Ayah 7:87ارشاد ہوتا ہے :
وَاِنْ کَانَ طَآئِفَۃٌ مِّنْکُمْ اَمَنُوْا بِالَّذِیْٓ اُرْسِلْتُ بِہٖ وَ طَآئِفَۃٌ لَّمْ یُوْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰی یَحْکُمَ اللہ ُ بَیْنَنَا ج وَھُوَ خَیْرُ الْحٰکِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 87)
” اگر تم میں سے ایک گروہ اس تعلیم پر جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں ایمان لاتا ہے اور دوسرا ایمان نہیں لاتا تو صبر کے ساتھ دیکھتے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے “۔
ایک اعتراض اور اس کا جواب
حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم آپ کی دعوت کے مقابلے میں اس مقام تک پہنچ گئی تھی جب آدمی کے پاس دلائل ختم ہوجاتے ہیں تو پھر وہ اپنے انکار اور اپنی ہٹ دھرمی کو سخن سازیوں اور کٹ حجتیوں میں چھپانے کی کوشش کرتا ہے چناچہ حضرت شعیب کی موثر اور مدلل دعوت نے ان کی زبانیں بہت حد تک گنگ کردی تھیں اور ان کا سرمایہ استدلال بری طرح مفلس ثابت ہو رہا تھا۔ اب انھوں نے یہ رویہ اختیار کیا کہ بات بات میں الجھائو پیدا کرو اور سیدھی سادھی بات جو معمولی غور و فکر سے سمجھ میں آسکتی ہو اس پر اعتراض کرو تاکہ سادہ دل لوگ اس دعوت کو قبول کرنے سے بچے رہیں چناچہ اسی سلسلے کا ان کا یہ اعتراض بھی تھا کہ تم بار بار ہمیں یہ کہتے ہو کہ جس دعوت کو میں لے کر آیا ہوں اس کے قبول کرنے پر تمہاری دنیوی اور اخروی کامرانی کا دارومدار ہے اور اگر تم نے اس دعوت کو قبول نہ کیا تو تم دنیا میں عذاب کا شکار کردیئے جاؤ گے اور آخرت میں ہمیشہ کے لیے جہنم تمہارا ٹھکانہ ہوگا۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ تمہاری قوم کا ایک حصہ تم پر ایمان لایا ہے اور دوسرے حصے نے تمہیں ماننے سے انکار کیا ہے لیکن انجام کے اعتبار سے دونوں اپنی اپنی حالت پر قائم ہیں۔ ایمان لانے والے پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایمان لانے سے ان کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جس طرح حالات کے ہاتھوں وہ پہلے مجبور تھے اب بھی مجبور ہیں۔ معاشرے میں جو عزت انھیں پہلے بھی حاصل نہیں تھی اب ان کی حالت اس سے بھی دگرگوں ہے۔ رہا دوسرا گروہ تو وہ ایمان نہ لانے کے باوجود اسی طرح اپنی خوشحالیوں میں مست ہے ایسا نہیں ہوا کہ ایمان نہ لانے کی وجہ سے ان کے حالات بگڑ گئے ہوں وہ پہلے بھی معاشرے کا بااثر اور موثر طبقہ تھا اب بھی اسے وہی حیثیت حاصل ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان و عمل کے حوالے سے تمہاری باتیں سخن سازی کے سواکچھ نہیں۔ اگر ان کی کوئی حقیقت ہوتی تو مسلمان آج سرفراز ہوتے اور کافر اپنے زخم چاٹ رہے ہوتے۔ اس کے جواب میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئیں۔ اس آیت کریمہ میں غور کرنے سے یہ دونوں باتیں سمجھ میں آتی ہیں ایک تو اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور دوسرا صاحب ایمان لوگوں کی خاص حیثیت کو واضح کیا ہے۔ ہدایت و ضلالت کے معاملے میں اس کا قانون یہ ہے کہ جب اس کا کوئی رسول کسی قوم کی طرف مبعوث ہوتا ہے تو اگر اس کی قوم اس کی تمام تر دعوتی کوششوں کے باوجود ایمان لانے سے یکسر انکار کر دے اور پھر وہ انکار پر اڑی رہے تو اللہ کے رسول کی جانب سے ان پر اتمام حجت ہوجانے کی وجہ سے جلدی ان پر اللہ کا عذاب آجاتا ہے لیکن اگر صورتحال یہ ہو کہ قوم کا ایک حصہ ایمان لائے اور دوسرا اپنے کفر پر جما رہے تو اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں کو تاحد امکان مہلت دیتا ہے کیونکہ ایک طبقے کا ایمان لانا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس سرزمین میں نمی باقی ہے اگر مزید محنت کی جائے تو ممکن ہے کچھ اور لوگ ایمان لانے کے لیے تیار ہوجائیں اس لیے انھیں مہلت دی جاتی ہے تاکہ پیغمبر اور اہل ایمان اپنی کوششوں کو مزید تیز کریں اور اس لسّی (چھاچھ) میں اگر کچھ مکھن کے اثرات باقی ہیں تو مسلسل بلونے سے انھیں نکالنے میں کامیاب ہوجائیں لیکن اگر ایمان لانے کا یہ سلسلہ بالکل رک جاتا ہے تو پھر پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والوں کو ہجرت کا حکم دیا جاتا ہے اور پیچھے رہ جانے والی کافر قوم پر اللہ کا عذاب نازل ہوجاتا ہے۔ یہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ تم پر چونکہ ابھی اللہ کا عذاب نہیں آیا تو تم اور صاحب ایمان لوگ برابر ہو ایسا نہیں بلکہ تمہیں ایمان لانے کے لیے مہلت دی جا رہی ہے کہ تم اگر آپ اپنے دشمن نہیں ہوگئے ہو تو تمہیں اس مہلت سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور دوسری بات جس کی طرف اس آیت کریمہ میں اشارہ موجود ہے وہ یہ ہے کہ اے کافر لوگو ! تمہیں اس کا احساس نہیں کہ تم پر جو اللہ کا عذاب ابھی تک نہیں برسا تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئے اور ان کی وجہ سے تمہاری مہلت دراز ہوگئی۔ تمہیں تو ان کا ممنون احسان ہونا چاہیے کہ تمہاری قیامت ان کی وجہ سے ٹلی ہوئی ہے اور ان کا وجود تمہارے لیے باعث نعمت ہے لیکن اگر اس نعمت سے تم نے فائدہ نہ اٹھایا تو مہلت اپنی طبعی عمر کے بعد ختم ہوجائے گی اور تم پر اللہ کا عذاب آجائے گا اس لیے یہاں فرمایا گیا ہے کہ اس مہلت سے فائدہ اٹھائو اور انتظار کرو کہ کب اللہ تعالیٰ تم میں فیصلہ فرماتے ہیں لیکن یہ بات یاد رکھو کہ یہ فیصلہ ٹلنے والا نہیں لیکن اس کے اچھے یا برے ہونے کا دارومدار تمہارے اپنے فیصلے پر ہے چاہو تو ایمان لا کر دنیا اور آخرت کی کامرانیاں خرید لو اور چاہو تو کفر پر قائم رہ کر دونوں جہانوں کی روسیاہیاں مول لے لو۔
دعوتی استدلال اور ان کے اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب جب اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتا ہے اور اس کے باوجود بھی پیغمبر کی قوم دعوت قبول کرنے کی بجائے نہ صرف کہ اپنی مخالفت سے باز نہیں آتی بلکہ اس کی مخالفت انتقام کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور وہ آخری اقدام پر تل جاتی ہے کہ یا تو اس پیغمبر کو قتل کردیا جائے اور یا اسے اپنی بستیوں سے نکال دیا جائے کیونکہ ہماری اور اس کی زندگی میں جو بعد المشرقین ہے ان کا ایک ساتھ چلنا ناممکن ہے۔ ہم اپنی زندگی کا رویہ بدل نہیں سکتے اور پیغمبر اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے ہم پر تنقید سے رک نہیں سکتے۔ ہمارے اعصاب آہستہ آہستہ اس تنقید کی برداشت سے جواب دیتے جا رہے ہیں اور پھر یہ بات بھی ہے کہ ہمارا پسماندہ اور زیر نگیں طبقہ اس دعوت کے زیراثر باغی ہوتا جا رہا ہے۔ اب ہمیں آخری اقدام کر ہی گزرنا چاہیے چناچہ یہ وہ فیصلہ کن مرحلہ ہوتا ہے جب اللہ کی جانب سے فیصلے کا وقت قریب آجاتا ہے چناچہ اگلی آیات کریمہ میں دعوت کے اسی مرحلے پر جو کچھ پیش آتا ہے اس کا ذکر کیا جا رہا ہے اور پھر جس طرح اس کے نتیجے میں اللہ کا عذاب آکر کافروں کی کمر توڑ کے رکھ دیتا ہے اس کو بیان کیا جا رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے :
Ayahs 7:88–89قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لَنُخْرِجَنَّکَ یٰشُعَیْبُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَکَ مِنْ قَرْیَتِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا ط قَالَ اَوَلَوْ کُنَّا کٰرِھِیْنَ ۔ قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَی اللہِ کَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰنَا اللہ ُ مِنْھَا ط وَمَا یَکُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْھَآ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللہ ُ رَبُّنَا ط وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیْئٍ عِلْمًا ط عَلَی اللہِ تَوَکَّلْنَا ط رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ ۔ (الاعراف : 88، 89)
” اور اس کی قوم کے بڑوں نے ‘ جنھوں نے تکبر کیا ‘ کہا کہ اے شعیب ‘ ہم تم کو اور جو تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال کے رہیں گے یا تم ہماری ملت میں پھر آجاؤ۔ اس نے کہا کیا جب کہ ہم اس سے نفرت کرتے ہوں تب بھی ! ہم اللہ پر جھوٹ تہمت باندھنے والے ٹھہریں گے اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات دی۔ یہ ہم سے تو ہونے کا نہیں کہ ہم اس ملت میں لوٹ آئیں مگر یہ کہ اللہ ہمارے رب ہی کی مشیت ہو تو اور بات ہے۔ ہمارے رب کا علم ہر شے کو محیط ہے۔ ہم نے اپنے رب پر بھروسہ کیا۔ اے ہمارے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دے۔ تو بہترین فیصلہ فرمانے والا ہے “۔
آیتِ کریمہ میں مضمر حقائق
آیت کریمہ کے الفاظ پر غور کیجیے تو کئی حقیقتیں کھل کر سامنے آتی ہیں سب سے پہلی بات یہ کہ حضرت شعیب اور ان کے ساتھیوں کو جو لوگ ڈرا دھمکا رہے ہیں اور ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں وہ عام لوگ نہیں بلکہ اس قوم کا متکبر طبقہ ہے جن کی خوشحالی اور امارت نے ان کے دماغ میں خناس بھر دیا ہے وہ باقی قوم سے اپنے آپ کو الگ اور مراعات یافتہ طبقہ سمجھتے ہیں آج کی زبان میں یہ اس دور کے وی ۔ آئی ۔ پی لوگ ہیں۔ ان کی سوچ ‘ ان کی معاشرت ‘ ان کے طور اطوار ‘ ان کے تعلقات قوم کے دوسرے لوگوں سے بالکل الگ ہوتے ہیں۔ ان کی آبادیاں بھی دوسروں سے جدا ہوتی ہیں ان کی تقریبات میں غریب کو بار نہیں ملتا بلکہ ان کے اپنے جیسے اس میں مدعو کیے جاتے ہیں۔ اس لیے جب کوئی عوام میں سے اٹھ کر ان کی ہدایت کے لیے کوشش کرتا ہے اور ان کی غلطیوں پر انھیں ٹوکتا ہے تو شروع شروع میں تو وہ اسے درخور اعتناء نہیں سمجھتے لیکن رفتہ رفتہ جب یہ دعوت زور پکڑنے لگتی ہے تو پھر وہ سنجیدگی سے اس کا قلع قمع کرنے کے لیے تل جاتے ہیں۔ ایک تو وہ اپنی زندگی پر تنقید برداشت نہیں کرسکتے اور دوسری بات جو ان کو مشتعل کرتی ہے وہ یہ کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اس پیغمبر کی دعوت نے پسماندہ طبقے میں زندگی کی حرارت پیدا کردی ہے وہ لوگ جو کبھی ان کے نام سے کانپتے تھے اور ان کے پائوں کی چاپ سے ان کی جان ہوا ہونے لگتی تھی وہی ان کے سامنے کھڑے ہو کر دوبدو باتیں کرنے لگے ہیں۔ انھیں حیرانی ہوتی ہے کہ یہ لوگ جو ہر طرح ہمارے دست نگر ہیں اور جنھوں نے ہمارے مظالم پر کبھی اف کرنا نہیں سیکھا آج انھیں کیا ہوگیا ہے کہ حقوق آشنائی کے ساتھ ساتھ ان کی آنکھوں میں معرفتِ ذات کے دیئے جلنے لگے ہیں اور ان کے لہجے سے جرأت اور استقامت بولنے لگی ہے یہ چیز انھیں اور پریشان کردیتی ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری خاص حیثیت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے یہ طبقاتی تقسیم اب شاید باقی نہیں رہے گی اور یہ معصوم سا انقلاب اگر برپا ہوگیا تو آج کا بالادست طبقہ کل کو زیردستوں کے ساتھ کھڑا ہوگا یہ احساس انھیں ہضم نہیں ہوتا اور یہی اصل وہ سبب ہے جس کی وجہ سے وہ پیغمبر اور اہل ایمان کو برداشت کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ دنیا کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ پیغمبر انھیں نیکی کی دعوت دیتے ہیں اور لوگ نیکی کے راستے پر چلنا نہیں چاہتے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بالادست طبقہ اور مراعات یافتہ گروہ اپنی حیثیت سے دستبردار ہونا نہیں چاہتا۔ انھوں نے جس طرح سے اپنے جیسے انسانوں کو ایک مدت سے غلام بنا کر رکھا ہے وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ یہ آج کے غلام کل کے آقا بن سکتے ہیں۔ آل فرعون کا کوئی فرد کس طرح اپنے آپ کو بنی اسرائیل کے برابر سمجھ سکتا ہے۔ شودر پڑھ کے ہزار لائق ہوجائے لیکن برہمن کبھی اسے اپنے برابر قبول کرنے کو تیار نہیں ہوسکتا۔ ایک جاگیردار اور ہاری ‘ ایک وڈیرہ اور مزارع ‘ مالک اور مزدور ‘ امیر اور غریب یہ ایک ایسی تقسیم ہے جسے ختم کرنا کسی کے بس میں نہیں اور اللہ کے رسول اسی تقسیم کو ختم کرنے کے لیے دنیا میں تشریف لاتے ہیں۔ محروم طبقہ جب ان کی دعوت میں اپنی محرومیوں کا مرہم دیکھتا ہے تو وہ ان کے گرد اکٹھا ہونے لگتا ہے اور امراء کا طبقہ اسی اجتماعیت میں اپنے لیے موت محسوس کرتا ہے۔ حقیقت میں یہی کشمکش ہے جو بظاہر دین کے حوالے سے چلتی ہے لیکن حقیقت میں یہ معاشرتی اور سماجی کشمکش ہے۔ اس آیت کریمہ میں اسی کشمکش کی طرف اشارہ ہے کہ قوم کے بڑے لوگوں نے جب یہ دیکھا کہ یہ دعوت روز بروز نفوذ پیدا کرتی جا رہی ہے اور غریب لوگ اس کے گرد جمع ہو رہے ہیں انھوں نے آنے والے خطرے کو محسوس کر کے آخری اقدام کا فیصلہ کر ڈالا۔ فرق صرف یہ ہے کہ بجائے قتل کے فیصلے کے انھوں نے ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ حضرت شعیب کی قوم مختلف قبائل کا مجموعہ تھی قبائلی زندگی میں کسی ایک قبیلے کے کسی فرد کو قتل کردینا بہت مشکل کام ہوتا ہے کیونکہ کوئی قبیلہ اپنے کسی آدمی کے مارے جانے پر قصاص لیے بغیر چین سے نہیں بیٹھتا اور قبائل کی فطرت یہ ہوتی ہے کہ دین کے اختلاف کے باوجود بھی قبیلے آپس میں ایک دوسرے سے تعاون جاری رکھتے ہیں اور جب ایک لڑائی ایک قبیلے سے دوسرے قبیلے تک متعدی ہوتی ہے تو پھر اس کے اثرات اور وسعت کو روکنا بہت مشکل ہوجاتا ہے اس لیے قبائل کے سردار ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی قبیلے کا کوئی آدمی دوسرے قبیلے والے کے ہاتھوں نہ مارا جائے اور اگر ایسا ہو تو قصاص یا دیت سے یہ معاملہ حل ہوجائے تو بہتر ہے ورنہ اس آگ کو پھیلنے سے روکنا بہت مشکل ہوجاتا ہے یہ سبب تھا جس کی وجہ سے ان لوگوں نے حضرت شعیب اور آپ پر ایمان لانے والوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اس سے پہلے دھمکی دیتے ہوئے یہ بات کی کہ دو راستے تمہارے سامنے ہیں یا تو تم اس نئے دین سے لاتعلقی کا اظہار کردو اور اپنے پرانے دین میں واپس آجاؤ اور اگر یہ منظور نہیں تو پھر اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے۔ غور فرمایئے کہ حضرت شعیب کی قوم دو مطالبے پیش کر رہی ہے۔ دین سے برگشتگی یعنی ارتداد ورنہ ملک بدری۔ ان دونوں میں سے ہر سوچنے والا یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ دین کا معاملہ زیادہ آسان ہے۔ قبول کرنے کے بعد چھوڑا بھی جاسکتا ہے اور چھوڑ کر قبول بھی کیا جاسکتا ہے لیکن ملک چھوٹ جانا یہ ایک بہت بڑا حادثہ ہے وطن تو انسان کی زندگی ہے اور وطن کی محبت انسان کی شریانوں میں دوڑتی ہے اس سے نکل جانے کا تصور بھی انسان کے لیے نہایت ہولناک ہے اس لیے ہونا یہ چاہیے کہ حضرت شعیب سب سے پہلے اس مطالبے پر بات کرتے کہ بھٔی نظریاتی بحثیں تو چلتی رہیں گی میں نے تمہارے سامنے جو دعوت پیش کی ہے تم اسے قبول نہ کرو لیکن اس کو لڑائی تک پہنچا دینا تو کوئی عقلمندی کی بات نہیں۔ لیکن جہاں تک تعلق ہے ملک سے نکالنے کا تو یہ تو نہایت نامناسب بات ہے۔ ہم ایک مدت دراز سے اس ملک میں اکٹھے رہ رہے ہیں ہماری آپس میں بیسیوں نسبتیں ہیں تو کیا تم کسی نسبت کا بھی خیال کیے بغیر ہمیں ملک سے نکال دو گے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ آپ نے ملک اور وطن سے حوالے سے کوئی بات نہیں کی بلکہ اس مطالبے کو مکمل طور پر نظر انداز فرمایا اور اگر کوئی بات کہی تو دین اور ملت کے حوالے سے کہی کہ تمہاری ملت اور تمہارا دین اگر قابل قبول ہوتا اور ہم اسے اس قابل سمجھتے کہ وہ اللہ کے یہاں قابل قبول ہوسکتا ہے تو ہم اسے پہلے ہی کیوں چھوڑتے۔ اب جبکہ ہم اسے غلط سمجھ کر چھوڑ چکے ہیں اور اس کے مقابلے میں اللہ کی طرف سے نازل کردہ سچے دین کو قبول کرچکے ہیں تو اب اگر اس سچے دین سے ہم پھرجاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جس سچ کی خاطر ہم نے جھوٹ کو چھوڑا تھا وہ سچ حقیقت میں سچ نہیں تھا ہم نے بلاوجہ اس کی نسبت اللہ کی طرف کی تھی یہ سراسر ایک جھوٹی دعوت تھی جو میں تمہارے سامنے پیش کرتا رہا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجیے کہ آج تک میں نے جو کچھ کہا وہ سراسر اللہ پر ایک بہتان اور تہمت تھی ظاہر ہے یہ بات میں کسی طرح بھی کہنے کی جرأت نہیں کرسکتا بلکہ میں تو اس پر اللہ کا شکر بجا لاتا ہوں کہ اللہ نے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں اندھیرے سے نکل کر روشنی میں آنے کی ہمت عطا فرمائی۔ جس غلط زندگی سے اللہ نے ہمیں نجات بخشی ہے تو تم کیا سمجھتے ہو کہ میں اللہ کے اس احسان کو رد کر کے دوبارہ اندھیروں کا مسافر بن جاؤں اس لیے میں تم سے صاف کہتا ہوں کہ تم کبھی اس کا تصور بھی نہ کرو کہ میں اور میرے ساتھی دوبارہ کبھی تمہارے باطل دین کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔ اپنے اس عزم بالجزم کا اظہار کرنے کے بعد ایک عجیب بات فرمائی کہ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہمارا عزم تو راسخ ہے اس میں تو کسی تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتالیکن میں اس عزم پر کلیۃً اعتماد نہیں کرتا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ انسان اپنی ساری خود اعتمادی کے باوجود نہایت کمزور واقع ہوا ہے۔ اگر اللہ کسی کام کو نہ چاہے تو انسان کے سارے ارادے دھرے رہ جاتے ہیں اس لیے اللہ ہی نے ہمیں یہ بات سکھائی ہے کہ جب تم کسی بات کے لیے عزم کرو تو ہمیشہ اس پر اللہ کی توفیق مانگو اور ساتھ ہی یہ ضرور کہو کہ میں تو یہ کام کرنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہوں لیکن ساتھ ہی اللہ پر حقیقی اعتماد کا اظہار بھی کرتا ہوں۔ ایمان اصل میں انہی دونوں چیزوں کا نام ہے ایک عزم بالجزم کا دوسرا تفویض الی اللہ کا کہ آدمی اس بات کا پابند ہے کہ وہ ارادے کی پختگی کے ساتھ اور جسم و جان کی پوری توانائی کے ساتھ باطل سے ترک تعلق کرے اور حق سے اپنا رشتہ باندھے لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ اس بات کا بھی پابند ہے کہ اپنے ارادوں کی باگ دوڑ پوری طرح اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کرے بلکہ ہر بات کا اصل رشتہ اللہ ہی کے ہاتھ میں جانے اور اسی پر بھروسہ کرے یعنی اس کا یقین یہ ہونا چاہیے ؎
کیا فائدہ فکرِ بیش و کم سے ہوگا
ہم کیا ہیں جو کوئی کام ہم سے ہوگا
جو ہوا ‘ ہوا کرم سے تیرے
جو ہوگا ترے کرم سے ہوگا
ارادے کی پختگی اور اللہ سے توفیق کی طلب کے بعد جب آپ نے محسوس کیا کہ میری قوم میری باتوں سے کوئی اثر لینے کے لیے تیار نہیں بلکہ اس کی دشمنی اور نامرادی اس انتہا کو پہنچ گئی ہے کہ وہ آخری اقدام کیے بغیر رکنے والی نہیں تو پھر آپ نے اللہ سے دعا مانگی کہ یا اللہ میں اپنی امکانی کوششیں کرچکا ہوں میری قوم پر پوری طرح اتمام حجت ہوچکا اب میری قوم کو صرف آپ کی طرف سے فیصلے کا انتظار ہے اس لیے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دیں۔ یہ اب قوت استعمال کرنے پر تل گئے ہیں میری بظاہر قوت ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی اب تو آپ کی طرف سے آنے والا فیصلہ ان کی قسمتوں کا فیصلہ کرے گا کیونکہ آپ ہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے ہیں۔
ایک اشتباہ کا جواب
اس آیت کریمہ میں ہم نے دیکھا ہے کہ اپنے دین کو چھوڑ کر دوبارہ ان کے دین باطل میں داخل ہونے سے حضرت شعیب اپنی اور مسلمانوں کی طرف سے انکار فرما رہے ہیں اس کا مطلب بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح آپ پر ایمان لانے والے کفر سے نکل کر اسلام میں آئے تھے کیا حضرت شعیب بھی اسی طرح کفر سے نکل کر اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے تھے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ آپ کی زندگی میں کبھی کوئی وقت ایسا بھی گزرا ہے جب آپ بھی کفر اور شرک کا اعتبار کرتے تھے حالانکہ اللہ کا نبی معصوم پیدا ہوتا ہے وہ نبوت سے پہلے بھی فطرت کی راہنمائی کے مطابق زندگی گزارتا ہے اس لیے وہ کبھی کفر یا شرک میں آلودہ نہیں ہوتا تو یہاں حضرت شعیب کا یہ کچھ فرمانا جس کا ہم نے ذکر کیا ہے آخر اس کا کیا مطلب ہے۔ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ حضرت شعیب اپنی طرف سے نہیں بلکہ اپنے اوپر ایمان لانے والوں کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے یہ باتیں فرما رہے ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اگرچہ نبوت سے پہلے کبھی کفر یا شرک میں آلودہ نہیں ہوتا لیکن وہ مشرکوں کی کسی بات پر تنقید بھی نہیں کرتا وہ خود نہایت پاکیزہ زندگی گزارتا ہے لیکن نبوت سے پہلے پاکیزگی کا درس نہیں دیتا۔ اس صورت حال کی وجہ سے اس کی قوم یہ سمجھتی رہتی ہے کہ وہ شاید ہمارا ہم مذہب ہے، اس لیے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے قوم کے خیال کے مطابق اہل ایمان کی طرف سے بات کرتے ہوئے اپنے آپ کو ان سے الگ نہیں کیا اور مجموعی طور پر وہ بات کہہ دی جو ان کی دھمکی کے جواب میں کہی جانی چاہیے اور اپنے جواب میں اس کو پوری طرح واضح کردیا کہ تم وطن سے نکالنے کی دھمکی دے کر یہ سمجھتے ہو کہ ہم وطن کی خاطر دین چھوڑ دیں گے حالانکہ ہمارے نزدیک اصل حیثیت دین کی ہے وطن تو بدلا جاسکتا ہے۔
مومن کے لیے وطن کی حقیقت
ایک مومن کا وطن اصل میں وہ ہے جہاں اس کی زندگی محفوظ ہے اور جہاں اس کے دین کو خطرات لاحق ہوجائیں وہ پوری طرح اللہ کی بندگی انفرادی اور اجتماعی سطح پر کرنے کا موقع نہ پاتا ہو تو پھر اسے وطن کی قربانی دینا پڑتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہر پیغمبر دین کی خاطر ہجرت کرتا رہا اس نے ہمیشہ دین کی خاطر وطن چھوڑا ہے وطن کی خاطر دین کبھی نہیں چھوڑا اور یہی وہ بات ہے جس کو ہمارے قومی شاعر نے مختلف مواقع پر واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ تحریکِ پاکستان کے دنوں میں لوگوں کے لیے یہ بات سمجھنا مشکل ہو رہا تھا کہ محض اسلامی زندگی گزارنے کے لیے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے جبکہ عبادات کی ادائیگی کی سہولت تویہاں بھی میسر ہے ؟ وہ دراصل اس بات میں فرق نہیں کر رہے تھے کہ اللہ کی بندگی اور عبادت صرف نماز نہیں بلکہ اجتماعی زندگی میں اللہ کے قانون کی بالادستی کا نام ہے جس طرح اللہ اور اس کے احکام کو بالادستی مسجد میں حاصل ہونی چاہیے اسی طرح اللہ کے دین کا بنیادی تقاضہ یہ ہے کہ اس کا فرمان حکومت کے ایوانوں سے جاری ہو ‘ عدالت کی کرسی سے اس کے مطابق فیصلے ہوں ‘ ملک کے ذرائع ابلاغ اس کی تبلیغ و دعوت کے ساتھ ساتھ اسی کے احکام کے دائرے میں رہتے ہوئے لوگوں کو تفریح مہیا کریں ‘ تعلیمی ادارے اسی کے مطابق ذہنی اور فکری تعمیر کا کام کریں ‘ غرضیکہ زندگی کے ہر شعبے پر اللہ کے دین کی بالادستی ‘ یہ اصل مقصود ہے۔ اسی کی طرف اقبال نے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا ؎
ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
اور دین کو وطن پر قربان کرنے کے تصور پر تنقید کرتے ہوئے اقبال نے کہا ؎
ان تازہ خدائوں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے
نظارہ دیرینہ زمانے کو دکھا دے
اے مصطفوی خاک میں اس بت کو ملا دے
حضرت شعیب (علیہ السلام) کے اس مایوس کن اور دنداں شکن جواب کے بعد قوم آپ سے تو مایوس ہوگئی البتہ انھوں نے آپ پر ایمان لانے والوں کو وارننگ دی۔ اگلی آیت کریمہ میں اسی کا ذکر فرمایا جا رہا ہے :
Ayah 7:90وَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمُ شُعَیْبًا اِنَّکُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ ۔
(الاعراف : 90)
” ان بڑوں نے جنھوں نے اس کی قوم میں سے کفر کیا کہا کہ اگر تم شعیب کی پیروی کرو گے تو بڑے خسارے میں پڑو گے “۔
مسلمانوں کو وارننگ
اس وارننگ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ شعیب تمہیں جس زندگی کی دعوت دے رہے ہیں وہ اللہ کی بندگی کے سوا ہر بندگی سے بغاوت کی دعوت ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آج تک تم ہمارے دست نگر رہے ہو۔ پشتوں سے تم ہماری چاکری کرتے چلے آئے ہو۔ ہمارے فیصلوں کے خلاف سوچنے کی بھی تم نے کبھی ہمت نہیں کی ‘ تمہاری زندگی کا کوئی فیصلہ ہماری مرضی کے خلاف کبھی نہیں ہوا لیکن شعیب کی دعوت تمہیں اللہ کی بندگی کے سوا باقی سب سے آزادی کی دعوت دے رہی ہے وہ تمہیں مساوات انسانی کا سبق پڑھا رہے ہیں۔ تم یہ سمجھنے لگے ہو کہ اللہ نے سب انسانوں کو آزاد اور برابر پیدا کیا ہے اگر تم نے اس دعوت کو قبول کرنے سے انکار نہ کیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا ہم سے کھلا تصادم ہوگا اور پھر تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ تم کس طرح کے نقصان اور خسارے میں پڑجاؤ گے۔ تمہارے مستقبل کے ساتھ ساتھ تمہارے بچوں کا مستقبل بھی تاریک ہوجائے گا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمہاری زندگیوں کے لیے خطرات پیدا ہوجائیں۔ تمہاری خواتین کی عزتیں پامال ہونے کا خطرہ پیدا ہوجائے ‘ تمہاری معاشی زندگی ایک عذاب بن کے رہ جائے اور تمہارے لیے زندگی کا سانس لینا زندگی کا سب سے مشکل مسئلہ بن جائے۔ اگر تم ان خطرات کا مقابلہ کرسکتے ہو تو پھر شوق سے شعیب پر ایمان لائو اور اس کی دعوت کو قبول کرو اور اگر ان خطرات کا مقابلہ کرنا تمہارے بس کی بات نہیں تو پھر تمہیں ایمان لانے سے پہلے سو دفعہ سوچ لینا چاہیے۔
دوسرا اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ شعیب جس ایمانداری اور راست بازی کی دعوت دے رہا ہے اور اخلاق و دیانت کے جن مستقل اصولوں کی پابندی کرانا چاہتا ہے ‘ اگر ان کو مان لیا جائے تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔ ہماری تجارت کیسے چل سکتی ہے اگر ہم بالکل ہی سچائی کے پابند ہوجائیں اور کھرے کھرے سودے کرنے لگیں اور ہم جو دنیا کی دو سب سے بڑی تجارتی شاہراہوں کے چورا ہے پر بستے ہیں اور مصر و عراق کی عظیم الشان متمدن سلطنتوں کی سرحد پر آباد ہیں اگر ہم قافلوں کو چھیڑنا بند کردیں اور بےضرر اور پرامن لوگ ہی بن کر رہ جائیں تو جو معاشی اور سیاسی فوائد ہمیں اپنی موجودہ جغرافی پوزیشن سے حاصل ہو رہے ہیں وہ سب ختم ہوجائیں گے اور آس پاس کی قوموں پر ہماری جو دھونس قائم ہے وہ باقی نہ رہے گی۔ یہ بات صرف قوم شعیب کے سرداروں ہی تک محدود نہیں ہے۔ ہر زمانے میں بگڑے ہوئے لوگوں نے حق، راستی اور دیانت کی روش میں ایسے ہی خطرات محسوس کیے ہیں۔ ہر دور کے مفسدین کا یہی خیال رہا ہے کہ تجارت اور سیاست اور دوسرے دنیوی معاملات جھوٹ اور بےایمانی اور بداخلاقی کے بغیر نہیں چل سکتے۔ ہر جگہ دعوت حق کے مقابلہ میں جو زبردست عذرات پیش کیے گئے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی رہا ہے کہ اگر دنیا کی چلتی ہوئی راہوں سے ہٹ کر اس دعوت کی پیروی کی جائے گی تو قوم تباہ ہوجائے گی۔ دونوں مطالب میں سے کوئی مطلب بھی مراد لیا جائے مقصود قوم شعیب کا ان لوگوں کو ڈرانا دھمکانا اور وارننگ دینا تھا کہ اگر تم نے شعیب (علیہ السلام) پر ایمان لانے کی غلطی کی یا ایمان لا کر ان کے اتباع پر ثابت قدم رہے تو پھر سوچ لو تمہارا انجام کیا ہوگا جب اس قوم کی جسارتیں اس حد تک پہنچ گئیں کہ پہلے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو براہ راست دھمکی دی کہ اگر تم نے ہمارے دین کی مخالفت نہ چھوڑی اور نئے دین کی دعوت بند نہ کی تو ہم تمہیں اپنے شہر سے نکال دیں گے جب دیکھا کہ انھوں نے اس سے کوئی اثر قبول نہیں کیا اور ان کی ثابت قدمی میں کوئی فرق نہیں آیا تو پھر مسلمانوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی گویا انھوں نے اپنے تئیں یہ فیصلہ کرلیا کہ اب اس معاملے کو ختم کر کے ہی دم لینا ہے تو اللہ کا غضب جوش میں آیا اور اس کے دائمی قانون کے مطابق ان کی نافرمانی کے نتیجے میں اللہ کا عذاب ان پر ٹوٹ پڑا۔ اگلی آیات کریمہ میں اسی عذاب کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
Ayahs 7:91–93فَاَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا شُعَیْبًا کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا ج اَلَّذِیْنَ کَذَّبُوْ شُعَیْبًا کَانُوْا ھُمُ الْخٰسِرِیْنَ ۔ فَتَوَلّٰی عَنْھُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَکُمْ ج فَکَیْفَ اٰسٰی عَلٰی قَوْمٍ کٰفِرِیْنَ ۔
(الاعراف : 91، 92، 93)
” پس ایک دہلا دینے والی آفت نے ان کو آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ ایسے مٹے کہ گویا کبھی ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے۔ شعیب کے جھٹلانے والے ہی آخر کار برباد ہو کر رہے۔ اور شعیب یہ کہہ کر ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ اے برادرانِ قوم میں نے اپنے رب کے پیغامات تمہیں پہنچا دیئے اور تمہاری خیر خواہی کا حق ادا کردیا۔ اب میں اس قوم پر کیسے افسوس کروں جو قبول حق سے انکار کرتی ہے “۔
قومِ شعیب پر آنے والا عذاب اور اس میں عبرت کا سامان
قومِ شعیب پر جو عذاب آیا اس کی نوعیت اور کیفیت کیا تھی اس کے لیے جب ہم قرآن کریم میں اس واقعہ کی تفصیل پڑھتے ہیں تو مختلف آیات میں ہمیں تین الفاظ کا استعمال ملتا ہے۔ متذکرہ آیت میں عذاب کو الرجفۃ سے تعبیر کیا گیا ہے اور سورة ھود کی آیت نمبر 94 میں اس کی تعبیر لفظ صیحۃ سے کی گئی ہے جس کے معنی ڈانٹ ‘ کڑک اور چیخ کے ہیں۔ پھر سورة شعراء میں آیت نمبر 189 میں اس عذاب کو عذاب یوم الظلۃ سے ذکر فرمایا گیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عذاب دور سے دیکھنے میں غبار یا دھویں کے ایک ستون یا پہاڑ کی شکل میں نظر آرہا تھا۔ ان تمام تعبیرات کو سامنے رکھیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم پر پہلے زلزلہ آیا اس میں یخ بستہ ہوائیں بھی تھیں۔ زلزلے اور ہوائوں کی گونج اور بادل کی گرج نے ایسی صورتحال پیدا کردی تھی جسے صیحۃ سے تعبیر کیا گیا ہے زلزلہ جب تیز رفتاری سے آتا ہے تو اس میں گونج پیدا ہوتی ہے اور یہی گونج بعض دفعہ دلوں کو پھاڑ دیتی ہے۔ ہوسکتا ہے اسی وجہ سے وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ گر کے رہ گئے ہوں کہ زمین نے ان کو سہارا دینا چھوڑ دیا اور دلوں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور پھر اس زلزلے سے پہاڑوں کے پھٹنے کے باعث تیزی سے غبار اٹھا ‘ آسمان پر ایسی خوفناک گھٹا اٹھی جس نے ایک پہاڑ کی شکل اختیار کرلی اور پوری قوم نے یوں محسوس کیا جیسے ایک سائبان کی مانند پہاڑ ان کے سروں پر چھا گیا ہے۔ زمین ان کو نگل جانا چاہتی ہے اور ساتھ بادلوں کی کڑک نے اس ہولناکی میں مزید اضافہ کردیا۔ اس پوری صورتحال کو اگر ذہن میں لانا ممکن ہو تو اس سے اس عذاب کی دھندلی سی تصویر ذہن میں پیدا ہوتی ہے۔ ایسے ہولناک عذاب کے بعد یہ کہنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ یہ قوم کس طرح کی ہمہ گیر تباہی کا شکار ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس قوم کی تباہی مدت ہائے دراز تک آس پاس کی قوموں میں ضرب المثل بنی رہی۔ چناچہ زبور دائود میں ایک جگہ آتا ہے کہ اے خدا فلاں فلاں قوموں نے تیرے خلاف عہد باندھ لیا ہے لہٰذا تو ان کے ساتھ وہی کر جو تو نے مدیان کے ساتھ کیا اور یسع نبی ایک جگہ بنی اسرائیل کو تسلی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آشور والوں سے نہ ڈرو اگرچہ وہ تمہارے لیے مصریوں کی طرح ظالم بنے جا رہے ہیں لیکن کچھ دیر نہ گزرے گی کہ رب الافواج ان پر اپنا کوڑا برسائے گا اور ان کا وہی حشر ہوگا جو مدیان کا ہوا۔ اگلی آیت کریمہ میں نہایت موثر انداز میں اس عذاب کا نتیجہ بیان کیا گیا۔ گزشتہ دو آیات میں قوم شعیب کے بڑے لوگوں نے حضرت شعیب اور مسلمانوں کو دھمکی دیتے ہوئے دو باتیں کہیں ایک یہ کہ تمہیں ہم اپنے شہروں سے نکال دیں گے اور دوسری یہ بات کہ اگر تم نے شعیب کا اتباع نہ چھوڑا تو تم نقصان اٹھائو گے اور تباہ ہوجاؤ گے۔ اس آیت کریمہ میں تلمیح کے انداز میں دونوں باتوں کا ذکر فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کی ہم نے ان کی بستیوں کو اس طرح مٹایا کہ ان کی بستیوں سے گزرنے والا کوئی شخص دیکھ کر اندازہ نہیں کرسکتا تھا کہ یہ بستیاں کبھی آباد بھی رہی ہوں گی۔ اس قدر ہمہ گیر تباہی کہ وہ بالکل بےآباد کھنڈرات پر مشتمل ایک ویرانہ معلوم ہوتی تھیں جس میں زندگی کا دور دور تک کوئی نشان نہ تھا اور یہ تباہ ہونے والی اور مٹ جانے والی بستیاں ان لوگوں کی تھیں جو حضرت شعیب اور مسلمانوں کو وہاں سے نکالنا چاہتے تھے لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے سر پر جو عذاب تلا کھڑا ہے چند دنوں کی بات ہے اس کے نتیجے میں وہ خود ان بستیوں سے نکال دیئے جائیں گے اور دوسری بات یہ بیان فرمائی کہ شعیب کی قوم نے مسلمانوں کو دھمکاتے ہوئے یہ کہا کہ اگر تم نے شعیب کا اتباع نہ چھوڑا تو تم نقصان اٹھائو گے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ اب ان بستیوں پر ٹوٹنے والے عذاب کو دیکھو اور اس کے نتیجے میں بستیوں کی تباہی ملاحظہ کرو اور پھر فیصلہ کرو کہ نقصان اٹھانے والا کون ہے۔ حضرت شعیب اور ان پر ایمان لانے والوں نے نقصان اٹھایا اور یا ان لوگوں نے نقصان اٹھایا جو انھیں نقصان کی دھمکیاں دیتے اور تباہی اور بربادی سے ڈراتے تھے۔ یہی وہ عبرت کی چیزیں ہیں کہ اگر آدمی کی آنکھوں کا پانی مر نہیں گیا تو قدم قدم پر اس کے لیے عبرت کا سامان موجود ہے اور اسی عبرت ہی کے لیے ان واقعات کو بیان کیا جا رہا ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں سابقہ رکوع کی طرح حضرت شعیب کے طرز عمل کو بیان کیا گیا ہے اس سے پہلے میں بیان کرچکا ہوں کہ دونوں امکانات موجود ہیں کہ یہاں جس طرز عمل کو زبان دی گئی ہے وہ عذاب سے پہلے کا ہے یا بعد کا۔ ممکن ہے کہ آپ نے عذاب آنے سے پہلے اس قوم سے آخری بات کہتے ہوئے منہ پھیرا ہو اور ہجرت کر کے ان بستیوں سے نکل گئے ہوں اور ان پر یہ بات واضح کردی ہو کہ میں آج تک تمہارے غم میں گھلتا رہا اور تمہارے ساتھ خیر خواہی میں میں نے کمی نہیں چھوڑی لیکن تم ایک ایسی قوم ہو جنھیں خیر خواہوں کی خیر خواہی متاثر نہیں کرتی وہ اپنے کافرانہ طرز عمل کو کبھی بدلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے پھر ایسے لوگوں پر اگر عذاب ٹوٹتا ہے تو میں اس پر کیا افسوس کروں اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی تباہی مکمل ہوجانے کے بعد آپ نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر مسلمانوں اور آنے والے دور کے انسانوں کی نصیحت کے لیے یہ بات فرمائی کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں نے اللہ کا پیغام تمہیں پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور یہاں تک خیر خواہی کی کہ تمہاری گالیاں سن کر دعائیں دیتا رہا تم نے اپنے دروازے مجھ پر بند کیے لیکن میں نے اپنے دل کے دروازے ہمیشہ تمہارے لیے کھلے رکھے لیکن تم نے بجائے اس خیرخواہی کی قدر کرنے کے جو طرز عمل اختیار کیا اب اس کا نتیجہ تمہارے سامنے ہے۔ میں پہلے دن سے تمہیں تنبیہ کرتا رہا کہ اگر تم نے کفر سے توبہ نہ کی اور مجھ پر ایمان نہ لائے تو وہ دن دور نہیں جب عذاب تمہاری کمر توڑ دے گا لیکن تمہیں اپنے کفر کے سوا کسی چیز سے دلچسپی نہ تھی اس لیے آج میں اگر تم پر غم کھائوں تو کس بات کا غم کھائوں ؟ اس لیے کہ یہ سب کچھ تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ اللہ کا تو قانون ہی یہ ہے کہ جب بندے کبھی اپنی حالت کی شکایت کرتے ہیں تو وہ ہمیشہ انھیں اعمال کا جائزہ لینے کا حکم دیتا ہے۔ اکبر نے ٹھیک کہا ؎
جب میں کہتا ہوں کہ یا اللہ میرا حال دیکھ
حکم ہوتا ہے کہ اپنا نامہ اعمال دیکھ
یہاں تک پانچ معذب قوموں کا تذکرہ ہوا اور کسی حد تک تفصیل سے بتایا گیا کہ یہ وہ قومیں ہیں جن کی طرف اللہ کے رسول آئے لیکن انھوں نے ان کی دعوت کو قبول کرنے سے جب انکار کیا تو اس کا نتیجہ عذاب کی صورت میں نکلا یہ محض تاریخی واقعات نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد مشرکین مکہ اور دیگر لوگوں نے جو رویہ آپ کی دعوت کے ساتھ اختیار کیا یہ واقعات انہی کے انجام کے آئینے کے طور پر پیش کیے گئے تاکہ مشرکین مکہ اور دوسرے لوگ اچھی طرح اس آئینہ میں اپنی شکل دیکھ لیں کہ جن قوموں پر اللہ کا عذاب آیا ان کی طرف بھی اللہ کے نبی اور رسول آئے تھے جس طرح آج ان کی طرف اللہ کے ایک رسول آئے ہیں۔ ان رسولوں نے ان کے سامنے اللہ کا پیغام رکھا تھا اور جب تک انھیں تبلیغ و دعوت کا موقع ملا انھوں نے کامل خیر خواہی ‘ دلسوزی ‘ ہمدردی اور جانسپاری سے وہ پیغام ان کے سامنے پیش کیا۔ جس طرح آج آنحضرت ﷺ ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ ان کی قوموں نے ان کی ہمدردی اور خیر خواہی کی قدر کرنے کی بجائے معاندانہ رویہ اختیار کیا۔ ہر قدم پر ان کی تبلیغ و دعوت کے راستے میں روڑے اٹکائے ‘ ان کے لیے معاشی دشواریاں پیدا کیں ‘ ہر ممکن اذیتیں پہنچائیں ان پر ایمان لانے والوں کو بری طرح ایمان لانے کی سزائیں دیں حتیٰ کہ ان کا جینا دوبھر کردیا اور جیسے جیسے پیغمبر تبلیغ و دعوت میں سرگرمی دکھاتے ویسے ویسے ان کی مخالفتوں میں شدت پیدا ہوتی جاتی حتیٰ کہ وہ پیغمبر اور مسلمانوں کو ملک بدر کرنے یا قتل کرنے کے منصوبے باندھنے لگے۔ بالکل اس طرح جس طرح مشرکینِ مکہ اور مدینے کے اہل کتاب نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ طرز عمل اختیار کیا کہ آپ کو سالوں تک کبھی ایک لمحے کے لیے چین نہ لینے دیا۔ آپ کے قتل کرنے کا ایک مکمل منصوبہ بنایا گیا لیکن اللہ نے آپ کی حفاظت فرمائی ‘ آپ ہجرت کرنے میں کامیاب ہوگئے تو دارالہجرت میں بھی آپ کو چین سے بیٹھنے نہ دیا۔ سابقہ کافر امتوں کے ساتھ مشرکین مکہ کی یہ یکسانی اور پہلے رسولوں کے ساتھ آنحضرت کی ہم آہنگی کیا یہ بتانے کے لیے کافی نہیں کہ یہ واقعات دوسروں کے پیرائے میں مشرکین مکہ اور دوسرے لوگوں کو سمجھانے کے لیے ہیں کہ وہ قومیں تمہاری طرح کا رویہ اختیار کر کے تباہ ہوگئیں تم اگر بچنا چاہتے ہو تو اپنے رویے میں تبدیلی پیدا کرو اور آنحضرت ﷺ پر ایمان لا کر دنیا اور آخرت بنا لو۔
Ayah 7:94گزشتہ آیات میں پانچ ایسی قوموں کا تذکرہ گزرا ہے جن پر اس لیے اللہ کا عذاب آیا کہ انھوں نے اللہ کے رسولوں کی دعوت کو قبول کرنے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ اللہ کے رسول کی تمام تبلیغی مساعی کے مقابلے میں انھوں نے اذیت رسانی اور مخالفت کی انتہاء کردی جب اللہ کی جانب سے ان پر اتمام حجت ہوگیا تو اللہ کا عذاب ان پر ٹوٹا اور وہ دنیا میں عبرت کی علامت بن کر رہ گئے۔ آئندہ آیات میں وہ اصول و ضوابط بیان کیے جا رہے ہیں جن سے امتوں کو آزمایا جاتا ہے اور جو اتمام حجت کی بنیاد بنتے ہیں اور بالآخر اس کے نتیجے میں ان کی قسمت کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں پیغمبر کی بعثت کے بعد سب سے پہلے جو آزمائش پیغمبر کی امت پر اترتی ہے اور جس سے انھیں سب سے پہلے آزمایا جاتا ہے اس کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔
ارشاد ہوتا ہے :
وَمَااَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّبِیِّ اِلَّآ اَخَذْنَآاَھْلَھَا بِالْبْاْسَآئِ وَالضَّرَّآئِ لَعَلَّھُمْ یَضَّرَّعُوْنَ ۔ (الاعراف : 94)
” اور ہم نے جس بستی میں بھی کوئی رسول بھیجا اس کے باشندوں کو مالی اور جسمانی مصائب سے آزمایا کہ وہ رجوع کریں “۔
بأسا اور ضراء کا مفہوم
اس آیت کریمہ کی وضاحت سے پہلے چند الفاظ کی وضاحت ضروری ہے۔ اس میں دو لفظ استعمال ہوئے ہیں : اَلْبْاْسَآئِ وَالضَّرَّآئِ یہ دونوں لفظ جب ایک دوسرے کے بالمقابل استعمال ہوں تو پہلے لفظ سے مالی آفتیں مراد ہوتی ہیں مثلاً قحط سالی ‘ کساد بازاری ‘ مہنگائی وغیرہ اور دوسرے لفظ سے جسمانی آفتیں مراد ہوتی ہیں مثلاً بیماریاں اور وبائیں وغیرہ لیکن جب ضَّرَّآء کا لفظ سَرَّآء کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو یہ دونوں الفاظ ہر قسم کی بدحالی اور خوشحالی کے معنی دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی ایک خاص سنت کا تذکرہ
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک خاص سنت کو بیان فرمایا ہے جس کا ظہور ہمیشہ انبیاء کی بعثت کے ساتھ ہی ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی کسی پیغمبر کی بعثت ہوتی ہے اور وہ جس قوم کی طرف مبعوث ہوتے ہیں جب وہ انھیں اللہ کی طرف دعوت دینا شروع کرتے ہیں اور ان کے بگڑے ہوئے عقائد ملحدانہ خیالات اور ان کی بداعمالیوں پر تنقید شروع کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ نسلوں کے بگڑے ہوئے لوگ اور مدت کی بنی ہوئی عادتیں اور قدیمی گمراہیاں اور آبائی ورثے میں ملے ہوئے مشرکانہ اور ملحدانہ خیالات ایسے تو نہیں ہوتے کہ قوم انھیں چھوڑنے پر آمادہ ہوجائے اور انسانی فطرت یہ ہے کہ جن اعتقادات اور اعمال کے ساتھ اس کا قلبی رشتہ مستحکم ہوجاتا ہے وہ اس پر تنقید کبھی گوارا نہیں کرتی بلکہ وہ تنقید کرنے والے کے ساتھ مرنے مارنے کے لیے تیار ہوجاتی ہے۔ ان کی غلط باتوں پر تنقید چاہے کیسے ہی علمی اور فطری اسلوب کے ساتھ کی جائے وہ انھیں ہمیشہ ناگوار گزرتی ہے اور وہ حتی الامکان ایسی زبان کھینچنے سے بھی گریز نہیں کرتے جس زبان سے ان کو ایسی باتیں سننی پڑتی ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کی مدد کے لیے یہ طریقہ اختیار فرماتے ہیں کہ اس قوم کو مختلف مالی اور جسمانی پریشانیوں میں مبتلا کردیتے ہیں کبھی ان پر قحط مسلط کردیا جاتا ہے ‘ کبھی سیلاب کے بند کھول دیئے جاتے ہیں ‘ کبھی بارشیں منہ زور ہوجاتی ہیں ‘ کبھی وبائیں پھوٹ پڑتی ہیں ‘ کبھی ان میں تعلقات کا بگاڑ خانہ جنگی تک پہنچ جاتا ہے یہ سب مصیبتیں ان پر اس لیے مسلط کی جاتی ہیں تاکہ ان کی اکڑی ہوئی گردن جھکنے پر مجبور ہوجائے اور وہ آہستہ آہستہ اس بات کو سوچنے لگیں کہ ہم جو آج تک ہر معاملے میں اپنے ہی دست وبازو پر بھروسہ کرتے رہے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ حالات کا ہر رشتہ شاید ہمارے ہی ہاتھ میں ہے اور ہم سے بڑی کوئی اور طاقت نہیں اگر ایسا ہوتا تو ہم ان مصائب پر بھی قابو پالیتے۔ آخر یہ کیا ہو رہا ہے کہ ایک پریشانی دور ہونے میں نہیں آتی کہ دوسری حملہ آور ہوجاتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہم اتنے طاقت ور اور قدرتوں کے مالک نہیں ہیں جتنا ہم اپنے آپ کو سمجھتے ہیں اور اس زمین پر صرف ہماری ہی طاقت نہیں اور صرف ہمارا ہی حکم نہیں چلتا بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ اصل حکمران طاقت کوئی اور ہے چناچہ جیسے جیسے ان مصائب کی وجہ سے ان کے اندر یہ احساس توانا ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے ان کی گردن جھکتی جاتی ہے اور وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے لگتے ہیں اور پھر انھیں پیغمبر کی دعوت سمجھ میں آنے لگتی ہے کیونکہ انسانی فطرت یہ ہے کہ خوشحالی اور آسودگی انسان کو یا تو غافل بناتی ہے اور یا اسے من مرضی کی زندگی پر اکساتی ہے جس کے نتیجے میں خواہشات کو کھل کھیلنے کا موقع ملتا ہے اور اللہ کی زمین فساد سے بھر جاتی ہے لیکن مصیبتیں اور پریشانیاں عموماً بڑے بڑے بگڑے ہوئے لوگوں کو بھی کبھی نہ کبھی سوچنے پر مجبور کردیتی ہیں اور وہ پریشانیوں سے مجبور ہو کر نصیحت کی باتوں پر کان دھرنے لگتے ہیں اور جب کوئی اور سہارا دکھائی نہیں دیتا اور کوئی ہاتھ دستگیری کے لیے آگے نہیں بڑھتا اور کسی مسیحا سے شفا نہیں ملتی تو پھر کبھی نہ کبھی دل میں اللہ کی یاد کسمسانے لگتی ہے اور زبان پر خواہی نہ خواہی اللہ کا نام آنے لگتا ہے۔ اسی لیے اہل اللہ کے یہاں مصیبت اور بیماری کو صحت اور راحت سے بڑھ کر اللہ کی نعمت سمجھا گیا ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ حاجی امداد اللہ صاحب ( رح) ایک دفعہ اپنی مجلس میں یہ فرما رہے تھے کہ صحت بھی اللہ کی نعمت ہے اور بیماری بھی اللہ کی نعمت ہے لیکن بیماری صحت سے بڑی نعمت ہے۔ کسی نے پوچھا حضرت بیماری صحت سے بڑی نعمت کیسے ہوسکتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ نعمت اصل میں وہ ہوتی ہے جو منعم کی یاد دلائے جس سے اپنے محبوب کی یاد تازہ ہوجائے اور اپنے دوست کی یاد ستانے لگے۔ راحتیں اور نعمتیں آدمی کو اللہ جیسے منعم حقیقی اور محبوب برحق سے غافل کردیتی ہیں لیکن مصیبتیں اور بیماریاں اس شفا دینے والے اور مصیبتیں دور کرنے والے کی یاد دلاتی ہیں تو جو چیز اپنے محبوب اور دوست کی یاد دلائے ظاہر ہے وہی بڑی نعمت ہوگی۔ آپ ابھی یہ باتیں فرما ہی رہے تھے کہ اچانک ایک شخص روتا ہوا مجلس میں داخل ہوا اور حاجی صاحب کو اپنی طرف متوجہ پا کر کہنے لگا کہ حضرت میں بیماری کے ہاتھوں اس حد تک بےبس ہوگیا ہوں کہ اگر خود کشی جائزہوتی تو میں خودکشی کرلیتا اب یہ بیماری مجھ سے برداشت نہیں ہو پا رہی۔ آپ اللہ سے میرے لیے صحت کی دعا فرمائیں۔ سننے والے سوچنے لگے کہ دیکھئے حاجی صاحب اب کیا فرماتے ہیں کیونکہ وہ تو ابھی بیماری کو صحت سے بڑھ کر نعمت قرار دے رہے تھے حاجی صاحب نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا : یا اللہ صحت بھی تیری نعمت ہے اور بیماری بھی تیری نعمت ہے بلکہ بیماری بڑی نعمت ہے لیکن یہ بڑی نعمت ہونے کے ساتھ ساتھ بھاری اور مشکل نعمت بھی ہے جسے ہر کوئی برداشت نہیں کرسکتا ہم تیرے کمزور بندے ہیں تو اپنی سخت نعمت کو واپس لے لے اور اس کے بدلے میں نرم نعمت یعنی صحت عطا فرما اور ہماری کمزوریوں پر رحم فرما۔ کہنا صرف یہ ہے کہ ہر پیغمبر کی بعثت کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ اس قوم پر مصائب نازل فرماتا ہے تاکہ جب زمین و آسمان پیغمبر کی دعوت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر انھیں یہ بات سمجھانے لگیں کہ دیکھو تمہارے سروں پر ایک احکم الحاکمین کی ذات بھی ہے۔ تمہارا سب کچھ اس کے ہاتھوں میں ہے وہ جب چاہے تمہاری صحت چھین سکتا ہے، تمہاری آسودگی ختم کرسکتا ہے ‘ تمہاری خوشحالیاں بدحالیوں میں تبدیل کرسکتا ہے۔ تم اپنے طور پر اس کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں رکھتے ہو۔ اسی نے تمہیں زندگی عطا فرمائی ہے اور وہی تمہیں ہر طرح کی نعمتیں عطا فرما رہا ہے یہ دونوں دعوتیں جب اکٹھی ہوجاتی ہیں تو لوگوں کو اللہ کی طرف جھکنے اور عاجزی اختیار کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ جو خوش نصیب ہوتے ہیں وہ فی الواقع اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور پیغمبر کی دعوت کو قبول کر کے اپنی دنیا اور عقبیٰ درست کرلیتے ہیں لیکن جو بدنصیب ہوتے ہیں وہ ان مصائب کا شکار ہو کر بھی راہ راست اختیار کرنے کی بجائے اور پتھردل ہوجاتے ہیں اور ان کا بگاڑ بعض دفعہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ پیغمبر کو ان مصائب کا ذمہ دار سمجھنے لگتے ہیں اور مسلمانوں سے یہ کہتے ہیں کہ یہ جو کچھ ہم پر مصیبتیں آرہی ہیں یہ تمہاری نحوست ہے اور وہ اس صورت حال سے نصیحت حاصل کرنے کی بجائے ایک اور فتنے کا شکار ہوجاتے ہیں اور اسے دلیل کے طور پر اپنے رویے کی تائید میں استعمال کرتے ہیں وہ جب یہ دیکھتے ہیں کہ یہ مصائب جو ہم پر نازل ہو رہے ہیں اس کا شکار صرف ہم ہی نہیں ہو رہے بلکہ یہ مصیبتیں برابر مسلمانوں کو بھی اپنا شکار کر رہی ہیں۔ اگر کسادبازاری ہمیں پریشان کر رہی ہے تو مسلمان بھی اس سے بچے ہوئے نہیں ہیں اور اگر قحط نے ہمیں زار و نزار کردیا ہے تو مسلمان بھی اس سے امان میں نہیں ہیں۔ وہ جب یہ دیکھتے ہیں کہ اگر کہیں سائیکلون اٹھتا ہے تو بلا امتیاز نیک وبد سب کو بہا کرلے جاتا ہے ‘ اگر زلزلہ آیا ہے تو اس سے صرف کافروں کے مکان نہیں گرتے مسلمانوں کی عمارتیں بھی اس سے تباہ ہوئے بغیر نہیں رہتیں۔ اگر اس سے کلیسا و مندر گرتے ہیں تو مسجدیں بھی محفوظ نہیں رہتیں۔ اس سے وہ یہ دلیل پکڑتے ہیں کہ اگر ان مصائب کا نزول ہمارے کفر اور بداعمالیوں کے سبب سے ہوتا تو صرف ہم ہی اس کی گرفت میں آتے اور مسلمان اس سے محفوظ رہتے اور قحط اگر ہماری کمر توڑتا تو مسلمانوں کے گھروں میں تو من وسلویٰ اترنا چاہیے لیکن جب ان مصیبتوں کا شکار مسلم اور کافر دونوں ہو رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سراسر اتفاقات کا نتیجہ ہے اور قوموں پر ایسے سرد اور گرم دن آتے ہی رہتے ہیں اس کا کوئی تعلق نیکی اور بدی سے نہیں اس لیے بجائے اس سے اثر قبول کرنے کے ان کے انکار میں اور شدت آجاتی ہے۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ صحیح ہے کہ جو مصیبتیں آزمائش بن کر اترتی ہیں اس میں مومن اور کافر دونوں آزمائے جاتے ہیں لیکن کافر کو تو اس لیے مبتلا کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے کفر سے باز آجائے لیکن مومن کو اس ابتلا سے جو فائدہ پہنچتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کی سیرت و کردار میں پختگی پیدا ہوتی ہے۔ اسے صبر جیسی عظیم دولت نصیب ہوتی ہے اسے ان مصائب سے گزار کر کندن بنایا جاتا ہے۔ اس لیے کفر جب کبھی اس کا امتحان لیتا ہے تو سیرت و کردار کی یہ تعمیر اس کی استقامت میں مدد فراہم کرتی ہے وہ بڑے سے بڑے طوفان کے سامنے سینہ سپر ہونے کی جرأت رکھتا ہے۔ یہ تو وہ فائدے ہیں جو دنیا میں مومن کو نصیب ہوتے ہیں رہی آخرت تو اس دنیا میں اگر مومن نے کانٹے کی چبھن بھی سہی ہوگی تو آخرت میں یہ چبھن جنت کا پھول بن جائے گی۔ وہاں جب وہ دنیا میں گزرے ہوئے مصائب پر اجر وثواب دیکھے گا تو وہ تمنا کرے گا کہ کاش دنیا میں ‘ میں اور بڑے مصائب سے گزرا ہوتا۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت میں جب مومن مصیبتوں پر صبر کرنے کا صلہ پائے گا تو وہ تمنا کرے گا کاش میری کھال کو قینچیوں سے کاٹا گیا ہوتا۔ اس لیے بظاہر مومن اور کافر ایک ہی طرح سے مصائب کا شکار ہوتے ہیں لیکن انجام اور نتائج کے اعتبار سے دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ایک ارشاد اس صورت حال کی وضاحت کے لیے کافی ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا :
لا یزال البلاء بالمؤمن حتیٰ یخرج نقیاً من ذنوبہٖ ‘ والمنافق مثلہ کمثل الحمار لایدری فیم ربطہ اھلہ ولَا فِیْمَ ارسلوہ
” مصیبت مومن کی تو اصلاح کرتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ جب وہ اس بھٹی سے نکلتا ہے تو ساری کھوٹ سے صاف ہو کر نکلتا ہے لیکن منافق کی حالت بالکل گدھے کی سی ہوتی ہے جو کچھ نہیں سمجھتا کہ اس کے مالک نے کیوں اسے باندھا تھا اور کیوں اسے چھوڑ دیا “۔
یہاں یہ بات اور جان لینی چائے کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے جس ضابطہ کا ذکر فرمایا ہے ٹھیک یہی ضابطہ نبی ﷺ کی بعثت کے موقع پر بھی برتا گیا اور شامت زدہ قوموں کے جس طرز عمل کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے ٹھیک وہی طرز عمل سورة اعراف کے نزول کے زمانہ میں قریش والوں سے ظاہر ہو رہا تھا۔ حدیث میں عبد اللہ بن مسعود ( رض) عنہ اور عبد اللہ بن عباس ( رض) دونوں کی متفقہ روایت ہے کہ نبی ﷺ کی بعثت کے بعد جب قریش کے لوگوں نے آپ کی دعوت کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنا شروع کیا تو حضور ﷺ نے دعا کی کہ خدایا ‘ یوسف کے زمانہ میں جیسا ہفت سالہ قحط پڑا تھا ویسے ہی قحط سے ان لوگوں کے مقابلہ میں میری مدد کر۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں سخت قحط میں مبتلا کردیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ لوگ مردار کھانے لگے ‘ چمڑے ‘ ہڈیاں اور اون تک کھا گئے۔ آخر کار مکہ کے لوگوں نے ‘ جن میں ابوسفیاں پیش پیش تھا ‘ حضور ﷺ سے درخواست کی کہ ہمارے لیے خدا سے دعا کیجیے۔ مگر جب آپ کی دعا سے اللہ نے وہ برا وقت ٹال دیا اور بھلے دن آئے تو ان لوگوں کی گردنیں پہلے سے زیادہ اکڑ گئیں ‘ اور جن کے دل تھوڑے سے پسیج گئے تھے ان کو بھی اشرارِ قوم نے یہ کہہ کہہ کر ایمان سے روکنا شروع کردیا کہ میاں ‘ یہ تو زمانے کا اتار چڑھائو ہے۔ پہلے بھی آخر قحط آتے ہی رہے ہیں ‘ کوئی نئی بات تو نہیں ہے کہ اس مرتبہ ایک لمبا قحط پڑگیا ‘ لہٰذا ان چیزوں سے دھوکہ کھا کر محمد ﷺ کے پھندے میں نہ پھنس جانا۔ یہ تقریریں اس زمانے میں ہو رہی تھیں جب یہ سورة اعراف نازل ہوئی ہے اس لیے قرآن مجید کی یہ آیات ٹھیک اپنے موقع پر چسپاں ہوتی ہیں اور اسی پس منظر کو نگاہ میں رکھنے سے ان کی معنویت پوری طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ جب کسی قوم پر ان مصائب کا بھی کوئی اثر نہیں ہوتا بلکہ ان کے دل پتھر اور کان بہرے ہوجاتے ہیں تو پھر یہ سنت الٰہی ایک دوسری شکل اختیار کرلیتی ہے جس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں کیا جا رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے :