Ayah 7:136فَا نْتَقَمْنَا مِنْھُمْ فَاَغْرَقْنٰہُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّہُمْْ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَکَانُوْا عَنْہَا غٰفِلِیْنَ ۔
(الاعراف : 136)
” اب ہم نے ان سے انتقام لیا اور انھیں سمندر میں غرق کردیا کیونکہ انھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا اور وہ ان سے بےپرواہ ہوگئے تھے “۔
فرعون اور آل فرعون کا انجام
جب کسی کو سنبھلنے کے لیے مسلسل تنبیہات کی جائیں اور ساتھ ہی ساتھ اس پر عنایات کی بارش بھی ہوتی رہے اور دنیا کی ہر نعمت اس کو فراوانی سے عطا کی جائے لیکن وہ نعمتوں کا شکر ادا کرے اور نہ وہ تنبیہات کو درخور اعتنا سمجھے بلکہ اپنی جرأتوں اور جسارتوں میں اس حد تک آگے بڑھ جائے کہ اللہ کی زمین کو ظلم سے بھر دے اور انسان اس کے مظالم سے بلبلا اٹھے تو پھر قدرت ایسے عادی مجرم کو جو سزا دیتی ہے اسے انتقام ہی کہنا چاہیے چناچہ اسی لیے اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ ہم نے پھر ان سے انتقام لیا یعنی ہم نے انھیں ان کے جرائم کی سزا دی کہ اللہ نے فرعون اور آل فرعون کو اس وقت کی معلوم دنیا کی سب سے بڑی حکومت عطا کی ‘ ملک کو ہر طرح کی دولت سے مالا مال کیا ‘ نعمتوں کی وہ فراوانی کہ کوئی ملک اور کوئی قوم اس معاملے میں ان کا ہمسر نہ تھا۔ بایں ہمہ ! انھوں نے بنی اسرائیل کو اپنے مظالم سے زارو نزار کر کے رکھ دیا تھا۔ ان کے قومی تشخص کو تباہ و برباد کیا اور ان کی نسلوں کو تہ تیغ کرنے سے باز نہ آئے۔ پھر جب اللہ نے مسلسل آزمائشوں میں مبتلا کر کے انھیں تنبیہات فرمائیں تو انھوں نے کسی تنبیہ کو بھی پلے نہیں باندھا بلکہ اپنے ظالمانہ رویے میں بڑھتے ہی چلے گئے تب اللہ کے انتقام کا کوڑا حرکت میں آیا کہ فرعون کو اس کی فوجوں سمیت سمندر میں غرق کردیا۔ قرآن کریم نے اس کو نہایت اختصار سے بیان فرمایا ہے کہ جب فرعون کے مظالم کی انتہا ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ تم بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل جاؤ اور اپنے باپ دادا کی سرزمین یعنی فلسطین میں جا کر اللہ کی منشاء کے مطابق ان کی تربیت کرو اور اللہ کے دین کی بالادستی پر مبنی ایک ریاست قائم کرو۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) فلسطین یا ارض کنعان جانے کے لیے مصر سے رات کی تاریکی میں نکلے تو بجائے خشکی کا راستہ اختیار کرنے کے جو قریب بھی تھا آپ نے دور کا راستہ اختیار کیا جس کے راستے میں بحر احمر پڑتا تھا آپ چاہتے تھے کہ اس کو عبور کر کے بیابان شور اور سینا پہنچ جائیں یہ آپ نے دشوارگزار اور دور کا راستہ اللہ کے حکم سے اختیار کیا کیونکہ قریب کا اور خشکی کا راستہ اختیار کرنے میں اگرچہ آسانی اور سہولت تھی لیکن اس بات کا ہر وقت امکان تھا کہ فرعون کی فوجوں سے تصادم ہوجائے اور اگر ایسا ہوجاتا تو بنی اسرائیل جن کو صدیوں کی غلامی نے بزدل اور پست ہمت بنادیا تھا وہ کسی طرح بھی فرعون کے مقابلے میں اس کی فوجوں سے لڑنے کی جرأت نہیں کرسکتے تھے۔ تصادم اور مقابلے کی صورت میں یقینا بنی اسرائیل کمزوری کا مظاہرہ کرتے۔ نتیجتاً اس نئی اٹھتی ہوئی اسلامی قوت کو بےپناہ نقصان پہنچ جاتا۔ تورات سے بھی اس توجیہ کی تائید نکلتی ہے۔ تورات میں مذکور ہے۔
” اور جب فرعون نے ان لوگوں کو جانے کی اجازت دے دی تو خدا ان کو فلستیوں کے ملک کے راستہ سے نہیں لے گیا اگرچہ ادھر سے نزدیک پڑتا تھا کیونکہ خدا نے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ لڑائی بھڑائی دیکھ کر پچھتانے لگیں اور مصر کو لوٹ جائیں بلکہ خداوند ان کو چکر کھلا کر بحرقلزم کے بیابان کے راستے لے گیا “۔ (خروج باب 13: 17-18)
مزید یہ بات بھی ہے کہ اگر خشکی کے راستے موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر خیریت سے فلسطین پہنچ جاتے تو سمندر کے پھٹنے ‘ بنی اسرائیل کے خیریت سے گزرنے اور فرعون اور آل فرعون کے تباہ ہونے کا جو حیرت انگیز معجزہ وجود میں آنے والا تھا اس کا اظہار نہ ہوسکتا اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اپنی قوم کو لے کر بحر قلزم کے راستے پر نکلے تو پر چہ نویسوں نے فرعون کو اطلاع کردی تو اس نے اسی وقت ایک زبردست فوج کو ساتھ لیا اور صبح ہونے سے پہلے ان کے سر پر جا پہنچا۔ کہا جاتا ہے کہ بنی اسرائیل کی تعداد اس وقت بچوں اور چوپایوں کے علاوہ چھ لاکھ تھی مگر پو پھٹنے کے وقت جب انھوں نے پیچھا مڑ کے دیکھا تو فرعون کو سر پر پایا ‘ گھبرا کر کہنے لگے :
” کیا مصر میں قبریں نہ تھیں جو تو ہم کو مرنے کے لیے بیابان میں لے آیا ہے تو نے ہم سے یہ کیا کیا کہ ہم کو مصر سے نکال لایا۔ کیا ہم تجھ سے مصر میں یہ بات نہ کہتے تھے کہ ہم کو رہنے دے کہ ہم مصریوں کی خدمت کریں کیونکہ ہمارے لیے مصریوں کی خدمت کرنا بیابان میں مرنے سے بہتر ہوتا “
(خروج باب 14: 11-21)
موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو تسلی دی بلکہ پورے ایمانی جلال کے ساتھ فرمایا :
کَلاَّ اِنَّ مَعِیَ رَبِّی سَیَھْدِیْن
(ہرگز نہیں میرا رب میرے ساتھ ہے وہ ضرور مجھے راستہ دے گا)
یعنی یہ بحر قلزم میرا راستہ نہیں روک سکتا اور اللہ کے حکم کی موجودگی میں کوئی رکاوٹ میرے راستے میں حائل نہیں ہوسکتی اس کے بعد آپ نے اللہ کی بارگاہ میں درخواست کی حکم آیا کہ اپنی لاٹھی کو پانی پر مارو۔ چناچہ آپ نے اپنا عصا قلزم کے پانی پر مارا تو پانی پھٹ کر دونوں جانب دو پہاڑوں کی طرح کھڑا ہوگیا اور بیچ میں سے راستہ نکل آیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حکم سے تمام بنی اسرائیل اس میں اتر گئے اور خشک زمین پر چلتے ہوئے اس سے پار ہوگئے۔ فرعون نے یہ دیکھا تو اپنی قوم سے کہنے لگا یہ میری کرشمہ سازی ہے کہ بنی اسرائیل کو تم جا پکڑو لہٰذا بڑھے چلو۔ چناچہ فرعون اور اس کا تمام لشکر بنی اسرائیل کے پیچھے اسی راستہ میں اتر گیا لیکن اللہ تعالیٰ کی کرشمہ سازی دیکھیے کہ جب بنی اسرائیل کا ہر فرد دوسرے کنارے پر سلامتی کے ساتھ پہنچ گیا تو پانی بحکم الٰہی پھر اپنی اصلی حالت پر آگیا اور فرعون اور اس کا تمام لشکر جو ابھی درمیان ہی میں تھا غرق ہوگیا۔ جب فرعون غرق ہونے لگا اور ملائکہ عذاب سامنے نظر آنے لگے تو پکار کر کہنے لگا کہ میں اسی ایک وحدہٗ لاشریک لہٗ ہستی پر ایمان لاتا ہوں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں مگر یہ ایمان چونکہ حقیقی ایمان نہ تھا بلکہ گزشتہ فریب کاریوں کی طرح نجات حاصل کرنے کے لیے یہ بھی ایک مضطربانہ بات تھی اس لیے اللہ کی طرف سے یہ جواب ملا :
اَلْئَنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ کُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ
” اب یہ کہہ رہا ہے حالانکہ اس سے پہلے جو اقرار کا وقت تھا اس میں تو نافرمان رہا تو درحقیقت مفسدوں میں سے تھا “۔
درحقیقت فرعون کی یہ پکار ایسی پکار تھی جو ایمان لانے اور یقین حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ عذاب الٰہی کا مشاہدہ کرنے کے بعد اضطراری اور بےاختیاری کی حالت میں نکلتی ہے اور مشاہدہ عذاب کے وقت ایسی صدا اور ایسے ایمان پر بھی اعتبار نہیں ہوتا۔ اس لیے اللہ کے ہاں اسے قبولیت نصیب نہیں ہوئی۔ اس لیے فرعون کا ایمان تو قبول نہیں کیا گیا البتہ یہ ضرور فرمایا :
اَلْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَکَ اَیَۃً
” آج کے دن ہم تیرے جسم کو ان لوگوں کے لیے جو تیرے پیچھے آنے والے ہیں نجات دیں گے کہ وہ عبرت کا نشان بنا رہے “۔
چناچہ اس کے نتیجے میں اگلے ہی روز سمندر نے فرعون کی لاش باہر اگل دی۔ مصریوں نے اسے وہاں سے اٹھایا اور نہلانے دھلانے کے بعد اس کو حنوط کر کے دفن کردیا لیکن اللہ نے اس نام نہاد رب کو ہر طرح کی تذلیل کا نشانہ بنادیا کہ جو اپنے آپ کو مصر کے بحر و بر کا مالک سمجھتا تھا وہ سمندر کی موجوں سے اپنے آپ کو نہ بچا سکا اور پھر جو اپنی ناک اللہ کے سامنے زمین پر رکھنے کے لیے تیار نہیں تھا اسے ایسی ذلت کی مار پڑی کہ مچھلی اس کی آدھی ناک کھا گئی چناچہ آج یہ ناک کٹا ذلت کی تصویر بنا مصر کے عجائب گھر میں لوگوں کے لیے عبرت بنا ہوا ہے۔
قرآن کریم نے اس حیرت انگیز واقعہ کو اختصار سے بیان فرمایا ہے لیکن واقعہ کے ضروری اجزاء جو باعث عبرت ہیں وہ اس اختصار میں بھی موجود ہیں البتہ تورات میں قرآن کریم کے بیان کردہ واقعات کے علاوہ کچھ اور بھی تفصیلات بیان کی گئی ہیں جو نصیحت و عبرت کے لحاظ سے اگرچہ چنداں ضروری نہیں لیکن دلچسپی کے حوالے سے ضرور قابل مطالعہ ہیں۔ تورات کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ فرعون اور اس کی قوم پر جب اللہ کی بھیجی ہوئی آفات کا سلسلہ جاری ہوگیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے ارشاد کے مطابق یکے بعد دیگرے ” نشانات “ کا ظہور ہونے لگا تو اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بلا کر کہا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لے جا مگر ان کے چوپائے اور پالتو جانور یہیں چھوڑنے ہوں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس شرط کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور فرمایا کہ ایک جانور بھی تو روکنے کا حق نہیں رکھتا ‘ تو فرعون غضبناک ہو کر کہنے لگا کہ اب یہ کبھی نہ جاسکیں گے اور تو اب میرے سامنے کبھی نہ آنا ورنہ میرے ہاتھ سے مارا جائے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ تو نے ٹھیک کہا اب میں کبھی تیرے سامنے نہ آئوں گا میرے اللہ کا یہی فیصلہ ہے اور اس نے مجھ کو بتادیا ہے کہ تجھ پر اور تیری قوم پر ایسی سخت آفت آئے گی کہ تیرا اور کسی مصری کا پہلوٹھا زندہ نہیں رہے گا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون سے یہ گفتگو کر کے دربار سے باہر نکل آئے اور پھر بنی اسرائیل سے یہ فرمایا کہ خداوند خدا کا ارشاد ہے کہ فرعون کا دل سخت ہوگیا ہے وہ اب تم کو یہاں سے اس وقت تک نہ جانے دے گا جب تک مزید نشان نہ دیکھ لے کہ جس سے تمام مصریوں میں کہرام مچ جائے مگر تم کو تیاری کر لینی چاہیے کہ مصر سے نکلنے کا وقت آپہنچا اور خدائے تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ بنی اسرائیل کو نکلنے سے پہلے قربانی اور عید فسح کا بھی حکم دیا اور اس کا طریقہ اور شرائط بھی بتادیں ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے یہ بھی کہا کہ اپنی عورتوں سے کہو کہ وہ مصری عورتوں کے پاس جائیں اور ان سے عید کے لیے سونے اور چاندی کے زیور اور قیمتی پارچہ جات مستعار مانگ لائیں اور مصری عورتوں نے آخر ان کو زیورات دے دیئے پھر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک رات فرعون سے لے کر معمولی مصری کا پہلوٹھا مرگیا اور تمام گھرانوں میں کہرام مچ گیا۔ یہ دیکھ کر مصری فرعون کے پاس دوڑے آئے اور اس کو مجبور کیا کہ اسی وقت تمام بنی اسرائیل کو مصر سے نکال دے تاکہ یہ نحوست یہاں سے دور ہو ‘ ہم پر یہ سب آفتیں انہی کی بدولت آتی رہتی ہیں۔
تب فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اسی وقت تم سب یہاں سے نکل جاؤ اور اپنے جانوروں ‘ مویشیوں اور سب سامان کو بھی ساتھ لے جاؤ۔ جب بنی اسرائیل رعمسیس (جشن کے شہر) سے نکلے تو بچوں اور جانوروں کے علاوہ وہ سب چھ لاکھ تھے اور جب وہ نکلے تو مصریوں کے زیورات کو بھی واپس نہ کرسکے اور مصریوں نے بھی مطالبہ نہ کیا۔
جب بنی اسرائیل نے جنگل کی راہ لی تو اب فرعون اور اس کے سرداروں کو اپنے فیصلہ پر سخت افسوس ہوا اور انھوں نے آپس میں کہا کہ ہم نے مفت میں ایسے اچھے چاکر اور غلام ہاتھ سے کھو دیئے اور فرعون نے حکم دیا کہ فوراً سرداروں ‘ مصری نوجوانوں اور فوج کو تیاری کا حکم دو اور وہ کرّوفر کے ساتھ رتھوں میں سوار ہو کر نکل کھڑے ہوئے اور بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔
بنی اسرائیل رعمسیس سے سکات اور وہاں سے ایتام اور پھر مڑ کر مجدال اور بحر احمر کے درمیان فی ہیخروت کے پاس لعل صفون کے سامنے خیمہ زن ہوچکے تھے ‘ بنی اسرائیل کے اس پورے سفر میں خدا ان کے ساتھ رہا اور وہ نورانی ستون کی تجلی کے ساتھ رات میں بھی ان کی راہنمائی کرتا اور دن میں بھی آگے آگے چلتا ‘ غرض صبح کی پو پھٹ رہی تھی کہ فرعون نے سمندر کے کنارے بنی اسرائیل کو آلیا ‘ انھوں نے پیچھا پھر کر دیکھا اور فرعون کو لائو لشکر کے ساتھ اپنے قریب پایا تو بددل اور خائف ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جھگڑا کرنے لگے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو بہت کچھ تسلی و تشفی دی اور بتایا کہ تمہارے دشمن ہلاک ہوں گے اور تم سلامتی و عافیت کے ساتھ نجات پائو گے اور پھر دربار خداوندی میں مناجات کرنے لگے :
” اور خداوند نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ تو کیوں مجھ سے فریاد کر رہا ہے ‘ بنی اسرائیل سے کہو کہ وہ آگے بڑھیں اور تو اپنی لاٹھی اٹھاکر اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھا اور اسے دو حصے کر اور بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل جائیں گے… پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھایا اور خداوند نے رات بھر تند پوربی آندھی چلا کر اور سمندر کو پیچھے ہٹا کر اسے خشک زمین بنادیا اور پانی دو حصے ہوگیا اور بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل گئے۔
… اور خداوند نے سمندر کے بیچ ہی میں مصریوں کو تہ وبالا کردیا اور پانی پلٹ کر آیا اور اس نے رتھوں اور سواروں اور فرعون کے سارے لشکر کو جو اسرائیلیوں کا پیچھا کرتا ہوا سمندر میں گیا تھا غرق کردیا اور ایک بھی ان میں سے باقی نہ چھوڑا پھر بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں خشک زمین پر چل کر نکل گئے اور پانی ان کے داہنے اور بائیں ہاتھ دیواروں کی طرح رہا۔
… اور اسرائیلیوں نے وہ بڑی قدرت جو خداوند نے مصریوں پر ظاہر کی دیکھی اور وہ لوگ خداوند سے ڈرے اور خداوند پر اور اس کے بندے موسیٰ پر ایمان لائے۔
تورات کی تفصیلات میں اگرچہ بہت زیادہ رطب و یابس اور دور اذکار باتیں بھی ضمناً آگئی ہیں مگر تورات اور قرآن کریم دونوں اس بارے میں ہم آہنگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قہرمانیت کے مظالم سے موسیٰ اور بنی اسرائیل کو ایک عظیم الشان نشان کے ذریعہ نجات دی۔ قرآن عزیزیہی کہتا ہے کہ یہ معجزہ اس طرح ظاہر ہوا کہ اللہ کے حکم سے موسیٰ (علیہ السلام) نے قلزم پر لاٹھی ماری اور دریا کا پانی بیچ میں خشکی دے کر دونوں جانب پہاڑ کی طرح کھڑا ہوگیا اور تورات بھی اسی کی تائید کرتی ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں بعض ایسے نیک نام افراد بھی ہیں جو اپنی قومی خدمات کے باعث نہایت عزت کے مستحق ہیں لیکن معجزات کے حوالے سے انھوں نے بڑی ٹھوکر کھائی ہے۔ مثلاً سرسید احمد خان جو ہماری قومی تاریخ کا ایک اہم نام ہے انھوں نے اس عظیم واقعے کو معجزہ ماننے سے انکار کیا ہے اپنی مشہور تفسیر میں وہ یہ فرماتے ہیں کہ غرق فرعون اور نجاتِ بنی اسرائیل کا یہ واقعہ معجزہ نہ تھا بلکہ عام دنیوی سلسلہ اسباب و علل کے تحت بحر کے مدوجزر (جوار بھاٹا) سے تعلق رکھتا ہے یعنی صورتحال یہ پیش آئی کہ جس وقت بنی اسرائیل نے قلزم و عبور کیا تھا اس وقت اس کا پانی سمٹا ہوا تھا اور پیچھے کو ہٹ کر اس نے جزر اختیار کر رکھا تھا فرعون نے جب بنی اسرائیل کو اس آسانی سے پار ہوتے دیکھا تو اس نے بھی اپنی لشکر کو داخل ہوجانے کا حکم دے دیا مگر بنی اسرائیل پار ہوچکے تھے اور فرعونی لشکر ابھی دریا کی خشکی پر چل ہی رہا تھا کہ اس کے مد اور آگے بڑھنے کا وقت آپہنچا اور فرعون اور اس کے لشکر کو اتنی بھی مہلت نہ ملی کہ وہ آگے بڑھ سکے یا پیچھے ہٹ سکے اور سب غرق ہوگئے۔
سید صاحب نے اپنے اس مزعومہ خیال کے مطابق بنی اسرائیل کے عبور کے متعلق ایک نقشہ بھی دیا ہے جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ بنی اسرائیل نے قلزم کے شمالی دہانے پر جا کر اس کو عبور کیا ہے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ قرآن عزیز کی تشریحات اس کا قطعی انکار کرتی ہیں اور سیدصاحب کی بات کسی طرح بنائے نہیں بنتی۔ واقعہ یہ ہے کہ اگر آپ نقشہ پر نظر ڈالیں جہاں بحر احمر واقع ہے تو آپ دیکھیں گے کہ یہ دراصل بحرعرب کی ایک شاخ ہے جس کے مشرق میں سرزمین عرب واقع ہے اور مغرب میں مصر ‘ شمال میں اس کی دو شاخیں ہوگئی ہیں ایک شاخ خلیج عقبہ جزیرہ نمائے سینا کے مغرب میں اور دوسری خلیج سویز اس کے مغرب میں واقع ہے یہ دوسری شاخ پہلی سے بڑی ہے اور شمال میں بڑی دور تک چلی گئی ہے بنی اسرائیل اسی کے درمیان سے گزرے ہیں اسی شاخ کے شمالی دہانہ کے سامنے ایک اور سمندر واقع ہے جس کا نام بحر روم ہے۔ قرآن کریم کی تمام تصریحات کو سامنے رکھیں تو وہ دو باتوں کو زیادہ صراحت سے بیان کرتا ہے ایک فلق یا فرقِ بحر یعنی دریا کا پھٹنا یا اس کا پھاڑ دینا اور دوسرے دونوں جانب پانی کا پہاڑ کی طرح کھڑا ہوجانا اور درمیان میں راستہ پیدا ہوجانا۔ عربی لغت میں فرق کے معنی دو ٹکڑے کر کے جدا کردینے کے آتے ہیں اور فلق کے معنی بھی ٹکڑے کردینا ہی ہے۔ اور طود کے معنی بڑے پہاڑ کے ہیں ان معنوی تشریحات کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن کریم کی آیات کو دیکھئے وہ کہتا ہے کہ ہم نے سمندر کو پھاڑا اور پانی دونوں طرف بڑے بڑے پہاڑوں کی طرح کھڑا ہوگیا اور درمیان میں راستہ نکل آیا اس سے تصور میں جو صورت حال بنتی ہے وہ اسی طرح ممکن ہے کہ بنی اسرائیل نے دریا کے ایسے حصے سے عبور کیا ہو جو دہانہ یا کنارے کے سامنے کا حصہ نہ ہو بلکہ پانی کا ایسا حصہ ہو جو درمیان سے پھٹ کردو حصے بن سکتا ہو دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجیے کہ قرآن عزیز صاف صاف اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ بنی اسرائیل خشکی کے راستے سے قلزم کے دہانہ یا کنارے سے نہیں گزرے تھے بلکہ دریا کے کسی درمیانی حصہ کو عبور کر کے میدان سینا میں پہنچے تھے اور یہ ظاہر ہے کہ مد و جزر طولانی حصہ میں دہانہ کی جانب ہوا کرتا ہے۔ عرض میں اس طرح کبھی بھی نہیں ہوتا کہ پانی دونوں جانب سمٹ جائے اور بیچ میں خشکی کی راہ پیداہو جائے لہٰذا اللہ تعالیٰ کے اس عظیم الشان معجزہ کا انکار کرتے ہوئے اس کو روز مرہ کے مادی اسباب کے نیچے لانے کی سعی کرنا قرآنی تصریحات کے بالکل خلاف اور اس کی تحریف کے مترادف ہے۔
حاصل کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور آل فرعون جیسے جرائم پیشہ لوگوں کو ان کے جرائم کی سزا دی کہ انھیں سمندر میں غرق کردیا اور یہ سزا ان کو اس لیے نہیں دی کہ پروردگار اپنے بندوں کے لیے ظالم ہے بلکہ اس لیے دی کہ انھوں نے نہ صرف پیغمبر کی دعوت کو ماننے سے انکار کیا بلکہ اللہ کے ایک سے ایک بڑے نشان کو دیکھا ‘ ایک سے ایک بڑھ کر عذاب ان پر آیا اور ان میں سے ہر عذاب اپنے منہ سے بول رہا تھا کہ میں اللہ کی قدرت کا ظہور ہوں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت کی دلیل ہوں لیکن ان ظالموں نے کسی سے بھی سبق سیکھنے کی زحمت گوارا نہ کی بلکہ ہر ایک کا مذاق اڑایا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبر سمجھنے کی بجائے ہمیشہ جادوگر سمجھا۔ ایسے لوگوں کا انجام اس سے سوا اور کیا ہوسکتا تھا کہ اللہ کی زمین کو ان سے خالی کرا دیا جائے۔ چناچہ ان کو مٹا دینے کے بعد اللہ نے ان لوگوں کو زمین پر اقتدار عطا فرمایا جس کے ساتھ انھوں نے آج تک ظالمانہ رویہ اختیار کر رکھا تھا۔ اگلی آیت کریمہ میں اسی کا تذکرہ فرمایا جا رہا ہے۔
Ayah 7:137ارشادہوتا ہے :
وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِ یْنَ کَا نُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَہَا الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْہَا ط وَ تَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنیٰ عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ 5 لا بِمَا صَبَرُوْا ط وَدَمَّرْنَا مَا کَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُہٗ وَمَا کَانُوْا یَعْرِشُوْنَ ۔ (الاعراف : 137)
” اور جو لوگ دبا کے رکھے گئے تھے ہم نے ان کو اس سرزمین کے مشرق ومغرب کا وارث ٹھہرایاجس میں ہم نے برکتیں رکھی تھیں اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل پر پورا ہوا بوجہ اس کے کہ وہ ثابت قدم رہے اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کی ساری تعمیرات اور ان کے سارے باغ و چمن ملیامیٹ کردیئے “۔
اس آیت کریمہ کے ایک ایک جملے پر غور کرنے کی ضرورت ہے سب سے پہلی بات یہ ارشاد فرمائی کہ ہم نے ان کو وارث بنایا۔ وارث بنانے کا لفظ اشارہ کرتا ہے کہ جو قوم اس سے پہلے تھی ان کو ان کے منصب اور ان کی سرزمین سے محروم کیا گیا اور انھیں ان کی جگہ دی گئی اب سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کو ان کی سرزمین سے محروم کیا گیا ان کی محرومی کی وجہ کیا تھی۔ قرآن کہتا ہے کہ اس کی وجہ وہ ظلم تھا جس سے انھوں نے ان لوگوں کو اس طرح دبا رکھا تھا کہ سیاسی طور پر انھیں سر اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑا گیا تھا ‘ مذہبی طور پر یہ اس طرح کی پابندیوں کا شکار تھے کہ آزادانہ اپنے مذہب پر عمل کرنا تو دور کی بات تھی توحید پرست ہوتے ہوئے بھی وہ فرعون کے بتوں کی پرستش کرنے پر مجبور تھے اور زندگی کے وہی طور اطوار انھیں لازماً اختیار کرنے پڑتے تھے جس پر قوم فرعون عمل پیرا تھی۔ جہاں تک تہذیب اور تمدن کا تعلق ہے اس قوم کی اپنی کوئی تہذیب باقی نہیں رہی تھی کیونکہ تہذیب اس قوم کی باقی رہتی ہے جس کا مذہب ‘ جس کی سوچ ‘ جس کے فکری ادارے اور جس کے اجتماعی سرچشمے محفوظ ہوں۔ فرعون کے مظالم نے بنی اسرائیل کے پاس چونکہ کچھ بھی نہیں چھوڑا تھا اس لیے یہ قوم تہذیب و تمدن سے بھی بہت حد تک عاری ہوچکی تھی۔ اولوالعزمی اور بلند ہمتی کا ان میں دور دور تک اس لیے نشان باقی نہیں رہ گیا تھا کیونکہ فرعون اور آل فرعون کی غلامی نے بری طرح ان کو پامال کر کے رکھ دیا تھا۔ یہ تھی وہ ایک مجمل سی تصویر جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا تھا کہ فرعونیوں نے بنی اسرائیل کو اس طرح دبا کے رکھا ہوا تھا کہ وہ کسی طرح بھی ایک قوم کہلانے کے حقدار نہیں رہے تھے تو جن لوگوں کا ظلم اس انتہاء تک پہنچ جائے وہ اس قابل نہیں ہیں کہ انھیں زمین پر زندہ چھوڑا جائے اس لیے انھیں مٹا دیا گیا اور بنی اسرائیل کو سر اٹھا کر چلنے کا موقع عطا فرمایا گیا۔ دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ جن لوگوں کو دبایا گیا تھا انھیں ہم نے زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنادیا اور آگے چل کر وارث بنائے جانے کی وجہ بھی بیان فرمائی وہ ہے بِمَا صَبَرُوْا اس سبب سے کہ انھوں نے صبر دکھایا۔ یعنی فرعونی تو اپنی ظالمانہ روش کے باعث تباہ ہوئے کیونکہ ظلم کا انجام ہمیشہ یہی ہوتا ہے لیکن بنی اسرائیل کا مظلوم طبقہ اس وقت سرفراز ہوا جب انھوں نے اپنی مظلومیت پر اکتفا کرنے سے انکار کردیا اور وہ صبر کی قوت سے سرشار ہو کر اللہ کے پیغمبر کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے صحرا کی کلفتوں اور زندگی کی سنگینیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ یعنی وہ خوب جانتے تھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھ دینا آسان کام نہیں۔ ہوسکتا ہے فرعونیوں سے مقابلے کی نوبت آجائے اور اگر بچ کے نکل بھی گئے تو جہاں ہم جانا چاہتے ہیں وہ سرزمین ہمارے انتظار میں تو نہیں وہاں بھی فرعون جیسے لوگ بستے ہیں اس لیے جب تک ان سے وہ زمین خالی نہیں کروائی جائے گی اس وقت تک ہم اس سرزمین میں داخل نہیں ہو سکیں گے اور مزید یہ بات بھی کہ صحرائی زندگی شہری زندگی کے مقابلے میں ایک نہایت تلخ زندگی ہے۔ شہروں میں پلے ہوئے لوگ اس کا تصور کرنے کی بھی ہمت نہیں کرسکتے لیکن جب اس قوم نے ایسے تلخ فیصلے کرنے کی ہمت کرلی اور جزیرہ نمائے سینا میں پہنچ گئے وہاں جب سرفرازی کا راستہ ان کے سامنے کھولا گیا تو پھر جب اس قوم کے بڑوں نے کمزوری دکھائی تو ان کو تو اسی صحرا میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا وہ چالیس سال تک یہیں سرگرداں رہ کر موت کا شکار ہوئے لیکن کامیابیوں کی منزل انھیں نصیب ہوئی جنھوں نے اسی صحرا میں زندگی کا سفر شروع کیا تھا ‘ پہاڑوں کی بلندیوں میں آنکھیں کھولی تھیں ‘ بلند ارادی کی تربیت پائی تھی اور ہر طرح کی صعوبت پر صبر کیا تھا تو بالآخر اللہ نے یوشع (علیہ السلام) کی راہنمائی میں انھیں فلسطین کی منزل عطا فرمائی۔ اس سے ہمیں سبق یہ ملتا ہے کہ ظلم کی رات زیادہ دراز نہیں ہوتی لیکن ظلم کے مقابلے میں سراٹھانے کا موقع انھیں ملتا ہے جو ظلم کی دیواروں سے سرٹکرانے کی ہمت رکھتے ہیں اور اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ یہ راستہ دشوار ضرور ہے لیکن اس پر چلنے والے اگر کسی کمزوری کا شکار نہ ہوں تو کبھی نامرادی سے دوچار نہیں ہوتے۔
اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم نے ان لوگوں کو جو دبا کے رکھے گئے تھے ان کو زمین کا وارث بنادیا۔ بعض اہل تأویل نے یہ سمجھا ہے کہ اس زمین سے مراد سرزمین مصر ہے کہ فرعون اور آل فرعون کی تباہی کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو مصر کا اقتدار عطا فرمایا لیکن یہ بات نہ تو قرآن کریم سے ثابت ہوتی ہے اور نہ تاریخ اس کی تائید کرتی ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ آخر وہ زمین کون سی ہے ؟ اس آیت کریمہ میں اس کا جواب موجود ہے اس میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے ان کو اس سرزمین کا وارث بنایا جس کو ہم نے برکت دے رکھی تھی۔ قرآن کریم نے اور بھی بعض جگہ اسی سرزمین کو ارض مقدسہ اور برکت والی زمین کے نام سے یاد فرمایا ہے تمام اہل علم کے نزدیک ارض مقدسہ یا برکت والی زمین فلسطین کی سرزمین ہے یہاں اس زمین کی یہ صفت لا کر اشارہ فرمایا گیا ہے کہ تمہیں ہم نے جس زمین کا وارث بنایا ہے وہ یہ سرزمین مصر نہیں کیونکہ یہاں سے تو تم کو ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا ہے یہاں کا وارث کسی اور مظلوم قوم کو بنایا جائے گا تمہیں تو ہم اس سرزمین میں لے جانا چاہتے ہیں جس کا وعدہ تمہارے آبائو اجداد سے کیا گیا تھا یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے بھی بنی اسرائیل کے ساتھ اس سرزمین کا وعدہ فرمایا گیا تھا چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے اسی سرزمین پر ان کو اقتدار دینا مقصود تھا۔ رہی یہ بات کہ اس سرزمین کو برکت والی سرزمین کیوں کہا گیا ہے تو حقیقت کا علم تو اللہ کو ہے لیکن بظاہر اس کا سبب دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ فلسطین کی سرزمین وہ سرزمین ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ کے نجانے کتنے مقرب بندے اور اس کے پیغمبر اور رسول آرام فرما ہیں۔ حضرت ابراہیم۔ ‘ حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) یہیں مدفون ہیں۔ اس کے علاوہ بھی فلسطین اور اس کے گرد و نواح میں بہت سارے انبیاء استراحت فرما رہے ہیں۔ جہاں کوئی اللہ کا نبی مدفون ہوتا ہے وہاں اللہ کی طرف سے رحمتیں اور برکتیں برستی ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ یہی سرزمین ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے تک اللہ کے دین کی دعوت کا مرکز رہی ہے یہیں سے ہمیشہ توحید کی دعوت بلند ہوئی ‘ اسی کو مرکز بنا کر پوری زمین تک اللہ کا پیغام پہنچا ‘ اس سرزمین کو ہمیشہ مرکز دعوت ہونے کا شرف حاصل رہا اور پھر آگے چل کر اسی کے پہلو میں اللہ کا گھر تعمیر ہوا۔ چناچہ یہی وہ برکتیں اور نسبتیں ہیں جس کی وجہ سے اس سرزمین کو تقدیس حاصل ہے۔ اب بنی اسرائیل کو اسی کا وارث بنایا جا رہا تھا ان کے سامنے ایک منزل کھول دی گئی تھی اور یہ ان کی ہمت کے لیے چیلنج تھا کہ کب وہ اپنے دست وبازو کی ہمت سے اس منزل کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کو یہ سرزمین عطا فرما کر اللہ نے اپنے وہ خوبصورت اور مقدس وعدے پورے فرما دیئے جو بنی اسرائیل کے آبائو اجداد سے کیے گئے تھے اور ساتھ ہی ان انعامات اور تاریخی نتائج کو سمیٹتے ہوئے فرمایا کہ ایک طرف تو ہم نے بنی اسرائیل جیسی مقہور اور مظلوم قوم کے لیے عزت اور سرفرازی کا راستہ کھولا اور دوسری طرف وہ قوم جنھیں اپنی قوت و شوکت اور اقتدار کا بہت زعم تھا انھیں ہم نے مٹا کر عبرت بنادیا اور ان کی یادگاریں جو باغ و چمن اور عمارتوں کی شکل میں وہ چھوڑ گئے تھے ان میں سے ہم نے ایک ایک چیز کو ملیامیٹ کردیا۔ ان کے باغات تو پہلے ہی مختلف عذابوں کی وجہ سے تباہ ہوچکے تھے لیکن فرعون نے بنی اسرائیل سے بیگار لے لے کر جو بڑی بڑی عمارتیں کھڑی کر رکھی تھیں وہ بھی شاید کسی زلزلے کے نتیجے میں تباہ و برباد کردی گئیں۔
یہاں تک تو بنی اسرائیل کی تاریخ کا وہ حصہ بیان ہوا ہے جو مصر اور فرعون سے تعلق رکھتا ہے لیکن اگلی آیت کریمہ میں بنی اسرائیل کی تاریخ کا وہ حصہ بیان ہو رہا ہے جو مصر سے نکلنے اور دریا پار کرلینے کے بعد کا ہے۔
Ayahs 7:138–139چناچہ ارشاد ہوتا ہے :
وَجٰوَزْنَا بِبَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ الْجَْرَ فَاَتَوْا عَلٰی قَوْمٍ یَّعْکُفُوْنَ عَلیٰٓ اَصْنَامٍ لَّہُمْ ج قَالُوْا یٰمُوْسَی اجْعَلْ لَّنَآ اِلٰھًا کَمَا لَہُمْ اٰلِھَۃٌ ط قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْھَلُوْنَ ۔ اِنَّ ھٰٓؤُلَآئِ مُتَبَّرٌ مَّا ھُمْ فِیْہِ وَبٰطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الاعراف : 139، 138)
” اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پار اتار دیا کہ ان کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جو اپنے کچھ بتوں کی پرستش میں لگی ہوئی تھی انھوں نے کہا کہ اے موسیٰ جس طرح ان کے دیوتا ہیں اسی طرح کا ایک دیوتا تم ہمارے لیے بھی بنادو ‘ موسیٰ نے کہا ہم تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو۔ ان لوگوں کا یہ سب کچھ جس میں یہ لگے ہوئے ہیں برباد ہونے والا ہے اور جو کچھ کر رہے ہیں نابود ہو کر رہے گا “۔
اس آیت کریمہ کے پہلے جملے پر غور فرمایئے ! پروردگار کس شفقت اور پیار سے فرما رہے ہیں کہ ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پار اتار دیا یعنی اس طرح انھیں سمندر کے پار اتارا جس طرح پالکی اٹھانے والے کسی دلہن کو نہایت احترام اور آرام کے ساتھ کسی جگہ پہنچاتے ہیں۔ سمندر سرکش موجوں اور بپھرے ہوئے بھنوروں کا نام ہے جس کا تصور ہی کپکپا دینے کے لیے کافی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے انھیں جس سہولت کے ساتھ سمندر کے پار اتارا وہ اس کے کمال شفقت اور کرم نوازی کی دلیل ہے۔ معلوم ہوتا ہے اس کا اثر بنی اسرائیل پر بھی یہی ہوا اسی لیے وہ خوشی میں سرشار ہو کر مسرت کے ترانے بجانے لگے۔ تورات میں ہے کہ جب بنی اسرائیل سلامتی کے ساتھ بحرقلزم کو پار کر گئے اور انھوں نے اپنی آنکھوں سے فرعون اور اس کی فوج کو غرق ہوتے اور پھر ان کی نعشوں کو ساحل پر تیرتے دیکھ لیا تو بتقاضائے فطرت بےحد مسرت اور خوشی کا اظہار کیا اور عورتوں نے خصوصیت کے ساتھ دف پر خوشی کے گیت گائے اور شادمانی اور خوش کامی کا ثبوت دیا۔ جب یہ سب کچھ ہوچکا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو جمع کر کے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اپنی قوم سے کہو کہ وہ میں ہوں جس نے تم کو اس زبردست فتنہ سے نجات دی۔ سو میرا شکر ادا کرو اور میری ہی بندگی کرو۔ چناچہ اللہ کا یہ فرمان بنی اسرائیل کو پہنچانے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) انھیں ساتھ لے کر جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی علاقے کی طرف ساحل کے کنارے کنارے روانہ ہوئے۔ جنوب کے علاقے میں موجودہ شہر طور اور ابوزنیمہ کے درمیان تانبے اور فیروزے کی کانیں تھیں جن سے اہل مصر بہت فائدہ اٹھاتے تھے اور ان کانوں کی حفاظت کے لیے مصریوں نے چند مقامات پر چھائونیاں قائم کر رکھی تھیں۔ انہی چھائونیوں میں سے ایک چھائونی مفقہ کے مقام پر جہاں مصریوں کا ایک بڑا بت خانہ تھا جس کے آثار اب بھی جزیرہ نما کے جنوبی مغربی علاقہ میں پائے جاتے ہیں۔ اسکے قریب ایک اور مقام بھی تھا جہاں قدیم زمانے سے سامی قوموں کی چاند دیوی کا بت خانہ تھا۔ غالباً انہی مقامات میں سے کسی کے پاس سے گزرتے ہوئے بنی اسرائیل کو ایک مصنوعی خدا کی ضرورت محسوس ہوئی۔ انھوں نے جب دیکھا کہ اس بت کدے میں ایک بہت بڑی تعداد میں لوگ بتوں کی پوجا میں بری طرح مشغول ہیں تو وہ دفعتاً اللہ کی ساری عنایات اور تجلیات جنھیں وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے بھول گئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہم کو بھی ایسے ہی معبود بنادو تاکہ ہم اسی طرح ان کی پرستش کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب ان کا یہ مشرکانہ مطالبہ سنا تو بےحد ناراض ہوئے۔ بری طرح ڈانٹا ‘ عار دلائی اور ملامت کرتے ہوئے کہا کہ بدبختو ! خدائے واحد کی پرستش چھوڑ کر بتوں کی پوجا پر مائل ہو رہے ہو اور خدا کی ان تمام نعمتوں کو فراموش کر بیٹھے ہو جن کا مشاہدہ تم اپنی آنکھوں سے کرچکے ہو۔
قوموں کی حیات اجتماعی کے بعض جھول
قوموں کی حیات اجتماعی میں بعض ایسے جھول دکھائی دیتے ہیں جن کی کوئی تأویل یا توجیہ کرنا بعض دفعہ ممکن نہیں ہوتا۔ بنی اسرائیل ہی کو دیکھ لیجیے وہ تقریباً ساڑھے چار سو برسوں سے مصر کے قاہر و جابر بادشاہوں اور مصری قوم کے ہاتھوں میں غلام اور مظلوم چلے آرہے تھے اور غالب قوم کے سخت سے سخت مصائب و مظالم کا شکار بنے ہوئے تھے کہ اچانک ان جیسی مردہ قوم میں بجلی کی کڑک اور آفتاب کی چمک کی طرح ایک برگزیدہ ہستی سامنے آتی ہے اور اس کی صدائے حق اور اعلان ہدایت سے تمام قلمروِ باطل لرزہ براندام ہوجاتی ہے اور ایوان ظلم و کفر میں بھونچال آجاتا ہے وہ دنیا کی ایک زبردست متمدن طاقت کے مقابلے میں یہ اعلان کرتی ہے کہ میں خدائے واحد کا رسول اور ایلچی ہوں اور تجھے ہدایت کی پیروی اور مظلوم قوم کی آزادی کا پیغام سنانے آیا ہوں۔ فرعون کی طاقت اپنے تمام مادی اسباب کے ساتھ اس کا مقابلہ کرتی ہے مگر ہر مرتبہ شکست کا منہ دیکھتی ہے اور آخری بازی میں حق کی کامیابی اور باطل کی ہلاکت کا ایسا حیرت زا نقشہ سامنے آتا ہے کہ مادی طاقت قلزم میں غرق ہوجاتی ہے اور غلام و مظلوم قوم دنیوی اسباب و وسائل سے محروم آزادی کے گیت گاتی نظر آتی ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ یہی قوم جو ان تمام معرکہ ہائے حق و باطل کو آنکھوں سے دیکھ چکی ہے وہ آج موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلا مطالبہ یہ کرتی ہے کہ ہم کو بھی ایسے ہی معبود بنا دے جس طرح کہ یہ پجاری بت خانے میں بیٹھے پوج رہے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ اگرچہ بنی اسرائیل نبیوں کی اولاد تھے اور ابھی تک ان میں وہ اثرات ایک حد تک باقی بھی تھے جو ان کو باپ دادا سے ورثہ میں ملے تھے تاہم صدیوں سے مصری بت پرستوں میں بود و باش رکھنے اور ان کے حاکمانہ اقتدار میں غلام رہنے کی وجہ سے ان میں صنم پرستی کا جذبہ اس حد تک سرایت کرچکا تھا کہ مصر سے نکل آنے کے ستر برس بعد بھی اسے پوری طرح ختم نہیں کیا جاسکا۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلیفہ اول حضرت یوشع بن نون اپنی آخری تقریر میں بنی اسرائیل کے مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
” تم خداوند کا خوف رکھو اور نیک نیتی اور صداقت کے ساتھ اس کی پرستش کرو اور ان دیوتائوں کو دور کردو جن کی پرستش تمہارے باپ دادا بڑے دریا کے پار اور مصر میں کرتے تھے اور خداوند کی پرستش کرو اور اگر خداوند کی پرستش تم کو بری معلوم ہوتی ہے تو آج ہی تم اسے جس کی پرستش کرو گے چن لو۔ “
(یشوع باب 24: 14-15)
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چالیس سال تک حضرت موسیٰ کی اور اٹھائیس سال تک حضرت یوشع کی تربیت و راہنمائی میں زندگی بسر کرلینے کے بعد بھی یہ قوم اپنے اندر سے ان اثرات کو نہ نکال سکی جو فراعنہ مصر کی بندگی کے دور میں اس کی رگ رگ کے اندر اتر گئے تھے۔ پھر بھلا کیونکر ممکن تھا کہ مصر سے نکلنے کے بعد فوراً ہی جو بت کدہ سامنے آگیا تھا اس کو دیکھ کر ان بگڑے ہوئے مسلمانوں میں سے بہتوں کی پیشانیاں اس آستانے پر سجدہ کرنے کے لیے بےتاب نہ ہوجاتیں جس پر وہ اپنے سابق آقائوں کو ماتھا رگڑتے ہوئے دیکھ چکے تھے۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں ڈانٹتے ہوئے فرمایا کہ تم بڑے ہی بےعقل ‘ وہمی اور جذباتی ہو تمہیں اللہ تعالیٰ نے ایک زندگی بخش پیغام کی صورت میں آب حیات عطا کیا ہے لیکن تم اسے نظر انداز کر کے بتوں کی پرستش کرنا چاہتے ہو حالانکہ بتوں کی پرستش ایک فریب نظر اور طلسم باطل کے سوا کچھ نہیں۔ یہ سب کچھ خدا کے ہاں برباد اور پامال ہوجائے گا لیکن جو ہدایت و شریعت تمہیں ملی ہے اس کے نتیجے میں تمہیں یہاں بھی سرفرازیاں ملیں گی اور آخرت میں بھی سرخرو ٹھہرو گے لیکن تمہاری جہالت کی کیا انتہا ہے کہ تم اپنے لیے تباہی کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہو۔ پھر اللہ کے احسانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حیرانی کے انداز میں فرماتے ہیں :
Ayah 7:140قَالَ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْغِیْکُمْ اِلٰہًا وَّ ھُوَ فَضَّلَکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ۔ وَاِذْ اَنْجَیْنٰکُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْٓئَ الْعَذَابِ ج یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآئَکُمْ وَیَسْتَحْیُوْنَ نِسَآئَکُمْ ط وَفِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآئٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ۔ (الاعراف : 141، 140)
” اس نے کہا کیا میں تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی اور معبود تلاش کروں ‘ درآنحالیکہ وہی ہے جس نے تم کو اہل عالم پر فضیلت بخشی۔ اور یاد کرو جب کہ ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی جو تمہیں نہایت برے عذاب چکھاتے تھے وہ تمہارے بیٹوں کو بےدردی سے قتل کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی ہی آزمائش تھی “۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے جیسا کہ عرض کیا گیا حیرت کے انداز میں فرمایا کہ کیا میں تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی اور معبود تلاش کروں جبکہ تم اچھی طرح جانتے ہو اور تمہاری آنکھوں نے یہ سب کچھ دیکھا ہے کہ اللہ کے مقابلے میں فرعون کو معبود ہونے کا دعویٰ تھا اور جابجا اس کے مجسموں کو معبودوں کی طرح پوجا جاتا تھا لیکن کیا اس کا معبود ہونے کا دعویٰ اور قوم کی طرف سے اس کی پوجا پاٹ انھیں تباہی سے بچا سکی نہ وہ معبود باقی رہا نہ اس کے پوجا کرنے والے۔ تم اپنی آنکھوں سے ایک معبود کا انجام دیکھ چکے ہو اور پھر یہ کیسا اندھا پن ہے کہ تم پھر مجھ سے ایک معبود بنانے کا مطالبہ کر رہے ہو۔ اگر اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتا تو کیا مصریوں پر اسی طرح کبھی طوفان ‘ کبھی ٹڈی دل ‘ کبھی مینڈک اور کبھی خون کا عذاب آتا۔ دنیا کا سب سے بڑا متمدن ملک جس گمراہی کے سبب تباہی کو تمہارے سامنے پہنچ چکا تم وہی تباہی کا راستہ اپنے لیے اختیار کرنا چاہتے ہو اور مزید ستم یہ کہ مصر میں تم بدترین غلامی کی زندگی گزار رہے تھے تم پیغمبروں کی اولاد ہو کر بھی بدترین تذلیل کا شکار تھے۔ ایک مدت دراز سے ذلت اور نکبت تمہارا مقدر بن چکا تھا۔ اللہ نے ذلت کی اس دلدل سے تمہیں نکالا اور تمہیں دنیا کی امامت کے منصب پر فائز کردیا اب نہ صرف کہ تم اس پیغام حیات کے وارث ہو جسے میں لے کر آیا ہوں۔ بلکہ پوری دنیا تک تمہی نے اسے پہنچانا بھی ہے یعنی تمہاری آج حیثیت ایک غلام قوم کی نہیں بلکہ دنیا کی امام اور قائد قوم کی ہے تو کیا قائد ایسے ہوتے ہیں کہ جہاں کہیں کوئی بت خانہ نظر آیا تو اپنا سب کچھ بھول کر گمراہی میں ڈوب گئے۔ خدا کے لیے اپنی حالت پر غور کرو اور کچھ نہیں تو اپنے ان زخموں کو تو نہ بھولو جو ابھی تک مندمل نہیں ہوئے کہ تمہارے ساتھ فرعونی کیسا بدترین سلوک کرتے تھے ‘ کیسے برے عذاب کے شکنجے میں تمہیں جکڑا جاتا تھا ‘ تمہارے بیٹوں کو قتل کیا جاتا اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھا جاتا تھا۔ ایک طرف تمہارا دل خون ہوتا تھا اور دوسری طرف غیرت پامال ہوتی تھی۔ اس سے بڑھ کر کسی قوم پر برے دن نہیں آئے ہوں گے۔ اللہ نے تم پر احسان کیا کہ تمہیں اس عذاب سے نکالا اور دنیا کی سیادت و قیادت کے منصب پر فائز کردیا تم اور کچھ نہیں تو کم از کم ان زخموں ہی کو یاد رکھو پھر شاید تمہیں اللہ کے احسانات یاد آئیں اور تم اس کی عظمت وکبریائی کے سامنے ہمیشہ کے لیے سرجھکا دو ۔
Ayah 7:141تمہید
بنی اسرائیل بحر قلزم کو عبور کرنے کے بعد جب صحرائے سینا میں داخل ہوئے تو ان کا رخ کوہ سینا کی طرف تھا بڑھتے بڑھتے جب وہاں پہنچے جو موجودہ نقشہ میں نبی ٔ صالح اور کوہ سینا کے درمیان وادی الشیخ کے نام سے موسوم ہے اور جو آج کل میدان الراحہ کہلاتا ہے۔ اس وادی کے ایک سرے پر وہ پہاڑی واقع ہے جہاں مقامی روایت کے مطابق حضرت صالح (علیہ السلام) ثمود کے علاقے سے ہجرت کر کے تشریف لے آئے تھے آج وہاں ان کی یاد گار کے طور پر ایک مسجد بنی ہوئی ہے دوسری طرف ایک اور پہاڑی جبل ہارون نام سے موسوم ہے تیسری طرف سینا کا بلند پہاڑ ہے جس کا بالائی حصہ اکثر بادلوں سے ڈھکا رہتا ہے اور جس کی بلندی سات ہزار تین سو انسٹھ فیٹ ہے اس پہاڑ کی چوٹی پر آج تک وہ کھوہ زیارت گاہ عام بنی ہوئی ہے جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چلہ کیا تھا اس میدان الراحہ میں بنی اسرائیل موجود تھے جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات دینے کے لیے کوہ طور پر بلایا اور قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکلے ابھی صرف تین ماہ گزرے تھے چناچہ اتنی مختصر مدت کے بعد جیسے ہی ان کو صحرا میں نسبتاً پرسکون ماحول میسر آیا اور وہ غلامانہ زندگی سے نکل کر اب اس قابل ہوئے کہ اپنی مرضی کی زندگی گزار سکتے ہیں اور جس طریق زندگی اور زندگی کی راہنمائی کو قبول کرنا چاہیں اس کے لیے ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں اب وہ نہ صرف کہ فیصلے کرنے میں آزاد ہیں بلکہ ایک ایسی ریاست کا نظام بھی چلا سکتے ہیں جس میں صرف اللہ ہی کی بندگی کارفرما ہو اور اللہ کے سوا کسی اور کی اطاعت پر مجبور نہ کیا جائے۔ چناچہ بنی اسرائیل نے خود ضرورت محسوس کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے گزارش کی کہ آپ مصر میں ہم سے یہ فرمایا کرتے تھے کہ جب تمہیں مصر کی غلامی سے آزادی نصیب ہوگی تو تمہیں آزادانہ زندگی گزارنے کے لیے اللہ تعالیٰ کتاب عطا فرمائیں گے جس میں تمہارے انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے راہنمائی ہوگی چناچہ اب اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہمیں وہ راہنمائی اور شریعت کتاب کی صورت میں عطا فرمائیں۔ چناچہ اگلی آیات کریمہ میں اسی کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ پیشتر اس کے کہ ہم ان آیات کو پڑھیں چند باتیں ایسی ہیں جن پر توجہ دینا ازبس ضروری ہے سب سے پہلی بات یہ کہ جب بھی کبھی کوئی قوم اپنے وطن سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوتی ہے تو یقینا وہ اپنے وطن سے خالی ہاتھ نکلتی ہے زندگی کے وسائل کے حوالے سے اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا اگر اسے نیا وطن نصیب ہوجائے تو اس کی سب سے پہلی ضرورت اس کی آباد کاری ‘ اس کے لیے وسائل کی فراہمی اور زندگی کی ضروریات کا مہیا کرنا ہوتا ہے اور پھر آگے چل کر جیسے جیسے یہ ضرورتیں پھیلتی جاتی ہیں ان کی فکر دامن گیر ہوتی جاتی ہے اور بچوں کے مستقبل کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی اہمیت بڑھتی جاتی ہے پھر ان ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اداروں کے وجود کو سب سے ضروری سمجھا جاتا ہے لیکن ہمیں یہاں یہ دیکھ کر حیرت ہو رہی ہے کہ اسرائیلی روایات کے مطابق چھ لاکھ افراد پر مشتمل یہ بنی اسرائیل کی قوم صحرا میں پڑی ہے جس میں رہنے کے لیے کوئی گھر نہیں ‘ زندگی کے وسائل بالکل نایاب اور زندگی کی ضروریات روز بروز افزوں تر۔ بایں ہمہ ! ان میں سے اگر کھانے پینے کا مطالبہ ہوتا ہے تو چند چشموں کے اجراء اور من وسلویٰ کے نزول سے پورا کردیا جاتا ہے اور موسم کی تمازت سے بچنے کے لیے سر پر بادلوں کا سائبان تان دیا جاتا ہے بس اتنی سی ضروریات کی فراہمی کے بعد بنی اسرائیل کی طرف سے اگر کوئی مطالبہ ہوتا ہے تو وہ یہ کہ ہمیں اللہ کی کتاب چاہیے۔ اللہ سے ہمیں کتاب آئین لے کردیں تاکہ ہم اس کی راہنمائی میں اللہ کی رضا کو حاصل کرنے کے لیے زندگی گزار سکیں۔ اور یہ صرف ان کا مطالبہ نہیں بلکہ مصر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مسلسل تربیت اور تعلیم کا یہ نتیجہ تھا کہ تمہاری اصل ضرورت تمہاری سیرت و کردار کی تعمیر ہے اور وہ اس وقت تک ممکن نہیں ہوسکتی جب تک تمہیں تعمیر سیرت کا پروگرام مہیا نہ کیا جائے۔ اس سے ہمیں یہ بات سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ قومیں وسائل سے زندہ ضرور رہتی ہیں لیکن قوموں کی تشکیل ان کے مقاصد کا حصول اور ان کی سیرت و کردار کی تعمیر وہ وسائل سے نہیں ہوتی بلکہ وہ اللہ کی راہنمائی میں زندگی گزارنے اور اسی کے مطابق مسلسل تعلیم و تربیت سے ہوتی ہے اس لیے جو قوم بھی معنوی اور اخلاقی زندگی کی ضرورت محسوس کرتی ہے اس کا سب سے پہلے فرض یہ ہے کہ قوم کو اگر مکان میسر نہ ہوں تو خیمے لگا دیئے جائیں اگر پر تکلف ضروریات بہم نہ ہو سکیں تو سادہ سے سادہ زندگی پر کفایت کرلی جائے اور کم سے کم ضروریات پر اکتفا کرنے کا ذوق پیدا کیا جائے لیکن جہاں تک سیرت و کردار کی تعمیر کا تعلق ہے اس میں کسی طرح کا تساہل بھی ممکن نہیں۔ جیسے ہی زندگی کے معمولی امکانات مہیا ہوجائیں تو سب سے پہلے اسی بات کی طرف توجہ دی جائے تاکہ قوم کی شیرازہ بندی ہو سکے ‘ ایک مہذب انسان مہذب معاشرہ ‘ مہذب سوسائٹی اور مہذب ریاست اور حکومت وجود میں آئے یہ ضرورت اگر پوری ہوجائے تو باقی ضرورتیں نہ صرف کہ تیزی سے پوری ہوجاتی ہیں بلکہ اس طرح پوری ہوتی ہیں کہ ہر ایک شخص دوسرے شخص کی ضرورت پورا کرنے میں لگ جاتا ہے اگر افرادسازی کا کام نہ کیا جائے اور تعمیر سیرت کو نظرانداز کردیا جائے تو پھر قوم ‘ قوم نہیں رہتی انسانوں کی بھیڑ بن جاتی ہے اور وسائل کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ خود اس ملک کے رہنے والوں کی خودغرضی اور حد سے بڑھی ہوئی ہوس بن جاتی ہے ملک میں وسائل ہوں گے لیکن حسن کردار سے محروم لوگ اسے اپنی ذات کے لیے سمیٹنے کی کوشش کریں گے۔ قوی ‘ قوی تر ہوتا جائے گا اور کمزور ‘ کمزور تر۔ رفتہ رفتہ یہ قوم طبقات میں تقسیم ہوجائے گی اور پھر خدانخواستہ اگر اس قوم کو کسی افتاد یا حادثے سے دوچار ہونا پڑے تو یہ ریت کا ایک انبار ثابت ہوگی۔
ہمارے لیے لمحہ فکریہ
پاکستان بھی بنی اسرائیل ہی کی طرح غلامی کی ایک طویل رات سے آزاد ہونے کے بعد وجود میں آیا تھا اور ہندوستان سے ہجرت کرنے والے ہر فرد کو یہ یقین دلایا گیا تھا کہ اب تم جس پاکستان میں جا رہے ہو وہ تمہارے لیے ایک ایسا خوبصورت ملک ہوگا جس میں ممکن ہے کہ وسائل میں کمی ہو لیکن محبت ‘ خیر خواہی ‘ انسان دوستی ‘ اللہ کا خوف جیسی اقدار کی ایسی ہمہ ہمی ہوگی کہ تم ہزار مصیبتوں سے نکل کر جب وہاں پہنچو گے تو یوں محسوس کرو گے جیسے جنت میں پہنچ گئے ہیں وہاں کا ایک ایک فردخود بھوکا رہ کر دوسرے کو کھلانے کی کوشش کرے گا ‘ وہاں ملیں کپڑا بنیں گی تو وہ کپڑا ہر غریب اور امیر کی تن پوشی کے کام آئے گا وہاں کسی کو یہ گلہ کبھی نہیں ہوگا ؎
ملیں اسی لیے ریشم کے ڈھیر بنتی ہیں
کہ دخترانِ وطن تار تار کو ترسیں
وہاں کا ہر گھر ‘ گھر سے محروم لوگوں کی پناہ گاہ ہوگا وہاں کی سڑکوں پر چلنے والے لوگ ایک دوسرے کی حفاظت کے لیے مستعد ہوں گے ایک روٹی کھانے والا بھی آدھی روٹی دوسرے کو دینے کے لیے بیتاب ہوگا ہمیں یہ سراب دکھایا جاتا رہا لیکن جب ہم پاکستان میں آگئے تو ہم یہ بات بھول گئے کہ اس سراب کو حقیقت بنانے کے لیے حسن کردار اور مضبوط سیرت کی ضرورت ہے اور وہ جس چیز سے وجود میں آتا ہے ہمیں سب سے پہلے اپنے وعدے کے مطابق اور بنی اسرائیل کی تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے اسی کی فکر کرنی چاہیے لیکن ہم نے ہر چیز کی فکر کی بجز اس فکر کے جس میں ہماری بقا کی ضمانت تھی۔ نتیجہ سامنے ہے کہ آج ہم اپنے بکھیرے ہوئے کانٹوں کو پلکوں سے چننے میں لگے ہوئے ہیں لیکن وہ کانٹے ختم ہونے میں نہیں آتے۔ آج بھی یہ آیات کریمہ ہمیں اسی حقیقت کی طرف متوجہ کررہی ہیں۔ کاش ! ہم آج بھی اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ ہم نے 1948 ء کی اسمبلی سے جو دھوکہ دینا شروع کیا تھا اور جس طرح ہم نے ہر موقع پر اس ریاست کے جواز کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اگر ہم نے اس رویے کو نہ بدلا تو اللہ بہتر جانتا ہے اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔
دوسری بات جو ان آیات سے سمجھ میں آتی ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات دینے کے لیے کوہ طور پر طلب فرمایا لیکن اس سے پہلے چالیس دن تک انھیں اعتکاف میں رکھا گیا اور ان سے روزے رکھوائے گئے سوچنے کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا دستور نامہ (تورات) بنی اسرائیل کی راہنمائی کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے اس بات کی کیا ضرورت ہے کہ آپ سے چالیس دن تک ایک لمبی مشقت لی جائے لیکن ہم جب دوسری کتابوں کے نزول کی تاریخ پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی خصوصیت نہیں بلکہ جب بھی کسی پیغمبر کو اللہ نے کتاب عطا فرمائی ہے تو پہلے اس پیغمبر کو اسی تربیت سے گزارا گیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پہاڑی پر اعتکاف کرنا پڑا۔ ہمارے رسول پاک احرا کی تنہائیوں میں مسلسل عبادت میں مصروف رہے۔ دن کو روزے سے رہتے رات کو اللہ سے لو لگائے بیٹھے رہتے۔ دنیا کی بےثباتی ‘ اپنی ذات کی دریافت ‘ مخلوقِ خدا کی اصلاح اور نجانے کتنے سوالات بار بار دل میں اٹھتے رہے اور مسلسل اللہ کی طرف توجہ سمٹتی گئی۔ جب تربیت کا یہ عمل اپنی انتہا کو پہنچا تو تب آپ کی زبان مبارک پر قرآن پاک کا نغمہ سرمدی جاری ہوا۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنا کلام نازل فرماتے ہیں اور زندگی کی راہنمائی کا سامان بہم پہنچاتے ہیں تو اس کے تحمل اور قبولیت کی استعداد کو پہلے پیدا فرماتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ اللہ کے نبی معصوم ہوتے ہیں وہ نبوت سے پہلے بھی نخل فطرت کا سب سے خوبصورت ثمر ہوتے ہیں انھیں یہ تو معلوم نہیں ہوتا کہ اللہ کے احکام کیا ہیں لیکن اپنے گردوپیش میں پھیلے ہوئے تمام منکرات سے وہ فطرت کی راہنمائی میں ہر طرح سے محفوظ رہتے ہیں۔ اس کے باوجود انھیں فوراً کتاب عطا نہیں فرما دی جاتی بلکہ مسلسل روزے اور اعتکاف کی تربیت سے ان کے دل و دماغ اور ان کی اندرونی قوتوں کو اتنا پاکیزہ اور اتنا مستعد بنادیا جاتا ہے جن سے ان کے اندر کلام خداوندی کے برداشت کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی کبھی کوئی اللہ کے کلام اور اس کی کتاب سے استفادہ کرنا چاہے گا تو اسے حتی المقدور اپنی فطرت ‘ اپنی طبیعت اور اپنے احساسات کو پاکیزہ کرنا ہوگا تاکہ وہ اللہ کے کلام سے موافقت پیدا کرسکے۔ جب اس کے انوار اس کے دل پر اتریں تو جس طرح آئینہ روشنی کو سمیٹتا ہے وہ فوراً ان انوار کو جذب کرسکے اور جس طرح صاف سلیٹ پر عبارت لکھی جاسکتی ہے اسی طرح قرآن پاک کی ایک ایک ہدایت اس کے لوح قلب پر کندہ کی جاسکے اور اگر ایسا ہو کہ قرآن کریم جن بنیادی تصورات اور بنیادی ہدایات کو زندگی کی تطہیر کے لیے عطا فرماتا ہے ‘ دل و دماغ اسے قبول کرنے کی بجائے شک و ارتیاب کی دیواریں کھڑی کر دے وہ کردار و عمل کی جس عمارت کو استوار کرنا چاہتا ہے بےعملی کے غار اور بداطواری کے خود رو پودے اسے جگہ بنانے کا موقع ہی نہ دیں تو اللہ کی کتاب کو پڑھنے کے باوجود بھی آدمی اس کی ہدایت سے محروم رہتا ہے چناچہ یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کے ضمن میں ہمیں یہ ہدایت دی جا رہی ہے کہ لوگو ! تمہاری سیرت سازی کا کام تمہاری انفرادی زندگی کی تعمیر ‘ تمہاری اجتماعی زندگی کی استواری صرف اللہ کی کتاب کی راہنمائی سے ممکن ہے لیکن یہ دیکھنا کہ تمہارے تعلیمی ادارے تمہارے ذرائع ابلاغ اور تمہاری معاشرتی روایات اس راستے میں رکاوٹ نہ بننے پائیں تم جب تک قرآن پاک سے استفادہ کے لیے پہلے ان کی اصلاح کی فکر نہیں کرو گے اس وقت تک اللہ کی کتاب سے استفادہ کرنا اور اس کی راہنمائی سے فیض پانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ چناچہ ان دونوں بنیادی باتوں کو ذہن میں رکھ کر آنے والی آیات کریمہ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔