7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsروح القرآن

Ayah 7:65

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ اس نے ان کو دعوت دیتے ہوئے کہا : اے برادرانِ قوم ! اللہ ہی کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی اور معبود نہیں ‘ کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟۔

وَاِلٰی عَادٍ اَخَاھُمْ ھُوْدًا ط قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہ َ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط اَفَلَا تَتَّقُوْنَ ۔ (الاعراف : 65) ” اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ اس نے ان کو دعوت دیتے ہوئے کہا : اے برادرانِ قوم ! اللہ ہی کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی اور معبود نہیں ‘ کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ “۔ قومِ عاد کی تاریخ اس سے پہلے کہ ہم آیت کریمہ کے مندرجات کی وضاحت کریں ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ قوم عاد کے بارے میں کچھ تفصیلات مہیا کردیں۔ عاد ‘ عرب کے قدیم قبیلہ یا امم سامیہ کے صاحب قوت و اقتدار افرادِ جماعت کا نام ہے ‘ تاریخ قدیم کے بعض یورپی مصنفین عاد کو ایک فرضی کہانی (میتھالوجی) یقین کرتے ہیں مگر ان کا یہ یقین بالکل غلط اور سراسر وہم ہے ‘ اس لیے کہ جدید تحقیقات کا یہ مسلم فیصلہ ہے کہ عرب کے قدیم باشندے کثرت افراد و قبائل کے اعتبار سے ایک باعظمت و سطوت جماعت کی حیثیت میں تھے جو عرب سے نکل کر شام ‘ مصر اور بابل کی طرف بڑھے اور وہاں زبردست حکومتوں کی بنیادیں قائم کیں۔ اب فرق صرف اس قدر ہے کہ عرب ان باشندوں کو امم بائدہ (ہلاک ہوجانے والی قومیں) یا عرب عاربہ (خالص عرب) اور ان کی مختلف جماعتوں کے افراد کو عاد ‘ ثمود ‘ طسم اور جدیس کہتے ہیں اور مستشرقینِ یورپ (اممِ سامیہ) نام رکھتے ہیں ‘ پس اصطلاحات و تعبیرات کے فرق سے حقیقت و واقعہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوجاتی ‘ اس لیے قرآن عزیز نے ان کو عاد اولیٰ کہا ہے کہ یہ واضح ہوجائے تاکہ عرب کی قدیم قوم بنو سام اور عاد اولیٰ ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ اہلِ جغرافیہ کا قول ہے کہ لفظ عرب دراصل عربہ تھا جس کے معنی صحرا اور بادیہ کے ہیں ‘ خود عربی زبان میں اعراب اہل بادیہ کو کہتے ہیں اور اعرابہ کے معنی بدویت کے آتے ہیں اور بعض اہل تحقیق کی رائے یہ ہے کہ عرب اصل میں غرب (غین معجمہ کے ساتھ) تھا اور چونکہ اس کا جائے وقوع فرات کے غرب میں ہے اس لیے وہ آرامی قومیں (امم سامیہ) جو کہ فراتِ غربی پر آباد تھیں ‘ اول غرب اور پھر غین کے نقطہ کے سقوط کے بعد عرب کہلائیں۔ ان میں سے عرب کی وجہ تسمیہ جو بھی صحیح ہو یہ حقیقت ہے کہ یہ مقام قدیم امم سامیہ یا بدوی جماعتوں یا عاد کا مسکن تھا۔ اس لیے عاد بغیر کسی اختلاف کے عرب نژاد تھے اور لفظ عاد عربی ہے نہ کہ عجمی جس کے معنی عبرانی میں ” بلندو مشہور “ کے ہیں ‘ قرآن عزیز میں عاد کے ساتھ ارم کا لفظ لگا ہوا ہے اور ارم (سام) کے معنی بھی ” بلندو مشہور “ ہی کے ہیں ‘ انہی عاد کو توراۃ کی غلط پیروی میں کہیں کہیں عمالقہ بھی کہا گیا ہے۔ عاد کا زمانہ تقریباً دو ہزار سال قبل حضرت مسیح (علیہ السلام) مانا جاتا ہے اور قرآن عزیز میں عاد کو ” مِنْ م بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ “ کہہ کر قوم نوح کے خلفاء میں سے شمار کیا ہے۔ اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ شام کی دوبارہ آبادی کے بعد امم سامیہ کی ترقی عاد ہی سے شروع ہوتی ہے۔ عاد کا مرکزی مقام ارض احقاف ہے یہ حضرموت کے شمال میں اس طرح واقع ہے کہ اس کے شرق میں عمان ہے اور شمال میں ربع الخالی ‘ مگر آج یہاں ریت کے ٹیلوں کے سوا کچھ نہیں ہے اور بعض مورخین کہتے ہیں کہ ان کی آبادی عرب کے سب سے بہترین حصہ حضرموت اور یمن میں خلیج فارس کے سواحل سے حدود عراق تک وسیع تھی اور یمن ان کا دارالحکومت تھا۔ عاد بت پرست تھے اور اپنے پیشرو قوم نوح (علیہ السلام) کی طرح صنم پرستی اور صنم تراشی میں ماہر تھے ‘ تاریخِ قدیم کے بعض ماہرین کہتے ہیں کہ ان کے معبودانِ باطل بھی قوم نوح (علیہ السلام) کی طرح وَد ‘ سُواع ‘ یغوث ‘ یعوق اور نسر ہی تھے اور حضرت عبد اللہ بن عباس ( رض) سے ایک اثر منقول ہے اس میں ہے کہ ان کے ایک صنم کا نام صمود اور ایک کا نام ہتار تھا۔ عاد اپنی مملکت کی سطوت و جبروت اور جسمانی قوت و صولت کے غرور میں ایسے چمکے کہ انھوں نے خدائے واحد کو بالکل بھلا دیا اور اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے بتوں کو اپنا معبود مان کر ہر قسم کے شیطانی اعمال بےخوف و خطر کرنے لگے تب اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ایک پیغمبر حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا حضرت ہود (علیہ السلام) عاد کی سب سے زیادہ معزز شاخ خلود کے ایک فرد تھے ‘ سرخ و سپید رنگ اور وجیہ تھے ‘ ان کی داڑھی بڑی تھی۔ ایک نکتہ کی وضاحت اس سے پیشتر کہ ہم حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت کا ذکر کریں آیت کریمہ کے اس جملے میں ایک نقطے کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی حضرت ہود (علیہ السلام) کو بھیجا۔ یہاں حضرت ہود کو عاد کا بھائی کہا گیا ہے یعنی یہ بتایا گیا ہے کہ ہود کوئی باہر کے آدمی نہیں تھے بلکہ وہ قوم عاد ہی کی برادری کے ایک فرد تھے۔ انہی میں سے ایک محترم قبیلے کے چشم و چراغ تھے۔ یہ اصل میں ایک اصول کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر کیا گیا ہے وہ یہ کہ اللہ کا رسول دنیا میں حجت کاملہ بن کے آتا ہے اس کی ذات کی صورت میں اللہ تعالیٰ اس قوم پر حجت تمام کردیتا ہے وہ قوم قیامت کے دن یہ نہیں کہہ سکتی کہ کسی نے ہمیں سمجھانے بجھانے کا حق ادا نہیں کیا۔ اللہ کا رسول اپنی ذات میں ایسی دل آویزی ‘ ایسی وجاہت ‘ ایسی ہدایت اور ایسی روشنی لے کر آتا ہے کہ رفتہ رفتہ وہ لوگ جو اس پر ایمان نہیں لاتے وہ بھی دل سے اس بات کے قائل ہوجاتے ہیں کہ یہ شخص جو کچھ کہہ رہا ہے وہ یقینا صحیح ہے۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ ان پر حجت تمام کردیتا ہے۔ قیامت کے دن جب یہ لوگ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم ایمان کیوں نہیں لائے تو وہ ہرگز یہ عذر نہیں کرسکیں گے کہ ہماری طرف آپ کا کوئی رسول نہیں آیا تھا یا اگر آیا تھا تو ہم اسکی بات سمجھ نہ سکے تھے اور پوری طرح حق ہم پر واضح نہیں ہوسکا تھا۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رسول کا اصل فریضہ اللہ کی طرف سے حجت تمام کرنا ہے یہی وجہ ہے کہ رسول کی دعوت کو قبول کرنے سے جب انکار کردیا جاتا ہے اور پھر اس انکار پر اس حد تک اصرار بڑھتا ہے کہ آہستہ آہستہ اس قوم کی قبولیت کے سوتے خشک ہونے لگتے ہیں اور وہ استعداد کی آخری رمق سے بھی محروم ہوجاتی ہے تو تب اللہ کا عذاب آتا ہے اور اس قوم کو مٹا دیا جاتا ہے۔ اندازہ فرمایئے کہ جس رسول کی بعثت پر اس کی مخاطب قوم کی زندگی کا دارومدار ہے اگر وہ رسول اس قوم کے لیے ایک اجنبی ہوتا ‘ قوم اگر ایشیائی ہے تو رسول یورپی ہوتا دونوں کی زبانیں مختلف ‘ دونوں کے مزاجوں میں بعد ‘ دونوں کے طور اطوار میں مغائرت ‘ دونوں کے عرف ایک دوسرے سے بیگانہ ‘ غرضیکہ اپنائیت کی کوئی شکل بھی نہ ہوتی جو فہم و افہام میں مددگار ثابت ہو اور جس سے ایک دوسرے پر اعتماد پیدا ہونے میں آسانی ہو تو ایسی صورت میں حجت تمام ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس لیے اللہ کا یہ قانون ٹھہرا کہ وہ انسانوں کی طرف انسان کو بھیجتا ہے ‘ کسی غیر انسان کو نہیں اور انسان بھی ایسا جو اسی قوم سے تعلق رکھتا ہو جس قوم کی طرف اسے بھیجا جا رہا ہے۔ اس کی زبان بھی وہی ہو۔ قوم اس سے اور اس کے خاندانی پس منظر سے پوری طرح آگاہ ہو۔ وہ خوب جانتی ہو کہ یہ شخص جو رسالت کا دعویٰ کر رہا ہے اس کی خاندانی وجاہتیں ‘ احترام کے لائق ہیں۔ اس نے اپنی گزشتہ زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ یہ شخص معاملات میں نہایت کھرا اور کردار کا نہایت اجلا رہا وہ بیشک اس پر ایمان نہ لائیں لیکن اس کے کردار کے بارے میں کبھی بدگمان نہیں ہوتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ صاحب ایمان لوگ تو پیغمبر سے فائدہ اٹھاتے ہی ہیں ‘ ایمان نہ لانے والے بھی دل سے اعتراف پر مجبور ہوتے ہیں وہ پیغمبر کی ایک ایک بات کو دل میں اترتا ہوا محسوس کرتے ہیں اسی وجہ سے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ پیغمبر کی دعوت اور اس پر اترنے والی کتاب کو نہ خود سنا جائے ‘ نہ دوسروں کو سننے کا موقع دیا جائے تاکہ وہ اس کتاب اور اس پیغمبر کے تأثر کی گرفت سے آزاد رہ سکیں۔ اللہ کے اسی قانون کے مطابق حضرت ہود (علیہ السلام) کو قوم عاد کی طرف بھیجا گیا جو انہی کی برادری سے تعلق رکھتے تھے ‘ انہی کی زبان بولتے تھے اور انہی جیسے قومی خصائص کے حامل تھے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے وہی دعوت پیش کی جو حضرت نوح (علیہ السلام) اور باقی انبیاء و رسل پیش کرتے رہے آپ نے فرمایا کہ اے برادرانِ قوم اللہ ہی کی عبادت کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی اور معبود نہیں۔ یاد رکھو ! یہی دعوت اور یہی کلمہ جامعہ انسان کی دنیوی اور اخروی فلاح کی کلید ہے اور اسی کو چھوڑ دینے کا نتیجہ دنیا میں عذاب کی صورت میں اور آخرت میں دائمی عذاب کی صورت میں نکل سکتا ہے جیسا کہ ہم اس سے پہلے عرض کرچکے ہیں کہ انسان کی زندگی باقی کائنات کی زندگی کا ایک جزو ہے انسان جس کرے پر آباد ہے یہ باقی کائنات کے بیشمار کروں کی طرح ایک کرّہ ہے جس کا خالق ومالک باقی کائنات کی طرح اللہ تعالیٰ ہے۔ ہم تمام کائنات میں نہایت سکون ‘ اطمینان اور ہمواری دیکھتے ہیں کوئی کرّہ کسی دوسرے کرّے سے نہیں ٹکراتا ‘ کسی مخلوق کے افراد میں باہمی لڑائیاں نہیں ہوتیں ‘ پوری کائنات میں کہیں فساد کے آثار نظر نہیں آتے ‘ روز اول سے مخلوق کے جس فرد کو جس کام اور ڈیوٹی پر لگا دیا گیا ہے وہ کبھی اس سے سرتابی کی جرأت نہیں کرتا ‘ سورج اپنی تمازت سے دنیا کو رزق پہنچا رہا ہے ‘ چاند اپنی حلاوت کے خزانے لٹا رہا ہے ‘ سمندر آب رسانی کا فرض انجام دے رہے ہیں ‘ ہر سایہ دار درخت سایہ بہم پہنچاتا اور ہر پھل دار درخت پھل کی دولت لٹاتا ہے۔ زمین روئیدگی کی قوت سے مالا مال ہے اور وہ اپنی خدمت سے کبھی صرف نظر نہیں کرتی۔ پہاڑ مختلف قسم کی امانتوں کے امین ہیں انھوں نے اپنا سینہ کھولنے سے کبھی انکار نہیں کیا۔ غرضیکہ پوری کائنات اپنے خالق ومالک کی اطاعت میں پوری طرح مصروف عمل ہے اس اطاعت کا نتیجہ یہ ہے کہ کائنات میں کہیں خلل اور فساد کا نشان تک نظر نہیں آتا۔ کائنات کا ایک ایک فرد اپنے مالک کو پہچانتا بھی ہے اور اس کا اطاعت گزار بھی ہے۔ اس کے برعکس نوع انسانی کے افراد انفرادی اور اجتماعی زندگی دونوں میں بری طرح افراتفری ‘ بےچینی اور بےاطمینانی کا شکار ہیں۔ ہر ایک دوسروں کے حقوق چھین رہا ہے ‘ فرائض سے پہلوتہی کر رہا ہے ‘ نفسانیت کا پرستار اور اپنے مالک سے منحرف۔ نتیجتاً پوری زمین فساد سے بھر گئی ہے۔ پیغمبر اس لیے دنیا میں تشریف لاتے ہیں کہ وہ لوگوں کو یہ بتلائیں کہ دیکھو پوری کائنات اللہ کو اپنا خالق ومالک مان کر اور اس کے احکام کی تعمیل کے نتیجے میں نہایت عافیت سے زندگی گزار رہی ہے تم اگر چاہتے ہو کہ تمہاری اس سرزمین پر بھی خوشی اور راحت کے گیت گائے جائیں اور تمہاری زندگی نہایت آسودگی سے گزرے تو تمہیں بھی باقی کائنات کی طرح اپنے خالق ومالک کو پہچان کر اسی کی اطاعت میں لگ جانا چاہیے۔ تمہاری ساری پریشانیوں کا باعث صرف یہ ہے کہ تمام کائنات کا سفر اللہ کی اطاعت میں جاری ہے اور تم بالکل اس کے برعکس اس کی الٹی سمت میں اس کی معصیت کے سفر پر رواں دواں ہو۔ جس کے نتیجے میں قدم قدم پر تمہیں تصادم سے واسطہ پڑتا ہے اس لیے ہم تمہیں دعوت دیتے ہیں کہ ایک ہی اللہ کو آقا مانو اور یہ یقین جانو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی آقا ‘ کوئی مالک اور کوئی حاکم حقیقی نہیں۔ اسی کی بندگی اور اطاعت میں زندگی گزارنے کا عہد کرلو اور پھر اس عہد کی تعمیل میں جت جاؤ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ باقی کائنات کی طرح تمہاری زندگی بھی آسودہ ہوجائے گی۔ اس دنیا میں بھی تمہیں فلاح و کامرانی سے نوازا جائے گا اور آخرت میں فرشتے تمہارا استقبال کریں گے اور اللہ کی بےپایاں اور دائمی نعمتیں تمہارا مقدر ہوں گی لیکن تم اگر اس سادہ سی بات کو نہیں سمجھتے ہو اور تم اپنے خالق ومالک کی اطاعت اور فرمانبرداری کی بجائے اس کی نافرمانی کا فیصلہ کرتے ہو اور بجائے اس کی اطاعت کرنے کے تم اپنے نفس اور اپنی خواہشات کی اطاعت میں زندگی گزارتے ہو تو پھر یاد رکھو اللہ تعالیٰ اپنی زمین پر رہنے والی اپنی مخلوق کو زیادہ دیر تک بغاوت کی اجازت نہیں دے سکتا۔ وہ تمہیں سمجھانے اور وارننگ دینے کے لیے اپنے نبی اور رسول بھیجتا ہے لیکن جب اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد بھی تم اپنا رویہ نہیں بدلتے ہو تو بالآخر اس کا عذاب کمر توڑ کے رکھ دیتا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ” اَفَلَا تَتَّقُوْنَ کیا تم ڈرتے نہیں ہو “ یعنی تمہیں اس بات کا خوف نہیں کہ اگر تم نے اللہ کی بغاوت سے توبہ نہ کی اور اس کی اطاعت میں تم نے زندگی نہ گزاری تو تم اس بات سے نہیں ڈرتے ہو کہ وہ تم پر عذاب نازل کر دے اور تم پر ایسی گرفت فرمائے کہ تمہارے کس بل نکل جائیں اور قیامت کے دن تمہیں ہمیشہ کے لیے جہنم میں پھینک دے ؟ اگر تمہارے اندر کچھ بھی احساس کی دولت باقی ہے اور اگر تمہارے دماغوں میں کچھ بھی عقل موجود ہے تو تمہیں اس انجام سے سو دفعہ ڈرنا چاہیے۔ اس کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان جو مکالمہ ہوا ہے اس کے چند اجزاء کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
Ayahs 7:66–68

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

اس کی قوم کے بڑوں نے ‘ جنھوں نے کفر کیا ‘ جواب دیا کہ ہم تو تم کو ایک کھلی ہوئی حماقت میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم تم کو جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں۔

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

اس نے کہا : اے برادرانِ قوم ! مجھ میں کوئی حماقت نہیں ہے بلکہ میں خداوند جہاں کا رسول ہوں ‘

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا رہا ہوں اور تمہارا دیانت دار ناصح ہوں۔

ارشاد ہوتا ہے : قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖٓ اِنَّا لَنَرٰکَ فِیْْ سَفَاھَۃٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ ۔ قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاھَۃٌ وَّ لٰکِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اُبَلِّغُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ۔ (الاعراف : 66، 68) ” اس کی قوم کے بڑوں نے ‘ جنھوں نے کفر کیا ‘ جواب دیا کہ ہم تو تم کو ایک کھلی ہوئی حماقت میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم تم کو جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں۔ اس نے کہا : اے برادرانِ قوم ! مجھ میں کوئی حماقت نہیں ہے۔ بلکہ میں خداوند جہاں کا رسول ہوں ‘ تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا رہا ہوں اور تمہارا دیانت دار ناصح ہوں “۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کے درمیان مکالمہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی نہایت حکیمانہ اور ناصحانہ دعوت کے جواب میں قوم نے جو کچھ کہا وہ ان کی انتہائی گمراہی اور بگاڑ پر دلالت کرتا ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان کے سامنے دو باتیں پیش کیں۔ ایک تو یہ بات کہ اس کائنات کا اور تمہارا خالق ومالک ایک ہی ہے۔ باقی کائنات کی طرح تمہاری عافیت بھی اسی میں ہے کہ تم اسی کی بندگی کرو اور دوسری یہ بات کہ اگر تم اس کی بندگی نہیں کرو گے بلکہ اس کے مقابل میں دوسروں کی بندگی کرو گے تو اس بات کا شدید اندیشہ ہے کہ تم پر اللہ کا غضب بھڑکے اور تم اس کے عذاب کا شکار ہوجاؤ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ان کی قوم نے ان دونوں باتوں کے جواب میں جو کچھ کہا وہ نہایت تعجب خیز ہے۔ وہ بجائے اس کے کہ پیغمبر کی دعوت کا جواب علم اور سنجیدگی سے دیتے انھوں نے اپنے پاس اس کا جواب نہ پا کر نہایت گری ہوئی بات کہی کہ تم جس طرح کی باتیں کر رہے ہو اس سے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ تم احمق آدمی ہو تمہاری باتوں میں کوئی سمجھداری کی بات نہیں ان کا حضرت ہود (علیہ السلام) کو احمق کہنا اس کے دو سبب معلوم ہوتے ہیں ایک تو یہ بات کہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے نہایت علمی انداز میں جو دعوت ان کے سامنے رکھی اس کو وہ سمجھ نہیں پائے اور نہ انھوں نے اس کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ان کا یہ رویہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ بنیادی طور پر یہ لوگ عقل و خرد سے عاری تھے اور دنیا کا حال یہ ہے کہ جو شخص خود عقل و خرد سے عاری اور حماقت میں مبتلا ہوتا ہے وہ ہمیشہ ہر عقل مند کو بیوقوف اور احمق سمجھتا ہے۔ اس کے سامنے جتنی بڑی عقل کی بات کی جائے اس کی عقل کی گرفت سے باہر ہونے کے باعث اسے وہ اتنی بڑی بےوقوفی معلوم ہوتی ہے۔ آپ نے یہ بات خود مشاہدہ کی ہوگی کہ دنیا کا ہر بیوقوف آدمی دوسروں کو بیوقوف سمجھتا ہے۔ اس کے سامنے بڑے سے بڑے عقل مند آدمی کی بات کر کے دیکھ لیجیے وہ برجستہ جواب دے گا کہ وہ تو بیوقوف آدمی ہے اسے کیا پتہ۔ اس قوم کا حال بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ ان کو یہ بات کسی طرح سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اتنی بڑی کائنات کا نظام تنہا پروردگار کیسے چلا رہا ہے یہ کہنا کہ اس کا کوئی شریک نہیں وہ وحدہ لاشریک ہے یہ سراسر ناقابل فہم بات ہے۔ بڑے سے بڑا بادشاہ بھی اپنی مملکت کا نظام تنہا نہیں چلا سکتا۔ وہ اپنی مملکت کو مختلف حصوں میں تقسیم کرتا ہے اور ہر حصے کا ایک حاکم مقرر کر کے اس کے نظم کا اختیار اسے دے دیتا ہے پھر اس کے رہنے والوں کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی ضرورتوں کے لیے اپنے حاکم سے رجوع کریں۔ اسی سے مدد طلب کریں اور اسی کی راہنمائی میں معاملات چلائیں۔ اسی طرح پروردگار نے بھی اس کائنات کے نظام کو چلانے کے لیے اپنے نجانے کتنے شرکاء بنا رکھے ہیں۔ کسی کو کسی بات کا اختیار دے رکھا ہے اور کسی کو کسی کا۔ اس لیے جب ہمیں کوئی ضرورت پیش آتی ہے تو ہم مجبور ہیں کہ جس کو اس ضرورت کا اختیار دیا گیا ہے اسی سے رجوع کریں اور دست سوال اس کے سامنے پھیلائیں۔ پیغمبر جب انھیں دعوت دیتا ہے کہ تمہارا خالق ومالک ایک ہی ہے۔ تمہیں جو کچھ بھی مانگنا ہے اسی سے مانگنا ہے۔ تم نے بتمام و کمال بندگی اسی کی کرنی ہے۔ وہ اپنی کائنات کے نظام کے لیے بیشک کارکنانِ قضا و قدر سے کام لیتا ہے لیکن وہ اختیارات کے حامل نہیں ہیں۔ اختیارات کا سرچشمہ اللہ کی ذات ہے اس لیے وہ ہر ایک کو حکم دیتا ہے کہ تمہیں جو کچھ مانگنا ہے مجھ سے مانگو۔ کسی اور سے رجوع مت کرو۔ یہ بات ان کی قوم کو سمجھ نہیں آرہی وہ اپنے بادشاہوں میں جس طرح علم اور قدرت میں جو ایک نارسائی اور محدودیت دیکھتے تھے اسی پر وہ اللہ کو بھی قیاس کرتے تھے۔ جس طرح ایک بادشاہ ہرگز نہیں جان سکتا کہ اس کی مملکت میں رہنے والا ایک ایک فرد کس حال میں ہے اور اگر وہ جان بھی لے تو اس کی ضرورت پوری کرنا براہ راست اس بادشاہ کی قدرت میں نہیں اس لیے وہ مجبور ہے کہ اپنے لیے ماتحت معاونین رکھے اور انہی کو اختیارات دے کر اپنی رعایا کو ان سے رجوع کرنے کا حکم دے لیکن جہاں تک اللہ تعالیٰ کی صفات کا تعلق ہے اس کی قدرتیں بےپناہ ہیں۔ اس کا علم حدود سے ناآشنا ہے وہ اپنا تعارف کراتے ہوئے بار بار کہتا ہے کہ میں تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں۔ میری کوئی مخلوق دنیا میں کسی کونے میں بھی آباد ہو میں اس سے کیا اس کے خیالات تک سے واقف ہوں۔ اس کے دل کی دھڑکنوں کو سنتا ہوں ‘ سمندر کی تہہ میں کوئی مچھلی حرکت کرتی ہے میں اسے دیکھتا بھی ہوں اور اس کی حرکت کی آواز کو سنتا بھی ہوں۔ کوئی خشک و تر پتہ جنگل میں نہیں گرتا مگر میں اسے جانتا ہوں ‘ زمین کے سینے سے کوئی گھاس کی پتی سر نکالتی ہے تو میں اسے دیکھ رہا ہوتا ہوں۔ تسہیلِ فہم کے لیے میں ایک مثال عرض کرتا ہوں جو اسرائیلی روایات سے ماخوذ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب آگ تلاش کرتے ہوئے کوہ طور پر پہنچے تو وہاں انھیں معلوم ہوا کہ وہ طور کی پاک وادی میں پہنچ گئے ہیں اللہ نے وہاں انھیں پیغمبری عطا فرمائی اور فرعون کی ہدایت کے لیے اس کے پاس جانے کا حکم دیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا الٰہی میں جانے کے لیے مستعد ہوں لیکن مجھے اتنی مہلت دے دی جائے کہ راستے میں کسی پہاڑی درے میں میں اپنی بیوی بچوں کو چھوڑ آیا ہوں اس یخ بستہ رات میں نجانے ان کا کیا حشر ہوا ہوگا مجھے اجازت دیجئے کہ ان کا کوئی ٹھکانہ بنا لوں اور انھیں کہیں ٹھہرا کر اطمینان سے مصر کا سفر کروں اور اپنا وہ فرض انجام دوں جس کا آپ نے مجھے حکم دیا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہارے سامنے جو چٹان ہے اس پر اپنا عصا مارو آپ نے اس پر عصا مارا تو چٹان پھٹی اس کے اندر سے ایک چھوٹی چٹان برآمد ہوئی ‘ پھر آپ نے پروردگار کے حکم سے اس پر عصا مارا تو نیچے ایک بڑا پتھر برآمد ہوا۔ حکم دیا گیا کہ اس پر عصا مارو آپ نے اس پر عصا مارا تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ اس میں ایک جانور موجود ہے جو گھاس کی تازہ پتی کھا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ موسیٰ دیکھ رہے ہو ان تین پتھروں کے اندر یہ جانور موجود ہے بتائو اس کو یہ رزق کون دے رہا ہے۔ اندازہ فرمایئے جس کے علم اور قدرتوں کی وسعت کا عالم یہ ہے اسے بادشاہوں پر قیاس کر کے محدود قدرتوں کا مالک سمجھنا اور بےپناہ علم ہوتے ہوئے بھی اسے محدود علم کا حامل جاننا اسے بےوقوفی کے سوا اور کیا کہا جائے لیکن قربان جایئے وہ اپنی اس بےوقوفی کو سمجھنے کی بجائے حضرت ہود (علیہ السلام) کو بیوقوف قرار دے رہے ہیں۔ دوسرا سبب حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم کا آپ کو بیوقوف کہنے کا یہ تھا کہ تم ہمیں اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہو اور بار بار کہہ رہے ہو کہ اگر تم مجھ پر ایمان نہ لائے اور میری دعوت کو قبول نہ کیا تو تم پر خدا کا عذاب آسکتا ہے۔ ہمیں تمہاری یہ بات محض حماقت معلوم ہوتی ہے کیونکہ اللہ کا عذاب ان لوگوں پر آتا ہے جن سے خدا ناراض ہوتا ہے۔ ہم سے تو خدا ناراض نہیں بلکہ ہم پر تو وہ مہربان ہے اور اس کی دلیل یہ ہے اس نے ہمیں ایک بڑے خطہ زمین پر اقتدار دے رکھا ہے ‘ ہماری تجارت دور دراز ملکوں تک پھیلی ہوئی ہے ‘ ہمیں اللہ نے جسمانی اور معنوی طور پر نعمتوں سے گراں بار کر رکھا ہے ‘ ہم باقی قوموں کی نسبت زیادہ صحت مند اور زیادہ دولت مند ہیں اگر وہ ہم سے ناراض ہوتا تو یہ نعمتیں ہمیں کبھی نہ دیتا ان نعمتوں کی موجودگی یہ بتلانے کے لیے کافی ہے کہ وہ ہم سے خوش اور راضی ہے تو کیا خوش ہو کر بھی کسی کو سزا یا عذاب دیا جاتا ہے ؟ عذاب کا اگر کوئی مستحق ہوسکتا ہے تو وہ تم یا تم پر ایمان لانے والے لوگ ہیں۔ کیونکہ تمہاری اس معاشرے میں کوئی قدر و قیمت نہیں۔ دنیوی وجاہتوں میں سے کوئی چیز تمہیں میسر نہیں تمہارے متبعین نہایت غریب لوگ ہیں کوئی انھیں اپنے پاس بٹھانا گوارا نہیں کرتا تم اگر اللہ کے مقرب بندے ہوتے تو تمہیں بھی ہماری طرح یہ نعمتیں میسر ہوتیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے ناراض ہے اور ہم سے خوش ہے اس لیے تمہارا ہمیں عذاب سے ڈرانا اور خود اللہ کا مقرب بن کر بیٹھنا یہ بےوقوفی کے سوا اور کچھ نہیں۔ دوسری بات انھوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) سے یہ کہی کہ ہم تو تمہیں جھوٹے لوگوں میں سے گمان کرتے ہیں اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ نبوت و رسالت ایک بڑا اعزاز ہے اور اعززات ہمیشہ بڑے لوگوں کو ملا کرتے ہیں۔ ہود تو ایک غریب آدمی ہے اور غریب ہی ان پر ایمان لانے والے ہیں ان کو اتنا بڑا اعزاز کیسے مل سکتا ہے اس لیے اگر یہ دعویٰ کرتے ہیں تو یہ دعویٰ سراسر جھوٹ پر مبنی معلوم ہوتا ہے۔ آپ کی قوم خوب جانتی تھی کہ آپ کی گزشتہ زندگی نہایت سچی زندگی ہے آپ نے کبھی کسی معاملے میں جھوٹ نہیں بولا کیونکہ پیغمبر کبھی جھوٹ نہیں بولا کرتے لیکن ان کا یہ خود ساختہ عقیدہ کہ نبوت و رسالت کے حامل ہمیشہ بڑے دولت مندلوگ ہوتے ہیں اس عقیدے کی وجہ سے وہ حضرت ہود (علیہ السلام) کو جھوٹا قرار دینے پر مجبور تھے۔ غور فرمایئے کہ کسی صاحب کردار اور معزز شخصیت کو بیوقوف اور جھوٹا قرار دینا کتنی بڑی گالی ہے جسے کوئی بھی معزز شخص برداشت نہیں کرسکتا لیکن اللہ کے نبیوں کی شان ہی اور ہوتی ہے وہ اپنی نبوت و رسالت میں اپنی ذات کو گم کردیتے ہیں ان کے پیش نظر لوگوں کی اصلاح کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اگر یہ مقصد وہ دکھ اٹھا کر بھی پورا کرسکیں تو ان کے لیے عین راحت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انھوں نے اس طرح کے الزامات اور طعنے سنے تو بجائے برہم ہونے کے ‘ نہایت بردباری سے یہ فرما رہے ہیں کہ اے میرے برادرانِ قوم تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے میرے اندر حماقت اور بےوقوفی والی کوئی بات نہیں تم بھی جانتے ہو نبوت سے پہلے تم ہمیشہ میرے علم و دانش کے قائل رہے ہو۔ اب یکایک تمہیں مجھ میں حماقت نظر آنے لگی ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ یہ عارضہ مجھے لاحق ہوگیا ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو میں دعوت تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں جس پر تمہاری دنیا و آخرت کا دارومدار ہے اسے تم سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہے ہو۔ تم نے اپنے دل کے دریچے اس طرح اس پر بند کیے ہیں کہ تمہارے دلوں تک وہ دعوت پہنچ ہی نہیں پا رہی اور تمہارے دماغی سوتے تمہاری نفسانیت اور تمہاری ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس طرح خشک ہوتے جا رہے ہیں کہ تم میری دعوت کو سمجھنے سے رفتہ رفتہ محروم ہوتے جا رہے ہو اس لیے بجائے اس کے کہ تم اپنی بےوقوفی کا ادراک کرتے اور اسے سمجھ اور عقل سے بدلنے کی کوشش کرتے تم الٹا مجھے بیوقوف بتاتے ہو یہ تو بالکل ایسے ہی ہے کہ کسی نے کسی حبشی کے سامنے آئینہ رکھ دیا اسے جیسے ہی اس میں اپنی شکل دکھائی دی تو بجائے اس کے کہ وہ اپنی بدشکلی کا اعتراف کرتا اس نے اٹھا کر آئینہ پتھر پردے مارا کہنے لگا کیسا برا آئینہ ہے جو میری شکل بگاڑ کے دکھاتا ہے۔ ظاہر ہے خرابی آئینہ میں نہیں بلکہ اس حبشی کے دماغ میں ہے وہ بجائے اپنی بدصورتی کا اعتراف کرنے کے الزام آئینے پر دھر رہا ہے اسی طرح قوم ہود بھی بجائے اپنی بےوقوفی کے اعتراف کے حضرت ہود کو بیوقوف بتارہی ہے اور رہا ان کا یہ الزام کہ ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں آپ نے اس کا جواب دینے کی براہ راست ضرورت محسوس نہیں فرمائی بلکہ اپنی اصل حیثیت کا اعلان فرمایا کہ تم مجھے جھوٹا کہو یا کچھ اور لیکن واقعہ یہ ہے میں رب العالمین کی طرف سے رسول بن کر آیا ہوں۔ تمہیں اگر میری باتیں پسند نہیں آتیں تو میں اس خیال سے کہ تم کہیں مشتعل ہو کر مجھے نقصان نہ پہنچائو یا میرا معاشرتی بائیکاٹ نہ کردو میں اپنی دعوت پیش کرنے سے رک نہیں سکتا کیونکہ رسالت کی ذمہ داری ایک کٹھن ذمہ داری ہے کسی معمولی حکمران کا قاصد بھی اپنے فریضہ ابلاغ سے کوتاہی کرنے کی جرأت نہیں کرتا میں تو رب العالمین کی طرف سے رسول ہو کر آیا ہوں، میں اپنے فریضہ میں کس طرح کوتاہی کا ارتکاب کرسکتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ تمہاری بداعمالیوں پر میری تنقید تمہیں گراں گزرتی ہے لیکن میں اپنے فریضہ کی ادائیگی کے ہاتھوں مجبور ہوں اور تمہاری ہمدردی کی وجہ سے بھی مجھ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ میں بہرصورت اللہ کا پیغام تم تک پہنچائوں کیونکہ آج کی یہ کڑوی کسیلی باتیں کل کو تمہارے لیے عافیت کا سامان بن سکتی ہیں اور اگر آج تم انھیں سننے سے انکار کردو گے تو کل کے تمہارے پچھتاوے تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے اس لیے ؎ چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر کہ زہر بھی کرتا ہے کبھی کار تریاقی اور ساتھ ہی اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ممکن ہے تم مشتعل ہو کر مجھے اور مجھ پر ایمان لانے والوں کو ختم کرنے کی کوشش کرو لیکن یہ اچھی طرح جان لو کہ میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں کسی معمولی حاکم کے قاصد کو بھی نقصان پہنچایا جائے تو حاکم اسے اپنی عزت کا مسئلہ سمجھتا ہے تم اگر رب العالمین کے قاصد کو نقصان پہنچائو گے تو تمہیں خوب سوچ لینا چاہیے کہ اس کا انجام کیا ہوگا اور حقیقت بھی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے رسولوں کی حفاظت فرماتے ہیں اور جب کوئی قوم ان کی جان لینے کے درپے ہوجاتی ہے تو پھر عموماً یہی لمحہ ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور ان پر ایمان لانے والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے اور کافر قوم کو اپنے عذاب کے ذریعے تباہ کردیتا ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں ان کے ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے اور کچھ اپنے احسانات کا ذکر فرما کر انھیں سوچنے اور نصیحت حاصل کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔
Ayah 7:69

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعہ سے تمہارے رب کی یاد دہانی آئی ‘ تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے ؟ اور یاد کرو کہ تمہارے رب نے نوح کی قوم کے بعدتمھیں ان کا جانشین بنایا اور جسمانی اعتبار سے تمہیں وسعت و کشادگی عطا فرمائی۔ پس اللہ کی قدرت کے کرشموں کو یاد رکھو ‘ تاکہ تم فلاح پائو۔

ارشاد فرمایا : اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآئَکُمْ ذِکْرٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَلٰی رَجُلٍ مِّنْکُمْ لِیُنْذِرَکُمْ ط وَاذْکُرُوْٓا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَآئَ مِنْ م بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَکُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْطَۃً ج فَاذْکُرُوْٓا اَلَآئَ اللہِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ (الاعراف : 69) ” کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعہ سے تمہارے رب کی یاد دہانی آئی ‘ تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے ؟ اور یاد کرو کہ تمہارے رب نے نوح کی قوم کے بعدتمھیں ان کا جانشین بنایا اور جسمانی اعتبار سے تمہیں وسعت و کشادگی عطا فرمائی۔ پس اللہ کی قدرت کے کرشموں کو یاد رکھو ‘ تاکہ تم فلاح پائو “۔ ایک اعتراض کا جواب اس آیت کریمہ میں سب سے پہلے قوم ہود کا ایک اعتراض نقل کیا ہے جسے وہ ازراہِ تعجب یعنی مذاق اڑاتے ہوئے پیش کیا کرتے تھے اور ایسا ہی اعتراض گزشتہ رکوع میں قوم نوح کی طرف سے بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس اعتراض کا اگرچہ جواب نہیں دیا کیونکہ یہ اعتراض اس قابل نہیں کہ اسے گفتگو کا موضوع بنایا جائے لیکن بین السطور میں اور قرآن پاک کی بعض دوسری جگہوں میں اس کا جواب بھی موجود ہے اور یہاں لِیُنْذِرَکُمْ سے اس جواب کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ قوم ہود کا اعتراض یہ ہے کہ نبوت و رسالت ایک بہت بڑا اعزاز اور ایک بڑا نازک منصب ہے جو شخص اپنے رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے وہ حقیقت میں اللہ سے اپنے خاص تعلق کا دعویٰ کرتا ہے۔ ظاہر ہے اللہ سے خاص تعلق کے لیے انسانوں سے بڑھ کر کسی مخلوق میں سے ہونا ضروری ہے کیونکہ انسانوں میں تو ایسی طاقت نہیں کہ وہ براہ راست اللہ سے خاص تعلق پیدا کرلیں اور ہود چونکہ ہماری طرح کے ایک آدمی ہیں جو خصوصیات اور صلاحیتیں ہم میں ہیں انہی کے حامل وہ بھی ہیں اس لیے ان کا یہ دعویٰ کہ اللہ کے ساتھ ان کا خاص تعلق ہے اور اللہ براہ راست اپنا کلام ان پر اتارتا ہے یہ سراسر ایک تعجب خیز بات ہے جس پر اعتماد کرنا بہت مشکل ہے۔ قرآن کریم نے مختلف جگہ اس کا جواب دیتے ہوئے تعجب کا اظہار کیا ہے اور گزشتہ قوموں کی تاریخ کے حوالے سے یہ بتایا ہے کہ انسان بھی عجیب واقع ہوا ہے اس نے ہمیشہ نبوت اور بشریت میں تضادمحسوس کیا یہ سمجھتا ہے کہ نبی بشر نہیں ہوسکتا اور بشر نبی نہیں ہوسکتا اور جب وہ اپنے جیسے ایک بشر کو نبوت کا دعویٰ کرتا ہوا سنتا ہے تو اسے نبی ماننے سے انکار کردیتا ہے حالانکہ دو باتیں بالکل سامنے کی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ نبوت یقینا ایک بہت بڑا منصب ہے اور یہ اسی کو ملنا چاہیے جو مخلوق میں سب سے اعلیٰ اور بلند ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا مخلوقات میں انسان سے کوئی بالاتر مخلوق بھی ہے ؟ تمام مخلوقات میں تین مخلوقات سب سے فوقیت رکھتی ہیں۔ جنات ‘ فرشتے اور انسان جہاں تک جنات اور فرشتوں کا تعلق ہے تخلیق آدم کے وقت ان دونوں کو حضرت آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان ان دونوں کا مسجود اور ان دونوں سے فائق ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجیے کہ انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اب اگر نبی ہونا ایک بڑے مرتبے کی بات ہے تو اسے یقینا اشرف المخلوقات میں سے ہی ہونا چاہیے اس لیے اللہ نے تمام انبیاء و رسل انسانوں ہی میں سے مبعوث کیے اور وہ سب انسان تھے۔ دوسری بات یہ کہ سوال اللہ کے قرب کا نہیں وہ تو جسے چاہے اپنے قرب سے نواز سکتا ہے سوال انسانوں کی اصلاح کا ہے غور فرمایئے اگر انسانوں کی اصلاح کے لیے کسی فرشتے یا جن کو بھیجا جاتا تو کیا انسان اس سے پوری طرح استفادہ کرسکتے تھے ؟ اور کیا وہ انسانوں کی زندگی کے لیے نمونہ بن سکتے تھے کیونکہ نمونہ بننے کے لیے ضروری ہے کہ نبی کے اندر وہی احساسات ‘ وہی ضروریات ‘ وہی فعلی اور انفعالی قوتیں اور وہی خواہشیں اور وہی داعیے ہوں جو انسانوں میں پائے جاتے ہیں چناچہ جب وہ انسانوں کے سامنے اپنی ضروریات پر ضبط کر کے دکھائے ‘ اپنے احساسات پر پاکیزگی کا پہرہ بٹھائے ‘ اپنی فعلی اور انفعالی قوتوں کو اللہ کی اطاعت کا امین بنا دے اور اپنے جذبات اور خواہشات پر تقویٰ کی مہر ثبت کر دے تو اس کی زندگی کا یہ رویہ اور اس کی یہ صفات یقینا باقی انسانوں کے لیے اسوہ بن کر روشنی کا سامان کریں گی۔ اسے جب بھوک لگے گی اور وہ روزہ رکھ کر صبر کرے گا تو اس سے دوسرے انسانوں کو صبر کی تلقین ہوگی۔ اسے جب کبھی بیماری آئے گی اور وہ بیماری میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرے گا تو اس سے انسانوں کو اللہ سے رجوع کرنے کا سلیقہ آئے گا۔ وہ جب زخمی ہو کر زخموں کا علاج کرے گا اور ساتھ ساتھ اللہ سے شفا بھی مانگے گا تو اس کا یہ رویہ انسانوں کے لیے سنت بن جائے گا اور اللہ سے شفا مانگنے کا طریقہ سکھائے گا۔ اسی طرح اگر اس کے سامنے دولت کے انبار لگا دیئے جائیں لیکن وہ پھر بھی زہد و استغنا کی تصویر بنا رہے تو اس سے اس پر ایمان لانے والوں کو زہد و استغنا کی وہ تعلیم ملے گی جس سے حبّ دنیا میں کمی آئے گی اور قناعت اور استغناء انسانی سیرت کا جوہر بن جائے گا غرضیکہ انسانوں کی اصلاح کے لیے یہ ضروری تھا کہ انسانوں ہی میں سے کسی کو نبوت و رسالت کے منصب پر فائز کیا جاتا چناچہ لِیُنْذِرَکُمْ سے انہی باتوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ کے نبیوں کا انسان اور بشر ہونا اللہ کے قرب کے حصول میں رکاوٹ نہیں بلکہ یہ تمہاری اصلاح اور تمہاری زندگی کی راہنمائی کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے اس لیے تمہیں اس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے بلکہ تمہیں اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے تمہاری تربیت اور اصلاح کے لیے تمہی میں سے ایک شخص کو اٹھایا ہے یہ تمہاری جنس اور نوع سے تعلق رکھتا ہے ‘ تمہارے ہی قبیلوں میں سے کسی قبیلے کا فرزند ہے ‘ تم اس کے شخصی اور خاندانی پس منظر سے واقف ہو ‘ وہ تمہارے ہی ماحول میں پلا بڑھا ہے ‘ وہ تمہاری معاشرت کا ایک نمائندہ فرد ہے ‘ تمہارے ماحول نے ہر طرح کا رطب و یابس اس کے سامنے رکھا ہے۔ اسے بھی روایات اخذ کرنے اور زندگی گزارنے کے وہی امکانات ملے ہیں جو تمہارے سامنے ہیں اس کے باوجود وہ پتھروں میں اگر ہیرے کی مانند ہے تو یہ اس کے اللہ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے تو تمہیں آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ میں ہاتھ دینا چاہیے اور اسے اپنے جیسا دیکھ کر اپنے اندر ایک اعتماد پیدا کرنا چاہیے کہ جن اوصاف حمیدہ سے اللہ کا یہ عظیم بندہ متصف ہے مجھے بھی کوشش کرنی چاہیے کہ میں کسی نہ کسی حد تک انھیں اپنے اندر پیدا کرسکوں۔ دوسرا احسان یہ ذکر فرمایا کہ لوگو ! قوم نوح کے مٹ جانے کے بعد اللہ نے تمہیں اس کا جانشین بنایا ہے یعنی جس طرح اس زمین کے ایک بڑے حصے پر اللہ نے انھیں قیام کی سہولتیں بخشیں اور پھر اقتدار عطا کیا اسی طرح زمین کے ایک بڑے حصے پر آج تم آباد ہو۔ اللہ نے تم پر جسمانی اور معنوی نعمتوں کے دروازے کھولے ہیں۔ تم اپنے قد و قامت اور اپنی قوت و طاقت میں اپنے وقت کی نمایاں قوم ہو پھر اللہ نے تمہیں عقل و خرد کا ایسا جوہر عطا کیا ہے جس کی وجہ سے تم نے صنعت و ایجادات کی ایک دنیا کو وجود بخشا ہے۔ اس پر تمہیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور آگے بڑھ کر اللہ کے نبی کی دعوت کو قبول کرنا چاہیے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ بجائے اس کے کہ تم اللہ کے ان احسانات کا شکر ادا کرو تم کفران نعمت کرتے ہوئے اللہ کے ساتھ ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو اور تمہاری اصلاح و تربیت کے لیے جس نبی کو بھیجا گیا ہے تم اس کی دعوت قبول کرنے کی بجائے اسے اذیتیں پہنچا رہے ہو۔ تمہارے اندر اگر سوچنے سمجھنے کی کچھ بھی صلاحیت موجود ہے تو پھر اللہ کی نعمتوں اور اس کی قدرتوں کو یاد کرو اور اس کا جو منطقی نتیجہ ہونا چاہیے اس کے مطابق اپنی زندگی تبدیل کرو۔ یہی وہ کامیابی کا راستہ ہے۔ منعم کی نعمتوں کو دیکھتے ہوئے اور محسن کے احسانات کی احسان شناسی کرتے ہوئے زندگی گزارنا یہ فلاح و کامرانی کا راستہ ہے۔ تم اگر چاہو تو یہ راستہ تمہارے لیے روشن ہوسکتا ہے لیکن اگر تم نے اپنے اندر احسان شناسی اور شکر نعمت کا جذبہ پیدا نہ کیا تو پھر یقینا تم اس نعمت سے محروم ہوجاؤ گے اس آیت کریمہ میں ایک لفظ استعمال ہوا ہے بَصْطَۃً اور سورة البقرہ میں یہی لفظ سین کے ساتھ استعمال ہوا ہے دونوں ایک ہی لفظ ہیں اس کا معنی کشادگی ‘ وسعت اور پھیلائو کے ہوتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قوم ہود کو جسمانی و عقلی دونوں اعتبار سے تفوق اور برتری عطا فرمائی ہے۔ عرب کی روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قوم عاد صحت جسمانی کے اعتبار سے بھی نمایاں تھی اور اپنے عقلی کارناموں کے اعتبار سے بھی اس کی بڑی دھوم تھی۔ آیت کریمہ کے آخری جملے میں اَلَآئَ اللہِ کا لفظ آیا ہے اَلَآئَ جمع ہے اِلٰی ‘ اِلَی ‘ اَلَیکی۔ اس کے معنی نعمت کے بھی ہوتے ہیں اور کرشمہ ‘ شان ‘ کارنامہ اور عجوبہ کے بھی ہیں۔ یہاں دونوں ہی معنی مراد لیے جاسکتے ہیں اور قرآن کریم میں اس لفظ کو انہی مختلف معانی میں استعمال کیا ہے مطلب یہ ہے کہ خدا کی نعمتوں اور اس کے احسانات کو بھی یاد رکھو اور یہ بھی فراموش نہ کرو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں چھین لینے کی بھی قدرت رکھتا ہے۔ اتنی واضح اور موثر ترغیب کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قوم عاد اپنے رویے پر شرمندہ ہوتی اور وہ اللہ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کو یاد کر کے صرف اسی کی اطاعت اور اس کی بندگی کا عہد کرتی لیکن قومیں جب بگڑتی ہیں تو ان کی محرومیاں بڑی شدید ہوتی ہیں اس قوم نے بھی نصیحت اختیار کرنے کی بجائے ہٹ دھرمی کا راستہ اختیار کیا اور کہنے لگی :
Ayah 7:70

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

وہ بولے ! کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم تنہا اللہ ہی کی عبادت کریں اور ان کو چھوڑ بیٹھیں ‘ جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ؟ تم جس عذاب کی ہم کو دھمکی سنا رہے ہو اس کو لائو ‘ اگر تم سچے ہو۔

قَالُوْٓا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللہ َ وَحْدَہٗ وَ نَذَرَ مَا کَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا ج فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ (الاعراف : 70) ” وہ بولے ! کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم تنہا اللہ ہی کی عبادت کریں اور ان کو چھوڑ بیٹھیں ‘ جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ؟ تم جس عذاب کی ہم کو دھمکی سنا رہے ہو اس کو لائو ‘ اگر تم سچے ہو “۔ قوم کا جواب اور ان کے استدلال کی حقیقت قوم کے جواب پر غور کیجیے ! ان کا لب و لہجہ اور اسلوب کس قدر ناگوا رہے اس میں غصہ بھی ہے اور طنز بھی کہ اللہ کی نعمتیں اپنی جگہ، ہمیں اس سے انکار نہیں ہمیں اس بات سے بھی انکار نہیں کہ وہی اس دنیا کا خالق ومالک ہے لیکن تمہاری یہ بات ہمارے لیے قابل قبول نہیں کہ محض تمہارے کہنے پر ہم تمام معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ کی بندگی شروع کردیں۔ ہمیں اس کی بندگی کا اقرار ہے لیکن صرف اسی کی بندگی تو کافی نہیں۔ اس نے جس طرح دوسروں کو اختیارات دے رکھے ہیں اور ہمارے بہت سارے کام انہی سے متعلق ہیں اگر ہم ان کی بندگی نہیں کریں گے تو وہ یقینا ہم سے ناراض ہو کر ہمیں تباہ کردیں گے جس کے پاس بارشیں برسانے کا اختیار ہے وہ بارشیں روک لے گا ‘ جو اولاد دیتا ہے وہ ہمیں اولاد سے محروم کر دے گا ‘ جو ہمیں خوشحالی عطا کرتا ہے وہ ہم پر بدحالی کی مصیبت مسلط کر دے گا۔ تم چاہتے ہو کہ ہم تمہارے کہنے پر اپنی دنیا اجاڑ لیں یہ تو ہم سے نہیں ہوسکتا یہ تو سراسر کم عقلی کی بات ہے اور مزید یہ بات بھی کہ ہم نے آج کچھ لوگوں کو اللہ کا شریک تو نہیں بنایا اور ہم نے آج پہلی دفعہ اللہ کے شریکوں کی بندگی شروع تو نہیں کی یہ کام تو ہمیں اپنے آبائو اجداد سے ورثے میں ملا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک ایسی صداقت ہے جس پر گزشتہ نسلیں بھی گواہ ہیں اب یہ تو عجیب بات ہے کہ ہم تمہاری بات مان کر اللہ کے علاوہ دوسرے معبودوں کو چھوڑ دیں اور اس طرح سے ہم اپنے آبائو اجداد کو گمراہ ٹھہرائیں کہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے وہ گمراہ تھے انھیں کسی بات کا پتہ نہیں تھا ایک لے دے کر تم ہو جسے صداقت کا علم ملا ہے۔ ہم اس صورت حال کو ہرگز قبول نہیں کرسکتے اور اپنے آبائو اجداد کے طریقے کو نہیں چھوڑ سکتے۔ قرآن کریم نے اور بھی بعض جگہ مشرکین کی اس دلیل کا ذکر کیا ہے کہ ان کے نزدیک سب سے بڑی دلیل آبائو اجداد کا رویہ اور ان کا دینی ورثہ تھا۔ ان کے دل و دماغ میں یہ بات پیوست ہوچکی تھی کہ ہم تو غلطی کرسکتے ہیں لیکن ہمارے آبائو اجداد غلطی نہیں کرسکتے حالانکہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ ہر نسل سے پہلی نسل آباء کہلاتی ہے اور موجودہ نسل آنے والی نسل کے لیے آباء بننے والی ہے۔ آج اگر یہ نسل زندگی میں غلطی کرتی ہے تو ان کے مرنے کے بعد انہی کی نسل اس دلیل کو دھراتے ہوئے کہے گی کہ ہمارے آباء تو کبھی غلطی نہیں کرسکتے تھے حالانکہ ہر نسل انسانوں ہی کا ایک مجموعہ ہے اور ہر دور کے انسان سے ہمیشہ غلطیاں ہوئی ہیں جو زندہ ہیں وہ بھی غلطیاں کرتے ہیں اور جو مرحوم ہیں ممکن ہے انھوں نے بھی غلطیاں کی ہوں۔ اس لیے کسی چیز کی صداقت معلوم کرنے کے لیے یہ کوئی دلیل نہیں کہ پہلے لوگ ایسا کیا کرتے تھے بلکہ کسی چیز کی صحت اور صداقت کے لیے صرف تین چیزیں دلیل بن سکتی ہیں ایک عقل سلیم ‘ دوسرا علم صحیح اور تیسری ہدایت یہ چیزیں جس نسل کو بھی نصیب ہوجاتی ہیں وہ برسر ہدایت ہے اور جو نسل اس سے محروم ہوجاتی ہے وہ گمراہ ہے چاہے وہ نسل آج کی ہو یا پہلے گزر چکی ہو لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ بات جس قدر سادہ اور سہل ہے اسی قدر اس پر عمل ہمیشہ مشکل رہا ہے تعجب تو یہ ہے کہ جو لوگ زندگی میں اپنے والدین کا احترام کرتے ہیں نہ اطاعت۔ ان کے مرنے کے بعد وہ انھیں دلیل بنا کر پیش کرنے لگتے ہیں مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ زندگی میں جن کی باتیں قابل تسلیم نہ تھیں اور یہ کہا جاتا تھا کہ جنریشن گیپ نے ان کو اگلی نسل سے بہت پیچھے کردیا ہے تو مرنے کے بعد وہی پسماندہ نسل نجانے کس طرح قابل تقلید اور واجب الاتباع ہوجاتی ہے۔ قوم عاد بھی اسی المیہ کا شکار تھی ان کے نزدیک ان کے آبائو اجداد ہر طرح کی غلطیوں سے مبرا اور خیر وشر میں سب سے بڑی دلیل تھے بلکہ ان کے حوالے سے یہ لوگ اس حد تک جذباتی تھے کہ ان کے اتباع کو چھوڑنا تو انھیں کسی طرح گوارا نہ تھا البتہ اگر اس رویے کے باعث ان پر اللہ کا عذاب آتا ہے تو وہ ان کے لیے قابل قبول تھا چناچہ اسی آیت کے آخر میں ان کی طرف سے یہی بات کہی جا رہی ہے کہ اے ہود تم ہمیں جس عذاب سے ڈرا رہے ہو اور بار بار ہمیں تنبیہ کرتے ہو کہ اگر تم نے اپنا رویہ نہ بدلا تو تم پر اللہ کا عذاب آسکتا ہے تو ہم تو اپنا رویہ نہیں بدلیں گے اس لیے تم وہ عذاب لاسکتے ہو تو لے آئو اگر تم واقعی عذاب کی دھمکی دینے اور اپنے آپ کو نبی کہنے میں سچے ہو۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں حضرت ہود (علیہ السلام) کی طرف سے اس کا جواب نقل کیا گیا ہے۔
Ayah 7:71

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

حضرت ہود نے کہا کہ واقع ہوچکا ہے تم پر تمہارے رب کی جانب سے عذاب اور غضب۔ کیا تم مجھ سے ان ناموں پر جھگڑتے ہو ‘ جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں ‘ جن کے لیے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ؟ اچھا تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

ارشاد ہوتا ہے : قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ ط اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْٓ اَسْمَآئٍ سَمَّیْتُمُوْھَآ اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُکُم مَّا نَزَّلَ اللہ ُ بِھَا مِنْ سُلْطٰنٍ ط فَانْتَظِرُوْٓا اِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ ۔ (الاعراف : 71) ” حضرت ہود نے کہا کہ واقع ہوچکا ہے تم پر تمہارے رب کی جانب سے عذاب اور غضب۔ کیا تم مجھ سے ان ناموں پر جھگڑتے ہو ‘ جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں ‘ جن کے لیے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ؟ اچھا تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں “۔ آیت کریمہ کے پہلے جملہ میں ایک لفظ استعمال ہوا ہے قَدْ وَقَعَ جس کا معنی ہے واقع ہوگیا یا واجب ہوگیا یہ فعل ماضی ہے جو کسی فعل کے وقوع پذیر ہونے پر دلالت کرتا ہے یعنی یہ فعل آئندہ نہیں بلکہ ماضی میں ہوچکا ہے حالانکہ یہاں حضرت ہود (علیہ السلام) اپنی قوم سے یہ کہنا چاہیے ہیں کہ جس عذاب کا تم تقاضا کر رہے ہو وہ مستقبل میں تم پر آکر رہے گا لیکن اسے مستقبل کے صیغے کی بجائے ماضی کے صیغے سے ادا کرنا درحقیقت اس کی قطعیت کو ظاہر کرنا ہے یعنی اس عذاب کے آنے کو اس حد تک یقینی سمجھو کہ گویا وہ آچکا ہے۔ اسی طرح اس کے بعد لفظ استعمال ہوا ہے رجسٌاس کے بھی تین معنی کیے جاسکتے ہیں۔ اہل علم نے اس کے تینوں معنی مراد لیے ہیں ایک معنی ہے پھٹکار یعنی تم پر اللہ کی پھٹکار پڑچکی ہے یہ گویا ہدایت سے تمہاری محرومی کا فیصلہ ہے جسکے نتیجے میں اللہ کا غضب بھڑکے گا اور تم پر اللہ کا عذاب آجائے گا دوسرا معنی ہے عذاب کہ جس عذاب کا تم مطالبہ کر رہے ہو وہ یوں سمجھو کہ عذاب تم پر آگیا اور اس عذاب کی شدت کا حال یہ ہے کہ وہ صرف عذاب ہی نہیں بلکہ اس میں اللہ کا غضب بھی شامل ہے۔ تیسرا اس کا معنی ہے گندگی اور ناپاکی۔ اس سے مراد یہاں کفر و شرک اور اعمال و عقائد کی گندگی و ناپاکی ہے اور رجس اور غضب میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس عذاب کا تم مطالبہ کر رہے ہو اس میں اب دیر نہیں اس کو آیا ہی سمجھو اس لیے کہ جس ناپاکی اور گندگی سے خدا کا غضب بھڑکتا ہے اس کی بہت بڑی کھیپ تم نے اپنے اوپر لاد لی ہے۔ رجس کا اتنا بڑا انبار جمع کرلینے کے بعد اب اللہ کے عذاب کو دور نہ سمجھو۔ جس طرح کسی مکان میں گیس بھر جائے تو اب اس مکان کے جل جانے میں کوئی دیر نہیں ہوتی اگر کوئی اڑتا ہوا شعلہ بھی وہاں جا پڑا تو پورا مکان بھک سے اڑ جائے گا کیونکہ گیس ایک آتش پذیرمادہ ہے جس مکان میں بھی وہ پھیل جائے گا اس کے جل جانے میں تاخیر نہیں ہوگی۔ اسی طرح شرک اللہ سے بغاوت اور اس کی بندگی کے سوا دوسروں کی بندگی ‘ یہ بھی آتش پذیر مادہ کی طرح ہیں بلکہ اگر انھیں عذاب پذیر کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا عجیب بات یہ ہے کہ ان چیزوں کو جمع کرنے والا کبھی ان سے توبہ کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر تو ایسا کرنے والا کوئی ایک شخص ہے تو وہ تو اپنا انجام آخرت میں بھگتے گا لیکن اگر اس کا ارتکاب کرنے والی پوری قوم ہے تو ان پر اللہ کا عذاب آجانا لازم ہوجاتا ہے یہی وہ بات ہے جو حضرت ہود (علیہ السلام) اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ نادانو ! تم آگ سے کھیل رہے ہو لیکن تمہیں اس کا بالکل اندازہ نہیں۔ عذاب تمہارے سر پر تلا کھڑا ہے لیکن تم اپنی عیاشیوں میں مصروف ہو بلکہ تمہاری جسارتوں کا عالم یہ ہے کہ تم پیغمبر کی دعوت پر غور کرنے کی بجائے اپنے آبائو اجداد کے عمل کو سب سے بڑی دلیل سمجھ بیٹھے ہو اور انھوں نے تمہارے سپرد جو مشرکانہ اعتقادات کیے ہیں جس کے ساتھ کوئی دلیل نہیں تمہیں ان پر اصرار ہے۔ انہی کا حوالہ دے کر یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ تم مجھ سے ایسی چیزوں کے بارے میں بحث کر رہے ہو جن کے نام تو بیشک تم نے کچھ رکھ چھوڑے ہیں لیکن ان ناموں کا کو مسمیٰ موجود نہیں یعنی تم کسی کو بارش کا ‘ کسی کو ہوا کا ‘ کسی کو دولت کا ‘ اور کسی کو بیماری کا رب کہتے ہو حالانکہ ان میں سے کوئی بھی فی الحقیقت کسی چیز کا رب نہیں۔ ان کے شریک خدا ہونے کی کوئی دلیل نہ عقل و فطرت کے اندر موجود ہے نہ اللہ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعے سے کہیں یہ خبر دی ہے کہ اس نے ان کو اپنا شریک بنایا ہے۔ پھر وہ کیا چیز ہے جس کی بناء پر تم ان کو معبود بنائے بیٹھے ہو اور ان کی حمایت میں مجھ سے لڑ رہے ہو۔ لمحہ فکریہ یہاں مجھے ایک عجیب سا احساس پریشان کر رہا ہے کہ یہاں قرآن کریم میں معذب قوموں کے مشرکانہ اعتقادات اور طور اطوار پر بحث ہو رہی ہے اور یہ بتایا جا رہا ہے کہ انھیں اپنے ان اعتقادات پر اصرار تھا اور پیغمبر کی دعوت کے مقابلے میں وہ کسی طرح بھی انھیں چھوڑنے پر تیار نہیں تھے حالانکہ یہ سراسر حقیقت سے خالی اسماء ہی تھے جن کی کوئی دلیل ان کے پاس موجود نہیں تھی اور یہی وہ باتیں اور یہی طرز عمل تھا جو ان پر عذاب آنے کا باعث بنا لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ ہم ایک ایسی امت ہیں جو قیامت تک کے لیے توحید کی امین بنائی گئی اور انھوں نے پوری دنیا کے سامنے اللہ کی ذات وصفات کے صحیح تصور کو پیش کرنا ہے لیکن خود ہمارا حال یہ ہے کہ ہم نے ایسے ہی کچھ نام مقرر کر رکھے ہیں اور ہمیں ان پر اصرار بھی ہے لیکن ہمیں کبھی اس کا خیال نہیں گزرتا کہ یہ تو وہ باتیں ہیں جو پہلی امتوں پر عذاب کا باعث بنیں۔ مثلاً ہم جانتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی مشکل کشا نہیں لیکن ہم پھر بھی بعض بزرگوں کو مشکل کشا کہتے ہیں۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی خزانے عطا کرنے والا نہیں لیکن اس کے باوجود ہم نے گنج بخش نام رکھ چھوڑے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ رازق صرف اللہ کی ذات ہے لیکن ہم پھر بھی بعض مقدس ہستیوں کو داتاکہہ کر پکارتے ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ساری نوازشات کا سرچشمہ اللہ ہی کی ذات ہے لیکن ہم جس کو چاہتے ہیں غریب نواز قرار دے دیتے ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ مصیبت میں فریادیں سننے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں اس کے باوجود ہم نے بعض بڑی شخصیتوں کو غوث یا غوث اعظم کا نام دے رکھا ہے جس کا معنی سب سے بڑا فریاد رس ہے حالانکہ اللہ کے سوا فریادیں سننے اور پورا کرنے والا اور کون ہے ؟ لیکن ہمارا حال وہی ہے جس کا ذکر مولانا الطاف حسین حالی نے بڑے دکھ سے اپنے مسدس میں کیا ہے ؎ کرے غیر گر بت کی پوجا تو کافر جو ٹھہرائے بیٹا خدا کا تو کافر کرشمہ جو کو کب میں مانے تو کافر گرے آگ پر بہر سجدہ تو کافر مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں مزاروں پہ دن رات نذریں چڑھائیں نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے حضرت ہود (علیہ السلام) کا جواب اور قوم ہود کا انجام اس آیت کے آخری جملے میں فرمایا کہ اے برادرانِ قوم اگر تمہیں میری دعوت کسی طرح قابل قبول نہیں اور تم شرک اور بداعمالیوں سے کسی طرح تائب ہونے کے لیے تیار نہیں ہو اور تمہاری جرأتوں کا حال یہ ہے کہ تم اللہ کے عذاب کا مطالبہ کرنے لگے ہو تو تمہارے کرتوتوں کے باعث عذاب کا آنا تو یقینی ہے البتہ وہ کب آتا ہے یہ میرے بس میں نہیں تم بھی انتظار کرو میں بھی انتظار کرتا ہوں لیکن یاد رکھو تمہارا یہ رویہ باقی رہا تو تمہیں زیادہ دیر تک انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ ان کی انتہائی شرارت و بغاوت اور اپنے پیغمبر کی تعلیم سے بےپناہ بغض وعناد کی پاداش اور قانونِ جزاء کا وقت آن پہنچا اور غیرت حق حرکت میں آئی اور عذاب الٰہی نے سب سے پہلے خشک سالی کی شکل اختیار کی ‘ عاد سخت گھبرائے پریشان ہوئے اور عاجز و درماندہ نظر آنے لگے تو حضرت ہود (علیہ السلام) کو جوشِ ہمدردی نے اکسایا اور مایوسی کے بعد پھر ایک مرتبہ ان کو سمجھایا کہ راہ حق اختیار کرلو ‘ میری نصائح پر ایمان لے آئو کہ یہی نجات کی راہ ہے ‘ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ورنہ پچھتائو گے لیکن بدبخت و بدنصیب قوم پر کوئی اثر نہ ہوا ‘ بلکہ بغض وعناد اور دوبالا ہوگیا۔ تب ہولناک عذاب نے ان کو آگھیرا ‘ آٹھ دن اور سات راتیں پیہم تیز و تند ہوا کے طوفان اٹھے اور ان کو اور ان کی آبادی کو تہ وبالا کر کے رکھ دیا تنومند اور قوی ہیکل انسان جو اپنی جسمانی قوتوں کے گھمنڈ میں سرمست تھے اس طرح بےحس و حرکت پڑے نظر آتے تھے جس طرح آندھی سے تناور درخت بےجان ہو کر گر جاتا ہے ‘ غرضیکہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے۔