7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsروح القرآن

Ayah 7:95

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 7:95 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوشحالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ دکھ اور سکھ تو ہمارے باپ دادوں کو بھی پہنچے ہیں پھر ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور وہ اس کا کوئی گمان نہیں رکھتے تھے۔

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَکَانَ السَّیِّئَۃِ الْحَسَنَۃَ حَتّٰی عَفَوْا وَّا قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآئَنَا الضَّرَّآئُ وَالسَّرَّآئُ فَاَخَذْنٰھُمْ بَغْتَۃً وَّ ھُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ۔ (الاعراف : 95) ” پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوشحالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ دکھ اور سکھ تو ہمارے باپ دادوں کو بھی پہنچے ہیں پھر ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور وہ اس کا کوئی گمان نہیں رکھتے تھے “۔ دوسری سنت الہٰی جب کوئی قوم مصائب میں مبتلا ہو کر راہ راست اختیار کرنے سے انکار کردیتی ہے اور وہ ان سے نصیحت حاصل کرنے کی بجائے اور بگڑنے لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی دوسری سنت وجود میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بدحالی کو خوشحالی میں تبدیل کردیتا ہے۔ مصائب اور دشواریوں کو دور کر کے پریشانیوں کو ہٹا کر ہر طرح کی آسودگی سے نوازنا شروع کردیتا ہے۔ کاروبار سنبھلنے لگتے ہیں ‘ فصلیں لہلہانے لگتی ہیں ‘ صحتیں اچھی ہوجاتی ہیں ‘ پھل دار درخت پھلوں سے لد جاتے ہیں ‘ وقت پر بارشیں ہونے لگتی ہیں ‘ مٹی کو ہاتھ لگاتے ہی سونا ہونے لگتی ہے۔ پہلے بدحالی سے انھیں آزمایا تھا اب ان کی آزمائش خوشحالی سے کی جاتی ہے۔ اس آزمائش کے دو پہلو ہیں ایک لحاظ سے یہ آزمائش ہے اور دوسرے لحاظ سے یہ اتمامِ حجت ہے۔ آزمائش اس لحاظ سے ہے کہ جس طرح برے حالات آدمی کو آزماتے ہیں اسی طرح دولت و راحت بھی آدمی کے لیے بہت بڑی آزمائش ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ خوشحالی اور دولت کی فراوانی یہ بدحالی اور مصیبت سے بڑھ کر آزمائش ثابت ہوتی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ مصائب کا مقابلہ استقامت سے کرلیتے ہیں لیکن جب انھیں عہدہ و منصب کا لالچ دے کر یا دولت کی چمک دکھا کر آزمایا جاتا ہے تو وہ ڈھیر ہوجاتے ہیں۔ نہ جانے انسان میں ایسی کیا کمزوری ہے کہ وہ مصیبت کا سامنا کرلیتا ہے لیکن لالچ کا مقابلہ کرنا اس کے لیے مشکل ہوجاتا ہے۔ تاریخ میں مسئلہ خلق قرآن کے حوالے سے ایک بہت بڑے فتنے کی سرگزشت بیان کی جاتی ہے جس میں بڑے بڑے علماء آزمائش کا شکار ہوئے ہیں۔ کوئی کامیاب ہوا اور کوئی ناکام لیکن سب سے زیادہ اس آزمائش کا نشانہ امام احمد ابن حنبل ( رح) بنے۔ مامون الرشید کے زمانے میں انھیں گرفتار کیا گیا اور معتصم باللہ کے زمانے میں ان پر تشدد کی انتہاء کردی گئی۔ جیل میں پا بجولاں رکھا گیا۔ ایسے ایسے کوڑے لگائے گئے کہ اگر ہاتھی کو بھی مارے جاتے تو بلبلا اٹھتا۔ بار بار آپ سے خلیفہ وقت معتصم کہتا کہ احمد تم مجھے اپنے ولی عہد سے زیادہ عزیز ہو۔ اگر تم وہی بات کہہ دو جو میں کہہ رہا ہوں تو میں اپنے ہاتھوں سے تمہاری بیڑیاں کھول دوں گا۔ آپ جواب میں ایک ہی بات فرماتے تھے کہ اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت سے کوئی دلیل لائو تو میں سرجھکا لوں گا۔ اس کے علاوہ کوئی چیز اور کوئی تشدد میرا سر نہیں جھکا سکتا۔ آپ لہولہان حالت میں جب ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جائے جا رہے تھے تو راستے میں انھیں ایک شخص ملا جس نے کہا امام احمد آپ مجھے پہچانتے ہیں۔ آپ نے انکار کیا تو اس نے کہا کہ میرا نام ابولہیثم ہے میں مشہور چور اور ڈاکو ہوں میں کئی دفعہ چوری کے جرم میں پکڑا گیا اور میری پشت پر کم و بیش پندرہ ہزار کوڑے برس چکے ہیں لیکن میں نے چوری سے توبہ نہیں کی۔ آپ اس وقت سنت کی حمایت کے لیے اٹھے ہیں اور پوری امت کی نگاہیں آپ کی طرف ہیں کیا آپ ایک چور جتنا حوصلہ بھی نہیں دکھائیں گے ؟۔ امام صاحب کے بیٹے کہتے ہیں کہ میں نے ابا جان کو آخری دنوں میں بار بار ابوالہیثم کے لیے دعا کرتے دیکھا۔ میں نے پوچھا ابا جان یہ ابوالہیثم کون ہے ؟ تب انھوں نے یہ واقعہ سنایا اور فرمایا کہ جب تشدد سے میری ہمت جواب دینے لگتی تو مجھے اس کی یہ بات یاد آتی اور میں اپنے آپ کو ملامت کرتا کہ احمد کیا تم ایک چور جتنا حوصلہ بھی نہیں دکھائو گے لیکن جب معتصم کے بعد متوکل کا زمانہ آیا تو اس نے اس ساری صورت حال کو بدلنا چاہا اور نہ صرف امام صاحب کو رہائی دی بلکہ آج تک جتنا آپ پر ظلم ہوا اس کی تلافی کی بھی کوشش کی۔ چناچہ وہ بار بار آپ کی خدمت میں اشرفیوں کے توڑے بھیجتا لیکن آپ اسے ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔ اصرار پر صرف یہ فرماتے کہ باہر لوگوں میں اسے تقسیم کردو اور اہل خانہ سے کہتے تھے کہ یہ متوکل کے توڑے میرے لیے معتصم کے کوڑوں سے زیادہ ناقابل برداشت ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کوڑوں کی مار تو سہ لیتا ہے لیکن جب توڑے ملنے لگتے ہیں یعنی جب لالچ دیا جاتا ہے تو اس کا مقابلہ کرنا آسان نہیں رہتا۔ پروردگار مصائب کے بعد جب دولت کی فراوانی اور آسانیوں کی ارزانی سے نوازتا ہے تو یہ بجائے خود ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ جب لوگوں نے مصائب میں ایمان کا راستہ اختیار نہ کیا وہ دولت کی ریل پیل میں ایمان کا راستہ کیا اختیار کریں گے وہ تو اپنے کفر میں اور پختہ ہوتے ہیں بلکہ وہ مسلمانوں کو طنز کرنے لگتے ہیں کہ تم ہمیں جو بار بار یہ کہتے تھے کہ یہ مصائب اور بدحالیاں تمہارے کفر اور بداعمالیوں کے سبب سے ہیں تو بتائو ہمارا کفر اور ہماری بداعمالیاں تو اسی طرح ہمارے ساتھ ہیں آخر ہمارے حالات کیوں بدل گئے ہیں پھر ان کے کج فہم رہنما ان کے ذہن میں تاریخ کا یہ احمقانہ تصور بٹھانے لگتے ہیں کہ حالات کا اتار چڑھائو اور قسمت کا بنائو اور بگاڑ کسی حکیم کے انتظام میں اخلاقی بنیادوں پر نہیں ہوتا بلکہ ایک اندھی طبیعت بالکل غیر اخلاقی اسباب سے کبھی اچھے اور کبھی برے دن لاتی ہی رہتی ہے لہٰذا ان مصائب اور آفات کے نزول سے کوئی اخلاقی سبق لینا اور کسی ناصح کی نصیحت کو قبول کر کے خدا کے آگے زاری و تضرع کرنے لگنا بجز ایک طرح کی نفسی کمزوری کے اور کچھ نہیں۔ یہ اچھے اور برے دن صرف ہم نے ہی نہیں دیکھے بلکہ ہمارے آبائو اجداد بھی اس طرح کی صورت حال سے دوچار ہوتے رہے ہیں۔ ایسی ہی سوچ کے نتیجے میں وہ اپنے بگاڑ میں اور بڑھتے چلے جاتے ہیں جس سے ان پر اتمام حجت ہوجاتا ہے اور پھر اللہ کا عذاب ان کے سر پر منڈلانے لگتا ہے لیکن جہاں تک اہل ایمان کا تعلق ہے جس طرح مصائب ان کی سیرت و کردار میں پختگی کا باعث بنتے ہیں اسی طرح خوشحالی اور آسودگی بھی ان کے اندر شکر کے جذبات کو اور فراواں کردیتی ہے۔ وہ جس طرح مصائب کے مقابلے میں کبھی کمزوری نہیں دکھاتے اسی طرح ہر طرح کی راحت اور آسودگی میں بھی کبھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے برگشتہ نہیں ہوتے۔ وہ فاقے سے ہوں تب بھی اللہ کے بندے ہوتے ہیں اور انھیں تخت حکومت مل جائے تو تب بھی ان کی درویشی میں کوئی فرق نہیں آتا۔ بقول اقبال ؎ ان کی حکومت سے ہے فاش یہ رمز غریب سلطنتِ اہل دیں فقر ہے شاہی نہیں چناچہ کافروں پر دونوں طرح کی آزمائش میں ناکامی سے جب اتمام حجت ہوجاتا ہے تو پھر اچانک اللہ کا عذاب ان پر آٹوٹتا ہے اور پھر اس طرح پروردگار کی پکڑ آتی ہے کہ وہ اپنے عیش و عشرت کے مزے لوٹ رہے ہوتے ہیں اور اس کا عذاب ان کی بیخبر ی میں آکر ان کی کمر توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ قابلِ توجہ بات یہاں یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ کسی قوم پر اللہ کا عذاب اللہ کی قدرت کا ظہور تو ہے اور اس کی حاکمیت کا لازمی نتیجہ بھی لیکن اس کی ترجیحات میں ہرگز شامل نہیں۔ اسے یہ بات قطعاً عزیز نہیں ہے کہ قومیں عذاب کا شکار ہوں بلکہ اس کی رحمت تو اس کے غضب پر ہمیشہ حاوی رہتی ہے وہ بار بار اس بات کا اظہار فرماتا ہے کہ تمہارا رب بندوں کے لیے ظالم نہیں ہے بلکہ وہ تو رحمان اور رحیم ذات ہے جس کی رحمت ہمیشہ بہانے ڈھونڈتی ہے۔ اس لیے اگلی آیت کریمہ میں ان آیات کے مخاطبین کو سمجھاتے ہوئے یہ بات کہی جا رہی ہے کہ ہم نے معذب قوموں کی داستان جو تمہیں سنائی ہے یہ اس لیے نہیں ہے کہ اللہ انھیں عذاب دینا چاہتا تھا بلکہ اس لیے ہے تاکہ تم اس سے عبرت پکڑو ورنہ اللہ کا جو پسندیدہ طریقہ ہے وہ تو وہ ہے جو اگلی آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا :
Ayah 7:96

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انھوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کی کرتوتوں کی پاداش میں ان کو پکڑ لیا۔

وَلَوْ اَنَّ اَھْلَ الْقُرٰٓی اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ وَلٰکِنْ کَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰھُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ (الاعراف : 96) ” اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انھوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کی کرتوتوں کی پاداش میں ان کو پکڑ لیا “۔ یعنی پہلی امتوں پر جو عذاب آئے وہ اس لیے نہیں آئے کہ ہم انھیں عذاب دینا چاہتے تھے بلکہ یہ ان کی بداعمالیوں اور بداعتقادیوں کے لازمی اور منطقی نتائج تھے۔ اگر وہ ہمارے پیغمبروں پر ایمان لاتے اور ان کی دعوت کے مطابق تقویٰ کی زندگی اختیار کرتے تو ہم انھیں اس طرح اپنی رحمت سے نوازتے کہ آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے یعنی آسمان سے ان پر رزق برستا اور زمین سے ان کے لیے رزق ابلتا۔ زمین اپنی روئیدگی کے خزانے ان کے لیے وقف کردیتی اور آسمان ان پر اپنی رحمتیں نچھاور کرتا ‘ وقت پر بارشیں ہوتیں جو ان کے لیے افزودگی کا باعث بنتیں ‘ موسم ان کے لیے راحتوں کا پیغامبر بن کر آتے اور واقعہ یہ ہے کہ جب بھی انسانوں نے ایمان اور تقویٰ کی روش اختیار کی ہے اللہ نے ہمیشہ ان پر اپنا کرم فرمایا ہے۔ عرب کے رہنے والے لوگ جو ہمیشہ رزق کی تلاش میں مارے مارے پھرتے تھے اور جن کی اکثریت کو کبھی دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ہوتی تھی ‘ حالات کی ستم ظریفی انھیں ہمیشہ اپنی گرفت میں رکھتی تھی ‘ وہ دنیا کا انتہائی پسماندہ علاقہ تھا جو ایک جزیرہ نما کی شکل میں دنیا کی ہر طرح کی ترقی سے محروم تھا۔ اس کی زمین سوائے سنگریزوں کے اور کسی چیز کو جنم نہیں دیتی تھی اور اس کے موسم بادسموم اور بگولوں کی فصل پیدا کرتے تھے۔ لیکن آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کے بعد جب اسی سرزمین پر اللہ کا دین غالب آیا تو اللہ نے ان کے لیے رزق کے دروازے کھول دیئے۔ جو لوگ دو وقت کی روٹی کو ترستے تھے وہ اپنے دامنوں میں زکوٰۃ کا مال لے کر پھرتے تھے انھیں زکوٰۃ لینے والا کوئی نہیں ملتا تھا جو سرزمین عداوتوں اور نفرتوں کا جہنم بنی ہوئی تھی وہاں مکارم اخلاق اور اخوت و محبت کی ایسی برکھا برسی جس کے نتیجے میں ایک ایسی بہار نے جنم لیا کہ صدیوں تک انسانوں نے اس کے ٹھنڈے سائے میں زندگی گزاری۔ مسلمانوں کی اس طویل و عریض مملکت میں کوئی شخص رات کو بھوکا نہیں سوتا تھا جن کے امیر کو اس بات کی فکر رہتی تھی کہ اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا مرگیا تو قیامت کے دن مجھے اس کا جواب دینا پڑے گا۔ اس دور کی پوری تاریخ اس صداقت کی عملی دلیل ہے کہ اگر زمین پر بسنے والے ایمان وتقویٰ کی روش اختیار کریں تو زندگی کی ہر آسودگی ان کے نصیب میں ہوگی لیکن جن معذب قوموں کا یہاں تذکرہ ہوا ہے ان پر اس لیے اللہ کا عذاب آیا کہ انھوں نے اللہ کے نبیوں کی دعوت کی تکذیب کی اور پھر اس کی پاداش میں ان پر اللہ کی پکڑ آئی اور ان کو تباہ و برباد کردیا۔ مشرکین مکہ کو ان حوالوں سے یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ تمہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ کا یہ قانون اٹل اور حتمی ہے کہ وہ ایمان اور تقویٰ رکھنے والے لوگوں کو نوازتا ہے اور جو لوگ اس کے دین کی تکذیب کرتے ہیں ان کا وہی حشر ہوتا ہے جو سابقہ امتوں کا ہوا۔ اس کے یہاں ایک ہی ترازو ہے جس سے وہ سب قوموں کے اعمال تولتا ہے اس کے ترازو کے باٹ سب کے لیے یکساں ہیں۔ جن اصولوں سے پہلی قومیں تولی گئی ہیں تم بھی انہی اصولوں سے تولے جاؤ گے۔ اس لیے اس آئینہ میں اپنی قسمت دیکھنے کی کوشش کرو۔ اگر تم آپ اپنے دشمن نہیں ہوئے ہو تو ایمان وتقویٰ کا راستہ اختیار کر کے اپنی دنیا اور آخرت بنا لو ورنہ محض سرزمین حرم کا باسی ہونا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے نسبت ہونا تمہارے کام نہیں آئے گا۔ اگلی آیات کریمہ میں انہی معذب قوموں کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے نہایت پہلودار باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں ارشاد ہوتا ہے۔
Ayahs 7:97–99

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ Open ayah 7:97 in the Quran reader

کیا بستیوں کے لوگ اس بات سے بےخوف ہوگئے کہ آدھمکے ان پر ہمارا عذاب راتوں رات اور وہ سوئے پڑے ہوں

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 7:98 in the Quran reader

یا بستیوں والے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر آجائے ہمارا عذاب دن دھاڑے اور وہ کھیل کود میں ہوں

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 7:99 in the Quran reader

تو کیا وہ اللہ کی تدبیر سے بےخوف ہیں تو یاد رکھو کہ اللہ کی تدبیر سے وہی لوگ بےخوف ہوتے ہیں جو نامراد ہونے والے ہوں۔

اَفَاَمِنَ اَھْلُ الْقُرآی اَنْ یَّاْتِیَہُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّھُمْ نَاْئَمُوْنَ ۔ اَوََاَمِنَ اَھْلُ الْقُرٰٓی اَنْ یَّاْتِیَہُمْ بَاْسُنَا ضُحیً وَّھُمْ َیْلَعُبْوَنَ ۔ اَفاَمِنُُوْامَکْرَاللّٰہِ فَلَا یَاْ مَنُ مَکْرَ اللّٰہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُ وْنَ ۔ (الاعراف : 97، 99) ” کیا بستیوں کے لوگ اس بات سے بےخوف ہوگئے کہ آدھمکے ان پر ہمارا عذاب راتوں رات اور وہ سوئے پڑے ہوں یا بستیوں والے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر آجائے ہمارا عذاب دن دھاڑے اور وہ کھیل کود میں ہوں تو کیا وہ اللہ کی تدبیر سے بےخوف ہیں تو یاد رکھو کہ خدا کی تدبیر سے وہی لوگ بےخوف ہوتے ہیں جو نامراد ہونے والے ہوں “۔ دو مفہوم ان آیات کے مفہوم کے دو محمل ہوسکتے ہیں لیکن انجام کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں پڑتا ایک یہ کہ مشرکین مکہ سے یہ کہا جا رہا ہے کہ دیکھو جن معذب قوموں کا ذکر تم نے سنا ہے انھیں بار بار اللہ کے عذاب سے ڈرایا گیا لیکن انھوں نے سنی ان سنی کردی بجائے اپنی اصلاح کرنے کے پیغمبر کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے اور ہر طرح سے ان کی دعوت کو ناکام کرنے کی کوشش کی ایسا لگتا تھا کہ انھیں اللہ کی طرف سے عذاب آنے کا کوئی اندیشہ نہیں ہے وہ برابر اپنی دلچسپیوں اور سرگرمیوں میں کھوئے رہے۔ ذرا غور کرو کہ ان کی یہ بےخوفی اور ان کی یہ سرگرمیاں کیا انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکیں۔ نہ دن کے وقت ان کی سرگرمیاں کسی کام آئیں نہ راتوں کی نیندوں میں ڈوبے ہوئے ان کی بےفکری کسی کام آئی۔ کبھی اللہ کا عذاب ان کی بیخبر ی میں آیا تو بیخبر ی انھیں لے ڈوبی اور کبھی دنیوی سرگرمیوں میں کھو جانے کے باعث اس حد تک وہ نڈر ہوگئے کہ دن کے وقت خدا کا عذاب دھاڑتا ہوا آیا لیکن وہ اس کے بچائو کے لیے کچھ نہ کرسکے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے عذاب کا جو قانون ہے جو اللہ کے نبیوں کی دعوت کی تکذیب پر ہمیشہ بروئے کار آتا ہے وہ ایسا اٹل اور حتمی ہے کہ کوئی قوم کسی حال میں بھی ہو وہ بہرحال اس کی گرفت میں آکے رہے گی۔ اللہ کا عذاب بےامان ہوتاہے دوسرا مطلب اس کا یہ ہوسکتا ہے کہ اے مشرکینِ مکہ تم نے ان قوموں کا تذکرہ سن لیا جن پر خدا کا عذاب آیا تو کیا اب تم اس لیے اللہ کے عذاب سے بےخوف ہو کر اپنی مصروفیات میں مگن ہو کہ تم نے اس سے بچائو کی کوئی تدبیر سوچ لی ہے ! اور تم کیا یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ یہ عذاب انہی پر آنا تھا سو آگیا ہم پر یہ عذاب کسی صورت میں نہیں آسکتا حالانکہ تم نے گزشتہ قوموں کی تاریخ میں اچھی طرح یہ بات سن لی ہے کہ کوئی قوم کتنی بھی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو اور چاہے وہ اللہ کے دین سے کتنی بھی بےبہرہ کیوں نہ ہو وہ اللہ کی گرفت سے کبھی نہیں بچ سکتی۔ اس کے عذاب سے امان کسی کو نہیں وہ چاہے تو دن کو آسکتا ہے اور چاہے تو رات کو۔ اگر حقیقت یہ ہے تو تم آخر اس سے بےخوف ہو کر کس طرح اپنے معمولات میں کھوئے ہوئے ہو ؟ تمہارے سامنے یہ تاریخ اس لیے بیان کی جا رہی ہے کہ تم اس سے عبرت پکڑو اور اپنی زندگی درست کرنے کی کوشش کرو لیکن اگر تم اس سے کوئی سبق لینا نہیں چاہتے تو پھر تمہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اپنے انجام کی طرف سے یہ بےفکری اور اللہ کے عذاب سے بےخوفی یہ صرف اس قوم کا رویہ بنتی ہے جس کی قسمت پھوٹ گئی ہو اور جسے پروردگار نے دنیا اور آخرت کے اعتبار سے نامراد لوگوں میں لکھ دیا ہو اور یہ بھی تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کی طرف سے جب گرفت آتی ہے تو وہ اتنی مخفی اور اس قدر دھیمے انداز میں آتی ہے کہ اس کی آہٹ تک سنائی نہیں دیتی اس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب اس کا نشانہ بننے والی قوم پوری طرح اس گرفت میں آچکی ہوتی ہے۔ یہ بنیادی بات سمجھانے کے بعد پھر براہ راست خطاب کیا گیا ہے مشرکین مکہ سے اور ایک طرح سے ان پر اتمام حجت کیا جا رہا ہے۔ ارشاد فرمایا :
Ayah 7:100

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

کیا سبق نہیں ملا ان لوگوں کو جو سابق اہل زمین کے بعد زمین کے وارث ہوئے ہیں کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ابھی آپکڑیں اور ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیں وہ سننے سمجھنے سے رہ جائیں۔

اَوَلَمْ یَھْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْ م بَعْدِ اَھْلِھَا اَنْ لَّوْ نَشَآئُ اَصَبْنٰھُمْ بِذُنُوْبِھِمْ ج وَ نَطْبَعُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ فَھُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ ۔ (الاعراف : 100) ” کیا سبق نہیں ملا ان لوگوں کو جو سابق اہل زمین کے بعد زمین کے وارث ہوئے ہیں کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ابھی آپکڑیں اور ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیں وہ سننے سمجھنے سے رہ جائیں “۔ دلوں پر مہر اللہ کے عذاب تمہید ہے اس آیت کریمہ میں نام لیے بغیر قریش سے خطاب فرمایا جا رہا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ اے قریش کے لوگو ! تم جس سرزمین پر آباد ہو اس زمین پر تم سے پہلے دوسری قومیں آباد رہ چکی ہیں اور تم یہ بات سن چکے ہو کہ جب انھوں نے اللہ کے رسولوں کی دعوت کو ماننے سے انکار کیا تو ہم نے انھیں کس طرح پکڑا ؟ ان کی تاریخ بار بار تمہیں سنائی جا چکی ہے اور خود تمہارے اندر بھی آج تک ان کے انجام کے قصے سینہ بہ سینہ چلاتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود تم آخر یہ بات کیوں نہیں سوچتے کہ جس جرم کی پاداش میں تم سے پہلے لوگ پکڑے گئے اور وہ تمہارے لیے آج عبرت بنے ہوئے ہیں تم اگر وہی جرم کرو گے اور جیسا کہ کر رہے ہو اور اللہ کے آخری رسول کے ساتھ وہی رویہ اختیار کرو گے جو انھوں نے کیا تھا تو تم آخر اللہ کی گرفت سے کیسے بچ جاؤ گے یہ تو اللہ کا کرم ہے کہ اس نے تمہیں ڈھیل دے رکھی ہے ورنہ پروردگار کے لیے یہ کیا مشکل ہے کہ وہ جب چاہے تمہیں آپکڑے اس لیے تمہارے جرائم وہی ہیں جو سابقہ امتوں کے تھے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ ڈھیل دینے میں بہت زیادہ نرم اور سخی واقع ہوئے ہیں اس لیے تم برابر ڈھیل پا رہے ہو لیکن یاد رکھو ہوسکتا ہے ابھی عذاب آنے میں کچھ وقت لگے لیکن تمہارے اس رو یے کے باعث یہ بات تو کسی وقت بھی ہوسکتی ہے کہ اللہ کی طرف سے تمہاری محرومی کا فیصلہ ہوجائے اور تمہارے دلوں پر مہر کردی جائے جس کے بعد تم قبولیت حق کی استعداد سے محروم ہوجاؤ کیونکہ ہر قوم پر عذاب آنے سے پہلے یہ سزا ہمیشہ اصل عذاب کا پیش خیمہ بنتی رہی ہے۔ تم اب تک اس عذاب سے بچے ہوئے ہو لیکن کسی وقت بھی تم اس سزا سے دوچار ہوسکتے ہو۔ اس وارننگ کے بعد اگلی آیت کریمہ میں اس بحث کو سمیٹتے ہوئے نہایت حکیمانہ انداز میں پھر وہ بنیادی باتیں دھرا دی گئی ہیں جو سراسر اللہ کے حلم اور بردباری پر دلالت کرتی ہیں کہ باوجود اس کے کہ قریش نے ہر طرح سے اپنے آپ کو عذاب کا مستحق بنا لیا ہے لیکن پھر بھی ان کو سوچنے سمجھنے کا موقع دیا جا رہا ہے کہ فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو اٹھا لو چناچہ ان بنیادی حقائق کو دھراتے ہوئے ارشاد فرمایا :
Ayahs 7:101–102

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

یہ بستیاں ہیں جن کی سرگزشتوں کا کچھ حصہ ہم تمہیں سنا رہے ہیں ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ ایمان لانے والے نہ بنے بوجہ اس کے کہ وہ پہلے سے جھٹلاتے رہے تھے اسی طرح اللہ ٹھپہ لگا دیا کرتا ہے کافروں کے دلوں پر۔

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد کی استواری نہیں پائی ان میں سے اکثر بدعہد ہی نکلے۔

تِلْکَ الْقُرٰی نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآئِھَا ج وَلَقَدْ جَآئَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ ج فَمَا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا کَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ ط کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللہ ُ عَلٰی قُلُوْبِ الْکٰفِرِیْنَ ۔ وَمَا وَجَدْنَا لِاَکْثَرِھِمْ مِّنْ عَھْدٍ ج وَاِنْ وَّجَدْنَآ اَکْثَرَھُمْ لَفٰسِقِیْنَ ۔ (الاعراف : 101، 102) ” یہ بستیاں ہیں جن کی سرگزشتوں کا کچھ حصہ ہم تمہیں سنا رہے ہیں ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ ایمان لانے والے نہ بنے بوجہ اس کے کہ وہ پہلے سے جھٹلاتے رہے تھے اسی طرح اللہ ٹھپہ لگا دیا کرتا ہے کافروں کے دلوں پر۔ اور ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد کی استواری نہیں پائی ان میں سے اکثر بدعہد ہی نکلے “۔ دلوں پر مہر کب لگتی ہے ؟ گزشتہ آیت میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ ہم جب کسی قوم پر عذاب بھیجنے کا ارادہ کرتے ہیں تو عذاب سے پہلے ان کے دلوں پر مہر لگا کر انھیں قبولیت حق کی استعداد سے محروم کردیتے ہیں یہ گویا عذاب کی تمہید ہوتی ہے۔ پیش نظر دونوں آیتوں میں اسی بات کی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے کہ ہم اچانک دلوں پر مہر نہیں لگاتے بلکہ اس سے پہلے ایک پر اسس ہے جس کو بروئے کار لایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کی جانب سے ہدایت کے لیے رسول بھیجے جاتے ہیں وہ اپنی امکانی حد تک ان کی اصلاح کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ مخالفین کی طرف سے ہر طرح کی مخالفت کا سامنا کرتے ہیں۔ ان کے برے سے برے سلوک کو برداشت کرتے ہیں وہ ہر طرح انھیں ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن رسول برابر ان کی بھلائی کے لیے اللہ کے دین کی دعوت ان کے سامنے پیش کرتے رہتے ہیں اور اپنی بات کی وضاحت کے لیے کبھی دلائل انفس سے کام لیتے ہیں کبھی دلائل آفاق سے ‘ کبھی عام مشاہدے میں آنے والی مثالوں سے بات کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں پھر اپنے بےداغ کردار سے ان کے سامنے عملی شہادتیں بھی پیش کرتے ہیں لیکن جب ان کے مخاطب لوگ بجائے ان دلائل سے متاثر ہونے کے معجزات طلب کرنے لگتے ہیں اور ساتھ یہ وعدہ بھی کرتے ہیں کہ اگر یہ معجزہ دکھا دیا جائے تو ہم ضرور ایمان لے آئیں گے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے انھیں معجزات بھی دکھائے جاتے ہیں اور بعض دفعہ ان کی منہ مانگی نشانیاں بھی ظاہر کی جاتی ہیں۔ لیکن ان کی قوم ان کی دعوت کا مسلسل انکار کرنے کی وجہ سے آخر اس حال کو پہنچ جاتی ہے کہ نہ تو ان پر کوئی دلیل اثر انداز ہوتی ہے اور نہ وہ اپنی مطلوبہ نشانیوں اور معجزات کو دیکھ کر راہ راست اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ وقت ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگانے کا فیصلہ فرما دیتے ہیں قرآن کریم نے جابجا اس کی مثالیں بھی دی ہیں۔ سورة الانعام میں ارشاد فرمایا : وَاَقْسَمُوْابِ اللہ ِ جَھْدَاَیْمَانِھِمْ لَئِنْ جَآئَتْھُمْ اٰیَۃٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِھَاقُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللہِ وَمَا یُشْعِرُکُمْ اَنَّھَآ اِذَا جَآئَتْ لَا یُوْمِنُوْن وَنُقَلِّبُ اَفْئِدَتَھُمْ وَ اَبْصَارَھُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِہٖ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَ نَذَرَھُمْ فِی طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ (الاعراف : 109، 110) ” اور وہ بڑی پکی پکی قسمیں کھا کے یقین دلاتے ہیں کہ اگر کوئی معجزہ ان کو دکھایا جائے تو وہ ضرور اس پر ایمان لے آئیں گے۔ کہہ دو کہ معجزے تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور تمہیں کیا پتہ کہ اگر معجزہ بھی آجائے گا جب بھی وہ ایمان لانے والے نہیں اور ہم ان کے دلوں اور ان کی بصیرتوں کو اسی طرح الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار ایمان نہیں لائے اور ان کی سرکشی میں ان کو بھٹکتا چھوڑ دیں گے “۔ آگے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت میں بھی یہی حقیقت ان الفاظ میں واضح کی گئی ہے : وَلَمَا وَقَعَ عَلَیْھِمْ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسٰی ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَھِدَ عِنْدَکَ ج لَئِنْ کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْرَ لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَکَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیلَ فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْھُمْ الرِّجْزَ اِلٰیٓ اَجَلٍ ھُمْ بَالِغُوْہُ اِذَا ھُمْ یَنْکُثُوْن (الاعراف : 134، 135) ” جب ان پر کوئی آفت آتی وہ کہتے ‘ اے موسیٰ ہمارے واسطے اپنے رب سے ‘ اس وعدے کی بنا پر جو اس نے تم سے کر رکھا ہے دعا کرو۔ اگر تم نے یہ بلا ہمارے سر سے ٹال دی تو ہم تمہاری بات ضرور مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ جانے دیں گے۔ پھر جب ہم اس آفت کو کچھ دیر کے لیے جس تک لازماً ان کو پہنچنا ہوتا ٹال دیتے تو وہ دفعتاً اپنا عہد توڑ دیتے “۔ بعد کی آیات کریمہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت اور ساتھ ہی بنی اسرائیل کے دینی اور سیاسی عروج وزوال کی پوری تاریخ اجمال مگر نہایت جامعیت کے ساتھ بیان فرمائی گئی ہے۔ یہ سورة اگرچہ مکی ہے لیکن اہل مکہ اور مشرکین عرب بنی اسرائیل اور ان کی تاریخ سے ناواقف نہیں تھے اور مزید یہ بات بھی کہ عنقریب مسلمانوں کو یہود سے واسطہ پڑنے والا ہے۔ اس لیے بھی ضروری تھا کہ مسلمان ان کی تاریخ سے بھی آگاہ ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ ایک دلچسپ بات یہ تھی کہ اگرچہ ابھی تک براہ راست اسلام کی دعوت کو بنی اسرائیل سے واسطہ نہیں پڑا تھا لیکن وہ قریش مکہ کے واسطے سے برابر اس نئے دین کی تبلیغی کاوشوں سے آگاہ رہتے تھے اور وقتاً فوقتاً قریش کو اس نئے دین سے برگشتہ کرنے اور بدگمانیاں پیدا کرنے کے لیے مختلف شوشے چھوڑتے رہتے تھے اور بعض دفعہ عجیب و غریب سوالات سجھاتے تھے تاکہ وہ ان سوالات کی مدد سے آنحضرت ﷺ کے لیے مشکلات پیدا کریں اور مسلمانوں کی یکسوئی کو ختم کریں۔ علاوہ ازیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت کے آئینہ میں بعض باتیں قریش کے سوچنے کے لیے کہی جا رہی ہیں جن میں بالکل ایک سامنے کی بات یہ تھی کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ اثر و اقتدار کے اعتبار سے نہایت مفلس واقع ہوئے ہیں۔ آپ کے خاندان کی ایک بڑی تعداد ابھی تک آپ کا دین قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئی اور قریش بری طرح اس کا راستہ روکنے کے لیے کوشاں ہیں اور جو لوگ آپ پر ایمان لائے بھی ہیں وہ نہایت غیر موثر لوگ ہیں۔ ایسی صورت حال میں اس دین کے آگے بڑھنے کے کیا امکانات ہوسکتے ہیں۔ اس واقعہ کے حوالے سے انھیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ دیکھو موسیٰ (علیہ السلام) بھی اپنے بھائی کے سوا کوئی معاون اور مددگار اپنے ساتھ نہیں رکھتے تھے۔ آپ جس قوم کے فرد تھے وہ غلامی کی ذلت برداشت کر رہی تھی اور آپ کو جن لوگوں سے واسطہ تھا یعنی فرعون اور آل فرعون سے ‘ وہ اپنے دور کے نہایت ظالم اور خونخوار کردار کے مالک تھے جن سے کسی طرح کی بھی شرافت کی امید نہیں کی جاسکتی تھی اس کے باوجود آپ نے براہ راست فرعون کے سامنے اللہ کے دین کی دعوت پیش کی اور اس کی ساری جلالت و سطوت کو نظرانداز کرتے ہوئے صاف صاف اسے بتایا کہ تم نے اگر میری دعوت قبول نہ کی تو تمہارا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ نتیجہ سامنے ہے کہ بےنوا اور بےیارومددگار موسیٰ (علیہ السلام) غالب و کامران رہے اور فرعون اپنی فوجوں سمیت بحرقلزم کی نذر ہوگیا یہ واقعہ قریش کو سمجھانے کے لیے کافی تھا کہ تم اپنی جس قوت و شوکت پر بھروسہ کیے بیٹھے ہو وہ فرعون اور آل فرعون کی قوت سے کوئی مناسبت نہیں رکھتی اور آنحضرت ﷺ حضرت موسیٰ کی طرح بیشک تنہا اور بےیارومددگار ہیں لیکن بہرحال قریش کے ایک معزز فرد ہیں اگر اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ کی دعوت کو فرعون کے مقابلے میں غالب و کامران کرسکتا ہے تو آنحضرت کی دعوت کو بھی قریش مکہ کے مقابلے میں یقینا کامیاب فرمائے گا۔ اسی طرح اس واقع سے آنحضرت پر ایمان لانے والوں کو بھی حوصلہ دیا جا رہا ہے کہ تمہیں اپنی قلت و کمزوری اور مخالفین کی کثرت و شوکت کو دیکھ کر ہراساں نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی مدد آنے کا ایک وقت ہوتا ہے جس کو وہ خود ہی جانتا ہے لیکن وہ ضرور آ کے رہتا ہے تمہیں بھی اطمینان رہنا چاہیے کہ وہ وقت آئے گا اور تمہیں اللہ تعالیٰ سرفرازی عطا فرمائے گا۔ اس سے پہلے جن قوموں کا تذکرہ ہوچکا ان کی تاریخی ترتیب بھی وہی ہے جس ترتیب سے ان کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اسی تاریخی ترتیب کا ایک حصہ ہیں حضرت شعیب کے بعد وہی عظیم پیغمبر ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا چناچہ حضرت شعیب کے تذکرے کے بعد ان کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے :
Ayah 7:103

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:103 in the Quran reader

پھر ہم نے ان قوموں کے بعد (جن کا ذکر اوپر کیا گیا) موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس رسول بنا کر بھیجا مگر انھوں نے بھی ہماری نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا تو دیکھو ان مفسدوں کا انجام کیا ہوا۔

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ م بَعْدِھِمْ مُّوْسٰی بِاٰیٰتِنَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَائِہٖ فَظَلَمُوْا بِھَا ج فَانظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْنَ ۔ (الاعراف : 103) ” پھر ہم نے ان قوموں کے بعد (جن کا ذکر اوپر کیا گیا) موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس رسول بنا کر بھیجا مگر انھوں نے بھی ہماری نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا تو دیکھو ان مفسدوں کا انجام کیا ہوا “۔ فرعون کی تحقیق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کی طرف بھیجے گئے تھے۔ فرعون اپنے وقت کا عظیم حکمران تھا لیکن یہ اس شخص کا نام نہیں بلکہ لقب تھا۔ فرعون کے معنی ہیں سورج دیوتا کی اولاد۔ قدیم اہل مصر سورج کو جو ان کا مہادیو یا ربِ اعلیٰ تھا رع کہتے تھے اور فرعون اسی کی طرف منسوب تھا۔ اہل مصر کے اعتقاد کی رو سے کسی فرمانروا کی حاکمیت کے لیے اس کے سوا کوئی بنیاد نہیں ہوسکتی تھی کہ وہ رع کا جسمانی مظہر اور اس کا ارضی نمائندہ ہو۔ اسی لیے ہر شاہی خاندان جو مصر میں برسر اقتدار آتا تھا اپنے آپ کو سورج بنسی بنا کر پیش کرتا تھا اور ہر فرمانروا جب تخت نشیں ہوتا فرعون کا لقب اختیار کر کے باشندگان ملک کو یقین دلاتا تھا کہ تمہارا ربِ اعلیٰ یا مہادیو میں ہوں۔ یہاں یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ کے قصے کے سلسلے میں دو فرعونوں کا ذکر آتا ہے ایک وہ جس کے زمانہ میں آپ پیدا ہوئے اور جس نے بنی اسرائیل کی نرینہ اولاد کا قتل کرنے کا حکم دے رکھا تھا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) محض اللہ تعالیٰ کی قدرت سے نہ صرف کہ زندہ رہے بلکہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے خاص انتظام کے تحت فرعون کے محل میں پہنچا دیا گیا اور وہیں آپ نے پرورش پائی اور دوسرا فرعون وہ ہے جس کے پاس آپ اسلام کی دعوت اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ لے کر پہنچے اور جو بالآخر غرق ہوا۔ محققین کا خیال یہ ہے کہ پہلے فرعون کا نام رعمسیس دوم تھا اور دوسرا فرعون جس کا ان آیات میں ذکر کیا جا رہا ہے اس کا نام منفتہ یا منفتاح تھا جو اپنے باپ رعمسیس دوم کی زندگی ہی میں شریک حکومت ہوچکا تھا اور اس کے مرنے کے بعد سلطنت کا مالک بنا۔ اسی دوسرے فرعون کے دربار میں آپ اللہ کے رسول کی حیثیت سے اللہ کے دین کی دعوت لے کر پیش ہوئے۔ اس آیت کریمہ میں نہایت اجمال کے ساتھ پوری تاریخ کو سمیٹتے ہوئے تین باتیں فرمائی گئی ہیں۔ آیت میں بیان کردہ تین باتوں کی وضاحت پہلی یہ بات کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے اعیان حکومت کی طرف اللہ کے رسول کی حیثیت سے تشریف لے گئے اور آپ نے جب اپنی دعوت ان کے سامنے پیش کی تو باقی قوموں کی طرح انھوں نے بھی سب سے پہلے آپ سے یہی سوال کیا کہ اگر آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں تو پھر معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کے رسول ہونے کی تمہارے پاس نشانی کیا ہے اور ان کی طرف سے نشانی یا نشانیوں کا مطالبہ اس لیے بھی زیادہ قرین عقل ہے کیونکہ یہ فرعون اور اس کے سردار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پوری طرح واقف تھے۔ آپ فرعون کے گھر میں پلے بڑھے اور یہ موجودہ فرعون آپ کے ساتھ ہی کھیلتا کودتا رہا۔ دونوں کا بچپن اور لڑکپن اکٹھا گزرا ‘ اکٹھے جوانی کی حدود میں داخل ہوئے۔ جس طرح اس نے شہزادوں کی طرح تربیت پائی آپ بھی شہزادوں کی طرح پلے بڑھے اور پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شہزادوں ہی کی طرح آپ کی تعلیم کا بندوبست بھی کیا گیا اور جوان ہونے کے بعد آپ پر حکومت کی بعض ذمہ داریاں بھی ڈالی گئیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کو فوجوں کا جرنیل بنایا گیا اور آپ نے نہایت کامیابی سے بعض مہمات بھی سرانجام دیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اس موجودہ فرعون اور اس کے سرداروں کے سامنے نہایت فعال زندگی گزاری۔ آپ سے اس بات کی تو امید کی جاسکتی تھی کہ آپ حکومت کے کسی عہدے کا مطالبہ کریں کیونکہ آپ ہر طرح اس کی صلاحیت رکھتے تھے لیکن آپ خاص حالات میں مصر سے نکلنے پر مجبور ہوئے اور کئی سالوں کے بعد آپ تشریف لائے ہیں تو آپ بجائے کوئی اور بات کہنے کے اپنے آپ کو اللہ کا نمائندہ قرار دے رہے ہیں تو اولاً تو ان کے لیے یہ بات کہ آپ فرعون کے سوا کسی اور کو رب قرار دیتے ہیں قابل تسلیم نہیں اور پھر اس کا نمائندہ ہونا یہ تو اور بھی عجیب بات ہے۔ اس لیے انھوں نے سب سے پہلے کسی اور کو رب کو ماننے کے بارے میں سوالات کیے اور پھر اس رب کے نمائندہ ہونے کے حوالے سے آپ سے نشانیوں کا مطالبہ کیا لیکن جب آپ نے ان کے سامنے وہ آیات اور نشانیاں ظاہر کیں جو باقی انبیاء کی طرح یقینا دو قسم کی تھیں۔ ایک تو وہ فطری اور عقلی دلائل جس پر ہر پیغمبر کی دعوت مبنی ہوتی ہے اور دوسرے وہ حسی معجزات جو پیغمبر کی نشانی کے طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کیے جاتے ہیں۔ آپ نے بھی یہ دونوں طرح کی آیات ان کے سامنے پیش فرمائیں لیکن انھوں نے جو ان دلائل اور آیات کے ساتھ سلوک کیا اور ان کے مقابلے میں جو رویہ اختیار کیا۔ قرآن کریم اسے ظلم قرار دیتا ہے۔ ظلم کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز کو اس کے اصل مقام سے ہٹا دینا اور اس کو اس نگاہ سے نہ دیکھنا جس کی وہ حقیقی سزاوار ہوتی ہے۔ اللہ کے نبی کی اپنی شخصیت اس کا بےداغ کردار اور پھر اس کے پیش کردہ معجزات کی جلالت اور سطوت اس کو سحر اور جادو قرار دے کر نظر انداز کرنا اسے ظلم کے سوا اور کسی چیز سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ بجائے اس کے کہ فرعون اور اس کے ساتھی ان نشانیوں پر پوری طرح غور و فکر کر کے انھیں ٹھیک مقام دینے کی کوشش کرتے۔ انھوں نے ان کے ساتھ ظالمانہ رویہ اختیار کیا۔ انسانی فطرت یہ ہے کہ جب وہ بڑی سے بڑی چیز کو بھی سنجیدگی اور متانت کے ساتھ نہیں لیتا بلکہ غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرتا ہے تو وہ کبھی بھی بات کی تہہ کو نہیں پہنچ سکتا۔ بڑی سے بڑی حقیقت بھی اس کی نگاہوں سے اوجھل رہ جاتی ہے۔ اس لیے کہ سوچ کا انداز ہر چیز کو کچھ سے کچھ بنا دیتا ہے۔ فرعون اور اس کے سرداروں نے بھی جب یہی رویہ اختیار کیا تو وہ اسی انجام سے دوچار ہوئے جو ہمیشہ مفسدین کا انجام ہوتا رہا ہے اور جس انجام کی سرگزشت گزشتہ قوموں کی تاریخ میں اس سے پہلے بیان کی جا چکی ہے۔ چناچہ اس مختصر سی آیت میں یہ تینوں حوالے بیان کردیئے گئے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کس شان کے ساتھ فرعون کے دربار میں آئے ‘ کس طرح انھوں نے دعوت پیش کی ‘ کس طرح اپنے رسول ہونے کے دلائل دیئے اور پھر کس طرح اپنی صداقت کی ناقابل انکار نشانیاں دکھائیں مگر جب دیکھنے والوں نے اس کے ساتھ ظالمانہ رویہ اختیار کیا تو آخر اس انجام کو پہنچے جو ہمیشہ مفسدین کا انجام رہا ہے۔ اس اختصار کے بعد اگلی آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کو دعوت پیش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور ان کی دعوت کے اہم نکات کو پیش فرمایا گیا ہے۔
Ayahs 7:104–105

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:104 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا اے فرعون میں خداوندِعالم کا فرستادہ ہوں سزاوار ہوں

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 7:105 in the Quran reader

کہ اللہ تعالیٰ کی طرف حق کے سوا کوئی اور بات منسوب نہ کروں میں تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے کھلی ہوئی نشانی لے کر آیا ہوں تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دے۔

ارشاد ہوتا ہے : وَقَالَ مُوْسٰی یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ حَقِیْقٌ عَلٰیٓ اَنْ لَّآ اَقُوْلَ عَلَی اللہِ اِلَّا الْحَقَّ ط قَدْ جِئْتُکُمْ بِبَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّکْمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ ۔ (الاعراف : 104، 105) ” اور موسیٰ نے کہا اے فرعون میں خداوندِ عالم کا فرستادہ ہوں سزاوار ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف حق کے سوا کوئی اور بات منسوب نہ کروں میں تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے کھلی ہوئی نشانی لے کر آیا ہوں تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دے “۔ دوسری آیت کریمہ میں حَقِیْقٌ کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کا معنی سمجھ لینا چاہیے حَقِیْقٌ حَقَ اور حُقَ سے فعیل کا وزن ہے اور یہ مفعول کے معنی میں آتا ہے اس کے معنی ہیں لائق ‘ اہل اور سزاوار۔ مثلاً کہیں گے ھُوَ حَقِیقٌ بِہٖ وہ اس کا اہل اور سزاوار ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا تعارف، ان کی اپنی زبانی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے سب سے پہلے اپنا تعارف کروایا کہ تم شخصی طور پر تو مجھے جانتے ہو لیکن اس وقت میں جس حیثیت سے تمہارے پاس آیا ہوں اس کا جاننا تمہارے لیے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ میں وہ موسیٰ نہیں ہوں جو تمہارے ساتھ کھیلتا رہا ہے بلکہ میں رب العالمین کا فرستادہ ہوں۔ تم اپنے آپ کو رب کہتے ہو حالانکہ تم انسانوں کی طرح ایک انسان ہو۔ تم خود بھی گمراہ ہو اور دوسروں کو بھی تم نے فریب دے رکھا ہے۔ تمہاری حیثیت ایک آدمی سے زیادہ نہیں۔ رب اصل میں وہ ہے جو صرف مصر کا رب نہیں بلکہ رب العالمین ہے وہ سارے جہانوں کا رب ہے میری حیثیت یہ ہے کہ مجھے اس رب العالمین نے اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہے۔ مجھ پر اس نے اپنے پیغام نازل کیا ہے اور مجھے یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ میں تمہیں صحیح صورت حال سے آگاہ کروں اور تمہیں بتائوں کہ پوری کائنات کا ایک رب ہے اس نے انسانوں کو صرف پیدا ہی نہیں کیا بلکہ انھیں زندگی گزارنے کا ایک طریقہ بھی دیا ہے اور پھر وہ ایک ایسا دن لائے گا جس میں تمام انسانوں کو اکٹھا کیا جائے گا اور ہر انسان سے اس کی زندگی کے اعمال کا حساب لیا جائے گا پھر اس کے نتیجے میں کسی کو جنت عطا ہوگی اور کسی کو جہنم۔ میں اس کا نمائندہ بن کر تمہیں اس کا حقیقی پیغام پہنچانے آیا ہوں اور تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اگر تم آخرت کے عذاب سے بچنا چاہتے ہو تو میری دعوت کو قبول کرو اور اپنی حیثیت کی مزید وضاحت کے لیے فرمایا کہ یوں تو جھوٹ بولنا کسی کے لیے بھی روا نہیں لیکن بطور خاص وہ شخص جو رب العالمین کا رسول بن کے آیا ہو وہ تو اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ رب العالمین کے حوالے سے کوئی ایسی بات کہے جو صحیح نہ ہو کیونکہ جو رب العالمین کی طرف سے پیغمبر بن کر آتے ہیں وہ اپنے سیرت و کردار میں بےداغ ہوتے ہیں۔ اللہ انھیں معصوم پیدا فرماتا ہے۔ ان کی بےداغ زندگی اور ان کا اعلیٰ کردار ان کی سچائی کی سب سے بڑی دلیل ہوتا ہے اس لیے میرے بارے میں تمہیں اطمینان ہونا چاہیے کہ میں رب العالمین کی طرف سے تمہیں جو بات کہوں گا اس میں کسی طرح کی غلطی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور پھر میں اس بات کو جانتا ہوں کہ تمہیں میری اس حیثیت کو تسلیم کرنا آسان نہیں اس لیے میں اپنے رب کی جانب سے ایسی نشانیاں لے کر آیا ہوں جس سے تمہیں یقین کرنے میں آسانی ہوگی کہ اگر میں اللہ کا رسول نہ ہوتا تو اس طرح کی نشانیوں کا ظہور مجھ سے کبھی نہ ہوتا۔ میرا مطالبہ تم سے یہ ہے کہ تم میری رسالت کو قبول کرو اور اللہ کا جو پیغام میں لے کر آیا ہوں اسے تسلیم کرو اور دوسری یہ بات کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو ۔ صرف بنی اسرائیل کا مطالبہ کیوں ؟ اب سوال یہ ہے کہ اس آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے صرف یہی ایک بات رکھی کہ تم بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیجو حالانکہ اللہ کے رسول دنیا میں کسی ایک گروہ کو آزادی دلانے کے لیے تو تشریف نہیں لاتے وہ تو سب کی اصلاح کے لیے تشریف لاتے ہیں یہ عجیب بات ہے کہ آپ نے صرف بنی اسرائیل کی بات کی۔ بات اصل میں یہ ہے کہ قرآن کریم میں انبیاء اور اقوام کی جو سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں وہ مختلف سورتوں میں سورتوں کے مرکزی مضمون کے اعتبار سے ٹکڑے ٹکڑے کر کے بیان ہوئی ہیں۔ ہر سورت میں سرگزشت کا اتنا ہی حصہ زیر بحث آیا ہے جتنے کے لیے سورت کا مزاج مقتضی ہوا ہے یہ سورت چونکہ ان قوموں کے انجام کا تذکرہ کر رہی ہے جنھوں نے اللہ کے رسولوں کی دعوت سے انکار کیا اس لیے یہاں بھی حضرت موسیٰ اور فرعون کی سرگزشت کا صرف وہی حصہ نمایاں کیا جا رہا ہے جو سورت کے موضوع کو اجاگر کرنے والا ہے۔ اس کے بقیہ اجزاء دوسری سورتوں میں بیان کیے گئے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ تو قرآن کریم میں نہایت تکرار کے ساتھ ذکر ہوا ہے لیکن ہر جگہ اسی بات کا ذکر کیا گیا ہے جس کی موقع محل کے مطابق ضرورت ہوتی ہے۔ اب رہی یہ بات کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو ساتھ لے جانے کے لیے مطالبہ کیوں کیا تو اس کی دو وجہ سمجھ میں آتی ہیں ایک تو یہ وجہ کہ بنی اسرائیل فرعون اور آل فرعون کے ظلم کی چکی میں بری طرح پس رہے تھے۔ آپ جس طرح فرعون اور آل فرعون کی اصلاح کے لیے مبعوث ہوئے تھے اسی طرح بنی اسرائیل کی اصلاح بھی آپ کے پیش نظر تھی لیکن وہ آل فرعون کے ظلم کے باعث اس حال میں نہیں تھے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی دعوت ان کے سامنے پیش کرسکتے اور پھر وہ قبول یا عدم قبول کے حوالے سے اپنے طور سے کوئی فیصلہ کرسکتے۔ ان کی اصلاح کے حوالے سے یہ بات ضروری تھی کہ سب سے پہلے ان کو ظلم کی چکی سے نکالا جاتا اور دوسری وجہ یہ تھی کہ حقیقت میں وہ آل فرعون کی طرح آخری درجہ کے کافر نہیں تھے۔ اگرچہ وہ اپنے اندر کفر اور شرک کے بہت سے اثرات رکھتے تھے لیکن اصلاً وہ بگڑے ہوئے مسلمان تھے ان کے سامنے دعوت پیش کرنے کا طریقہ یقینا آل فرعون کے سامنے دعوت پیش کرنے سے مختلف تھا اس لیے ضروری تھا کہ پہلے ان کو ایک آزاد فضا مہیا کی جاتی اور پھر ان کے سامنے دعوت پیش کی جاتی اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے ہی مرحلے میں فرعون سے ان کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ ایک اور سوال یہاں یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو کہاں لے جانا چاہتے تھے۔ قرآن میں تو اس بات کی کوئی وضاحت نہیں لیکن تورات کی کتاب خروج کے مطالعہ سے جو صورت حال سامنے آتی ہے ہم اسے تدبر قرآن کے الفاظ میں نقل کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ابتداء ً یہ مطالبہ فرعون کے سامنے اس شکل میں رکھا کہ بنی اسرئیل کو میرے ساتھ عبادت کے لیے جانے دے۔ فرعون نے اس مطالبہ کو ماننے سے صاف انکار کردیا بلکہ غصہ میں آکر بنی اسرئیل کی بیگار اور مشقت میں اس نے مزید اضافہ کرنے کے احکام جاری کردیے کہ یہ کاہل اور کام چور ہوگئے ہیں اسی وجہ سے عبادت وغیرہ کے بہانے تلاش کررہے ہیں۔ پھر حضرت موسیٰ کے معجزوں سے زچ ہو کر جب وہ ذرا نرم پڑا تو اس نے دریافت کیا کہ تم کہاں عبادت کے لیے جانا چاہتے ہو ‘ یہ عبادت اسی شہر میں کیوں نہیں کرلیتے ؟ حضرت موسیٰ نے جواب میں فرمایا کہ ہم اس عبادت کے لیے تین دن کی راہ بیابان میں جائیں گے ‘ یہاں ہم یہ عبادت اس لیے نہیں کرسکتے کہ ہم جس چیز کی قربانی کرنا چاہتے ہیں اس کی قربانی اگر ہم نے یہاں کی تو یہ مصری ہمیں سنگسار کردیں گے۔ یہ جھگڑا عرصہ تک حضرت موسیٰ اور فرعون کے درمیان چلتا رہا۔ بالآخر ان آفتوں سے تنگ آکر جو حضرت موسیٰ کے معجزوں سے ظاہر ہوئیں ‘ درباریوں نے فرعون کو مجبور کیا کہ وہ بنی اسرئیل کو جہاں جانا چاہتے ہیں جانے دے ورنہ موسیٰ کے ہاتھوں مصر تباہ ہوجائے گا۔ فرعون نے مجبور ہو کر اجازت تو دے دی لیکن جب حضرت موسیٰ اپنی پوری قوم کے زن و فرزند ‘ مال مویشی اور جملہ اسباب و سامان کے ساتھ لے کر نکلے تو اس کو احساس ہوا کہ یہ اجازت دینے میں اس نے غلطی کی چناچہ اس نے اپنے پورے لاؤلشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا کہ مجبور کر کے ان کو واپس لائے لیکن یہ تعاقب اس نتیجہ پر منتہی ہوا کہ فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق کردیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے اپنی پوری اسکیم واضح نہیں فرمائی تھی۔ صرف اتنا ظاہر کیا کہ وہ تین دن کی راہ بیابان میں جا کر اللہ کی عبادت اور قربانی کرنا چاہتے ہیں اور قربانی بھی خاص طور پر گائے کی کرنا چاہتے ہیں جس سے قبطیوں نے بنی اسرئیل کو اسی طرح محروم کر رکھا تھا جس طرح بھارت میں ہندوؤں نے مسلمانوں کو محروم کر رکھا ہے۔ حضرت موسیٰ نے چاہا کہ مصر کے غلامانہ ماحول سے الگ لے جاکر بنی اسرئیل کو منظم کریں اور ان کے اندر ان تمام دینی روایات کو ازسرنو زندہ کریں جو مصر کی محکومانہ زندگی میں بالکل مردہ ہوچکی تھیں ہمارا قیاس ہے کہ اس مقصد کے لیے وہ سینا کے اسی علاقے میں جانا چاہتے ہوں گے جہاں انھوں نے مدین سے واپسی کے موقع پر اللہ کی تجلی دیکھی تھی اور پھر جہاں ان کو اس ہجرت کے سفر میں احکام عشرہ کی الواح عطاہوئیں۔ حاصل کلام یہ کہ زیر بحث آیت کریمہ میں زیادہ زور اس بات پر تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے فرمایا کہ میں رب العالمین کی طرف سے تمہاری طرف رسول بن کر آیا ہوں اور پھر اپنے تعارف میں چند بنیادی باتیں ارشاد فرمائیں اور مزید یہ فرمایا کہ میں اپنے ساتھ چند نشانیاں بھی لے کر آیا ہوں کیونکہ فرعون کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول ماننا اس لیے بھی مشکل تھا کہ وہ خود اپنے آپ کو رب کہتا تھا تو اپنے دعویٰ ربوبیت کے ہوتے ہوئے وہ کسی اور کو رب تسلیم کرنے پر کیسے تیار ہوسکتا تھا اور جب اسے کسی اور کا رب ہونا ہی قابل تسلیم نہیں تھا تو وہ کسی کو اس کا رسول کیسے تسلیم کرلیتا اس لیے ضروری تھا کہ کوئی نہ کوئی ایسی نشانی ظاہر کی جائے جس میں ایک طرف رب العالمین کی قدرت کا ظہور ہوتا ہو اور دوسری طرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کی تصدیق ہوتی ہو۔ چناچہ اس نے یہ سنتے ہی بنی اسرائیل کے مطالبے پر تو توجہ نہیں دی لیکن اس بات کا فوراً نوٹس لیا اور بےساختہ پکارا جس کو اگلی آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔
Ayahs 7:106–108

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:106 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو اس کو پیش کرو ‘ اگر تم سچے ہو۔

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 7:107 in the Quran reader

تو اس نے اپنی لٹھیا ڈال دی وہ یکایک ایک سچ مچ کا اژدھا بن گئی

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 7:108 in the Quran reader

اور اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو وہ دفعتاً دیکھنے والوں کے لیے چمکتا ہوا نکلا۔

قَالَ اِنْ کُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَۃٍ فَاْتِ بِھَا اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ فَاَلْقٰی عَصَاہُ فَاِذَا ھِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ۔ وَّ نَزَعَ یَدَہٗ فَاِذَا ھِیَ بَیْضَآئُ لِلنّٰظِرِیْنَ ۔ (الاعراف : 106، 108) ” فرعون نے کہا کہ اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو اس کو پیش کرو ‘ اگر تم سچے ہو۔ تو اس نے اپنی لٹھیا ڈال دی وہ یکایک ایک سچ مچ کا اژدھا بن گئی اور اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو وہ دفعتاً دیکھنے والوں کے لیے چمکتا ہوا نکلا “۔ ہر پیغمبر کے معجزات قوم کے مذاق کے آئینہ دار ہوتے ہیں پیشتر اس کے کہ ہم ان معجزات کی وضاحت کریں یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ معجزات کے بارے میں سنت الٰہی یہ رہی ہے کہ وہ قوموں کے مذاق اور رجحانات کے آئینہ دار ہوتے ہیں کہ جس چیز کا ان میں عام چلن ہوتا ہے اور جسے عزت کی علامت سمجھا جاتا ہے اور جس میں آگے بڑھنے اور کمال حاصل کرنے کو کوئی بڑا کارنامہ خیال کیا جاتا ہے پیغمبر کو اسی طرح کے معجزات دیئے جاتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں عربوں میں سب سے زیادہ قدر و عظمت کلام میں فصاحت و بلاغت کو حاصل تھی اور پوری عرب سوسائٹی پر خطیبوں اور شاعروں کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی جب کوئی شخص پوری عرب سوسائٹی کی ذہانت کو چیلنج کرنا چاہتا تھا تو بیت اللہ کی دیوار پر اپنا کوئی نہ کوئی بےمثال قصیدہ یا خطبہ آویزاں کردیتا تھا۔ یہ ایک طرح سے چیلنج ہوتا تھا کہ کوئی شخص اگر میرے جیسا باکمال ہے تو وہ اس جیسا قصیدہ یا خطبہ لکھ کر لائے۔ بڑے بڑے میلوں اور اجتماعات میں شاعری اور خطابت کے معرکے بپا ہوتے تھے اور اس میں فصاحت و بلاغت کے کمالات کا مقابلہ ہوتا تھا۔ آنحضرت ﷺ جب تشریف لائے تو آپ کو چونکہ اس صورت حال سے واسطہ پڑا اس لیے آپ کو سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم کی شکل میں عطا کیا گیا جس کی فصاحت و بلاغت نے تمام فصحاء وبلغاء کو عاجز و درماندہ کردیا۔ ابھی اس کی چند ابتدائی اور مختصر سورتیں نازل ہوئی تھیں کہ عرب کے بڑے بڑے زبان آور گنگ ہو کر رہ گئے۔ شیخ سعدی نے ٹھیک کہا ؎ یتیمے کہ ناکردہ قرآن درست کتب خانہ چند ملت بشست کہ حضور ایک ایسے یتیم تھے کہ ابھی ان پر پورا قرآن بھی نازل نہیں ہوا تھا کہ کتنی ملتوں کے کتب خانے اس کے سامنے درماندہ ہوگئے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں مصر کی سوسائٹی میں سب سے زیادہ زور سحر و شعبدہ کا تھا اور اس ماحول میں ساحروں کو بڑا مقام حاصل تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وہ معجزات عطا فرمائے جس نے سوسائٹی کے ان باکمال لوگوں کو درماندہ کر کے رکھ دیا اور بڑے بڑے ساحروں کا طلسم پاش پاش کر ڈالا۔ چناچہ جیسے ہی فرعون نے آپ سے نشانی کا مطالبہ کیا تو آپ نے اللہ کے حکم سے اپنا عصا اس کے سامنے پھینکا جو کوئی خاص قسم کا عصا نہیں تھا بلکہ ایک عام قسم کی لکڑی تھی جس کے بارے میں قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور پہلی حاضری میں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ اے موسیٰ تیرے ہاتھ میں کیا ہے تو آپ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ میری لٹھیا ہے میں بکریاں چراتا ہوا تھک جاتا ہوں تو کمر کے پیچھے اس کے اوپر ہاتھوں سے ٹیک لگا کر سستا لیتا ہوں اور درختوں سے اس کے ذریعے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں اور اور بھی کچھ کام اس سے لے لیتا ہوں یعنی چرواہے جس طرح کے عصا اپنے پاس رکھا کرتے تھے یہ بھی اسی طرح کا ایک عصا تھا لیکن جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے فرعون کے سامنے پھینکا تو وہ اچانک ایک سچ مچ کا اژدھا بن گیا۔ قرآن کریم کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے قدو قامت میں تو ایک بہت بڑا اژدھا تھا لیکن اپنی چستی اور سرعت رفتار میں اتنا تیز تھا کہ دوڑتا ہوا چھوٹا سا سانپ معلوم ہوتا تھا حالانکہ جتنے بڑے جسم کا اژدھا ہوتا ہے وہ دوڑنے اور ہلنے میں اتنا ہی سست ہوتا ہے لیکن اس اژدھا کی صفات غیر معمولی تھیں اور پھر یہاں اس کے لیے ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض اس طرح کا اژدھا نہیں تھا کہ ہو تو وہ لاٹھی کی شکل کا لیکن ذرا سی حرکت اس میں پیدا ہوگئی ہو یا اس میں سر اور دم نکل آئے ہوں بلکہ وہ فی الواقع سچ مچ کا اژدھا تھا جس میں ایک اژدھا کی تمام صفات و خصوصیات موجود تھیں۔ دوسرا معجزہ آپ کو ید بیضا کی صورت میں عطا کیا گیا کہ آپ اپنا ہاتھ جو ہر لحاظ سے خوبصورت ہاتھ تھا کیونکہ ہر پیغمبر اپنے دور کا خوبصورتی کا اعلیٰ نمونہ ہوتا ہے اس لیے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ جیسے برص زدہ ہاتھ بالکل سفید ہوتا ہے شاید اس طرح آپ کا ہاتھ ہو۔ نہیں بلکہ آپ کا ہاتھ اس طرح تھا کہ جب آپ اسے بغل میں دبا کر نکالتے تو وہ اس طرح چمکتا کہ لوگ کھلی آنکھوں سے اسے دیکھ کر مبہوت ہو کر رہ جاتے۔ اس کی چمک نہ تو آنکھوں کو چکاچوند کرتی تھی اور نہ بدنما معلوم ہوتی تھی بلکہ غیرمعمولی معجزے کی شکل میں دیکھنے والوں کو حیران کردیتی تھی۔ ناظرین کے لفظ سے ایک اور بات کی طرف بھی راہنمائی ملتی ہے وہ یہ کہ ہاتھ میں جو چمک ظاہر ہوتی تھی وہ محض فریبِ نظر کی نوعیت کی نہیں تھی جیسی عام طور پر سحر اور شعبدہ کی صورت میں ہوتی ہے بلکہ غور و تامل سے دیکھنے والوں کو اس کی تابانی اور چمک بالکل اصلی اور حقیقی معلوم ہوتی تھی۔