6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsروح القرآن

Ayah 6:98

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ Open ayah 6:98 in the Quran reader

اور وہی ہے ‘ جس نے تم کو پیدا کیا ‘ ایک ہی جان سے۔ پھر ہر ایک کیلئے ایک مستقر اور ایک مستودع ہے۔ ہم نے اپنی نشانیاں ان لوگوں کیلئے تفصیل سے بیان کردی ہیں ‘ جو سمجھیں

ارشاد فرمایا : وَھُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ فَمُسْتَقَرٌّوَّ مُسْتَوْدَعٌط قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَھُوْنَ ۔ (الانعام : 98) (اور وہی ہے ‘ جس نے تم کو پیدا کیا ‘ ایک ہی جان سے۔ پھر ہر ایک کے لیے ایک مستقر اور ایک مستودع ہے۔ ہم نے اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لیے تفصیل سے بیان کردی ہیں ‘ جو سمجھیں) اس آیت کریمہ کا ایک ایک لفظ گہرے تدبر اور غور و فکر کا طالب ہے گزشتہ آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ دلائل آفاق اور خارجی دنیا کے تذکرے سے اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر استدلال کیا ہے۔ لیکن اس آیت کریمہ میں خود انسان کے وجود اور اس کی نفسی حقیقتوں سے استدلال کیا جا رہا ہے کہ اگر کوئی شخص ایسا ہی گیا گزرا ہے کہ وہ خارجی دنیا اور کائنات کے حقائق پر نظر کرنے سے قاصر ہے تو اسے اپنے ظاہر و باطن کو دیکھنا اور اپنے اوپر نعمتوں کو پہچاننا مشکل نہیں ہونا چاہیے اگر وہ تھوڑا سا بھی تامل کرے تو یقینا وہ قرآن کریم کے اس استدلال کو سمجھ سکتا ہے اس لیے یہاں براہ راست انسانوں سے خطاب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ دیکھو اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہیں نفس واحدہ سے پیدا کیا اولاً تو انسان کا مخلوق ہونا اور اس کی تخلیق میں کسی اور کا شریک نہ ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ کی ذات اور اس کی صفت تخلیق میں کوئی شریک نہیں اور یہی دلیل توحید کے لیے کافی ہونی چاہیے۔ لیکن اس آیت کریمہ میں تخلیق کے لیے خَلَقَ کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا بلکہ اَنْشَاَ کا لفظ استعمال ہوا۔ ان دونوں کے معنی میں فرق ہے۔ خَلَقَ کا معنی ہے کسی چیز کا عدم سے وجود میں لے آنا ‘ ایک معدوم کو موجود کردینا لیکن اَنْشَاَ کے معنی میں اس سے زیادہ وسعت ہے اس میں تخلیق کا معنی بھی شامل ہے لیکن اسی پر اکتفا نہیں بلکہ اس میں نمود و پرداخت اور تربیت کے تمام مراحل کی تمام ضرورتوں کو پورا کرنا ‘ زندگی کے تمام امکانات کو مہیا کرنا ہر پیدا ہونے والی ضرورت کو وقت سے پہلے جان کر پہلے سے اس کی تدبیر بروئے کار لانا۔ یہ تمام چیزیں اس لفظ کی معنویت میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کر کے نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس کو اس طرح قدم قدم آگے بڑھنے کے امکانات سے بہرہ ور فرمایا اور ہر سطح پر اس کی ضروریات کو اس طرح پورا فرمایا اور ہر مرحلے پر اس کی ہدایات کے ایسے سامان فرمائے کہ ان کی تفصیل دیکھ کر آدمی حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ کیونکہ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ تمام مخلوقات کے بچوں سے زیادہ بےبسی کی تصویر ہوتا ہے۔ ایک بلی کا بچہ آنکھیں کھولتے ہی اپنی ماں کے پستان تلاش کرلیتا ہے ‘ مرغی کا بچہ چند گھنٹوں کے بعد اپنی ماں کے پیچھے چلنے لگتا ہے ‘ ایک بھینس کا بچہ چند ہی گھنٹوں میں اٹھ کر لڑکھڑاتا ہوا اپنی غذا کی جگہ پہنچ جاتا ہے۔ لیکن انسان کا بچہ جب زمین پر اترتا ہے تو نہ خود چل سکتا ہے نہ پکڑ سکتا ہے نہ دیکھ سکتا ہے نہ سن سکتا ہے کسی طرح کا احساس بھی اپنے اندر نہیں رکھتا لیکن عجیب بات ہے کہ ان تمام چیزوں کی تلافی کے لیے ماں کے سینے میں مامتا کا جوش پیدا کردیا جاتا ہے اس کی بانھیں بےتابانہ اپنے بچے کو اٹھانے کے لیے لپکتی ہیں۔ باپ کے کندھے اس کا بوجھ اٹھانے کے لیے بےقرار ہو ہوجاتے ہیں۔ ماں جوش محبت میں اسے سینے سے لگاتی ہے تو وہیں اس کے لیے غذا کے سوتے جاری کردیئے جاتے ہیں پھر وہ آہستہ آہستہ حواس سے نوازا جاتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں واللہ ُ اَخْرَجَکُمْ مِنْم بُطُوْنِ اُمَّھَاتِکُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئاً لا وَ جَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَۃَ لا لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ ( اللہ وہ ذات ہے ‘ جس نے تمہیں تمہاری مائوں کے پیٹوں سے اس طرح نکالا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ پھر اس نے تمہیں قوت سماعت عطا کی ‘ قوت بصارت عطا کی اور عقل و خرد سے نوازا تاکہ تم شکر ادا کرو) (النحل : 78) یعنی انسان کو جن علمی خزانوں سے مالامال کیا ان میں سب سے پہلے مشاہداتی قوت پھر سماعی قوت یعنی مشاہدات کے بعد مسموعات کا علم اور سمعی و بصری ذرائع سے کام لینے کا جذبہ اور اسی کے ضمن میں باقی حواس کو بھی شامل سمجھئے کیونکہ یہ دونوں ذرائع باقی حواس کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ لیکن جہاں حواس اپنا سفر مکمل کرلیتے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ عقل و خرد کا چراغ روشن فرماتے ہیں جس میں دماغ اپنا کام کرتا ہے اور قلبی بصیرت اپنا فرض انجام دیتی ہے۔ اَفْئِدَۃَ دماغی اور قلبی دونوں قوتوں پر دلالت کرتا ہے۔ پھر ان نعمتوں کے ساتھ ساتھ انسان کی غذائی ضرورتوں کے لیے سطح زمین پر دسترخوان بچھا دیا گیا ہے ‘ آسمان سے پانی برستا ہے اور عناصر قدرت اس دسترخوان کو سجانے کے لیے ہمہ وقت اپنا فرض انجام دیتے ہیں۔ پھر نسل انسانی کی بقا کے لیے انسان ہی کی جنس سے اس کا جوڑا پیدا کیا گیا اور پھر آگے توالد و تناسل سے انسانی قافلے کو اس طرح پروان چڑھایا گیا کہ آغاز حضرت آدم اور حضرت حوا سے ہوا اور بڑھتے بڑھتے یہ قافلہ اربوں تک پہنچ گیا۔ ان میں اگرچہ شکلوں صورتوں زبانوں اور لہجوں کا اختلاف ہے لیکن جبلی تقاضوں اور فطری داعیات کے لحاظ سے کامل اتفاق پایا جاتا ہے۔ ایک بہت بڑا اختلاف ہم مرد اور عورت میں دیکھتے ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ ان دونوں کے اندر ایک دوسرے کے ساتھ سازگاری کے جو ظاہری محرکات پائے جاتے ہیں اس کا نتیجہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے ایک کشش اور ایک ضرورت محسوس کرتے ہیں اور ہر ایک اپنی جگہ دوسرے کے لیے اپنے اندر ایک خلا محسوس کرتا ہے اور جب تک ان دونوں میں فطری اور شرعی طریقے سے یکجائی پیدا نہیں ہوتی وہ خلا بھرنے کا نام نہیں لیتا اس طرح انسانی قافلے کا ایک ساتھ چلنا خاندان اور قوموں کی شکل اختیار کرنا اور انسانی معاشرے کا وجود میں آنا کیا بجائے خود اس بات کی دلیل نہیں کہ اگر اس انسانی قافلے کا خالق ایک نہیں بلکہ دو ہوتے تو ان میں یہ یکسانی یہ ہم آہنگی پھر ان کو قدم قدم پر ضرورتوں کا مہیا کرنا ہر سطح پر ان کی نمود و پرداخت اور ان کی تربیت کے امکانات کو بروئے کار لانا کیا دو خدائوں کی صورت میں ایسا دور دور تک ممکن ہوسکتا ہے۔ اس لیے یہاں اللہ کی وحدانیت پر استدلال کرتے ہوئے توجہ دلائی جا رہی ہے کہ انسانو ! خود اپنے تخلیقی عمل اور اپنے گرد و پیش میں پھیلے ہوئے انسانی قافلے کو اور اب تمہاری ضرورتوں کی تکمیل کے لیے اللہ کی بےکراں نعمتوں کو دیکھو یہ سب کس بات پر دلالت کر رہی ہیں کیا اس بات پر کہ خدا ایک ہے اور وہی تمہارا الٰہ ہے یا اس بات پر کہ یہاں مختلف قوتیں ‘ مختلف قوانین یا مختلف دیوتا اپنی اپنی خدائی کا صور پھونک رہے ہیں اور یہ کائنات ان کی ایک رزم گاہ ہے جس میں یہ تصادم جاری ہے ؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ جو ہمیں نمود و پرداخت کا عمل دکھائی دیتا ہے اور جس میں قدم قدم پر انسان نوازا جا رہا ہے کیا اس کا دور دور تک امکان ہوسکتا تھا ؟ پھر اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے صرف تمہیں پیدا ہی نہیں فرمایا بلکہ اس نے تمہارے لیے مستقر بھی پیدا فرمایا جس طرح جب ایک بچہ جوان ہوجاتا ہے تو ماں باپ کو اس کا گھر بسانے کی فکر ہوتی ہے ‘ چناچہ جب اس کا گھر بسانے کا فیصلہ ہوتا ہے تو پہلے اس کے لیے گھر بنایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب انسانوں کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو پہلے ان کے لیے ایک مستقر بنایا یعنی ایک ایسی جگہ جہاں جا کر وہ رہ سکیں اور بس سکیں۔ یقینا وہ جگہ ایسی ہونی چاہیے جہاں ان کے قرار ‘ ان کی سکونت اور رہائش کی آسانیاں میسر ہوں ‘ جہاں وہ ساری چیزیں موجود ہوں جو ایک گھر کو گھر بناتی ہیں اور جو رہنے والوں کی ضرورت ہوتی ہیں اس حوالے سے جب ہم دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ تمام زمین پر جہاں جہاں بھی نسل انسانی آباد ہے پروردگار نے کس طرح اس کے رہنے اور بسنے کے امکانات اور وسائل مہیا فرما دیئے ہیں۔ پہاڑوں کے غار اور سایہ دار درختوں کے جھنڈ اور چٹانوں کے سائے یہ تو وہ چیزیں ہیں جو حیوانوں کو بھی میسر ہیں لیکن انسان نے اس سے بہت آگے قدم بڑھایا وار اس کی فطرت میں یہ بات ڈال دی گئی کہ تم اگر اس دنیا میں تسخیر کا عزم لے کر نکلو گے تو اس کی ایک ایک چیز تمہارے لیے ہے۔ صرف اولوالعزمی اور حوصلہ مندی کی ضرورت ہے چناچہ انسان نے پہاڑوں کے سینے چیر ڈالے ‘ فضائوں میں کمندیں ڈالیں ‘ لوہے میں قوت پرواز پیدا کردی ‘ سمندر کی تہوں میں اتر گیا ‘ ہر جگہ سے اس نے اپنی قوت تسخیر سے خراج وصول کیا اور یہ صرف اس لیے ہوا کہ اللہ نے پہلے سے یہ خزانے اسی کے لیے پیدا فرمائے تھے اور اس میں تجسس و جستجو کا مادہ رکھا تھا اور حوصلہ مندی اس کے ہم رکاب کردی گئی تھی اور یہ سب کچھ اس لیے ہوا تھا کہ قدرت نے زمین کو اس کے لیے مستقر ٹھہرایا تھا۔ ذرا اندازہ فرمایئے کہ یہ مستقر انسان کے لیے ایسا کافی ثابت ہوا ہے کہ انسان پیدا بعد میں ہوتا ہے زمین اپنی آغوش اس کے لیے پہلے کھول دیتی ہے وہ اندر سمٹ کر بیٹھتا ہے آکسیجن اسے ڈھونڈ لیتی ہے۔ باہر نکلتا ہے تو ہوائیں اس سے اٹھکیلیاں کرتی ہیں ‘ گھٹائیں اس کے استقبال کے لیے جھوم کے اٹھتی ہیں ‘ سورج اپنی روشنی سے اس کے راستے کو روشن کرتا ہے ‘ زمین اپنا سینہ اس کے لیے وا کردیتی ہے کیونکہ اس کا مستقر اس سے بخل نہیں کرسکتا اور اللہ کے حکم سے سرتابی نہیں کرسکتا۔ قرآن کریم یہاں اس حقیقت کو واشگاف کر رہا ہے کہ انسانو ! اگر اس زمین و آسمان کے الگ الگ خدا ہوتے تو کیا زمین پر اترنے کے بعد تمہارے لیے یہی امکانات مہیا ہوتے اور تمہارے تخلیقی عمل سے لے کر تمہارے زندگی گزارنے کے آخری مرحلے تک اسی طرح تمہاری نگرانی ‘ تمہاری حفاظت اور تمہاری دیکھ بھال ہوتی۔ یقینا یہ پورا سلسلہ عمل ایک ہی اللہ کے وجود اور ایک ہی معبود اور تمہارے عبد ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ مزید فرمایا کہ جس طرح اس نے تمہارے لیے زمین کو مستقر بنایا ہے اور یہاں وہ آنے والے ایک ایک شخص کو جانتا اور پہچانتا ہے اس کے مطابق اسے رہنے کی جگہ کھانے پینے کا سامان اور زندگی کی ضروریات مل رہی ہیں اسی طرح اس نے اس زمین کو مستودع بھی بنایا ہے۔ مستودع اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کسی چیز کو امانتاً ودیعت کردیا جاتا اور دفن کردیا جاتا ہے اور جہاں دفن کیا جاتا ہے اس جگہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ جب اس امانت کو اس سے واپس مانگا جائے تو وہ امانت حوالے کر دے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ زمین تمہارے لیے مدفن بنائی گئی ہے کہ زندگی گزارنے کے بعد یہی زمین جو تمہیں قرار کے لیے جگہ دیتی تھی وہی تمہیں دفن کے لیے قبر دے گی اور جس طرح اس نے تمہارے قرار اور رہنے کے لیے سہولتیں مہیا کی تھیں اسی طرح تمہارا مدفن بننے کے بعد تمہیں اپنی آغوش میں سنبھال کے رکھے گی لیکن چونکہ تمہیں اس کی آغوش میں امانت کے طور پر رکھا جا رہا ہے اس لیے جب قیامت آئے گی اللہ تعالیٰ اسے حکم دے گا کہ ہماری امانت ہمیں واپس کردو چناچہ وہ ایک ایک دفن ہونے والے کو اپنے اندر سے نکالے گی اور میدان حشر کی طرف ہانک دے گی۔ مزید یہ توجہ دلائی جا رہی ہے کہ جس طرح اللہ نے جتنے انسانوں کو اس زمین پر پیدا فرمایا تھا اور اس زمین پر انھیں ٹھہرایا تھا وہ ان میں سے ایک ایک کو جانتا تھا اس لیے ایک ایک کو اس نے رزق پہنچایا۔ اسی طرح جس جس کو اس زمین میں دفن ہونے کا موقع ملے گا یعنی جو بھی یہاں موت کا شکار ہوگا چاہے اس کی قبر کہیں بھی ہو اسے بھی اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ چناچہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے : وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللہِ رِزْقُھَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّھَا وَ مُسْتَوْدَعَھَا ط (اور نہیں ہے ‘ زمین پر کوئی جاندار ‘ مگر اللہ ہی اس کو روٹی دیتا ہے اور دنیا میں اس کے مستقر کو بھی جانتا ہے اور مرجانے پر اس کے سپرد کیے جانے کی جگہ کو بھی جانتا ہے) (ھود : 6) یعنی جس طرح وہ ہر زندہ شخص سے باخبر ہے اور اسے رزق پہنچا رہا ہے اور اس کی زندگی اور موت سے بخوبی واقف ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا نہ آئندہ ہوسکتا ہے کہ کسی شخص کو پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ بھول گیا ہو اور صدیاں اس کو زندگی میں گزر گئی ہوں اور کبھی اس کو موت نہ آئے۔ کیونکہ اللہ کے علم سے وہ نکل چکا اب ظاہر ہے اسے موت کیسے آسکتی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں کیونکہ اللہ کا علم مکمل ہے وہ کبھی کسی سے بیخبر نہیں ہوتا اسی طرح جو آدمی مرجاتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بھی بیخبر نہیں ہوتا وہ خوب جانتا ہے کہ وہ کہاں دفن ہو ازمین میں دفن ہوا یا سمندر میں یا کوئی درندہ اس کو کھا گیا ہر چیز اللہ کے علم میں ہے اس لیے جب قیامت آئے گی تو ہر شخص کو اسی جگہ سے اٹھایا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات ہوگی کہ اس کی موت کہاں ہوئی تھی چاہے اس کے جسم کا کوئی ذرہ بھی باقی نہ رہا ہو اور ہر چیز مٹی ہوچکی ہو یا اس کی لاش گل سڑ چکی ہو تو اگر وہ ایک سڑی ہوئی گٹھلی سے قد آور درخت نکال سکتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کے اندر زندگی کے آثار ہیں تو وہ زمین کے ذروں سے مرنے والے کا جسم بھی نکال لے گا۔ کیونکہ وہ مستقر سے بھی واقف ہے اور مستودع سے بھی واقف ہے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ اس طرح ہم نے یہ نشانیاں کھول کے بیان کردی ہیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں۔ گزشتہ آیت میں یَعْلَمُوْنَ کا لفظ تھا اور یہاں یَفْقَھُوْنَ کا لفظ ہے۔ علم عقل و شعور کا فعل ہے اور تفقہ دل کا۔ قرآن کریم نے ان دونوں لفظوں کو ان معنوں میں کئی جگہ استعمال کیا حقیقت تو اللہ جانتا ہے لیکن غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ خارجی عالم کی نشانیاں اور آفاقی دلائل انسان کی علمی اور مشاہداتی قوتوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ اس لیے ان سے وہی ہدایت پاسکتا ہے جو علمی پیمانوں سے کام لیتا ہے اور دماغی قوتوں کو استعمال کر کے بات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن جہاں تک انسان کے اپنے تخلیقی عمل اور اس کو عطا کردہ اللہ کی نعمتوں اور اس کی عنایات اور انسان کی داخلی زندگی کے احساسات اور انفعالات کا تعلق ہے اس میں دماغی کاوشیں کم اور قلبی بصیرتیں زیادہ کام دیتی ہیں۔ اس لیے پہلے علم و شعور کو متوجہ کیا گیا اور یہاں قلبی بصیرت پر توجہ دلائی جا رہی ہے کیونکہ جب تک ان دونوں کو بروئے کار نہیں لایا جاتا اللہ کی معرفت اور اس کی ہدایت کا سفر طے کرنا آسان نہیں ہوتا۔ خاص طور پر اللہ کی ذات چونکہ حواس اور عقل کی گرفت میں نہیں آتی تو جو آدمی خوگر پیکر محسوس بن کر علم کی دنیا میں داخل ہوتا ہے اور وہ انہی کی مدد سے یقین و اذعان کا سفر طے کرنا چاہتا ہے تو اسے یہ دولت کبھی نصیب نہیں ہوتی۔ اس کے لیے دل کی بصیرت ‘ دل کی ہم آہنگی اور دل کی روشنی ضروری ہے یہ وہ نور ہے جو اس راستے پر چلنے والے کو روشنی مہیا کرتا ہے۔ اس لیے اس آیت کریمہ کے آخر میں بطور خاص اس کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ دلائل آفاق اور دلائل انفس میں سے چند ایک سے استدلال کرنے کے بعد اب پروردگار اپنی رحمت ‘ ربوبیت ‘ قدرت اور حکمت سے توحید اور معاد پر اگلی آیت کریمہ میں استدلال فرما رہے ہیں۔
Ayah 6:99

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:99 in the Quran reader

اور وہی ہے ‘ جس نے آسمان سے پانی برسایا۔ پھر ہم نے اس سے ہر چیز کے انکھوے نکالے۔ پھر ہم نے اس سے سرسبز شاخیں اگائیں ‘ جس سے ہم تہہ بہ تہہ دانے پیدا کردیتے ہیں اور کھجور کے گابھے سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار باہم دگر ملتے جلتے بھی اور ایک دوسرے سے مختلف بھی ‘ ہر ایک کے پھل کو دیکھو ! جب وہ پھلتا ہے (اور اس کے پکنے کو دیکھو ! ) جب وہ پکتا ہے ‘ بیشک ان کے اندر نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے ‘ جو ایمان لانا چاہتے ہیں

چناچہ ارشاد ہوتا ہے : وَھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً ج فَاَخْرَجْنَا بِہٖ نَبَاتَ کُلِّ شَیْئٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْہُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْہُ حَبًّا مُّتَرَاکِبًا ج وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِھَا قِنْوَانٌ دَانِیَۃٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّالزَّیْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِھًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِہٍ ط اُنْظُرُوْٓا اِلٰی ثَمَرِہٖٓ اِذَآ اَثْمَرَ وَ یَنْعِہٖ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ۔ (الانعام : 99) (اور وہی ہے ‘ جس نے آسمان سے پانی برسایا۔ پھر ہم نے اس سے ہر چیز کے انکھوے نکالے۔ پھر ہم نے اس سے سرسبز شاخیں اگائیں ‘ جس سے ہم تہہ بہ تہہ دانے پیدا کردیتے ہیں اور کھجور کے گابھے سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار باہم دگر ملتے جلتے بھی اور ایک دوسرے سے مختلف بھی ‘ ہر ایک کے پھل کو دیکھو ! جب وہ پھلتا ہے اور اس کے پکنے کو دیکھو ! جب وہ پکتا ہے ‘ بیشک ان کے اندر نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے ‘ جو ایمان لانا چاہتے ہیں ) گزشتہ آیت کریمہ میں انسان کی تخلیق اور اس کی نمود و پرداخت کا ذکر تھا اب اپنی ربوبیت عامہ اور ربوبیت خاصہ سے توحید اور معاد پر استدلال فرمایا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے یہ بات فرمائی کہ اللہ وہ ذات ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا اس میں سب سے پہلے اس بات کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ یہاں السماء کا لفظ استعمال ہوا ہے جسکا معنی عام طور پر آسمان کردیا جاتا ہے لیکن عربی زبان میں سماء صرف آسمان کو نہیں کہتے بلکہ ہر وہ چیز جو سرکے اوپر سایہ کرتی یا بلندی پر ہے اس کو سماء کہہ دیتے ہیں۔ اس لیے بادل کو بھی سماء کہا جاتا ہے یہاں سماء سے مراد بھی اوپر سے یا بادل سے مراد ہے۔ پھر اس کے بعد فرمایا کہ پھر ہم نے اس سے ہر چیز کی نبات پیدا کی۔ نبات کہتے ہیں ہر وہ چیز جو زمین سے اگتی ہے اور ہر وہ شگوفہ جو کہیں سے پھوٹتا ہے اس لیے ترجمے میں ہم نے اس کے لیے انکھوے کا لفظ استعمال کیا۔ اس میں قابل توجہ بات یہ ہے کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پانی کا ذکر سب سے پہلے اس لیے فرمایا کہ پانی زمین پر زندگی کی نمود اور زندگی کی بقاء کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور پھر ہماری غذا کا دارومدار زمین سے اگنے والی چیزوں پر ہے اور زمین سے کوئی چیز اگ نہیں سکتی جب تک کہ پانی سے اس کی آبیاری نہ کی جائے اس لیے پانی کے برسنے کا ذکر فرمانے کے بعد پھر فرمایا کہ ہم نے اس کے ذریعے زمین سے ہر اگنے ولی چیز نکالی۔ اس میں زور اس بات پر ہے کہ آسمان سے پانی بھی اللہ نے اتارا اور زمین سے ہر چیز بھی اللہ ہی نے نکالی۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ بارش برساتا ہے وہی زمین سے نباتات بھی اگاتا ہے۔ گویا دونوں کا خدا ایک ہے۔ اگر دونوں کے خدا جدا جدا ہوتے تو زمین و آسمان میں یہ توافق اور پانی اور زمین میں یہ موافقت اور بادل اور ہوا میں یہ مناسبت کبھی پیدا نہ ہوتی۔ آسمان کا خدا اگر پانی برساتا تو زمین کا خدا اسے زمین پر نہ پہنچنے دیتا یا زمین کو حکم دیتا کہ تم اپنا سینہ اس کے لیے بند کرلو اور اس کے لیے اپنی قوت روئیدگی کو بروئے کار آنے سے روک دو اور اگر زمین کبھی دھوپ سے جل کر پانی کی طالب ہوتی تو آسمان کا خدا بادلوں کو حکم دے دیتا کہ تمہیں برسنے کی ہرگز اجازت نہیں تو اندازہ فرمایئے ! انسان کی غذا کا سروسامان کہاں سے ہوتا اور اللہ جو اپنے آپکو رب کہتا ہے اس کی ربوبیت کیسے وجود میں آتی اس لیے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ ربوبیت کا عمل جو تم اپنے ساتھ اپنے اندر اور اپنے باہر پھیلا ہوا دیکھ رہے ہو اور جس سے تم ہر لمحہ بہرہ ور ہو رہے ہو اور جس کی ہمہ گیری نے پوری انسانی زندگی کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے اگر تم اس کو کھلی نظر سے دیکھو تو تمہیں یہ بات سمجھنے میں دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ اس پوری کائنات کا اور تمہارا خدا اور رب ایک ہی ہے اس کے ساتھ کوئی دوسرا شریک نہیں۔ پھر اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ پھر اس انکھوے سے ہم نے سرسبز شاخیں اگائیں جن سے ہم تہہ بہ تہہ دانے پیدا کردیتے ہیں۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ تم اس رحیم و کریم کا اپنے ساتھ معاملہ دیکھو کہ تم ایک دانہ زمین کے سپرد کرتے ہو اس سے وہ کسطرح ایک پودا پیدا کرتا ہے پھر اس کو خوشے لگتے ہیں ان میں تہہ بہ تہہ دانے پڑتے ہیں اور ایک دانہ سات سو دانے کی صورت میں تمہیں لوٹایا جاتا ہے۔ یہ اس کی ربوبیت خاصہ اور اس کی رحمت کاملہ کا ظہور ہے جو باقی معاملات کی طرح غذا کے معاملے میں بھی تمہارے ساتھ بروئے کار لایا جاتا ہے کہ تمہاری ذرا سی محنت تمہارے لیے غذا کے خزانے اگل دیتی ہے۔ تم زمین میں ہل چلاتے ہو آبیاری کا سامان کرتے ہو اور تھوڑے سے دانے ہر فصل کے زمین میں بکھیر دیتے ہو لیکن پھر خود بخود غذا کے بروئے کار آنے کا عمل وجود میں آتا ہے اور تم محدود غلے کے عوض میں کھلیان اٹھا کے اپنے گھر لے جاتے ہو۔ اس عمل کے بروئے کار آنے میں ایک ایک مرحلہ اللہ کے وجود پر دلالت کرتا ہے اور چند دانوں کا کھلیان میں تبدیل ہوجانا اور چند گٹھلیوں سے قد آور ‘ سایہ دار اور ثمر آور درختوں کا ایک باغ تیار ہوجانا یہ اللہ کی وہ رحمت ہے جس سے تمہیں گراں بار کیا جاتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ تم اس پورے عمل کو دیکھتے ہوئے اور اس کی نظر عنایت کو پہچانتے ہوئے نہ صرف اس کے وجود کو تسلیم کروبل کہ اس کی نعمتوں کا شکر بجا لائو۔ لیکن تم نے اس سامنے کی بات کو ماننے کی بجائے نجانے کیسے کیسے اس کے شریک بنا رکھے ہیں اور کس طرح اس کی قدرتوں کو تقسیم کر کے رکھ دیا ہے۔ پھر اس کے بعد چند پھلوں اور ان کے بروئے کار آنے کے عمل کو اسطرح آنکھوں کے سامنے لایا گیا ہے کہ جس سے اس کی رحمت برستی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور ساتھ ہی آدمی کے جمالیاتی ذوق کو تسکین بھی ملتی ہے اور پھلوں میں ذکر ان پھلوں کا کیا گیا ہے جن سے عرب پوری طرح واقف تھے۔ جن میں سے بعض کو وہ غذا کے طور پر استعمال کرتے اور بعض کو لذت کام و دہن کے لیے پھر جس طرح ایک پھل اپنے شگوفے سے لے کر اپنے وجود تک پھر آغاز سے لے کر پکنے تک جن مراحل سے گزرتا ہے اس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ان میں سے ایک ایک مرحلے کو گہری نگاہ سے دیکھو ‘ کیا تمہیں اس میں اللہ کی قدرت کارفرما دکھائی نہیں دیتی اور ہر مرحلے پر کیا اس کی وحدانیت جھلکتی ہوئی محسوس نہیں ہوتی ؟ سب سے پہلے کھجور کا ذکر فرمایا کہ دیکھو اس درخت کے اندر گابھے کا پیدا ہونا پھر اس سے لٹکتے ہوئے بوجھل خوشوں کا وجود میں آنا کیا اس سے اللہ کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و ربوبیت کا یقین پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ جہاں تک کھجور کی ضرورت مجرد غذا کے لیے ہے اس کی فراہمی کے لیے یہ ضروری نہیں تھا کہ ایک چھوٹی سی گٹھلی سے درجہ بہ درجہ ایک تن آور درخت بنے۔ پھر ایک خاص مرحلہ پر پہنچ کر اس کے اندر گابھے اور خوشے پیدا ہوں پھر ان کے اندر ننھی ننھی کیریاں بیٹھیں پھر وہ درجہ بہ درجہ پھل بنے پھر پک کر اور بوجھل ہو کر ان کے خوشے زمین کی طرف لٹک آئیں اور انسان کو زبان حال سے دعوت شوق دیں یہ سارا عمل دل گواہی دیتا ہے کہ اسی لیے ہے کہ انسان پر خدا کی قدرت اس کی ربوبیت اور اس کی حکمت کے اسرار ظاہر ہوں۔ لیکن یہ سائنس کا عجیب اندھا پن ہے کہ اس کو حکمت تو نظر آتی ہے لیکن حکیم نظر نہیں آتا۔ ربوبیت تو اس کو دکھائی دیتی ہے ‘ لیکن رب کا سراغ اس کو کہیں نہیں ملتا اور اس سے زیادہ عجیب معاملہ ان لوگوں کا ہے جو دیکھتے ہیں کہ کھجور کے درخت سے پیدا ہونے سے لے کر اس کے پھولنے پھلنے اور پکنے تک تمام عناصر کائنات نے اس کی دیکھ بھال اور غور و پرداخت میں اپنا اپنا حصہ ادا کیا ہے۔ تب کہیں کھجور کا ایک خوشہ تیار ہوا لیکن پھر بھی وہ اس سفاہت میں مبتلا ہیں کہ یہ کائنات مختلف ارادوں اور بیشمار دیوتائوں کی ایک رزم گاہ ہے اور اس سے زیادہ عجیب معاملہ ان سادہ لوگوں کا ہے جو ربوبیت اور پروردگاری کے یہ سارے سروسامان دیکھ رہے ہیں ان سے متمتع اور محظوظ بھی ہو رہے ہیں لیکن یہ سوال ان کے ذہن میں کبھی پیدا نہیں ہوتا کہ یہ سب کچھ مہیا کرنے والے کی طرف سے ان پر کوئی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے یا نہیں۔ ان نعمتوں کے بارے میں کوئی پرسش کا دن بھی آنے والا ہے یا نہیں ؟ گویا دینے والے نے حق تو ان کو سارے بخش دیئے لیکن ذمہ داری ان پر کوئی بھی نہیں ڈالی۔ اس آیت کریمہ کے آخری حصے میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس آیت میں جن نعمتوں اور جن پھلوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے ایک ایک کو ان کے پھلنے سے لے کر ان کے پکنے کے مراحل تک ہر مرحلے کو غور سے دیکھو تمہیں ایک ایک چیز کو دیکھتے ہوئے اللہ کی قدرت ‘ حکمت ‘ ربوبیت ‘ صناعی ‘ کاریگری ‘ باریک بینی ‘ فیض بخشی اور اس کے حسن و جمال کی اتنی نشانیاں اور اتنی شہادتیں تمہارے سامنے آئیں گی کہ تم ان کو دیکھ کر ششدر رہ جاؤ گے اور پھر یہ بھی فرمایا کہ اللہ کی ان تمام نعمتوں کو بیک وقت نہ دیکھو بلکہ ہر ایک نعمت کو الگ الگ گہری نظر سے دیکھو تو تمہیں اس کی ایک ایک شاخ اور ایک ایک پھول اور ایک ایک پھل معجزہ دکھائی دے گا اور اس کی چھوٹی بڑی چیز اللہ کی قدرت کی داستاں کہتی ہوئی سنائی دے گی تم پیغمبر سے ایک ایک نشانی اور ایک ایک معجزہ طلب کرتے ہو حالانکہ اگر کھلی آنکھوں سے دیکھو تو اللہ کی نعمتوں میں قدرت کے اعجاز کے ہزاروں شاہکار جلوہ نما ہیں۔ لیکن یہ انسان کی عجیب بدقسمتی ہے کہ ایک طرف وہ اپنی ذہانت کے مظاہرے کا اتنا شوقین ہے کہ تباہ شدہ بستیوں کے کھنڈرات سے تہذیب و ثقافت تلاش کرتا پھرتا ہے اور اسے کہیں سے ٹوٹا ہوا مرتبان بھی مل جائے تو وہ اس کی آڑھی ترچھی لکیروں سے اس عہد کے آرٹ ‘ کلچر ‘ تہذیب اور اس دور کے مذہب ‘ سیاست غرضیکہ ہر چیز پر ایک فلسفہ اور ایک فرضی تاریخ مرتب کر کے دکھا دے گا ‘ لیکن اللہ کی ایک ایک نعمت جس طرح اللہ کی حکمت اور اس کی قدرت کو نمایاں کر رہی ہے اسے دیکھنے اور اسے سمجھنے کی اسے توفیق نہیں ہوتی۔ وجہ اس کی وہی ہے جس کا اس آیت کے آخری جملے میں ذکر فرمایا گیا ہے کہ ان نعمتوں سے ہدایت کا راستہ پانا اس کے لیے مقدر ہوتا ہے جو ایمان لانے کا ارادہ کرے کیونکہ کسی حقیقت کے تسلیم کیے جانے کے لیے تنہا یہ کافی نہیں ہوتا کہ وہ واضح اور ثابت ہو بلکہ اس کے لیے اول شرط یہ ہے کہ آدمی کے اندر اس کے قبول کرنے کا ارادہ پایا جاتا ہو۔ اس لیے فرمایا گیا کہ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لانے کا ارادہ رکھتے ہوں اور جنھوں نے آنکھوں پر پٹی باندھ لی ہے ان کے لیے کوئی نشانی بھی نظر نواز نہیں ہوسکتی اور جنھوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لی ہیں ان کے لیے کوئی نغمہ بھی فرحت بخش نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد اگلی آیت کریمہ میں مشرکین عرب کی اسی بدنصیبی اور حماقت کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ چونکہ ان میں ہدایت کا راستہ اختیار کرنے کی معمولی طلب بھی موجود نہیں اس لیے قرآن کریم جیسی کتاب کو سن کر بھی اور اللہ کی کھلی کھلی نشانیاں دیکھ کر بھی ان کا حال یہ ہے کہ وہ کائنات کی حقیر قوتوں کو اللہ کے شریک بنانے سے دریغ نہیں کرتے۔
Ayah 6:100

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ Open ayah 6:100 in the Quran reader

اور انہوں نے جنوں میں سے خدا کے شریک ٹھہرائے حالانکہ خدا ہی نے ان کو پیدا کیا اور اس کیلئے بےسند بیٹے اور بیٹیاں تراشیں۔ وہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے ‘ جو یہ بیان کرتے ہیں

چناچہ ارشاد فرمایا گیا : وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَآئَ الْجِنَّ وَ خَلَقَھُمْ وَ خَرَقُوْا لَہٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍم بِغَیْرِ عِلْمٍ ط سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَصِفُوْنَ ۔ (الانعام : 100) (اور انھوں نے ‘ جنوں میں سے خدا کے شریک ٹھہرائے۔ حالانکہ خدا ہی نے ان کو پیدا کیا اور اس کے لیے بےسند بیٹے اور بیٹیاں تراشیں۔ وہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے ‘ جو یہ بیان کرتے ہیں ) مشرکین عرب بہت سی قوتوں کو اور بہت سی شخصیات کو اللہ کا شریک بنا کر پوجتے تھے اور اپنی مشکلات میں ان سے مدد مانگتے تھے۔ انہی میں سے جنات بھی تھے جن کے بارے میں ان کا خیال یہ تھا کہ مختلف علاقوں میں یا مختلف جگہوں میں ان جنات کا بسیرا ہوتا ہے اور وہاں وہ ایک طرح سے اپنی حکومت قائم رکھتے ہیں۔ اسی لیے وہ بعض درختوں ‘ بعض ٹیلوں ‘ بعض پہاڑوں اور بعض وادیوں کو مختلف جنات سے منسوب کرتے تھے۔ اس لیے جب وہ کسی ایسی جگہ کے پاس سے گزرتے تو وہ جنات کی جے پکارتے اور ان آستانوں پر چڑھاوے چڑھاتے اور بعض دفعہ وہاں بندگی کی رسوم بھی بجا لاتے اور اگر کہیں اس کے آس پاس رات گزارنے کا موقع ملتا تو وہ بلند آواز سے ان سے پناہ اود مدد طلب کرتے اور یہ سمجھتے تھے کہ ان جنات کی ناراضگی ہمارے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ اس لیے ان کو خوش رکھنا ضروری ہے۔ اللہ کی بڑی مخلوقات تین ہیں انسان ‘ فرشتے اور جنات اور ان میں جنات کو سب سے فروتر مقام حاصل ہے اس لیے بطور خاص یہاں ان کا تذکرہ کیا گیا۔ کہ کائنات کی ایک ایک چیز تو خدا اور اس کی صفات سے متعلق وہ شہادتیں فراہم کر رہی ہے جن کا تذکرہ گزشتہ آیات میں ہوا لیکن اے مشرکین عرب تمہاری خرد باختگی اور تمہاری حماقت کا یہ عالم ہے کہ تم نے سب سے مرتبے میں کم تر مخلوق یعنی جنات کو اللہ کی صفات میں شریک کر ڈالا ان کی بندگی کرنے لگے اور ان سے مدد ماننے لگے حالانکہ جس طرح اللہ نے تمہیں پیدا کیا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی پیدا کیا ہے اور یہ بالکل واضح بات ہے کہ خدا کی پیدا کی ہوئی کوئی مخلوق آخر اس کی خدائی میں کیسے شریک ہوسکتی ہے۔ یہ بات اس آیت کریمہ میں بطور خاص اس لیے فرمائی گئی ہے کہ مشرکین عرب اس بات کا عقیدہ رکھتے تھے کہ ساری کائنات کا خالق اللہ ہی ہے اس عمل تخلیق میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں اس لیے فرمایا گیا کہ جب تم سب کو اور جنات کو بھی اس کی مخلوق سمجھتے ہو تو پھر اللہ کے ساتھ ان کو شریک کیسے ٹھہراتے ہو۔ اس کے بعد ان کی شرک کی عادت سیئہ کو مزید نمایاں کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا شرک صرف جنات تک محدود نہیں بلکہ انھوں نے اللہ کے لیے بیٹے اور بیٹیاں بھی تراش رکھے ہیں کیونکہ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ ممکن ہے وہ کسی کو اللہ کا بیٹا بھی قرار دیتے ہوں اور یا پھر یہاں ضمناً عیسائیوں کا ذکر کردیا گیا ہے کیونکہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کے بیٹا مانتے تھے لیکن ساتھ ہی یہ فرمایا کہ ان کے ان باطل عقائد اور ان واہیات اقوال پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ تو پھر آخر وہ کس بنیاد پر اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ مزید فرمایا کہ اللہ اس سے پاک ہے اور بلند ہے جو کچھ وہ بیان کرتے ہیں۔ یہ سبحان کا لفظ تنزیہ کا کلمہ ہے یعنی اس لفظ سے اللہ کی پاکیزگی اور شریک سے اس کے پاک ہونے کو بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ ایک بہت بڑی دلیل بھی ہے یہ بات ہر عقل مند آدمی سمجھ سکتا ہے کہ اگر کسی ذات کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کی جائے جو اس کی مسلمہ حیثیت اور اس کی مسلمہ صفات کے خلاف ہو تو کوئی عقل مند آدمی اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوگا۔ مثلاً اگر کسی شخص کو بادشاہ تسلیم کیا جائے اور پھر اس کے بارے میں یہ کہا جائے کہ وہ کسی کا ملازم یا غلام ہے تو بادشاہت اور غلامی میں چونکہ کھلا تضاد ہے اس لیے کوئی آدمی اسے قبول نہیں کرے گا۔ اسی طرح اگر کسی ذات کے بارے میں یہ بات ثابت ہو کہ وہ بہت سرمایہ دار ‘ بہت خدا ترس اور بہت مخیر آدمی ہے تو کوئی آدمی اگر اس کے بارے میں یہ کہے کہ اس نے فلاں آدمی سے دس روپے چھین لیے ہیں یا اس نے کسی کا سو روپیہ دینا ہے اور وہ ادا نہیں کرتا تو کوئی اس بات کو صحیح نہیں سمجھ سکتا۔ اس لیے کہ ایک سرمایہ دار ‘ معزز اور فیاض آدمی سے اس کا امکان نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح جو ذات خالق مالک ‘ قدیر ‘ علیم اور کریم و رحیم ہے اس کو ان صفات سے متصف کرنا جو مخلوق کی صفات ہیں اس کی ان تمام صفات کی نفی کے مترادف ہے جن کا ماننا از روئے عقل و فطرت واجب ہے اور جن کی نفی سے انسان ان تمام تاریکیوں میں پھر گھر جاتا ہے جن سے ان صفات کے علم کی روشنی ہی نے اس کو نکالا تھا۔ اگر خدا کو خدا ماننے کے بعد بھی جنات اور فرشتوں کو اس کا شریک قرار دے دیا جائے اور اس کو بیٹوں اور بیٹیوں کا باپ بنادیا جائے تو پھر وہ خدا کہاں رہا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف لفظ سبحان توجہ دلا رہا ہے۔
Ayah 6:101

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 6:101 in the Quran reader

وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اس کے اولاد کہاں سے آئی جبکہ اس کی کوئی بیوی نہیں اور اس نے ہر چیز پیدا کی اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے

تمہید گزشتہ رکوع میں اللہ کے خالق کائنات ہونے اور اس کی وحدانیت پر دلائل آفاق اور دلائل انفس ہم نے پڑھے جن کی روشنی میں اللہ کو اپنی ذات اور صفات میں وحدہ لا شریک ثابت کیا گیا اور اس قدر آسان انداز میں یہ دلائل دیئے گئے کہ معمولی عقل کا آدمی بھی اللہ کی وحدانیت میں شک وشبہ کا شکار نہیں ہوسکتا۔ بایں ہمہ ! مشرکین عرب کی کوتاہ فکری اور خست نظر کا عالم یہ تھا کہ اتنے واضح اور مضبوط دلائل سن کر بھی انھوں نے اللہ کی مخلوقات میں سے ایک غیر مرئی مخلوق جس کی طرف کوئی بہت قابل تعریف اعمال بھی منسوب نہیں کیے جاتے کو اللہ کا شریک بنا ڈالا اور پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا اللہ کے لیے بیٹے اور بیٹیوں کے قائل ہوگئے اور ان سے مرادیں مانگنے لگے۔ اس پس منظر میں پیش نظر آیت کریمہ پر ایک اور پہلو سے اللہ کے وحدہ لا شریک ہونے کے دلائل دیئے جا رہے ہیں اور اس کی ربوبیت اور اس کی عبودیت کو دل و دماغ میں اتارنے کے لیے نہایت موثر پیرایہ اختیار فرمایا جا رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے : بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط اَنّٰی یَکُوْنُ لَہٗ وَلَدٌوَّلَمْ تَکُنْ لَّہٗ صَاحِبَۃٌط وَخَلَقَ کُلَّ شَیْئٍ ج وَھُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمُٗ ۔ (الانعام : 101) (وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اس کے اولاد کہاں سے آئی جبکہ اس کی کوئی بیوی نہیں اور اس نے ہر چیز پیدا کی اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے) اللہ تعالیٰ کی کوئی بیوی نہیں ‘ اس لیے اولاد کہاں سے آئی بَدِیْعُ اسم صفت ہے اس کا فعل ماضی بَدَعَ ہے۔ اس کا معنی ہے کسی چیز کو پہلی مرتبہ بغیر کسی نمونے اور بغیر کسی مثال کے عدم سے وجود میں لانا۔ آپ آسانی کے لیے اس کا معنی ایجاد کرنا بھی کرسکتے ہیں یعنی اللہ ایک ایسی ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین یعنی پوری کائنات کو ایجاد کیا ہے ‘ وہ اس پوری کائنات کا موجد ہے اس کی اس ایجاد سے پہلے نہ یہ دنیا تھی نہ دنیا کی کوئی چیز صرف اللہ کی ذات تھی جو ازل سے قائم ہے اور ابد تک قائم رہے گی۔ جب اس کے اس تخلیقی عمل سے پہلے کچھ بھی نہیں تھا اور ہر چیز دنیا میں اس کی تخلیق اور ایجاد سے وجود میں آئی ہے تو پھر اس کی ذات کے حوالے سے اولاد کا کیا معنی ؟ اولاد تو اس کی ہوتی ہے جو خود کسی کی اولاد ہو اور جس کو وجود کسی اور نے دیا ہو اور سلسلہ تناسل کے لیے اس عمل کو قبول کیے بغیر کوئی چارہ بھی نہ ہو ‘ جب دنیا کی ہر چیز کا وجود اللہ کی صفت تخلیق سے قائم ہے تو پھر کسی بھی مخلوق کو اس کی اولاد تسلیم کرنا یہ اس کی تسلیم کردہ صفت تخلیق کے بالکل خلاف ہے۔ اگر وہ خالق ہے اور وہ ہر چیز کی تخلیق اور ایجاد پر قدرت رکھتا ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اسے اولاد کی ضرورت ہو یا اس سے اولاد وجود میں آئے اور مزید یہ کہ اگر اولاد کو اسی طرح تصور کیا جائے جس طرح مخلوقات میں اولاد ہوتی ہے تو اس کا تو ایک فطری عمل یہ ہے کہ اولاد کے لیے جس طرح باپ کا ہونا ضروری ہے اسی طرح ماں کا ہونا بھی ضروری ہے یعنی تنہا باپ سے اولاد نہیں ہوتی یا یوں کہہ لیجئے کہ تنہا کسی شخص سے اولاد نہیں ہوتی۔ میاں بیوی کے فطری ملاپ سے یہ رشتہ وجود میں آتا ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کے لیے یہ بھی تصور کیا جائے گا کہ اس کی ایک بیوی بھی ہے اور ایسا تصور کرنا ضروری ہوگا۔ اگر یہ یقین کرلیا جائے کہ اللہ کی کوئی اولاد ہے غنیمت ہے کہ مشرکین میں سے کوئی بھی اللہ کی بیوی ہونے کا قائل نہیں کیونکہ یہ ایک ایسی گری ہوئی حرکت ہے جس کا اللہ کے بارے میں کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا اگرچہ جن لوگوں نے اللہ کے شریک ٹھہرائے ہیں ان سے اس طرح کی گراوٹ کچھ بعید بھی نہیں کیونکہ مشرک قوموں نے اپنے دیوتائوں کی ایک نہیں کئی کئی بیویاں ایجاد کر رکھی تھیں اور ان کی طرف ایسے ایسے اعمال منسوب کیے جاتے تھے جس کا انتساب کسی بھی شریف مرد یا شریف عورت کی طرف نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے اگر یہ ایسی کوئی حرکت اللہ کریم کے بارے میں کر گزرتے تو کوئی تعجب کی بات نہ تھی۔ اس لیے میں نے کہا کہ یہ غنیمت ہے کہ ایسا کوئی عقیدہ مشرکین میں نہیں پایا جاتا تھا۔ یہاں یہ جو فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ چونکہ ہر چیز کا خالق ہے اس کے اولاد کس طرح ہوسکتی ہے۔ اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ اللہ کے خالق ہونے کے اعتبار سے اس کی چند مخصوص صفات ہیں جو اسے مخلوق کی صفات سے الگ کرتی ہیں۔ اللہ کی ذات ازلی اور ابدی ہے نہ اس کی ابتداء ہے اور نہ اس کی کوئی انتہا۔ وہ ہر طرح کی جسمانی آلودگی سے پاک ہے وہ اپنے وجود اور قرار کے لیے نہ کسی زمان کا محتاج ہے اور نہ کسی مکان کا ‘ نہ اسے بھوک لگتی ہے نہ پیاس ‘ نہ اسے نیند آتی ہے نہ اونگھ ‘ اس کی کوئی صفت بھی حدود میں محدود نہیں۔ اس کی ذات وصفات ہر طرح کے تشبہہ اور تمثیل سے پاک ہیں۔ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ اللہ کی کوئی اولاد بھی ہے تو یہ بات طے شدہ ہے کہ اولاد اپنی بہت ساری صفات میں اپنے ماں باپ کا عکس ہوتی ہے۔ اس کی جنس اور باپ کی جنس میں یکسانی اور یک رنگی ہوتی ہے اس کی عادات و خصوصیات میں بہت حد تک والدین کے ساتھ ہم آہنگی پائی جاتی ہے وہ اپنی فطری ضرورتوں میں بالکل اپنے باپ کی تصویرہوتی ہے۔ وہ وہی احتیاجات رکھتی ہے جو اس کا باپ رکھتا ہے۔ اس کی ذات وصفات کی وہی حدود ہیں جو اس کے باپ کی ہیں۔ اگر اللہ نہ کرے اس بےہودگی کو قبول کرلیا جائے کہ پروردگار کی کوئی اولاد بھی ہے۔ تو اولاد کو خالق کی صفات سے متصف ماننا پڑے گا اور یا مخلوق کو خالق کی صفات میں شریک ماننا پڑے گا یہ دونوں باتیں چونکہ ناممکن ہیں اس لیے فرمایا کہ اللہ کی اولاد کہاں سے آئی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کی کوئی اولاد بھی ہو۔ بالکل سامنے کی بات ہے کہ دنیا کی ہر چیز اس کی مخلوق ہے اس لیے جن کو تم اللہ کی اولاد سمجھتے ہو وہ عقلاً اور نقلاً کسی طرح بھی اولاد نہیں ہوسکتے البتہ وہ اللہ کی مخلوق ہیں اور وہ بھی انہی صفات سے متصف ہیں اور انھیں احتیاجات کے اسیر ہیں جن احتیاجات میں تم بندھے ہوئے ہو۔ اور جس طرح تم فنا وبقاء کے اصولوں سے وابستہ ہو انہی اصولوں سے وہ بھی وابستہ ہیں۔ جس طرح تم اللہ کے احکام کے پابند ہو اسی طرح وہ بھی اللہ کے احکام کے پابند ہیں اور وہ بھی اسی طرح مخلوقات کا حصہ ہیں جیسے دنیا کی ہر چیز اس کی مخلوق ہے۔ یہ بالکل سامنے کی باتیں ہیں جو معمولی عقل والا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز کر کے تم نے اللہ کے شریک کیسے بنا لیے۔ مزید فرمایا کہ جس طرح اللہ نے ہر چیز کو پیدا فرمایا ہے اسی طرح وہ ہر چیز کو جاننے والا بھی ہے۔ اس کا علم محدود نہیں بلکہ لا محدود ہے۔ جن باتوں کو دنیا کا بڑے سے بڑا باخبر بھی نہیں جان سکتا۔ اللہ انھیں بھی جانتا ہے۔ قریب اور بعید دیکھنے والے آلات جن چیزوں کا ادراک نہیں کرسکتے ‘ اللہ کے حدود علم میں وہ چیزیں بھی شامل ہیں بلکہ اس کے علم کی وسعتوں کا عالم یہ ہے کہ جو کام ابھی تخیل کی حدود سے بھی ماورا ہوتا ہے اللہ اسے بھی جانتا ہے ‘ جب اس کے علم کی وسعتوں کا یہ حال ہے تو پھر آخر اسے کسی شریک یا اولاد کی کیا ضرورت ہے۔ نہ اس کی قدرت کی کوئی اتھاہ ہے اور نہ اس کے علم کی کوئی انتہاء۔ تو پھر آخر ایسی کیا ضرورت ہے کہ وہ اپنے لیے اولاد پیدا کرے اولاد تو بڑھاپے کی لاٹھی ہوتی ہے۔ ماں باپ کا سہارا ہوتی ہے۔ جب باپ کمانے کے قابل نہیں رہتا ‘ اولاد اس کی کفالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسی ہر کمزوری سے پاک ہے تو پھر اس کی اولاد کیوں ہوگی۔ مزید یہ تصور بھی ذہن میں رکھیئے کہ مشرکین مکہ فرشتوں کو جو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے تو یہ نہیں سمجھتے تھے کہ یہ فرشتے کسی کے خالق ہیں ‘ البتہ ان کا خیال یہ تھا کہ بیٹیاں چونکہ باپ کی لاڈلی اور چہیتی ہوتی ہیں اس لیے وہ بہت دفعہ ضد کر کے بہت کچھ منوا لیتی ہیں۔ اللہ چونکہ پوری کائنات کا خالق ومالک ہے اور کائنات کی وسعتیں بےحد و بےکنار ہیں ایک تنہا شہنشاہ اس پوری کائنات کا انتظام کیسے چلا سکتا ہے اور اسے تمام مخلوقات کی ضروریات کا مکمل علم کیسے ہوسکتا ہے۔ ضروری ہے کہ اختیارات میں تقسیم ہو ‘ مختلف اختیارات ‘ مختلف مخلوقات کے حوالے کیے جائیں۔ کائنات کو صوبوں میں تقسیم کیا جائے اور صوبوں کے الگ الگ والی ہوں۔ وہ اپنے اپنے مفوضہ اختیارات سے اپنی اپنی مملکت کا انتظام چلائیں اور دنیا والوں کی ضرورتوں سے اپنے علم کے مطابق اللہ کو آگاہ کریں۔ کیونکہ ایک ایک فرد کے ذاتی احوال کی خبر ایک تنہا اللہ کی ذات کو کیسے ہوسکتی ہے دراصل وہ اللہ تعالیٰ کو بھی ایک عام بادشاہ تصور کرتے تھے جس طرح بادشاہ اپنی مملکت کے بارے میں انتظام وانصرام چلانے اور حالات جاننے میں اپنے گورنرز اور اپنے عمال کے محتاج ہوتے ہیں اس طرح اللہ تعالیٰ بھی اپنی بیٹیوں ‘ اپنے بیٹوں ‘ اپنے دیوتائوں اور اوتاروں کا محتاج ہے۔ اس کا غضب جب کسی پر بھڑکتا ہے تو یہ لوگ اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتے ہیں اور قیامت کے دن بھی جب وہ کسی کو پکڑے گا تو یہ اس کے سامنے سفارش کریں گے اور یہ کہہ کر چھڑا لیں گے کہ پروردگار آپ کو اس شخص کے بارے میں صحیح اطلاعات میسر نہیں۔ ہم ذاتی طور پر جانتے ہیں کہ جو کچھ آپ کو بتایا گیا ہے وہ صحیح نہیں۔ صحیح بات یہ ہے جو ہم آپ کے سامنے بیان کر رہے ہیں۔ اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے چناچہ اس طرح وہ اپنے دامن گرفتہ لوگوں کو اللہ سے چھڑا لیں گے اور دنیا میں بھی جب ان کا کوئی اپنا ان سے مددمانگتا ہے یا ان سے مدد کا طالب ہوتا ہے تو وہ اللہ سے کہہ کر اس کی ضروریات کو پورا کرا دیتے ہیں کیونکہ اللہ کے علم میں اس کی ضروریات نہیں ہوتیں۔ ایسی ہی غلط باتوں اور بیہودہ خیالات کی تردید کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ جس طرح اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اسی طرح وہ اپنی ہر مخلوق کی ضروریات اس کے اعمال ‘ اس کی قسمت ‘ اس کے مبدا و معاد اور اس کے انجام سے بھی باخبر ہے۔ کوئی بڑے سے بڑا کسی کو جاننے کا دعوے دار بھی وہ کچھ نہیں جانتا جو اللہ کے علم میں ہے۔ آدمی کے سب سے زیادہ قریب اس کی بیوی ہوتی ہے اور اولاد کو سب سے زیادہ ماں باپ جانتے ہیں لیکن یہ سب بھی ایک دوسرے کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے جو اللہ ان کے بارے میں جانتا ہے۔ اس کے علم کی وسعتوں کا تو عالم یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب کوہ طور پر نبوت دی گئی اور یہ حکم دیا گیا کہ جاؤ فرعون کے پاس اور اسے سمجھائو کہ وہ راہ راست اختیار کرے کیونکہ وہ بڑا سرکش ہوگیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی یا اللہ میں جانے کے لیے تیار ہوں لیکن تھوڑی سے مہلت دی جائے کہ میں ایک پہاڑی درے میں اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ آیا ہوں ‘ موسم کی شدت سے بچنے کے لیے نہ ان کے پاس تحفظ کا سامان ہے اور نہ وہ راستے سے باخبر ہیں وہ تو وہیں سردی سے مرجائیں گے۔ مجھے اتنی مہلت دیجئے کہ میں انھیں کسی محفوظ مقام پر چھوڑ آئوں اور اس کے بعد میں فرعون کے پاس جاتا ہوں۔ پروردگار نے فرمایا کہ موسیٰ تمہارا کیا خیال ہے کہ ہم تمہارے بیوی بچوں سے بیخبر ہیں۔ اس کے بعد حکم دیا کہ جس چٹان پر کھڑے ہو اس پر عصا مارو۔ عصامارنے سے وہ چٹان پھٹی تو اس کے اندر سے ایک اور چھوٹی چٹان برآمد ہوئی۔ پھر حکم ہوا ‘ اس پر بھی عصا مارو۔ تو اس سے ایک بڑا پتھر نکلا اب حکم ہوا کہ اس پر بھی عصا مارو۔ یہ پتھر پھٹا تو اس سے ایک چھوڑا سا جانور نکلا جس کے منہ میں گھاس کی ایک پتی تھی اور وہ اسے کھا رہا تھا۔ پروردگار نے فرمایا موسیٰ تین چٹانوں میں نگاہوں سے دور اس جانور کو بھی ہم جانتے ہیں اور اسے رزق بھی پہنچاتے ہیں تو کیا ہم تیرے بیوی بچوں سے بیخبر ہوں گے۔ اسی لیے قرآن پاک نے ایک اور جگہ اصولی انداز میں فرمایا : اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ” کیا وہ نہیں جانے گا جس نے پیدا کیا “۔ یعنی جو ہر چیز کا خالق ہے کیا وہ اپنی مخلوق سے بیخبر رہ سکتا ہے جس طرح دریا اپنی موج سے بیگانہ نہیں رہ سکتا اس طرح پروردگار اپنی مخلوق سے بیخبر نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر مخلوق کو بھی جانتا ہے اور اس کی ضروریات کو بھی جانتا ہے۔ اس کو کوئی نہیں بتاسکتا کہ کسی مخلوق کے ساتھ اس کو کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔ اور جب قیامت کے دن وہ کسی کو پکڑے گا تو اسے کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ آپ کی اطلاعات درست نہیں ہیں۔ کیونکہ وہی ایک ذات ہے جس کی اطلاعات اور جس کا علم ہر طرح کی غلطی ‘ ہر طرح کی خطا سے پاک ہے اور جس کے علم پر نارسائی کا کوئی چھینٹا اڑ کر بھی نہیں پڑ سکتا۔ جب وہ ہر چیز کا خالق بھی ہے اور اس کا علم بےپایاں بھی ہے تو پھر اس کے سوا کسی اور کو رب ماننے کا کیا جواز ہے ؟ اس لیے فرمایا :
Ayah 6:102

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 6:102 in the Quran reader

وہی اللہ تمہارا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی ہر چیز کا خالق ہے تو اس کی بندگی کرو اور وہی ہر چیز پر نگران ہے

ذٰلِکْمُ اللہ ُ رَبُّکُمْ ج لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ج خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ فَاعْبُدُوْہٗ ج وَھُوَ عَلٰی کُلِ شَیْئٍ وَّکِیْلُٗ ۔ (الانعام : 102) (وہی اللہ تمہارا رب ہے ‘ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ وہی ہر چیز کا خالق ہے تو اس کی بندگی کرو اور وہی ہر چیز پر نگران ہے) اللہ ہی تمہارا رب ہے یہی اللہ جسے تم خالق کائنات جانتے ہو وہی تمہارا رب بھی ہے لیکن تمہیں نجانے یہ کیوں غلطی لگی ہے کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا رب بھی ہوسکتا ہے۔ ہر دور کی جاہلیت میں رب ہر اس قوت کو سمجھا گیا ہے جس کے ہاتھ میں وسائل رزق ‘ وسائل معاش اور وسائل اختیار ہوتے ہیں۔ جو تخت و تاج پر متمکن ہوتا ہے اور فوجوں کے بل بوتے پر گردنوں کو اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کردیتا ہے اور ملک کے تمام وسائل پر قابض ہو کر یہ سمجھتا ہے کہ میری رعایا چونکہ میری محتاج ہے میری مرضی اور میری اجازت کے بغیر نہ انھیں رزق میسر آسکتا ہے اور نہ ان کی زندگی کی بقاء کی ضمانت مل سکتی ہے۔ میں جسے چاہوں زندہ رہنے دوں جسے چاہوں مار ڈالوں ‘ جسے چاہوں آزادی دوں اور جسے چاہوں حوالہ زنداں کر دوں۔ اس لحاظ سے میں ان کی زندگیوں اور قسمتوں کا مالک ہوں۔ یہ اختیار مجھے بلاوجہ نہیں ملا یقینا میں کسی بڑی قوت کا اوتار ہوں۔ اس لحاظ سے انھیں نہ صرف میری حکومت تسلیم کرنی چاہیے بلکہ ان کی پیشانیاں اور ان کے دل بھی میرے سامنے جھکنے چاہئیں۔ مقتدر طبقہ اور مذہبی طبقہ آپس میں ملی بھگت کر کے اپنی اپنی ربوبیت کا طوق انسانوں کے گلوں میں ڈال دیتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے اپنے رب ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ مصر کے فراعنہ اور عراق کے نماردہ اپنے آپ کو رب کہلاتے تھے۔ اس طرح سے وہ اپنے اقتدار کو مذہب کے واسطے سے دوام بخشتے تھے۔ اس ربوبیت میں چونکہ مذہبی روح بھی کارفرما ہوتی تھی اس لیے اس واسطے سے غیر مرئی قوتوں حتی کہ مقدس شخصیات کو بھی اس ربوبیت میں شامل کرلیا جاتا تھا۔ اس طرح سے عام سوچنے والے مائوف ہوجاتے تھے اور کسی بڑی ذات کے سامنے جھکنے کا احساس ان کے سامنے جھک جانے کی وجہ سے مردہ ہوجاتا تھا۔ بالآخر اس کے نتیجے میں اصحابِ اقتدار کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں رہتا تھا وہ تمام وسائلِ معاش پر قابض ہو کر اپنی من مرضی کرنے میں کلیتہً اپنے آپ کو آزاد سمجھتے تھے۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ فرمایا جا رہا ہے کہ جب تمہیں اللہ نے پیدا کیا ہے اور وہ تمہاری ضرورتوں کو بھی جانتا ہے اور تمہارے گردوپیش میں پھیلے ہوئے وسائل رزق کا خالق بھی وہی ہے۔ دنیا کی کوئی قوت اور رزق کا کوئی شمہ بھی اس کی قدرت سے باہر نہیں۔ اس نے تمہیں صرف زندگی نہیں دی بلکہ زندگی کے تمام امکانات مہیا کرنے والا بھی وہی ہے۔ جب ایک بچہ دنیا میں آتا ہے تو اپنی بےبسی اور بےکسی میں تمام مخلوقات سے بڑھ کر ہوتا ہے نہ وہ کوئی چیز پکڑ سکتا ہے نہ دیکھ سکتا ہے۔ لیکن اس کے زمین پر آنے سے پہلے ماں باپ کا وجود اس کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار کردیا جاتا ہے۔ ماں اسے پیار سے سینے سے لگاتی ہے تو وہیں اس کے لیے غذا کے سوتے جاری کردیئے جاتے ہیں۔ اس کی ہر ضرورت ‘ ہر آسائش کو مدنظر رکھا جاتا ہے پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں حواس آنکھیں کھولنے لگتے ہیں۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب عقل کا دیا روشن ہوجاتا ہے اور زندگی کے تمام امکانات اس کے سامنے روشن ہوجاتے ہیں وہ زمین کا رخ کرتا ہے تو زمین کی قوت روئیدگی اپنا سینہ اس کے لیے کھول دیتی ہے۔ اس کے اندر قوت تسخیر جنم لیتی ہے تو اسی جوہر عقل سے کام لے کر وہ بڑی سے بڑی قوت کو زیر نگیں کرلیتا ہے۔ وہ اولوالعزمی کا پیکر بن کر اٹھتا ہے تو عناصر فطرت اس کے ہاتھوں میں مسخر ہوجاتے ہیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ یہی شخص جو اللہ کی ربوبیت سے قدم قدم آگے بڑھا ہے وہ قوت ‘ طاقت اور حکومت پر قابض ہو کر اپنے رب ہونے کا اعلان کرنے لگتا ہے۔ بندگی بھی خالق کی کی جائے اس لیے یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ وہ اللہ جو تمہارا خالق ہے تمہارا رب بھی وہی ہے تمہیں عمر کے ہر لمحے میں اسی نے تھاما اور ہاتھ پکڑ کر آگے چلایا ہے۔ اس لیے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ شکر اسی کا بجا لایا جائے اور اسی کی راہنمائی میں زندگی گزاری جائے اور زندگی کو اسی کی امانت سمجھ کر اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کی جائے اسی سے زندگی کی تنہائیاں آباد کی جائیں اور سینے بھی اسی کی یاد سے معمور ہوں۔ اسی کی غیر مشروط اطاعت کی جائے کیونکہ جب یہ بات مان چکے ہو کہ ہر چیز کا خالق وہی ہے تو پھر بندگی اسی کی کرو یہ بندگی کا لفظ اپنے اندر بڑی وسعت رکھتا ہے بندگی کا معنی ہے بندہ ہونا۔ بالکل سامنے کی بات ہے کہ جو شخص کسی کا بندہ ہوتا ہے وہ اپنی مرضی کا مختار نہیں ہوتا اس کی کوئی چیز اپنی نہیں رہتی ‘ وہ اپنا نصب العین متعین کرنے میں آزاد نہیں ہوتا وہ کسی اور کو اس بندگی میں شریک نہیں کرسکتا یعنی ایسا نہیں کرسکتا کہ اپنے آقا کی موجودگی میں کسی اور کو بھی آقا مان لے۔ اس لیے یہاں بندگی کا مفہوم یہ ہے کہ تمہارا سر بھی اسی کے سامنے جھکنا چاہیے ‘ تمہارا دست سوال کسی اور کے سامنے دراز نہیں ہونا چاہیے۔ تمہارے سینے میں کسی اور کے لیے اس کے برابر جگہ نہیں ہونی چاہیے ‘ تمہارے دل کی دھڑکنیں اسی کے لیے وقف رہنی چاہئیں۔ تم عبادت گاہ میں جس طرح اس کے سامنے جھکنے کے مکلف ہو۔ اسی طرح اصول معاشرت ‘ اصول سیاست ‘ نظام تعلیم ‘ تہذیبی آداب ‘ ثقافی رسم و رواج ‘ اصول حکومت ‘ غرضیکہ ہر چیز میں تم اسی کی راہنمائی کے پابند ہو۔ وہ چونکہ اپنی کسی صفت میں شرکت گوارانھیں کرتا ‘ تمہاری بندگی میں بھی اس کو کسی کی شرکت گوارا نہیں۔ تم نماز اسی کی پڑھو گے تو آئین اور قانون بھی اسی کا مانو گے ‘ تمہاری عدالتوں میں قانون اسی کا چلے گا ‘ ملک کا ہر ادارہ اسی کے دیئے ہوئے نظام کی راہنمائی میں اپنا کام کرے گا کیونکہ وہ ہر چیز پر وکیل ہے یعنی وہ جس طرح قدم قدم پر تمہارا خیر خواہ ‘ تمہارا سہارا اور تمہاری حفاظت کرنے والا ہے اس طرح تمہارے افکار و اعمال کا نگران بھی ہے۔ وہ برابر اس بات کی نگرانی کرتا ہے کہ تم اپنی زندگی کے کسی عمل میں اس کی ربوبیت اور اس کی حاکمیت میں کسی اور کو شریک تو نہیں کر رہے ہو اور اس کی یہ نگرانی اس قدرمکمل ہے کہ تم تو اسے شاید نہ دیکھ سکو۔ لیکن تم ہر وقت اس کی نگاہوں میں ہو۔ اگلی آیت کریمہ میں یہی بات کہی جا رہی ہے۔