Ayah 7:57ارشاد ہوتا ہے :
وَھُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًا م بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہٖ ط حَتّٰٓی اِذَآ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰہُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِہٖ الْمَآئَ فَاَخْرَجْنَا بِہٖ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ ط کَذٰلِکَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰی لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ۔ (الاعراف : 57)
” اور وہی ہے ‘ جو بھیجتا ہے ہوائوں کو بشارت بنا کر اپنے ابر رحمت سے پہلے۔ یہاں تک کہ جب وہ بوجھل بادل کو اٹھا لیتی ہیں ‘ ہم اس کو ہانکتے ہیں کسی بےآب وگیاہ زمین کی طرف اور وہاں پانی برساتے ہیں۔ پھر ہم اس سے پیدا کرتے ہیں ‘ ہر قسم کے پھل۔ اسی طرح ہم مردوں کو اٹھا کھڑا کریں گے ‘ تاکہ تم یاد دہانی حاصل کرو “۔
چار حقائق
اس آیت کریمہ میں نہایت اعجاز کے ساتھ مختلف حقائق کو جمع کردیا گیا ہے۔ مضمون چونکہ توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال کا چل رہا ہے اس لیے اس میں توحید کی دلیل بھی ہے اور ساتھ ہی انسان کے بنیادی احساسات جن پر بیم و رجا کی حکومت رہتی ہے اس کی اللہ سے وابستگی کی تاکید بھی ہے اس لیے اس کی مثال بھی ہے اور پھر آیت کے آخر میں اسی پورے مضمون کو انسان کے لیے زندگی بخش قرار دینے کی طرف اشارہ بھی ہے اور پھر اسی کو اثباتِ معاد کے لیے دلیل بنادیا گیا ہے یہ چار چیزیں اس مختصر آیت میں بیک وقت موجود ہیں۔ ہم اختصار کے ساتھ ان میں سے ایک ایک کا ذکر کرتے ہیں۔
عرب کی سرزمین میں چونکہ بارش بہت کم ہوتی تھی۔ موسم گرما کی بےپناہ شدت میں موسم کی تمازت تو ایک طرف رہی ہر چیز کے جل جانے کے باعث قحط سالی کی سی فضا پیدا ہوجاتی تھی جانوروں کے ریوڑ پانی اور چارے کی کمی کے باعث مرنے لگتے۔ عرب اپنی زندگی اور جانوروں کی زندگی کے بچائو کے لیے پانی کی تلاش میں سرگرداں رہتے۔ چلچلاتی دھوپ ان کے اندر خوف کے سائے دن بدن گہرے کرتی چلی جاتی۔ جیسے ہی کہیں سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آتا ان کے اندر امیدیں لہرانے لگتیں۔ یہی بیم و رجا کی کیفیت گرمیوں میں ان کی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت تھی اور یہی کیفیت بار بار انھیں آسمان کی طرف نگاہیں اٹھانے اور اللہ کی قدرت کو یاد کرنے پر مجبور بھی کرتی تھی۔ قدرت انھیں یاد دلاتی ہے کہ دیکھو تم نے جس پروردگار کو بھلا کر اپنی زندگی کو یکسر اس سے آزاد کر رکھا ہے اور اسی پر بس نہیں تم نے اس کے ساتھ نجانے شرک کی کیسی کیسی داستانیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ جب تم زندگی اور موت کی اس کشمکش میں مبتلا ہوتے ہو تو پھر تمہارے یہ شریک تمہیں پانی کے چند گھونٹ کیوں نہیں دے سکتے۔ گھاس کی چند پتیاں تمہارے لیے زمین سے کیوں نہیں نکال سکتے پھر تم بار بار آسمانوں کی طرف سر اٹھا اٹھاکر کیوں دیکھتے ہو۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تم جانتے ہو کہ اللہ کی قدرت بےپناہ ہے اس کے سوا کوئی تمہارے کام نہیں آسکتا۔ جیسے جیسے گرمی اپنی شدت اختیار کرتی جاتی ہے یہ خوف تمہیں بار بار اللہ کی قدرت کی یاد دلاتا ہے اور تم بار بار اس سے رحمت کی امیدیں باندھتے ہو۔ دل لرزنے لگتا ہے تو اس سے بارش مانگنے لگتے ہو اور دعا کرنے کے بعد یہ امید ہی تمہیں جینے کا سہارا دیتی ہے کیا یہ بات تمہارے سمجھنے کے لیے کافی نہیں کہ تم زندگی کے باقی معاملات میں بھی ہر طرح کے خوف اور ہر طرح کی امید میں اللہ ہی سے مانگنا سیکھو اور اسی کے آستانے کو آخری آستانہ بنائو اور مزید یہ فرمایا جا رہا ہے کہ ذرا اس کی قدرت کا اندازہ تو کرو کہ جب آسمان پر دور دور تک بادل کا کوئی آوارہ ٹکڑا بھی دکھائی نہیں دیتا اور سورج دن بھر آگ برسا رہا ہوتا ہے کہ اچانک ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگتی ہیں اور تمہاری نگاہوں کے سامنے بادل جھوم کے اٹھتے ہیں جو گھٹا بن کر تمہارے سروں پر چھا جاتے ہیں ان میں بادل کا ایک ایک ٹکڑا منوں پانی اپنے اندر رکھتا ہے۔ ذرا غور کرو یہ ٹھنڈی ہوائیں کون کھینچ کے لاتا ہے۔ پھر یہ منوں بوجھل بادل فضا میں کون پھیلا دیتا ہے پھر ہوائیں اتنے بوجھل بادلوں کو اس طرح اٹھائے ہوئے تمہاری نظروں کے سامنے بڑھ رہی ہوتی ہیں یوں لگتا ہے جیسے یہ منوں بوجھل بادل نہیں بلکہ روئی کے گالے ہیں جنھیں اٹھانے میں کوئی زحمت نہیں ہو رہی اور پھر ایسا بھی نہیں کہ یہ بادل جہاں چاہیں برس جائیں یا دنیا کی کوئی جابر قوت ان سے پانی زبردستی چھین لے یہ تو سراسر اللہ کی قدرت ہے وہ جہاں چاہتا ہے انھیں ہانکتا ہوا لے جاتا ہے اور پھر جب ان سے چھم چھم پانی برستا ہے تو دیکھو کس طرح جل تھل ایک ہوجاتا ہے تمہارے حوض بھر جاتے ہیں موت کا رقص رک جاتا ہے ‘ چاروں طرف زندگی کی چاندنی پھیل جاتی ہے۔ اس پوری صورتحال کو نگاہوں میں لایئے کس طرح اللہ کی قدرت کے اثبات سے اللہ کی توحید کو بیان کیا گیا ہے اور پھر انسان کی بیم و رجا کی کیفیت کو اللہ کی قدرت کے ساتھ وابستہ کردیا گیا ہے اور مزیدیہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ اس بارش کو دیکھو جب تک تم انتظار میں تھے اور بارش نازل نہیں ہوئی تھی تو تم پر ایک موت کی کیفیت طاری تھی ہر طرف دھول اڑ رہی تھی دور دور تک سبزے کا نشان نہیں تھا وہ آبی جانور جو جوہڑوں میں بولتے سنائی دیتے ہیں وہ ایک ایک کر کے موت کے گھاٹ اتر چکے تھے لیکن اب جیسے ہی بارش نازل ہوئی دیکھتے ہی دیکھتے چند دنوں میں زمین نے ہری بانات کی وردی پہن لی ‘ ہر طرف سبزہ ہی سبزہ دکھائی دینے لگا۔ ہر چیز کے چہرے پر رونق آگئی آبی جانور ٹرانے اور بولنے لگے۔ ایسا لگا کہ موت میں سے زندگی پھوٹ نکلی ہے۔ جس طرح یہ بارش انسانی مادی زندگی کے لیے زندگی کا سامان ہے اسی طرح انسان کی معنوی اور روحانی زندگی کے لیے وحی الٰہی کو حیات بخش بنایا گیا ہے جس طرح انسان کی مادی زندگی دھوپ کی تمازت سے مرجھا جاتی بلکہ مرجاتی ہے اسی طرح شرک کی گندگی ‘ اعمال کی خرابی ‘ احساسات کا بگاڑ اور اخلاقیات کا زوال انسان کی معنوی اور روحانی زندگی کو تباہ کردیتا ہے جس طرح بارش انسان اور اس کے متعلقات میں مادی زندگی پیدا کرتی ہے اسی طرح اللہ کی وحی پیغمبر کی تشریف آوری اور کتاب خداوندی کا نزول انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے صور اسرافیل ثابت ہوتا ہے جس کے نتیجے میں نیا انسان ‘ نیا معاشرہ اور نئی قوم وجود میں آتی ہے پھر اسی صورتحال کو آیت کے آخر میں قیامت اور معاد کے لیے دلیل بنایا گیا ہے۔ اشارہ فرمایا گیا کہ بارش سے پہلے کی زندگی سے تم واقف ہو کس طرح ہر چیز پر مردنی طاری تھی ؟ اور اب بارش کے بعد کی زندگی تمہارے سامنے ہے ہر مردہ چیز زندہ ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ یہ انقلاب حال تم ہمیشہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو اور تمہیں کبھی کوئی تعجب نہیں ہوتا کہ یہ زندگی کی نمود کیسے ہوگئی اور زندگی نے موت کو شکست کیسے دے دی لیکن یہ بات تمہیں سمجھ میں نہیں آتی کہ جو پروردگار بارش کے ذریعے تمہاری مردہ زندگی میں زندگی کی رو دوڑا سکتا ہے وہ قیامت کے دن تمہیں دوبارہ زندہ کیوں نہیں کرسکتا۔ اگر ایک مردہ زمین بارش کے نزول سے زندہ ہوسکتی ہے تو انسانی بستیاں قیامت میں دوبارہ زندہ کیوں نہیں ہوسکتیں ؟ یہ بارش اس سے پہلے اور بعد کا منظر تمہاری دیکھی بھالی بات ہے اگر تم اسی صورتحال پر غور کرو تو تمہارے لیے یہ سمجھنا کوئی مشکل نہ رہے کہ جس پروردگار کی قدرت آج جزوی انقلاب برپا کرسکتی ہے وہ قیامت کی صورت میں ایک کلی انقلاب بھی برپا کرسکتی ہے۔
Ayah 7:58ایک اور اہم حقیقت
اگلی آیت کریمہ میں ایک اور اہم حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ ارشاد فرمایا :
وَالْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُہٗ بِاِذْنِ رَبِّہٖ ج وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَکِدًا ط کَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْْمٍ یَّشْکُرُوْنَ ۔ (الاعراف : 58)
” اور زرخیر زمین ! وہ اپنے رب کے حکم سے خوب پھل پھول لاتی ہے اور جو زمین ناقص ہوتی ہے ‘ اس سے ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ اس طرح ہم نشانیوں کو بار بار پیش کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے ‘ جو شکرگزار بننا چاہیں “۔
بارش کی اس تمثیل سے ایک اور حقیقت کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے جس سے ایک بہت بڑی غلط فہمی کا ازالہ بھی ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے اور بھی بعض جگہ وحی الٰہی کو بارش سے تشبیہ دی ہے اور حدیث پاک میں تو اس کے اثرات کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔ بخاری اور مسلم کی ایک روایت ہے کہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو علم و ہدایت دے کر بھیجا ہے اس کی تمثیل یہ ہے کہ کسی خطہ زمین پر بارش ہو تو جو ٹکڑا زرخیز ہوتا ہے وہ پانی کو قبول کرلیتا ہے اور خوب سبزہ اور نباتات اگاتا ہے اور اسی طرح کوئی ٹکڑا ایسا ہوتا ہے جو نباتات تو نہیں اگاتا لیکن پانی کو روک لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے۔ لوگ اس سے پیتے ہیں کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں اور اپنی فصلیں بوتے ہیں اور اسی طرح کوئی ٹکڑا ایسا ہوتا ہے جو نہ تو نباتات اگاتا ہے نہ پانی روکتا ہے بلکہ محض چٹیل ہوتا ہے)
اس حدیث میں بھی آنحضرت ﷺ جو ہدایت لے کر آئے ہیں اس کو بارش سے تشبیہ دی گئی ہے اور انسانوں کے دل و دماغ کو مختلف قسم کی زمینوں سے۔ زمینوں پر بارش کے اثرات تو ہمارا روز مرہ کا مشاہدہ ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ کا ابر کرم تو ہر خشک و تر پر برستا ہے لیکن ہر جگہ اس کے اثرات یکساں نہیں ہوتے بلکہ اس بارش کے فیض سے زمین کا ہر ٹکڑا بقدر استعداد فائدہ حاصل کرتا ہے جو زمین زرخیز ہوتی ہے وہ لہلہا اٹھتی ہے لیکن بنجر اور شور زمین یا تو کچھ اگاتی ہی نہیں اور اگر اگاتی بھی ہے تو اپنے اندر کی خباثتیں کانٹوں اور مختلف قسم کی مکروہات کی شکل میں نمایاں کردیتی ہے۔ یہی حال انسانی دل و دماغ کا بھی ہے جن لوگوں نے کفر کے اثرات سے اگرچہ اپنے آپ کو مسموم کیا لیکن بالکل تباہ نہیں ہونے دیا وہ اپنی باقی استعداد کے مطابق وحی الٰہی اور نبوت کے فیض سے حصہ پاتے ہیں جتنی استعداد کسی میں ہوتی ہے وہ اتنی جلدی ایمان کے پھول اگانے لگتا ہے اور جو لوگ کفر اور حق سے عناد کے باعث اپنے آپ کو بالکل تباہ کرچکے ہوتے ہیں ان کے اندر وحیٰ الٰہی سے کوئی تبدیلی نہیں آتی اور اگر کوئی تبدیلی آتی ہے تو وہ ان کے اندر کی دشمنیاں ‘ عناد ‘ انسان دشمنی ‘ اللہ سے بغاوت کی صورت میں اور نمایاں ہوجاتی ہے۔ کافروں میں ابوبکر جیسے لوگ بھی ہوتے ہیں جنھوں نے آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے بھی کبھی شرک نہیں کیا۔ نتیجہ اس کا ظاہر ہے کہ خود آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے جس کسی کے سامنے بھی اسلام پیش کیا اس نے قبول کرنے میں تأمل کیا یا حیل و حجت سے کام لیا صرف ایک ابوبکر تھے کہ ادھر میں نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا ادھر انھوں نے قبول کرلیا گویا ان کا آئینہ دل پہلے سے اس قدر صاف تھا کہ نبوت کی ایک جھلک اس کی آب و تاب کا سامان کرگئی۔ لوگ اسے قسمت کا نام دیتے ہیں۔ میں اس کا یکسر انکار تو نہیں کرتا لیکن قسمتیں بھی اللہ تعالیٰ کے یہاں بےسبب نہیں بنتیں اس کا زیادہ تر تعلق انسان کی اپنی استعداد اور اپنی طلب سے ہے۔ جس نے اپنے آپ کو بالکل محروم کرلیا ہے وہ ابوجہل اور ابولہب کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ تم میں جو لوگ جاہلیت میں اچھے تھے وہ اسلام میں بھی اچھے ہیں فرق صرف یہ تھا کہ جاہلیت اور کفر نے ان کی استعداد کو جو زنگ لگا رکھا تھا اسلام نے آکر اسے دھو ڈالا اور آنحضرت ﷺ کی کیمیا اثر نگاہ نے اس پیتل کو سونے میں تبدیل کردیا۔ حالی مرحوم نے ٹھیک کہا ؎
پڑی کان میں دھات تھی اک نکمی
نہ کچھ قدر تھی اور نہ قیمت تھی جس کی
طبیعت میں جو اس کے جوہر تھے اصلی
ہوئے سب تھے مل کر وہ مٹی میں مٹی
یہ تھا ثبت علم قضا و قدر میں
کہ بن جائے گی وہ طلا اک نظر میں
توجہ طلب بات
میں اپنے گردوپیش میں بھی ایسی بہت سی مثالیں دیکھ کر پریشان ہوجاتا ہوں۔ اچھے اچھے پڑھے لکھے لوگ اس بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ‘ وہ خود اپنی بداعمالیوں اور گمراہیوں کے ذاتی اسباب تلاش کرنے کی بجائے ہمیشہ اصلاحی قوتوں کو الزام دیتے ہیں۔ یہ تسلیم ہے کہ آج کا بڑے سے بڑا مصلح اور مبلغ بھی اللہ کے نبی جیسا اخلاص ‘ خیر خواہی اور ہدایت کی تڑپ اپنے اندر کہاں سے لاسکتا ہے اور یہ بات بھی اپنی جگہ صحیح ہے کہ خود مصلحین اور علماء کے گروہ میں بھی بہت کمزوریاں بلکہ خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں لیکن اگر اصلاح طلب کرنے والے کی نیت میں جذبہ خیر موجود ہو تو سمجھانے اور ہدایت دینے والے کی کمزوریوں کے باوجود بھی اصلاح قبول کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی لیکن ہم اپنی کمزوریوں کو سمجھنے کی بجائے جب سارا الزام اصلاحی طبقے کو دینے لگتے ہیں تو یہ سراسر ناانصافی ہے اور خود اپنے ساتھ دشمنی بھی اگر قیامت کے دن دوسروں کو الزام دینا کام آسکتا ہے تو بیشک یہ شوق جاری رکھنا چاہیے لیکن اگر وہاں اپنے اعمال کا جواب خود ہی دینا ہے تو پھر اپنی ذات کو الائونس دینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری اصلاحی کوششیں اس قدر جزوی اور وقتی ہیں اور ہم اس کے لیے اس قدر کم سے کم وقت نکالتے ہیں کہ ان کا مثمر اور نتیجہ خیز ہونا چاہے کم سے کم سہی معجزے سے کم نہیں۔ ذرا اندازہ فرمایئے کہ ہمارا سیکھنے کا سارا وقت اور ساری صلاحیتیں تعلیمی اداروں میں صرف ہوجاتی ہیں اور یہ کہنے کی بات نہیں کہ جتنا بڑا کوئی تعلیمی ادارہ ہے وہ اتنا ہی دین سے اگر برگشتہ نہیں تو دور ضرور ہے۔ اس میں صرف کیا ہوا وقت دین کے قریب لانے کی بجائے اور دور لے جاتا ہے یہاں کی حاصل کردہ تعلیم سکول سے لے کر یونیورسٹی تک ایک مسلمان کو اسلامی تصورات ‘ احساسات اور عقائد تک سے بےنیاز کردیتی ہے۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد عملی زندگی میں جن اداروں سے واسطہ پڑتا ہے ہم خوب جانتے ہیں کہ وہ دین بیزاری پیدا کرتے ہیں یا دین سے محبت سکھاتے ہیں۔ عملی زندگی میں جیسے جیسے آدمی ذمہ داریوں سے گراں بار ہوتا جاتا ہے اور علائق دنیوی جیسے جیسے اسے بوجھل بناتے جاتے ہیں ویسے ویسے مکروہات دنیا کے لیے اسے اپنی طرف متوجہ کرنا آسان ہوتا جاتا ہے۔ جو بات اسے تعلیمی زبانوں میں خیر و شر کے حوالے سے سمجھانا نسبتاً آسان ہوتا ہے وہ مفادات کے دلدل میں پھنس کر مشکل تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایک طالب علم بڑی اچھی طرح یہ بات سمجھتا ہے کہ رشوت لینا بری بات ہے لیکن یہی طالب علم جب ایک افسر بن کر کسی منفعت بخش مسند پر بیٹھتا ہے تو اب اس کے لیے یہ بات سمجھنا ممکن نہیں رہتا۔ کہنا صرف یہ ہے کہ تعلیم اور عملی زندگی کی ناگواریوں کے یہ وہ تہہ در تہہ اندھیرے ہیں جو انسانی زندگی اور انسانی دل و دماغ کو بری طرح بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ اس میں ہر چیز باقی رہتی ہے لیکن خیر کے قبول کرنے کی صلاحیت روز بروز کم ہوتی جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر کسی کو آخرت یاد ہے تو وہ اس کی تیاری اور اس کی ذمہ داریوں کو سمجھنے کے لیے علمائِ حق کی طرف رجوع کرے اور اس کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت نکالے لیکن اگر معاملہ صرف یہاں تک رک جائے کہ ہفتے میں ایک دن جمعہ کی اذان سن کر مسجد کا رخ کیا جائے اور سمجھ یہ لیا جائے کہ عربی خطبہ سننا اور دو رکعت نماز پڑھنا صرف یہی جمعہ کی ادائیگی ہے اور باقی تمام ہفتے کے اوقات زندگی کے ان معمولات کے لیے وقف رہیں جس سے دین سے بیزاری تو پیدا ہوتی ہے دین سے محبت نہیں۔ ذرا غیر جانبداری سے فیصلہ کیجیے ایسی صورت میں کیا کوئی ہلکی پھلکی نصیحت بلکہ کوئی زور دار نصیحت بھی کیا ایسے اندھیروں میں دبے ہوئے دل و دماغ پر اثر انداز ہوسکتی ہے ؟ ایسی صورت میں ضرورت تو اس بات کی ہے کہ ان اندھیروں سے نکلنے کی کوشش کی جائے اور دل و دماغ پر گمراہیوں اور غفلت کے جو ردے چڑھے ہوئے ہیں انھیں اتارنے کی سعی کی جائے۔ لیکن یہاں کام صرف مولوی کو گالی دینے سے پورا کیا جاتا ہے۔ اپنی کسی ذمہ داری کا احساس نہیں ہوتا۔ آیت کے آخری جملے میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح کواڑ بند کر کے بیٹھ جانے والا آدمی ٹھنڈی ہوائوں سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا اس کے لیے باد بہاری بھی بےسود ثابت ہوتی ہے جس طرح قوت ذائقہ کھو دینے والا شخص لذیذ ترین کھانے کی لذت سے بھی محروم رہتا ہے اور جس طرح کھلے ہوئے چمن کی خوشبوئوں سے بھی وہ آدمی فائدہ نہیں اٹھا سکتا جو قوت شامہ سے محروم ہوچکا ہو۔ اس طرح تصریف آیات سے بھی اس آدمی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا جس میں شکر کا جذبہ نہ ہو۔ تصریف آیات ان لوگوں کے لیے کارآمد ہے جو شکر کا جذبہ رکھتے اور شکر ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور شکر کیا ہے اللہ کی کم سے کم نعمتیں پا کر اس کی زیادہ سے زیادہ اطاعت کرنا اور اپنے دل و دماغ کو ہر وقت جذبہ سپاس سے معمور رکھنا اور اپنا پسینہ اسی کے دین کی سربلندی کے لیے بہانا اور ضرورت پڑے تو خون اسی کی دین کی کھیتی کو سیراب کرنے کے لیے پیش کرنا اور مخلوق خدا کو اپنی خدمت سے بہرہ ورر کرنا اور ان کی پریشانیوں کو اپنی پریشانیاں سمجھ کر دور کرنا جو شخص ان احساسات سے گراں بار نہیں اس کے لیے قرآن کریم کی آیات بھی شاید ہدایت کا سامان نہ کرسکیں۔
جس طرح بارش کے برسنے کے بعد زمین دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے اس کا ذرخیز حصہ توگل و لالہ اگاتا ہے لیکن اس کا بنجر اور شور حصہ خار و خس کے سوا کچھ نہیں اگاتا اسی طرح وحی الٰہی کی بارش کے بعد اور اللہ کے نبی کی بعثت کے بعد انسانیت دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے ایک طیب حصہ جو فیضِ رسالت سے پھلتا پھولتا اور برگ و بار لاتا ہے اور دوسرا خبیث حصہ جو بجائے اس فیض سے حصہ پانے کے اپنی ساری کھوٹ نمایاں کردیتا ہے اور زمین کو فساد سے بھر دیتا ہے۔ اگلے رکوعوں میں مسلسل تاریخی شواہد سے یہ بات واضح کی جا رہی ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کے نبیوں کی دعوت سے فائدہ نہ اٹھایا اور بنجر اور خبیث زمین کی طرح خار و خس سے زمین کو بھر دیا اور اللہ کے نبی کی دعوت کو آگے بڑھنے سے قدم قدم پر روکنے کی سعی بھی کی ‘ دیکھو ان کا انجام کیا ہوا ؟ سب سے پہلے اس سلسلے میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت اور ان کی قوم کے رویے کو بطور مثال پیش کیا جا رہا ہے۔ ارشاد فرمایا :
Ayah 7:59لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُا اللہ َ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ (الاعراف : 59)
” ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ اس نے کہا : اے برادرانِ قوم ! اللہ ہی کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ‘ میں تمہارے حق میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں “۔
حضرت نوح اور قوم نوح کی مثال اور اس کی وضاحت
اس تاریخی بیان کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم سے کی گئی ہے کیونکہ قرآن کی رو سے جس صالح نظام زندگی پر حضرت آدم (علیہ السلام) اپنی اولاد کو چھوڑ گئے تھے اس میں سب سے پہلا بگاڑ حضرت نوح (علیہ السلام) کے دور میں رونما ہوا اور اسکی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو مامور فرمایا۔
قرآن کے اشارات اور بائیبل کی تصریحات سے یہ بات متحقق ہوجاتی ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم اس سرزمین میں رہتی تھی جس کو آج ہم عراق کے نام سے جانتے ہیں۔ بابل کے آثار قدیمہ سے جو کتبات ملے ہیں ان سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے ان میں تقریباً اسی قسم کا ایک قصہ مذکور ہے جس کا ذکر قرآن اور تورات میں بیان ہوا ہے اور اس کی جائے وقوع موصل کے نواح میں بتائی گئی ہے۔ پھر جو روایات کروستان اور آرمینیہ میں قدیم ترین زمانے سے نسلاً بعد نسلٍ چلی آرہی ہیں ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ طوفان کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی اسی علاقہ میں کسی مقام پر ٹھہری تھی۔ موصل کے شمال میں جزیرہ ابن عمر کے آس پاس ‘ آرمینیہ کی سرحد پر کوہ اراراط کے نواح میں نوح (علیہ السلام) کے مختلف آثار کی نشان دہی اب بھی کی جاتی ہے اور شہر نخچیوان کے باشندوں میں آج تک مشہور ہے کہ اس شہر کی بنا حضرت نوح (علیہ السلام) نے ڈالی تھی۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کے اس قصے سے ملتی جلتی روایات یونان ‘ مصر ‘ ہندوستان اور چین کے قدیم لٹریچر میں بھی ملتی ہیں اور اس کے علاوہ برما ‘ ملایا ‘ جزائر شرق الہند ‘ آسٹریلیا ‘ نیوگنی اور امریکہ و یورپ کے مختلف حصوں میں بھی ایسی ہی روایات قدیم زمانہ سے چلی آرہی ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قصہ اس عہد سے تعلق رکھتا ہے جبکہ پوری نسل آدم کسی ایک ہی خطہ زمین میں رہتی تھی اور پھر وہاں سے نکل کر دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلی۔ اسی وجہ سے تمام قومیں اپنی ابتدائی تاریخ میں ایک ہمہ گیر طوفان کی نشان دہی کرتی ہیں اگرچہ مرور ایام سے اس کی حقیقی تفصیلات انھوں نے فراموش کردیں اور اصل واقعہ پر ہر ایک نے اپنے اپنے تخیل کے مطابق افسانوں کا ایک بھاری خول چڑھا دیا۔ مختصر یہ کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعلیم بحیثیت آدم ثانی اور داعی اول کے ایک مسلمہ حقیقت ہے اسی طرح جو عذاب اس دعوت کو قبول نہ کرنے کے نتیجے میں آیا وہ بھی تمام قوموں کے نزدیک ایک مانی ہوئی بات ہے اس لیے سب سے پہلے اسی عظیم پیغمبر ان کی دعوت اور اس کے قبول نہ کرنے کے نتیجے میں آنے والے عذاب کا تذکرہ مشرکین مکہ کو سنایا جا رہا ہے تاکہ انھیں اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہوجائے کہ وہ اپنے رویے کے ساتھ کہاں کھڑے ہیں۔ نوح (علیہ السلام) کی حیثیت وہی تھی جو آج رسول اللہ ﷺ کی ہے اور حضور وہی دعوت پیش کر رہے ہیں جو نوح (علیہ السلام) نے پیش کی اور مشرکین مکہ کا ٹھیک ٹھیک وہی رویہ ہے جو نوح (علیہ السلام) کی قوم کا تھا اگر نوح (علیہ السلام) کی قوم اپنے اس رویے کے باعث عذاب کا شکار ہوئی تو کوئی وجہ نہیں کہ مشرکینِ مکہ ‘ مشرکینِ عرب اور دوسرے مذاہب کے لوگ اس عذاب سے بچ جائیں اسی طرف توجہ دلانے کے لیے یہ واقعہ ضمنی تفصیلات کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ البتہ ! قرآن کریم کا انداز یہ ہے کہ وہ کسی بھی واقعہ کو تاریخی انداز میں نہیں بلکہ دعوتی انداز میں پیش کرتا ہے تاریخ صرف داستان سرائی کا نام ہے وہ قصہ گوئی صرف قصہ گوئی کے لیے کرتی ہے لیکن قرآن کریم تاریخ سے استشہاد کرتے ہوئے اپنی دعوت پیش کرتا ہے۔ دعوت کے لیے جتنی شہادت کی ضرورت ہوتی ہے واقعات میں سے صرف اتنا حصہ ذکر کیا جاتا ہے اور باقی چھوڑ دیا جاتا ہے پھر کسی اور دعوتی پہلو کے لیے اسی واقعے کی دوسری تفصیلات کی اگر ضرورت پڑتی ہے تو ان کو بیان کردیا جاتا ہے مثلاً اگر یہ بتانا ہو کہ نوح (علیہ السلام) اور رسول اللہ ﷺ کی دعوت میں کیا مماثلت ہے تو ان کی دعوت اور اسلوب دعوت کو پیش کیا جائے گا اور اگر یہ بتانا ہو کہ انھوں نے اس پر کس طرح صبر دکھایا اور کس طرح مخالفین کی اذیتوں کا سامنا کیا تو اس کے لیے نوح (علیہ السلام) کی لمبی عمر اور آپ کی نو سو سالہ دعوت کا ذکر کیا جائے گا تاکہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو صبر کی تلقین بھی ہو اور حوصلہ بھی ملے کہ یہ تو وہ عظیم کام ہے جس کے لیے نو سو سال صرف کیے جاسکتے ہیں ہمیں تو ابھی صرف چند سال ہوئے ہیں کہ ہم اس وادیٔ پرخار میں داخل ہوئے ہیں چناچہ یہاں سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو پیش کیا جا رہا ہے تاکہ یہ پتہ چلے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد جب دنیا میں بگاڑ پیدا ہوا اور اللہ کے دین سے برگشتگی کے جذبات پیدا ہوئے تو نوح (علیہ السلام) نے لوگوں کی اصلاح کے لیے کیا دعوت پیش کی تھی اور مزید یہ بات بھی کہ اگر وہ دعوت وہی ہے جو آج حضور پیش کر رہے ہیں تو پھر آپ سے آپ یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ ہزاروں سال کے فاصلے کے باوجود دعوتی حقیقت نہ صرف زندہ ہے بلکہ اس میں کس حد تک یکسانی پائی جاتی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ جس ذات خداوندی نے نوح (علیہ السلام) کو انسانوں کی اصلاح کے لیے مبعوث فرمایا تھا اسی ذات والا صفات نے رسول اللہ ﷺ کو بھی بھیجا ہے۔
انبیاء کی دعوت کی وحدت
آپ کی دعوت باقی انبیاء و رسل کی طرح ایک ہی دعوت ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اللہ کے سوا تمہارا کوئی الہٰ نہیں اس کے بعد بھی کئی رسولوں کی دعوت کا ذکر ہے اس میں بھی یہی بات بار بار دھرائی گئی اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام انبیاء کرام انسانی اصلاح کے لیے جو نسخہ اپنے ساتھ لے کر آئے وہ صرف یہ تھا کہ لوگو ! بندگی صرف اللہ کی اور الوہیت صرف اللہ کی۔ اگر ذرا گہری نظر سے دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں فساد جب بھی پھیلتا ہے اور جب بھی انسانی زندگی میں الجھنیں اور اڑچنیں پیدا ہوتی ہیں اس کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو الہ بنا لیتے ہیں اور پھر اللہ کی بندگی کے ساتھ ساتھ یا اس کی بندگی کے توڑ پر غیر اللہ کی بندگی شروع کردی جاتی ہے اس کی تسہیل کے لیے میں چند مثالیں عرض کرتا ہوں جس سے آپ آسانی سے سمجھ جائیں گے کہ تمام انبیاء کرام نے اس مختصر سی بات کو انسانی اصلاح کی بنیاد کیوں بنایا ؟ بات یہ ہے کہ ہم اگر کوئی سا بھی ادارہ چلانا چاہتے ہیں تو ہم اس کے لیے دو باتوں کا فیصلہ ضرور کرتے ہیں ایک یہ بات کہ اس ادارے کا سربراہ کون ہوگا ؟ تاکہ اس کے انتظامی نظم ونسق میں رہنمائی کے لیے اسی کی طرف رجوع کیا جائے اور اسی کی ہدایات کی ہر ممکن اطاعت کی جائے کیونکہ اگر کسی ادارے میں سرے سے کوئی سربراہ نہ ہو تو وہ ادارہ اولاً تو تشکیل پذیر نہیں ہوسکتا اور اگر ہوجائے تو نہ چل سکتا ہے نہ باقی رہ سکتا ہے۔ اس ادارے میں کام کرنے والے اگر اپنی اپنی بانسری بجاتے رہیں نہ تو کسی سے کوئی پوچھ سکے نہ کوئی کسی کے سامنے جواب دہ ہو تو اندازہ فرمایئے ! یہ ادارہ کتنے دنوں تک چل سکتا ہے۔ اسی طرح دوسری بات جس کا فیصلہ کیا جاتا ہے وہ یہ کہ اس ادارے کی غرض وغایت کیا ہے آخر اسے بنایا کیوں جا رہا ہے ؟ جب یہ بات طے ہوجاتی ہے کہ یہ تعلیمی ادارہ ہے تو پھر اس کی ساری کاوشیں تعلیم کی بہتری کے لیے ہوتی ہیں اور اگر یہ طے ہوجائے کہ یہ دفاعی ادارہ ہے تو پھر اس کی ساری تگ و دو ملک کے دفاع کے لیے وسائل بروئے کار لانے اور مساعی انجام دینے میں صرف ہوتی ہے۔ علی ہذا القیاس باقی تمام اداروں کو بھی اسی پر قیاس کر لیجیے۔ پیغمبروں کی دعوت میں بھی انہی دو باتوں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔ ایک تو یہ کہ اس بات کا فیصلہ کرو کہ تم اس کائنات کا ایک جزو ہو۔ اس کے بیشمار کروں میں سے ایک چھوٹے سے کرے کے تم باسی ہو۔ باقی کائنات کی طرح تمہیں بھی کسی نے پیدا فرمایا ہے۔ باقی مخلوق کی طرح تمہیں بھی کوئی رزق دے رہا ہے۔ تمہاری زندگی کے تمام وسائل ‘ تمام ضرورتیں ‘ تمام صلاحیتیں ‘ تمام امکانات کا عطا کرنے والا کوئی ہے۔ سامنے کی بات ہے کہ اگر باقی کائنات نے اس کو پہچان کر اپنا سربراہ مان کر اور اپنا سب کچھ اسے سمجھ کر اس کے سامنے گردن ڈال دی ہے اور نہایت خاموشی سے اسی کی اطاعت میں سرگرم عمل ہے تو تم اگر اپنی زندگی میں باقی کائنات کی طرح اطمینان اور عافیت چاہتے ہو تو تم بھی اپنے مالک اور اپنے آقا کو پہچانو اور اسی کے سامنے اطاعت کے لیے گردن جھکا دو جس کے سامنے باقی کائنات جھکا چکی اور اسی کی اطاعت کا فیصلہ کرو جو تمہیں سب کچھ عطا کرنے والا ہے کیونکہ عقل کی بات ہے کہ جو جس چیز کو بناتا ہے اس سے کام اور خدمت لینا اسی کا حق ہے تمہیں اور باقی کائنات کو اگر اللہ نے بنایا ہے اور یقینا اسی نے بنایا ہے تو پھر تمہاری یہ بات کسی طرح بھی مناسب نہیں کہ تم اس کی مخلوق ہو کر اطاعت اور بندگی کسی اور کی کرو جس نے پیدا کیا ہے حکم دینے کا حق بھی اسی کو ہے اور جو مخلوق ہے اسے اپنے خالق ہی کا حکم ماننا چاہیے یہ فطرت کا وہ فتویٰ اور عقل کا وہ فیصلہ ہے جس سے انکار کرنا عقل سے بغاوت کردینے کے مترادف ہے اور مزید یہ بات بھی کہ جب باقی پوری کائنات سورج ‘ چاند ‘ ستارے اور تمام ثوابت و سیار اسی کی اطاعت میں سرگرم عمل ہیں اور اسی وجہ سے ہر ابتری اور ہر الجھن سے بچے ہوئے ہیں اور مسلسل ان کی گردن اللہ ہی کی اطاعت میں جھکی ہوئی ہے تو تم جب اسی کائنات اور مخلوق کا ایک حصہ ہو تو عجیب بات ہے کہ وہ تو اللہ کی اطاعت کریں اور تمہاری اطاعت کی جہت کسی اور طرف ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کا سفر اگر ایک سمت میں ہے اور تم دوسری سمت کے مسافر ہو تو یقینا تصادم ہوگا اور اسی کے نتیجے میں تمہاری زندگیوں میں ایک ابتری پیدا ہوگی۔ اس لیے ان دو باتوں کا فیصلہ کرنا تمہاری زندگی کی بقا ‘ عافیت اور اطمینان کے لیے ازبس ضروری ہے کہ تمہاری زندگی اور اس انسانی ادارے کی سربراہ صرف ایک اللہ کی ذات ہے اور تمہاری زندگی کا مقصد صرف اس ایک اللہ کی بندگی اور اسی کی رضا کا حصول ہے یہ وہ دعوت ہے جو نوح (علیہ السلام) نے باقی انبیاء و رسل کی طرح اپنی قوم کے سامنے پیش کی اور یہی دعوت رسول اللہ ﷺ مشرکین کے سامنے پیش فرما رہے ہیں۔
دوسری بات حضرت نوح (علیہ السلام) نے یہ فرمائی کہ دیکھو اگر تم میری دعوت قبول نہیں کرتے ہو اور اس بالکل سامنے کی بات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہو تو پھر یاد رکھو میں تمہارے لیے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں اس عذاب سے دو طرح کے عذاب مراد ہوسکتے ہیں اور انہی دونوں طرح کے عذابوں سے ہر پیغمبر اور ہر رسول دنیا کو ڈرانے کے لیے آتا ہے۔ ایک تو آخرت کا عذاب ہے جو دنیا کی بساط لپیٹ دینے اور قیامت کے وقوع پذیر ہوجانے کے بعد اللہ کے نافرمانوں کو پہنچے گا اور دوسرا وہ عذاب جو دنیا میں بھی کسی وقت آسکتا ہے۔ اللہ کا رسول جب دنیا میں آتا ہے تو وہ اپنی ذات اور اپنی دعوت میں حجت کاملہ بن کر آتا ہے۔ اپنی قوم کے سامنے حجت تمام کرنے میں وہ کوئی کمی نہیں چھوڑتا۔ دعوت کے ابلاغ ‘ تفہیم ‘ تسہیل ‘ تنفیذ ‘ معجزات کے ذریعے ان کا اثبات ہر حوالے سے وہ اپنی بات کو دلوں پر کھول دیتا ہے۔ کیفیت یہ ہوجاتی ہے کہ جو لوگ اس کی دعوت کو قبول نہیں کرتے وہ بھی یہ کہنے کی جرأت نہیں کرسکتے کہ اس دعوت کے پہنچنے اور تفہیم میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ ان کا دل پکارتا ہے کہ بات وہی ہے جو یہ رسول کہہ رہا ہے لیکن حب دنیا ‘ مفادات کی ہوس اور گروہ بندی کا حد سے بڑھا ہوا شوق انھیں پیغمبر کی دعوت قبول کرنے سے مانع ہوجاتا ہے اس طرح جب حجت تمام ہوجاتی ہے تب اللہ تعالیٰ کا رسول انھیں آنے والے عذاب سے ڈراتا ہے اور انھیں بار بار تنبیہ کرتا ہے کہ اللہ کا پیغام میں نے تمہیں پہنچا دیا ہے اور جہاں تک اس کا حق ادا کرنے کا تعلق تھا اس میں میں نے کوئی کمی نہیں چھوڑی اس لیے اب مجھے اس بات کا شدید اندیشہ ہے کہ تم پر کہیں اللہ کے عذاب کا کوڑا نہ برس جائے۔ چناچہ اللہ کا قانون یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب معاملہ یہاں تک پہنچتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور اس کے متبعین کو وہاں سے نکال لیتا ہے اور انکار کرنے والوں کو عذاب کی نذر کردیا جاتا ہے چناچہ یہاں بھی نوح (علیہ السلام) انہی دونوں طرح کے عذاب سے اپنی قوم کو ڈرا رہے ہیں۔
ایک اشتباہ اور اس کا جواب
ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ اللہ کے رسولوں کی دعوت کو قبول نہ کرنے کے نتیجے میں اگر ہمیشہ عذاب آتے رہے تو پھر آج کیوں نہیں آتے۔ دنیا کی بیشتر آبادی اللہ کے دین سے باغی ہے۔ نبی آخر الزمان ﷺ کی دعوت ان کے لیے ایک قصہ پارینہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی بلکہ وہ مسلمانوں کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں ہر طلوع ہونے والا دن مسلمانوں کے لیے نئی افتاد لے کر آتا ہے ایسی صورت میں تو کافروں پر اللہ کا عذاب ضرور آنا چاہیے پھر آخر کیوں نہیں آتا ؟ اس میں دو باتیں سمجھنے کی ہیں۔
پہلی یہ بات کہ اللہ کا عذاب کبھی کسی قوم پر نہیں آتا جب تک اس پر حجت تمام نہیں ہوتی۔ آج مشکل یہ ہے امت مسلمہ جسے پیغمبرانہ دعوت کے لیے چنا گیا ہے اور جس نے پوری دنیا کے سامنے اللہ کی طرف سے حجت تمام کرنی ہے اس کا اپنا گھر اللہ کے دین کی بالادستی سے خالی ہے۔ عالم اسلام میں کوئی ملک ایسا نہیں جہاں اللہ کا دین پوری طرح نافذ ہو اور وہاں کے رہنے والوں اور ان کے حکمرانوں نے یہ فیصلہ کرلیا ہو کہ پوری دنیا کے سامنے ہم نے اللہ کے دین کو اسی طرح پیش کرنا ہے جس طرح رسول اللہ ﷺ اور صحابہ نے پیش کیا تھا کہ خود کافر دنیا یہ سمجھے کہ اللہ کی طرف سے ان پر حجت تمام کردی گئی ہے۔ ان کے فکری ‘ تہذیبی ‘ تمدنی ‘ معاشی اور حکومتی ادارے اسلامی بالادستی کے سامنے دل و دماغ کو جھکتا ہوا محسوس کرنے لگیں۔ چلیے اگر یہ نہیں تو مسلمانوں کے کسی ملک میں مفکرین ‘ علماء اور اہل دعوت کی ایک ایسی مضبوط جماعت اٹھے جو اپنے قول و عمل سے ہر دیکھنے اور سننے والے کو محسوس ہو کہ یہ اس دور میں صحابہ کی تصویر ہیں۔ نہ ان کے عمل میں کمی ہے اور نہ ان کے فکر میں کمزوری یہ وقت کے بڑے سے بڑے مسئلے کا سامنا کرسکتے ہیں اور بڑے سے بڑے خطرے اور بڑے سے بڑے لالچ کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ ان کی منزل صرف اللہ کی رضا ہے وہ نہایت خیر خواہی سے نوع انسانی کی بھلائی چاہتے ہیں۔ یہ لوگ غیر مسلموں کے سامنے بالکل پیغمبرانہ استغناء اور خیر خواہی کے ساتھ اللہ کا دین پیش کریں اور ان کے ذرائع ابلاغ کو علمی اور دعوتی طور پر بےبس کر کے رکھ دیں تو اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب اگر غیر مسلم دنیا اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتی یا وہ اس کا راستہ روکنے اور اس کے کچلنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہے تو یقینا یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ایسی صورت میں یہ لوگ بیشک مار دیئے جائیں لیکن غیر مسلم دنیا بھی اللہ کے عذاب سے بچ نہیں سکے گی۔ ان میں یا تو قبولیت کے راستے کھلیں گے ان میں خود ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اپنی اپنی قوموں میں تبلیغ و دعوت کا فرض انجام دیں گے اور یا اللہ تعالیٰ ان کو مٹا کر ایک ایسی قوم کو دین کی دعوت کے لیے اٹھائے گا جو ہر لحاظ سے اس کے لیے مناسب ہوگی۔ تاریخ نے بار بار اس حقیقت کو دھرایا ہے کہ مسلمانوں نے جب کبھی اپنی دعوتی ذمہ داریوں سے پہلوتہی کی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سزا کا کوڑا برسایا ہے اور غیر مسلموں میں اپنے دین کے علمبردار اٹھا کھڑے کیے ہیں۔ فتنہ تاتار تاریخ کا ایک ایسا حادثہ ہے جس کو مسلمانوں کی تاریخ کبھی نہیں بھلا سکتی لیکن اس کا انجام کیا ہوا کہ خود تاتاریوں کو اللہ نے اسلام کی علمبرداری عطا کردی۔ اقبال نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا ؎
ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
دوسری بات جو سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ اگرچہ اتمامِ حجت نہ ہونے کے باعث کافر قوموں پر اس طرح کے عذاب نہیں آتے جو ان کی جڑ کاٹ کے رکھ دیں لیکن اس کے یہ معنی بھی نہیں ہیں کہ ان پر عذاب بالکل نہیں آتے ان کو تنبیہ کرنے اور وارننگ دینے کے لیے چھوٹے موٹے عذاب آتے رہتے ہیں لیکن فرق صرف یہ ہے کہ پہلے جس طرح انبیاء کرام اور کتب آسمانی کی طرف سے ان عذابوں کے اخلاقی معنی کی طرف توجہ دلائی جاتی تھی اور صاف صاف بتایا جاتا تھا کہ یہ اللہ کا عذاب ہے جو تمہاری بداعمالیوں کے سبب تمہیں متنبہ کرنے کے لیے آیا ہے اس سے سبق سیکھو ورنہ اندیشہ ہے کہ کسی بڑے عذاب کے ذریعے تمہاری جڑ کاٹ دی جائے اب مصیبت یہ ہوگئی ہے کہ ظاہر بیں سائنسدانوں اور حقیقت سے ناواقف مؤرخین و فلاسفہ کا ایک بہت بڑا گروہ نوع انسانی پر مسلط ہوگیا ہے جو اس قسم کے تمام واقعات کی توجیہ ‘ طبیعاتی قوانین یا تاریخی اسباب سے کر کے لوگوں کو فریب دیتا رہتا ہے اور انھیں یہ کبھی سمجھنے کا موقع نہیں دیتا کہ اوپر کوئی خدا بھی ہے جو غلط کار قوموں کو پہلے مختلف طریقوں سے ان کی غلط کاری پر متنبہ کرتا ہے اور جب وہ اس کی بھیجی ہوئی تنبیہات سے آنکھیں بند کر کے اپنی غلط روی پر اصرار کیے چلی جاتی ہیں تو آخر کار انھیں تباہی کے گڑھے میں پھینک دیتا ہے۔
اگلی آیات میں قرآن کریم نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کا رویہ اور نوح (علیہ السلام) اور قوم کے درمیان جو مکالمہ ہوا اس کو نہایت اختصار سے بیان کیا ہے۔
Ayahs 7:60–63ارشاد ہوتا ہے :
قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِہٖٓ اِنَّا لَنَرٰکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَۃٌ وَّ لٰکِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اُبَلِّغُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَکُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جآئَکُمْ ذِکْرٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَلٰی رَجُلٍ مِّنْکُمْ لِیُنْذِرَکُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ (الاعراف : 63 تا 60)
” اس کی قوم کے سرداروں نے کہا ! ہم تو تجھے صریح گمراہی میں دیکھ رہے ہیں۔ نوح نے کہا : اے برادرانِ قوم ! میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہوں۔ بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ‘ تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا رہا ہوں ‘ تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے ‘ جو تمہیں معلوم نہیں ہے۔ کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے سے تمہارے رب کی یاد دہانی آئی ‘ تاکہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور تم پر رحم کیا جائے ؟ “۔
حضرت نوح اور آپ کی قوم کے درمیان مکالمہ اور معارضہ، مشرکینِ مکہ کے لیے آئینہ
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) سے معارضہ کیا اور زبان کے تیر و نشتر سے جس طرح انھیں گھائل کرنے کی کوشش کی اور اس کے جواب میں جس صبر ‘ استقامت اور بالغ نظری کا حضرت نوح (علیہ السلام) نے ثبوت دیا یہ آنحضرت ﷺ اور مشرکین کے درمیان چلنے والی چپقلش کا ایک آئینہ ہے جو مشرکین مکہ کے سامنے رکھا جا رہا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے سب سے پہلی وہی بات کہی جو ہمیشہ گمراہ قومیں اپنے پیغمبروں کی دعوت میں کہتی رہی ہیں۔ انھوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہا کہ اے نوح ہم تو تمہیں صریح گمراہی میں دیکھ رہے ہیں یعنی تو ایک الجھا ہوا آدمی ہے خود گمراہ ہے گمراہی کی باتیں کر رہا ہے ہم تجھے اللہ کا رسول کیسے مان لیں ؟ اس میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اللہ کا ہر نبی اور رسول ذاتی طور اطوار میں نہایت شائستہ اور معاملات میں نہایت دل آویز ہوتا ہے اس کو صریح گمراہی میں قرار دینا یہ ایک عجیب سی بات ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ بگڑی ہوئی قومیں اپنے پیغمبروں کو اسی طرح کے طعنوں سے ہمیشہ زخمی کرتی رہی ہیں وجہ اس کی یہ ہے کہ چند باتیں تھیں جو انھیں سمجھ نہیں آتی تھیں یا وہ انھیں سمجھنا نہیں چاہتے تھے۔ پہلی یہ بات کہ ان کے نزدیک سچائی اور حقیقت کا سب سے بڑا معیار ان کے آبائو اجداد تھے جو بات انھیں اپنے آبائو اجداد سے ورثے میں ملی تھی وہ چاہے اپنے اندر عقل رکھتی ہو نہ علم وہ ان کے نزدیک سو فیصد صحیح تھی وہ کبھی یہ بات سوچنے کو بھی تیار نہیں تھے کہ آبائو اجداد سے بھی غلطی ہوسکتی ہے اس لیے جب حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم اور ان کے آبائو اجداد کے مشرکانہ عقائد پر تنقید فرماتے تھے تو وہ یہ کہتے تھے کہ تم صرف ہماری مخالفت ہی نہیں کر رہے ہو بلکہ تم تو ہمارے اور اپنے آبائو اجداد کو بھی گمراہ قرار دے رہے ہو وہ تو گمراہ نہیں ہوسکتے البتہ تم گمراہ ہو جو انھیں گمراہ قرار دیتے ہو اور دوسری یہ بات جو وہ سمجھنا نہیں چاہتے تھے وہ یہ کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) انھیں توحید کی دعوت دیتے اور یہ بتاتے کہ پوری کائنات کا نظام چلانے والا صرف ایک خداوند ذوالجلال ہے اور کوئی اس کا شریک نہیں تو وہ حیران ہو کر یہ کہتے تھے کہ اتنی بڑی کائنات کا نظام ایک خدا کیسے چلا سکتا ہے ؟ ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی حیثیت ایک بادشاہ کی مانند تھی جس طرح بادشاہ اپنی مملکت کا نظام تنہا نہیں چلاتا بلکہ اس نے اپنے اختیارات میں بہت سارے اپنے عماّل کو شریک کیا ہواہوتا ہے اور انہی کی مدد سے وہ مملکت کا نظام چلاتا ہے اس لیے لوگ اپنی ضرورتیں بادشاہ کے پاس نہیں بلکہ اس کے عماّل کے پاس لے کر جاتے ہیں۔ یہی حال اللہ تعالیٰ کا بھی ہے وہ یقینا کائنات کا خالق ومالک ہے لیکن کائنات کا نظام چلانے اور لوگوں کی ضروریات بہم پہنچانے میں وہ تنہا نہیں بلکہ وہ سارے شرکاء جو مشرکین مکہ نے بنا رکھے تھے وہ اس کے ساتھ شریک ہیں اس لیے انسانوں کو اپنی ضرورتوں کے لیے انہی شرکاء سے رجوع کرنا چاہیے۔ اب اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ اللہ کا کوئی شریک نہیں تو یہ سراسر عقل کے خلاف بات ہے ایسا ہونا کسی طرح بھی ممکن نہیں اور تیسری جو بات ان کو سمجھ نہیں آتی تھی وہ یہ کہ جب پیغمبر ان کو یہ کہتا کہ اگر تم نے میری دعوت کو قبول نہ کیا تو دنیا میں بھی تم پر عذاب آسکتا ہے اور قیامت کے دن بھی تم اللہ کے عذاب میں گرفتار کیے جاؤ گے تو وہ حیران ہو کر یہ کہتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہے اور تم سے راضی ہے تو پھر ہونا یہ چاہیے خوشحالی اور مال و دولت تمہارے گھر میں ہو لیکن ہم تمہیں اور تمہارے متبعین کو جس بدحالی میں مبتلا دیکھ رہے ہیں اس سے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے ناراض ہے اور ہم سے راضی ہے تو اللہ تعالیٰ کبھی ان کو سزا تو نہیں دے سکتا جن سے وہ راضی ہے اس لحاظ سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ تم صریح گمراہی میں ہو۔ تم بلاوجہ اپنے آپ کو ہدایت یافتہ سمجھتے ہو۔ آبائو و اجداد کے رویے سے تم انحراف کرچکے ہو اور محض نادانی سے تم ایک الٰہ کے قائل ہوچکے ہو۔ حالانکہ انسانی ضرورتیں پوری کرنا ایک الٰہ کے بس کی بات نہیں اس لیے ہم یہ سمجھتے ہو کہ تم صاف اور صریح گمراہی میں مبتلا ہوچکے ہو۔ ان کی ان تکلیف دہ باتوں کے جواب میں اندازہ فرمایئے حضرت نوح (علیہ السلام) کس قدر تحمل اور بردباری کا ثبوت دے رہے ہیں۔ بجائے طیش میں آنے کے نہایت اطمینان سے فرماتے ہیں کہ اے برادرانِ قوم میرے ساتھ تو کوئی گمراہی کی بات نہیں۔ تم نے میرے اندر کون سی گمراہی کی بات دیکھی ہے البتہ جو باتیں تم کرتے ہو وہ ضرور گمراہی کی ہیں۔ میں گمراہی کی بات کیسے کرسکتا ہوں کیونکہ میں تو رب العالمین کا فرستادہ ہوں جس طرح وہ غلطیوں سے پاک ہے اس طرح اس کا فرستادہ بھی اس کا پیغام پہنچاتا ہوا اور اس کے دین کی دعوت دیتا ہوا کبھی غلطی کا ارتکاب نہیں کرتا۔ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں تم بیشک میرا سینہ چھلنی کر ڈالو میں اس سے رکنے والا نہیں اس لیے کہ میں اپنی بات نہیں کہتا میں تو رب العالمین کا پیغام تم تک پہنچا رہا ہوں۔ تم میرے ساتھ جو سلوک کر رہے ہو اس کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے کہ میں پلٹ کر تمہاری شکل نہ دیکھوں اور تمہیں حالات کے حوالے کر کے یہاں سے ہجرت کر جاؤں لیکن میں ایسا نہیں کرسکتا اس لیے کہ مجھے بہرصورت اللہ کے پیغامات تم تک پہنچانے ہیں تم اگر مجھے گالیاں بھی دو گے ‘ اذیتیں بھی پہنچائو گے میں اپنی خیر خواہی میں کبھی کمی نہیں کروں گا کیونکہ مجھے رب العالمین کی جانب سے ایک ایسا علم دیا گیا ہوں جس سے تم واقف نہیں اور میں ان باتوں کو جانتا ہوں جن کی تمہیں ہوا تک نہیں لگی۔ میں چونکہ اللہ کا نمائندہ ہوں اس کے دیئے ہوئے علم کا حامل ہوں مجھے اپنی ذمہ داری کا شدید احساس ہے میں تمہاری خیر خواہی میں ہر اذیت برداشت کرنے کو تیار ہوں تو تم ہی سوچو اس میں گمراہی کی کون سی بات ہے۔ تمہیں اگر کوئی میری بات سمجھ نہیں آرہی تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ بات گمراہی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم میری حیثیت کو سمجھنے میں کوتاہی کر رہے ہو۔ میں تمہاری طرح آبائو اجداد کا پیروکار نہیں بلکہ اللہ کے دیئے ہوئے علم کا پیروکار ہوں مجھ پر تمہاری طرح نفسانیت کی حکومت نہیں بلکہ میں معصوم پیدا ہوا ہوں۔ تمہاری سوچ کی طرح میری سوچ ادھوری اور ناپختہ نہیں کیونکہ میرے علم کا رشتہ اللہ کے علم سے استوار ہے۔ تم میری اصل حیثیت کو پہچانو اور میری پیروی کر کے اپنی عاقبت تباہ ہونے سے بچا لو۔ تمہیں اس بات پر تعجب ہو رہا ہے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے جو نصیحت آئی ہے وہ تمہی میں سے ایک آدمی کے ذریعے کیوں آئی ہے اس میں غالباً تمہیں دو اشتباہ لاحق ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ نصیحت اور نبوت ایک آدمی پر کیوں اتری اسے تو کسی فرشتے پر اترنا چاہیے تھا کیونکہ ہر دور میں گمراہ قوموں میں یہ گمراہی موجود رہی ہے کہ وہ نبوت اور بشریت میں تضاد سمجھتے رہے ہیں۔ ان کا خیال یہ تھا کہ نبی بشر نہیں ہوسکتا اور بشر نبی نہیں ہوسکتا اور یہی حال قوم نوح کا بھی تھا اس لیے حضرت نوح (علیہ السلام) انھیں متنبہ کر رہے ہیں کہ یہ نہایت حماقت کی بات ہے۔ انسانوں کی اگر اصلاح مقصود ہے تو کوئی انسان ہی انسانوں کی اصلاح کرسکتا ہے۔ اگر کسی فرشتے یا کسی جن کو نبی بنا کر بھیج دیا جاتا تو نہ وہ نظر آتا ‘ نہ اس کا مزاج انسانوں سے ملتا ‘ نہ اس کی ضروریات انسانوں جیسی ہوتیں ‘ نہ وہ انسانوں کی طرح سوچتا ‘ اس کے احساسات اور انفعالات بالکل انسانوں سے الگ ہوتے تو انسان آخر اس سے کیسے اصلاح پذیر ہوسکتے تھے اور مزید یہ بات بھی کہ نبی کو یقینا کسی اعلیٰ ترین مخلوق میں سے ہونا چاہیے تھا اور یہ بات مسلمہ ہے کہ سب سے اعلیٰ ترین مخلوق وہ حضرت انسان ہے جس کو فرشتوں نے سجدہ کیا البتہ غلط فہمی کی بنیاد یہ ہے کہ ایک بگڑا ہوا آدمی انسانیت کی حقیقت کو نہیں پہچانتا وہ اپنے آپ کو جب انسان دیکھتا ہے تو سمجھتا ہے کہ انسان ایسا ہی ہوتا ہے حالانکہ
بشر جو اس تیرہ خاکداں میں پڑا یہ اس کی اپنی فروتنی ہے
وگرنہ قندیلِ عرش میں بھی اسی کے جلوے کی روشنی ہے
قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ قوم نوح نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔
Ayah 7:64ارشاد ہوتا ہے :
فَکَذَّبُوْہُ فَاَنْجَیْنٰہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ فِی الْفُلْکِ وَاَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا ط اِنَّھُمْ کَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ ۔ (الاعراف : 64)
” پس ان لوگوں نے اس کو جھٹلا دیا تو ہم نے اس کو اور جو لوگ کشتی میں اس کے ساتھ تھے ‘ ان کو نجات دی اور ان لوگوں کو غرق کردیا ‘ جنھوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی۔ بیشک یہ لوگ اندھے تھے “۔
اس آیت کریمہ میں قرآن کریم وضاحت کرتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طویل ترین تبلیغی کاوشوں اور انتہائی تھکا دینے والی مساعی کے باوجود قوم نوح نے آپ کی دعوت کو رد کردیا۔ انھوں نے ہرچند کوشش کی کہ وہ آپ پر ایمان لا کر اللہ کے عذاب سے بچ جائیں لیکن وہ بجائے بات سن کردینے کے آپ کے درپے آزارہو گئے اور آپ کی جان لینے کے منصوبے باندھنے لگے لیکن حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی تبلیغی کاوشوں کو پھر بھی ترک نہیں کیا۔ رات دن اس کام میں جتے رہے اس کا اندازہ ہمیں سورة نوح کی ان آیات سے ہوتا ہے جس میں حضرت نوح (علیہ السلام) اللہ سے دعا مانگتے ہوئے اپنی تبلیغی رپورٹ بھی پیش کر رہے ہیں۔ پیغمبر سچائی کا پیکر ہوتا ہے اور پھر جب وہ اپنی تبلیغی مساعی کو اللہ کے سامنے پیش کرتا ہے تو اس میں کسی کمی کا تو گمان ہوسکتا ہے مبالغے کا وہم بھی نہیں ہوسکتا۔ اندازہ فرمایئے کہ خود حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی تبلیغی کاوشوں کو کس طرح بیان فرما رہے ہیں۔ قرآن کریم کی زبان میں آپ نے فرمایا :
قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِی لَیْلًا وَّ نَھَارًا۔ فَلَمْ یَزِدْھُم دُعَآئِیْٓ اِلَّا فِرَارًا۔ وَ اِنِّیْ کُلَّمَا دَعَوْتُھُمْ لِتَغْفِرَ لَھُمْ جَعَلُوْٓا اَصَابِعَھُمْ فِّٓیْ اٰذَانِھِمْ وَاسْتَغْشَوْاثِیَابَھُمْ وَاَصَرُّوْاوَاسْتَکْبَرُوا اسْتَکْبَارًا۔ ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُھُمْ جِھَارًا۔ ثُمَّ اِنِّٓیْ اَعْلَنْتُ لَھُمْ وَاَسْرَرْتُ لَھُمْ اِسْرَارًا۔ فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ج اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا۔
” بولا اے رب ! میں بلاتا رہا اپنی قوم کو رات اور دن۔ پھر میرے بلانے سے اور زیادہ بھاگنے لگے اور میں نے جب کبھی ان کو بلایا ‘ تاکہ تو ان کو بخشے ‘ ڈالنے لگے انگلیاں اپنے کانوں میں اور لپیٹنے لگے اپنے اوپر کپڑے اور ضد کی اور غرور کیا ‘ بڑا غرور۔ پھر میں نے ان کو بلایا برملا ‘ پھر میں نے ان کو کھول کر کہا اور چھپ کر کہا چپکے سے۔ تو میں نے کہا گناہ بخشوائو اپنے رب سے ‘ بیشک وہ بخشنے والا ہے “ (نوح : 5-10)
لیکن نوح (علیہ السلام) کے ہمدردی میں ڈوبے ہوئے یہ الفاظ بھی ان کی قوم کو راہ راست پر نہ لاسکے۔ وہ مسلسل اپنے عناد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہے جب آپ نے اپنی ساڑھے نو سو سال کی پیہم دعوت و تبلیغ کا ان پر کوئی اثر نہ دیکھا تو سخت ملول و پریشان خاطر ہوئے تب پروردگار نے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا :
وَاُوْحِیَ اِلٰی نُوْحٍ اَنَّہٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِکَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ ۔ (ہود : 36)
” اور نوح پر وحی کی گئی کہ جو ایمان لے آئے ‘ وہ لے آئے۔ اب ان میں سے کوئی ایمان لانے والا نہیں ہے۔ پس ان کی حرکات پر غم نہ کر “۔
جب حضرت نوح (علیہ السلام) کو یہ معلوم ہوگیا کہ ان کے ابلاغ حق میں کوتاہی نہیں ہے بلکہ خود نہ ماننے والوں کی استعداد کا قصور ہے اور ان کی اپنی سرکشی کا نتیجہ ‘ تب ان کے اعمال اور کمینہ حرکات سے متأثر ہو کر اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں یہ دعا فرمائی :
رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا۔ اِنَّکَ اِنْ تَذَرْھُمْ یُضِلُّوْاعَبَادَکَ وَلَا یَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا کَفَّارًا۔ (نوح : 27)
” اے پروردگار ! تو کافروں میں سے کسی کو بھی زمین پر باقی نہ چھوڑ۔ اگر تو ان کو یونہی چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو بھی گمراہ کریں گے اور ان کی نسل بھی انہی کی طرح نافرمان پیدا ہوگی “۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی اور اپنے قانونِ جزائِ اعمال کے مطابق سرکشوں کی سرکشی اور متمردوں کے تمرد کی سزا کا اعلان کردیا اور حفظ ماتقدم کے لیے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ہدایت فرمائی کہ وہ ایک کشتی تیار کریں ‘ تاکہ اسباب ظاہری کے اعتبار سے وہ اور مومنین قانتین اس عذاب سے محفوظ رہیں۔ جو خدا کے نافرمانوں پر نازل ہونے والا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جب حکم رب میں کشتی بنانی شروع کی تو کفار نے ہنسی اڑانا اور مذاق بنانا شروع کردیا اور جب کبھی ان کا ادھر سے گزر ہوتا تو کہتے کہ خوب ! جب ہم غرق ہونے لگیں گے تب تو اور تیرے پیرو اس کشتی میں محفوظ رہ کر نجات پاجائیں گے ‘ کیسا احمقانہ خیال ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) بھی ان کی انجام کار سے غفلت اور اللہ کی نافرمانی پر جرأت دیکھ کر ان ہی کے طرز پر جواب دیتے اور اپنے کام میں مشغول رہتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی ان کو حقیقت حال سے آگاہ کردیا تھا۔
وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ج اِنَّھُمْ مُّغْرَقُوْنَ ۔
”(اے نوح ! ) تو ہماری حفاظت میں ہماری وحی کے مطابق سفینہ تیار کیے جا اور اب مجھ سے ان کے متعلق کچھ نہ کہو ‘ یہ بلاشبہ غرق ہونے والے ہیں “ (ھود : 37)
آخر سفینہ نوح (علیہ السلام) بن کر تیار ہوگیا۔ اب اللہ کے وعدہ عذاب کا وقت قریب آیا اور حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس پہلی علامت کو دیکھا جس کا ذکر ان سے کیا گیا تھا ‘ یعنی زمین کی تہہ میں سے پانی کا چشمہ ابلنا شروع ہوگیا۔ تب وحی الٰہی نے ان کو حکم سنایا کہ کشتی میں اپنے خاندان کو بیٹھنے کا حکم دو اور تمام جانداروں میں سے ہر ایک کا ایک جوڑا بھی کشتی میں پناہ گیر ہو اور وہ مختصر جماعت (تقریباً اسی 80 نفر) بھی جو تجھ پر ایمان لا چکی ہے کشتی میں سوار ہوجائے۔ جب وحی الٰہی کی تعمیل پوری ہوگئی تو اب آسمان کو حکم ہوا کہ پانی برسنا شروع ہو اور زمین کے چشموں کو امر کیا گیا کہ وہ پوری طرح ابل پڑیں۔
اللہ کے حکم سے جب یہ سب کچھ ہوتا رہا تو کشتی بھی اس کی حفاظت میں پانی پر ایک مدت تک محفوظ تیرتی رہی تاآنکہ تمام منکرین و معاندین غرق آب ہوگئے اور خدائے تعالیٰ کے قانون ” جزائِ اعمال “ کے مطابق اپنے کیفر کردار کو پہنچ گئے۔
قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کا یہ عذاب اللہ کی حکمت اور مصلحت کے مطابق جب اپنے اختتام کو پہنچا تو سفینہ نوح ” جودی “ پہاڑ پر جا ٹھہرا۔ تورات میں ” جودی “ کو ” اراراط “ کے پہاڑوں میں سے بتایا گیا ہے۔ اراراط، درحقیقت جزیرہ کا نام ہے یعنی اس علاقے کا نام جو فرات اور دجلہ کے درمیان ” دیار بکر “ سے بغداد تک مسلسل چلا گیا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون کے مطابق کفار کی جڑ کاٹ کے رکھ دی اور حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ پر ایمان لانے والوں کو محض اپنی رحمت سے نجات عطا فرمائی اور پھر انہی کی نسل سے سلسلہ نوع انسانی آگے بڑھا۔ آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ ” بیشک یہ لوگ اندھے تھے “۔ یہاں اندھا ہونے سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ نور بصارت سے محروم تھے یعنی ان کی آنکھیں بینائی سے خالی تھیں اور وہ دیکھنے سے عاجز ہوگئے تھے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ دل کے اندھے اور نور بصیرت سے محروم تھے اور یہ وہ اندھا پن ہے جو انسان کی گمراہی کا باعث بنتا ہے۔ آنکھوں کا اندھا ہونا اس کا ہدایت اور ضلالت سے کوئی تعلق نہیں۔ آنکھوں والے ہدایت سے محروم رہتے ہیں اندھے ہدایت پاکرعبد اللہ ابن ام مکتوم بن جاتے ہیں۔ اس لیے قرآن کریم نے ارشاد فرمایا :
فَاِنَّہَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ ۔ (الحج : 46)
” آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں ‘ بلکہ سینوں میں دل اندھے ہوتے ہیں “۔
اقبال نے اسی کی روشنی میں نصیحت کرتے ہوئے کہا ؎
دل کا نور کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں