6. Surah Al-An'aam
الأنعامThe Cattle · 165 ayahsروح القرآن
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader
تعریف یا شکر کا سزاوار اللہ ہی ہے ‘ جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور بنایا تاریکی اور روشنی کو ‘ پھر تعجب ہے (ان پر) کہ جن لوگوں نے کفر کیا ‘ وہ اپنے رب کے ہمسر ٹھہراتے ہیں
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ 5 ط ثُمَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ یَعْدِلُوْنَ ۔ (الانعام : 1)
(تعریف یا شکر کا سزاوار اللہ ہی ہے ‘ جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور بنایا تاریکی اور روشنی کو ‘ پھر تعجب ہے (ان پر) کہ جن لوگوں نے کفر کیا ‘ وہ اپنے رب کے ہمسر ٹھہراتے ہیں)
جب یہ سورة نازل ہوئی ہے ‘ اس وقت دنیا میں غالب قوت بے خدا تہذیب تھی ‘ یعنی ایک ایسی تہذیب ‘ جو ان تصورات سے وجود میں آئی تھی ‘ جس میں اللہ کے وجود کا کوئی تصور نہیں تھا یا اللہ کے وجود کو تسلیم کیا بھی جاتا تھا تو اس کے تصور حاکمیت کا تو دور دور تک کوئی تصور موجود نہ تھا۔ وہ اللہ کو آسمانوں کا رب سمجھتے تھے۔ زمین کے رب انھوں نے نجانے کہاں کہاں اور کیسے کیسے بنا رکھے تھے۔ مذہبی طور پر وہ کسی بھی رب کو تسلیم کرتے ‘ لیکن عام معاشرتی ‘ سیاسی اور اجتماعی زندگی میں ایک ہی معبود تھا ‘ جس کی ساری دنیا میں پوجا ہو رہی تھی ‘ وہ ‘ وہ تھا جسے ہم مادہ ‘ دنیا ‘ دولت دنیا ‘ طاقت ‘ عزت ‘ پر سٹیج ‘ معیار زندگی ‘ شہرت اور حکومت کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اسی کا سکہ چلتا تھا اور اسی کی طاقت اور حکومت کے سامنے سب سرنگوں ہوتے تھے۔ فکر یہ نہیں تھی کہ انسانیت کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ؟ ہم جس کا کھاتے ہیں اور جس نے ہمیں تخلیق کیا ہے ‘ ہم اپنے اس خالق ومالک کے بارے میں بھی کبھی سوچیں کہ وہ کون ہے اور ہم سے کیا چاہتا ہے ؟ آخر اس زندگی کا انجام کیا ہے ؟ کونسی منزل ہے ‘ جس کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں ؟ لیکن اہل دنیا کو ان باتوں کے سننے کا ہوش نہ تھا۔ مگر مشکل یہ ہے کہ یہی وہ حقائق ہیں جن سے اس دنیا میں بھی انسانیت زندہ ہے اور انسان کا مستقبل محفوظ ہے اور قیامت میں انہی تصورات کے صحیح حل پر ہماری کامیابی کا دارومدار ہے۔ قرآن کریم نے انہی تصورات کو انسانوں میں راسخ کرنے کی کوشش کی اور جیسا کہ اس سورة کے تعارف میں عرض کیا جا چکا ہے کہ ان تصورات میں سب سے بنیادی تصور یا عقیدہ ‘ عقیدہ توحید ہے ‘ جس سے باقی عقائدیا تصورات خود بخود پھوٹتے ہیں ‘ اس لیے اس آیت کریمہ میں سب سے پہلے اسی عقیدے کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
سورة کا آغاز ” الحمد “ سے کیا جا رہا ہے۔ ” حمد “ کا معنی ہے ” ثنائے جمیل “۔ یعنی اچھی صفتیں بیان کرنا۔ اگر کسی کی بری صفتیں بیان کی جائیں تو یہ حمد نہ ہوگی ‘ حمد پر الف لام ہے ‘ یہ استغراق کے لیے بھی ہوسکتا ہے اور جنس کے لیے بھی۔ اس صورت میں الحمد اللہ کے معنی یہ ہوں گے کہ حمد وثناء میں سے جو کچھ اور جیسا کچھ بھی کہا جاسکتا ہے ‘ وہ سب اللہ ہی کے لیے ہے کیونکہ خوبیوں اور کمالوں میں سے جو کچھ بھی ہے سب اسی سے ہے اور اسی میں ہے۔
مشرکین مکہ کے اللہ کے متعلق تصورات
” حمد “ کے لفظ سے پروردگار کے بارے میں ایک بڑی غلط فہمی کا ازالہ بھی مقصود ہے۔ نزول قرآن کے وقت لوگوں میں جو گمراہیاں پائی جاتی تھیں ‘ ان میں ایک گمراہی یہ تھی کہ وہ اللہ کی الوہیت اور بادشاہوں کی بادشاہت کو آپس میں ایک دوسرے کے مشابہ سمجھتے تھے۔ لوگ دیکھتے تھے کہ ایک مطلق العنان بادشاہ کبھی خوش ہو کر انعام دینے لگتا ہے ‘ کبھی بگڑ کر سزائیں دینے لگتا ہے ‘ اس لیے خیال کرتے تھے کہ اللہ کا بھی ایسا ہی حال ہے۔ وہ کبھی ہم سے خوش ہوجاتا ہے ‘ کبھی غیض و غضب میں آجاتا ہے۔ طرح طرح کی قربانیوں اور چڑھاوئوں کی رسم ‘ اسی اعتقاد سے وجود میں آئی۔ لوگ دیوتائوں کا جوش غضب ٹھنڈا کرنے کے لیے قربانیاں کرتے اور ان کی نظر التفات حاصل کرنے کے لیے نذریں چڑھاتے۔ انسانوں کو چونکہ بالعموم مصیبتوں سے واسطہ رہتا ہے ‘ لہٰذا وہ اسے اللہ کی ناخوشی کا اظہار جان کر اللہ سے ہمیشہ ڈرتے اور اسے ایک ہولناک ذات تصور کرتے۔ وہ سمجھتے کہ جس ذات کی ناخوشی کی وجہ سے بجلیاں کڑکتی اور کوندتی ہیں ‘ بادل گرجتے اور درندے دھاڑتے ہیں ‘ وبائیں پھوٹتی ہیں ‘ آب و آتش کبھی بےقابو ہو کر موت کی تباہیاں لاتے ہیں ‘ خود وہ ذات کس قدر غضبناک اور ہولناک ہوگی۔ اس آیت کریمہ میں ” الحمد “ کا لفظ لا کر یہ تصور دیا جا رہا ہے کہ ” حمد “ اگر ثنائے جمیل کو کہتے ہیں تو ثنائے جمیل تو کسی جمیل کی ہوسکتی ہے ‘ کسی ہولناک کی تو نہیں ہوسکتی۔ اگر اس کی تعریف خوبصورت ہے تو وہ خود کتنا خوبصورت ہوگا۔ خوبصورت ذات سے پیار کیا جاتا ہے ‘ ڈرا تو نہیں جاتا۔ چناچہ اس عقیدہ کی اصلاح کے لیے قرآن نے جابجا واضح کیا کہ اللہ اور اس کے بندوں کا رشتہ محبت کا رشتہ ہے اور سچی عبودیت اسی کی عبودیت ہے جس کے لیے معبود صرف معبود ہی نہ ہو بلکہ محبوب بھی ہو اور کافر اور مومن میں فرق یہ بتایا کہ کافر ہمیشہ اپنے معبودوں کو اس طرح پیار کرتے ہیں جیسے اللہ سے پیار کرنا چاہیے اور جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے۔ فرمایا :
وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہِ ط (البقرہ : 165)
(جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ‘ ان کی زیادہ سے زیادہ محبت صرف اللہ ہی کے لیے ہوتی ہے)
مزید یہاں تک فرمایا کہ اگر تم اللہ سے محبت کا حق ادا کرو اور حق ادا کرنے کی صورت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا اتباع کرو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خود پروردگار تم سے محبت کرے گا۔ میں نہیں سمجھتا کہ ایک فانی انسان کے لیے اس سے بڑھ کر بھی کوئی اعزاز کی بات ہوسکتی ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے :
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہ َ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہ ُ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوبَکُمْ ط وَ اللہ ُ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ۔
(اے پیغمبر ! ان لوگوں سے) کہہ دو ‘ اگر واقعی تم اللہ سے محبت رکھنے والے ہو تو چاہیے کہ میری پیروی کرو (میں تمہیں محبت الٰہی کی حقیقی راہ دکھا رہا ہوں اگر تم نے ایسا کیا تو صرف یہی نہیں ہوگا کہ تم اللہ سے محبت کرنے والے ہوجاؤ گے بلکہ خود) اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا رحمت والا ہے “ (اٰل عمران : 31)
اللہ کی ذات کے بارے میں ‘ اس کے ہولناک اور ہیبت ناک ہونے کا تصور ‘ ایک اور غلط فہمی سے بھی پیدا ہوا۔ پہلی آسمانی کتابوں میں اور خود قرآن کریم میں بھی بار بار فرمایا گیا اتقوا اللہ ” اللہ سے ڈرو “۔ لوگوں نے اس سے یہ سمجھا کہ اس سے مراد شاید اللہ کی ذات سے ڈرنا ہے کیونکہ وہ ایک ہیبتناک اور ہولناک ذات ہے ‘ جو جابر و قاہر بادشاہوں کی طرح ‘ بات بات پر بگڑتی اور لوگوں کو سزائیں دیتی ہے حالانکہ اس کا مفہوم ہرگز یہ نہیں تھا۔ اس کا نہایت واضح مفہوم یہ ہے کہ اللہ تمہاری محبوب ذات ہے ‘ تم اس سے عشق و محبت کا دعویٰ رکھتے ہو ‘ جس سے محبت کی جاتی ہے ‘ اس کی ایک ایک ادا اور ایک ایک اشارے پر جان نچھاور کی جاتی ہے ‘ اس کے بارے میں یہ تصور بھی ممکن نہیں ہوتا کہ اپنی کسی بات پر اسے ناراض ہونے کا موقع دیا جائے۔ اس لیے تمہیں بھی چاہیے کہ اپنے اللہ کے احکام کی اطاعت اور اس کے قرب کے حصول کی خواہش میں کبھی کوئی ایسا کام نہ کرنا ‘ جس سے پروردگار تم سے ناراض ہوجائے۔ ظاہر ہے ‘ یہ ناراضگی اللہ کی طرف سے نہیں بلکہ تمہاری اپنی پیدا کردہ ہوگی۔
دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ تمہیں جو اللہ سے ڈرنے کو کہا جاتا ہے ‘ وہ اس لیے نہیں کہ اللہ بادشاہوں کی طرح بلاوجہ ناراض ہوتا ہے بلکہ اس سے ڈرنے کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ایک عادل ذات ہے۔ اس کی صفت عدل کا تقاضہ ہے کہ وہ نیک اعمال پر جزاء کی صورت میں رحمت کا معاملہ فرمائے اور بد اعمالیوں پر سزا دے کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو نظام عالم تہہ وبالا ہو کر رہ جائے اور اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو زندگی گزارنے کے لیے جو ایک نظام بخشا ہے ‘ جسے ہم اسلامی شریعت کہتے ہیں ‘ اس کی پابندی خواب و خیال ہو کر رہ جائے۔ جس قانون کی اطاعت پر خوشنودی نہیں ملتی اور اس کی معصیت پر سزا کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا ‘ دنیا میں احمق سے احمق آدمی بھی اس کی پابندی کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ اب اگر اللہ تعالیٰ اپنے دیئے ہوئے نظام کے بارے میں ‘ اس صفت عدل کے تقاضے کو بروئے کار نہ لاتا تو نظام عالم کے ساتھ ساتھ خود انسانی زندگی درہم برہم ہوجاتی۔ کسی کا کوئی حق محفوظ نہ رہتا ‘ کسی کی جان مال ‘ عزت آبرو کا کوئی تحفظ نہ ہوتا۔ اللہ کی رضا جوئی اور اس کی خوشنودی کو حاصل کرنے کی کسی کو فکر نہ ہوتی۔ قاتل کو قتل سے کوئی نہ روک سکتا کیونکہ اسے معلوم ہوتا کہ قتل کرنے کے نتیجے میں اسے کوئی سزا نہیں ملے گی اور اللہ کے راستے میں کوئی قربانی نہ دیتا۔ کوئی کبھی سر کٹوانے کو تیار نہ ہوتا کیونکہ اسے خوب معلوم ہوتا کہ یہاں اجر وثواب اور بدلے کا کوئی تصور نہیں۔ اس لیے پروردگار ‘ جب یہ کہتا ہے کہ ” لوگو ! اللہ سے ڈرو “ تو مطلب یہ ہے کہ بداعمالیوں کے انجام سے ڈرو۔ مزید یہ بات بھی کہ اللہ نے دنیا میں ایک قانون مکافات کو مستقل حیثیت سے جاری وساری فرمایا ہے۔ انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ دوسری تمام مخلوقات حتیٰ کہ عناصر کائنات میں بھی اس مکافات عمل کے قانون کو ہم جابجا جاری وساری دیکھتے ہیں یعنی اس نے ہر چیز کا کوئی نہ کوئی خاصہ مقرر کیا ہے اور جو چیز بھی اپنا وجود رکھتی ہے ‘ وہ اپنے اثرات و نتائج بھی رکھتی ہے تو جس طرح خدا نے اجسام و مواد میں خواص و نتائج رکھے ہیں ‘ اسی طرح اعمال میں بھی خواص و نتائج ہیں اور جس طرح جسم انسانی کے قدرتی انفعالات ہیں ‘ اسی طرح روح انسانی کے بھی قدرتی انفعالات ہیں۔ جسمانی موثرات جسم پر مرتب ہوتے ہیں ‘ معنوی مؤثرات سے روح متاثر ہوتی ہے۔ اعمال کے یہی قدرتی خواص و نتائج ہیں ‘ جن سے بچنے کے لیے اللہ سے ڈرنے کا حکم دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ اللہ ہی کا مقرر کردہ قانون ہے تو اس قانون کی گرفت سے ڈرنا ‘ گویا اللہ سے ڈرنا ہے۔
ہمیں چونکہ اس مکافات عمل کے قانون کا صحیح احساس نہیں اس لیے ہم بار بار اعمال کی جزا و سزا میں الجھ کر رہ جاتے ہیں حالانکہ قرآن کریم اسی کی طرف بار بار توجہ دلاتا ہے اور پھر یہ بات ایسی ہے کہ جس کی مثالیں ہماری گردوپیش میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ مثلاً آگ جلاتی ہے ‘ پانی ٹھنڈک پیدا کرتا ہے ‘ سنکھیا کھانے سے موت ‘ دودھ سے طاقت آتی ہے ‘ کونین سے بخار رک جاتا ہے۔ جب اشیاء کی ان تمام مکافات پر ہمیں تعجب نہیں ہوتا کیونکہ یہ ہماری زندگی کی یقینیات ہیں تو پھر اعمال کی مکافات پر کیوں تعجب ہوتا ہے ؟ افسوس ہم اپنے فیصلوں میں کتنے ناہموار ہیں۔
ہم گیہوں بوتے ہیں اور ہمارے دل میں کبھی یہ خدشہ نہیں گزرتا کہ گیہوں پیدا نہیں ہوگا۔ اگر کوئی ہم سے کہے کہ ممکن ہے ‘ گیہوں کی جگہ جوار پیدا ہوجائے تو ہم اسے پاگل سمجھیں گے۔ کیوں ؟ اس لیے کہ فطرت کے قانونِ مکافات کا یقین ہماری طبیعت میں راسخ ہوگیا ہے۔ ہمارے وہم و گمان میں بھی یہ خطرہ نہیں گزر سکتا کہ فطرت گیہوں لے کر ‘ اس کے بدلے جوار دے دے گی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ہم یہ بھی نہیں مان سکتے کہ اچھے قسم کا گیہوں لے کر برے قسم کا گیہوں دے گی۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ بدلہ دینے میں قطعی اور شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ پھر بتائو ! جو فطرت ‘ گیہوں کے بدلے گیہوں اور جوار کے بدلے جوار دے رہی ہے کیونکر ممکن ہے کہ اچھے عمل کے بدلے اچھا اور برے عمل کے بدلے برا نتیجہ نہ رکھتی ہو۔
اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوْا السَّیِّئَاتِ اَنْ نَّجْعَلَھُمْ کَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَوَآئً مَّحْیَاھُمْ وَ مَمَاتَھُمْ ط سَآئَ مَا یَحکُمُوْنَ ۔ وَخَلَقَ اللہ ُ السَّمٰوٰتِ وَالاَْرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍم بِمَا کَسَبَتْ وَھُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ ۔
(الجاثیہ : 22-21)
(جو لوگ برائیاں کرتے ہیں ‘ کیا وہ سمجھتے ہیں ہم انھیں ایسے لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان رکھتے ہیں اور جن کے اعمال اچھے ہیں ؟ دونوں برابر ہوجائیں زندگی میں بھی اور موت میں بھی ؟ اگر ان لوگوں کی فہم و دانش کا یہی فیصلہ ہے تو افسوس ان کے اس فیصلے پر !۔ اور اللہ نے زمین اور آسمان کو بےکار اور عبث نہیں بنایا ہے بلکہ حکمت و مصلحت کے ساتھ بنایا ہے اور اس لیے بنایا ہے کہ ہر جان کو اس کی کمائی کے مطابق بدلہ ملے اور یہ بدلہ ٹھیک ٹھیک ملے گا کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا)
” حمد “ کے لفظ سے ان حقائق کو منکشف فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا :
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالاَْرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّوْر
( اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور ظلمتوں اور نور کو وجود بخشا)
آیت کریمہ کے اس ٹکڑے میں دو باتوں کا ذکر فرمایا گیا۔ ایک اللہ کے وجود کا اثبات اور دوسرا ‘ اللہ کے ساتھ ہر طرح کے شرک کی تردید۔ قرآن کریم کا مکی سورتوں میں طرز استدلال یہ ہے کہ وہ عقل ‘ فطرت اور شواہد قدرت سے دلائل بہم پہنچاتا ہے اور کبھی مشرکین مکہ کے مسلمات کو بنائے دلیل بنا کر دلیل کی عمارت اٹھاتا ہے۔ ان آیات میں ان دونوں طریقوں سے دلائل مہیا فرمائے ہیں۔ سب سے پہلے ہم اس آیت کی روشنی میں ‘ اللہ کے وجود پر گفتگو کرتے ہیں۔ مشرکین مکہ اگرچہ اللہ کے وجود کے قائل تھے۔ کیونکہ اللہ کے وجود کا انکار گزشتہ صدی کے کیمونسٹوں کے سوا تاریخ انسانی میں شاید کبھی بھی کسی قابل ذکر گروہ نے نہیں کیا۔ البتہ اس کے ساتھ شرک عموماً کیا گیا۔ لیکن پروردگار کا کرم یہ ہے کہ وہ جن آیات میں شرک کی تردید کرتا ہے ‘ عموماً انہی آیات میں اپنے وجود پر استدلال بھی کرتا ہے۔ اس آیت میں بھی ایسا ہی ہوا۔ بظاہر تو اس آیت میں شرک کی تردید کی گئی ہے اور اس کے لیے عقلی استدلال سے بھی کام لیا گیا ہے اور مشرکین کے مسلمات سے بھی۔ لیکن اشارۃً اپنے وجود پر بھی دلیل ارشاد فرمائی ہے۔ وہ اس طرح کہ انسانوں کے پاس کسی چیز کے جاننے کے دو ذریعے ہیں۔ -1 حواس ‘ -2 عقل۔
” حواس “ سے مراد ہے دیکھنے ‘ سننے ‘ چکھنے ‘ سونگھنے اور چھونے کی قوت۔ ہم محسوسات کی دنیا میں انہی پانچوں ذرائع سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ جن چیزوں کا تعلق مشاہدات سے ہے ‘ انھیں ہم دیکھ کر جانتے ہیں۔ جن کا تعلق مسموعات سے ہے ‘ انھیں ہم سن کے سمجھتے ہیں۔ جن چیزوں کا تعلق ملموسات سے ہے اسے ہم چھو کر جانتے ہیں۔ جن چیزوں کا تعلق خوشبویات سے ہے ‘ انھیں ہم سونگھ کر معلوم کرتے ہیں اور جن چیزوں کا تعلق ماکولات سے ہے ‘ ان کا ہم چکھ کر یقین کرتے ہیں۔ غور فرما لیجئے ! ہمارے پاس تمام معلومات کے لیے یہی پانچ طریقے ہیں ‘ لیکن کتنی ایسی باتیں ہیں ‘ جو ان پانچ ذرائع سے ہمیں معلوم نہیں ہوتیں۔ ان کے جاننے کا ہمارے پاس ذریعہ عقل ہے۔ لیکن عقل کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ حواس خمسہ سے بےنیاز ہو کر کوئی نئی چیز دریافت کرے بلکہ وہ انہی کی مہیا کردہ معلومات سے استنباط اور استخراج کے ذریعے نئی ایجادات یا نئی معلومات فراہم کرتی ہے۔ لیکن اس کا دائرہ کار حواس خمسہ کی طرح عالم محسوس کے علاوہ اور کوئی نہیں۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ حواس خمسہ کا کام مزدوروں جیسا ہے اور عقل کا کام معمار جیسا۔ جس طرح مزدور کسی بھی عمارت کے لیے مٹیریل فراہم کرتے ہیں اور معمار اس میٹیریل سے ایک عمارت بنا کر کھڑی کردیتا ہے ‘ جس سے مزدوربالکل بیخبر ہوتے ہیں۔ اسی طرح عقل بھی حواس خمسہ کے مہیا کردہ مٹیریل یعنی معلومات سے استنباط اور استخراج کے ذریعے ‘ نئی چیزیں وجود میں لاتی ہے ‘ جس سے حواس خمسہ بالکل نابلد ہوتے ہیں۔ لیکن دونوں میں ایسا گہرا رشتہ ہے کہ عقل کی دریافت کردہ کوئی چیز ‘ حواس خمسہ کی مہیا کردہ معلومات سے غیر متعلق نہیں ہوسکتی۔ یہ ممکن نہیں کہ حواس خمسہ کسی اور طرح کی معلومات مہیا کریں اور عقل بالکل ایک نئی دنیا سامنے لا رکھے بلکہ اسی طرح ‘ جس طرح مزدور جیسا میٹریل فراہم کرتے ہیں ‘ معمار ویسی ہی عمارت بناتا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ مزدور تو کچی اینٹیں ‘ روڑے اور گارا فراہم کریں اور معمار تاج محل بنا کر کھڑا کر دے۔ یہی حال عقل اور حواس خمسہ کا ہے چونکہ انسان کے پاس یہی دونوں علم کے ذرائع ہیں۔ اس لیے جب کبھی اسے ایسی چیز سے واسطہ پڑتا ہے ‘ جس کا تعلق عالم محسوس سے نہ ہو تو اس کا علم بےبس ہو کر اپنی بےبسی کے اعتراف کی تصویر بنا کھڑا رہ جاتا ہے۔ اس وقت ہمارے پیش نظر اللہ کے وجود کا مسئلہ ہے کہ کیا واقعی پروردگار کا وجود ہے یا نہیں۔ چناچہ جب ہم ان دونوں ذرائع سے اس سلسلے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ہماری کوئی مدد نہیں کرتے کیونکہ ان دونوں کا تعلق عالم محسوس سے ہے اور اللہ تعالیٰ جسم سے پاک ذات ہے ‘ ایک لامحدود ذات ہے جبکہ حواس اور عقل محدود ہیں۔ اس لیے ہم لاکھ کوشش کریں ‘ لامحدود ذات کو اپنے محدود دائرے میں لانے سے عاجز ہیں۔ جس طرح ایک حوض کا پانی گلاس میں نہیں ڈالا جاسکتا اور ایک دریا کو حوض میں بند نہیں کیا جاسکتا حالانکہ یہ دونوں محدود ہیں۔ پھر اللہ کی ذات جو کہ غیر محدود ہے ‘ اسے عقل کے تنگ دامن میں کس طرح سمیٹا جاسکتا ہے۔ اکبر مرحوم نے ٹھیک کہا ؎
جو ذہن میں گھر گیا لا انتہا کیونکر ہوا
جو سمجھ میں آگیا پھر وہ خدا کیونکر ہوا
مشکل یہ ہے کہ پروردگار کے وجود پر یقین لانا عقیدہ توحید کی پہلی کڑی ہے اور عقیدہ توحید پورے دین کی بنیاد ہے اور ہمارے دونوں علمی ذرائع ‘ اس گتھی کو سلجھانے میں ہماری کوئی مدد نہیں کر رہے تو آخر اس مشکل کو حل کیسے کیا جائے ؟ چناچہ اسی گتھی کو سلجھانے کے لیے اللہ کے پیغمبر آئے ‘ ان پر اللہ کی کتابیں اتریں اور اس آیت کریمہ نے بھی اسی گتھی کو سلجھانے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جب ہم اس پر غور کرتے ہیں تو ہمارے سامنے علم و معرفت کا ایک اور دروازہ کھلتا ہے ‘ وہ یہ کہ اللہ کو جاننے کا طریقہ یہ ہرگز نہیں کہ اسے حواس اور عقل کی مدد سے جانا جائے بلکہ اس کے جاننے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی صفات کی مدد سے ‘ اس کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ واقعہ یہ ہے کہ پروردگار کی معرفت تو ایک مشکل بات سہی ‘ لیکن جن لوگوں کو ہم علم و معرفت کے حوالے سے ‘ اخلاق کی بلندی کے حوالے سے ‘ کارہائے نمایاں کے حوالے سے ‘ انکشاف اور اکتشاف کے حوالے سے اور ایجاد و اختراع کے حوالے سے عظمت کا مینار سمجھتے ہیں ‘ غور کرو ! ان کو جاننے کا طریقہ کیا ہے ؟ کیا کسی بڑے آدمی کو دیکھنے سے ‘ اس کی حقیقی عظمت نظر آجاتی ہے ؟ کیا کسی موجد کو دیکھنے سے ‘ اس کی قوت ایجاد دکھائی دے دیتی ہے ؟ کیا کسی معمار کو دیکھنے سے ‘ اس کا وہ جوہر جو پتھر کو آئینے کی شکل دیتا ہے ‘ نظر آجاتا ہے ؟ کیا اگر تمہارے سامنے بقراط اور سقراط اور افلاطون کو لاکرکھڑا کردیا جائے یا ارسطو ‘ مجسم شکل میں تمہارے سامنے آجائے یا لقمان کو تم اپنی آنکھوں سے دیکھ لو تو کیا وہ جوہر جس کی وجہ سے دنیا میں ان کا نام ہے ‘ وہ تمہاری آنکھوں کے راستے سے تمہارے علم کا حصہ بن جائے گا ؟ ظاہر ہے کہ یہ سارے عام انسانوں جیسے ‘ انسان تھے۔ ان کو دیکھوگے تو صرف ایک انسان کے سراپاکو دیکھوگے۔ ان کی حقیقت عظمت اور حقیقی معرفت کو کبھی نہ پا سکو گے کیونکہ ان کو جاننے کا صحیح راستہ انھیں دیکھنا نہیں بلکہ ان کی صفات کو جاننا ہے۔ معمار اپنی تعمیر میں ‘ شاعر اپنے شعر میں ‘ ناظم اپنے نظم میں ‘ ادیب اپنے ادب میں ‘ خطیب اپنی خطابت میں ‘ فلسفی اپنے فلسفہ میں اور مفکر اپنی فکر میں نظر آتا ہے۔ یہ معرفت کا وہ صحیح طریقہ ہے جو حقیقی معرفت کا سراغ دیتا ہے۔ بالکل اسی طریقہ سے تم اپنے خالق ومالک کو جان سکتے ہو۔ وہ خالق ہے تو اس کی صفت تخلیق میں اسے دیکھو ‘ وہ مالک ہے تو اس کی ملک میں اسے جانو ‘ وہ رازق ہے تو اس کی رزق رسانی میں اسے تلاش کرو ‘ وہ رحیم ہے تو اس کے رحم و کرم کے آئینے میں اسے ڈھونڈو۔ اس طرح تمہیں ہوا کا ایک جھونکا ‘ پانی کی ایک بوند ‘ روشنی کی ایک کرن ‘ درخت کے ایک ایک پتے کی ساخت اور پھول کی ایک ایک پنکھڑی ‘ حتیٰ کہ خود انسان کی اپنی ذات ‘ اس کی خبر دیتی ہوئی معلوم ہوگی۔
یہی وہ طریقہ ہے ‘ جس سے فی الجملہ اللہ کی معرفت حاصل ہوتی اور اس کی ذات کا یقین پیدا ہوتا ہے اور اسی سے حواس و خرد کی پیدا کردہ کوتاہیوں اور گمراہیوں کا بہت حد تک ازالہ ہوجاتا ہے۔ چناچہ قرآن کریم نے اسی طریقہ کو استعمال کرتے ہوئے جا بجا اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی قدرتوں کو ذکر کیا۔ ایک دانہ گندم کو اگانے کے لیے ‘ جس طرح پروردگار کی صفات کا ظہور ہوتا ہے اور اس کی قدرت کی نمود ہوتی ہے ‘ قرآن کریم کی کئی آیتوں میں اس کا ذکر کیا گیا۔ اقبال نے انہی آیتوں کا ایک معنی خیز ترجمہ کیا ‘ جس سے ہم بڑی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ صفات کے ذریعے موصوف کو سمجھنا یہی اصلاً صحیح طریقہ ہے اور باقی تمام وضعی طریقے ‘ وہ صفات سے خالی اور فانی مخلوقات کو سمجھنے میں تو معاون ہوسکتے ہیں ‘ لیکن اس میں نہیں۔ اقبال کہتا ہے ؎
پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون
کون دریائوں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب
کون لایا کھینچ کر پچھم سے باد سازگار
خاک یہ کس کی ہے کس کا ہے یہ نور آفتاب
کس نے بھر دی موتیوں سے خوشہ گندم کی جیب
موسموں کو کس نے سکھلائی یہ خوئے انقلاب
ان تمام سوالوں کا جواب اس کے سوا اور کیا ہے کہ وہ اللہ کریم کی ذات ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے پروردگار کو کیسے پہچانا ؟ فرمایا : شہتوت کے پتے سے۔ پوچھنے والے نے حیران ہو کر کہا کیا مطلب ؟ آپ نے فرمایا : شہتوت کا پتہ بکری کھاتی ہے تو مینگنی کردیتی ہے ‘ ریشم کا کیڑا کھاتا ہے تو ریشم پیدا کرتا ہے اور ختن کا ہرن کھاتا ہے تو اس کی ناف سے کستوری نکلتی ہے۔ اگر شہتوت کے پتے میں بجائے خود کوئی صلاحیت ہوتی تو وہ ہر جگہ یا مینگنی بنتا یا ریشم بنتا اور یا کستوری۔ لیکن کسی جگہ ریشم ‘ کسی جگہ کستوری اور کسی جگہ گوبر ‘ معلوم ہوتا ہے ‘ یہ پتے کی خصوصیت نہیں بلکہ کوئی اور ہاتھ ہے ‘ جو یہ کام کر رہا ہے ‘ وہ ہاتھ میرے اللہ کا ہاتھ ہے۔
” اللہ “ وحدہ لا شریک ہے
دوسری بات جو اس آیت کریمہ میں کہی گئی ہے ‘ وہ اس کائنات کے خالق کے ساتھ مخلوق کو شریک ٹھہرانا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ تاریخ کے ہر دور میں شاید ہی کوئی قوم ایسی گزری ہو ‘ جس نے اللہ کی ذات وصفات میں مخلوق کو شریک نہ ٹھہرایا ہو۔ ہمارے قریبی ہمسائے میں ہندو رہتے ہیں ‘ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے شرک کی کیفیت یہ ہے کہ انھوں نے ہر اس قوت کے سامنے سر جھکایا ‘ جس سے انھیں خوف محسوس ہوا یا نفع کی امید ہوئی۔ چناچہ ہر وہ چٹان ‘ جو ان کے راستے میں حائل ہوئی۔ ہر وہ دریا ‘ جس کی طغیانی نے ان کے دل کو دھلایا اور ہر زہریلا جانور ‘ جس سے انھیں خوف محسوس ہوا۔ انھوں نے اس کے سامنے سر جھکا دیا۔ اسی طرح دودھ دینے والی گائے ‘ چمکتا سورج ‘ درخشاں ستارے ‘ سایہ دینے والے درخت ‘ غرض جہاں انھیں نفع کی امید ہوئی ‘ ان کے سامنے وہ عبودیت اور بندگی کے مراسم بجا لائے اور پھر اس پر بس نہیں بلکہ مختلف قوموں نے مظاہرِ فطرت اور مظاہرِ قدرت کی پوجا کی اور بادشاہوں کو صرف اس لیے پوجا کہ وہ خدا کے اوتار ہیں اور بعض قوتوں کو دیوتا مان کر ان کی طرف عجیب و غریب صفات کا انتساب کیا اور عموماً بادشاہوں نے انہی دیوتائوں کی طرف اپنا نسب منسوب کیا اور مذہبی گروہ ‘ ان کی تائید کرتے رہے۔ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ فرعون و نمرود جیسے لوگ ‘ ربوبیت کا دعویٰ کرتے رہے اور اسی سے شہہ پا کر لوگوں نے تقدس کا لبادہ اوڑھا اور قسیس و راہب بن کر اپنی پوجا کرانے لگے۔
غرضیکہ ! جب ہم مختلف قوموں کو دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ عیسائی باوجود آسمانی مذہب رکھنے کے ‘ تین خدائوں کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہود نے بھی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بنا ڈالا اور خود اپنے بارے میں عجیب و غریب تصورات اپنا لیے۔ مجوسیوں نے یزدان اور اہرمن کے نام سے دو خدائوں کی پوجا کی ‘ ہندوئوں نے تینتیس کروڑ خدا بنا ڈالے اور مشرکین عرب نے تو ہر پتھر کو الوہیت کے منصب پر فائز کردیا۔ بعض دفعہ تو اس شرک کے نتیجے میں ایسے ایسے لطیفے دیکھنے میں آتے ہیں کہ آدمی انسانی عقل کے بارے میں بدگمان ہونے لگتا ہے۔ مثلاً ہندو پانی کو جل دیوتا مانتے ہیں اور آگ کو بھی دیوتا قرار دے کر اس کی پوجا کرتے ہیں۔ لیکن لطیفے کی بات یہ ہے کہ ایک دیوتا کو چولہے کے اوپر رکھا جاتا ہے اور دوسرے دیوتا کو نیچے جلایا جاتا ہے۔ اوپر والا ابل کر نیچے والے دیوتا پر گرتا ہے تو دونوں بھسم ہوجاتے ہیں۔ ہر گھر میں روزیہ تماشہ ہوتا ہے ‘ لیکن یہ شرک ختم ہونے میں نہیں آتا اور ان دیوتائوں کے بارے میں کوئی بدگمان نہیں ہوتا۔ آخر ایسی انسانی عقل کے بارے میں بدگمانی نہ ہو تو اور کیا ہو۔ کیسی عجیب بات ہے کہ انسان جب اکڑنے پہ آتا ہے تو اللہ کے سامنے اکڑ جاتا ہے اور جب جھکنے پہ آتا ہے تو پتھروں کے سامنے جھک جاتا ہے اور اپنے جیسے انسانوں کی پوجا کرنے لگتا ہے ؟ قرآن کریم نے اسی کی طرف متوجہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے اور تمام فکری قوتیں ‘ جو انسانی زندگی میں روشنی کی طرح ہیں اور تمام جہالتیں ‘ کج رویاں اور گمراہیاں اندھیروں کی مانند ہیں۔ انسانی ضرورت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو روشنی اگرچہ اس کی سب سے بڑی ضرورت ہے لیکن تاریکی بھی اللہ کی ایک نعمت ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ ان تمام کا خالق صرف پروردگار عالم ہے اور اس کے مقابلے میں ہر چیز مخلوق ہے ‘ چاہے وہ مظاہرِ قدرت و فطرت ہوں ‘ چاہے وہ تخت پر فائز بادشاہ ہوں ‘ چاہے تقدس کے دعویدار مذہبی پیشوائوں ‘ چاہے اس کائنات کی کوئی بھی قوت ہو ‘ وہ بہرحال مخلوق ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک مخلوق خالق کی ہمسر ہوسکتی ہے ؟ اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو انسانو ! تم نے اللہ کے ساتھ مخلوقات کو شریک کیوں کر رکھا ہے ؟ اس پر اظہار تعجب کرتے ہوئے پروردگار فرماتا ہے :
ثُمَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ یَعْدِلُوْنَ ۔
(پھر وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہے ‘ اپنے رب کے ہمسر بناتے ہیں)
ثُمَّ اظہار تعجب کے لیے بھی آتا ہے۔ اس پر پروردگار تعجب کا اظہار فرما رہے ہیں کہ ایسی بےعقلی کی بات شاید ہی کبھی کسی نے سوچی ہو کہ مخلوق کو خالق کے برابر لا کر بٹھا دیا جائے۔
اسی آیت میں اگر مزید غور کیا جائے تو اللہ کی وحدانیت پر بھی اس میں دلیل دکھائی دیتی ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جو بیشمار مخلوقات پیدا فرمائی ہیں۔ ان میں جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں ان میں تضاد اور تخالف نظر آتا ہے یعنی اپنی صفات میں وہ ایک دوسرے کے بالکل متضاد ہیں۔ اسی آیت میں دیکھ لیجئے آسمان اور زمین بالکل ایک دوسرے کی ضد ہیں اور ظلمت اور نور بالکل ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ لیکن اس کائنات کے مجموعی مقصد کے لیے ‘ ان میں ایک حیرت انگیز سازگاری پائی جاتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کا وجود دوسرے کے لیے ناگزیر ہے اور اگر ان میں سے ایک کا وجود ختم کردیا جائے تو دوسرے کی شخصیت نہ صرف کہ نامکمل رہ جائے بلکہ وہ اپنی اصل حیثیت ہی کھو بیٹھے۔ اس لیے سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس تضاد کے باوجود ‘ ان میں جو باہمی توافق اور سازگاری پائی جاتی ہے کہ کائنات کے مجموعی مقصد کو بروئے کار لانے کے لیے سب ایک دوسرے کے ممدومعاون ہیں ‘ مثلاً ایک دانہ گندم ہی کو دیکھ لیجئے۔ ایک کسان اس کو زمین میں دفن کردیتا ہے۔ زمین کی قوت روئیدگی اس کو زمین سے باہر لاتی ہے اور اسے پروان چڑھاتی ہے۔ آسمان سے پانی برستا ہے تو اس زمین کی آبیاری کا سامان ہوتا ہے۔ سورج کی کرنیں سمندر سے پانی کے ڈول بھر بھر کے کھینچتی ہیں اور ابر کی چادریں بچھاتی ہیں اور ہوا ان چادروں کو کھینچتے ہوئے کہاں سے کہاں لے جاتی ہے۔ موسم کے تغیرات ‘ پودوں کو پکانے اور لہکانے میں اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ سورج اور چاند ‘ اپنی اپنی ڈیوٹی پر لگے ہوئے ہیں۔ یہ سارے مل کر ایک دانہ گندم کی تیاری میں باوجود متضاد ہونے کے ‘ جس طرح ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں۔ اگر اس کائنات کا مالک ایک اللہ کے سوا کوئی اور بھی ہوتا تو یہ توافق تخالف کے اندر اور یہ سازگاری تضاد کے اندر کہاں سے وجود میں آتی بلکہ ان متضاد قوتوں کو مختلف خدا ‘ اپنی طرف کھینچتے تو اس کے نتیجے میں زمین و آسمان تباہ و برباد ہوجاتے۔
مختصر یہ کہ اس آیت کریمہ میں انتہائی خوبصورتی سے عقیدہ توحید کو بیان کیا گیا ہے ‘ جس میں اللہ کے وجود کو ثابت کرنے کیساتھ ساتھ کس طرح عقلی انداز میں شرک کی تردید فرمائی گئی اور پھر کس قدر حکیمانہ طریقے سے اللہ کی وحدانیت پر استدلال فرمایا گیا ہے۔ دوسرا عقیدہ جس پر قرآن زیادہ زور دیتا ہے اور اللہ کے نبی ہمیشہ اس کی تاکید فرماتے رہے ‘ وہ ہے ” عقیدہ آخرت اور انسان کی اصل حیثیت “۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں اسی موضوع کو چھیڑا گیا ہے۔
هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader
وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر ایک مدت ٹھہرائی اور مدت مقررہ اسی کے علم میں ہے پھر تعجب ہے کہ تم کج بحثیاں کرتے ہو
ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰٓی اَجَلاً ط وَاَجَلٌ مُّسَمًّی عِنْدَہٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ ۔
(وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر ایک مدت ٹھہرائی اور مدت مقررہ اسی کے علم میں ہے پھر تعجب ہے کہ تم کج بحثیاں کرتے ہو) (الانعام : 2)
انسان کی حقیقت
اس آیت کریمہ میں مختلف حقائق کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ سب سے پہلی حقیقت یہ کہ اللہ جو ساری کائنات کا خالق ہے ‘ وہی اے انسانو ! تمہارا بھی خالق ہے۔ لیکن ذرا اس کے کمال تخلیق کو ملاحظہ کرو کہ اس نے تمہیں مٹی سے بنایا۔ جیسے باقی ارضی مخلوقات کا آغاز مٹی سے ہی ہوا ‘ لیکن انسان کو بطور خاص اس بات کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے کہ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا فرما کر جن صلاحیتوں اور جن کمالات سے نوازا ہے ‘ اگر کبھی تمہیں اس کا ادراک ہوتا تو تم کبھی اپنے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے۔ ذرا اپنی حالت پر غور کرو کہ تم شاید تمام مخلوقات کی نسبت زیادہ کمزور اور بےبس پیدا کیے گئے ہو۔ پیدائش کے فوراً بعد نہ تم کسی کو پہچان سکتے ہو ‘ نہ تم اپنی غذا حاصل کرسکتے ہو۔ تم سراسر اپنے والدین کے رحم و کرم پر ہو۔ لیکن جب تم پروان چڑھ جاتے ہو اور جوان ہونے کے بعد علمی اور عملی زندگی میں مصروف ہوجاتے ہو اور پھر تمہاری صلاحیتوں کو بروئے کار آنے کا موقع ملتا ہے۔ تو ایسی ایسی حیرت انگیز ایجادات ‘ تمہاری ذہنی قابلیت کے نتیجے میں وجود میں آتی ہیں کہ دیکھنے والا حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ تم نے لوہے میں قوت پرواز پیدا کی ہے ‘ تم نے تاریکیوں کو روشنی میں بدل دیا ہے ‘ تم نے کمپیوٹر کی صورت میں انسانی دماغ کا متبادل تیار کردیا ہے ‘ تم نے زندگی کے ہر شعبے میں حیرت انگیز ایجادات سے انسانی زندگی کو مالامال کیا ہے ‘ لیکن اس میں تمہارا کوئی کمال نہیں ‘ یہ کمال اس خالق کا ہے ‘ جس نے تمہارے اندر یہ صلاحیتیں پیدا فرمائی ہیں۔ اب بجائے اس کے کہ تم اس کی شکرگزاری کرتے ہوئے ‘ اس کی معرفت پیدا کرو اور پھر اس کی خوشنودی کے حصول کو زندگی کا مقصد بنا لو ‘ تم ہو کہ اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو
دوسری بات اس کے ساتھ ہی جس کی طرف متوجہ کیا گیا ‘ وہ یہ ہے کہ انسان کی خودسری کا عالم یہ ہے کہ وہ اللہ کے سامنے اکڑ جاتا ہے اور اس کے احکام کو توڑتا ہے جبکہ اس کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے۔ اگر انسان میں ذرا بھی خودشناسی کا جوہر ہوتا تو اس کی اپنی بےحقیقتی اس کی نگاہوں کے سامنے رہنی چاہیے تھی کہ مٹی سے پید اہونے والی مخلوق کو کیا یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ اپنے اندر غرور اور نخوت پیدا کرے۔ اسے تو اپنی حقیقت کو محسوس کر کے سراپا انکسار ہونا چاہیے۔ کہا جاتا ہے کہ کوئی خدا رسیدہ درویش بےخیالی میں جا رہا تھا کہ سامنے سے آنے والے ایک متکبر آدمی سے ٹکرائو ہوگیا۔ اس متکبر آدمی نے غصے میں لال پیلا ہو کر کہا کہ تمہیں کچھ معلوم ہے ‘ میں کون ہوں ‘ تم اندھے ہو ‘ تمہیں معلوم نہیں کس سے ٹکرا رہے ہو ؟ اس درویش نے بڑے اطمینان سے جواب دیا کہ جی ہاں ! میں جانتا ہوں ‘ آپ کون ہیں اس نے کہا کہ تم کیا جانتے ہو ؟ درویش نے کہا : جی میں یہ جانتا ہوں کہ آپ کی تخلیق ایک گندے پانی سے ہوئی ‘ پھر جب تک آپ ماں کے پیٹ میں رہے ‘ گندہ خون آپ کی غذا رہا ‘ پھر جب آپ دنیا میں تشریف لے آئے تو اس وقت سے لے کر آج تک آپ کا حال یہ ہے کہ آپ رسیلے پھلوں کو کھاتے ہیں ‘ خوشبودار نعمتوں سے شادکام ہوتے ہیں اور نجانے کیسی کیسی نعمتیں آپ کی بھوک کی نذر ہوتی ہیں۔ لیکن پیٹ میں کچھ وقت گزرنے کے بعد یہی رنگا رنگ نعمتیں سڑ کر تعفن دینے لگتی ہیں اور وہ دن دور نہیں ‘ جب آپ کی موت آپ کی زندگی کا خاتمہ کر دے گی تو گھر والے آپ کو ایک بےکار چیز سمجھ کر قبر میں چھوڑ آئیں گے اور پھر قبر میں آپ کے جسم کو حشرات الارض کھائیں گے ‘ یہ ہے آپ کی زندگی کی حقیقت اور میں یہی جانتا ہوں۔ اگر آپ اس کے سوا کچھ اور ہیں تو وہ آپ فرما دیجئے۔
تیسری بات جو اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمائی گئی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ تم خوب جانتے ہو کہ تمہیں مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور یہ بھی تمہارا دعویٰ ہے کہ تم قبروں میں جانے کے بعد مٹی ہوجاؤ گے۔ لیکن اس سے جو تم نتیجہ نکالتے ہو ‘ اس سے زیادہ بےوقوفی کی بات اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ تم مٹی سے پیدا تو ہوئے ہو ‘ لیکن قبر میں جب دوبارہ مٹی ہوجاؤ گے تو تمہیں دوبارہ پیدا نہیں کیا جاسکتا ؟ ذرا سوچو کہ اس سے زیادہ نادانی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ اگر تمہیں پہلے مٹی سے پیدا کیا گیا ہے تو آخر اب دوبارہ مٹی سے پیدا ہونے میں کیا رکاوٹ ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا :
وَاِنْ تَعَجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُھُمْْ ئَاِذَا کُنَّا تُرَابًا ئَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ (الرعد : 5)
(اور اگر تم تعجب کرنا چاہو تو نہایت ہی عجب ہے ‘ ان کی یہ بات کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو کیا دوبارہ نئی خلقت میں آئیں گے ؟ )
ہر انسان کی موت کا وقت مقرر ہے
چوتھی بات جس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ‘ وہ یہ ہے ثُمَّ قَضٰٓی اَجَلاً ط ” پھر ایک مدت مقرر کردی گئی “ یعنی انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس بات کی اجازت نہیں دی گئی کہ وہ جب تک چاہے ‘ اس دنیا میں رہے بلکہ اس کی ایک مدت مقرر ہے ‘ جو اسے اس دارالعمل میں عمل کرنے اور آخرت کی تیاری کے لیے دی گئی ہے۔ اصلاً جو اس کی منزل ہے ‘ وہ آخرت ہے۔ یہاں تو ایک مختصر قیام ہے اور وہ بھی آخرت کی تیاری میں صرف ہوگا ‘ جو مستقل زندگی ہے۔ توجہ یہ دلائی جا رہی ہے کہ باقی حقائق کی طرح موت بھی ایک اٹل حقیقت ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ انسان اس بات کو جانتے ہوئے بھی اپنی موت سے کبھی نہیں ڈرتا اور کبھی بھول کر بھی اسے یہ خیال نہیں آتا کہ میں تو یہاں ایک خاص پیریڈ کے لیے بھیجا گیا ہوں ‘ جیسے ہی یہ گزرے گا ‘ مجھے واپس بلا لیا جائے گا۔ پھر اس گزرے ہوئے پیریڈ کا وہاں جا کر حساب بھی دینا ہے ‘ آخر میں نے اس کی کیا تیاری کی ہے ؟ مزید اس بات کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے کہ اے مشرکینِ عرب ! تمہیں قیامت آنے کا یقین پیدا نہیں ہوتا بلکہ تم اسے خلاف عقل یا عقل سے مستبعد سمجھتے ہو ‘ لیکن تمہیں یہ سامنے کی بات کیوں دکھائی نہیں دیتی کہ روز تمہارے سامنے جنازے اٹھتے ہیں ‘ قبریں بنتی ہیں ‘ ایک موت کا ہمہ گیر قانون ہے ‘ جس نے پوری انسانی آبادی کو اپنی آغوش میں لے رکھا ہے اور ہر فرد اپنی اپنی باری پر مرنے پر مجبور ہے ‘ کسی کو بھی اس سے مجال انکار نہیں۔ لیکن اس سے جو نتیجہ قبول کرنا چاہیے ‘ وہ نجانے تمہیں قبول کرنے میں کیوں عذر ہے کہ جب اس دنیا میں ایک ایک کر کے انسان مر رہا ہے تو آخر سب کا ایک ہی دن مرجانا ‘ تمہارے لیے قابل قبول کیوں نہیں ؟ اور یہ سب کا ایک دن مرنا ‘ وہی ہے ‘ جس کو اجل مسمیٰ کیا گیا اور اس کا علم کسی کو نہیں دیا گیا۔ اس کا آنا یقینی ہے ‘ لیکن متعین وقت کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔ وہ اجل مسمی اللہ کے پاس ہے اور وہی تمہاری حقیقی منزل ہے۔ یہاں تمہیں اسی کی تیاری کرنی چاہیے کیونکہ وہاں تمہیں اسی کی عدالت سے واسطہ پڑے گا ‘ وہ اس دن تم سے پوچھے گا کہ جن کو تم نے شریک بنا رکھا تھا ‘ بتلائو وہ کہاں ہیں ؟ انھیں بلائو تاکہ وہ تمہاری مدد کریں۔
قرآن میں اجل مسمیٰ کا مفہوم
اجلِ مسمیٰ کا لفظ مختلف معنی میں قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے۔ ایک تو اسی معنی میں جس کا ابھی ذکر ہوا۔ یعنی قیامت کے معنی میں۔ دوسرا اسکا معنی وہ مقررہ پیمانہ ہے ‘ جو کسی قوم کے اخلاقی زوال کی اس آخری حد کی خبر دیتا ہے ‘ جب قانون الٰہی حرکت میں آ کر اس کو تباہ کردیتا ہے۔ یہ پیمانہ افراد کی مدت حیات کیطرح نہیں ہے کہ کوئی نیک ہو یا بد ‘ جو مدت حیات اس کے لیے مقرر ہے ‘ اس کے ختم ہوجانے پر وہ لازمً مرجاتا ہے۔ بلکہ یہ اخلاقی قوانین کے تابع ہے۔ جب تک کوئی قوم اپنے ایمان و کردار کو محفوظ رکھے گی ‘ خدا اس کو قائم رکھے گا ‘ یہاں تک کہ وہ اجل مسمیٰ آجائے ‘ جو اس پوری کائنات کے لیے اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔ اس پیمانہ کے اخلاقی ہونے کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ ایک قوم کا پیمانہ لبریز ہونے کی آخری حد تک پہنچ رہا ہو اور اس کی اجل مسمیٰ آئی کھڑی ہو ‘ لیکن سوئی کے آخری نکتہ پر پہنچنے سے پہلے ہی وہ قوم توبہ اور اصلاح کے ذریعہ سے اپنے زندہ رہنے کا حق بحال کرلے۔ گویا یہ قوموں کے عروج وزوال کا پیمانہ ہے اور انسانی تاریخ ہر دور میں اس کی شہادت دیتی ہے۔ ہمارے سامنے روس کے زوال کا سفر اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا تھا اور چند سال پہلے کوئی ہوش مند اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ اسی طرح امریکہ اور بعض دوسرے ملکوں کو ان کی طاقت نے بدمست کردیا ہے۔ پوری دنیا میں جس طرح انھوں نے ظلم کی رات تان رکھی ہے ‘ اس کو دیکھتے ہوئے ‘ یہ پیش گوئی کرنا کوئی مشکل نہیں کہ ایسی قومیں دیر تک عروج آشنا نہیں رہتیں۔
دینی جماعتوں کے لیے اجل مسمیٰ
جس طرح قوموں کے عروج وزوال اور افراد کی حیات و ممات کے حوالے سے ایک اجل مسمیٰ ہے۔ اسی طرح خیر کی قوتوں اور غلبہ دین کے کام کرنے والوں کے لیے بھی ایک اجل مسمیٰ ہے۔ کیونکہ کوئی کام اچھا ہو یا برا ‘ باقی مخلوقات اور اعمال کے لیے ‘ اللہ نے جو قوانین مقرر کر رکھے ہیں ‘ وہ ان سے باہر نہیں۔ اللہ کا قانون یہ ہے کہ اس نے جس طرح ہر قوم کے لیے ایک اجل مقرر کی ہے۔ اسی طرح اس نے ہر چیز اور ہر کام کے لیے ‘ ایک اجل مقرر کی ہے۔ آپ چولہے پر ابلنے کے لیے پانی کی ہنڈیا چڑھاتے ہیں ‘ اس کو گرم کرنے کے لیے نیچے آگ جلاتے ہیں اور تھوڑی دیر کے بعد آپ دیکھتے ہیں کہ پانی ابلنے میں نہیں آیا تو آپ بےصبرے ہونے لگتے ہیں اور بعض دفعہ آگ بجھا کر اٹھ جاتے ہیں۔ آپ کا یہ عمل قیامت تک بھی ‘ ہنڈیا میں ابال نہیں آنے دے گا کیونکہ ہنڈیا کے ابلنے کے لیے ایک اجل ‘ یعنی وقت مقرر ہے اور وہ یہ ہے کہ جب اس پانی کو وہ مطلوبہ حرارت پہنچ جائے گی ‘ جو اس کے ابلنے کے لیے ضروری ہے تو تب یہ پانی ابلے گا اور جب تک یہ حرارت اسے میسر نہیں آتی ‘ وہ کبھی نہیں ابلے گا۔ چاہے آپ بےدلی سے کتنی ہی دفعہ ناتمام کوششیں کرتے رہیں۔ یہی حال دنیا میں خیر کی قوتوں کے نتیجہ خیز ہونے کا ہے کہ ان کی کامیابی کے لیے جتنی جدوجہد ‘ جتنا اخلاص ‘ جتنی سرفروشی اور جتنی قربانی کی ضرورت ہے ‘ جب تک اس حد تک یہ ضرورت پوری نہیں کی جائے گی ‘ اس وقت تک اس کے نتیجہ خیز ہونے کی اجل نہیں آئے گی۔ اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھ لیجئے کہ حدیبیہ میں ‘ جہاں چودہ سو سے زیادہ مسلمان آنحضرت ﷺ کے ہم رکاب تھے ‘ آپ کو اطلاع دی گئی کہ پانی بالکل ختم ہوگیا ہے۔ نہ پینے کو ہے اور نہ وضو کرنے کو۔ ڈھور ڈنگر پیاس کی وجہ سے بلک رہے ہیں اور سب مسلمان پریشان ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اس انصاری صحابی کو بلائو ‘ جو میری ضرورت کے لیے پانی اپنے پاس رکھتا ہے۔ جب ان انصاری صحابی کو بلایا گیا تو معلوم ہوا کہ پانی ان کے پاس بھی ختم ہوچکا ہے۔ تب آپ نے ایک بڑا پیالہ منگوایا اور اپنا دست مبارک اس میں رکھا اور ان انصاری صحابی کو حکم دیا کہ اپنا مشکیزہ میرے ہاتھ پر الٹ دو ۔ چناچہ مشکیزہ الٹا گیا ‘ اس میں سے چند قطرے پانی کے گرے۔ ان قطروں نے جیسے ہی حضور ﷺ کے ہاتھ کو مس کیا ‘ پانچ فوارے ہاتھ سے پھوٹے ‘ پیالہ پانی سے بھر گیا۔ آپ نے حکم دیا کہ اپنے اپنے برتن بھر لو۔ چناچہ چودہ سو آدمیوں نے اپنی ضرورت کے مطابق پانی جمع کیا۔ لیکن پیالہ اس وقت تک ابلتا رہا جب تک حضور نے ہاتھ نہیں اٹھا لیا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ فواروں کا ابلنا یقینا آنحضرت ﷺ کا معجزہ تھا اور اللہ کی طرف سے تائید و نصرت۔ لیکن اس کے لیے یہ کیا ضروری تھا کہ مشکیزہ آپ کے ہاتھوں پر الٹا جاتا ؟ اصل میں بتانا یہ مقصود تھا کہ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ کی طرف سے تمہیں تائید و نصرت سے نوازا جائے تو اس کا قانون یہ ہے کہ اپنے پاس موجود صلاحیتوں ‘ توانائیوں اور سرفروشیوں کے آخری قطرے تک کو جب تک تم اللہ کے راستے میں نچوڑ نہیں دو گے ‘ اس وقت تک اللہ کی طرف سے تائید و نصرت نہیں آئے گی ؎
بچا بچا کے نہ رکھ اسے ترا آئنہ ہے وہ آئنہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئینہ ساز میں