6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsروح القرآن

Ayah 6:146

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور جو یہودی ہوئے ان پر ہم نے سارے ناخن والے جانور حرام کئے اور گائے اور بکری کی چربی حرام کی بجز اس کے جو ان کی پیٹھ یا انتڑیوں سے وابستہ یا کسی ہڈی سے لگی ہوئی ہو یہ ہم نے ان کو ان کی سرکشی کی سزا دی اور ہم بالکل سچے ہیں

ارشاد ہوتا ہے : وَعَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ ج وَمِن الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ شُحُوْمَھُمَا اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُھُوْرُھُمَآ اَوْ الْحَوَایَآ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ط ذٰلِکَ جَزَیْنٰھُمْ بِبَغْیِھِمْ زصلے وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ۔ (الانعام : 146) (اور جو یہودی ہوئے ان پر ہم نے سارے ناخن والے جانور حرام کیے اور گائے اور بکری کی چربی حرام کی بجز اس کے جو ان کی پیٹھ یا انتڑیوں سے وابستہ یا کسی ہڈی سے لگی ہوئی ہو یہ ہم نے ان کو ان کی سرکشی کی سزا دی اور ہم بالکل سچے ہیں) یہود پر ان کی سرکشی کی وجہ سے بعض جانور حرام کر دئیے گئے تورات کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہود کی قوم تاریخ کے مختلف ادوار اور مختلف انبیاء و رسل کی بعثت کے زمانے میں مختلف حالات سے گزری ہے اور اس نے زمانے کے تلخ اور شیریں گھونٹ برابر پیئے ہیں اور ان کی تاریخ عروج وزوال کی ایک عبرت خیز اور دلچسپ داستان ہے۔ لیکن ایک بات جو برابر ان کی زندگی کے حالات سے سامنے آتی ہے وہ اللہ کے احکام کے سلسلے میں ان کی سرکشی ہے۔ وہ اللہ کے نبیوں پر ایمان بھی لاتے رہے لیکن جب بھی انکو موقع ملا بار بار ان سے سرکشی کا اظہار ہوا اس لیے قدرت کی طرف سے وہ متعدد دفعہ جزوی عذابوں کا شکار ہوئے۔ کئی دفع اللہ کا عتاب ان پر برسا اور انکو راہ راست پر چلانے کے لیے بعض دفعہ انھیں سخت احکام بھی دیئے گئے۔ انہی احکام کے سلسلے میں اس آیت میں ان محرمات کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بطور خاص یہود پر حرام تھے۔ لیکن آیت کے آخری حصے میں صاف بتلا دیا گیا ہے کہ یہ احکام ان کی اصل شریعت کا حصہ نہیں تھے بلکہ ان کی اصل شریعت تو شریعت محمدی ہی کا عکس تھی۔ البتہ ! یہ جو سخت احکام ان میں آئے یہ ان کی سرکشی کو کنٹرول کرنے کے لیے تھے یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں ان پر حرام کی گئیں۔ وہ اس وجہ سے نہیں تھیں کہ فی نفسہ ان چیزوں کے اندر حرمت کی کوئی علت موجود تھی بلکہ ان کی حرمت میں اصل دخل بنی اسرائیل کے فسادِمزاج کو تھا جس طرح ایک طبیب بسا اوقات کسی مریض کو ایک جائز و طیب چیز کے استعمال سے بھی روک دیتا ہے کہ اس سے اس کی صحت جسمانی کو ضرر کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اخلاقی فساد کے سبب سے سزا کے طور پر بہت سی جائز چیزیں بھی ان پر حرام ٹھہرا دی تھیں۔ اس اخلاقی فساد کو قرآن کریم نے اس آیت میں بغی کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے جس کے معنی سرکشی کے ہیں بنی اسرائیل کی اس سرکشی کا ذکر تورات اور انبیاء کے صحیفوں میں اس کثرت سے آیا ہے کہ آدمی پڑھتے پڑھتے اکتا جاتا ہے۔ شریعت کا کوئی حکم ایسا نہیں ہے جسکو انھوں نے بخوشی قبول کیا ہو جو حکم بھی انکو دیا گیا اول تو انھوں نے اپنے سوال در سوال کی کثرت ہی سے اس کو نہایت بوجھل بنادیا جس کی ایک مثال سورة البقرہ میں گائے کی قصے میں گزر چکی ہے۔ پھر اس کو مانا بھی تو اس سے گریز و فرار کی اتنی راہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کے نکال لیں کہ عملاً وہ حکم ان کے لیے بالکل بےاثر ہو کر رہ گیا۔ ان کے اس فرار پسندانہ اور باغیانہ مزاج کا اثرقدرتی طور پر ان کی شریعت پر بھی پڑا جس طرح کسی سرکش جانور کا مالک اس کو سخت بندھنوں کے اندر رکھنے پر مجبور ہوتا ہے یا سرکش رعایا کا حکمران سخت قوانین نافذ کرتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان سرکشوں کو نہایت سخت قوانین میں باندھا۔ جن کو قرآن میں اصر و اغلال یعنی بندھن اور طوق سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ تورات میں اسرائیلی شریعت کے احکام پڑھیئے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ دوسری چیزوں سے قطع نظر صرف طہارت ہی کے احکام پڑھیئے اور دیکھیے کہ حیض ‘ نفاس ‘ جنابت اور بعض بیماریاں مثلاً جریان اور برص وغیرہ لاحق ہوجانے کی صورت میں ان کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے۔ تو آدمی کا رواں رواں اس رب کا شکر گزار ہوتا ہے جس نے ہمیں ملت اسلام کی ہدایت بخشی جو ان تمام غیر فطری بندشوں اور پابندیوں سے پاک ہے۔ کھانے پینے کے باب میں بھی صرف وہی بندشیں نہیں تھیں جو بیان ہوئیں یہ بندشیں تو صرف چوپایوں کی حلت و حرمت کے متعلق بیان ہوئی ہیں اس سے زیادہ پابندی ان پر دریائی جانوروں کے معاملے میں تھی۔ احبار ‘ باب 11 سے معلوم ہوتا ہے کہ دریائی جانوروں میں سے جن کے پر اور چھلکے ہیں وہ ان کے ہاں جائز تھے باقی سب حرام تھے۔ اسی طرح پرندوں میں سے صرف شکاری پرندے ہی حرام نہیں تھے بلکہ قازیں ‘ بط اور بگلے وغیرہ بھی حرام تھے۔ اس آیت کریمہ میں چند ان محرمات کا ذکر کیا گیا ہے جو یہود پر بطور خاص حرام کی گئی تھیں۔ ان میں سے ایک تو ایسے جانور ہیں جو ناخن رکھتے ہیں اور دوسری چیز جانوروں کی چربی۔ جہاں تک تعلق ہے ناخن والے جانوروں کا اس کا مفہوم سمجھنے کے لیے تورات کی تصریحات کو دیکھنا ضروری ہے۔ انھیں سامنے رکھیں تو اس کا مفہوم متعین کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود کے ہاں چوپایوں میں سے صرف وہ چوپائے حلال تھے جن کے پائوں چرے ہوئے ہوں اور وہ جگالی بھی کرتے ہوں۔ اس روشنی میں ذِیْ ظُفُرٍ یعنی ناخن والے جانور کا مفہوم متعین کیا جائے تو اس سے مراد وہ جانور ہوں گے جن کے پائوں چرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ سُم کی شکل میں بالکل بند البتہ ان کے سامنے کے حصے پر ناخن ہیں۔ یہود پر اس طرح کے تمام جانور جیسا کہ کُل کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے علی الاطلاق حرام تھے۔ اس وجہ سے ان پر بعض وہ جانور بھی حرام ہوگئے جو ملت ابراہیمی میں جائز تھے مثلاً اونٹ اور خرگوش وغیرہ۔ دوسری چیز جو ان پر حرام کی گئی وہ ناخن والے جانوروں کی چربی تھی تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے ہر قسم کی چربی مراد ہے لیکن تھوڑا سا بھی غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو چربی گوشت کے جز کی حیثیت رکھتی ہو۔ کمر ‘ آنتوں یا ہڈیوں میں اس طرح شامل ہو کہ اس کو باآسانی الگ نہ کیا جاسکے اس کا کھانے والوں پر حرام کرنا یقینا ایک ایسی سختی ہے جس کا انسانوں کے لیے تحمل بہت مشکل ہے اور عقل سے بھی بعید ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے احکام نہیں دیئے ہوں گے یہ تشدد یہود کے کاہنوں اور فقیہوں نے اپنی طرف سے بڑھایا ہوگا اور یہ اس تشدد پر ایک مزید اضافہ ہے ‘ جو ان کی شریعت میں پہلے بھی کچھ کم نہ تھا۔ اس لیے قرآن کریم نے اس کی اصلاح کرتے ہوئے اور اصل حکم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان پر ہم نے جو چربی حرام کی تھی وہ ‘ وہ نہیں تھی جو کمر ‘ آنتوں یا ہڈیوں میں اس طرح لگی ہوئی ہو کہ باآسانی ان کو الگ نہ کیا جاسکے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ہم بالکل سچے ہیں “ آخر میں فرمایا کہ ہم نے اس سلسلے میں جو کچھ کہا ہے وہ بالکل صحیح ہے۔ اس لیے کہ ہم نہایت راست باز اور سچے ہیں۔ یہ اپنے آپ کو سچے کہنا اور اس پر زور دینا بظاہر عجیب سا معلوم ہوتا ہے لیکن جب اس کے پس منظر کو دیکھا جائے تو پھر اس کی بلاغت اور حقیقت سمجھ میں آتی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ حلت و حرمت کے باب میں مشرکین عرب نے جو زیادتیاں کیں اور جس طرح اللہ تعالیٰ کی اس خاص صفت میں اپنے شرکاء کو انھوں نے شریک کیا اور ان کے مذہبی رہنما جس طرح بار بار اس حرم کی تقدیس کو پامال کرتے رہے وہ تاریخ مذہب کا نہایت اندوہناک باب ہے پھر انہی کی طرح اہل کتاب نے تاریخ کے مختلف ادوار میں جس طرح اللہ کی نازل کردہ کتابوں میں تحریف اور ترمیم کی اور جس طرح حرام کو حلال اور حلال کو حرام میں تبدیل کیا اور جس طرح بعض ایسی چیزیں محرمات میں شامل کردی گئیں جو اللہ کی جانب سے نازل نہیں ہوئیں ان تمام باتوں کی تردید اور اس کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ اصلاح کرنے والا پوری طرح اپنی حیثیت کا اظہار کرے تاکہ حدود سے تجاوز کے نتیجے میں غلط بیانی اور دروغ گوئی کی جو خاک اڑائی گئی ہے اور جس طرح حقیقت کا چہرہ بگاڑ دیا گیا ہے اس کی اصلاح ممکن ہو سکے اور کہنے والا چیلنج کے انداز میں نہایت تحکم سے یہ بات کہے کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ میرا پروردگار کہہ رہا ہے اور میرے پروردگار کی کہی ہوئی باتوں اور اس کے احکام میں کبھی جھوٹ یا شک کا تصور بھی ممکن نہیں۔ اس لیے قرآن کریم میں اور بھی کئی جگہ پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اللہ سے بڑھ کر سچا کون ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں بسنے والے انسانوں میں مفادات کے زیر اثر یا دبائو کے تحت سچ کی پوری پاسداری کرنا بعض دفعہ بہت مشکل ہوجاتا ہے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کو ایسی کوئی مشکل یا ایسی کوئی مصلحت درپیش نہیں ‘ اس لیے وہاں سے جو بھی بات آتی اور جو حکم نازل ہوتا ہے اس کی صداقت اور قطعیت میں کوئی کلام نہیں ہوتا۔ اس لیے اب اس حلت و حرمت کے حوالے سے بھی جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اس میں سچ کے سوا کسی اور بات کو ہرگز دخل نہیں کیونکہ ہم سب سے بڑھ کر سچے ہیں۔ اب ذرا پلٹ کر ایک نگاہ ان چند آیات پر پھر ڈال لیجئے کہ جس میں سب سے پہلے حلت و حرمت کے حوالے سے مشرکین عرب اور ضمنی طور پر اہل کتاب کی گمراہیوں اور حدود سے تجاوزات کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کے بعد عقلی اور فطری دلائل دیتے ہوئے ان کی غلطی کو واضح کیا اور یہ بات سمجھائی کہ کسی چیز کو حلال یا حرام کہنا جائز یاناجائز قرار دینا اس ذات کی صفت ہے جو خالق ‘ مالک اور حاکم حقیقی ہے۔ اس کی مخلوقات میں سے کسی کو ہرگز یہ حق نہیں دیا جاسکتا۔ اس بنیاد پر دلیل کی عمارت اٹھاتے ہوئے اللہ کی پیدا کردہ مختلف نعمتوں کا ذکر فرمایا اور بطور خاص وہ نعمتیں ذکر فرمائی گئیں جن پر انسانی زندگی کی گزربسر کا دارومدار ہے اور پھر ان جانوروں کا ذکر کیا گیا ہے جن کے لیے انسان شدید قسم کی احتیاج رکھتا ہے۔ چونکہ حلت و حرمت کی گمراہی کا زیاد تر تعلق جانوروں سے رہا ہے اس لیے ایک ایک جانور کا نام لے لے کر جو عرب میں معروف بھی تھے اور ان کی ضرورتوں میں مستعمل بھی۔ سوال کیا گیا کہ بتائو آخر ان جانوروں میں سے مذکر اور مونث سمیت کون سا حلال ہے اور کون سا حرام اور اگر یہ مذکر اور مونث حلال ہیں تو پھر ان کا پھل یعنی ان کی اولاد یقینا وہ بھی حلال ہوگی۔ یہی عقل اور فطرت کا فتویٰ ہے ‘ لیکن اگر تم اس سے مختلف رائے رکھتے ہوئے حلت و حرمت کا کوئی الگ فیصلہ کرتے ہو ” بتائو اس کی سند کیا ہے ؟ کسی صحیفہ آسمانی کی گواہی پیش کرو یا اور کوئی دلیل لائو جس کو اہل علم اور اہل عقل قبول کرسکیں ؟ اس کے بعد نہایت تحقیقی انداز اور ہمدردی کے لب و لہجہ میں فرمایا کہ تم حلال و حرام کردہ جانوروں کے بارے میں ہمیشہ ملت ابراہیمی کا حوالہ دیتے ہو ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ ملت ابراہیمی میں کون سے جانور حرام تھے۔ اس کے بعد ایک ضمنی سوال جو ممکن ہے مشرکین کی طرف سے اٹھایا گیا ہو اس کا جواب دیا۔ سوال یہ تھا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ملت ابراہیمی میں جو جانور حلال کیے تھے وہ صرف یہی چار ہیں ‘ جبکہ یہود پر تو اور چیزیں بھی حرام کی گئیں چناچہ اس بات کی حقیقت واضح کی گئی اور بتلایا کہ ان پر جو بعض چیزیں حرام ہوئیں یا تو ان کی اپنی حرام کردہ چیزیں تھیں اور یا ان کی سرکشی کے باعث یہ سخت احکام ان پر نازل ہوئے ان تمام باتوں کی وضاحت ہوجانے کے بعد بحث کا کوئی گوشہ تشنہ باقی نہیں رہتا جو آدمی کفر کی محبت یا عصبیت جاہلی میں بالکل اندھا نہ ہوگیا ہو اس کے لیے یہ ممکن نہیں کہ اس قدر وضاحت کے بعد بھی وہ بات کو نہ سمجھے۔ اس لیے اگلی آیت کریمہ میں ان سے صاف صاف وہ بات فرمائی جا رہی ہے جو ایسی صورت حال میں کہی جانی چاہیے۔
Ayah 6:147

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

پس اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو کہہ دو کہ تمہارا رب بڑی وسیع رحمت والا ہے اور اس کا عذاب مجرموں سے ٹالا نہ جاسکے گا

ارشاد فرمایا : فَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقُلْ رَّبُّکُمْ ذُوْ رَحْمَۃٍ وَّاسِعَۃٍ ج وَلَا یُرَدُّ بَاْسُہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ (الانعام : 147) (پس اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو کہہ دو کہ تمہارا رب بڑی وسیع رحمت والا ہے اور اس کا عذاب مجرموں سے ٹالا نہ جاسکے گا) مشرکین اور بنی اسرائیل کو دھمکی اس آیت کریمہ میں مشرکین اور بنی اسرائیل کو صاف صاف دھمکی دی گئی ہے کہ اگر تم اس بحث کے تمام گوشوں کے واضح ہوجانے کے بعد بھی راہ راست اختیار نہیں کرتے ہو اور تم برابر اللہ کے آخری رسول کو جھٹلاتے ہو تو پھر یاد رکھو تمہارا انجام اچھا نہیں ہوگا تمہیں غلط فہمی یہ ہے کہ تم نے اب تک جو کچھ کیا اس پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تم پر زمین پھٹ جاتی یا آسمان سے تم پر پتھر برستے ‘ لیکن جب تمہاری کسی طرح بھی گرفت نہیں ہوئی تو تم یہ سمجھ بیٹھے کہ تمہیں شاید کوئی پکڑ نہیں سکتا اور یا جو کچھ تمہیں اللہ کا رسول کہہ رہا ہے اس کی شاید کوئی حقیقت نہیں حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ تمہارا معاملہ اگر کسی عام بادشاہ سے ہوتا تو تم بہت پہلے تباہ کردیئے جاتے ‘ تمہارا سابقہ اس خداوند ذوالجلال سے ہے جو صاحب جلال ہوتے ہوئے بھی پکڑنے میں کبھی جلدی نہیں کرتا وہ جس قوم کی طرف اپنے رسول کو بھیجتا ہے اسے آخری حد تک مہلت دیتا ہے اور اس بات کا انھیں موقع بہم پہنچاتا ہے کہ اگر وہ اپنے آپ کو بدلنا چاہیں تو انھیں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ وہ ہزار اذیتیں پہنچاتے ہیں لیکن پیغمبر اللہ کے حکم سے برابر ان کی ایک ایک بات کا جواب دیتا اور ایک ایک شبے کو دور کرتا ہے اور پھر گاہے گاہے پیغمبر سے معجزات کا صدور بھی ہوتا ہے تاکہ ان کو یہ یقین لانے میں آسانی رہے کہ یہ شخص عام انسانوں جیسا نہیں بلکہ یہ اللہ کا نمائندہ اور رسول ہے ‘ اس کا انکار کرنے والے روز بروز انکار میں شدت پیدا کرتے چلے جاتے ہیں ‘ لیکن وہ پھر بھی انھیں مہلت پہ مہلت دیتا چلا جاتا ہے کیونکہ وہ کمزور حکمران نہیں کہ اسے پکڑنے کی جلدی ہو اور یہ اندیشہ ہو کہ ہوسکتا ہے میرے یہ دشمن طاقتور ہو کر میری طاقت کی حدود سے نکل جائیں ‘ لیکن اے قریش اور اے اہل کتاب تمہیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ مہلت بہرحال مہلت ہے یہ ایک نہ ایک دن ختم ہوجائے گی اس سے اللہ کی پکڑ میں کچھ تاخیر تو ہوسکتی ہے لیکن اس سے اس کی وہ سنت باطل نہیں ہوجاتی ہے جو مجرموں کی پکڑ کے لیے اس نے ٹھہرا رکھی ہے۔ اس لیے جب اس کی سنت کے ظہور کا وقت آئے گا تو وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹلے گا۔ اس لیے عقل کی بات یہ ہے کہ اللہ نے محض اپنی رحمت سے تمہیں ڈھیل دے کر جو سنبھلنے کا موقع دیا ہے اس سے فائدہ اٹھائو اور اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دو کیونکہ ؎ نہ جا اس کے تحمل پر کہ بےڈھب ہے گرفت اس کی ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا
Ayahs 6:148–149

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

جنہوں نے شرک کیا ‘ وہ کہیں گے ! اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے ‘ نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کرتے۔ اسی طرح جھٹلایا ان لوگوں نے بھی ‘ جو ان سے پہلے گزرے ‘ یہاں تک کہ انہوں نے ہمارا عذاب چکھا۔ پوچھو ! تمہارے پاس ہے اس کی کوئی سند کہ تم اس کو ظاہر کرسکو۔ تم محض گمان کی پیروی کر رہے ہو اور محض اٹکل کے تیر تکے چلا رہے ہو

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 6:149 in the Quran reader

کہہ دو کہ اللہ کیلئے تو بس حجت ہے پہنچ جانے والی ‘ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا

تمہید گزشتہ آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ مشرکین عرب نے حلت و حرمت کے حوالے سے جو بدعات ایجاد کی تھیں اور جس طرح اللہ کا یہ حق اپنے لیے اور اپنے نام نہاد شرکاء کے لیے مباح کرلیا تھا پروردگار نے مسلسل اس پر تنقید فرمائی اور اس سلسلے میں جو مشرکین یا اہل کتاب کی طرف سے سوالات اٹھائے گئے یا اشتباہات پیدا کیے گئے اس کا جواب اس طرح مسکت انداز میں دیا گیا کہ مشرکین تقریباً بےبس ہو کر رہ گئے اور پھر ساتھ ہی ساتھ انھیں تنبیہ بھی کی گئی کہ تم پر جو ابھی تک اللہ کا عذاب نہیں آیا تو اسے اپنے لیے پروانہ اباحت نہ سمجھو بلکہ یہ اللہ کی طرف سے ڈھیل ہے ‘ جو تمہیں دی گئی ہے۔ اب پیش نظر آیت میں مشرکین کی طرف سے آخری معارضہ کا ذکر کیا جا رہا ہے جو ایک ایسا بےبس آدمی کیا کرتا ہے کہ جب وہ دلائل سے تہی دامن ہوجاتا ہے۔ لیکن اپنی انا اور ضد سے باز نہیں آتا اور یہ فیصلہ کرلیتا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے مجھے راہ راست اختیار نہیں کرنا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے : سَیَقُولُ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا لَوْشَآئَ اللہ ُ مَآ اَشْرَکْنَا وَلَآ اٰبَآؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْئٍ ط کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ حَتّٰی ذَاقُوْا بَاْسَنَا ط قُلْ ھَلْ عِنْدَکُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْہُ لَنَا ط اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ ۔ قُلْ فَلِلّٰہِ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃُ ج فَلَوْ شَآئَ لَھَدٰکُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ (الانعام : 148۔ 149) (جنھوں نے شرک کیا ‘ وہ کہیں گے ! اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے ‘ نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کرتے۔ اسی طرح جھٹلایا ان لوگوں نے بھی ‘ جو ان سے پہلے گزرے ‘ یہاں تک کہ انھوں نے ہمارا عذاب چکھا۔ پوچھو ! تمہارے پاس ہے اس کی کوئی سند کہ تم اس کو ظاہر کرسکو۔ تم محض گمان کی پیروی کر رہے ہو اور محض اٹکل کے تیر تکے چلا رہے ہو۔ کہہ دو کہ اللہ کے لیے تو بس حجت ہے پہنچ جانے والی ‘ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا) مشرکین نے کہا کہ اگر ہمارا اور ہمارے آبا و اجداد کا رویہ اللہ کو ناپسند ہوتا تو وہ ہمیں روک دیتا مشرکین مکہ جب دلائل کے میدان میں بےبس ہوگئے تو آخری بات انھوں نے یہ کہی کہ آپ جو ہمارے مشرکانہ رویے پر اعتراض کر رہے ہیں کہ ہم نے اپنی طرف سے اللہ کے شرکاء بنا رکھے ہیں اور بہت ساری چیزوں کو ان کی طرف منسوب کر کے انھیں حرام اور حلال کرلیا ہے سوال یہ ہے کہ اگر ہمارا یہ مشرکانہ رویہ اور یہ ہمارا حلال و حرام کرنا غلط ہے تو اللہ ہمیں اس سے روک کیوں نہیں دیتا۔ اس میں یہ طاقت ہے وہ جس کام سے چاہے روک دے اور جو کام چاہے لے لے یہ رویہ ہم نے آج اختیار نہیں کیا بلکہ ہمارے آبائو اجداد بھی ایسا ہی کرتے رہے۔ صدیوں سے ہم یہ طرز عمل اختیار کرچکے ہیں لیکن اللہ نے ہمیں اس سے کبھی نہیں روکا اس سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری اور ہمارے آبائو اجداد کی یہ روش یقینا اللہ کو پسند ہے اور وہ یہ چاہتا ہے کہ ہم ایسا ہی کریں اگر وہ نہ چاہتا تو یا ہمیں اس سے روک دیتا یا ہمیں اس کی سزا دیتا۔ ان کی اس جاہلانہ بات کے سلسلے میں چند باتیں ان آیات میں فرمائی گئی ہیں۔ پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ مشرکین مکہ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ جو آج ہمارا رویہ ہے یہی رویہ ہمارے آبائو اجداد کا بھی تھا۔ اللہ نے نہ انھیں روکا نہ ہمیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ایسا ہی چاہتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان سے پہلے شرک کرنے والوں کا رویہ بھی یہی رہا ہے اور وہ اپنے رویے کی تائید میں ایسی ہی بےسروپا باتیں کرتے رہے ‘ جیسی یہ کرتے ہیں۔ لیکن ایک حقیقت ہے جس کو یہ چھپا رہے ہیں اور یا شاید انھیں معلوم نہیں۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے آبائو اجداد کے رویے نے انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا بلکہ بالآخر نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ وہ اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے اس زمین پر ان کے گردوپیش میں معذب قوموں کی بستیاں پھیلی ہوئی ہیں اور وہی تاریخ میں ان سے پہلے گزرنے والی قومیں ہیں ‘ ان کے کھنڈرات صاف گواہی دے رہے ہیں کہ ان پر اللہ کے رسول آئے اور انھوں نے مسلسل ان کو راہ راست دکھانے کی کوشش کی۔ انھیں شرک سے روکا اور ہر طرح سے ان کو غلطیوں سے بچانا چاہا۔ لیکن جب وہ اپنے طرز عمل سے باز نہ آئے تو بالآخر اللہ کا عذاب ان پر ٹوٹا اور وہ تباہ کردیئے گئے۔ اب بجائے اس کے کہ یہ ان کی تاریخ سے عبرت حاصل کریں اور اپنے رویے کی اصلاح کریں لیکن ان کا حال یہ ہے کہ یہ بڑی ڈھٹائی سے اپنے رویے کے ساتھ ساتھ اپنے آبائواجداد کا اس طرح تذکرہ کر رہے ہیں گویا ان کے مشرکانہ رویے نے شاید ان کا کچھ نہیں بگاڑا حالانکہ یہ قوم شعیب ‘ قوم لوط اور قوم عادسب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد کی قومیں ہیں اور انہی کی اولاد میں سے ہیں ان کی طرف انبیاء و رسل آئے اور وہ اپنے زمانے اور اپنے نسب کے اعتبار سے مشرکینِ عرب کے لیے آبائو اجداد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا انجام ان کے سامنے ہے یہ اپنے تجارتی اسفار میں ان کے علاقوں سے گزرتے بھی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ ان سے عبرت پکڑتے اور اپنے مشرکانہ رویہ سے توبہ کرتے لیکن جب اللہ کسی کے دل پر مہر لگا دیتا ہے تو اس کا رویہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ مشرکین سے کہا جا رہا ہے کہ اگر تم کہتے ہو کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں صحیح ہے تو اس کی سند لائو دوسری بات جو اس سلسلے میں فرمائی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ اے مشرکین مکہ تم جو یہ کہہ رہے ہو کہ اگر ہمارا مشرکانہ رویہ غلط ہوتا اور شرک کوئی برائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے روک دیتا۔ لیکن اس نے ہمیں اس سے نہیں روکا بلکہ ہم مسلسل شرک کا ارتکاب کرتے چلے آرہے ہیں اور وہ روکنے کی طاقت رکھتے ہوئے بھی ہمیں اس سے نہیں روک رہا تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ ہم ایسا ہی کریں اور جب وہ ایسا چاہتا ہے تو ہم تو اس کے بےبس بندے ہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کی چاہت کی مخالفت کرسکیں۔ اب اگر شرک کوئی برائی ہے تو پھر ہمارا اس میں کیا قصور ہے کیونکہ ہم نے تو اللہ کے چاہنے سے ایسا کیا اس کے جواب میں یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ کس بات کو چاہتا ہے اور کس بات کو نہیں چاہتا۔ اس کے جاننے کا طریقہ یہ نہیں کہ یہ دیکھا جائے کہ لوگ کیا کر رہے ہیں اور لوگ جس طرح کے اعمال کر رہے ہوں اسے اللہ کی مشیت اور اس کی مرضی سمجھ لیا جائے۔ اگر خدانخواستہ اس کی مشیت اور مرضی کا یہ مفہوم ہے پھر یہ تو ایک ایسی دلیل ہے جو دنیا کی بڑی سے بڑی حماقت کے جواز میں پیش کی جاسکتی ہے۔ ہر ظالم ظلم کرتے ہوئے اور ہر بدمعاش بدمعاشی کرتے ہوئے یہ کہہ سکتا ہے کہ چونکہ مجھے ایسا کرنے سے پروردگار نے نہیں روکا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ یہی چاہتا ہے کہ میں ایسا ہی کروں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ کی یہ زمین برائیوں اور گناہوں سے بھر جائے ‘ ظلم اور فساد یہ سمجھ کے کیا جائے کہ اللہ کی مشیت اور مرضی یہی ہے۔ اس لیے یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر ! انھیں یہ کہیئے کہ اللہ کی پسند یا ناپسند معلوم کرنے کا ذریعہ تمہاری اپنی زندگی اور تمہارے اپنے اعمال نہیں ہیں کہ تم جو کچھ کر گزرو وہ عند اللہ ثواب بن جائے اس کے لیے کسی علمی سند کی ضرورت ہے اس لیے اگر تمہارے پاس ایسا کوئی علم ہے جس سے معلوم ہو کہ تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے اور یا اللہ اس سے راضی ہے تو اسے ہمارے سامنے پیش کرو اور ایسے علم کی دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اللہ نے انسان کو جو عقل سلیم اور فطرت صحیحہ عطا فرمائی ہے وہ اس بات کی گواہی دے کہ واقعی جو کچھ ہم کر رہے ہیں یقینا اللہ اس سے راضی ہے کیونکہ اگر اللہ اس سے راضی نہ ہوتا تو ہماری عقل سلیم اور ہماری فطرت کبھی اس کی تائید نہ کرتی۔ دنیا میں کوئی برائی ایسی نہیں ہے عقل عام جس کا ادراک نہ کرسکے۔ ہاں اگر کسی معاشرے میں برائی کا چلن اس قدر عام ہوجائے کہ نیکی کا وجود آہستہ آہستہ دم توڑ جائے اور اس معاشرے کا رہنے والا ایک ایک فرد بالآخر نیکی کے احساس سے محروم ہو کر برائی ہی کو نیکی سمجھنے لگے تو ایسے معاشرے میں تو یقینا عقل اپنی اصل حیثیت کھو بیٹھتی ہے ورنہ عام طور پر عقل اور فطرت نیکی کا احساس اور برائی کی شناخت رکھتی ہیں۔ یہاں بھی جو لوگ برائی کے اس خطرناک حملے سے محفوظ رہے ہیں ان کی فطرت اور ان کی عقل سے پوچھا جا رہا ہے کہ ان کے پاس اگر اس مشرکانہ رویے کے جواز کا کوئی علم ہے تو وہ اسے پیش کریں۔ علم کی دوسری صورت یہ ہے کہ جن مقدس شخصیات کو وہ اپنی رہنما یا اللہ کے نبی اور رسول کے طور پر مانتے ہیں۔ ان کے حوالے سے قابل اعتبار ذرائع کے ذریعے یہ ثابت کریں کہ انھوں نے ان کے رویے کے مطابق کوئی اللہ کا حکم ان کے لیے چھوڑا ہو ان کا کوئی صحیفہ ان کے پاس ہو جس سے معلوم ہوتا ہو کہ یہ جو کچھ کر رہے ہیں واقعی اللہ نے اس کی انھیں اجازت دی ہے اور اگر یہ علم کی دونوں صورتیں نہ ہوں تو پھر اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں وہ سوائے اٹکل پچو اور ظن وتخمین کے اور کچھ نہیں۔ یہاں مشرکین مکہ سے یہی کہا جا رہا ہے کہ علم نام کی کسی چیز سے تم واقف نہیں۔ تمہاری زندگی کے تمام فیصلے سراسر ظن وتخمین پر مبنی ہیں۔ خالص ظن تو دنیوی معاملات میں بھی بھروسہ کے لائق نہیں ہوتا دینی معاملات تو اپنے اندر بہت نزاکت رکھتے ہیں۔ اس میں تو کوئی بات محض اندازے سے نہیں کہی جاسکتی۔ ہر بات کے لیے وحی الٰہی کی سند کی ضرورت ہوتی ہے اور مشرکینِ مکہ چونکہ وحی الٰہی سے بالکل بےبہرہ تھے اس لیے وہ دینی معاملات میں بھی ظن وتخمین ہی سے کام لیتے تھے اور یہی ان کی گمراہی کا بڑا سبب تھا۔ تیسری بات یہاں یہ فرمائی جا رہی ہے کہ اے مشرکین مکہ تم تو علمی دنیا سے بالکل بےبہرہ لوگ ہو تمہارے پاس دلیل نام کی کوئی چیز نہیں۔ اس لیے اے پیغمبر ان سے کہہ دو کہ یہاں چونکہ دلیل ہی کارآمد ہوتی ہے اور اٹکل پچو تو سراسر گمراہی کا دوسرا نام ہے۔ اس لیے جہاں تک دلیل کا تعلق ہے وہ تو اللہ کے پاس ہے اور وہ دلیل بھی ایسی ہے جو دلوں میں اتر جانے والی ہے۔ یعنی رسول اللہ کے اور قرآن کریم کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید اور توحید کے اثبات میں جو کچھ فرمایا ہے ان میں ایک ایک دلیل دلوں میں اتر جانے والی ہے۔ ان میں دلائل آفاق بھی ہیں اور دلائل انفس بھی جن کا ذکر قرآن کریم میں بھی کیا گیا ہے اور خود ہمارے گردوپیش میں بھی پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک ایک دلیل ایسی ہے کہ اگر آدمی اپنے قلب و ضمیر کے دروازے اس کے سامنے بند نہ کرے تو وہ دل میں اترے بغیر نہیں رہتی اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ دلیل تو صرف اللہ کے پاس ہے جو اس نے اپنے رسول کے ذریعے بندوں تک پہنچا دی ہے اور مراد اس سے قرآن کریم ہے جو اپنی ذات اور اپنے مندرجات میں دلائل کا ایک ایسا خزانہ ہے کہ جس کی موجودگی میں مزید کسی دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اللہ جبر کا طریقہ اختیار نہیں کرتا چوتھی بات یہ ارشاد فرمائی جا رہی ہے کہ اللہ کا قانون جو پیچھے کئی دفعہ بیان ہوچکا یہ نہیں کہ وہ لوگوں کو زبردستی کسی راستے پر چلنے کے لیے مجبور کرے بلکہ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس نے ہدایت کو بھی کھول کر بیان کردیا ہے اور ضلالت کو بھی۔ صحیح بات کو بھی واضح کردیا گیا ہے اور غلط کو بھی۔ پھر لوگوں کو آزادی دے دی گئی ہے کہ تم چاہو تو ہدایت کا راستہ اختیار کرو اور چاہو تو گمراہی کا۔ جو راستہ بھی اختیار کرو گے ہم اس کے امکانات پیدا کردیں گے اور ایک خاص حد تک ہم تمہیں اس پر چلنے کی اجازت دے دیں گے۔ اگر تم نیکی کا راستہ اختیار کرو گے تو نیکی کے راستے پر چلنے کے لیے آسانیاں مہیا کریں گے ‘ اپنی تائید و نصرت سے نوازیں گے ‘ دنیا میں بھی سرفراز کریں گے اور آخرت میں بھی سرخرو کریں گے اور اگر برائی اور گمراہی کا راستہ اختیار کرو گے تو اپنی عالمگیر مصلحتوں کا لحاظ کرتے ہوئے ہم جس حد تک مناسب سمجھیں گے اس کے لیے بھی امکانات پیدا کردیں گے۔ لیکن صحیح راستہ اختیار کرنے پر ہم اجر وثواب سے نوازیں گے اور غلط راستہ اختیار کرنے پر دنیا اور آخرت میں اللہ کے عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ یہ اس کا قانون ہے ہدایت و ضلالت کے سلسلے میں جس کے مطابق وہ دنیا میں بندوں سے معاملہ کر رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی آدمی غلط راستے پر چل رہا ہے اور اللہ اسے اس راستے پر نہ صرف کہ چلنے سے روکتا نہیں بلکہ اسے چلنے کی سہولتیں بہم پہنچاتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اس پر راضی بھی ہے۔ وہ راضی تو انہی باتوں پر ہے جنھیں اس نے اپنے پیغمبروں کے واسطے سے اپنی کتابوں کے ذریعہ واضح کردیا ہے۔ رہی یہ بات کہ برے راستے پر چلنے والے کو وہ روکتا نہیں تو یہ اصلاً اسکا وہ قانون ہے جسے قانونِ مشیت کہہ لیجئے جس کے مطابق اس نے انسانوں کو خیر اور شر کی آزادی دے رکھی ہے اور اسی میں انسانیت کا امتحان ہے۔ لیکن اگر فرض کرلیا جائے کہ وہ جبر اور طاقت سے بندوں کو کسی راستے پر چلنے پر مجبور کرتا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ اسے توحید پسند ہے یا شرک ‘ اسے اسلام پسند ہے یا کفر۔ یقینا وہ توحید اور اسلام کو پسند کرتا ہے۔ اس صورت میں اگر اسے جبرہی کرنا تھا تو پھر وہ سب کو اسلام پر چلنے کے لیے مجبور کرتا اور دنیا میں کوئی آدمی مسلمان ہوئے بغیر نہ رہتا۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ جب بھی اللہ کے پیغمبر دنیا میں اسلام کی دعوت لے کر آئے ہیں انھیں قدم قدم پر دشواریاں پیش آئی ہیں اور آج بھی دنیا میں اسلام کی نسبت کفر کا دائرہ زیادہ وسیع ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ نے کہیں بھی جبر کا طریقہ پسند نہیں فرمایا۔ اس نے انسانوں کو اختیار دے کر ان کا امتحان لیا ہے کہ دیکھتے ہیں وہ کونسا راستہ پسند کرتے ہیں۔ چناچہ اس آیت کے آخری ٹکڑے میں یہی بات فرمائی گئی ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا چونکہ اس نے سب کو ہدایت نہیں دی اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ زبردستی ہدایت دینا پسند نہیں کرتا تو جب بالجبر اس نے ہدایت دینا پسند نہیں کیا تو وہ تم سے زبردستی شرک کیسے کروا سکتا ہے تو پھر تمہارا یہ کہنا کہ ہم تو اللہ کے جبر کا شکار ہیں۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ ہم شرک کریں اور اس کے طیبات کو حرام کریں۔ اس لیے ہم ایسا کر رہے ہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تم محض ایک عذر باطل سے کام لے رہے ہو جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس کے بعد اگلی آیت کریمہ میں اسی سلسلے کی آخری بات فرمائی گئی ہے۔
Ayah 6:150

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 6:150 in the Quran reader

کہو ! لائو اپنے ان گواہوں کو ‘ جو شاہد ہیں کہ اللہ نے فلاں چیز حرام ٹھہرائی ہے۔ پس اگر وہ شہادت دے دیں تو تم ان کے ساتھ شہادت نہ دیجیو اور ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی نہ کیجئے ‘ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ‘ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ اپنے رب کے ہمسر ٹھہراتے

ارشاد ہوا : قُلْ ھَلُمَّ شُھَدَآئَکُمُ الَّذِیْنَ یَشْھَدُوْنَ اَنَّ اللہ َ حَرَّمَ ھٰذَا ج فَاِنَّ شَھِدُوْا فَلَا تَشْھَدْمَعَھُمْ ج وَلَا تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ وَھُمْ بِرَبِّھِمْ یَعْدِلُوْنَ ۔ (الانعام : 150) (کہو ! لائو اپنے ان گواہوں کو ‘ جو شاہد ہیں کہ اللہ نے فلاں چیز حرام ٹھہرائی ہے۔ پس اگر وہ شہادت دے دیں تو تم ان کے ساتھ شہادت نہ دیجیو اور ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی نہ کیجئے ‘ جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ‘ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ اپنے رب کے ہمسر ٹھہراتے ہیں ) اگر مشرکین کے حمایتی گواہی دے بھی دیں تو آپ ﷺ ان کی پیروی نہ کریں اب مشرکین مکہ سے یہ آخری بات کہی جا رہی ہے عربوں کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی آدمی اپنی کسی غلط بات پر اڑ جاتا تو اس کا مخاطب اسے یہ کہتا کہ تم میری کسی دلیل کو مان کے نہیں دے رہے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں اپنی بات پر بےحد یقین ہے تو پھر میرا مطالبہ یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو وہ بالکل صحیح ہے۔ عربوں کے یہاں چونکہ جھوٹی گواہی بڑا عیب سمجھا جاتا تھا خاص طور پر ذمہ دار لوگ اس سے بہت بچتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ گواہی اصل میں انسان کی پوری شخصیت کا امتحان ہے اور اس طرح اسے اپنی پوری شخصیت دائو پر لگانا پڑتی ہے۔ اس لیے وہ حتی الامکان جھوٹی گواہی دینے سے بچتے تھے۔ اس لیے یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ تم دینی معاملات میں جن لوگوں کی پیروی کرتے ہو اور سمجھتے ہو کہ وہ تمہیں صحیح راہنمائی دے رہے ہیں تو انھیں پکڑ کے لائو وہ سب لوگوں کے سامنے گواہی دیں کہ جن جن چیزوں کو انھوں نے حرام کر رکھا ہے اور جن جن چیزوں کا حصہ انھوں نے بعض بعض کے لیے مخصوص کر رکھا ہے واقعی ان چیزوں کو اللہ نے حرام کیا ہے اور اللہ ہی نے ان میں خصوصیت پیدا کی ہے۔ بہت امکان ہے کہ وہ گواہی اور شہادت کی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے یہ جسارت کرنے کی ہمت نہ کریں۔ لیکن اگر وہ اس حد تک ڈھٹائی پر اتر آئیں کہ ایک چیز کو غلط سمجھتے ہوئے بھی اس کی شہادت دینے کو تیار ہوجائیں تو آنحضرت ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ آپ ان کی اس گواہی کو تسلیم مت کریں بلکہ آپ اپنی دعوت و شہادت پر جمے رہیں اور ان لوگوں کی خواہشات و بدعات کی پرواہ نہ کریں۔ یہاں ان کی بدعات کو اَھْوَآئ کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے اس لیے کہ جس چیز کے حق میں نہ کوئی نقلی دلیل ہو نہ عقلی۔ ظاہر ہے کہ وہ اس کے اختیار کرنے والوں کی خواہش ہی پر مبنی ہوسکتی ہے اور جن کی راہنما ان کی خواہش ہو ان کے انجام کے بارے میں پیش گوئی کرنے کے لیے کسی بڑی عقل کی ضرورت نہیں اور مزید یہ بات بھی کہ جن لوگوں سے یہاں گواہی کا مطالبہ کیا گیا ہے ان کی تین صفات بھی بیان کی گئی ہیں تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ ایسے لوگوں سے بڑی سے بڑی برائی کی بھی توقع کی جاسکتی ہے اور ان کے لیے بڑا سے بڑا جھوٹ بولنا بھی کبھی مشکل نہیں ہوتا۔ اس لیے اگر یہ لوگ اپنے غلط رویے کے بارے میں بھی شہادت دینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں تو یہ چنداں تعجب خیز نہیں ہونا چاہیے۔ ان کی پہلی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے۔ آیات سے مراد آیات خداوندی بھی ہوسکتی ہے اور آیات قرآنی بھی۔ جہاں تک آیات خداوندی کا تعلق ہے وہ تو اس کائنات کے ذرے ذرے میں دکھائی دیتی ہیں۔ خود انسان کا ایک ایک رونگٹا اللہ کی نشانی ہے۔ انسان کا سراپا اس کی شخصیت ‘ اس کے اعضاء وجوارح ‘ اس کے دل و دماغ کی قوتیں ‘ اس کے نفسی احساسات ‘ اس کی قوت واہمہ اور متخیلہ ‘ اس کے انفعالی جذبات ‘ اس کی فعلی قوتیں ‘ ان میں سے کون سی چیز ہے جو اللہ کے وجود پر دلالت نہیں کرتی۔ جو بلید و غبی انسان یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی اللہ کی توحید کی بجائے شرک کا رویہ اختیار کرتا ہے اس سے آخر کسی خیر کی توقع کیسے ہوسکتی ہے اور اگر اس سے آیات قرآنی مراد لی جائے تو تب بھی بات واضح ہے کہ قرآن کریم نے بار بار مشرکین مکہ کو چیلنج کیا ہے کہ تم اس قرآن جیسی ایک آیت ہی بنا کرلے آئو اور جن جن کو اپنی مدد کے لیے بلا سکتے ہو سب کو بلا لائو۔ لیکن مشرکین عرب اسلام سے انتہائی دشمنی کے باوجود اس چیلنج کو قبول نہ کرسکے۔ لیکن اس کے باوجود آیات قرآنی کا یہ کہہ کر انکار کرتے رہے کہ ہم اسے اللہ کی وحی ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ مشرکین مکہ آخرت کے منکر تھے اس لیے برائی کرنے سے نہیں ڈرتے تھے ان کی دوسری صفت جو بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ وہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ مجھے مر کر فنا نہیں ہوجانا بلکہ ایک دن دوبارہ زندہ بھی ہونا ہے اور پھر قیامت کے دن اللہ کے سامنے حاضری ہوگی۔ وہاں زندگی اور زندگی کے ایک ایک عمل کے بارے میں جواب دہی کرنی پڑے گی اور اگر میں اس میں سرخرو نہ ہوسکا تو ہمیشہ کا عذاب میرے انتظار میں ہوگا۔ وہ کبھی بھی اپنے رویے پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ کبھی اس کی زندگی میں سنجیدگی نہیں آسکتی ‘ وہ کبھی اپنے مقصد زندگی میں یکسو نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے ذہن میں یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ آخر میں اپنی خواہشات نفس کی بجائے کسی اور کی پیروی کیوں کروں۔ یہ مشرکین عرب اسی لیے سنجیدگی سے دعوت اسلامی کو نہیں لیتے تھے اور کسی برائی کرنے سے نہیں چوکتے تھے کیونکہ انھیں آخرت کا یقین نہیں تھا۔ ایسے لوگ اگر غلط شہادت دینے کے لیے تیار ہوجائیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ وہ شرک کرتے تھے تیسری صفت ان کی یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنے رب کے ہمسر ٹھہراتے ہیں کسی بھی شخص کی گمراہی کی یہ انتہاء ہے کہ اللہ جو خالق ‘ رازق اور مالک ہے اور جس کی وحدانیت پر کائنات کا ایک ایک ذرہ گواہ ہے۔ آدمی اس کا رزق بھی کھائے اور پھر اس کا ہمسر بھی ٹھہرائے اور یہ خیال کرے کہ اس کائنات میں اللہ جیسی اور قوتیں بھی ہیں۔ ایسی حرکت وہی شخص کرسکتا ہے جو شرافت کی آخری حد سے بھی گرگیا ہو اور جس میں انسانیت کا نام تک باقی نہ رہا ہو تو یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ یہ چونکہ اس طرح کے عقائد رکھتے ہیں اور اس معاملے میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں۔ اس لیے ان سے کسی بھی برائی کی توقع رکھنا بعید از قیاس نہیں اس لیے اگر یہ اتنی واضح ہدایات اور اتنے مضبوط دلائل کے بعد بھی یہ بات سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو اے پیغمبر آپ کو ہرگز پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ سلسلہ کلام جہاں تک پہنچ چکا ہے اور مشرکین مکہ کی تین صفات بیان کر کے جس طرح ان پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے اس کے بعد تو یوں لگتا ہے کہ اب ان پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ کردیا جائے گا اور آنحضرت ﷺ کو ہجرت کا حکم دے دیا جائے گا۔ لیکن اللہ کے کرم کا کیا کہنا کہ بجائے ان پر عذاب بھیجنے اور ان کی محرومی کا فیصلہ کرنے کے سلسلہ کلام کو مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے اور ان سے یہ فرمایا جا رہا ہے کہ تم اپنی نادانی سے چند طیبات کو محرمات میں تبدیل کر کے اور اللہ کے حلت و حرمت کے حق کو اپنے اور اپنے نام نہاد شرکاء کے لیے مباح کر کے یہ سمجھ رہے ہو کہ یہ ملت ابراہیمی ہے حالانکہ اس کا ملت ابراہیمی سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم اس سے پہلے یہ بات بتا چکے ہیں کہ ملت ابراہیمی میں جو چیزیں حرام کی گئی تھیں وہ صرف چار تھیں۔ مردار ‘ دم مسفوح ‘ خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام پر نامزد کیا ہوا جانور۔ لیکن عجیب بات ہے کہ تم ان سب کو اپنے لیے حلال سمجھتے ہو۔ مزید برآں اللہ اور بندوں کے حقوق و معاملات سے متعلق بہت سی چیزیں اللہ نے حرام کی تھیں تم نے ان کو اختیار کر رکھا ہے۔ آئو ہم تمہیں اب بتاتے ہیں کہ وہ کیا کیا چیزیں تھیں جو تمہارے رب نے حرام کی تھیں چناچہ اب اس رکوع میں انہی چیزوں کو بیان کیا جا رہا ہے۔