7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsروح القرآن

Ayah 7:148

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

اور موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا لیا تھا ‘ ایک دھڑ جس سے بھاں بھاں کی آواز نکلتی تھی کیا انھوں نے یہ نہ دیکھا کہ نہ وہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے ‘ اس کو وہ بنا بیٹھے اور وہ اپنے اوپر بڑے ظلم ڈھانے والے تھے۔

گذشتہ رکوع کی تصریحات سے یہ بات پوری طرح نمایاں ہوجاتی ہے کہ پروردگار نے بنی اسرائیل کی تعلیم و تربیت کے لیے خصوصی انتظام فرمایا تھا انھیں عام معمول سے ہٹ کر الواح کی شکل میں تحریری کتاب عطا فرمائی اور پھر بار بار اس کتاب کو تھامنے اور اس پر عمل کرنے کی تلقین بھی فرمائی اور مزید یہ بات بھی کہ جس رویے کے باعث اللہ کی کتاب سے استفادہ اور استفاضہ میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے اسے بھی پوری طرح کھول کر بیان کردیا تاکہ بنی اسرائیل کسی طرح بھی اللہ کی کتاب سے فائدہ اٹھانے میں کوتاہی نہ کریں اور اپنے عہد غلامی میں وہ جس طرح اپنے سیرت و کردار کو برباد اور اپنی فکری قوتوں کو تباہ کرچکے ہیں اس کی از سر نوتعمیر میں انھیں نہ صرف آسانی پیدا ہو بلکہ وہ بہتر سے بہتر سیرت و کردار کی تشکیل کرسکیں ‘ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ پروردگار کی ان تمام عنایات کے جواب میں انھوں نے جو کچھ کیا اگلی آیت کریمہ میں اس کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ وَاتَّحَذَ قَوْمُ مُوْسٰی مِنمْ بَعْدِ ہٖ مِنْ حُلِیِّیِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّہٗ خُوْارٌط اَلَمْ یَرَوْا اِنَّہٗ لَا یُکَلِّمُھُمْ وَلَا یَھْدِیْھِمْ سَبِیْلًام اِتَّخَذُوْہٗ وَ کَانُوْا ظٰلِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 148) ” اور موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا لیا تھا ‘ ایک دھڑ جس سے بھاں بھاں کی آواز نکلتی تھی کیا انھوں نے یہ نہ دیکھا کہ نہ وہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے ‘ اس کو وہ بنا بیٹھے اور وہ اپنے اوپر بڑے ظلم ڈھانے والے تھے “۔ ہم گذشتہ آیات میں پڑھ چکے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر اللہ تعالیٰ سے تورات لینے کے لیے گئے اور جاتے وقت اپنی قوم سے کہہ گئے کہ میں تیس راتوں کے بعدواپس آجاؤں گا وہاں حکمت خداوندی کے تحت انھیں چالیس راتیں قیام کرنا پڑا چناچہ یہ جو دس دن کی تاخیر ہوئی اس سے فائدہ اٹھا کر مفسدین میں سے بعض لوگوں کو جو بنی اسرائیل میں موجود تھے اور ہر وقت موقع کی تلاش میں رہتے تھے فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا انھوں نے اپنے سردار سامری کو آگے بڑھایا اور سامری جو اپنے تعلقات اثر و رسوخ اور شعبدہ بازیوں کے باعث پہلے سے بنی اسرائیل میں معروف تھا اس نے بنی اسرائیل سے کہا کہ تم نے وہ زیورات جو آل فرعون کی بیگمات سے اپنے کسی تہوار میں پہننے کے لیے مستعار لیے تھے ‘ اور پھر تم مصر سے نکل آنے کے باعث انھیں واپس نہ کرسکے اب اگرچہ وہ کفار کا مال ہونے کی وجہ سے تمہارے پاس مال غنیمت ہے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں چونکہ مال غنیمت کا استعمال کرنا حلال نہیں۔ اس لیے سامری نے بنی اسرائیل سے کہا کہ تم شرعاً ان زیورات کو اپنے لیے استعمال نہیں کرسکتے وہ زیورات تم مجھے دو میں تمہارے لیے ایک خدا بناتا ہوں ‘ چناچہ اس نے بنی اسرائیل کے تمام سونے کے زیورات کو ڈھال کر بچھڑے جیسا ایک جسم تیار کیا اور اسے اس ترکیب سے تشکیل کیا کہ اس میں سے بھاں بھاں کی آوازیں نکلنے لگیں ‘ سامری نے یہ بچھڑالوگوں کو دکھاتے ہوئے کہا کہ موسیٰ تو نہ جانے کہاں گم ہوگیا لیکن وہ جس خدا کی تلاش میں گیا تھا وہ یہی تمہارا خدا ہے بنی اسرائیل چونکہ صدیوں تک مصر کی غلامی میں رہ کر مشرکانہ رسوم و روایات کو قبول کرچکے تھے اور انھوں نے بہت حد تک اپنے آپ کو مصریوں کے رنگ میں رنگ لیا تھا اور مصریوں میں گوسالہ پرستی کا عقیدہ قدیم عقیدہ تھا ہندوئوں کی طرح وہ گائے کو نہ صرف مقدس جانتے تھے بلکہ اس کی پوجا کرتے تھے کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ان کے ایک بڑے دیوتا حورس کا منہ گائے کی شکل کا تھا اور وہ یہ بھی عقیدہ رکھتے تھے کہ کرہ زمین گائے کے سر پر قائم ہے ‘ چناچہ غلامی کے مکروہ اثرات ابھی تک بنی اسرائیل میں باقی تھے اس لیے وہ سامری کے بہکاوئے میں آگئے اور انھوں نے اس کے بنائے ہوئے گوسالہ کی پوجا شروع کردی۔ سامری کون تھا ؟ اور اس کے کارنامے کی حقیقت یہاں دو تین باتیں قابل وضاحت ہیں اس لیے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ پہلے ان کی وضاحت کردی جائے۔ 1 اس آیت کریمہ میں اگرچہ سامری کا نام نہیں لیا گیا جس نے بچھڑا تیار کیا تھا لیکن سورة طہٰ میں اس کا نام لے کر اس کی کار گزاری کی تفصیل بیان کی گئی ہے اس لیے میں سب سے پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ سامری کون تھا ‘ اگرچہ اس کے بارے میں علما میں اختلاف ہے لیکن جو بات زیادہ قرین حقیقت معلوم ہوتی ہے وہ ‘ وہ ہے جسے مولانا ابو الکلام آزاد نے لکھا ہے ‘ وہ لکھتے ہیں کہ سامری اس کا نام تھا یا قومیت کا لقب ‘ قیاس کہتا ہے کہ یہاں سامری سے مقصود سمیری قوم کا فرد ہے، کیوں کہ جس قوم کو ہم نے سمیری کے نام سے پکارنا شروع کردیا ہے۔ عربی میں اس کا نام قدیم سے سامری آرہا ہے اور اب بھی عراق میں ان کے بقایا اسی نام سے پکارے جاتے ہیں ‘ یہاں قرآن کا سامری کہہ کے اسے پکارنا صاف کہہ رہا ہے کہ یہ نام نہیں ہے اس کی قومیت کی طرف اشارہ ہے یعنی وہ شخص اسرائیلی نہ تھا، سامری تھا۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) سے تقریباً ساڑھے تین ہزار برس پہلے دجلہ و فرات کے دو آبے میں دو مختلف قومیں آباد ہو رہی تھیں اور ایک عظیم الشان تمدن کی بنیادیں اٹھا رہی تھیں ان میں سے ایک قوم جو جنوب سے آئی تھی عرب تھی دوسری جس کی نسبت خیال کیا جاتا ہے کہ شمال سے اتری ‘ سمیری تھی اسی قوم کے نام سے تاریخ قدیم کا شہر سامرہ آباد ہوا تھا جس کا محل اب ” تل العبید “ میں دریافت ہوا ہے اور وہاں سے پانچ ہزار برس پیشتر کے کے بنے ہوئے زیور اور سنہری ظروف برآمد ہوئے ہیں۔ سمیری قوم کی اصل کیا تھی ؟ اس بارے میں اس وقت تک کوئی قطعی رائے قائم نہیں کی جاسکتی ہے لیکن نینوا میں اشوری پال (متوفی 666 ء قبل مسیح) کا جو کتب خانہ نکلا ہے اس میں تختیوں کا ایک مجموعہ لغت کی کتاب کا بھی ہے جس میں اکادی اور سمیری زبان کے ہم معنی الفاظ جمع کیے گئے ہیں ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سمیری زبان کے اصوات ‘ سامی حروف کے اصوات سے چنداں مختلف نہیں تھے یہ بہت ممکن ہے کہ وہ بھی دراصل ان ہی قبائل کے مجموعہ سے کوئی بعیدی تعلق رکھتے ہوں جن کے لیے ہم نے تورات کی اصطلاح سامی اختیار کرلی ہے … بہر حال سمیری قبائل کا اصلی وطن عراق تھا، مگر یہ دور دور تک پھیل گئے تھے ‘ مصر کے ان سے تعلقات کا سراغ ایک ہزار سال قبل مسیح تک روشنی میں آچکا ہے ‘ پس معلوم ہوتا ہے اسی قوم کا ایک فرد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بھی معتقد ہوگیا اور جب بنی اسرائیل نکلے تو یہ بھی ان کے ساتھ نکل آیا اسی کو قرآن نے ” السامری “ کے لفظ سے یاد کیا ہے ‘ گائے ‘ بیل اور بچھڑے کی تقدیس کا خیال سمیریوں میں بھی تھا اور مصریوں میں بھی۔ خوار کی تحقیق 2 اس آیت کریمہ میں خوار کا لفظ آیا ہے اس کا معنی ہے بیل کے ڈکرانے کی آواز یعنی جس طرح بیل اور گائے بھاں بھاں کرتے ہیں اسی طرح یہ بچھڑا جو سامری نے بنایا تھا اس سے بھی اس طرح کی آواز نکلتی تھی بعض لوگوں کو اس کی وضاحت کرتے ہوئے مشکل پیش آئی ہے اس کی عجیب و غریب تاویلیں کی گئی ہیں ‘ حالانکہ بات بالکل واضح ہے کہ سامری ایک ہوشیار اور عیار آدمی تھا وہ مصر میں رہ کر نہ صرف بت پرستی سیکھ چکا تھا ‘ بلکہ بت گری میں بھی ماہر تھا جن شہروں اور جن ملکوں میں بت پرستی کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے وہاں بت گری کا فن بھی اپنے عروج پر ہوتا ہے مصریوں نے بھی معلوم ہوتا ہے بت گری کے فن میں کافی ترقی کی تھی یقینا انھوں نے اس فن میں ایسی ایسی شعبدہ بازیاں کی ہوں گی جس سے لوگوں میں بت پرستی کو فروغ ملے اور بتوں کو محض بےجان اور پتھر کی مورتیاں نہ سمجھیں بلکہ ان کے اندر مختلف قسم کی قدرتوں کا بھی انھیں یقین آئے چناچہ تاریخ سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بت گری کے فن کے ساتھ ساتھ لوگوں نے ہمیشہ مختلف قسم کے عجائب و غرایب بھی پیدا کیے جس سے مقصود صرف لوگوں کی عقلوں کو دھوکہ دے کر بت پرستی کو قابل قبول بنانا ہوتا تھا ‘ ہندوستان میں سب سے بڑا مندر اور اس کے اندر سب سے بڑا بت سومنات کے نام سے مشہور رہا ہے اور اس کی قدرتوں کا اس قدر چرچا تھا کہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہ بت باقی تمام بتوں سے زیادہ طاقتور ہے اور اس کی گستاخی کرنے والا بھسم ہونے سے کبھی نہیں بچ سکتا ‘ چناچہ جب محمود غزنوی نے اسے فتح کرنے کا ارادہ کیا تو پورے ہندوستان میں جہاں مقابلے کی تیاریاں ہونے لگیں وہیں خوشی کی ایک لہر بھی دوڑ گئی کہ اب محمود غزنوی اور اس کے ساتھیوں کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا ‘ لیکن جب ہم سومنات کی اس شہرت اور بےپناہ قوت کا راز معلوم کرنے کوشش کرتے ہیں تو اس میں بھی ہمیں یہی شعبدہ بازی دکھائی دیتی ہے ‘ کہا جاتا ہے کہ کہ سومنات کا بت ایک بڑے ہال میں فضاء میں معلق تھا جب کہ اس کا وزن منوں تک پہنچتا تھا لیکن اسے نہ کسی سہارے نے اٹھا رکھا تھا اور نہ کوئی زنجیر اسے تھام رہی تھی بلکہ وہ بغیر کسی سہارے کے اس ہال کے عین وسط میں آلتی پالتی مارے فضا میں براجمان تھا۔ جو شخص اسے پہلی نگاہ میں دیکھتا وہ مبہوت ہو کر رہ جاتا کہ منوں وزن رکھنے والا یہ دھاتوں سے بنا ہوا بت اگر بےجان اور بےقوت ہے تو آخر فضاء میں کس طرح بغیر سہارے کے لٹک رہا ہے لیکن اس کی ساری قوت کا راز صرف ایک در پردہ ہوشیاری اور عیاری میں مضمر تھا اور وہ یہ بات تھی کہ اس ہال کی دیواریں مقناطیس سے بنائی گئیں تھیں اور اس کی چھت اور اس کے فرش میں بھی مقناطیس لگایا گیا تھا ‘ چناچہ اسی مقناطیس کی قوت نے اس دھات سے بنے ہوئے بت کو ہر طرف سے پوری قوت سے کھینچ کر فضاء میں معلق کردیا تھا اب جب تک اس کا توازن باقی رہتا ہے اور کسی طرف کی کشش میں کمی نہیں آتی بت کے گرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہ تکنیک آج بھی مختلف کھلونوں میں استعمال ہوتی ہے اور بڑی بڑی مشینوں میں بھی اب چونکہ یہ ایک جانی پہچانی بات ہے تو کسی کو تعجب نہیں ہوتا لیکن اس وقت ہر دیکھنے والا یہی سمجھتا تھا کہ یہ سب کچھ اس بت کی کرشمہ آرائی ہے چناچہ محمود غزنوی کی ذہانت نے شائد اس کا اندازہ کرلیا ‘ چناچہ جیسے ہی انھوں نے اس بت کی ایک جانب گرز مار کر مقناطیسی قوت کو غیر متوازن کیا تو بت زمین پر دھڑم سے گرگیا ۔ مصر کا اسوان بند وہاں تعمیر کیا گیا ہے جہاں کبھی ابو سمبل کا قدیم اور عظیم مندر قائم تھا چناچہ بند کی تعمیر کے لیے جب اس کے ہٹانے کا وقت آیا ‘ تو باقاعدہ بین الاقوامی اہتمام میں اسے دوسری جگہ منتقل کیا گیا کیونکہ اقوام متحدہ کے مستقل ممبران جو تمام کے تمام غیر مسلم ہیں وہ اگرچہ علم و ہنر کی روشنی کے دعویدار ہیں اور کبھی بھی بت پرستی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں لیکن عجیب بات یہ ہے کہ پوری غیر مسلم دنیا بالعموم اور مغرب بالخصوص کبھی اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ بتوں کو توڑا جائے وہ اسے آثار قدیمہ کا نام دے کر تحفظ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے سامنے لاکھوں انسانوں کا خون بہہ جائے ‘ عراق میں مسلمانوں کا اثاثہ تباہ ہوجائے مذہبی تبرکات جو ظاہر ہے صدیوں کا سرمایہ ہیں انھیں آگ لگا دی جائے انھیں کبھی تکلیف نہیں ہوگی بلکہ ان کی اپنی فوج اس کی تباہی میں شریک ہوتی ہے لیکن اگر کہیں کسی بت کی ناک بھی پھوڑ دی جائے تو یہ سر تاپا غضب بن جاتے ہیں اگر انھیں آثار قدیمہ سے محبت ہوتی تو عراق ان کے سامنے کبھی نہ لٹتا۔ کیونکہ عراق میں ایسے ایسے تاریخی آثار موجود تھے جس میں صدیوں پہلے کے قرآن پاک کے نادر نمونے ہی نہیں بلکہ عراق میں بڑے بڑے بپاء ہونے والے حق و باطل کے معرکوں کی پوری تفصیلات مجسم شکل میں موجود تھیں اسلام اگرچہ ان چیزوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا لیکن وہ یورپ کے ذوق کے بےحد قریب تھیں لیکن ان کو صرف اس لیے تباہ ہونے دیا کہ ان کا رشتہ اسلام سے تھا لیکن بت پرستی سے ان کا تعلق اس حد تک نازک ہے کہ افغانستان میں اگر بت کے مجسمے ٹوٹ جائیں تو یورپ کا پورا میڈیا سراپا احتجاج بن جاتا ہے اس لیے ابو سمبل کے اس عظیم مندر کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں دوسری جگہ منتقل کیا گیا اس حوالے سے جو بات کہنی ہے وہ یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ نے اس بات کو نمایاں کر کے شائع کیا کہ اس مندر میں بادشاہ (فرعون) اور اس کی ملکہ کے اسٹیچو ایسے زاویے سے نصب کیے گئے تھے کہ سال میں جو تاریخ بادشاہ کی ولادت کی ہوتی اس دن سورج کی پہلی کرنیں بادشاہ کی پیشانی پر پڑتیں یہ گویا اس بات کا اظہار تھا کہ بادشاہ واقعی سورج کا اوتار ہے اس لیے اسے لوگوں سے اپنے آپ کو رب منوانے کا ہر طرح کا حق ہے اگر وہ واقعی اہل زمین کا رب نہ ہوتا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ اس کے یوم پیدائش پر سورج کی کرنیں اس کی پیشانی کو بوسہ دیتیں۔ ان حوالوں سے ہمیں یہ بات سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ بت پرستی کے دور میں بت گری کی صنعت اس طرح عروج پذیر رہی ہے کہ جس میں کرشمہ آرائیاں ساتھ ساتھ چلتی رہی ہیں اور ان کرشموں کی مدد سے بتوں کی خدائی مستحکم کی جاتی رہی ہے اس لیے سامری نے اگر اپنی مہارت فن سے بچھڑے کے قالب میں اس طرح کی ترتیب قائم کی جس سے ہوا کے گزرنے سے بھاں بھاں کی آواز آنے لگی تو یہ کوئی ایسی بات نہیں جسے غیر معمولی قدرت کا اظہار سمجھا جائے لیکن اس نے لوگوں کی عقلوں کو ماؤف کرنے کے لیے مزید یہ دعویٰ کیا کہ یہ جو بچھڑے میں زندگی کے آثاد دیکھ رہے ہو کہ وہ تمہیں بھاں بھاں کرتا سنائی دیتا ہے تو وہ اس لیے ہے کہ جب تم بحر قلزم عبور کر رہے تھے تو میں نے جبریل (علیہ السلام) کو گھوڑے پر سوار وہاں سے گزرتے دیکھا تھا جہاں ان کے گھوڑے کا سم پڑتا تھا وہیں سبز گھاس اگ آتی تھی میں سمجھ گیا کہ قدرت نے اس کے پائوں میں زندگی کا اثر رکھا ہے جو ہر اس چیز میں پیدا ہوجاتا ہے جس پر وہ اپنا پائوں رکھ دے۔ چناچہ وہاں سے میں نے مٹی کی ایک مٹھی اٹھا لی اور وہ مٹی میں نے اس بچھڑے میں ڈال دی یہ اسی کا اثر ہے کہ وہ بولنے لگا ہے اس طرح اس نے اپنے مکاشفے کا اعلان کیا تاکہ لوگ صرف بچھڑے کی پوجا ہی نہ کریں بلکہ اس کی بزرگی کے بھی قائل ہوجائیں اس کی وضاحت میں بھی بہت کچھ لکھا گیا ہے حالانکہ بات بالکل واضح ہے کہ کافر اپنی قوم کو فریب دینے کی کوشش کر رہا ہے اور اسی سلسلے میں وہ اپنے مکاشفے کا بھی ذکر کرتا ہے ‘ اس سیاق وسباق میں اس کافر کے مکاشفے کی حیثیت سوائے فریب کے اور کیا رہ جاتی ہے یقینا اس نے ایک بات گھڑی تاکہ لوگ اس کی بات کو آسانی سے تسلیم کرلیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے اپنے اس مکاشفے کا اظہار کیا تو بجائے اس کے کہ آپ اس کے مکاشفے کا نوٹس لیتے آپ نے اسے ہرگز درخور اعتناء نہیں سمجھا کیونکہ آپ جانتے تھے کہ یہ سراسر ایک جھوٹ اور فریب ہے آپ نے اس کے جواب میں جو فرمایا اس میں ایک طرف تو اس کی شخصیت کا بھرم کھولا اور دوسری طرف اس کے بچھڑے کی حقیقت واضح کی آپ نے فرمایا کہ تیرے لیے دنیا میں اب صرف یہ سزا تجویز کی گئی ہے کہ تو پاگلوں کی طرح مارا مارا پھرے اور جب کوئی انسان تیرے قریب آئے تو اسے بھاگتے ہوئے یہ کہے کہ دیکھنا مجھ کو ہاتھ نہ لگانا یہ تو دنیوی عذاب ہے اور قیامت میں ایسے نافرمانوں اور گمراہوں کے لیے جو عذاب مقرر ہے وہ تیرے لیے وعدہ الٰہی کی صورت میں پورا ہونے والا ہے یہ تو قرآن کریم کا بیان ہے لیکن حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت نے اس کی یہ حالت بنادی کہ وہ کسی کو چھوتا تھا تو اسے بخار ہوجاتا تھا یا کوئی اسے چھوتا تھا تو وہ بھی بخار میں مبتلا ہوجاتا تھا اور یہ خود ہر وقت بخار میں پھنکتا رہتا تھا اور باہر جنگل میں جانوروں کے ساتھ گھومتا پھرتا ‘ آبادی میں کوئی اس کو منہ لگانے کو تیار نہیں تھا اور جہاں تک تعلق ہے اس بچھڑے کا جسے خدا کے طور پر پیش کیا گیا تھا اس کے بارے میں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے سامری یہ بھی دیکھ کہ تو نے جس گوسالہ کو معبود بنایا تھا اور اس کی پوجا کی طرف تو نے لوگوں کو دعوت دی تھی ہم ابھی اس کو آگ میں ڈال کر خاک کیے دیتے ہیں اور اس خاک کو دریا میں پھینکے دیتے ہیں تاکہ تجھ کو اور تیرے ان بیوقوف پیروکاروں کو معلوم ہوجائے کہ تمہارے معبود کی قدر و قیمت اور طاقت و قوت کا یہ حال ہے کہ وہ دوسروں پر عنایت و کرم تو کیا کرتا خود اپنی ذات کو ہلاکت و تباہی سے نہ بچا سکا۔ اللہ کی نعمتوں کی ناسپاسی عقل کو مائوف کردیتی ہے قرآن کریم نے اس آیت کریمہ میں بنی اسرائیل کی بےوقوفی ‘ عقلی بےمائیگی اور ساتھ ہی ساتھ ان کی ناقدری اور ناسپاسی کو ظاہر فرمایا ہے کہ ذرا اس قوم کا حال دیکھئے کہ اب تک کس طرح انھوں نے قدم قدم پر اللہ کی قدرتوں کا اظہار دیکھا ‘ کس طرح صدیوں کی غلامی سے اللہ نے ان کے لیے نجات کا سامان پیدا فرمایا جب دشمن ان کے سر پر پہنچ گیا تو نہ صرف کہ اللہ نے ان کی حفاظت فرمائی بلکہ دشمن ان کی آنکھوں کے سامنے غرق کردیا گیا پھر صحرائے سینا میں جہاں ضروریات زندگی کا کوئی اہتمام نہیں کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی ضروریات کو پورا فرمایا اور ایک پیغمبر کی بےمثال قیادت کس طرح ہر معاملے میں ان کی راہنمائی کرتی رہی لیکن کس قدر دکھ اور حیرانی کی بات ہے کہ ایک معمولی بچھڑے کو دیکھ کر یہ اپنے خدا کو بھول گئے اللہ کی تمام کرم فرمائیاں ان کی نگاہ سے اوجھل ہوگئیں اس کی بےپناہ قدرتوں کو بالکل ذہن سے نکال دیا اور عقل کے ایسے دشمن نکلے کہ ایک ایسا بچھڑا جس کو صحیح شکل بھی نصیب نہیں بلکہ ایک دھڑ کے سوا کچھ نہیں نہ وہ بات کرسکتا ہے نہ کسی کو راستہ دکھا سکتا ہے اس کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے۔ ایک اچھا بھلا آدمی اگر بولنے کی صلاحیت سے محروم ہو تو کوئی اس کو اپنا راہنما ماننے کو تیار نہیں چہ جائیکہ اپنا خدا مان لے اور یہ بچھڑا تو ایک حیوان بلکہ محض حیوان کا دھڑ جو انسان کی سطح کو بھی نہ پہنچ سکا اور وہ بولنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا اگر بول بھی سکتا تو زیادہ سے زیادہ یہ سمجھتے کہ وہ انسان کی منزل کو پہنچ گیا ہے اور پھر اس میں ایسی بھی کوئی صلاحیت نہیں کہ وہ لوگوں کو راستہ دکھا سکے اور کوئی راہنمائی کرسکے تو آخر ان بدبختوں نے بچھڑے کی پوجا کیا سوچ سمجھ کر کی۔ اس کے بعد کے جملے میں مزید ان کی حماقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ حماقت کرنے کو تو کر بیٹھے اور انھوں نے اس بچھڑے کو معبود بنا لیا لیکن جب سوائے بھاں بھاں کے ان کو اور کچھ سنائی نہ دیا تو اب وہ پریشان ہو کر سوچنے لگے اور آخر اس نتیجے پر پہنچے کہ ہم نے واقعی یہ حرکت کر کے اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم کیا ہے ہمیں اللہ نے عقل عطا کی تھی ہم نے یہ حرکت کر کے عقل پر بھی ظلم ڈھایا۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے شرف انسانیت سے نوازا تھا اور اشرف المخلوقات بنایا تھا ہم نے ایک حیوان کے دھڑ کے سامنے جھک کر اپنا تمام شرف خاک میں ملا دیا۔ عام لوگ تو یہی سمجھ سکے کہ ہم نے ایک ظلم کا راستہ اختیار کیا ہے یعنی ہم نے اپنے ساتھ زیادتی کی لیکن جو نسبتاً سمجھ دار لوگ تھے ان کے احساسات ان سے کچھ زیادہ بہتر تھے اس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں کیا جا رہا ہے۔
Ayah 7:149

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

جب وہ پچھتائے اور انھوں نے دیکھ لیا کہ وہ بیشک گمراہ ہوگئے تو کہنے لگے کہ اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہوجائیں گے۔

ارشاد فرمایا : وَلَمَّا سُقِطَ فِیْٓ اَیْدِیْھِمْ وَ رَاَوْا اَنَّھُمْ قَدْ ضَلُّوْالا قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یغْفِرْلَنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ (الاعراف : 149) ” جب وہ پچھتائے اور انھوں نے دیکھ لیا کہ وہ بیشک گمراہ ہوگئے تو کہنے لگے کہ اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہوجائیں گے “۔ اس آیت کریمہ میں سُقِطَ فِیْٓ اَیْدِیْھِمْ کا محاورہ استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم عام طور پر ’ نادم ہونا ‘ اور ’ شرمندہ ہونا ‘ ہوتا ہے لیکن اسی کا لازمی نتیجہ چونکہ متنبہ ہونا بھی ہے اس لیے کبھی اس کا ترجمہ متنبہ ہونا بھی کیا جاتا ہے چناچہ یہاں بھی یہی فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ بالکل گئے گزرے تھے ان کی تو خیر بات چھوڑیئے البتہ جن لوگوں میں سوجھ بوجھ موجود تھی وہ عوامی جوش میں مبتلا ہو کر بر وقت صحیح فیصلہ کرنے سے تو محروم رہے لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ یہ ہمارے سامنے ایک بھاں بھاں کرتا ہوا بچھڑا ہے جسے معبود کہا جا رہا ہے تو وہ یہ دیکھ کر سخت پریشان ہوئے اور انھیں اس بات پر انتہائی ندامت ہوئی کہ ہم عوامی جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے ایک ایسی حماقت کر بیٹھے ہیں کہ ایک ہوش مند آدمی سے کسی طرح بھی قرین قیاس نہیں حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ کسی بات کو دل کی گہرائیوں سے قبول نہیں کرتے بلکہ محض روا روی میں کسی راستے پر چل پڑتے ہیں وہ عموماً ایسے حوادث کا شکار ہوتے ہیں۔ اجتماعی زندگی میں اس طرح کے واقعات کا پیش آنا کوئی تعجب خیز نہیں تاریخ میں ہمیں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ کوئی شیطان صفت لیڈر اٹھا اور اس نے عوام کے سامنے خواہشات کا ایسا جال پھیلایا اور جذبات سے ایسا ان کو اندھا کیا کہ وہ اندھوں کی طرح اس کے پیچھے چل پڑے اور جب تباہی سامنے نظر آئی تو پھر سوچنے سمجھنے والے لوگ پریشان ہوئے کہ ہائیں ہم کیا کر بیٹھے ان میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جن کو اس حادثے کے بعد ہوش آیا اب وہ اس بات کی تہہ کو پا گئے کہ ہم فریب کھا گئے اور ہم واقعی گمراہ ہوگئے۔ اب بجائے اس کے کہ اس پر تأویلوں کے پردے ڈالے جائیں سیدھا راستہ یہ ہے کہ ہم ایک بہت بڑی ٹھوکر کھاچکے ہیں اب ہمیں اس سے بچانے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں۔ اس لیے اس کے بعد انھوں نے اللہ سے التجا کرنا شروع کی اور کہا کہ اے رب اگر آپ نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہمارے اس جرم کو معاف نہ کیا تو ہم نامراد ہوجائیں گے ہماری دنیا بھی تباہ ہوجائے گی اور آخرت میں بھی بدترین عذاب کا شکار ہوں گے۔ کشمکش یہاں تک پہنچی تھی اور کچھ بہتری کے آثار نمودار ہونے لگے تھے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور سے واپس تشریف لے آئے۔ اگلی آیت کریمہ میں اس کا اور اس کے بعد کے حالات کا ذکر کیا جا رہا ہے :
Ayahs 7:150–151

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور جب موسیٰ رنج اور غصہ سے بھرے ہوئے اپنی قوم کی طرف پلٹے تو کہا تم نے میرے پیچھے میری بہت بری جانشینی کی کیا تم نے اللہ کے حکم سے پہلے ہی جلد بازی کردی اور اس نے تختیاں ایک طرف رکھ دیں اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگا وہ بولا اے میرے ماں جائے قوم کے لوگوں نے مجھے دبا لیا قریب تھا کہ مجھے قتل کردیتے تو میرے اوپر دشمنوں کے ہنسنے کا موقع نہ دے اور میرا شمار ظالموں کے ساتھ نہ کر۔

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

موسیٰ نے دعا کی اے میرے پروردگار ! مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما تو ارحم الرحمین ہے۔

وَلَمَّا رَجَعَ مُوْسٰٓی اِلٰی قَوْمِہٖ غَضْبَانَ اَسِفًالا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمْوْنِیْ مِنْم بَعْدِیْج اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّکُمْ ج وَاَلْقِی الْاَلْوَاحَ وَاَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْہِ یَجُرُّہٗٓ اِلَیْہِ ط قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَکَادْوْا یَقْتُلْوْنَنِیْ زصلے فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآئَ وَلَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔ قَالَ رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَلِاَخِیْ وَاَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِکَ زصلے وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 150، 151) ” اور جب موسیٰ رنج اور غصہ سے بھرے ہوئے اپنی قوم کی طرف پلٹے تو کہا تم نے میرے پیچھے میری بہت بری جانشینی کی کیا تم نے خدا کے حکم سے پہلے ہی جلد بازی کردی اور اس نے تختیاں ایک طرف رکھ دیں اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگا وہ بولا اے میرے ماں جائے قوم کے لوگوں نے مجھے دبا لیا قریب تھا کہ مجھے قتل کردیتے تو میرے اوپر دشمنوں کے ہنسنے کا موقع نہ دے اور میرا شمار ظالموں کے ساتھ نہ کر۔ موسیٰ نے دعا کی اے میرے پروردگار مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما تو ارحم الرحمین ہے “۔ قرآن کریم کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ کوہ طور پر ہی پروردگار نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بتادیا تھا کہ آپ کی قوم گوسالہ پرستی کے فتنے میں مبتلا ہوگئی ہے چناچہ یہ سن کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بےچین ہونا بلکہ غضب ناک ہونا تقاضائے فطرت تھا کیونکہ ہر پیغمبر کی دعوت کا عنوان توحید ہوتا ہے اور یہی پورے دین کی اساس بھی ہے ان کی ساری اصلاحی کاوشیں اسی نقطے پر مرتکز ہوتی ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر میں کئی سال تک اور اب صحرائے سینا میں آنے کے بعد شب و روز یہی تصور اور یہی عقیدہ بنی اسرائیل کے دل و دماغ میں اتارنے کی کوشش فرمائی کہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں لیکن عجیب بات ہے کہ وہ اب تک غلامی کے اثرات سے جان نہیں چھڑا سکے تھے اس لیے وہاں رہ کر جن غلط عقائد کو اختیار کرچکے تھے ان میں سب سے بڑا عقیدہ عجل پرستی کا تھا چناچہ جیسے ہی موسیٰ (علیہ السلام) کی غیر حاضری میں چند شر پسندوں نے ان کے سامنے اس کا امکان پیدا کیا تو وہ فوراً اس میں مبتلا ہوگئے چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب یہ اپنی برسوں کی محنت لٹتی ہوئی دیکھی تو وہ سرتاپا غضبناک ہوگئے۔ اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ جب وہ واپس آئے تو وہ غصے میں بھڑک رہے تھے اور تأسف کا انتہاء درجہ شکار تھے۔ غصہ انھیں ان شرپسندوں کی کامیاب شرارت پر تھا اور غم و افسوس اپنی قوم کی نادانی اور جہالت پر ‘ چناچہ انھوں نے آتے ہی سب سے پہلے ان لوگوں کی خبر لی جو اپنے اپنے قبیلوں میں ذمہ دار سمجھے جاتے تھے اور جنھیں قبیلے کی راہنمائی اور نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ انھیں ڈانتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ تم نے میری جانشینی کا کیا خوب حق ادا کیا۔ کیا تم نے یہ سمجھ لیا کہ موسیٰ کے آنے میں اگر چند دن تاخیر ہوگئی ہے تو تمہیں یہ حق مل گیا ہے کہ تم اپنے طور سے جسے چاہو اپنا معبود بنا لو اگر پیغمبر کہیں غیر حاضر ہو تو کیا قوم کو اس بات کا حق مل جاتا ہے کہ وہ اس کی تعلیمات کے یکسر برعکس دوسرے طور اطوار اختیار کرلے تم نے آخر یہ جو کچھ کیا ہے تمہارے پاس اس کا کیا جواز تھا اور یا اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّکُمْ کا دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ تم نے یہ سمجھ لیا کہ موسیٰ موت کا شکار ہوگئے اس لیے وہ واپس اب تک نہیں آئے اور اب وہ کبھی نہیں آئیں گے لہٰذا ہمیں اپنے طور سے فیصلہ کرنے کا حق مل گیا ہے اگر خدا نہ کرے ایسا بھی ہوتا تو کیا تم اللہ کے پیغمبر کی تعلیمات کو یکسر الٹ دینے کے مجاز بن گئے تھے اس کے بعد غصے میں بھرے ہوئے حضرت ہارون (علیہ السلام) کی طرف پلٹے کیونکہ اصلاً تو قوم کی نگرانی اور اصلاح کی ذمہ داری انہی پر تھی وہ اللہ کے نبی بھی تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے جانشین بھی۔ چناچہ انھیں سر سے پکڑ کر جھنجھوڑنے لگے اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قوم بگڑتی رہی حتیٰ کہ شرک کے کو چے میں جاگری اور تم آرام سے انھیں دیکھتے رہے لیکن حضرت ہارون (علیہ السلام) نے نہایت شفقت ‘ نرمی اور محبت کے ساتھ فرمایا کہ اے میری ماں جائے تم غلط سمجھ رہے ہو کہ میں نے انھیں روکنے میں کوئی تساہل کیا ہے حقیقت یہ ہے کہ میں نے اپنی ہمت سے بڑھ کر انھیں روکنا چاہا ہے لیکن اس قوم نے نہ صرف کہ میری بات ماننے سے انکار کردیا بلکہ وہ میرے قتل پر تل گئے۔ خطرہ پید اہو گیا کہ اگر میں نے سختی سے انھیں روکنا چاہا تو یہ لوگ مجھے قتل کردیں گے تو جانتا ہے کہ یہ فتنہ اٹھانے والے کون ہیں میں نے اپنی پوری توانائیاں ان کے روکنے میں استعمال کی ہیں تو یہ خیال نہ کر کہ میں نے ان شرپسندوں کا ساتھ دیا ہے تو میرے ساتھ جو سلوک کر رہا ہے اس سے انہی شرپسندوں کو ہنسنے کا موقع ملے گا وہ درپردہ مذاق اڑائیں گے کہ دیکھو سب کچھ ہم نے کیا اور سزا ہارون کو مل گئی۔ حضرت ہارون کی برأ ت یہاں قرآن مجید نے ایک بہت بڑے الزام سے حضرت ہارون کی برأت ثابت کی ہے جو یہودیوں نے زبردستی ان پر چسپاں کر رکھا تھا۔ بائبل میں بچھڑے کی پرستش کا واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ کو پہاڑ سے اترنے میں دیر لگی تو بنی اسرائیل نے بےصبر ہو کر حضرت ہارون سے کہا کہ ہمارے لیے ایک معبود بنادو اور حضرت ہارون نے ان کی فرمائش کے مطابق سونے کا ایک بچھڑا بنادیا جسے دیکھتے ہی بنی اسرائیل پکار اٹھے کہ اے اسرائیل ‘ یہی تیرا وہ خدا ہے جو تجھے ملک مصر سے نکال کر لایا ہے پھر حضرت ہارون نے اس کے کے لیے ایک قربان گاہ بنائی اور اعلان کر کے دوسرے روز تمام بنی اسرائیل کو جمع کیا اور اس کے آگے قربانیاں چڑھائیں۔ (خروج ‘ باب 32: 90-94) قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بصراحت اس غلط بیانی کی تردید کی گئی ہے اور حقیقت واقعہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس جرم عظیم کا مرتکب اللہ کا نبی ہارون نہیں بلکہ اللہ کا باغی سامری تھا۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورة طٰہٰ آیات : 90-94) انبیاء سے متعلق بنی اسرائیل کا رویہ بظاہر یہ بات بڑی حیرت انگیز معلوم ہوتی ہے کہ بنی اسرائیل جن لوگوں کو خدا کا پیغمبر مانتے ہی ان میں سے کسی کی سیرت کو بھی انھوں نے داغدار کیے بغیر نہیں چھوڑا ہے اور داغ بھی ایسے سخت لگائے ہیں جو اخلاق و شریعت کی نگاہ میں بد ترین جرائم شمار ہوتے ہیں ‘ مثلاً شرک ‘ جادوگری ‘ زنا ‘ جھوٹ ‘ ڈغابازی اور ایسے ہی دوسرے شدید معاصی جن سے آلودہ ہونا پیغمبر تو درکنار ایک معمولی مومن اور شریف انسان کے لیے بھی سخت شرمناک ہے۔ یہ بات بجائے خود انتہاتی عجیب ہے لیکن بنی اسرائیل کی اخلاقی تاریخ پر غور کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ فی الحقیقت اس قوم کے معاملہ میں یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ یہ قوم جب اخلاقی و مذہبی انحطاط میں مبتلاہوئی اور عوام سے گزر کر ان کے خواص تک حتی کہ علماء و مشائخ اور دینی منصب داروں کو بھی گمراہیوں اور بد اخلاقیوں کا سیلاب بہالے گیا تو ان کے مجرم ضمیر نے اپنی اس حالت کے لیے غدرات تراشنے شروع کیے اور اسی سلسلہ میں انھوں نے وہ تمام جرائم جو یہ خود کرتے تھے ‘ انبیاء (علیہم السلام) کی طرف منسوب کر ڈالے تاکہ یہ کہا جاسکے کہ جب نبی تک ان چیزوں سے نہ پچ سکے تو بھلا اور کون بچ سکتا ہے۔ اس معاملہ میں یہودیوں کا حال ہندئوں سے ملتا جلتا ہے، ہندوئوں میں بھی جب اخلاقی انحطاط انتہا کو پہنچ گیا تو وہ لٹریچر تیار ہوا جس میں دیوتائوں ‘ رشیوں ‘ مُنیوں اور اوتاروں کی ‘ غرض جو بلند ترین آئیڈیل قوم کے سامنے ہوسکتے تھے ان سب کی زندگیاں بد اخلاقی کے تار کول سے سیاہ کر ڈالی گئیں تاکہ یہ کہا جاسکے کہ جب ایسی ایسی عظیم الشان ہستیاں ان قبائح میں مبتلا ہوسکتی ہیں تو بھلا ہم معمولی فانی انسان ان میں مبتلا ہوئے بغیر کیسے رہ سکتے ہیں اور پھر جب یہ افعال اتنے اونچے مرتبے والوں کے لیے بھی شرمناک نہیں ہیں تو ہمارے لیے کیوں۔ القی الالواح کا مفہوم اس آیت کریمہ میں یہ ذکر بھی آیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب غضب ناک حالت میں اپنی قوم کی طرف تشریف لائے تو آپ نے سب سے پہلے اپنی قوم کے معززین کو سرزنش کی اور اس کے بعد جن پر اصل میں بنی اسرائیل کی اصلاح کی ذمہ داری تھی یعنی حضرت ہارون (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوئے اور انھیں سر سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا گویا زبان سے ہی نہیں ہاتھوں سے بھی غصہ کا اظہار کیا ‘ ہاتھوں کو استعمال کرتے وقت انھیں ان الواح کو ہاتھوں سے رکھنے کی ضرورت پیش آئی جن پر تورات لکھی ہوئی تھی اور حضرت موسیٰ انھیں ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے اس کو قرآن کریم نے ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔ وَاَلْقِی الْاَلْوَاح ‘ اس کا بعض بزر گوں نے ترجمہ کیا ہے کہ موسیٰ نے تختیاں پھینک دیں اور پھر خود ہی سوال اٹھایا ہے کہ ان تختیوں پر چونکہ تورات لکھی ہوئی تھی اس لیے ان کا پھینکا جانا کتاب اللہ کی توہین کے مترادف تھا ‘ اور کتاب اللہ کی توہین گناہ کبیرہ ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے رسول ہیں ان سے گناہ کبیرہ کا صدرو کیسے ہوگیا حالانکہ بات بالکل واضح ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سارا غصہ اور غضب اس بات پر ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو زندگی کی راہنمائی کے لیے کتاب عطا فرمائی اور انھوں نے بجائے اس کا انتظار کرنے کے گوسالہ پرستی شروع کردی اس طرح سے انھوں نے اللہ کی کتاب کی توہین کی چناچہ آپ اسی توہین پر بر افروختہ ہیں کس قدر عجیب بات ہے کہ آپ جس کتاب کی عزت و حرمت اور عظمت کی بحالی کے لیے اپنی قوم سے بلکہ اپنے بھائی سے الجھ رہے ہیں یہ سمجھ لیا گیا کہ خود حضرت موسیٰ نے اسے پھینک کر اس کی توہین کی حالانکہ معمولی غور و فکر سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ القی کا ترجمہ جس طرح پھینکنا ہوتا ہے اسی طرح ایک طرف ڈال دینا بھی ہوتا ہے آپ نے حمیت حق میں ڈوبے ہوئے جب بھائی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو ہاتھ خالی کرنے کے لیے آپ نے تورات کو ایک طرف ڈال دیا تاکہ ہاتھ خالی ہوجائیں ظاہر ہے کہ کتاب کو ایک طرف ڈال دینا یا رکھ دینا اس میں توہین کی کوئی بات نہیں ‘ اس مجہول بات کو تقویت تورات نے فراہم کی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب تورات پھینکی تو وہ ٹوٹ پھوٹ گئی چناچہ پھر دوبارہ آپ کو تورات دینے کے لیے کوہ طور پر بلایا گیا ‘ قرآن کریم نے آگے چل کر اس بات کی بھی اصلاح فرمائی ہے کہ موسیٰ و کا جب غصہ فرو ہوا تو آپ نے ان الواح کو اٹھا لیا اس سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ الواح اگر ٹوٹ پھوٹ کر ریزہ ریزہ ہوچکی ہوتی تو موسیٰ (علیہ السلام) کس طرح اٹھا سکتے تھے۔ حضرت موسیٰ کی اللہ سے دعا حضرت ہارون (علیہ السلام) کی معذرت اور وضاحت کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تو اس بات پر اطمینان ہوگیا کہ آپ کے عظیم بھائی نے بنی اسرائیل کو سمجھانے اور گوسالہ پرستی سے روکنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اس بات کا وہم بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ آپ نے گوسالہ پرستی میں شرکت یا حوصلہ افزائی کی ہوگی چناچہ اس اطمینان کے بعد آپ اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور دعا فرمائی کہ یا اللہ ! مجھے معاف فرمادے اور میرے بھائی کو معاف کر دے سب سے پہلے اپنے لیے دعا کی کیونکہ ادب کا تقاضا یہ ہے کہ اگر دوسرے کے لیے بھی دعا مانگنا ہو تو پہلے اپنے لیے دعا کرنا چاہیے ‘ اور ممکن ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ آپ کو یہ احساس بھی ہو کہ میں نے کوہ طور پر جانے میں جو جلد بازی کی شائد یہ اس کا نتیجہ ہے مجھے اچھی طرح پہلے اطمینان کرلینا چاہیے تھا کہ قوم کے اندر جو مفسدین اور منافقین کا گروہ ہے کہیں میرے بعد وہ کوئی فتنہ اٹھانے میں کامیاب تو نہیں ہوجائیں گے مجھے اس کا سد باب کر کے جانا چاہیے تھا اور دوسرا یہ خیال بھی ممکن ہے کہ آپ کو دامن گیر ہو کہ میں نے اپنے بھائی سے جو سختی کی اور یہ گمان کیا کہ انھوں نے قوم کو گوسالہ پرستی سے روکنے میں شائد تساہل سے کام لیا ہے ‘ یہ سراسر میری بدگمانی تھی اور اپنی بدگمانی کی بنا پر میں نے اپنے بھائی سے جو بد سلوکی کی ہے اگرچہ وہ سراسر حمیت حق کی بنیاد پر ہے لیکن عین ممکن ہے کہ پروردگار اس پر میرا مواخذہ فرمائے اس لیے ان احساسات کے تحت آپ نے سب سے پہلے اپنے لیے مغفرت طلب کی اور اور پھر اپنے بھائی کے لیے کہ ہرچند میرے بھائی نے پوری طرح بنی اسرائیل کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ آپ سے معمولی درجے کا تساہل ہوگیا ہو کیونکہ آدمی کو اپنے اعمال کے بارے میں کبھی بھی خوش گمان نہیں رہنا چاہیے اپنی اور اپنے بھائی کے لیے مغفرت کی دعا کرنے کے بعد یہ گذارش کی کہ یا اللہ تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرماکیون کہ تو ہی سب سے بڑا رحم فرمانے والا ہے بنی اسرائیل کو ہدایت کے راستے پر چلانا اور ہر قدم پر ان کی نگرانی کرنا یہ انتہائی کٹھن کام ہے ان کے مزاج کی خرابیوں اور سیرت و کردار کی نا ہمواریوں کو دیکھتے ہوئے ہر وقت اندیشہ ہے کہ وہ پروردگار کے غضب کا باعث نہ بنیں اس لیے اے اللہ سلامتی اسی میں ہے کہ تو اپنی رحمت کا سایہ ہم پر تان دے مجھے اور میرے بھائی کو اپنے رحمت کی پناہ میں رکھ تیری رحمت ہی کی سہارے ہم یہ کٹھن کام انجام دینے کی توفیق پاسکتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تائید اور تقویت کے لیے پروردگار نے بنی اسرائیل کو وعید سنائی تاکہ وہ جس عظیم جرم کا اتکاب کرچکے ہیں انھیں اس کے نتائج کا کچھ اندازہ ہو سکے۔ اگلی آیت کریمہ میں اس کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔
Ayahs 7:152–153

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا وہ ضرور اپنے رب کے غضب میں گرفتار ہو کر رہیں گے اور دنیا کی زندگی میں ذلیل ہوں گے۔ ہم بہتان باندھنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جو لوگ برے عمل کریں پھر اس کے بعد توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں تو اس کے بعد تیرا رب بخشنے والا اور مہربان ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَا لُھُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَذَلَّۃٌ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاط وَکَذٰلِکَ نَجْرِی الْمُفْتٰرِیْنَ ۔ وَالَّذِیْنَ عَمِلُوْاالسَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْ بَعدِھَا وَاٰمَنُوْٓاز اِنَّ رَبَّکَ مِنْم بَعْدِھَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (الاعراف : 153، 152) ” بیشک جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا وہ ضرور اپنے رب کے غضب میں گرفتار ہو کر رہیں گے اور دنیا کی زندگی میں ذلیل ہوں گے۔ ہم بہتان باندھنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں اور جو لوگ برے عمل کریں پھر اس کے بعد توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں تو اس کے بعد تیرا رب بخشنے والا اور مہربان ہے “۔ گذشتہ آیت کریمہ کے دوسرے جملے سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) شائد اپنی ساری قوم کے لیے رحمت کی دعا مانگ رہے ہیں پروردگار نے اس کے جواب میں فرمایا کہ بنی اسرائیل نے جو جرم کیا ہے وہ ایسا معمولی نہیں کہ بغیر انھیں سزا دئیے معاف کردیا جائے ‘ انھیں اس پر سزا بھی ملے گی اور ساتھ ہی وہ اللہ کے غضب کے بھی مستحق ہوں گے۔ سزا کا تعلق عموماً آخرت کی سزائوں سے ہوتا ہے یعنی انسان جو بد اعمالیاں کرتا ہے یا کفر کا رویہ اختیار کرتا ہے تو قیامت کے دن اللہ سزا کے طور پر ایسے شخص کو جہنم میں ڈالے گا لیکن جہاں کہیں قرآن کریم نے غضب کا لفظ استعمال کیا ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے اخروی سزا کے ساتھ ساتھ دنیوی سزا بھی مراد ہے۔ چناچہ بنی اسرائیل کے بارے میں جہاں دنیا میں ان کے لیے ذلت اور مسکنت کی پھٹکار کا ذکر کیا گیا ہے وہاں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ یہ ذلت اور مسکنت کی پھٹکار اس لیے ان پر ماری گئی ہے کہ وہ اللہ کی بارگاہ سے رحمت کی بجائے غضب لے کر لوٹے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان کے لیے رحمت کی دعا مانگ رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کی گوسالہ پرستی کی وجہ سے ان پر غضب فرما رہا ہے۔ اس غضب کے نتیجہ میں ان پر کیا کچھ گزر سکتی ہے اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، البتہ ! یہ ممکن ہے کہ اس کے اظہار کی ایک وہ صورت ہو ‘ جس کا ذکر پہلے پارے میں ہوچکا ہے ‘ جہاں ان کے جرم کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا۔ فَاَقْتُلُوْآ اَنْفُسَکُمْ ط یعنی اپنے آپ کو قتل کرو اس کا یہ مطلب نہیں کہ خود اپنی تلواروں سے اپنی گردنیں کاٹوبل کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر قبیلہ میں جو لوگ اس فتنہ شرک اور گوسالہ پرستی سے الگ رہے ہیں اپنے اپنے قبیلہ کے ان لوگوں کی گردنیں اپنے ہاتھوں سے ماریں ‘ جنھوں نے قوم کے لیے اس فتنہ کا راستہ کھولایہ حکم ایک طرف تو اللہ کے غضب کا اظہار تھا لیکن ساتھ ہی یہ حکم ایسی عظیم مصلحتوں کا حامل تھا جس میں قوم کی اصلاح مضمر تھی سب سے پہلی مصلحت اس میں یہ تھی کہ اس طرح توبہ کرنے سے توبہ کی ایک اجتماعی شکل وجود میں آئے گی جس سے بنی اسرائیل کا اجتماعی ضمیر زندہ ہوگا اور اس زندگی کی علامت یہ ہوگی کہ اپنے اندر سے وہ ان لوگوں کو کاٹ پھینکیں گے جنھوں نے عہدتوحید کو شکست کیا ہے دوسری مصلحت اس میں یہ تھی کہ اس طرز عمل سے توحید کی حقیقی عظمت اور شرک کی حقیقی کراہت پوری طرح نمایاں ہوگئی جس سے یہ معلوم ہوگیا کہ شرک ایک ایسی برائی ہے کہ اگر آدمی کا بایاں ہاتھ بھی اس کا ارتکاب کرے تو داہنے ہاتھ کا فرض ہے کہ اپنے بائیں ہاتھ کو کاٹ پھینکے اور پھر بلا تخصیص اس سزا سے جہاں قبیلہ کی عصبیت پر چوٹ پڑی وہیں یہ بھی ثابت ہوگیا کہ توحید اتنا بڑا سرمایہ ہے کہ اس پر ہر نسبت کو قربان کیا جاسکتا ہے۔ آیت کریمہ میں مزید یہ فرمایا گیا کہ گوسالہ پرستی کرنے والوں کو اللہ کے غضب کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ یہ سزا بھی ملے گی کہ وہ دنیا کی زندگی میں ذلیل ہوجائیں گے یعنی دنیا میں انھیں حقیقی عزت و عظمت اس وقت تک حاصل نہیں ہوگی جب تک اس طرح کے جرائم سے مکمل طور پر اپنی زندگی کو پاک نہیں کرلیتے لیکن اب جب کہ انھوں نے اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کرلیا ہے تو کم از کم ارتکاب کرنے والے دوسروں کی نگاہوں میں بری طرح ذلیل ہو کر رہ جائیں چناچہ پوری قوم کے سامنے ان کو قتل کیا جانا اور ان کے معبود کو جلایا جانا ایک ایسی ذلت کا اظہار ہے جس سے بڑھ کر ذلت کا تصور نہیں کیا جاسکتا البتہ اگلی آیت کریمہ میں پروردگار نے اپنے اس محکم اصول کو بیان فرمایا جو اس کی صفت رحمت کا ظہور ہے وہ یہ کہ جو لوگ اپنی اس انتہائی بغاوت سے توبہ کرلیں گے تو اللہ کی رحمت سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنا رحم فرمائے گا لیکن اس توبہ میں ایمان کا اضافہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کرنے والوں کی توبہ صرف یہ نہیں کہ وہ اللہ سے اپنے گناہ کی معافی مانگیں بلکہ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ انھوں نے جو حرکت کی ہے اس کے بعد ایمان باقی نہیں رہتا ‘ ایمان کی بنیاد تو اللہ کو ایک ماننا ہے جب کسی دوسرے کو خدا مان کر یا اس کا اوتار یا اس کا کچھ اور مان کر اس کی پوجا شروع کردی جائے تو پھر سینے میں ایمان باقی نہیں رہتا اس لیے فرمایا کہ اب ان لوگوں کی توبہ صرف اسی صورت میں قبول ہوگی کہ یہ تجدید ایمان بھی کریں۔ آئیے اپنا جائزہ لیں یہاں رک کر قرآن کریم کی ان وضاحتوں کی روشنی میں اپنی قومی زندگی کا بھی جائزہ لینا چاہیے بنی اسرائیل پر ذلت کی پھٹکار ماری گئی حتی کہ ان کے جرم کرنے والوں کو تہ تیغ کردیا گیا، جرم ان کا کیا تھا صرف یہ کہ انھوں نے ایک بچھڑے کو اللہ کے مقابلہ میں معبود مان لیا تھا اور بجائے اللہ کی عطا کردہ کتاب کی راہنمائی کو قبول کرنے کے وہ اس بچھڑے کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے تھے اس کا مطلب یہ تھا کہ خدا کی ضرورت صرف اتنی ہے کہ اس کی پوجاپاٹ کی جائے اور اس کے سامنے سر جھکایا جائے رہی یہ بات کہ زندگی کا پورا سفر کس کی راہنمائی میں طے ہونا چاہیے ‘ اور زندگی کے اصول و ضوابط متعین کرنے کا حق کسے ہونا چاہیے اور ہماری پوری زندگی پر حکمرانی کا حق کسے ملنا چاہیے ‘ تورات کا انکار اور بچھڑے کے سامنے سجدہ ریزی اس بات کا اعلان تھا کہ سجدہ صرف اپنے بنائے ہوئے معبود کو ہوگا اور زندگی میں ہم اپنی خواہشات اور اپنے فیصلوں کے تابع ہوں گے اس کی سزا جو انھیں دی گئی وہ ہمارے سامنے ہے لیکن اس کے مقابلے میں جب ہم اپنا قومی اور اجتماعی رویہ دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ہمارا ایک پیغمبر ہے جس کی ذات آئیڈیل ذات ہے ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں ہمیں زندگی کی راہنمائی کے لیے ابدی قانون دیا گیا ہے ہمارے پاس اس قانون کی پوری تفصیلات ‘ سنت کی شکل میں موجود ہیں۔ لیکن پورے عالم اسلام میں برسوں سے اس کتاب کو صرف تلاوت تک محدود رکھ کر اس کی باقی پوری راہنمائی کو قبول کرنے سے انکار کردیا گیا ہے۔ ہماری معاشرت ‘ معیشت ‘ سیاست ‘ تعلیم ‘ آدابِ زندگی ‘ حکومت ‘ بین الاقوامی زندگی غرضیکہ زندگی کا ہر شعبہ نہ صرف کہ اس کتاب کی راہنمائی سے آزاد ہے بلکہ اس کے مقابلے میں دوسری قوموں سے مانگ تانگ کر یا اپنے بنائے ہوئے اصول و ضوابط اور آداب زندگی کی پیروی ہو رہی ہے اور جہاں تک اللہ کے سامنے جھکنے کا تعلق ہے ہماری ایک بڑی محدود تعداد مسجدوں میں اس کے سامنے جھکتی ہے لیکن باقی زندگی کے ادوار میں وہ اس کے سامنے جھکنے سے انکار کردیتی ہے۔ ہمارے دفاتر اس سے باغی ہیں ہماری بیوروکریسی اس کا نام تک سننے کی روادار نہیں ہماری عدالتیں ایک بالکل متوازی نظام قانون چلا رہی ہیں۔ ہماری حکومتیں اپنی مصلحتوں کے سائے میں چلتی ہیں۔ بنی اسرائیل نے ایک بچھڑا بنایا تھا ہم نے نہ جانے سر جھکانے کے لیے کتنے بچھڑے اور کتنے آستانے بنا لیے ہیں، ہم کتنے ملکوں کے سامنے اس لیے جھکتے ہیں کہ ان کی قدرتیں بےپناہ ہیں ‘ وسائل رزق کی کنجیاں ان کے پاس ہیں۔ ہم اپنے پیغمبر کو دانائے سبل ‘ ختم الرسل اور مولائے کل کہتے ہیں لیکن اس کی دی ہوئی تہذیب ‘ اس کا عطا کردہ تمدن اور اس کی پیدا کردہ ثقافت کو قبول کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں اس کی شخصی زندگی جو ہر لحاظ سے ایک بےعیب زندگی ہے ہم اس کا اتباع کرنے کی بجائے صرف اس کے حسن و جمال کی مدح وثناء پر اکتفا کرتے ہیں۔ یہ ہماری قومی اور اجتماعی زندگی کا ایک ہلکا سا خاکہ ہے۔ جس کو دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں قرآن کریم پڑھتے ہوئے ہم جب سابقہ امتوں کے احوال پڑھتے ہیں تو کیا یہ ضروری نہیں کہ ہم ان کے آئینے میں اپنی شکلیں پہچاننے کی کوشش کریں اگر آج ایسی کوشش کرلیں گے تو کل کے برے انجام سے بچ جائیں گے ورنہ آنکھیں بند کرلینے سے نہ کوئی خطرہ ٹلا ہے اور نہ ٹل سکتا ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں تورات کی حیثیت و اہمیت کو ایک شرط کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 7:154

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا اس نے تختیاں اٹھائیں اور اس کے نوشتہ میں ہدایت و رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں۔

وَلَمَّا سَکَتَ عَنْ مُّوْسٰی الْغضَبُ اخَذَاالْاَلْوَاحَ ج وَفِی نُسْخَتِھَا ھُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلَّذِیْنَ ھُمْ لِرَبِّھِمْ یَرْھَبُوْنَ ۔ (الاعراف : 154) ” جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا اس نے تختیاں اٹھائیں اور اس کے نوشتہ میں ہدایت و رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں “۔ موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی سے جس طرح برہم تھے اور پھر حضرت ہارون اور دوسرے قبائل کے سرداروں سے جس طرح دل گرفتہ تھے ‘ جب پوری صورت حال کے واضح ہوجانے کے بعد آپ کی طبیعت میں اعتدال آیا تو آپ نے سب سے پہلے تورات کی تختیوں کو اٹھایا کیونکہ یہی تختیاں تھیں جو اللہ کی کتاب تھیں اور انھیں ہی بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے پروردگار نے عطا فرمایا تھا اور بنی اسرائیل نے انہی کو نظر انداز کر کے موسیٰ (علیہ السلام) کو غضب ناک کیا تھا اس لیے ضروری تھا کہ سب سے پہلے اس عظیم سرمائے کو سنبھالا جائے۔ چناچہ آپ نے ان کو اٹھایا اور قوم کے سامنے مناسب ہدایت کے ساتھ پیش فرمایا پروردگار نے حضرت موسیٰ کے اس طرز عمل کو بیان کرتے ہوئے یہ ضروری خیال فرمایا کہ تورات کی اہمیت کو بھی بیان کردیا جائے تاکہ بنی اسرائیل دوبارہ اس کو نظر انداز کرنے کی جرأت نہ کریں۔ اس لیے فرمایا کہ تورات کے نسخہ میں ہدایت اور رحمت ہے۔ نسخہ کسی تحریر کی حرف حرف نقل کو کہتے ہیں۔ تورات اصل میں انھیں الواح کی نقل ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں الواح سے بارہ نسخے تیار کروائے ‘ اور ہر قبیلہ کے سپرد ایک ایک نسخہ کیا گیا اور پھر ایک الگ نسخہ بنی لاوی کو حفاظت کے لیے دیا گیا ‘ غالباً یہی وہ نسخہ ہے جسے تابوتِ سکینہ میں رکھا گیا تھا ‘ چونکہ یہ تمام کتاب کی جلدیں انہی الواح کی نقل تھیں اس لیے اس کو نسخہ سے تعبیر کیا گیا پھر اس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کتاب میں ہدایت بھی ہے اور رحمت بھی ‘ ہدایت تو اس لحاظ سے کہ تمہیں پوری زندگی اس کی راہنمائی میں گزارنی ہے ‘ عبادت اسی کی راہنمائی میں کرنی ہے معاشرت کے اصول اسی سے لینے ہیں معاملات اسی کی روشنی میں طے کرنے ہیں ‘ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام آداب اسی سے سیکھنے ہیں اگر تم نے پوری زندگی اس کی راہنمائی میں دے دی اور مکمل طور پر تم اس کے متبع بن گئے تو پھر یقین رکھو اللہ تعالیٰ تم سے رحمت کا سلوک فرمائے گا، یعنی دنیا میں تمہیں ایک اچھی زندگی اور خوشحال زندگی سے نوازا جائے گا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ تمہیں بہتر سے بہتر جزا عطا فرمائے گا۔ چناچہ قرآن کریم نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے اہل کتاب سے یہ کہا تھا کہ اگر اہل کتاب ایمان لائیں اور تقویٰ کی زندگی اختیار کریں تو ہم ان کے لیے آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیں گے اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ زمین سے ان کے لیے رزق ابلے گا اور آسمان سے بھی رزق ان کے لیے برسے گا۔ یعنی وہ اپنے اوپر سے بھی کھائیں گے اور پائوں کے نیچے سے بھی ‘ لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ ہرحال میں اللہ سے ڈرتے رہیں اللہ انھیں غریبی میں رکھے یا امیری میں انھیں تخت و تاج عطا کرے یا صحرائی زندگی کی کلفتوں میں رکھے ہرحال میں انھیں اللہ سے ڈر کر اس کتاب ہدایت کی پیروی کرنی ہے انھیں اللہ نیکی کی توفیق دے تو ان میں نیکی کا پندار پیدا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ جو اللہ سے ڈرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ نیکی اللہ کی توفیق کے بغیر نہیں ہوتی اور اگر میں نے طلب توفیق میں کوئی بھی کمی کی تو بعید نہیں کہ نیکی کی توفیق مجھ سے سلب کرلی جائے اور یہ بات بھی واضح رہے کہ یہاں جو کچھ فرمایا گیا ہے یہ بنی اسرائیل کی خصوصیت نہیں ‘ بلکہ اللہ کے ہر رسول نے اپنی قوم کو اسی بات کی ہدایت کی ہے اور قرآن کریم تو ان ہدایات سے لبریز ہے اور آنحضرت ﷺ کی دعوت کا عنوان ہمیشہ یہ ہوتا تھا کہ اگر تم اس دعوت کو قبول کرلو تو دنیا بھی تمہاری ہوگی اور آخرت بھی تمھاری۔ دنیا کی تمام نعمتوں اور سرفرازیوں کے تم مستحق بنا دیے جاؤ گے بلکہ ایک موقع پر فرمایا : ” اگر تم میری اس دعوت کو قبول کرلو تو تم دیکھو گے کہ تم عرب کے مالک بن جاؤ گے اور عجم تمہارے سامنے جھک جائے گا۔ “ تاریخ آج بھی گواہی دے رہی ہے کہ اللہ کے آخری رسول نے اس امت سے جتنے وعدے فرمائے تھے وہ سب حرف بہ حرف پورے ہوئے ‘ اور اس وقت تک یہ امت دنیا کی غالب قوت رہی جب تک اس کی زندگی اللہ کی کتاب کی راہنمائی میں گزرتی رہی اور اس امت کا ہر چھوٹا بڑا فرد اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کے رسول سے محبت کرنے والا تھا۔ لیکن جب سے یہ تعلق کمزور ہوا اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ آج یہ امت وسائل سے مالا مال ہے ‘ افرادی قوت کی کوئی کمی نہیں دنیا کے ایک چوتھائی حصے پر اس کا قبضہ ہے ہر قابل ذکر ساحل اس کی ملکیت میں ہے۔ ذہانتوں میں کوئی کمی نہیں لیکن اس کے باوجود یہ امت دنیا کی سب سے ذلیل امت بن کر رہ گئی ہے۔ ہر اٹھتی ہوئی بجلی کو سب سے پہلے ہمارے کاشانے کی خبر ہوتی ہے بڑی قوتوں کے لیے ہم تر نوالہ ہو کر رہ گئے ہیں وجہ اس کی اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ نے ہماری کامیابیوں کو اپنے دین سے وفاداری کے ساتھ اور اللہ اور رسول سے تعلق کے ساتھ مشروط ٹھہرایا ہے ہم نے اس شرط کو کھو دیا ہے اس لیے اس کی رحمتوں سے محروم ہوگئے ہیں۔ پس منظر گذشتہ رکوع میں ایک تسلسل کے ساتھ بنی اسرائیل کی دینی اور قومی تاریخ بیان کی جارہی ہے جس میں ان کی فکری اور عملی زندگی کی کوتاہیوں کے اہم واقعات کو ایک ترتیب کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔ سلسلہ کلام یہاں تک پہنچا ہے کہ بنی اسرائیل کے گوسالہ پرستی میں مبتلا ہونے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی کتاب تورات لے کر کوہ طور سے واپس آئے ان کی اس مشرکانہ حرکت پر انھیں ہر ممکن سرزنش فرمائی ان کے بگڑے ہوئے لوگوں پر سزا نافذ کی اور پھر اللہ کی کتاب کو ان کے سامنے پیش فرما کر انھیں حکم دیا کہ تم ایک بہت بڑی ٹھوکر کھاچکے ہو ایک تو اس پر شب و روز توبہ کرو اور دوسرے اس کتاب کی راہنمائی کو مضبوطی سے تھام لو اس پر ایمان لائو اور اس کے احکام کی ہر ممکن طریقے سے تعمیل کرو ‘ اگر تم نے یہ موقع بھی کھو دیا تو پھر تم زندگی کے اندھیروں میں ڈوب جاؤ گے کیونکہ یہی وہ کتاب ہے جس میں اللہ نے تمہارے لیے ہدایت رکھی ہے اور جس کے نتیجے میں تم اس کی رحمت کے سزا وار ٹھہرو گے لیکن بنی اسرائیل اپنی صدیوں کی غلامی کے باعث اس طرح قومی اور ملی خصوصیات سے محروم ہوئے تھے کہ ان کے لیے کسی نئے طرز زندگی کو خوش دلی سے اختیار کرنا آسان کام نہ تھا وہ جانتے تھے کہ ہم گوسالہ پرستی کی صورت میں ایک بہت بڑے حادثے سے دوچار ہوچکے ہیں یہ اللہ کا شکر ہے کہ اتنے بڑے جرم کے نتیجے میں اس نے پوری قوم کو تباہ نہیں کیا اب بجائے لیت و لعل کرنے کے انھیں لپکتے ہوئے تورات کو تھام لینا چاہیے تھا لیکن انھوں نے اپنی قومی خصوصیت کے مطابق کہا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ہم محض تیری بات مان کر کیسے یقین کرلیں کہ یہ کتاب واقعی اللہ کا کلام ہے جب تک ہم اپنے کانوں سے اللہ کا کلام نہ سنیں اور اپنی آنکھوں سے پروردگار کو بےحجاب نہ دیکھ لیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ہرچند ان کی اس جسارت پر انھیں ملامت کی اور اس گمراہی سے انھیں تائب ہونے کے لیے کہا مگر ان کا اصرار بدستور قائم رہا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب ان کی یہ بےجا ضد دیکھی تو آپ نے اللہ سے اجازت چاہی اور ستر آدمیوں کا انتخاب کر کے اپنے ساتھ لے گئے اور انھیں سمجھایا کہ تم کوہ طور پر جا کر ایک تو گوسالہ پرستی کی اجتماعی توبہ کرو اور پوری قوم کی طرف سے معافی مانگو اور پھر یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کا تم کلام سن لو تاکہ تم واپس آکر قوم کے سامنے گواہی دے سکو کہ تورات واقعی کلام خداوندی ہے چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان ستر سرادروں کو لے کر کوہ طور جا پہنچے تو ایک سفید بادل کی طرح نور نے حضرت موسیٰ کو گھیر لیا اور اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی شروع ہوگئی۔ حضرت موسیٰ نے بارگاہِ الہٰی میں عرض کیا کہ الہٰی تو بنی اسرائیل کے حالات کا دانا و بینا ہے میں ان کی ضد پر ستر آدمی انتخاب کر کے لے آیا ہوں کیا اچھا ہو کہ وہ بھی اس حجاب نور سے میری اور تیری ہم کلامی کو سن لیں اور قوم کے پاس جا کر تصدیق کرنے کے قابل ہوجائیں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی دعا منظور فرما لی اور ان ستر افراد کو بھی حجابِ نور میں لے لیا گیا اور انھوں نے حضرت موسیٰ اور اللہ رب العالمین کی ہم کلامی کو سنا پھر جب پردہ نور ہٹ گیا اور حضرت موسیٰ اور ان سرداروں کے درمیان آمنا سامنا ہوا تو سرداروں نے وہی اپنا پہلا اصرار قائم رکھا کہ جب تک بےحجاب اللہ کو نہ دیکھ لیں ہم ایمان لانے والے نہیں اس احمقانہ اصرار اور ضد پر اللہ کا غضب بھڑکا کہ ایک ہیبت ناک کڑک اور زلزلے نے انھیں آلیا اور وہ مردہ ہو کر زمین پر گرگئے اب یہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ فی الحقیقت موت کا شکار ہوئے یا بےہوشی ان پر طاری ہوگئی لیکن دیکھنے سے یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ موت سے ہمکنار ہوچکے ہیں چناچہ اگلی آیت کریمہ میں اسی واقعہ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔