Ayah 7:203ارشاد فرمایا :
وَاِذَا لَمْ تَاْتِھِمْ بِاٰیَۃٍ قَالُوْا لَوْلَا اجْتَبَیْتَھَاط قُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَایُوٓحٰٓی اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْج ھٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّکُمْ وَھُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (الاعراف : 203)
اور تم جب ان کے پاس نشانی نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ اسے کیوں نہ گھڑ لائے۔ کہہ دیجئے ! میں تو اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے مجھ پر وحی کی جاتی ہے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھولنے ولی آیات اور ہدایت و رحمت ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے۔
اذیتوں کے مقابلہ میں آنحضرت ﷺ کا اسوہ
اس آیت کریمہ میں ایک لفظ آیا ہے اجتَبَیْتَھَا۔ اجتبائ اس کا مصدر ہے۔ اس کا لغوی معنی تو مجموعہ میں سے کسی چیز کو انتخاب کرلینا اور چھانٹ لینا ہے لیکن جب یہ لفظ طنز کے سیاق وسباق میں استعمال ہو تو اس کے معنی گھڑلینے اور بنالینے کے ہوتے ہیں۔ بعض اہل علم نے اس کی تصریح کی ہے اس لیے ہم نے اس آیت کریمہ میں اس کا ترجمہ گھڑلینا اور بنالینا کیا ہے۔ اس جملے کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ قریش مکہ کس طرح آنحضرت ﷺ پر نہایت گرے ہوئے اور رکیک حملے کرتے تھے اور ایسی باتیں کہتے تھے جس سے آنحضرت ﷺ کا دل خون ہو کر رہ جاتا ہوگا۔ اسی جملے کو آپ دیکھئے ! اس میں دراصل قریش مکہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ تم نے ہمارے سامنے نبوت کا دعویٰ کیا ہمارے پاس اس کا کوئی علاج نہیں کہ ہم اس کو غلط ثابت کرسکیں تم نے اپنی طرف سے ایک غلط دعویٰ پیش کردیا ہم سننے پر مجبور ہیں چاہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اسی طرح تم نے قرآن کریم کو اللہ کی کتاب کہہ کر ہمارے سامنے پیش کرنا شروع کردیا اور یہ دعویٰ کیا کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے مجھ پر نازل ہورہی ہے، ہم اس کا ہزار انکار کریں لیکن تمہیں اصرار ہے کہ یہ کتاب اللہ ہی نے مجھ پر نازل کی ہے اور یہ کام تمہارے لیے کوئی مشکل بھی نہیں کیونکہ تم نے ادھر ادھر سے اگلوں کے کچھ واقعات جمع کیئے، کچھ باتیں کاہنوں سے سنیں، اہل کتاب کی کچھ باتیں کانوں میں پڑیں، تم چونکہ فصیح وبلیغ ذہین اور آدمی ہو اس لیے ان سنی سنائی باتوں کو جمع کرکے تم اس طرح لوگوں کے سامنے پیش کردیتے ہو کہ واقعی یہ اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہیں۔ لیکن ہمارے پاس اس کا کوئی توڑ نہیں تھا کہ ہم تمہیں اس سے روک سکتے۔ لیکن اب جب کہ ہم نے تم سے مطالبہ کیا ہے کہ تم اللہ کی طرف سے فلاں معجزہ پیش کرو اگر تم واقعی اللہ کے نبی ہوتے اور تم پر واقعی اللہ کی کتاب نازل ہورہی ہوتی تو یقینا تم اپنے اللہ سے کہہ کر ایسی نشانی یا ایسا معجزہ بڑی آسانی سے پیش کرسکتے تھے۔ لیکن ہمارے معجزے کی طلب نے تمہیں خاموش کرکے رکھ دیا۔ تم باربار اپنی دعوت تو پیش کرتے ہو لیکن ہمارا مطلوب معجزہ دکھانے سے عاجز ہو کیونکہ سنی سنائی باتوں سے مضمون تو بنایا جاسکتا ہے اور اسے اللہ کی کتاب بھی کہا جاسکتا ہے اور غلط سلط نبوت کے دعویٰ بھی کیے جاسکتے ہیں لیکن معجزہ دکھانا تو اللہ کی تائید کے بغیر ممکن نہیں اس لیے اب تم خاموش ہو۔ بظاہر تو وہ صرف ایک نشانی یا معجزہ طلب کررہے تھے لیکن یہ ایک ایسا زہر آلود طعنہ تھا جس سے زیادہ اور کوئی تکلیف دہ بات نہیں ہوسکتی۔ یہ ایک مثال ہے ان لوگوں کے زہر آلود تیروں کی جو وہ اکثر آنحضرت ﷺ پر چلاتے رہتے تھے اور جس سے آپ کا دل زخمی ہوتا تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ کے دین کی دعوت دینے والوں کو کیسے کیسے تکلیف دہ مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ آیت کے دوسرے حصے میں کفار کے اس طنز کا جواب ہے جو اللہ نے اپنے رسول سے دلوایا ہے اسے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کفار کی طرف سے چاہے کیسا ہی رویہ اختیار کیوں نہ کیا جائے، اس کے جواب میں ایک داعی ِ حق کو کس طرح صبر و استقامت کی تصویر بن جانا چاہیے بظاہریہ جواب بڑا سادہ ہے لیکن درحقیقت ایسا باوقار اور بھرپور ہے جس سے زیادہ موثر جواب کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آپ نے ان کے طنزوتعریض کا نوٹس تک نہیں لیا۔ اس جواب میں اس کا دور تک ذکر نہیں، البتہ جو بات کہی جانی چاہیے اسے نہایت اطمینان اور ٹھہرے ہوئے انداز میں ارشاد فرمایا جارہا ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تم جو کچھ کہہ رہے وہ سراسر جہالت اور چھالے پھپھوڑنے کے سوا کچھ نہیں ہے تم نے اپنی خباثت کو پوری طرح باہر نکال کر رکھ دیا ہے لیکن میں تمہاری ان باتوں کا حریف نہیں ہوسکتا۔ میں اس لیے دنیا میں نہیں آیا کہ میں شعبدہ بازیاں دکھائوں اور تم جو نشانیاں مجھ سے مانگو وہ نشانیاں میں ضرور ظاہر کروں کیونکہ جہاں تک نشانی اور معجزات کا تعلق ہے، میں اب تک سینکڑوں کی تعداد میں دکھا چکا ہوں اور پھر یہ کہ پوری کائنات اللہ کی نشانیوں سے بھرپور ہے۔ تمہیں اگر نشانیاں دیکھ کر راہ راست اختیار کرنا ہوتا تو اب تک کرچکے ہوتے میں تو اللہ کا پیغمبر ہوں اللہ کی جانب سے جو وحی مجھ پر اترتی ہے اس میں جو پیغام دیا جاتا ہے اسے بلاکم وکاست تم تک پہنچا نا اور خود بھی اس پر عمل کرنا یہ میرا اصل فریضہ ہے اور میں اپنے اس فریضے میں کبھی کوتاہی نہیں کرتا۔ اب تک جو بھی حکم نازل ہوا ہے میں نے سب سے پہلے اس پر عمل کیا اور اس کے بعد لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ رہی یہ بات کہ تم نشانیاں دیکھنے پر اصرار کررہے ہو تو یہ قرآن، میری نبوت میری حقانیت اور میری صداقت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ، ایک ایک آیت، ایک ایک ہدایت اور مجموعی طور پر زندگی کے لیے پوری راہنمائی اپنے اندر معجزہ کی صفت رکھتی ہے۔ اس کے اندر تمہارے رب نے تمہارے لیئے آنکھیں کھول دینے والی بصیرتیں رکھی ہیں۔ تم اگر انھیں غور سے سنو اور پڑھو تو وہ تمہاری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔ انسانی اصلاح کا آغاز ہمیشہ دل و دماغ کے خیالات کی اصلاح سے ہوتا ہے۔ اس لیے قرآن پاک قلبی اور ذہنی اصلاح پر سب سے زیادہ زور دیتا ہے۔ اس میں دل و دماغ کی پیچیدگیاں دور کرنے کے لیے ایسی بصیرت افروز ہدایات جاری فرمائی گئی ہیں جن میں غور کرنے سے آنکھیں روشن ہوتی ہیں اور دل کے اندھیرے چھٹ جاتے ہیں۔ اس لیے یہاں فرمایا جارہا ہے کہ یہ سوجھ اور غور وفکر کی باتیں تمہارے رب نے تمہاری طرف نازل کی ہیں تم اگر واقعی کوئی نشانی دیکھنا چاہتے ہو تو اس سے بڑی اور کوئی نشانی نہیں ہوسکتی مزید فرمایا کہ زندگی کی دوسری ضرورت یہ ہے کہ یہ معلوم ہو کہ زندگی گزاری کیسے جائے ؟ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہر مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد جبلی اور فطری طور پر اس ہدایت سے بہرہ ور فرمایا۔ حشرات الارض سے لے کر کائنات کی بڑی سے بڑی چیز تک کوئی مخلوق ایسی نہیں جسے اللہ نے یہ بات الہام نہ کی ہو کہ تمہیں زندگی کی ضروریات کو کیسے حاصل کرنا اور زندگی کے معمولات کو کیسے انجام دینا ہے۔ اللہ نے حشرات الارض کو کوڑے کرکٹ میں پیدا کیا ہے تو انھیں رینگنا بھی سکھایا ہے اور اسی کیچڑ سے اپنی غذا حاصل کرنے کا طریقہ بھی سکھایا ہے۔ پرندوں کو ہوا میں پیدا کیا ہے تو انھیں اڑنا بھی سکھایا ہے۔ مچھلیوں کو پانی میں پیدا کیا تو انھیں تیرنا بھی سکھایا۔ جنگل کے جانوروں کو دوڑنا اور شکار کرنا سکھایا، ہر مخلوق کو توالد اور تناسل کی کی حقیقت سے آگاہ کیا۔ رہنے کے لیے آشیانہ یا بھٹ بنانے کا شعور بخشا، ضروریاتِ زندگی کے حصول سے بہرہ ور فرمایا۔ غرضیکہ ہر مخلوق کو زندگی گزارنے کے لیے جو اور جیسا علم درکار تھا اسے عطا فرمایا۔ انسان چونکہ کائنات کا گل سرسبد ہے، اس کی زندگی کا دائرہ دوسری مخلوقات کی نسبت زیادہ وسیع ہے، اس کے مقاصدِ زندگی صرف جسمانی نہیں ذہنی قلبی اور روحانی بھی ہیں۔ اسی لحاظ سے اسے باقی مخلوقات کی طرح جبلت اور فطرت بھی عطا فرمائی، حواس سے بھی نوازا اور باقی مخلوقات سے اسے ممتاز کرتے ہوئے جوہرِ عقل بھی عطا کیا اور روحانی زندگی کی تکمیل کے لیے وحی الہٰی کا نور بھی بخشا اور اس کے لیے پیغمبر مبعوث ہوئے اور کتابیں نازل کی گئیں۔ اسی کو ہدایت سے تعبیر کرتے ہوئے یہاں فرمایا جارہا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ذہنی ضرورتوں کے لیے بصیرتیں نازل فرمائی ہیں، اسی طرح انفرادی اور اجتماعی زندگی کی ضرورتوں کے لیے اسی کتاب کے ذریعے ہدایت بھی عطا فرمائی۔ مزید فرمایا کہ اگر اس ہدایت کو قبول کرلیا جائے اور اس پر ایمان لایا جائے تو جس طرح اس ہدایت کے نتیجے میں حقوق و فرائض کا علم حاصل ہوگا، انسانیت کا شعور آئے گا، مکارم ِ اخلاق اور تہذیب و تمدن کی دولت نصیب ہوگی، اجتماعی زندگی کی نزاکتوں کا شعور ملے گا، اسی طرح اس کے نتیجے میں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اللہ کی رحمت نصیب ہوگی، دنیا کے رزق میں وسعت ہوگی، دلوں کو سکون ملے گا، دماغوں کو آسودگی نصیب ہوگی، گھر سے لے کر حکومت کے ایوانوں تک افراد ایک دوسرے کے ہمدرد اور غمگسار ہوں گے۔ اسی طرح آخرت میں اللہ کی جنت اور اس کی رضا نصیب ہوگی اور یہ وہ حقیقی کامیابی ہے جو انسان کا اصل ہدف ہے، ہدایت و رحمت اصل میں وہ نشانی ہے جو تمہارا اصل مطلوب ہونا چاہیے، لیکن بجائے تم اسے طلب کرنے کے وہ نشانیاں طلب کرتے ہو جس کا تمہاری زندگی کی کامیابی میں کوئی دخل نہیں۔
اگلی آیت کریمہ میں یہ بتایا جارہا ہے کہ تم اگر واقعی اللہ کی ہدایت اور رحمت کے طلبگار بننا چاہتے ہو تو تمہیں ان آداب کو سیکھنا چاہیے جس سے تمہیں یہ نعمت نصیب ہوسکتی ہے۔
Ayah 7:204ارشاد فرمایا :
وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (الاعراف : 204)
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
اس آیت کریمہ میں دو لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ ایک ہے فاستمعوا اس کا مصدر ہے استماع اور دوسرا ہے انصتوا اس کا مصدر ہے۔ انصات۔ استماع کا معنی ہوتا ہے ” غور سے سننا “ اور انصات کا معنی ہوتا ہے ” خاموش رہنا “۔ یہاں فرمایا جارہا ہے کہ تم اگر قرآن کریم کی ہدایت و بصیرت سے مستفید ہونا چاہتے ہو اور تمہاری یہ خواہش ہے کہ اللہ کی رحمت تم پر بھی برسے تو پھر ضروری ہے کہ جب قرآن پڑھ کر سنا یا جائے تو اسے غور سے سنو اور جب تک پڑھا جاتا رہے ادھر کان لگائے رکھو اور زبان سے کوئی لفظ نہ نکالو۔ یہ ہدایت اس لیے دی جارہی ہے کہ مشرکین مکہ کا طریقہ یہ تھا کہ جب بھی نبی کریم ﷺ یا آپ کا صحابی انھیں قرآن کریم پڑھ کر سناتا تو وہ چونکہ اس کی اثر انگیزی سے واقف تھے اور جانتے تھے کہ اس کا ایک ایک بول دل میں ترازو ہوجاتا ہے اور چھوٹے بڑے اس کی قوت تاثیر سے بےنیاز نہیں رہ سکتے، اس لیے اپنے آپ کو اور لوگوں کو اس کے اثر سے بچانے کے لیے وہ لوگوں سے یہ کہتے کہ جب بھی قرآن پڑھا جائے تو تم شور مچائو اور گھپلہ ڈالنے کی کوشش کرو، اس طرح ممکن ہے کہ تم قرآن کی دعوت پر غالب آجاؤ۔ لیکن اگر تم نے اسے سننا شروع کردیا یا لوگوں کو سنانے کی اجازت دے دی تو تم اس کی قوت تاثیر سے بچ نہیں سکو گے۔ اس لیے یہاں فرمایا گیا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تم پر رحم کرے اور تم بھی اس کی رحمت کے مورد بنو تو پھر قرآن کو غور سے سننے اور چپ رہنے کی عادت ڈالو۔ سنو گے تو تمہیں معلوم ہوگا کہ قرآن تم سے کیا کہتا ہے۔ چپ رہو گے تو اس کی تعلیم تمہارے دلوں میں اتر سکے گی اور اگر تم نے اس کے سننے سے بھی احتراز کیا تو پھر تمہیں کیسے اندازہ ہوسکے گا کہ تم اپنی مخالفت میں حق بجانب ہو کہ نہیں انصاف کا بھی تقاضا یہ ہے کہ کسی بھی بات کی مخالفت سے پہلے اسے سنا جائے اور غور وفکر کے بعد اس کی موافقت یا مخالفت کا فیصلہ کیا جائے۔ بغیر سنے مخالفت شروع کردینا اور جب وہ بات کہی جائے تو شور مچانا یہ تو اپنے غلط ہونے اور اپنی کمزوری کی دلیل ہے۔ یہاں اگرچہ خطاب مشرکین مکہ سے ہے لیکن خطاب کے الفاظ عام ہیں اس لیے اس ہدایت کا تعلق تمام سننے والوں سے ہے۔ کافروں سے تو اس لیے کہ وہ شاید اس نصیحت کو قبول کرلیں اور مسلمانوں پر اس حکم کی تعمیل فرض ہے کیونکہ وہ اسے واقعی اللہ کی کتاب سمجھتے اور اپنے آپ کو اس کا مومن قرار دیتے ہیں، اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ آدمی اس کے آداب سے آگاہ ہو۔ سب سے اہم ادب جب قرآن پڑھا جائے یہ ہے کہ اسے غور سے سنا جائے اور اس وقت کوئی دوسری بات نہ کی جائے۔ نماز کے اندر آدمی کھڑاہو اور امام قرآن پاک کی تلاوت کررہاہو تو اسے غور سے سننا ضروری ہے، اسی طرح خطبہ جمعہ اور خطبہ عیدین میں بھی ضروری ہے کہ خطبہ کو از اول تا آخر غور سے سنا جائے اور چپ رہا جائے۔ خطبہ کے بارے میں حضور نے خاص طور پر فرمایا :
اذا خرج الامام فلا صلوۃ ولا کلام
جب امام خطبہ دینے کے لیے منبر کی طرف بڑھ رہا ہو تو اسی وقت سے خاموشی ضروری ہے۔ اس وقت نہ کوئی نماز ہے نہ کلام۔
ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت کوئی شخص دوسرے کو نصیحت کے لیے زبان سے یہ بھی نہ کہے کہ خاموش رہوکیون کہ دورانِ خطبہ کسی قسم کا کلام حتی کہ تسبیح درود یا نماز وغیرہ بھی جائز نہیں۔ فقہاء نے کہا ہے کہ جو حکم خطبہ جمعہ کا ہے وہی عیدین کے خطبے اور نکاح کے خطبہ کا بھی ہے اور اس وقت کان لگانا اور خاموش رہنا واجب ہے۔ البتہ ! نماز اور خطبہ کے علاوہ عام حالات میں کوئی شخص بطور خود تلاوت کررہا ہو تو دوسروں کو خاموش رہ کر اس پر کان لگانا واجب ہے کہ نہیں اس میں فقہاء کے اقوال مختلف ہیں۔ بعض حضرات نے اس صورت میں بھی خاموش رہنے کو واجب اور اس کے خلاف کرنے کو گناہ قرار دیا ہے۔ اس لیے ایسی جگہ جہاں لوگ اپنے کاموں میں مشغول ہوں یا آرام کررہے ہوں، کسی کے لیے بلند آواز سے قرآن پڑھنے کو جائز نہیں رکھا اور جو شخص ایسے مواقع میں قرآن بلند آواز سے پڑھتا ہے اس کو گناہ گار قرار دیا گیا ہے۔ خاموش رہنے کی تاکید کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ علامہ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ جس وقت امام نماز میں یا خطیب خطبہ میں کوئی مضمون جنت دوزخ سے متعلق پڑھ رہا ہو تو اس وقت جنت کی دعا اور دوزخ سے پناہ مانگنا بھی جائز نہیں کیونکہ اس آیت کی رو سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا وعدہ اس شخص کے لیے جو تلاوت قرآن کے وقت خاموش رہے اور جو خاموش نہ رہے اس سے وعدہ نہیں البتہ ! نفل نمازوں میں ایسی آیات کی تلاوت کے بعدآہستہ آواز کے ساتھ دعا مانگنا سنت سے ثابت ہے اور موجبِ ثواب ہے۔
Ayahs 7:205–206اگلی آیت کریمہ میں اسی بات کو ایک اور پہلو سے آگے بڑھایا جارہا ہے اور ایک وارننگ بھی دی گئی ہے ارشاد ہوتا ہے۔
وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّخِیْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّکَ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَیُسَبِّحُوْنَہٗ وَلَہٗ یَسْجُدُوْنَ ع (الاعراف : 205، 206)
یاد کرو اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ اور ایسی آواز سے جو کہ پکار کر بولنے سے کم ہو صبح اور شام اور غافلوں میں سے نہ بنو بیشک جو تیرے رب کے پاس ہیں وہ اس کی بندگی کرنے سے تکبر نہیں کرتے وہ اسی کی تسبیح کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔
گزشتہ آیت کریمہ میں جو نصیحتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں ان کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ دنیا کے بگاڑ کا سبب صرف یہ ہے کہ انسان اس بات سے غافل ہوجاتا ہے کہ اللہ میرا رب ہے اور میں اس کا بندہ ہوں اس غفلت سے وہ نتائج پیدا ہونا شروع ہوتے ہیں جس سے ظلم کا دروازہ کھلتا ہے اور حقوق و فرائض کی تباہی وجود میں آتی ہے اور انسان بڑھتے بڑھتے گمراہی کی تمام منزلوں سے گزر جاتا ہے۔ اس لیے انسان کی اصلاح کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ اللہ سے اس کی برگشتگی کو ختم کرکے اللہ سے اس کا تعلق جوڑ دیا جائے۔ اس کا راستہ صرف یہ ہے کہ انسان قرآن کریم سے اپنا تعلق پیدا کرے، اسے غور سے سنے سمجھے اور اس کے سامنے ہر طرح سے سپرانداز ہوجائے اور غفلت سے نکلنے کے لیے اللہ کی یاد کو اپنا وظیفہ بنالے۔ دنیا کا ہر کام کرنے سے پہلے وہ اپنے ذہن میں اللہ کا استحضار پیدا کرے۔ ان دونوں باتوں کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان واقعی انسان بن جائے گا اور اس کا سفر اس کی حقیقی منزل کی طرف شروع ہوجائے گا۔ اسی مرکزی مضمون کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ جو لوگ انسانی اصلاح کے کٹھن فریضہ کو انجام دینے کے لیے اٹھتے ہیں انھیں اپنے مخالفین کی جانب سے جن جن اذیتوں سے گزرنا پڑتا ہے ان پر قابو پانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اللہ کی پناہ میں آجائیں اور اللہ کی پناہ اس وقت تک میسر نہیں آتی جب تک پناہ طلب کرنے والا اس کی یاد کو دل میں بسا نہیں لیتا۔ ان دونوں حوالوں سے پیش نظر آیات کریمہ میں گفتگو سمیٹتے ہوئے اور مضمون کو لپیٹتے ہوئے اللہ کو یاد کرنے کا طریقہ اور اس کے آداب سکھائے جارہے ہیں اور ساتھ ہی یہ وارننگ دی جارہی ہے کہ دیکھنا اس ہدایت سے صرف نظر کرکے کہیں غافلوں میں سے نہ ہوجانا کیونکہ تمام انسانی امراض کا حقیقی سبب صرف یہی ہے۔
آیات کی تشریح سے پہلے یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ ان دونوں میں براہ راست نبی کریم ﷺ سے خطاب کیا جارہا ہے اور یہ بات باربار دہرائی جاچکی ہے کہ اس خطاب سے مقصود یہ نہیں ہوتا کہ یہ ہدایات صرف آنحضرت ﷺ کے لیے ہیں بلکہ حقیقت میں یہ تمام ہدایات امت کے لیے ہیں آنحضرت ﷺ سے تو خطاب اس لیے ہے کہ امت کو ان ہدایات پر عمل کرنے کے لیے ایک اسوہ اور نمونہ کی ضرورت ہے، وہ جب تک سامنے نہیں ہوگا تو ایسی ہدایات جن کا تعلق سراسر قلبی، ذہنی اور روحانی کیفیت سے ہے، الفاظ وحروف سے چاہے وہ اللہ ہی کے کلام کی صورت میں ہو صحیح ادراک نہیں ہوسکتا۔ اس لیے آنحضرت ﷺ کو پہلے نمونہ کے طور پر امت کے سامنے اٹھایا گیا اور آپ کی گرامی قدر شخصیت کو ایسی تمام ہدایات اور مکارمِ اخلاق کی تصویر بنا کر لوگوں کے سامنے مینارہ نور کے طور کھڑا کردیا گیا تاکہ لوگ اس کی روشنی میں ان ہدایات پر عمل کرنے میں آسانی محسوس کریں۔
پہلی آیت کریمہ میں اللہ کی یاد اور اس کے ذکر کے سلسلے میں چند آداب بیان فرمائے گئے ہیں اور اس کے بعد ذکر کے اوقات کا تذکرہ فرمایا گیا ہے اور آیت کے آخر میں تنبیہ کی گئی ہے کہ دیکھنا غافلوں میں سے نہ ہوجانا۔ بجائے اس کے کہ ہم ان آداب کا خود تذکرہ کریں معارف القرآن سے استفادہ کرتے ہوئے اسے یہاں نقل کرتے ہیں۔
پہلا ادب ذکر کے آہستہ یا بلند آواز سے کرنے سے متعلق ہے اس کے بارے میں قرآن کریم نے اس آیت میں دو طرح کا اختیار دیا ہے۔ ذکرِ خفی اور ذکر جہر۔ ذکرِ خفی کے بارے میں فرمایا : ( واذکر ربک فی نفسک ” اپنے رب کو یاد کیا کرو اپنے دل میں) اس کی بھی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ بغیر زبان کی حرکت کے صرف دل میں دھیان اور خیال اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا رکھے جس کو ذکر قلبی یا تفکر کہا جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس کے ساتھ زبان سے بھی آہستہ آواز میں اسمائے الہٰیہ کے حروف ادا کرے سب سے افضل اور بہتر صورت یہی ہے کہ جو ذکر کررہا ہے اس کے مفہوم کو سمجھ کر دل میں بھی اس کا پورا استحضار اور دھیان ہو اور زبان سے بھی ادا کرے کیونکہ اس صورت میں قلب کے ساتھ زبان بھی ذکر میں شریک ہوجاتی ہے اور اگر صرف دل ہی دل میں دھیان اور تفکر میں مشغول رہے، زبان سے کوئی حرف ادانہ کرے، وہ بھی بڑا ثواب ہے اور سب سے کم درجہ اس کا ہے کہ صرف زبان پر ذکر ہو اور قلب اس سے خالی اور غافل ہو۔ ایسے ہی ذکر کو مولانا رومی نے فرمایا ہے
برزبان تسبیح ودر دل گائوخر
ایں چنیں تسبیح کَے دارد اثر
مقصد مولانا رومی کا یہ ہے کہ قلب غافل کے ذکر کرنے سے ذکر کے آثار و برکات کامل حاصل نہیں ہوتے۔ اس کا انکار نہیں کہ یہ زبانی ذکر بھی ثواب اور فائدہ سے خالی نہیں کیونکہ بعض اوقات یہ زبانی ذکر ہی قلبی ذکر کا ذریعہ اور سبب بن جاتا ہے زبان سے کہتے کہتے قلب بھی متأثر ہونے لگتا ہے اور کم از کم ایک عضو تو ذکر میں مشغول ہے کہ وہ بھی ثواب سے خالی نہیں۔ اس لیے جن لوگوں کو ذکر و تسبیح میں دل جمعی اور دھیان اور استحضار نہیں ہوتا وہ بھی ایسے ذکر کو بےفائدہ سمجھ کر چھوڑیں نہیں جاری رکھیں اور استحضار کی کوشش کرتے رہیں۔
دوسرا طریقہ ذکر کا اسی آیت میں یہ بتلایا (ودون الجھرمن القول ” زور کی آواز کی نسبت کم آواز کے ساتھ “ ) یعنی ذکر اللہ میں مشغول ہونے والے کو یہ بھی اختیار ہے کہ آواز سے ذکر کرے مگر اس کا ادب یہ ہے کہ بہت زور سے چیخ کر نہ کرے متوسط آواز کے ساتھ کرے جس میں ادب و احترام ملحوظ رہے، بہت زور سے ذکر و تلاوت کرنا اس کی علامت ہوتی ہے کہ مخاطب کا ادب واحترام اس کے دل میں نہیں، جس ہستی کا ادب واحترام اور رعب انسان کے دل میں ہوتا ہے، اس کے سامنے طبعی طور پر انسان بہت بلند آواز سے نہیں بول نہیں سکتا۔ اس لیے عام ذکر اللہ ہو یا تلاوتِ قرآن جب آواز سے پڑھا جائے تو اس کی رعایت رکھنا چاہیے کہ ضرورت سے زائد آواز بلند نہ ہو۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت سے ذکر اللہ اور تلاوتِ قرآن کے تین طریقے حاصل ہوئے، ایک یہ کہ صرف ذکر قلبی یعنی معانی قرآن اور معانی ذکر کے تصور اور تفکر پر اکتفا کرکے، زبان کو بالکل حرکت نہ ہو، دوسرے یہ کہ اس کے ساتھ زبان کو بھی حرکت ہو مگر آواز بلند نہ ہو جس کو دوسرے آدمی سن سکیں، یہ دونوں طریقے ذکر کے ارشاد ربانی واذکر ربک فی نفسک میں داخل ہیں اور تیسرا طریقہ یہ ہے کہ استحضار قلب اور دھیان کے ساتھ زبان کی حرکت بھی ہو اور آواز بھی، مگر اس طریق کے لیے ادب یہ ہے کہ آواز بھی زیادہ بلند نہ کرے، متوسط حد سے آگے نہ بڑھے، یہ طریقہ ارشاد قرآنی ودون الجھرمن القول میں تلقین فرمایا گیا ہے۔ قرآن کریم کی ایک دوسری آیت نے اس کی مزید وضاحت ان لفظوں میں فرمائی ہے۔ ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت بھا واتبغ بین ذلک سبیلا۔ اس میں آنحضرت ﷺ کو حکم ہے کہ اپنی قرات میں نہ زیادہ جہر کیا کریں اور نہ بالکل اخفا بلکہ جہر اور اخفا کے درمیان کی کیفیت رکھا کریں۔
نماز میں قرأت قرآن کے متعلق آنحضرت ﷺ نے حضرت صدیق اکبر ( رض) اور فاروقِ اعظم ( رض) کو یہی ہدایت فرمائی۔
صحیح حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ آخر رات میں گھر سے نکلے حضرت ابوبکر صدیق ( رض) کے مکان پر پہنچے تو دیکھا کہ وہ نماز میں مشغول تھے مگر تلاوت آہستہ کر رہے تھے۔ پھر حضرت عمر بن خطاب ( رض) کے مکان پر پہنچے تو دیکھا کہ بہت بلند آواز سے تلاوت کررہے ہیں۔ جب صبح کو یہ دونوں حضرات حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے صدیق اکبر ( رض) سے فرمایا کہ میں رات تمہارے پاس گیا تو دیکھا کہ تم پست آواز سے تلاوت کررہے تھے۔ صدیق ( رض) نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ مجھے جس ذات کو سنانا تھا اس نے سن لیا یہ کافی ہے۔ اسی طرح فاروقِ اعظم ( رض) سے فرمایا کہ آپ بلند آواز سے تلاوت کررہے تھے انھوں نے عرض کیا کہ قرأت میں جہر کرنے سے میرا مقصد یہ تھا کہ نیند کا غلبہ نہ رہے اور شیطان اس کی آواز سے بھاگے۔ آنحضرت ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ صدیق اکبر ( رض) کو یہ ہدایت دی کہ ذرا کچھ آواز بلند کیا کریں اور فاروقِ اعظم ( رض) کو یہ کہ کچھ پست کیا کریں۔ (ابودائود)
ترمذی میں روایت ہے کہ حضرت عائشہ ( رض) سے آنحضرت ﷺ کی تلاوت کے بارے میں بعض حضرات نے سوال کیا کہ جہراً کرتے تھے یا سراً ؟ انھوں نے فرمایا کہ کبھی جہراً کبھی سراً ۔ دونوں طرح تلاوت فرماتے تھے۔
رات کی نفل نماز میں اور خارج نماز تلاوت میں بعض افراد نے جہر پسند کیا بعض نے آہستہ کو۔ اسی لیے امام اعظم ابوحنیفہ ( رح) نے فرمایا کہ تلاوت کرنے والے کو اختیار ہے کہ جس طرح چاہے تلاوت کرے۔ البتہ ! آواز سے تلاوت میں چند شرائط سب کے نزدیک ضروری ہیں۔
اول یہ کہ اس میں نام ونمود اور ریا کا اندیشہ نہ ہو۔ دوسرے اس کی آواز سے دوسرے لوگوں کو حرج یا تکلیف نہ ہو۔ کسی دوسرے شخص کی نماز و تلاوت یا کام میں یا آرام میں خلل انداز نہ ہو اور جہاں نام ونمود اور ریا کا یا دوسرے لوگوں کے کام یا آرام میں خلل کا اندیشہ ہو تو سب کے نزدیک آہستہ ہی پڑھنا افضل ہے۔
جو حکم تلاوتِ قرآن کا ہے وہی دوسرے اذکار و تسبیح کا ہے اور آہستہ اور بلند آوا ز سے دونوں طرح جائز ہے بشرطیکہ آواز اتنی بلند نہ ہو جو خشوع و خضوع اور ادب کے خلاف ہو نیز اس کی آواز سے دوسرے لوگوں کے کام یا آرام میں خلل نہ آتا ہو۔
اس کا فیصلہ کہ سراً اور جہراً سے افضل کیا ہے۔ اشخصاص اور حالات کے اعتبار سے مختلف ہے۔ بعض لوگوں کے لیے جہر بہتر ہوتا ہے بعض کے لیے آہستہ نیز بعض اوقات جہربہتر ہوتا ہے بعض وقت سر۔ (تفسیر مظہری وروح البیان)
دوسرا ادب تلاوت وذکر کا یہ ہے کہ عاجزی اور تضرع کے ساتھ ذکر کیا جاوے جو نتیجہ اس کا ہوتا ہے کہ انسان کو حق تعالیٰ کی عظمت و جلال مستحضر ہو اور جو ذکر کررہا ہے اس کے معنی و مفہوم پر نظر ہو۔
تیسرا ادب اسی آیت میں لفظ خیفۃًسے یہ بتلایا گیا کہ ذکر و تلاوت کے وقت انسان پر ہیبت اور خوف کی کیفیت ہونا چاہیے۔ خوف اس کا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت اور عظمت کا حق ادانھیں کرسکتے۔ ممکن ہے کہ ہم سے کوئی بےادبی ہوجائے نیز اپنے گناہوں کے استحضار سے عذاب الہٰی کا خوف نیز انجام اور خاتمہ کا خوف کہ معلوم نہیں کہ ہمارا خاتمہ کس حال پر ہونا ہے۔ بہرحال ذکر و تلاوت اس طرح کیا جائے جیسے کوئی ہیبت زدہ ڈرنے والا کیا کرتا ہے۔
یہی آداب دعا اسی سورة اعراف کے شروع میں بھی ایک آیت میں اس طرح آئے ہیں۔
ادعوا ربکم تضرعاوَّخفیۃًاس میں خیفۃ کے بجاے خفیۃ کا لفظ آیا ہے جس کے معنی آہستہ آواز سے ذکر کرنے کے ہیں۔ گویا ذکر و تلاوت کا ایک ادب یہ بھی ہے کہ آہستہ پست آواز سے کیا جائے لیکن اس آیت نے اس کے معنی بھی واضح کردیئے کہ اگرچہ آواز سے ذکر سے کرنا ممنوع نہیں مگر شرط یہ ہے کہ ضرورت سے زائد آواز بلند نہ کرے نیز اتنی بلند نہ کرے جس میں خشوع و خضوع، عاجزی اور تضرع کی کیفیت جاتی رہے۔
آخر آیت میں ذکر و تلاوت کے اوقات بتلائے کہ صبح وشام ہونا چاہیے اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کم از کم دن میں دو مرتبہ صبح وشام ذکر اللہ میں مشغول ہونا چاہیے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صبح وشام بول کر تمام لیل ونہار کے اوقات ہوں۔ جیسے مشرق مغرب بول کر سارا عالم مراد لیا جاتا ہے اس صورت میں معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ انسان پر لازم ہے کہ ہمیشہ ہرحال میں ذکر و تلاوت کا پابند رہے۔ حضرت عائشہ ( رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر وقت ہرحال میں اللہ کی یاد میں مشغول رہتے تھے۔
آخر آیت میں فرمایا { ولا تکن من الغفلین } یعنی اللہ کی یاد کو چھوڑ کر غفلت والوں میں شامل نہ ہوجا نا کہ یہ بہت بڑا خسارہ ہے۔ دوسری آیت میں لوگوں کی عبرت و نصیحت کے لیے مقربان بارگاہِ الہٰی کا ایک مخصوص حال بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اللہ تعالیٰ کے پاس ہونے سے مراد اللہ تعالیٰ کا مقبول ہونا ہے جس میں سب فرشتے اور تمام انبیاء (علیہم السلام) اور صالحینِ امت شامل ہیں اور تکبر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو بڑا آدمی سمجھ کر ان عبادات میں قصور نہیں کرتے بلکہ اپنے کو عاجز اور محتاج سمجھ کر ہمیشہ اللہ کی یاد اور عبادت میں مشغول اور تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے رہتے ہیں۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو دائمی عبادت اور یاد خدا کی توفیق ہوتی ہے تو یہ اس کی علامت ہے کہ وہ ہر وقت اللہ کے پاس ہیں اور اللہ تعالیٰ کی معیت ان کو حاصل ہے۔
بعض اہل علم کے نزدیک (جو لوگ تیرے رب کے پاس ہیں) سے اشارہ فرشتوں کی طرف ہے ان کی بابت فرمایا کہ وہ اللہ کی بندگی سے کسی وقت سرتابی نہیں کرتے۔ برابر اس کی تسبیح میں لگے رہتے اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔ یہ آیت ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی یاد میں برابر سر گرم رہنے والوں کے زمرہ کو بتاتی ہے کہ جو لوگ اللہ کو ہر وقت یادرکھتے ہیں گو وہ رہتے بستے زمین میں ہیں لیکن ان کا تعلق فرشتوں کی بزم قدس سے ہوجاتا ہے اس لیے کہ وہ جس طرح ہر وقت زمزمہ سنج تسبیح وتہلیل رہتے ہیں یہ بھی اسی طرح مصروف یاد الہٰی رہتے ہیں دوسرے طرف اس میں مشرکین پر تعریض بھی ہے کہ یہ تو فرشتوں ہی کی سفارش کے بل پر اکڑتے پھرتے ہیں، نہ خدا کو خاطر میں لاتے ہیں نہ رسول کو۔ لیکن خود فرشتوں کا یہ حال ہے کہ وہ ہر وقت اللہ کی تسبیح اور سجود میں لگے ہوئے ہیں۔
اس مقام پر حکم ہے کہ جو شخص اس آیت کو پڑھے یا سنے وہ سجدہ کرے تاکہ اس کا حال ملائکہ مقربین کے حال سے مطابق ہوجائے اور ساری کائنات کا انتظام چلانے والے کارکن جس اللہ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں اسی کے آگے وہ بھی ان سب کے ساتھ جھک جائے اور اپنے عمل سے فوراً یہ ثابت کردے کہ وہ نہ تو کسی گھمنڈ میں مبتلا ہے اور نہ اللہ کی بندگی سے منہ موڑنے والا ہے۔
قرآن پاک میں ایسے چودہ مقامات ہیں جہاں آیات سجدہ آئی ہیں۔ ان آیات پر سجدہ کا مشروع ہونا تو متفق علیہ ہے۔ مگر اس کے وجوب میں اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ ( رح) سجدہ تلاوت کو واجب سمجھتے ہیں اور دوسرے علماء نے اس کو سنت قرار دیا ہے۔ نبی ﷺ بسا اوقات ایک بڑے مجمع میں قرآن پڑھتے اور اس میں جب آیت سجدہ آتی تو آپ خود بھی سجدہ میں گرجاتے تھے اور جو شخص جہاں ہوتا وہیں سجدہ ریز ہوجاتا حتی کہ کسی کو سجدہ کرنے کے لیے جگہ نہ ملتی تو وہ اپنے آگے والے شخص کی پیٹھ پر سر رکھ دیتا۔ یہ بھی روایت میں آتا ہے کہ آپ نے فتح مکہ کے موقع پر قرآن پڑھا اور اس میں جب آیت سجدہ آئی تو جو لوگ زمین پر کھڑے تھے انھوں نے زمین پر سجدہ کیا اور جو گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار تھے وہ اپنی اپنی سواریوں پر ہی جھک گئے۔ کبھی آپ نے دورانِ خطبہ میں آیت سجدہ پڑھی تو منبر سے اتر کر سجدہ کیا اور پھر اوپر جاکر خطبہ شروع کردیا۔ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کے اس طرز عمل سے سجدہ تلاوت کی اہمیت کا اندازہ ہوجاتا ہے اور ویسے بھی اس آیت کریمہ میں آخر میں سجدہ کرنے والوں کا ذکر کیا گیا ہے اور اسی پر سورة کا اختتام ہوتا ہے۔ اس سے نفس سجدہ کی اہمیت واضح ہوتی ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تمام ارکانِ نماز میں سجدہ کو خاص فضیلت حاصل ہے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت ثوبان ( رض) سے کہا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے جس سے میں جنت میں جاسکوں۔ حضرت ثوبان ( رض) خاموش رہے۔ اس نے پھر سوال کیا، پھر بھی خاموش رہے۔ پھر جب تیسری مرتبہ سوال کو دہرایا تو انھوں نے کہا کہ میں نے یہی سوال رسول اللہ ﷺ سے کیا تھا آپ نے مجھے یہ وصیت فرمائی کہ کثرت سے سجدے کیا کرو کیونکہ جب تم ایک سجدہ کرتے ہو تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہارا ایک درجہ بڑھا دیتے ہیں اور ایک گناہ معاف فرمادیتے ہیں۔ یہ شخص کہتے ہیں حضرت ثوبان ( رض) کے بعد حضرت ابو الدرداء ( رض) سے ملا تو ان سے بھی یہی سوال کیا۔ انھوں نے بھی یہی جواب دیا اور صحیح مسلم میں بروایت حضرت ابوہریرہ ( رض) منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بندہ اپنے رب کے ساتھ سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب کہ بندہ سجدہ میں ہو۔ اس لیے تم سجدہ کی حالت میں خوب دعا کیا کرو کہ اس کے قبول ہونے کی بڑی امید ہے۔
یاد رہے کہ تنہا سجدہ کی کوئی عبادت معروف نہیں۔ امامِ اعظم ابوحنیفہ ( رح) کے نزدیک کثرت سجود سے مراد یہ ہے کہ کثرت سے نوافل پڑھا کریں۔ جتنی نفلیں زیادہ ہوں گی سجدے زیادہ ہوں گے۔ لیکن اگر کوئی شخص تنہا سجدہ ہی کرکے دعا کرلے اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ سجدہ میں دعا کرنے کی ہدایت نفلی نمازوں کے لیے مخصوص ہے فرائض میں نہیں۔