Ayahs 7:172–174گزشتہ رکوع کی آخری آیت پر بنی اسرائیل سے خطاب ختم ہوجاتا ہے اب گفتگو کا رخ عام انسانوں کی طرف پھیرا جا رہا ہے روئے سخن اگرچہ اہل مکہ کی طرف ہے لیکن خطاب پوری نوع انسانی سے ہے اس میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ گزشتہ آیات میں ہم نے بنی اسرائیل سے بندگی و اطاعت اور اللہ کی کتاب سے وابستگی کا جو عہد لیا تھا وہ کوئی ان کی خصوصیت نہیں تھی بلکہ تم بھی اسی طرح اللہ کے ساتھ ایک میثاق میں بندھے ہوئے ہو اور تمہیں بھی ایک دن اس میثاق کے حوالے سے جواب دہی کرنی ہے وہ میثاق کیا ہے ؟ اس کا ذکر اگلی آیات کریمہ میں کیا جا رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔
وَاِذْاَخَذَرَبُّکَ مِنْم بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَاَشْھَدَھُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْج اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْط قَالُوْا بَلٰیج شَھِدْنَا ج اَنْ تُقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ھٰذَا غٰفِلِیْنَ ۔ اَوْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اَشْرَکَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا دُرِّیَّۃً مِّنْم بَعْدِھِمْ ج اَفَتُھْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ ۔ وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَلَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ (الاعراف : 174، 172)
” اور یاد کرو جب تیرے رب نے بنی آدم سے یعنی ان کی پشتوں سے ‘ ان کی اولاد کو نکالا اور ان کو گواہ ٹھہرایا خود ان کے اوپر، پوچھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انھوں نے کہا ہاں تو ہمارا رب ہے ہم اس کے گواہ ہیں یہ ہم نے اس لیے کیا کہ مبادا قیامت کو تم عذر کرو کہ ہم تو اس سے بیخبر ہی رہے یا عذر کرو کہ ہمارے باپ دادا نے پہلے سے شرک کیا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل سے پیدا ہوئے تو کیا آپ ہمیں ہلاک کریں گے باطل پرستوں کے عمل کی پاداش میں۔ اور ہم اسی طرح نشانیاں واضح طور پر پیش کرتے ہیں تاکہ وہ پلٹ آئیں “۔
” اذ “ کا مفہوم
پیشتر اس کے کہ ہم اس عہد الست کا ذکر کریں جو ان آیات کریمہ میں بیان کیا گیا ہے چند الفاظ کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں۔ اذ۔ ذکر کا قائم مقام ہوتا ہے اس سے مخاطب کو کسی مسلمہ امر کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے عموماً یہ امر ایسا ہوتا ہے جو متکلم اور مخاطب دونوں کے نزدیک واجب التسلیم ہوتا ہے لیکن بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ متکلم تو اس امر کو یقینی سمجھتا ہے لیکن مخاطب اسے بھول چکا ہے ایسی صورت میں بھی اذ استعمال کیا جاتا ہے۔ مقصود یہ ہوتا ہے کہ میں جس امر کا ذکر کر رہا ہوں تم چاہو اسے فراموش کردو یا اس سے منحرف ہوجاؤ لیکن میرے نزدیک اس کے وقوع میں کوئی شبہ نہیں چناچہ یہاں بھی اس لفظ کا استعمال اسی اصول کے تحت ہو رہا ہے۔
بنی آدم کے بعد مِنْ ظُہُوْرِھِمْ کا اضافہ دراصل بنی آدم سے بدل ہے۔ مقصود اس سے یہ ہے کہ بنی آدم سے متعلق یہاں جو حقیقت بیان ہو رہی ہے وہ کسی خاص دور کے انسانوں سے مخصوص نہیں بلکہ قیامت تک جتنے انسان بھی دنیا میں آئیں گے یہ حقیقت سب سے متعلق ہے یعنی یہاں جس عہد کا ذکر کیا گیا ہے وہ صرف حضرت آدم (علیہ السلام) کی براہ راست نسل سے نہیں لیا گیا تھا بلکہ وہ ہر دور کے نسل انسانی سے لیا گیا تھا اس لیے کسی دور کا انسان بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اس عہد سے تعلق نہیں رکھتا۔
عہدِ الست کی یاددہانی اور اس کا مفہوم
عہد کے الفاظ پر غور کیجیے، پروردگار نے انسانوں سے پوچھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ عہد لیتے ہوئے یہ نہیں فرمایا گیا کہ کیا میں تمہارا خدا نہیں ہوں ؟ یعنی پروردگار نے انسانوں سے اپنے اللہ ہونے کا عہد نہیں لیا بلکہ اپنے رب ہونے کے بارے میں پوچھا اور سب نے اقرار کیا کہ ہاں آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جب پروردگار نے نوع انسانی سے اپنے رب ہونے کا اقرار لیا تو یہ بات از خود انسانوں پر واضح ہوگئی کہ جس عظیم ذات کے لیے ہم ربوبیت کا عہد کر رہے ہیں وہی ہمارا اللہ ہے اور یہ ایسی حقیقت تھی جس کا عہد لینے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ گمراہی کی ابتداء جب بھی ہوئی ہے وہ اللہ کے انکار سے نہیں ہوئی بلکہ اس کے ربوبیت کے انکار سے ہوئی ہے دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس نے کبھی اللہ کے وجود سے انکار کیا ہو اور اگر کبھی پروپیگنڈے یا غلط تعلیم کے زور سے زبانوں پر انکار جاری کر بھی دیا جائے تو حقیقت میں انسانی فطرت اسے قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے جب کبھی موقع آتا ہے اس کا اظہار ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ تاریخ میں ہم جتنی قوموں کا ذکر پڑھتے ہیں وہ مختلف قسم کے شرک میں تو ملوث رہی ہیں لیکن کبھی کسی قوم کے بارے میں تاریخ نے یہ نہیں لکھا کہ انھوں نے اللہ کے وجود سے انکار کردیا ایک بڑی ذات جو کائنات کا مبداء و معاد ہے اسے ہر قوم نے قبول کیا چاہے اس کا نام کچھ بھی رکھا ہو البتہ اس کے نیچے بیشمار رب بنا لیے کیونکہ ان کا گمان یہ تھا کہ ایک ایسی ذات جو آسمانوں کی بلندیوں پر متمکن ہے زمین کے آخری گوشے تک رہنے والے انسانوں کے حالات سے نہ آگاہ ہوسکتی ہے اور نہ ان کے معاملات میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے اس لیے وہ اپنے اختیارات اپنے ماتحتوں میں تقسیم کردیتی ہے تاکہ دنیا کا نظام چلتا رہے یہیں سے شرک کی ابتداء ہوتی ہے اس لیے یہاں یاد دلایا جا رہا ہے کہ ہم نے پہلے دن انسانوں سے اس بات کا عہد لے لیا تھا کہ تم میرے سوا کسی اور کو رب نہ ماننا یعنی میری ذات کے اقرار کے ساتھ ساتھ یہ کبھی حرکت نہ کرنا کہ میرے اختیارات اور میری صفات میں کسی اور کو شریک کردو۔ مشرکینِ مکہ دنیا بھر کے مشرکین کی طرح اسی گمراہی کا شکار تھے حتی کہ بنی اسرائیل بھی حامل کتاب ہونے کے باوجود اس گمراہی سے محفوظ نہیں تھے اور آج کا انسان بھی روشنیٔ علم و ہنر کے باوجود اسی گمراہی کا شکار ہے انھیں اللہ کے وجود سے انکار نہیں اس کی یاد بھی کسی نہ کسی حد تک زندہ رہتی ہے انتہائی بےبسی کے لمحوں میں اسی سے مدد بھی مانگی جاتی ہے اور کبھی کبھی اسی کے لیے قربانیاں بھی دی جاتی ہیں لیکن یہ بات کہ حاکمیتِ مطلقہ اسی کو زیب دیتی ہے حلت و حرمت کا اختیار صرف اس کے پاس ہے۔ اطاعتِ مطلقہ صرف اسی کا حق ہے یہ وہ بات ہے جسے دنیا کی اکثریت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اس کی ان صفات کو نہ جانے کن کن قوتوں میں تقسیم کردیا گیا ہے کہیں یہ اختیار پارلیمنٹ کو دیا گیا ہے ‘ کہیں بادشاہت کو ‘ کہیں آمریت کو اور کہیں خواہشِ نفس کو۔ بنی اسرائیل بھی اسی گمراہی کا شکار تھے وہ اللہ کی ذات اور صفات کو مانتے تھے لیکن اللہ کی ربوبیت کا اختیار انھوں نے اپنے احبار اور رہبان کو دے رکھا تھا عدی ابن حاتم طائی جب مسلمان ہونے کے لیے مدینہ آئے اور اپنے اطمینان کے لیے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے آپ سے پوچھا کہ میں نے مسلمانوں سے یہ سنا ہے کہ قرآن کریم میں اہل کتاب کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ انھوں نے اپنے احبار اور رہبان کو رب بنا لیا ہے۔ میں عیسائی ہوں اس لیے میں اہل کتاب کے عقائد کو جانتا ہوں۔ ہم نے کبھی اپنے علماء اور پیشوائوں کو رب نہیں بنایا، یہ سراسر ہم پر الزام ہے۔ آپ ﷺ نے عدی سے سوال کیا کہ کیا چیز حلال ہے اور کیا حرام ؟ کیا جائز ہے اور کیا ناجائز ؟ کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں ہونا چاہیے ؟ اس کا فیصلہ آپ اللہ کی کتاب سے کرتے ہیں یا اپنے علماء اور اپنے پیشوائوں کو آپ نے یہ اختیار دے رکھا ہے کہ وہ کتاب اللہ سے ہٹ کر جو فیصلہ بھی دے دیں آپ اسی کو دین کا درجہ دیتے ہیں ؟ عدی نے جواب دیا کہ ہم نے یہ اختیارات واقعی اپنے علماء کو دے رکھے ہیں وہ اگر ایسا فیصلہ بھی کردیں جو کتاب خداوندی سے یکسر متصادم ہو تو ہم کتاب اللہ کو نہیں مانتے بلکہ انھیں کے فیصلوں کی اطاعت کرتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا یہی معنی ہے کسی کو رب بنانے کا۔ مطلق قانون سازی ‘ غیر مشروط حاکمیت اور غیر مشروط اطاعت یہ سراسر پروردگار کا حق ہے کیونکہ وہ ہمارا رب ہے جب یہ حق کسی اور کو دیا جائے گا تو وہ بھی رب بن جائے گا۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں اسی بات کی یاد دہانی کی جا رہی ہے کہ ہم نے تم سے اس بات کا عہد لیا تھا کہ تم اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہیں بنائو گے لیکن تم نے جا بجا اس کے مقابلے میں رب بنالیے جہاں منفعت کی امید نظر آئی یا کسی سے نقصان کا خوف ہوا تو اس کو اپنا رب بنا لیا چاہے وہ دودھ دینے والی گائے ہو ‘ پیاس بجھانے والا پانی ہو ‘ سایہ دینے والا پیپل کا درخت ہو یا ضروریاتِ زندگی کی کفالت کرنے والی دولت دنیا ہو یا تخت اقتدار پر فائز انسان ہوں یا تقدس کے پیکر ہوں ان میں سے ہر ایک چونکہ فیض رسانی اور فائدہ پہنچانے کی کسی نہ کسی صورت میں صلاحیت رکھتا ہے اس لیے اس کو ربوبیت کی سند دے دی گئی اور اگر کہیں سے خوف محسوس ہوا مثلاً سیلاب کی صورت میں تباہی پھیلانے والا پانی ‘ کشتیوں کا راستہ روکنے والی چٹانیں ‘ ڈسنے والے ناگ ‘ تخت اقتدار پر مسند نشیں فرعون اور نمرود ‘ فضاء میں کڑکنے والی بجلیاں اور بادل ‘ مظاہرِ فطرت اور مظاہرِ قدرت اور ایسی تمام زمینی اور آسمانی قوتیں جو انسان کے لیے خوف اور دہشت کا سبب بن سکتی تھیں ان سب کو ربوبیت کی مسند پر فائز کردیا گیا۔
امتِ مسلمہ جو قیامت تک کے لیے اس عہد کی مناد اور مبلغ بنا کر اٹھائی گئی ہے خود اس کا حال دیکھئے کہ پورے عالم اسلام میں ایک ملک بھی ایسا نہیں جسے اللہ کی ربوبیت یعنی اس کی حاکمیتِ مطلقہ کا عملی طور پر اعتراف ہو ہر جگہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر کسی نہ کسی حد تک مسلمانوں میں عبادات کا عمل جاری رہے ‘ اخلاقیات زندہ رہیں ‘ انفرادی سطح پر نیکی سے وابستگی باقی رہے تو اسلامی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے بس یہی کچھ کافی ہے کوئی ضروری نہیں کہ ملک میں اسلامی قانون بھی نافذ ہو بلکہ مسلمانوں میں ایک ایسی معقول تعداد بھی موجود ہے جو سرے سے اسلامی قانون کے وجود ہی کی منکر ہے، حالانکہ اگر اسلامی قانون کے وجود سے انکار کردیا جائے تو اس سے آپ سے آپ یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اسلام کا اجتماعیت سے کوئی رشتہ نہیں ہم انفرادی زندگی میں مسلمان ہیں اور ہمیں اسلام کی انفرادی زندگی کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے رہے اجتماعی ادارے تو ان کے لیے ہمیں اللہ نے آزاد چھوڑا ہے انھیں اپنی صوابدید کے مطابق جس طرح بھی چلایا جائے اس کا اسلام سے یا اسلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں یہی وہ گمراہی ہے جس کے ازالے کے لیے اللہ تعالیٰ نے تخلیقِ انسانی کے آغاز میں یہ عہد لیا تھا اور قرآن کریم میں وضاحت کے ساتھ اس کی یاد دہانی کرائی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ عہد کہاں لیا گیا تھا اور اس کی کیفیت کیا تھی ؟ حضرت عبد اللہ ابن عباس ( رض) کے حوالے سے یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ عہد حضرت آدم کے زمین پر بھیجنے کے بعد عرفات میں لیا گیا تھا لیکن بعض دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ تخلیقِ آدم کے موقع پر پیش آیا اس وقت جس طرح فرشتوں کو جمع کر کے حضرت آدم کو سجدہ کرایا گیا اور زمین پر انسان کی خلافت کا اعلان کیا گیا اسی طرح پوری نسل آدم کو بھی جو قیامت تک پیدا ہونے والی تھی اللہ تعالیٰ نے بیک وقت وجود اور شعور بخش کر اپنے سامنے حاضر کیا تھا اور ان سے اپنی ربوبیت کی شہادت لی تھی۔ حضرت ابی ابن کعب ( رض) نے غالباً نبی کریم ﷺ سے استفادہ کر کے جو کچھ بیان کیا ہے وہ اس مضمون کی بہترین شرح ہے وہ فرماتے ہیں۔
” اللہ تعالیٰ نے سب کو جمع کیا اور ( ایک ایک قسم یا ایک ایک دور کے) لوگوں کو الگ الگ گروہوں کی شکل میں مرتب کر کے انھیں انسانی صورت اور گویائی کی طاقت عطاکی، پھر ان سے عہد و میثاق لیا اور انھیں جب اپنے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انھوں نے عرض کیا ضرور آپ ہمارے رب ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تم پر زمین و آسمان سب کو اور خود تمہارے باپ آدم کو گواہ ٹھہراتا ہوں تاکہ تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ سکو کہ ہم کو اس کا علم نہ تھا۔ خوب جان لو کہ میرے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں ہے اور میرے سوا کوئی رب نہیں ہے۔ تم میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرانا۔ میں تمہارے پاس اپنے پیغمبر بھیجوں گا جو کہ تم کو یہ عہد و میثاق جو تم میرے ساتھ باندھ رہے ہو، یاد دلائیں گے اور تم پر اپنی کتابیں بھی نازل کروں گا۔ اس پر سب انسانوں نے کہا کہ ہم گواہ ہوئے، آپ ہی ہمارے رب اور آپ ہی ہمارے معبود ہیں، آپ کے سوا کوئی ہمارا رب ہے نہ کوئی معبود۔ “
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ ازلی میثاق فی الوقع عمل میں آیا بھی تھا تو کیا اس کی یاد ہمارے شعور اور حافظہ میں موجود ہے اور کیا ہم میں سے کوئی شخص بھی یہ جانتا ہے کہ آغاز آفرینش میں وہ اپنے خدا کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور اس سے یہ عہد لیا گیا تھا اور اگر کسی کو یاد نہیں تو پھر یہ عہد ہمارے خلاف حجت کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف باتیں کہی جاسکتی ہیں جن کا تعلق خارجی شواہد سے بھی ہے اور انسان کے اندر دبے ہوئے احساس سے بھی۔ جہاں تک خارجی شواہد کا تعلق ہے اس سلسلے میں گذارش یہ ہے کہ خود انسانوں میں بہت سے ایسے افراد بھی ہیں جنھوں نے یہ اقرار کیا ہے کہ ہمیں یہ عہد پوری طرح یاد ہے، حضرت ذوالنون مصری نے فرمایا کہ یہ عہد و میثاق مجھے ایسا یاد ہے گویا اس وقت سن رہا ہوں اور بعض نے تو یہاں تک کہا ہے کہ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ جس وقت یہ اقرار لیا گیا میرے آس پاس میں کون کون لوگ موجود تھے، ہاں یہ ظاہر ہے کہ ایسے افراد شاذو نادر کے درجہ میں ہیں، اس لیے عام لوگوں کے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں جو بالخاصہ اثر رکھتے ہیں، چاہے وہ کام کسی کو یاد رہے یا نہ رہے بلکہ اس کی خبر بھی نہ ہو مگر وہ اپنا اثر چھوڑ جاتے ہیں، یہ عہد و اقرار بھی ایسی ہی حیثیت رکھتا ہے کہ دراصل اس اقرار نے ہر انسان کے دل میں معرفتِ حق کا ایک بیج ڈال دیا جو پرورش پا رہا ہے چاہے اس کو خبر ہو یا نہ ہو، اور اسی بیج کے پھل پھول ہیں کہ ہر انسان کی فطرت میں حق تعالیٰ کی محبت و عظمت پائی جاتی ہے خواہ اس کا ظہور بت پرستی اور مخلوق پرستی کے کسی غلط پیرایہ میں ہو، وہ چند بدنصیب لوگ جن کی فطرت ہی مسخ ہو کر ان کا عقلی ذائقہ خراب ہوگیا اور میٹھے کڑوے کی پہچان جاتی رہی ان کے علاوہ باقی ساری دنیا کے اربوں انسان اللہ تعالیٰ کی دھن اور خیال اور عظمت سے خالی نہیں، چاہے مادی خواہشات میں مبتلا ہو کر یا کسی گمراہ سوسائٹی میں پڑ کر وہ اس کو بھلا دیں، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :
کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلٰی الْفِطْرَۃِ وفی بعض الروایات عَلٰی ھٰذِہِ الْمِلَّۃِ
(اخرجہ البخاری و مسلم)
ہر پیدا ہونے والا دین فطرت یعنی اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو دوسرے خیالات میں مبتلا کردیتے ہیں۔
صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بندوں کو حنیف یعنی ایک خدا کا ماننے والا پیدا کیا ہے پھر شیاطین ان کے پیچھے لگ گئے اور ان کو اس صحیح راستہ سے دور لے گئے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسان اپنے سارے بگاڑ کے باوجود جب کبھی حالات کی گرفت میں آتا ہے اور اس کے مزعومہ سہارے ایک ایک کر کے ٹوٹنے لگتے ہیں تو پھر آخر ایک وقت آتا ہے کہ وہ تنہائی میں اس ان دیکھی ذات کو پکارتا ہے جسے اس کی عقل و دانش نے آج تک قبول کرنے سے انکار کیا تھا چونکہ اس کی عقل پر آج تک خواہشات ‘ مفادات ‘ وضعی علوم اور جدید فلسفوں کے پردے پڑے ہوئے تھے جس نے اس کی فطرت کو دبا رکھا تھا جیسے ہی تندی حالات کا ایک تیز جھونکا ان پردوں کو اٹھا کر دور پھینکتا ہے اور اس کی اصلی فطرت کو کام کرنے کا موقع ملتا ہے تو اس کے تحت الشعور میں دبا ہوا اللہ کا تصور ابھر کر سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور یہ اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتا ہے اگر تھوڑا سا بھی تامل کیا جائے تو یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ یہ اسی عہد الست کی صدائے بازگشت ہے۔
اس کا ایک جواب صاحب تفہیم القرآن نے نہایت بصیرت سے دیا ہے ہم فائدے کے لیے اس کو نقل کر رہے ہیں۔ مولانا لکھتے ہیں کہ
اگر اس میثاق کا نقش انسان کے شعور اور حافظہ میں تازہ رہنے دیا جاتا تو انسان کو دنیا کی موجودہ امتحان گاہ میں بھیجا جانا سرے سے فضول ہوجاتا کیونکہ اس کے بعد تو اس آزمائش و امتحان کے کوئی معنی ہی باقی نہ رہ جاتے۔ لہٰذا اس نقش کو شعور و حافظہ میں تو تازہ نہیں رکھا گیا لیکن وہ تحت الشعور (Sub-conscious mind) اور وجدان (Intuition) میں یقینا محفوظ ہے۔ اس کا حال وہی ہے جو ہمارے تمام دوسرے تحت الشعوری اور وجدانی علوم کا حال ہے۔ تہذیب و تمدن اور اخلاق و معاملات کے تمام شعبوں میں انسان سے آج تک جو کچھ بھی ظہور میں آیا ہے وہ سب درحقیقت انسان کے اندر بالقوۃ (Potentially) موجود تھا۔ خارجہ محرکات اور داخلی تحریکات نے مل جل کر اگر کچھ کیا ہے تو صرف اتنا کہ جو کچھ بالقوۃ تھا اسے بالفعل کردیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی تعلیم، کوئی تربیت، کوئی ماحولی تاثیر اور کوئی داخلی تحریک انسان کے اندر کوئی چیز بھی جو اس کے اندر بالقوۃ موجود نہ ہو، ہرگز پیدا نہیں کرسکتی۔ اور اسی طرح یہ سب موثرات اگر اپنا تمام زور بھی صرف کردیں تو ان میں یہ طاقت نہیں ہے کہ ان چیزوں میں سے، جو انسان کے اندر بالقوۃ موجود ہیں، کسی چیز کو قطعی محو کردیں۔ زیادہ سے زیادہ جو کچھ وہ کرسکتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ اسے اصل فطرت سے منحرف (Pervert) کردیں۔ لیکن وہ چیز تمام تحریفات و تمسیخات کے باوجود اندر موجود رہے گی ظہور میں آنے کے لیے زور لگاتی رہے گی اور خارجہ اپیل کا جواب دینے کے لیے مستعد رہے گی۔ یہ معاملہ جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا، ہمارے تمام تحت الشعوری اور وجدانی علوم کے ساتھ عام ہے۔
وہ سب ہمارے اندر بالقوۃ موجود ہیں اور ان کے موجود ہونے کا یقینی ثبوت ان چیزوں سے ہمیں ملتا ہے جو بالفعل ہم سے ظاہر ہوتی ہے۔ ان سب کے ظہور میں آنے کے لیے خارجی تذکیر (یاد دہانی) تعلیم، تربیت اور تشکیل کی ضرورت ہوتی ہے اور جو کچھ ہم سے ظاہر ہوتا ہے وہ گویا درحقیقت خارجی اپیل کا وہ جواب ہے جو ہمارے اندر کی بالقوۃ موجودات کی طرف سے ملتا ہے۔
ان سب کو اندر کی غلط خواہشات اور باہر کی غلط تاثیرات دبا کر پردہ ڈال کر، منحرف اور مسخ کر کے کالعدم کرسکتی ہیں بالکل معدوم نہیں کرسکتیں اور اسی لیے اندرونی احساس اور بیرونی سعی دونوں سے اصلاح اور تبدیلی (Conversion) ممکن ہوتی ہے۔ ٹھیک ٹھیک یہی کیفیت اس وجدانی علم کی بھی ہے جو ہمیں کائنات میں اپنی حقیق حیثیت اور خالق کائنات کے ساتھ اپنے تعلق کے بارے میں حاصل ہے۔
اس کے موجود ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ وہ انسانی زندگی کے ہر دور میں، زمین کے ہر خطہ میں، ہر بستی، ہر پشت اور ہر نسل میں ابھرتا رہا ہے اور کبھی دنیا کی کوئی طاقت اسے محو کردینے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ اس کے مطابقِ حقیقت ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ جب کبھی وہ ابھر کر بالفعل ہماری زندگی میں کارفرما ہوا ہے اس نے صالح اور مفید نتائج ہی پیدا کیے ہیں۔
اس کو ابھرنے اور ظہور میں آنے اور عملی صورت اختیار کرنے کے لیے ایک خارجی اپیل کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے ‘ چناچہ انبیاء (علیہم السلام) اور کتب آسمانی اور ان کی پیروی کرنے والے داعیانِ حق سب کے سب یہی خدمت انجام دیتے رہے ہیں۔ اسی لیے ان کو قرآن میں مذکر (یاد دلانے والے) ذکر (یاد) تذکرہ (یادداشت) اور ان کے کام کو تذکیر (یاد دہانی) کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ انبیاء اور کتابیں اور داعیانِ حق انسان کے اندر کوئی نئی چیز پیدا نہیں کرتے بلکہ اسی چیز کو ابھارتے اور تازہ کرتے ہیں جو ان کے اندر پہلے سے موجود تھی۔
نفسِ انسانی کی طرف سے ہر زمانہ میں اس تذکیر کا جواب بصورت لبیک ملنا اس بات کا مزید ایک ثبوت ہے کہ اندر فی الواقع کوئی علم چھپا ہوا تھا جو اپنے پکارنے والے کی آواز پہچان کر جواب دینے کے لیے ابھر آیا۔
پھر اسے جہالت اور جاہلیت اور خواہشاتِ نفس اور تعصبات اور شیاطین جن و انس کی گمراہ کن تعلیمات و ترغیبات نے ہمیشہ دبانے اور چھپانے اور منحرف اور مسخ کرنے کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں شرک، دہریت، الحاد، زندقہ اور اخلاقی و عملی فساد رونما ہوتا ہے۔ لیکن ضلالت کی ان ساری طاقتوں کے متحدہ عمل کے باوجود اس علم کا پیدائشی نقش انسان کی لوح دل پر کسی نہ کسی حد تک موجود رہا ہے اور اسی لیے تذکیر و تجدید کی کوششیں اسے ابھارنے میں کامیاب ہوتی رہی ہیں۔
بلا شبہ دنیا کی موجودہ زندگی میں جو لوگ حق اور حقیقت کے انکار پر مصر ہیں وہ اپنی حجت بازیوں سے اس پیدائشی نقش کے وجود کا انکار کرسکتے ہیں یا کم از کم اسے مشتبہ ثابت کرسکتے ہیں۔ لیکن جس روز یوم الحساب برپا ہوگا اس روز ان کا خالق ان کے شعور و حافظہ میں روز ازل کے اس اجتماع کی یاد تازہ کر دے گا جب کہ انھوں نے اس کو اپنا واحد معبود اور واحد رب تسلیم کیا تھا۔ پھر وہ اس بات کا ثبوت بھی ان کے اپنے نفس ہی سے فراہم کر دے گا کہ اس میثاق کا نقش ان کے نفس میں برابر موجود رہا اور یہ بھی وہ ان کی اپنی زندگی ہی کے ریکارڈ سے علی رؤس الاشہاد دکھا دے گا کہ انھوں نے کس کس طرح اس نقش کو دبایا، کب کب اور کن کن مواقع پر ان کے قلب سے تصدیق کی آوازیں اٹھیں، اپنی اور اپنے گردو پیش کی گمراہیوں پر ان کے وجدان نے کہاں کہاں اور کس کس وقت صدائے انکار بلند کی، داعیانِ حق کی دعوت کا جواب دینے کے لیے ان کے اندر چھپا ہوا علم کتنی کتنی مرتبہ اور کس کس جگہ ابھرنے پر آمادہ ہوا اور پھر وہ اپنے تعصبات اور اپنی خواہشات نفس کی بناء پر کیسے کیسے حیلوں بہانوں سے اس کو فریب دیتے اور خاموش کردیتے رہے۔ وہ وقت جب کہ یہ سارے راز فاش ہوں گے حجت بازیوں کا نہ ہوگا بلکہ صاف صاف اقرارِ جرم کا ہوگا۔ اسی لیے قرآن مجید کہتا ہے کہ اس وقت مجرمین یہ نہیں کہیں گے کہ ہم جاہل تھے یا غافل تھے بلکہ یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ ہم کافر تھے، یعنی ہم نے جان بوجھ کر حق کا انکار کیا۔
وَشَھِدُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ اَنَّھُمْ کَانُوْا کَافِریْنَ (الانعام، 130)
عہد لینے کے اسباب
اس آیت کریمہ کے آخر میں اور اس کی بعد کی آیت میں اس عہد لینے کے اسباب بیان فرمائے گئے ہیں۔ پہلا سبب یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ ہم نے نوع انسانی سے یہ عہد اس لیے لیا تاکہ وہ قیامت کے دن یہ عذر نہ کرسکیں کہ آپ ہم سے توحید اور بدیہیاتِ فطرت کا سوال کر رہے ہیں ہمیں تو دنیا میں اس کے بارے میں کوئی علم نہیں دیا گیا تو ہم اپنی بیخبر ی کے باعث توحید کو ماننے اور فطرت کے تقاضوں کا جواب دینے سے معذور تھے اگر ہمیں اس سے آگاہی بخشی جاتی تو ہم ضرور اس کا اقرار کرتے تو آج ہمیں ایک ایسی بات میں ماخوذ کیوں کیا جا رہا ہے جس کا ہمیں علم نہیں دیا گیا اس کے جواب میں ان سے کہا جائے گا کہ ہم نے تمہاری تخلیق سے پہلے تمہارے جدِ امجد کی تخلیق کے وقت تمہیں اپنے سامنے حاضر کر کے اور تمہیں شعور اور جسم دے کر یہ عہد تم سے لیا تھا تو اس عہد کی وجہ سے آج تم سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ تم نے اللہ کی ربوبیت کا اقرار کیوں نہ کیا اور کیوں اس سے بار بار انکار کرتے رہے ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر انسانوں کے کسی گروہ کے پاس اللہ کے نبیوں کی دعوت نہیں پہنچی تو وہ محض اس عہد الست کے باعث اللہ کی توحید اور بدیہیاتِ فطرت پر ایمان لانے کے پابند ہیں ان سے باقی عقائد اور اعمال کے بارے میں تو کوئی سوال نہیں ہوگا لیکن اس کا مواخذہ ان سے ضرور ہوگا کیونکہ جیسا کہ اس سے پہلے عرض کیا گیا ہے کہ اللہ نے انسانوں سے اپنی ربوبیت کا جو عہد لیا تھا وہ انسان کے تحت الشعور میں زندہ ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ آدمی کھلی آنکھوں سے کائنات کی نشانیوں کو دیکھنے کی کوشش کرے۔
اگلی آیت کریمہ میں یہ بات فرمائی گئی ہے کہ یہ عہد الست ہم نے تم سے اس لیے لیا ہے تاکہ قیامت کے دن تم اپنے آبائو اجداد کے شرک کو عذر نہ بنا سکو یعنی تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہم سے پہلے ہمارے آبائو اجداد چونکہ شرک میں مبتلا تھے اور ہم ان کے گھر میں پیدا ہوئے ان کی تربیت اور گھر کے ماحول کے باعث ہم اسی شرک میں مبتلا ہوئے جس کو ہم نے اپنے گھر میں اور گھر سے باہر محسوس کیا جس بات کا ہم سے سوال کیا جا رہا ہے اس کا تو دور دور کہیں نشان نظر نہ آیا تو ہم اس کا اقرار کیسے کرسکتے تھے۔ اگر اس جرم کی کوئی سزا ہے تو اس کے مستحق وہ لوگ ہیں جو ہمارے آبائو اجداد یا ہم سے پہلے گزرے ہیں ہمیں تو کسی صورت میں اس میں ماخوذ نہیں کرنا چاہیے پروردگار انھیں بھی اسی عہد کی یاد دلا کر ان سے مواخذہ کرے گا کیونکہ جو چیزیں انسان کی فطرت میں داخل یا اس کے تحت الشعور میں موجود ہیں انھیں شعور میں لانا یہ انسان کی بہرحال ذمہ داری ہے انسان اگر اپنے گھر والوں کو جاہل دیکھتا ہے تو اس کے لیے جاہل رہنے کا جواز پیدا نہیں ہوجاتا وہ گھر میں غربت کے ڈیرے دیکھتا ہے تو وہ کبھی اس غربت پر قانع ہو کر نہیں بیٹھتا بلکہ غربت کو امارت میں بدلنے کے لیے ہر ممکن جدوجہد کرتا ہے۔ کیونکہ بہتری اور خیر کی تلاش اور تبدیلی کی خواہش انسان کی فطرت اور تحت الشعور میں موجود ہے اور ہم ہمیشہ اس کے مطابق لوگوں کو محنت کرتا ہوا دیکھتے ہیں اور کبھی کسی سے یہ عذر نہیں سنتے کہ میں اپنے گھر کی حالت کو کیوں بدلوں کیونکہ میں نے اپنے گھر کو ایسا ہی پایا ہے لیکن دینی احساسات کے بارے میں نہ جانے اس گمراہی کو سند جواز کیسے دی جاتی ہے اس آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن یہ عذر قبول نہیں کیا جائے گا البتہ اس کی بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک احسان کا ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن اگرچہ یہ عہد الست ہر انسان کی جواب طلبی کے لیے کافی ہے لیکن یہ مزید اللہ کا احسان ہے کہ اس نے اس عہد کی یاد دہانی کے لیے اپنے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا ان پر اپنی کتابیں اتاریں اور پھر اپنی نشانیوں (آیات) کو کھول کھول کر پوری تفصیل سے بیان کیا تاکہ کوئی شخص اگر ایسا ہی گیا گزرا ہے کہ اس کے اندر کے احساسات کبھی خیر کی طرف سفر کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور اس نے پوری طرح اپنے اندر کی دنیا کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے تو اس کی بھلائی اور خیر خواہی کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیجے تاکہ وہ اس کے دبے ہوئے احساسات کو ابھارنے کی کوشش کریں اور اسے اس عہد کی یاد دلائیں جسے وہ بالکل فراموش کرچکا ہے ممکن ہے اس اتمامِ حجت کے بعد اسے اللہ کی طرف لوٹنے کی ہمت پیدا ہو اور اس طرح سے وہ اپنی دنیا اور عاقبت کو بنانے میں کامیاب ہوجائے۔
اگلی آیت کریمہ میں بھی قریش ہی مخاطب ہیں سابقہ آیات میں انھیں عہد فطرت یاد دلایا گیا ہے اور اب انھیں مثال دے کر سمجھایا جا رہا ہے کہ اگر تم نے اس عہد فطرت کی روشنی میں اللہ کے بنی کی دعوت کو قبول کر کے اپنی حالت نہ بدلی تو تمہارا انجام وہی ہوگا جس کا اس مثال میں ذکر کیا گیا ہے۔ پھر اس مثال کے ضمن میں ان اسباب کو بھی ذکر کردیا گیا ہے جو افراد یا اقوام کے بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔
Ayah 7:175ارشاد ہوتا ہے :
وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَاَ الَّذِیْ اٰتَیْنٰہُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْھَا فَاَتْبَعَہُ الشَّیْطَنُ فَکَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ ۔ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِھَا وَلٰکِنَّہٗٓ اَخْلَدَ اِلَی الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ ھَوٰہُ ج فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الْکَلْبِج اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْہِ یَلْھَثْ اَوْتَتْرُکْہُ یَلْھَثْط ذٰلِکَ مِثَلُ الْقُوْمِ الَّذِیْنَ کََذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاج فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ ۔ (الاعراف : 176، 175)
(اے پیغمبر ! ان کے سامنے اس شخص کی سرگزشت بیان کرو جس کو ہم نے اپنی آیات عنایت کیں تو وہ ان سے نکل بھاگا آخر کار شیطان اس کے پیچھے پڑگیا بالآخر وہ گمراہوں میں سے ہوگیا اگر ہم چاہتے تو اسے ان آیتوں کے ذریعے سے بلندی عطا کرتے مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہشوں کا پیرو بنا رہا تو اس کی مثال کتے کی مثال ہے اگر تم اس کو دھتکارو تب بھی زبان لٹکائے رکھتا ہے یا چھوڑ دو تب بھی زبان نکالے رکھتا ہے یہی مثال اس قوم کی ہے جس نے ہماری آیات کی تکذیب کی۔ تم یہ حکایات ان کو سناتے رہو تاکہ وہ غور کریں)
عہدِ الست سے منہ پھیرنے والے فرد یا قوم کی تمثیل اور اس کے نمایاں خدوخال
اس آیت کریمہ میں چونکہ الذی کا لفظ آیا ہے جو معرفہ کے لیے آتا ہے اس لیے اس سے دو خیال وجود میں آئے ایک تو یہ کہ یہ مثال کسی متعین شخص کی مثال ہے اس لیے الذی کے ساتھ اس کا ذکر کیا جا رہا ہے لیکن یہ اللہ اور اس کے رسول کی انتہائی اخلاقی بلندی ہے کہ اس کا نام لینا پسند نہیں فرمایا قرآن کریم تو کلام اللہ ہونے کی وجہ سے ہر لحاظ سے معیار سے بھی برتر کلام ہے اس لیے اگر اس میں کسی برے شخص کی مثال بیان کی گئی ہے تو اس کا نام ذکر کرنے سے اجتناب کرنا یقینا اس کلام کی بلندی کا تقاضا ہے لیکن ہم رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کو جب پڑھتے ہیں تو اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول بھی ہمیشہ اسی بلندی سے گفتگو فرماتے ہیں جب بھی کبھی کسی برائی پر تنقید کرنا مقصود ہوتا ہے تو آپ برائی کو تنقید کا ہدف بناتے تھے برائی کرنے والے کا کبھی ذکر نہیں فرماتے تھے بلکہ ہمیشہ آپ ﷺ کا انداز یہ ہوتا کہ ان لوگوں کا کیا حال ہے جو ایسی ایسی برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں اسی بلند اخلاقی کا لحاظ فرماتے ہوئے یہاں اس شخص کا نام نہیں لیا گیا اور کسی صحیح حدیث میں بھی ہمیں اس کا تذکرہ نہیں ملتا البتہ ! مفسرین نے شائد بعض اسرائیلی روایات کے حوالے سے بعض اشخاص پر اس مثال کو چسپاں کرنے کی کوشش کی ہے اور اس سلسلے میں مختلف نام لیے گئے ہیں۔ کوئی بلعم بن باعور کا نام لیتا ہے ‘ کوئی امیہ ابن الصلت اور کوئی صیفی ابن الرہب کا لیکن یقینی طور پر یہ کہنا کہ ان میں سے کون سا شخص مراد ہے یہ بہت مشکل ہے کیونکہ ہمیں قرآن و سنت میں ایسے کسی شخص کا نام نہیں ملتا اور نام میں رکھا بھی کیا ہے مقصود تو اس گمراہی کی طرف توجہ دلانا ہے جس کو اس تمثیل میں بیان کیا گیا ہے۔
دوسرا تصور یہ ہے کہ الذی اگرچہ معرفہ ہے لیکن تمثیلات میں ضروری نہیں کہ الذی سے اس کا ذکر کیا جائے اس سے کوئی معین شخص ہی مراد ہو بس اس اسلوبِ کلام سے متکلم کی غرض یہ ہوتی ہے کہ تمثیل میں جس گمراہی کا ذکر کیا جا رہا ہے اس کو سہولتِ فہم کے لیے ایک ایسے سراپا کی صورت میں پیش کیا جائے جسے پڑھنے والا یوں محسوس کرے کہ میں اس برائی کو اپنی آنکھوں سے مجسم شکل میں دیکھ رہا ہوں اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ برائی پوری طرح سامع کے ذہن میں بیٹھ جاتی ہے اور اس طرح اسے اس گمراہی کو سمجھنا اور اس سے اجتناب کرنا آسان ہوجاتا ہے اسی غرض سے اس آیت کریمہ میں یہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے مقصود اس سے کوئی متعین شخص نہیں بلکہ قوم بنی اسرائیل مراد ہے لیکن انھیں ایک متعین شخص کی صورت میں اس لیے بیان کیا گیا ہے تاکہ یہ اندازہ ہوجائے کہ ان کا بگاڑ اس حال کو پہنچ گیا تھا کہ ان کا ایک ایک فرد اس برائی کی سرتاپا تصویر بن گیا تھا۔ ان دونوں تصورات میں مآل اور انجام کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں مقصود دونوں کا ایک ہے کیونکہ اس مثال دینے سے قریش مکہ کو یہ سمجھانا مقصود ہے کہ جب قومیں بگڑتی ہیں تو ان کے بگاڑ کی بڑی بڑی علامتیں یہ ہوتی ہیں اور پھر جب یہ بگاڑ بڑھ جاتا ہے تو ان کا ایک ایک فرد برائی کی تصویر بن جاتا ہے تم بھی اگر اپنے موجودہ رویے سے تائب نہ ہوئے تو رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری سے تم عرصہ محشر میں پہنچ گئے ہو اب تمہاری قسمت میزان میں ہے اگر تم نے اس دعوت کو قبول کیا تو دنیا اور آخرت کی سرافرازیاں تمہارا مقدر بن جائیں گی ‘ لیکن اگر تم نے اس سے رو گردانی کی اور اپنے موجودہ رویے پر قائم رہے تو پھر تمہارا انجام وہی ہوگا جس کا اس تمثیل میں ذکر کیا گیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ تمثیل کیا ہے جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے وہ تمثیل یہ ہے کہ آپ تصور میں ایک شخص کو لائیے جو زندگی کے سفر پر رواں دواں ہے، اسے اس سفر کے دوران معلوم ہونا چاہیے کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے ؟ زندگی امانت ہے تو کس کی ؟ زندگی کے اس سفر کی منزل کیا ہے ؟ اور سمت سفر کیا ہونی چاہیے ؟ اس راستے کے سنگہائے میل کیا ہیں ؟ آداب سفر کیا ہونے چاہیں ؟ اس سفر کا انجام کیا ہوگا ؟ راستے میں آنے والی مشکلات سے کس طرح عہدہ برآ ہونا ہوگا ؟ اگر ہمت جواب دینے لگے تو توفیق کس سے مانگنی ہوگی ؟ خواہشاتِ نفس بہکانے لگیں تو صبر کی زنجیر کیسے پہننا ہوگی ؟ نفسانی آلودگیاں اگر راستہ گم کرنے لگیں تو روشنی کہاں سے حاصل کرنا ہوگی ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن سے اس مسافر کو سابقہ درپیش ہے اور ان باتوں کا جواب درحقیقت اس کا رخت سفر ہے اسی رخت سفر کو اس آیت کریمہ میں آیات کے علم کا نام دیا گیا ہے کہ اس مسافر نے جب راستہ چلنا چاہا تو ہم نے راستے میں پیش آنے والی تمام ضروریات اور مشکلات کے حوالے سے اسے علم سے نوازا اور ایک ایک بات اس کے سامنے واضح کردی تاکہ راستے میں وہ کسی الجھائو کا شکار نہ ہو لیکن وہ راستے کی مشکلات اور نفسانی خواہشات کی یلغار سے ہراساں ہو کر اللہ کے دئیے ہوئے علم کی پابندیوں سے نکل بھاگا اس نے جب دیکھا کہ انسانیت کے بلند مراتب پر ترقی کرنا ایک گھاٹی چڑھنے کے مترادف ہے اس نے نفس کی سہولت کے لیے اس راستے پر چلنے سے انکار کردیا پھر اس طرح اس سے نکل بھا گا جس طرح ایک کپڑے پہنا ہوا آدمی کپڑے اتار کر دیوانوں کی طرح بھاگ کھڑا ہوتا ہے اس آیت کریمہ میں فانسلخ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا معنی کپڑے اتار کر نکل بھاگنا ہوتا ہے چناچہ جیسے ہی اس نے سمت سفر بدلی اور غلط راستے کی طرف مڑا تو شیطان جو اس کے ساتھ ساتھ تعاقب میں تھا اور وہ برابر کوشش میں لگا ہوا تھا کہ مجھے موقع ملے تو میں اسے گمراہ کروں تو اللہ کے قانون کے مطابق اس کو وار کرنے کا موقع مل گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے۔
من یعش عن ذکر الرحمن نقیض لہ شیطاناً فھو لہ قرین
جو خدائے رحمن کی یاد دہانی سے منہ پھیرتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں پس وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔
اسی قانون کے تحت وہ شیطان کی گرفت میں آگیا اب شیطان نے مسلسل اس کو اپنے راستے پر چلانا شروع کیا اس نے اللہ کے احکام سے آزاد ہو کر زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن شیطان نے آہستہ آہستہ اسے گمراہی کی آخری منزل تک پہنچا کر چھوڑا اب اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے مقاصد اور اہداف یکسر بدل گئے۔ آیات خداوندی نے اسے بلندیوں اور رفعتوں کا راستہ دکھایا تھا جس میں قدم قدم پر مشکلات ضرور تھیں لیکن اللہ کی رحمتوں کے سایے اور آسودگی کی جنتیں بھی ساتھ ساتھ چلتی تھیں لیکن اس نے ان بلندیوں سے منہ پھیر کر اپنے آپ کو پستیوں کا مسافر بنا لیا۔ بلند پروازیوں کی بجائے خاک بازی اس کا منتہائے مقصود بن گئی ‘ وہ بجائے اوپر اٹھنے کے زمین ہی کی طرف جھکتا چلا گیا اب اس کے سامنے ہوائے نفس کی پیروی کے سوا کوئی راستہ نہ تھا دنیا کی حرص و طمع اس کے ارادوں پر غالب آگئی اب شب و روز اس کی سوچ کا محور یہ تھا کہ مجھے زیادہ سے زیادہ دنیا کس طرح سمیٹنی ہے۔ ہوسِ زر اور حرص و آز نے اسے ہر طرح کے اخلاق اور انسانی مکارم سے تہی دامن کردیا دنیا طلبی کے لیے دوسروں کے گھروندے مسمار کر دئیے اپنے محلات اٹھانا اس کا دل پسند مشغلہ ٹھہرا۔ بڑی سے بڑی اخلاقی قدر کو بھی دولت دنیا کے حصول کے لیے ترک کردینا اس کے لیے ایک معمول بن گیا ‘ دنیا طلبی کے لیے اسے ہزار ذلتوں کا سامنا کرنا پڑے اسے اس سے دریغ نہ تھا اس کے لیے خونی رشتوں کی قربانی ‘ وطن کی محبت سے دستبرداری ‘ ملی تشخص کی بربادی ‘ غرضیکہ کسی بھی بڑی سے بڑی انسانی قدر کی قربانی سے اسے انکار نہ تھا۔ اب اس کی مثال ایک کتے کی تھی جس کی ہر وقت لٹکی ہوئی زبان اور ٹپکتی ہوئی رال ایک نہ بجھنے والی آتش حرص اور کبھی بھی سیر نہ ہونے والی نیت کا پتہ دیتی ہے۔ آپ جب کبھی بھی اس کو چلتا دیکھیں تو آپ دیکھیں گے کہ وہ ہمیشہ زمین کو سونگھتا ہوا اور ہر پاک و ناپاک چیز کا اپنی ناک سے جائزہ لیتا ہوا چلتا ہے ‘ اس کی ناک زمین کو برابر سونگھنے میں لگی رہتی ہے کہ شاید کہیں سے بوئے طعام آجائے۔ وہ ہمیشہ اپنی زبان نکالے رہتا ہے، اسے پیار کیجیے جب بھی اس کی یہی حالت رہے گی دھتکارئیے ‘ جھڑکیے جب بھی اس کا یہی انداز رہے گا وہ بھوکا ہو جب بھی آپ اس کو اسی حالت میں پائیں گے ‘ پیٹ بھر کر کھلا دیجئے جب بھی اسے اسی ہیئت میں دیکھیں گے بڑے لوگوں کے کتے مخملیں جھول ‘ ریشمی پٹوں اور چاندی کے گھونگرو وں سے آراستہ ہوتے ہیں پیٹ بھر گوشت کھاتے اور دودھ پیتے ہیں لیکن کار کے اندر صاحب کی بغل میں بیٹھے ہوئے بھی زبان نکالے ہوئے رہیں گے اور پارک کے اندر سیر کرتے ہوئے بھی ان کی یہی کیفیت رہے گی۔ آپ کتے کو پتھر بھی مارئیے تو دوڑ کر پتھر کو بھی منہ سے پکڑ لے گا کہ شاید یہ بھی کوئی کھانے کی چیز ہو آپ اس سے منہ پھیر لیجیے یا اس کو جھڑک کر نکالنے کی کوشش کیجیے لیکن وہ لالچ کا مارا توقعات کی ایک دنیا دل میں لیے زبان لٹکائے ہانپتا کانپتا کھڑا ہی رہے گا۔ ساری دنیا کو بس پیٹ ہی کی نگاہ سے دیکھتا ہے کہیں کوئی بڑی سی لاش پڑی ہو جو کئی کتوں کے کھانے کو کافی ہو تو ایک کتا اس میں سے صرف اپنا حصہ لینے پر اکتفا نہ کرے گا بلکہ اسے صرف اپنے لیے ہی مخصوص رکھنا چاہے گا اور کسی دوسرے کتے کو اس کے پاس کھٹکنے نہ دے گا۔ بالکل یہی طور اطوار اس شخص کے ہوجاتے ہیں جو اللہ کی آیات سے نکل کر دنیا طلبی میں بڑھتا چلا جاتا ہے ‘ وہ اگر ایک غریب آدمی ہے تو رات دن امارت کی تلاش میں ہے اور اگر امیر آدمی ہے تو ہر وقت امارت کو بڑھانے کی فکر میں ہے اسے عہدہ و منصب پر فائز کر دیجئے وہ ملک وملت کا سودا کرنے سے بھی باز نہیں آئے گا۔ اگر کبھی اس کے جرائم کی پاداش میں اسے ذلت آمیز سزا بھی دے دی جائے تو جیسے ہی اس کی سزا ختم ہوگی وہ از سرِ نو کتے کی طرح زبان لٹکائے پھر دنیا کی طلب میں نکل کھڑا ہوگا یوں تو اس کی مثالیں آج بھی کم نہیں لیکن انگریز کی غلامی کے زمانے میں مسلمانوں کی پوری تاریخ پڑھ جائیے آپ کو قدم قدم پر اس کی مثالیں ملیں گیں۔ مسلمانوں کی تباہی اور بربادی میں سب سے اہم رول اسی کتے کی خصلت یعنی دنیا کی ہوس نے انجام دیا۔ میرجعفر اور میر صادق جیسے لوگ اسی دنیا طلبی نے پیدا کیے ‘ جاگیرداروں کی ایک طویل فہرست اسی کی یاد گار ہے۔ ہماری زندگی کے ہر شعبے میں اس کی مثالیں بکثرت آپ کو ملیں گیں ‘ حتی کہ بڑی بڑی مقدس مسندیں بھی اس سے بچی ہوئی دکھائی نہیں دیتیں۔ مسلمانوں نے معمولی فوائد کی خاطر کعبہ شریف پر گولیاں چلائیں ‘ پردوں میں لپٹے ہوئے ترک سپاہیوں کو پکڑ کر ذبح کیا ‘ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ( رح) کے مزار پر فائرنگ کی ‘ ہمارے بڑے بڑے لوگوں نے دنیوی مفادات کی خاطر ملک کی تاریخ کو غلامی کی لعنت سے داغدار کیا۔ چناچہ ایک شخص کی صورت میں ننگ انسانیت اس تمثیل کو پیش کر کے بتایا گیا ہے کہ یہ تمثیل دراصل بنی اسرائیل کی تمثیل ہے جو دنیا طلبی میں بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ گئے ‘ کہ کتے کی طرح ان کی زندگی کا ہدف اور زندگی کی ترجیحات اور زندگی کے مقاصد اور زندگی کے مطلوبات دنیا طلبی میں ضم ہو کر رہ گئے۔ معالی امور کی طلب ‘ کمالات کا حصول ‘ روحانی زندگی کی تڑپ ‘ کتاب اللہ کی بالا دستی ‘ دین کی اہمیت اور رضائے خداوندی کا حصول ان کے نزدیک خواب و خیال ہو کر رہ گیا ‘ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ قوم جسے اللہ نے ساری قوموں پر فضیلت عطا فرمائی ‘ وہ اللہ کی طرف سے پھٹکار اور غضب کا مورد ٹھہرئی اور دنیا کے لیے اسے عبرت بنادیا گیا۔ اے مشرکینِ مکہ ! تم بھی اسی راستے پر بڑھ رہے ہو تمہارے سامنے بھی دنیا طلبی کے سوا اور کوئی مقصد نہیں تم دنیا کے لیے جیتے ہو اور دنیا کے لیے مرتے ہو اس کی خاطر تمہیں کچھ بھی کرنا پڑے تو تم اس سے دریغ نہیں کرتے لیکن آخرت کی طلب تمہارے لیے ایک افسانہ ہے اسی وجہ سے تم پیغمبر آخر الزماں ﷺ کی بات سننے کے روا دار نہیں۔
Ayahs 7:176–178اگلی آیت کریمہ میں قریش کو مزید توجہ دلاتے ہوئے فرمایا
سَآئَ مَثَلَانِالْقَوْمُ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاوَاَنْفُسِھُمْ کَانُوْا یَظْلِمُوْنَ ۔ مَنْ یِّھْدِ اللّٰہُ فَھُوَ الْمُھْتِدِیْ ج وَمَنْ یُّضْلِلْ فَاْولٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ (الاعراف : 178، 177)
” کیا ہی بری تمثیل ہے اس قوم کی جس نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور خود اپنی جانوں پر ظلم کرتی رہی جسے اللہ ہدایت بخشے وہی ہدایت پانے والا بندہ ہے اور جنھیں وہ گمراہ کر دے وہی ہیں جو نامراد ہوتے ہیں “۔
آنحضرت ﷺ کو تسلی اور مشرکین کے لیے تہدیدو وعید
مشرکینِ مکہ کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ جس قوم نے ہماری آیات کی تکذیب کی اور انفرادی اور اجتماعی ہر سطح پر اللہ کی آیات کی تعمیل سے نکل بھاگے اور اپنی خواہشات کے مطابق زندگی بسر کی ان کا انجام تم نے دیکھ لیا ہے کہ بالآخر اس زندگی تک پہنچے جس کو کتے کی زندگی کہا جاتا ہے کہ دنیا کی نگاہوں میں اور پروردگار کی نگاہوں میں بھی ذلیل سے ذلیل تر ہوتے گئے بار بار اللہ کے عذاب کے کوڑے برستے رہے اور دنیا کی طاقتور حکومتیں انھیں بار بار ادھیڑتی کھدیڑتی رہیں۔ بالآخر ملک ان کے ہاتھوں سے جاتا رہا ‘ حکومت چھین گئی ‘ دوسروں کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے لگے ‘ قومی جمیت تباہ ہوگئی ‘ منتشر حالت میں مختلف ملکوں میں بکھر گئے لیکن کتے کی جو خصلت ان میں پیدا ہوگئی تھی اس میں کبھی کمی نہ آئی تاریخ کے ہر دور میں انھوں نے ہمیشہ دنیا کو اپنا معبود بنایا اور اس کی طلب میں دنیا سے پٹتے بھی رہے لیکن کبھی اپنا رویہ نہ بدلا بالکل کتوں کی طرح ہر وقت ان کی حرص و آز کی زبان لٹکتی رہی۔ مشرکینِ مکہ سے کہا جا رہا ہے کہ اس قوم کا انجام اور ان کی بری مثال تمہارے سامنے ہے انھوں نے اللہ کی آیات کا انکار کر کے نہ جانے کیا سمجھا تھا لیکن انجام کار یہ معلوم ہوا کہ انھوں نے اپنی ہی زندگی برباد کی اور اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہدایت کا رشتہ اللہ کے ہاتھ میں ہے جو اس راستے کی طلب پیدا کرتا ہے اور اس کے لیے فکر مند ہوتا ہے تو اللہ اس کو ہدایت عطا فرماتے ہیں لیکن جو اس سے بےنیاز ہو کر دنیا کا کتا بن جاتا ہے تو پروردگار نہ صرف اس کو ہدایت سے محروم کردیتا ہے بلکہ وہ ہر لحاظ سے دنیا میں نامراد زندگی گزارتا ہے اس آیت میں آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی بھی ہے اور قریش مکہ کے لیے تہدید وو عید بھی۔ آپ ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ یہ لوگ اگر ہدایت اختیار نہیں کر رہے تو آپ ﷺ ہرگز پریشان نہ ہوں کیونکہ ہدایت تو اسی کو ملتی ہے جو اس کا طلبگار ہوتا ہے اور اللہ کی عطا کردہ صلاحیتوں کو استعمال کرتا ہے لیکن جو لوگ اپنی آنکھوں اور اپنے دل و دماغ پر خواہشات کی پٹی باندھ لیتے ہیں اللہ انھیں گمراہی کے لیے چھوڑ دیتا ہے اور یہی لوگ ہیں جو حقیقت میں نامراد اور بدقسمت ہیں۔
گزشتہ بحث کا خلاصہ
گزشتہ آیات میں بیان کردہ ارشادات پر اگر اجتماعی طور پر نظر ڈالی جائے تو جو صورت حال دکھائی دیتی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم نے انسانی ہدایت کے لیے تخلیق آدم کے ساتھ ہی انسانوں سے اپنی ربوبیت کا عہد لیا تھا اور پھر اسے ان کے تحت الشعور میں زندہ رکھا اور اس کی یاد دہانی کے لیے مختلف وقتوں میں انبیاء کرام مبعوث ہوتے رہے اور کتابیں نازل ہوتی رہیں جس سے نوع انسانی کو وہ حقیقی علم میسر آتا رہا جس سے وہ اپنی زندگی کے ہر بگاڑ کو درست کرسکتے تھے اور اپنی ہر تاریکی کو نور سے بدل سکتے تھے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ انھیں یہ بات بھی سمجھائی گئی کہ تمہاری زندگی کی راہنمائی کے لیے اصل ضرورت تو وہی علم الٰہی ہے جو تمہیں انبیاء اور کتابوں کی معرفت دیا گیا ہے لیکن ساتھ ہی اس بات کو بھی یاد رکھو کہ صرف علم راہنمائی کے لیے کافی نہیں تاوقتیکہ اللہ کی توفیق بھی شامل حال نہ ہو تمہیں اگر ایک طرف علم کے حصول کے لیے مخلصانہ کوششیں کرنا ہیں تو ساتھ ہی اپنے اللہ سے ہمیشہ اس کی توفیق بھی مانگنی ہے اگر یہ دونوں باتیں تمہارے اندر جمع ہوں گی تو اللہ تعالیٰ تمہیں نہ صرف راہ راست پر قائم رکھے گا بلکہ تمہاری دنیا بھی سنوارے گا اور آخرت میں بھی کامیابیاں عطا فرمائے گا لیکن اگر تم نے علم الٰہی سے منہ پھیرلیا تو تباہی سے بچنا ممکن نہیں رہے گا اور اگر علم سے تو بہرہ ور ہوگئے لیکن اللہ کی توفیق کے لیے اپنے اندر طلب صادق اور اخلاص پیدا نہ کیا تو یہ علم بجائے تمہیں منزل تک پہنچانے کے تمہاری منزل ہی بدل دے گا اور بجائے اللہ کے راستے کے مسافر بنانے کے تمہیں شیطان کے راستے کا مسافر بنا دے گا اور پھر اسے سمجھانے کے لیے شخصی مثال بھی دی اور قومی بھی تاکہ بات پوری طرح واضح ہوجائے اور ان مثالوں کے آئینے میں پوری طرح یہ بات مجسم شکل میں سامنے لا کر کھڑی کردی گئی کہ دیکھو ہدایت و ضلالت کا اصل سر رشتہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے وہ جس میں ان دونوں صفات کو موجود پاتا ہے اسے ہدایت دیتا ہے اور جس میں دونوں صفات یا دونوں میں سے ایک صفت کو مفقود پاتا ہے تو اس کو گمراہ کردیتا ہے یعنی اس کو گمراہی کے راستے پر چلنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ اب اگلی آیت کریمہ میں اسی بات کو ایک مزید پیرائے میں بعض ضمنی سوالات کے ازالے کے ساتھ ساتھ واضح فرمایا گیا ہے۔