7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsروح القرآن

Ayah 7:26

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

’ اے اولاد آدم ! ہم نے تم پر لباس اتارا ‘ جو ڈھانپتا ہے تمہاری شرم کی جگہوں کو اور زینت بھی۔ مزید برآں تقویٰ کا لباس ہے ‘ جو سب سے بہتر ہے۔ یہ اللہ کی آیات میں سے ہے ‘ تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں۔

یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِکُمْ وَ رِیْشًا ط وَ لِبَاسُ التَّقْوٰی لا ذٰلِکَ خَیْرٌ ط ذٰلِکَ مِنْ اٰیٰتِ اللہِ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ ۔ (الاعراف : 26) ” اے اولاد آدم ! ہم نے تم پر لباس اتارا ‘ جو ڈھانپتا ہے تمہاری شرم کی جگہوں کو اور زینت بھی۔ مزید برآں تقویٰ کا لباس ہے ‘ جو سب سے بہتر ہے۔ یہ اللہ کی آیات میں سے ہے ‘ تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں “۔ بنی آدم اپنے باپ سے ابلیس کی دشمنی کو مت بھولنا اس آیت کریمہ میں ایک ایک لفظ ہمیں غور اور تدبر کی دعوت دیتا ہے سب سے پہلے اس میں یہ دیکھئے کہ خطاب بنی آدم کو ہو رہا ہے کسی خاص انسانی گروہ کو نہیں اور پھر انسان کہہ کر نہیں بلکہ بنی آدم کہہ کر خطاب کیا جا رہا ہے اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ اے انسانو ! تم آدم کی اولاد ہو ‘ آدم تمہارے جد امجد ہیں۔ کوئی بھی صالح اولاد اپنے باپ، اس کے حالات کو، اسے پیش آنے والے واقعات کو کبھی نہیں بھولتی۔ وہ جب بھی اپنے باپ کا تذکرہ کرتی ہے تو جہاں باپ کے دوستوں کا تذکرہ کرتی ہے وہاں وہ اس کے دشمنوں کو بھی ضرور یاد رکھتی ہے کیونکہ جس طرح باپ کے دوستوں کا یاد کرنا ان کے حقِّ دوستی کو ادا کرنا ہے اسی طرح باپ کے دشمنوں کو یاد رکھنا باپ کی غیرت کا ورثہ ہے اور عرب میں تو اس بات کو خاص اہمیت حاصل تھی وہ نسلوں تک بھی اپنی خاندانی دشمنی کو کبھی فراموش نہیں ہونے دیتے تھے چناچہ اسی پس منظر میں مشرکینِ عرب کو بنی آدم کہہ کر خطاب کیا جا رہا ہے اور انھیں احساس دلایا جا رہا ہے کہ تم اپنے جد امجد کے حوالے سے اور اپنے قومی تفاخر کے حوالے سے اس بات کو یاد رکھنے کے پابند ہو کہ تمہارے جد امجد کا دشمن کون ہے اور وہ کون ذات ہے جس نے تمہارے جد امجد کو جنت میں بھی چین سے رہنے نہیں دیا اور وہاں بھی اسے بہکانے کی خطرناک کوشش کر ڈالی جس کے نتیجے میں اگر اللہ کی رحمت شامل حال نہ ہوتی تو وہ تمہارے جد امجد کو تباہ کرنے میں کامیاب ہو ہی گیا تھا اس لیے تم پر لازم ہے کہ ایسے خطرناک دشمن کو جس نے اولادِآدم کو گمراہ کرنے کی نہ صرف قسم کھا رکھی ہے بلکہ اس نے چیلنج بھی دے رکھا ہے کبھی بھولنے کی حماقت نہ کرنا اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی یاد رکھنا کہ اس نے تمہارے جد امجد پر جو سب سے پہلا حملہ کیا وہ وہ تھا جس نے انھیں حلہ جنت سے محروم کردیا اور وہ برہنگی کا شکار ہوئے اس لیے تم پر بھی جب وہ حملہ کرے گا تو کوئی تعجب کی بات نہیں کہ وہ سب سے پہلے تمہارے جنسی احساسات کو بگاڑ کر تمہیں بےلباس کر دے اور اس طرح تمہارے کپڑے اتارے کہ تم اخلاقی صفات سے بالکل محروم ہوجاؤ۔ چناچہ اس خطاب میں ان تمام احساسات کو بیدار کرنے کے بعد پھر فرمایا جا رہا ہے کہ چونکہ اس شیطان نے سب سے پہلے تمہارے والدین کو بےلباس کر کے اپنی گمراہی کا آغاز کیا تھا تمہارے ساتھ بھی اندیشہ ہے کہ وہ ایسا ہی نہ کرے اس لیے ہم سب سے پہلے تمہیں بتاتے ہیں کہ اللہ نے تم پر ایک لباس نازل کیا ہے یعنی تمہاری فطرت پر اس کا الہام کیا ہے کہ جس طرح تمہارے رب نے تمہارے والدین کو حلہ جنت کی صورت میں ایک لباس عطا کیا تھا جو ان کی انسانیت اور ان کی شخصیت کا نمائندہ تھا اس طرح ہم تمہیں بھی ایک لباس دے رہے ہیں اگر تم اس میں ملبوس رہو گے اور پوری طرح اس کا حق ادا کرو گے تو انسانیت کے برہنہ ہونے سے بچ جاؤ گے۔ چناچہ یہاں جو اَنْزَلْنَا کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ اسی فطری الہام کی طرف اشارہ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جو صفات یا جو احکام انسانی زندگی کے لیے اساسی حیثیت رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ انسانوں کو پیدا کرتے ہی ان کی فطرت پر ان کا الہام کردیتا ہے اور پھر وحی الٰہی ان کو متشکل اور مسجع کرنے میں مدد دیتی ہے یہاں بھی یہی فرمایا جا رہا ہے کہ تمہیں جو لباس کے تفصیلی احکام دیئے گئے ہیں یہ تو نزول شریعت کے بعد کی بات ہے لیکن تمہاری شخصیت کی تعمیر کے لیے چونکہ لباس کو ایک اساسی حیثیت حاصل ہے اس لیے ہم نے پہلے ہی دن تمہاری فطرت پر اس کا الہام کردیا تھا اس کے بعد اس لباس کی جو ضروری صفات ہیں ان کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ لباس کی پہلی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ لباس کو ساتر ہونا چاہیے یعنی لباس ایسا ہو جو تمہاری شرم کی جگہوں کو ڈھانپ دے اور اگر وہ لباس سترپوشی کا کام نہیں دیتا اس کے علاوہ چاہے وہ کتنے ہی افادیت کے پہلو رکھتا ہو وہ ہرگز لباس کہلانے کا مستحق نہیں۔ لباس سے مقصود ستر پوشی بھی ہے اور زینت بھی لباس کی دوسری صفت یہ ہونی چاہیے کہ وہ ریش کا کام دے۔ ریش کا لفظ چڑیوں کے پروں کے لیے بھی آتا ہے اور اس سے زیب وزینت کا لباس بھی مراد ہوتا ہے یعنی لباس ایسا ہونا چاہیے جو موسم کی شدت سے بھی حفاظت کرے اور انسانی شخصیت ‘ انسانی وقار میں اضافے کا باعث بھی بنے۔ قرآن کریم نے لباس کو زینت قرار دے کر شاید اس جوگیانہ تصور کی نفی کی ہے جو لباس کو ایک آلائش اور عریانی یا نیم عریانی کو مذہبی تقدس کا درجہ دیتا ہے ان کے نزدیک لباس انسان کی وقت کے ساتھ ساتھ پیدا کی جانے والی ضرورتوں میں سے ہے جیسے جیسے انسانی تہذیب آگے بڑھی ہے ویسے ویسے نئی نئی چیزیں وجود میں آئی ہیں اور انہی میں سے ایک لباس بھی ہے ورنہ انسان اپنی فطری سادگی میں جب تک زندگی گزارتا رہا ہے یا تو وہ لباس سے بالکل آزاد تھا اور یا زیادہ سے زیادہ وہ لنگوٹی باندھتا تھا اس سے زیادہ اسے کسی اور لباس کی ضرورت نہیں تھی لیکن یہاں قرآن کریم پہلے انسان کی سرگزشت بیان کرتے ہوئے اس تصور کا ابطال کر رہا ہے کہ پہلے انسان کی فطرت پر لباس کا الہام کیا گیا اور اس حد تک شرم و حیا اس کی طبیعت میں راسخ کردیا گیا کہ جیسے ہی شیطان نے اس کو بےلباس کیا تو وہ سراسیمہ ہو کر رہ گیا اور شرم کے مارے اس نے اپنے آپ کو پتوں سے ڈھانپنے کی کوشش کی اور مزید یہ فرمایا جا رہا ہے کہ لباس کو جہاں ہم نے ستر پوش بنایا ہے وہاں انسانی شخصیت کو تشکیل دینے والا بھی بنایا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ہمیں یہ تأثر بھی ملتا ہے کہ لباس کو اگرچہ موسم کی شدت سے بچنے اور شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ بنایا گیا ہے لیکن اس کی جو پہلی شناخت ہے وہ اس کا سترپوش ہونا ہے اگر ایک لباس موسم کی شدت سے بچانے اور زینت آرائی میں بھی اپنی مثال آپ ہے بلکہ وہ سرتاپا زینت ہی زینت ہے لیکن وہ سترپوشی میں ناکام رہتا ہے تو قرآن کریم کی نگاہ میں وہ لباس کہلانے کا مستحق نہیں یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو لباس پہن کر بھی ننگی ہوتی ہیں یعنی یا ان کا لباس بہت تنگ ہوتا ہے اور یا بہت باریک ہوتا ہے۔ اصل مقصود لباس تقویٰ ہے ‘ کی وضاحت تیسری بات لباس کے سلسلے میں جو فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اسے لباس تقویٰ ہونا چاہیے اور یہ لباس پہلے دونوں لباسوں کی نسبت اللہ کی نگاہ میں پسندیدہ ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ایک تو لباس وہ ہے جو انسانی جسم پر نظر آتا ہے جو ستر پوش بھی ہے اور باعث زینت بھی لیکن ایک لباس وہ ہے جو انسان کی اندر کی شخصیت کو پہنایا جاتا ہے۔ یہ وہ لباس ہے جسے خشیت الٰہی ‘ شرم و حیا اور احساس عبدیت کا نام دیا جاتا ہے یہی وہ لباس ہے جو خوف خدا سے وجود میں آتا ہے۔ اگر انسان کی اندرونی شخصیت بےلباس ہے اور یہ لباس تقویٰ اس کے نصیب میں نہیں ہوا تو باہر کی شخصیت کو آپ چاہے کتنا بھی ملبوس کر دیجئے حقیقت میں وہ ننگا ہی رہے گا اور اگر اس کے اندر لباس تقویٰ موجود ہے اور اس کی باہر کی شخصیت اگر چیتھڑوں میں بھی ملبوس ہو تو وہ برہنگی سے پاک انسانی وقار کا ایسا نمونہ ہوگی جس پر انسانیت رشک کرے گی حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لباس تقویٰ یعنی اندر کے شرم و حیا کا جذبہ ہی ہے جو باہر کے لباس کی ضرورت پیدا کرتا ہے۔ جب اندر سے آدمی بےلباس ہوجاتا ہے تو پھر باہر کے لباس کو وہ اپنی شخصیت کے لیے ایک بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔ برہنگی اسے عزیز ہوجاتی ہے وہ فیشن کے نام سے اور کبھی تہذیب کے نام سے بےلباس ہونے کو اپنا مقصد زندگی بنا لیتا ہے۔ جیسے جیسے اس کا لباس اترتا جاتا ہے وہ اپنے آپ کو مہذب سمجھتا ہے اور لباس اس کی نگاہ میں دقیانوسی رویہ بن کے رہ جاتا ہے۔ لباس تقویٰ سے چونکہ باہر کا لباس خاص شکل اختیار کرتا ہے اور انسانی احساسات بھی خاص قالب میں ڈھلنے لگتے ہیں اس لیے شریعت نے اس کو علی الاطلاق نہیں چھوڑا بلکہ اس نے اس حوالے سے بھی راہنمائی عطا فرمائی ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ لباس تقویٰ وہ ہے جو پوری طرح ساتر ہو ‘ زینت میں بھی حد سے بڑھا ہوا یا آدمی کی حیثیت سے گرا ہوا نہ ہو۔ یعنی ایسا بھی نہ ہو کہ لوگ اس کی طرف انگلیاں اٹھائیں کہ دیکھو اس شخص نے کس قدر قیمتی اور کیسا بھڑکیلا لباس پہن رکھا ہے اور ایسا بھی نہ ہو کہ اللہ نے جو اس کو مالی حیثیت دے رکھی ہے اس سے بہت فروتر ہو کہ دیکھنے والا اسے نادار اور قلاش سمجھ کر اس کی مدد کرنے کے لیے تیار ہوجائے۔ اسی طرح اس کے لباس میں فخر و غرور اور تکبر و ریا کا کوئی شائبہ نہ ہو اور ان ذہنی امراض کی نمائندگی بھی نہ کرتا ہو جن کی بنا پر مرد ‘ زنانہ پن اختیار کرتے ہیں اور عورتیں مردانہ پن کی نمائش کرنے لگتی ہیں اور ایک قوم دوسری قوم کے مشابہ بننے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کے بعد فرمایا : ذٰلِکَ مِنْ اٰیٰتِ اللہِ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ ۔ اٰیٰتِ اللہ کا ترجمہ دو صورتوں میں ہوسکتا ہے۔ ایک اللہ کی نشانیاں اور دوسرا اللہ کی آیات۔ پہلے ترجمے کی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسانی لباس کی ضرورت کو انسانی شخصیت کی تعمیر کے لیے لازمی ٹھہرایا اور پھر جس طرح اس کی شخصیت پر اس کا الہام کیا اور پھر صرف ظاہری لباس تک بات کو محدود نہیں رکھا بلکہ انسان کی اندرونی شخصیت اور بیرونی شخصیت کو ہم آہنگ کرنے کی بھی ہدایت فرمائی بلکہ احساس کی دولت اس کے اندر ودیعت فرما کر باہر کی شخصیت کے لیے معاون بنادیا۔ اس حقیت پر جب ہم غور کرتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ لباس بھی اللہ کی ان بیشمار نشانیوں میں سے ایک ہے جو حقیقت تک پہنچنے میں انسان کی مدد کرتی ہیں اس پر آدمی جیسے جیسے غور کرتا ہے اسے اس بات کا یقین پیدا ہوتا جاتا ہے کہ انسانی لباس کو ستر پوش اور زینت قرار دینا اور پھر لباس تقویٰ کی شکل میں اسے اصل ہدف بنادینا اور انسانی فطرت پر اس کے الہام کی صورت میں اسے ایک محرک کی شکل دے دینا یہ اللہ کی نشانی کے سوا یا اس کی ذات کی طرف راہنمائی دینے والی چیز کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ دوسرے ترجمے کی صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ یہ جو لباس کا الہام اور اس کی تفصیل وحی الٰہی کی شکل میں انسانوں کو عطا فرمائی گئی ہے یہ اللہ کی ان ہدایات میں سے ہے جو اس نے حضرت آدم کو دنیا میں بھیجتے ہوئے عطا فرمائی تھیں جس کا ذکر سورة البقرہ میں بھی کیا گیا ہے اور یہاں بھی آیت نمبر 35 میں اس کا ذکر آرہا ہے جس میں ارشاد فرمایا گیا ہے : یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ لا فَمَنِ اتَّقٰی وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ ” اے بنی آدم ! اگر تمہارے پاس تمہی میں سے رسول آئیں ‘ تمہیں میری آیات سناتے ہوئے تو جس نے تقویٰ اختیار کیا اور اپنی اصلاح کی ‘ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ان کو غم لاحق ہوگا “ اور آخر میں فرمایا کہ جس طرح آدم و حوا کو ہم نے ہدایات دے کر بھیجا تھا اب تمہیں بھی انہی ہدایات میں سے کچھ باتوں کی یاددہانی کرائی جارہی ہے تاکہ تم شیطان کے نرغے میں آنے سے بچ جاؤ کیونکہ شیطان تم پر بھی ویسے ہی حملے کرے گا اور وہی دائو چلائے گا جو اس نے تمہارے جدِ امجد پر چلائے تھے۔ اگلی آیت کریمہ میں اسی بات کو کھول کر تنبیہ اور وارننگ کے انداز میں بیان کیا جا رہا ہے۔
Ayah 7:27

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

اے آدم کی اولاد ! شیطان تمہیں فتنہ میں نہ ڈالنے پائے ‘ جیسا کہ اس نے نکال دیا تھا تمہارے ماں باپ کو بہشت سے ‘ اتروائے ان سے ان کے کپڑے ‘ تاکہ دکھلا دے انھیں ان کی شرم گاہیں۔ وہ اور ان کا جتھہ تم کو وہاں سے تاڑتا ہے ‘ جہاں سے تم ان کو نہیں تاڑتے۔ ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا رفیق بنادیا ہے ‘ جو ایمان نہیں لاتے۔

یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ کَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنْزِعُ عَنْھُمَا لَبَاسَھُمَا لِیُرِیَھُمَا سَوْاٰتِہِمَا ط اِنَّہٗ یَرٰکُمْ ھُوَ وَ قَبِیْلُہٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَھُمْ ط اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآئَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُِْونَ ۔ (الاعراف : 27) ” اے آدم کی اولاد ! شیطان تمہیں فتنہ میں نہ ڈالنے پائے ‘ جیسا کہ اس نے نکال دیا تھا تمہارے ماں باپ کو بہشت سے ‘ اتروائے ان سے ان کے کپڑے ‘ تاکہ دکھلا دے انھیں ان کی شرم گاہیں۔ وہ اور ان کا جتھہ تم کو وہاں سے تاڑتا ہے ‘ جہاں سے تم ان کو نہیں تاڑتے۔ ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا رفیق بنادیا ہے ‘ جو ایمان نہیں لاتے “۔ شیطان کا اصل ہدف لباس تقویٰ ہے اس آیت کریمہ میں خطاب پھر بنی آدم سے فرمایا جا رہا ہے یعنی ان کے ان احساسات کو آواز دی جا رہی ہے جو ایک صالح اور باحمیت اولاد اپنے باپ کے دشمن کے بارے میں رکھتی ہے انہی احساسات کے حوالے سے تنبیہ کے انداز میں فرمایا جا رہا ہے کہ دیکھو شیطان اور اس کی قوتیں تمہیں کسی نہ کسی فتنے میں مبتلا کرنے کی کوشش کریں گی اور ان کے فتنہ میں مبتلا کرنے کا سب سے پہلا ہدف وہی ہوگا جس کے حوالے سے حملہ انھوں نے تمہارے جد امجد پر کیا اور پھر جس طرح اس کے کپڑے اتروا دیئے ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی ایسا ہی حملہ کیا جائے اور تم بھی بےلباس کردیئے جاؤ۔ سابقہ آیت میں لباس کے بارے میں پوری تفصیل بیان کردی گئی ہے اور یہ بھی بتادیا گیا ہے کہ جو لباس اللہ کے یہاں مطلوب ہے وہ لباس تقویٰ ہے اور یہی وہ لباس ہے جو ظاہری لباس کی ضرورت کو پیدا کرتا ہے اور پھر اسے باقی بھی رکھتا ہے۔ دیکھنا کہیں ابلیس تمہیں لباس تقویٰ سے محروم نہ کر دے اور تمہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ابلیس اور اس کی ہمنوا طاقتوں کے وسائل بےپناہ ہیں وہ تم پر ایسی جگہوں اور ایسے طریقوں سے حملہ آور ہوسکتے ہیں جس کا ادراک کرنا بھی تمہارے لیے مشکل ہوگا۔ وہ شکاری کی طرح گھات میں بیٹھ کر برابر تمہیں تاڑتے رہتے ہیں لیکن تم انھیں دیکھنے میں ناکام رہتے ہو۔ تم بظاہر یہ سمجھتے رہتے ہو کہ وہ تمہارے خیر خواہ ہیں اور تمہیں تعلیم دے رہے ہیں حقیقت میں وہ تمہاری برین واشنگ کر رہے ہوتے ہیں تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہیں تہذیب سکھائی جا رہی ہے حالانکہ وہ تمہیں لباس تقویٰ اور حمیت کے جذبات سے محروم کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں تم یہ سمجھتے ہو کہ وہ ترقیاتی کام کر رہے ہیں اور اس کے لیے انھیں اشتہار اور پبلسٹی کے لیے صنف نازک کی ضرورت پڑتی ہے لیکن وہ تمہیں اس بات کا احساس نہیں ہونے دیتے کہ کس طرح وہ طریقے طریقے سے لڑکے اور لڑکیوں کے مل بیٹھنے کے مواقع پیدا کرتے ہیں ‘ کس طرح انھیں الگ الگ تقسیم کر کے خلوتوں کا سامان کیا جاتا ہے اور کس طرح رفتہ رفتہ غیرت اور حمیت کو آگ لگا دی جاتی ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے جب عورت صرف عورت رہ جاتی ہے بلکہ عورت کی سطح سے گر کر وہ ایک اشتہار بن جاتی ہے یا مجلسوں کی رونق کا سامان اور اس سے وہ تقدس چھین لیا جاتا ہے جو ماں ‘ بہن اور بیٹی کی شکل میں اسے حاصل تھا۔ یہ سب کچھ شیطان کا قبیلہ اس چابکدستی اور ذہانت سے کرتا ہے کہ جن کے ساتھ یہ سب کچھ کیا جاتا ہے ان کی عقلیں ماؤف ہو کر رہ جاتی ہیں۔ وہ اپنی نہایت روشن تاریخ کو بھول جاتے ہیں انھیں شرم و حیا کی بجائے عریانی تہذیب کے طور پر دکھائی دینے لگ جاتی ہے اور ساتر لباس انھیں وحشت اور دقیانوسیت محسوس ہونے لگتا ہے اس طرح رفتہ رفتہ پورا تمدن شہوانیت کے زہر سے مسموم ہوجاتا ہے لیکن اولاد آدم کو اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ ہمارے ساتھ شیطانی قوتیں کیا کھیل کھیل رہی ہیں۔ یہاں اسی بات کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے اور صاف بتایا جا رہا ہے کہ تم جب تک کھلی آنکھوں سے اور زندہ احساس کے ساتھ شیطانی قوتوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرو گے اس وقت تک وہ تمہارے ساتھ یہ کھیل کھیلتی رہیں گی اور تمہیں اس کا احساس تک نہیں ہوگا۔ اس آیت کے آخر میں شیطانی قوتوں کے حملوں سے بچنے کے لیے طریقہ سکھایا جا رہا ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تم شیطانی قوتوں کا مقابلہ کرسکو تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اپنے ایمان کا جائزہ لو شیطانی قوتوں سے مقابلہ کرنے کے لیے یہی ایک اسلحہ اور تدبیر ہے جو شیطانی قوتوں کو مغلوب کرسکتی ہے وہ اپنی ہزار کوششیں کریں اور چاہے کیسے ہی کمندیں پھینکیں اگر ایک مومن کے دل میں ایمان زندہ ہے یعنی وہ ان ہدایات پر ایمان رکھتا ہے جن کا ذکر ابھی ہوچکا تو پھر شیطانی قوتیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ شیطان اس وقت حملہ کرنے میں کامیاب ہوتا ہے جب دل ایمان کی قوت سے محروم ہوجاتا ہے۔ جس طرح خالی گھر میں جنات بسیرا کرلیتے ہیں اسی طرح وہ دل جو خدا کی یاد سے غافل ہو اور جس دل میں اللہ کی اطاعت کا جذبہ کمزور پڑجائے اور اسے یاد ہی نہ رہے کہ اللہ نے مجھے شرم و حیا اور غیرت و حمیت کی پاسداری کا حکم بھی دیا تھا اور اس کی فطرت اس حد تک مردہ ہوجائے کہ لباس تقویٰ کا جو الہام اس کی فطرت پر کیا گیا تھا وہ اس کے ادراک سے بھی محروم ہوجائے تو وہ اللہ کے قانون کی زد میں آجاتا ہے۔ اللہ نے کئی جگہ یہ بات فرمائی ہے اور پیچھے اس کا ذکر بھی ہوچکا کہ جو شخص بھی اللہ کے ذکر اور اس کی یاد سے اعراض کا رویہ اختیار کرتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں اور پھر وہی اس کا ساتھی بن جاتا ہے اور ہر جگہ اسے کھینچے پھرتا ہے اب جو آدمی شیطان کے قبضے میں آجاتا ہے اور اس سے اپنے آپ کو چھڑانے کی قوت اس کے اندر نہیں رہتی تو وہ شیطانی حملوں سے کیسے محفوظ رہ سکتا ہے۔ بلکہ اس کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ شیطان کا ایجنٹ بن جاتا ہے اور اس لیے یہاں فرمایا گیا ہے کہ شیطانوں کو ہم ایسے لوگوں کا سرپرست بنا دیتے ہیں جو اللہ پر اور اس کے احکام پر ایمان اور یقین نہیں رکھتے۔ اگلی آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو لوگ ایمان کی قوت سے محروم ہوتے ہیں جب شیطان ان پر حملہ آور ہوتا ہے تو وہ نہ صرف شیطان کے حملوں کو روکنے میں ناکام رہتے ہیں بلکہ وہ شیطان کے فتنے کے اس حد تک اسیر ہوجاتے ہیں کہ وہ اسی کی زبان بولنے لگتے ہیں اور اس کا ہر فتنہ ان کی زندگی کا عنوان اور ان کے دل کی آواز بن جاتا ہے۔ اسی کی تصویر کشی کرتے ہوئے بعض اشارے فرمائے گئے ہیں :
Ayah 7:28

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ کوئی شرمناک کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریق پر پایا ہے اور اللہ نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔ ان سے کہو ! اللہ بےحیائی کا کبھی حکم نہیں دیا کرتا۔ کیا تم اللہ پر وہ تہمت جوڑتے ہو ‘ جس کے باب میں تم کو کوئی علم نہیں ؟

وَاِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْھَآ اٰبَآئَنَا وَ اللہ ُ اَمَرَنَا بِھَا ط قُلْ اِنَّ اللہ َ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآئِ ط اَتَقُوْلُوْنَ عَلَی اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ (الاعراف : 28) ” اور جب یہ لوگ کوئی شرمناک کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریق پر پایا ہے اور اللہ نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔ ان سے کہو ! اللہ بےحیائی کا کبھی حکم نہیں دیا کرتا۔ کیا تم اللہ پر وہ تہمت جوڑتے ہو ‘ جس کے باب میں تم کو کوئی علم نہیں ؟ “ شیطان کی چال اولاد آدم کے ذکر کے ضمن میں یہاں قریش اور عربوں کا حال بطور خاص بیان کیا جا رہا ہے کہ ذرا اندازہ کیجیے کہ کس طرح شیطان نے ان لوگوں کو فتنے کی نذر کیا اور بہکایا ہے اور کس طرح ان کو چکمہ دے کر اپنے جال میں پھنسا لیا ہے۔ ان کا حال یہ ہے کہ جس طرح حضرت آدم و حوا کو اس نے جنت میں بہکا کر ان کے کپڑے اتروا دیئے اور جنت میں ان کو بےلباس کردیا تھا اس نے انھیں بہکا کر اور گمراہ کر کے حرم میں بےلباس کردیا ہے اور حال یہ ہے کہ وہ بجائے اس کے کہ اس گمراہی کو سمجھیں الٹا اس پر دلیل بازی سے کام لے رہے ہیں اور ان کی جسارت کی انتہا یہ ہے کہ اسے اللہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے بھی نہیں ڈرتے۔ مفسرین نے اس کی صراحت کی ہے کہ مشرکین عرب کا حال یہ تھا کہ وہ جب کعبہ کے طواف کے لیے آتے تو یہ خیال کرتے کہ ہمارے کپڑے چونکہ آلائش دنیا اور زینت دنیا میں داخل ہیں اس لیے انھیں پہن کر ہم اللہ کے گھر کا طواف نہیں کرسکتے کیونکہ اللہ کا گھر تو ایک پاکیزہ جگہ ہے اور طواف ایک عبادت ہے اگر ہم دنیا کے لباس میں طواف کریں گے تو عبادت کی حرمت پامال ہوجائے گی۔ قریش نے اس گمراہی سے اگرچہ اپنے آپ کو بچا رکھا تھا لیکن باقی پورا عرب اس گمراہی میں مبتلا تھا اور قریش ان کی اس گمراہی کے پیدا کرنے اور انھیں اس گمراہی پر باقی رکھنے میں ممد و معاون بنے ہوئے تھے یعنی ان کو یہ بات سمجھاتے تھے کہ تمہارا لباس چونکہ آلائش دنیا سے آلودہ ہے اس لیے اب تمہارے طواف کی ایک ہی صورت ہے کہ یا تو کسی قریشی سے اس کا لباس مستعار لے لو اور اگر تم اس کا انتظام نہیں کرسکتے (اور ظاہر ہے کہ اس کا انتظام ہو بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ قریش کس کس کو اپنا لباس دیتے) تو پھر مجبوری ہے کہ تم مادرزاد ننگے ہو کر اللہ کے گھر کا طواف کرو اور یہ بات صرف مردوں تک محدود نہیں تھی عورتیں بھی اس گمراہی کا شکار تھیں وہ بھی بالکل برہنہ ہو کر طواف کرتی تھیں۔ ممکن ہے کسی کو یہ خیال ہو کہ یہ بات بظاہر قرین عقل معلوم نہیں ہوتی کہ قوم کے بیشتر افراد اتنی بڑی گمراہی کا شکار ہوجائیں لیکن اس بات کی کیا تأویل ممکن ہے کہ یہ ہمارا زمانہ جسے روشنی اور ترقی کا زمانہ سمجھا جاتا ہے۔ کیا اس میں آج بھی مندروں اور کلیسائوں میں عیاشی اور نفس پروری کا سامان میسر نہیں ؟ اور کیا وہاں کے پروہت اور پجاری اس طرح کی شیطنت کے محافظ بن کے نہیں بیٹھے ہوئے ؟ اور انھوں نے اس قسم کی گمراہیوں کو کیا مذہبی تقدس کا درجہ نہیں دیا ؟ اگر آج یہ ساری خباثتیں موجود ہیں تو چودہ سو سال پہلے اس کے وجود کو ہم خلاف عقل کیسے قرار دے سکتے ہیں۔ اس لیے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عرب کے لوگ اس گمراہی میں مبتلا تھے اور اسی کا نتیجہ تھا کہ طواف جیسی مقدس عبادت فساق و فجار کی نظربازیوں اور شرارتوں کی جو لاں گاہ بن کے رہ گئی تھی اور حرم کی نظر بازیوں کی لذیذ و رنگین داستانیں ان کی فاسقانہ شاعری میں اس طرح نمایاں ہوئیں کہ آج بھی آدمی انھیں پڑھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ شیطان نے حرم میں گھسنے کے لیے کیسا مقدس مذہبی لبادہ اختیار کیا اور کس کامیابی کے ساتھ اس نے اللہ کی سب سے بڑی عبادت کو اپنی عبادت میں تبدیل کردیا۔ آبائو اجداد کے طرز عمل سے استدلال عجیب بات یہ ہے کہ جب مشرکینِ عرب سے یہ کہا جاتا تھا کہ تم کس قدر پستی میں اتر گئے ہو کہ اللہ کے گھر میں تم نے کپڑے تک اتار دیئے ہیں تو وہ جواب میں دو باتیں کہتے تھے۔ ایک تو یہ بات کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں اس کی صداقت کی دلیل یہ ہے کہ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو ایسا ہی کرتے پایا ہے۔ اندازہ فرمایئے کہ اس بےسروپا دلیل پر اتنی بڑی گمراہی کی بنیاد رکھنا کس قدر تعجب خیز ہے لیکن انھیں اپنی اس دلیل پر اصرار تھا حالانکہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ یہ جس طرح اپنے اعمال کی دلیل اپنے آبائو اجداد کے عمل کو بنا رہے ہیں اسی طرح آنے والی نسل موجودہ لوگوں کو اپنے اعمال کی دلیل بنائے گی اور اسی طرح یہ سلسلہ پہلے بھی چلتا آیا ہے اور آئندہ بھی چلتا جائے گا حالانکہ یہ بات سمجھنا مشکل نہیں کہ غلطیاں ہر دور میں ہوئی ہیں جس طرح آج کے لوگ غلطیاں کر رہے ہیں اسی طرح ان کے آبائو اجداد نے بھی کی ہیں اور کل کو آنے والی نسلیں بھی وہ غلطیاں کریں گی اس لیے ایک نسل کی غلطی یا گمراہی دوسری نسل کے لیے جواز نہیں بن سکتی۔ ہاں کوئی چیز اگر جواز بن سکتی ہے تو ضروری ہے کہ یا تو اس کے ساتھ علم کی روشنی ہو اور یا ہدایت کی سندہو۔ محض یہ بات کہ پہلے ایسی غلطی ہوتی رہی ہے اور اب بھی ہونی چاہیے۔ اس سے زیادہ بےاصل بات اور کوئی نہیں ہوسکتی اس لیے یہاں قرآن پاک نے اس کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ قریش کی دلیل کا جواب دوسری بات وہ یہ کہتے تھے کہ یہ چونکہ مذہبی معاملہ ہے اس لیے ہمارے آبائو اجداد اگر ایسا ہی کرتے تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہی نے اس بات کا حکم دیا ہوگا کیونکہ مذہب کی کوئی بات تو اللہ کے حکم کے بغیر اختیار نہیں کی جاسکتی۔ اس کے جواب میں پروردگار نے دو باتیں ارشاد فرمائیں : 1 برہنگی ایک فاحشہ ہے یعنی ایسی بات ہے جس کو کھلی ہوئی بےحیائی کہا جاتا ہے اور عرب اپنی تمام بداخلاقیوں کے باوجود برہنگی کو بےحیائی سمجھتے تھے اور اسے ناپسند کرتے تھے کوئی بھی عزت والا عرب اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ وہ کسی مجلس میں کپڑے اتار دے۔ اگرچہ ان کے بازاری اور گرے پڑے لوگ ایک دوسرے کے سامنے ننگا ہوجانے اور راستوں میں رفع حاجت کے لیے بیٹھ جانے میں کوئی عیب نہیں سمجھتے تھے لیکن ایسا طبقہ تو ہر دور میں موجود رہا ہے۔ سوال تو ان لوگوں کا ہے جو عوام کو لیڈ کیا کرتے ہیں وہ برہنگی کو بہرحال ایک بےحیائی سمجھتے تھے اور کبھی بھی اس کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے چناچہ اس مسلمہ امر کو دلیل بناتے ہوئے پروردگار ارشاد فرماتے ہیں کہ جب برہنگی ایک بےحیائی ہے تو تم یہ بتلائو کہ اگر تم اللہ کی ذات اور اس کی صفات کے بارے میں کچھ بھی جانتے ہو تو کیا تم اس بات کا تصور کرسکتے ہو کہ اللہ کبھی بےحیائی کا حکم دے گا ؟ اور اگر وہ واقعی بےحیائی کا حکم نہیں دیتا تو پھر تم یہ کیسے کہتے ہو کہ اللہ نے ہمیں برہنہ طواف کرنے کا حکم دیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے بھی تم سے یہ بات کہی اس نے تم سے جھوٹ کہا اور ایک غلط مفروضہ پر اس نے تمہاری دینی زندگی تباہ کردی۔ 2 اگر واقعی تم یہ سمجھتے ہو کہ اللہ نے تمہیں اس بات کا حکم دیا ہے تو پھر تمہارے پاس اس کا کوئی ثبوت ہونا چاہیے۔ کوئی علمی ثبوت جو تمہیں حضرت اسماعیل یا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہنچا ہو۔ کوئی ایسی سینہ بہ سینہ روایت جس کی سند ان بزرگوں سے متصل ہو۔ یقینا تمہارے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں تو پھر کیا تم اللہ پر ایک ایسی بات کہہ رہے ہو جس کا تمہیں کوئی علم نہیں یعنی جس کی کوئی علمی سند تمہارے پاس نہیں تو بغیر علمی سند کے اور بغیر کسی آگاہی کے اللہ کریم کے بارے میں کوئی بات کہنا یہ تو اللہ پر افترا کرنے والی بات ہے اور تم جانتے ہو کہ اللہ کے بارے میں کوئی تہمت باندھنا اور اس کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا کتنا بڑا جرم ہے کیا تم نے کبھی اس کی ہولناکی کے بارے میں سوچا ہے ؟ البتہ ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ اللہ کن باتوں کا حکم دیتا اور کن باتوں کو پسند کرتا ہے اور وہ کیا بنیادیں ہیں جن پر دینی عمارت اٹھائی جاسکتی ہے :
Ayah 7:29

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

کہہ دیجئے (اے پیغمبر) میرے رب نے تو راستی اور انصاف کا حکم دیا ہے اور یہ کہ ہر عبادت میں اپنا رخ اسی کی طرف کرو اور اسی کو پکارو ‘ اسی کے لیے اطاعت کو خاص کرتے ہوئے ‘ جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا ہے ‘ اسی طرح تم پھر پیدا کیے جائو گے۔

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ قف وَاَقِیْمُوْا وُجُوْھَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَّادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہٗ الدِّیْنَ 5 ط کَمَا بَدَاَکُمْ تَعُوْدُوْنَ ۔ (الاعراف : 29) ” کہہ دیجئے (اے پیغمبر) میرے رب نے تو راستی اور انصاف کا حکم دیا ہے اور یہ کہ ہر عبادت میں اپنا رخ اسی کی طرف کرو اور اسی کو پکارو ‘ اسی کے لیے اطاعت کو خاص کرتے ہوئے ‘ جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا ہے ‘ اسی طرح تم پھر پیدا کیے جاؤ گے “۔ اللہ ” قسط “ کا حکم دیتا ہے ‘ اس کی وضاحت اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ مشرکین مکہ سے کہیئے کہ تم نے جن بیہودہ باتوں کو دین بنا کر عمل کرنا شروع کر رکھا ہے اور تمہاری عبادتیں بھی اس سے متاثر ہو رہی ہیں اور تمہاری جسارت کا عالم یہ ہے کہ تم اپنی ان بیہودگیوں کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہو کہ اس نے ہمیں ان باتوں کا حکم دیا ہے۔ ان باتوں کا اللہ کے دین اور اس کی عبادت سے کوئی تعلق نہیں یہ سراسر تمہاری اختراع کی ہوئی بدعات ہیں اور یا تمہاری خواہشات کا نتیجہ ہیں۔ اللہ جن باتوں کا حکم دیتا ہے آئو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ کیا ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس موقع پر نہ تو ابھی اسلامی شریعت نازل ہوئی تھی اور نہ ابھی پوری طرح اسلامی نظام زندگی کو متشکل ہونے کا موقع ملا تھا اس لیے یہاں ان باتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اسلامی شریعت اور اسلامی نظام زندگی کی اساس ہیں اور ان کا ذکر بھی نہایت اختصار اور اجمال سے کیا جا رہا ہے تو اس سلسلے میں فرمایا گیا کہ میرے رب نے سب سے پہلے قسط کا حکم دیا ہے۔ قسط ایک جامع حقیقت ہے جو شریعت الٰہی کی روح ہے اس کے اصلی معنی انصاف اور اعتدال کے ہیں یعنی ہر چیز میں ٹھیک ٹھیک نقطہ عدل و اعتدال کا اہتمام اس کا حقیقی مفہوم ہے چونکہ اس لفظ میں ایک جامعیت پائی جاتی ہے اس لیے اس کا تعلق زندگی کے کسی ایک پہلو سے نہیں بلکہ ہر پہلو سے ہے۔ عقائد ‘ اعمال ‘ عبادات ‘ اخلاق ‘ معیشت ‘ معاشرت ‘ قانون ‘ سیاست غرض ہر شعبہ زندگی میں یہی وہ اصل الاصول ہے جس پر شریعت الٰہی مبنی ہے۔ مقصود یہ ہے کہ تمہاری پوری زندگی ایک نقطہ عدل و اعتدال پر قائم ہونی چاہیے جو افراط وتفریط سے پاک ہو نہ اس میں خواہشات کی کھائیاں ہوں اور نہ اس میں بدعات کے ٹیلے ہوں۔ اس میں تعمیل حکم میں خواہشات نفس کی وجہ سے کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے اور جعلی عصبیتوں کے نتیجے میں مقررہ حد سے تجاوز نہیں ہونا چاہیے چناچہ پوری اسلامی شریعت اسی روح کی عکاس ہے جو حکم بھی انسانوں کو دیا گیا ہے وہ پوری طرح قسط کے ترازو میں تول کے دیا گیا ہے اس میں کہیں بھی افراط وتفریط کی پرچھائیں بھی نہیں پڑس کی اس حوالے سے نزول قرآن کے وقت کی انسانی زندگی بالخصوص مشرکین عرب کی زندگی کو دیکھا جائے تو وہ اس قسط کی روح سے بالکل خالی تھی۔ ان کی پوری زندگی خواہشات نفس کی تعمیل میں گزرتی تھی جس میں کہیں بھی اللہ کی عبادت اور اطاعت کی صحیح روح موجود نہیں تھی اور اگر وہ کبھی عبادت کی طرف متوجہ ہوتے تھے جس طرح انھوں نے حج کو ایک لازمی عبادت سمجھ رکھا تھا تو اس میں بھی حدود سے تجاوز کا عالم یہ تھا کہ برہنہ ہو کر طواف کرتے اور بعض دفعہ طواف کے دوران اللہ کے ذکر کے ساتھ ساتھ اپنے بتوں کی جے بھی پکارتے تھے اسی ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ان کی زندگی کس طرح قسط یعنی عدل و اعتدال سے خالی ہوچکی تھی۔ دوبارہ انسانی زندگی میں اس نقطہ اعتدال کو لانے کی اگر کوشش کامیاب ہوسکتی ہے تو اس کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ اس کو دو بنیادوں پر اٹھایا جائے چناچہ اس کے بعد انہی دو بنیادوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلی بنیاد یہ ہے کہ تم اپنی عبادات میں اپنے رخ اللہ کی طرف سیدھے کرلو مطلب اس کا یہ ہے کہ تمہارا ہر قول و فعل اور تمہارا ہر عمل اللہ کی عبادت بن جانا چاہیے لیکن اس کی لازمی شرط یہ ہے کہ اس کا رخ خالصتاً اللہ کی طرف ہو اس کی کوئی جہت ادھر ادھر نہ سرکنے پائے۔ نماز پڑھو تو اس کے قبلے کی طرف منہ کر کے اور مناسک حج ادا کرو تو حج کی روح کے مطابق اور اس طریقے سے جو طریقہ تمہیں حضرت ابراہیم دے کر گئے تھے اور جسے زندہ کرنے اور تجدید کا قالب پہنانے کے لیے نبی آخر الزمان تشریف لائے ہیں۔ اگر تم اس پابندی کے ساتھ زندگی گزارو گے تو تمہارا ایک ایک عمل کم از کم ظاہری حیثیت میں نقطہ اعتدال پر آجائے گا اور تم جہاں اللہ کی الوہیت سے اپنا رشتہ جوڑ لو گے وہاں تم میں احساس عبدیت بھی توانا ہوجائے گا۔ دوسری بنیاد جس پر تمہاری زندگی کو استوار کیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ تم اپنی زندگی کے ہر موڑ پر اور زندگی کی ہر ضرورت پر صرف اللہ کو پکارو جب تمہارے حوصلے شکست ہونے لگیں تو حوصلوں کے لیے توفیق اللہ سے طلب کرو اور جب تمہارے سہارے ٹوٹنے لگیں تو صرف اللہ سے مدد مانگو اور اپنی تنہائیاں صرف اللہ کی مناجاتوں سے آباد کرو لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ تم اپنی عبادت اور اپنی اطاعت کو خالص اس کے لیے کردو اگر تم اپنی عبادت کو صرف اللہ کے لیے مخصوص کردو گے یعنی تمہارے دلوں میں اخلاص کی روح پیدا ہوجائے گی تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہاری ظاہری زندگی کے ساتھ ساتھ تمہاری باطنی زندگی بھی پاکیزہ ہوجائے گی اور اسلام کا نقطہ امتیاز ہی یہ ہے کہ وہ صرف ظاہری زندگی کو اللہ کی طرف متوجہ نہیں کرتا بلکہ باطنی اور قلبی زندگی کو بھی پاکیزہ بناکر اللہ کے لیے مخصوص کردیتا ہے اس میں شریعت اور طریقت کی کوئی تقسیم نہیں اس کی شریعت واجب الاتباع ہے اور اسی کی تکمیل ‘ طریقت یعنی اخلاص کے راستے پر چلنے سے ہوتی ہے۔ جو ان میں دوئی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ درحقیقت نہ شریعت کو سمجھتا ہے نہ طریقت کو اور دوسرا معنی دین کا عبادت کے بجائے اطاعت بھی کیا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اگر اپنے اللہ سے تعلق استوار کرنا چاہتے ہو تو وہ اس کے بغیر ممکن نہیں کہ تمہاری اطاعت صرف اللہ کے لیے ہو جس طرح تمہارے دل کی دنیا اس کی یاد سے آباد ہے اسی طرح تمہاری زندگی کا ایک ایک شعبہ اور ایک ایک دائرہ اور اس کا ایک ایک خط اللہ ہی کی طرف نکلتا ہو اور وہیں سے پھوٹتا ہو۔ اسلام میں اس بات کی کوئی گنجائش نہیں کہ انسانی زندگی کو پرائیویٹ اور پبلک زندگی میں تقسیم کیا جائے اور پھر پرائیویٹ زندگی پر مذہب کی حاکمیت تسلیم کی جائے اور پبلک زندگی پر قیصر کی۔ یہی وہ چیز ہے جہاں سے سیکولرازم کو غذا ملتی ہے انسان کو دو حصوں میں تقسیم کرنا یا انسانی زندگی کو مختلف اکائیوں میں تقسیم کرنا ‘ انسان کو شکست کرنے اور انسانی زندگی کو ویران کرنے کی کوشش ہے ظاہر ہے کہ اسلام اس کی اجازت نہیں دے سکتا یہ وہ دو بنیادیں ہیں جس پر اس زندگی کی عمارت اٹھائی جاسکتی ہے جس میں ہر قدم پر عدل و اعتدال کی حکمرانی نظر آئے گی۔ افراد اور افراد کی اجتماعیت میں ایک ایسا خوبصورت نقطہ اتصال وجود میں آئے گا جس سے اخوت ‘ محبت اور ہمدردی کے جذبات از خود پھوٹنے لگتے ہیں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا معاشرہ اور سماج خود اپنی ضرورتوں کا کفیل ہوجاتا ہے۔ اس آیت کریمہ کے آخری جملے میں ایک بات فرمائی گئی ہے جو ان دونوں باتوں کے لیے محرک بنتی اور ترغیب کا سامان فراہم کرتی ہے۔ وہ بات یہ ہے کہ تم جس طرح اس بات کو تسلیم کرتے ہو کہ اللہ ہی تمہارا خالق ہے اور اسی نے تمہیں زندگی کے ساتھ ساتھ زندگی کے امکانات بھی عطا فرمائے ہیں اور پھر ایک ایک ضرورت کے پیدا ہونے سے پہلے سامان ضرورت سے آراستہ کردیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جوہر عقل اور علم و دانش کی تب و تاب بھی عطا فرمائی گئی ہے۔ اس کے بعد یہ سمجھنا کوئی مشکل نہیں رہتا کہ جس پروردگار کے عطیات کا یہ عالم ہے اور اس کی بخششیں جس طرح سے انسانوں پر برس رہی ہیں کیا اسے یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایک دن ایسا لائے جس میں پوری مخلوقات کو دوبارہ زندہ کر کے اپنی بارگاہ میں کھڑا کرے اور ان سے گزری ہوئی زندگی کا حساب طلب کرے۔ یقینا یہ ایک ایسا نتیجہ ہے جو اللہ کی نعمتوں کو محسوس کرنے کے بعد خود بخود دل و دماغ میں پیدا ہونے لگتا ہے۔ آیت کے آخری حصے میں انہی دو باتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ جس اللہ نے تمہیں پیدا کیا ہے وہی تمہیں دوبارہ پیدا کرے گا تم اسی کی طرف لوٹ کے جاؤ گے وہ تم سے زندگی کے ایک ایک عمل کا حساب لے گا۔ ظاہر ہے جس دل میں یہ احساس پیدا ہوجاتا ہے کہ یہ میری زندگی اصلاً ایک مالک کی عطا کردہ ہے اور وہ میری زندگی کے ایک ایک عمل کی فائل تیار کر رہا ہے اور ایک دن ایسا آئے گا جب مجھے اس کے سامنے جواب دہی کرنا ہوگی۔ ایسے شخص کے لیے پھر اپنی من مرضی کی زندگی گزارنا یا اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے طاغوت کی اطاعت میں زندگی بسر کرنا آسان نہیں رہتا۔ اندازہ کیجیے کہ یہ وہ بنیادیں ہیں اور یہ وہ ترغیبی محرک ہے جس پر انسانی زندگی استوار کی گئی ہے لیکن انسان نے اس نقطہ عدل و اعتدال سے محروم ہونے کے بعد اپنے آپ کو جس طرح بگاڑا اور تباہ کیا ہے یوں تو پوری دنیا میں اس کی مثالیں پھیلی ہوئی ہیں لیکن مشرکین مکہ کو براہ راست ان کی زندگی کا آئینہ دکھا کر یہ فرمایا جا رہا ہے کہ دیکھو تمہیں ہدایات کیا دی گئی تھیں اور تم نے اپنی زندگی کو کن ہولناک غاروں میں پھینک دیا ہے۔ اب تمہیں اس تباہی سے نکالنے کے لیے نبی آخر الزماں ﷺ کو بھیجا گیا ہے لیکن اس وقت بھی حال یہ ہے :
Ayah 7:30

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

ایک گروہ کو اس نے ہدایت عطا فرمائی اور ایک گروہ پر گمراہی مسلط ہوچکی انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیاطین کو اپنا رفیق بنایا اور سمجھتے یہ ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں۔

فَرِیْقًا ہَدٰی وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْھِمُ الضَّلٰلَۃُ ط اِنَّھُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِ اللہِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ مُّھْتَدُوْنَ ۔ (الاعراف : 30) ” ایک گروہ کو اس نے ہدایت عطا فرمائی اور ایک گروہ پر گمراہی مسلط ہوچکی انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیاطین کو اپنا رفیق بنایا اور سمجھتے یہ ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں “۔ شیطان سے اثر قبول کرنے والے پیغمبر کی دعوت سے بھی اثر قبول نہیں کرتے بجائے اس کے کہ مشرکین مکہ جنھیں براہ راست آنحضرت ﷺ اللہ کی طرف سے ہدایت پہنچا رہے ہیں اور اپنی پوری شخصی توانائیوں سے کام لے کر انھیں راہ راست پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ آگے بڑھ کر ہدایت قبول کرتے اور اپنی زندگی کو صحیح نہج پر استوار کرلیتے لیکن حال یہ ہے کہ ان میں سے ایک گروہ نے تو یقینا آگے بڑھ کر اس دعوت کو قبول کیا اور اپنی زندگی سنوار لی اور دوسرا گروہ مسلسل اپنی روش پر قائم رہا بلکہ بجائے اپنی گمراہیوں پر توجہ کرنے کے آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے یہ کوشش کی کہ کسی طرح وہ اس شمع ہدایت کو گل کرنے میں کامیاب ہوجائے تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ پھر گمراہی اللہ کی جانب سے ان پر مسلط ہوگئی کیونکہ اس کا قانون یہ ہے کہ جب بھی کوئی فرد یا کوئی قوم بجائے اللہ کے نبی کی دعوت کو قبول کرنے کے شیاطین کو اپنا ہمدرد ‘ اپنا ساتھی اور اپنا راہنما مان لیتی ہے اور پھر زندگی کے سفر میں اسی کی راہنمائی میں سفر جاری رکھنا چاہتی ہے تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم کی گمراہی کا فیصلہ فرما دیتے ہیں۔ ان مشرکینِ مکہ نے بھی چونکہ اسی طرح اپنی زندگی کے سفر کو جاری رکھا ہے اور بجائے حضور کی بات کو ماننے کے شیاطین کی پیروی میں لگے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کی روش یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ وہ اپنی اس گمراہی کو سمجھنے سے بھی معذور ہوگئے ہیں اور یہ گمان کرنے لگے ہیں کہ حقیقت میں وہی ہدایت یافتہ ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب کوئی انسان یا کوئی گروہ اس حد تک اندھے پن کا شکار ہوجائے کہ اسے اندھیرے اور اجالے میں تمیز بھی نہ ہو سکے اور وہ صحیح اور غلط کو پہچاننے سے بالکل عاجز ہوجائے تو پھر ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کبھی زبردستی ہدایت نہیں دیتا جس طرح ایک آدمی اگر مسلسل بیٹھا رہے اور کبھی اٹھنے کی زحمت گوارا نہ کرے تو ایک وقت آئے گا کہ وہ اپاہج ہوجائے گا اس طرح جو شخص اللہ کے دیئے ہوئے جوہر عقل سے کام نہیں لیتا اور اپنے فہم و شعور کو معطل کر کے رکھ دیتا ہے اور جو لوگ اس کو صحیح راستے کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ ان کو اپنا دشمن سمجھنے لگتا ہے تو ایک وقت آتا ہے جب اللہ تعالیٰ اس کے فہم و شعور کی طاقتیں اس سے سلب کرلیتا ہے اور پھر وہ ظاہری آنکھیں رکھتے ہوئے بھی دل کے نور سے محروم ہوجاتا ہے۔ اسی لیے اقبال نے نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا ؎ دل کا نور کر خدا سے طلب آنکھ کا نور دل کا نور نہیں مشرکین مکہ کی بدعات اور خرافات پر تنقید فرماتے ہوئے ان کی کوتاہیوں اور برائیوں کو نمایاں کرنے کے ساتھ ساتھ زندگی کا صحیح راستہ بھی ان کے سامنے کھولا گیا اس کی بنیادیں بھی ان کے سامنے واشگاف کی گئیں اور پھر نہایت تأسف سے جن لوگوں نے ان ہدایات سے فائدہ نہیں اٹھایا ان کے حوالے سے اللہ کے قانون کو ذکر کیا گیا۔ اب اس کے بعد اگلی آیت کریمہ میں مثبت انداز میں اس بات کا حکم دیا جا رہا ہے جس میں انھوں نے افراط وتفریط سے کام لیتے ہوئے ایک پوری مصنوعی شریعت تصنیف کر ڈالی تھی۔
Ayah 7:31

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

اے اولاد آدم ! ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ رہو اور کھائو اور پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو بیشک اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔

ارشاد فرمایا یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَّ کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا ج اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ ۔ (الاعراف : 31) ” اے اولاد آدم ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ رہو اور کھائو اور پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو بےشیک اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا “۔ لباس کے حوالے سے ایک خاص ہدایت اس آیت کریمہ میں براہ راست حکم دیا گیا ہے کہ تم ہر نماز کے وقت اپنے آپ کو لباس سے آراستہ رکھو یعنی تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اللہ کی عبادت کا تقاضہ یہ ہے کہ جس طرح انسان کو برہنہ پیدا کیا گیا ہے اسی برہنگی کے ساتھ وہ اللہ کی عبادت کرے یہ سوائے حماقت کے اور کچھ نہیں کیونکہ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے اعضائے صنفی شرم گاہ نہیں کہلاتے یعنی اسے اس طرح نہیں دیکھا جاتا جس طرح شرم کی جگہوں کو دیکھا جاتا ہے اور ان کے کھل جانے سے کوئی محسوس نہیں کرتا کہ بچہ برہنہ ہوگیا ہے اور اس سے اخلاقی صفات اور اخلاقی محرکات پر کوئی اثر پیدا نہیں ہوتا لیکن بلوغ کی عمر کو پہنچنے کے بعد ہر آدمی سمجھتا ہے کہ برہنگی ایک عیب اور بےحیائی ہے۔ عجیب بات ہے کہ تم نے بےحیائی کو معصومیت پر قیاس کرتے ہوئے دونوں کو ایک کر ڈالا اور اللہ کی عبادت یعنی اس کے گھر کا طواف برہنہ ہو کر کرنے لگے۔ اس پر مکمل تنقید فرمانے کے بعد یہ حکم دیا گیا ہے کہ اپنی اس گمراہی سے توبہ کرو اور آئندہ صرف طواف ہی نہیں بلکہ نماز بھی برہنہ پڑھنے کی کوشش نہ کرنا کیونکہ آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث میں طواف کو بھی نماز قرار دیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اگرچہ لباس کی بجائے زینت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے لیکن ہم نے اس کا ترجمہ لباس کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین نے برہنہ طواف کرنا اس لیے شروع کیا تھا کہ وہ لباس کو زینت قرار دیتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ اللہ کے گھر کا طواف چونکہ ایک عاشقانہ عبادت ہے اس لیے یہ عبادت کرتے ہوئے جسم پر کوئی آرائش اور کوئی زینت نہیں ہونی چاہیے تو لباس چونکہ زینت ہے اس لیے لباس اتار کر طواف کرنا چاہیے تو یہاں قرآن کریم نے اسی زینت کے لفظ کو استعمال کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ لباس جس طرح زینت ہے اسی طرح وہ برہنگی کو چھپانے اور موسم کی شدت سے بچانے کا ایک ذریعہ بھی ہے اور پھر اللہ کے سامنے جانے کے لیے آدمی کو ایسی آرائش اور زینت ضرور استعمال کرنی چاہیے جس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہو کہ اللہ کی عبادت کرنے والا شخص خاص اہتمام کر کے اس کے دربار میں حاضر ہوا ہے۔ اسی سے ہمیں یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ جس طرح لباس کا یہ مقصد ہے کہ اسے ساتر ہونا چاہیے اور ساتر ہونے کے لیے تو ایک لنگوٹی بھی کافی ہے لیکن یہاں زینت کا لفظ استعمال کر کے یہ بتایا جا رہا ہے کہ صرف لباس کو پردہ پوش ہی نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کو زینت بھی ہونا چاہیے یعنی اسے ایک مکمل لباس ہونا چاہیے جس سے مکمل انسان کی شخصیت وجود میں آتی ہے اور پھر اسے اپنی پوری شخصیت لے کر اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ‘ جھکنا اور سجدہ ریز ہونا چاہے تاکہ وہ اپنے عمل سے یہ بات ثابت کرے کہ یا اللہ میں ہرحال میں تیرا ہوں اور میں ہر حیثیت میں تیری بندگی کا اقرار کرتا ہوں اسی سے اہل علم نے احادیث کی روشنی میں یہ بات سمجھی کہ جس آدمی کو پورا لباس میسر ہو لیکن وہ صرف ستر پوشی کی حد تک لباس پہن کر نماز کے لیے کھڑا ہوجائے تو اس کی نماز مکروہ ہوگی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ لباس زینت اختیار کرے یعنی اس کا سر بھی ڈھکا ہوا ہو ‘ قمیض پوری ہو ‘ یعنی نہ اس کی کہنیاں کھلی ہوں نہ کندھے ننگے ہوں اور نہ سر بےلباس ہو۔ مجبوری کی حالت میں تو ان اعضا کو کھلا رکھ کر بھی نماز ہوجاتی ہے لیکن اگر لباس میسر ہے تو پھر ضروری ہے کہ آدمی پورے اہتمام سے اللہ کے سامنے حاضری دے یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کبھی نامکمل لباس میں نماز نہیں پڑھائی اور خوشحال صحابہ ہمیشہ مکمل لباس میں نماز پڑھتے تھے البتہ جن صحابہ کو پورا لباس میسر نہیں تھا وہ تو جو لباس بھی مل جاتا اسے پہن کر نماز پڑھ لیتے حضرت حسن ( رض) کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ نماز کے وقت اپنا سب سے بہتر لباس پہنتے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جمال کو پسند فرماتے ہیں اور میں اپنے رب کے لیے زینت و جمال اختیار کرتا ہوں اور متذکرہ آیت سے آپ استدلال فرماتے تھے۔ مشرکینِ عرب میں جس طرح برہنہ ہو کر طواف کرنے کی برائی پائی جاتی تھی اسی طرح وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ ایام حج میں اچھی غذا کھانا یہ حج کی سادگی کے خلاف ہے اس لیے وہ عموماً حج کے دنوں میں صرف اتنا کھاتے پیتے تھے جس سے زندہ رہا جاسکے اس سے روکنے کے لیے یہاں فرمایا گیا کہ کھائو اور پیو لیکن اسراف نہ کرو یعنی جتنی چیزیں اللہ نے کھانے پینے کے لیے جائز اور طیب پیدا فرمائی ہیں۔ انسانوں کو ان سب سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہے۔ وہ چاہے حج کی عبادت انجام دے رہے ہوں یا زندگی کی کسی اور مصروفیت میں ہوں۔ اللہ کی جائز نعمتوں سے یہ سمجھ کر تمتع نہ کرنا کہ یہ شاید کوئی نیکی ہے اس سے روکا گیا ہے ہاں ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اسراف نہ کرو۔ اسراف کا معنی ہے حد سے تجاوز کرنا۔ حد سے تجاوز کرنے کی کئی صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ حلال سے تجاوز کر کے آدمی حرام سے فائدہ اٹھانے لگے اور حرام چیزوں کو کھانے پینے اور برتنے لگے اور دوسری صورت یہ ہے کہ اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو بلاوجہ شرعی حرام سمجھ کے چھوڑ دے جس طرح حرام کا استعمال جرم و گناہ ہے اسی طرح حلال کو حرام سمجھنا بھی قانون الٰہی کی مخالفت اور سخت گناہ ہے۔ اسی طرح یہ بھی اسراف ہے کہ بھوک اور ضرورت سے زیادہ کھائے پیئے اور یہ بھی اسراف کے حکم میں شامل ہے کہ باوجود قدرت و اختیار کے ضرورت سے اتنا کم کھائے جس سے کمزور ہو کر ادائے واجبات کی قدرت نہ رہے۔ مختصر یہ کہ لباس کا معاملہ ہو یا زندگی کا کوئی اور معاملہ ہرحال میں اللہ کے احکام کی اطاعت کرنا اور اس میں کسی طرح کی کمی بیشی نہ ہونے دینا یہ وہ نقطہ اعتدال ہے جس کا ان آیات میں حکم دیا گیا ہے۔