6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsروح القرآن

Ayahs 6:112–113

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:112 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے انسانوں اور جنوں کے اشرار کو ہر نبی کا دشمن بنایا۔ وہ ایک دوسرے کو پرفریب باتیں القا کرتے ہیں ‘ دھوکہ دینے کیلئے اور اگر تیرا رب چاہتا تو وہ یہ نہ کر پاتے۔ تو تم ان کو ان کی انہی افتراپردازیوں میں پڑے رہنے دو

وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:113 in the Quran reader

اور ایسا اس لئے ہے کہ اس کی طرف ان لوگوں کے دل جھکیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور تاکہ وہ اس کو پسند کریں اور تاکہ جو کمائی انہیں کرنی ہے ‘ وہ کرلیں

ارشاد ہوتا ہے : وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًاط وَلَوْ شَآئَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوْہُ فَذَرْھُمْ وَمَا یَفْتَرُوْنَ ۔ وَلِتَصْغٰٓی اِلَیْہِ اَفْئِدَۃُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ وَلِیَرْضَوْہُ وَلِیَقْتَرِفُوْا مَاھُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ ۔ (الانعام : 112۔ 113) (اور اسی طرح ہم نے انسانوں اور جنوں کے اشرار کو ہر نبی کا دشمن بنایا۔ وہ ایک دوسرے کو پرفریب باتیں القا کرتے ہیں ‘ دھوکہ دینے کے لیے اور اگر تیرا رب چاہتا تو وہ یہ نہ کر پاتے۔ تو تم ان کو ان کی انہی افتراپردازیوں میں پڑے رہنے دو اور ایسا اس لیے ہے کہ اس کی طرف ان لوگوں کے دل جھکیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور تاکہ وہ اس کو پسند کریں اور تاکہ جو کمائی انھیں کرنی ہے ‘ وہ کرلیں) ہر کام اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہوتا ہے اس وقت کے حالات میں آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے لیے جو سب سے تکلیف دہ بات محسوس ہوتی ہوگی وہ یقینا یہ ہوگی کہ اللہ کے آخری نبی اپنی دلنواز شخصیت اور قرآن کریم جیسے معجزانہ کلام کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی طرف بلا رہے ہیں لیکن عجیب بات ہے کہ معدودے چندلوگوں کے سوا کوئی سننے کا روادار نہیں ہوتا۔ بلکہ اشراف قریش نے تہیہ کرلیا ہے کہ لوگوں کو اپنے دام فریب سے نکلنے نہیں دیں گے اور اس دعوت کی طرف کسی کو بڑھنے کا راستہ نہیں دیں گے۔ جبکہ ان کے پاس سوائے جاہلیت قدیمہ کی چند رسوم کے اور کچھ بھی نہیں۔ ان کے پاس کوئی علم ہے نہ کوئی نظریہ۔ نہ وہ اپنے تئیں ایسے اخلاق کے حامل ہیں جس سے لوگ گرویدہ ہوں لیکن پھر بھی باہمی ہزاروں اختلافات کے باوجود اس نوزائیدہ دعوت کے خلاف سب اکٹھے ہوگئے۔ اب ان کو نہ عربوں کی عالی ظرفی کا پاس ہے نہ انھیں قبیلوں میں باہمی رواداری کا۔ وہ اس شدت پر اتر آئے ہیں کہ مسلمان حفاظت خوداختیاری کے طور پر شعب ابی طالب میں محصور ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان سب نے ایکا کرلیا ہے کہ وہ اسلام کی اس دعوت کو کسی طور بھی آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیں گے۔ چناچہ مسلمانوں کے ان احساسات کے پیش نظر انھیں تسلی دی جا رہی ہے کہ مخالفت کا یہ طوفان جس طرح روز بروز شدت سے بڑھتا جا رہا ہے یہ تاریخ میں پیش آنے والا پہلا واقعہ نہیں تم انبیاء کرام کی تاریخ کا مطالعہ کر کے دیکھو تو تمہیں اندازہ ہوگا کہ جب بھی اللہ کا کوئی نبی دنیا میں مبعوث ہوا ہے تو ہر نبی کی امت دعوت نے اس کے ساتھ اور اس کی دعوت کے ساتھ ہمیشہ یہی سلوک کیا ہے۔ زندگی کا کوئی دکھ ایسا نہیں جو اس راستے میں نبی اور اس پر ایمان لانے والوں نے برداشت نہ کیا ہو اور یہ بھی واقعہ ہے کہ اس کے مخاطب لوگ اپنے سارے اختلافات کے باوجود اس دعوت الی اللہ کی مخالفت میں ہمیشہ یکجا ہوتے رہے ہیں۔ اس لیے آج جو کچھ آپ کے ساتھ پیش آرہا ہے یہ تو اس راستے کی لازمی سنت ہے۔ کیونکہ زمانہ یونہی اپنے محسنوں کو تنگ کرتا ہے وہ درس صلح دیتے ہیں یہ ان سے جنگ کرتا ہے یہ تاریخ کی عجیب ستم ظریفی ہے کہ اللہ کے نبی اور ان کے راستے پر چلنے والے مصلحین ہمیشہ انسانی بھلائی اور ان کی دنیا و آخرت سنوارنے کے لیے ان کی اصلاح کا کام شروع کرتے ہیں اور اس کے لیے وہ ہر طرح ایثار اور قربانی سے کام لیتے ہیں۔ زندگی کی بڑی سے بڑی صعوبت برداشت کرتے ہیں۔ بعض دفعہ پوری زندگی محض لوگوں کی ہمدردی اور غمگساری میں اس طرح گزار دیتے ہیں کہ کوئی ایک رات بھی انھیں آرام سے گزارنے کا موقع نہیں ملتا۔ لیکن قوم کی طرف سے ان کو جو جواب ملتا ہے وہ ایسا حیران کن ہوتا ہے کہ تاریخ کا طالب علم اس کی کوئی بھی توجیہ کرنے سے عاجز رہتا ہے۔ وہ انھیں بھلائی کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کی قوم انھیں پتھر مارتی ہے وہ انھیں دعائوں سے نوازتے ہیں اور قوم انھیں گالیاں دیتی ہے وہ ان کے گھر اور ان کی آبادیاں بسانا چاہتے ہیں اور یہ ان کے گھر کھود ڈالنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ انھیں حقوق و فرائض سے آشنا کر کے ‘ ان کی زندگی ان کے لیے آسان کردیں اور اللہ سے ان کا رشتہ جوڑ کر آخرت میں ان کی سرخروئی کا امکان پیدا کردیں لیکن قوم اس کے جواب میں ان کی جان لینے کے درپے ہوجاتی ہے اور بعض دفعہ انھیں قتل کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتی ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جو تاریخ ایک امر واقعہ کے طور پر ہمارے سپرد کرتی ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں سے یہ کہا جا رہا ہے کہ جو کچھ آپ لوگوں کے ساتھ ہو رہا ہے یہ کوئی نیا نہیں لوگوں نے ہمیشہ پہلے بھی ایسا ہی کیا ہے اور آج بھی وہ ایسا ہی کریں گے۔ اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ ان کے اس رویے کو پروردگار نے اپنی طرف منسوب کیا ہے کہ ہم نے جنوں اور انسانوں میں سے اشرار کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے۔ پروردگار کا اسے اپنی طرف منسوب کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ یہ ہمارا بنایا ہوا ایک فطری قانون ہے جس پر ہمیشہ عمل ہوتا رہا ہے اور جو کام ہمارے ٹھہرائے ہوئے قانون کے مطابق ہوتا ہے دوسرے لفظوں میں اس کا یہی مطلب ہے کہ وہ ہم نے کیا ہے یعنی ہم نے یہ قانون بنادیا ہے کہ جس آدمی یا جس قوم نے اپنے سیرت و کردار کو بگاڑ لیا ہے اور وہ یکسر اللہ سے اپنا تعلق توڑ چکے ہیں اور انسانیت ان کے اندر قریب المرگ ہے یا مرچکی ہے۔ ایسے لوگ کبھی بھی اللہ کے نبی کی دعوت پر فوری طور پر لبیک نہیں کہہ سکتے۔ جو آدمی ایک خاص سمت میں راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرچکا ہو ‘ آپ کے لیے یہ بات آسان نہیں کہ آپ اس کا راستہ بدل سکیں۔ سگریٹ نوشی کوئی ایسی عادت نہیں جس کے بغیر زندگی گزارنا دشوار ہو لیکن آپ کسی بھی سگریٹ پینے والے سے آسانی سے اس کی یہ عادت چھڑا نہیں سکتے۔ گالی دینا ‘ جھوٹ بولنا ‘ شیخی بگھارنا ‘ دل آزاری کرنا ‘ دوسرے کی تحقیر کرنا ‘ یہ ایسے کام ہیں جنھیں کوئی بھی ہوش مند آدمی پسند نہیں کرسکتا لیکن جو لوگ ان عادات کے رسیا ہوگئے ہیں آپ اگر چاہیں کہ ان سے یہ عادات چھڑوا دیں تو آپ کو اس کے لیے بڑی طویل محنت کرنا پڑے گی اور اللہ کی طرف سے نازل کردہ دین تو انسان سے پوری زندگی تبدیل کرنے کا تقاضہ کرتا ہے وہ اس کے نظریات کو بدلتا ہے اس کے احساسات کی اصلاح کرتا ہے۔ اس کے طور اطوار کو صحیح سمت دیتا ہے اس کے معاملات میں خوش اطواری پیدا کرتا ہے اس کی انفرادی اور اجتماعی زندگی تہذیب ‘ تمدن اور ثقافت کے حوالے سے بالکل ایک نئی صورت اختیار کرتی ہے۔ اندازہ فرمایئے اتنی بڑی تبدیلی کی دعوت کو کس طرح آسانی سے قبول کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے جب بھی یہ تبدیلی کی دعوت کسی بھی قوم کو دی گئی ہے تو اس نے اس دعوت اور اس دعوت لانے والے کا راستہ روکنے کی کوشش کی ہے اور یہ چونکہ ایک فطری پر اسس ہے اس لیے اللہ نے اسے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے لیکن اس کے ضمن میں مسلمانوں سے یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ یہ تو اس دعوت کے راستے کی ابتدائی مشکلات ہیں لیکن یہ بھی ایک امر واقعہ ہے کہ اللہ نے سچائی اور خیر کی فطرت میں غلبہ مقدر فرمایا ہے اگر سچائی کی دعوت دینے والے استقامت اور اخلاص سے ایثار اور قربانی کا حق ادا کرتے ہوئے مسلسل کام کرتے رہیں تو ایک وقت آتا ہے جب حق غالب ہو کے رہتا ہے اس لیے مسلمانوں کے ساتھ اب جو کچھ ہو رہا ہے یہ اس راستے کا ایک لازمی تقاضہ ہے لیکن اس سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ مسلمان جس طرح قدم قدم آگے بڑھ رہے ہیں یقینا ایک بہتر مستقبل ان کے انتظار میں ہے۔ مزید یہ بھی فرمایا جا رہا ہے کہ تم ان مخالفین کے طریق مخالفت کو پہچانو ‘ انبیاء کی تاریخ سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ آپس میں چاہے کتنا بھی اختلاف رکھتے ہوں یہ دعوت اسلامی کی مخالفت میں سب اکٹھے ہوجایا کرتے ہیں اور پھر طریقے طریقے سے ایسا پرفریب انداز اختیار کرتے ہیں جس سے عوام کو صحیح بات سمجھنا آسان نہیں رہتا اور یہ پر فریب باتیں وہ مسلسل ایک دوسرے کو منتقل بھی کرتے رہتے ہیں یعنی ایک دوسرے کی تائید میں زبان و قلم کا استعمال جاری رکھتے ہیں اور آئے دن اللہ کے نبیوں اور ان پر ایمان لانے والوں کے بارے میں ایسے ایسے الزامات اٹھاتے ہیں اور اس طرح ان کی کردار کشی کرتے ہیں اور ایسی ایسی باتیں ان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ جس سے بیخبر عوام ان کی طرف سے زیادہ سے زیادہ بدگمان ہوجاتے ہیں اور انسانی فطرت یہ ہے کہ جب ایک آدمی بدگمانیوں کا ہدف بن جاتا ہے اور بدنامیاں اور رسوائیاں کامیابی سے اس کی طرف منسوب کردی جاتی ہیں تو پھر اسے اپنی بات لوگوں تک پہنچانا اور بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ چناچہ مشرکین مکہ نے بھی آنحضرت ﷺ کے خلاف ایسے ہی الزامات کا ایک طوفان اٹھا رکھا تھا۔ حضور جب شرک کی تردید کرتے تو وہ لوگوں کو یہ باور کراتے کہ دیکھو یہ شخص تمہارے آبائو اجداد کو مشرک کہتا ہے۔ جب آپ ان کے اس رویے پر تنقید فرماتے کہ تم نے اپنے طور پر حلت و حرمت کا اختیار کس طرح سنبھال لیا ہے کہ جس جانور کو چاہتے ہو حلال کردیتے ہو جس کو چاہتے ہو حرام کردیتے ہو۔ تو قریش مکہ عوام کو یہ کہہ کر گمراہ کرتے کہ دیکھو یہ شخص کس طرح تمہارے مذہبی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے اور کس طرح تمہارے دین کو بگاڑ رہا ہے۔ اور پھر اس معاملے میں مشرکین مکہ اکیلے نہیں تھے بلکہ اہل کتاب بھی برابر ان کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ باوجود اس کے کہ وہ عربوں کو امی کہہ کر اور جاہل بتا کر ہمیشہ ان کی تنقیص کرتے تھے اور کسی طرح بھی ان کو قابل ذکر نہیں سمجھے تھے لیکن آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں وہ برابر ان کو نئی نئی باتیں سجھاتے اور پوری طرح سے ان کی پشت پناہی کرتے۔ آج کے دور میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جب بھی کوئی اللہ کا بندہ قومی سطح پر ہمہ گیر اصلاح کا کوئی پروگرام لے کر اٹھتا ہے تو کس طرح ہمارے دانش ور باہمی اختلافات کے باوجود اس کی مخالفت میں اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ اس کی کردار کشی میں لگ جاتے ہیں۔ ایک پانچواں کلام حرکت میں آتا ہے جو تمام مخالفین میں واسطہ شر کا کام دیتا ہے اور نئے نئے اتہامات اور نئے نئے الزامات اختراع کرتا ہے۔ اس طرح سے اس پروگرام کو ناکامی سے دوچار کردیا جاتا ہے اور اس میں جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے اسی کو یہاں زخرف القول قرار دیا گیا ہے یعنی لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے پرفریب باتوں کا ایک جال بچھا دیا جاتا ہے۔ آیت کریمہ کے آخر میں پھر اسی بنیادی حقیقت کو جس کا پہلے بھی ذکر کیا گیا ہے تبلیغ و دعوت کے نکتہ نگاہ سے دوبارہ یاد دلایا جا رہا ہے کہ اگر تیرا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے یعنی وہ جو کچھ کر رہے ہیں اور جس طرح اپنی عاقبت کی بربادی کے لیے رات دن لگے ہوئے ہیں یہ سب کچھ وہ اپنے طور سے کبھی نہیں کرسکتے تھے اللہ نے ان کو اس کے لیے مہلت دی اور ان کو یہ دی ہوئی مہلت اصل میں اسلامی قوتوں کے لیے مہمیز کا کام دیتی ہے یعنی جب وہ ایک غلط کام کے لیے اور صحیح کام کو ناکام کرنے کے لیے اس قدر مساعی بروئے کار لا رہے ہیں تو پھر اے مسلمانو ! تم جو اللہ کے دین کے غلبے کے لیے کوشاں ہو تمہیں ان کے مقابلے میں اسی قدر کام کرنے کی ضرورت ہے جس طرح باد مخالف کی تندی عقاب کو اونچا اڑنے پر مجبور کرتی ہے اور جب نوا کو اثر اندازی میں دشواری پیدا ہوتی ہے تو اسے مزید تیز ہونا پڑتا ہے اسی طرح اسلامی قوتوں کو جب ان مخالفانہ قوتوں سے سخت مقابلے کا سامنا ہوتا ہے تو انھیں بھی اپنی کوششوں میں بیش از بیش تیزی پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن رہی یہ بات کہ جن کو برائی پھیلانے کی مہلت ملی ہے وہ اپنے کام سے رکتے ہیں یا نہیں مسلانوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ جس تہمت طرازی کے کام میں لگے ہوئے ہیں انھیں ان کا کام کرنے دو ۔ اس سے آپ دل شکستہ نہ ہوں انھیں اپنا کام کرنا ہے اور آپ کو اپنا کام۔ وہ اپنے کام کی سزا بھگتیں گے اور آپ کے کام کی جزا اللہ کے یہاں بہت بڑی ہے اور مزید یہ بات بھی کہ انجام کار غلبہ آپ کی دعوت کو ملے گا وہ آخر ناکام و نامراد ہو کر رہیں گے اس کے بعد کی آیات کریمہ میں ایک مزید حقیقت سے پردہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اسلامی دعوت کی مخالفت کرنے والوں کو اللہ جو مہلت عمل دیتا ہے وہ اس لیے بھی ہوتی ہے تاکہ جتنے ان جیسے برے لوگ ہیں جن کے دل و دماغ ان کی طرح بگڑ چکے ہیں اور جنھوں نے صرف دنیا کو اپنا مقصد زندگی بنا لیا ہے اور انھیں اس بات کی بالکل پرواہ نہیں کہ ایک دن انھیں موت بھی آنی ہے اور جواب دہی کے لیے اللہ کے حضور حاضر بھی ہونا ہے۔ وہ لوگ باطل کی دعوت دینے والوں اور اسلامی دعوت کی مخالفت کرنے والوں کا ساتھ دیں اور ان کی دعوت پر ان کے دل مائل ہوں اور وہ ان جیسی زندگی کو پسند کر کے اپنی اس روش پر مزید ثابت قدم ہوجائیں جو چند روزہ زندگی کے فوائد جمع کرنے کے لیے انھوں نے اختیار کر رکھی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی دعوت دینے والوں کے لیے امکانات کھلے رکھے ہیں اور لوگوں کے لیے اس بات کے امکانات مہیا کیے ہیں کہ وہ اس دعوت کو قبول کریں اور اپنی دنیا اور آخرت کا سامان کرلیں اور پھر ایک حق کا قافلہ بن کر اللہ کی زمین پر حق کو غالب کردیں۔ یہی سارے امکانات اہل باطل کو بھی اللہ نے دے رکھے ہیں اس طرح یہ ایک برابر کا مقابلہ جاری رہتا ہے اور جیت اس کا مقدر بنتی ہے جو حق کا راستہ اختیار کر کے اخلاص عمل کا ثبوت دے کر راہ کی صعوبتوں کو برداشت کرتے ہوئے اللہ کو راضی کرلیتا ہے۔ اس طرح حق غالب آجاتا ہے اور باطل سرنگوں ہوجاتا ہے۔ اندازہ فرمایئے ! کس طرح راہ حق کے مسافروں کے لیے ایک ایک حکمت واضح کی جا رہی ہے راستے میں پیش آنے والی مشکلات پر قابو پانے کے لیے ان کی ہمتوں کو توانا کیا جا رہا ہے اور صاف صاف یہ بات کھول کر بیان کی جا رہی ہے کہ دنیا کے بگڑے ہوئے لوگ ایک قافلہ بن کر تمہاری مخالفت میں اٹھیں گے اور ہر ممکن طریقے سے تمہارا راستہ روکنے کی کوشش کی جائے گی۔ تمہاری کامیابی کا راستہ صرف اس عزم جواں میں پوشیدہ ہے جس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کی زبان سے کرایا جا رہا ہے۔
Ayahs 6:114–115

اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 6:114 in the Quran reader

کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور منصف ڈھونڈوں ‘ درآنحالیکہ وہی ہے ‘ جس نے تمہاری طرف کتاب اتاری مفصل اور جن کو ہم نے کتاب عطا کی وہ جانتے ہیں یہ تیرے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے ‘ حق کے ساتھ۔ تو تم ہرگز شک میں پڑنے والوں میں سے نہ ہوجیو

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:115 in the Quran reader

اور تمہارے رب کی بات پوری ہوئی ٹھیک ٹھیک اور عدل کے ساتھ اور کوئی نہیں جو اس کی باتوں کو بدل سکے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

ارشاد ہوتا ہے : اَفَغَیْرَ اللہِ اَبْتَغِیْ حَکَمًا وَّ ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ اِلَیْکُمُ الْکِتٰبَ مُفَصَّلاً ط وَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّہٗ مُنَزَّلٌمِّنْ رَّبِّکَ بِالْحَقِّ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ ۔ وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا ط لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ ج وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (الانعام : 114۔ 115) (کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور منصف ڈھونڈوں ‘ درآنحالیکہ وہی ہے ‘ جس نے تمہاری طرف کتاب اتاری مفصل اور جن کو ہم نے کتاب عطا کی وہ جانتے ہیں یہ تیرے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے ‘ حق کے ساتھ۔ تو تم ہرگز شک میں پڑنے والوں میں سے نہ ہو۔ جیو اور تمہارے رب کی بات پوری ہوئی ٹھیک ٹھیک اور عدل کے ساتھ اور کوئی نہیں جو اس کی باتوں کو بدل سکے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے) منصف صرف اللہ تعالیٰ ہے استدلال کے مختلف طریقوں سے اسلامی دعوت اور توحید کی حقانیت کو ثابت کرنے اور پیش کردہ مطالبات کا جواب دینے کے بعد نہایت استقلال اور استقامت کے ساتھ آنحضرت ﷺ سے یہ کہلوایا جا رہا ہے کہ اب جبکہ پوری طرح حق واضح ہوچکا تو کیا میرے لیے اس بات کا امکان موجود ہے کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کو یہ حق دوں کہ وہ مجھے بتائے کہ مجھے زندگی کس طرح گزارنی ہے یعنی انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے کیا اسلوب ہونا چاہیے۔ اس کے لیے آئین اور قانون کیا ہو اس کی حلت و حرمت کا حق کسے حاصل ہو ‘ کون ہے جو میری زندگی کے ہر موڑ پر میری رہنمائی کرے ؟ ظاہر ہے کہ یہ حق اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں دیا جاسکتا۔ وہی ہے جو انفرادی اور اجتماعی زندگی کے معاملات میں حکم اور منصف بننے کا حق رکھتا ہے۔ اور پھر اس کا مزید کرم یہ ہے کہ اس نے اپنا یہ حق ثابت کرنے اور اپنی رہنمائی کو واضح کرنے کے لیے ایک مفصل کتاب بھی نازل کردی ہے اس کتاب کو دیکھتے ہوئے ایک غیر جانبدار آدمی جسے عصبیت نے اندھانہ کر رکھا ہو وہ کبھی یہ گمان نہیں کرسکتا کہ یہ کتاب اللہ کے سوا کسی اور کی ہوسکتی ہے اور نہ یہ کہہ سکتا ہے کہ جس پر یہ کتاب نازل ہوئی ہے وہ اللہ کا پیغمبر نہیں کیونکہ اس کتاب کی عجیب شان ہے کہ اس کی زبان اور اس کی پیش کردہ تعلیم اپنے اندر ایک ایسا اعجاز رکھتی ہے جس نے تمام جن و انس کو گنگ کر کے رکھ دیا ہے ہر جاننے اور پہچاننے والا اسے پڑھ کر یہ اندازہ کرسکتا ہے کہ اس کتاب کی ایک آیت کی مثل لانا بھی انسانی طاقت سے ماوراء ہے تو جس کتاب کی شان یہ ہو اس کے نازل ہوجانے کے بعد میں اللہ کے سوا کسی اور کو حکم کیسے تسلیم کرلوں۔ اس کتاب کی یہاں چند صفات بیان کی گئی ہیں۔ 1 وہ اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ ظاہر ہے جس کتاب میں یہ اعجازی شان پائی جاتی ہو وہ اللہ ہی کی طرف سے ہی نازل ہوسکتی ہے۔ 2 وہ ایک کتاب کامل اور کتاب معجز ہے کہ سارا جہاں اس کے مقابلے سے عاجز ہے۔ 3 تمام اہم اور اصولی مضامین اس میں بہت مفصل اور واضح انداز میں بیان کردیئے گئے ہیں کہ زندگی کا کوئی حل طلب مسئلہ اس کی تعلیم سے باہر نہیں رہا۔ 4 یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اہل کتاب کا وہ گروہ جو آخرت پر یقین رکھتا ہے اور اپنی کتاب کی تعلیم پر عامل ہے وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور یہی اہل کتاب کا وہ گروہ ہے جو آنحضرت ﷺ پر ایمان بھی لایا۔ قرآن کریم کی یہ صفات بیان کرنے کے بعد رسول کریم ﷺ سے خطاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ آپ شبہ کرنے والوں میں سے نہ ہوں حالانکہ یہ بات واضح ہے کہ حضور تو کبھی بھی شبہ کرنے والوں میں سے نہ تھے اور نہ ہوسکتے تھے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ نہ میں نے کبھی شک کیا اور نہ کبھی سوال کیا تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں سوال اگرچہ آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن روئے سخن دوسروں کی طرف ہے اور مقصود اس سے یہ بتانا ہے کہ قرآن کریم کی صداقت کے بارے میں اگر آنحضرت ﷺ بھی شبہ کریں تو اللہ کے نزدیک وہ بھی قابل قبول نہیں تو دوسرا کوئی کس شمار قطار میں ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کی نگاہ میں اس کتاب کی قدر و عظمت کیا ہے۔ اس کے بعد اگلی آیت میں قرآن کریم کی اور دو صفات بیان ہوئی ہیں یعنی قرآن کریم ایک کامل کلام ہے۔ سچائی میں بھی اور عدل میں بھی تو یہاں جو یہ فرمایا جا رہا ہے کہ تیرے رب کے کلمے سچائی اور عدل میں پورے ہیں مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم ان دونوں پہلوئوں میں ہر لحاظ سے مکمل ہے۔ قرآن کریم کے کل مضامین دو قسم کے ہیں ایک وہ جن میں تاریخِ عالم کے عبرت آموز حالات و واقعات اور نیک اعمال پر وعدہ اور برے اعمال پر سزا کی وعید بیان کی گئی ہے اور دوسرے وہ جن میں انسان کی صلاح و فلاح کے احکام بیان کیے گئے ہیں۔ ان دونوں قسموں کے متعلق قرآن مجید میں یہ صفتیں بیان ہوئیں صدقاً و عدلًا۔ صدق کا تعلق پہلی قسم سے ہے یعنی جتنے واقعات و حالات یا وعدہ و وعید قرآن میں بیان کیے گئے ہیں وہ سب سچے اور صحیح ہیں ان میں کسی غلطی کا امکان نہیں اور عدل کا تعلق دوسری قسم یعنی احکام سے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام عدل پر مبنی ہیں اور لفظ عدل کا مفہوم دو معنی کو شامل ہے۔ ایک انصاف جس میں کسی پر ظلم اور حق تلفی نہ ہو اور دوسرے اعتدال کہ نہ بالکل انسانی نفسانی خواہشات کے تابع ہوں اور نہ ایسے جن کو انسانی جذبات اور اس کے فطری ملکات برداشت نہ کرسکیں۔ مزید فرمایا کہ قرآنی احکام کی ایک صفت یہ ہے کہ کوئی ان کو بدلنے والا نہیں۔ بدلنے کی ایک صورت تو یہ ہوسکتی ہے کہ کوئی اس میں غلطی ثابت کرے اس لیے بدلا جائے اور یا یہ کہ کوئی دشمن زبردستی اس کو بدل ڈالے۔ یہ دونوں باتیں قرآنی احکام میں ممکن نہیں۔ اس میں غلطی کا امکان اس لیے نہیں کہ یہ احکام دینے والا اللہ تعالیٰ ہے جس کا علم اس قدر مکمل ہے کہ وہ ہر زمانے کے بدلے ہوئے حالات اور انسانی فطرت اور احساسات پر ان کے پڑنے والے اثرات کو بتمام و کمال جانتا ہے۔ اس کا علم انسانی حدود میں محدود نہیں اور نہ انسانی جذبات سے متاثر ہونے والا ہے اور نہ اس پر وقت کے اثرات کا سایہ پڑتا ہے جبکہ انسانی قوانین اور دساتیر کا حال یہ ہے کہ آج ایک قانون بنتا ہے ایک خاص وقت گزرنے کے بعد قانون بنانے والے اسے واپس لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ دنیا کی پارلیمانی تاریخ کو پڑھ کر دیکھ لیجئے خاص طور پر مغربی ممالک میں جن کو اپنے قانون اور فلسفہ قانون پر بڑا ناز ہے قدم قدم پر آپ کو اس کی مثالیں ملیں گی۔ حقائق اور صداقتوں پر جو چیز سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہے اور ہزار بچتے ہوئے بھی جس کے اثر سے بچنا بعض دفعہ مشکل ہوجاتا ہے وہ انسانی آراء کی قلت و کثرت ہے اس کا ذکر اگلی آیات کریمہ میں کیا جا رہا ہے۔
Ayahs 6:116–117

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:116 in the Quran reader

اور اس زمین والوں میں سے اکثر ایسے ہیں کہ اگر تم نے ان کی بات مانی تو وہ تمہیں خدا کے راستے سے گمراہ کر کے چھوڑیں گے۔ یہ محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور اٹکل کے تیر تکے چلاتے ہیں

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:117 in the Quran reader

بیشک ! تیرا رب خوب جانتا ہے ‘ ان کو ‘ جو اس کے راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اور خوب جانتا ہے ‘ ان کو ‘ جو ہدایت یاب ہیں

ارشاد فرمایا : وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللہِ ط اِنْ یَّتَََّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ ھُم اِلَّا یَخْرُصُوْنَ ۔ اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِہٖ ج وَھُوَ اَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَ ۔ (الانعام : 116۔ 117) (اور اس زمین والوں میں سے اکثر ایسے ہیں کہ اگر تم نے ان کی بات مانی تو وہ تمہیں خدا کے راستے سے گمراہ کر کے چھوڑیں گے۔ یہ محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور اٹکل کے تیر تکے چلاتے ہیں۔ بیشک ! تیرا رب خوب جانتا ہے ‘ ان کو ‘ جو اس کے راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اور خوب جانتا ہے ‘ ان کو ‘ جو ہدایت یاب ہیں ) مسلمانوں کے لیے صرف وحی الٰہی پر مشتمل علم ہی قابل بھروسہ ہے انسانی علم کی کمزوری یہ ہے کہ وہ علم کی افادیت اور اس کی صداقت کا پوری طرح قائل ہے لیکن عجیب بات ہے کہ پوری طرح اس پر بھروسہ نہیں کرتا وہ جب یہ دیکھتا ہے کہ کسی بڑی سے بڑی حقیقت کو اکثریت قبول نہیں کر رہی تو وہ بجائے حقیقت کا ساتھ دینے کے اکثریت کے ساتھ چلنا شروع کردیتا ہے۔ حالانکہ جب بھی کوئی حقیقت اور صداقت بگڑے ہوئے لوگوں کے سامنے آتی ہے تو وہ نہ صرف کہ اسکا خیر مقدم نہیں کرتے بلکہ اس کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور سوسائٹی کے لیڈر اور قوم کے اشرار اس لیے ان کی پشت پناہی کرنے لگتے ہیں کہ اس سے ان کو اپنا مفاد خطرے میں نظر آتا ہے اور عوام اس لیے اس کو قبول کرنے سے ہچکچاتے ہیں کہ وہ اپنے رسوم و رواج اور اپنے آبائی طریقے کے بندے ہوتے ہیں اس لیے ہر وہ بات انکو بری لگتی ہے جو ان کے اختیار کردہ مذہبی روایات کے خلاف ہوتی ہیں چاہے وہ کتنی بڑی حقیقت کیوں نہ ہو اور اپنی تائید و تصدیق میں اپنی پشت پر کتنی ہی واضح حجتیں رکھتی ہو۔ یہاں قرآن کریم اسی حقیقت کو واشگاف کر رہا ہے کہ کسی صداقت اور حقیقت کو ماننے کے لیے اکثریت کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ جو کہا جا رہا ہے کیا وہ خود صداقت ہے یا نہیں اور کیا سنجیدہ ‘ ذی علم اور صاحب کردار لوگ اس کے حق میں شہادت دیتے ہیں یا نہیں۔ چاہے ان کی تعداد کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔ سقراط کے متعلق مشہور ہے کہ اس کے بعض ناصحوں نے اس سے کہا کہ تم دیکھ نہیں رہے کہ سارا ایتھنز تمہارے خیالات سے برہم ہے کیا تم کو ان کی کچھ پرواہ نہیں اس نے بڑے اطمینان سے جواب دیا کہ مجھے صرف اس ایک انسان کی پرواہ ہے جو دانش مند ہو۔ قرآن کریم یہاں صرف دانش مند انسان کی پرواہ کا حکم نہیں دیتا اگرچہ دانش مند انسان کی تائید ایک حیثیت رکھتی ہیں بلکہ وہ علم کے لیے علم کی تائید چاہتا ہے اور علم بھی وہ جس کے پیچھے علم الٰہی ہو یہی وہ علم ہے جو زندگی کا راہنما بن سکتا ہے اور انسانوں کو یہ علم انبیاء کی معرفت اللہ کی طرف سے عطا ہوتا ہے۔ وہی جانتا ہے ہدایت اور ضلالت کیا ہے اور کون برسرہدایت ہے اور کون برسرضلالت۔ اس لیے مسلمانوں کو صرف اسی وحی الٰہی کے عطا کردہ علم پر بھروسہ کر کے اپنی دنیا اور عاقبت سنوارنی چاہیے۔
Ayahs 6:118–119

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:118 in the Quran reader

بس تم کھائو ان چیزوں میں سے جن پر خدا کا نام لیا گیا ہو اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھنے والے ہو

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 6:119 in the Quran reader

اور تم کیوں نہ کھائون ان چیزوں میں سے جن پر خدا کا نام لیا گیا ہو جبکہ اس نے تفصیل سے بیان کردی ہیں وہ چیزیں جو تم پر حرام ٹھہرائی ہیں اس استثناء کے ساتھ جس کیلئے تم مجبور ہوجائو اور بیشک بہتیرے ایسے ہی ہیں جو لوگوں کو کسی علم کے بغیر اپنی بدعات کے ذریعے سے گمراہ کر رہے ہیں تیرا رب خوب واقف ہے ان حد سے بڑھنے والوں

تمہید گزشتہ آیات میں اللہ کی توحید پر مسکت اور فیصلہ کن دلائل دینے کے بعد فرمایا کہ کیا ان دلائل کے آجانے اور عقیدہ توحید کی اس مکمل وضاحت کے بعد اس بات کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کو منصف ‘ فیصل اور حاکم کی حیثیت سے تسلیم کروں ؟ جبکہ اللہ نے اپنی حاکمیت کی عملی شکل کو متعین کرتے ہوئے اور اپنے فیصلوں کو عملی صورت دیتے ہوئے قرآن جیسی مفصل کتاب بھی نازل فرما دی ہے جس کی صداقت اور حقانیت کا عالم یہ ہے کہ جو اہل کتاب آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ چونکہ اللہ سے ڈرتے ہوئے خیانت کا ارتکاب کرنے سے گریز کرتے ہیں اس لیے اقرار کرتے ہیں کہ یہ کتاب واقعی اللہ کی جانب سے نازل ہوئی ہے اور جس کی تعلیمات کا حال یہ ہے کہ اس کے بیان کردہ وعد و وعید ‘ پیش گوئیاں اور تاریخی واقعات سچائی کے ترازو میں اپنی سچائی ثابت کرچکے ہیں اور جس کے احکام اور جس کے دیئے ہوئے قوانین عدل اور اعتدال کی مکمل شان لیے ہوئے ہیں۔ رہی یہ بات کہ اب لوگوں کی اکثریت راہ حق پر چلنے اور صحیح بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اس لیے کہ صحیح بات کا فیصلہ علم اور استدلال کی قوت سے ہوتا ہے اور عوام ہمیشہ طن وتخمین پر زندگی گزارتے ہیں جس کا علمی دنیا اور زندگی کے حقائق میں کوئی وزن نہیں۔ ان کا حال تو یہ ہے کہ یہ اللہ کے بارے میں کھلے عام اقرار کرتے ہیں کہ ہم اس کو خالق مانتے ہیں ‘ رازق مانتے ہیں ‘ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ وہی پوری کائنات کا مالک ہے ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ وہی ذات ہے جو غیب و حضور ہر بات کو جاننے والی ہے وہی اسباب سے ماوراء دعائوں کو سنتا ہے۔ ان سارے مسلمات کے بعد بھی ان کا حال یہ ہے کہ جس ذات کو وہ کائنات کا خالق ومالک مانتے ہیں اسے غیر مشروط قانون سازی اور حلت و حرمت کا حق دینے کو تیار نہیں۔ یہ حق انھوں نے اپنے آبائو اجداد کو ‘ اپنے نام نہاد مذہبی راہنمائوں کو اور اپنے کاہنوں کو دے رکھا ہے اور یا عام زندگی کے معاملات میں تہذیبی تمدنی اور سیاسی زندگی میں یہ حق ان کے سربرآوردہ لوگ اور ان کی نام نہاد حکومتوں کے سربراہ استعمال کرتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جائز طور پر ہمارا حق ہے ہم اسے جیسے چاہیں استعمال کریں اس پر کسی کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔ آگے آنے والی تین چار آیات میں اسی بنیادی بات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے : فَکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَاسْمُ اللہِ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ بِاٰیٰتِہٖ مُؤْمِنِیْنَ ۔ وَمَا لَکُمْ اَلَّا تَاْکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللہِ عَلَیْہِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَکُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْکُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْہِ ط وَاِنَّ کَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَھْوَآئِھِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ ط اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ ۔ (الانعام : 118۔ 119) (بس تم کھائو ان چیزوں میں سے جن پر خدا کا نام لیا گیا ہو اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھنے والے ہو اور تم کیوں نہ کھائون ان چیزوں میں سے جن پر خدا کا نام لیا گیا ہو جبکہ اس نے تفصیل سے بیان کردی ہیں وہ چیزیں جو تم پر حرام ٹھہرائی ہیں اس استثناء کے ساتھ جس کے لیے تم مجبور ہوجاؤ اور بیشک بہتیرے ایسے ہی ہیں جو لوگوں کو کسی علم کے بغیر اپنی بدعات کے ذریعے سے گمراہ کر رہے ہیں تیرا رب خوب واقف ہے ان حد سے بڑھنے والوں سے) اللہ ہی حاکم اور مختارکل ہے ان آیات میں بظاہر ان جانوروں کے گوشت کھانے کا حکم دیا گیا ہے جنھیں اللہ کے نام سے ذبح کیا جائے اور اس بات پر تنقید کی گئی ہے کہ جن جانوروں کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جاتا ہے تم آخر انھیں کیوں نہیں کھاتے ؟ لیکن اصل میں یہ اصولی بحث ہے جس کی طرف یہاں توجہ دلائی گئی ہے جیسا کہ ہم اس سے پہلے اشارہ کرچکے ہیں کہ اللہ کو خالق ومالک ماننے کے باوجود اس کے اختیارات کسی اور کو تفویض کردینا بنیادی طور پر ہر امت کی گمراہی کا سبب رہا ہے۔ اس لیے کہ اگر ہم کسی کو اپنا حاکم ومالک تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کے لیے اختیارات ماننے کو تیار نہیں ہیں یا اس کے اختیارات میں کسی اور کو شریک کردیتے ہیں تو آخر اس کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کا کیا فائدہ ہوا اگر وہ واقعی حاکم ہے تو اختیارات کا سرچشمہ بھی وہی ہے کیونکہ حاکمیت مختار ہونے کا ہی دوسرا نام ہے اور پھر اگر کسی کو حاکم ماننے والے اپنی مرضی سے جب چاہیں اس کے اختیارات میں دوسرے کو شریک کردیں تو پھر اختیارات کا سرچشمہ تو یہ ماننے والے ٹھہرے وہ حاکم بےچارہ تو ان کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی ہوگا کہ جب چاہا اسے کوئی اختیار دے دیا اور جب چاہا اس سے اختیار چھین لیا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اختیارات میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ جس کو حاکم تسلیم کرتے ہیں کیا اس کی غیر مشروط اطاعت کا دم بھرتے ہوئے اسے ہر سطح پر حلت و حرمت اور جائز اور ناجائز قرار دینے اور صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے کا حق بھی دیتے ہیں یا نہیں۔ کیونکہ حقیقت میں اختیارات اسی ایک اختیار سے جنم لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ چونکہ پوری کائنات کا حاکم حقیقی ہے باقی پوری کائنات میں تو تکوینی طور پر اس نے اپنے اختیارات نافذ کر رکھے ہیں ‘ لیکن انسانوں کو چونکہ اس نے اطاعت اور معصیت کی آزادی دے رکھی ہے اس لیے ان کی جزا و سزا کو اس نے اس بات سے وابستہ کردیا ہے کہ انسان اپنے اختیار اور ارادہ سے اللہ کے اختیارات کو تسلیم کرتا ہے یا نہیں۔ ان مشرکینِ مکہ کا حال یہ تھا کہ وہ اللہ کو سب کچھ ماننے کے باوجود اس کے ان اختیارات میں خود بھی دخل دیتے تھے اور ان کو بھی دخیل بناتے تھے جن کو انھوں نے اللہ کے ساتھ شریک بنا رکھا تھا اور اس کا زیادہ اظہار جانوروں کی قربانیوں یا جانوروں کا گوشت کھانے کے سلسلے میں ہوتا تھا۔ پیچھے گزر چکا کہ انھوں نے جانوروں میں تقسیم کر رکھی تھی کہ بعض جانور انھوں نے اپنے لیے حلال کر رکھے تھے اور بعض بتوں کی طرف منسوب کر کے لوگوں کے لیے ان کا استعمال ممنوع قرار دے دیا تھا۔ بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام جیسے ناموں سے انھوں نے مختلف قسم کے جانور از خود اور اپنے آبائو اجداد کے حوالے سے لوگوں پر حرام کردیئے تھے اور دعویٰ ان کا یہ تھا کہ چونکہ ہم ملت ابراہیمی پر ہیں تو ہمارے آبائو اجدادنے جن جانوروں کا کھانا حرام قرار دے دیا تھا یقینا ان کو ابراہیم کی شریعت سے یہ احکام ملے ہوں گے۔ چناچہ قرآن کریم نے ان کی اسی گمراہی پر توجہ دلاتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ حلت و حرمت کا اختیار اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ اور تمہیں یہ جو دعویٰ ہے کہ یہ ابراہیمی شریعت کا ورثہ ہے تو تمہارے پاس اس کی کوئی علمی سند ہو تو لائو جو اہل کتاب تمہاری پیٹھ ٹھونکتے رہتے ہیں ان سے پوچھو کہ ان کے پاس اس کا کوئی ثبوت ہے اور اگر ایسا نہیں اور یقینا نہیں تو پھر تم نے اللہ کا یہ اختیار اپنے ہاتھوں میں کیوں لے لیا ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ قوموں کے بگاڑ کی جو تاریخ ہمارے سامنے ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ تمام قوموں میں یہ شرک بھی ہوتا رہا کہ غیر اللہ کو سجدہ ہوتے رہے ‘ چڑھاوے چڑھائے جاتے رہے ‘ مرادیں مانگی جاتی رہیں لیکن متمدن اور مہذب دنیا میں جبکہ ریاستیں وجود میں آئیں اور ان پر حکمرانوں نے حکومتیں بھی کیں ان میں جو نہایت خطرناک شرک ہوتا رہا وہ متذکرہ شرک کے ساتھ ساتھ اصل شرک یہ تھا کہ وہ اپنی مطلق العنانی اور اپنی غیر مشروط حاکمیت کو کسی طرح بھی چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔ جب ان سے یہ کہا جاتا تھا کہ حاکم حقیقی تو اصل میں اللہ کی ذات ہے تم حاکم ہو کر بھی اس کے بندے ہو۔ تمہارا کام اس کے احکام نافذ کرنا ہے۔ خود اپنے آپ کو دنیا کی گردنوں پر مسلط کرنا نہیں ہے تو وہ اس پر بگڑ جاتے تھے وہ آج کے دور کی طرح زیادہ سے زیادہ اس بات کو ماننے کو تیار تھے کہ مذہب کی اگر کوئی حقیقت ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ یہ بندے اور اللہ کے درمیان ایک پرائیویٹ معاملہ ہے۔ انسان کی پرائیویٹ زندگی میں مذہب روشنی دیتا ہے۔ آدمی پریشان ہوتا ہے تو وہ اللہ سے مدد مانگتا ہے۔ کوئی آدمی اس کا تقرب چاہتا ہے تو وہ تنہائی میں اس کا ذکر کرتا ہے۔ ہفتے بعد عبادت گاہ میں جا کر اس کی نماز پڑھتا ہے اور اس کے حضور دعا کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے۔ رہی پبلک زندگی جو گلی محلے سے شروع ہوتی اور زندگی کے مختلف ادوار سے گزرتی ہوئی حکومت کے ایوان تک پہنچتی ہے اس سے مذہب کا کوئی تعلق نہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ اللہ کا کام یہ ہے کہ وہ ہماری تنہائیوں کو آباد رکھے ‘ ہماری مرادیں پوری کرے ‘ ہمیں پریشانیوں سے بچائے ‘ ہمیں رزق دے اور ہمیں اولاد سے نوازے۔ لیکن جہاں تک زندگی گزارنے کے طریقے کا تعلق ہے اور اجتماعی زندگی میں قانون اور آئین کی ضرورت کا تعلق ہے یہ کام خود انسان مل کر آپس میں کریں گے۔ اللہ کا یا مذہب کا اس سے کوئی رشتہ نہیں۔ یہی وہ گمراہی تھی جو سابقہ امتوں میں پائی جاتی تھی جس نے ان کو پوری طرح شیاطین اور نفسانیت کی گرفت میں دے دیا تھا اور یہی گمراہی آج کی دنیا میں مذہب کے انکار کی صورت میں یا مذہب کے اقرار کے ساتھ ساتھ سیکولرازم کی شکل میں پوری دنیا پر حاوی ہے انتہائی دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ امت مسلمہ جس کو دنیا کی رہنمائی کے لیے اٹھایا گیا اور جن کے دین نے ان کو جو تعلیم دی تھی اس کی بنیاد ہی یہ تھی کہ تم از اول تا آخر اللہ کے بندے ہو اور اللہ تمہارا فرمانروا ہے۔ سروری اور کبریائی کی جتنی بھی قابل عزت شکلیں ہیں وہ سب اسی کو زیب دیتی ہیں انسان دنیا میں اس کی بندگی اور اس کی مرضی ‘ اختیار ‘ قانون اور آئین کو نافذ اور جاری وساری کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے اور اگر یہ بڑائی اور یہ عظمت کوئی شخص یا کوئی قوم خود اوڑھ لیتی ہے تو یہ شرک ہے اور یہی آذر کا طریقہ ہے جس کو توڑنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تشریف لائے تھے۔ بقول اقبال ؎ سروری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہے حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آذری جن جانوروں پر اللہ کا نام لیا جائے ان کا گوشت کھائو لیکن آج اس امت کا حال یہ ہے کہ دنیا کے نقشے پر سب سے زیادہ حکومتیں اس کی ہیں۔ زمین کا بڑا رقبہ اس کے قبضے میں ہے۔ سمندروں کے تمام قابل ذکر ساحلوں پر اس کی حکمرانی ہے اور بیشتر ملک اس کے اپنی آزادانہ حکومتیں رکھتے ہیں لیکن غضب خدا کا، پورے عالم اسلام میں ایک ملک بھی ایسا نہیں جس نے پوری طرح اللہ کے دین اور اس کی حاکمیت کو اپنے ملک میں نافذ کیا ہو۔ کہیں ملوکیت کی شکل میں ‘ کہیں آمریت کی صورت میں اور کہیں مغربی جمہوریت کے انداز میں اللہ کی حاکمیت کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ اس کے قانون کے مقابلے میں قانون سازی ہو ری ہے اس کے آئین کے توڑ پر آئین بنائے جا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض ممالک کو مسلمان کہلاتے ہوئے بھی اس بات پر شرم آتی ہے کہ وہ اپنے ملک کے ساتھ اسلامی کا لفظ لگائیں اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہاں بظاہر نہایت سادہ انداز میں جس حقیقت کا اظہار کیا جا رہا ہے وہ کس قدر عظیم اور گھمبیر ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ایک دوسری بات بھی ذہن میں رکھیئے کہ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ جن جانوروں پر اللہ کا نام لیا جائے تم انھیں کھائو اور اس کے بعد فرمایا اگر تم اس کی آیات اور اس کے احکام پر ایمان لانے والے ہو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو مسلمان ہو کر بھی بعض ایسے جانوروں کو جن پر اللہ کا نام لیا جاتا تھا کھاتے نہیں تھے یہ بجائے خود ایک دوسری حقیقت کی طرف رہنمائی کی جا رہی ہے۔ وہ یہ ہے کہ مشرکینِ مکہ نے چونکہ ملت ابراہیمی کا نام لے کر مذہب کے حوالے سے بعض جانور اپنے اوپر حرام کرلیے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جب سورة النحل میں جیسا کہ اگلی آیت میں بیان کیا جا رہا ہے تفصیل سے بیان کردیا کہ حرام جانور کون کون سے ہیں ان کے علاوہ باقی جتنے جانوروں کو تم نے اپنے طور پر حرام کر رکھا ہے وہ ہرگز حرام نہیں بلکہ حلال ہیں بس شرط یہ ہے کہ ان حلال جانوروں کو ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام لے کر ذبح کرو۔ لیکن بعض ایسے مسلمان جن کے دل و دماغ سے ابھی سابقہ محرمات کی تقدیس نہیں نکلی تھی اور وہ ایمان لانے کے بعد بھی ابھی قدیمی تعلقات سے اپنے دماغوں کو پوری طرح لاتعلق نہیں کر پائے تھے ان کا حال یہ تھا کہ جب ایسے کسی جانور کا گوشت ان کے سامنے آتا تو وہ سابقہ تعلق کیوجہ سے اسے کھانے سے احتراز کرتے تھے کیونکہ انسانی فطرت یہ ہے کہ سابقہ مذہبی رشتوں کو توڑنا اور نئے مذہب کو پوری طرح عملی صورت دینا انسان کے لیے آسان نہیں ہوتا اس کے لیے دل کی جس مضبوط آمادگی کی ضرورت ہوتی ہے وہ آہستہ آہستہ پیدا ہوتی ہے چناچہ یہاں اسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے کہ تم اگر اپنے ایمان میں سچے ہو اور تم اگر اپنے دور جاہلیت سے پوری طرح لاتعلق ہوچکے ہو تو پھر سابقہ دین سے تمہاری یہ رواداری کیوں ہے۔ تمہیں یکسو ہوجانا چاہیے کہ جس دین کو تم نے قبول کیا ہے اس کو اگر صحیح سمجھ کے قبول کیا ہے اور سابقہ مذہب کو تم نے غلط سمجھ کے چھوڑا ہے تو پھر یہ تذبذب کی کیفیت کیوں ہے ان کی اس کیفیت کو سمجھنے کے لیے اگر ہم برصغیر میں مسلمانوں کی تاریخ دیکھیں تو یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے جس طرح مشرکینِ مکہ کو بعض جانوروں سے ایک مذہبی رشتہ رہا ہے اور اس حصار سے وہ نکلنے کے لیے تیار نہیں تھے اسی طرح برصغیر میں جو مسلمان ہندو مذہب سے نکل کے آئے مدت دراز تک وہ گائے کی محبت سے اپنا دامن نہ چھڑا سکے اس کی پوجا تو انھوں نے ترک کردی لیکن ان میں بہت سے لوگ ایسے رہے جو بنی سرائیل کی طرح اس سے یکسر تعلق توڑنے اور اس کا گوشت کھانے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے اور اسی بات کے زیر اثر ہمارے بعض عملیات کرنے والوں نے ان کے جذبات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے عملیات کی تاثیر کے لیے یہ شرط رکھی کہ تم گائے کا گوشت نہیں کھائو گے ورنہ یہ تعویذ اثر نہیں کرے گا۔ چناچہ اسی مشرکانہ تصور کو ختم کرنے کے لیے علما کا یہ طریقہ رہا کہ جب وہ کسی ہندو کو مسلمان کرتے تھے تو اے گائے کا گوشت بھی کھلاتے تھے تاکہ اس کے دل سے اس جانور کی عقیدت ختم ہو جس کو اس نے آج تک دیوتا کی حیثیت دے رکھی تھی۔ حرام و حلال کا فیصلہ صرف اللہ کا حق ہے دوسری آیت کریمہ میں اسی بات کو مزید مؤکد کرتے ہوئے اور انسانی ذہن کو جھنجھوڑتے ہوئے سوال کیا گیا ہے کہ جب تم نے اپنے ایمان سے اس بات کا اقرار کرلیا ہے کہ حاکمیت مطلقہ اللہ ہی کو زیب دیتی ہے اور کسی اور کو اس میں شریک کیا جائے تو وہ شرک ہے اور اللہ نے تمہارے لیے حرام چیزیں کھول کر بیان کردی ہیں تو پھر آخر ان جانوروں کے گوشت کھانے سے احتراز کرنے کا جن کو دور جاہلیت میں تم حرام سمجھتے رہے ہو ‘ کیا جواز ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ایسا سوال ہے جو آج امت مسلمہ کی طرف بھی متوجہ ہے اور قیامت تک آنے والی نوع انسانی سے یہ سوال پوچھا جائے گا۔ کہ جب تمہارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے اور رسول اللہ ﷺ کی سنت نے ایک ریاست قائم فرما کر اس کی آئینی شکل کو پوری طرح واضح فرما دیا تو پھر تمہاری زندگی میں سیکولرازم جیسی دو عملی کی آخر کیا گنجائش ہے کہ جب اس نے حلال اور حرام کا فیصلہ کردیا ہے اب تمہارے لیے اس کا کیا جواز ہے کہ تم ازسر نو آزادانہ قانون سازی کرنے لگو اور جو حق اللہ کا ہے اس کو خود استعمال کرنے لگو۔ رہے وہ لوگ جو اس پر دلیل بازی کرتے ہیں کہ مذہب صرف پرائیویٹ زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا پبلک زندگی سے کوئی تعلق نہیں ان کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ بہت سے لوگ اپنی خواہشات اور خودساختہ باتوں سے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے پاس آخر اس علم کا حوالہ کیا ہے انسان اللہ کی مخلوق ہے اس مخلوق اور خالق کے درمیان جو رشتہ ہونا چاہیے اس کی وضاحت صرف اللہ کی جانب سے اللہ کے رسول ہی کرسکتے ہیں اور اس کو آئینی اور قانونی شکل اللہ کی نازل کردہ کتاب اور اس کے رسول کی سنت سے ہی مل سکتی ہے۔ یہ وہ علم ہے جو جامعیت ‘ کاملیت اور خاتمیت کے ساتھ مسلمانوں کو دیا جا چکا ہے اس میں تو بار بار کہا گیا ہے کہ تم پورے اسلام کو اختیار کرو اور پوری زندگی اسلام میں داخل کردو اور یہ بھی بار بار فرمایا گیا ہے کہ حلت و حرمت یعنی غیر مشروط قانون سازی اللہ کا حق ہے۔ اس کے مقابلے میں تم جس سیکولرازم کی بات کرتے ہو اس کی سند امریکہ یا آسمانِ مغرب سے تو مل سکتی ہے لیکن اللہ کی کتاب یا اللہ کے رسول سے تو نہیں مل سکتی اور ایک مسلمان اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی ہدایات کا پابند ہے۔ دنیا کی بڑی سے بڑی دانش اسی صورت میں قابل قدر ہے کہ وہ اس منزل من اللہ العلم کے خلاف نہ ہو جو شخص اس علمی حوالے کو نظر انداز کر کے ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مارتا ہے یا وہ صریحاً اس علم کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے تو یہ وہ شخص ہے جو حد سے تجاوز کر رہا ہے کیونکہ بندہ ہوتے ہوئے اسے اللہ کے احکام کے سامنے سر جھکانا تھا جب وہ انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتا ہے تو وہ اپنی حد سے تجاوز کر رہا ہے ایسے لوگوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ اس بات کو ہرگز نہ بھولو کہ تمہارا رب حد سے گزرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔ اس سے پہلے فرمایا تھا کہ تمہارا رب ہدایت یافتہ لوگوں کو جانتا ہے اب اس کے مقابلے میں یہ جملہ فرمایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو جانتا ہے تو انھیں بہتر سے بہترجزا سے نوازے گا اور حد سے گزرنے والوں کو بھی جانتا ہے تو وہ اس کی سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔ اگلی آیت کریمہ میں ایک اور اہم حقیقت کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے جو اس سابقہ حقیقت سے جنم لیتی ہے۔
Ayah 6:120

وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:120 in the Quran reader

اور چھوڑو گناہ کے ظاہر کو بھی اور اس کے باطن کو بھی بیشک جو لوگ گناہ کما رہے ہیں وہ عنقریب اپنی اس کمائی کا بدلہ پائیں گے

ارشاد فرمایا : وَذَرُوْا ظَاھِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَہٗ ط اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا کَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ ۔ (الانعام : 120) (اور چھوڑو گناہ کے ظاہر کو بھی اور اس کے باطن کو بھی بیشک جو لوگ گناہ کما رہے ہیں وہ عنقریب اپنی اس کمائی کا بدلہ پائیں گے) گناہ کو ظاہراً اور باطناً چھوڑ دو اس آیت کریمہ میں ایک حقیقتِ نفسی کو بیان کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ انسان جب اپنی کسی برائی پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے یا اس کے لیے صحیح راہ پر چلنا دشوار ہونے لگتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ میں اس طرح کا رویہ اختیار کروں کہ جانبین کو خوش رکھ سکوں تو پھر وہ عموماً اس طرح کی باتیں کرتا ہے کہ آپ میری ظاہری حالت پر نہ جایئے آپ جس بات کی دعوت دے رہے ہیں میں اسے دل وجان سے قبول کرتا ہوں اور میرا دل پوری طرح اس پر مطمئن ہے رہی یہ بات کہ میرے عمل میں اس کا اظہار نہیں ہو رہا یا میں اس برائی کے مظاہر سے ابھی تک دامن نہیں چھڑا سکا تو اس کی آپ پرواہ نہ کریں وقت کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہوجائے گا۔ قرآن کریم اس کی طرف توجہ دلا رہا ہے کہ ہر برائی کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک اس کا باطنی پہلو اور دوسرا اس کا ظاہری پہلو۔ یا یوں کہہ لیجئے کہ ہر برائی کی ایک حقیقت ہے جس کا مسکن انسان کا نفس اور اس کا دل ہے۔ دوسرے اس کے وہ مظاہر و اشکال ہیں جن میں انسانی زندگی کے اندر وہ نمایاں ہوتی ہے مثلاً شرک کی ایک تو حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات یا اس کے حقوق میں کسی کو شریک مانا جائے اور دوسرے اس کی ظاہری شکلیں ہیں مثلاً اصنام ‘ انصاب ‘ بحیرہ ‘ سائبۃ ‘ وصیلہ ‘ حام اور اس نوع کی دوسری چیزیں جو کسی شرکیہ عقیدے یا تصور کا عملی مظہر اور نشان ہیں۔ جب تک ان دونوں کا استیصال نہ ہو اور دونوں کو جڑ سے نہ اکھاڑا جائے اس وقت تک برائی کا خاتمہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ان دونوں میں بڑا گہرا ربط اور تعلق ہوتا ہے یہ ایک دوسرے کے سہارے سے پروان چڑھتے اور غذا اور قوت حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے یہاں حکم دیا جا رہا ہے کہ تم شرک کی جس آلائش میں مبتلا ہو اس کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ تم شرک کو دل سے نکالنے کا دعویٰ کرو اور یہ کہو کہ توحید کو میں نے دل میں بسا لیا ہے اور میں اللہ کی ذات وصفات اور اس کے حقوق میں کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا لیکن اس کے ساتھ ساتھ جن چیزوں کو تم شریک ٹھہراتے رہے ہو مثلاً جن جانوروں کو تم مقدس جان کر ان کی تعظیم بجا لاتے رہے ہو اللہ نے ان کا گوشت اگر حلال کیا ہے اور تم سابقہ تعظیمی تعلق کی وجہ سے اسے کھانے سے احتراز کر رہے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ شرک کی جس حقیقت کو تم نے دل سے نکال دیا ہے تم اس کے مظاہر کو ختم نہیں کرنا چاہتے۔ اس سے ایک ہی بات نکلتی ہے کہ تم اصلاً اپنے دعوے میں سچے نہیں ہو ورنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ تم شرک کی شکلوں کو توڑنے اور ان کو ختم کرنے سے پس و پیش کرتے۔ چناچہ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد شرک کے تمام آثار و مظاہر کو یک قلم ختم کردیا اور جہاں جہاں بھی مشرکین نے بت کھڑے کر رکھے تھے یا قربانی کے لیے آستانے بنا رکھے تھے یا دعائوں کے لیے استھان مقرر کر رکھے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے ان تمام کا خاتمہ فرما دیا اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسانی اصلاح کے لیے جس طرح قلب و ضمیر کی تصدیق ضروری ہے اسی طرح آدمی کا ظاہر بھی اس کے مطابق بدلنا چاہیے۔ جس برائی کو آدمی دل سے برائی سمجھتا ہے اگر اس کے مطابق عمل جاری ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ برائی سے دامن کشاں نہیں ہونا چاہتا۔ ہم بہت دفعہ اپنی زندگی میں اس دو عملی کو جابجا دیکھتے ہیں۔ آپ کسی لڑکی کو اگر اس حالت میں دیکھیں کہ ننگے سر ‘ کھلے چہرے بازو اور کھلا گریبان لے کر وہ اپنے تعلیمی ادارے میں جاتی یا اپنے دفتر میں یا بازار میں نامحرموں کے ساتھ چلتی پھرتی ہے اور آپ اسے توجہ دلاتے ہوئے کہیں کہ بیٹی تم ایک مسلمان لڑکی ہو ‘ شرم و حیا تمہارا زیور ہے ‘ تم اس طرح نامحرموں میں گھوم رہی ہو یہ تو ہرگز مناسب نہیں تو آپ کو بہت دفعہ یہ جواب سننا پڑے گا کہ صاحب جانے دیجئے پردہ اصل میں دل کا پردہ ہے شرم و حیا کا تعلق دل سے ہے آپ ظاہری باتوں پر نہ جایئے تو یہاں صاف فرمایا جا رہا ہے کہ ظاہری اور باطنی دونوں گناہ چھوڑ دو ۔ جس طرح بےحیائی اور بےشرمی دل میں بری ہے اسی طرح جسم پر اس کا اظہار بھی برا ہے اگر شرم و حیا آپ کا گریبان بند نہیں کرتا اور آپ کی بانھیں نہیں ڈھانپتا اور آپ کے سر پر آنچل نہیں ڈالتا تو دل میں شرم و حیا کے ہونے کا آخر فائدہ کیا ہے اس لیے قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا : وَلَا تَقْرَبُوْا الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ (اور بےحیائی کی باتوں کے قریب مت بھٹکو خواہ ظاہری ہوں یا باطنی) تو اس سے معلوم ہوا کہ سیرت و کردار کی تعمیر اور ایمان کی پختگی کے لیے ظاہر و باطن دونوں کی تطہیر ضروری ہے اور دونوں کو ساتھ ساتھ چلنا چاہیے آدمی کی زبان پر نماز کی فرضیت کا ذکر ہو لیکن نماز نہ پڑھے ‘ زبان پر سنت سے محبت کے تذکرے ہوں لیکن وضع قطع ‘ تراش خراش ‘ بود و باش اور تمام تمدنی اظہار کی صورتیں وہ سراسر سنت کے خلاف ہوں تو ہمیں یہ اصول یاد رکھنا چاہیے جو اس آیت کریمہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ اس کے بعد دھمکی دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ جو لوگ اس قدر وضاحت و صراحت کے بعد بھی شرک سے تعلق توڑنے کے لیے تیار نہیں اور گناہ ان کی زندگی سے نکل نہیں پاتا۔ چونکہ یہ مکی دور ہے یہاں تو صرف نصیحت ہی کی جاسکتی ہے یا انجام سے ڈرایا جاسکتا ہے اس لیے انھیں ان کے انجام سے ڈراتے ہوئے فرمایا گیا کہ وہ وقت دور نہیں جب وہ اپنے اعمال کی سزا پائیں گے۔ اس سے یا تو آخرت مراد ہے کہ آخرت میں بہرصورت اپنے انجام کو ہر آدمی دیکھے گا اور یا پھر چند ہی سالوں بعد مدینے میں جو ریاست قائم ہونے والی ہے جس کے نتیجے میں اللہ کا دین نافذ ہوجائے گا اور فتح مکہ کے بعد یہ مکہ کے لوگ بھی اس دین کے سامنے سرنگوں ہوں گے اور اس کے بعد آج جو کچھ کہہ رہے ہیں اور کر رہے ہیں یا تو اس سے تائب ہوجائیں گے اور یا پھر سزا کے عمل سے گزریں گے۔ اگلی آیت کریمہ میں اسی مضمون کے ایک اور گوشے کو واضح کیا جا رہا ہے۔