہیں اس راستے پر چلتے ہوئے استقامت کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ یہ صحیح ہے کہ یہ مقابلہ آسان نہیں۔ حکومتوں سے ٹکرانا اور مظالم برداشت کرنا بہت مشکل کام ہے ہوسکتا ہے تمہارے حوصلے جواب دینے لگیں اس لیے میں تمہارے لیے یہ نسخہ تجویز کر رہا ہوں کہ تم اس راستے میں چلنے کے لیے اللہ ہی سے مدد چاہو اور قرآن کریم میں کئی اور جگہ اس کا طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ نماز میں اللہ سے مدد مانگو۔ نماز میں اللہ سے مدد دو طریقوں سے مانگی جاتی ہے ایک تو یہ کہ نماز کے آغاز سے لے کر اس کے اختتام تک حتیٰ کہ اس کے لیے اذان میں بھی مسلسل اس بات کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا دنیا میں کبریائی کسی کو زیب نہیں دیتی۔ وہی ذات کبریا ہے جو ہر طرح کی عظمتوں کی مالک ہے۔ اس کی قدرتیں بےپناہ ہیں ‘ اس کی قوتوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں وہی تخت و تاج کا مالک ہے جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔ اللہ کی کبریائی کا تصور اور اس کی قدرتوں پر اعتماد جیسے جیسے پختہ ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے انسانی حکومتیں ‘ انسانی بڑائیاں نظروں میں ہیچ ہونے لگتی ہیں۔ آدمی جب اس بات کا یقین کرلیتا ہے کہ ہر چیز کا مالک اللہ ہے تو بڑے سے بڑا صاحب جبروت بھی پتلیوں سے زیادہ حیثیت کا مالک دکھائی نہیں دیتا۔ جب کسی قوم کی نگاہوں میں اس طرح طاقت و قوت اور اقتدار کے پیمانے بدل جاتے ہیں اور زاویہ نگاہ بالکل تبدیل ہوجاتا ہے تو پھر اس کے لیے بڑی سے بڑی قوت سے ٹکرانا اور انتہائی نامساعد حالات میں بھی اپنا سفر جاری رکھنا آسان ہوجاتا ہے۔ دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ صبر سے مدد حاصل کرو۔ صبر دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے ایک تو ہے اپنے مؤقف اور اپنے نقطہ نگاہ کی صداقت پر مکمل یقین اور دوسرا ہے اس راستے میں آنے والی مخالفتوں ‘ مزاحمتوں اور اذیتوں پر استقامت۔ یہ دو چیزیں انسان کے اندر اس مضبوط شخصیت کو جنم دیتی ہیں جو کسی بھی مخالفت کا سامنا کرتے ہوئے کبھی نہیں گھبراتی۔ خطرناک سے خطرناک حالات میں بھی جب اسے یقین ہوتا ہے کہ میں سچائی پر ہوں تو پھر اسے اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ سچائی کی عظمت کے لیے مجھے جان دینا پڑے گی۔ وہ ہرحال میں استقامت کا ایک ایسا پیکر بن جاتا ہے جسے کسی طرح بھی ہلانا ممکن نہیں ہوتا۔ اس آیت کریمہ میں بنی اسرائیل سے یہی کہا گیا ہے کہ تم اللہ سے مدد مانگو اور اس راستے میں آنے والی مشکلات پر صبر کرو یعنی استقامت اور اللہ کی توفیق تمہارے لیے مشکل سے مشکل راستہ آسان کر دے گی۔ رہی یہ بات کہ فرعون یہ کہتا ہے کہ ہم بہرصورت ان پر غالب ہیں یہ ملک اور یہ حکومت ہم سے کبھی چھینے نہیں جاسکتے تو اس کا یہ کہنا خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں کیونکہ زمین اللہ کی ہے وہی اس کا مالک ہے وہ جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے لیکن انجام کے اعتبار سے اس کا یہ فیصلہ ہے کہ ہمیشہ متقی ہی سرافراز ہوتے ہیں۔ اللہ سے ڈرنے والے لوگ جو اللہ کی زمین پر اللہ کی حکومت کو نافذ کرنا چاہتے ہیں ان کی زندگی کا ہر لمحہ اسی کی اطاعت میں گزرتا ہے اور وہ بندوں میں بھی اسی کی اطاعت دیکھنا چاہتے ہیں۔ انھیں قرآن کریم متقی کہتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو بالآخر زمین کے وارث بنائے جاتے ہیں۔ جب تک وہ زمین کو فساد سے بچائے رکھتے ہیں اور اللہ کی اطاعت خود بھی کرتے ہیں اور اہل زمین سے بھی اللہ کی اطاعت کرواتے ہیں۔ اللہ ان کی سلطنت کو قائم رکھتا ہے لیکن جب وہ اللہ کے عہد سے برگشتہ ہوجاتے ہیں تو پھر اللہ دوسرے لوگوں کو لے آتا ہے۔ رسولوں کے واسطے سے ہمیشہ اللہ کی اس سنت پر عمل ہوتا رہا ہے کہ بگڑی ہوئی قوموں کی طرف اللہ کے رسول اصلاح کی دعوت لے کر آتے ہیں وہ قوم اگر اسے ماننے سے انکار کردیتی ہے تو انھیں مٹا دیا جاتا ہے اور وہ سرزمین دوسرے لوگوں کے حوالے کردی جاتی ہے جو ان سے بہتر ہوتے ہیں۔ بنی اسرائیل کو یہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ تمہارا کام یہ ہے کہ تم نہایت صبر سے اللہ کے دین کی دعوت دیتے رہو اور خود بھی اس پر چلتے رہو ایک وقت آئے گا جب تمہارے مخالفین کو مٹا دیا جائے گا اور تمہیں زمین کی حکومت دے دی جائے گی۔ بنی اسرائیل چونکہ غلامی کے مارے ہوئے لوگ تھے غلامی نے اجتماعی سیرت و کردار کی ہر خوبی سے انھیں تہی دامن کردیا تھا وہ ان باتوں کی قدر و قیمت کو کیا سمجھتے ؟ اس لیے وہ کہنے لگے کہ اے موسیٰ ! تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے گئے اور تیرے آنے کے بعد بھی نہ صرف کہ ہم ستائے جا رہے ہیں بلکہ ہماری تکلیفوں میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہوگیا ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ وقت دور نہیں جب اللہ تعالیٰ فرعون اور اس کے ساتھیوں کو تباہ کر دے گا اور تمہیں خلافت ارضی سے نوازے گا لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ تم نہایت اخلاص سے اللہ کی بندگی کا حق ادا کرتے رہو لیکن یہ یاد رکھو کہ جب تمہیں اللہ تعالیٰ خلافت ارضی سے نوازے گا آج جس طرح وہ دوسروں کو دیکھ رہا ہے کہ وہ کیا کررہے ہیں پھر وہ تمہیں دیکھے گا کہ تم اپنی ذمہ داریاں کس طرح ادا کر رہے ہو یہ دنیا تو دارالعمل اور دارالامتحان ہے یہاں ہر ایک کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں۔ انہی کے حوالے سے ہر شخص اور ہر قوم کو نوازا جاتا ہے یا سزا دی جاتی ہے۔
Ayah 7:130

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آئے۔

گزشتہ رکوع میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور قوم فرعون کے سامنے جب اپنی دعوت پیش کی اور اپنی تائید کے لیے معجزات دکھائے تو وہ بجائے اس کے کہ اس دعوت کو قبول کر کے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آتے انھوں نے مشتعل ہو کر فرعون سے بار بار موسیٰ اور بنی اسرائیل کو ختم کرنے یا انھیں زیادہ سے زیادہ ایذا پہنچانے کا مطالبہ شروع کردیا ان کے اس مطالبے پر فرعون نے بنی اسرائیل پر وہ پابندیاں جو پہلے سے چلی آرہی تھیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان میں ڈھیل پیدا ہوگئی تھی انھیں مزید سخت کرنے اور پوری طرح بروئے کار لانے کا حکم دے دیا اور اپنی قوم کو اس بات کا یقین دلایا کہ تم ان کی بڑھتی ہوئی افرادی قوت سے پریشان مت ہو ہم نے ان کی موجودہ نسل کو بیگار میں کس کر عضو معطل بنا کر رکھ دیا ہے اور آئندہ نسل کے بچوں کو ہم زندہ نہیں چھوڑیں گے تاکہ ان کی افرادی قوت میں اضافہ نہ ہو سکے۔ ایسی صورت حال میں وہ بجائے اپنی محرومیوں کو یاد کرنے اور اپنے زخم چاٹنے کے اور کچھ نہیں کرسکیں گے۔ ایک ستم رسیدہ اور محرومیوں کی ماری ہوئی قوم سے اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ہماری ایک مستحکم حکومت کے خلاف کوئی بڑی کاروائی کرنے کے بارے میں سوچ بھی سکے۔ اس طرح جب بنی اسرائیل پر سختیاں بڑھیں تو وہ پہلے سے ہی نہایت پریشان اور غمزدہ لوگ تھے نئی سختیوں نے انھیں بالکل ہلا کر رکھ دیا اس پر وہ مسلسل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے شکایت کرنے لگے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کی ہدایت کے مطابق انھیں بہتر حالات کی امید رکھنے اور موجودہ حالات پر صبر کرنے کی ترغیب دی اور ساتھ ہی پروردگار نے اپنی اس سنت کو آگے بڑھایا جس کا تذکرہ اسی صورت کی آیت نمبر 88 میں کیا گیا ہے چناچہ اسی حکمت اور سنت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : وَلَقَدْ اَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ یَذَّکَّرُوْنَ ۔ (الاعراف : 130) ” ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آئے “۔ اس آیت کریمہ میں سِنِیْنَ کا لفظ آیا ہے یہ سَنَۃٌ کی جمع ہے۔ عام طور پر اس کا معنی سال کیا جاتا ہے لیکن یہ لفظ قحط اور مصیبت کے سال کے لیے بھی بولا جاتا ہے یہاں اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ پروردگار نے اپنی سنت کے مطابق انھیں بھی مختلف کٹھن حالات سے دوچار کیا جیسے ہم اس سے پہلے اشارہ کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ رہی ہے کہ جب بھی کسی قوم کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ اپنا رسول بھیجتے ہیں تو ایک طرف تو رسول اپنی ہمت اور اللہ کی توفیق کے مطابق بگڑی ہوئی قوم کو راہ راست کی طرف لانے کی کوشش کرتا ہے اس میں اس کی جسمانی اور روحانی کاوشیں بتمام و کمال اپنا فرض انجام دیتی ہیں۔ اس کی نہایت دلآویز شخصیت ‘ اس کا مضبوط طریق استدلال ‘ اس کا معجزانہ اسلوب دعوت ‘ لوگوں کو راہ راست کی طرف لانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اللہ کی طرف سے مختلف قسم کی آزمائشوں کی شکل میں اس کی معاونت کی جاتی ہے۔ مختلف مصائب اور مشکلات سے اس قوم کو دوچار کیا جاتا ہے تاکہ ان کی اکڑی ہوئی گردنیں اللہ کے سامنے جھکیں اور ان کے پھرے ہوئے دل اللہ کی طرف متوجہ ہوں۔ جب بار بار وہ اس طرح کی مشکلات سے دوچار ہوں تو انھیں کبھی نہ کبھی یہ خیال ستانے لگے کہ اگر اس کائنات کا کوئی خالق ومالک نہ ہوتا اور ہم اپنے ارادوں میں پوری طرح مختار ہوتے تو پھر یہ حالات کا پھیر ہمیں پریشان کیوں کرتا اور آئے دن مشکلات ہمارے لیے زندگی مشکل کیوں بنا دیتیں اس کا مطلب یہ ہے کہ یقینا یہاں کسی بڑی ذات کی حکومت ہے جس کی طرف یہ اللہ کا رسول ہمیں بلا رہا ہے۔ اس طرح سے حالات کا بگاڑ اور مشکلات کا بار بار پیش آنا اللہ کے رسول کی دعوت کے لیے ایک طرح سے تائید و نصرت ثابت ہوتا ہے اور یہی اللہ کی سنت ہے۔ یہاں اسی بات کو واضح کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ ہم نے آل فرعون کو بھی کئی سالوں تک کبھی پھلوں اور پیداوار میں کمی اور کبھی قحط سالی میں مبتلا کیے رکھا تاکہ وہ لوگ نصیحت پکڑیں اور ان تنبہیات کو سمجھتے ہوئے اللہ کی طرف رجوع کریں لیکن وہ بجائے اس کے کہ ان حالات سے عبرت پکڑتے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت پر سنجیدگی سے غور کرتے انھوں نے عجیب و غریب رویہ اختیار کیا جس کا ذکر کرتے ہوئے پروردگار فرماتے ہیں :
Ayahs 7:131–132

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

اور جب ان پر اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اسی کے مستحق ہیں اور جب ان پر برا زمانہ آتا تو موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لیے فالِ بد ٹھہراتے حالانکہ درحقیقت ان کی فالِ بد تو اللہ کے پاس تھی مگر ان میں سے اکثر بےعلم تھے۔

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

انھوں نے موسیٰ سے کہا کہ تو ہمیں مسحور کرنے کے لیے خواہ کوئی نشانی لے آئے ہم تو تیری بات ماننے والے نہیں ہیں۔

فَاِذَا جَآئَتْھُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُوْا لَنَا ھٰذِہٖ ج وَ اِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰی وَ مَنْ مَّعَہٗ ط اَلَآ اِنَّمَا طٰٓئِرُھُمْ عِنْدَ اللّٰہِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ۔ وَ قَالُوْا مَھْمَا تَاْتِنَا بِہٖ مِنْ اٰیَۃٍ لِّتَسْحَرَنَا بِھَالا فَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الاعراف : 131، 132) ” اور جب ان پر اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اسی کے مستحق ہیں اور جب ان پر برا زمانہ آتا تو موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لیے فالِ بد ٹھہراتے حالانکہ درحقیقت ان کی فالِ بد تو اللہ کے پاس تھی مگر ان میں سے اکثر بےعلم تھے۔ انھوں نے موسیٰ سے کہا کہ تو ہمیں مسحور کرنے کے لیے خواہ کوئی نشانی لے آئے ہم تو تیری بات ماننے والے نہیں ہیں “۔ یطیّروا۔ طائر کا مفہوم اس آیت کریمہ میں یَطَّیَّرُوْا اور طٰٓئِرُکے لفظ استعمال ہوئے ہیں تطیر ‘ طیر سے ہے۔ طیر چڑیوں اور پرندوں کو کہتے ہیں۔ چونکہ توہم پرستوں میں چڑیوں اور پرندوں کے اڑنے سے فال لینے کا عام رواج رہا ہے اس وجہ سے تطیرکا لفظ فال لینے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ پھر اس کا غالب استعمال فالِ بد کے معنی میں ہوگیا۔ اسی مادے سے طائرکا لفظ بھی ہے جو اس چیز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس سے کوئی نیک یا بد فال لی جائے اور پھر اسی مفہوم سے ترقی کر کے قسمت اور نصیب کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ گمراہ لوگوں کی سوچ بھی بگڑ جاتی ہے اور وہ صحیح نتائج اخذ کرنے سے محروم ہوجاتی ہے یہاں ان کے رویے کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ فرعون اور آل فرعون کا حال یہ تھا کہ ان پر آزمائشیں اور مشکلات اس لیے نازل کی جاتی تھیں تاکہ انھیں جھنجھوڑا جائے جس کے نتیجہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو سنجیدگی سے سوچنے سمجھنے کی کوشش کریں لیکن ان کی حماقت اور گمراہی کا حال یہ تھا کہ جب کبھی انھیں اچھے حالات پیش آتے۔ خوشحالی ان کے قدم چومنے لگتی اور زندگی کے ہر مرحلے پر ان کو کامیابیاں نصیب ہونے لگتیں تو وہ انھیں اپنے دست وبازو کی کاوشوں کا نتیجہ سمجھتے اور یہ کہتے کہ ہم چونکہ ذہین لوگ ہیں اور ہم نے اپنے ملک کو ایک اچھے نظام سے باندھ رکھا ہے اور ہمارے ہر کام میں ایک منصوبہ بندی ہے اس لیے یہ کامیابیاں تو ہماری ہی کاوشوں کا نتیجہ ہیں اور ہم بجا طور پر اس کے مستحق ہیں اور اگر کبھی حالات بگڑنے لگتے فصلیں تباہ ہونے لگتیں ‘ بارشیں رک جاتیں ‘ پھل جھڑنے لگتے ‘ کاروبار مندا پڑجاتا ‘ ہر طرف سے پریشانیاں گھیرنے لگتیں تو بجائے اللہ کی طرف متوجہ ہونے کے ‘ وہ اسے موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ پر ایمان لانے والوں کی نحوست قرار دیتے اور یہ سمجھتے کہ یہ جو ہمارے دین کے خلاف ایک نئے دین کی باتیں کرتے ہیں اور بجائے فرعون کو سب سے بڑا رب ماننے کے رب العالمین کی طرف دعوت دے رہے ہیں تو ان کی اس بےدینی کے باعث ارضی و سماوی دیوتا ان سے ناراض ہوگئے ہیں اور ہم چونکہ انھیں برداشت کر رہے ہیں اس لیے ان کی اس بےدینی کے نتیجے میں دیوتائوں کی ناخوشی کا ہم بھی نشانہ بن رہے ہیں۔ چناچہ جب تک یہ منحوس لوگ ہمارے اندر موجود ہیں اور یہ مسلسل نحوست پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں اس وقت تک ہم اپنے منحوس حالات سے نجات نہیں پاسکتے۔ اس کے جواب میں اس آیت کریمہ میں فرمایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ اصل میں علم و آگہی سے کوسوں دور ہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی قسمتیں کسی اور کے قبضہ میں نہیں۔ کسی اور کی قسمت کے باعث کوئی نحوست پیدا نہیں ہوتی بلکہ سب کی قسمتوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے وہ ہر ایک کی قسمت اپنی حکمت اور اس کے اعمال کے حوالے سے بناتا ہے ان کے ساتھ جو کچھ پیش آرہا ہے وہ ان کی بداعمالیوں اور بےایمانیوں کا نتیجہ ہے۔ بجائے اس کے کہ یہ حالات کی گرفت سے نکلنے کے لیے اپنی اصلاح کریں اور پیغمبر کی دعوت کی طرف متوجہ ہوں انھوں نے ایک جھوٹا عذر تلاش کرلیا ہے کہ ہمارے ساتھ یہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا سبب موسیٰ اور ان پر ایمان لانے والوں کی نحوست اور بےدینی ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں بتایاجا رہا ہے کہ انھوں نے اسی بات پر اکتفا نہیں کیا کہ وہ نحوست کا طعنہ دے کر رہ جائیں بلکہ اپنی گمراہی کو انتہاء تک پہنچاتے ہوئے اور اپنی انتہائی بےبصیرتی کا ثبوت دیتے ہوئے انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ تم جیسی چاہو نشانی لے کر آجاؤ اور کتنا بڑا معجزہ ہمیں دکھا دو اور چاہے دلائل کا انبار ہمارے سامنے لگا دو اور بیشک ہم تمہارے سامنے بےبس ہو کر رہ جائیں لیکن ہم تم پر کبھی ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ تم جو کچھ کر رہے ہو وہ صرف سحر کا نتیجہ ہے یہ تمہارے جادو کا طلسم ہے جس سے تم نے ہمیں مسحور کرنے کی کوشش شروع کر رکھی ہے۔ ہم یہ تمہاری کوشش کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ جب ان کا حق سے عناد اور باطل سے محبت اس حد تک پہنچ گئے کہ وہ ہر صحیح بات کو رد کرنے میں دلیر ہوگئے اور ان کا حال یہ ہوگیا کہ نہ ان پر کوئی دلیل اثر انداز ہوتی اور نہ اللہ کی طرف سے کوئی آزمائش انھیں صحیح رخ اختیار کرنے پر مجبور کرتی تو تب پروردگار نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے انھیں ایسے بڑے بڑے معجزات دکھانا شروع کیے جو اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی تھے کہ موسیٰ اگر اللہ کے نبی نہ ہوتے تو یہ سب کچھ کیوں ظہور پذیر ہوتا اور ساتھ ہی ساتھ وہ معجزات ایسے تھے جس نے انھیں بری طرح ہلا کر رکھ دیا یعنی ایک طرف اگر ان معجزات میں دل و دماغ کو سوچنے کی دعوت تھی تو ساتھ ہی ساتھ ان میں ایک ہیبت بھی تھی جس سے گردنیں جھکائی جاسکتی تھیں چناچہ ان کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے :
Ayah 7:133

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

تو ہم نے ان پر بھیجے طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون، تفصیل کی ہوئی نشانیاں تو انھوں نے تکبر کیا اور یہ مجرم لوگ تھے۔

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ والْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ قف فَاسْتَکْبَرُوْا وَکَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 133) ” تو ہم نے ان پر بھیجے طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون، تفصیل کی ہوئی نشانیاں تو انھوں نے تکبر کیا اور یہ مجرم لوگ تھے “۔ آیاتِ مفصلات کا مفہوم اس آیت کریمہ میں دو لفظ آئے ہیں اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ اہل علم نے اس کے دو ترجمے اور دو مفہوم بیان کیے ہیں پہلا ترجمہ یہ ہے جدا جدا اور الگ الگ معجزات ‘ جسکا مفہوم یہ ہے کہ یہاں جتنے معجزات کا ذکر ہوا ہے یعنی طوفان ‘ ٹڈی ‘ جوئیں ‘ مینڈک اور خون۔ یہ پانچ معجزات ایک ہی دفعہ ان کے سامنے نہیں آئے بلکہ ان میں سے ہر ایک معجزہ اپنے اپنے وقت پر الگ سے انھیں دکھایا گیا چناچہ جب ایک سے وہ راہ راست پر نہیں آئے تو پھر دوسری نشانی اور دوسرا معجزہ ان کے سامنے آیا۔ اس طرح سے مسلسل انھیں ہلانے جھنجھوڑنے اور سوچنے سمجھنے کے لیے پروردگار نے موقع فراہم کیا لیکن انھوں نے اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔ دوسرا ترجمہ ہے یہ تمام نشانیاں جو تفصیل سے ذکر کی گئی ہیں یعنی یہاں تو ان نشانیوں اور معجزات کو نہایت اختصار سے بیان فرمایا گیا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہیں اور ان کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے تو یہ قرینہ راہنمائی کر رہا ہے کہ یقینا یہاں ظرف محذوف ہے یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ ان نشانیوں کو تورات میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس مفہوم کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم تورات سے اس کی تفصیلات ذکر کریں۔ تورات میں ایک ایک معجزے کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے چناچہ جس ترتیب سے یہاں معجزات کو شمار کیا گیا ہے ہم اسی ترتیب سے تورات سے اقتباسات نقل کرتے ہیں۔ معجزات کی تفصیل 1 طوفان تورات میں اس طوفان کی تفصیل اس طرح آئی ہے۔ ” اور خداوند نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بڑھا تاکہ سب ملک مصر میں انسان اور حیوان اور کھیت کی سبزی پر جو ملک مصر میں ہے اولے گریں اور موسیٰ نے اپنی لاٹھی آسمان کی طرف اٹھائی اور خداوند نے رعد اولے بھیجے اور آگ زمین تک آنے لگی اور خداوند نے ملک مصر پر اولے برسائے پس اولے گرے اور اولوں کے ساتھ آگ ملی ہوئی تھی اور وہ اولے ایسے بھاری تھے کہ جب سے مصری قوم آباد ہوئی ایسے اولے ملک میں کبھی نہیں پڑے تھے اور اولوں نے سارے ملک مصر میں ان کو جو میدان میں تھے ‘ کیا انسان کیا حیوان ‘ سب کو مارا اور کھیتیوں کی ساری سبزی کو بھی اولے مار گئے اور میدان کے سب درختوں کو توڑ ڈالا “۔ (خروج باب 9: 22-25) اس سے معلوم ہوا کہ یہ طوفان رعد ‘ گرج ‘ کڑک اور اولوں کا طوفان تھا۔ بارش اور ہوائے تند بھی اکثر اسکے ساتھ ہوتی ہے۔ اس میں آگ کا جو ذکر ہے یہ تورات کے مترجموں کی غلطی ہے۔ اس سے مرادہماری عام آگ نہیں ہے بلکہ یہ وہ بجلی ہے جو اس طرح کے طوفان کے لوازم میں سے ہے۔ 2 جراد (ٹڈیاں) اس کی تفصیل تورات میں یوں آئی ہے۔ ” تب خداوند نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ ملک مصر پر اپنا ہاتھ بڑھا تاکہ ٹڈیاں ملک مصر پر آئیں اور ہر قسم کی سبزی کو جو اس ملک میں اولوں سے بچ رہی ہے چٹ کر جائیں۔ پس موسیٰ (علیہ السلام) نے ملک مصر پر اپنی لاٹھی بڑھائی اور خداوند نے اس سارے دن اور ساری رات پروا آندھی چلائی اور صبح ہوتے ہوئے پروا آندھی ٹڈیاں لے آئی اور ٹڈیاں سارے ملک مصر پر چھا گئیں اور وہیں مصر کی حدود میں بسیرا کیا اور ان کا دَل ایسا بھاری تھا کہ نہ تو ان سے پہلے ایسی ٹڈیاں کبھی آئیں اور نہ ان کے بعد پھر آئیں گی۔ کیونکہ انھوں نے تمام روئے زمین کو ڈھانک لیا ‘ ایسا کہ ملک میں اندھیرا ہوگیا اور انھوں نے اس ملک کی ایک ایک سبزی کو اور درختوں کے میوئوں کو جو اولوں سے بچ گئے تھے چٹ کرلیا اور ملک مصر میں نہ تو کسی درخت کی نہ کھیت کی کسی سبزی کی ہریالی باقی رہی “۔ (خروج باب 10: 12-15) 3 قمل (جوئیں) یہ آفت جس شکل میں ظاہر ہوئی اس کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے۔ ” تب خداوند نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا ‘ ہارون سے کہہ اپنی لاٹھی بڑھا کر زمین کی گرد کو مار تاکہ وہ تمام ملک مصر میں جوئیں بن جائے۔ انھوں نے ایسا ہی کیا اور ہارون نے اپنی لاٹھی لے کر اپنا ہاتھ بڑھایا اور زمین کی گرد کو مارا اور انسان اور حیوان پر جوئیں ہوگئیں اور تمام ملک مصر میں زمین کی ساری گرد جوئیں بن گئی “۔ (خروج باب 8: 16-17) 4 الضفادع (مینڈک) ضفادع ‘ ضفدع کی جمع ہے۔ ضفدع مینڈک کو کہتے ہیں۔ اس عذاب کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے۔ ” پھر خداوند نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ فرعون کے پاس جا اور اس سے کہہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے کہ میری عبادت کریں اور اگر تو ان کو جانے نہ دے گا تو دیکھ میں تیرے ملک کو مینڈکوں سے ماروں گا اور دریا بیشمار مینڈکوں سے بھر جائے گا اور وہ آکرتیرے گھر میں اور تیری آرام گاہ میں اور تیرے پلنگ پر اور تیرے ملازموں کے گھروں میں اور تیری رعیت پر اور تیرے تنوروں اور تیرے آٹا گوندھنے کے لگنوں میں گھستے پھریں گے اور تجھ پر اور تیری رعیت اور تیرے نوکروں پر چڑھ جائیں گے۔ اور خداوند نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرمایا کہ ہارون سے کہہ اپنی لاٹھی لے کر اپنا ہاتھ دریائوں ‘ نہروں اور جھیلوں پر بڑھا اور مینڈکوں کو ملک مصر پر چڑھا لا۔ چناچہ جتنا پانی مصر میں تھا اس پر ہارون نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور مینڈک چڑھ آئے اور ملک مصر کو ڈھانک لیا “۔ (خروج باب 8: 1-6) 5 دَمْ (خون) اس کے معنی خون کے ہیں۔ اس کے ظہور کی شکل اس طرح مذکور ہے۔ ” اور خداوند نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ ہارون سے کہہ اپنی لاٹھی لے اور مصر میں جتنا پانی ہے یعنی دریائوں ‘ نہروں ‘ جھیلوں اور تالابوں پر اپنا ہاتھ بڑھا تاکہ وہ خون بن جائیں اور سارے ملک مصر میں پتھر اور لکڑی کے برتنوں میں بھی خون ہی خون ہوگا اور موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے خداوند کے حکم کے مطابق کیا۔ اس نے لاٹھی اٹھا کر اسے فرعون اور اس کے خادموں کے سامنے دریا کے پانی پر مارا اور دریا کا پانی سب خون ہوگیا اور دریا کی مچھلیاں مرگئیں اور دریا سے تعفن اٹھنے لگا اور مصری دریا کا پانی نہ پی سکے اور تمام ملک مصر میں خون ہی خون ہوگیا “۔ (خروج باب 8: 19-21) معجزات سے پھوٹنے والی باتیں موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے قوم فرعون کو جو معجزات دکھائے گئے یہ ان میں سے چند معجزات ہیں آپ نے تورات کے حوالے سے ان کی تفصیل پڑھی ہے اس میں دو باتیں تو بہت نمایاں نظر آتی ہیں ایک یہ کہ یہ معجزات کوئی ناگہانی واقعات نہیں تھے کہ اچانک پیش آگئے بلکہ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جن کے بارے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو پہلے وارننگ دی کہ اگر تم نے میری دعوت کو قبول نہ کیا اور اپنا رویہ نہ بدلاتو تم پر یہ مصیبت نازل ہوسکتی ہے چناچہ جب اس نے ماننے سے انکار کردیا تو چند دنوں کے بعد وہ مصیبت نازل ہوگئی۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ باقاعدہ انھیں اطلاع دینے کے بعد پروردگار انھیں ان مصائب میں مبتلا کرتا تھا تاکہ انھیں اچھی طرح اس بات کا یقین ہوجائے کہ موسیٰ (علیہ السلام) واقعی اللہ کے رسول ہیں اور یہ جو کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے یہ آپ کی دعوت کو قبول نہ کرنے کا نتیجہ ہے اور دوسری بات جو ان معجزات سے نمایاں ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ کوئی ایسی چھوٹی موٹی باتیں نہیں تھیں جن سے عام طور پر قومیں اثر قبول نہیں کرتیں بلکہ یہ تو ہلا دینے والے ایسے ہولناک مصائب تھے جن سے ہر چھوٹا بڑا متاثر ہوتا تھا اور ان کی ہولناکی کو دیکھ کر دل سہم سہم جاتے تھے ان دونوں باتوں کا نتیجہ تو یہ نکلنا چاہیے تھا کہ یہ لوگ فوراً حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کرلیتے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ ان کی گردنیں جھکتیں وہ اللہ سے ڈرنے لگتے اور نتیجتاً پیغمبر کی دعوت کو قبول کرلیتے ‘ بالکل اس کے برعکس انھوں نے تکبر اور غرور کا راستہ اختیار کیا کہ نہ تو پیغمبر کی دعوت کو قبول کیا ‘ نہ پیغمبر کو اہمیت دی ‘ نہ اللہ کا خوف ان کے دل میں پیدا ہوا اور نہ ان کی طرف سے بنی اسرائیل پر مظالم میں کوئی کمی آئی بلکہ ان کے ایک ایک بگاڑ میں مزید شدت پیدا ہوگئی۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ ان کے اس تکبر کا سبب یہ تھا کہ یہ قوم مجرموں کا گروہ تھا۔ ایسے جرائم پیشہ لوگ جو کسی بھی حق بات کو قبول کرنے سے محروم کردیئے جاتے ہیں۔ آپ نے بارہا دیکھا ہوگا کہ کہیں خون بہتا ہو ‘ کہیں سے سسکیاں بلند ہو رہی ہوں ‘ کہیں چیخیں سنائی دیتی ہوں ‘ کہیں فریادیں کی جا رہی ہوں تو جس آدمی میں ذرا بھی انسانیت ہوتی ہے وہ ایسی صورت حال میں پگھل جاتا ہے اس کا دل کانپ اٹھتا ہے اولاً تو وہ مدد کے لیے آگے بڑھتا ہے اور اگر ایسا نہ کرسکے تو ان مصائب کو دیکھ کر اس کا دل پسیجتا ضرور ہے لیکن جن لوگوں کو ہم جرائم پیشہ کہتے ہیں یعنی جرم جن کی گھٹی میں پڑجاتا ہے وہ ایسے سنگدل ثابت ہوتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بات بھی ان کی طبیعت پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ لوگوں کے آنسو ‘ بچوں کی چیخیں ‘ عورتوں کی سسکیاں ان کے لیے تفریح کا سامان ہوتی ہیں۔ بچوں کو نیزوں پر اچھال کر انھیں ایک طرح سے خوشی محسوس ہوتی ہے۔ عورتوں کی عزتیں لوٹ کر انھیں جنسی آسودگی ملتی ہے۔ ہر طرح کا ظلم ان کے بہیمانہ جذبات کو تسکین دیتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں پر مشتمل قوم فرعون بھی تھی۔ وہ اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے بلکہ یہ سب کچھ ان کے ساتھ بیت رہا تھا لیکن ان کے دلوں کے پتھروں میں قبولیت کی کوئی جونک نہیں لگ رہی تھی بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے ان مصائب کو جو پیغمبر کی صداقت کے بینات تھے اور ان کے لیے سزا بھی تھے انھیں ایک کھیل بنا لیا تھا۔ جس سے ان کی ذہنیت کے بارے میں عجیب سا احساس ہونے لگتا ہے جس کی کوئی توجیہہ آسان محسوس نہیں ہوتی۔ اگلی آیت کریمہ میں اسی صورت حال کو بیان کیا جا رہا ہے۔
Ayahs 7:134–135

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

اور جب آتی ان پر کوئی آفت تو کہتے اے موسیٰ ! تم اپنے رب سے اس عہد کے واسطے سے جو اس نے تم سے کر رکھا ہے ہمارے لیے دعا کرو اگر تم نے ہم سے یہ آفت دور کردی تو ہم تیری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

مگر جب ہم ان سے اس آفت کو دور کردیتے ایک مدت کے لیے جس تک وہ پہنچنے والے ہوتے تو وہ دفعتاً عہد توڑ دیتے۔

ارشاد فرمایا : وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیْہِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوسْیَ ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنْدَ کَ ج لَئِنْ کَشََفْتَ عَنَّا الِرّجْرَ لَنُوئْمِنَنَّ لَکَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَکَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ ۔ فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُمُ الِرّجْزَ اِلٰٓی اَجَلٍ ھُمْ بٰلِغُوْہُ اِذَا ھُمْ یَنْکُثُوْنَ ۔ (الاعراف : 134، 135) ” اور جب آتی ان پر کوئی آفت تو کہتے اے موسیٰ تم اپنے رب سے اس عہد کے واسطے سے جو اس نے تم سے کر رکھا ہے ہمارے لیے دعا کرو اگر تم نے ہم سے یہ آفت دور کردی تو ہم تیری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے مگر جب ہم ان سے اس آفت کو دور کردیتے ایک مدت کے لیے جس تک وہ پہنچنے والے ہوتے تو وہ دفعتاً عہد توڑ دیتے ‘ ‘۔ یعنی جب بھی وہ عذاب کی گرفت میں آتے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی منت سماجت کرنے لگتے کہ اللہ کے یہاں جو آپ کو ایک خاص مقام حاصل ہے اسکی وجہ سے ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ آپ اللہ سے دعا کر کے ہمیں اس عذاب سے نجات دلا دیں تو ہم آپ پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی آپ کے ساتھ جانے دیں گے اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ انھیں اس بات کا یقین تھا کہ یہ مصائب اللہ کی طرف سے آرہے ہیں اور اس کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا ہے اور مزید وہ یہ بات بھی سمجھتے تھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا اللہ کے یہاں ایک خاص مرتبہ ہے یعنی وہ اللہ کے مقرب رسول ہیں۔ اللہ ان کی دعائیں سنتا ہے وہ جب اللہ سے التجا کریں گے تو یقینا ہم سے اللہ تعالیٰ یہ عذاب واپس لے لیں گے۔ حیرانی کی بات ہے کہ وہ ایک طرف تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حقانیت کے قائل بھی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ کے یہاں ان کا ایک خاص مقام ہے اور ساتھ ہی اس بات کا بھی یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ مصائب ہم پر نازل ہو رہے ہیں اس کا سبب یقینا موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لانا ہے لیکن اس کے باوجود وہ راہ راست اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے التجا بھی کرتے ہیں لیکن درپردہ ذہن میں ان کا یہ خیال موجود رہتا ہے کہ ہم اس التجا کو صرف تکلیف دور کرنے کا ذریعہ بنا رہے ہیں ‘ ایمان ہماری ضرورت نہیں۔ چناچہ جب ان سے وہ تکلیف دور کردی جاتی اور انھیں ایک مدت کے لیے مہلت مل جاتی ہے تو وہ پھر اپنے اصل رویے کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور جب مزید کوئی عذاب ان پر اترتا ہے تو پھر وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آکر دعا کے لیے التجا کرنے لگتے ہیں۔ یہ ان کا بار بار موسیٰ (علیہ السلام) سے ملتجی ہونا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا ان کے لیے دعا کرنا اور پھر مصیبت کے ٹل جانے کے بعد ان کا اپنے وعدوں سے پھرجانا یہ ایسا حیرت انگیز رویہ ہے جس کی اس کے سوا کوئی توجیہہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے ناراض ہوتا ہے تو اپنے قانون ہدایت کے مطابق انھیں مہلت پہ مہلت دیتا چلا جاتا ہے لیکن جب وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو پھر انھیں ہدایت سے محروم رکھنے کا فیصلہ کردیا جاتا ہے چناچہ اس فیصلے کی گرفت میں آجانے کے بعد وہ قوم ہدایت قبول کرنے سے یکسر عاری ہوجاتی ہے اور پھر چھوٹے موٹے عذاب ان پر کوئی اثر نہیں کرتے جس طرح ایک ڈھیٹ آدمی نصیحت یا چھوٹی موٹی تنبیہہ پر اثر قبول نہیں کرتا اسی طرح ڈھیٹ قومیں بھی اللہ کی تنبیہات سے اثر قبول نہیں کرتیں اس کا نتیجہ آخر یہ نکل کے رہتا ہے کہ وہ اللہ کے اس عذاب کا شکار ہوتی ہیں جس سے ان کی زندگی کا خاتمہ کردیا جاتا ہے۔ چناچہ یہاں بھی ایسا ہی ہوا کہ انھیں ہر ممکن طریقے سے راہ راست پر لانے کی کوشش کی گئی انھیں مصائب میں مبتلا کر کے نرم کیا گیا۔ معجزات دکھا کر نبی کی حقانیت ثابت کی گئی لیکن اس تمام صورتحال کے باوجود بھی ان کے رویے میں کوئی کمی نہیں آئی تو بالآخر اللہ کا آخری فیصلہ آگیا جس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں کیا جا رہا ہے :