Ayah 7:54تمہید
گزشتہ رکوع کے اختتام تک شرک کے مختلف پہلوئوں پر تنقید اور اس کے دنیوی اور اخروی نتائج کی بحث کو مکمل کردیا گیا ہے۔ پیش نظر آیات میں توحید کے دلائل کو ذکر فرماتے ہوئے شرک کے پیدا ہونے کے اسباب کو نہایت پہلودار طریقے سے بیان کیا جا رہا ہے۔ اس بحث کو اگر سمجھ لیا جائے تو توحید کی حقیقت اور شرک کی مذمت پیش پا افتادہ حقیقت معلوم ہوتی ہے۔
اِنَّ رَبَّکُمُ اللہ ُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ قف یُغْشِی الَّیْلَ النَّھَارَ یَطْلُبُہٗ حَثِیِْثًا لا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍ م بِاَمْرِہٖط اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ط تَبٰرَکَ اللہ ُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الاعراف : 54)
” بیشک ! تمہارا رب وہی اللہ ہے ‘ جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا ہے۔ پھر وہ عرش اقتدار پر متمکن ہوا۔ وہ رات کو دن پر ڈھانکتا ہے ‘ جو اس کا پوری سرگرمی سے تعاقب کرتی ہے اور اس نے سورج اور چاند اور ستارے پیدا کیے ‘ جو اس کے حکم سے مسخر ہیں۔ خبردار ! خلق اور امر اسی کے لیے خاص ہیں۔ بڑا ہی برکت والا ہے اللہ ‘ سارے جہانوں کا رب “۔
اللہ وحدہٗ لا شریک ہے
مشرکینِ مکہ اور دیگر مشرکینِ عرب بھی اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ تمام کائنات کا خالق تو یقینا اللہ کی ذات ہے۔ لیکن تمام کائنات کا رب وہ تنہا نہیں بلکہ اس کے ساتھ اور بھی بہت سارے ارباب اور شرکاء موجود ہیں ‘ جن کو خود اس نے اپنے ساتھ یہ حیثیت دے رکھی ہے۔ اگرچہ رب الارباب کی حیثیت اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ لیکن اس کی عطا کردہ ربوبیت کے حامل چھوٹے چھوٹے اور بھی بہت سے لوگ اور بہت سی قوتیں ہیں۔ ان کی اس غلط فہمی کی بنیاد یہ تھی کہ یہ بات تو وہ کسی طرح مان چکے تھے کہ تمام کائنات کو خلق اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اور وہی کائنات کا خالق ہے ‘ لیکن یہ اتنی بڑی کائنات جس کے اور چھور کا کوئی اندازہ ہی نہیں ‘ کیسے ممکن ہے کہ پوری کائنات کے انتظام و انصرام کی ذمہ داریاں ‘ اس میں بسنے والی مخلوقات کی رزق رسانی ‘ ان کی ضروریات سے آگاہی اور پھر ہر ضرورت کو پورا کرنا ‘ یہ سب کچھ تنہا اللہ کی ذات کرسکے ؟ یہ بات ان کی سمجھ سے بالا تر ہے۔ اس لیے پروردگار نے کائنات اور مخلوقات کے نظام کو ٹھیک رکھنے کے لیے اور ان کی ضروریات بہم پہنچانے کے لیے ‘ یہ ضروری سمجھا کہ بہت ساری قوتوں کو ان انتظامی امور میں شریک کرلیا جائے۔ چناچہ کسی کو رزق دینے ‘ کسی کو اولاد عطا کرنے ‘ کسی کو بیماریوں سے شفا دینے اور کسی کو بارش برسانے جیسی ذمہ داریوں پر لگا دیا گیا۔ اب اگر انسان یہ چاہتا ہے کہ اس کی تمام ضروریات احسن انداز میں اسے ملتی رہیں تو پھر یہ بات نہایت ضروری ہے کہ وہ ان تمام قوتوں کی عبادت کرے ‘ ان سے استمداد کرے ‘ ان کی پوجا پاٹ کرے ‘ تاکہ وہ قوتیں اس سے خوش ہو کر اس کی ضروریات کو پورا کرتی رہیں اور اس کو مصیبتوں سے بچاتی رہیں اور پھر انہی قوتوں کے واسطے سے اور انہی پاکیزہ صفات ہستیوں کے طفیل وہ اپنے اس عظیم رب کو ‘ جس کو وہ اللہ کے نام سے پکارتا ہے ‘ خوش بھی کرسکے۔ درحقیقت ان کے نزدیک اللہ کی حیثیت شہنشاہ کی طرح تھی۔ ایک شہنشاہ بہت بڑے ملک کا مالک تو ہوسکتا ہے ‘ اس کا حکمران بھی کہلا سکتا ہے۔ لیکن یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ وہ ایک ایک صوبے اور ایک ایک شہر کے انتظام کی براہ راست نگرانی کرے۔ اسے یقینا اپنی ماتحتی میں بہت سارے کارکنوں کو بھرتی کرنا پڑتا ہے اور پھر انھیں اختیارات دے کر ان خدمات کو بروئے کار لانا پڑتا ہے۔ یہی حال پروردگار عالم کا بھی ہے یہ وہ بنیادی وجہ تھی ‘ جس نے اللہ کو رب الارباب مانتے ہوئے بھی انسان کو اور بہت سارے چھوٹے بڑے ارباب کو ماننے پر مجبور کیا اور پھر اسی پر بات رکی نہیں ‘ وقت کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت ان کے ذہنوں میں مدھم ہوتی گئی کہ رب الارباب اللہ کی ذات ہے۔ ان کے ذہنوں پر جس خیال کا تسلط محکم ہوتا گیا وہ یہ تھا کہ جن سے براہ راست ہماری ضرورتیں متعلق ہیں اور جو ہماری ضروریات کو پورا کرنے کا اختیار بھی رکھتے ہیں ‘ بس انہی کو رب مان کر انہی کی پوجا پاٹ اور عبادت کرنی ہے۔ یہاں پہلی بات تو یہ فرمائی جا رہی ہے کہ اے مشرکین عرب ! اچھی طرح اس بات کو سمجھ لو کہ جو اس کائنات کا اور تمہارا خالق ہے ‘ وہی تمہارا رب بھی ہے۔ تم نے اللہ کو ایک شہنشاہ قرار دے کر جس طرح دوسرے ارباب کے لیے ضرورت پیدا کی ہے ‘ وہ بنیادی طور پر غلط ہے۔ اس لیے کہ ایک شہنشاہ ‘ شہنشاہ ہوتے ہوئے بھی اپنی ذات میں وہ ہمہ گیر صفات نہیں رکھتا ‘ جس کے نتیجے میں وہ ہر ایک کی ضرورت سے آگاہ بھی ہو سکے اور ضرورت پوری کرنے پر قادر بھی ہو سکے۔ لیکن اللہ کی ذات کمال قدرت کی حامل ہے۔ اس کا علم بےپناہ ہے۔ اس کی ہر صفت اپنے اندر غیر محدود وسعتیں رکھتی ہے اس کے لیے تمام مخلوقات کو دیکھنا ‘ ان کی ضروریات کو جاننا ‘ پھر ان کی ایک ایک ضرورت مہیا کرنا کوئی مشکل نہیں۔ ہم جس طرح اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کو دیکھتے ہیں اور اس کی ایک ایک لکیر کو پڑھ سکتے ہیں ‘ پروردگار عالم اس سے بھی زیادہ آسانی سے پوری کائنات کو دیکھتے اور اس کی ایک ایک چیز کو سمجھتے ہیں۔ اس کی شان تو یہ ہے کہ سمندروں کی گہرائیوں میں کوئی مچھلی اگر حرکت کرتی ہے تو وہ اسے دیکھتا ہے ‘ جنگل میں کوئی پتہ گرتا ہے تو وہ اسے بھی جانتا ہے۔ ہر خشک و تر چیز اس کے علم کے خزانے میں محفوظ ہے۔ جس کی صفات اس قدر وسعتوں کی مالک ہوں اسے شہنشاہوں پر قیاس کر کے شرک کے لیے جواز پیدا کرنا سخت بےعقلی اور بےدانشی کی انتہا ہے۔
قرآن میں رب کی دو بنیادی صفات
اس کے ساتھ ایک اور چیز بھی سمجھ لینی چاہیے۔ وہ یہ کہ قرآن کریم جب رب کا لفظ استعمال کرتا ہے تو وہ اس سے دو چیزیں مراد لیتا ہے۔
1 ایک تو یہ کہ انسانی جسم ‘ جسمانی صلاحیتیں ‘ دل و دماغ کی رعنائیاں ‘ فعلی اور انفعالی قوتیں ‘ احساسات کی گہرائی اور ایسی ہی اور چیزیں ‘ جن کی انسان کو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ضرورت درپیش ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تمام ضرورتوں کو پورا کرنے والے ہیں۔ ربوبیت کا مفہوم ہے انشاء الشی حالاً فحالاً الیٰ حدالتمام کسی چیز کو رفتہ رفتہ نقطہ کمال تک پہنچانا اور ہر مرحلے پر اس کی ضروریات کو فراہم کرنا۔ مثلاً جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہے تو ماں کے پیٹ میں اس کو غذا پہنچانا ‘ اس کی زندگی کا سروسامان کرنا ‘ پھر ایک وقت مقرر پر اسے تخلیق کے عمل سے گزارنا اور پھر دنیا میں آنے کے بعد اس کی ماں کے سینے میں اس کی غذا کا چشمہ رواں کردینا اور دنیا میں اس کے اترنے سے پہلے ماں کے اندر مامتا پیدا کردینا اور باپ کے کندھوں اور دل و دماغ میں شفقت کا طوفان اٹھا دینا ‘ ننھیالی اور ددھیالی رشتوں کو اس کی حفاظت کے لیے وجود میں لے آنا ‘ پھر کچھ وقت گزرنے کے بعد اس کے اندر احساس کا چراغ روشن کرنا اور مزید آگے بڑھ کر اسے عقل کے نور سے منور کردینا۔ بالکل ابتدا میں اس کا معدہ کسی ثقیل غذا کا متحمل نہیں ہوسکتا تو ماں کے دودھ میں مائیت کے عنصر کو غالب رکھنا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دودھ میں دھنیت کو بڑھاتے چلے جانا ‘ تاکہ بچے کی نمود و پرداخت اور توانائی میں کام لیا جاسکے۔ اسی طرح پوری زندگی کو تصور میں لا کر اندازہ کیجیے کہ کس طرح اس کی ربوبیت کا عمل بچے کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ یہ تو وہ ربوبیت ہے ‘ جس کا تعلق انسان کے داخل سے ہے اور جہاں تک اس کی خارجی زندگی کا تعلق ہے۔ اس میں غور کر کے دیکھئے تو قدم قدم پر آپ کو ربوبیت بکھری ہوئی دکھائی دے گی۔ سورج کی روشنی ‘ چاند کی حلاوت ‘ ستاروں کی آنکھ مچولی ‘ ہوا کا جسم سے چھو کر گزرنا ‘ آکسیجن کا چاروں طرف پھیلا ہوا سمندر اور پھر زمین کو مختلف قسم کی غذائوں اور قوت روئیدگی سے مالا مال کردینا اور پھر زمین پر ابلتی ہوئی آبشاریں ‘ برستی ہوئی بارشیں ‘ بہتے ہوئے دریا ‘ بل کھاتی ہوئی ندیاں ‘ چھتری تانے ہوئے درخت ‘ جھنڈوں کی طرح گڑھے ہوئے قدآور اشجار ‘ چاندی کی طرح پگھلتی ہوئی برف اور پارے کی طرح رواں دواں چشمے ‘ اس طرح بیشمار نعمتیں ہیں ‘ جن سے انسان شب و روز فائدہ اٹھاتا ہے اور کوئی ضرورت ایسی نہیں ‘ جو پیدا ہونے سے پہلے وجود میں نہیں آچکی اور کوئی مطالبہ ایسا نہیں ‘ جسکو پورا نہیں کردیا گیا۔ یہ وہ ظاہری ربوبیت ہے ‘ جو انسان کے خارج میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہمیں دکھائی دیتی ہے۔
2 لیکن اسی طرح ایک ربوبیت اور بھی ہے ‘ جو خود اس ظاہری ربوبیت کا ایک لازمہ اور نتیجہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ جس اللہ نے یہ تمام نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور جس نے جسم و جان کی رعنائیوں سے انسان کو گراں بار کیا ہے۔ اگر وہ انسان کو یہ نہ بتاتا کہ ان تمام نعمتوں اور ان تمام قوتوں سے کام کس طرح لینا ہے۔ وہ زندگی دیتا اور زندگی کا مقصد متعین نہ کرتا۔ وہ انسانوں کو جنسی احساسات سے گراں بار کردیتا ‘ لیکن شرم و حیا کے نازک احساسات سے محروم رکھتا۔ وہ انسان کو دل دیتا ‘ لیکن رحم و مروت ‘ ہمددی اور غمگساری جیسی اقدار کا اسے علم نہ دیتا۔ حتیٰ کہ انسان کو مسجود ملائک بناتا ‘ لیکن زمین پر بھیجنے کے بعد اس کی ذمہ داریوں سے اس کو آگاہ نہ کرتا۔ تو آپ اندازہ فرمایئے کہ کیا یہ اللہ تعالیٰ کی ادھوری ربوبیت نہ ہوتی ؟ قرآن کریم نے جابجا اس کی طرف اشارے کیے۔ وہ جہاں بھی انسان کی تخلیق کا ذکر کرتا ہے ‘ وہیں اسے زندگی کے بارے میں ہدایت دینے کی بات بھی کرتا ہے۔ جہاں اس کی دنیا کا تذکرہ کرتا ہے ‘ وہیں وہ آخرت کا بھی ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ کیونکہ جس طرح اس کی مخلوق میں ہر چیز کا ایک جوڑا پیدا کیا گیا ہے ‘ دنیا کا جوڑا اس نے آخرت کو بنایا۔ اگر دنیا کی باتیں ہوتیں ‘ لیکن آخرت کی تیاری کے لیے کوئی رہنمائی نہ دی جاتی تو یہ نا مکمل ربوبیت ہوتی۔ اس آیت کریمہ میں یہ بات فرمائی گئی ہے کہ دیکھو ! جس اللہ نے تمہیں اور باقی کائنات کو پیدا فرمایا ہے ‘ وہ صرف تمہارا خالق نہیں ‘ بلکہ وہ تمہارا رب بھی ہے۔ یعنی تمہیں اس نے زندگی کے امکانات اور زندگی کی ضروریات بھی دی ہیں اور پھر زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی ‘ تمہیں عطا کیا ہے اور پھر انسانوں پر اپنے احسانات کا ذکر فرماتے ہوئے اپنی تخلیق کی تھوڑی سی وسعت بیان فرمائی ہے کہ تمہارا رب وہ ہے ‘ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ‘ اس لیے کہ پوری کائنات کو جس حصار میں محصور کیا گیا ہے اور اس کی ہمہ ہمی کو جس میدان میں برگ و بار لانے کا موقع دیا گیا ہے ‘ وہ زمین و آسمان ہی ہیں۔ یوں کہہ لیجیے کہ اس سے مراد پوری کائنات ہے مزید یہ فرمایا کہ ہم نے اس پوری کائنات کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا۔ اس میں دو باتیں سمجھنے کی ہیں ایک تو یہ بات کہ چھ دنوں سے کیا وہ دن مراد ہیں جو دن اور رات کے تسلسل سے وجود میں آتے ہیں یا اس سے مراد خدائی دن ہیں۔ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس سے مراد ہمارے دن نہیں بلکہ اللہ کے اپنے دن مراد ہیں اور قرآن پاک میں تصریح کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دن کبھی ایک ہزار سال کے ہوتے ہی اور کبھی پچاس ہزار سال کے برابر اگر یہ بات صحیح ہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں چھ دنوں سے چھ ادوار مراد ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے کائنات کو چھ ادوار میں پیدا فرمایا اور یہی بات تورات نے بھی کہی ہے اور ہمارا فلسفہ جدید تو بڑی شدومد سے اس کا دعوے دار ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا جدید فلسفہ کائنات کے وجود کو نظریہ ارتقاء کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ قرآن کریم اس کے خلاف نہیں البتہ نظریہ ارتقاء کی تقریر جس انداز سے اس کے علمبرداروں کی طرف سے کی جاتی ہے اس میں چونکہ بہت سے منطقی خلا موجود ہیں اس لیے قرآن کریم اس کو تسلیم نہیں کرتا۔ یہ بات تو صحیح ہے کہ کائنات چھ ادوار میں مکمل ہوئی یعنی ایک ارتقا کے ساتھ اس کا تخلیقی عمل وجود میں آیا لیکن یہ بات کسی طرح بھی قابل قبول نہیں کہ انسان کو اولاد آدم ماننے کی بجائے بندر کی اولاد مانا جائے اور بندر سے پہلے اور بندر کے بعد جو جھول موجود ہے ان کا کوئی جواب نہ دیا جائے۔ انسانی ایجادات کو دیکھ لیجیے کہ انسان نے پہیہ ایجاد کیا اور اس کے بعد ایجادات کی دنیا میں حیرت انگیز انقلاب آیا۔ پھر قسم قسم کی چیزیں بنتی چلی گئیں لیکن ایک سواری کے بعد دوسری سواری نے جو شکل اختیار کی ہم اس سے اچھی طرح واقف ہیں کوئی آدمی اس کو ماننے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوگا کہ ہم چھکڑے سے اترے اور ہوائی جہاز اور راکٹ پر چڑھ گئے تو اسی طرح اس بات کو کون تسلیم کرے کہ انسان کے ارتقاء نے پہلے بندر کی شکل اختیار کی اور پھر یکلخت کوئی موجودہ انسان کی شکل اختیار کر گیا درمیان کی کڑیاں کہاں ہیں اس کا کوئی جواب نہیں۔
دوسری بات جو اس میں سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت اور قرآن کی تصریحات کو دیکھتے ہوئے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ بات کوئی مشکل نہ تھی کہ وہ ایک کلمہ کن سے تمام کائنات پیدا فرما دیتا تو پھر اس تدریجی عمل کی کیا ضرورت تھی کہ چھ ادوار میں کائنات کو تخلیق فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے اپنے خلق و تدبیر کے ہر شعبے میں جس طرح اپنی قدرت نمایاں فرمائی ہے اسی طرح اپنی حکمت اور ربوبیت اور رحمت کی شانیں بھی نمایاں فرمائی ہیں اور اس کی ان شانوں کا نمایاں ہونا بھی انسان کے کمال عقلی و روحانی کے لیے اسی طرح ضروری ہے جس طرح خدا کے کمال قدرت کا نمایاں ہونا ضروری ہے۔ کہیں ہم اس کے کمال قدرت کے اظہار کو غالب دیکھتے ہیں اور کہیں حکمت ‘ ربوبیت اور رحمت کے اظہار کو۔ پہاڑوں کے سلسلے اس نے یکلخت ہمارے سامنے کھڑے کردیئے یعنی ہم نے ان کو دھیرے دھیرے وجود پذیر ہوتے نہیں دیکھا یعنی اس کا ایک ایک پتھر ہمارے سامنے جوڑا نہیں گیا اور پھر ان کو سربفلک عمارت کی شکل نہیں دی گئی اس لیے جب ہم پہاڑوں کو دیکھتے ہیں تو اللہ کی قدرت یاد آتی ہے لیکن اس کے بالکل برعکس ہم جب دیکھتے ہیں کہ اس نے ہماری غذائی ضرورتوں کو کس طرح پیدا فرمایا ہے تو اس سے اللہ کی قدرت بھی یاد آتی ہے لیکن زیادہ تر اس کی رحمت کا فیضان نظروں کے سامنے نمایاں ہوجاتا ہے۔ کسان گندم کے دانے زمین کا سینہ چیر کر اس میں ڈالتا ہے۔ اب یہ یکلخت پودا بن کر دانے واپس نہیں کرنے لگتا بلکہ ایک سوئی نکلتی ہے جو بڑھتے بڑھتے ایک پودا بنتی ہے اس میں ایستادگی آتی ہے ‘ ہوائیں اس کو لوریاں دیتی ہیں ‘ موسم کے تغیرات اس کی نگرانی کرتے ہیں ‘ سمندر سے سورج کرنوں کے ڈول بھر بھر کر کھینچتا ہے اور فضا میں ابر کی چادریں بچھا دیتا ہے۔ پھر ہوائیں انھیں کھینچتی ہوئی وہاں لے جاتی ہیں جہاں آبیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ دانے میں گداز پیدا کرنے کے لیے چاند اپنی حلاوت لٹاتا ہے اور اس میں پختگی پیدا کرنے اور اسے پکانے کے لیے سورج کی حدت اپنا کام کرتی ہے۔ اس طرح کائنات کا پورا کارخانہ اپنا اپنا فرض انجام دیتا ہے ‘ تب ہم اپنی غذا کی چند ضرورتوں کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اگر انسان اپنے تخلیقی مراحل سے گزرنے کی بجائے ایک بنا بنایاجوان رعنا کی صورت زمین پر اتار دیا جاتا تو اندازہ فرمایئے ماں کی مامتا ‘ باپ کی شفقت ‘ بچے کی من موہنی ادائیں پھر بچوں کی آپس میں خوش فعلیاں اور گھر کی رونق اور آسودگی جو اللہ کی بیش بہا نعمت ہے یہ کہاں سے وجود میں آتیں اور ان کو دیکھ دیکھ کر جس طرح اللہ کی رحمت اور اس کی حکمت یاد آتی ہے اس کو ہم کہاں تلاش کرتے تو زمین و آسمان کو چھ دنوں میں پیدا کرنے میں یہی حکمت و دانش اور ربوبیت اور رحمت کا اظہار مقصود ہے۔ اس کے بعد فرمایا : ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِکہ پھر اللہ تعالیٰ عرش اقتدار پر متمکن ہوا۔ اس جملے سے مشرکین کی اس غلطی کا ازالہ فرمایا گیا ہے جس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے وہ شرک میں مبتلا ہوئے یعنی انھوں نے یہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا خالق تو ہے لیکن تمام کائنات کا تنہاحاکم نہیں کیونکہ ایک بادشاہ اور ایک حاکم تنہاپوری کائنات کا نظام نہیں چلا سکتا اس لیے یہ بات ضروری ٹھہری کہ کائنات کے مختلف حصوں کو کچھ شرکاء کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ اس کا انتظام چلا سکیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے صرف زمین و آسمان کو پیدا کر کے نہیں چھوڑ دیا کہ اس کی حکمرانی سے ہمارا کوئی تعلق نہ ہو جیسے تم سمجھتے ہو یا بعض جاہل فلسفی دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ اللہ اس کائنات کی علت العلل یا علت اولیٰ ہے یعنی وہ پہلی علت ہے جس نے کائنات کے پہیے کو حرکت دی اور اس کے بعد اسے اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا کہ وہ پہیہ اب تک اپنے زور پر گھوم رہا ہے اس کائنات کو یقینا اللہ نے بنایا لیکن اس کے بعد اس نے انتظام و انصرام دوسروں کے حوالے کردیا اور خود اس کے ایک گوشے میں بیٹھ گیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسا نہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ جس پروردگار نے یہ سارا کارخانہ اس تدریج و اہتمام کے ساتھ بنایا ‘ سنوارا اور پھر اس کی تدبیر و انتظام سے بالکل بےتعلق ہو کر کسی گوشے میں جا بیٹھا اس خلق کا بدیہی تقاضا یہ ہے کہ وہ اس کو پیدا کرنے کے بعد اس کے تخت حکومت پر متمکن ہو کر اس کے تمام امور و معاملات کا انتظام بھی فرمائے۔ چناچہ اسی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے بعض جگہ پروردگار نے ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِکے ساتھ یُدَبِّرُ الْاَمَرْ بھی فرمایا ہے۔ ایک بادشاہ اگر بڑے اہتمام سے ملک حاصل کرے لیکن ملک حاصل کر کے کسی گوشے میں جا بیٹھے اس میں امن و عدل کا اہتمام نہ کرے۔ مفسدین اس میں دھاندلی مچاتے پھریں تو ساری دنیا اس کو نالائق بادشاہ کہے گی تو ایک معمولی بادشاہ کے لیے جو بات عیب میں داخل ہے ‘ آسمان و زمین کے خالق ومالک کے لیے وہ بات کس طرح باور کی جاسکتی ہے۔
استواء کا مفہوم
ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِکا جو مفہوم ہم نے بیان کیا ہے اگرچہ اس کا تعلق تاویل سے ہے لیکن یہ ایسی تاویل نہیں جس میں تصنع داخل ہو اور بات بنانے کی کوشش کی گئی ہو اگر شریعت میں الفاظ کی حیثیت بنیادی ہے تو جس مفہوم کو الفاظ خود اچھال رہے ہوں اسے قبول کرلینے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے البتہ یہ بات اپنی جگہ وزن رکھتی ہے کہ اگر کوئی شخص اس کے سادہ مفہوم پر اصرار کرے اور وہ یہ کہے کہ اللہ کا ایک عرش ہے اور وہ اس پر مستوی ہے اور اس استواء کی کسی خاص ہیئت پر اصرار نہ کرے تو ہم اس کی بات کو غلط نہیں کہیں گے۔ یہ آیت چونکہ اپنے مفہوم و مراد میں پوری طرح واضح نہیں اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ یہ متشابہات میں داخل ہے تو پھر عافیت اسی میں ہے کہ اس میں قیل و قال نہ کی جائے اور امام مالک ( رح) کے ارشاد پر عمل کیا جائے۔ انھوں نے فرمایا تھا : الاستواء معلومٌ و مراد ہٗ مجہولٌ وَ الایمان بہ واجب والسوال عنہ بدعۃ کہ استوا تو معلوم ہے لیکن اس کی مراد واضح نہیں اس پر ایمان لانا ضروری ہے لیکن اس میں قیل و قال اور بحث کرنا بدعت ہے۔
اللہ کی حاکمیت کی ایک جھلک
اللہ تعالیٰ نے عرش اقتدار پر متمکن ہو کر جس طرح کائنات کا نظام چلایا ہے اس کے بعد اس کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے۔ اس کی کائنات بیشمار وسعتوں کے ساتھ پھیلی ہوئی ہے لیکن اس کی بعض نعمتیں ایسی ہیں جس سے ہمیں ہر وقت واسطہ رہتا ہے انہی میں دن اور رات کا آنا جانا بھی ہے اور یہ انسان کی ایسی بنیادی ضرورت ہے کہ جس کے بغیر اس کی زندگی گزرنا محال ہے۔ دن انسان کی سرگرمیوں کے لیے ہے اور رات انسان کی آرام و راحت کے لیے ہے ان دونوں سے ہمیں ہمیشہ واسطہ رہتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم ذرا اسی پر غور کرو کہ جہاں تک تمہارا علم کام کر رہا ہے کیا کوئی ایک نشان بھی تمہارے سامنے ہے جس سے تم یہ کہہ سکو کہ کبھی سورج کے غروب ہونے یا سورج کے طلوع ہونے یعنی رات کے چھا جانے یا دن کے چڑھ آنے میں کبھی وقت کی پابندی نہ کی گئی ہو اور کبھی انھوں نے اپنی ذمہ داری سے تخلف کیا ہو یہ دن اور رات کی آمدورفت کا انتظام اتنا مستحکم ہے کہ ہم ہزاروں سال سے کیلنڈر کا ایک نظام رکھتے ہیں اس میں کبھی آج تک کمی بیشی نہیں ہوئی اگر رات اور دن کے آنے جانے میں چند منٹ کی کمی بیشی بھی ہوتی تو سارے حساب ناکام ہوجاتے اور تمام جنتریاں بےکار ہوجاتیں۔ کہا ذرا رات کو دیکھو کس طرح سرگرمی سے وہ دن کا تعاقب کرتی ہوئی آتی ہے اور یہی حال دن کا بھی ہے یہ تو وہ مشاہدہ ہے جو ہم زمین پر رکھتے ہیں اور جب ہم آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو بیشمار ستارے ‘ سیارے اور کواکب ہماری نظروں کے سامنے جھلملاتے ہیں لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ستاروں نے اپنے سفر میں کبھی غلطی کی ہو ‘ انھوں نے کبھی روشنی دینے سے انکار کردیا ہو اور جو جو فرائض ان کے ذمے عائد کیے گئے ہیں کبھی اس کی ادائیگی میں تساہل ہوا ہو۔ انسان اپنی ایجادات میں کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا ہے لیکن اس کی کوئی ایجاد ایسی نہیں جس کے بارے میں یہ کہا جاسکے کہ یہ کبھی خراب نہیں ہوسکتی یا کبھی یہ تباہ نہیں ہوگی۔ بڑی سے بڑی ایجاد حادثے کا شکار ہوتی ہے اور اس کے بنانے والے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ چند دن پہلے خلائی شٹل کا حادثہ پیش آیا ہے جس نے امریکہ جیسی قوت کو ہلا کر رکھ دیا ہے لیکن سورج چاند اور ستاروں میں ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ وہ اللہ کے حکم کے پابند اور مسخر ہیں تو جس پروردگار کی قوت تسخیر اور جس کی حاکمیت اتنی ہمہ گیر ہو اس کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ اس نے اپنے کوئی شرکاء بنا رکھے ہیں اور وہ ان کے واسطے سے کائنات کا نطام چلاتا ہے اور ایسا کرنے پر وہ مجبور ہے تو اس سے زیادہ احمقانہ بات اور کوئی نہیں ہوسکتی۔
اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ط یہ اسی مضمون کی مزید تشریح ہے جو ” استواء علی العرش “ کے الفاظ میں مجملاً بیان کیا گیا تھا۔ یعنی یہ کہ اللہ محض خالق ہی نہیں آمر اور حاکم بھی ہے۔ اس نے اپنی خلق کو پیدا کر کے نہ تو دوسروں کے حوالے کردیا ہے کہ وہ اس میں حکم چلائیں اور نہ پوری خلق کو یا اس کے کسی حصے کو خودمختار بنادیا ہے کہ جس طرح چاہے خود کام کرے بلکہ عملاً تمام کائنات کی تدبیر اللہ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ لیل و نہار کی گردش آپ سے آپ نہیں ہو رہی ہے بلکہ اللہ کے حکم سے ہو رہی ہے ‘ جب چاہے اسے روک دے اور جب چاہے اس کے نظام کو تبدیل کر دے۔ سورج ‘ چاند اور تارے خود کسی طاقت کے مالک نہیں ہیں بلکہ اللہ کے ہاتھ میں بالکل مسخر ہیں اور مجبور غلاموں کی طرح بس وہی کام کیے جا رہے ہیں جو اللہ ان سے لے رہا ہے۔
تَبٰرَکَ اللہ ُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ میں غایت درجہ مبالغہ کا مضمون پایا جاتا ہے۔ اس وجہ سے تَبٰرَکَ اللہ ُ کے معنی ہوں گے بڑی ہی برکت و رحمت والی ہستی ہے اللہ۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنے خلق و تدبیر کی جو شانیں واضح فرمائی ہیں ان سے جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ‘ جس طرح اللہ کی قدرت و عظمت کا اظہار ہو رہا ہے اسی طرح اس کی رحمت و ربوبیت ‘ اس کے جود و نوال اور اس کی کرم نوازی و فیض بخشی کا بھی اظہار ہو رہا ہے۔ یہ اللہ کے باب میں اس غلط فہمی کا ازالہ ہے جس میں مشرک قومیں بالعموم مبتلا ہوئیں کہ انھوں نے خدا کی عظمت و جبروت کا تصور اس قدر بڑھایا کہ اس کی صفات رحمت و برکت کا تصور اس کے نیچے بالکل دب کر رہ گیا۔ اس غلط فہمی کا نتیجہ یہ نکلا کہ بندوں کے لیے اللہ سے براہ راست تعلق و توسل ناممکن سمجھ لیا گیا اور پھر ایسے وسائل و وسایط کی تلاش ہوئی جو اللہ سے مقصد برآری کا ذریعہ بن سکیں۔ ہم بقرہ کی تفسیر میں بیان کرچکے ہیں کہ صفاتِ الٰہی کے باب میں یہ گمراہی شرک کے عوامل میں سے ایک بہت بڑا عامل ہے۔ مشرکین نے بہت سے فرضی معبودوں کی پرستش ‘ بالخصوص ملائکہ کی پرستش ‘ اسی وجہ سے شروع کی کہ یہ اللہ کی چہیتی بیٹیاں ہیں ‘ یہ ہم سے راضی رہیں تو یہ اپنے باپ کو ہم سے راضی رکھیں گی اور پھر سارا جہان ہم پر مہربان ہوجائے گا۔ قرآن نے یہاں تَبٰرَکَ اللہ ُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ کے الفاظ سے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ کائنات جس طرح اپنے خالق کی بےپایاں عظمت و جبروت پر شاہد ہے اسی طرح اس کی بےپایاں برکت و رحمت پر بھی گواہ ہے تو اس سے مانگنے کے لیے کسی واسطے اور وسیلے کی ضرورت نہیں۔ خوف اور طمع ‘ امید اور بیم ہرحال میں اسی کو پکارو اور اسی سے مانگو ‘ جس طرح وہ اپنے جلال میں یکتا ہے اسی طرح اپنی رحمت میں بھی یکتا ہے۔
Ayahs 7:55–56اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً ط اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ۔ (الاعراف : 55)
” پکارو اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے۔ اس کو پسند نہیں آتے حد سے آگے بڑھنے والے “۔
دعا کا مفہوم
آیت میں دعا اور اس کے آداب کا ذکر ہے۔ لفظ دعا عربی زبان میں کسی کو حاجت روائی کے لیے پکارنا کے معنی میں بھی آتا ہے اور مطلق یاد کرنے کے معنی میں بھی اور یہاں دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں۔ مگر میں اس وقت صرف معنی کی حد تک گفتگو کو محدود رکھنا چاہتا ہوں۔ دعا کے مکمل مفہوم کا سمجھنا ‘ تین باتوں کے جاننے پر موقوف ہے : -1 جس سے دعا مانگی جا رہی ہے ‘ اس کی حیثیت کا تعین۔ -2 دعا مانگنے کے آداب اور اس کی شرائط کا علم۔ -3 جو کچھ مانگا جا رہا ہے ‘ اس کی حدود کا علم۔
پیشِ نظر آیت میں دوسری دو باتوں کو واضح کیا گیا ہے اور اس سے پہلے کی آیت میں پہلی بات کو۔ چناچہ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم اس سے مانگو ‘ جو تمہارا رب ہے ‘ جس کی ربوبیت کائنات کے ذرے ذرے کو زندگی اور بقاء کا سروسامان فراہم کر رہی ہے۔ اس کی ربوبیت کا تقاضا ہے کہ وہ تمہارے لیے اسباب معیشت فراہم کرے۔ اس نے محض اپنے فضل و کرم سے انسان کی زندگی کی تمام ضروریات کی کفالت اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ ماں کی مامتا ‘ جو اپنے بچے کی تربیت اور نگہداشت میں ایک ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے ‘ اسے بھی ربوبیت کی ہمہ گیری سے کوئی نسبت نہیں۔ اس کی نگاہ بھی کبھی نہ کبھی بچے کی طرف سے تغافل کا شکار ہوجاتی ہے ‘ اس کا دل بچے کے احساس کو سمجھنے میں کوتاہی کرجاتا ہے۔ مگر وہ ذات جو رب کائنات ہے ‘ اس کی پرداخت کی نگاہ کبھی غافل نہیں ہوتی۔ وہ ضروریات کو نہیں ‘ بلکہ ضروریات کے احساس تک کو جانتا ہے ‘ وہ اپنی مخلوق کے لیے ماں سے کہیں بڑھ کر شفیق اور رحیم ہے۔ اس لیے مانگنا ہو تو اسی سے مانگو۔ دوسری اور کوئی ذات نہیں ‘ جو اس قابل ہو اور انسان اپنی حاجت روائی کے لیے اس سے رجوع کرے۔ مزید فرمایا کہ وہ صرف رب ہی نہیں ‘ بلکہ زمین و آسمان کا خالق بھی ہے۔ اسی کے حکم سے ستارے اور سیارے گردش کر رہے ہیں۔ خلق اور امر ‘ سب اسی کے اختیار میں ہے۔ کائنات کی ہر زندہ چیز اسی سے رزق پا رہی ہے۔ اس کے خزانے بیشمار ہیں ‘ جن میں کبھی کمی واقع نہیں ہوتی۔ اس لیے جو اس سے مانگو گے ‘ وہ ملے گا۔ اس طرح اپنی حیثیت کے تعین کے بعد حکم دیا : اُدْعُوْا رَبَّکُمْ ” اپنے رب سے مانگو “ جس کی ربوبیت تمہاری ضرورتوں کو جانتی ہے اور جس کی قوت و عظمت ہر چیز کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔ مگر یہ خیال رہے کہ مانگنے کے کچھ آداب و شرائط ہیں۔ اگر تم نے مانگتے ہوئے ان کا خیال نہ رکھا تو ممکن ہے تمہاری درخواست ٹھکرا دی جائے۔ اس لیے فرمایا : ” تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً “ اس میں آداب دعا کا ذکر ہے۔ تضرع کے معنی عاجزی ‘ خوشامد ‘ لجاجت اور تذلل کے اظہار کے ہیں اور خفیہ کے معنی ہیں پوشیدہ ‘ چھپا ہوا۔ ان دونوں لفظوں میں مانگنے والے کی اصل حیثیت اس پر ظاہر کی گئی ہے کہ جب تک تمہیں اپنی اس حیثیت کا احساس نہ ہوگا ‘ تم دعا کے آداب کو بھی ملحوظ نہیں رکھ سکو گے۔ تمہاری حیثیت یہ ہے کہ دینے والا جتنا عظیم ہے ‘ تم اتنے ہی عاجز ہو۔ تمہاری حیثیت اس کے سامنے سرتاپا عجز و انکسار کے سوا اور کچھ نہیں۔ تم جب اس سے مانگو تو تمہارے الفاظ بھی عجز کا اظہار کریں اور تمہارے جسم پر بھی اس کی عظمت اور اپنی عاجزی کے احساس سے کپکپی طاری ہو۔ تمہارا لب و لہجہ عاجزی کی تصویر ہو۔ تمہارا ہر بول زبان سے ٹوٹ ٹوٹ کرنکلے۔ آنکھوں سے آنسوئوں کی برکھا برسے اور دل اس یقین سے سرشار ہو۔
کیا فائدہ فکرِ بیش و کم سے ہوگا
ہم کیا ہیں ‘ جو کوئی کام ہم سے ہوگا
جو ہوا ‘ ہوا کرم سے تیرے
جو ہوگا ‘ تیرے کرم سے ہوگا
قلب و نظر کے اس احساس کے ساتھ ساتھ تمہاری ظاہری ہیئت و صورت بھی اس کے شکرگزار اور فرمانبردار فقیر کی ہونی چاہیے ‘ جس کے سراپا پر اس کے احکام سے انحراف اور نافرمانی کی پرچھائیں بھی نہ پڑی ہوں۔ جیسا کہ حدیث میں کہا گیا ہے کہ ایک موقعہ پر حضور اکرم ﷺ نے مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ ” ایک انسان دور دراز مقام کا سفر کرتا ہے۔ پراگندہ حالت اور پریشان صورت اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے کہتا ہے : اے رب ! اے رب ! حالانکہ اس کا کھانا حرام کا ہے ‘ لباس حرام کا ہے اور اس کے گوشت پوست کی پرورش بھی حرام سے ہوئی ہے تو اس کی دعا کیونکر قبول ہوگی ؟ “ اس لیے فرمایا کہ مانگتے ہوئے تمہیں تضرع کی تصویر بننا چاہیے اور تمہارے قول اور عمل ‘ احساس اور عقیدہ میں کہیں بھی اللہ کے احکام سے انحراف نہ پایا جائے اور دوسرا لفظ فرمایا : خفیہ ‘ یعنی جب اس سے مانگو تو چیخ کر اور چلا کر نہ مانگو ‘ کیونکہ چیخنا اور چلانا اس کی عظمت کے آداب کے منافی ہے ‘ وہ جو دل کی دھڑکنیں سنتا ہے۔
خاموش دعائوں کو بھی سنتا ہے۔ چناچہ خیبر کے موقعہ پر جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کی آوازیں بلند ہوئیں تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ” تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ‘ بلکہ تمہارا مخاطب ایک سمیع و قریب ہے “۔ حسن بصری ( رح) فرماتے ہیں کہ اعلانیہ دعا کرنے میں اور آہستہ دعا کرنے میں ستر درجہ فضیلت کا فرق ہے۔ ایک روایت میں امام احمد بن حنبل نے حضرت سعد بن ابی وقاص ( رض) سے نقل کیا ہے کہ بہترین ذکر ‘ ذکرِ خفی ہے۔ یہ شاید اس لیے بھی ہے کہ بلند آواز سے دعا مانگنے سے ‘ اول تو تواضع اور انکسار کا باقی رہنا مشکل ہے۔ ثانیاً اس میں ریا اور شہرت کا بھی خطرہ ہے ‘ جسے حدیث میں شرک خفی کہا گیا ہے۔ اس کے بعد فرمایا : اِنَّہٗ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ” بیشک اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتے “۔ یہاں حد سے آگے بڑھنے سے مراد ‘ دعا میں حد سے آگے بڑھنا ہے۔ یعنی مانگنے والے کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ دعا کی حدود کیا ہیں ‘ تاکہ وہ ان حدود سے آگے نہ بڑھے۔ ان حدود سے آگے بڑھنے کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ لفظی تکلفات اور قافیہ وغیرہ اختیار کیا جائے اور شعروں کی صورت میں گا گا کر دعا مانگی جائے ‘ جس کا نتیجہ یہ ہو کہ گانا تو باقی رہ جائے ‘ دعا کی روح ختم ہوجائے اور دعا ‘ دعا نہ رہے ‘ ٹھمری بن جائے۔ اکبر مرحوم نے شاید ایسے ہی موقعہ کے لیے کہا تھا ؎
عبادت سے محبت ہے انھیں ‘ گانے کی عادت بھی
نکلتی ہیں دعائیں ان کے منہ سے ٹھمریاں ہو کر
دوسری صورت یہ ہے کہ دعا میں غیر ضروری شرطیں لگائی جائیں۔ جیسے حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مغفل ( رض) نے دیکھا کہ ان کا صاحبزادہ اس طرح دعا مانگ رہا ہے کہ یا اللہ ! میں آپ سے جنت میں سفید رنگ کا داہنی جانب والا محل طلب کرتا ہوں۔ آپ نے اسے ٹوکا کہ دعا میں ایسی شرطیں حد سے تجاوز ہیں ‘ جن کو قرآن و حدیث میں ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ تیسری صورت حد سے تجاوز کی یہ ہے کہ عام مسلمانوں کے لیے بددعا کرے یا کوئی ایسی چیز مانگے جو عام لوگوں کے لیے مضر ہو یا ایسی چیز کی دعا کرے جو اللہ تعالیٰ کی مشیت ‘ حکمت اور احکام شریعت کے خلاف ہو۔
حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ جو دعا بھی خدائے عز و جل کی عظمت و رحمت کے تصور اور اپنی عاجزی اور سرافگندگی کے اعتراف اور دعا کے تمام تر آداب شرائط کے ساتھ مانگی جائے ‘ وہ کبھی رد نہیں ہوتی۔ البتہ اس کی قبولیت کی تین صورتیں ہیں :
1 مانگنے والے کو وہی کچھ دنیا ہی میں عطا فرما دیا جاتا ہے ‘ جس کے لیے اس نے اپنے مالک سے دعا کی تھی۔
2 مانگنے والا جو کچھ مانگ رہا ہے ‘ وہ تو عطا نہیں کیا جاتا ‘ البتہ اس کے عوض کوئی آنے والی بلا اور مصیبت اس سے ٹال دی جاتی ہے ‘ مگر یہ اپنی کم علمی اور جہالت کے باعث یہی سمجھتا ہے کہ میری دعا قبول نہیں ہوئی۔
3 تیسری صورت قبولیت کی یہ ہے کہ دنیا میں تو اس کی دعا قبول نہیں ہوتی ‘ مگر دنیا کی یہ محرومی اس کے لیے ثمرہ آخرت بن جائے گی اور جب اسے اچانک یہ نعمت غیر مترقبہ اجر وثواب کی صورت میں عطا ہوگی تو وہ حیران رہ جائے گا اور تمنا کرے گا کہ کاش ! دنیا میں اس کی کوئی دعا بھی قبول نہ ہوتی ‘ تاکہ آج اسے اجر وثواب کی صورت میں ایک خزانہ ہاتھ آتا۔ خلاصہ کلام یہ کہ ہمارا پروردگار اتنا رحیم و کریم ہے کہ وہ اپنے بندوں کی دعائیں ‘ جو آداب و شرائط کی کامل پابندی سے مانگی جائیں ‘ کبھی رد نہیں فرماتا۔ البتہ اسکے یہاں قبولیت کی صورتیں مختلف ہیں ‘ مگر بندہ اپنی بیخبر ی کے باعث بعض دفعہ بےصبر ہوجاتا ہے اور یہ سمجھ کر کہ مدت سے دعا کر رہا ہوں ‘ مگر شنوائی نہیں ہوتی ‘ دعا مانگنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ذرا سی بےصبری بہت بڑی محرومی کا سبب بن جاتی ہے ‘ ممکن ہے جس وقت بندہ دعا مانگنا چھوڑ رہا ہو ‘ وہی وقت اس کی قبولیت کا ہو یا پروردگار نے اس کی دعائوں کو توشہ آخرت بنانے کا حکم دے دیا ہو۔ دونوں صورتوں میں یہ بےصبری اور جلدبازی کیسے برے نتائج پیدا کرسکتی ہے ؟ اس لیے بندہ کبھی بےصبر نہ ہو اور کبھی امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔
اسی مضمون کی تائید ایک منفی پہلو سے
اگلی آیت کریمہ میں اسی مضمون کی تاکید و توثیق منفی پہلو سے کی جا رہی ہے ان دونوں پہلوئوں کو بیک وقت سامنے رکھیں تو توحید اور تعلق باللہ کے تمام درجات مکمل ہوجاتے ہیں اور شرک کا ہر دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے :
وَلَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِھَا وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا ط اِنَّ رَحْمَتَ اللہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (الاعراف : 56)
” اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو اور اسی کو پکارو بیم و رجا میں۔ بیشک ! اللہ کی رحمت نیکوکاروں کے قریب ہے “۔
اس آیت کریمہ میں تدبر سے کام لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ چار باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ -1 زمین یعنی ملک میں فساد برپا نہ کرو ‘ -2 زمین کی اصلاح ہوجانے کے بعد ‘ -3 اسی کو بیم و رجا دونوں میں پکارو ‘ -4 اللہ کی رحمت نیکوکاروں کے قریب ہے۔ اب ہم ان میں سے ہر ایک بات کی مقدور بھر وضاحت کرتے ہیں۔
سب سے پہلی یہ بات کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو اس سے کیا مفہوم ہے ؟ اس سے دو باتیں مراد ہیں لیکن انجام کار پر دونوں باتیں ایک ہیں پہلی بات جو اس سے مراد لی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین اس وقت فساد سے بھر جاتی ہے جب حاکمیت اعلیٰ کو چیلنج کیا جاتا ہے اور اقتدار اعلیٰ کی اہمیت ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لوگ یا تو خود اپنے اقتدار کے دعوے دار بن کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور یا اصل حاکم کی حکومت میں دوسروں کو شریک کرنے لگتے ہیں کوئی سی بھی صورت ہو نتیجہ اس کا یہ نکلتا ہے کہ جیسے ہی اقتدار اعلیٰ کی گرفت ڈھیلی پڑتی ہے جرائم کی کثرت ہوجاتی ہے۔ جرائم پیشہ لوگ دلیر ہوجاتے ہیں انھیں جب اندازہ ہوجاتا ہے کہ ہمیں پکڑنے والا کوئی نہیں رہا اور اگر پکڑے بھی گئے تو چھڑانے والے بہت ہیں تو پھر وہ جرائم کرنے میں اس حد تک جری ہوجاتے ہیں کہ اخلاقی نصیحتیں ان کے لیے کارآمد نہیں رہتیں اس لیے یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ نے انسانوں کو جرائم سے روکنے کے لیے جو شریعت لازم کی ہے اس کو بلا کم وکاست نافذ کرو دل و دماغ کی اصلاح کے لیے اس کے دیئے ہوئے بنیادی تصورات اور اخلاقی مصالح کو قبول کرو اور جرائم کو روکنے کے لیے اللہ کے قانون کو نافذ کرو یہ دونوں کام کرو گے تو انسان کی اصلاح ہوجائے گی اور بگڑے ہوئے لوگ گرفت کے اندیشے سے جرائم کرنے کی جرأت نہیں کریں گے اور اس طرح زمین اصلاح پذیر ہوجائے گی اور فساد کا خطرہ ٹل جائے گا۔
دوسرا مفہوم فساد برپا نہ کرنے کا یہ ہوسکتا ہے کہ تم اپنی وہ روش بدلو جس کی وجہ سے فساد برپا ہوتا ہے یعنی تم آسمانوں اور زمین کے تکوینی نظام کو دیکھو اس میں تمہیں کہیں فساد کے عناصر نظر نہیں آئیں گے بلکہ کائنات کا ایک ایک کرہ نجانے کب سے جس کام پر لگا دیا گیا ہے وہ مسلسل اس کام کو انجام دے رہا ہے۔ زمین کی گردش میں کبھی کمی نہیں آئی شمس و قمر اپنے مدار سے کبھی باہر نہیں نکل سکے۔ باقی تمام ثوابت و سیارے اپنی اپنی ڈیوٹی انجام دینے میں مسلسل سرگرمِ عمل ہیں۔ سورج کا کام ہے کہ وہ گرمی پہنچائے کسی دور میں کبھی زمین پر رہنے والوں نے یہ شکایت نہیں کی کہ سورج نے چمکنا چھوڑ دیا ہے ‘ چاند کا کام ہے وہ حلاوت لٹائے مخلوق کو کبھی اس سے شکایت پیدا نہیں ہوئی۔ سورج کی کرنوں کی ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ سمندر سے پانی کے ڈول بھر بھر کے کھینچیں اور فضا میں ابر کی چادریں بچھادیں اور ہوائوں کا کام یہ ہے کہ وہ اللہ کے حکم کے مطابق بادلوں کو وہاں ہانکتی ہوئی لے جائیں جہاں بارش کی ضرورت ہے انھوں نے کبھی اپنے کام سے صرف نظر نہیں کیا۔ زمین نے اپنے خزانے لٹانے میں کبھی کمی نہیں کی اس کی قوت روئیدگی نے کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔ کہنا صرف یہ ہے کہ جہاں جہاں تک ہماری نظر پہنچتی ہے کائنات کا ایک ایک ذرہ اور ایک ایک مخلوق ‘ ایک ایک عنصر اور ایک ایک سیارہ اللہ کے مقرر کردہ تکوینی نظام میں جتا ہوا اپنا فرض انجام دے رہا ہے اور ہر وقت اللہ کے احکام کی تعمیل میں سرگرداں ہے اسی تعمیل احکام کا نتیجہ ہے کہ پوری کائنات کے تکوینی نظام میں کبھی شکست و ریخت نہیں ہوئی اور کسی کو کسی سے کبھی شکایت پیدا نہیں ہوئی۔ اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ تم اگر اس پوری صورت حال کو سامنے رکھو تو تمہیں یہ بات سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ تمہارے گھر ‘ تمہارے بازار ‘ تمہاری منڈیاں ‘ تمہارے ادارے ‘ تمہاری اسمبلیاں ‘ تمہاری حکومتیں جس طرح ابتری کا شکار ہیں اور جس کے نتیجے میں ہر جگہ فساد کارفرما دکھائی دیتا ہے اس کی وجہ صرف ایک ہی ہے کہ کائنات نے تکوینی نظام کی اطاعت سے اپنے آپ کو فساد سے بچا لیا اور زندگی کی سعادتیں حاصل کرلیں اور تمہیں اللہ نے تشریعی نظام بخشا تھا اور تم پر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اسی طرح لازم کی گئی تھی تم نے اس سے انحراف کا راستہ اختیار کر کے زمین کو فساد سے بھر دیا۔ کبھی تو اللہ کے احکام کی اطاعت سے انکار کیا اور کبھی اس کے اقتدار اعلیٰ ہی کو چیلنج کردیا اور اس کے مقابلے میں دیوتا ‘ مذہبی طبقہ اور حکمران جو اپنے آپ کو دیوتائوں کی اولاد کہتے ہیں ان کو اللہ کے شریک بنادیا گیا اس طرح اللہ کے اقتدار میں ان کو شریک کردیا گیا دونوں صورتوں میں چاہے اللہ کے مقابلے میں کوئی مقتدر بن کر بیٹھ جائے اور چاہے اللہ کے اقتدار کی واحدانیت کو تسلیم کرنے سے انکار کرے اور دوسروں کو اس کے اقتدار میں شریک کردے ان دونوں صورتوں میں جو صورت حال پیدا ہوتی ہے اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ زمین فساد سے بھر جاتی ہے اس سے بچنے کی ایک ہی صورت ہے جیسا کہ اس سے پہلے ذکر ہوچکا کہ ہماری یہ روش اس روش کے مطابق ہوجائے جو کائنات میں کارفرما ہے جس طرح باقی کائنات کا سفر اللہ کی اطاعت میں ہے اور وہ کسی اور کی اطاعت کرنے کے لیے تیار نہیں اگر ہم بھی اپنی زندگی کو اسی روش پر ڈال دیں کہ اطاعت صرف اللہ اور اس کے رسول کی تو یہ دونوں اطاعتیں جب جمع ہوجائیں گی تو زمین ہر طرح کے فساد سے بچ جائے گی۔ اس لیے فرمایا کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو یعنی اس کے اقتدار اعلیٰ کو چیلنج نہ کرو اور نہ اس کے اقتدار میں کسی کو شریک کرو۔
دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ زمین کی اصلاح ہوجانے کے بعد اس میں فساد برپا نہ کرو۔ زمین کی اصلاح ہوجانے کا کیا مطلب ہے ؟ مطلب اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو زمین پر بھیجنے سے پہلے ان سے اور ان کی اولاد کی روحوں سے ایک عہد لیا تھا ‘ پوچھا تھا کہ بتائو کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو سب نے بیک زبان یہ کہا تھا کہ آپ ہی ہمارے رب ہیں اور پھر جب حضرت آدم کو زمین پر بھیج دیا گیا تو پھر انھیں بھی اور ان کے بعد ہر آنے والے رسول کے ذریعے سے امتوں کو یہ بات بتائی جاتی رہی کہ تمہاری غذائی ضرورتیں تو زمین سے پوری ہوں گی لیکن تمہارے مقاصد زندگی اور اس کے حصول کے لیے ہدایت اور زندگی گزارنے کے لیے قانون یہ تمہیں آسمان سے ملے گا یعنی رسولوں کی معرفت ہم تمہاری اس بنیادی ضرورت کو پورا کریں گے جس نے ہمارے رسولوں کی پیروی کی اور اس قانون کو اختیار کرلیا وہ قیامت کے دن سرخرو ہوجائے گا اور جس نے اس کی تکذیب کی یا انکار کیا تو ایسے لوگوں کو ہم جہنم میں ڈالیں گے۔ پھر مختلف اوقات میں اس عہد اور اس ہدایت کی یاد دہانی کے لیے اللہ کے رسول بھیجے جاتے رہے اور جب بھی زمین میں اس عہد کے بھول جانے کی وجہ سے فساد پیدا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بھیج کر یا اس فساد کی اصلاح کردی اور یا اس امت کو عذاب کے ذریعے تباہ کر کے نئی نسل کو اس کی جگہ کھڑا کردیا۔ اس طرح ہمیشہ اللہ کی طرف سے زمین کو فساد سے پاک کیا گیا۔ اب بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ اے مشرکینِ مکہ اور اے دنیا بھر کے لوگو ! تمہیں خوب معلوم ہے کہ جن قوموں نے اللہ کے دین سے انحراف کا رویہ اختیار کیا اور اللہ کے رسولوں کی دعوت کو قبول نہ کیا ہمیشہ ان کا کیا انجام ہوتا رہا آج تمہارے پاس اللہ کے آخری رسول آچکے ہیں انھوں نے زمین میں فساد برپا کرنے والی ایک ایک چیز کی نشاندہی کردی ہے اور تمہارے لیے صراط مستقیم کھول دی ہے۔ اب اگر تم اس صراط مستقیم پر چل کر اپنی دنیا اور آخرت اچھی بنانا چاہتے ہو تو یہ تمہارے لیے ایک سنہری موقع ہے اس کے لیے تمہیں اپنی زندگی کے رویے میں تبدیلی کرنا ہوگی وہ تبدیلی یہ ہے کہ تم آج تک اللہ سے انحراف کر کے نجانے کس کس کو پکارتے رہے ہو یعنی تم نے نجانے کس کس کو اقتدار کی مسند پر بٹھایا اور خود اس کی اطاعت کرتے رہے۔ تم نے ہمیشہ امیدیں دوسروں سے باندھیں ‘ ہمیشہ دوسروں سے خوفزدہ ہو کر ان کی ہر بات کو تسلیم کیا اور ان کے دروازوں پر سجدہ ریز ہوتے رہے۔ اب تمہاری خیریت اس میں ہے کہ تم ہر آستانے سے سر اٹھا کر ہر دروازے سے منہ پھیر کر ‘ ہر ایک سے اپنے دل خالی کر کے اور ہر راہنمائی کو دھتکار کر صرف اللہ کو پکارو اور تمہاری پکار کا محرک دو باتیں ہونی چاہئیں ایک تو یہ کہ تم ڈرو تو صرف اللہ سے ڈرو اور تمہیں اندیشہ ہو تو صرف اس بات کا کہ اگر میرا اللہ مجھ سے ناراض ہوگیا تو میں برباد ہوجاؤں گا نہ یہ دنیا میرے کام آئے گی اور نہ قیامت کے عذاب سے مجھے کوئی چھڑا سکے گا اور دوسری بات کہ تم اپنی ہر آرزو کا دامن اللہ کے ساتھ باندھو۔ اس بات کا یقین پیدا کرلو کہ تمہیں جو کچھ بھی ملے گا اللہ کے راستے سے ملے گا۔ تمہارا دست سوال صرف اسی کے سامنے دراز ہونا چاہیے تمہارے دل کی آبادی صرف اسی کی مناجاتوں اور اسی کی محبت سے ہونی چاہیے اور مزید یہ اطمینان رکھو کہ اگر میں نے صرف اپنے اللہ سے ڈرنا شروع کردیا تو پھر مجھے اہل دنیا میں سے کوئی نہیں ڈرا سکے گا ہر طرح کے اندیشے میرے دل سے نکل جائیں گے اور اگر میری امید گاہ اور میری جائے پناہ صرف اللہ کی ذات بن گئی تو پھر مجھے کسی جہاں پناہ سے کوئی خواہش نہیں ہوگی۔ یہ امید و بیم مومن کا وہ ہتھیار یا وہ اثاثہ ہے جو اس کے لیے زندگی کی سب سے بڑی قوت بن جاتا ہے۔ اس کے سامنے اگر دولت کا ڈھیر لگا دیا جائے تو بھی اس کے پائوں میں تزلزل نہیں آتا وہ جانتا ہے کہ امیدوں اور چاہتوں کی مرکز تو اللہ کی ذات ہے اور اس کے خزانوں میں کبھی کمی نہیں آئی اور اگر اس کا دشمن اس کے سر پر تلوار سونت کے بھی کھڑا ہوجائے تو وہ کبھی اس سے خوفزدہ نہیں ہوتا وہ جانتا ہے کہ اگر اللہ کو میری بہتری منظور ہے تو مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور جہاں تک عاقبت کا تعلق ہے اس میں بھی اس کا حال یہ ہوتا ہے جیسے حضرت عمر فاروق ( رض) نے ایک دفعہ فرمایا کہ اگر مجھے یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ سب کو جنت میں بھیج دیں گے اور صرف ایک بدقسمت جہنم میں جائے گا تو مجھے ڈر یہ ہے کہ وہ بدقسمت کہیں میں نہ ہوں اور اگر یہ کہا جائے کہ تمام لوگ جہنم میں جائیں گے صرف ایک خوش قسمت جنت میں جائے گا تو تب بھی مجھے یہ امید ہوگی کہ وہ خوش قسمت میں ہی ہوں گا۔
آخری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ بیم و رجا یعنی خوف اور امید میں صرف اللہ ہی کو پکارنا یہی وہ چیز ہے جس کو مقام احسان سے تعبیر کیا گیا ہے اور ایسا کرنے والوں کو محسنین کہا گیا ہے تو یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ کی رحمت ہمیشہ محسنین یعنی نیکوکاروں کے قریب ہوتی ہے یعنی ان لوگوں کے قریب ہوتی ہے جو خوف و رجا میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ ہی سے وابستہ رہتے ہیں کسی کا خوف انھیں اس آستانے سے اٹھا نہیں سکتا اور کسی کی کوئی طمع اور لالچ انھیں اللہ کے آستانے سے برگشتہ نہیں کرسکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ تمام تر انسانی اعمال انسانی احساسات کے تابع ہیں اور انسانی احساسات جن محرکات کے تحت تشکیل پذیر ہوتے یا جنم لیتے ہیں وہ بیم و رجا کے سوا کچھ اور نہیں انسان کی زندگی مادی ہو یا معنوی وہ ہرحال میں ان دونوں محرکات کے حصار میں رہتا ہے۔ کبھی اس کی زندگی پر امید حکومت کرتی ہے اور کبھی اس پر خوف کا پہرہ ہوتا ہے یہ دونوں محرکات اپنے حسب حال احساسات کو پیدا کرتے رہتے ہیں۔ احساسات کو پاکیزہ رکھنے اور انھیں صحیح نہج دینے کے لیے ضروری ہے کہ انسانی زندگی کے یہ محرکات پاکیزگی کی صورت اختیار کریں اگر امیدیں غلط رخ پر چل نکلیں اور ان کے اہداف پاکیزگی کھو بیٹھیں تو پھر امید کے نتیجے میں پیدا ہونے والے احساسات کبھی پاکیزہ نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح اگر خوف کا محرک پاکیزہ نہ رہے اور اس کا متعلق ایسی چیزیں قرار پائیں جو انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہیں تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے احساسات یقینا انسانیت کے لیے مہلک ثابت ہوں گے۔ اس لیے قرآن کریم ان دونوں محرکات میں پاکیزگی پیدا کرنے کے لیے یہ ضروری سمجھتا ہے کہ ان دونوں کا تعلق اللہ کی ذات سے جڑا رہے جب امیدیں سر اٹھانے لگیں تو ان کا آستانہ اللہ کے سوا کوئی اور نہ ہو اور جب خوف کے سائے گہرے ہونے لگیں تو ان کی پناہ گاہ بھی صرف اللہ کی ذات ہو۔ یہ کہنے کو معمولی تبدیلی ہے لیکن حقیقت میں یہ زندگی کا بہت بڑا راز ہے جس سے حیرت انگیز نتائج سامنے آتے ہیں جس کی امیدوں کا آستانہ اللہ کے سوا کوئی اور ہو ان میں پاکیزگی تلاش کرنا ایک کارعبث ہے۔ اس میں حلال و حرام کی پابندی ‘ خیر و شر کا امتیاز ‘ اخلاقیات کی بالادستی ‘ کوئی چیز بھی باقی نہیں رہ سکتی۔ اسی طرح خوف کا ہدف اگر بدل جائے تو پھر انسانیت کی پوری عمارت زمین بوس ہوجاتی ہے یہ خوف نہ صرف تخت و تاج سے نکلتا ہوا دکھائی دیتا ہے بلکہ تمام مظاہرِ قدرت زندگی کے راستے میں حائل ہونے والی تمام رکاوٹیں ‘ معمولی مفادات کی شکست و ریخت ‘ ایک ایک چیز خوف کا سانپ بن کر انسان کے دل میں اتر جاتا ہے اور وہ پوری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے بیم و رجا میں جہاں اپنی ذات کے ساتھ وابستگی کا حکم دیا ہے اور ہرحال میں دست سوال اسی کے سامنے دراز کرنے کا امر فرمایا وہیں اگلی آیت کریمہ میں اس کی ایک ایسی خوبصورت مثال بھی دی جس کا تعلق یوں تو عام انسانی زندگی سے ہے اور ہر جگہ کا رہنے والا انسان یقینا اس سے ایک واسطہ رکھتا ہے لیکن عرب کی سرزمین میں یہاں آئے دن فاقہ زدگی کی نوبت آجاتی تھی اور لوگ پانی کی تلاش میں مارے مارے پھرنے پر مجبور ہوجاتے تھے۔ اس کی قدر و قیمت بےحد زیادہ تھی۔