7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsروح القرآن

Ayah 7:179

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

ہم نے جنوں اور انسانوں میں سے بہتوں کو دوزخ کے لیے پیدا کیا ہے ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں ‘ ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں ‘ ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں ‘ یہ چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے یہی لوگ ہیں جو بالکل بیخبر ہیں۔

ارشاد فرمایا وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَھَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ز صلے لَھُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ بِھَازوَلَھُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِھَا ز وَلَھُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِھَا ط اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَّلُ ط اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْغَفِلُوْنَ ۔ (الاعراف : 179) ” ہم نے جنوں اور انسانوں میں سے بہتوں کو دوزخ کے لیے پیدا کیا ہے ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں ‘ ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں ‘ ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں ‘ یہ چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے یہی لوگ ہیں جو بالکل بیخبر ہیں “۔ ایک غلط فہمی اور اس کا ازالہ یہ آیت اپنے اندر معنوی اعتبار سے بہت گہرائی رکھتی ہے اس لیے اسے گہرے تدبر اور بصیرت سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آیت کے پہلے جملے میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے بہت سے لوگوں کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے اس سے یہ غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے کہ ان کی پیدائش کا مقصد اگر جہنم میں بھیجنا ہے تو پھر ان سے ایمان یا عمل صالح کی امید کیسے کی جاسکتی ہے ؟ ایمان اور عمل صالح تو اہل جنت کی صفات ہیں اور ان دونوں سے بہرہ ور لوگ جنت میں جائیں گے۔ جہنمی تو وہ لوگ ہوں گے جو ان دونوں صفات سے عاری اور بےبہرہ ہوں گے۔ اب اگر اللہ تعالیٰ نے انھیں جہنم ہی میں بھیجنے کے لیے پیدا کیا ہے تو ان کے لیے انبیاء کی بعثت اور کتابوں کا نزول بھی بےمعنیٰ ہو کر رہ جاتا ہے اس لیے سب سے پہلے تو اس جملے پر غور کرلینا چاہیے۔ بات یہ ہے کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اہل جہنم اور اہل جنت کو پیدا کس نے کیا ہے ؟ تو اس میں تو دو رائیں نہیں ہوسکتیں کہ دونوں کا پیدا کرنے والا پروردگار ِ عالم ہی ہے اس لیے اگر اس جملے میں اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ میں نے بہت سارے لوگوں کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے تو اس میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اہل جہنم بھی یقینا اسی کی مخلوق ہیں البتہ تعجب کا باعث یہ ہوسکتا ہے کہ اس سے یہ سمجھا جائے کہ اللہ کے پیدا کرنے کے سبب سے وہ جہنم میں جائیں گے تو اس آیت کا ہرگز مفہوم نہیں کیونکہ یہاں جہنم پر جو لام ہے وہ لام غایت کے لیے نہیں بلکہ عاقبت کے لیے ہے یعنی جس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو جہنم کے لیے پیدا نہیں کیا گیا پیدا تو ان کو ویسے ہی کیا گیا ہے جیسے باقی انسانوں اور جنوں کو کیا گیا ہے اور انھیں وہی خصوصیات عطا کی گئی ہیں جو باقی جنوں اور انسانوں کو دی گئی ہیں۔ البتہ ! یہ وہ لوگ ہیں جو بالآخر اپنے کرتوتوں کے باعث انجام کار جہنم میں جائیں گے جس سے ایک بات یہ واضح ہوتی ہے کہ ہر چیز کا سر رشتہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور دوسری یہ بات کہ ان کا جہنم میں جانا پیدائش کے اعتبار سے نہیں بلکہ زندگی کے طرز عمل کے انجام کے اعتبار سے ہے کیونکہ یہ اپنی طبعی ‘ جبلی ‘ فطری اور عقلی خصوصیات میں بالکل ویسے ہی ہیں جیسے باقی انسان ہیں۔ اس بات کا ذکر اگلے جملے میں کیا گیا ہے کہ جس طرح ہم نے باقی انسانوں کو دل و دماغ ‘ عقل و حواس دے کر پیدا کیا ہے اور جن کے صحیح استعمال سے وہ اپنی صحیح منزل تک پہنچیں گے وہی ساری نعمتیں ان کو بھی عطا کی گئی ہیں انھیں مشاہدات کی قوت بھی دی گئی ہے ‘ سمعی ذرائع بھی بخشے گئے ہیں اور دل و دماغ کی قوتوں سے بھی نوازا گیا ہے لیکن ان کا المیہ یہ ہے کہ انھوں نے نہ اپنی نگاہوں سے کام لیا جیسا لینا چاہیے تھا ‘ نہ اپنی قوت سامع سے کام لیا جیسا اس کا حق تھا اور نہ اپنے دل و دماغ کی قوتوں کو استعمال کیا جس طرح انھیں استعمال کرنا چاہیے تھا نتیجہ واضح ہے کہ کسی شخص کو بہتر سے بہتر اسباب دے دئیے جائیں لیکن وہ انھیں استعمال نہ کرے تو اسے ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں مل سکتا۔ ایک مسافر کو سواری کی ضرورت ہوتی ہے، آپ اسے ایک تیز رفتار گاڑی دے دیں لیکن اسے پیدل چلنے پر اصرار ہو تو آپ خود اندازہ کرسکتے ہیں کہ وہ اپنی دور کی منزل کو کیسے پاسکتا ہے۔ پیدل چلنے والے سے بھی کبھی نہ کبھی منزل کے حصول کا گمان ہوسکتا ہے، لیکن جو سرے سے گھر بیٹھ رہے نہ پائوں کو حرکت دے اور نہ گاڑی کو باہر نکلنے دے، اس کے بارے میں تو کوئی اچھی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ ان لوگوں کے بارے میں بھی یہی فرمایا جا رہا ہے کہ انھیں ہم نے حواس اور عقل کے حوالے سے وہ سب کچھ عطا کیا جس کی انسانی زندگی میں ضرورت ہے لیکن انھوں نے اللہ کی عطا کردہ صلاحیتوں سے یا تو کام لینے سے انکار کردیا اور اگر ان سے کوئی کام لیا بھی تو وہ کام لیا جس کے لیے انھیں پیدا نہیں کیا گیا تھا۔ اللہ نے انھیں آنکھیں عطا فرمائیں، ان کے سامنے سورج چمکتا رہا ‘ چاند دمکتا رہا ‘ ستارے ٹمٹماتے رہے ‘ صبح حسن کی پیغامبر بن کر طلوع ہوتی رہی ‘ شام پردہ شب میں محجوب ہوتی رہی ‘ رنگ و روپ کا سیلاب اپنی طرف متوجہ کرتا رہا ‘ قوسِ قزح آنکھ مچولیاں کرتی رہی ‘ پھول کھلتے رہے، کلیاں چٹکتی رہیں ‘ زمین سبزے کے مخملیں لباس میں ملبوس ہوتی رہی ‘ فصلیں نقرئی لباس پہنتی رہیں ‘ گھٹائیں جھوم جھوم کر اٹھتی رہیں ‘ بہار کے موسم میں ہوائیں اٹھکیلیاں کرتی رہیں ‘ چشمے ابلتے رہے ‘ آبشاریں گرتی رہیں، مختصر یہ کہ صوت و معنی کا ایک سیل امڈتا رہا لیکن انسان کی نگاہوں نے اس کائناتِ حسن کے پیچھے جھانکنے کی کبھی کوشش نہ کی۔ اس نے گلاب کے پھول سے زیادہ سے زیادہ یہ تو جانا کہ اس سے گلقند بنائی جاسکتی ہے لیکن یہ کبھی غور نہ کیا کہ اگر اس سے صرف گلقند ہی بنانا ہوتی اور اس کی تخلیق کا صرف یہی مقصد ہوتا تو پھر پھول کی پتیوں پر باریک خطوط کھینچنے کی کیا ضرورت تھی ؟ اسے ریشم سے زیادہ ملائم بنانے اور خوبصورت روپ دینے کی حاجت کیا تھی ؟ کہیں اس سے یہ مقصود تو نہ تھا کہ پھول کی ایک ایک پتی سے اس کے خالق کے حسن کا نظارہ کرنے کی کوشش کرو۔ لیکن انسان کی بےبصیرتی ملاحظہ ہو کہ اس کی آنکھوں نے ظاہر کا نظارہ ضرور کیا اور اس سے محظوظ بھی ہوا لیکن یہ جاننے کی کبھی کوشش نہ کی کہ پس آئینہ کیا ہے اسی طرح اللہ نے اسے قوت سماعت عطا فرمائی۔ اس نے فضاء میں رنگ کے ساتھ ساتھ آہنگ کا بھی ایک جہان آباد دیکھا اس نے انسانی گلے میں لحن دائودی کے کرشمے دیکھے اس نے انسانی گلے سے نفرت و محبت کے نغمے پھوٹتے سنے اس نے جلال و جمال کے نظارے محسوس کیے ‘ اس نے پرندوں کے زمزوں اور نغموں کے شور میں ابلتی ہوئی موسیقی سنی لیکن اس نے یہ جاننے کی کبھی کوشش نہ کی کہ ان نغموں ‘ ان زمزموں اور موسیقی کے ان سازوں کا پیدا کرنے والا کون ہے ؟ اگر وہ اپنی قوت سماعت کو حقیقی طور پر استعمال کرتا تو اسے ایک ایک آواز کے ساتھ پیدا کرنے والے کی آواز بھی سنائی دیتی لیکن اس کی قوت سماعت نے وہ کبھی حقیقی کام نہ کیا جو اسے کرنا چاہیے تھا۔ ٹالسٹائی روس کا ایک مشہور ادیب گزرا ہے عیسائی تھا پھر خدا کا انکار کر بیٹھا اور کیمونسٹ ہوگیا اپنی مشہور کتاب (اے کنفشن) میں لکھتا ہے جس کا مفہوم کچھ اس طرح سے ہے کہ ایک شام میں ٹہلتا ہوا جنگل میں نکل گیا، سورج غروب ہونے کے قریب تھا، پرندے اپنے آشیانوں کو لوٹ رہے تھے ‘ سورج کی کرنیں چھن چھن کر درختوں سے نیچے اتر رہی تھیں ‘ پرندوں کے نغموں ‘ چہچ ہوں اور زمزموں نے موسیقی کا ایک جہان آباد کردیا تھا۔ میں اس ترنم میں ایسا ڈوبا کہ اپنی ذات سے نکل کر کائنات کی وسعتوں سے نکلتا ہوا وہاں پہنچ گیا جہاں سے یہ حسن پھوٹتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ اندر سے مجھے آواز سنائی دی کہ تم جو خدا کا انکار کر رہے ہو اگر واقعی کوئی خدا نہیں تو بتائو یہ رنگ و نور اور یہ موسیقی کا جہاں کس نے پیدا کیا ہے ؟ کہتا ہے کہ جیسے جیسے میں اس پر سوچتا گیا ویسے ویسے میرے دل کی سیاہی دور ہوتی گئی بالآخر میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ واقعی اس کائنات کا کوئی پیدا کرنے والا بھی ہے اور اسی نے مجھے بھی پیدا کیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ انھیں اللہ تعالیٰ نے یہ ساری نعمتیں اور یہ ساری صلاحیتیں عطا فرمائیں جن سے انھوں نے کبھی کام نہیں لیا اگر یہ ان سے کام لیتے تو یقینا ٹالسٹائی کی طرح یہ بھی کسی صحیح نتیجہ پر پہنچ سکتے تھے لیکن انھوں نے آنکھیں ہوتے ہوئے بھی اللہ کی نعمتوں کو نہ دیکھا اور کان ہوتے ہوئے بھی اللہ کے پیغمبر کی آواز کو نہ سنا اور دل و دماغ ہوتے ہوئے بھی انھوں نے کبھی سوچنے سمجھنے کی زحمت نہ کی کہ جس طرح یہ کائنات خود بخود پیدا نہیں ہوسکتی یقینا اسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو بغیر کسی مقصد کے پیدا کیا ہے۔ قرآن کریم نے ایک سے زیادہ جگہ اس بات کا ذکر فرمایا ہے کہ لوگ کسی نہ کسی حد تک اس بات کے قائل تو ہیں کہ اس کائنات کا کوئی خالق ہے لیکن وہ اس بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ تم مکان رہنے کے لیے بناتے ہو ‘ زمین کی کاشت غلہ حاصل کرنے کے لیے کرتے ہو ‘ تجارت کی مشقتیں معاش پیدا کرنے کے لیے برداشت کرتے ہو ‘ شادی بیاہ بچے پیدا کرنے کے لیے کرتے ہو یعنی تمہارے ہر کام کا اور تمہاری ہر محنت کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے لیکن اس بات کی طرف تم کبھی دھیان نہیں دیتے کہ اللہ تعالیٰ نے اتنی بڑی کائنات اور بطور خاص انسان کو بغیر کسی مقصد کے پیدا کیا ہے اور پھر اس کا اگر کوئی مقصد ہے اور یقینا ہے تو کیا اس کا پیدا کرنے والا اور اسے مقصد دینے والا کبھی اس سے جواب طلبی نہیں کرے گا۔ ارشاد فرمایا : افحسبتم انما خلقنکم عبثاً وانکم الینا لا ترجعون کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں فضول پیدا کیا ہے اور تم (جواب دہی) کے لیے ہمارے پاس لوٹائے نہیں جاؤ گے۔ حقیقت یہ ہے جسے اس آیت میں واشگاف کیا جا رہا ہے کہ انسان اپنے حواس سے بھی کام لیتا ہے اور اپنی عقل سے بھی لیکن اس کا یہ کام لینا حیوانیت سے آگے نہیں بڑھتا۔ اللہ تعالیٰ نے تمام حیوانات کو زندگی گزارنے کا طریقہ بھی سکھایا اور اس کے اسباب بھی عطا فرمائے۔ حشرات الارض سے لے کر جنگل کے بڑے بڑے جانوروں تک کوئی جانور ایسا نہیں جسے اللہ تعالیٰ نے یہ نہ سکھایا ہو کہ اس نے بچے کس طرح پیدا کرنے ہیں، پھر بچے کس طرح پالنے ہیں، ضروریاتِ زندگی کہاں سے مہیا کرنی ہیں، اپنا گھر کیسے بنانا ہے، موسم کی شدت سے کیسے بچنا ہے ‘ حشرات الارض کو اس نے رینگنا سکھایا ہے تو اسی کے مطابق ان کو ماحول بھی دیا ہے۔ پرندے اس نے فضاء میں بلند کیے ہیں تو انھیں اڑنا بھی سکھایا ہے ‘ مچھلیوں کو پانی میں رکھا ہے تو انھیں تیرنا بھی سکھایا ہے ‘ پرندے بھی اپنا آشیانہ بنا کر رہتے ہیں اور جنگل کے درندے بھی اپنے بھٹ یا اپنے کچھار میں رہتے ہیں یعنی ضروریاتِ زندگی کے لیے جن جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ ہر طرح کے جانور اور ہر طرح کے حیوان کو اس کی ضروری راہنمائی دے دی گئی ہے اور اس کے اسباب مہیا کر دئیے گئے ہیں اور انھیں ضروریات کو ان کے لیے مقاصدِ زندگی بنادیا گیا ہے۔ اس لیے انھیں مقاصد کے حصول اور انھیں کی بجا آوری میں وہ پوری زندگی صرف کردیتے ہیں۔ انسان کو اللہ نے انسانی شرف دے کر ان سے مختلف ہدایت عطا فرمائی تھی اسے بتایا گیا تھا کہ تیرے اندر ایک تو حیوانی زندگی ہے اس کے لیے تو تم باقی حیوانوں کی طرح اپنے حواس سے کام لے کر انھیں حاصل کرنے کی کوشش کرو گے لیکن ساتھ ساتھ تمہیں چونکہ عقل بھی دی گئی ہے اس لیے عقل کے ذریعے تم ان کے معیار کو یقینا بہتر بنائو گے۔ وہ اگر کچا گوشت ‘ کچی سبزی ‘ کچا پھل اور گھاس پھونس کھا کر گزارا کریں گے تو تم انھیں چیزوں کو بہتر شکل و صورت دے کر اور حسب حال بنا کر اپنی ضرورتیں پوری کرنے کی کوشش کرو گے۔ وہ اگر کسی بل کو اپنی رہائش گاہ بنائیں گے یا کسی بھٹ میں گزارا کریں گے یا تنکوں کا آشیانہ بنالیں گے تو تم اپنے رہنے کے لیے بڑی بڑی بلڈنگیں اٹھائو گے۔ انھیں اگر پر دئیے گئے ہیں اڑنے کے لیے اور تیرنے کے لیے تو تم اپنی عقل کی مدد سے ان سے بہتر اڑ بھی سکو گے اور تیر بھی سکو گے۔ انھیں اگر دوڑنے کی ہمت تم سے زیادہ عطا کی گئی ہے تو تم ان سے تیز رفتار گاڑیاں ایجاد کرو گے لیکن یہ ساری وہی حیوانی ضرورتیں ہیں جنھیں حیوان اپنی سطح پر اپنے احوال کے مطابق بروئے کار لاتا ہے اور انسان انھیں بہتر سے بہتر صورت میں وجود دیتا ہے لیکن بنیادی خصوصیات میں دونوں میں کوئی فرق نہیں اب اگر انھیں ضروریات کا حصول حیوانوں کی طرح انسان کی پوری زندگی پر غالب آجائے وہ یہ سمجھے کہ میں علم اس لیے حاصل کررہا ہوں تاکہ میں نوکری یا کاروبار کروں اور یہ نوکری یا کاروبار اس لیے کروں گا تاکہ اپنی حیوانی ضرورتوں کو بہتر سے بہتر طریقے سے حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاؤں میرے پاس ایک خوبصورت گاڑی ‘ خوبصورت کوٹھی اور اشیائے خوردو نوش کی بہتات اور دولت کی ریل پیل رہنی چاہیے تاکہ مجھے زندگی کی کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تو سوال یہ ہے کہ آپ اس کو معیار کے اعتبار سے جو بھی نام دے دیں حقیقت میں تو یہ وہی چیزیں ہیں جو حیوانی ضرورتوں سے تعلق رکھتی ہیں اگر انسان کی ساری زندگی کا یہی چیزیں احاطہ کرلیتی ہیں تو یہ اس کی حیوانی زندگی کی معراج ہوئی انسانی زندگی کہاں ہوئی ؟ ہم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسان ماشاء اللہ بہت اچھے حیوان بن گئے ہیں کوئی آدمی جتنا زیادہ پڑھا لکھا ہے کہہ لیجیے کہ وہ اتنا اچھا حیوان ہے۔ اکبر الہٰ آبادی مرحوم نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا ؎ کیا کہوں احباب کیا کار نمایاں کر گئے بی۔ اے کیا نوکر ہوئے پنشن ملی پھر مر گئے ایک دفعہ ایک مغربی دانشورنے ایک مشرقی مفکر سے بڑے فخر کے ساتھ اپنی ایجادات اور کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دیکھو ہم نے ایسے ایسے جہاز بنائے ہیں جو ایک گھنٹے میں ہزاروں میل اڑ سکتے ہیں، ہم نے ایسی کاریں ایجاد کی ہیں جو ایک گھنٹے میں کئی سو میل سفر کرسکتی ہیں، ہم نے ایسے کیمرے ایجاد کیے ہیں جو سمندر کے نیچے تک کی تصویریں لے سکتے ہیں، اپنی محیر العقول کامیابیوں کا ذکر کرتا رہا اور مشرقی مفکر خاموشی سے سنتا رہا بالآخر اس مفکر نے کہا کہ تم ٹھیک کہتے ہو کہ تم نے پرندوں سے بہتر اڑنا سیکھ لیا ‘ تم نے درندوں سے تیز دوڑنا سیکھ لیا ‘ تم مچھلیوں سے بہتر پانی میں تیرنے لگے ہو ‘ لیکن افسوس تمہیں انسانوں کی طرح چلنا نہ آیا۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ ان لوگوں کی زندگی کا اصل حادثہ یہ ہے کہ اللہ نے ان کو جتنی خصوصیات عطا فرمائی ہیں ان سے انھوں سے صرف یہ کام لیا ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ انعام کی طرح ہوگئے ہیں یعنی جو زندگی کا رویہ دنیا بھر کے حیوانوں کا ہے وہی ان کا ہے۔ وہ ضروریاتِ زندگی کے حصول کے لیے پوری زندگی صرف کردیتے ہیں کیونکہ وہ اسی کو زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں چناچہ ان کا ہدف بھی اس سے مختلف نہیں۔ کسی ان پڑھ یا پڑھے لکھے سے بات کر کے دیکھ لیجیے وہ زندگی کی ضروریات حاصل کرنے کے لیے جس طریقے کو اپنا چکا ہے اس سے ہٹ کر کسی اور کام کے لیے اس کے پاس وقت نہیں حیوان تو پھر پیٹ بھر کر آرام سے سوتا ہے اور ایک آشیانہ بنا کر اسے دوسرے کی کبھی ہوس نہیں ہوتی لیکن انسان ایک مکان پر کبھی قانع نہیں ہوتا وہ ہر سال ایک نئی کوٹھی بنانا چاہتا ہے۔ اس کی ضرورتوں کے لیے ایک کارخانہ کافی نہیں وہ دس کارخانے لگا کر بھی کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔ بہتر سے بہتر گاڑی مل جاتی ہے تو تب بھی لمبی گاڑی کے حصول یا ماڈل بدلنے کے لیے بےچین رہتا ہے یعنی جو قناعت اور اطمینان حیوانوں کو میسر ہے انسان اس سے بھی تہی دامن ہے۔ البتہ جس طرح حیوان اپنی ضروریات کے لیے دوسروں کے نقصان کی کبھی پرواہ نہیں کرتا اگر اس کے پاس اپنا بھٹ نہیں تو اپنے سے کمزور جانور کے بھٹ پر قبضہ کرلیتا ہے ‘ اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے کسی چھوٹے جانور کی جان لے لیتا ہے۔ انسان اس معاملے میں بھی حیوان سے بھی آگے ہے کہ وہ تو کسی ایک بھٹ پر قبضہ کرتا ہے لیکن اسے آبادیاں بھی کھنڈر بنانا پڑیں تو دریغ نہیں ہوتا ‘ وہ تو پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے ایک جانور کی جان لیتا ہے یہ تیل کے کنوئوں اور منڈیوں پر قبضہ کرنے کے لیے ملکوں کو تباہ کردیتا ہے اور کبھی اسے ملال نہیں ہوتا۔ اس لیے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ جو دل دماغ اور حواس سے ٹھیک طرح سے کام نہیں لیتے یہ حیوانات جیسے نہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔ ان کا ظلم کہیں نہ کہیں جا کر رک جاتا ہے یہ بستیاں اجاڑ کر بھی نہیں رکتے وہ کبھی فوجیں بنا کر ملکوں پر یلغار نہیں کرتے ان کے اپنے نوکیلے پنجے ان کی درندگی کے لیے کافی ہیں لیکن انسان کی ٹیکنالوجی انسانی خدمت کے لیے کم ‘ انسانی تباہی کے لیے زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ وجہ اس کی ظاہر ہے کہ انسانوں نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ کیا قدرت نے ہمیں زندگی اور زندگی کی نعمتیں دے کر بےمقصد اس زمین پر بھیجا ہے ؟ اور اگر اس نے کوئی مقصد دیا ہے تو آخر وہ کیا ہے ؟ اس کے جاننے کا ذریعہ اگر کوئی ہوسکتا ہے تو وہ صرف اللہ کے نبی ہیں ان پر ایمان لا کر اور ان کی راہنمائی کو قبول کر کے حقیقی زندگی کا شعور حاصل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ چونکہ مقصد زندگی سے بالکل بےبہرہ اور بیخبر ہیں اور اسی پر انھیں اصرار بھی ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ اللہ نے تو ان کو دل اور حواس عطا فرمائے تھے تاکہ وہ اس کے صحیح استعمال سے اپنی آخرت بنالیں لیکن انھوں نے آنکھوں سے صرف وہ کچھ دیکھا جو ان کی خواہشات کے لیے ضروری تھا اور کانوں سے صرف وہ سنا جن سے انھیں لذت گناہ میں مدد مل سکتی ہے اور دل سے صرف وہ باتیں سمجھنے کی کوشش کی جن کا تعلق ان کی دنیا سے تھا تو جب کوئی فرد یا کوئی قوم اس طرح صرف دنیا تک اپنے آپ کو محدود رکھ کر آخرت سے لا تعلق ہوجاتی ہے تو قرآن کریم انھیں غافل قرار دیتا ہے اور یہ بھی خبر دیتا ہے کہ یہی لوگ ہیں جو اللہ کے قانون کی گرفت میں آجاتے ہیں چونکہ اس کا قانون یہ ہے کہ ہماری عطا کردہ قوتوں سے کام لے کر جو حقیقی زندگی تک نہیں پہنچے گا ہم اس کو جہنم کا ایندھن بنادیں گے۔ چناچہ ان لوگوں نے بھی جب یہی جرم کیا تو اللہ نے اپنے قانون کے تحت جہنم ان کا مقدر بنادیا اور یہ آخر کار چونکہ جہنم میں جائیں گے اور اللہ کے ازلی اور ابدی علم کے مطابق ان کا جہنم میں جانا چونکہ پہلے سے اللہ کے علم میں ہے اس لیے فرما دیا کہ ہم نے بہت سے جنوں اور انسانوں کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے۔ لیکن اس کے بعد ان کی علامتیں بھی بیان فرما دیں تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ وہ اپنے ان کرتوتوں کے باعث جہنم میں جائیں گے نہ کہ ہمارے پیدا کرنے کی وجہ سے، کیونکہ ہم نے تو انھیں باقی انسانوں کی طرح یہ تمام صلاحیتیں دے کر پیدا کیا تھا وہ اگر چاہتے تو ان سے کام لے کر اپنے آپ کو جنت کا وارث بنا سکتے تھے۔ اگلی آیت کریمہ میں جس ذات سے بیخبر ی کے باعث لوگ جہنم کا ایندھن بنتے ہیں اس کے بارے میں ہدایات ارشاد فرمائی جا رہی ہیں۔
Ayah 7:180

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور اللہ کے لیے خوبصورت نام ہیں تو انھیں سے اس کو پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑو جو اس کی صفات کے بارے میں کج روی اختیار کر رہے ہیں۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اس کا بدلہ پائیں گے۔

ارشاد ہوتا ہے۔ وَلِلّٰہِ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِھَاص وَذرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اَسْمَآ ئِہٖط سَیُجْزَوْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الاعراف : 180) ” اور اللہ کے لیے خوبصورت نام ہیں تو انھیں سے اس کو پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑو جو اس کی صفات کے بارے میں کج روی اختیار کر رہے ہیں۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اس کا بدلہ پائیں گے “۔ اسمائے حسنہ سے ضروری باتیں گزشتہ آیت کریمہ کی وضاحت سے یہ بات تو معلوم ہوگئی ہے کہ انسانی زندگی کے سارے بگاڑ کا دارومدار اس بات پر ہے کہ انسان اللہ کی عطا کردہ ان صلاحیتوں سے پوری طرح کام نہیں لیتا جن سے کام لے کر وہ گمراہی سے بچ سکتا ہے اور ہدایت کے راستے پر پہنچ سکتا ہے۔ البتہ اس کے برعکس وہ اپنی تمام صلاحیتوں کو صرف حیات دنیا اور اس کی ضروریات کے لیے صرف کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں اس کی انفرادی اور اجتماعی زندگی تباہی کے راستے پر پڑجاتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں ایک اور حقیقت بیان فرمائی جا رہی ہے جو پہلی آیت میں بیان کردہ حقیقت کا لازمہ ہے جب کوئی فرد یا کوئی قوم اپنے حواس اور دل و دماغ کو حقیقت شناسی کے لیے استعمال نہیں کرتی بلکہ اس کی ساری تگ و دو ضروریاتِ زندگی میں سمٹ کر رہ جاتی ہیں تو رفتہ رفتہ زندگی اور کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اس کی نگاہوں سے اجھل ہوجاتی ہے اور یہ حقیقت ایسی ہے کہ صحیح طریقے سے غور و فکر کیا جائے تو اس کی حیثیت ایک پیش پا افتادہ حقیقت کی ہے اور اگر اپنی صلاحیتوں کو مادی رنگ میں پوری طرح رنگ دیا جائے تو پھر یہ حقیقت نظروں سے ایسی اوجھل ہوتی ہے کہ کبھی دکھائی نہیں دیتی وہ حقیقت اللہ کے وجود کا یقین ‘ اس کی صفات کی معرفت اور انسان اور اس کائنات کا اس سے تعلق ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر زندگی کے تمام حقائق کا دارومدار ہے یہ وہ خشت اول ہے جس پر دین کی پوری عمارت استوار ہوتی ہے اگر یہ سیدھی ہے تو پوری عمارت سیدھی ہے اور اگر یہ کج ہوجاتی ہے تو پوری عمارت ٹیڑھی ہوجاتی ہے۔ چناچہ ہر دور کے گم کردہ راہ لوگوں کی گمراہی کا حقیقی سبب یہی رہا ہے کہ ان کے تصورات اللہ کریم کے بارے میں غلط ہوتے چلے گئے کسی نے سرے سے اس کا انکار کیا تو کائنات کی تخلیق کی عجیب و غریب توجیہات پیش کیں اور کسی نے اس کے ساتھ دوسری قوتوں کو شریک ٹھہرایا تو نتیجتاً اس کی معرفت میں بال آتے چلے گئے گمراہی کی سلوٹیں بڑھتی چلی گئیں اور خود انسانی زندگی قوت سے محروم ہو کر مختلف خانوں میں تقسیم ہو کر رہ گئی اور پھر یہ گمراہی جیسے جیسے پختہ ہوتی گئی ویسے ویسے اس کی نئی نئی شکلیں بھی بنتی گئیں جن قوموں نے اللہ تعالیٰ کی تجسیم کی انھوں نے کبھی مظاہر فطرت کی پوجا کی اور کبھی طاقت اور قدرت کی مسندوں پر بیٹھنے والوں کو مظاہرِ فطرت کے اوتار اور دیوتائوں کی صورت میں قبول کیا اور جن لوگوں نے تنزیہ کا راستہ اختیار کیا وہ تعطیل کی وادی میں داخل ہوگئے اور وضعی علوم اور عقل و خرد کے باعث خیالی اور غیر حقیقی وادیوں میں کھو کر رہ گئے لیکن انہی گمراہیوں کا ایک منطقی نتیجہ یہ بھی نکلا کہ دوسری گمراہیوں کے ساتھ ساتھ انھوں نے اللہ کے اسماء میں بھی ٹھوکریں کھائیں اور اپنے اپنے خیال کے مطابق اپنے مقرر کردہ ناموں سے اللہ کو پکارنے لگے کیونکہ انسانی فطرت یہ ہے کہ جب کسی شخصیت کے بارے میں انسانی تصور بگڑتا ہے تو اس کے دو نتیجے ضرور نکل کر رہتے ہیں ایک تو یہ کہ اس شخصیت کے بارے میں انسانی رویہ بدل جاتا ہے اور دوسرے یہ کہ وہ اپنے احساس کے مطابق اس کا کوئی نہ کوئی نام تجویز کرتا ہے اور یہ دونوں طرح کے بگاڑ انسانی زندگی کو تباہ کر کے رکھ دیتے ہیں۔ چناچہ اسی بگاڑ کی اصلاح کے لیے اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کو اسمائے حسنیٰ سے نہ صرف یاد کرنے کی تلقین کی گئی ہے بلکہ صاف طور پر حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو نام خود اس نے اپنی کتابوں میں مقرر کر دئیے ہیں اس کو انھیں ناموں سے پکارا جائے۔ اپنی طرف سے نام (جو دراصل اس کی صفات ہیں) کا تعین نہ کیا جائے۔ علماء نے اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے تمام نام توقیفی ہیں۔ یعنی ان کے سوا اللہ تعالیٰ کو کسی اور نام سے یاد کرنا ‘ پکارنا یا اسے اللہ تعالیٰ کا پاک نام سمجھنا جائز نہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کو جواد کہہ سکتے ہیں سخی نہیں۔ نور کہہ سکتے ہیں ابیض نہیں۔ شافی کہہ سکتے ہیں طبیب نہیں کیونکہ یہ دوسرے الفاظ منقول نہیں۔ اگرچہ انہی الفاظ کے ہم معنی ہیں۔ اس آیت میں واضح طور پر فرمایا کہ ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اللہ کے نام رکھنے میں الحاد اختیار کرتے ہیں۔ الحاد کا معنی ہوتا ہے راستی سے انحراف کرنا اور کج روی اختیار کرنا۔ اسمائے الٰہیہ میں تحریف یا کج روی کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کے لیے وہ نام استعمال کیا جائے جو قرآن و حدیث میں اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت نہیں۔ یا اللہ تعالیٰ کے جو نام قرآن و سنت سے ثابت ہیں ان میں سے کسی نام کو نامناسب سمجھ کر چھوڑ دیا جائے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مخصوص ناموں کو کسی دوسرے شخص کے لیے استعمال کیا جائے مگر اس میں یہ تفصیل ہے کہ اسمائے حسنیٰ میں سے بعض نام ایسے بھی ہیں جن کو خود قرآن و حدیث میں دوسرے لوگوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور بعض وہ ہیں جن کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کے لیے استعمال کرنا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ہوتا۔ تو جن ناموں کا استعمال غیر اللہ کے لیے قرآن و حدیث سے ثابت ہے وہ نام تو اوروں کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں جیسے رحیم ‘ رشید ‘ علی ‘ کریم ‘ عزیز وغیرہ۔ اور اسمائے حسنیٰ میں سے وہ نام جن کو غیر اللہ کے لیے استعمال کرنا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں وہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں۔ ان کو غیر اللہ کے لیے استعمال کرنا الحاد میں داخل اور ناجائز ہے۔ مثلاً رحمن ‘ سبحان ‘ رزاق ‘ خالق ‘ غفار ‘ قدوس وغیرہ۔ پھر ان مخصوص ناموں کو غیر اللہ کے لیے استعمال کرنا اگر کسی غلط عقیدہ کی بناء پر ہے اور اس کو ہی خالق یا رزاق سمجھ کر ان الفاظ سے خطاب کر رہا ہے تب تو ایسا کہنا کفر ہے اور اگر عقیدہ غلط نہیں محض بےفکری یا بےسمجھی سے کسی شخص کو خالق ‘ رازق یا رحمن ‘ سبحان کہہ دیا تو یہ اگرچہ کفر نہیں مگر مشرکانہ الفاظ ہونے کی وجہ سے گناہ شدید ہے۔ قرآن کریم نے تو اس آیت میں صرف اسمائے حسنیٰ کا ذکر فرمایا اور ان سے اپنے مالک کو پکارنے کا حکم دیا مگر صحیح احادیث میں ہمیں اس کی تفصیل ملتی ہے اور اس کے اجر وثواب کا ذکر بھی ملتا ہے۔ امام بخاری نے اپنی کتاب میں یہ حدیث نقل کی۔ حدثنا علی بن عبد اللہ حدثنا سفیان قال حفظنا عن ابی الزناد عن الاعرج عن ابی ہریرہ روایۃ قال ان اللہ عزوجل تسعۃ و تسعین اسماً مائۃ الا واحدۃ لا یحفظھا احد الا دخل الجنۃ وھو وتر یحب الوتر۔ (جلد ہفتم ص 57) ہم سے علی بن عبد اللہ نے حدیث بیان کی اور ہم سے سفیان نے حدیث بیان کی اور کہا کہ ہم نے ابو زناد سے انھوں نے اعرج سے انھوں نے ابوہریرۃ ( رض) سے یہ یاد کیا ہے کہ ابوہریرۃ ( رض) روایت کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے 99 نام ہیں۔ ایک کم سو۔ جس نے ان کو حفظ کرلیا وہ داخل جنت ہوگا۔ اللہ تعالیٰ وتر ہے، وتر کو دوست رکھتا ہے۔ امام مسلم نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں دو سندوں کے ساتھ معمولی لفظی تغیر کے ساتھ اسی حدیث کو ذکر فرمایا۔ امام ترمذی نے بھی اپنی کتاب صحیح ترمذی میں اسی حدیث کا ذکر کیا۔ جن سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ پروردگار کے 99 نام ہیں۔ جو آدمی ان کو یاد کرے گا اور پھر ان کی پوری گنتی کے ساتھ اللہ کو پکارے گا اور ان ناموں میں بیان کردہ صفات کا صحیح تصور اپنے دل و دماغ میں اس طرح راسخ کرلے گا کہ وہ اس کی زندگی کا جزو بن جائے تو یقینا ایسے شخص کو پروردگار جنت عطا فرمائیں گے۔ البتہ ! یہاں دو اشکال ایسے ہیں جن کا جواب بہت ضروری ہے۔ اسمائے خداوندی کی تعداد کے تعین میں دواشکال اور اس کا جواب 1 بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پروردگار کے نام 99 نہیں بلکہ اور بھی ہیں۔ جن میں سے بعض کا ذکر پہلی آسمانی کتابوں میں کیا گیا حالانکہ ان حدیثوں میں متعین طور پر 99 کے عدد کا ذکر آیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ متعین عدد دخول جنت کا ذریعہ ہے یعنی جو اتنی تعداد میں اللہ تعالیٰ کے ناموں کو حفظ کرے گا اور پھر اس کو دل و دماغ میں اتار کر اپنا عمل بنالے گا یقینا وہ شخص جنت میں داخل ہوگا۔ 2 دوسر ا اشکال یہ ہے کہ امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ( رض) سے ان 99 ناموں کا ذکر کیا اور امام ترمذی کی یہ حدیث تین طریقوں سے ہم تک پہنچتی ہے۔ پہلے طریقے کو طریق صفوان بن صالح کہتے ہیں۔ دوسرا طریقہ زہیر بن محمد کا ہے جسے ابن ماجہ نے بیان کیا ہے۔ تیسرا طریقہ عبد العزیز بن حصین کا ہے جسے حاکم نے مستدرک میں بیان کیا ہے۔ اس میں باعث اشکال بات یہ ہے کہ ان روایات میں ناموں کی گنتی تو وہی ہے لیکن ناموں کے تعیین میں اختلاف ہے کہ کسی نے ایک نام لیا ہے تو کسی نے دوسرا۔ اب ظاہر ہے کہ اگر آنحضرت ﷺ سے ناموں کی گنتی منقول ہوتی تو اس میں اختلاف کیوں ہوتا ؟ اور پھر اس کے ساتھ یہ بات بھی کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے سلف صالحین میں مختلف بزرگوں نے اپنے طور پر ناموں کو جمع کیا۔ اب اگر ان کے نزدیک یہ احادیث صحت کے معیار پر ہوتیں تو یہ یقینا اسی پر اکتفا کرتے مثلاً خود حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اپنے طور پر اسمائے حسنیٰ جمع کیے اور پھر انھوں نے یہ بھی تحریر فرمایا کہ ابو زید لبغوی نے اسمائے حسنیٰ کا استخراج قرآن مجید سے کیا۔ پھر اس فہرست میں امام سفیان بن عینیہ نے اور امام جعفر صادق رحمہما اللہ تعالیٰ نے اضافہ فرمایا۔ اس اشکال کا جواب ہم اپنی طرف سے نہیں بلکہ حضرت قاضی محمد سلیمان منصور پوری ( رح) کے حوالے سے لکھ رہے ہیں۔ ” ہر سہ طرق روایات اور اسمائے مبینہ پر غور کرنے کے بعد ایک متحقق و متجسس بآسانی اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ اسمائے حسنیٰ کی تعیین و تفصیل نبی اکرم ﷺ سے ثابت نہیں۔ غالباً اسے بھی ایسے ہی مصالح دینیہ پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ جیسے لیلتہ القدر کی تاریخ یا یوم الجمعہ کی ساعت مقبولہ کو ترک کیا گیا۔ “ اس عاجز کا گمان ہے کہ امام ترمذی کی روایت کردہ حدیث کی ایک توجیہہ یہ ہوسکتی ہے (علماء کرام اس پر غور فرمالیں) کہ حدیث کے ابتدائی حصہ میں 99 کے تعیین کا ذکر اور اس کی فضیلت کا ذکر ہے یہاں تک تو اس میں اور بخاری اور مسلم کی روایات میں کوئی فرق نہیں۔ البتہ ! اس کے بعد حضرت ابوہریرہ ( رض) اسمائے الٰہی کا ذکر کرتے ہیں، اس عاجز کا گمان یہ ہے کہ یہ اسماء شاید انھوں نے اپنے طور پر ذکر فرمائے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی طرف سے نہیں۔ ” واللہ اعلم واحکم بالصواب “ اب تک بحث سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ پروردگار کی پہچان کا صحیح طریقہ اس کی صفات کی معرفت ہے اور صفات کی معرفت کے لیے انسانی حواس اور انسانی عقل کفایت نہیں کرتی۔ جب بھی انسان نے اپنی عقل اور شعور سے کام لے کر اللہ کی صفات کے تعین کی کوشش کی ہے تو اس نے ہمیشہ ٹھوکر کھائی ہے۔ چناچہ پروردگار نے اپنی صفات کے طور پر اپنے پیارے نام اپنے پیغمبروں کے ذریعے انسانوں کو تلقین فرمائے اور ساتھ ہی حکم دیا۔ ” وللہ الاسماء الحسنیٰ فادعوہ بھا۔ “ اللہ کے لیے عمدہ اور خوبصورت نام ہیں۔ انہی ناموں سے اسے پکارو۔ یعنی اسے یاد کرو۔ اسی سے ضرورت کے وقت مدد مانگو۔ ہرحال میں اسی سے دعا مانگو۔ ہرحال میں اسی سے دعا کرو۔ اب صرف ایک سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اللہ کو پکارنے کے کچھ آداب بھی ہوں گے۔ وہ آداب کیا ہیں ؟ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اپنے کلام پاک میں ہمیں ان آداب سے بھی بہرہ ور فرمایا۔ سورة اعراف میں ارشاد فرمایا۔ ” ادعوا ربکم تضرعاً وَّخفیۃً انہ لا یحب المعتدین۔ “ ” پکارو اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے۔ اس کو خوش نہیں آتے حد سے آگے بڑھنے والے۔ “ اس آیت میں اگر غور کیا جائے تو تین امور کی طرف راہنمائی ملتی ہے۔ 1 جسے پکارا جا رہا ہے اس کی ذات سے انسان کا تعلق۔ 2 پکار نے اور مانگنے کے آداب۔ 3 اور اگر کچھ مانگا جا رہا ہے تو اس کی حدود کا علم۔ محولہ بالا آیت کریمہ میں سب سے پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ تم جسے پکار رہے ہو وہ تمہارا رب ہے۔ جس کی ربوبیت کائنات کے ذرے ذرے کو زندگی اور بقاء کا سروسامان فراہم کر رہی ہے۔ اس نے محض اپنے فضل و کرم سے انسان کی زندگی کی تمام ضروریات کی کفالت اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ ماں کی مامتا جو اپنے بچے کی نگہداشت میں ایک ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے اسے بھی ربوبیت کی ہمہ گیری سے کوئی نسبت نہیں۔ اس کی نگاہ بھی کبھی نہ کبھی بچے کی طرف سے تغافل کا شکار ہوجاتی ہے۔ اسکا دل بچے کے احساس کو سمجھنے میں کوتاہی کرجاتا ہے مگر وہ ذات جو رب کائنات ہے اس کی غورو پرداخت کی نگاہ کبھی غافل نہیں ہوتی۔ وہ ضروریات کو نہیں بلکہ ضروریات کے احساس تک کو جانتا ہے جو اپنی مخلوق کے لیے ماں سے کہیں بڑھ کر شفیق و رحیم ہے۔ اس لیے مانگنا ہو تو اسی سے مانگو ‘ پکارنا ہو تو اسی کو پکارو اس کے علاوہ کوئی ذات اس قابل نہیں کہ انسانی اپنی حاجت روائی کے لیے اس سے رجوع کرے۔ اس طرح اپنی حیثیت کے تعین اور انسان سے تعلق کی گہرائی کو واضح کرنے کے بعد ” تضرعاً وخفیۃً “ فرما کر مانگنے اور پکارنے کے آداب کو واضح فرمایا۔ تضرع کے معنی عاجزی ‘ خوشامد ‘ لجاحت اور تذلل کے اظہار کے ہیں اور خفیہ کے معنی ہیں پوشیدہ ‘ چھپا ہوا ‘ ان دونوں لفظوں میں مانگنے والے کی اصل حیثیت اس پر ظاہر کی گئی ہے کہ جب تک تمہیں اپنی اصل حیثیت کا احساس نہ ہوگا تم دعا کے آداب کو بھی ملحوظ نہیں رکھ سکو گے۔ تمہاری حیثیت یہ ہے کہ دینے والا جتنا عظیم ہے تم اتنے ہی عاجز ہو۔ تمہاری حیثیت اس کے سامنے سرتاپا عجز و انکسار کے سوا اور کچھ نہیں۔ تم جب اس سے مانگو تو تمہارے الفاظ بھی عجز کا اظہار کریں اور تمہارے جسم پر بھی اس کی عظمت اور اپنی عاجزی کے احساس سے کپکپی طاری ہوجائے۔ تمہارا لب و لہجہ عاجزی کی تصویر ہو۔ تمہارا ہر بول زبان سے ٹوٹ ٹوٹ کے نکلے۔ آنکھوں سے آنسوئوں کی برکھا برسے اور دل اس یقین سے سرشار ہو ؎ کیا فائدہ فکرِ بیش و کم سے ہوگا ہم کیا ہیں جو کوئی کام ہم سے ہوگا جو ہوا ‘ ہوا کرم سے تیرے جو ہوگا تیرے کرم سے ہوگا قلب ونظر کے اس احساس کے ساتھ ساتھ تمہاری ظاہری ہیئت و صورت بھی اس کے شکر گزار اور فرمانبردار فقیر کی ہونی چاہیے۔ جس کے سراپا پر اس کے احکام سے انحراف اور نافرمانی کی پچھائیں بھی نہ پڑی ہوں۔ جیسا کہ حدیث میں کہا گیا ہے کہ ایک موقعہ پر حضور ﷺ نے مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ ایک انسان دور دراز مقام کا سفر کرتا ہے۔ پراگندہ حالت اور پریشان صورت میں اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے کہتا ہے۔ ” اے رب ‘ اے رب “ حالانکہ اس کا کھانا حرام کا ہے ‘ لباس حرام کا ہے اور اس کے گوشت پوست کی پرورش بھی حرام سے ہوئی ہے تو اس کی دعا کیونکر قبول ہوگی۔ اس لیے فرمایا کہ مانگتے ہوئے تمہیں تضرع کی تصویر بننا چاہیے اور تمہارے قول اور عمل ‘ احساس اور عقیدہ میں کہیں بھی اللہ کے احکام سے انحراف نہ پایا جائے اور دوسرا لفظ فرمایا ‘ خفیہ ‘ یعنی جب اس سے مانگو تو چیخ کر اور چلا کر نہ مانگو کیونکہ چیخنا اور چلانا اس کی عظمت کے آداب کے منافی ہے۔ وہ جو دل کی ڈھرکنیں سنتا ہے ‘ خاموش دعائوں کو بھی سنتا ہے۔ چناچہ خیبر کے موقع پر جب صحابہ کی آوازیں بلند ہوئیں تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے بلکہ تمہارا مخاطب ایک سمیع و قریب ہے۔ حسن بصری ؓ فرماتے ہیں کہ اعلانیہ دعا کرنے اور آہستہ دعا کرنے میں ستر درجہ فضیلت کا فرق ہے۔ ایک روایت میں امام احمد بن حنبل (رح) نے حضرت سعد بن وقاص ( رض) سے نقل کیا ہے بہترین ذکر خفی ہے اور یہ شاید اس لیے بھی ہے کہ بلند آواز سے دعا مانگنے سے اول تو تواضع اور انکسار باقی رہنا مشکل ہے۔ ثانیاً اس میں ریا اور شہرت کا بھی خطرہ ہے۔ جسے حدیث میں شکر خفی کہا گیا ہے۔ اس کے بعد فرمایا (انہ لا یحب المعتدین ” اور اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتے “ ) یہاں حد سے آگے بڑھنے سے مراد دعا یعنی پکارنے میں حد سے آگے بڑھنا ہے یعنی مانگنے والے کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ دعا کی حدود کیا ہیں ؟ تاکہ وہ ان حدود سے آگے نہ بڑھے۔ ان حدو سے آگے بڑھنے کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ لفظی تکلفات اور قافیہ وغیرہ اختیار کیا جائے اور شعروں کی صورت میں گا گا کر دعا مانگی جائے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ گاناباقی رہ جائے گا دعا کی روح ختم ہوجائے گی اور دعا ‘ دعا نہ رہے گی بلکہ ٹھمری بن جائے گی۔ اکبر مرحوم نے شاید ایسے ہی موقعہ کے لیے کہا تھا ؎ عبادت سے محبت ہے انھیں گانے کی عادت بھی نکلتی ہیں دعائیں ان کے منہ سے ٹھمریاں ہو کر دوسری صورت یہ ہے کہ دعا میں غیر ضروری شرطیں لگائی جائیں۔ جیسے حدیث میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مغفل ( رض) نے دیکھا کہ ان کا صاحبزادہ اس طرح دعا مانگ رہا ہے کہ یا اللہ میں آپ سے جنت میں سفید رنگ کا دا ہنی جانب والا محل طلب کرتا ہوں۔ تو آپ نے اسے آنحضرت ﷺ کا حکم سنایا کہ دعا میں ایسی شرطیں حد سے تجاوز ہیں جن کو قرآن و حدیث میں ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ تیسری صورت حد سے تجاوز کی یہ ہے کہ عام مسلمانوں کے لیے بددعا کرے یا کوئی ایسی چیز مانگے جو عام لوگوں کے لیے مضر ہو یا ایسی چیز کی دعا کرے جو اللہ تعالیٰ کی مشیت ‘ حکمت اور احکامِ شریعت کے خلاف ہو۔ قبولیتِ دعا کی تین صورتیں حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ جو دعا بھی خدائے عزوجل کی عظمت و رحمت کے تصور اور اپنی عاجزی اور سرافگندگی کے اعتراف اور دعا کے تمام تر آداب و شرائط کے ساتھ مانگی جائے وہ کبھی رد نہیں ہوتی۔ البتہ ! اس کی قبولیت کی تین صورتیں ہیں۔ 1 مانگنے والے کو وہی کچھ دنیا میں ہی عطا فرما دیا جاتا ہے۔ جس کی اس نے اپنے مالک سے دعا کی تھی۔ 2 مانگنے والا جو کچھ مانگ رہا ہے وہ تو عطا نہیں کیا جاتا البتہ اس کے عوض کوئی آنے والی بلا اور مصیبت اس سے ٹال دی جاتی ہے۔ مگر یہ اپنی کم علمی اور جہالت کے باعث یہی سمجھتا ہے کہ میری دعا قبول نہیں ہوئی۔ 3 تیسری صورت قبولیت کی یہ ہے کہ دنیا میں تو اس کی دعا قبول نہیں ہوتی مگر دنیا کی یہ محرومی اس کے لیے ثمرہ آخرت بن جائے گی اور جب اسے اچانک یہ نعمت غیر مترقبہ اجر وثواب کی صورت میں عطا ہوگی تو وہ حیران رہ جائے گا اور تمنا کرے گا کہ کاش ! دنیا میں اس کی کوئی دعا بھی قبول نہ ہوتی تاکہ آج اس اجر وثواب کی صورت میں ایک خزانہ ہاتھ آتا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہمارا پروردگار اتنا رحیم و کریم ہے کہ وہ اپنے بندوں کی دعائیں جو آداب و شرائط کی کامل پابندی سے مانگی جائیں کبھی رد نہیں فرماتا۔ البتہ ! اس کے یہاں قبولیت کی صورتیں مختلف ہیں مگر بندہ اپنی بیخبر ی کے باعث بعض دفعہ بےصبر ہوجاتا ہے اور یہ سمجھ کر کہ مدت سے دعا کر رہا ہے مگر شنوائی نہیں ہوتی، دعا مانگنا ہی چھوڑدیتا ہے۔ ممکن ہے جس وقت بندہ دعا مانگنا چھوڑ رہا ہو ‘ وہی وقت اس کی قبولیت کا ہو یا پروردگار نے اس کی دعائوں کو توشہ آخرت بنانے کا حکم دے دیا ہو۔ دونوں صورتوں میں یہ بےصبری اور جلد بازی کیسے برے نتائج پیدا کرسکتی ہے اس لیے بندہ کبھی بےصبر نہ ہو اور کبھی امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔ آخر میں ہم دو احادیث نقل کرتے ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ نے ہر طرح کی پریشانی میں بعض اسمائے حسنیٰ کے ذریعے دعا کرنے کا طریقہ سکھایا ہے بخاری ‘ مسلم ‘ ترمذی اور نسائی میں یہ حدیث بیان کی گئی ہے کہ جو بھی اپنی پریشانی میں ان کلمات کے ساتھ دعا مانگے گا اللہ تعالیٰ اس کی مشکلات دور فرمائیں گے۔ وہ کلمات یہ ہیں۔ لَآ اَلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ الْعَظِیْمُ الْحَلِیْمُ ، لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعظِیْمِ ، لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ اور مستدرکِ حاکم میں بروایت انس ( رض) مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ زہراء ( رض) سے فرمایا کہ تمہارے لیے اس سے کیا چیز مانع ہے کہ تم میری وصیت کو سن لو اور اس پر عمل کرو، وہ وصیت یہ ہے کہ صبح شام یہ دعا کرلیا کرو۔ یَاَحیُّ یَاقَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ اَصْلِحْ لِیْ شَاْ نِیْ کّلَّہٗ وَلَا تَکِلْنِیْ اِلیٰ نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ یہ دعا بھی تمام حاجات و مشکلات کے لیے بےنظیر ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں سابقہ آیات میں بیان کردہ طرز فکر کے حامل لوگوں کو مختلف لوگوں کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے تاکہ اللہ کے نیک بندوں کے حوصلے کا سامان ہو۔
Ayah 7:181

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور جن کو ہم نے پیدا کیا ان میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو حق کے مطابق لوگوں کی راہنمائی اور اس کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔

ارشاد فرمایا : وَمِمَّنْ خَلَقُنَآ اُمَّۃٌ یَّھْدُوْنَ بَالْحَقِ وَبِہٖ یَعْدِلُوْنَ ۔ (الاعراف : 181) ” اور جن کو ہم نے پیدا کیا ان میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو حق کے مطابق لوگوں کی راہنمائی اور اس کے مطابق فیصلے کرتے ہیں “۔ امتِ مسلمہ کا حقیقی تعارف : امامِ تفسیریر ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کو تلاوت کر کے ارشاد فرمایا کہ یہ امت جس کا ذکر اس آیت میں ہے، میری امت ہے، جو اپنے سب جھگڑوں کے فیصلے حق و انصاف یعنی قانونِ الٰہی کے مطابق کریں گے اور لینے دینے کے تمام معاملات میں حق و انصاف کو سامنے رکھیں گے۔ عبد بن حمید کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام ( رض) کو خطاب کر کے فرمایا کہ یہ آیت تمہارے حق میں آئی ہے اور تم سے پہلے بھی ایک امت کو یہ صفات عطا ہوچکی ہیں، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی :{ وَمِنْ قَوْمِ مُوْ سٰٓی اُمَّۃٌ یَّھْدُوْنَ بَالْحَقِّ وَبِہٖ یَعْدِلُوْنَ } مراد یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت میں بھی ایک جماعت ان صفات کی حامل تھی کہ لوگوں کی راہنمائی میں اور باہمی جھگڑوں کے تصفیہ میں حق یعنی شریعتِ الٰہیہ کا مکمل اتباع کرتی تھی اور امت محمدیہ ﷺ کو بھی حق تعالیٰ نے ان صفات میں خصوصی امتیاز بخشا ہے۔ خلاصہ اس کا دو خصلتیں ہیں ایک یہ کہ دوسرے لوگوں کی قیادت اور رہنمائی یا مشورہ میں شریعت کا اتباع کریں دوسرے یہ کہ اگر کوئی جھگڑا آپس میں پیش آجائے تو اس کا فیصلہ شریعت کے قانون کے مطابق کریں۔ غور کیا جائے تو یہی دو صفتیں ہیں جو کسی قوم اور جماعت کی خیر و خوبی اور فلاح دنیاو آخرت کی ضامن ہوسکتی ہیں کہ صلح و جنگ اور دوستی اور عداوت کی ہر حالت میں ان کا نصب العین حق و انصاف ہی ہو ‘ اپنے دوستوں اور رفیقوں کو جو طریقہ کار بتلائیں اس میں بھی حق کا اتباع ہو اور دشمنوں اور حریفوں کے جھگڑوں میں بھی حق کے آگے اپنے سارے خیالات و خواہشات کو ترک کردیں، جس کا خلاصہ ہے حق پرستی۔ امتِ محمدیہ ﷺ کی دوسری تمام امتوں پر فضیلت اور فوقیت کا راز اور ان کا طغرائے امتیاز یہی حق پرستی ہے کہ انھوں نے اپنی پوری زندگی کو حق کے تابع بنایا جس جماعت یا پارٹی کی قیادت اور راہنمائی کی وہ بھی خالص حق کے تقاضوں کے مطابق کی ‘ اپنی ذاتی خواہشات اور خاندانی یا قومی رسوم کو اس میں مطلق دخل نہیں دیا اور باہمی نزاعات میں بھی ہمیشہ حق کے سامنے گردن جھکا دی ‘ صحابہ وتابعین کی پوری تاریخ اس کی آئینہ دار ہے اور جب سے اس امت میں ان دو خصلتوں کے اندر خلل اور نقصان آیا اسی وقت سے اس کا تنزل و انحطاط شروع ہوگیا۔ نہایت رنج و افسوس کا مقام ہے کہ آج یہی حق پرست امت خالص ہوا پرست بن کر رہ گئی ہے اس کی پارٹیاں اور جماعتیں بنتی ہیں تو وہ بھی خالص نفسانی اغراض اور دنیا کی حقیر و ذلیل منفعت کی بنیادوں پر بنتی ہیں ایک دوسرے کو جن امور کی پابندی کی طرف دعوت دی جاتی ہے وہ بھی خالص ہوائِ نفسانی یا خاندانی رسوم ہوتی ہیں کوئی ان کے خلاف کرنے لگے تو سب اس کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں لیکن حق و شریعت کے مطابق چلنے کا نہ کہیں معاہدہ ہوتا ہے نہ کوئی اس کی پیروی کرنے کے لیے کسی کو کہتا ہے نہ اس کی خلاف ورزی کرنے سے کسی کی پیشانی پر بل آتا ہے۔ اسی طرح باہمی جھگڑوں اور نزاعی مقدمات میں دنیا کے چند روزہ موہوم نفع کی خاطر اللہ کے قانون کو چھوڑ کر طاغوتی قوانین کے ذریعہ فیصلہ کرنے پر راضی ہیں۔ اسی کا یہ انجامِ بد ہے جو ہر جگہ ہر ملک میں مشاہدہ میں آرہا ہے کہ یہ امت ہر جگہ ذلیل و خوار نظر آتی ہے۔ الا ماشاء اللہ انھوں نے حق سے منہ موڑا ‘ حق نے ان کی نصرت و امداد سے رخ پھیرلیا۔ حق پرستی کے بجائے ہوا پرستی اختیار کر کے شخصی طور پر کسی فرد کو جو دنیوی منافع مل گئے وہ اس پر مگن ہے، مگر پوری قوم و ملت کی تباہی جو اس کا لازمی نتیجہ ہے اس کا کوئی دیکھنے ‘ سننے والا نہیں۔ اگر پوری امت کی فلاح و ترقی پیش نظر ہو تو اس کے سوا کوئی راہ نہیں کہ ان قرآنی اصول کو مضبوطی سے پکڑا جائے ‘ خود بھی اس پر عمل کیا جائے اور دوسروں کو بھی اس کا پابند بنانے کی کوشش کی جائے۔