7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsروح القرآن

Ayah 7:43

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:43 in the Quran reader

اور ان کے سینے کی ہر خلش ہم نکال دیں گے ‘ ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ کہیں گے ! تعریف ہے اس اللہ کے لیے ‘ جس نے ہمیں یہاں تک پہنچایا۔ اگر اللہ نے ہمیں ہدایت نہ بخشی ہوتی تو ہم تو ہدایت پانے والے نہ بنتے۔ ہمارے رب کے رسول واقعی حق ہی لے کر آئے تھے۔ ان کو پکارا جائے گا کہ یہی وہ جنت ہے ‘ جس کے تم اپنے اعمال کے صلے میں وارث بنائے گئے ہو۔

ارشاد فرمایا : وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھِمُ الْاَنْھٰرُ ج وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھَدٰنَا لِھٰذَا قف وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِیْ لَوْ لَآ اَنْ ھَدٰنَا اللہ ُ ج لَقَدْ جَآئَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ ط وَ نُوْدُوْٓا اَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ اُوْرِثْتُمُوْھَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (الاعراف : 43) ” اور ان کے سینے کی ہر خلش ہم نکال دیں گے ‘ ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ کہیں گے ! تعریف ہے اس اللہ کے لیے ‘ جس نے ہمیں یہاں تک پہنچایا۔ اگر اللہ نے ہمیں ہدایت نہ بخشی ہوتی تو ہم تو ہدایت پانے والے نہ بنتے۔ ہمارے رب کے رسول واقعی حق ہی لے کر آئے تھے۔ ان کو پکارا جائے گا کہ یہی وہ جنت ہے ‘ جس کے تم اپنے اعمال کے صلے میں وارث بنائے گئے ہو “۔ داخلی احساسات پر اللہ کی نوازش جو لوگ ایمان و عمل کا حق ادا کریں گے اللہ انھیں سب سے پہلے جنت جیسے انعام سے نوازے گا اور پھر جنت میں جانے کے بعد اللہ کی مزید نوازشات ان پر برسیں گی۔ ان نوازشات کا ذکر قرآن و سنت میں مختلف جگہوں پر کیا گیا ہے ان میں سے چند ایک کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے۔ جنت میں سامانِ ضیافت کے بعد جو سب سے پہلی نوازش کی جائے گی وہ یہ ہوگی کہ ان کے دلوں میں اگر ایک دوسرے کے بارے میں کوئی خلش ‘ کوئی رنجش یا کوئی بدگمانی ہوگی تو انھیں اس سے پاک کردیا جائے گا۔ یہ اللہ کی بیش بہا نعمت ہے کیونکہ کسی بھی بڑی سے بڑی ضیافت کے شرکاء بیشک اکل و شرب کے حوالے سے ہزاروں نعمتوں سے شاد کام ہو رہے ہوں لیکن وہ ایک دوسرے سے اگر تکدر رکھتے ہیں اور تقریب میں شامل ہو کر بھی ایک دوسرے سے بات کرنا یا ایک دوسرے سے محبت سے پیش آنا اور گھل مل کر تقریب کی مسرتوں سے مسرور ہونا انھیں گوارا نہ ہو تو اس تقریب کی ساری نعمتیں ان کے لیے بےکار ہوجاتی ہیں اس لیے کہ جہاں اچھا کھانا پینا انسان کی ضرورت ہے وہیں خوشی اور مسرت کے دوسرے لوازمات بھی اس کی ایسی ہی ضرورت ہیں بلکہ بعض دفعہ دوسری چیزیں کھانے پینے سے بڑھ کر خوشی کا باعث بنتی ہیں اگر آپ کسی ایسی تقریب میں شامل ہوں جس میں ضیافت کا سامان تو بہت سادہ ہو لیکن وہاں ایسے لوگوں سے آپ کی ملاقات ہوجائے جن کی محبت آپ کے لیے حقیقی مسرت کا باعث ہو تو آپ محسوس کریں گے کہ اس تقریب میں آکر آپ کو حقیقی خوشی حاصل ہوئی ہے اس لیے جب یہ اہل جنت جنت میں پہنچیں گے تو ان کی خوشیوں کو مکمل اور دوبالا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ ان پر یہ احسان فرمائیں گے کہ جنت کے شرکاء میں اگر کوئی ایسے لوگ ہوں جنھیں ان سے یا انھیں ان سے کچھ تحفظات ہوں ‘ کچھ بدگمانیاں ہوں یا کچھ ان کی جانب سے طبیعت میں کچھ خلش پائی جاتی ہو ‘ انھیں ان سے ملنا اچھا نہ لگتا ہو اور یا سابقہ زندگی میں کچھ حوادث کے باعث یہ ان سے گھل مل کے باتیں نہ کرسکتے ہوں تو یقینا یہ جنت بھی ان کو حقیقی خوشی نہیں دے سکے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ان تمام اہل جنت کو اس طرح کی تمام باتوں سے پاک صاف کر کے جنت میں بھیجیں گے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں جانے والے لوگ جب جنت کی طرف جا رہے ہوں گے تو راستے میں ایک نہر آئے گی۔ اس کا پاکیزہ پانی پینے کے لیے انھیں کہا جائے گا تو جیسے ہی اس کا پانی پئیں گے تو ان کے دل اور ان کے سینے ہر طرح کی ایسی بدگمانیوں سے پاکیزہ ہوجائیں گے۔ اب جب یہ جنت میں جائیں گے تو جن لوگوں سے کوئی ناراضگی رہی ہوگی یہ اسے بالکل بھول چکے ہوں گے اور ایک دوسرے سے پوری محبت اور مسرت سے پیش آئیں گے۔ روایات میں آتا ہے کہ اس آیت کو پڑھ کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا تھا کہ مجھے امید ہے کہ اللہ میرے اور عثمان اور طلحہ اور زبیر کے درمیان بھی صفائی کرا دے گا یعنی حضرت عثمان ( رض) کی شہادت کے بعد جس طرح کے واقعات صحابہ میں پیش آئے۔ حتیٰ کہ ان کے درمیان جنگیں بھی ہوئیں تو واقعات پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ ان واقعات کا سبب بلوائیوں کا ایک مخصوص گروہ تھا جنھوں نے حضرت عثمان غنی ( رض) کو شہید کیا تھا اور وہی لوگ صحابہ میں اختلافات پیدا کرنے حتیٰ کہ جنگوں تک نوبت پہنچانے کا سبب بنے اور جب بھی بات صلح تک پہنچی انھوں نے رات کو چھپ کر جانبین کی فوجوں پر شب خون مار کر لڑائی کی آگ کو بھڑکا دیا اور دونوں طرف کے لوگ یہ سمجھتے رہے کہ دوسرے فریق نے عہد شکنی کی ہے۔ حالانکہ یہ سب کچھ کیا دھرا ان بلوائیوں کا تھا چناچہ انہی حوادث میں حضرت زبیر اور حضرت طلحہ بھی شہید ہوئے جس کا حضرت علی کو بےحد رنج تھا اسی حوالے سے حضرت علی ( رض) نے یہ بات فرمائی تھی لیکن یہاں ایک بات یاد رہنی چاہیے کہ دلوں کی یہ بدگمانیاں یا یہ خلشیں جو پروردگار اہل جنت کے دلوں سے نکال دے گا اس کا تعلق ان باتوں سے ہے جنھیں کرنے والوں نے حدود سے تجاوز کرتے ہوئے نہ کیا ہو بلکہ بعض دفعہ بیخبر ی یا بدگمانی میں ایسا کچھ ہوگیا ہو اور پھر اس کے نتیجے میں طبیعت میں ایک انقباض پیدا ہوا ہو جس کا زندگی میں نکلنے کا موقع نہ آیا ہو تو قیامت کے دن ایسے لوگ اگر جنت میں جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو اس طرح کے احساسات سے پاک فرما دے گا لیکن جو لوگ جان بوجھ کر ایک دوسرے کے حقوق پامال کرتے اور قصداً دوسروں کی دل آزاریاں کرتے ہیں انھیں تو بہرحال اپنے رب کے سامنے جواب دہی کرنا ہوگی البتہ اگر وہ وہاں اپنی نیکیاں دے کر معاف کرانے میں کامیاب ہوگئے تو اللہ تعالیٰ ان سے بھی ایسا ہی سلوک فرمائے گا اور اگر معافی نہ مل سکی تو پھر وہی معاملہ ہوگا جو اللہ کے قانون کا تقاضا ہوگا۔ اہلِ جنت کا جذبہ شکروسپاس باہر کی نعمتیں جو جنت میں رواں دواں ہوں گی ان کا تو کوئی حد و شمار نہیں ہوگا البتہ ان سے محظوظ ہونے کے لیے جو طبعی رکاوٹ پیش آسکتی تھی اللہ جب اسے بھی دور فرما دے گا تو اب مسرتوں کی ایک ایسی بہار چھا جائے گی جس کا تصور بھی دنیا میں کرنا ممکن نہیں۔ خوشیوں کا ایک سیلاب بہہ رہا ہوگا جس کے سوتے سینوں سے پھوٹ رہے ہوں گے لیکن باہر کی فضا کے حوالے سے پروردگار نے صرف ایک بات ارشاد فرمائی کہ اہل جنت کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اس کی حقیقی صورت کیا ہوگی یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن دنیا میں بھی ہم جانتے ہیں کہ ایسے محلات بادشاہوں نے بنائے جن کے دائیں بائیں اور نیچے سے بھی نہریں رواں دواں ہوتی تھیں۔ جس کا کسی حد تک نظارہ تاج محل میں کیا جاسکتا ہے جو اگر ایک طرف محلات کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی تھیں تو دوسری طرف وہاں کے مکینوں کے سینوں کو بھی اس طرح خوشی سے بھر دیتی تھیں جیسے یہ نہریں باہر نہیں بلکہ ان کے اندر بہہ رہی ہوں۔ خوشیوں اور مسرتوں کا یہ سیل جب اندر باہر اس طرح بہہ رہا ہوگا تو اہل جنت اس منظر سے مبہوت ہو کر بےساختہ پکار اٹھیں گے کہ تعریف اور شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہمیں یہاں تک پہنچایا ورنہ ہم خود اس قابل کہاں تھے کہ جنت کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے یہ بالکل اس طرح کا احساس اور ادائے شکر ہے جو کسی طویل اور پر صعوبت سفر کے بعد منزل مقصود پر پہنچنے والا مسافر ادا کرتا ہے۔ آپ ایک ایسے مسافر کو تصور میں لایئے جسے حالات نے کسی طغیانی میں آئے ہوئے دریا کی موجوں کے حوالے کردیا ہے وہ اپنی پوری توانائیاں بروئے کار لا کر ہاتھ پائوں مارتا ہوا جب ساحل تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائے پھر وہ ہانپتا کانپتا ساحل سے جب باہر نکلے تو وہ تو دل میں یہ محسوس کرے گا کہ زندگی تھی جو بچ نکلے اور یہ کرم تھا میرے اللہ کا کہ ساحل نصیب ہوگیا ورنہ آج تو جان کے لالے پڑے ہوئے تھے اور بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی کہ اچانک وہ دیکھے کہ ساحل کے ساتھ ہی ایک ایسا نعمتوں سے لدا ہوا باغ ہے جس میں مسرتیں اور شادمانیاں صرف اسی کے لیے سرتاپا انتظار ہیں اب جس طرح اس کی زبان اپنے محسن کے احسانات کا شکریہ ادا کرنے میں رطب اللساں ہوگی اگر اس کا تصور کیا جاسکے تو کسی حد تک اس آیت کے مفہوم کا ادراک کیا جاسکتا ہے کہ زندگی کا یہ سفر جو نجانے کتنے دریائوں پر مشتمل ہے۔ آدمی ایک دریا پار کرتا ہے تو سامنے دیکھتا ہے کہ ایک اور دریا اس کا راستہ روکے کھڑا ہے اور وہ ہر قدم پر محسوس کرتا ہے ؎ منجدھار میں ہے نائو شکستہ ہیں بادباں کیسے لگیں گے پار ہوا سامنے کی ہے خواہشات کے بیشمار بھنور ہیں جو ایمان کی کشتی کو نگل جانا چاہتے ہیں حوادث کے طوفان ہیں جو نیکیوں کے بادبانوں کو بےکار کیے دے رہے ہیں لیکن جب کشتی کھینے والا ہمت نہیں ہارتا تو توفیق ایزدی اس کو نہ صرف پار لگا دیتی ہے بلکہ ان نعمتوں کا مالک بنا دیتی ہے جس کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے تو بےساختہ اس کی زبان سے جس طرح شکر کا اظہار ہوگا اس کو کسی حد تک یہاں زبان دی گئی ہے کہ وہ بےساختہ یہ پکارے گا کہ یا اللہ یہ تیری جنت جو میری حقیقی منزل تھی بلکہ جو میرے جد امجد کی وراثت تھی اس لیے آگے اُوْرِثْتُمُوْھَا کا لفظ آرہا ہے جس سے اس وراثت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ میں اس کو کسی طرح حاصل نہیں کرسکتا تھا۔ الٰہی تیراکرم ہے کہ تو نے اپنے رسول بھیجے وہ تیرا پیغام حق لے کر ہمارے پاس آئے۔ انھوں نے ہمیں خون جگر پی پی کر سمجھایا ‘ ہم گالیاں دیتے تھے وہ دعائیں دیا کرتے تھے ‘ ہم ان کی زندگی کے درپے تھے لیکن وہ ہمیں جنت کا وارث بنانا چاہتے تھے۔ یا اللہ تیراکرم کہ تو نے ہمیں توفیق دی اور ہم تیرے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر تو اپنے رسول حق دے کر نہ بھیجتا تو ہم اس حقیقت کو کیسے پاسکتے تھے پھر تو اگر ہمیں ایمان کی توفیق نہ دیتا تو ہم اس حقیقت سے کیسے بہرہ ور ہوسکتے تھے۔ پھر شرعی احکام پر چلنا خواہشات کے مارے ہوئے لوگوں کے لیے کوئی آسان نہ تھا تو نے ہم پر کرم فرمایا اور ہمیں اس کی ہمت عطا فرمائی یہ تمام مراحل صرف تیری نظر کرم ‘ تیری توفیق اور تیری عنایت سے ہم سر کرسکے ورنہ ہم اس قابل کہاں تھے کہ یہ سب کچھ ہم خود کرسکتے۔ کسی شاعر نے جہاز پر سفر کرتے ہوئے حج کو جاتے ہوئے بےساختہ کہا تھا کہاں میری قسمت عنایت ہے ان کی ‘ سفینے پہ ان کے چلا جا رہا ہوں ہوائوں کی بخشش لیے جا رہی ہے ‘ حرم کی کشش کے مزے پا رہا ہوں یہ اہل جنت بھی ایسے ہی احساسات سے گراں بار ہو کر اللہ کی تعریف میں رطب اللساں ہوں گے اور اس کا شکر بجالائیں گے۔ اللہ کا مزید کرم یہ ہوگا کہ ایک ندا دینے والا ان کو ندا دے گا اور اہل جنت کی خوشیوں کو معراج تکمیل تک پہنچا دے گا کہ اے جنت کے باسیو یہ جنت جس کا تمہیں وارث بنایا گیا ہے یہ یقینا تمہیں اللہ کے فضل و کرم سے ملی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تم نے یہ درجہ اپنی خدمات کے صلہ میں پایا ہے اور یہ تمہاری اپنی محنت کی کمائی ہے جو تمہیں دی جا رہی ہے اللہ کا فضل و کرم بےسبب نہیں ہوتا اس کا دنیا میں بھی قاعدہ یہ ہے کہ کوئی فصل کاشت کرتا ہے تو اس فصل کو پروردگار بارآور فرماتا ہے ‘ کوئی درخت لگاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے پھلوں سے گراں بار کردیتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ کوئی آدمی نہ کاشت کرے نہ درخت لگائے تو اس کے گھر میں غلہ بھی آجائے اور پھل بھی اترنے لگیں۔ یہاں بھی یہی فرمایا جا رہا ہے کہ تم بیشک کاشت کرتے رہتے اگر اللہ نہ چاہتا تو تمہاری محنتیں بےمزد رہتیں۔ تم بیشک گلستاں کھڑے کردیتے لیکن اگر اللہ کو منظور نہ ہوتا تو تمہیں پھل کا ذائقہ چکھنا بھی نصیب نہ ہوتا لیکن اللہ بہت مہربان اور رحم والا ہے وہ کسی کی محنت کبھی ضائع نہیں کرتا تم نے محنت کی تو ہم نے تمہاری محنتوں کو پھل دیا۔ یہ جنت تمہاری محنتوں کا ثمرہ ہے جب اہل جنت یہ سنیں گے کہ جو کچھ ہمیں عطا ہوا ہے اس میں ہماری محنتیں بھی شامل ہیں تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کی مسرتیں اور اس کی خوشیاں کہاں تک پہنچ جائیں گی۔ انسان کبھی یہ توقع نہیں کرسکتا کہ میرے اعمال کو کبھی اللہ تعالیٰ اتنا اونچا کردیں گے کہ وہ جنت کی ابدی بادشاہی کو میرے اعمال کا نتیجہ قرار دے دیں گے۔ اہلِ جنت کے احساس اور پروردگار کی عطا سے ہمارے سامنے ایک حقیقت واضح ہوتی ہے وہ یہ کہ اہل دنیا اور اہل دین میں فرق یہ ہے کہ اہل دنیا کو جو کچھ ملتا ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری قابلیت اور سعی و کوشش کا نتیجہ ہے اور اسی وجہ سے وہ ہر نعمت کے حصول پر اور زیادہ متکبر اور مفسد ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس اللہ کے نیک بندوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو جو نعمت بھی ملتی ہے وہ اسے خدا کا فضل سمجھتے ہیں اس پر شکر بجا لاتے ہیں۔ جتنے نوازے جاتے ہیں اتنے ہی زیادہ متواضع ‘ رحیم و شفیق اور فیاض ہوتے چلے جاتے ہیں پھر آخرت کے بارے میں بھی وہ اپنے حسن عمل پر غرور نہیں کرتے کہ ہم تو یقینا بخشے ہی جائیں گے بلکہ اپنی کوتاہیوں پر استغفار کرتے ہیں۔ اپنے عمل کی بجائے خدا کے رحم اور فضل سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں اور ہمیشہ ڈرتے ہی رہتے ہیں کہ کہیں ہمارے حساب میں لینے کی بجائے کچھ دینا ہی نہ نکل آئے۔ بخاری اور مسلم دونوں میں روایت موجود ہے کہ حضور نے فرمایا : اعلموا ان احدکم لن یدخلہ عملہ الجنہ ” خوب جان لو کہ تم محض اپنے عمل کے بل بوتے پر جنت میں نہ پہنچ جاؤ گے۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ بھی ؟ فرمایا ہاں میں بھی ‘ الا ان یتغمدنی اللہ برحمۃ منہ و فضل ” الا یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت اور اپنے فضل سے ڈھانک لے “۔ میں عرض کرچکا ہوں کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ جو ایمان و عمل کا حق ادا کرنے میں اخلاص کے ساتھ زندگی بھر کوشاں رہا ہو اور اسی حال میں اس کو موت آئی ہو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اسے نہ ڈھانپ لے لیکن اگر کوئی اپنے سارے ایمان و عمل کے باوجود اس غلط فہمی کا شکار ہوجائے کہ اب مجھے اللہ کی رحمت اور اس کے فضل کی کوئی ضرورت نہیں میرا ایمان و عمل کا سرمایہ میری بخشش کے لیے کافی ہے تو یہ ایک ایسی گمراہی ہے جس کا نتیجہ نہایت ہولناک ہوسکتا ہے اسی وجہ سے اللہ کے پیغمبر جو معصوم پیدا ہوتے ہیں اور وہ یقینا بخشے ہوئے ہیں ان کی نظر بھی ہمیشہ اللہ کی بےنیازی پر رہتی ہے اور وہ ہمیشہ اس کی رحمت کے طلب گار رہتے ہیں۔ اس طرح اگر کوئی آدمی محض فضل و کرم کی امید پر عمل سے بیگانہ ہوجائے اور بڑی جسارت سے احکامِ شریعت کو توڑے اور توجہ دلانے پر بھی یہ عذر پیش کرے کہ اللہ بہت غفور الرحیم ہے اسے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قرآن کریم میں ایک ہی جگہ دونوں باتیں فرمائی گئی ہیں جن کا ترجمہ یہ ہے کہ میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں غفور الرحیم ہوں اور یہ بھی خبر دے دو کہ میرا عذاب ‘ عذاب الیم ہے کہ اگر تم ایمان و عمل کا سرمایہ لے کر آئو گے تو مجھے غفور الرحیم پائو گے اور اگر شریعت سے لاپرواہی برتو گے پھر تمہیں میرے غضب کو بھی یاد رکھنا ہوگا۔ ظفر علی خاں نے ٹھیک کہا ؎ نہ جا اس کے تحمل پر کہ بےڈھب ہے گرفت اس کی ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا اگلی آیت کریمہ میں سابقہ آیت کے سیاق کلام کے مطابق اہل جنت کی جانب سے مزید خوشیوں کا اظہار ہے اور پروردگار کی طرف سے عطا و بخشش میں افزونی ہے۔
Ayahs 7:44–45

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 7:44 in the Quran reader

اور جنت والے ‘ دوزخ والوں کو پکار کر پوچھیں گے کہ ہم سے جو کچھ ہمارے رب نے وعدہ کیا تھا ‘ ہم نے اس کو بالکل سچا پایا۔ کیا تم نے بھی ‘ جو کچھ تمہارے رب نے تم سے وعدہ کیا تھا ‘ اس کو سچا پایا ؟ وہ جواب دیں گے، ہاں۔ پھر ایک منادی کرنے والا ان کے بیچ میں پکارے گا کہ اللہ کی لعنت ان ظالموں پر۔

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ Open ayah 7:45 in the Quran reader

جو اللہ کی راہ سے روکتے اور ان میں کجی پیدا کرنا چاہتے تھے اور وہ آخرت کے منکر تھے۔

ارشاد ہوتا ہے : وَ نَادٰٓی اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَھَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّاط قَالُوْا نَعَمْج فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌ م بَیْنَھُمْ اَنْ لَّعْنَۃُ اللہِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللہِ وَ یَبْغُوْنَھَا عِوَجًا ج وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ کٰفِرُوْنَ ۔ (الاعراف : 44، 45) ” اور جنت والے ‘ دوزخ والوں کو پکار کر پوچھیں گے کہ ہم سے جو کچھ ہمارے رب نے وعدہ کیا تھا ‘ ہم نے اس کو بالکل سچا پایا۔ کیا تم نے بھی ‘ جو کچھ تمہارے رب نے تم سے وعدہ کیا تھا ‘ اس کو سچا پایا ؟ وہ جواب دیں گے ہاں۔ پھر ایک منادی کرنے والا ان کے بیچ میں پکارے گا کہ اللہ کی لعنت ان ظالموں پر۔ جو اللہ کی راہ سے روکتے اور ان میں کجی پیدا کرنا چاہتے تھے اور وہ آخرت کے منکر تھے “۔ اہلِ جنت کی شان اور ان کی قوتوں کا عروج سب سے پہلے تو اس آیت کریمہ میں اللہ کے انعام و بخشش کے حوالے سے غور فرمایئے کہ اہل جنت وہی لوگ ہیں جو دنیا میں اہل دنیا کے ستائے ہوئے اور نظر انداز کیے ہوئے لوگ تھے جنھوں نے دینی زندگی گزارنے کے لیے نجانے کیسے کیسے دکھ اٹھائے اور قدم قدم پر ہر طرح کی محرومیوں سے واسطہ پڑتا رہا۔ اب جبکہ وہ جنت میں پہنچ گئے ہیں تو اچانک ان کے دائرہ اثر ‘ دائرہ کار ‘ ان کی شخصیت کی وسعتوں اور ان کی توانائیوں میں حیرت انگیز وسعت پیدا ہوگئی ہے بلکہ ایک طرح سے انقلابِ حال واقع ہوگیا ہے کہ ان کی تمام توانائیوں ‘ تمام حواس اور عقل و خرد میں ایک ایسا تغیر واقع ہوا ہے کہ ان کی یہ قوتیں جو دنیا میں طبعی قوانین کے مطابق نہایت محدود دائرے میں کارفرما رہ سکتی تھیں اب ان کے سامنے کوئی روک باقی نہیں رہی۔ ان کی نگاہیں لامحدود حد تک دیکھ سکتی ہیں ان کی سماعتیں لامحدود حد تک سن سکتی ہیں یعنی دنیا میں جو طبعی قوانین کارفرما تھے وہ یکسر ختم کردیئے گئے ہیں اب آخرت میں ایک نئی دنیا اور وہاں کے قوانین سے واسطہ ہے اور اہل جنت کو وہاں کے حالات کے مطابق نئی توانائیاں عطا کی گئی ہیں۔ چناچہ انہی حیرت انگیز قوتوں کے باعث وہ اہل جہنم کو اپنے سامنے پائیں گے حالانکہ قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ جنت کی وسعتوں کا حال یہ ہے کہ زمین و آسمان کی وسعتیں اس کے سامنے ہیچ ہیں اور پھر جہنم اس سے نجانے کتنی دوری پر واقع ہے اور خود اس کی وسعتوں کا عالم کیا ہے لیکن ان کی قوتوں کے سامنے یہ تمام وسعتیں سمٹ جائیں گی اور وہ نہایت آسانی سے اہل جہنم سے باتیں کرسکیں گے۔ اگرچہ قرآن کریم کی بیان کردہ یہ باتیں حیران کن ہیں لیکن آج کے سائنسی دور میں ہمارے لیے یہ باتیں حیران کن نہیں ہونی چاہئیں کیونکہ انسان نے قدرت کے محض چند ضمنی قوانین کو دریافت کر کے ایسی ایسی ایجادات کرلی ہیں جو سابقہ ادوار میں کبھی تصور بھی نہ کی جاسکتی تھیں۔ ایسی دوربینیں ایجاد ہوگئی ہیں جن کے ذریعے سے ہزاروں میل کی مسافت پر دیکھا جاسکتا ہے۔ ٹیلی فون کی ایجاد سے ملکوں کے فاصلے سمٹ گئے ہیں۔ اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے کسی بھی ملک کے پروگرام ٹیلی ویژن سکرین پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ ایسے آلات ایجاد ہوگئے ہیں جن سے لاکھوں میل کی مسافت سے نبض کی حرکت محسوس کی جاسکتی اور دل کی دھڑکنیں سنی جاسکتی ہیں۔ اگر اس دنیا میں یہ سب کچھ ممکن ہوگیا ہے تو آخرت میں جبکہ نئے قوانین نافذ ہوچکے ہوں گے اور قانون طبعی کی نارسائیوں سے انسان نکل چکا ہوگا تو اس میں قرآن کریم کے بیان کردہ احوال کو حیران کن کس طرح کہا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس آیت کریمہ میں یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ اہل جنت کی خوشی ان کی ایک ایک ادا سے پھوٹی پڑ رہی ہوگی وہ جنت کی نعمتوں اور اللہ کی بخششوں کو محسوس کرتے ہوئے خوشی سے جھوم رہے ہوں گے۔ اسی کیفیت میں قدرت جب ان کے سامنے اہل جہنم کو منکشف فرمائے گی تو خوشیوں کے اس طوفان میں ان کی زبان سے یہ سوال نکلے گا کہ او جہنم والو ہم سے تو اللہ نے جن باتوں کا وعدہ فرمایا تھا ہم نے ان میں سے ایک ایک بات کو سچا پایا ہے تو کیا تم نے بھی ان باتوں کو سچا پایا ہے جو عذاب کے سلسلے میں تم سے کہی گئی تھیں اور تمہیں بار بار اللہ کے نبی تنبیہ کرتے رہے تھے کہ اگر تم نے اپنی حالت نہ بدلی تو تمہیں جہنم کے ہولناک عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا تو اس کے جواب میں اہل جہنم اس کے سوا کچھ نہیں کہہ سکیں گے کہ ہاں۔ یہ ان کا مختصر جواب ان کے طویل سے طویل جواب پر بھی بھاری ہوگا کیونکہ جب کوئی مجرم اپنی سزا کو سامنے دیکھتا ہے تو تب اسے اپنے جرم کی سنگینی کا صحیح احساس ہوتا ہے۔ پھر وہ گردن جھکا لیتا ہے اور اندر سے بری طرح ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کے منہ سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ اس کی ٹوٹی ہوئی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے چناچہ یہ بھی اپنے جرم کے بوجھ تلے دبے ہوئے نعم کے سوا کچھ نہیں کہہ سکیں گے۔ لیکن اسی ایک مختصر جواب پر ان کا کیس مکمل ہوجائے گا تو ایک پکارنے والا ان کی سزا کا اعلان کرتے ہوئے کہے گا کہ اللہ کی لعنت ہو ظالموں پر۔ لعنت کا مفہوم ہے اللہ کی رحمت سے دوری یہ انتہائی سزا ہے جو اللہ کی جانب سے کسی کو مل سکتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا ہر طرح کا تعلق ان کے پروردگار سے ٹوٹ چکا ہے اب یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے اور کبھی بھی اللہ کی رحمت ان کو نصیب نہیں ہوگی اس کے بعد اس کا سبب بیان کیا گیا ہے کہ یہ اتنی بڑی ہولناک سزا کو اس لیے پہنچے ہیں کہ ان کی فرد جرم بہت طویل ہے جن کے تین بڑے بڑے عنوانات ہیں اور یہ بات مشرکین مکہ سے سنا کے کہی جا رہی ہے کہ تم بھی انہی جرائم کا ارتکاب کر رہے ہو۔ خوب اندازہ کرلو کل کو تمہیں بھی ایسی ہی صورت حال سے واسطہ پڑنے والا ہے وہ تین جرائم یہ ہیں۔ 1 یہ لوگ اللہ کے راستے سے روکا کرتے تھے۔ 2 اللہ کے دین میں کجی پیدا کرنا چاہتے تھے۔ 3 آخرت کے منکر تھے۔ یہ تینوں عنوانات ہیں جس میں بیشمار ذیلی جرائم شامل ہیں مثلاً اللہ کے راستے سے روکنا یعنی دین قبول کرنے سے روکنا اور اگر کسی طرح دین قبول کرلیا ہے تو اس کے امکانات پر پہرے بٹھا دینا۔ اذیتوں اور مظالم کی انتہا کر کے دین کی برکات کو ظاہر نہ ہونے دینا ‘ محرکات شر کو فروغ دے کر خیر کی قوتوں کے پھلنے پھولنے کے مواقع ختم کردینا ‘ دین کا راستہ مشکل بنا کر لوگوں میں اسے اجنبی بنادینا ‘ علی ہذا القیاس یہ ایک طویل فہرست ہے۔ جہاں تک دین میں کجی پیدا کرنے کا تعلق ہے اس سے وہ تمام چیزیں مراد ہیں جو قلب و نگاہ کو آلودہ کرنے اور فکری ژولیدگی پیدا کرنے کے لیے کی جاتی ہیں۔ تعلیم اور ابلاغ کے واسطے سے دل و دماغ کو اس طرح پراگندہ کردینا کہ صحیح راستے کی طرف سفر اس کے لیے ممکن نہ رہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو ایسا مخلوط ماحول دینا جس میں جنسی آوارگی کو کھل کھیلنے کا موقع ملے۔ غیر نصابی سرگرمیوں کے نام سے ایسی مصروفیات پیدا کردینا جس سے انسانیت سر پیٹ کے رہ جائے ‘ وضعی علوم کے ذریعے ایسے ایسے طریقے ایجاد کرنا جس سے فطری سادگی ختم ہوجائے اور ہر سیدھی بات کو بھی الجھا ہوا دکھایا جائے۔ جس طرح آنکھ کا فوکس بدل جائے یا آئینہ نگاہ میں تبدیلی آجائے تو ہر چیز ٹیڑھی دکھائی دیتی ہے اسی طرح جب سوچ کے زاویئے بدل دیئے جائیں تو ہر فطری حقیقت الجھی ہوئی دکھائی دیتی ہے اس طرح کی کوئی کوشش بھی اللہ کے دین میں کجی پیدا کرنے کی کوشش کہلاتی ہے۔ جہاں تک آخرت سے کفر کا تعلق ہے یہ تمام جرائم کی بنیاد اور ام الامراض ہے کیونکہ انسان میں بگاڑ کی جتنی صورتیں پیدا ہوتی یا محکم ہوتی ہیں اس کی بنیاد اس وقت پڑتی ہے جب آدمی اسی دنیا کی زندگی کو منزل قرار دے کر آخرت سے انکار کردیتا ہے۔ اس خشت اول کے ٹیڑھا ہوجانے کے بعد پوری دیوار ٹیڑھی اٹھتی چلی جاتی ہے جب دنیوی زندگی اخروی زندگی سے کٹ جاتی ہے تو پھر بے خدا تہذیب ‘ بے خدا تمدن اور بےمقصد زندگی کو پیدا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس ہی انسان کو برائی سے روکتا ہے جیسے ہی یہ تصور کمزور یا فنا ہوتا ہے تو ہر چیز فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہے اس لیے ان تین جرائم کو بنیادی جرائم قرار دے کر اس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور جہنم کو ان جرائم کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ اگلی آیات کریمہ میں جنت اور جہنم کے درمیان ایک دیوار کا ذکر کیا گیا ہے اور اس پر کچھ لوگوں کا بھی جو اہل جنت کو بھی دیکھیں گے اور اہل جہنم کو بھی باوجود اس کے کہ وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے لیکن ان کی سرخوشی پھر بھی چھپائے نہیں چھپے گی۔
Ayahs 7:46–47

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ Open ayah 7:46 in the Quran reader

اور ان دونوں گروہوں کے درمیان پردے کی دیوار ہوگی اور دیوار کی بلندیوں پر کچھ لوگ ہوں گے ‘ جو ہر ایک کو ان کی علامت سے پہچانیں گے اور وہ جنت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ سلامتی ہو تم پر۔ یہ لوگ جنت میں داخل تو نہیں ہوئے ‘ مگر اس کے امیدوارہوں گے۔

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:47 in the Quran reader

اور جب ان کو اہل دوزخ کی طرف توجہ دلائی جائے گی تو وہ کہیں گے ‘ اے رب ! ہمیں ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیے۔

ارشاد فرمایا گیا ہے : وَبَینَھُمَا حِجَابٌ ج وَ عَلَی الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ کُلًّا م بِسِیْمٰھُمْ ج وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ قف لَمْ یَدْخُلُوْھَا وَ ھُمْ یَطْمَعُوْنَ ۔ وَاِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُھُمْ تِلْقَآئَ اَصْحٰبِ النَّارِ لا قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 46، 47) ” اور ان دونوں گروہوں کے درمیان پردے کی دیوار ہوگی اور دیوار کی بلندیوں پر کچھ لوگ ہوں گے ‘ جو ہر ایک کو ان کی علامت سے پہچانیں گے اور وہ جنت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ سلامتی ہو تم پر۔ یہ لوگ جنت میں داخل تو نہیں ہوئے ‘ مگر اس کے امیدوارہوں گے۔ اور جب ان کو اہل دوزخ کی طرف توجہ دلائی جائے گی تو وہ کہیں گے ‘ اے رب ! ہمیں ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیے “۔ ہم اس آیت کی تشریح کے ضمن میں معارف القرآن سے استفادہ کرتے ہیں۔ جنت دوزخ والوں کے باہمی مکالمات کے ضمن میں ایک اور بات اس آیت میں بتلائی گئی کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو جہنم سے تو نجات پا گئے مگر ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے البتہ اس کے امیدوار ہیں کہ وہ بھی جنت میں داخل ہوجائیں ان لوگوں کو اہل اعراف کہا جاتا ہے۔ اعراف کیا چیز ہے ‘ اس کی تشریح سورة حدید کی آیات سے ہوتی ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ محشر میں لوگوں کے تین گروہ ہوں گے۔ ایک کھلے کافر و مشرک ان کو تو پل صراط پر چلنے کی نوبت ہی نہ آئے گی۔ پہلے ہی جہنم کے دروازوں سے اس میں دھکیل دیئے جائیں گے۔ دوسرے مومنین ان کے ساتھ نور ایمان کی روشنی ہوگی۔ تیسرے منافقین ‘ یہ چونکہ دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ لگے رہے وہاں بھی شروع میں ساتھ لگے رہیں گے اور پل صراط پر چلنا شروع ہوں گے اس وقت ایک سخت اندھیری سب کو ڈھانپ لے گی ‘ مومنین اپنے نور ایمان کی مدد سے آگے بڑھ جائیں گے اور منافقین پکار کر ان کو کہیں گے کہ ذرا ٹھہرو کہ ہم بھی تمہاری روشنی سے فائدہ اٹھائیں ‘ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کہنے والا کہے گا کہ پیچھے لوٹو وہاں روشنی تلاش کرو ‘ مطلب یہ ہوگا کہ یہ روشنی ایمان اور عمل صالح کی ہے ‘ جس کے حاصل کرنے کا مقام پیچھے گزر گیا جن لوگوں نے وہاں ایمان و عمل کے ذریعہ یہ روشنی حاصل نہیں کی ‘ ان کو آج روشنی کا فائدہ نہیں ملے گا ‘ اسی حالت میں منافقین اور مومنین کے درمیان ایک دیوار کا حصار حائل کردیا جائے گا ‘ جس میں ایک دروازہ ہوگا ‘ اس دروازہ کے باہر تو سارا عذاب ہی عذاب نظر آئے گا اور دروازہ کے اندر جہاں مومنین ہوں گے ‘ وہاں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا مشاہدہ اور جنت کی فضا سامنے ہوگی۔ یہی مضمون اس آیت کا ہے : یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِکُمْ ج قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآئَکُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا ط فَضُرِبَ بَیَْنَھُمْ بِسُوْرٍ لَّہٗ بَابٌ بَاطِنُہٗ فِیْہِ الرَّحْمَۃُ وَ ظَاھِرُہٗ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابُ ۔ اس آیت میں وہ حصار جو اہل جنت اور اہل دوزخ کے درمیان حائل کیا جائے گا ‘ اس کو لفظ سور سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ لفظ دراصل شہر پناہ کے لیے بولا جاتا ہے جو بڑے شہروں کے گرد غنیم سے حفاظت کے لیے بڑی مضبوط ‘ مستحکم ‘ چوڑی دیوار بنائی جاتی ہے۔ ایسی دیواروں میں فوج کے حفاظتی دستوں کی کمین گاہیں بھی بنی ہوتی ہیں ‘ جو حملہ آوروں سے باخبر رہتے ہیں۔ حجاب سے مراد ؟ سورة اعراف کی آیت مذکورہ میں ہے { وَبَینَھُمَا حِجَابٌ ج وَ عَلَی الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ کُلًّا م بِسِیْمٰھُمْج } ابن جریر اور دوسرے آئمہ تفسیر کی تحریر کے مطابق اس آیت میں لفظ حجاب سے وہی حصار مراد ہے جس کو سورة حدید کی آیت میں لفظ سور سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس حصار کے بالائی حصہ کا نام اعراف ہے کیونکہ اعراف عرف کی جمع ہے اور عرف ہر چیز کے اوپر والے حصہ کو کہا جاتا ہے کیونکہ وہ دور سے معروف و ممتاز ہوتا ہے اس تشریح سے معلوم ہوا کہ جنت و دوزخ کے درمیان حائل ہونے والے حصار کے بالائی حصہ کا نام اعراف ہے اور آیت اعراف میں یہ بتلایا گیا ہے کہ محشر میں اس مقام پر کچھ لوگ ہوں گے جو جنت و دوزخ دونوں طرف کے حالات کو دیکھ رہے ہوں گے اور دونوں طرف رہنے والوں سے مکالمات اور سوال و جواب کریں گے۔ اب یہ بات کہ یہ کون لوگ ہوں گے اور اس درمیانی مقام میں ان کو کیوں روکا جائے گا اس میں مفسرین کا اقوال مختلف اور روایات حدیث متعدد ہیں لیکن صحیح اور راجح جمہور مفسرین کے نزدیک یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے حسنات اور سیئات کے دونوں پلے میزان عمل میں برابر ہوجائیں گے ‘ اپنے حسنات کے سبب جہنم سے تو نجات پالیں گے لیکن سیئات اور گناہوں کے سبب ابھی جنت میں ان کا داخلہ نہ ہوا ہوگا اور بالآخر رحمت خداوندی سے یہ لوگ بھی جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ صحابہ کرام میں سے حضرت حذیفہ ‘ ابن مسعود ‘ ابن عباس ( رض) کا اور دوسرے صحابہ وتابعین کا یہی قول ہے اور اس میں تمام روایات حدیث بھی جمع ہوجاتی ہیں جو مختلف عنوانات سے منقول ہیں امام ابن جریر ( رح) نے بروایت حذیفہ ( رض) نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اہل اعراف کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی ‘ اس لیے جہنم سے تو نجات ہوگئی مگر جنت میں ابھی داخل نہیں ہوئے ‘ ان کو اس مقام اعراف پر روک لیا گیا ‘ یہاں تک کہ تمام اہل جنت اور اہل دوزخ کا حساب اور فیصلہ ہوجانے کے بعد ان کا فیصلہ کیا جائے گا اور بالآخر ان کی مغفرت ہوجائے گی اور جنت میں داخل کردیئے جائیں گے ‘ (ابن کثیر) ۔ ابن مردویہ نے بروایت حضرت جابر بن عبد اللہ ( رض) نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ اہل اعراف کون لوگ ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے والدین کی مرضی اور اجازت کے خلاف جہاد میں شریک ہوگئے اور اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے تو ان کو جنت کے داخلہ سے ماں باپ کی نافرمانی نے روک دیا اور جہنم کے داخلہ سے شہادت فی سبیل اللہ نے روک دیا۔ اس حدیث اور پہلی حدیث میں کوئی تضاد نہیں بلکہ یہ حدیث ایک مثال ہے ان لوگوں کی جن کی نیکیاں اور گناہ برابر درجہ کے ہوں ‘ کہ ایک طرف شہادت فی سبیل اللہ اور دوسری طرف ماں باپ کی نافرمانی ‘ دونوں پلے برابر ہوگئے۔ (کذاقالہ ابن کثیر)
Ayahs 7:48–49

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 7:48 in the Quran reader

پھر یہ اعراف کے لوگ دوزخ کی چند بڑی بڑی شخصیتوں کو ان کی علامتوں سے پہچان کر پکاریں گے کہ دیکھ لیا تم نے آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ سازوسامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:49 in the Quran reader

اور کیا یہ اہل جنت وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ان کو تو خدا اپنی رحمت میں سے کچھ بھی نہ دے گا ؟ داخل ہوجائو جنت میں ‘ تمہارے لیے نہ خوف ہے نہ رنج۔

گزشتہ آیات میں ہم نے یہ پڑھا ہے کہ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک دیوار ہوگی جس کی چوٹیوں پر کچھ لوگ ہوں گے جنھیں اصحاب الاعراف کہا گیا ہے وہ وہاں سے جنت اور جہنم کو دیکھ سکیں گے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن چونکہ دنیا کے طبعی قوانین کو ختم کردیں گے اور آخرت کے وہ حیرت انگیز قوانین نافذ ہوں گے جن کے نتیجے میں انسانی استعداد اور اس کے حواس میں بےپناہ وسعت پیدا ہوجائے گی آج جن چیزوں کو انسان نہیں دیکھ سکتا وہاں وہ بڑی آسانی سے بتمام و کمال ان چیزوں کو دیکھے گا اور جن آوازوں کو محدود حد تک سن سکتا ہے انھیں بےپایاں وسعتوں کے ساتھ سنے گا آج غفلت اور بیخبر ی کا جو پردہ ہماری صلاحیتوں پر تنا ہوا ہے اسے اتار دیا جائے گا اور ہر انسانی قوت کی طرح نگاہ بھی نہایت تیزی سے کام کرے گی ہر اوٹ کے پیچھے دیکھ سکے گی حتیٰ کہ عالم اسباب کے ماورا جو کچھ ہے اسے بھی جھانک سکے گی۔ قرآن کریم میں ایک جگہ فرمایا گیا ہے : لَقَد کُنْتَ فِیْ غَفْلَۃِ مِنْ ھٰذَا فَکَشَفْنَا اَنْتَ غِطَائَکَ فَبَصَرُکَ اَلْیَوْمَ حَدِیْد ” تو اس سے غفلت میں تھا پس ہم نے تجھ سے ہر پردے کو ہٹا دیا ہے آج تیری نظر نہایت تیز ہے “۔ چناچہ جنت اور جہنم اپنی تمام وسعتوں اور مسافتوں کے باوجود اہل جنت اور اہل جہنم کے لیے سامنے کی چیزوں میں تبدیل کردی جائیں گی۔ اہل جنت اہل جہنم کو دیکھ سکیں گے اور اہل جہنم اہل جنت کو۔ دونوں ایک دوسرے سے باتیں کرسکیں گے اور ایک دوسرے کے احوال کو دیکھ سکیں گے۔ اسی طرح اصحاب اعراف بھی ان دونوں کو دیکھیں گے۔ سب سے پہلے ان کی نگاہ اہل جنت پر پڑے گی اور وہاں کے باسیوں کو وہ پہچانیں گے اور پھر ان کی نگاہ جہنم کی طرف پھیری جائے گی تو وہ جہنم کی ہولناکیوں کو دیکھ کر اللہ سے دعا کریں گے کہ یا اللہ ہمیں ان سے محفوظ رکھنا اور پھر وہ جہنم کے بڑے بڑے لوگوں کو پہچان کر ان سے سوالات کریں گے۔ چناچہ پیش نظر آیات میں انہی سوالات کا ذکر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے : وَنَادٰٓی اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَھُمْ بِسِیْمٰھُمْ قَالُوْا مَٓا اَغْنٰی عَنْکُمْ جَمْعُکُمْ وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَکْبِرُوْنَ ۔ اَھٰٓؤُلَآئِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُھُمُ اللہ ُ بِرَحْمَۃٍ ط اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ لَا خَوْفٌ عَلَیْکُمْ وَلَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ ۔ (الاعراف : 48، 49) ” پھر یہ اعراف کے لوگ دوزخ کی چند بڑی بڑی شخصیتوں کو ان کی علامتوں سے پہچان کر پکاریں گے کہ دیکھ لیا تم نے آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ سازوسامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے اور کیا یہ اہل جنت وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ان کو تو خدا اپنی رحمت میں سے کچھ بھی نہ دے گا ؟ داخل ہوجاؤ جنت میں ‘ تمہارے لیے نہ خوف ہے نہ رنج “۔ اہلِ جنت و جہنم کی علامات پیش نظر آیت کریمہ اور گزشتہ سے پیوستہ آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اصحاب اعراف اہل جنت کو ان کی علامتوں سے پہچانیں گے اور جہنم کے بڑے بڑے لوگوں کو ان کی علامتوں سے پہچانیں گے اور پھر ان سے کچھ سوال کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ وہ ان کو کس طرح پہچانیں گے ؟ قرآن کریم سے بھی ہمیں اس کا جواب ملتا ہے اور احادیث پاک سے بھی۔ مسلم شریف کی ایک روایت ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ حضور آپ ہمیں قیامت کے دن کس طرح پہچانیں گے فرمایا کسی کے گھوڑے اگر پنج کلیان ہوں (یعنی گھوڑے کی پیشانی اور اس کے چاروں پائوں اگر سفید ہوں تو انھیں پنج کلیان کہا جاتا ہے) تو کیا باقی گھوڑوں میں سے انھیں پہچاننا مشکل ہے ظاہر ہے کہ ان کا پہچاننا مشکل نہیں بلکہ ان کی ان علامتوں سے باقی گھوڑوں میں سے ان کو آسانی سے پہچان لیا جائے گا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس امت کے نیک لوگوں اور نمازیوں کو پنج کلیان بنایا ہے یعنی ہم جو اپنے اعضا وضو میں دھوتے ہیں یعنی چہرہ ‘ دونوں ہاتھ اور دونوں پائوں یہ پانچوں اعضا قیامت کے دن نہایت روشن ہوں گے۔ ان اعضا کی روشنی سے رسول پاک ﷺ اپنی امت کے نیک لوگوں کو پہچانیں گے اور اہل جنت بھی انہی علامتوں کے ساتھ جنت میں داخل کیے جائیں گے اور ہر دیکھنے والا انھیں انہی علامتوں سے پہچانے گا اسی طرح اہل جہنم کی بھی معلوم ہوتا ہے کچھ علامتیں ہیں مثلاً سورة لہب میں یہ بتایا گیا ہے کہ ابولہب کی بیوی قیامت کے دن اس حال میں اٹھائی جائے گی کہ اس کی گردن میں لکڑیوں کا گٹھا باندھنے والی رسی ہوگی۔ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں جن لوگوں نے بھی اللہ کے رسول اور ان کے پیروکاروں کو جن اسباب کے تحت اذیتیں پہنچائی ہوں گی وہی ان کے ستم رانی کے طریقے ان کی علامت بنا دیئے جائیں گے۔ اس طرح قرآن کریم سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن صاحب ایمان لوگوں کے چہرے نہایت روشن اور تروتازہ ہوں گے۔ لیکن اس کے برعکس کافروں کے چہرے نہایت سیاہ اور مکروہ ہوں گے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں جو بڑے بڑے کفار ہوں گے جنھوں نے آئمہ کفر کی طرح اپنا رول ادا کیا ہوگا وہ اپنے چہروں کی بڑھی ہوئی سیاہی اور چہروں پر پڑی ہوئی لعنت سے پہچانے جائیں گے۔ جتنا کوئی بڑا کافر ہوگا اس کا چہرہ اتنا ہی زیادہ سیاہ اور مکروہ ہوگا اور کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ان کے چہروں پر اور بھی کوئی ایسی علامتیں ہوں جن کو دیکھ کر یہ اندازہ کرنے میں کوئی دشواری نہ پیش آئے کہ یہ ابوجہل ہے اور یہ ابولہب۔ ایسی ہی علامتوں سے اصحاب اعراف ان اہل جہنم کے بڑے بڑے کافروں کو پہچانیں گے اور پھر ان سے مختلف سوالات کریں گے۔ پہلا سوال ان کے رویے اور ان کے بعض مزعومات کے حوالے سے ہوگا ان کا رویہ یہ تھا کہ اسلام اور آنحضرت ﷺ کے مقابلے میں انھیں اپنی افرادی قوت ‘ اپنی کثرت تعداد اور اپنے مال و دولت پر بڑا فخر اور ناز تھا اور وہ بات بات پر مسلمانوں کو یہ طعنہ دیتے تھے کہ تمہارا دین اگر سچا ہوتا تو کیا اس کے قبول کرنے والے تم جیسے بےبس اور بےکس لوگ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ اپنی سچائی کے لیے یقینا ان لوگوں کو کھڑا کرتا جن کی بات میں وزن ہوتا ‘ لوگ جنھیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہوتے۔ تم غریب لوگ جنھیں کسی مجلس میں بار نہیں ملتا ‘ تمہاری بات سننے کا کوئی روادار نہیں ‘ تمہیں معاشرے میں کوئی عزت کا مقام حاصل نہیں ‘ عزت اور اہمیت کی بات بھی تمہاری زبانوں پر آجانے کے بعد اہمیت کھو دیتی ہے ‘ لوگ اسے سننے کے روادار نہیں ہوتے تو جس دین کو تم جیسے لوگ پسند کرتے ہیں یہ بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ اس دین میں کوئی قابل قبول بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زاویہ نگاہ بدل جانے سے الفاظ کا مفہوم اور حقیقتوں کے مصداق بدل جاتے ہیں غریب لوگوں نے آگے بڑھ کر اسلام کو سینے سے لگایا تو اشراف مکہ کی نگاہ میں یہ بات اسلام کی سبکی کا باعث بن گئی اور اسی کو دلیل بنا کر انھوں نے اسلام کو سچا مذہب اور سچادین سمجھنے سے انکار کردیا لیکن یہی بات قیصر روم کی نگاہ میں بالکل ایک دوسرا مفہوم رکھتی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے جب خطوط کے ذریعے سلاطین عالم کو اسلام کی دعوت دی تو قیصر روم کو بھی اسی سلسلے میں آپ نے ایک مکتوب گرامی لکھا۔ چناچہ جب اس کو یہ مکتوب ملا تو بجائے اس کے کہ وہ کسریٰ ایران کی طرح توہین آمیز رویہ اختیار کرتا اور اس مکتوب کو پھاڑ کر پھینک دیتا اس نے نہایت احترام سے اس کو وصول کیا اور کہا کہ یہاں کچھ عرب اگر تجارت کے سلسلے میں آئے ہوئے ہوں تو انھیں میرے پاس لائو تاکہ اس نبوت کے دعوے دار کے بارے میں میں ان سے تحقیق کرسکوں اتفاق سے ابو سفیان جو ان دنوں اسلام کے بدترین دشمن تھے وہ وہاں موجود تھے۔ انھیں ان کے ساتھیوں سمیت قیصر روم کے سامنے پیش کیا گیا۔ قیصر نے جہاں اور کئی سارے سوالات کیے وہیں ان سے یہ بھی ایک سوال کیا کہ اس نبی پر ایمان لانے والے کون لوگ ہیں امیر یا غریب ؟ ابو سفیان نے جواب دیا کہ غریب لوگ ہیں۔ قیصر بجائے اس کے کہ اشراف مکہ کی طرح اس بات سے یہ نتیجہ اخذ کرتا کہ جس نبی کی دعوت کو غریب لوگ قبول کریں وہ اس قابل نہیں کہ اس پر غور بھی کیا جاسکے اس نے اس کے بالکل برعکس یہ کہا کہ اگر واقعی اس پر ایمان لانے والے غریب لوگ ہیں تو وہ اللہ کا سچا نبی ہے کیونکہ نبیوں پر سب سے پہلے ایمان لانے والے ہمیشہ غریب لوگ ہی ہوتے ہیں۔ امراء تو اس وقت شریک ہوتے ہیں جب قافلہ بن جاتا ہے۔ حقیقت بھی یہ ہے کہ امراء کا طبقہ چونکہ اپنے ساتھ بیشمار مالی مفادات رکھتا ہے معاشرے میں حاصل کردہ مقام و مرتبہ کے تحفظ کی اسے فکر رہتی ہے وہ جب دیکھتا ہے کہ نئے دین کی دعوت کو قبول کرنے کے نتیجے میں بہت سارے مالی مفادات کو چھوڑنا پڑے گا ہوسکتا ہے بہت کچھ ایثار کرنا پڑے تو مال و دولت کی محبت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی شخصی بزدلی کے باعث وہ اسلام کی طرف آنے سے انکار کردیتا ہے اور مال و دولت کے وہ پتھر جو اس کی ذات کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں وہ اسے ایثار و قربانی کے اس دریا میں اترنے سے روکتے ہیں وہ جانتا ہے کہ اگر میں ان پتھروں سمیت دریا میں اترا تو ڈوب جاؤں گا اس لیے کسی بھی انقلاب کے پس پردہ اگر آپ جھانک کے دیکھیں تو انقلاب کی جان اور انقلاب کی قوت ہمیشہ غربا کا طبقہ رہا۔ امراء میں ایسے خوش قسمت لوگ بھی ہوتے ہیں جو شروع ہی میں پیغمبر کی دعوت کو قبول کر کے اپنے مال و دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور اللہ کے یہاں بڑے مقام کے مالک بن جاتے ہیں لیکن طبقہ امراء کے بیشتر لوگ ہمیشہ انقلاب کی آگ سے دور رہتے ہیں بلکہ عموماً ان کا مقام اور ان کا اثر و رسوخ اور ان کا مال و دولت انقلاب کے رستے کی رکاوٹ بنتا ہے اور وہ اگر شریک ہوتے بھی ہیں تو اس وقت جب وہ دیکھتے ہیں کہ اب یہ انقلاب اپنی کامیابیوں کی طرف بڑھ رہا ہے یہی حال اشراف مکہ کا بھی تھا وہ اپنے موجودہ مقام و مرتبہ ‘ اپنی خوشحالی اور خوش عیشی کو کسی طرح چھوڑنے کو تیار نہیں تھے بلکہ اسے اپنی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کرتے تھے۔ اس لیے سب سے پہلا سوال جو اصحاب اعراف ان اہل جہنم کے بڑے بڑے سرداروں سے کریں گے وہ یہی ہوگا کہ بتائو تمہاری یہ جمعیت اور تمہارا مال و دولت تمہارے کس کام آیا جسے تم اپنے سچا ہونے کی دلیل کے طور پر پیش کرتے تھے اس دلیل نے تمہیں کیا فائدہ دیا اور دوسرا سوال ان کے استکبار کے حوالے سے ہوگا۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ دیکھو تم دنیا میں ہمیشہ مسلمانوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور تم پسند نہیں کرتے تھے کہ کوئی غریب آدمی تمہیں مخاطب کرنے کی جرأت بھی کرسکے اور اسی تکبر کے نتیجے میں تم ان کی کسی بات کو وزن دینے کو تیار نہیں تھے بلکہ تم قسمیں کھا کھا کر یہ کہتے تھے کہ یہ غریب لوگ جن کو جنت کی طلب نے اندھا کردیا ہے نجانے یہ اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے یہ کبھی اللہ کی رحمت کے سزاوار نہیں ہوسکتے اگر یہ اس کی رحمت کے مستحق ہوتے تو دنیا میں اس بےسروسامانی کے ساتھ زندگی نہ گزارتے یہ نان شبینہ کے محتاج لوگ کیا اس قابل ہیں کہ انھیں جنت کا وارث بنادیا جائے۔ اصحاب اعراف ان سے کہیں گے کہ دیکھو جن لوگوں کے بارے میں تم قسمیں کھا کر یہ کہتے تھے کہ یہ کبھی اللہ کی رحمت کے مستحق نہیں ہوں گے وہی آج جنت میں ہیں اور تم جہنم میں پڑے جل رہے ہو۔ بتائو تمہارے اس تکبر نے تمہیں آخر کیا فائدہ پہنچایا۔ اہل جہنم سے یہ سوال اصلاً مشرکین مکہ ‘ مشرکین عرب اور دنیا بھر کی لادینی قوتوں سے کیا جا رہا ہے۔ اس لیے کہ ہر جگہ کا کفر انہی دو امراض کا شکار ہے کہ یا ان کو اپنی جمعیت اور اپنے مال و دولت کی کثرت پر ناز ہے اور اسی کو وہ اپنے برسرحق ہونے کی دلیل بھی سمجھتے ہیں اور یا انھیں اپنی قوت کے باعث تکبر کا مرض لاحق ہوگیا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو جنت کا مستحق بھی سمجھتے ہیں اور غریب مسلمانوں کو نہ وہ دنیا میں کسی قابل سمجھتے ہیں اور نہ آخرت کا سزاوار جانتے ہیں اور یہاں واقعاتی دنیا کو سامنے رکھ کر اور انجام سے پردہ اٹھا کر یہ بتایا جا رہا ہے کہ اللہ کے یہاں نجات پانے اور کسی مقام کو حاصل کرنے کے لیے لاؤلشکر کی کثرت اور دولت اور قوت کی فراوانی کوئی معنی نہیں رکھتی بلکہ وہاں جو چیز عزت حاصل کرسکے گی وہ ہر آدمی اور ہر قوم کا کا ایمان و عمل اور اس کا ذاتی کردار ہوگا۔ جنت میں داخل ہونے کا مفہوم کیا ہے ؟ اور اس کے مخاطب کون ہیں ؟ اس کے بعد فرمایا جنت میں داخل ہوجاؤ جنت میں جانے کے بعد نہ تمہیں کوئی خوف ہوگا اور نہ حزن ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ یہ جنت میں داخلے کا حکم کسے دیا جا رہا ہے ؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے جس کی طرف ہمارے بیشتر مفسرین گئے ہیں کہ یہ حکم اصحاب اعراف کو ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو جہنم سے بچا لیے جائیں گے لیکن ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے دونوں کے درمیان اپنے بہتر انجام کی آرزو لیے منتظر ہوں گے انہی سے فرمایا جا رہا ہے کہ اب تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم اب تک جس خوف اور جن اندیشوں کا شکار رہے ہو آئندہ اس کا کوئی امکان نہیں ہوگا اور دوسری صورت یہ ہے کہ اس سے مراد اہل جنت ہوں ‘ ان کو جنت میں داخلے کا حکم دیا جا رہا ہے اگر یہ مراد لیا جائے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہل جنت تو جنت میں پہنچ چکے ان کو داخلے کا حکم دینے کا کیا مطلب ؟ بات اصل میں یہ ہے کہ عربی زبان میں فعل ہر جگہ اپنے ابتدائی معنی ہی پر دلیل نہیں ہوا کرتا بلکہ بعض مواقع میں وہ تمکن و استمرار پر دلیل ہوتا ہے یعنی مقصود اس سے یہ نہیں ہوتا کہ یہ کام کرو بلکہ مقصود یہ ہوتا ہے کہ اس کام کے جو حقیقی فوائد اور حقیقی مقاصد ہیں انھیں حاصل کرو اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے خاندان کو جب ان کے وطن سے مصر میں بلایا تو آپ کے بھائی اپنے والدین سمیت جب مصر میں داخل ہوئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے باقاعدہ دربار میں ان کا استقبال کیا۔ والدین کو اپنے پہلو میں بٹھایا اور اس کے بعد فرمایا، جس کو قرآن کریم بیان کرتا ہوا کہتا ہے : فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰی یُوْسُفَ اٰوٰٓی اِلَیْہِ اَبَوَیْہِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَا نْشَآئَ اللہ ُ آمِنِیْنَ ” پس جب وہ یوسف کی خدمت میں حاضر ہوئے اس نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا مصر میں داخل ہو انشاء اللہ امن کے ساتھ “ (یوسف : 99) غور فرمایئے ! انھیں مصر میں داخل ہونے کے لیے کہا جا رہا ہے حالانکہ وہ مصر میں داخل ہوچکے ہیں اس لیے اس کا مفہوم داخل ہونا تو مراد نہیں لیا جاسکتا یقینا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) انھیں اس داخلے پر مبارکباد دے رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ یہ نہ سمجھئے کہ آپ مصر میں ایک مہمان کے طور پر تشریف لائے ہیں بلکہ یہ آپ کا وطن ہے اب آپ کو یہیں زندگی گزارنی ہے اس لیے یہاں ایک معزز شہری کے طور پر جو رول آپ کو ادا کرنا چاہیے اسے ادا کیجیے اور وطن کی جو نعمتیں آپ کی ضرورت ہوں اور آپ کو مطلوب ہوں انھیں آگے بڑھ کر حاصل کیجیے اور ان کا حق ادا کیجیے۔ اس آیت کریمہ میں بھی معلوم ہوتا ہے اہل جنت سے یہی کہا جا رہا ہے کہ اب آپ جنت میں اللہ کے فضل سے آچکے ہیں اس کی ایک ایک نعمت پر آپ کا حق ہے اب یہاں کبھی آپ کو اندیشے پریشان نہیں کریں گے یہاں سے کبھی آپ کو نکالانھیں جائے گا بس یوں سمجھئے کہ یہ جنت آپ کے لیے ہے اور آپ اس کے لیے ہیں اب آپ کو یہاں خوش عیشی کی زندگی گزارنی ہے۔ بقول شاعر مزے لوٹو کلیم اب بن پڑی ہے بڑی اونچی جگہ قسمت لڑی ہے اہل جہنم اصحاب اعراف کے سوالوں کا سوائے خاموشی کے اور کوئی جواب نہیں دے سکیں گے لیکن اسی اثناء میں جب اللہ تعالیٰ اصحاب اعراف کو جنت میں داخلے کا حکم دیں گے تو ان کی محرومیاں اور بھڑک اٹھیں گی اور یہ بےساختہ اہل جنت کو پکارنا شروع کردیں گے۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں اسی کا ذکر فرمایا جا رہا ہے اور ساتھ ہی جہنم میں پہنچانے والے ان اعمال کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے جن کی وجہ سے یہ لوگ جہنم میں پہنچے ہیں اور ہر زمانے کے لوگ ایسے ہی اعمال کے نتیجے میں جہنم میں پہنچیں گے اس لیے اس میں جہاں اہل جہنم کے انجام کو دیکھتے ہوئے عبرت حاصل ہوتی ہے وہیں ان کی فرد جرم کو دیکھتے ہوئے ہر دور کا انسان اس سے بچنے کی کوشش بھی کرسکتا ہے۔