Ayahs 7:161–162ارشاد فرمایا :
وَاِذْ قِیْلَ لَھُمُ اسْکُنُوْا ھٰذِہِ الْقَرْیَۃَ وَکُلُوْا مِنْھَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ وَّادْخُلُوْاالْبَابَ سُجَّدْا نَّغْفِرْ لَکُمْ خَطِیْٓئٰتِکُمْط سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَھُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآئِ بِمَا کَانُوْا یَطْلِمُوْنَ ۔ (الاعراف : 162، 161)
” اور یاد کرو جب ان سے کہا گیا کہ اس بستی میں رہو بسو ‘ اس میں سے جہاں سے چاہو کھائو پیو اور توبہ استغفار کرتے رہو اور دروازے میں سرفگندہ داخل ہو تو ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے ‘ خوب کاروں کو ہم مزید نوازیں گے تو ان میں سے ان لوگوں نے جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے اس کو بدل دیا ‘ کہی ہوئی بات سے مختلف بات سے ‘ تو ہم نے ان پر ایک آفت سماوی بھیجی بوجہ اس کے کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے “۔
ان آیات کے سلسلے میں متعین طور پر یہ بات کہنا مشکل ہے کہ ان کا شان نزول کیا ہے ؟ بعض مفسرین کا خیال ہے جن کی تائید شاہ عبد القادر صاحب بھی فرماتے ہیں کہ من وسلویٰ سے اکتا کر انھوں نے زمین سے اگنے والی بعض نعمتوں کا مطالبہ کیا تھا جس کا ذکر قرآن پاک میں سورة البقرہ میں کیا گیا ہے۔ اسی کے جواب میں یہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس شہر میں داخل ہوجاؤ ‘ صحرا میں چونکہ کاشت کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ‘ شہر میں جا کر کاشتکاری کرو اور اپنے مطلب کی چیزیں اگا کر کھائو۔ لیکن سورة بقرہ میں چونکہ اس مطالبہ کا ذکر ایسی ہی آیات کریمہ کے اگلے رکوع میں کیا گیا ہے اس لیے تکرار سے بچنے کے لیے یہ کہا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کا ان نعمتوں کے بارے میں مطالبہ پہلے اجمالاً رہا ہوگا اس کے جواب میں انھیں شہر میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا اور اس کے بعد انھوں نے زمین سے اگنے والی سبزیوں کا نام لے لے کر مطالبہ شروع کیا جس کا ذکر اگلے رکوع میں آرہا ہے۔ مطالبہ چونکہ دو مختلف موقعوں پر کیا گیا ہے اس لیے اس میں تکرار کا احتمال نہیں۔
قریہ کی وضاحت اور اس میں داخل ہونے کے آداب
بعض مفسرین کی رائے یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں جس واقعہ کا ذکر کیا جا رہا ہے اس کا تعلق جہاد سے ہے کسی خاص شہر کو فتح کرنے کا بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا تھا اور فتح کرنے کے بعد اس میں داخلے کے آداب بھی سکھائے گئے تھے لیکن یہ اپنی عاداتِ بد کے باعث ناشکری کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی میں اس شہر کو فتح نہیں کرسکے تھے پھر سالوں تک ان کی یہ محرومی پھیلتی گئی حتی کہ ان کی اگلی نسل نے حضرت یوشع (علیہ السلام) کے زمانے میں اس شہر کو فتح کیا۔ واقعہ کچھ بھی رہا ہو مقصود تو صرف یہ دکھانا ہے کہ اللہ نے ان پر کیسے کیسے انعامات کیے لیکن بنی اسرائیل کا رویہ ہر موقع پر ناشکری اور بدعملی کا رہا ہے۔
ان آیات کی وضاحت سے پہلے بعض الفاظ کی تشریح کردینا مناسب ہے۔ پہلی آیت میں قریہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ قریہ کا معنی اصل لغت میں ” جمع ہونے کی جگہ “ کے ہیں۔ گائوں یا شہر میں چونکہ لوگ جمع ہو کر رہتے اور آباد ہوتے ہیں۔ اس لیے انھیں قریہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ لفظ چھوٹے دیہات کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور بڑے بڑے شہروں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔
دوسرا لفظ اس میں استعمال ہوا ہے۔” سجداً “ اس کا اصل معنی سر جھکانا ہے۔ سر جھکانے کے چونکہ مختلف درجے ہوسکتے ہیں ایک درجہ وہ ہے جو ہم سجدے میں اختیار کرتے ہیں اور دوسرا درجہ وہ ہے جیسے ہم رکوع میں یا محض سر جھکا کر کسی کے احترام میں کرتے ہیں۔ عرب دونوں معنوں میں اس لفظ کو استعمال کرتے ہیں اس آیت کریمہ میں بھی دونوں ہی معنوں میں اس کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ممکن ہے صرف سر جھکا کر یعنی عاجزی سے شہر میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا ہو یا خیمہ عبادت میں پہنچ کر سب سے پہلے اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہو۔
تیسرا لفظ جو استعمال ہوا ہے وہ ہے حِطَّۃ۔ اس کا معنی ہے جھاڑ دینا۔ یہاں اس سے مراد گناہوں کا جھاڑ دینا ہے۔ جسے ہم بخش دینے سے تعبیر کرتے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے یہاں یہ استغفار اور توبہ کے کلمات میں سے تھا یہ اصلاً عبرانی لفظ ہے۔ وہیں سے یہ عربی میں منتقل ہوا۔ اس آیت میں یہ لفظ ایک جملے کے قائم مقام ہے۔ جسے زمحشری نے پورے جملے کی صورت میں اس طرح بیان کیا ہے کہ اصل جملہ اس طرح ہے مسئلتنا حطۃ ہماری درخواست حطۃ ہے۔
مفسرین کی وضاحت کے مطابق اس آیت کریمہ میں قریہ سے مراد سر زمین فلسطین کا کوئی شہر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد ” ریحا یا یریحو “ ہو۔ حضرت ابن عباس اور ابن زید کی یہی رائے ہے۔ اس شہر کو فتح کرنے کے بعد داخلے کے آداب سکھائے گئے۔ سب سے پہلے تو یہ بات فرمائی گئی ہے کہ تم اس شہر میں داخل ہوجاؤ تو وہاں جو حلال اور طیب چیزیں ہیں انھیں شوق سے استعمال میں لائو لیکن یہ یاد رکھو کہ شکر گزاری میں کمی نہ آنے پائے۔ لیکن اس سے بھی پہلے جب تمہیں اس شہر میں داخل ہونے کا موقع ملے تو تم اس طرح سر جھکاتے ہوئے شہر کے دروازے سے داخل ہونا کہ دیکھنے والوں کو اندازہ ہو کہ یہ اللہ کے فرماں بردار اور عاجز بندوں کا گروہ ہے جو شہر میں داخل ہو رہا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ اس شہر میں یہ داخلہ فوجی قوت سے ہو یا کسی اور ذریعہ سے جس کو بعض مفسرین نے زیر بحث لانے کی کوشش کی ہے یہ بات تو ہر صورت میں طے ہے کہ سر جھکا کر عاجزی سے داخل ہونا اللہ کے بندوں کی شان ہے انھیں کسی صورت میں بھی غرور اور تکبر کے اظہار کی اجازت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ جب فتح مکہ کے موقع پر شہر میں داخل ہوئے ہیں تو آپ کا سرمبارک اس حد تک عاجزی سے جھکا ہوا تھا کہ بار بار کجاوے کی لکڑی سے ٹکرا جاتا تھا اور جس کجاوے پر آپ تشریف فرما تھے۔ مورخین کی روایت کے مطابق اس کی قیمت دو درہم سے زیادہ نہیں تھی حالانکہ مکہ کو فوجی قوت سے فتح کرنا عرب کی تاریخ کا ایک عظیم واقعہ تھا کیونکہ مکہ جزیرہ عرب کا نہ صرف مرکز اعصاب تھا بلکہ قریش اور اس کے حلیف قبیلوں کی قوت کا مرکز بھی تھا اس شہر کا فتح ہونا پورے جزیرہ عرب کے سرنگوں ہونے کے مترادف تھا لیکن رسول پاک ﷺ اتنی عظیم قوت مل جانے کے بعد بھی سر تاپا انکساری اور عاجزی کا مظہر تھے اسی طرح ان کو اس شہر میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا اور مزید فرمایا گیا تھا کہ تمہاری زبانوں پر حطۃ کا لفظ ہونا چاہیے۔ یعنی تم اپنے رویے کے ساتھ ساتھ زبان سے بھی اللہ سے بخش طلب کرتے ہوئے اور توبہ کرتے ہوئے شہر میں داخل ہونا لیکن ان اللہ کے بندوں نے اللہ کے عاجز بندے بننے کی بجائے ناشکرے اور ظالموں جیسا رویہ اختیار کیا اس لیے پروردگار نے ان کو ظالم ٹھہراتے ہوئے ان کے رویے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ زبان سے جس لفظ کو انھیں کہنے کا حکم دیا گیا تھا انھوں نے اسے بدل ڈالا۔ متعین طور پر یہ بات کہنا بہت مشکل ہے کہ انھوں نے حطۃ کو کس لفظ سے بدلا ‘ قرآن کریم نے اس کی کوئی صراحت نہیں کی اہل تاویل سے مختلف اقوال منقول ہیں جن میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی یقین کے ساتھ کچھ کہنا مشکل ہے۔ ایک مشہور قول یہ ہے کہ ” انھوں نے حطۃ کو حنطۃ سے بدل دیا “ حنطۃ کا معنی ہے گندم۔ انھیں یہ کہا گیا تھا کہ تم استغفار کرتے ہوئے شہر میں داخل ہو لیکن یہ شہر میں گندم گندم کرتے ہوئے داخل ہوئے۔ مقصود یہ ہے کہ مصر سے نکل کر صحرائے سیناء کی تکلیفیں اٹھانے کا مقصد ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تربیت تھی جس کے نتیجے میں ایک اولوالعزم قوم وجود میں آتی اور اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کا نظام قائم کردیتی لیکن یہ حیوانی زندگی سے اوپر اٹھنے کے لیے کبھی تیار نہ ہوئے ان کے پیغمبر انھیں آسمان کی رفعتوں کی تربیت دیتے رہے لیکن انھوں نے ہمیشہ خاک بازی کو ترجیح دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کا ان پر غضب بھڑکا اور آسمان سے اس نے ان پر عذاب بھیجا تاکہ ان کی نافرمانی اور بغاوت کا انھیں صلہ دیا جائے۔ قرآن کریم نے اس عذاب کو من السماء کے لفظ سے بیان فرمایا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی ہولناک عذاب تھا کیونکہ ہولناک عذاب ہی کو قہر آسمانی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ رہا یہ سوال کہ یہ عذاب کیا تھا ؟ صاحب تدبر قرآن نے لکھا ہے کہ اس کا جواب دینا مشکل ہے۔ البتہ تورات کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس دوران میں متعدد بار بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کی شدید نافرمانیاں کیں اور ان نافرمانیوں کی پاداش میں وہ مختلف وبائوں کے شکار ہوئے۔ مثلاً جس زمانہ میں بنی اسرائیل شطیم میں (جو ارض فلسطین کے بالکل پاس کا ایک شہر تھا) تھے تو ان لوگوں نے موآبی عورتوں کے ساتھ بدکاریاں کیں ‘ ان کی دعوت پر یہ لوگ ان کی مشرکانہ قربانیوں میں شریک ہونے لگے اور اس طرح بالواسطہ ان کے دیوتا ” بعل فغور “ کی پرستش شروع کردی جس کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک سخت وبا بھیجی جس میں ان کے چوبیس ہزار نفوس ہلاک ہوئے۔
کتاب گنتی کے بات 33 میں یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے موآب کے میدانوں میں بنی اسرائیل کو یہ ہدایت بھی دی تھی کہ جب تم یرون کو عبور کر کے ملک کنعان میں داخل ہونا تو تم یہاں کے سب مشرکوں کو نکال دینا ‘ ان کی شبیہہ دار پتھروں اور ان کے ڈھالے ہوئے بتوں کو توڑ ڈالنا اور ان کے اونچے مقامات کو مسمار کردینا ‘ اگر تم نے اس کے خلاف ورزی کی تو یاد رکھو کہ جیسا میں نے تم کو ان کے ساتھ کرنے کے لیے کہا ہے ویسا ہی تمہارے ساتھ کروں گا۔ معلوم ہوتا ہے بنی اسرائیل نے اپنی عادت کے مطابق پیغمبر کے اس حکم کی بھی خلاف ورزی کی جس کی پاداش میں ان پر اسی قسم کی کوئی وباء آئی جس قسم کی وبا ان پر شطیم میں آئی تھی۔
Ayahs 7:163–166بنی اسرائیل کے سامنے ان کی تاریخ کا آئینہ
بنی اسرائیل کی مسلسل ناشکریوں اور نافرمانیوں کا بیان جاری ہے اور اسی سلسلہ میں ایک ایسے واقعہ کا ذکر کیا جا رہا ہے جو عبرت کے طور پر بنی اسرائیل میں معروف تھا۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ صدیوں تک بنی اسرائیل نے کس طرح اللہ کی نافرمانیاں جاری رکھیں اور کس طرح ان پر اللہ کے عذاب آتے رہے لیکن اس کے باوجود آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری پر ان کے اجتماعی رویے میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہ ہوئی چناچہ اس مشہور واقعہ کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے۔
وَسْئَلْھُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِم اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْہِمْ حِیْتَانُھُمْ یَوْمَ سَبْتِہِمْ شُرَّعًا وَّیَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَلا لَا تَاْتِیْھِمْج کَذٰلِکَج نَبْلُوْھُمْ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ۔ وِاِذْ قَالَتْ اُمَّۃٌ مِّنْھُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَالا نِاللّٰہُ مُھْلِکُھُمْ اَوْ مُعَذِّبُھُمْ عَذَابًا شَدِیْدًاط قَالُوْا مِعْذِرَۃً اِلٰی رَبِّکُمْ وَلَعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ ۔ فَلَمَّا نَسُوْا مَاذُکِّرُوْابِہٖٓ اَنْجَِیْنَا الَّذِیْنَ یَنْھُوْنَ عَنِ السُوْٓئِ وَاَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍم بَئِیْسٍم بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ۔ فَلَمَّاعَتَوْا عَنْ مَّانُھُوْا عَنْہُ قُلْنَا لَھُمْ کُوْنُوْا قِرَدَۃً خَاسِئِیْنَ ۔ (الاعراف : 166، 163)
” ان سے اس بستی کا حال پوچھئے جو سمندر کے کنارے واقع تھی جبکہ وہ لوگ ہفتہ کے دن احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور مچھلیاں ہفتہ ہی کے دن ابھر ابھر کر سطح پر ان کے سامنے آتی تھیں اور ہفتہ کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں۔ اسی طرح ہم ان کی آزمائش کرتے تھے ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے اور یاد کرو جب ان میں سے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنھیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ ہم یہ سب کچھ تمہارے رب کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس امید پر کرتے ہیں کہ شائد یہ لوگ اس نافرمانی سے بچ جائیں آخر کار جب وہ ان ہدایات کو بالکل ہی فراموش کر گئے جس کی انھیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان لوگوں کو نجات دے دی جو برائی سے روکتے تھے اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا انھیں ان کی نافرمانیوں پر سخت عذاب میں پکڑ لیا اور پھر جب وہ پوری سرکشی کے ساتھ وہی کام کیے چلے گئے جس سے انھیں روکا گیا تھا تو ہم نے ان سے کہا کہ بندر ہوجاؤ ذلیل اور خوار “۔
ان چار آیات کریمہ میں ایک ایسا واقعہ اور اس کے نتیجے میں آنے والے عذاب کا تذکرہ کیا گیا ہے جو عبرت کے طور پر ہمیشہ تاریخ میں یاد رکھا گیا اور آئندہ بھی یاد رکھا جانا چاہیے۔ کیونکہ اس میں جس گناہ کا ذکر کیا گیا ہے گمراہ ہونے والی قومیں ماضی میں بھی اور آج بھی ہمیشہ اس کا ارتکاب کرتی رہی ہیں۔ ماضی میں تو وہ اس عذاب سے دوچار ہوئیں جس کا تذکرہ یہاں فرمایا گیا ہے لیکن حال اور مستقبل میں کیا ہوگا ؟ اسے ان آیات کی مدد سے سمجھا جاسکتا ہے اس لیے یہ آیات ہمارے لیے ایک تنبیہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اب ہم ایک ترتیب سے اس واقعہ کو بھی ذکر کرتے ہیں اور اس کے سبب سے آنے والے عذاب کو بھی اور ان نتائج کو بھی جو ایسی صورت حال میں ہمیشہ نکلتے رہے ہیں۔
اس واقع کے مسلّم ہونے کی دلیل
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اتنا اہم واقعہ ہے تورات اور بنی اسرائیل کے مذہبی لٹریچر میں کہیں بھی ذکر نہیں کیا گیا۔ جن لوگوں کی نگاہ بنی اسرائیل کے مجرمانہ کردار پر رہی ہے ان کے لیے تو اس اہم واقعہ کا بیان نہ کرنا اور بنی اسرائیل کے لٹریچر کا مکمل طور پر اس سے خاموش رہنا کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بنی اسرائیل کی ہمیشہ یہ اجتماعی عادت رہی ہے کہ دوسری قوموں کے تنکے کو بھی انھوں نے شہتیر بنا کر پیش کیا لیکن اپنے اوپر آنے والے بڑے بڑے حوادث جن سے ان کے قومی کردار پر روشنی پڑتی ہے انھوں نے ہمیشہ انھیں تاریخ کے دلدل میں دفن کرنے کی کوشش کی اور اس فن میں وہ اتنے اتارو ثابت ہوئے ہیں کہ اللہ کی کتابیں بھی ان کی دستبرد سے محفوظ نہیں رہیں۔ یہ ان کا سازشی رویہ اور غیر متوازن طرز عمل آج بھی پوری طرح موجود ہے اور دنیا کی سٹیج پر عجیب و غریب مسائل پیدا کرنے میں مصروف ہے۔ لیکن اس واقعہ کی صداقت پر باوجود اسرائیل کے لڑیچر کی خاموشی کے ایسے قرائن موجود ہیں کہ جن کی موجودگی میں اس واقعہ کی صداقت کا انکار کرنا ممکن نہیں رہتا۔ ان قرائن میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ قرآن کریم نے سورة بقرہ میں اور یہاں بھی جس اسلوب میں اس واقعہ کو بیان کیا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہود اس واقعہ سے پوری طرح باخبر تھے۔ سورة البقرہ میں ارشاد فرمایا ہے۔ ” ولقد علمتم الذین اعتدوا منکم فی السبتِ “ کہ تم خوب جانتے ہو ان لوگوں کو جنھوں نے سبت یعنی ہفتہ کے بارے میں اللہ کے احکام سے تجاوز کیا تھا اور اس آیت کریمہ میں ان سے اس واقعہ کے بارے میں سوال کیا گیا ہے ان دونوں آیتوں کا اسلوب ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ یہود سے یہ کہا جا رہا ہے کہ تمہاری کتابوں نے اگرچہ اس واقعہ کا ذکر نہیں کیا ہے لیکن یہ واقعہ اتنا معروف ہے کہ تم سب اس واقعہ سے باخبر ہو۔ اتنے واضح اسلوب میں کسی سے بھی بات کہی جائے تو اگر اس کے لیے وہ بات قابل قبول نہ ہو یا وہ اسے صحیح نہ سمجھتا ہو تو اس کا فوری رد عمل یہ ہوتا ہے کہ آپ جس واقعہ کی بات کر رہے ہیں میں اسے بالکل نہیں جانتا۔ لیکن اگر وہ اس پر خاموشی اختیار کرلے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس کے نزدیک وہ واقعہ صحیح ہے۔ چناچہ ان آیات کریمہ کے نازل ہونے پر بھی یہی صورت حال پیش آئی کہ یہود نے ان آیات کو سنا لیکن انکار کے لیے زبان نہیں کھولی انھوں نے عافیت اسی میں سمجھی کہ خاموش رہ کر اس بدنامی کو پھیلنے سے روکا جائے ہم تو جانتے ہیں کہ ہمارے بڑوں کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا لیکن آج کے دور میں ہمارے غیروں میں اسے کوئی نہیں جانتا۔ اگر ہم اس کا انکار کریں گے تو قرآن کریم اس کے ثبوت میں شائد کچھ کہے جس سے یہ واقعہ پوری طرح منظر عام پر آجائے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مشرکینِ عرب جو ہمیں صاحب علم سمجھتے ہوئے اختلاف کے باوجود بھی ہمارا احترام کرتے ہیں ان پر ہماری قلعی کھل جائے گی اور وہ حیران ہوں گے کہ کیا ہم اس مکروہ تاریخ کے وارث ہیں ؟ اس لیے بہتر ہے کہ اس پر خاموش رہا جائے اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہود مستشرقین نے قرآن کریم کے بارے میں کیسی کیسی علمی ہر زہ سرائیاں کی ہیں ؟ لیکن اس واقعہ کا انکار کرنے کی انھیں کبھی جرأت نہ ہوئی یہود کا یہ رویہ ایک واضح دلیل ہے کہ یہ واقعہ بالکل صحیح ہے۔
مقامِ واقعہ
دوسری بات جو اس آیت کریمہ میں تحقیق طلب ہے وہ یہ ہے کہ یہ واقعہ کس جگہ پیش آیا ؟ قرآن کریم نے اگرچہ اس کی کوئی صراحت نہیں کی صرف اتنا کہا کہ ساحل بحر پر کوئی قریہ یعنی ایک شہر آباد تھا ‘ جس میں یہ واقعہ پیش آیا لیکن یہ شہر کونسا تھا ؟ اس کی وضاحت قرآن کریم نے نہیں کی۔ محقیقن کا غالب میلان یہ ہے کہ یہ مقام ” ایلہ یا ایلات یا ایلوت “ تھا۔ اسی کے قریب اردن کی مشہور بندرگاہ ” عقبہ “ واقعہ ہے اور اب اسرائیل کی یہودی ریاست میں اسی جگہ پر ایک بندرگاہ بنائی۔ بنی اسرائیل کی ترقی کے زمانے میں یہ بڑا اہم تجارتی مرکز تھا ‘ دریائوں یا سمندروں کے ساحل پر جو بندرگاہیں ہوتی ہیں عموماً وہ بڑے شہروں میں تبدیل ہوجایا کرتی ہیں شائد اسی وجہ سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے بحر قلزم کے جنگی و تجارتی بیڑے کا صدر مقام اسی شہر کو بنایا۔ اسی جگہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ عبرت خیز واقعہ پیش آیا۔
اجتماعی نافرمانی پر عذاب آتاہے
تیسری بات اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ساحل بحر پر رہنے والی یہ قوم جن کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا ان پر عذاب تو ان کی نافرمانیوں کے باعث آیا لیکن بطور خاص جس نافرمانی کا ذکر یہاں کیا جا رہا ہے اس کا تعلق ان کی انفرادی زندگی کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی سے ہے۔ بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے سبت یعنی ہفتہ کے بارے میں خاص احکام دئیے تھے یہ دن ان کے لیے انتہائی محترم اور مقدس دن تھا اسے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عبادت کے لیے مخصوص کیا تھا اور اس دن کو اپنے اور اولادِ بنی اسرائیل کے درمیان پشت در پشت تک دائمی عہد کا نشان قرار دیتے ہوئے تاکید کی تھی کہ اس روز کوئی دنیوی کام نہ کیا جائے۔ گھروں میں آگ تک نہ جلائی جائے ‘ چولہے نہ جھونکے جائیں ‘ کھانا تیار نہ کیا جائے ‘ غلاموں اور جانوروں تک سے کوئی خدمت نہ لی جائے اور اس میں یہاں تک تاکید فرمائی کہ اگر کوئی اس ضابطہ کی خلاف ورزی کرے تو اسے قتل کردیا جائے۔ لیکن بنی اسرائیل نے اپنی قومی خصوصیات کے مطابق ابتداء میں انفرادی طور پر اور آگے چل کر اجتماعی طور پر اس حکم کی خلاف ورزی شروع کردی۔ انھیں گھروں تک میں ہر طرح کے دنیوی کام کرنے سے روکا گیا ہے لیکن ان کی دیدہ دلیری یہاں تک پہنچی کہ یہ کھلم کھلا یروشلم کے پھاٹکوں سے چھکڑے بھر بھر کر سامان کے لانے لگے جب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا تو یہودی لٹریچر سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف انبیاء نے مختلف وقتوں میں اللہ کی طرف سے انھیں تنبیہات کیں۔ چناچہ ” یرمیاہ “ جو چھ سو اٹھائیس اور پانچ سو چھیاسی قبل مسیح کے درمیان گزرے ہیں انھوں نے ان کو دھمکی دی کہ اگر تم لوگ شریعت کی اس کھلم کھلا خلاف ورزی سے باز نہ آئے تو یروشلم نظر آتش کردیا جائے گا۔ اسی طرح ” حزقی ایل “ نبی بھی جن کا دور پانچ سو پچانوے اور پانچ سو چھتیس قبل مسیح کے درمیان گزرا ہے انھیں برابر تنبیہات کرتے رہے۔ یہاں بنی اسرائیل کے جس گروہ کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ چونکہ ساحل سمندر پر آباد تھے۔ ساحل پر رہنے کی وجہ سے یقینا ان کی گزر بسر کا بڑا ذریعہ سمندر کی مچھلیاں تھیں۔ وہ بھی سبت کی بےحرمتی ہر طرح کی نافرمانی کے ذریعے کرتے ہوں گے لیکن جو چیز ان کے لیے آزمائش کا ذریعہ بن گئی وہ مچھلیوں کا شکار تھا اسی کے ذریعے ان کو آزمایا گیا کہ وہ سبت کا احترام کرتے ہیں یا نہیں۔ انھیں بھی یقینا بار بار تنبیہ کی گئی ہوگی کہ تم سبت کے احترام میں کمی مت کرو لیکن جب یہ لوگ اپنی اس حرکت سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون کے تحت انھیں آزمائش میں مبتلا کردیا اس کا قانون یہ ہے کہ جب کسی قوم کو کسی خاص معاملے میں نافرمانی سے روکا جاتا ہے اور وہ قوم اس میں پورا نہیں اترتی تو پروردگار اسی معاملے کو ان کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنا دیتا ہے اور اس معاملے کے ساتھ ان کی جذباتی وابستگی یا ضرورت اس حدت تک بڑھا دی جاتی ہے کہ اب ان کے لیے اس کا چھوڑنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ وہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ اگر اس معاملے میں ہم نے اللہ کے حکم کی فرماں برداری کی تو شائد ہماری قومی اجتماعی زندگی کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے گی اور ہم قومی توانائی سے محروم ہوجائیں گے کسی بھی قوم کے لیے یہ نہایت نازک لمحہ ہوتا ہے اس قوم کی گزر بسر کا چونکہ بڑا ذریعہ مچھلی کا شکار تھا اس لیے انھیں بطور خاص حکم دیا گیا کہ ہفتہ کے دن تم مچھلی کا شکار نہیں کرسکتے اور ساتھ ہی آزمائش میں شدت اس طرح پیدا کی گئی کہ مچھلیاں ہفتے کے دن اس طرح سر اٹھائے ہوئے سطح آب پر آتیں ایسا معلوم ہوتا جیسے ایک شاہ سوار نیزہ سیدھا کیے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مچھلی کی فطرت یہ ہے کہ وہ زیر آب تیرتی ہے لیکن اب صورت حال یہ ہوگئی کہ ہفتہ کے دن وہ بہت بڑی تعداد میں آتیں ایسا لگتا ہے کہ کوئی برات اترئی ہوئی ہو اور سطح آب پر نمایاں ہو کر لوگوں کی طلب اور خواہش میں شدت پیدا کرتے ہوئے تیرتی پھرتیں۔ ممنوعہ چیز کو پروردگار کی جانب سے نمایاں کر کے پیش کرنے سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہوجائے کہ ہرحال میں اللہ کے احکام کی فرماں برداری کرنے والا کون ہے ؟ اور کون ہے جس کے اندر نافرمانی کے میلانات چھپے ہوئے ہیں ؟ تاکہ وہ اس صورتحال میں پوری طرح کھل کر سامنے آجائیں ویسے بھی انسان کی فطرت ہے کہ جس چیز سے اسے روکا جاتا ہے اس کی حرص اس کے اندربڑھتی ہے۔ چناچہ یہ لوگ بھی بری طرح اس آزمائش میں جھنجھوڑئے گئے۔ شروع شروع میں انھوں نے یہ کیا کہ مختلف حیلوں بہانوں سے مچھلیاں پکڑنا شروع کیں حوض بنا لیے گئے۔ ہفتہ کے دن اس میں مچھلیاں بھر دی جاتیں اور اتور کو پکڑ لی جاتیں اور یہ تاثر دیا جاتا کہ ہم ہفتہ کے دن تو شکار نہیں کر رہے یہ مچھلیاں تو ہم نے اتوار کو پکڑی ہیں اور پھر بڑھتے بڑھتے کھلم کھلا نافرمانی پر اتر آئے۔ آخر اللہ کا عذاب آیا اور یہ لوگ عبرت بن گئے۔ ممکن ہے کہ آپ کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ مچھلی کوئی حرام جانور تو نہیں اور پھر پورا ہفتہ اس کا شکار کرنے کی اجازت بھی تھی۔ صرف ہفتہ کے دن شکار کی ممانعت میں آخر کیا حکمت تھی۔ بات دراصل یہ ہے کہ پروردگار اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے اس نے ہر امت کے لیے ہفتہ میں ایک دن مخصوص کیا جس میں اسے بطور خاص اللہ کی فرماں برداری کی تربیت دی جائے بندوں کو کبھی بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ بندگی کے تصور ہی کے خلاف ہے کہ ایک بندہ اللہ کی بندگی کا اعتراف بھی کرے اور پھر بار بار بندگی کی حدود سے نکل نکل بھی جائے۔ ہفتہ کے چھ دنوں میں زندگی کے معاملات میں مختلف لوگوں سے میل جول کے باعث قلب و دماغ پر ایسے اثرات ضرور پڑتے ہیں جس سے اللہ کا تعلق کمزور پڑتا اور بعض دفعہ بالکل ٹوٹنے لگتا ہے۔ چناچہ پروردگار نے اس کا انتظام یہ کیا کہ ہفتہ میں ایک دن عبادت کے لیے مخصوص کردیا جائے تاکہ یہ لوگ چھ دن میں جو کمی واقع ہوجاتی ہے اس کا نہ صرف ازالہ کرنے کی کوشش کریں بلکہ تعلق باللہ کو اتنا مضبوط بنالیں کہ باہر کے اثرات اس پر اثر انداز ہونے میں کامیاب نہ ہوں۔ چناچہ عیسائیوں کو اتوار کا دن دیا گیا۔ یہود کو ہفتہ کا اور مسلمانوں کو جمعہ کا دن۔ مسلمانوں کے لیے اگرچہ ایسے شدید احکام نہیں دئیے گئے لیکن یہ تاکید ضرور کی گئی کہ جمعہ کو تذکیر و دعوت کے دن کے طور پر گزارنے کی کوشش کریں۔ عیسائیوں کا بھی یہی حال رہا وہ ہمیشہ اتوار کے دن کو اپنے مذہبی تصورات کے طور پر گزارتے رہے آج اگرچہ وہ بہت حد تک دینی احکام سے بےنیاز ہوچکے ہیں اور دین کو بندے اور خدا کے درمیان ایک پرائیوٹ معاملہ بنا چکے ہیں۔ بایں ہمہ ! وہ جس ملک میں بھی رہے ہیں انھوں نے ہمیشہ وہاں اتوار کی چھٹی کی ہے تاکہ اپنے قومی تشخص کو باقی رکھ سکیں۔ یہودیوں کے لیے بھی سبت کا دن ایسے ہی تصورات کا حامل تھا۔
دوسری آیت کریمہ سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ ہولناک واقعہ پیش آیا اس وقت بنی اسرائیل مکمل طور پر دین سے برگشتہ نہیں ہوچکے تھے بلکہ ان میں علماء و صلحاء کا ایک قابل ذکر طبقہ ضرور موجود تھا جنھوں نے نہ صرف اللہ کی نافرمانی نہیں کی بلکہ انھوں نے ان نافرمانوں کو روکنے کی بھی آخر حد تک کوشش کی۔ اس آیت کریمہ کی وضاحت میں مولانا مودودی نے جو نوٹ لکھا ہے وہ اس قابل ہے کہ اسے نقل کردیا جائے۔ آپ لکھتے ہیں کہ
اس بستی میں تین قسم کے لوگ موجود تھے ایک وہ جو دھڑلے سے احکام الٰہی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ دوسرے وہ جو خود تو خلاف ورزی نہیں کرتے تھے مگر اس خلاف ورزی کو خاموشی کے ساتھ بیٹھے دیکھ رہے تھے اور ناصحوں سے کہتے تھے کہ ان کم بختوں کو نصیحت کرنے سے کیا حاصل ہے۔ تیسرے وہ جن کی غیرت ایمانی حدود اللہ کی اس کھلم کھلا بےحرمتی کو برداشت نہ کرسکتی تھی اور وہ اس خیال سے نیکی کا حکم کرنے اور بدی سے روکنے میں سرگرم تھے کہ شاید وہ مجرم لوگ ان کی نصیحت سے راہ راست پر آجائیں اور اگر وہ راہ راست نہ اختیار کریں تب بھی ہم اپنی حد تک تو اپنا فرض ادا کر کے اللہ کے سامنے اپنی برأت کا ثبوت پیش کر ہی دیں۔ اس صورت حال میں جب اس بستی پر اللہ کا عذاب آیا تو قرآن مجید میں لکھا ہے کہ ان تینوں گروہوں میں سے صرف تیسرا گروہ ہی اس سے بچایا گیا کیونکہ اسی نے اللہ کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کی فکر کی تھی اور وہی تھا جس نے اپنی برأ ت کا ثبوت فراہم کر رکھا تھا۔ باقی دونوں گروہوں کا شمار ظالموں میں ہوا اور وہ اپنے جرم کی حد تک مبتلائے عذاب ہوئے۔
بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے گروہ کے مبتلائے عذاب ہونے کی اور تیسرے گروہ کے نجات پانے کی تصریح کی ہے لیکن دوسرے گروہ کے بارے میں سکوت اختیار کیا ہے لہٰذا اس کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ نجات پانے والوں میں سے تھا یا مبتلائے عذاب ہونے والوں میں سے۔ پھر ایک روایت ابن عباس ( رض) سے یہ مروی ہے کہ وہ پہلے اس بات کے قائل تھے کہ دوسرا گروہ مبتلائے عذاب ہونے والوں میں سے تھا ‘ بعد میں ان کے شاگرد عکرمہ نے ان کو مطمئن کردیا کہ دوسرا گروہ نجات پانے والوں میں شامل تھا۔ لیکن قرآن کے بیان پر جب ہم غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس کا پہلا خیال ہی صحیح تھا ظاہر ہے کہ کسی بستی پر خدا کا عذاب آنے کی صورت میں تمام بستی دوہی گروہوں میں تقسیم ہوسکتی ہے ایک وہ جو عذاب میں مبتلا ہو اور دوسرا وہ جو بچا لیا جائے۔ اب اگر قرآن کریم کی تصریح کے مطابق بچنے والا گروہ وہ صرف تیسرا تھا تو لا محالہ پہلے اور دوسرے دونوں گروہ نہ پچنے والوں میں شامل ہوں گے۔ اسی کی تائید معذرۃ الی ربکم کے فقرے سے بھی ہوتی ہے جس کی توثیق بعد کے فقرے میں خود اللہ تعالیٰ نے فرما دی ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جس بستی میں علانیہ احکامِ الٰہی کی خلاف ورزی ہو رہی ہو وہ ساری کی ساری قابل مواخذہ ہوتی ہے اور اس کا کوئی باشندہ محض اس بناء پر مواخذاہ سے بری نہیں ہوسکتا کہ اس نے خود خلاف ورزی نہیں کی بلکہ اسے خدا کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے لازماً اس بات کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا کہ وہ اپنی حدِ استطاعت تک اصلاح اور اقامت حق کی کوشش کرتا رہا تھا۔ پھر قرآن اور حدیث کے دوسرے ارشادات سے بھی ہم کو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی جرائم کے باب میں اللہ کا قانون یہی ہے۔ چناچہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ
وَ اتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃً
ڈرو اس فتنہ سے جس کے وبال میں خصوصیت کے ساتھ صرف وہی لوگ گرفتار نہیں ہوں گے جنھوں نے تم میں سے ظلم کیا ہو
اور اس کی تشریح میں نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ
ان اللہ لا یعذب العامۃ بعمل الخاصۃ حتٰی یروا المنکربین ظھرا ینھم وھم قادرون علیٰ ان ینکروہ فلا ینکروہ فاذا فعلوا ذٰلک عذب اللہ الخاصۃ والعامۃ ‘
” اللہ عزوجل خاص لوگوں کے جرائم پر عام لوگوں کو سزا نہیں دیتا جب تک عامۃ الناس کی یہ حالت نہ ہوجائے کہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے برے کام ہوتے دیکھیں اور وہ ان کاموں کے خلاف اظہارِ ناراضی کرنے پر قادر ہوں اور پھر کوئی اظہار ناراضی نہ کریں۔ پس جب لوگوں کا یہ حال ہوجاتا ہے تو اللہ خاص و عام سب کو عذاب میں مبتلا کردیتا ہے۔ “
مزیر برآں جو آیات اس وقت ہمارے پیش نظر ہیں ان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس بستی پر اللہ کا عذاب دو قسطوں میں نازل ہوا تھا۔ پہلی قسط وہ جسے عذاب بئیس (سخت عذاب) فرمایا گیا ہے اور دوسری قسط وہ جس میں نافرمانی پر اصرار کرنے والوں کو بندر بنادیا گیا۔ ہم ایسے سمجھتے ہیں کہ پہلی قسط کے عذاب میں پہلے دونوں گروہ شامل تھے اور دوسری قسط کا عذاب صرف پہلے گروہ کو دیا گیا تھا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ ان اصبت فمن اللہ وان اخطَئْت فمن نفسی واللہ عفورٌ رحیم۔
اس واقعہ پر تذکر کی نگاہ
ان آیات کریمہ پر تذکر کے نقطہ نگاہ سے ایک دفعہ مزید نگاہ ڈال لینی چاہیے۔ سب سے پہلی بات جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل مسلسل اللہ کی نافرمانیاں کرتے رہے لیکن پروردگار انھیں ڈھیل پر ڈھیل دیتا رہا لیکن جب ایک متعین حکم کی خلاف ورزی نہایت دیدہ دلیری اور اجتماعی طور پر کی گئی تو پھر پروردگار نے مزید ڈھیل نہیں دی بلکہ اس کا عذاب حرکت میں آگیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی اللہ کو ماننے والا کوئی گروہ اجتماعی طور پر نافرمانی کا رویہ اختیار کرتا ہے تو اسے ان آیات کی روشنی میں سوچنا چاہیے کہ کہیں ہم بھی اسی انجام کی طرف تو نہیں بڑھ رہے۔ اقبال نے اسی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا تھا۔
فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے
مگر کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف
اللہ نے سود کو حرام کیا ہے اور اس کے ارتکاب کرنے والوں کو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اعلانِ جنگ کی دھمکی دی ہے۔ اس کے باوجود ہم جس طرح بالائی سطح پر ہر طریقے سے اس کا تحفظ کر رہے ہیں اور اس عذاب سے نکلنے کی کوئی تدبیر بھی ہمارے پیش نظر نہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ کھلم کھلا اللہ کی نافرمانی ہمارے لیے اجتماعی عذاب کا پیش خیمہ بن جائے۔
دوسری بات جو نہات قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ کوئی قوم اللہ کی ناراضگی کی گرفت میں آتی ہے تو اس سے صرف وہ گروہ محفوظ رہتا ہے جو آخری حد تک لوگوں کو نافرمانی سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ نافرمانی چاہے پارلیمنٹ کے اندر ہو رہی ہو چاہے قانون کی شکل میں ہو چاہے اس کا ارتکاب ذرائع ابلاغ کر رہے ہوں۔ چاہے تجارتی طور اطوار اس کی گرفت میں ہوں چاہے تعلیمی ادارے اس گناہ میں شریک ہوں ‘ جہاں کہیں بھی اللہ کی نافرمانی ہو رہی ہے اسے مناسب طریقے سے روکنا اور اپنی ہمت کے مطابق آخری حد تک اپنی مساعی بروئے کار لانا یہ اللہ کے عذاب سے بچنے کے لیے ضروری ہے ورنہ اللہ کا قانون جیسے ان آیات سے معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ جب اس کی گرفت آئے گی تو گناہ کرنے والوں کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی پکڑے جائیں گے جنھوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا آخر حد تک فرض انجام نہیں دیا ہوگا۔ پاکستان میں بطور خاص اللہ کی شریعت کا نفاذ سب سے پہلی ترجیح ہونا چاہیے اس کی مخالفت جہاں جہاں بھی ہو رہی ہے وہ اللہ سے بغاوت کے مترادف ہے چاہے اس کے لیے الفاظ کے کیسے ہی طوطے مینا اڑائے جائیں وہ بہر حال اللہ کی شدید نافرمانی ہے اس سے بچنے کی واحد صورت یہ ہے کہ اہل علم ہر سطح پر اس صورتحال کو بدلنے کی کوشش کریں۔ علم کے زور سے بھی ‘ قلم کے زور سے بھی ‘ سیاست کے انداز میں بھی ‘ نصیحت کے اسلوب میں بھی اور قانونی کاوشوں سے بھی۔ اسی طرح بےحیائی کو روکنا مسلمانوں کے فرائض میں نفاذِ دین کے بعد سب سے بڑا فریضہ ہے ہم آج جس طرح اس گناہ کی لپیٹ میں ہیں اس سے پہلے اس کا تصور بھی نہ کیا جاسکتا تھا۔ ٹیوی کی سکرین پر شیطان ننگا ہو کر ناچ رہا ہے۔ اخبارات کے مستقل صفحات اس گند کو روزانہ اچھالتے ہیں۔ سڑکوں پر جا بجا لگے ہوئے پورٹریٹ اور اشتہار اسلامی غیرت کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیم اسلامی طرز تعلیم کا منہ چڑا رہی ہے۔ اللہ کی ناراضگی سے بچنے کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ احتیاط کے تمام پہلوئوں کے ساتھ اس صورتحال کو بدلنے کی کوشش کی جائے۔ ذہنوں میں لگے ہوئے جالے اتارے جائیں اور اسلامی مزاج پیدا کرنے کی کوشش کی جائے یہ محض میں نے چند باتوں کا حوالہ دیا ہے ورنہ ہماری پوری دینی زندگی داغ داغ ہوچکی ہے۔ اگر اللہ کے بندوں کا ایک بڑا طبقہ اسی جذبے سے سرشار ہو کر جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر ہوا ہے میدانِ عمل میں نہیں نکلے گا تو پھر ان آیات کی روشنی میں ہمیں اپنا انجام دیکھ لینا چاہیے۔
بنی اسرائیل اپنی تاریخ میں متعدد دفعہ اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے انہی میں سے ایک اہم واقعہ ابھی ہم نے پڑھا ہے لیکن حیرانی کی بات ہے کہ بار بار کی سزائوں اور حوادث کے باوجود ان کے اندر اصلاح کی تحریک پیدا نہ ہوئی۔ ہر حادثے نے انھیں جگانے کی بجائے مزید سلانے کا کام کیا۔ چناچہ اسی سلسلہ حوادث کے ضمن میں ایک ایسا وقت بھی آیا کہ ان کے اندر پروردگار کی طرف سے آنے والے نبیوں نے مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے بڑے بڑے واقعات کی خبر دی اور انھیں جھنجھوڑا کہ اپنی حالت بدلو ورنہ تمہارے ساتھ ماضی میں پیش آنے والے حوادث سے زیادہ اندہوناک واقعات پیش آسکتے ہیں۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں اسی آگاہی کو فیصلہ کن انداز میں بیان کیا جا رہا ہے۔
Ayah 7:167وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکَ لَیَبْعَثَنَ عَلَیْہِمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مِنْ یَّسُوْمُھُمْ سُوْٓئَ الْعَذَابَط اِنَّ رَبَّکَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ ج صلے وَاِنَّہٗ لَغَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔
(الاعراف : 176)
” اور یاد کرو جب تیرے رب نے فیصلہ کن انداز میں خبر دار کیا کہ وہ روز قیامت تک ان پر ایسے لوگوں کو مسلط کرتا رہے گا جو ان کو نہایت برے عذاب چکھاتے رہیں گے۔ بیشک تیرا رب جلد سزا دینے والا ہے اور بیشک وہ بخشنے والا اور مہربان ہے “۔
یہود پرا بدی لعنت کا اعلان
اس آیت کریمہ کے آغاز میں تَاَذَّن کا لفظ آیا ہے۔ جس کا صحیح مفہوم کسی قطعی فیصلے سے آگاہ کرنا اور نوٹس دینا ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بنی اسرائیل نے اپنے اندر مبعوث ہونے والے انبیاء و رسول کی نصیحتوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور اپنی اجتماعی زندگی میں اللہ کے دین سے ان کی برگشتگی بڑھتی ہی چلی گئی تو پھر ایک ایسا وقت آیا جب مختلف انبیاء کے واسطے سے انھیں نوٹس دیا گیا کہ تم نے اگر اپنا رویہ نہ بدلا اور اس بغاوت سے باز نہ آئے جو تم نے اختیار کر رکھی ہے تو تم پر ایسے لوگوں کو مسلط کیا جائے گا جو تمہیں اپنے اپنے عہد اقتدار میں بد ترین عذابوں سے دوچار کریں گے۔ اور پھر یہ سلسلہ چند سالوں کا نہیں بلکہ یہ قیامت تک چلتا رہے گا تا وقتیکہ تم اللہ کے آخری نبی پر ایمان لا کر اپنی حالت نہ بدل ڈالو۔ جب ہم سابقہ آسمانی کتابوں میں اس فیصلے اور تنبیہ کا سراغ لگاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کی تنبیہ حضرت موسیٰ و نے بھی انھیں بار بار فرمائی اور بعد کے نبیوں نے بھی نہایت واضح الفاظ میں انھیں اس سے آگاہ کیا۔ اہبار میں ہے
” اگر تم میرے سننے والے نہ بنو اور ان سب حکموں پر عمل نہ کرو اور مجھ سے عہد شکنی کرو تو میں بھی تم سے ایسا ہی کروں گا ……اور میرا چہرہ تمہارے بر خلاف ہوگا اور تم دشمنوں کے سامنے قتل کیے جاؤ گے اور یہ جو تمہارا کینہ رکھتے ہیں تم پر حکومت کریں گے۔ “ (اہبار ‘ باب 1426۔ 17)
” اسی طرح کتاب استثناء میں ہے تیرے بیٹے اور عزیز بیٹیاں دوسری قوم کو دی جائیں گی اور تیری آنکھیں دیکھیں گی اور سارے دن ان کی راہ تکتے تکتے تھک جائیں گی اور تیرے ہاتھ میں کچھ زور نہ ہوگا۔ “ (استثناء باب 28۔ 32)
مختلف تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ارمیاہ ‘ حضرت شعیا اور حضرت حزقیل علیھم السلام انھیں متواتر جھنجوڑتے رہے کہ اللہ کے لیے اپنی حالت درست کرو ورنہ ظالم حکمران تم پر مسلط ہوجائیں گے اور پھر تم اللہ کو پکارو گے لیکن تمہاری آواز سنی نہیں جائے گی۔
لیکن بنی اسرائیل نے ان بار بار کی تنبیہات سے کوئی اثر قبول نہ کیا بالآخر اللہ کا وعدہ پورا ہوگیا کہ بابل کا جابر بادشاہ بخت نصر ان پر قہر خداوندی بن کر نازل ہوگیا۔ یروشلم ‘ بیت المقدس اور اس کے گرودنواح سے بنی اسرائیل کا بیج مار دیا گیا۔ بادشاہ کی آنکھوں کے سامنے اس کے بیٹے ذبح کر دئیے گئے۔ بادشاہ اور رہے سہے یہودی پابہ زنجیربابل لے جائے گئے اور پچاس سال تک بخت نصر کی غلامی میں حسرت و ندامت کے آنسو بہا کر اپنے دن کاٹتے رہے۔ اس دور غلامی میں ان کی کچھ آنکھیں کھلی اور اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوئے اللہ نے انھیں سنبھلنے کا ایک اور موقع دیا۔ پانچ سو چھتیس قبل مسیح میں ایران کے بادشاہ خسرو نے بابل پر چڑھائی کر کے اسے فتح کرلیا اور بنی اسرائیل پر رحم کھا کر انھیں دوبارہ بیت المقدس تعمیر کرنے اور فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت دے دی۔ بنی اسرائیل کو جیسے ہی آسودگی ملی ‘ عیش و عشرت کا دور آیا تو ان کی زندگی میں پھر بگاڑ کی تمام صورتیں زندہ ہوگئیں۔ عیش و نشاط کی محفلیں لوٹ آئیں۔ بت کدے پھر آباد ہونے لگے اللہ کا فیصلہ پھر حرکت میں آیا اب ان پر بخت نصر کی جگہ روم کے بادشاہ ایننتوکس ایپی فاینس نے ایک سو پینسٹھ قبل مسیح بیت المقدس پر حملہ کر کے دوبارہ اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ تورات کے تمام نسخے چن چن کر جلا دئیے بنی اسرائیل کو ایک ایک کر کے تہِ تیغ کیا اور جو لوگ بچ گئے انھیں لوٹ کھسوٹ کر کے جلا وطن کردیا۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں ان کو پھر سنبھلنے کا موقع ملا لیکن کسی خطے میں یک جا ہو کر عزت کی زندگی گزارنا ان کے لیے ممکن نہ ہوسکا اور ان کی عبادت گاہ بیت المقدس کی تعمیر پھر دوبارہ کبھی نہ ہوسکی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری کے بعد بنی اسرائیل کی ایک شاخ آپ پر ایمان لے آئی اس قوم کے اعمال یہودیوں کے مقابلے میں بساغنیمت تھے ان میں ایک طرف عبادت گزاروں کی کثرت تھی دوسری طرف جہدو عمل کا جذبہ موجود تھا چناچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے عروج آسمانی کے بعد تین سو سال کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں بنی اسرائیل کی یہ شاخ روما کی عظیم سلطنت کی مالک بن گئی۔ تقریباً چار سو سال تک عیسائیوں نے روم میں بڑے جاہ و جلال کی حکومت کی لیکن مرور ایام کے ساتھ اس قوم نے ایک طرف اپنے اصل دین کو بری طرح بگاڑ ڈالا اور دوسری طرف اس میں بھی رفتہ رفتہ یہودیوں کی سی خصلتیں پیدا ہونے لگیں۔ لیکن بنی اسرائیل کا وہ حصہ جو اب تک یہودیت پر قائم تھا وہ برابر اللہ کی ناراضگی کا ہدف بنا رہا اور انھیں کبھی بھی اجتماعی زندگی کی آسودگی نصیب نہ ہوسکی مختلف علاقوں میں بٹی ہوئی یہ قوم زندگی گزارتی رہی حتی کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے وقت بھی انھوں نے راہ راست اختیار کرنے کی کوشش نہ کی۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ اللہ کے وعدے کے مطابق انھیں مدینے سے نکالا گیا پھر خیبر سے بھی نکال دئیے گئے پورا جزیرہ عرب ان سے پاک ہوگیا اور دنیا کے مختلف ملکوں میں محکومانہ زندگی گزارتے رہے اور مختلف اوقات میں اللہ کے فیصلے کے مطابق حکمرانوں کے مظالم کا شکار ہوتے رہے۔ اجتماعی طور پر ان کے ادھیڑ کھدیڑ کا آخری واقعہ ہٹلر کے زمانے میں پیش آیا اگر حالات مساعدت نہ کرتے اور مسلمان ممالک پناہ نہ دیتے تو ہٹلر ان کا قومی وجود ختم کر کے رکھ دیتا۔
مختصر یہ کہ ہر دور میں بنی اسرائیل اللہ کے اس اعلان کی گرفت میں رہے ہیں۔ کبھی بھی انھیں کسی علاقے میں نہ حکومت کرنے کا موقع ملا اور نہ اجتماعی آسودگی نصیب ہوسکی یہ صحیح ہے کہ بیچ بیچ میں مہلت کے وقفے بھی ملتے رہے اور قرآن کا اسلوب بیان خود اس کا شاہد ہے لیکن مستقل طور پر یہ ایک قوت بن کر خود اپنی حفاظت کرنے کے قابل ہوجائیں تاریخ میں اس کی کوئی شہادت نہیں ملتی البتہ آج اسرائیل کے نام سے ان کی جو ریاست قائم ہے اس سے غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ اس میں دو باتیں پیش نظر رکھنی چاہییں۔ پہلی بات یہ کہ ارض مقدس میں ان کا یہ اجتماع ایک نئے طوفان کا پیش خیمہ معلوم ہوتا ہے۔ احادیث میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری کی جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ آسمانوں سے تشریف لانے کے بعد دمشق کو اپنا مرکز بنا کر یہودیوں کے خلاف فوجی کاروائی کریں گے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھیں یہودی فتنے کی سرکوبی کے لیے بھیجا جائے گا اس وقت یہودیوں کا جنگی لیڈر دجال کے نام سے معروف ہوگا۔ دجال کا معنی ہے بہت بڑا ڈپلومیٹ۔ اس کے پاس فوجی قوت بھی ہوگی اور ڈپلومیسی بھی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اس کا فیصلہ کن معرکہ لد پہاڑی کے پاس جہاں تل ابیب کا ہوائی اڈا ہے ‘ ہوگا اور وہاں دجال مارا جائے گا۔ عیسائی عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری سے اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد مسلمان ہوجائیں گے اور یہودیوں کو ایک ایک کر کے قتل کردیا جائے گا۔ موجودہ اسرائیل کی ریاست جس میں دنیا بھر کے یہودیوں کا اجتماع ہو رہا ہے معلوم ہوتا ہے اسی تباہی کے لیے ہے۔ یہیں آخری معرکہ ہوگا اور یہیں ان کی تباہی مکمل ہوگی۔
دوسری بات جو پیش نظر رہنی چاہیے وہ یہ ہے کہ کسی بھی کا فرمعتوب قوم پر اللہ کا عذاب اس وقت آتا ہے جب مسلمان امت اپنی وحدت اور اپنے ایمان و عمل سے ایک قوت بن کر اٹھتی ہے اور علمی ‘ سیاسی اور فوجی توانائی سے مخالفین پر اتمامِ حجت کردیتی ہے لیکن خوداگر امت مسلمہ اختلاف اور افتراق کا شکار ہو اور ان کی ایمانی اور عملی زندگی اسلام کے لیے تہمت بن کر رہ جائے تو پھر نہ صرف کافر قوتوں کو مہلت ملتی رہتی ہے بلکہ ان سے مسلمانوں کو پٹوانے اور سزا دینے کا کام لیا جاتا ہے جس طرح ایک دور میں چنگیز سے مسلمانوں کو سزا دلوائی گئی اور پھر ایک وقت آیا یہی کام تیمور سے لیا گیا۔ اقبال نے ٹھیک کہا ع
تقدیر کے نشتر ہیں تیمور ہوں یا چنگیز
اسی طرح آج کل قدرت اسرائیل کے ذریعے عربوں کو سزا دے رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ پورا عالم اسلام بھی اس کی زد میں ہے کیونکہ عربوں اور مسلمانوں نے نہ صرف کہ اپنے آپ کو بہتر مسلمان ثابت نہ کیا اور اپنی حامل دعوت امت ہونے کی حیثیت کا احساس نہیں کیا بلکہ اس سے بھی بڑا جرم یہ ہے کہ انھوں نے اسرائیل کو برگ وبار پیدا کرنے ‘ طاقت حاصل کرنے اور پائوں جمانے کا موقع دیا ہے۔ امریکہ ‘ برطانیہ اور روس تو براہ راست اس ناجائز وجود کے ذمہ دار ہیں لیکن عربوں نے چند ٹکوں کے عوض اسرائیل کو اپنی زمینیں سپرد کیں اور اپنی بزدلی اور بےہمتی سے برابر اسے اپنی حدود میں اضافہ کا موقع دیتے رہے۔ اسرائیل برابر فوجی طور پر مضبوط ہوتا رہا اس کی سرپرست طاقتیں مسلسل اس کو طاقت فراہم کرتی رہیں اس کے جابرانہ عزائم کبھی پردے میں نہیں رہے لیکن اس کے مقابلے میں عربوں نے اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ قدرت نے انھیں بہترین قدرتی اور انسانی وسائل سے مالا مال کیا ہے۔ تیل پر موجودہ دنیا کی زندگی قائم ہے اور اس علاقے میں عربوں کو اس زرِ سیال پر تقریباً اجارہ داری حاصل ہے لیکن انھوں نے قدرت کی اس گراں بہا نعمت کو بہ تمام و کمال ان غیر مسلموں کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھا اور اس تیل کی رائلٹی پر قناعت کرکے اس طرح بیٹھے ہوئے ہیں گویا اس نعمت کا اس سے بہتر کوئی مصرف نہیں پھر انھیں قدرتی وسائل کی صرف رائلٹی سے جو رقم حاصل ہوتی ہے وہ تناسب کے اعتبار سے دنیا کے امیر ترین ملکوں کی مجموعی آمدنی سے بھی زیادہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بینک آف انگلینڈ جیسے دولت مند بینک کی دو تہائی دولت صرف کو یت کی جمع کروائی ہوئی رقم سے حاصل ہوتی ہے اور دوسرے دولت مند عرب ممالک یورپ اور امریکہ کے بینکوں میں جو رقمیں جمع کرواتے ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں۔ اندازہ کیجیے یہ سارا سرمایہ اسرائیل کو مضبوط کرنے میں صرف ہو رہا ہے اور خود عالم اسلام اس سے تہی دامن ہے اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ عربوں نے اسے کبھی تمام مسلمانوں کا مسئلہ بننے کی اجازت نہیں دی وہ اس کو عربوں کا مسئلہ سمجھتے ہیں دوسرے مسلمان ممالک اپنے طور پر فلسطینی مسئلے کی حمایت کرتے ہیں اور ان میں بعض ممالک نے آج تک اسرائیل سے تعلقات بھی قائم نہیں کیے لیکن خود عرب ممالک کو مسلمانوں کے مسائل کی حمایت کرنے کی کبھی توفیق نہیں ہوئی۔ پاکستان جو ہمیشہ اسرائیل کی مخالفت میں پیش پیش رہا ہے۔ اسرائیل کا براہ راست ہدف فلسطین کا سربراہ یاسر عرفات کبھی پاکستان کی شاہ رگ کشمیر کی حمایت نہیں کرسکا اسے ہمیشہ انڈیا کی دوستی کا دعویٰ رہا ہے۔ عرب ممالک سے گلہ اپنی جگہ پر ‘ ترکی جو کبھی خلافتِ عثمانیہ کا وارث تھا اور گئی گزرئی حالت میں بھی دنیائے کفر کو مسلمانوں کے کسی ملک پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی اور پھر اسرائیل کے قیام کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ خود سلطنتِ عثمانیہ تھی لیکن ترک نوجوانوں نے نیشنل ازم کا فتنہ اٹھا کر تفریق و تقسیم کا ایسا راستہ کھولا کہ خلافتِ عثمانیہ ختم ہو کر رہ گئی اور مسلمان ایک دوسرے کی معاونت سے محروم ہوگئے۔
عرب نظریہ وطنیت کی تاریخ کا اگر ہم مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ وہاں اس نظریے کے اولین بانی تمام تر عیسائی اور یہودی تھے۔ جن پانچ نوجوانوں نے اس نظریہ وطنیت کو فروغ دینے اور خلافتِ اسلامیہ کو تاراج کرنے کو ہدف بنا کر کاوشیں شروع کی تھیں وہ تمام کے تمام عیسائی تھے اور بیروت کے سیرین پروٹسٹنٹ کالج کے پڑھے ہوئے تھے ان میں سے دو آدمی سب سے زیادہ نمایاں ہوئے ایک ناصف یازجی اور دوسرے بطرس بستانی یہ دونوں لبنان کے عیسائی تھے۔ بستانی ہی نے سب سے پہلے ایک حدیث گھڑ کر اسے نعرہ بنایا۔ حب الوطن من الایمان۔ وطن کی محبت جزو ایمان ہے اور اس فتنہ اٹھانے کا مقصود صرف یہ تھا کہ مسلمانوں میں انتشار پیدا کر کے خلافتِ عثمانیہ کو ختم کیا جائے۔ چناچہ اس مقصد کے لیے کمال پاشا اور اس کے ساتھیوں کو ساتھ ملایا گیا اور خلافتِ عثمانیہ پر ایک کامیاب وار کیا گیا کیونکہ تاریخ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سلطان عبد الحمید ثانی کسی طرح اسرائیل کے وجود کا تصور کرنے کو بھی تیار نہیں تھے۔ چناچہ جب برطانیہ نے یہودیوں کو یوگنڈا کے ایک علاقے کی پیش کش کی تو یہودیوں نے اسے نامنظور کردیا اور وہاں آباد ہونے کی بجائے انھوں نے 1902 ء میں تھیوڈو رہزول کو قائد بنا کر ایک وفد خلافتِ عثمانیہ کے فرمانروا سلطان عبد الحمید ثانی کی خدمت میں بھیجا اور ان سے درخواست کی کہ یہودیوں کو دوبارہ فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت دی جائے اور ساتھ ہی یہ پیش کش کی کہ اس ” اجازت “ کے صلے میں ہم ترکی حکومت کے بیرونی قرضے ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
لیکن سلطان عبد الحمید ثانی نے اس درخواست کا جو جواب د یا وہ عرب نیشنلزم کے ان دلداگان کے لیے سرمہ بصیرت ہے جو ترکی خلافت کو اپنا سب سے بڑا دشمن خیال کرتے ہیں۔ تھیوڈور ہر زل اپنی ڈائری میں لکھتا ہے کہ سلطان عبد الحمید کا جواب یہ تھا :
” ڈاکٹر ہر زل کو باخبر کردو کہ وہ آج کے بعد فلسطین میں یہودی ریاست قائم کرنے کی ہر کوشش سے دستبردار ہوجائیں۔ یہودی فلسطین کو صرف اس صورت میں حاصل کرسکتے ہیں جب کہ خلافتِ عثمانیہ ایک خواب و خیال ہوچکی ہو۔ “
اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ عربوں سمیت ترکوں نے بھی نظریہ وطنیت کی معرفت اسرائیل کو وجود میں لانے کی بالواسطہ مدد کی ‘ اور پھر عرب اپنی عیاشیوں کے باعث اسے مضبوط کرنے کا سبب بنتے رہے جن ملکوں نے اسے قائم کیا اور جو آج تک اس کی پشت پناہی کر رہے ہیں عربوں کا سارا سرمایہ انھیں کی تحویل میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو قوم ایک راندہ درگاہ قوم کو خود وجود دیتی اور خود اس کے استحکام کا باعث بنتی ہے اسے قدرت اگر خود ان کے استحاصل اور تباہی کے لیے استعمال کرتی ہے تو اس میں تعجب کی بات کیا ہے ؟
آخری بات یہ ہے کہ قرآن کریم نے چوتھے پارے میں یہ بات واضح فرمائی ہے کہ یہود پر ذلت اور مسکنت کی پھٹکار ماری گئی ہے البتہ ! اس سے نکلنے کی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ وہ مسلمان ہوجائیں پھر ان کی تاریخ یہود کی نہیں مسلمانوں کی تاریخ ہوگی اور دوسری صورت یہ ہے کہ کسی بڑی طاقت کے زیر سایہ اس کا دامن پکڑ کر زندگی گزاریں۔ آج اسرائیل کی تمام تر قوت اور اس کی ریاست کا استحکام امریکہ ‘ برطانیہ اور روس کا مرہونِ منت ہے۔ آج اگر یہ تینوں ملک اس کے سر سے ہاتھ اٹھا لیں تو یہ ریاست اپنا وجود باقی نہیں رکھ سکتی۔
آیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ ” تیرا رب بڑی تیزی سے سزا دینے والا ہے اور وہ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے “۔ اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ پروردگار کو دنیا کے معاملات سے الگ تھلگ نہ سمجھا جائے یہ خیال نہ کرو کہ دنیا میں جو چاہے ہوتا رہے پروردگار اس میں کبھی دخل نہیں دے گا تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ قوموں کو مہلت دینے اور بالآخر پکڑنے کے کچھ اصول و ضوابط ہیں جب تک ان کا وقت نہیں آتا تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شائد پروردگار دنیا کے نظام سے بےنیاز ہے لیکن جب وہ وقت آجاتا ہے تو پھر وہ اہل دنیا کو مزید مہلت نہیں دیتا اور مزید فرمایا کہ وہ تیزی سے سزا دینے والا ہے تو اس سے ان لوگوں کو توجہ دلانا مقصود ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں شائد دیر ہی نہیں اندھیر بھی ہے یعنی کچھ ہوتا رہے یہاں کوئی پکڑنے والا نہیں ہے انھیں بتایا جا رہا ہے کہ قوموں کو جو مہلت ملتی ہے وہ ایک دیر کی صورت تو ہوتی ہے اندھیر کی نہیں۔ جب اس کی گرفت آتی ہے تو تب پتہ چلتا ہے کہ چشم زدن میں کیا سے کیا ہوجاتا ہے۔
اگلی آیت کریمہ میں بنی اسرائیل کی ایک اور سزا کا ذکر کیا جا رہا ہے۔