7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsروح القرآن

Ayah 7:79

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

اور صالح یہ کہتے ہوئے ان کی بستیوں سے نکل گئے کہ اے میری قوم ! میں نے اپنے رب کا پیغام تجھے پہنچا دیا اور میں نے تیری بہت خیر خواہی کی ‘ مگر کیا کروں کہ تجھے اپنے خیر خواہ پسند ہی نہیں۔

ارشاد فرمایا : فَتَوَلّٰی عَنْھُمْ وَقَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسَالَۃَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَکُمْ وَلٰکِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ ۔ (الاعراف : 79) ” اور صالح یہ کہتے ہوئے ان کی بستیوں سے نکل گئے کہ اے میری قوم ! میں نے اپنے رب کا پیغام تجھے پہنچا دیا اور میں نے تیری بہت خیر خواہی کی ‘ مگر کیا کروں کہ تجھے اپنے خیر خواہ پسند ہی نہیں “۔ پیغمبر کا اظہارِ حسرت اس آیت کریمہ کے بارے میں سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم سے یہ بات عذاب آنے سے پہلے کہی یا بعد میں ؟ دونوں باتوں کا امکان ہے اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہمیشہ یہ رہا کہ جب کسی قوم پر عذاب آتا ہے تو ان کی طرف آنے والے رسول اور ایمان لانے والوں کو وہاں سے ہجرت کا حکم دے دیا جاتا ہے یہاں بھی ممکن ہے ایسا ہو اہو کہ جب انھیں تین دن کی مہلت دی گئی تو اس مہلت کا اعلان کرنے کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) مسلمانوں کو ساتھ لے کر وہاں سے ہجرت فرما گئے اور جاتے ہوئے انھوں نے اپنی قوم سے یہ خطاب فرمایا۔ اور یہ تین دن کی جو مہلت دی گئی ہے اس میں بھی یہ مصلحت معلوم ہوتی ہے کہ ان تین دنوں میں حضرت صالح اور ان کے ساتھی اس علاقہ سے اتنے دور نکل جائیں کہ عذاب کا کوئی اثر ان تک پہنچنے نہ پائے لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ خطاب عذاب سے پہلے کا ہے تو ترتیب بیان میں اسے عذاب کے ذکر کے بعد کیوں رکھا گیا ؟ اس کا جواب بعض اہل علم نے یہ دیا ہے کہ ترتیب میں یہ تقدیم و تاخیر تقاضائے بلاغت سے ہوئی ہے۔ ارتکاب جرم اور اس کے نتیجہ کے فوری ظہور کو نمایاں کرنے کے لیے یہاں عذاب کو قتل ناقہ کے ساتھ متصل کردیا اور حضرت صالح کی ہجرت کے ذکر کو پیچھے کردیا گویا جونہی انھوں نے ناقہ کو گزند پہنچا کر اللہ کو چیلنج کیا ‘ عذاب آدھمکا۔ عذاب کی یہ سبقت و مبادرت اچھی طرح ظاہر نہ ہوسکتی اگر بیچ میں کوئی اور بات ذکر میں آجاتی۔ امکان اس بات کا بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح ترتیب میں اس بات کو عذاب کے بعد ذکر کیا گیا ہے واقع میں بھی ایسا ہی ہو یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو اسی علاقے میں کسی جگہ محفوظ رکھا ہو اور جب اس بدنصیب قوم پر عذاب مکمل ہوگیا تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہوئے یہ بات فرمائی اور ہمیں اس کی مثال آنحضرت ﷺ کی زندگی میں بھی ملتی ہے کہ جنگ بدر کے بعد جب قریش کے مقتولین کی لاشوں کو ایک بند کنویں میں پھینک دیا گیا تو حضور تشریف لائے اور آپ نے اس کنویں کی منڈیر پر بڑے بڑے کافروں کا نام لے کر فرمایا کہ اب تو تمہیں یقین آگیا ہوگا کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور میں جس بات کی تمہیں دعوت دیتا تھا وہ سچ اور حق ہے اس پر حضرت عمر فاروق صنے عرض کی کہ حضور یہ لوگ تو مردہ ہیں، آپ کی آواز کیونکر سن سکتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا تم سے زیادہ سنتے ہیں، البتہ ! جواب نہیں دیتے۔ یہاں بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنے مومن ساتھیوں کو یہ سنانے کے لیے تاکہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے اسے عبرت کے طور پر زندہ رکھیں ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر اس حقیقت کا اعلان فرمایا کہ بدنصیبو ! میں نے اللہ کے دین کو پہنچانے میں اور اس کی پیغام رسانی میں کوئی کمی نہیں کی تم نے ہرچند مجھے اذیتیں پہنچائیں لیکن میں نے اس کے جواب میں ہمیشہ تمہارے ساتھ خیر خواہی کی۔ تم گالیاں دیتے رہے ‘ تکلیفیں پہنچاتے رہے لیکن میں نے ہمیشہ تم سے کلمہ نصیحت کہا اور اللہ سے تمہاری ہدایت کی دعائیں مانگیں لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ تم اور تم جیسی اور بدنصیب قومیں ایسے بدنصیبی کے حصار میں ہیں کہ اس سے کبھی نکل نہیں سکتیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بدخواہ لوگ جو تمہاری دنیا بھی اجارٹے ہیں اور تمہارے دین کے بھی دشمن ہیں تم ہمیشہ ان کی بات سنتے اور ان کے پیچھے چلتے ہو لیکن اپنے خیر خواہوں کو تم نے کبھی پسند کرنے کی زحمت نہیں کی۔ تم خوب جانتے ہو کہ میں نے ہر رسول کی طرح تمہارے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن تم نے میری کوئی بات مان کر نہیں دی۔ ہمیشہ ہر بات میں کیڑے ڈالے تم ہر دولت والے کے پیچھے چلتے ہو اور ہر ظالم اور جابر کے آگے دوڑتے ہو اور ان کی باتوں کی اطاعت کرتے ہوئے تمہیں کبھی خیال نہیں ہوتا کہ تم یہ کیا کر رہے ہو یہ ایک ایسا مرض ہے جس نے ہمیشہ قوموں کو تباہ کیا ہے۔ ٹھیک کہا حفیظ نے ؎ زمانہ یونہی اپنے محسنوں کو تنگ کرتا ہے وہ درس صلح دیتے ہیں یہ ان سے جنگ کرتا ہے مشرکین مکہ اور دیگر نوع انسانی کو عبرت دلانے کے لیے مختلف معذب قوموں کے حالات بیان کیے جا رہے ہیں تین قوموں کا تذکرہ ہوچکا اب چوتھی معذب قوم یعنی قوم لوط کا تذکرہ کرنا مقصود ہے۔
Ayahs 7:80–81

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور لوط کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایک ایسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔

ارشاد فرمایا جا رہا ہے : وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمْ بِھَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَھْوَۃً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآئِ ط بَلْ اَنْتُمْ قَوْْمٌ مُّسْرِفُوْنَ ۔ (الاعراف : 80، 81) ” اور لوط کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایک ایسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو “۔ اس آیت کریمہ میں متعدد چیزیں وضاحت طلب ہیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی تاریخ 1 لوط (علیہ السلام) کون تھے ؟ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ آپ نے نبوت ملنے کے بعد جب لوگوں کے سامنے اللہ کی دعوت پیش کی تو پوری قوم نے آپ کو جھٹلایا۔ آپ کے والد تک نے آپ کو برداشت کرنے سے انکار کردیا۔ آپ پر صرف دو شخص ایمان لائے ایک آپ کی اہلیہ محترمہ حضرت سارہ اور دوسرے آپ کے بھتیجے حضرت لوط۔ انھوں نے اپنے عظیم چچا کے ساتھ گھر اور وطن چھوڑا ان کے ساتھ مل کر پردیس کی صعوبتیں اٹھائیں ‘ مختلف ملکوں میں توحید کی دعوت کو عام کرنے کے لیے سفر کیا اور اسی سلسلے میں آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نگرانی میں تبلیغ و دعوت کا فرض انجام دینے کی تربیت حاصل کرنے کا موقع بھی ملا۔ جب آپ نبوت کی عمر کو پہنچے تو اللہ نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ 2 آپ کس علاقے کی طرف مبعوث ہوئے ؟ تاریخ کی گواہی یہ ہے کہ آپ جس قوم کی طرف مبعوث ہوئے وہ شام کے جنوبی علاقہ میں دریائے اردن کے ارد گرد آباد تھی بلکہ عراق اور فلسطین کے درمیان جو علاقہ آج کل شرق اردن کہلاتا ہے یہی علاقہ اس قوم کا مسکن تھا۔ بائیبل میں اس قوم کے صدر مقام کا نام سدوم بتایا گیا ہے۔ اس سدوم کے ساتھ اس قوم کے چار اور بھی بڑے بڑے شہر آباد تھے جنھیں عمورہ ‘ ارمہ ‘ صبوبیم اور بالع یا صوغر ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے مجموعہ کو قرآن کریم نے مؤتفکہ اور مؤتفکات کہا ہے۔ یہ تمام شہر یا تو بحیرہ مردار کے قریب کسی جگہ واقع تھے اور یا اس جگہ واقع تھے جہاں اب بحیرہ مردار موجود ہے۔ تل موت میں لکھا ہے کہ ان شہروں کے درمیان کا علاقہ ایسا گلزار بنا ہوا تھا کہ میلوں تک بس ایک باغ ہی باغ تھا جس کے جمال کو دیکھ کر انسان پر مستی طاری ہونے لگتی تھی مگر آج اس قوم کا نام و نشان دنیا سے بالکل ناپید ہوچکا ہے اور یہ بھی متعین نہیں ہے کہ اس کی بستیاں ٹھیک کسی مقام پر واقع تھیں۔ اب صرف بحیرہ مردار ہی اس کی ایک یادگار باقی رہ گیا ہے جسے آج تک بحر لوط کہا جاتا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو قوم کا بھائی قرار نہیں دیا گیا۔ کیوں ؟ 3 گزشتہ آیات میں حضرت نوح ‘ حضرت ہود اور حضرت صالح (علیہم السلام) کا تذکرہ فرمایا گیا ہے اور ان تینوں کو اپنی قوم کا بھائی قرار دیا گیا ہے لیکن حضرت لوط (علیہ السلام) کے سلسلے میں یہ اسلوب بدل گیا ہے یہاں آپ کو ان کا بھائی کہہ کر ذکر نہیں فرمایا صرف اس قوم کو آپ کی قوم تو قرار دیا گیا ہے لیکن اس قوم کا بھائی آپ کو قرار نہیں دیا گیا ہے اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ آپ نسبی اور نسلی طور پر اس قوم کے فرد نہیں تھے البتہ آپ کا کوئی نہ کوئی رشتہ ان سے ضرور تھا جس کی وجہ سے اس قوم کو آپ کی قوم قرار دیا گیا ہے۔ اب وہ رشتہ کیا تھا اس کو صراحت سے متعین کرنا مشکل ہے البتہ یہ بات تاریخی حقائق سے ثابت ہے کہ اس قوم سے آپ کا سسرالی رشتہ تھا یعنی آپ نے اس قوم میں شادی کی تھی اور آپ کی اہلیہ اس قوم کی بیٹی تھی ممکن ہے اس وجہ سے اس قوم کو آپ کی قوم قرار دیا گیا ہو۔ یہاں ذہن میں ایک اعتراض پید اہو سکتا ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون اس کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جب بھی کوئی پیغمبر بھیجتا ہے تو اس کی اپنی قوم میں سے بھیجتا ہے جس سے اس کا نسب اور نسل کا تعلق ہوتا ہے وہ قوم اس کے آبائو اجداد کو جانتی اور خود اسے بچپن سے لے کر نبوت کے دعوے تک پہچانتی ہے اس کی زندگی کا ایک ایک دور قوم کے سامنے ہوتا ہے اس لیے جب وہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو چونکہ دونوں میں اجنبیت کی کوئی دیوار نہیں ہوتی تو عموماً اجنبیت میں مخالفین اس طرح کی بےسروپا باتیں کیا کرتے ہیں۔ وقت کا پیغمبر ان سے محفوظ رہتا ہے پھر نسل اور نسب کے لحاظ سے زبان کی یکسانی کے اعتبار سے ‘ وطن کے حوالے سے چونکہ جانبین میں ایک اپنائیت موجود ہوتی ہے اس لیے بات کو سمجھنے اور سمجھانے میں آسانی رہتی ہے جو لوگ ایمان لاتے ہیں پورے اعتماد کے ساتھ لاتے ہیں اور جو لوگ مخالفت کرتے ہیں وہ اپنی مخالفت میں مخلص نہیں ہوتے کیونکہ ان کا دل گواہی دیتا ہے کہ یہ پاکیزہ اطوار شخص یقینا جھوٹ نہیں بولتالیکن پھر بھی اگر وہ مخالفت سے باز نہیں آتے تو ان پر اتمام حجت ہوجاتا ہے جس کے بعد فیصلے کی گھڑی قریب آجاتی ہے۔ اللہ کے اس قانون کو دیکھتے ہوئے یہ بات عجیب سی معلوم ہوتی ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو اجنبی قوم میں مبعوث کیوں فرمایا گیا ؟ لیکن جب ہم اس پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس اعتراض میں کوئی گہرائی نہیں۔ اپنی قوم کی طرف مبعوث کیے جانے کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اجنبیت افہام و تفہیم میں رکاوٹ نہ بن سکے جس طرح یہ رکاوٹ رنگ ونسل کے رشتے سے اور وطن اور زبان کی یکجائی سے دور ہوتی ہے اسی طرح کسی قوم میں پیغمبر کا زیادہ عرصہ تک قیام اور اس قوم کے ساتھ رشتہ داری اور پھر زبان کا ایک ہونا یہ باتیں بھی اجنبیت کو دور کردیتی ہیں۔ چناچہ لوط (علیہ السلام) کی قوم اگرچہ آپ کا اپنا خاندان نہیں تھا لیکن آپ کی ان کے ساتھ رشتہ داری ‘ آپ کا ان کے اندر طویل قیام اور پھر زبان کی یکسانی یہ اس مقصد کو آسانی سے پورا کردیتی ہے جس کی وجہ سے پیغمبر اپنوں میں مبعوث ہوتا ہے۔ چناچہ ہم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھتے ہیں کہ انھیں آل فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا جبکہ آپ اس خاندان میں سے نہیں تھے لیکن چونکہ آپ کا خاندان بنی اسرائیل ایک طویل عرصے سے ان کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا اور آپ کا بچپن اور جوانی بھی فرعون کے گھر اور آل فرعون میں گزری تھی اس لحاظ سے آپ ان کے لیے قطعاً اجنبی نہیں تھے۔ دعوت و تبلیغ کے لیے جس حد تک تعارف اور اپنائیت ضروری ہے وہ چونکہ آپ کو میسر تھی اس لیے آپ کو آل فرعون کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا۔ یہی حال حضرت لوط (علیہ السلام) کا بھی ہے اس لیے اس اعتراض میں کوئی وزن باقی نہیں رہ جاتا کہ آپ کو ایک اجنبی قوم کی طرف کیوں بھیجا گیا۔ 4 تمام انبیاء کرام کے بارے میں ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی دعوت ایک ہی رہی ہے وہ ہے توحید اور اللہ کی بندگی کی دعوت ہر پیغمبر نے مبعوث ہونے کے بعد اسی دعوت سے اپنے مشن کا آغاز کیا لیکن یہاں حضرت لوط (علیہ السلام) کے سلسلے میں اس بنیادی دعوت کا تذکرہ نہیں فرمایا گیا۔ آخر یہ اسلوب کلام کیوں بدلا گیا اس سلسلے میں دو باتیں پیش نظر رکھنی چاہئیں۔ 1 قرآن کریم نے دوسری جگہ اصولی طور پر یہ بات واضح فرما دی ہے کہ ہم نے ہر امت کی طرف رسول بھیجا ہے اور ہر رسول نے آکر یہ دعوت دی ہے کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت سے بچو یعنی تمہیں اللہ کی بندگی کے سوا کسی اور کی بندگی کرنے کی ہرگز اجازت نہیں۔ تم کسی اور طاغوت کے سامنے نہ سر جھکا سکتے ہو نہ اس کی اطاعت مطلقہ کا دم بھر سکتے ہو ‘ نہ اپنے سینوں کو صرف اسی کی محبت سے آباد کرسکتے ہو ‘ نہ اس کی قدرتوں پر آخری حد تک اعتماد کرسکتے ہو۔ یہ حقوق صرف اللہ کریم کے ہیں اس کی ذات ‘ اس کی صفات ‘ اس کے حقوق اور اس کے اختیارات میں کسی اور کو شریک کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ وہ اصولی بات ہے جو قرآن کریم میں وضاحت سے کہہ دی گئی ہے اس اصولی بات کو سامنے رکھیں تو یہ بات تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ یہاں اگرچہ کسی مصلحت کے باعث اس بنیادی دعوت سے قوم لوط کا تذکرہ نہیں فرمایا جا رہا لیکن یہ بات یقینی ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے یہ دعوت ضرور پیش کی ہوگی۔ اسلوبِ دعوت کے سلسلے میں ایک اہم نکتہ 2 بعض قباحتیں اور برائیاں جو چاہیں کتنی عظیم ہوں ایسی ہوتی ہیں جن کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانی زندگی میں ان کے در آنے کا امکان موجود ہوتا ہے اور اسی وجہ سے قرآن کریم بار بار اس پر تنبہ بھی کرتا ہے کہ دیکھنا تمہاری زندگی میں یہ قباحتیں کہیں داخل نہ ہوجائیں۔ ان قباحتوں میں سب سے بڑی قباحت شرک ہے جس کی طرف قرآن کریم بار بار توجہ دلاتا ہے کیونکہ اس برائی کے پیدا ہوجانے کے بعد دین سے بیگانگی اور سیرت و کردار میں خرابی ایک لازمہ کی حیثیت رکھتی ہے جنھیں کسی طور پیدا ہونے سے روکا نہیں جاسکتا لیکن جیسا کہ عرض کیا گیا ہے انسانی طبیعت میں ہر وقت اس بات کا امکان موجود رہتا ہے کہ آدمی کبھی نہ کبھی شرک کی کسی نہ کسی صورت کا ارتکاب کر بیٹھے۔ انسان اپنی ذات میں کیسا بھی عظیم سہی لیکن اس کی فطرت میں ایک ان دیکھی ذات کی جو طلب رکھی گئی ہے اور اس کی ذات کی تکمیل کے لیے جس طرح خالق ومالک کی محبت کا جذبہ مضمر کیا گیا ہے اسے اگر صحیح راہنمائی نہ دی جائے تو اس کا غلط رخ اختیار کر جانا ہر وقت ممکن ہوتا ہے۔ توحید یقینا مذہب کی بنیاد ہے لیکن شرک کے لیے ایک سے زیادہ امکانات موجود رہتے ہیں اس لیے انبیاء کرام نے انسانوں کو اس کمزوری سے بچانے کے لیے ہمیشہ اپنی دعوت کا اسے موضوع بنایا ہے لیکن اگر کسی شخص یا کسی قوم کو کسی ایسی برائی میں ملوث دیکھا جائے جس کے لیے اس کی زندگی میں کوئی امکانی اپیل موجود نہ ہو جس کی طرف اس کی فطرت کبھی میلان نہ رکھتی ہو۔ جس کا انسان کی سرشت سے کوئی تعلق نہ ہو تو یقینا ایک داعی اور مبلغ اصل دعوت کی بجائے سب سے پہلے وہ اس پر تنقید کرتا ہے۔ اسے اس بات پر شدید دکھ ہوتا ہے کہ یہ شخص یا یہ قوم تو سرے سے اپنی فطرت اور اپنی سرشت بگاڑ چکی ہے اس لیے خلاف فطرت امور اس سے سرانجام پا رہے ہیں اگر اسے اس سے نہ روکا گیا تو اصل دعوت کے پیش کرنے کا کبھی موقع نہیں آئے گا۔ اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ آپ کسی کے پاس بلند اخلاقی کی دعوت لے کر جائیں۔ آپ یہ چاہیں کہ آپ اس کو مکارم اخلاق سمجھائیں لیکن جب آپ اس کے پاس پہنچیں تو آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں کہ وہ بچوں کو ذبح کر رہا ہے ‘ عورتوں کی چھاتیاں کاٹ رہا ہے ‘ دودھ پیتے بچوں کو مائوں سے چھین کر نیزوں پر اچھال رہا ہے ‘ عورتوں کی عزتیں سب کے سامنے پامال کر رہا ہے تو آپ اس کے سامنے مکارم اخلاق کی دعوت نہیں رکھیں گے بلکہ اسے سب سے پہلے اس بات سے روکنے کی کوشش کریں گے یا آپ کسی شخص کو دیکھیں کہ وہ نجاست کھا رہا ہے اور کسی دماغی فتور میں مبتلا بھی نہیں تو یقینا آپ اس کے سامنے توحید کی دعوت پیش کرنے سے پہلے اس کے اس گندے طرز عمل پر اسے توجہ دلائیں گے۔ یہاں بھی قرآن کریم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کے سلسلے میں یہی اسلوب اختیار فرمایا کہ دعوت تو حضرت لوط (علیہ السلام) کی بھی وہی ہے جو باقی انبیاء کرام کی تھی لیکن آپ نے جب انھیں ایک فاحشہ میں مبتلا دیکھا جس میں انسان کم کم مبتلا ہوتے ہیں اور جو سراسر خلاف فطرت ہے تو آپ نے سب سے پہلے اپنی اصلاحی کاوشوں کا اسے موضوع بنایا۔ جس طرح ایک شرابی کو شراب کے نشے میں کوئی عقل کی بات نہیں سمجھائی جاسکتی اسی طرح خلاف فطرت امور میں مبتلا شخص کو کوئی فطری ‘ عقلی ‘ اخلاقی اور دینی بات نہیں سمجھائی جاسکتی۔ اس لیے جہاں اصل پانی مر رہا تھا آپ نے وہیں سے اصلاح کا آغاز فرمایا اور انھیں شرم دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم الفاحشہ کا ارتکاب کر رہے ہو۔ فاحشہ عربی زبان میں ایسی کھلی بےحیائی کو کہتے ہیں جس کے بےحیائی ہونے میں کسی حیادار کو شبہ نہ ہو اور پھر یہاں فاحشہ نہیں فرمایا بلکہ الفاحشہ فرمایا جبکہ سورة بنی اسرائیل میں زنا ‘ جو سب سے بڑی اخلاقی برائی ہے اسے فاحشہ قرار دیا گیا ہے اس لیے کہ زنا کتنی بڑی بےحیائی بھی ہو انسانی زندگی میں بہرحال اس کا امکان موجود رہتا ہے۔ مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کے لیے جنسی طلب رکھتے ہیں اور جیسے ہی اللہ کا خوف آدمی سے الگ ہوتا ہے تو جنسی طلب اسے اپنی طرف کھینچتی ہے تو پھر کسی وقت بھی اس بےحیائی کا ارتکاب ناممکن نہیں رہتا۔ قوم لوط کی جس بےحیائی کا تذکرہ ہو رہا ہے وہ اگرچہ اپنے نتائج کے اعتبار سے زنا کے برابر کی برائی نہیں لیکن چونکہ وہ اپنے اندر فطری طلب نہیں رکھتی بلکہ وہ فطرت سے ایک طرح کی بغاوت معلوم ہوتی ہے اس لیے جب کوئی آدمی اس کا ارتکاب کرتا ہے تو گویا وہ فطرت سے جنگ کرتا ہے اس لیے یہاں اسے الفاحشہ قرار دیا گیا ہے یعنی ایک ایسی جانی پہچانی بےحیائی ‘ کہ جس میں ذرہ برابر بھی شرم و حیا موجود ہے وہ اس سے کراہت محسوس کیے بغیر نہ رہ سکے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن مجید نے فرمایا کہ تم ایک ایسی بےحیائی کا ارتکاب کر رہے ہو جس کا اس سے پہلے کبھی کسی نے ارتکاب نہیں کیا۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ قوم لوط سے پہلے دنیا میں اس برائی کا کوئی تصور نہیں تھا یہ وہ انتہائی بگڑی ہوئی قوم ہے جس نے سب سے پہلے اس برائی کو وجود دیا اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ برائی تو دنیا میں افراد کی حد تک ضرور موجود تھی اور آج بھی موجود ہے لیکن قومی سطح پر اس برائی کا ارتکاب اس سے پہلی کبھی کسی نے نہیں کیا یعنی ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ پوری قوم کی قوم اس میں ملوث ہوجائے اور ان کے سوچنے سمجھنے والے دماغ بھی بجائے اس کی مخالفت کرنے کے خاموش ہوجائیں یا حوصلہ افزائی کرنے لگیں۔ دنیا میں یہ پہلی قوم ہے جس نے انتہائی قابل کراہت اس برائی کو اجتماعی سطح پر قبول کیا اور رفتہ رفتہ یہ حال ہوگیا کہ نہ صرف اس برائی کا برائی ہونا ان کی نگاہوں میں ختم ہوگیا بلکہ وہ اپنی مجلسوں میں اس برائی پر فخر بھی کرنے لگے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ایک ایسی قابل نفرت برائی جس کی وجہ سے پوری قوم تباہ کردی گئی آج کے روشنی کے زمانہ میں جبکہ علم وہنر اپنی معراج کو پہنچ چکے اور مغربی قومیں اپنی تہذیب پر ناز کرتے ہوئے نہیں شرماتیں نہ صرف کہ ان میں یہ برائی موجود ہے بلکہ انھوں نے قوم لوط اور یونانیوں کی طرح سرے سے اسے برائی ہی نہیں رہنے دیا برطانیہ کی پارلیمنٹ میں باقاعدہ تالیوں کی گونج میں اس مکروہ فعل کو سند جواز عطا کی گئی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہاں کے بگڑے ہوئے ادیبوں اور فلسفیوں نے اس برائی کی تائید اور سپورٹ میں لٹریچر کا ایک ذخیرہ فراہم کردیا۔ آپ کسی بڑی لائبریری میں چلے جائیے وہاں آپ کو (Gay Style of Life) کے عنوان سے الگ سیکشن ملیں گے جس میں اس انتہائی گھنائونے جرم کی افادیت اور اہمیت کو ثابت کیا گیا ہے۔ امریکہ میں اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر اسے (Human Urge) قرار دیا گیا ہے۔ چند سال پہلے خلیج کی امریکی فوج میں سے ایک ہزار آدمی نکالے گئے تھے جو اس برائی میں ملوث تھے چناچہ جب وہ امریکہ میں پہنچے تو وہاں کے پریس نے اس پر شدید احتجاج کیا کہ یہ کونسا جرم ہے جس کی بنیاد پر ان کو وہاں سے نکالا گیا یعنی اس کو جرم ماننے سے انکار تو ایک طرف رہا وہ تو اسے انسانی فطرت کی آواز قرار دے رہے ہیں۔ باقاعدہ اس کے کلب وجود میں آچکے ہیں اور بعض گھروں میں ایسے جوڑے میاں بیوی کی طرح زندگی گزار رہے ہیں جو مرد اور عورت پر مشتمل نہیں بلکہ مردوں پر مشتمل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یورپ نے اپنے طور پر اللہ کے غضب کو دعوت دینے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ لیکن ان پر اللہ کا عذاب صرف اس لیے نہیں آرہا کہ امت مسلمہ کی جانب سے ان پر اتمام حجت نہیں کیا گیا اور جب تک اتمام حجت نہ ہو اللہ کبھی کسی قوم کو عذاب نہیں دیتا۔ قومِ لوط کی برائی کا صراحت سے ذکر اور اس کی وضاحت اگلی آیت کریمہ میں اس برائی کو صراحت سے بیان کردیا گیا ہے کہ تمہارے بگاڑ کی انتہاء یہ ہے کہ عورتیں تمہاری جنسی ضرورت کے لیے پیدا کی گئی ہیں لیکن تم انھیں چھوڑ کر مردوں سے اپنی ضرورت پوری کرتے ہو اور پھر الرجال کا لفظ قابل توجہ ہے۔ رجال پختہ سن و سال کے مردوں کو کہتے ہیں اس لفظ کے استعمال سے ایک تو اس فعل کے گھنائونے پن کا اظہار ہو رہا ہے۔ دوسرے اس سے اس دیوثیت کا اظہار ہو رہا ہے جو کسی قوم میں اس مرض خبیث کے عام ہوجانے کی صورت میں لازماً پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے عام ہوجانے کی صورت میں سن و سال کی تمیز بالکل اٹھ جاتی ہے پھر ہر عمر کے دیوث قوم میں پھیل جاتے ہیں اور ان کے لیے یہ لعنت عادت اور پیشہ بن جاتی ہے۔ من دون النسائ کے الفاظ اس قلب ماہیت کو ظاہر کر رہے ہیں جو اس فسادِ طبیعت کا لازمی نتیجہ ہے کیونکہ یہ ایک صریح حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام ذی حیات انواع میں نر و مادہ کا فرق محض تناسل اور بقائے نوع کے لیے رکھا ہے اور نوع انسانی کے اندر اس کی مزید غرض یہ بھی ہے کہ دونوں صنفوں کے افراد مل کر ایک خاندان وجود میں لائیں اور اس سے تمدن کی بنیاد پڑے۔ اسی مقصد کے لیے مرد اور عورت کی دو الگ الگ صنفیں بنائی گئی ہیں ‘ ان میں ایک دوسرے کے لیے صنفی کشش پیدا کی گئی ہے ‘ ان کی جسمانی ساخت اور نفسیاتی ترکیب ایک دوسرے کے جواب میں مقاصدِ زوجیت کے لیے عین مناسب بنائی گئی ہے اور ان کے جذب و انجذاب میں وہ لذت رکھی گئی ہے جو فطرت کے منشاء کو پورا کرنے کے لیے بیک وقت داعی و محرک بھی ہے اور اس خدمت کا صلہ بھی۔ مگر جو شخص فطرت کی اس اسکیم کے خلاف عمل کر کے اپنے ہم جنس سے شہوانی لذت حاصل کرتا ہے وہ ایک ہی وقت میں متعددجرائم کا مرتکب ہوتا ہے۔ اولاً وہ اپنی اور اپنے معمول کی طبعی ساخت اور نفسیاتی ترکیب سے جنگ کرتا ہے اور اس میں خلل عظیم برپا کردیتا ہے جس سے دونوں کے جسم ‘ نفس اور اخلاق پر نہایت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ثانیاً وہ فطرت کے ساتھ غداری و خیانت کا ارتکاب کرتا ہے کیونکہ فطرت نے جس لذت کو نوع اور تمدن کی خدمت کا صلہ بنایا تھا اور جس کے حصول کو فرائض اور ذمہ داریوں اور حقوق کے ساتھ وابستہ کیا تھا وہ اسے کسی خدمت کی بجاآوری اور کسی فرض اور حق کی ادائیگی اور کسی ذمہ داری کے التزام کے بغیر چرا لیتا ہے۔ ثالثاً وہ انسانی اجتماع کے ساتھ کھلی بددیانتی کرتا ہے کہ جماعت کے قائم کیے ہوئے تمدنی اداروں سے فائدہ تو اٹھا لیتا ہے مگر جب اس کی اپنی باری آتی ہے تو حقوق اور فرائض اور ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کی بجائے اپنی قوتوں کو پوری خود غرضی کے ساتھ ایسے طریقہ پر استعمال کرتا ہے جو اجتماعی تمدن و اخلاق کے لیے صرف غیر مفید ہی نہیں بلکہ ایجاباً مضرت رساں ہے۔ وہ اپنے آپ کو نسل اور خاندان کی خدمت کے لیے نااہل بناتا ہے اپنے ساتھ کم از کم ایک مرد کو غیر طبعی زنانہ پن میں مبتلا کرتا ہے اور کم از کم دو عورتوں کے لیے بھی صنفی بےراہ روی اور اخلاقی پستی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ اس جرم کی اسی شناعت اور ہلاکت آفرینی کے باعث اسلام نے اگرچہ اس پر حد جاری تو نہیں کی کیونکہ مسلمانوں کا اسلامی مزاج اسے کسی طرح بھی قبول نہیں کرسکتا لیکن اس کی ہولناکی کے باعث آنحضرت ﷺ نے تعزیر کے طور پر اس کی سخت سزا مقرر فرمائی۔ آپ نے فرمایا کہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والے دونوں کو قتل کردو اور کبھی آپ نے فرمایا فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کردو۔ مسلمانوں کے مجموعی مزاج کے اسے قبول نہ کرنے کے باعث آنحضرت ﷺ کے زمانے میں کوئی ایک واقعہ بھی اس طرح کا پیش نہ آیا اس لیے اس کی کوئی سزا متعین نہ ہوسکی۔ اگر اس کی حیثیت حد کی ہوتی تو وہ تو بہرصورت متعین ہوتی۔ صحابہ کرام نے بھی اسے چونکہ تعزیر ہی جانا اس لیے ان میں اس سزا کے تعین میں اختلاف ہوا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا : کہ ایسا جرم کرنے والوں کو قتل کردیا جائے اور ان کی لاشیں جلا دی جائیں۔ حضرت عثمان غنی ( رض) نے غالباً یہ کہا کہ ایسے شخص کو کسی بلند عمارت یا پہاڑ پر کھڑا کر کے نیچے گرا دیا جائے اور اس پر وہ عمارت گرا دی جائے یا اس پر پتھر برسائے جائیں۔ امام ابوحنیفہ ( رح) نے صراحتہً اسے تعزیر قرار دیتے ہیں اور حالات کے مطابق اس کی سزا کے تعین کے قائل ہیں۔ اس تفسیر سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان اہل علم کی نگاہ میں یہ ایک بدترین برائی ہے جس کا مسلمانوں میں کبھی چلن نہیں ہونا چاہیے اور اگر کہیں اس کے آثار نظر آئیں تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر ممکن طریق سے اس برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کیونکہ جس برائی کے باعث اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اسے کسی طرح بھی ہلکے انداز میں لینا ہرگز مناسب نہیں۔ اگلی آیت کریمہ میں اس جرم کی مزید شناعت اور اخلاقی تباہی اور اس کے نتائج کو بیان کیا گیا ہے کہ جب کوئی قوم اس عادت بد کا شکار ہوتی ہے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ ہر طرح کے اخلاقی مکارم سے محروم ہوگئی ہے اور اس کے نتیجے میں اس کی جبلت اور سرشت اس حد تک تبدیل ہوگئی ہے جس کا ایک نقشہ اس آیت کریمہ میں کھینچا جا رہا ہے۔
Ayah 7:82

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

نہیں تھا اس قوم کا جواب مگر یہ کہ وہ کہنے لگے کہ نکالو ان لوگوں کو اپنی بستی سے بیشک یہ لوگ بڑے پاکباز بنتے ہیں۔

ارشاد ہوتا ہے : وَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَخْرِجُوْھُمْ مّنْ قَرْیَتِکُمْ ج اِنَّھُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَھَّرُوْنَ ۔ (الاعراف : 82) ” نہیں تھا اس قوم کا جواب مگر یہ کہ وہ کہنے لگے کہ نکالو ان لوگوں کو اپنی بستی سے بیشک یہ لوگ بڑے پاکباز بنتے ہیں “۔ قومِ لوط کے بگاڑ کی انتہا اور اس کے نتائج حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے اس جواب پر غور فرمایئے کہ لوط (علیہ السلام) نے ہر ممکن طریق سے ان کے سامنے ان کی اخلاقی برائیوں کو واضح کرنے کی کوشش فرمائی۔ نہایت موثر انداز میں انھیں یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ تم جس عادت بد کا شکار ہوگئے ہو یہ ایک ایسا جرم ہے جسے اجتماعی شکل میں اللہ کی زمین پر کسی قوم نے اختیار نہیں کیا۔ بڑی سے بڑی گناہگار اور پاپی قومیں گزری ہیں لیکن وہ اپنے تمام جرائم کے باوجود اس طرح کی مکروہ حرکت کے مرتکب کبھی نہیں ہوئے۔ اس لیے تمہیں سوچنا چاہیے کہ تم نے جو طور اطوار اختیار کرلیے ہیں اس کا نتیجہ آخر کیا ہوگا ؟ تمہاری نسلیں تباہ ہوجائیں گی۔ تم اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوچکے ہو مزید برباد ہوجاؤ گے۔ تمہاری عورتیں آوارہ ہوجائیں گی۔ تم ہر طرح کے اخلاقی مفاسد کا شکار ہو کر رشتوں کی آبرو سے محروم ہوجاؤ گے لیکن حضرت لوط (علیہ السلام) کی کسی نصیحت کا ان پر اثر ہونا تو دور کی بات ہے انھوں نے ان کے وجود کو بھی اپنے لیے ناقابلِ برداشت محسوس کرنا شروع کردیا۔ انسان کے بگاڑ میں ایک تدریج ہوتی ہے جس طرح اصلاح کا عمل آہستہ آہستہ اپنی معراج کو پہنچتا ہے اسی طرح بگاڑ کے سفر میں بھی کئی مدارج آتے ہیں جس کے اندر ذرہ برابر بھی خیر باقی ہوتا ہے وہ کہیں نہ کہیں جا کر رک جاتا ہے یا اور کچھ نہیں تو وہ یہ ضرور محسوس کرتا ہے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں یہ ایک برائی ہے جب تک یہ احساس زندہ رہتا ہے وہ جرم چھپا کر کرتا ہے اور پھر ہر وقت اس بات کی امید رہتی ہے کہ شاید کبھی وہ راہ راست اختیار کرلے لیکن جب آدمی اس سفر پر رواں دواں رہتا ہے تو آخر ایک وقت ایسا آتا ہے جب اسے برائی اچھائی معلوم ہونے لگتی ہے اور برائی سے روکنے والے لوگ اس کو اپنے دشمن معلوم ہوتے ہیں وہ برائی سے اس حد تک مانوس ہوجاتا ہے کہ اس سے روکنے والے اس کے لیے ناقابل برداشت ہوجاتے ہیں پھر اسے یکسوئی حاصل کرنے اور اپنی خوشیوں کو مکمل کرنے کے لیے اس کے سوا کوئی اور راستہ نظر نہیں آتا کہ وہ برائی سے روکنے والوں کی زبانیں بند کر دے اور یا انھیں اپنے شہر سے نکال دے۔ قوم لوط بھی معلوم ہوتا ہے اس برائی کے ارتکاب کے نتیجے میں برائی کے احساس سے محروم ہوگئی تھی بلکہ برائی اسے نیکی معلوم ہونے لگی تھی۔ اب اس کے لیے حضرت لوط کا وجود ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا اس لیے جب آپ نے ان پر تنقید جاری رکھی تو بالاآخر انھوں نے آپ کی تنقید کے جواب میں یہ کہا کہ ہم تو اپنا رویہ بدلنا نہیں چاہتے ہم نے اپنی خوشیوں کے لیے جو راستہ طے کرلیا ہے اسے چھوڑ دینا ہمارے لیے گوارا نہیں اور تم اگر ہماری بستی میں رہتے ہو تو تم یقینا ہمیں اس سے روکو گے اس سے ہمارے رنگ میں بھنگ پڑے گا ‘ ہماری خوشیاں گہنا کر رہ جائیں گی اس لیے اب ایک ہی راستہ ہے کہ تمہیں یہاں سے نکال دیا جائے۔ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یہ لوط اور اس پر ایمان لانے والے چونکہ اپنے آپ کو بڑا پاکباز سمجھتے ہیں، ہمارا ان سے نباہ نہیں ہوسکتا، اس لیے انھیں اس بستی سے نکال باہر کرو۔ ان کا یہ کہنا کہ یہ لوگ اپنے آپ کو پاکباز سمجھتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نزدیک پاکبازی ایک جرم بن کر رہ گیا تھا جس طرح ناک کٹوں میں ناک والا نکو بن کر رہ جاتا ہے اور تمام اسے اپنے مذاق کا نشانہ بنا لیتے ہیں اسی طرح برائی میں ڈھل جانے والے لوگ نیکی کو ایک مذاق سمجھنے لگتے ہیں اور نیکی کا درس دینے والوں کو وہ اپنا دشمن خیال کرتے ہیں اور جو آدمی انہی کی خیر خواہی میں بار بار انھیں سمجھانے کی کوشش کرتا ہے وہ یا اسے قتل کردیتے ہیں اور یا اسے اپنے شہر سے نکال دیتے ہیں۔ غالب نے عشق و محبت کے رشتے کے حوالے سے جو بات کہی وہ نیکی اور برائی کے رشتے کے حوالے سے بھی ایک حقیقت ہے اس نے کہا تھا ؎ میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہی سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں اللہ کا قانون اللہ کا قانون یہ ہے کہ جب تک قومیں اللہ کے رسول کو برداشت کرتی ہیں وہ انھیں ڈھیل دیتا رہتا ہے اور جب قوموں کے لیے اللہ کا رسول اور اس کی دعوت ناقابل برداشت ہوجاتے ہیں تو پھر وہ پیغمبر کو ہجرت کر جانے کا حکم دیتا ہے اور قوم کو عذاب کی نذر کردیا جاتا ہے۔ چناچہ قوم لوط نے بھی جب آپ کو شہر سے نکالنے کا فیصلہ کیا تو گویا انھوں نے خود کشی کا فیصلہ کیا کیونکہ پیغمبر اپنی قوم میں روح کی مانند ہوتا ہے جس طرح جسم سے روح نکل جائے تو جسم کو باہر پھینک دیا جاتا ہے اس طرح قوم جب رسول کی دعوت سے لاتعلقی کا اعلان کردیتی ہے اور رسول کی ذات کو برداشت کرنے سے انکار کردیتی ہے تو پھر رسول کے وہاں سے ہجرت کر جانے کے بعد وہ قوم ایک مردار کی شکل اختیار کرلیتی ہے جسے باقی رکھنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چناچہ قوم لوط کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ اللہ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو اس بستی سے نکلنے کا حکم دے دیا اور فرمایا کہ پیچھے پلٹ کر نہ دیکھنا اب یہ بستی اور اہل بستی تباہ کردیئے جائیں گے۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں اسی کا تذکرہ فرمایا جا رہا ہے :
Ayah 7:83

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

پس ہم نے لوط اور اس کے اہلخانہ کو نجات دی سوائے اس کی بیوی کے وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔

فَاَنْجَیْنٰہُ وَ اَھْلَہٗٓ اِلَّا امْرَاَتَہٗ زصلے کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ۔ (الاعراف : 83) ” پس ہم نے لوط اور اس کے اہل خانہ کو نجات دی سوائے اس کی بیوی کے وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی “۔ یعنی یہ پورا علاقہ اور اس پر بسنے والی یہ قوم اللہ کے عذاب کا شکار ہوئی صرف ایک حضرت لوط (علیہ السلام) کا گھر اس عذاب سے محفوظ رہا۔ اس گھر کے رہنے والوں کو سرشام ہی وہاں سے نکل جانے کا حکم ملا جب یہ لوگ اگلی صبح تک اس گھر سے اتنا دور نکل گئے کہ عذاب کے اثرات سے محفوظ رہ سکتے تھے تب اللہ کا عذاب اس قوم پر آدھمکا اور اس بری طرح انھیں تباہ کیا کہ آج ان کا نام و نشان بھی باقی نہیں۔ اس آیت کریمہ میں اہل کا لفظ استعمال ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لوط (علیہ السلام) کے ساتھ صرف آپ کے اہل خانہ کو اس عذاب سے بچایا گیا تھا البتہ آپ کی بیوی چونکہ اسی قوم کی ایک فرد تھی تو قومی عصبیت نے اسے حق کو قبول کرنے سے روکا اور وہ بھی اپنی قوم کے ساتھ اس عذاب کا شکار ہوئی۔ اندازہ فرمایئے ! اللہ تعالیٰ کے فیصلے کتنے بےلاگ ہیں کہ بچانے پر آتا ہے تو ہر اس شخص کو بچاتا ہے جس کے پاس ایمان کی دولت ہو چاہے وہ اپنی ذات میں کتنا بھی بےقیمت کیوں نہ ہو اور پکڑنے پر آتا ہے تو نہ پیغمبر کی بیوی بچتی ہے نہ پیغمبر کا بیٹا نہ پیغمبر کا چچا اور نہ پیغمبر کا باپ کیونکہ اس کی نگاہوں میں حقیقی قدر و قیمت صرف ایمان و عمل کی ہے اس آیت کریمہ کی پہلی آیت میں اُنَاسٌ کا لفظ آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے اہل خانہ کے علاوہ بھی کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے ہوں گے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کچھ اور لوگ ایمان لائے بھی تھے تو ان کی تعداد بہت محدود تھی اور ان کا آپ سے تعلق قرابت داری کا تھا اس لیے ایک طرح سے وہ بھی آپ کے اہل خانہ میں ہی سے تھے اس لیے الگ سے ان کا ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔ اس کے بعد عذاب کی ہلکی سی تفصیل بیان کی ہے۔
Ayah 7:84

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر بارش برسائی پھر دیکھئے کیسے ہوا انجام جرم کرنے والوں کا۔

ارشاد فرمایا : وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ مَّطَرًا ط فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 84) ” اور ہم نے ان پر بارش برسائی پھر دیکھئے کیسے ہوا انجام جرم کرنے والوں کا “۔ قومِ لوط پر عذاب کی وضاحت آیت کے پہلے جملے میں بارش برسانے کا ذکر ہے لیکن بارش کی تفصیل بیان نہیں فرمائی گئی البتہ دوسرے جملے سے اس بارش کی ہولناکی کی طرف اشارہ ضرور ہے چناچہ جب ہم قرآن پاک کی دوسری آیت کو دیکھتے ہیں تو اس سے ہمیں اس کی تفصیل معلوم ہوتی ہے ایک آیت میں ارشاد فرمایا گیا : فَلَمَّا جَائَ اَمْرُنَا جَعَلنَا عَالِیَہَا سَافِلَھَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْھَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِیْلٍ مَنْضُوْدٍ مُسَوَّمَۃً (جب ہمارا حکم (عذاب) آگیا تو ہم نے اس بستی کو تل پٹ کر کے رکھ دیا اور ہم نے اس پر کھنگر کے پتھر برسائے تہہ بتہہ نشان زدہ ) یعنی اس بستی پر اللہ کا عذاب اس طرح آیا کہ پہلے اس پوری بستی کو الٹ دیا گیا پھر اس پر ایسے پتھروں کی بارش کی گئی جو پکی ہوئی مٹی سے تیار ہوئے تھے اور اس زور کی بارش ہوئی کہ پتھروں کی تہہ لگ گئی اور ایک ڈھیر پر دوسرا ڈھیر کھڑا ہوگیا اور عجیب بات یہ کہ ان میں سے ہر پتھر پر کوئی نہ کوئی نشان لگا ہوا تھا۔ بعض اہل تفسیر کا خیال ہے کہ ہر پتھر پر اس مجرم کا نشان تھا جس مجرم کے سر پر جا کر اس پتھر کو پڑنا تھا۔ اس طرح اس قوم کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ قوم اپنے تمام شہروں سمیت بحر مردار کے نیچے دفن ہے اس لیے اس بحر مردار کو بحر لوط کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ اس قوم پر حاصب کا عذاب آیا تھا یعنی ان پر ایک زور دار آندھی آئی تھی جو صحرا سے اٹھی اور صحرائی سنگ ریزے اٹھاتی ہوئی اس قوم پر جاپڑی۔ پھر آہستہ آہستہ اس میں مزید تیزی آتی گئی جس کی وجہ سے ان کی عمارتیں بھی ڈھے گئیں۔ ایک ایک شخص ان سنگ ریزوں کا شکار ہوا اور لاشیں ان کی عمارتوں کے نیچے دب گئیں اور پھر نجانے کب تک ان پر یہ سنگ باری ہوتی رہی اور پھر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ زمین پھٹی اور یہ اپنی بستیوں سمیت زمین کی آغوش میں سما گئے اور بحر مردار نے اوپر سے ان کو ڈھانپ لیا۔ اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے۔
Ayahs 7:85–86

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا شعیب نے کہا اے برادران قوم اللہ ہی کی عبادت کرو تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل آگئی پس پورا پورا ناپ تول کرو اور لوگوں کی چیزوں میں کمی مت کروزمین کی درستگی کے بعد اس میں فساد مت پھیلائو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو۔

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور نہ بیٹھو ہر راستے پر کہ لوگوں کو تم ڈرائو اور تم روکتے ہو اللہ کے راستے سے جو اللہ پر ایمان لاتا ہے اور تم اس میں کجی تلاش کرتے ہو اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے پھر اللہ نے تم میں اضافہ کیا اور دیکھو کیسے انجام ہوا فساد مچانے والوں کا۔

مشرکین مکہ اور دوسرے لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے چار معذب قوموں کا تذکرہ ہوچکا۔ اب پانچویں قوم قوم شعیب کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے : وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْبًا ط قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہ َ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط قَدْ جَآئَتْکُمْ بَیِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآئَھُمْ وَلَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِھَا ط ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤمِنِیْنَ ۔ وَ لاَ تَقْعُدُوما بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللہِ مَنْ اٰمَنَ بِہٖ وَ تَبْغُوْنَھَا عِوَجًا ج وَاذْکُرُوْٓا اِذْ کُنْتُمْ قَلِیْلًا فَکَثَّرَکُمْ ص وَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْنَ ۔ (الاعراف : 85، 86) ” اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا شعیب نے کہا اے برادران قوم اللہ ہی کی عبادت کرو تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل آگئی پس پورا پورا ناپ تول کرو اور لوگوں کی چیزوں میں کمی مت کروزمین کی درستگی کے بعد اس میں فساد مت پھیلائو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو۔ اور نہ بیٹھو ہر راستے پر کہ لوگوں کو تم ڈرائو اور تم روکتے ہو اللہ کے راستے سے جو اللہ پر ایمان لاتا ہے اور تم اس میں کجی تلاش کرتے ہو اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے پھر اللہ نے تم میں اضافہ کیا اور دیکھو کیسے انجام ہوا فساد مچانے والوں کا “۔ ان دونوں آیات کریمہ میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اس دعوت کو بیان کیا گیا ہے جو آپ نے اپنی قوم کے سامنے پیش فرمائی۔ اس سے پہلے کہ اس دعوت کی تفصیل بیان کی جائے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ قوم شعیب جنھیں مدین کے نام سے یاد کیا گیا ہے اس کے بارے میں کچھ ضروری باتیں کہہ دی جائیں۔ قومِ شعیب کی تاریخ اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دعوت مدین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تیسری بیوی قطوراء کے صاحبزادے مدیان کی اولاد ہیں۔ ان کی طرف منسوب ہونے کے باعث آل مدین یا آل مدیان کہلاتے ہیں اور کثرت استعمال سے صرف مدین استعمال ہونے لگا یہ پوری قوم مدیان کی اولاد پر ہی مشتمل نہ تھی بلکہ جو لوگ ان کے ہاتھ پر ایمان لائے یا وہاں بس جانے کی وجہ سے اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرنے لگے وہ بھی مدین یا آل مدین کہلائے۔ مدین کا اصل علاقہ حجاز کے شمال مغرب اور فلسطین کے جنوب میں بحر احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے پر واقع تھا۔ قدیم زمانے میں جو تجارتی شاہراہ بحر احمر کے کنارے یمن سے مکہ اور ینبوع ہوتی ہوئی شام تک جاتی تھی اور ایک دوسری تجارتی شاہرہ جو عراق سے مصر جاتی تھی اس کے عین چورا ہے میں ان کی بستیاں آباد تھیں۔ اپنے محل وقوع کی اہمیت اور افادیت کے باعث ان کے باقی متمدن ملکوں سے قریبی تعلقات بھی قائم تھے اور تجارتی روابط کے باعث ان کی مالی اور اقتصادی حالت نہایت مضبوط تھی۔ ان کا پیشہ چونکہ بنیادی طور پر تجارت تھا اس لیے جب ان میں عقیدے کی خرابی کے ساتھ ساتھ اخلاقی فساد پیدا ہوا تو وہ سارے عیوب ان میں در آئے جو عام طور پر کاروباری بےراہ روی کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں اسی وجہ سے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی دعوت میں عقیدے کی خرابی کی اصلاح کے ساتھ ساتھ ان کے کاروباری خرابیوں پر بطور خاص تنقید فرمائی چناچہ قرآن کریم نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دعوت کی جو تفصیل بیان فرمائی ہے اسے سامنے رکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے سب سے پہلے وہی اصولی بات بیان فرمائی جس سے ہر پیغمبر اپنی دعوت کا آغاز کرتا رہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تمہاری ساری برائیوں اور خرابیوں کی بنیاد یہ ہے کہ تم نے اس زمین پر اپنے آپ کو ایک خود رو پودا سمجھ لیا ہے جو کسی نہ کسی طرح وجود میں تو آگیا ہے لیکن اس کے وجود کا کوئی مقصد نہیں اور نہ اسے کبھی کسی کے سامنے جواب دہی کرنی ہے وہ جب تک زندہ ہے تو محض زندگی کے لیے زندہ ہے اور اس کی زندگی کی ساری مصروفیات صرف ضروریات کے حصول یا ضروریات سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہے دنیا میں جو شخص بھی آیا ہے اس کا کام یہ ہے کہ وہ کھائے پیئے ‘ بہتر سے بہتر مکان بنائے ‘ اچھی سے اچھی سواری تلاش کرے ‘ خوبصورت بیوی سے نکاح کرے ‘ اولاد کی خوشیاں دیکھے ‘ اپنے پہلو میں جو خواہشات کا سمندر رکھتا ہے اس میں جب چاہے جیسے چاہے ڈبکیاں لگاتا پھرے ‘ اس کے ارادوں میں نیک و بد کی کسی تمیز کا سوال پیدا نہیں ہوتا ‘ اس کی زندگی کی کوئی جہت ہے نہ کوئی منزل ‘ وہ جس معاشرے میں رہتا ہے اس میں نہ کوئی حقوق ہیں نہ فرائض ‘ اخلاق نام کی کسی چیز کا اس کے پاس گزر ہی ممکن نہیں ‘ وہ ایک نباتاتی اور حیوانی زندگی گزارتا ہے اور جب کبھی موت آئے گی تو اس کی زندگی کا آخری حرف بھی مٹ جائے گا۔ اس میں کسی آقا ومالک کا کوئی تصور نہیں جس کے سامنے جواب دہی کرنی ہو۔ اس زندگی کے بعد کسی اور زندگی کا کوئی وجود نہیں ‘ جس کے لیے تیاری کرنی ہو۔ حضرت شعیب نے اپنی قوم سے کہا کہ یہی وہ تصور ہے جس نے تمہاری زندگیوں کو نیکی کے نور سے محروم کردیا ہے تمہاری انسانیت حیوانیت کی نذر ہوگئی ہے ‘ تمہارے سامنے جلبِ زر کے سوا اور کوئی مقصد نہیں تم دوسروں سے بالا بلند رہنا چاہتے ہو چاہے اس کے لیے تمہیں دوسروں کا خون پینا پڑے۔ تمہارے زندگی کے اسی تصور نے اللہ کی زمین کو فساد سے بھر دیا ہے اس لیے جب تک تم اس بنیادی بات کو نہ سمجھ لو کہ تم کوئی خودرو پورا نہیں ہو تمہارا ایک خالق ومالک ہے اس حکیم ذات نے تمہیں ایک مقصد زندگی دے کر پیدا کیا ہے اس مقصد زندگی کو پورا کرنے کے لیے اس نے ایک قانون عطا کیا ہے اور اس قانون کو پہنچانے اور دنیا میں اسے برپا کرنے کے لیے اللہ نے اپنے رسول بھیجے انھوں نے آکر یہ تعلیم دی کہ تمہیں یہاں ہمیشہ نہیں رہنا ‘ ایک دن تمہیں موت آئے گی اور یہ موت بھی آخری موت نہیں ہوگی پھر ایک دن ایسا آئے گا جسے قیامت کہتے ہیں۔ تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور ہر شخص اللہ کے سامنے زندگی کے اعمال کا حساب دینے کے لیے پیش کیا جائے گا۔ کامیابی اسے ملے گی جس کی زندگی کے اعمال اچھے ہوں گے اور جس نے زندگی اپنے آقا کے احکام کے مطابق نہیں گزاری ہوگی وہ ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہوجائے گا۔ آپ نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ تمہاری زندگی کی بہتری اور کامیابی صرف اس بات کو سمجھنے میں ہے کہ تمہارا ایک آقا اور معبود ہے اس کی آقائی اور بندگی میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔ اس ایک تصور کو قبول کرلینے کے بعد تمہاری ایک ایک فکری کجی اور ایک ایک بےراہ روی کا علاج ہوجاتا ہے اور زندگی کی ایک ایک چول اپنی جگہ ٹھیک بیٹھ جاتی ہے۔ اسی بات کو سمجھانے کے لیے میں تمہارے پاس اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں۔ رہی یہ بات کہ میں واقعی اس کا رسول ہوں یا نہیں اس کے لیے تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے بینہ آگیا ہے۔ اس بینہ سے دو باتیں مراد ہوسکتی ہیں یا تو یہ بات کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اللہ نے اسی طرح بہت نمایاں قسم کے چند معجزات عطا فرمائے تھے جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا فرمائے گئے جنھیں دیکھ کر ہر شخص اندازہ کرسکتا تھا کہ یہ شخص واقعی اللہ کا رسول ہے اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول کی ذات بجائے خود بینہ ہوتی ہے۔ اس کی شخصیت ‘ اس کی شخصیت کی دلآویزی ‘ اس کی بےعیب زندگی ‘ سچائی کے تول تلنے والا اس کا ہر عمل اور قول ‘ وہ ان پتھروں کے ڈھیر میں چمکتے ہوئے ایک ہیرے کی مانند ہوتا ہے جسے دیکھنے والا ہر فرد اپنے دل میں یہ یقین کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یقینا یہ شخص اللہ کا رسول ہے چاہے وہ اپنے جاہلی تعصبات کی وجہ سے ماننے سے انکار بھی کرے۔ حضرت شعیب بھی ایسے ہی تھے جو چلتے پھرتے اپنی قوم میں اللہ کی دلیل تھے اور جن کی ذات قوم کے لیے مینارہ نور تھی اور ان کی زندگی ان گم گشتگان کے لیے ایک ایسا نور کا سامان تھی جس سے راستے کی ہر تاریکی دور ہوجاتی ہے۔ قومِ شعیب کی دونمایاں خرابیاں اس کے بعد حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی اس نمایاں گمراہی کا ذکر فرمایا ہے جس کی وجہ سے وہ قوم دوسری قوموں کے لیے ایک عذاب بن گئی۔ چونکہ یہ قوم بنیادی طور پر ایک تجارت پیشہ قوم تھی اور اس زمانے کے متمدن ممالک کو جانے والی تجارتی شاہراہیں ان کے ملک سے ہو کر گزرتی تھیں یہ ان شاہراہوں پر قابض ہونے کی وجہ سے اگر ایک طرف تجارتی مفادات حاصل کرنے میں بڑی آسانی محسوس کرتے تھے تو دوسری طرف گزرنے والے تجارتی قافلوں کو مختلف طریقوں سے لوٹنا ان کا دل پسند مشغلہ بن گیا تھا۔ تجارت کوئی بھی ہو اس کی بنیاد لین دین کے طریقوں کا ٹھیک ہونا ہے چاہے یہ طریقے کیل اور وزن کے نام سے یاد کیے جائیں یا آج کی زبان میں کسی اور نام سے۔ اس زمانے میں چونکہ لین دین زیادہ تر ناپ تول سے ہوتا تھا اس لیے بطور خاص اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ مقصود یہ ہے کہ تمہیں اپنے تجارتی معاملات میں دیانت و امانت کو اصول بنانا چاہیے۔ اس لیے جب تم دوسرے لوگوں سے معاملہ کرو تو ان کی چیزوں میں کمی مت کرو۔ یہ کوشش نہ کرو کہ جب لو تو پورا لو اور جب دینے کا وقت آئے تو کسی نہ کسی طریقے سے نقصان پہنچائو یعنی کوئی چیز اگر تول کر یا ناپ کردو تو ہر صورت میں ڈنڈی مارو لیتے ہوئے بھی خیانت کرو اور دیتے ہوئے بھی خیانت کرو اور یہ خیانت صرف ناپنے تولنے کی چیزوں میں نہیں بلکہ ہر طرح کے حقوق میں بھی مراد ہے۔ ناپ تول میں کمی کو تطفیف کہا گیا ہے لیکن حضرت عمر فاروق ( رض) نے اس لفظ کی معنویت میں وسعت پیدا فرمائی اور یقینا انھوں نے یہ بات آنحضرت ﷺ سے سیکھی ہوگی آپ نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جو تعدیل ارکان کا خیال کیے بغیر جلدی جلدی نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ نے اسے بلا کر فرمایا کہ تم نے تطفیف کا ارتکاب کیا ہے کہ نماز کے جو ارکان ہیں تم نے انھیں ٹھیک طرح سے ادا نہیں کیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد ‘ ان کو ٹھیک طرح سے انجام دینا اور معاملات میں ٹھیک ٹھیک اپنی ذمہ داری کا ادا کرنا اور ہر معاملے میں دیانت و امانت کو رہنما بنانا یہ وہ چیز ہے جس سے انسانی معاشرے میں ایک توازن اور اعتدال قائم ہوتا ہے اور اسی کے نتیجے میں معاشرہ متوازن ہوتا اور پھلتا پھولتا ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو بغیر ستون کے توازن اور عدل کے سہارے کھڑا کیا ہے اسی طرح انسانی زندگی بھی اسی توازن اور عدل کے نتیجے میں آسودہ ہوتی اور برگ و بار پیدا کرتی ہے۔ جس گھر میں حقوق و فرائض میں توازن ہوتا ہے اس گھر میں خوشیوں کی پھوار پھوٹتی ہے اور جس معاشرے میں یہ توازن وسیع سطح پر قائم ہوجاتا ہے وہ معاشرہ جنت کا نمونہ بن جاتا ہے اور قوم شعیب بنیادی طور پر اس توازن کو چھوڑ چکی تھی جس کا نتیجہ یہ تھا کہ انکی بےاعتدالیوں سے زمین میں فساد پھوٹ پڑا تھا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو سمجھایا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری اجتماعی زندگی اس فساد سے محفوظ رہے تو پھر تم اپنے معاشرے میں اس میزان کو قائم کرنے کی کوشش کرو اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین فساد سے بھر جائے گی حالانکہ تم جانتے ہو کہ اللہ کی اس زمین میں جب انسانی فساد انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ پھر زیادہ ڈھیل نہیں دیتے تم سے پہلی قوموں نے زمین میں فساد مچایا ‘ حقوق و فرائض شکست کیے تو بالآخر وہ تباہ کردی گئیں تو زمین کی اس درستی کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں اب موقع دیا ہے کہ تم زمین کے اس نظام کو باقی رکھو اور اس میں فساد نہ پھیلائو کیونکہ فساد پھیلانے والی قوم کے مٹ جانے کے بعد زمین فساد سے پاک ہوجاتی ہے تمہیں ایک اصلاح یافتہ زمین ملی لیکن تم دوبارہ اسے فساد سے بھرے دے رہے ہو تم اگر واقعی اپنے پہلو میں ایمان رکھتے ہو اور تمہیں اس بات کا یقین ہے کہ پہلی قومیں اللہ کی نافرمانی کے باعث ہی عذاب کا شکار ہوئیں تو پھر میں جو کچھ تمہیں کہہ رہا ہوں تمہارے لیے اسے قبول کرنے میں ہی خیریت ہے۔ یہاں ممکن ہے آپ کو یہ خیال پیدا ہو کہ وہ لوگ تو کافر تھے انھیں مومن کیوں کہا جا رہا ہے ؟ بات دراصل یہ ہے کہ یہ قوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے مدیان کی طرف منسوب تھی اس لحاظ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہدایت کی کسی حد تک وارث بھی تھی وہ اگرچہ اپنے بگاڑ میں بہت دور نکل چکے تھے لیکن وہ ہدایت کی بنیادی باتوں سے بالکل تہی دامن نہ تھی۔ یوں کہہ لیجیے کہ وہ اپنے دور کے بگڑے ہوئے مسلمان تھے، اس لیے انھیں مومن کہہ کر اصلاح کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں ان کے بگاڑ کی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے کہ حبِّ دنیا اور طلب منفعت کے جوش نے تمہارا یہ حال کردیا ہے کہ تجارتی قافلے جن راستوں سے گزرتے ہیں تم ان راستوں پر بیٹھ کر زبردستی ان سے ٹیکس وصول کرتے ہو۔ اور انھیں ڈرا دھمکا کر جو مفادات بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں انھیں حاصل کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ آج بھی آپ ملک کے بہت سارے حصوں میں دیکھ سکتے ہیں کہ جہاں کہیں بھی کسی و ڈیرے یا ٹھیکیدار کو موقع ملتا ہے وہ ایک چوکی بنا کر چند لوگوں کو آنے جانے والی گاڑیوں سے نام نہاد ٹیکس وصول کرنے پر لگا دیتا ہے اور آزاد قبائل میں تو قدم قدم پر آپ کو ایسی صورتحال کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملے گا۔ یہ قوم شعیب بھی معلوم ہوتا ہے اپنے محل وقوع سے فائد اٹھاتی ہوئی تجارتی قافلوں پر اسی طرح ظلم توڑتی تھی اور دوسری حرکت ان کی یہ تھی، معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم اور آنے جانے والے لوگوں کے سامنے بھی اللہ کے دین کی دعوت پیش کرتے ہوں گے اور ان کی قوم کا حال یہ تھا کہ جہاں بھی انھیں خبر ہوتی کہ کوئی شخص حضرت شعیب (علیہ السلام) پر ایمان لایا ہے تو وہ ہر ممکن طریقے سے اسے روکنے کی کوشش کرتے ‘ ڈراتے دھمکاتے بھی اور فکری کج روی کا سامان بھی کرتے ‘ مختلف غلط فہمیاں پیدا کرتے ‘ عجیب و غریب سوالات اٹھاتے تاکہ لوگ بدگمان ہو کر حضرت شعیب کو چھوڑ دیں۔ تنبیہ کے اس انداز کے ساتھ ساتھ ترغیب کا انداز بھی اختیار فرمایا گیا کہ دیکھو تم ایک مختصر سے خاندان کی صورت میں اس جگہ پر آکر آباد ہوئے تھے اور آج اللہ نے تمہیں ایک بڑی قوم میں تبدیل کردیا ہے اور تمہیں جائے سکونت ایسی بخشی ہے جس کی وجہ سے تمہارا تمام متمدن ملکوں سے رشتہ ہے اور پھر اس کے ساتھ ساتھ تم تاریخ سے ناواقف نہیں ہو تم خوب جانتے ہو کہ تم سے پہلے جن لوگوں نے تمہاری طرح زمین میں فساد پھیلایا ان کا انجام کیا ہوا۔ ایک طرف اللہ کی نعمتیں ہیں اور دوسری طرف تاریخ کا یہ ہولناک سبق ہے۔ کیا ان دونوں میں سے تم کسی سے بھی فائدہ نہ اٹھائو گے بلکہ ہر موقع پر تم کوئی نہ کوئی اعتراض کر کے پہلو بچا کر نکل جانے کی کوشش کرتے ہو چناچہ اگلی آیت کریمہ میں ان کے ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے اور اس جواب میں ان کا اعتراض جھلکتا ہوا صاف محسوس ہوتا ہے۔