7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsروح القرآن

Ayah 7:194

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

بیشک تم جن کو اللہ کے ماسوا پکارتے ہو وہ تو تمہارے ہی جیسے بندے ہیں پس ان کو پکارو اور انھیں چاہیے کہ وہ تمہیں جواب دیں اگر تم سچے ہو۔

ارشاد ہوتا ہے : اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ فَادْعُوْھُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (الاعراف : 194) بیشک تم جن کو اللہ کے ماسوا پکارتے ہو وہ تو تمہارے ہی جیسے بندے ہیں پس ان کو پکارو اور انھیں چاہیے کہ وہ تمہیں جواب دیں اگر تم سچے ہو۔ شخصیت پرستی پر تنقید گزشتہ آیت کریمہ میں تنقید بت پرستی پر تھی اب شخصیت پرستی پر ہورہی ہے۔ مشرکین سے فرمایا جارہا ہے کہ بت پرستی کے حوالے سے تمہارا عذر یہ ہے کہ ہم ان پتھر کے تراشے ہوئے بتوں کو نہیں پوجتے بلکہ ہم ان شخصیتوں کی پوجا کرتے ہیں جو ان بتوں کے اندر حلول کرجاتی ہیں اور وہ شخصیتیں زندہ شخصیتیں رہی ہیں اور آج بھی بعض ان میں سے تاحال باقی ہیں اور بعض کے اثرات باقی ہیں۔ اگر ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں تو فرشتے تو اپنی تمام تر شان و شوکت کے ساتھ زندہ ہیں اور اس طرح مظاہرِ فطرت کی رعنائیوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔ رہے اللہ کے نیک بندے جو دنیا سے جاچکے ہیں تو روحیں تو ان کی بھی زندہ ہیں اور وہی ہماری مدد کرتی ہیں۔ مشرکین کی انہی معبود شخصیتوں کی طرف اشارہ کرکے قرآن کریم کہہ رہا ہے کہ تم جن شخصیتوں کی پوجا کرتے ہو، ان سے مدد مانگتے ہو اور ان کے نام پر قربانیاں دیتے ہو اور تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ وہ بڑی قوتوں کی مالک ہیں اور تمہاری ہر طرح کی مدد کرنے پر قادر ہیں تم ان میں سے کسی ایک کا نام لے کر بتائو جو اللہ کے احکام کی پابند نہ ہو، تم مظاہرِ قدرت یا مظاہرِ فطرت کی بات کرتے ہو، ذرا انھیں غور سے دیکھو ان سے بڑھ کر اللہ کی بندگی میں جکڑا ہوا اور کون ہوگا ؟ سورج تمہارے نزدیک سب سے بڑا دیوتا ہے لیکن کیا سورج کی مجال ہے کہ وہ اللہ کے حکم کی سرتابی کرے وہ وقت مقررہ پر طلوع ہوتا ہے اور وقت مقرر پر غروب ہوجاتا ہے، اللہ نے جو اس کے لیے محور اور مدار بنادیا ہے وہ کبھی اس سے نکلنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ سورة یٰسین میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ سورج کی مجال نہیں وہ چاند کو جاپکڑے اور رات کی یہ ہمت نہیں کہ وہ دن سے آگے نکل جائے۔ یہ تمام سیارے اور ستارے اللہ کے حکم سے اپنے اپنے مدار میں محو گردش ہیں انسان تو پھر عارضی طور پر ہی سہی اپنی مرضی کرنے کا اختیار رکھتا ہے لیکن انسانوں نے جن کو اپنا دیوتا بنا کر پوجا کی ہے وہ تو اپنی مرضی کے ہرگز مالک نہیں بلکہ اللہ کی مرضی کے پوری طرح پابند ہیں تم فرشتوں سے مدد مانگتے ہو تو فرشتے تو سرے سے اللہ کے احکام سے سرتابی کا تصور بھی نہیں کرسکتے انھیں جس ڈیوٹی پر لگا دیا گیا ہے وہ کبھی اس سے سرِ موانحراف نہیں کرسکتے وہ اللہ کے عاجز بندے ہیں لیکن اللہ کے یہاں اپنی تسبیح و تقدیس سے عزت پائے ہوئے ہیں۔ مختصر یہ کہ کائنات کی کوئی چھوٹی بڑی چیز حتی کہ بڑے سے بڑا کرہ بھی بالکل اسی طرح بندگی میں جکڑا ہوا ہے جس طرح ہم سے بندگی کا تقاضہ کیا جاتا ہے تو جب وہ بھی ہماری طرح بندے ہیں، تو بندہ تو بندہ ہی رہتا ہے معبود نہیں ہوسکتا، تو تم نے ان کو معبود بنا کر کس طرح پکارنا شروع کردیا ہے ؟ چلیے ! اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ وہ واقعی معبود ہیں اور وہ ہر طرح تمہاری مدد کرنے کی قدرت رکھتے ہیں تو جانے دیجئے اس بات کو کہ آج تک انھوں نے تمہاری مدد نہیں کی۔ تمہیں اصرار ہے کہ وہ تمہاری مدد کرتے رہے ہیں لیکن اب جبکہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری اور قرآن کریم کے نزول کے بعد حق و باطل کا معرکہ سرگرم ہوگیا ہے اور آنحضرت ﷺ اور قرآن حق گوئی کی کسوٹی بن کر آگئے ہیں اور ان کا فرمانا یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی کسی کی مدد کرنے پر قادر نہیں سب اللہ کے بےبس بندے ہیں اور تمہیں اپنی اس بات پر بےحد اصرار ہے تو ایسی صورتحال میں جب کہ ایک طرف پیغمبر کی سچائی ہے اور دوسری طرف تمہارے اپنے برسر حق ہونے کا دعویٰ کہ مشرکین جن کو پکارتے رہے ہیں وہ محض مفروضہ نہیں تھا بلکہ واقعی کوئی ان کی حقیقت تھی۔ لیکن آج اگر تمہارے شرکاء نے تمہاری مدد نہ کی تو یہ ثابت ہوجائے گا کہ تم جس بات کا دعویٰ کرتے تھے وہ جھوٹ اور گمراہی کے سوا کچھ نہ تھا اس لیے فرمایا گیا کہ اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو پھر آج تو تمہارے مزعومہ معبودوں کو تمہاری مدد کرکے تمہیں برسر حق ثابت کرنا چاہیے۔ یہ بالکل اسی طرح کا چیلنج ہے جیسے پروردگار نے قرآن کریم کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے عربوں کو قرآن کریم جیسی کتاب لانے کا چیلنج دیا تھا اور ساتھ ہی یہ فرمایا تھا کہ قرآن جیسی کتاب تو کیا لائو گے لیکن تم اگر قرآن کو اللہ کی کتاب نہ ماننے کے دعویٰ میں سچے ہو تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا کرلے آئو یہاں بھی یہ فرمایا جا رہا ہے کہ تم اگر اپنے شرک میں سچے ہو تو پھر معبودوں سے کہو کہ وہ تمہاری مدد کریں لیکن جب ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تو پھر اگلی آیت کریمہ میں ان کے نقطہ نگاہ کا استخفاف کرتے ہوئے ان کی غیرت کو جھنجھوڑا گیا اور ساتھ ہی ان کے غلط تصورات کو چیلنج بھی کیا گیا ہے۔
Ayahs 7:195–196

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

کیا ان کے پائوں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں ؟ کیا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہیں ؟ کیا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں ؟ کیا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں ؟ کہہ دو ! تم اپنے شریکوں کو بلائو پھر میرے خلاف چالیں چل کر دیکھو اور مجھے مہلت نہ دو

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

میرا کارساز وہ اللہ ہے جس نے کتاب اتاری ہے اور وہ نیکوکاروں کی کارسازی فرماتا ہے۔

ارشاد فرمایا : اَلَہُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِھَآز اَمْ لَھُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِھَآز اَمْ لَھُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِھَآ ز اَمْ لَھُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِھَآط قُلِ ادْعُوْا شُرَکَآئَ کُمْ ثُمَّ کِیْدُوْنِ فَلاَ تُنْظِرُوْنَ اِنَّ وَلِیِّیَ اللّٰہُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتٰبَ ز صلے وَھُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ (الاعراف : 195، 196) کیا ان کے پائوں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں ؟ کیا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہیں ؟ کیا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں ؟ کیا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں ؟ کہہ دو ! تم اپنے شریکوں کو بلائو پھر میرے خلاف چالیں چل کر دیکھو اور مجھے مہلت نہ دو میرا کارساز وہ اللہ ہے جس نے کتاب اتاری ہے اور وہ نیکوکاروں کی کارسازی فرماتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں تنقید کا نشتر تیز ہوگیا ہے مشرکین کی غیرت کو جھنجھوڑتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ایک طرف تو تم یہ کہتے ہو کہ ہم جن کی پوجا کرتے اور جن سے مدد طلب کرتے ہیں وہ شخصیتیں بہت بڑی قوتوں کی مالک ہیں اور ان کی اللہ تک رسائی ہے وہ جو چاہیں کرسکتی ہیں لیکن تمہارا معاملہ ان کے ساتھ یہ ہے کہ تم نے ان کے نام پر پتھر کے بت تراش لیے جن کی بےبسی خود تمہارے سامنے ہے ان کی بےبسی کا مذاق اڑاتے ہوئے انھیں جھنجھوڑا گیا ہے کہ تم ایک طرف اپنا تصور کرو اور ایک طرف اپنے معبودوں کا۔ عابد ہمیشہ کمزور اور بےبس ہوتا ہے اور معبود قدرتوں کا مالک۔ لیکن جن معبودوں کے تم نے بت یا مجسمے تراش رکھے ہیں ذرا غور کرو تم نے ان کے پائوں بنائے ہیں، معمولی جانور کا بچہ بھی اپنے پائوں سے چلتا ہے لیکن یہ تمہارے معبود پائوں سے چلنے کے قابل نہیں۔ تم نے ان کے ایسے ہاتھ بنائے ہیں جن میں پکڑنے کی طاقت نہیں، وہ تمہیں تو کیا تھا میں گے تم انھیں اٹھاکر کبھی ادھر کبھی ادھر رکھتے ہو، پھر ان کی آنکھیں ایسی ہیں جن میں دیکھنے کی صلاحیت نہیں حالانکہ تم اور تم جیسے اور لوگ بھی دیکھنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں ایسے ہی تم نے ان کے کان بنا رکھے ہیں جن سے وہ سن نہیں سکتے جبکہ معمولی سے معمولی شخص بھی قوت سماعت سے گراں بار ہے یعنی جو نعمتیں تمام انسانوں حتی کہ حیوانوں تک کو میسر ہیں یہ تمہاری بڑی قوتوں والوں کے قالب اور ان کے مجسمے وہ ان قوتوں سے بھی محروم ہیں۔ اس سے بڑا فکری تضاد اور عقل کا فساد اور کوئی نہیں ہوسکتا کہ جو قوتیں عقل تو بہت بڑی بات ہے معمولی احساس سے تہی دامن ہیں تم انھیں اپنا معبود بنا رہے ہو۔ یہ ایک ایسی تنقید ہے جسے سن کر ہر عقیدت مند برہمی کے اظہار کے سوا کچھ نہیں کرسکتا یا تو وہ کہنے والے سے الجھ پڑے گا اور یا پھر صورتحال سے نکلنے کی کوشش کرے گا ایک باغیرت آدمی کے لیے ایسی صورت حال سے تو مرجانا بہتر ہوتا ہے۔ لیکن مشرکینِ مکہ کا ہمیشہ یہ طریقہ رہا ہے کہ جب وہ اس طرح کی جارحانہ تنقید کا جواب نہیں دے سکتے تو ایک طرف تو وہ مخالفت میں شدت پیدا کردیتے ہیں اور دوسری طرف وہ داعی حق کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ خوف زدہ ہو کر انھیں آئینہ دکھانے سے رک جائے۔ یہاں بھی معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے ایسا ہی کیا آنحضرت ﷺ کو دھمکی دی جانے لگی کہ اگر تم اس تنقید سے نہ رکے اور تم نے ہمارے بتوں کی مذمت کرنا بند نہ کی تو ہم تمہیں تنبیہ کرتے ہیں کہ ہمارے معبودوں کی مارتم پر پڑے گی، ان کا غضب تم پر بھڑکے گا اور تم بھسم ہو کر رہ جاؤ گے، تمہارا سب کچھ تباہ ہوجائے گا۔ چناچہ اسی کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ تم سے دلائل کا جواب اگر بن نہیں پارہا تو تم مجھے نقصان پہنچانے کی جو تدبیر کرسکتے ہو کر گزرو مجھے ہرگز مہلت نہ دو کہ میں تمہاری اس تدبیر اور اس چال کا کوئی توڑ سوچ سکوں لیکن مجھے یقین ہے کہ تمہارے عقائد چونکہ سراسر باطل ہیں تم نے سراب کو پانی سمجھ رکھا ہے تم نے ان سے امید وفا باندھ رکھی ہے جو جانتے نہیں کہ وفا کیا ہے، تم نے ان سے امیدیں باندھ رکھی ہیں جن کی حقیقت سوائے پتھروں کے اور کچھ نہیں، تم نے محض مفروضوں کے سہارے حقیقتوں کا خون کرکے رکھ دیا ہے، تم نے اس مفروضے کی بنیاد پر پتھروں کے بت تراشے ہیں کہ ان میں تمہاری دیویوں اور تمہارے دیوتائوں کی روحیں حلول کر جاتی ہیں اس لیے تم ان پتھروں کے واسطے سے ان کی پوجا کرتے اور ان سے مدد مانگتے ہو۔ اس بات کی حقیقت سوائے مفروضے کے اور کچھ نہیں، اس لیے کہ پتھر میں کسی کی قوت منتقل نہیں ہوتی اور پھر جن قوتوں کے سہارے تم نے شرک کا کاروبار رچا رکھا ہے، وہ بجائے خودا پنی کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔ قوت کا سرچشمہ صرف اللہ کی ذات ہے۔ شیطانی قوتیں بعض دفعہ اپنے ماننے والوں کو شرک میں مستحکم کرنے کے لیے تھوڑا بہت سہارا تو دیتی ہیں لیکن یہ سہارے صرف گمراہی کے سہارے ہوتے ہیں۔ جب حق و باطل کا معرکہ گرم ہوتا ہے اور اللہ کے نبی سے معاملہ پڑتا ہے یا نبیوں کے سچے پیروکاروں سے واسطہ پڑتا ہے تو پھر یہ شیطانی یا جناتی قوتیں بھی اپنے ماننے والوں کو کوئی مدد نہیں دے سکتیں۔ اس لیے فرمایا جارہا ہے کہ تمہیں تمہارے کاہنوں نے بہت سارے غلط سہارے دے رکھے ہیں لیکن اب تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میرا کارساز اور میرا مددگار اور میرا حامی و ناصر اللہ ہے (یہاں ولی کا لفظ آیا ہے جس کے معنی حامی وناصر اور مرجع و کارساز کے ہیں) اور جس کا ولی اور حامی وناصر اللہ ہو اس کے مقابلے میں آنے کی کسی کو جرأت نہیں ہوسکتی اور اللہ اگر نہ چاہے تو کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا چناچہ جنگ بدر میں قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے کہ شیطان نے مشرکین مکہ کو میدانِ بدر میں لانے تک اپنا کردارادا کیا اور وہاں بھی ان کا حوصلہ بڑھاتارہا لیکن جب اس نے فرشتوں کو دیکھا اور اللہ کی مدداترتے ہوئے دیکھی تو ان سے ہاتھ چھڑاکر بھاگا اور کہنے لگا کہ جو میں دیکھ رہا ہوں وہ تم نہیں دیکھ رہے ہو اس لیے میں اللہ سے ڈرتا ہوں میں جانتا ہوں کہ اس کا عذاب بڑا سخت عذاب ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ شیطانی قوتیں بعض دفعہ اپنے ماننے والوں کو مدد تو دیتی ہیں لیکن جس کا ولی اللہ ہو اور وہ اس کے سہارے کفر و باطل کی قوتوں کے مقابلے میں تن کر کھڑا ہوجائے تو پھر اللہ کا قانون یہ ہے کہ تمام شیطانی قوتیں چاہتے ہوئے بھی نہ کافروں کا ساتھ دیتی ہیں اور نہ اہل حق کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں۔ مزید فرمایا کہ میرا کارساز میرا ولی وہ اللہ ہے جس نے نہایت اہتمام سے مجھ پر کتاب اتاری اور اس میں دو باتوں کی طرف اشارہ ہے کہ تم اپنے بتوں کو اگر راہنمائی کے لیے پکارو تو وہ تمہیں جواب تو کیا دیں گے وہ تمہارے ساتھ چلنے کو بھی تیار نہیں ہوتے حتی کہ وہ اس قابل بھی نہیں ہیں کہ تمہاری پیروی کرسکیں لیکن جس اللہ کی بندگی میں کرتا ہوں اس نے میری راہنمائی کے لیے جہاں مجھے حواس اور جوہرِ عقل سے نوازا ہے وہیں مجھ پر کتاب بھی اتاری ہے اور دوسرا اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ تم نے جو میری دشمنی پر کمر باندھ رکھی ہے اور اس دشمنی میں تم ہر تعلق کو بھول چکے ہو اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ میں اللہ کی طرف سے ایک کتاب لے کر آیا ہوں جس میں زندگی گزارنے کا طریقہ، زندگی کے لیے شریعت اور زندگی کا ایک قانون دیا گیا ہے تمہیں دشمنی اصل میں اللہ کی اس راہنمائی سے ہے تم اپنی خواہشوں سے بھرپور زندگی کو چھوڑ کر اللہ کی بندگی کی طرف نہیں آنا چاہتے، اس لیے تم اس کا راستہ ہر طرح کی مخالفت سے روک دینا چاہتے ہو۔ میں چونکہ اللہ کے اسی دین کو تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں اس لیے تم اس دین کی وجہ سے میرے دشمن ہوگئے ہو تو یہ کیسے ممکن ہے کہ جس پروردگار کے دین کو میں شب وروز پیش کرنے میں لگا ہوا ہوں اور جس کی وجہ سے تم نے مجھے زندگی کا ہر دکھ پہنچانے سے بھی دریغ نہیں کیا وہ تمہارے مقابلے میں میری مدد نہ کرے وہ یقینا میری مدد کرے گا اس لیے مجھے تمہاری مخالفتوں کی کوئی پرواہ نہیں نہ تم میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو اور نہ یہ تمہارے دیوی، دیوتا میرا کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔ مزید فرمایا کہ یہ بات صرف میرے ساتھ مخصوص نہیں کہ میں چونکہ اللہ کے دین کی سربلندی، اس کی تبلیغ و دعوت اور اس کے غلبہ کے لیے کام کررہا ہوں اس لیے وہ میری مدد کرتا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو بھی اللہ کا صالح بندہ اپنی زندگی اسی مشن کے لیے گزارے گا جس کے لیے میں گزاررہا ہوں اور وہ محض اللہ کے لیے دشمنوں کی دشمنیاں انگیخت کرے گا اور اپنی شخصیت کی نفی کرتے ہوئے اللہ کے دین میں اپنے آپ کو گم کردے گا اور اس کی زندگی کا مقصدا للہ کے دین کی سرافرازی ٹھہرے گا تو اللہ یقینا اس کی مدد کرے گا، اس کا حامی وناصر ہوگا اور ہر طرح سے اس کی کارسازی فرمائے گا یہ اللہ کا ایک ایسا اٹل قانون ہے جسے اس نے قرآن پاک میں جابجا بیان فرمایا ہے کہ اگر تم اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے کام کروگے تو اللہ تمہیں سربلند کرے گا تم اللہ کے دین کی مدد کروگے اللہ تمہاری مدد کرے گا اور اگر م اس کے دین کی سربلندی اور اس کے نفوذ سے ہاتھ کھینچ لو گے اور اپنا تعلق اس سے توڑ لوگے تو اللہ تمہیں مٹادے گا اور تمہاری جگہ ایک ایسی قوم کو لائے گا جو تم جیسی نہیں ہوگی یہ اس کا قانون ہے جو باربار ہمیں قرآن پاک میں گونجتا ہواسنائی دیتا ہے اور یہی بات آنحضرت ﷺ نے اپنے ارشادات میں باربار دہرائی تاریخ بھی اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ مسلمانوں نے جب بھی اللہ کو اپنا کارساز اور ولی سمجھ کر اس کے راستے میں سب کچھ جھونک دیا تو اللہ نے ہمیشہ ان کی مدد فرمائی۔ ظفر علی خاں نے ٹھیک کہا تھا ؎ یثرب سے اب بھی گونجتی ہے یہ صدا سنو ! وہ جو خدا کے ہوگئے ان کا خدا ہوگیا ایک طرف مشرکین کی بےبسی اور بدنصیبی اور دوسری طرف آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے والوں کی اللہ کی جانب سے نصرت و حمایت کے ذکر پر بات ختم ہوجانی چاہیے کیونکہ شرک کی بےبضاعتی پوری طرح واضح ہوگئی اور دوسری طرف مسلمانوں پر اللہ کے احسانات کے فیصلے کا اعلان ہوگیا اس سے بڑی اتمامِ حجت کوئی نہیں ہوسکتی۔ لیکن اگلی دو آیتوں میں مشرکین سے ایک دفعہ پھر اسلوب بدل کر آخری بات کہی جارہی ہے۔
Ayahs 7:197–198

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:197 in the Quran reader

اور جن کو تم اللہ کے ماسوا پکارتے ہو نہ وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 7:198 in the Quran reader

اگر تم ان کو راہنمائی کے لیے پکارو تو وہ تمہاری بات نہیں سنیں گے اور تم ان کو دیکھتے ہو کہ وہ تمہاری طرف تاک رہے ہیں لیکن انھیں سوجھتا کچھ بھی نہیں

ارشاد ہوتا ہے : وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَکُمْ وَلَآ اَنْفُسَھُمْ یَنْصُرُوْنَ وَاِنْ تَدْعُوْھُمْ اِلَی الْھُدٰی لَایَسْمَعُوْاط وَتَرٰھُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ وَھُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ (الاعراف : 197، 198) ” اور جن کو تم اللہ کے ماسوا پکارتے ہو نہ وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں اگر تم ان کو راہنمائی کے لیے پکارو تو وہ تمہاری بات نہیں سنیں گے اور تم ان کو دیکھتے ہو کہ وہ تمہاری طرف تاک رہے ہیں لیکن انھیں سوجھتا کچھ بھی نہیں “۔ تم جن بتوں کو پکارتے ہو یا جن دیوی دیوتائوں اور مقدس شخصیتوں سے مدد طلب کرتے ہو وہ اسی بنیاد پر کرتے ہو کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ وہ تمہاری مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں حالانکہ جہاں تک بتوں کا تعلق ہے وہ تمہاری مدد تو کیا کریں گے تم انھیں ہزار پکارو وہ تمہاری پکار بھی نہیں سن سکتے تم ان کے سامنے اپنادکھڑا روئو، وہ تمہارے رونے دھونے کو بھی جب سن ہی نہیں سکتے تو مدد کیا کریں گے ؟ تم بظاہر یہ سمجھتے ہو کہ جب تم انھیں پکارتے ہو یا ان کے سامنے ڈنڈوت بجالاتے ہو یا ان کے سامنے کھڑے ہو کر بھجن گاتے ہو یا اپنی حاجتیں پیش کرتے ہو تم یہ سمجھتے ہو کہ وہ تمہیں دیکھ رہے ہیں کیونکہ تم نے ان کی ایسی آنکھیں بنارکھی ہیں جو ہر وقت سامنے گڑی رہتی ہیں لیکن تم جانتے ہو کہ نہ وہ تمہیں دیکھتے ہیں اور نہ تمہاری بات سنتے ہیں ان میں حواس تک موجود نہیں عقل کا تو سوال ہی کیا ہے بلکہ ان میں زندگی کا احساس بھی ناپید ہے۔ کس قدر نادانی کی بات ہے کہ جن میں نہ زندگی ہے نہ احساس تم زندگی اور احساس رکھتے ہوئے بھی ان کے سامنے جھکتے ہو اور ان سے مرادیں مانگتے ہو۔ اگر ان سے دیوی دیوتا یا مقدس شخصیتیں مراد لی جائیں تو حقیقت یہ ہے کہ ان کی حقیقت بھی ماسوائے مفروضوں اور ماسوائے تمہارے رکھے ہوئے ناموں کے اور کچھ بھی نہیں یعنی تم نے اپنے تئیں کسی کو لکشمی دیوی، کسی کو جل دیوتا یا اسی طرح کے کچھ نام دے رکھے ہیں کسی کو تم لات کہتے ہو اور کسی کو منات اور کسی کو تم نے عزیٰ بنارکھا ہے لیکن یہ تمہارے اپنے رکھے ہوئے نام ہیں ان کی حقیقت تو پتھروں کے سوا کچھ بھی نہیں تم نے جو صفات ان کی طرف منسوب کررکھی ہیں وہ بھی تمہارے خود ساختہ انتساب کے سوا کسی حقیقت کی آئینہ دار نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے مفروضہ اعتقادات کے نام سے شرک کا جو ایک کاروبار شروع کررکھا ہے اس کی حقیقت سوائے جہالت، نادانی، خودفریبی، آباء پرستی کے سوا کچھ نہیں اور نتیجہ اس کا دنیا کی تباہی اور آخرت کی بربادی ہے۔ خود سوچ لو تم نے جو راستہ اختیار کررکھا ہے اس میں کتنی معقولیت ہے۔ اگلی آیت کریمہ سے رکوع کا دوسرا حصہ شروع ہورہا ہے جس میں آنحضرت ﷺ کو اور آپ کے واسطے سے مسلمانوں کو اس کٹھن فریضہ کو انجام دینے کی نزاکتیں سکھائی جارہی ہیں اور ہدایات دی جارہی ہیں جس کے لیے آنحضرت ﷺ مبعوث کیے گئے تھے۔