7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsروح القرآن

Ayah 7:187

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

وہ تم سے قیامت کے بارے میں سوال کر رہے ہیں کہ کب ہے اس کے قائم ہونے کا وقت کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو بس میرے رب ہی کے پاس ہے وہی اس کے وقت پر اس کو ظاہر کرے گا بوجھل ہیں اس سے آسمان اور زمین وہ تم پر بس اچانک ہی آدھمکے گی وہ تم سے پوچھتے ہیں گویا اس کی تحقیق میں لگے ہوئے ہو۔ کہہ دو ! اس کا علم تو بس اللہ کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔

ارشاد ہوتا ہے : یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرْسٰھَا قُلْ اِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ رَبِِّیْج لَا یُجَلِّیْھَا لِوَقْتِھَآ اِلَّا ھُوَط م ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط لَا تَاْتِیْکُمْ اِلَّا بَغْتَۃًط یَسْئَلُوْنَکَ کَاَنَّکَ حَفِیٌّ عَنْھَاط قُلْ اِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ اللّٰہِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَا النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ۔ (الاعراف : 187) ” وہ تم سے قیامت کے بارے میں سوال کر رہے ہیں کہ کب ہے اس کے قائم ہونے کا وقت کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو بس میرے رب ہی کے پاس ہے وہی اس کے وقت پر اس کو ظاہر کرے گا بوجھل ہیں اس سے آسمان اور زمین وہ تم پر بس اچانک ہی آدھمکے گی وہ تم سے پوچھتے ہیں گویا اس کی تحقیق میں لگے ہوئے ہو۔ کہہ دو ! اس کا علم تو بس اللہ کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے “۔ ایک سوال اور اس کا جواب اسلامی تعلیمات کا تمام تر دارومدار تین بنیادی عقائد پر ہے توحید، رسالت، آخرت۔ مکی سورتوں میں خاص طور پر عقائد پر زور دیا جاتا ہے لیکن پیغمبر جب دیکھتا ہے کہ اس کی قوم سنجیدگی سے اللہ کے دین کی دعوت پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں تو پھر وہ کبھی انھیں اس انجام سے ڈراتا ہے جس انجام سے قوم عاد وثمود جیسی معذب قومیں دو چار ہوئیں اور کبھی قیامت کی ہولناکیوں کو ان کے سامنے ذکر کرتا ہے وہ انھیں بار بار سمجھاتا ہے کہ تمہاری زندگی کا ایک مقصد ہے اور تم اس مقصد کے حوالے سے اللہ کے سامنے جواب دہ ہو یہ زندگی ہمیشہ رہنے کی نہیں ایک دن ایسا آئے گا جب سب کو قبروں سے اٹھا کر اللہ کی بارگاہ میں جوابدہی کے لیے پہنچا دیا جائے گا اس دن ہر نیک عمل کا اجر ملے گا اور ہر برائی کی سزا ملے گی تم نے اگر اس دن کی جوابدہی کے لیے آج تیاری نہ کی تو سوچ لو کل کو اللہ کے سامنے کیا جواب دے سکو گے۔ جوابدہی کا احساس ہی انسان کو بدلنے پر مجبور کرسکتا ہے اس لیے پیغمبر سب سے زیادہ زور اسی بات پر دیتا ہے۔ کبھی انھیں موت کی یاد دلاتا ہے، کبھی برزخی زندگی کا حوالہ دیتا ہے، کبھی قیامت کے احوال کو ذکر کرتا ہے، کبھی میزان عمل کے حوالے سے ایک ایک عمل کی طرف توجہ دلاتا ہے، مقصود ان سب باتوں سے یہ ہوتا ہے کہ اس کے مخاطب اپنی زندگی کے رویے پر غور کرنے کے لیے تیا رہو جائیں۔ چناچہ آنحضرت ﷺ بھی قیامت اور آخرت پر سب سے زیادہ زور دیتے تھے اور بار بار لوگوں کو تنبہ فرماتے تھے کہ لوگو ! موت سر پر تلی کھڑی ہے اور موت کے ساتھ ہی تمہاری مہلت عمل اپنی انتہاء کو پہنچ جائے گی اب اس کے بعد تمہارے پاس ایمان و عمل کے لیے کوئی موقع نہیں ہوگا اس لیے خدا کے لیے ابھی سے اپنی زندگی کو بدلنے کا آغاز کرو نہ جانے کل کا دن تم لوگ دیکھ سکو گے کہ نہیں۔ تمہارا ایک ایک سانس تمہاری زندگی ختم کرتا جا رہا ہے کچھ خبر نہیں کہ کب آخری سانس لینے پر مجبور ہوجاؤ دنیا کی ہر چیز کو ختم ہونے کے لیے ایک وقت لگتا ہے لیکن انسانی زندگی کے ختم ہونے میں تو کوئی وقت نہیں لگتا پانی کا بلبلا ٹوٹتے بھی ایک وقت لیتا ہے لیکن سانس کے رکنے کی تو خبر بھی نہیں ہوتی۔ امام فخر الدین رازی (رح) نے لکھا ہے کہ میں ایک دن بازار سے گزر رہا تھا ایک برف بیچنے والا شور مچا رہا تھا کہ لوگو ! رحم کھائو اس شخص پر جس کا سرمایہ گھلتا جا رہا ہے، اگر تم نے یہ برف خرید لی تو میرے دام کھرے ہوجائیں گے اور نہیں خریدو گے تو برف کا یہ بلاک گھل گھل کر ختم ہوجائے گا۔ امام صاحب کہتے ہیں کہ میں سوچ میں پڑگیا کہ برف کا بلاک تو گھلتے گھلتے وقت لے گا اور اسے اس کے گھل جانے کی فکر کھائے جا رہی ہے اور عمر کے اس سرمایہ کے گھل جانے کی تو کوئی مدت نہیں ہر روز اس کا ایک دن کم ہوجاتا ہے۔ لیکن کب یہ ختم ہو کر رہ جائے اس کا کھٹکا تو ہر وقت لگا رہتا ہے لیکن ہم منٹوں، سیکنڈوں کو گزرتے دیکھ کر بھی کبھی اس پریشانی میں مبتلا نہیں ہوتے کہ میرا سرمایہ گھلتا جا رہا ہے۔ اگر اچانک اس کے خاتمہ کی فکر نہ بھی ہو تو اس کا ہر منٹ کے ساتھ کم ہونا تو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ کاش ! ہمیں اس کی ہی فکر ہوتی۔ پیغمبر یہی فکر پیدا کرنے کے لیے دنیا میں تشریف لاتے ہیں وہ بار بار اس طرف توجہ دلاتے ہیں ؎ ہو رہی ہے عمر مثل برف کم رفتہ رفتہ لحظہ لحظہ دم بہ دم سانس ہے اک رہرو ملک عدم دفعتاً اک روز یہ جائے گا تھم ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے کرلو جو کرنا ہے آخر موت ہے مشرکینِ مکہ بجائے اس کے کہ آنحضرت ﷺ کی قیامت کی بار بار یاددہانی کے نتیجہ میں اپنے انجام کے بارے میں فکر مند ہوتے انھوں نے اسے بھی ایک مذاق بنا لیا۔ قیامت کے تذکرہ سے مقصود تو یہ تھا کہ ہر آدمی کو اس بات کی فکر ہوتی کہ قیامت جب بھی آئے میرے لیے تو عمر کی ایک متعین مدت ہے جب وہ مدت ختم ہوگئی تو میری قیامت تو آگئی کیونکہ اس کے بعد مجھے مزید کوئی عمل کرنے یا اپنی زندگی کی اصلاح کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ قبر میں بھی کیسی ہی لمبی انتظار کروں عمل سے تو بہرحال محروم رہوں گا۔ فیصلہ کن جگہ تو بہر حال قیامت کا محشر ہے۔ مجھے جو بھی وقت ملا ہے مجھے اس کی تیاری کرنی چاہیے۔ مجھے اس بات سے تعرض نہیں ہونا چاہیے کہ قیامت کے آنے کا وقت کیا ہے وہ جب بھی آئے مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن مشرکین مکہ نے اصل مقصد کو نظر انداز کر کے اس بات کو موضوعِ سخن بنا لیا کہ جس قیامت کے آنے کا آپ بار بار تذکرہ کرتے ہیں اگر اس کا آنا ایسا ہی یقینی ہے تو معلوم تو ہونا چاہیے کہ وہ کب آئے گی اور پھر یہ سوالات کوئی تحقیق کے لیے نہیں بلکہ تمسخر اڑانے کے لیے تھے خود ” اَیَّانَ “ کا لفظ ہی بتارہا ہے کہ ان کے سوال کرنے کا انداز کیا تھا کیونکہ ایان محض وقت سے متعلق سوال کے لیے نہیں آتا بلکہ یہ ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے جب کسی چیز سے متعلق استغراب اور استنکار مقصود ہوتا ہے پھر اس سوال کے بعد مرسٰھا کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مرسیٰجہاز وغیرہ کے لنگر انداز ہونے کو کہتے ہیں وہ مذاق اڑاتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ آپ جو بار بار قیامت کے آنے کی خبر دے رہے ہیں معلوم تو ہو کہ یہ جہاز آخر کہاں رک گیا ہے ؟ اگر کہیں سے روانہ ہوا تھا تو کہیں اٹک کیوں گیا ہے ؟ اس ساحل پر کب لنگر انداز ہوگا ؟ آپ نے پروردگار کے حکم سے نہایت سنجیدگی سے اس کا جواب دیا کہ قیامت کے آنے کا وقت کیا ہے، میں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ اس کا علم تو صرف میرے رب کے پاس ہے، میں تو تمہیں اس کے آنے کی یقینی خبر دے رہا ہوں اور یہ یقین تمہارے اندر پیدا کرنا چاہتا ہوں کہ قیامت جب بھی آئے وہ یقینا آئے گی وہ آج بھی آسکتی ہے اور صدیوں بعد بھی۔ تمہارا کام اس کے وقت کا کھوج لگانا نہیں بلکہ اس کی تیاری کرنا ہے لیکن وہ بار بار آپ سے وقت ہی کے بارے میں استفسار کرتے تھے اور اس طرح پلٹ پلٹ کر پوچھتے تھے جیسے آنحضرت ﷺ کو اس کے سوا کوئی کام نہیں کہ وہ قیامت کی کھوج، کرید اور جستجو میں لگے رہیں۔ اس لیے دو دفعہ اس بات کو دہرایا گیا کہ تم اصل حقیقت کو جاننے اور میری حیثیت پہچاننے کی کوشش کرو۔ اصل حقیقت صرف یہ ہے کہ تمہارے لیے جوابدہی کا ایک دن مقرر کردیا گیا ہے وہ جب بھی آئے تمہیں اس سے یقینا سابقہ پڑے گا اور میری حیثیت یہ ہے کہ میں تمہیں ان صداقتوں سے آگاہ کروں جنھیں اللہ نے مجھ پر نازل کیا ہے اور اپنے قول و عمل سے تمہارے اندر یقین کی قوت پیدا کرنے کی کوشش کروں اور اس خطرے سے تمہیں آگاہ کروں کہ تم قیامت کے وقت کی کھوج کرید میں لگے ہوئے ہو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ جب آئے گی تو اس کا آنا اس قدر اچانک ہوگا کہ کوئی اپنے آپ کو بچانے کی تدبیر نہ کرسکے گا۔ حضرت ابوہریرہ ( رض) سے بخاری اور مسلم میں ایک حدیث منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قیامت کے دفعتاً اور اچانک آنے کے متعلق فرمایا کہ لوگ اپنے اپنے کاروبار میں ابھی معاملہ طے نہ کر پائیں گے کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ دوھ کر ابھی استعمال نہ کر پائے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ کوئی شخص کھانے کا لقمہ ہاتھ میں اٹھائے گا ابھی منہ تک نہ پہنچے گا کہ قیامت برپا ہوجائے گی۔ اس لیے وقت کے تعین کی بجائے اس بات کی فکر کرو کہ جس قیامت کا آنا اس قدر اچانک ہے اس کی تیاری کے لیے کوئی لمحہ ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ مزید اس آیت میں اس دن کی ہولناکی، اہمیت اور عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ حادثہ قیامت آسمانوں اور زمین پر بہت بھاری ہوگا کیونکہ آسمانوں اور زمینوں کے ٹکڑے ہوجائیں گے، پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے، ہر چیز موت کا شکار ہوجائے گی۔ لیکن بعض اہل علم نے اس کی وضاحت ایک دوسرے انداز میں کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے بوجھل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ گھڑی آسمان اور زمین میں ایک بوجھ بنی ہوئی ہے اس میں اس حقیقت کی طرف ایک تلمیح ہے کہ جس طرح ایک حاملہ عورت، ولادت کے قریب بار حمل سے گرانبار ہوتی ہے، اگرچہ یہ کوئی نہیں جانتا کہ ولادت کا صحیح وقت کیا ہے لیکن ہر آنکھیں رکھنے والا دیکھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ یہ عورت جنے گی اور بہت جلد جنے گی وہی حال قیامت اور عذاب کے معاملے میں آسمان و زمین میں غور کرنے والے اربابِ بصیرت کا ہے۔ وہ آسمانوں اور زمین کو اس بوجھ سے گرانبار دیکھتے ہیں اور اگرچہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اس بوجھ سے کب سبکدوش ہوں گے لیکن جس طرح ایک حاملہ اپنے آخری مرحلہ میں اپنے بوجھ سے سبکدوش ہونے کے لیے منتظر اور بےقرار ہوتی ہے، وہی بےقراری آسمان و زمین کے اندر نمایاں ہے۔ اس میں اس بات کی طرف ایک لطیف اشارہ بھی ہے کہ جن لوگوں کو آسمان و زمین کے اندر قیامت اور عذاب کی نشانیاں نظر نہیں آرہی ہیں ان کو گویا آخری مرحلہ میں پہنچی ہوئی حاملہ کا حمل نظر نہیں آرہا ہے۔ لَا تَاْتِیْکُمْ اِلَّا بَغْتَۃًیعنی اس کے علامات و آثار دیکھو اور نہی کو دیکھ کر اس کے آنے کا یقین کرو اور اس کے لیے تیاری کرو، اس کا ظہور جب بھی ہوگا، اچانک ہوگا، اس کے صحیح وقت کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا لیکن اس کے وقت کے نہ جاننے سے اس کے واقع ہونے کی نفی نہیں ہوجاتی۔ ایک حاملہ کے متعلق ہر شخص یقین رکھتا ہے کہ وہ جنے گی اگرچہ یہ نہیں جانتا کہ وہ کس وقت جنے گی۔ اس رکوع کی گزشتہ آیات کے مفاہیم کا خلاصہ اس رکوع کی گزشتہ آیات پر اگر ایک اجتماعی نظر ڈالیں تو سب سے پہلے جو چیز نمایاں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ قوموں میں عقائد کا بگاڑ اور پیغمبر کی دعوت کو قبول نہ کرنا بلکہ شریعت اور دین کے حوالے سے الجھتے چلے جانا اس کا سب سے بڑا سبب اللہ کے نبی کی حیثیت کو نہ سمجھنا ہے اس لیے ان آیات میں مختلف پہلوئوں سے قوموں کی اس فکری گمراہی کا ازالہ کرنے کی سعی بلیغ کی گئی ہے۔ سب سے پہلی آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ پیغمبر کی دعوت کو قبول کرنے کا نتیجہ پیغمبر کی خبر کے مطا بق ہمیشہ سرافرازی رہا ہے اور اس کو رد کردینے کا نتیجہ تباہی اور بربادی کے سوا کبھی کچھ نہیں ہوا لیکن تم جو پیغمبر کی دعوت کو رد کرنے والوں کو خوشحال اور بظاہر سر افراز دیکھتے ہو یہ حقیقت میں وہ استدراج ہے جس میں پیغمبر کی دعوت کو قبول نہ کرنے والے مبتلا کر دئیے گئے ہیں وہ خود بھی فریب نظر کا شکار ہیں اور تم بھی اس کی حقیقت سمجھنے میں کوتاہی کر رہے ہو۔ دوسری آیت کریمہ میں مشرکین مکہ کو اس حقیقت سے آگاہ کیا گیا ہے کہ تم پیغمبر پر جنون کا الزام دھرتے ہو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ تم پیغمبر کی حقیقت کو نہیں سمجھتے وہ انسان کے ساتھ گہری ہمدردی اور اللہ کی طرف سے ہونے والے فیصلوں پر بےپناہ یقین اور دعوت کے نتائج سے پوری طرح آگاہی کے باعث جس دل سوزی ‘ جانکاہی اور غم گساری کا ثبوت دے رہے ہیں تم انھیں اللہ کی نعمت اور پیغمبر کا احسان سمجھنے کی بجائے جنون سمجھ رہے ہو تمہاری حیثیت بگڑے ہوئے بچوں سے مختلف نہیں جو ماں اور باپ کو اپنے بگاڑ پر روتے ہوئے دیکھ کر ان کے رونے کا سبب جاننے کی بجائے انھیں دیوانہ قرار دینے لگتے ہیں۔ تیسری آیت میں اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ پیغمبر کی بات تمہیں اس لیے بھی جنون کا نتیجہ دکھائی دیتی ہے کہ وہ جن حقائق کو حقیقتِ ثابتہ کے طور پر تمہارے سامنے نمایاں کرتا ہے تم جہالت اور خواہشاتِ نفس کے غلبہ کے سبب انکا ادراک کرنے سے عاجز رہ جاتے ہو حالانکہ وہ پیش پا افتادہ حقیقتیں ہیں لیکن کوئی حقیقت بھی غور و فکر کے بغیر تو قوت ادراک میں نہیں آتی اور تم اپنی بدنصیبی سے غور و فکر سے محروم ہوچکے ہو اسکا نتیجہ یہ ہے کہ پیغمبر کی اصل پہچان اسکی دعوت اور اسکی تعلیمات ہی ہوتی ہیں اور تم انھیں کو نظر انداز کر کے پیغمبر کی حقیقی شناخت سے بےبہرہ رہ جاتے ہو اور اس بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ ان حقائق کو اگر تم نے اب بھی سمجھ کر زندگی بدلنے کی کوشش نہ کی تو پھر وہ موقع کب آئے گا جب تم راہ راست اختیار کرسکو گے۔ چوتھی آیت میں نہایت حسرت کے انداز میں ایک طرح سے وارننگ دیتے ہوئے فرمایا کہ تم اپنی کرتوتوں سے اللہ کے قانون کی گرفت میں آتے جا رہے ہو اگر ایسا ہوگیا تو پھر تمہاری بدقسمتی اور گمراہی کا علاج کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔ پانچویں آیت کریمہ میں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ کے نبی کی حقیقی معرفت نہ ہونے کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ تمہاری اصلاح کے لیے جو بنیادی تصورات پیش کر رہا ہے جس میں ایک اہم تر تصور قیامت کا واقع ہونا ہے تم اسے سمجھنے اور یقین کرنے کی بجائے اس بحث میں الجھ گئے ہو کہ ہمیں قیامت کے آنے کا وقت بتایا جائے حالانکہ پیغمبر تم میں یہ فکر پیدا کرنا چاہتا ہے کہ قیامت آئے گی اور تمہیں اپنے ایک ایک عمل کا جواب دینا پڑے گا اب بجائے اسکے کہ تم اس فکری مندی کے باعث اپنے اعمال کے اصلاح کی فکر کرو تم اسے بالکل نظر انداز کر کے اس بحث کے درپے ہو کہ وہ قیامت کب آئے گی اور اس کا ٹھیک وقت کیا ہوگا جو اصل مقصود سے بالکل غیرتعلق بحث ہے اور یہ نتیجہ ہے صرف اس بات کا کہ تم پیغمبر کی اصل حیثیت کو سمجھنے سے عاجز ہو۔ چھٹی آیت میں پیغمبر کی شناخت اور معرفت کے حوالے سے مشرکینِ مکہ جو کو تاہیاں کر رہے تھے انھیں میں سے مزید دو باتوں کا ذکر فرمایا ہے۔
Ayah 7:188

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! انھیں) بتلائیے کہ میں مالک نہیں اپنی جان کے بھلے اور برے کا، مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں جان لیا کرتا غیب کی بات تو بہت کچھ بھلائیاں حاصل کرلیتا اور مجھ کو برائی کبھی نہ پہنچتی میں تو بس ڈرانے والا ہوں (انکار کرنے والوں کو) اور خوشخبری سنانے والا ہوں ایمان لانے والوں کو۔

ارشاد ہوتا ہے۔ قُلْ لَّآ اَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَاشَآئَ اللّٰہُ ط وَلَوْ کُنْتُ اَعَلَمُ الْغَیٰبِ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِج صلے وَمَا مَسَّنِیَ السُّوْٓئُ ج اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّبَشِیْرٌ لِّقَوْمِ یُّؤْمِنُوْنَ ۔ (الاعراف : 188) ”(اے پیغمبر ! انھیں) بتلائیے کہ میں مالک نہیں اپنی جان کے بھلے اور برے کا، مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں جان لیا کرتا غیب کی بات تو بہت کچھ بھلائیاں حاصل کرلیتا اور مجھ کو برائی کبھی نہ پہنچتی میں تو بس ڈرانے والا ہوں (انکار کرنے والوں کو) اور خوشخبری سنانے والا ہوں ایمان لانے والوں کو “۔ پیغمبر کی شناخت کے ضمن بعض گمراہیوں کی اصلاح جب بھی کوئی پیغمبر کسی قوم کی طرف مبعوث ہوتا ہے یا اللہ کا کوئی نیک بندہ کسی قوم کی اصلاح کے لیے اٹھتا ہے تو حیرت کی بات ہے کہ افرادِ قوم اس کی ہدایت اور اصلاح قبول کرنے کے لیے تو کم کم آتے ہیں البتہ بیشتر آنے والوں کا تعلق دو ہی حوالوں سے ہوتا ہے۔ کبھی تو وہ آنے والے حالات یا قسمت کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ میں کاروبار کر رہا ہوں مجھے بتائیے کہ میرا کاروبار کیسا رہے گا ؟ بچوں کی شادیاں کرنی ہیں فلاں فلاں رشتے ان کے لیے کیسے رہیں گے ؟ اللہ انھیں بیٹا دے گا یا بیٹی دے گا ؟ مستقبل میں فلاں فلاں معاملے کے حوالے سے میرے ساتھ کیا ہوگا ؟ اور یا پھر اس طرح کے مطالبات لے کر آئیں گے کہ آپ کوئی ایسا تعویذ دے دیں جس سے مجھے فلاں ملازمت مل جائے، میرے گھر میں دولت کی ریل پیل ہوجائے، میں فلاں فلاں نقصان سے بچ جاؤں، فلاں منصب اور عہدہ مجھے مل جائے، میں حکومت میں شامل کرلیا جاؤں یعنی نفع و ضرر کے حوالے سے مختلف قسم کے مطالبات کیے جائیں گے اور یہ سمجھا جائے گا کہ جسے اللہ نے نبی بنایا ہے یا جسے ہم ولی سمجھتے ہیں وہ تمام امور غیبیہ سے واقف ہوتے ہیں، ماضی اور مستقبل کی ایک ایک بات ان کے سامنے روشن ہوتی ہے اور نفع و ضرر کے حوالے سے بھی وہ کلی اختیارات کے مالک ہیں، جسے جو چاہیں دے دیں اور جو چاہیں چھین لیں۔ اس آیت کریمہ میں اس بنیادی گمراہی پر توجہ دلاتے ہوئے پیغمبر کی اصل حیثیت کا اعلان خود پیغمبر سے کروایا گیا ہے کہ علم غیب اور تمام کائنات کے ذرہ ذرہ کا علم محیط صرف اللہ کی مخصوص صفت ہے اس میں کسی مخلوق کو شریک ٹھہرانا خواہ وہ فرشتہ ہو یا نبی شرک اور ظلم عظیم ہے۔ اسی طرح ہر نفع اور نقصان کا مالک ہونا صرف اللہ تعالیٰ ہی کی صفت خاص ہے اس میں کسی کو شریک ٹھہرانا بھی شرک ہے اسی حوالے سے اس آیت کریمہ میں آپ سے یہ اعلان کروایا جا رہا ہے کہ میں اپنی ذات کے لیے نفع نقصان کا مالک نہیں ہوں تو دوسروں کے لیے نفع نقصان کا مالک کیسے ہوسکتا ہوں ؟ اسی طرح میں عالم الغیب نہیں ہوں کہ ہر چیز کا علم ہونا میرے لیے ضروری ہے، اگر مجھے علم غیب ہوتا تو میں ہر نفع کی چیز کو ضرور حاصل کرلیا کرتا اور کوئی نفع میرے ہاتھ سے فوت نہ ہوتا اور ہر نقصان کی چیز سے ہمیشہ محفوظ رہتا اور کبھی کوئی نقصان مجھے نہ پہنچتا حالانکہ یہ دونوں باتیں نہیں ہیں بہت سے کام ایسے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو حاصل کرنا چاہا مگر حاصل نہیں ہوئے اور بہت سی تکلیفیں ایسی ہیں جن سے آنحضرت ﷺ نے بچنے کا ارادہ کیا مگر وہ تکلیف پھر بھی آپ کو پہنچ گئی۔ تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ آپ صحابہ کرام ( رض) کے ساتھ احرام باندھ کر عمرہ کا ارادہ کر کے حدود حرم تک پہنچ گئے مگر حرم میں داخلہ اور عمرہ کی ادائیگی ممکن نہ ہوسکی۔ قریش اڑ گئے جس کے نتیجے میں معاہدہ حدیبیہ وجود میں آیا آپ عمرہ کیے بغیر واپس لوٹ گئے اور آئندہ سال آ کر عمرہ کی قضاء کی۔ غزوہ احد میں شکست کا زخم اٹھانا پڑا خود آنحضرت ﷺ زخمی ہوئے حتی کہ کافروں کی کھودی ہوئی ایک کھائی میں گرگئے اگر ہر چیز کے آپ جاننے والے ہوتے تو اس طرح کے واقعات کا صدور آپ کے حوالے سے کبھی نہ ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے واقعات کے ظاہر کرنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ لوگوں پر یہ بات واضح ہوجائے کہ انبیاء (علیہم السلام) اگرچہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ مقبول اور افضل ہوتے ہیں مگر پھر بھی وہ خدائی علم وقدرت کے مالک نہیں ہوتے تاکہ لوگ اس غلط فہمی کا شکار نہ ہوجائیں جس میں یہود اور نصرانی مبتلا ہوئے کہ اپنے رسولوں کو خدائی صفات کا مالک سمجھ بیٹھے اور شرک میں مبتلا ہوگئے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ علم کا جو حصہ انبیاء کرام کو دیا جاتا ہے وہ ساری مخلوقات سے بڑھ کر ہوتا ہے خصوصاً ہمارے رسول کریم ﷺ کو تو اولین اور آخرین کا علم عطا فرمایا گیا یعنی تمام انبیاء (علیہم السلام) کو جتنا علم دیا گیا وہ سب اور اس سے بھی زیادہ آپ کو عطا فرمایا گیا اور اسی عطا شدہ علم کے مطابق آپ نے ہزاروں غیب کی باتوں کی خبریں دیں جن کی سچائی کا ہر خاص و عام نے مشاہدہ کیا۔ آپ نے آنے والے مختلف فتنوں سے ہمیں آگاہ کیا، ماضی کے ایسے واقعات کی خبر دی جس سے تاریخ بالکل بیخبر تھی۔ بعض واقعات کے نتائج سے اس طرح آگاہ فرمایا جو بظاہر اسباب بالکل ناممکن دکھائی دیتے تھے بعض دفعہ قبروں کے احوال کو واضح فرمایا، جانوروں نے آپ سے سرگوشیاں کیں، آپ نے لوگوں کو بتایا کہ وہ کیا کہتے ہیں ؟ ان باتوں کی وجہ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ہزاروں غیب کی چیزوں کا علم عطا کیا گیا تھا مگر اس کو اصطلاحِ قرآن میں علم غیب نہیں کہتے کیونکہ آپ نے جو کچھ کہا اور جو خبر دی وہ اللہ کے بتلانے سے دی اور عالم الغیب وہ ہوتا ہے جس کو کوئی بتلانے والانہ ہو اس کا علم ذاتی علم ہو اور وہ علم محیط کا مالک ہو یعنی علم کے حوالے سے کوئی چیز اس سے مخفی نہ ہو۔ چناچہ ان باتوں کی وضاحت کے بعد آخری آیت میں اپنی اصل حیثیت اور فریضہ منصبی کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تو نذیر اور بشیر بن کر آیا ہوں اور میری اصل حیثیت یہ ہے کہ جو میری دعوت کو قبول کرنے سے انکار کرے میں ان کے برے انجام اور اللہ کے عذاب سے انھیں خبردار کروں اور جو مجھ پر ایمان لائیں اور راست باز زندگی اختیار کریں انھیں میں دنیوی سر افرازیوں اور آخرت میں سرخروئی کی بشارت دوں۔
Ayahs 7:189–192

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ وہ اس سے تسکین پائے جب مرد عورت کو ڈھانک لیتا ہے تو وہ اٹھالیتی ہے ایک ہلکا ساحمل پھر وہ اس کو لیے چلتی پھرتی رہتی ہے پھر جب وہ بوجھل ہوجاتی ہے تو دونوں اللہ (یعنی اپنے رب سے) دعا کرتے ہیں کہ اگر تو نے ہمیں تندرست اولاد بخشی تو ہم تیرے شکر گزاروں میں سے ہوں گے

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

تو جب اللہ ان کو صحیح سالم اولاد دے دیتا ہے تو وہ اس کی بخشی ہوئی چیز میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگتے ہیں اللہ برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیا وہ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہراتے ہیں ؟ جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

نہ وہ ان کی کسی قسم کی مدد کرسکتی ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتی ہیں۔

گمراہی کے دوسبب : پیشِ نظر رکوع شروع کرنے سے پہلے دو باتیں ذہن نشین کرلینی چاہییں۔ 1 قومیں جن اسباب سے گمراہی کا شکار ہوتی ہیں ان میں کبھی تو یہ سبب ہوتا ہے کہ وہ پیغمبر کی حیثیت اور اس کے مقام کو نہ سمجھنے کے باعث اس پر ایمان لانے سے محروم رہتی ہیں اور اس سے وہ مطالبات کرتی چلی جاتی ہیں جن کا تعلق نبوت سے نہیں ہوتا اس لحاظ سے وہ نبوت اور الوہیت کو خلط ملط کردیتی ہیں۔ پیغمبر ان کے لیے اسوہ حسنہ بن کر آتا ہے اور وہ اسے الوہیت کے مقام پر فائز دیکھنا چاہتی ہیں۔ نتیجہ واضح ہے کہ یہ دونوں چیزیں چونکہ الگ الگ حقیقت رکھتی ہیں اس لیے دونوں کی پہچان کا دارومدار الگ الگ حقیقت کو سمجھنے پر ہے جب قومیں اس کے فہم سے عاجز رہتی ہیں تو وہ پیغمبر پر ایمان لانے سے محروم ہوجاتی ہیں اور کبھی گمراہی کا سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ پیغمبر کی دعوت کی حقانیت کو محسوس کرکے ایمان تو لے آتی ہیں لیکن ان کے بعد کی آنے والی نسلیں رفتہ رفتہ پیغمبر کے کمالات کو دیکھتے ہوئے پیغمبر کی حقیقی شناخت کو گم کرنے لگتی ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ پیغمبر پر ایمان رکھتے ہوئے بھی اس کی تعلیمات کو نظر انداز کرنے کے باعث اسے اللہ کی صفات میں شریک کرنے لگتی ہیں کبھی اللہ کی کسی صفت کو اس کی طرف منسوب کرتی ہیں اور کبھی کسی صفت کو۔ بالآخر وہ اسی گمراہی میں جاپڑتی ہیں جس سے اللہ کے نبی کی تعلیمات نے ان کو نکالا تھا ان دونوں صورتوں میں تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی پیغمبر کی شناخت اور نبوت کی حقیقت کے فہم میں خرابی پیداہوئی ہے تو بالآخر عقیدہ توحید کو نقصان پہنچا ہے اور یہ ہم جانتے ہیں کہ عقیدہ توحید دین کی بنیاد اور اہل دین کی معراج ہے۔ اسی لیے سورت کو ختم کرتے ہوئے گزشتہ رکوع میں نبوت کی ضروری صفات کا ذکر کیا گیا اور اب پیش نظر رکوع میں توحید کو دوبارہ دل و دماغ میں اتارنے کے لیے نہایت موثر انداز میں شرک کی تردید فرمائی گئی ہے۔ 2 قرآن کریم کی اکثر سورتوں میں قرآن کریم کا یہ اسلوب نظر آتا ہے کہ وہ جن مضامین پر پوری سورت میں زور دینا چاہتا ہے انھیں پورے شرح وبسط سے پوری سورت میں ایک تسلسل سے اس طرح بیان کرتا ہے جس طرح دریا اپنی روانی کے ساتھ بہتا ہے، وہ دریاہی کی طرح بحث کے ضمنی مضامین سمیٹتا چلا جاتا ہے۔ بحث کے آگے بڑھنے سے جو سوالات پیدا ہوتے یا اشتباہات سراٹھاتے ہیں ان کا بھی ساتھ ساتھ تدارک کرتا چلا جاتا ہے اور سورت کے آخر میں پہنچ کر بحث کے اصولی مضامین کو سمیٹ کر خلاصہ کی شکل میں بیان کرتا ہے تاکہ قرآن کریم کا قاری سورت کے آخر میں پہنچ کر ایک دفعہ پھر اس کے بنیادی مضامین کو ذہن میں تازہ کرلے اور یہ مضامین اس کے دل و دماغ میں راسخ ہوجائیں۔ اس سورت کا مرکزی موضوع عقیدہ توحید ہے اور اس عقیدے کو جیسا کہ عرض کیا گیا سب سے زیادہ نقصان حقیقت رسالت اور عقیدہ رسالت میں قصور فہم سے پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے پیش نظر رکوع میں دونوں بحثوں کو خلاصے کی صورت میں بحث کو سمیٹے ہوئے ازسرِ نو بیان فرمایا گیا ہے۔ پہلے عقیدہ توحید کے مختلف پہلوئوں کو واضح کیا گیا اور اس ضمن میں نہایت گہرائی سے شرک کی مختلف شکلوں کی تردید کی گئی اور اس کے بعد آنحضرت ﷺ سے خطاب فرماکر آپ کی ذمہ داریوں کا اس طرح ذکر فرمایا گیا جس سے مسلمانوں کو اپنی ذمہ دارریاں سمجھنے میں مدد ملی اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ نبوت اور رسالت کی حقیقت کیا ہوتی ہے ؟ اور نبی فی الحقیقت دنیا میں کیا فریضہ انجام دینے کے لیے آتا ہے ؟ اس رکوع کی پہلی آیت میں عقیدہ توحید کے بنیادی مقدمات کو بیان کرتے ہوئے عقیدہ توحید کے متضاد پہلو یعنی شرک کو واضح کرتے ہوئے مشرکین کی مذمت کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے : ھُوَالَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّجَعَلَ مِنْھَا زَوْجَھَا لِیَسْکُنَ اِلَیْھَا ج فَلَمَّا تَغَشّٰھَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِہٖ ج فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَااللّٰہَ رَبَّھُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ فَلَمَّا اٰتٰھُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَہٗ شُرَکَآئَ فِیْمَآ اٰتٰھُمَا ج فَتَعٰلٰی اللّٰہُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ اَیُشْرِکُوْنَ مَالَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ وَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَھُمْ نَصْرًا وَّلَا اَنْفُسَھُمْ یَنْصُرُوْنَ (الاعراف : 192، 189) وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ وہ اس سے تسکین پائے جب مرد عورت کو ڈھانک لیتا ہے تو وہ اٹھالیتی ہے ایک ہلکا ساحمل پھر وہ اس کو لیے چلتی پھرتی رہتی ہے پھر جب وہ بوجھل ہوجاتی ہے تو دونوں اللہ (یعنی اپنے رب سے) دعا کرتے ہیں کہ اگر تو نے ہمیں تندرست اولاد بخشی تو ہم تیرے شکر گزاروں میں سے ہوں گے تو جب اللہ ان کو صحیح سالم اولاد دے دیتا ہے تو وہ اس کی بخشی ہوئی چیز میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگتے ہیں اللہ برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں کیا وہ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہراتے ہیں ؟ جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ نہ وہ ان کی کسی قسم کی مدد کرسکتی ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتی ہیں۔ آیات میں بیان کردہ تین حقائق ان آیات میں مختلف باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں جن کو ہم ایک ترتیب سے ذکر کرتے ہیں۔ 1 مشرکینِ مکہ جس طرح اللہ کی ذات کے قائل تھے اسی طرح وہ اس کی بعض صفات کے بھی قائل تھے اس لیے سب سے پہلے ان کی تسلیم کردہ باتوں کا حوالہ دے کر انھیں بات سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے، انھیں یاد دلایا گیا ہے کہ تم اس بات کے قائل تو ہو کہ اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے تمہارے جدِامجد یعنی پہلے انسان حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ان کی تخلیق میں اللہ کے ساتھ کوئی اور شریک نہ تھا اور اسی طرح تم یہ بھی جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بیوی کو اپنی قدرت کاملہ سے انہی کی جنس سے پیدا فرمایا تھا اور ان کو پیدا کرنے میں بھی اللہ کے ساتھ کوئی اور شریک نہ تھا اور پھر اس دلیل کو مزید موثر بناتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ بھی تم جانتے ہو کہ اللہ نے جو پہلا انسانی جوڑا مرد اور عورت کی شکل میں پیدا کیا ان میں نہایت سازگاری رکھی جس میں دو باتیں معمولی غور و فکر سے بھی سامنے آتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ مرد و عورت کے جسمانی اعضاء ان کے جسم کی ترکیب اور ان کی جسمانی ساخت واضح طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کو الگ الگ ذمہ داریوں کے حوالے سے پیدا کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ دونوں کے احسا سات، دونوں کے طبعی خواص اور دونوں کی انفرادی کیفیات اور دونوں کی فعلی خصوصیات میں بھی بہت حد تک اختلاط بلکہ تضاد پایا جاتا ہے۔ بایں ہمہ ! یہ حیرت کی بات ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے سرمایہ تسکین، راحتِ جان ودل اور اولاد کی ذمہ داریوں کا بار اٹھانے کے لیے باہم دگر معاون و غمگسار ہیں۔ جس طرح مرد و عورت کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور بےمثال کمال تخلیق پر دلالت کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بےپایاں نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے اسی طرح مرد و عورت کو ایک دوسرے کے لیے ناگزیر بنادینا اور دنوں کو ایک دوسرے کے لیے یکجان اور دو قلب کردینا اور دونوں میں ایک دوسرے کے لیے شدید طلب بلکہ بےچینی پیدا کردینا یہ اللہ تعالیٰ کی شاید تخلیق سے بھی بڑی نعمت ہے اگر پروردگار دونوں میں انتہائی قرب کا تعلق اور انتہائی چاہت کا سامان اور ایک دوسرے کے لیے قربان ہونے کا ارمان پیدا نہ کرتا تو نہ نسل انسانی کا قافلہ آگے بڑھتا، نہ گھروں کی صورت میں آبادیاں وجود میں آتیں، نہ ہمسائیگی کے بڑھتے ہوئے تعلق سے معاشرے کی بنیاد پڑتی، نہ خاندان وجود میں آتے، نہ خاندانوں کے ملنے سے سیاسی نظام جنم لیتا اور نہ اجتماعی ضرورتوں کے وجود میں آنے سے تہذیب اور تمدن کی ضرورت پیش آتی اور نہ انسانوں کی نزاکتِ احساس کے انتقال سے ثقافت کو پیدا ہونے کا موقعہ ملتا۔ غرض یہ کہ انسانی زندگی کی تمام ہمہ ہمی اور معاشرتی زندگی کی تمام خوبصورتیاں اور معاشی زندگی کی تمام رونقیں اور تہذیبی زندگی کی تمام خوش اطواریاں اور تمدنی زندگی کے تمام برگ وبار کبھی وجود میں نہ آتے۔ اگر مرد اور عورت میں ایک دوسرے کے لیے یہ کشش اور تڑپ پیدا نہ کی جاتی جس نے ایک دوسرے کے لیے درد اور دوا کی صورت اختیار کرلی۔ چناچہ اپنے اس عظیم احسان کا ” لیسکن الیھا “ کے ساتھ ذکر فرماکر ان احسانات کی طرف اشارہ بھی کیا اور ساتھ ہی یہ بات بھی واضح فرمائی کہ تم یہ بھی مانتے ہو کہ جس طرح اللہ نے مرد و عورت کی تخلیق کی ہے اسی طرح یہ احسانات بھی اسی نے کیے ہیں اور دوسری یہ بات سامنے آتی ہے کہ مرد و عورت کا اس طرح تخلیق پانا اور پھر ان کے اندر ایک دوسرے کے لیے ایسے نازک جذبات کا وجود عطا ہونا اور پھر اس سلسلہ تخلیق میں کبھی کسی تبدیلی کا پیدا نہ ہونا کیا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ یہاں ایک ہی قادر مطلق ہے جس کا محکم ارادہ پوری کائنات میں تخلیق اور تدبیر سے کام لے رہا ہے اگر کوئی دوسرا ارادہ بھی یہاں ہوتا تو پھر یہ کائنات مختلف ارادوں کی آماجگاہ ہوتی اور یہاں کوئی بھی چیز اولا ً تو پیدا نہ ہوتی اور اگر پیدا ہوتی بھی تو اپنی خصوصیات کو باتی نہ رکھ سکتی۔ ” فلما تغشّٰھا “ سے ایک تیسری بات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ تم یہ بھی جانتے ہو کہ نسل انسانی کا سلسلہ مرد و عورت کی قوت سے قائم ہے۔ اللہ نے پہلے انسانی جوڑے کو تو بغیر سبب کے اپنی قدرت کاملہ سے پیدا فرمایا تھا اور تم اسے تسلیم کرتے ہو اسی طرح تم یہ بھی جانتے ہو کہ اس کے بعد نسل انسانی کا سلسلہ مرد و عورت کے باہمی تعلق سے وجود میں آیا اور آج تک چل رہا ہے۔ چناچہ جب کوئی مرد اپنی بیوی سے انتہائی قربت کا تعلق پیدا کرتا ہے تو اللہ کی قدرت کاملہ سے اس کی بیوی ایک آنے والی امانت سے اس طرح گراں بار ہوجاتی ہے کہ ابتدائی دنوں میں اسے اس کا احساس بھی نہیں ہوتا کیونکہ انسان کا مادہ تولید پانی کی ایک بوند کی شکل میں رحم مادر میں منتقل ہوتا ہے تو پانی کی ایک بوند کا پیٹ میں چلے جانا کسی طرح بھی محسوس ہونے والی چیز نہیں۔ اس لیے اس بوند کی امانت اٹھانے والی اسے اٹھائے چلتی پھرتی رہتی ہے اسے احساس بھی نہیں ہوتا کہ میں ایک امانت کی امین بنادی گئی ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کی رحمتیں برابر اپنا فیضان لٹاتی رہتی ہیں۔ یہ پانی کی ایک بوند پہلے خون کی شکل اختیار کرتی ہے پھر یہ خون گاڑھا ہوکررفتہ رفتہ گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے، پھر ایک وقت آتا ہے کہ اس گوشت کے لوتھڑے میں اعضاء جنم لینے لگتے ہیں۔ انسانی نقوش ابھرنے لگتے ہیں، پھر اس میں جان پڑتی ہے، ان تبدیلیوں سے ماں کو بوجھ کا احساس ہونے لگتا ہے۔ جب میاں بیوی ان تبدیلیوں کو محسوس کرلیتے ہیں کہ اب قدرت ہم پر ایک بچے کی صورت میں کرم فرمانے والی ہے تو ان کے دل میں جہاں اپنے مالک کے لیے شکر کے جذبات مچلنے لگتے ہیں وہیں اندیشے بھی سراٹھانے لگتے ہیں کہ اللہ خیر کرے یہ بننے والا بچہ بھلا چنگا ہو، نین نقش سے درست ہو، خوبصورت پیاراہو، اپاہج نہ ہو، اندھا نہ ہو، کانانہ ہو، کیونکہ جس طرح اللہ کی قدرت نے اس خفیف سے حمل کو پرورش کرکے ایک بچے کی صورت دی ہے۔ اسی طرح اس کے لیے یہ کوئی مشکل نہیں کہ وہ انسانی بچے کی بجائے کسی بندر سانپ یا کسی اور جانور کا بچہ پیدا کردے یا اس میں کوئی جسمانی کمزوری رکھ دے یا اس سے دل و دماغ کی صلاحیتوں سے تہی رکھے۔ ان اندیشوں کے پیدا ہوتے ہی ماں باپ اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلادیتے ہیں اور باربار اس سے التجا کرتے ہیں کہ یا اللہ ! ہمیں صحت مند اولاد عطار کرنا جو ہر طرح کے جسمانی نقص سے پاک ہو۔ اسے دل و دماغ کی رعنائیاں بھی عطا کرنا اس کی قسمت اچھی بنانا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جب تم اس طرح اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہو تو تمہیں پورا یقین ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ عطا کرنے اور ہماری دعائوں کو سننے اور قبول کرنے والا صرف اللہ ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں اس لیے تم ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے ہو کہ یا اللہ ! اگر آپ نے ہماری دعا قبول فرمالی تو ہم تیرے شکر گزار بندے بن جائیں گے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ تم اپنے جدِامجد اور نسل انسانی کے باقی تمام افراد کا خالق اللہ ہی کو مانتے ہو اور مرد و عورت کے حوالے سے اس کی جو بےپایاں نعمتیں ہیں ان کا بھی اعتراف کرتے ہو اور پھر معمولی حمل سے لے کر بچے کی پیدا ئش تک جتنی تبدیلیاں عمل میں آتی ہیں اور جس طرح قدرت ماں کے پیٹ میں بچے کی نگہداشت کرتی ہے تم اسے بھی تسلیم کرتے ہو ان تمام مسلمات کے ہوتے ہوئے آخر یہ کیا بات ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام دعائوں کو قبول فرماتے ہوئے جب تمہیں تمہاری دعائوں کے مطابق اولاد عطا فرمادیتے ہیں تو تم اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانے لگتے ہو ؟ اپنے تمام مسلمات کے برعکس کبھی تو تم یہ سمجھنے لگتے ہو کہ یہ بچہ اللہ نے نہیں، فلاں نے دیا ہے اور کبھی اسے کسی درگاہ، خانقاہ، کسی بزرگ یا کسی بت کی طرف منسوب کرنا شروع کردیتے ہو ؟ اور شکریہ کے لیے نذریں نیازیں کسی دیوی کسی اوتار کسی ولی یا کسی حضرت کے نام پر چڑھانا شروع کردیتے ہو ؟ اور یا بچے کو ایسے نام سے پکارنے لگتے ہو جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عنایت کا نتیجہ ہے یعنی کبھی اس کا نام عبدالعزیٰ رکھتے ہو اور کبھی عبدالشمس۔ یہ مشرکین کا ایسا رویہ ہے جس کی توجیہ بظاہر محال دکھائی دیتی ہے لیکن قرآن میں مختلف مواقع پر اس کی عقدہ کشائی اس طرح کی گئی ہے کہ انسان جب تک کسی ضرورت اور احتیاج کے حصار میں رہتا ہے تو وہ اللہ ہی کو پکارتا ہے، بیماری میں جب ڈاکٹر جواب دے دیتے ہیں تو اللہ ہی یاد آتا ہے، کشتیاں بھنور میں پھنس جاتی ہیں تو اللہ ہی سے التجا ہوتی ہے، زلزلے میں زمین لرزنے لگتی ہے تو بےاختیار اللہ ہی سے مناجاتیں کی جاتی ہیں۔ لیکن جب انسان اس خطرے سے نکل جاتا ہے تو اسے اسباب اور وسائل کا کرشمہ قرار دینے لگتا ہے یا غیر اللہ کی طرف منسوب کرنے لگتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی فطرت جب تک بیرونی آلائشوں سے محفوظ رہتی ہے یا مصائب کا ہجوم اس کی فطرت کو خالص رکھتا ہے (چونکہ اصل فطرت کے اندر اللہ ہی کا نقش ہے کسی اور کا نقش نہیں) تو فطرت اپنے اصل کے مطابق اللہ کی طرف رجوع کرتی ہے اور اپنے حقیقی مالک کو پہچان لیتی ہے۔ لیکن جب بیرونی آلودگیوں کو در آنے کا موقع ملتا ہے تو پھر اس کی فطرت پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتی ہے اور وہ اپنے اصل سے ہٹ کر آلودگیوں میں الجھ کر اپنے ہی مسلمات کے برعکس دوسرے طور اطوار اختیار کرلیتا ہے چناچہ یہاں ان کی اسی فطری کجروی کو نمایاں کیا گیا ہے۔ مشرکینِ مکہ ایک طویل مدت سے وحی الہٰی سے بےبہرہ رہنے کی وجہ سے اپنے فطری خصائص گم کرچکے تھے اس لیے ان سے اس طرح کی فکری ناہمواریوں کا وجود میں آنا چنداں تعجب کا باعث نہیں لیکن اس امت کا کیا کیجیے ان کے پاس تو اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول کا اسوہ پوری طرح محفوظ اور مصئون ہے، اس کے باوجود اس امت کے افراد نہ صرف بچوں کو پیدا ہونے کے بعد دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں بلکہ اولاد بھی بسا اوقات اللہ کی بجائے غیرا للہ سے مانگتے ہیں اور پھر دوسروں کے انتساب سے ایسے ایسے نام رکھتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں شاید توحید کی دعوت بالکل نہیں پہنچی ورنہ جو امت عقیدہ توحید کی علمبردار بنائی گئی ہو، اس امت کے افراد سے اس طرح کی کمزوریوں کا ظہور نہایت تکلیف دہ بات ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بہت سارے لوگ اپنے بچوں کے پیراں دتہ، حسین بخش، پیر بخش اور عبدالرسول جیسے نام رکھتے ہیں جس کا معنی واضح ہے کہ یہ بچہ اللہ نے نہیں دیا بلکہ پیروں نے دیا ہے یا اسے حسین نے بخشا ہے یا کسی پیر کی مہربانی ہے اور مزید یہ کہ یہ پیدا ہونے والا بچہ اللہ کا بندہ نہیں بلکہ عبدالرسول یعنی رسول کا بندہ ہے حالانکہ قرآن پاک نے صاف طور پر ارشاد فرمایا کہ جب ہم کسی کو نبوت عطار کرتے ہیں تو وہ دنیا میں جاکر لوگوں کو ربانی بناتا ہے وہ کبھی یہ نہیں کہتا کہ تم میرے بندے ہوجاؤ کیونکہ ہر نبی نے دنیا میں سب سے زیادہ جس بات پر زور دیا ہے اور جو ان کی دعوت کا اصل موضوع رہا ہے وہ یہی ہے کہ ” اعبدواللہ “ اور یہی قرآن پاک میں سورة البقرۃ کے تیسرے رکوع کی پہلی آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ ہی کی بندگی کرو یعنی اس کے بندے بنو جس نے تمہیں پیدا کیا اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اتنی واضح تعلیم کے بعد بھی اس امت کے لوگ اس طرح کا نام رکھ کر آخر کیا تاثر دینا چاہتے ہیں ؟ اس آیت کریمہ کو سمجھنے میں بعض لوگوں کو غلط فہمی بھی ہوئی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس غلط فہمی کا بھی ازالہ کردیا جائے ورنہ اس آیت کی تشریح کے لیے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ آیت کے آغاز میں نوع انسان کی پیدائش ایک جان سے ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، جس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں، پھر اس کے بعد ایک مرد اور عورت کا ذکر شروع ہوگیا ہے۔ انھوں نے پہلے تو اللہ سے صحیح وسالم بچے کی پیدائش کی دعا کی اور جب بچہ پیدا ہوگیا تو اللہ کی بخشش میں دوسروں کو شریک ٹھہرالیا۔ بعض لوگوں کے اندازِبیان سے یہ غلط فہمی ہوئی کہ جن شریک کرنے والے میاں بیوی کا یہاں ذکر کیا گیا ہے وہ کوئی اور نہیں حضرت آدم اور حوا (علیہما السلام) ہی ہیں، پھر اس غلط فہمی کو بعض روایات سے بھی مدد ملی جس کے نتیجے میں پورا ایک قصہ وجود میں آگیا کہ حضرت حوا کے بچے پیدا ہو کر مرجاتے تھے، آخر کار ایک بچے کی پیدائش کے موقعہ پر شیطان نے ان کو بہکا کر اس بات پر آمادہ کرلیا کہ اس کا نام عبدالحارث (بندہ شیطان) رکھ دیں، اس آیت میں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قصے کی کوئی اصل نہیں اور جن روایات کو اس کی تائید میں پیش کیا جارہا ہے وہ یکسر غلط ہیں اور قرآن کریم کی عبارت بھی اس کی تائید نہیں کرتی۔ قرآن جو کہہ رہا ہے وہ صرف یہ ہے کہ نوع انسانی کا پہلا جوڑا جس سے نسل انسانی کا آغاز ہوا، اس کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی تھا پھر ہر مرد و عورت کے ملاپ سے جو اولاد پیدا ہوتی ہے اس کا خالق بھی اللہ ہی ہے۔ اس میں کسی خاص مرد اور کسی خاص عورت کا ذکر نہیں بلکہ مشرکین میں سے ہر مرد و عورت کا حال بیان کیا گیا ہے۔ اس پوری صورتحال کو سامنے رکھیں تو اس غلط فہمی کی کوئی بنیاد باقی نہیں رہتی اور ویسے بھی اگر تھوڑا سا بھی عقل سے کام لیا جائے تو یہ بات بڑی آسانی سے سمجھی جاسکتی ہے کہ اس قصے کا انتساب حضرت آدم اور حضرت حوا کی طرف کیا گیا ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ حضرت آدم اللہ کے نبی تھے اور اللہ کے نبی معصوم ہوتے ہیں۔ ان سے کسی گناہ کا صدور نہیں ہوتا چہ جائیکہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے لگیں۔ اگر اس قصے کو صحیح سمجھا جائے تو پھر حضرت آدم کی نبوت سے انکار کرنا ہوگا اور اگر آپ واقعی نبی ہیں اور یقینا ہیں تو پھر آپ اور آپ کی زوجہ محترمہ حضرت حوا سے اس قسم کے فعل کا صدور سراسر اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ اس لیے اس آیت کریمہ کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ برتر ہے ان چیزوں سے جن چیزوں سے یہ لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ اللہ کی برتری اور بڑائی کا سب سے زیادہ ادراک اور معرفت اللہ کے نبیوں کو ملتی ہے، کوئی اور اس میں ٹھوکر کھائے تو تعجب نہیں لیکن نبی تو اسی راستے کے شن اور ہوتے ہیں اس لیے ان سے کسی ایسی بات کا وہم بھی گناہ سے کم نہیں ویسے بھی تخلیق کے معاملے میں کسی کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا یہ تو ایسی بات ہے جسے معمولی عقل والا بھی گوارا نہیں کرتا۔ اس لیے اگلی آیت کریمہ میں نہایت آسان انداز میں فرمایا کہ یہ لوگ ان چیزوں اور ان قوتوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں جو نہ صرف کسی کو پیدا کرنے پر قادر نہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں کیونکہ اللہ کے علاوہ کائنات کی ہر چیز مخلوق ہے چاہے وہ مشرکوں کے دیوتا ہوں، اوتار ہوں یا فرشتے ہوں، جن کو یہ اللہ کی بیٹیاں سمجھتے ہیں یا وہ مقدس لوگ ہوں جن کے انھوں نے بت بنا رکھے ہیں، یہ سب اللہ کی مخلوق ہیں جو خود مخلوق ہوں وہ خالق کیسے ہوسکتا ہے ؟ کسی کو پیدا کرنا تو غیر معمولی بات ہے، اس سے بہت چھوٹی بات یہ ہے کہ اسباب سے ماوریٰ ہو کر کسی کی مدد کی جائے۔ ان کا حال تو یہ ہے کہ یہ کسی کو تو خلق کیا کریں گے یہ تو کسی کی مدد بھی نہیں کرسکتے۔ اگر تو ان سے مراد بت لیے جائیں جن کو مشرکین مکہ پوجتے تھے، وہ تو ہاتھ تک نہیں ہلا سکتے کسی کی مدد کیا کریں گے، وہ تو اپنی مدد نہیں کرسکتے۔ ان کے چہرے پر مکھی بیٹھ جائے وہ اڑا نہیں سکتے، کوئی انھیں توڑ پھوڑ دے وہ اپنا دفاع نہیں کرسکتے، ان کے ماننے والے ان کے سامنے چڑھاوے چڑھاتے ہیں، کوئی ان چڑھاؤوں کو اٹھا کرلے جائے تو وہ انھیں روک نہیں سکتے، تو جو اس طرح بےدست وپا ہیں تم انھیں اللہ کا شریک کیسے ٹھہراتے ہو ؟ اور اگر ان سے دوسری شخصیتیں مراد لی جائیں تو پھر مطلب یہ ہے کہ اسباب سے ماوریٰ اور ان سے بالا ہو کر تو نہ کسی کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں، یہ شان تو صرف اللہ کی ہے کہ اسباب اس کے محتاج ہیں وہ کسی سبب کا محتاج نہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ یہاں ایک وضاحت کردی جائے۔ پیش نظر رکوع میں شرک اور مشرکین کی تردید ہورہی ہے لیکن اگر اس کی حقیقت کو پوری طرح نہ سمجھا جائے تو بعض آیات کو سمجھنے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔ اس لیے یہ بات ذہن نشین کرلی جائے کہ شرک اور مشرکین کے حوالے سے پروردگار تین پہلوئوں سے تنبیہ فرما رہے ہیں۔ شرک کے تین پہلوئوں پر گفتگو 1 مشرکین اپنے اعتقادات کے مطابق اس بات کا یقین رکھتے تھے کہ بعض قوتیں ایسی ہیں جو اللہ کی بعض صفات میں شریک ہیں۔ کوئی ان میں اولاد دیتا ہے، کوئی بارش برسا تا ہے، کوئی تکلیفیں دور کرتا ہے اور کوئی ہر طرح کی فریادیں سنتا ہے۔ چناچہ جب وہ انھیں پکارتے تھے تو یہ سمجھ کر نہیں پکارتے تھے کہ یہ قوتیں اللہ کی ذات میں شریک ہیں بلکہ یہ سمجھ کر پکارتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے بعض اختیارات میں شریک کررکھا ہے، اس لیے جب تک انھیں نہ پکارا جائے اس وقت تک ان سے متعلق ہمارے کام نہیں ہوسکیں گے۔ 2 مشرکین نے انہی قوتوں کے مجسمے اور بت بھی بنارکھے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ وہ اصل قوتیں ان بتوں یعنی ان قالبوں میں حلول کرجاتی ہیں۔ اس لیے بظاہر یہ پتھر یا سونے چاندی کے بت بےجان دکھائی دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ جن قوتوں کی نمائندگی کرتے ہیں ان کے اندر ان کی طاقت موجود ہے۔ اس لیے جب ہم ان کو پوجتے ہیں تو وہ اصل قوتیں خوش ہو کر ہماری مدد کرتی ہیں۔ مشرکینِ مکہ فرشتوں کوا للہ کی بیٹیاں مانتے تھے اور یہ یقین رکھتے تھے کہ بعض فرشتوں کو اللہ نے خاص اختیارات دے رکھے ہیں۔ اس لیے انھوں نے اپنے تصور کے مطابق فرشتوں کی مورتیاں بنا رکھی تھیں اور انھیں وہ اس لیے پوجتے تھے تاکہ وہ فرشتے خوش ہو کر ان کی مدد کریں۔ اسی طرح وہ جنات کو بھی انسانی معاملات اور انسانی قسمتوں میں دخیل سمجھتے تھے اس لیے وہ کبھی ان کے بت تراشتے تھے اور کبھی خاص جگہوں، ٹیلوں یا درختوں کی یہ تصور کرکے پوجا کرتے تھے کہ یہاں ان جنات کا بسیرا ہے اور ان کی نسبت سے یہ جگہیں مقدس ہوگئی ہیں اسی طرح وہ مظاہرِ فطرت میں سے بعض کو اللہ کا اوتار یا دیوتا قرار دیتے تھے۔ مشرکینِ مکہ میں اگرچہ یہ اعتقاد کم تھا لیکن بعض دوسرے مشرکین میں ان دیوتائوں اور اوتاروں کی کثرت سے پوجا ہوتی تھی، کوئی ستاروں کو پوجتا تھا، کوئی چاند کو اور کوئی سورج کو۔ اس طرح انھوں نے بعض انسانوں کے بت تراش رکھے تھے جن کے بارے میں ان کا گمان تھا کہ وہ اللہ کے مقبول بندے تھے اور اپنی اس مقبولیت کے باعث وہ بہت سارے اختیار ات کے بھی مالک تھے۔ چناچہ اسی نسبت سے وہ ان بتوں کی پوجا کرتے اور ان سے مرادیں مانگتے، ان پر چڑھاوے چڑھاتے اور ہر طرح ان کے سامنے ڈنڈوت بجا لاتے۔ میں اس کی صرف ایک مثال پیش کرتا ہوں جس سے یہ بات سمجھنے میں آسانی ہوجائے گی کہ مشرکینِ عرب کا ایک مشہور بت ” لات “ نامی تھا۔ اسے وہ بہت طاقت کا مالک سمجھتے تھے اور اس کی حقیقت یہ بیان کی جاتی تھی کہ لات عربی زبان میں ستو پلانے والے کو کہتے ہیں۔ تاریخ میں کوئی نیک نام شخص ایسا گزرا تھا جس کا معمول یہ تھا کہ عرب کی جھلسا دینے والی گرمی میں وہ کسی برتن میں ستو گھول کر اور پانی لے کر صحرا کے کسی چورا ہے میں بیٹھ جاتا اور آتے جاتے مسافروں کو ستو کھلاتا اور پانی پلاتا۔ عرب جیسے علاقے میں جہاں پانی کمیاب اور غذا کی ہمیشہ قلت رہی ہے سخت گرمی کے موسم میں جبکہ پیا س کے باعث حلق میں کانٹے اگنے لگتے ہیں، اس طرح کی نیکی یقینا بہت بڑی نیکی سمجھی جاتی تھی۔ اسی نیکی کے باعث یہ صاحب مشہور ہوگئے اور لوگوں میں عزت اور تقدس کی نگاہ سے دیکھے جانے لگے۔ زندگی ہی میں ان کی شہرت ہوگئی، مرنے کے بعد ان کی اسی نیک نامی کے باعث ان کی یاد زندہ رہی، وقت کے ساتھ ساتھ اس یاد اور نیکی میں اضافہ ہوتا چلا گیا حتی کہ ایک وقت آیا کہ لوگوں نے ان کا مجسمہ بنایا۔ شروع شروع میں تو صرف یہ ایک یاد کا ذریعہ تھا لیکن پھر اس پر چڑھاوے چڑھنے لگے اور آخر پوجا شروع ہوگئی۔ اسی پر آپ باقی بتوں کا قیاس کرلیجیے۔ ہر بت کی اسی طرح کی ایک تاریخ ہے۔ پوری قوم کبھی عقل سے دیوالیہ نہیں ہوتی کہ وہ بتوں کی پوجا شروع کردے۔ آغاز میں کسی بڑی شخصیت کی عقیدت کے باعث بت بنتے ہیں اور ان بتوں کے پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے پھر ان کی پوجا شروع ہوجاتی ہے۔ پوجا کرنے والے اگرچہ ان کے سامنے جھکتے ہیں لیکن ذہن میں وہ شخصیت ہوتی ہے جس کا یہ بت ہے۔ لیکن آہستہ آہستہ عوام اس پس منظر کو بھولتے چلے جاتے ہیں پھر یہ سامنے نظر آنے والا بت ہی ان کی عقیدت کا مرکز بن جاتا ہے اور وہ اسی کی پوجا کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ساری دنیا میں بت پرستی اسی طرح ہوتی ہے اور ہورہی ہے۔ اس لیے قرآن کریم پس منظر کی شخصیتوں پر بھی تنقید کرتا ہے کہ لیکن ساتھ ساتھ ان بتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتا ہے کیونکہ جب قرآن کریم نازل ہورہا تھا تو یہ بت ہی اصلاً عقیدت اور عبودیت کا مرکز بن کر رہ گئے تھے۔ 3 ان مشرکانہ افعال کے پیچھے ہمیشہ چند تصورات ہی رہے ہیں جو ان افعال کو سپورٹ بھی کرتے ہیں اور ان کی توجیہ بھی کرتے ہیں۔ تصورات تو کئی سارے ہیں لیکن ان میں سب سے اہم تصور جو ہمیشہ مشرکوں میں ایک دلیل کے طور پر کام دیتارہا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تو وحدہٗ لاشریک ہے ہم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے لیکن مشکل یہ ہے کہ کیا ایک ذات اپنی تمام عظمتوں کے باوجود پوری کائنات کا نظام چلاسکتی ہے ؟ کائنات کی وسعتیں تو بےحدو بےکنار ہیں یہ زمین اس کائنات کا ایک چھوٹا سا کرہ ہے، اس میں بسنے والی مخلوق اس قدر بڑی تعداد میں ہے کہ ان کی تمام ضرورتوں کو ایک ذات کے لیے جاننا ممکن نہیں۔ ایک گھر کے افراد کو دیکھ لیجیے ہر ایک کی اپنی اپنی ضرورتیں، اپنی اپنی محرومیاں، اپنی اپنی خواہشات اور پھر اس سے جنم لینے والے اعمال سلسلہ در سلسلہ ایک ایسی تفصیل ہے کہ ایک گھر کی حد تک اس کا جاننا بھی مشکل معلوم ہوتا ہے چہ جائیکہ پوری زمین پر بسنے والے انسانوں کی تمام ضرورتوں تمام خیالات اور تمام اچھے برے اعمال کی خبر ایک ذات کو ہر وقت اور ہر لحاظ سے رہے۔ یہ کسی طرح بھی عقل میں آنے والی بات نہیں۔ اس لیے یہ بات قرین عقل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض قوتوں کو اپنے اختیارات تقسیم کر رکھے ہیں تاکہ تمام انسانوں کی ضرورتیں آسانی سے پوری ہوتی رہیں۔ چناچہ جس طرح قرآن کریم نے بت پرستی اور شخصیت پرستی پر تنقید کی ہے، اسی طرح ان تصورات کا بھی پوری قوت سے ابطال کیا ہے۔ چناچہ پیش نظر آیات اور قرآن کریم میں بعض دیگرمواقع پر انہی تینوں باتوں کے حوالے سے تنقید کی گئی ہے۔ یہ تفصیل اگر ذہن میں رہے تو پھر قرآن کریم کی شرک پر تنقید کو سمجھنا مشکل نہیں رہتا۔ سابقہ دو آیات اور اگلی آنے والی آیات سے معلوم ہوتا ہے مشرکین کی بت پرستی پر تنقید کی گئی ہے۔
Ayah 7:193

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اگر تم ان کو رہنمائی کے لیے پکارو تو وہ تمہارے پیچھے نہیں چلیں گے خواہ تم ان کو پکارو یا خاموش رہو۔

ارشاد ہوتا ہے : وَاِنْ تَدْعُوْھُمْ اِلَی الْھُدٰی لَا یَتَّبِعُوْکُمْ سَوَآئٌ عَلَیْکُمْ اَدَعَوْتُمُوْھُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ (الاعراف : 193) اگر تم ان کو راہنمائی کے لیے پکارو تو وہ تمہارے پیچھے نہیں چلیں گے خواہ تم ان کو پکارو یا خاموش رہو۔ بت پرستی پر تنقید مخلوقات میں سے اللہ تعالیٰ نے جسے بھی خلق فرمایا ہے اس کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے لیے زندگی گزارنے کا طریقہ کیا ہے اور یہ ضرورت ایسی ہے جس میں انسان کی تخصیص نہیں بلکہ ہر مخلوق اس ضرورت کی پوری طرح محتاج ہے۔ البتہ ! یہ ضرور ہے کہ انسان اس ضرورت کے حوالے سے دوسری مخلوقات کی نسبت کچھ زیادہ ہی محتاج واقع ہوا ہے کیونکہ انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو سب سے بےبس ہوتا ہے۔ بلی کا بچہ بھی آنکھیں کھلتے ہی اپنی ماں کو ڈھونڈتا اور اس کے پستان تلاش کرلیتا ہے، مرغی کا بچہ چند گھنٹوں کے بعد ہی ماں کی آواز پر پیچھے پیچھے چلنے لگتا اور دانہ چگنے لگتا ہے، بھینس کا بچہ چند گھنٹوں کے بعد لڑکھڑاتا ہوا ماں کے نیچے پہنچ کر دودھ پینے لگتا ہے، لیکن انسان کا بچہ اس طرح بےبس اور ناتواں پیدا ہوتا ہے کہ نہ اپنی ماں کو پہچانتا ہے اور نہ اپنے باپ کو۔ ماں اس کو اٹھا کر اگر اپنے سینے سے نہ لگائے تو وہ رونے کے سوا کچھ نہیں کرتا۔ باقی مخلوقات کے بچے بڑی تیزی سے بڑھتے، پروان چڑھتے اور طبعی قوتوں کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، لیکن انسان کا بچہ آہستہ آہستہ پروان چڑھتا ہے، کئی مہینوں کے بعد بیٹھنے لگتا ہے، پھر گھٹنوں چلنا سیکھتا ہے، پھر اپنے پائوں پر کھڑا ہونا اور چلنے لگتا ہے۔ ایک وقت تک لوگ اس کی راہنمائی کرتے ہیں پھر جب ضرورت اس سے آگے بڑھتی ہے تو اس کی عقل اس کی راہنمائی کے لیے اپنا فرض انجام دینے لگتی ہے، لیکن انسانی ضرورتیں باقی حیوانات کی طرح صرف جسمانی ضرورتوں تک محدود نہیں بلکہ اس کی ذہنی ذوقی اور روحانی ضروتیں بھی ہیں جو عقل کے بعد کسی اور راہنمائی کی بھی طالب ہوتی ہیں۔ ان پہلوئوں سے غور کیا جائے تو انسان کی ضرورتوں کی وسعت سمجھ میں آتی ہے کہ یوں تو اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کی ضرورتوں کو پورا کرنا اپنے ذمہ لے رکھا ہے اور اس کے لیے جس راہنمائی کی ضرورت ہے وہ ہمہ وقت ان کو فراہم کی جاتی ہے۔ حشرات الارض کو رینگنا سکھایا جاتا ہے۔ پرندوں کو اڑنا، مچھلیوں کو تیرنا اور جنگل کے جانوروں کو دوڑنا بھاگنا اور شکار کرنا سکھایا جاتا ہے، چھوٹے سے چھوٹا جانور بھی جانتا ہے کہ مجھے غذا کیسے حاصل کرنی ہے۔ بچے کیسے پیدا کرنے ہیں۔ انھیں پالنا کیسے ہے۔ اپنا گھر کیسے بنانا ہے۔ موسم کی شدت سے کیسے بچنا ہے۔ حوادث کے مقابلے میں اپنا تحفظ کیسے کرنا ہے۔ لیکن انسانی ضرورتیں اور انسان کے لیے راہنمائی ان سے زیادہ وسعت رکھتی ہے کیونکہ وہ جبلت تک محدود نہیں رہتی، حواس پر کفایت نہیں کرتی، عقل بھی عالم محسوسات اور روحانی زندگی کے بعد ساتھ چھوڑنے لگتی ہے۔ اس لیے یہ سب سے زیادہ اس بات کا محتاج ہے کہ جب وہ کسی کو معبود مانے تو اس سے راہنمائی طلب کرے، گھر کی زندگی سے لے کر معاشرتی زندگی تک، مزدوری سے لیکر معاشی اداروں تک، باہمی معاملات سے لے کرایوانِ حکومت تک، انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی تہذیب و تمدن تک، انسانی زندگی حقوق و فرائض اور فضائل ومکارم کے بندھنوں میں بندھی ہوئی ہے۔ جب تک ان تمام حوالوں سے راہنمائی کی ضرورتیں پوری نہیں کی جاتیں انسان کی زندگی میں خوش اطواری پیدا نہیں ہوتی اور ان ضرورتوں کو پورا کرنا کماحقہٗ انسان کے بس کی بات نہیں، یہ تو سراسر اس ذات کا فیضان ہے کہ جس کو انسان اپنا معبود بنا لیتا ہے۔ اس بنیادی ضرورت کے حوالے سے یہاں ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجا کرتے ہو ان کی بےبسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم انھیں اس راہنمائی کی ضرورت کے حوالے سے پکارو تو وہ تمہاری اس ضرورت کو تو کیا پورا کریں گے وہ تو اس قابل بھی نہیں ہیں کہ اس کی حقیقت کو سمجھ کر تمہارے پیچھے چلنے پر بھی قادر ہوسکیں اور پھر ایسا بھی نہیں ہے کہ تمہارے باربار پکارنے سے شاید اس طرف متوجہ ہوسکیں تم انھیں ہزار مرتبہ پکارو، چیخو چلائو کہ ہم تمہارے سامنے سرجھکا چکے، دست سوال دراز کرچکے، عبودیت کا سرمایہ تمہارے آستانوں پر ڈھیر کرچکے، اب اگر تم ہماری یہ ضرورتیں پوری نہیں کرو گے تو کون کرے گا ؟ لیکن تمہاری یہ آہ وزاری اور چیخ و پکار ان پر کوئی اثر نہیں کرے گی کیونکہ وہ سرے سے اس کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے تو تم خود سوچو کہ تم نے آخر سرِ نیاز کس آستانے پر جھکایا۔ اگلی آیت کریمہ میں اسی دلیل کو اور آگے بڑھایا جارہا ہے۔