Ayah 7:142وَوٰعَدْنَا مُوْسٰی ثَلٰثِیْنَ لَیْلَۃً وَّ اَتْمَمْنٰہَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّہٖٓ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ج وَ قَالَ مُوسٰی لِاَخِیْہِ ھٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَاَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ ۔
(الاعراف : 142)
” اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور اس کو پورا کیا دس مزید راتوں سے تو اس کے رب کی مدت چالیس راتوں میں پوری ہوئی اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم میں میری جانشینی کرنا ‘ اصلاح کرتے رہنا اور مفسدوں کی روش کی پیروی نہ کرنا “۔
واعدنا کا مفہوم
اس آیت کریمہ کا پہلا لفظ { وَاعَدْنَا } وعدہ سے مشتق ہے اور وعدہ کی حقیقت یہ ہے کہ کسی کو نفع پہنچانے سے پہلے اس کا اظہار کردینا کہ ہم تمہارے لیے فلاں کام کریں گے اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنا کلام نازل کرنے کا وعدہ فرمایا اور اس کے لیے شرط لگائی کہ تیس راتیں کوہ طور پر اعتکاف اور ذکر اللہ میں گزارو اور پھر ان تیس پر اور دس راتوں کا اضافہ کر کے چالیس کردیا۔ لفظ { وَاعَدْنَا } کے اصلی معنی دو طرف سے وعدے اور معاہدے کے آتے ہیں۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطائِ تورات کا وعدہ تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے تیس چالیس راتوں کے اعتکاف کا اسی لیے بجائے وعدنا کے واعدنا فرمایا۔
مدتِ موعود پر اضافے کا سبب ؟
اس آیت کریمہ میں یہ بات تو واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا کرنے کے لیے بلایا تھا اور اس کے لیے پہلے تیس راتوں کے اعتکاف کا حکم دیا اور پھر دس راتوں کا اضافہ فرما دیا۔ سوال یہ ہے کہ یہ دس راتوں کا اضافہ کیوں فرمایا گیا ؟ اہل علم کی جانب سے اس سلسلے میں مختلف باتیں کہی گئی ہیں۔
1 ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ ” ویلمی نے حضرت ابن عباس ( رض) سے ایک روایت نقل کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک ماہ کا اعتکاف ختم ہوگیا تو انھوں نے خدائے تعالیٰ سے ہم کلامی کی تیاری شروع کی چونکہ مسلسل ایک ماہ روزہ ہی میں بسر کیے تھے اس لیے منہ میں بو محسوس کرتے تھے لہٰذا انھوں نے یہ پسند نہیں کیا کہ رب العالمین سے اس حالت میں ہم کلام ہوں اور انھوں نے ایک خوشبودار بوٹی کو چبا لیا اور کھالیا ‘ فوراً ہی وحی الٰہی نے ٹوکا ‘ موسیٰ ! تم نے ہم کلامی سے پہلے روزہ کیوں افطار کرلیا ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی وجہ بیان کردی تب حکم ہوا کہ موسیٰ اس مدت کو دس دن بڑھا کر چالیس دن کرو ‘ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہمارے یہاں ایک روزہ دار کے منہ کی بو بھی مشک کی خوشبو سے زیادہ محبوب ہے اور اس طرح یہ چلہ پورا ہوا “۔
اسی طرح بعض اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے آخری روز منہ کی بو ختم کرنے کے لیے مسواک فرما لی تھی جس وجہ سے دس دن کا مزید اضافہ کردیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی روایات اسماء الرجال کی محققین کی نگاہ میں قابل اعتماد نہیں ہیں۔ اس لیے ان روایات سے استشہاد کرنا صحیح معلوم نہیں ہوتا اور اس بنیاد پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کسی بوٹی کھانے یا مسواک کرنے سے منہ کی جو بو دور ہوگئی تھی وہ چونکہ اللہ تعالیٰ کو بہت پسند تھی اس لیے مزید دس دن کے اعتکاف اور روزے کا حکم دیا گیا تھا۔
بعض اہل علم نے سورة طٰہٰ کی آیت نمبر 84 سے استشہاد کرتے ہوئے اس کی ایک اور وجہ سمجھی ہے وہ یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی قوم کو ساتھ لے کر وادیٔ ایمن کے دائیں طرف پہنچنے کا حکم دیا گیا تھا پھر قوم کو وہاں چھوڑ کر موسیٰ (علیہ السلام) کو وہاں پہنچنا تھا جہاں کوہ طور پر آپ کو نبوت عطا کی گئی تھی لیکن ابھی قافلہ راستے ہی میں تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے حضور حاضری کے حد سے بڑھے ہوئے شوق سے بےتاب ہو کر اکیلے ہی آگے بڑھ گئے اور قوم کی دیکھ بھال کی ذمہ داری حضرت ہارون کے سپرد کر گئے چناچہ سورة طٰہٰ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس عجلت پر پروردگار نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جواب طلبی کی کہ ” تم اپنی قوم کو پیچھے چھوڑ کر اکیلے کیوں چلے آئے “ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے قرآن کریم کے بیان کے مطابق جواب دیا کہ ” اے میرے رب میری قوم کے لوگ بھی بس میرے پیچھے ہی ہیں اور میں وقت موعود سے ذرا پہلے تیری خوشنودی کے لیے چلا آیا “۔ چناچہ یہ عجلت جو سراسر اللہ سے محبت کے جوش میں وجود میں آئی تھی چونکہ ایک بڑے حادثے کا سبب بنی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس عجلت و سبقت پر گرفت فرمائی اور اس کی حکمت تربیت مقتضی ہوئی کہ تیس دن کی مقررہ مدت بڑھا کر چالیس دن کردی جائے اگرچہ آپ کی یہ عجلت جیسا کہ عرض کیا گیا محض فرطِ شوق کا نتیجہ اور خدا کی رضا طلبی کے لیے تھی اس پہلو سے یہ کوئی برائی نہیں بلکہ محبت الٰہی کا تقاضہ تھی لیکن یہی عجلت ان کے لیے ایک شدید آزمائش اور اس قوم کے لیے ایک سخت فتنہ بن گئی۔ ان کی قوم کے اندر جو اشرار و مفسدین تھے انھوں نے اس غیبت سے فائدہ اٹھا کر قوم کو گوسالہ پرستی میں مبتلا کردیا اور حضرت ہارون اپنی انتہائی کوشش کے باوجود صورتحال پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی خداداد ذہانت اور نور نبوت سے اچھی طرح اس بات کو سمجھتے تھے کہ ان کی قوم کا مزاج سخت منفعل واقع ہوا ہے اور مزید یہ کہ ان کی قوم میں منافقین اور مفسدین کا ایک گروہ موجود ہے جو ان کی غیر حاضری میں کوئی فتنہ اٹھا سکتا ہے اور یہ گروہ آپ کے جلال اور شخصیت کی ہیبت سے تو دبا رہتا تھا لیکن حضرت ہارون (علیہ السلام) کی نگرانی میں اس بات کا امکان بہرحال موجود تھا کہ وہ ان کی طبعی نرمی سے فائد اٹھا کر شاید کوئی گل کھلانے میں کامیاب ہوجائیں اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ضرور احساس ہوگا کہ میری چند روزہ غیر حاضری اس غیر تربیت یافتہ قوم کے لیے کسی حادثے کا سبب نہ بن جائے لیکن غلبہ شوق میں وہ ان پہلوئوں کو نظرانداز فرما گئے اور اس کا نتیجہ نہایت خطرناک شکل میں سامنے آیا۔
انبیاء کے معصوم ہونے کا مفہوم
یہاں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ بظاہر یہ تدبیر کی غلطی معلوم ہوتی ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر ہیں ان سے اس غلطی کا صدور کیسے ہوا ؟ بات یہ ہے کہ پیغمبر گناہوں کے ارتکاب سے تو بالکل معصوم اور پاک ہوتے ہیں لیکن اگر کبھی ان سے کوئی لغزش صادر ہوتی ہے تو وہ اتباع ہَویٰ کی نوعیت کی نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھی وہ حق اور خدا کی رضا طلبی کی راہ میں حد مطلوب سے متجاوز ہوجاتے ہیں یہ چیز فی نفسہٖ کوئی برائی نہیں لیکن حضرات انبیاء (علیہ السلام) چونکہ میزان حق ہوتے ہیں اور ان کا ہر قول و فعل دوسروں کے لیے نمونہ ہوتا ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی اس طرح کی باتوں پر بھی گرفت فرماتا ہے چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی اس عجلت پر گرفت ہوئی اور جس کی وجہ سے تیس راتوں کی بجائے دس راتوں کا اضافہ کردیا گیا۔
حاصل کلام یہ کہ الفاظ میں گنجائش یقینا اس احتمال کی ہے جس کا ذکر کیا گیا ہے لیکن یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے جس طرح اس سے پہلے پس منظر بیان کرتے ہوئے میں نے عرض کیا ہے کہ جب بھی اللہ تعالیٰ اپنے کسی برگزید پیغمبر کو کتاب ہدایت عطا فرماتے ہیں تو کتاب کے نزول سے پہلے کلام خداوندی کا تحمل پیدا کرنے اور کلام خداوندی سے طبعی موافقت پیدا کرنے کے لیے اس طرح کے تربیتی مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ چناچہ یہ بھی ایسا ہی تربیتی مرحلہ تھا جس کی مدت پہلے تیس دن رکھی گئی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت تربیت سے اس میں دس دن کا اضافہ فرما دیا جس کی حقیقت کو پروردگار کے سوا کوئی نہیں جان سکتا لیکن یہ بات تو واضح ہے کہ اس کا تعلق بہرحال تربیت سے تھا اور کسی چیز سے نہیں۔
اس آیت کریمہ کے آخری حصے میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب کوہ طور پر جانے لگے تو آپ نے اپنی غیر حاضری میں حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اپنا جانشین بنایا۔ ہارون (علیہ السلام) اگرچہ آپ سے تین سال بڑے تھے لیکن ان کی حیثیت آپ کے معاون اور ماتحت کی تھی کیونکہ انھیں نبوت آپ کی دعا کے نتیجے میں دی گئی تھی۔ جب کوہ طور پر آپ کو نبوت دی گئی اور آپ کو حکم دیا گیا کہ فرعون کے پاس جاؤ وہ بہت سرکش ہوگیا ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرض کی اہمیت و عظمت اور مشکلات کو دیکھتے ہوئے چند دعائیں مانگی تھیں ان میں سے ایک دعا یہ بھی تھی کہ یا اللہ میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا دے تاکہ اس عظیم ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے میں وہ میرے معاون ہوں اور میرے لیے دست وبازو ثابت ہوں۔ چناچہ آپ کی یہ دعا قبول کی گئی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو نبوت عطا کی گئی۔ اسی حیثیت کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون کو اپنا خلیفہ بنایا۔ جس سے یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی ذمہ داری ان تمام فرائض کو ادا کرنا ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بطور رسول ہونے کے ادا کرتے تھے اور ساتھ ہی یہ بھی ہدایت فرمائی کہ بنی اسرائیل ابھی ایک ناتربیت یافتہ قوم ہیں قدم قدم پر انھیں اصلاح کی ضرورت ہے اس لیے ہر وقت ان کی اصلاح کی فکر اور مسلسل نگرانی کرنا۔ جہاں کہیں خرابی دیکھو اس کی درستی کی کوشش کرنا اور تیسری بات یہ فرمائی کہ اس قوم میں ایک مفسدین کا گروہ بھی پایا جاتا ہے دیکھنا وہ میری غیر حاضری سے فائدہ نہ اٹھانے پائیں۔ انھیں حتی الامکان کنٹرول کرنے کی کوشش کرنا اور اگر وہ زور پکڑ لیں تو تم ان کے راستے پر چلنے کے لیے کبھی تیار نہ ہونا یعنی پیغمبر دنیا میں باطل اور کفر کے ساتھ کبھی سمجھوتہ (Compromise) نہیں کرتا۔ اس کی اپنی ذات اس کی دعوت اور اس کے استدلال کا انداز ہمیشہ اپنے اندر ایک انفرادیت رکھتا ہے جس سے مسلسل حق کا اظہار ہوتا ہے۔ جس طرح روشنی اور تاریکی کبھی آپس میں ایک نہیں ہوتیں بلکہ ہرحال میں الگ الگ پہچانی جاتی ہیں اسی طرح پیغمبر اور اس کی دعوت ہمیشہ ایک مینارہ نور بن کر انسانی ہدایت کا کام کرتے ہیں۔ یہ ہدایات دے کر اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ذمہ داریاں سونپ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور کی طرف روانہ ہوگئے۔ چناچہ جتنے دنوں کے اعتکاف کا حکم دیا گیا تھا اسے مکمل کرنے کے بعد بارگاہ حق میں جب حاضری دی تو وہاں جو کچھ پیش آیا اور جو گزارشات پیش کیں۔ اگلی آیت کریمہ میں اس کا تذکرہ فرمایا جا رہا ہے :
Ayah 7:143وَلَمَّا جَآئَ مُوْسٰی لِمِیْقَاتِنَا وَکَلَّمَہٗ رَبُّہٗ لا قَالَ رَبِّ اَرِنِیْٓ اَنْظُرْ اِلَیْکَ ط قَالَ لَنْ تَرٰنِیْ وَ لٰکِنِ اْنْطُرْاِلَی الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَہٗ فَسَوْفَ تَرٰنِیْ ج فَلَمَّا تَجَلّیٰ رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰی صَعِقًا ج فَلَمَّآ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَکَ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الاعراف : 143)
” اور جب موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر حاضر ہوا اور اس سے اس کے رب نے کلام کیا تو اس نے درخواست کی کہ اے میرے رب مجھے موقع دے کہ میں تجھے دیکھ لوں فرمایا تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے البتہ پہاڑ کی طرف دیکھو اگر یہ اپنی جگہ پر ٹکا رہ سکے تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے تو جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گرپڑا پھر جب ہوش میں آیا بولا تو پاک ہے میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں پہلا ایمان لانے والا بنتا ہوں “۔
موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے لذت کیف وسماع کے بعد لذت دیدار کی خواہش
وعدہ کے مطابق چلہ مکمل کرنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب بارگاہِ حق میں حاضر ہوئے اور مولا کریم سے شرف ہم کلامی حاصل ہوا تو طبیعت میں محبت کی جو چنگاری سلگ رہی تھی وہ شعلہ بن کر بھڑک اٹھی تو بےساختہ زبان پر ایک ایسی درخواست آگئی عام حالات میں جس کا تصور بھی شاید پیغمبر کے لیے مشکل ہو۔ غایتِ کیف و انبساط میں عرض کیا الٰہی جب تو نے مجھ کو لذت کیف و سماع سے نوازا ہے تو پھر لذت مشاہدہ و دیدار سے کیوں محروم رہوں ‘ اس سے بھی سرفراز فرما۔ پروردگار نے فرمایا موسیٰ تم مشاہدہ ذات کی تاب نہ لا سکو گے اچھا دیکھو ہم اپنی ذات کی تجلی کا ظہور اس پہاڑ پر کریں گے۔ اگر یہ تجلی کو برداشت کرلے تو پھر تم یہ سوال کرنا اس کے بعد طور پر حضرت حق کی تجلی کا ظہور ہوا تو پہاڑ کا وہ حصہ ریزہ ریزہ ہوگیا اور حضرت موسیٰ بھی اس نظارہ کی تاب نہ لا کر بےہوش ہوگئے اور گرپڑے۔ تجلی کے لیے پہاڑ کو اس لیے متعین فرمایا تھا کہ جہاں تک تحمل و برداشت کا تعلق ہے مخلوقات میں پہاڑ اس صفت میں سب سے زیادہ متصف ہے۔ بڑے سے بڑے حادثے ‘ بڑے سے بڑے دھماکے اور زلزلے کو برداشت کرلینا پہاڑوں ہی کا کام ہے۔ یہ صحیح ہے کہ بعض دفعہ ان میں بھی دراڑیں پڑجاتی ہیں لیکن وہ باقی مخلوقات کی طرح ان حوادث سے مسمار نہیں ہوتے۔ اب اگر پہاڑ بھی اپنی بےپناہ تحمل و برداشت کے باوجود ذات الٰہی کی معمولی تجلی کو بھی برداشت نہ کر پائے تو انسان جسے بڑی محدود قوت برداشت عطا کی گئی ہے وہ کیونکہ اسے برداشت کرسکتا ہے۔ انسانی آنکھ باوجود اس کے کہ آفتاب بھی ایک مخلوق ہے ‘ کا تحمل نہیں کرسکتی۔ آفتاب پوری طرح چمک رہا ہو تو کھلی آنکھوں سے اس کا دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ حد سے زیادہ تیز روشنی آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہے بلکہ بعض اوقات بینائی ہی سلب ہوجاتی ہے۔ بجلی کا کڑکا ذرا حد سے بڑھ جائے تو کان کے پردے بیکار ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ یہ معمولی مخلوقات ہیں جب ان کے سامنے انسان کی کمزوری کا یہ حال ہے تو اللہ کی وہ ذات جو نور مطلق اور تمام چون و چگوں سے ماورا اور بالاتر ہے ‘ انسان اس کی ذات کے مشاہدے کا متحمل کب ہوسکتا ہے۔ اس لیے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہوش آیا تو انھیں اپنی جسارت کا احساس ہوا تو فوراً خدائے برتر کی حمد وثناء کی اور اپنی درخواست سے رجوع کرتے ہوئے معافی چاہی اور کہا کہ میں اقرار کرتا ہوں اور ایمان لاتا ہوں کہ تیرے جمال کی تجلی و عرفان اور نمود حق میں کوئی کمی نہیں نقصان صرف میری اپنی ہستی کے عجز اور بےچارگی کا ہے۔ کوئی اور اس عجز کا اعتراف تو مجھے دیکھ کر کرے گا میں سب سے پہلے سراپا عجز بن کر اس کا اعتراف کرتا ہوں۔
حقیقت یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ یہ پیش آنے والا واقعہ بنی اسرائیل کی ایک بنیادی کمزوری کا علاج تھا جس کا وہ ہمیشہ شکار رہے۔ قرآن کریم اور سابقہ آسمانی کتابوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل انبیاء کرام کی اولاد اور ان کی صحبتوں سے مستفیض ہونے کے باوجود محسوس پرستی کی سطح سے اجتماعی طور پر کبھی اوپر نہ اٹھ سکے بار بار وہ اللہ کو براہ راست دیکھنے کا مطالبہ کرتے رہے یا ایسے ایسے معجزات مانگتے رہے جس سے ان کی اس محسوس پرستی کو غذا مل سکے اور وہ بہت کم اس بات کو سمجھ پائے کہ مخلوقات میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کو انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتا اپنے کانوں سے سن نہیں سکتا ‘ اپنی قوت ذائقہ سے چکھ نہیں سکتا اور اپنے ہاتھوں سے چھو نہیں سکتا لیکن پھر بھی اسے تسلیم کرتا ہے اور بعض مخلوقات ایسی ہیں جنھیں محسوس کرنا بھی مشکل ہے لیکن ہم انھیں پھر بھی تسلیم کرتے ہیں اللہ کی ذات تو نور مطلق اور بےچون وچگاں ذات ہے جس کا ادراک کرنے سے عقل بھی عاجز ہے۔ چہ جائیکہ اسے احساس کی گرفت میں لانے کی کوشش کی جائے ‘ اسے صفات کے آئینہ میں سمجھا جاتا ہے اور دل کے احساس سے مانا جاتا ہے اس کے سوا اس کی بارگاہ تک رسائی کی کوئی صورت نہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس تجربے سے اس حقیقت کا ادراک کرانا مقصود تھا کہ انسان اپنی بےپناہ صلاحیتوں کے باوجود پیغمبر ہو کر بھی اللہ کی بارگارہ میں ایک انسان سے زیادہ نہیں وہ اللہ کی ذات کے بارے میں صرف وہی کچھ جان سکتا ہے جو اللہ کو منظور ہو موسیٰ (علیہ السلام) پیغمبر ہوتے ہوئے شرف ہم کلامی سے باریاب کیے گئے کیونکہ اللہ نے انھیں یہ اعزاز دینا چاہا اگر وہ ازخود چاہتے تو کبھی ایسا نہ کرپاتے انھوں نے پروردگار کو دیکھنے کی خواہش کی تو یہ چونکہ اس عالم ناسوت میں اللہ کے تکوینی نظام کے خلاف ہے اس لیے اسے منظور نہیں فرمایا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبر کے ساتھ اللہ کا معاملہ یہ ہے تو کوئی فرد یا کوئی قوم اگر اللہ کو دیکھنے کا دعویٰ کرے یا اس کے دیدار کو اپنی منزل قرار دے لے تو یہ ایک ایسی جسارت ہے جسے حدود سے تجاوز کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ بنی اسرائیل اس حد سے چونکہ بار بار تجاوز کرنے والے تھے اس لیے پہلے ہی مرحلہ پر موسیٰ (علیہ السلام) کے اس تجربے سے ان کی راہنمائی کا سامان کردیا گیا لیکن افسوس یہ ہے کہ انھوں نے اس راہنمائی سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا لیکن یہ شکایت صرف انھیں سے شائد مناسب نہ ہو یہ ایک ایسا مرض ہے جو ہر قوم میں کم و بیش موجود رہا ہے اسی مرض نے آگے بڑھ کر شرک کی مختلف صورتیں اختیار کیں اور اللہ کی بےمثال ذات کو اپنے حلقہ تصور میں اپنی ناتمامیِ فکر کے مطابق سمیٹنے کی کوشش کی ہے جب بھی کسی مشرک قوم کی طرف اللہ کا کوئی نبی توحید کی دعوت لے کر آیا ہے تو انھیں اللہ کی ذات اور اس کی صفات کی یکتائی کو سمجھنے کے لیے یہی رکاوٹ پیش آئی۔ اقبال نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا ؎
خوگرِ پیکر ِ محسوس تھی انساں کی نظر
مانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکر
یہ امت اسلامیہ جو توحید کی سب سے بڑی علمبردار ہے اس میں بھی ایسے صوفیاء گزرے ہیں جنھوں نے اپنی معراج ‘ پروردگار کے دیدار کو ٹھہرایا اور وہ اسی بات کو انسانیت کی منزل قرار دیتے ہیں ‘ حالانکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس تجربے سے اچھی طرح یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس عالم ناسوت میں یہ سعادت کسی کو نصیب نہیں ہوسکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کے جو قوانین مقرر فرما دئیے ہیں وہ خود تو ان کا پابند نہیں لیکن انسان بہرحال ان کا پابند ہے۔ ان قوانین کی موجودگی میں کسی انسان کے بس میں یہ بات نہیں کہ وہ اللہ کے دیدار سے بہر یاب ہو سکے۔ اس لیے اگلی آیت کریمہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کا حقیقی تعارف پیش کیا گیا ہے تاکہ اس کے آئینہ میں انسان اپنی رسائی فکر اور تقرب خداوندی کی انتہاء کو جان سکے۔
Ayah 7:144ارشاد فرمایا :
قَالَ یٰمُوْسٰٓی اِنِیّ اصْطَفَیْتُکَ عَلَی النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَبِکَلَامِیْ ز فَخُذْ مَآ اٰتَیْتُکَ وَ کُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ ۔ (الاعراف : 144)
” فرمایا : اے موسیٰ ! میں نے تم کو لوگوں پر اپنے پیغام اور اپنے کلام سے برگزیدہ کیا تو میں نے جو کچھ تم کو دیا اس کو لو اور شکر گزاروں میں سے بنو “۔
انسان کی رسائیِ فکر اور تقرب خدا وندی کی انتہا
اس آیت کریمہ میں حقیقت تو اللہ جانتا ہے بظاہر تین باتوں پر زور دیا گیا ہے۔
1 اللہ کی ذات سے انسان کے تقرب کی جو انتہا ہے وہ یہ ہے کہ وہ کسی انسان کو اپنی پیغامبری کے لیے چن لے اور اسے شرف ہم کلامی سے نوازدے اس سے زیادہ پیغمبر ہوتے ہوئے بھی کسی انسان کے بس کی بات نہیں اگر اس سے زیادہ کسی انسان کی استطاعت ہوتی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ہم کلامی سے ممتاز فرمایا انھیں ضرور اپنے دیدار سے بھی مشرف فرماتے لیکن انھیں یہ کہہ کر کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکتے واضح فرمادیا کہ انسان اور اس کے پروردگار کے درمیان کچھ حدود ہیں جن سے تجاوز نہیں کیا جاسکتا۔ پیغمبروں کے علاوہ دوسرے انسان وہ تو اس وادی میں اجنبیوں کی مانند ہیں لیکن پیغمبر جو اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں جب ان کی رسائی اس خاص حد سے ناممکن ہے تو پھر دوسروں کو اللہ کریم کے معاملہ میں زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔
2 انسانوں نے جس طرح اللہ تعالیٰ کی صفات کے معاملے میں ٹھوکر کھائی ہے اسی طرح نبوت کے معاملے میں بھی انسان ہمیشہ ٹھوکر کھاتے رہے ہیں کبھی انھوں نے اللہ کے نبیوں کو اتنا اوپر اٹھایا کہ اللہ کی صفات میں شریک کر ڈالا اور کبھی اتنا نیچے گرایا کہ انھیں نبوت کے قابل بھی نہ سمجھا یعنی کبھی تو یہ دعویٰ کیا کہ اللہ کے نبی انسان نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنی نبوت کے مقام کے باعث انسان سے ماورا ہوتے ہیں اور کبھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہوئے کہ پیغمبر صرف انسان ہوتے ہیں ان کی صفات بھی ایک عام انسان کی صفات ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں اپنی پیغام رسانی کے لیے منتخب ضرور کرتا ہے لیکن ان میں ایسی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہوتی۔ ان دونوں انتہائوں کو متوازن کرتے ہوئے پروردگار یہاں فرما رہے ہیں کہ اے موسیٰ تم ہمارے برگزیدہ پیغمبر ہو لیکن یاد رکھو پیغمبر ہوتے ہوئے بھی تم اللہ کی ذات وصفات کے معاملے میں انسانی صفات سے بلند نہیں ہوسکتے۔ عالم ناسوت میں جن حدود وقیود کا تمہیں پابند بنایا گیا ہے ان حدود وقیود سے تجاوز کرنا تمہارے لیے کسی طرح جائز نہیں۔ پیغمبر ہونے کی حیثیت سے تمہارے مقام کی انتہا یہ ہے اور یہ بھی تمہارا امتیاز ہے کہ ہم نے تمہیں پیغام رسانی اور پیغمبری کے ساتھ ساتھ شرف ہم کلامی سے بھی نوازا ہے جبکہ دوسرے کسی پیغمبر کو یہ مقام حاصل نہیں۔ اس سے زائد کسی اور مرتبے کی خواہش کرنا تمہارے مقام و مرتبہ سے ماورا چیز ہے اور اسی کے آئینہ میں نوع انسانی کو یہ درس دیا گیا ہے کہ پیغمبر انسان ہی ہوتے ہیں لیکن ان کا مقام و مرتبہ عام انسانوں سے اس لیے بالا بلند ہوتا ہے کہ اللہ انھیں اپنی پیغام رسانی کے لیے چنتا ہے اور چاہے تو شرف ہم کلامی سے بھی نوازتا ہے یہ دونوں باتیں پیغمبروں کے علاوہ کسی اور انسان کو کبھی نصیب نہیں ہوسکتیں۔ اپنی ذاتی تگ و دو اور ذہنی صلاحیت سے کوئی آدمی چاہے کہ میں ان مقامات کو حاصل کرلوں تو یہ ہرگز ممکن نہیں۔ اس سے اللہ تعالیٰ نے اللہ کے نبیوں کے بارے میں دونوں افراط وتفریط پر مبنی تصورات کو متوازن کرتے ہوئے ایک معتدل تصور دیا جسے صراط مستقیم کہنا چاہیے۔
3 جن باتوں نے انسانی زندگی کو تباہ کیا ہے ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ انسان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے اپنے طور سے راہنمائی کے اصول ‘ راہنمائی کا طریقہ اور راہنمائی کے آداب متعین کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کو اپنا حق سمجھ کر اس سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ اسے یہ بات گراں گزرتی ہے کہ اسے یہ کہا جائے کہ اجتماعی زندگی کی نزاکتیں ایسی ہیں جن کا ادراک انسانی عقل سے بالا ہے۔ انسان اپنے حواس اور اپنی عقل سے زندگی کے بہت سے مسائل کو حل کرتا ہے لیکن جہاں تک نوع انسانی کی اقدار حیات ‘ اجتماعی تہذیب اور اصول بقاء کا تعلق ہے اس کا بہ ہمہ وجوہ ادراک کرنا انسانی عقل کے لیے ممکن نہیں اس کی شدید ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کے لیے راہنمائی نازل کی جائے۔ چناچہ پروردگار نے محض اپنے فضل و کرم سے اس ذمہ داری کو اپنے سر لے لیا اور فرمایا :
اِنَّ عَلَیْنَا لَلْھُدٰی
(بےشک راہنمائی دینا ہماری ذمہ داری ہے)
چناچہ اللہ کی جانب سے راہنمائی کا مل جانا وہ انسانیت کی معراج ہے اسی سے انسانی زندگی کا سفر آسان ہوتا ہے اور زندگی نشیب و فراز کے ہچکولوں سے محفوظ ہوتی ہے اس کا ایک ایک شعبہ اور ایک ایک ادارہ ٹھیک ٹھیک کام کرنے کے قابل ہوجاتا ہے افراط وتفریط اور ناتمامی ٔ فکر کے اندیشے زندگی سے نکل جاتے ہیں اس لیے پروردگار جب اتنی بڑی دولت کسی قوم کو دینے کے لیے اپنے کسی بندے کا انتخاب کرتا ہے تو حقیقت میں وہ اتنے بڑے اعزاز سے نوازا جاتا ہے جس سے بڑھ کر کوئی اور اعزاز نہیں ہوسکتا۔ اس لیے یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا جا رہا ہے کہ ہم نے یہ دولت تمہیں عطا کی ہے ‘ تمہارا کام یہ ہے کہ اس کی عظمت کے پیش نظر پوری قوت سے اس کا حق ادا کرنے کے لیے کمر بستہ ہوجاؤ اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں اتنے بڑے اعزاز کا مستحق جانا۔
اس کے بعد اگلی آیت کریمہ میں وہ دولت جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واسطے سے عطا کی جا رہی ہے اس کا ذکر فرمایا گیا ہے :
Ayah 7:145وَکَتَبْنَا لَہٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ کَُلِّ شَیْئٍ مَّوْعِظَۃً وَّ تَفْصِیْلًا لِّکَُلِّ شَیْئٍ ج فَخُذْھَا بِقُوَّۃٍ وَّاْمُرْ قَوْمَکَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِہَا ط سَاُورِیْکُمْ دَارَالْفٰسِقِیْنَ ۔
(الاعراف : 145)
” اور ہم نے اس کے لیے تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی پس اس کو مضبوطی سے پکڑو اور اپنی قوم کو ہدایت کرو کہ اس کے بہتر طریقہ کو اپنائیں میں تم کو عنقریب نافرمانوں کا ٹھکانا دکھائوں گا “۔
تورات کا تعارف اور اس کے مقتضیات
اس آیت کریمہ میں متعدد باتیں ہماری توجہ کا تقاضہ کرتی ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ کہ اس میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے موسیٰ کو تختیاں لکھ کے دی تھیں اس کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات تختیوں کی صورت میں تحریری شکل میں نازل کی گئی ورنہ عموماً پروردگار کا طریقہ یہ رہا ہے کہ وہ اپنے رسول کے دل پر اپنا کلام اتارتا ہے اور پھر رسول اسے دوسروں کے ذریعہ سے لکھواتا ہے لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے تحریری شکل میں اپنی کتاب عطا فرمائی اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ بنی اسرائیل کو شریعت دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے خاص اہتمام فرمایا جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ دوسری امتوں کو تو زبانی تعلیم دی گئی لیکن بنی اسرائیل کے لیے تحریری تعلیم کا انتظام فرمایا تاکہ بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی شریعت زیادہ محفوظ حالت میں ملے۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ بنی اسرائیل قدم قدم پر جس طرح اپنی نااہلی اور لاپرواہی کا اظہار کر رہے تھے اس کے پیش نظر یہ اندیشہ تھا کہ اگر انھیں زبانی تعلیم کے ذریعے شریعت دی گئی تو یہ کہیں اسے ضائع نہ کردیں اور دوسری اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ کے پیغمبروں کے سلسلے میں بالعموم یہ روایت رہی ہے کہ پیغمبر براہ راست اللہ کے شاگرد ہوتے ہیں۔ پہلے فطرت ان کو سکھاتی ہے اور پھر براہ راست اللہ کی جانب سے ان کی تعلیم و تربیت کا سامان کیا جاتا ہے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بچپن اور لڑکپن میں مروجہ تعلیم سے بہرہ ورہو چکے تھے انھوں نے شہزادوں کی طرح تربیت پائی اور دوسرے شہزادوں کے ساتھ اس زمانے کے اداروں میں مختلف علوم بھی حاصل کیے اور فوجی ٹریننگ بھی پائی اور پھر اسرائیلی روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بعض اہم عہدوں پر فائز بھی رہے اور افریقہ کے بعض محاذوں پر ایک کمانڈر کی حیثیت سے داد شجاعت بھی دیتے رہے۔ اس لحاظ سے آپ چونکہ ایک پڑھے لکھے آدمی تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو لکھی ہوئی تختیوں کی صورت میں کتاب عطا فرمائی۔
دوسری بات : جس کی طرف توجہ دینا بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ تختیوں کی صورت میں آپ کو جو کچھ دیا گیا تھا کیا یہ واقعی تورات تھی یا صرف احکام عشرہ تھے جو تختیوں پر کندہ کر کے آپ کو دیئے گئے تھے۔ علماء نصاریٰ میں سے بیشتر لوگ تو اسے صرف احکام عشرہ ہی قرار دیتے ہیں لیکن قرآن کریم سے اور یہود علماء کی وضاحتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف احکام عشرہ نہیں بلکہ مکمل تورات تھی جس میں ہر طرح کی ضروری ہدایات اور تفصیلات موجود تھیں یعنی دین و شریعت کی جو باتیں بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے ضروری تھیں وہ سب اس میں موجود تھیں اور جماعتی تنظیم و تشکیل سے متعلق جو تفصیلات درکار تھیں وہ بھی ان الواح میں درج تھیں۔ اس لیے کتاب خروج میں یہ صراحت موجود ہے کہ تختیاں دو تھیں اور وہ دونوں اپنی دونوں جانب سے بھری ہوئی تھیں اگر ان میں صرف احکام عشرہ ہوتے تو تختیوں کا دونوں طرف سے بھرا ہونا کسی طرح بھی قرین عقل نہیں اور پھر یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ قرآن کریم نے تختیوں کے لیے الواح کا لفظ استعمال کیا ہے۔ الواح ‘ لوح کی جمع ہے اور عربی زبان میں جمع کا اطلاق کم از کم تین افراد پر ہوتا ہے اور زیادہ کی کوئی حد نہیں اس لیے تورات کے راویوں کا دو تختیاں روایت کرنا معلوم ہوتا ہے ترجمے کی غلطی ہے صحیح بات وہی ہے جو قرآن کریم نے کہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تختیاں تین یا تین سے زیادہ تھیں اور پھر اس کا سائز بھی یقینا عام تختی کی طرح تو نہیں ہوگا۔ تورات کے مطابق یہ پتھر سے تیار کردہ تھیں اور یقینا ان کا حجم ایسا ہوگا جس کے پیش نظر موسیٰ (علیہ السلام) کو اسے مضبوطی اور احتیاط سے اٹھانے کا حکم دیا گیا ہے۔ مسلمانوں میں ایسے خطاط موجود رہے ہیں جو چند اوراق میں پورا قرآن کریم لکھ دیتے تھے اگر انسانی صلاحیت سے یہ بات ممکن ہے تو چند تختیوں پر پوری تورات کا لکھا جانا بھی مستبعد نہیں سمجھنا چاہیے۔ جہاں تک قرآن کریم کی تورات سے متعلق صراحتوں کا تعلق ہے اس سلسلے میں قرآن کریم کی چند آیات کو دیکھ لینا ضروری ہے جس میں تورات کی چند صفات کا ذکر کیا گیا ہے مثلاً سورة البقرہ میں قرآن کریم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے چلہ کا ذکر کرتے ہوئے جب نزول احکام کا تذکرہ کیا ہے تو اس کو کتاب اور فرقان کہا ہے اور یہ دونوں صفات قرآن عزیز میں تورات کے لیے بولی گئی ہیں احکام عشرہ کے لیے نہیں۔
وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰٓی اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ثُمَّ اتَّخَذْتُمْ الْعِجْلَ مِنْم بَعْدِہٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ ۔ ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْکُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ وَاِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ ۔ (البقرہ : 6)
” اور جب عہد کیا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے چالیس راتوں کا پھر بنا لیا تم نے اس کے پیچھے گو سالہ اور تم اس بارے میں ظالم تھے پھر ہم نے اس کے بعد تم کو معاف کردیا تاکہ تم شکر گزار بنو اور جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب اور حق و باطل میں فرق کرنے والی (فرقان) چیز عطا کی تاکہ تم راہ پائو “۔
اسی طرح دوسری جگہ ارشاد فرمایا :
وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ مِنْم بَعْدِ مَٓا اَھْلَکْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰی بَصَٓائِرَ لِلنَّاسِ وَ ھُدًی وَّ رَحْمَۃً لَّعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ۔ (قصص : 5)
” اور بیشک ہم نے پہلی قوموں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جو لوگوں کے لیے بصیرتیں مہیا کرنے والی اور ہدایت اور رحمت ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں “۔
اور اگرچہ تورات (موجودہ بائبل) کے سفر خروج ‘ استثناء اور کتاب یسوع میں موسیٰ (علیہ السلام) کے چلہ کے بعد احکام عہد یا شریعت کا لفظ پایا جاتا ہے لیکن مولانا رحمت اللہ کیرانوی نور اللہ مرقدہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب اظہار الحق میں فارسی ‘ عربی اور اردو قدیم تراجم کے حوالہ سے یہ ثابت کیا ہے کہ تورات کے ان نسخوں میں ان ہر دو الفاظ کی جگہ ” تورات “ لکھا ہوا پایا جاتا ہے چناچہ مولانا عبدالحق ( رح) نے بھی تفسیر حقانی میں اردو فارسی بائبل مطبوعہ 1845 ء و 1839 ء سے حسب ذیل حوالے نقل کیے ہیں۔
1 و برآں سنگہا تمامی کلمات ایں تورات رابخط روشن بنویس۔ (استثناء باب 27‘ آیت 27)
2 بنی اسرائیل نے بموجب حکم موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک مذبح بنایا اور اس کے پتھروں پر توریت کو لکھ دیا۔
(یسوع : باب 8‘ آیت 15 1845)
ان حوالوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو طور پر جو الواح چلہ کے بعد دی گئیں وہ تورات کی تھیں ‘ احکام عہد کی الواح نہیں تھیں اور انگریزی نسخہ کے ترجمہ میں لا (Law) اور عربی و اردو نسخوں میں شریعت کو بھی صحیح مان لیا جائے تو یہ لفظ بھی اپنے معنی کی وسعت پر تورات پر صادق آتا ہے اور تورات ‘ شریعت اور قانون سب کا مصداق ایک ہی چیز ہے اور قدیم عیسائی دنیا میں یہی معنی سمجھے جاتے رہے ہیں اور احکام عہد اسی کا ایک جز ہیں اور اس کو مستقل قرار دینا بہت بعد کی پیداوار ہے۔
تیسری بات : موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ اسے قوت سے پکڑیں اور اپنی قوم کو اس کا حکم دیں قوت سے پکڑنے سے مراد یہ ہے کہ اس کی حفاظت کا انتظام کریں ‘ خود اس پر پوری طرح عمل کریں ‘ دوسروں کو اس پر عمل کرنے کے لیے کہیں اور پوری طرح اس کے احکام کو نافذ کرنے کی کوشش فرمائیں۔ اس سے پہلی بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ جس پیغمبر پر کوئی کتاب اترتی ہے وہ سب سے پہلے اس پر عمل کرنے کا پابند ہوتا ہے اس کی ایمانیات پر سب سے پہلے ایمان لاتا ہے اور اس کی شریعت پر عمل کر کے عمل کا نمائندہ بن جاتا ہے اور اگر کتاب میں کسی حکم کو مجمل بیان کیا گیا ہے تو پیغمبر کا عمل اس کی تفصیل مہیا کرتا ہے اور اگر کسی حکم کو مبہم بیان کیا گیا ہے تو پیغمبر کا عمل اس کی مراد واضح کرتا ہے اور اگر کسی حکم کا درجہ صرف اصول کا ہے تو پیغمبر اپنی سنت سے اس کی فروع طے کرتا ہے۔ غرضیکہ کتاب کا ایک ایک قول پیغمبر کے عمل سے زندگی کی روایت بنتا ہے اور آئین اور قانون کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قوم جس طرح کتاب کے احکام کی پابند ہوتی ہے اسی طرح جس رسول پر وہ کتاب اترتی ہے اس کی قوم اور امت اس رسول کی سنت اور حدیث کی بھی پابند ہوتی ہے۔ دونوں میں عمل کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہوتا۔ پیغمبر کی حیثیت صرف کتاب پہنچانے والے کی نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنی ذات میں مبلغ ‘ معلم ‘ شارع ‘ واجب الاطاعت سب کچھ ہوتا ہے۔ دوسری بات اس سے یہ سمجھ میں آتی ہے کہ پیغمبر کی یہ ذمہ داری بھی ہوتی ہے کہ اللہ کے نازل کردہ ایک ایک حکم پر اپنی قوم کو چلنے کا حکم دے اللہ کی شریعت کے مطابق احکام کا نفاذ کرے زندگی کی ضروریات کے حوالے سے ادارے قائم کرے اور ان اداروں میں اللہ کے احکام کو نافذ کرے اس طرح سے زندگی کا ایک ایک شعبہ اللہ کے احکام کے مطابق ڈھال کر اللہ کی زمین پر اللہ کی حاکمیت کو قائم کرنا پیغمبر کی ذمہ داری ہے۔
چوتھی بات : اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے کہ اپنی قوم کو اس بات کا حکم دیجئے کہ وہ اس کتاب کے احسن کو اختیار کریں۔ اس کے دو مطلب مراد ہوسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ دنیا میں زندگی کی راہنمائی کے لیے انسانوں کے خود ساختہ وضعی قوانین اور ہدایات کی کمی نہیں۔ جو قوم جس خطے میں بھی آباد ہے انھوں نے اپنی راہنمائی کے لیے کوئی نہ کوئی طریقہ اختیار کر رکھا اور کوئی نہ کوئی نظام تشکیل دے رکھا ہے اور کوئی نہ کوئی قانون اس کی زندگی کو منظم اور مرتب کرنے کا فرض انجام دے رہا ہے لیکن حقیقت میں انسانوں کے بنائے ہوئے یہ تمام طریقے انسانی دماغی کاوشوں کا نتیجہ ہیں اور یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ انسانی عقل اللہ کا سب سے بڑا انعام ہونے کے باوجود نارسائی اور غلطی سے مبرا نہیں۔ زندگی کے کتنے ایسے معاملات ہیں جس میں انسانی عقل بےبس ہوجاتی ہے اور کتنے ایسے مائوف لمحے ہیں جس میں انسانی فکر ‘ خواہشات ‘ اشتعال اور مفادات کا شکار ہو کر غلط فیصلہ کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے اس لیے اگر انسانی زندگی کی بھلائی مقصود ہے تو اس کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے وہ یہ کہ انسانی زندگی جس نے عطا کی ہے وہی سب سے بہتر اس کی ضرورتوں کو سمجھتا ہے اس لیے اسی کی عطا کردہ راہنمائی کو قبول کرلیا جائے یہاں اسی راہنمائی کو احسن قرار دیا گیا ہے۔ دوسرا مطلب اس کا یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ کی کتاب بھی انہی الفاظ سے وجود میں آتی ہے جو انسانی زبانوں میں متداول ہیں اور ان الفاظ کے معانی بھی وہی معتبر ہیں جو انسانوں کی مرتب کردہ ڈکشنریاں متعین کرتی ہیں۔ بایں ہمہ ! ہم دیکھتے ہیں کہ جب نیت میں فتور پیدا ہوتا ہے اور مقاصد میں اختلال آتا ہے تو الفاظ کے نہ صرف کہ معانی بدلنے لگتے ہیں بلکہ مفہوم میں زمین و آسمان کا فرق آجاتا ہے۔ ہم عدالتوں میں وکلاء کو بحث کرتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ موافق اور مخالف دونوں وکیل ایک ہی قانون سے استشہاد کرتے ہیں لیکن دونوں اپنے اپنے مطلب کی بات نکالنے کی کوشش کرتے ہیں الفاظ کا وہ مفہوم جو صاف اور سیدھا ہے جسے عقل عام بڑی آسانی سے متعین کرسکتی ہے زاویہ نگاہ کے بدلنے اور مفادات کی تبدیلی سے کچھ سے کچھ ہو کے رہ جاتا ہے یہاں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اپنی قوم کو یہ حکم دیجئے کہ احکام الٰہی کا وہ صاف اور سیدھا مفہوم لیں جو عقل عام سے ہر وہ شخص سمجھ لے ‘ جس کی نیت میں فساد یا جس کے دل میں ٹیڑھ نہ ہو یہ قید اس لیے لگائی گئی ہے کہ جو لوگ احکام کے سیدھے سادھے الفاظ میں سے قانونی ایچ پیچ اور حیلوں کے راستے فتنوں کی گنجائش نکالتے ہیں کہیں ان کی موشگافیوں کو کتاب اللہ کی پیروی نہ سمجھ لیا جائے اس لیے جب بھی وہ کتاب اللہ کے کسی حکم کی مراد متعین کرنے لگیں تو اللہ سے ڈرتے ہوئے اسی کی رضا کو سامنے رکھتے ہوئے وہ مفہوم مراد لیں جسے ہر صاحب عقل آدمی آسانی سے سمجھ سکے۔ یہی اس کا احسن طریقہ اور یہی اس کی احسن مراد ہے۔
دارالفاسقین کا مفہوم
آیتِ کریمہ کے آخر میں فرمایا ہے کہ میں تمہیں فاسقوں کے گھر دکھائوں گا۔ سوال یہ ہے کہ اس دار سے مراد کون سا مقام ہے ؟ اس سلسلہ میں قصص القرآن کے مصنف کے مطابق کہنے والوں نے قیاس اور تخمین سے مختلف جواب دیئے ہیں (1) اس ” دار “ سے عاد وثمود کے کھنڈر مراد ہیں (2) مصر مراد ہے کہ بنی اسرائیل دوبارہ اس میں داخل ہوں گے (3) قتادہ ( رح) کہتے ہیں کہ اس سے شام کی مقدس سرزمین مراد ہے جہاں اس زمانہ میں عمالقہ کے جابر بادشاہوں کی حکومت تھی اور جہاں بنی اسرائیل کو داخل ہونا تھا۔ نجار نے اسی کو ترجیح دی ہے اور میرے نزدیک یہی صحیح ہے ‘ رہا یہ امر کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے بوڑھے ان بستیوں میں داخل نہیں ہو سکے۔ اس لیے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا انتقال ارض مقدس میں داخل ہونے سے پہلے ہی ہوگیا تھا اور اسی طرح بنی اسرائیل کے بوڑھوں پر بھی آنے والی تفصیل کے مطابق اس کا داخلہ حرام کردیا گیا تھا۔ تو آیت کی یا تو یہ مراد ہے کہ بنی اسرائیل کے نوجوانوں کا داخلہ جن کی اکثریت تھی سب کا داخلہ ہے اور اس طرح کا استعمال شائع ذائع ہے اور یا یہ مراد ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یوشع بن نون اور کالب بن یوفنہ اور چند بنی اسرائیل کے بہادروں کو ارض مقدس میں اس لیے بھیجا تھا کہ وہ وہاں کے مفصل حالات معلوم کر کے آئیں کہ ہم کس طرح دشمن کو شکست دے کر پاک سرزمین میں داخل ہوسکتے ہیں۔ اور انھوں نے آکر تمام حالات بنی اسرائیل اور موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے بیان کیے تھے تو گویا ان معدودے چند افراد کا ارض مقدس میں داخل ہو کر اس کو دیکھ آنا اور پھر سب کو وہاں کے حالات سے آگاہ کرنا ‘ آیت میں اسی معاملہ کی جانب اشارہ ہے قتادہ ( رح) کے قول کے مقابلہ میں پہلا قول اس لیے مرجوح ہے کہ اس واقعہ کے بعد بنی اسرائیل کبھی قومی اور جماعتی حیثیت سے مصر میں داخل نہیں ہوئے اور دوسرا قول اس لیے قابل اعتناء نہیں ہے کہ اگرچہ ثمود کے آثار وادی سینا کے قریب ضرور تھے مگر عاد کے آثار و کھنڈرات تو عرب کے مغربی حصہ میں واقع تھے جو وادیٔ سینا سے مہینوں کی راہ تھی تو ایسی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ بنی اسرائیل کو صرف ان محو شدہ آثار و کھنڈرات کو دکھانے کے لیے بھیجا جاتا اور اس کے لیے خدا کا وعدہ اس شان کے ساتھ بیان ہوتا ؟ مگر ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے جہنم مراد ہے اور کافروں کی تہدید کے لیے کہا گیا ہے۔
یہ اقوال اگرچہ باہم مختلف ہیں لیکن سب میں جو چیزقدرِ مشترک کے طور پر پائی جاتی ہے وہی حقیقت میں اس کا مفہوم ہے یعنی آگے چل کر تم لوگ مختلف قوموں کے آثار قدیمہ پر سے گزرو گے ان میں سے ہر قوم اللہ کے عذاب کا شکار ہوئی اور ان کی تباہی کا سبب صرف یہ تھا کہ وہ اپنی روش میں اللہ کے نافرمان اور اس کے فاسق تھے اور انھوں نے خدا کی اطاعت و بندگی سے منہ موڑ کر غلط روی پر اصرار جاری رکھا تھا۔ ان کے تباہ شدہ کھنڈرات کو دیکھ کر تمہیں خوب معلوم ہوجائے گا کہ ایسی روش اختیار کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ تم نے اگر ان علاقوں سے گزرتے ہوئے واقعی عبرت حاصل کی تو یہ تمہاری آئندہ زندگی کی بقاء کی ضمانت ہوگی ورنہ تم بھی اسی انجام سے دوچار کیے جاؤ گے جس سے وہ فاسق قومیں دوچار ہوئیں۔
موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کو کتاب ہدایت دینے کے بعد اگلی آیت کریمہ میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ تمہاری دنیوی اور اخروی سرفرازی کا دارومدار اسی کتاب کی دی ہوئی راہنمائی کے اتباع میں ہے لیکن یہ یاد رکھو اللہ کے کچھ مقرر کردہ ضابطے ہیں جو قوم ان ضابطوں کی پابندی نہیں کرتی وہ اللہ کی کتاب سے فائدہ اٹھانے سے ہمیشہ محروم رہتی ہے اس لیے تم اگر اس محرومی سے بچنا چاہتے ہو تو تمہیں اس آیت کریمہ کی روشنی میں ان ضوابط کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔
Ayahs 7:146–147سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَکَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ ط وَاِنْ یَّرْوْا کُلَّ اٰیَۃٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِھَا ج وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْہُ سَبِیْلًا ج وَ اِنْ یَّروْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْہُ سَبِیْلًا ط ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ کَانُوْا عَنْھَا غٰفِلِیْنَ ۔ وَالَّذِیْنَ کَذَّبُِْا بِاٰیٰتِنََا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَۃِ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ ط ھَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الاعراف : 146، 147)
” میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کی نگاہیں پھیر دوں گا جو بغیر کسی حق کے زمین میں بڑے بنتے ہیں وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں کبھی اس پر ایمان نہیں لائیں گے اگر سیدھا راستہ ان کے سامنے آئے تو اسے اختیار نہ کریں گے اور ٹیڑھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں گے اس لیے کہ انھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بےپرواہی کرتے رہے ‘ ہماری نشانیوں کو جس کسی نے جھٹلایا اور آخرت کی پیشی کا انکار کیا اس کے سارے اعمال ضائع ہوگئے کیا لوگ اس کے سوا کچھ اور جزا پاسکتے ہیں کہ جیسا کریں ویسا بھریں “۔
انسان کی چند درچند غلط فہمیوں پر تنبیہ
انسان کو جن عالمگیر غلط فہمیوں نے گھیر رکھا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہر آدمی یہ سمجھتا ہے کہ میں ہر کام کا ارادہ کرنے اسے نقطہ کمال تک پہنچانے ‘ اس کے اسباب فراہم کرنے اور اس کے نتیجہ خیز بنانے میں شائد پوری طرح آزاد ہوں۔ میں جس چیز کا چاہوں ارادہ کروں اور اپنی محنت اور صلاحیت سے جتنی ترقی کرنا چاہوں کر گزروں۔ کوئی چیز اس سے مجھے روکنے والی نہیں اسی طرح خیالات اور نظریات میں بھی میں پوری طرح آزاد ہوں ‘ جسے چاہوں قبول کروں ‘ جسے چاہوں رد کردوں۔ بہتر سے بہتر رویہ میرے فیصلے کا محتاج ہے ‘ اچھائی اور برائی ‘ نیکی اور بدی یقییناً اپنے اندر ترغیب بھی رکھتی ہے لیکن حقیقت میں ان کا دارومدار میرے اپنے فیصلے پر ہے میں جسے چاہوں اور جب چاہوں اختیار کرلوں ‘ نہ اختیار کرنے کے لیے کچھ ضوابط کی پابندی کرنا پڑتی ہے اور نہ چھوڑنے کے لیے کچھ چیزوں سے عہدہ برآ ہونا پڑتا ہے۔ یہ وہ غلط فہمی ہے جس کا دائرہ انسانی زندگی میں بہت وسیع ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو فی الجملہ ایک آزادی ضرور ملی ہے لیکن وہ اپنے معاملات پر غور کرے تو وہ خود محسوس کرے گا کہ اس کے اختیار اور آزادی کا سر رشتہ کہیں نہ کہیں بندھا ہوا ضرور ہے لیکن اس کو پوری طرح سمجھنا انسانی فکر کے بس کی بات نہیں لیکن یہ اللہ کا بےحد کرم ہے کہ اس نے ہدایت و ضلالت کے معاملے میں بعض ایسی بنیادی ہدایات عطا فرمائی ہیں ‘ جس سے ہمیں اس معاملہ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے اس آیت کریمہ میں اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ زندگی کے سفر میں ایسی کامیابی حاصل کرنے کے لیے جو دنیوی اور اخروی کامیابیوں کی ضامن ہو انسانی راہنمائی کافی نہیں بلکہ اس کے لیے وحیٔ الہٰی کی راہنمائی کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس پر بیسیوں قوموں کی تاریخ گواہ ہے اور عقلی اور نقلی دلائل اس کی تائید میں ہیں لیکن وحیٔ الہٰی سے وابستگی اختیار کرنا اس کی راہنمائی میں زندگی گزارنا اور اس سے پوری طرح مستفیض ہونا۔ علی الاطلاق انسان کے اختیار میں نہیں بلکہ اس راستہ پر چلنے کے لیے چند لازمی سنتوں کو اختیار کرنا پڑتا ہے اور اگر ان سے صرف نظر کرلیا جائے تو پھر گمراہی انسان کا مقدر بن جاتی ہے۔ ان میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ انسان اس بات کا فیصلہ کرے کہ میں اپنی زندگی اور اپنی گردو پیش میں کیا ایسی عظمتوں کا مالک ہوں ؟ اور ایسی بڑائیاں مجھے حاصل ہیں کہ لوگ خود میری راہنمائی کے محتاج ہوں یا کم از کم ایسا ہو کہ مجھے کسی راہنمائی کی ضرورت محسوس نہ ہو اور میں کسی عظمت کو تسلیم کرنے پر مجبور نہ کیا جاؤں ظاہر ہے کہ کوئی انسان اگر بر خود غلط ہوجائے تو اور بات ہے ورنہ وہ اس غلط فہمی میں کبھی مبتلا نہیں ہوتا اور اگر ہوجائے تو اس کی جگہ فرعون اور نمرود کے ساتھ ہوسکتی ہے شائستہ انسانوں میں نہیں ہوسکتی وہ جب بھی اپنی حالت پر غور کرے گا تو محسوس کرے گا کہ میں فکری طور پر قدم قدم پر فکر کی نا رسائی کا شکار ہوتا ہوں میری عقل بہت دفعہ نا رسا ثابت ہوتی ہے اور بہت دفعہ غلط فیصلے بھی کرتی ہے پھر میں زندگی گزارنے میں بہت سی پابندیاں اختیا کرنے پر مجبور ہوں میں اپنے حواس اور عقل سے بالا ہو کر زندہ نہیں رہ سکتا اور معاشرتی پابندیاں قبول کیے بغیر معاشرہ کا حصہ نہیں بن سکتا آداب زندگی کے ضوابط کے بغیر شائستہ اور مہذب انسان نہیں کہلا سکتا اور تمدنی ضرورتوں کے لیے مجھے بار بار اداروں کی طرف رجوع کیے بغیر چارہ کار نہیں ایسی صورت حال میں میں کس طرح اس وہم کا شکار ہوسکتا ہوں کہ میں اپنی ذات میں تمام عظمتوں کا مالک ہوں یقینا میرے سر پر کوئی ایسی ذات کبریا ضرور ہے جس نے مجھے زندگی اور زندگی کے امکانات سے گراں بار کیا ہے اسی کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ میری زندگی پر اس کی حکمرانی ہو اور وہی میری زندگی کی الجھی ہوئی گتھیوں کو حل کرنے میں میری رہنمائی کرے جب انسان اس بات کا فیـصلہ کرلیتا ہے تو اللہ کی ہدایت اور اس کی کتاب کی راہنمائی اس کے لیے اپنی آغوش کھول دیتی ہے لیکن وہ اگر اس کے برعکس فیصلہ کرکے دوسروں کے لیے طاغوت بن جاتا ہے اور یا اللہ کی راہنمائی سے اپنے آپ کو آزاد خیال کرنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتے ہیں کہ یہ وہ تکبر اور خود سری ہے جس کا اس کے پاس کوئی جواز نہیں وہ آخر کس بل بوتے پر اپنے آپ کو فرعون سمجھ بیٹھا ہے اگر وہ اس سے توبہ نہیں کرتا تو یقینا کسی نہ کسی بحیرہ قلزم میں ڈوب کر مرے گا اور وہ یا اپنے آپ کو ہر طرح کی راہنمائی سے آزاد سمجھتا ہے۔ تو یہ رویہ جنگل کے کسی حیوان کا تو ہوسکتا ہے ایک مہذب اور متمدن معاشرہ میں تو اس کا تصور بھی مشکل ہے۔ اگر یہ خطر ناک تصور دل و دماغ میں ر اسخ ہوجاتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے اندر خیر اور ہدایت کی جو رغبت اللہ نے پیدا فرمائی تھی وہ آہستہ آہستہ دم توڑنے لگتی ہے اور قبولیت ِ حق کی استعداد فنا ہونے لگتی ہے پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس کے سامنے انفس و آفاق کی نشانیاں بھی بےاثر ٹھہرتی ہیں اور آیات قرآنی بھی اپنی ساری اثر آفرینی کے باوجود اس کے دل میں اپنی جگہ نہیں بنا سکتیں وہ ایک ایک نشانی کو دیکھتا ہے ایک ایک آیت اس کے کانوں میں پڑتی ہے لیکن وہ کبھی اس کے ماننے اور ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اس کے سامنے اگر ہدایت کا راستہ کھول دیا جائے تو وہ کبھی اس پر چلنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ہاں گمراہی کے راستے کی طرف لپکتا ہوا جاتا ہے اور بگٹٹ دوڑتا نکل جاتا ہے یہ اس کی طبیعت کا فعل ‘ اس کی فطرت اور جبلت کے بالکل برعکس ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے رویہ سے اپنے آپ کو اس سزا کا مستحق بنادیا ہے جس کے حرکت میں آجانے کے بعد آدمی قبولیتِ حق کی استعداد سے محروم ہوجاتا ہے اور ہر باطل اور برائی اس کی محبوب بن جاتی ہے۔ جس طرح گندگی کا کیڑا نظافت اور خوشبو کو پسند نہیں کرتا بلکہ گندگی ہی اس کی غذا ہے جس طرح مردار خور جانور کبھی تازہ گوشت کا متلاشی نہیں ہوتا بلکہ مردار خوری ہی میں اس کی حقیقی خوشی مضمر ہوتی ہے اسی طرح ایسے شخص کا ذوق بھی اس طرح بگاڑ کا شکار ہوتا ہے کہ برائی اس کے لیے مرغوب بن جاتی ہے اور نیکی اسے مکروہ معلوم ہوتی ہے اور یہ سب اس کے ساتھ اس لیے ہوتا ہے کہ اس نے خود اپنی بنیادی صلاحیتوں کو بگاڑا۔ جو آیات خداوندی اس کے لیے فکری راہنمائی کا سامان بن سکتی تھیں ان سے اس نے منہ موڑا اور زندگی کے حقائق سے تعلق جوڑنے کے بجائے غفلت اور مدہوشی میں ڈوبا رہا تو نتیجہ اس کے سوا اور کیا نکل سکتا تھا۔
آخری آیت کریمہ میں اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ تکذیب آیات کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ آدمی اس بات کا بھی انکار کردیتا ہے کہ کبھی اسے اللہ کے سامنے حاضر بھی ہونا ہے اور وہاں اپنے اعمال کی جواب دہی بھی کرنا ہے چناچہ جیسے ہی یہ تصور دل و دماغ سے نکلتا ہے تو پھر انسانی فکر اور انسانی اعمال پر کوئی قدغن اور کوئی نگرانی باقی نہیں رہتی وہ زندگی کے سفر میں ایک حیوان بن جاتا ہے یا درندہ نتیجتاً اس کے اعمال کی جہت اس حد تک بگڑتی ہے کہ اس کا ہر عمل نتیجہ خیزی سے محروم ہوجاتا ہے یہی وہ چیز ہے جس کو اس آیت کریمہ میں اعمال کے ضائع ہونے سے تعبیر فرمایا گیا ہے کیونکہ اللہ کے ہاں انسانی سعی و عمل کے بار آور ہونے کا انحصار دو امور پر ہے ایک یہ کہ وہ سعی و عمل خدا کے قانونِ شرعی کی پابندی میں ہو اور یہ شخص چونکہ اپنے آپ کو کسی بالا تر قانون کا تابع نہیں سمجھتا تو وہ قانونِ شرعی کی پابندی کیوں کرے گا اور دوسرے یہ کہ اس سعی و عمل میں دنیا کے بجائے آخرت کی کامیابی پیش نظر ہو اور یہ شخص چونکہ آخرت کو ہی تسلیم نہیں کرتا تو اس کی کامیابی اس کے پیش نظر کیسے رہ سکتی ہے تو یہ دو شرطیں جہاں وجود میں نہیں آئیں گی وہاں یقینا اعمال ضائع ہوں گے اور اللہ کی جانب سے ان کی نتیجہ خیزی کو روک دیا جائے گا اور وہ اعمال ہر طرح کے اجر وثواب سے محروم رہیں گے۔ اب اس کی قسمت اعمال کے ہاتھ میں ہوگی دنیا میں بھی وہ اپنے اعمال کے زخم چاٹے گا اور آخرت میں بھی انھیں اعمال کے شعلے اس کا مقدر بن جائیں گے۔