Ayah 6:49وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّھُمُ الْعَذَابُ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ۔
(اور جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ‘ ان کی نافرمانی کی پاداش میں ‘ ان کو عذاب پکڑے گا)
دنیا میں ہر خطرے سے آگاہ کرنے والے اور ہر مصیبت سے بچانے والے کو ‘ اپنا سب سے بڑا محسن خیال کیا جاتا ہے۔ دنیا و آخرت کا سب سے بڑا خطرہ اللہ کی ناراضگی اور اس کے نتیجے میں اس کی طرف سے ملنے والا عذاب ہے۔ یہ رسول اسی سے خبردار کرنے اور بچانے کے لیے آتے ہیں۔ اس لحاظ سے وہ انسانیت کے سب سے بڑے محسن ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ دنیا ان سے وہی ایمان و ہدایت کا راستہ سیکھے ‘ جس سے وہ دنیا کی سعادتوں کی مستحق بنے اور اللہ کے عذاب سے بچ جائے۔ لیکن یہ مشرکین مکہ اور اسی طرح کی باقی کافر قومیں ‘ بجائے اس کے کہ اللہ کے رسول سے یہ سبق سیکھیں ‘ وہ بار بار کبھی اس سے عذاب کا مطالبہ کرتی ہیں ‘ حالانکہ وہ عذاب کے لیے دنیا میں نہیں آتے ‘ بلکہ عذاب سے بچانے کے لیے آتے ہیں اور کبھی قسم قسم کی نشانیاں ان سے مانگی جاتی ہیں۔ حالانکہ وہ زندگی کے مسائل حل کرنے کے لیے آتے ہیں اور انسانوں کے لیے انسانی زندگی کو آسان کرنے اور مشکلات سے بچنے کے طریقے سکھانے کے لیے آتے ہیں ‘ کسی شعبدہ بازی کے لیے تشریف نہیں لاتے۔ خوارق و عجائب کا ظہور رسولوں کے خصائص میں سے نہیں اور نہ ان کی تعلیم و دعوت کے لوازم میں سے ہے۔ بلکہ اگر ان کا ظہور ہوتا بھی ہے تو محض اتمام حجت کے لیے ہوتا ہے۔ لیکن لوگ ہمیشہ ان سے اسی طرح کی باتوں کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔
اس آیت کریمہ میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جہاں لوگوں کے سامنے پیغمبروں کی اصل حیثیت کو بیان کرنا مقصود ہے ‘ وہیں شاید رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک تسکین و تسلی کا پیغام بھی ہے کہ آپ کا چونکہ کام صرف تبشیر و انذار ہے تو آپ کی ساری توجہات اسی طرف رہنی چاہئیں۔ رہے مشرکینِ مکہ کے وہ مطالبات جن کا تعلق آپ کے فرائض سے نہیں ‘ آپ ان کو خدا پر چھوڑیئے ‘ ان کی وجہ سے کبھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
قوموں کے راہ ہدایت اختیار کرنے میں جو چیزیں موانع ثابت ہوئی ہیں اور جن کی وجہ سے لوگ پیغمبروں سے عجیب و غریب مطالبات کرتے رہے ‘ بلکہ ایمان لانے والی قومیں بھی اپنے دور زوال میں جن اسباب سے گمراہ ہوتی رہیں ‘ ان میں سب سے بڑا سبب اللہ کے نبیوں اور اس کے رسولوں کی اصل حیثیت کو نہ سمجھنا ہے۔ کافر دشمنی میں آ کر مخالفتوں اور اذیتوں کی انتہا کردیتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ اس پر انھیں عذاب سے ڈراتا ہے تو وہ نہایت ڈھٹائی کے ساتھ عذاب کا مطالبہ شروع کردیتے ہیں۔ گزشتہ آیت میں اس حوالے سے پیغمبروں کی حیثیت کی وضاحت کی گئی ہے۔ لیکن غلط فہمی کی بنیاد صرف یہی نہیں ‘ بلکہ اور بھی چند در چند غلط فہمیوں کے اسباب میں سے ایک یہ ہے کہ اس مخالفتوں اور اذیتوں کے طوفان اٹھنے سے پہلے بہت سارے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں ‘ جو پیغمبر کے بارے میں غلط تصورات رکھتے ہیں ‘ اس لیے پیغمبر پر ایمان نہیں لاتے کہ وہ انھیں اپنے تصورات کے مطابق دکھائی نہیں دیتا۔ انھوں نے اپنے تصورات میں یہ بات بٹھا رکھی ہوتی ہے کہ پیغمبر مافوق الفطرت مخلوق ہوتا ہے۔ وہ انسانوں میں سے کوئی انسان نہیں ہوتا ‘ اس کی صفات غیر معمولی ہوتی ہیں ‘ اس کے ساتھ اللہ کے خزانے اترتے ہیں ‘ وہ کاہنوں سے بڑھ کر غیب کی اطلاعات دیتا ہے ‘ بلکہ وہ عالم الغیب ہوتا ہے۔ لیکن جب وہ پیغمبر میں اس طرح کی باتیں نہیں دیکھتے تو پھر وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یقینا یہ پیغمبر نہیں۔ آنحضرت ﷺ کے بارے میں بھی مشرکین مکہ نے یہی طرز عمل اختیار کیا۔ قرآن کریم نے ان کی بات کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا :
قَالُوْا مَا لِھٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْکُلُ اَلطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ ط (الفرقان : 7)
(وہ کہتے ہیں ‘ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ؟ )
یعنی وہ ہماری طرح کھانا کھاتا ہے ‘ کاروبار کے لیے بازار جاتا ہے ضروریات کے لیے بازار کا رخ کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تو ہماری طرح ایک آدمی ہے۔ حالانکہ آدمی کو پیغمبر یا پیغمبر کو آدمی نہیں ہونا چاہیے اور جب یہ دیکھتے کہ رسول اللہ بھی بعض دفعہ آنے والے حالات میں دشواریوں کا شکار ہوتے ہیں وہ حیران ہوتے کہ یہ کیسا پیغمبر ہے ‘ جو غیب کے حالات سے واقف نہیں۔ مختصر یہ کہ جس طرح سابقہ آیت میں پیغمبروں کی حیثیت کے حوالے سے ان کی بعض غلط فہمیوں کو دور کیا گیا ہے ‘ اسی طرح آنے والی آیت کریمہ میں ایک دوسرے پہلو سے ان کے تصورات کی اصلاح فرمائی گئی ہے اور اس آیت میں اس طرح کھول کر بات کہی گئی ہے ‘ گویا اس حوالے سے حرف آخر کہہ دیا گیا ہے۔
Ayah 6:50ارشاد فرمایا :
قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللہِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَلَآ اَقُوْلُ لَکُمْ اِنِّیْ مَلَکٌج اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰیٓ اِلَیَّ ط قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ ط اَفَلَا تَتَفَکَّرُوْنَ ۔ (الانعام : 50)
(کہہ دو ! میں تمہارے سامنے یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں ‘ جو مجھ پر آتی ہے۔ کہہ دو ! کیا اندھے اور بینا ‘ دونوں یکساں ہوجائیں گے ‘ کیا تم غور نہیں کرتے ؟ )
حضور ﷺ کے متعلق اختلافات کو دور کرنے کا واحد ذریعہ قرآن ہے
ایک دفعہ میرے ایک بہت عزیز دوست نے مجھ سے کہا کہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں علماء میں بعض اختلافات کا تذکرہ ہم سنتے رہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہم خود بھی ان اختلافات کا شکار ہوتے ہیں۔ تو میں چاہتا ہوں کہ آپ اس سلسلے میں میری مدد کریں۔ میں نے ان سے کہا کہ میں آپ کی ضرور مدد کروں گا۔ لیکن میں اس کے لیے طریقہ ذرا مختلف اختیار کروں گا کیونکہ اگر میں مروج طریقہ اختیار کروں تو ممکن ہے آپ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکیں۔ مروج طریقے سے میری مراد یہ تھی کہ آپ کوئی بات مجھ سے پوچھیں تو اس میں جو میری رائے ہو میں اسے دلائل سے ثابت کر دوں۔ اس سے اگر آپ بظاہر مطمئن بھی ہوجائیں تو واقعہ یہ ہے کہ وہ تو میری رائے کی نمائندگی ہوگی۔ اس طرح ہوسکتا ہے کہ جو کچھ میں ثابت کروں وہ پورا حق نہ ہو یا کم از کم آپ اس کے بارے میں یکسو نہ ہوں۔ اس لیے میں یہ چاہتا ہوں کہ کوئی ترجمے والا قرآن پاک جو آپ کی نظر میں قابل اعتماد ہو وہ آپ لے کر بیٹھ جائیں۔ جو اختلافی بات آپ مجھ سے پوچھنا چاہتے ہیں ‘ وہ پوچھیں۔ میں بجائے اس کے کہ اپنی طرف سے کچھ کہوں میں آپ کے سامنے ایک یا ایک سے زیادہ آیات قرآنی پڑھوں گا آپ قرآن کریم کھول کر اس کا ترجمہ دیکھ لیجئے۔ آپ ماشاء اللہ پوسٹ گریجوایٹ ہیں عربی بھی ممکن ہے تھوڑی بہت جانتے ہوں ‘ اس لیے آپ کو ترجمہ سمجھنے میں دشواری پیش نہیں آئے گی اور آپ یقینا صحیح بات تک پہنچ جائیں گے۔ چناچہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ہماری چند گھنٹے نشست رہی ‘ وہ ایک ایک سوال کرتے رہے اور میں قرآن کریم کی آیات کھول کر ان کے سامنے رکھتا رہا۔ نتیجہ یہ ہو 1 کہ وہ تمام اختلافی امور میں بالکل یکسو ہوگئے۔ میں آپ سے بھی یہی کہتا ہوں کہ دیکھ لیجئے ! آنحضرت ﷺ کے بارے میں ہمارے یہاں کس طرح اختلافی باتیں کی جاتی ہیں۔ لوگ ایک دوسرے سے لڑتے ہیں۔ اگر ہم بھی یہی طریقہ اختیار کریں کہ بجائے ادھر ادھر کی لمبی چوڑی باتیں کرنے کے قرآن کریم کو کھلی آنکھوں سے پڑھیں ‘ کیونکہ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ کوئی عقائد سے متعلق بات جس کا تعلق ہمارے ایمان سے ہے یہ ممکن نہیں کہ قرآن کریم نے اسے کھول کر بیان نہ کیا ہو۔ احکام اور آداب زندگی کی تفصیلات تو ہم حدیث اور سنت میں دیکھتے ہیں۔ لیکن عقائد میں سے کوئی عقیدہ ایسا نہیں ‘ جو اساسی عقائد میں سے ہو اور قرآن کریم نے اسے کھول کر بیان نہ کیا ہو۔ اس لیے ہمارے لیے بھی یہی ایک عافیت کا راستہ ہے کہ ہم ایسے اختلافی معاملات میں قرآن پاک کو بنیاد بنائیں۔ اس لیے میں ہمیشہ قرآن پاک کے پڑھنے پڑھانے پر اصرار کرتا ہوں کہ ہم نے اس سے تعلق توڑ کر اور اس سے بیخبر رہ کر انفرادی اور اجتماعی زندگی میں بہت نقصان اٹھایا ہے۔ کم از کم اب اس سے توبہ کرنی چاہیے۔
حضور ﷺ قرآن کی نظر میں
اب اس آیت کریمہ کو دیکھیے کہ کس طرح ایک ایک بات کو کھول کر بیان کردیا گیا ہے اور مشرکین مکہ اور بعض دوسری قوموں کی اللہ کے پیغمبروں کے حوالے سے جو غلط فہمیاں تھیں ‘ ان کا کس طرح سدِّباب کیا گیا۔ سب سے پہلے اس بات کا تذکرہ کیا گیا ‘ جس کا عموماً مشرکین مکہ طعنہ بھی دیتے تھے اور مطالبہ بھی کرتے تھے کہ آپ کیسے اللہ کے نبی ہیں ‘ جن کے سر پر صرف فقر کا تاج ہے اور غربت جس کا اوڑھنا بچھونا ہے ؟ اگر آپ واقعی اللہ کے نبی ہوتے تو آپ کے ساتھ دولت کے خزانے دائیں بائیں چلتے یا آپ کی دسترس میں ہر وقت اس طرح خزانے رہتے کہ لوگ جو کچھ مانگتے ‘ آپ ان کو عطا کرتے ؟ گویا یہ تصور کرلیا گیا کہ خزانوں پر براہ راست دسترس اللہ کے نبیوں کو ہوتی ہے۔ وہ جس طرح چاہیں ‘ اس میں تصرف کریں۔ اس کا ازالہ کرنے کے لیے فرمایا گیا کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ جب یہ میرا دعویٰ نہیں تو تم اس کا مجھے الزام کیوں دیتے ہو اور اس پر مجھ سے بحث کیوں کرتے ہو۔ میں جس کی دعوت لے کر آیا ہوں تم مجھ سے بحث ان باتوں میں کرو۔ جن کا میں دعویٰ ہی نہیں رکھتا ‘ اس کو مدار بحث بنانا ‘ یہ تو ایک نامعقول بات ہے۔ اندازہ فرمایئے کہ اگر اللہ کے خزانوں پر دسترس براہ راست اللہ کے نبیوں کو نہیں اور خصوصاً آنحضرت ﷺ بھی یہ فرما رہے ہیں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے نہیں تو بتایئے کیا کسی اور کے پاس ہوسکتے ہیں۔ اس لیے ہم نے اللہ کے اولیاء کے بارے میں جو تصورات اختیار کر رکھے ہیں اور پھر جس طرح ہم ان کے سامنے دست سوال پھیلاتے ہیں ‘ اس آیت کو سامنے رکھیئے اور پھر خود ہی فیصلہ کیجئے۔ البتہ یہ غلط فہمی پیدا نہیں ہونی چاہیے کہ اللہ کے رسول کسی کو کچھ عطانھیں کرسکتے اور ان کے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ اللہ کے رسول بعض دفعہ اللہ کے بندوں کو بہت کچھ عطا کرتے ہیں۔ لیکن وہ اللہ کے عطا کرنے پر عطا کرتے ہیں۔ خزانوں کا مالک اللہ ہے۔ اللہ کے رسول اس کی طرف سے قاسم بن کر آتے ہیں۔ آنحضرت نے خود ارشاد فرمایا :
اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌوَ اللہ ُ یُعْطِیْ
(میں تو بس تقسیم کرنے والا ہوں ‘ عطا اللہ فرماتا ہے)
اس کے بعد فرمایا کہ میں غیب نہیں جانتا۔ کیونکہ لوگ پیغمبروں کے بارے میں یہ غلط فہمی بھی رکھتے تھے کہ وہ کاہنوں کی طرح شاید غیب کی خبریں بتانے کے لیے آتے ہیں۔ اس لیے آنحضرت ﷺ سے مشرکین مکہ اس طرح کے سوالات کرتے کہ بتایئے کہ میری شادی ہوگی یا نہیں ‘ میرے یہاں اولاد ہوگی یا نہیں ‘ نر ہوگی یا مادہ ‘ میرے کاروبار میں برکت ہوگی یا نہیں ؟ اسی طرح آنے والے حالات کے بارے میں مختلف قسم کے سوالات کیے جاتے۔ اور کبھی یہ پوچھا جاتا کہ بتایئے قیامت کب آئے گی ‘ اس کا ٹھیک وقت کون سا ہے ؟ ایسے تمام سوالات کا جواب ایک ہی عطا فرمایا گیا کہ میں غیب نہیں جانتا۔ یہ صفت اللہ کی ہے ‘ دنیا میں جو کچھ ہوچکا جو ہو رہا ہے اور جو آئندہ ہوگا۔ ازل سے لے کر ابد تک ایک ایک بات کی خبر وہ صرف اللہ کو ہے۔ میں خدائی صفات لے کر نہیں آیا ‘ میں اس کا ایک بندہ ہوں۔ میں صرف وہ بات جانتا ہوں ‘ جس کا علم اللہ کی طرف سے مجھ پر نازل ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو بےپناہ علم عطا فرماتا ہے۔ بالخصوص آنحضرت ﷺ تو علم الاولین و الآخرین کے حامل ہیں۔ آپ کو وہ کچھ عطا فرمایا گیا ‘ جس کا دنیا میں کوئی اور تصور بھی نہیں کرسکتا۔ لیکن اس کے باوجود آپ سے یہ کہلوایا جا رہا ہے کہ آپ یہ کہیں کہ میں غیب نہیں جانتا۔ کیونکہ علم غیب ایک خاص اصطلاح ہے ‘ جس کا معنی ہے ‘ ان دیکھی اور ان جانی باتوں کا ذاتی طور پر جاننا ‘ جس کا بتانے والا کوئی اور نہ ہو اور دوسری یہ بات کہ ازل سے لے کر ابد تک ہر طرح کی مغیبات کا علم رکھنا ‘ جسے علم کلی کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں باتیں اللہ کے علم کے ساتھ خاص ہیں۔ ذاتی علم صرف اللہ کا ہے اور کلی علم بھی صرف اللہ کا ہے۔ اللہ نے اپنے رسول کو علم عطا فرمایا ہے۔ وہ آپ کا ذاتی علم نہیں اور آپ کو جزوی علم عطا فرمایا ہے کلی نہیں۔ آپ ساری دنیا سے بڑے عالم ہیں۔ لیکن اللہ کے علم کے مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ آپ نے بہت دفعہ ماضی کے واقعات کے بارے میں اور مستقبل کے حالات سے متعلق ایسی باتیں ارشاد فرمائیں ‘ جس کا ایک ایک حرف صحیح ثابت ہوا۔ لیکن یہ سب کچھ اللہ کی دین اور اس کی عطا ہے ‘ کیونکہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ ایسے علم کو علمی زبان میں علم غیب نہیں کہتے اور ایسے علم والے کو عالم الغیب نہیں کہا جاتا۔ اس لیے یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ آپ کہیئے کہ میں غیب نہیں جانتا۔ یعنی میں علم غیب نہیں رکھتا۔ اسی پر قیاس کرتے ہوئے یہ بات کہنا شاید غلط نہیں ہوگا کہ جب آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی جو تمام دنیا سے بڑھ کر عالم ہیں اور جن پر اللہ کی وحی اترتی ہے ‘ وہ اگر غیب نہیں جانتے تو کسی ولی یا کسی عالم کے بارے میں ایسی بات کہنا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے۔
تیسری بات جس کی وجہ سے امتوں میں اختلاف رہا ہے اور یہ امت بھی اس کی وجہ سے اختلاف کا شکار ہے حالانکہ وہ بالکل سہل ‘ سادہ اور سامنے کی بات ہے اور قرآن کریم میں یہاں بھی اس کے علاوہ متعدد جگہوں میں اسے کھول کر بیان کردیا ہے۔ وہ یہ کہ میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں فرشتہ ہوں بلکہ میں ایک انسان ہوں اور یہی بات دوسری جگہ بھی آپ سے کہلوائی گئی۔ مشرکین مکہ یہ سمجھتے تھے کہ پیغمبر انسان نہیں ہوتا کیونکہ انھیں غلط فہمی یہ تھی کہ فرشتے شاید انسانوں سے افضل ہیں اور انسانوں کی مخلوقات میں کوئی خاص حیثیت نہیں۔ لیکن قران کریم نے ہمیں یہ بتایا کہ اللہ نے انسانوں کو تمام مخلوقات پر شرف عطا فرمایا ہے اور وہ شرف یہی ہے کہ اس نے نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے اٹھایا اور انسانوں میں پیدا کیا ورنہ جہاں تک شخصی اور نوعی زندگی کا تعلق ہے انسان ملائکہ کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ وہ نورانی پاکیزہ مخلوق ہے ان سے کبھی گناہ کا صدور نہیں ہوتا انھیں اللہ کا قرب میسر ہے ‘ وہ براہ راست کارکنان قضا و قدر ہیں ‘ اس لحاظ سے انسان ان کے برابر نہیں ہوسکتا۔ ہمیں تو صرف یہی ایک شرف میسر ہے ‘ جس نے ہمیں فرشتوں سے اشرف بنادیا ہے کہ اللہ نے انسانوں کو نبوت عطا فرمائی۔ اب اگر اس کا بھی انکار کردیا جائے تو پھر ہمارے پاس آخر شرف کا اور سبب کیا ہے۔ غلط فہمی کا اصل سبب یہ ہے کہ ہم اللہ کے رسولوں کو اپنے جیسا انسان سمجھنے لگتے ہیں اور جب ہم اپنی کمزوریوں اور اپنی جبلی خصلتوں کو دیکھتے ہیں اور نیت کے فساد کے ساتھ ساتھ بعض دفعہ جب فکری فساد بھی ہمارے سامنے بداعمالیوں اور بداطواریوں کی ایک دنیا لا کر کھڑی کردیتا ہے تو ہم انسان کے بارے میں ایک بری رائے رکھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اسی تناظر میں جب اللہ کے نبیوں کو بھی دیکھتے ہیں تو پھر ہمیں یقین نہیں آتا کہ وہ انسان ہیں۔ یہ اصل میں ہماری کوتاہ فہمی ہے۔ اللہ کے نبی اپنی ذات میں انسان ہوتے ہیں۔ لیکن وہ اپنی صفات میں باقی انسانوں سے بالکل اسی طرح بہت بلند ہوتے ہیں ‘ جس طرح ایک ہیرا اپنی ذات میں ایک پتھر ہوتا ہے ‘ لیکن اپنی صفات میں وہ پتھروں سے بہت بلند ہوتا ہے۔ لیکن ان تمام صفات کے باوجود ہم اس کی اصل حیثیت کا انکار نہیں کرسکتے۔ اسی طرح پیغمبر اپنے تمام تر اللہ سے قرب اور اپنی غیر معمولی صفات کے باوجود اپنے اندر انسانی خصائص رکھتے ہیں اور وہ انسانوں ہی کے لیے نمونہ بن کر دنیا میں تشریف لاتے ہیں۔ مزید ایک بات یہ بھی کہ ہم صرف پیغمبروں کی ذات کو تو دیکھتے ہیں ‘ لیکن اس طرف کبھی دھیان نہیں دیتے کہ انسان کے لیے اصل باعث شرف وہ اس کا علم ہے اور علم کا سب سے پاکیزہ غلطیوں سے پاک اور بےپناہ وسعتیں لیے ہوئے اگر کوئی ذریعہ ہے تو وہ وحی الٰہی ہے۔ وحی الٰہی سے بہرہ ور اور اس شرف سے مشرف صرف اللہ کے نبی ہوتے ہیں۔ وہ اگرچہ اپنے اندر انسانی احساسات کی ناہمواریاں ‘ انسانی عقل کی ناتمامیاں ‘ انسانی جذبات کی فراوانیاں ‘ انسانی حوصلوں کی ناآسودگیاں ‘ سب کچھ رکھتے ہیں ‘ لیکن وحی الٰہی انھیں ان تمام کمزوریوں سے اور عصمت الٰہی ان تمام ہیجانوں سے ہر طرح بچا کے رکھتی ہے۔ ان کا یہی وہ شرف ہے ‘ جس نے ان کو جسد انسانیت میں دیدہ بینا کی حیثیت دی ہے۔ وہ دیکھتے ہیں اور باقی تمام نوع انسانی ان کے مقابلے میں اندھوں کا گروہ ہے۔ اس لیے راہنمائی انہی کو زیب دیتی ہے۔ انھوں نے انسانی تعلیمات کے تمام گوشوں کو اللہ کے دیئے ہوئے یقین سے معمور کیا ہے۔ وہ عالم الٰہیات ‘ عالم ملکوت اور عالم مغیبات کی ایک ایک چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ باقی دنیا کا تمام علمی سرمایہ ظن وتخمین کا نتیجہ اور قیاسات کا سرمایہ ہے۔ اسی کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ میری اصل حیثیت کو سمجھو کہ جو تم سمجھتے ہو ان میں سے میں کچھ نہیں۔ لیکن میں جو کچھ ہوں ‘ تم اس کا ادراک نہیں رکھتے۔ میری اصل حیثیت یہ ہے کہ مجھ پر جو وحی کی جاتی ہے ‘ میں اس کی پیروی کرتا ہوں۔ تم اس فرق کو سمجھنے کی کوشش کرو کہ دنیا میں علم کے ہزاروں ذرائع ہیں اور نجانے کون کون کس کس ذریعے سے استفادہ کر رہا ہے۔ لیکن ان تمام کا حاصل سوائے گمان کے اور کچھ بھی نہیں۔ لیکن یقین و اذعان کا سرمایہ جو انسان کی اصل ضرورت ہے ‘ وہ صرف وحی الٰہی سے نصیب ہوتا ہے اور اس کا مؤرد اور اس کا منبع میں ہوں۔ گویا اس زمین پر میں خالق کائنات کی طرف سے اس کانمائندہ اور وائسرائے بن کے آیا ہوں۔ یہ میری اصل حیثیت ہے۔ جب تک اسے قبول نہیں کرو گے ‘ اس وقت تک تم مجھ پر ایمان نہیں لاسکتے۔ پہلی امتوں کو یہی بات سمجھنے میں ٹھوکر لگی۔ اس لیے انھوں نے اپنے پیغمبروں کو ان کی محبت کے غلو میں آکر نجانے کیا سے کیا بنادیا ‘ لیکن ان کی اصل حیثیت کا ادراک نہ کرسکے۔ آنحضرت ﷺ نے اسی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا تھا ‘ جس کو حالی نے شعر کا لباس پہنایا ؎
تم اوروں کی مانند دھوکہ نہ کھانا
کسی کو خدا کا نہ بیٹا بنانا
مری حد سے رتبہ نہ میرا بڑھانا
بڑھا کر بہت تم نہ مجھ کو گھٹانا
سب انساں ہیں واں جس طرح سرفگندہ
اسی طرح میں بھی ہوں اک اس کا بندہ
مجھے حق نے دی ہے بس اتنی بزرگی
کہ بندہ بھی ہوں اس کا اور ایلچی بھی
Ayah 6:51تمہید
گزشتہ آیات میں ہم مشرکینِ مکہ کی جانب سے مختلف قسم کے مطالبات پڑھ چکے ہیں۔ وہ ایک سے ایک بڑی نشانی مانگتے رہے۔ بالآخر انھوں نے عذاب کا مطالبہ بھی کر ڈالا کہ اگر تم واقعی اللہ کے نبی ہو اور جو کچھ تم کہتے ہو وہ اللہ کی جانب سے کہتے ہو تو پھر یا تو اس پر کوئی بہت بڑی نشانی لائو تاکہ ہم ماننے پر مجبور ہوجائیں ‘ یا جس طرح تم بار بار کہتے ہو کہ جن قوموں میں اللہ کے رسول آئے انھوں نے جب مسلسل ان کی تکذیب کی تو آخر ان پر اللہ کا عذاب آگیا تم بھی ہم پر عذاب کیوں نہیں لے آتے یا عذاب کا کوئی حصہ کیوں نہیں لے آتے تاکہ ہمیں تمہاری نبوت اور تمہاری صداقت کا یقین ہوجائے۔ قرآن کریم اس وقت پیش نظر آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ ان کے مطالبات پر نہ جایئے اگر بقول ان کے انھیں کوئی بہت بڑی نشانی دکھا بھی دی جائے جس سے وہ ایمان لانے پر مجبور ہوجائیں تو مجبوری کا ایمان تو اللہ کے نزدیک معتبر نہیں ہوتا۔ کیونکہ ایمان تو دراصل انسان کے شعور ‘ اس کی قوت تمیز اور اس کی قوت اختیار کا امتحان ہے اور اگر انھیں ایمان لانے پر مجبور کردیا جائے تو یہ پھر اختیار کا امتحان نہ ہوا بلکہ یہ تو جبر ہوا اور اللہ تعالیٰ کسی کو بھی جبر کے ذریعے صاحب ایمان نہیں بناتا۔ ایمان لانے کے لیے جس چیز کی ضرورت ہے وہ اس آیت کریمہ میں بیان کی گئی ہے۔ ارشاد فرمایا :
وَاَنْذِرْبِہِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْٓا اِلٰی رَبِّھِمْ لَیْسَ لَھُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ وَلِیٌّوَّلَا شَفِیْعٌلَّعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ ۔ (الانعام : 51)
(اور تم اسی کے ذریعے سے خبردار کرو ‘ ان لوگوں کو ‘ جو ڈر رکھتے ہیں اس بات کا ‘ کہ وہ اپنے رب کے پاس اکٹھے کیے جائیں گے ‘ اس حال میں کہ اس کے سامنے نہ ان کا کوئی حامی ہوگا ‘ نہ شفیع تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں)
قیامت کے دن نہ کوئی حامی ہوگا نہ شفیع ہوگا نیک عمل ہی کام آئیں گے
یعنی مشرکینِ مکہ میں سے ان لوگوں پر جو مختلف قسم کی نشانیوں یا عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں ان پر وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس لیے کہ یہ درحقیقت اس صلاحیت سے محروم ہیں جس کی موجودگی کے بغیر آدمی اللہ پر ایمان لانا تو درکنار اللہ اور اس کے دین کے بارے میں سوچنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ اس آیت کریمہ میں اس صلاحیت کا ذکر کیا گیا ہے کہ آپ اس قرآن کریم کے ذریعے (کیونکہ یہ اللہ کی کتاب ہے اس میں جو دین آپ لے کر آئے ہیں اس کی پوری دعوت پیش کی گئی ہے اور جو شریعتِ اسلامی آپ اللہ کے بندوں پر نافذ کرنا چاہتے ہیں وہ اسی کتاب کے اندر موجود ہے) سے ان لوگوں کو خبردار کیجئے۔ جن کے اندر اس بات کا اندیشہ موجود ہے کہ یہ زندگی بہرحال ختم ہونی ہے ہر شخص کو ایک نہ ایک دن موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور لمبی برزخی زندگی گزارنے کے بعد بالآخر قیامت کے دن اللہ کے حضور پیشی ہونی ہے وہاں پوری زندگی کے بارے میں بازپرس ہوگی ایک ایک عمل کے بارے میں پوچھا جائے گا ایک ایک لمحے کا حساب لیا جائے گا جس آدمی کو اللہ کے سامنے اس جواب دہی کا احساس ہوگا وہ یقینا یہ سوچنے پر مجبور ہوگا کہ اگر میں نے یہ زندگی اس طرح نہ گزاری جس طرح اللہ کا حکم ہے اور جسے بتانے کے لیے اس نے اپنی کتابیں اتاری ہیں ‘ اپنے رسول بھیجے ہیں تو میں اللہ کے سامنے کھڑا ہو کر کیا جواب دے سکوں گا۔ احساس کا پہلا لمحہ اسے سوچنے پر مجبور کرے گا اور اگر یہ لمحہ رائیگاں نہ گیا تو یقینا وہ شخص اس حقیقت کی تلاش میں نکلے گا اور بالآخر ایمان کی دولت سے ہمکنار ہوجائے گا۔ اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو یہ توجہ دلائی جا رہی ہے کہ آپ ان انسانوں میں سے ایسے لوگوں کو تلاش کریں جن کے اندر قیامت کے آنے اور دوسری زندگی سے دوچار ہونے کا اگر یقین نہیں تو کم از کم اس کا تصور تو موجود ہو کیونکہ یہی تصور انھیں بالآخر صحیح فیصلے پر پہنچائے گا اور ساتھ ہی دوسری بات یہ فرمائی کہ جب انھیں اس بات کا بھی یقین ہوگا کہ میں جب اللہ کے روبرو حاضر ہوں گا تو وہاں اللہ کے سوا میرا کوئی حمایتی اور سفارش کرنے والا نہیں ہوگا میں تن تنہا بارگاہ حق میں کھڑا ہوں گا میرا نامہ اعمال میرے ہاتھ میں ہوگا ‘ جلال خداوندی برس رہا ہوگا ‘ میں اپنے پسینے میں ڈوبا ہوا ہوں گا اور جب مجھ سے ایک ایک بات کا حساب مانگا جائے گا تو میرا چونکہ دامن یکسر ایمان اور اعمال صالحہ سے خالی ہوگا تو ظاہر ہے میں کسی بات کا جواب نہیں دے پائوں گا تو پھر میرے ساتھ کیا گزرے گی۔ اس آیت کریمہ میں بطور خاص اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہاں ان کے لیے نہ کوئی حمایتی ہوگا نہ کوئی مددگار اور نہ کوئی سفارش کرنے والا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ پر ایمان نہ لانے کا جہاں ایک سبب ہے آدمی کا قیامت کو نہ ماننا اور دوسری زندگی کو محض ایک واہمہ سمجھنا۔ اسی طرح دوسرا سبب اس کا یہ ہے کہ بعض لوگ قیامت کے آنے کو تسلیم کرتے تھے لیکن ساتھ ہی اس بات کا بھی یقین رکھتے تھے کہ ہم نے اللہ کے جو مختلف شرکاء بنا رکھے ہیں تو اگر قیامت کے دن ہم سے باز پرس ہوئی بھی تو وہ یقینا ہمیں اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے۔ مشرکینِ مکہ بتوں کے ساتھ ساتھ فرشتوں کو بھی اللہ کا شریک مانتے تھے بلکہ انھیں اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ جب پروردگار ہماری گرفت فرمائے گا اور قیامت کے دن ہمیں عذاب دینا چاہے گا تو اس کی یہ بیٹیاں اپنے باپ کو مجبور کردیں گی کہ وہ ہمیں چھوڑ دے بالآخر باپ اپنی بیٹیوں کی بات مان کر ہمیں چھوڑ دے گا۔ چناچہ اس تصور نے ان کو اپنی اصلاح کی فکر اور شرعی پابندیوں سے بالکل آزاد کردیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکینِ مکہ میں دو گروہ تھے۔ ایک قیامت کا نہ ماننے والا اور دوسرا شفاعت باطل کے اس تصور کی وجہ سے قیامت کے دن کی بازپرس کو ایک بےفائدہ مشق سمجھنے والا۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو یہ دونوں گروہ ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ یہ بالکل واضح بات ہے کہ اگر کوئی لڑکا کالج یا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتا ہے لیکن ساتھ ہی اس بات کا یقین رکھتا ہے کہ امتحان نہیں ہوگا اور یا اگر امتحان ہوا بھی تو ایگزامینر میرا پر چہ خود حل کردیں گے یا پی پر دیکھنے والے میرے سفارشیوں کے کہنے پر مجھے پاس کردیں گے تو ایسے لڑکے کو آپ کبھی امتحان کی تیاری پر آمادہ نہیں کرسکتے۔ آپ اسے امتحان کی تیاری کا کہیں گے تو وہ آپ کا مذاق اڑائے گا کہ جب امتحان ہونا ہی نہیں تو تیاری کس بات کی۔ اگر آپ اسے فیل ہونے سے ڈرائیں گے تو وہ ہنس کر کہے گا کہ مجھے معلوم ہے کہ میں پی پر دوں یا نہ دوں یا پیپروں میں کچھ بھی لکھوں مجھے بہرحال کسی کے کہنے پر پاس کردیا جائے گا تو دونوں صورتوں میں وہ کبھی بھی امتحان کی تیاری میں سنجیدہ نہیں ہوسکتا زندگی بھی ایک امتحان ہے ‘ اس میں کامیابی کے لیے اللہ اور رسول پر ایمان لانا اس کے نازل کردہ شرعی احکام کو تسلیم کرنا اور اس کے مطابق عمل کرنا ضروری امور ہیں۔ ظاہر ہے یہ تیاری وہی کرے گا جسے امتحان کا یقین ہو اور ساتھ ہی وہ یہ سمجھتا ہو کہ امتحان میں میری کامیابی یا ناکامی کا دارومدار میری تیاری اور امتحان میں میرے پی پر حل کرنے پر ہے۔ یہی بات اس آیت کریمہ میں فرمائی گئی ہے کہ اے پیغمبر اس وقت دنیا میں آپ کی ذات اور قرآن کریم ہدایت کے دو سرچشمے ہیں ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ ایک تو اللہ کے سامنے جواب دہی کا یقین ہو اور دوسرے اس بات کا یقین کہ قیامت کے دن سرخروئی اور کامیابی اسی صورت میں ممکن ہے کہ آدمی شفاعت باطل پر بھروسہ کرنے کی بجائے اپنے ایمان و عمل اور اللہ کے فضل پر بھروسہ رکھے اور ساتھ ہی یہ تصور بھی کہ اگر شریعت کا حق ادا کرنے کی کوشش کے باوجود کوئی کمی بیشی رہ گئی تو اللہ کی اجازت سے رسول اللہ ﷺ کی شفاعت بھی میسر آسکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں اللہ کے رسول اور قرآن کی دعوت سے فائدہ اٹھانے کے لیے جن دو بنیادی تصورات کو مدار بنایا گیا ہے یہ ایک ایسی اٹل حقیقت ہے کہ کہیں بھی انسانی زندگی میں اس کے خلاف ہوتا نظر نہیں آتا مشرکینِ مکہ تو ان دو باتوں کے نہ ہونے کی وجہ سے ایمان کی دولت سے محروم رہے اور آج امت مسلمہ کی مجموعی زندگی انہی دونوں باتوں میں کمزوری کے باعث شریعت اسلامی کی مکمل پابندی سے محروم ہے۔ باوجود اس کے کہ ہم قیامت کے آنے کا علم رکھتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ قیامت کے دن ایمان و عمل ہی کام آئیں گے لیکن چونکہ ان دونوں باتوں کا ہمیں پوری طرح یقین نہیں ہے۔ اس لیے زندگی میں بیشمار مواقع ایسے آتے ہیں کہ ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی کبھی یہ سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے کہ اس بارے میں اللہ اور رسول کے احکامات کیا ہیں۔ خوشی کے لمحات ہوں یا غم کے ‘ عہدہ و منصب کے حصول کا ہیجان ہو یا کسی عہدہ و منصب کے چھن جانے کا اندیشہ۔ کسی بھی کاروبار میں منفعت کی امید ہو یا نقصان کا خوف تو ہم سب سے پہلے اسلامی شریعت سے اپنا تعلق توڑتے ہیں اور ایسے موقع پر جو کچھ ہمارے جی میں آتا ہے یا جدھر حالات کا بہائو ہمیں لے جاتا ہے یا جس طرف امیدوں کا پلڑا جھکنے لگتا ہے ہم اسی کے مطابق اپنے عمل کو متعین کرتے ہیں ‘ اور اسی کی مطابقت سے اپنی کاوشوں کے لیے ایک جہت طے کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض دفعہ اپنی منزل اور نصب العین تک بدلنا پڑے تو اس سے بھی گریز نہیں کرتے۔ مجھے یہ بات بالکل سمجھ نہیں آتی کہ اگر مجھے اس بات کا یقین ہو کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں یا کروں گا اسے میرا خدا دیکھ رہا ہے اور میرے ہر عمل کو محفوظ کیا جا رہا ہے اور قیامت کی اچھی بری زندگی کا دارومدار میرے انہی اعمال پر ہے اس یقین کے ہوتے ہوئے میں پھر بھی اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے اسلامی شریعت کے احکام کو توڑوں یہ کسی طرح ممکن نہیں۔ ہماری زندگیوں میں جو بڑے بڑے خلا اور جھول واقع ہوگئے ہیں ‘ ہمیں مان لینا چاہیے کہ وہ صرف اس لیے ہیں کہ ہم قیامت کو مانتے بھی ہیں اور جانتے بھی ہیں ‘ لیکن اس کا یقین ہمارے دل و دماغ کا حصہ نہیں ‘ جب تک اس یقین سے ہمارا دل و دماغ روشن نہیں ہے اس وقت تک ہماری زندگی اس دو عملی سے خالی نہیں ہوگی۔ اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس آیت کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کو جو یہ بنیادی ہدایت دی جا رہی ہے اس کی کس حد تک اہمیت ہے۔
جب بھی کسی فرد کو قیامت کا یقین نہیں ہوتا یا شفاعت باطل کے تصور سے وہ قیامت کے دن کی باز پرس سے پریشان نہیں ہوتا اس وقت تک جس طرح وہ ایمان لانے سے گریز کرتا ہے ‘ اسی طرح وہ ایمان نہ لانے کے حوالے سے بہانے بھی تراشتا ہے۔ چناچہ انہی بہانوں میں سے یہ بھی ایک بہانہ ہے جس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں کیا جا رہا ہے۔
Ayah 6:52ارشاد فرمایا :
وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْھَہٗ ط مَا عَلَیْکَ مِنْ حِسَابِھِمْ مِّنْ شَیْئٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْھِمْ مِّنْ شَیْئٍ فَتَطْرُدَھُمْ فَتَکُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (الانعام : 52)
(اور تم ان لوگوں کو اپنے سے دور نہ کیجئے ‘ جو صبح شام اپنے رب کو پکارتے ہیں ‘ اس کی خوشنودی چاہتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری کا کوئی حصہ تم پر نہیں اور نہ تمہاری ذمہ داری کا کوئی حصہ ان پر ہے ‘ کہ تم ان کو اپنے سے دور کر کے ظالموں میں سے بن جاؤ )
رسول ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ غریب صحابہ کو اشرافِ قریش کی وجہ سے دور نہ کرو
روایات میں آتا ہے کہ مشرکینِ مکہ میں سے بعض بڑے بڑے لوگوں نے حضرت ابوطالب سے ملاقات کی اور کہا کہ ہم تمہارے بھتیجے کی باتوں پر غور کرنے کو تیار ہیں اور سمجھنا چاہتے ہیں کہ وہ کیا دعوت پیش کرتا ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ اس نے اپنے ارد گرد ایسے لوگ جمع کر رکھے ہیں جو انتہائی غریب اور معاشرے کے دھتکارے ہوئے لوگ ہیں۔ ان میں سے کچھ غلام ہیں اور کچھ ہمارے ہی آزاد کردہ ہیں ایسے بےیارومددگار ہیں اور کچھ جن کی معاشرے میں کوئی اہمیت نہیں ‘ ظاہر ہے کہ ہم ان کی موجودگی میں کس طرح آپ کے بھتیجے کے پاس جاسکتے اور اس کی بات سن سکتے ہیں۔ اس لیے آپ اپنے بھتیجے سے کہئے کہ وہ ہمارے لیے ایک وقت مقرر کرے اور اس میں ان تمام لوگوں کو دور ہٹا دے ‘ ہمیں ان کی پرچھائیں بھی گوارا نہیں۔ اس طرح ہم الگ بیٹھ کر ان سے بات چیت کرنے کو تیار ہیں۔ چناچہ حضرت ابوطالب نے آنحضرت ﷺ کو اس کا مشورہ دیا کہ آپ ان اشراف قریش سے الگ ملنے کا انتظام کریں یا جب بھی وہ آنا چاہیں تو آپ اپنے غریب ساتھیوں کو وہاں سے دور ہٹا دیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی اس پر سوچنا شروع کیا۔ صحابہ تک جب یہ بات پہنچی تو حضرت عمر فاروق ( رض) نے آنحضرت ﷺ کو مشورہ دیا کہ حضور اس میں حرج ہی کیا ہے ہم لوگ تو ہر وقت آپ کے پاس آنے جانے والے اور خدمت میں بیٹھنے والے لوگ ہیں۔ اگر اشراف قریش ہمارے ساتھیوں کی موجودگی میں ملنا پسند نہیں کرتے تو کوئی حرج نہیں ‘ آپ ان سے الگ مل لیا کیجئے۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ حضرت عمر فاروق کو جب یہ معلوم ہوا تو وہ فوراً حضور کی خدمت میں پہنچے ‘ معافی چاہی کہ میں نے آپ کو غلط مشورہ دیا اور آپ سے درخواست کی کہ آپ اللہ سے میرے لیے استغفار کریں تاکہ وہ میرا یہ گناہ معاف فرما دے۔ اس آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ آپ یہ مت سمجھئے کہ یہ لوگ اس طرح امتیازی سلوک کرنے سے راہ راست پر آجائیں گے یہ محض ان کا ایک بہانہ ہے۔ اصل بیماری ان کی وہی ہے کہ وہ اللہ کے سامنے حاضری کا اندیشہ نہیں رکھتے۔ آپ ان کے ساتھ کیسا بھی عزت کا سلوک کریں وہ کبھی آپ پر ایمان نہیں لائیں گے۔ رہی یہ بات کہ آپ ان کی خاطر ان غریب لوگوں کو دور کریں ‘ یہ کسی طرح مناسب نہیں۔ یہاں جو لفظ استعمال کیا گیا ہے وہ ہے وَلَا تَطْرُدِ ۔ اطراد عربی زبان میں دھتکارنے اور بدسلوکی سے نکالنے کو کہتے ہیں۔ قریش چونکہ غریب لوگوں کے لیے یہی لفظ استعمال کرتے تھے اس لیے قرآن کریم نے ان کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے انہی کا لفظ استعمال کیا ‘ تاکہ ان کا جرم ریکارڈ پر رہے اور جب وہ اس کا جواب دیکھیں تو مزید انھیں اپنے جرم کی شدت کا احساس ہو اور ان کے خبث باطن پر چوٹ لگے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ایک تھوڑی سی وضاحت ضروری ہے وہ یہ کہ مشرکینِ مکہ کا یہ مطالبہ محض اتفاقی نہیں تھا بلکہ یہ ان کی معاشرتی اقدار اور ان کے تصور حیات کا نتیجہ تھا۔ مکہ معظمہ کی زندگی درحقیقت ایک طبقاتی زندگی تھی۔ وہاں کے رہنے والے یوں تو کئی طبقات میں بٹے ہوئے تھے لیکن امیر ‘ غریب اور حسب و نسب کی تقسیم سب سے زیادہ گہری تھی۔ قریش کسی کو جو ان کے اپنے خاندان سے تعلق نہ رکھتا ہو اپنے ہم پلہ ماننے کو تیار نہیں تھے۔ اور جہاں تک غریب لوگوں کا تعلق ہے وہ ان کو اپنی خدمت کے لیے تو برداشت کرسکتے تھے لیکن یہ سوچنا بھی انھیں گوارا نہیں تھا کہ یہ بھی معاشرے کے قابل ذکر لوگ ہیں۔ حیرت اور تشویش کی بات یہ ہے کہ قرآن کریم یہاں ان کے جس رویے کو بری طرح تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے اور جس طرح اسے جڑ سے اکھاڑ دینا چاہتا ہے اس کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ امت مسلمہ میں اس کے آثار بھی باقی نہ رہتے ‘ لیکن انتہائی دکھ کی بات ہے کہ باقی عالم اسلام کو تو چھوڑیئے خود یہ ملک جس کو وجود ہی اسلام کے نام سے ملا ہے ‘ اس میں ابھی تک نہایت گہری طبقاتی تفریق پائی جاتی ہے۔ جاگیردار ‘ امراء ‘ بڑے بڑے خاندانوں کے لوگ ‘ فوج ‘ سیاستدان اور بیوروکریٹس سارے ملک کے عوام کو اپنے ہاری اور کمین سمجھتے ہیں۔ اس لیے اپنے اپنے دوائر میں ان کے ساتھ نہایت توہین آمیز سلوک روا رکھنا بلکہ ظلم کرنا بھی ان کے لیے کوئی غلط بات نہیں۔ یہی حال مشرکینِ مکہ کا تھا اس لیے ان کا حضور سے یہ مطالبہ کوئی حیرت انگیز مطالبہ نہ تھا بلکہ ان کی معاشرتی زندگی کا نتیجہ تھا۔ قرآن کریم نے اس پر آنحضرت ﷺ کو جو ہدایات دی ہیں ‘ اس میں سب سے پہلی بات جو محسوس کرنے کی ہے وہ اس آیت کریمہ کا لہجہ ہے۔ جس میں بظاہر تنبیہ کا انداز ذرا تیکھا ہوگیا ہے۔ اس میں خطاب چونکہ آنحضرت ﷺ کو ہے اس لیے بعض طبیعتوں کو گراں گزرتا ہے۔ لیکن اگر قرآن کریم کا ایک اسلوب سمجھ لیا جائے تو پھر یہ واہمہ پیدا نہیں ہوتا وہ یہ ہے کہ جب بھی کفار کی جانب سے ایسی کوئی بےسروپا بات کہی جاتی ہے یا کوئی لایعنی مطالبہ کیا جاتا ہے تو قرآن کریم میں پروردگار اس کا جواب دیتے ہوئے کفار کو مخاطب نہیں کرتے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس قابل نہیں ہیں کہ پروردگار ان کو مخاطب کرے۔ اس لیے اس میں خطاب رسول اللہ ﷺ کو فرمایا جاتا ہے۔ لیکن روئے سخن کفار کی طرف ہوتا ہے ‘ یا یوں کہہ لیجئے کہ بات حضور سے کی جا رہی ہوتی ہے لیکن سنائی کفار کو جاتی ہے۔ اس لیے اس میں تنبیہ کا انداز اگر تیکھا ہوجاتا ہے یا کہیں غضب کا اظہار نظر آتا ہے تو اس کا تعلق اللہ کے رسول سے نہیں بلکہ ان کفار سے ہوتا ہے تاکہ وہ اچھی طرح اپنے انجام کے بارے میں سوچ لیں۔ یہاں بھی خطاب آنحضرت ﷺ سے ہو رہا ہے لیکن تنبیہ اور تہدید کا تعلق مشرکینِ مکہ سے ہے۔
دوسری چیز جو اس میں بہت قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ کفار مکہ جن لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں بلکہ انھیں اپنے قریب آنا بھی ان کے لیے گوارا نہیں اور وہ حضور سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہماری موجودگی میں آپ ان کو دور رہنے کا حکم دیں۔ کیسی دلنواز بات ہے کہ اللہ تعالیٰ انہی کی وکالت فرما رہے ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو ابھی تک غلامی کا عذاب جھیل رہے ہیں اور ان میں وہ بھی ہیں جو نئے نئے غلامی کی زنجیریں کاٹ کے نکلے ہیں۔ لیکن معاشرے میں ان کو تحفظ دینے والا کوئی نہیں۔ ان میں ایسے بھی ہیں جو کسی اعلیٰ خاندان سے تعلق نہیں رکھتے باہر سے آئے ہوئے لوگ ہیں اور یہ تمام لوگ ساتھ ساتھ اس قدر بےسروسامان بھی ہیں کہ نہ پہننے کو مناسب کپڑا ہے اور نہ کھانے کو ڈھب کی روٹی پیٹ پر پتھر باندھتے اور چیتھڑے پہنتے ہیں لیکن اسلام کی موجودہ قوت یہی لوگ ہیں۔ ان کے بارے میں پروردگار ارشاد فرما رہے ہیں کہ آپ ان لوگوں کو اپنی صحبت سے دور مت ہٹایئے ان کا حال یہ ہے کہ وہ صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں۔ یعنی اہل دنیا سے اگرچہ ان کو کوئی ایسا قابل ذکر تعلق نہیں اور لوگ بھی ان کا نام لینے کے روادار نہیں ‘ لیکن انھوں نے اپنا رشتہ اللہ سے جوڑ رکھا ہے ‘ وہ اس ذات کو پکارتے ہیں جس کو پکارنے والا کبھی محروم نہیں رہتا اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ انھیں دولت دنیا کے نہ ہونے کے باعث غربت اور غریبی کے طعنے ملتے ہیں۔ انھیں نجانے کیسے کیسے خطابات سے یاد کیا جاتا ہے اور خود ان کے شب و روز اللہ ہی بہتر جانتا ہے کیسی تلخیوں میں گزرتے ہیں۔ لیکن ان سارے دکھوں کے باوجود اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ان میں سے کوئی چیز نہیں مانگتے ‘ وہ اپنے رب کو پکارتے ہیں تو صرف اس لیے کہ وہ اپنے رب کی خوشنودی چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک اللہ کی خوشنودی کے مقابلے میں دنیا بھر کی دولت خزف ریزوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ کسی بھی تحریک کا سرمایہ اس کے جانثار اور فداکار لوگ ہوتے ہیں جو اپنی زندگیاں تک اس تحریک پر قربان کردیتے ہیں۔ یہ لوگ جنھوں نے محض اللہ کی رضا کے لیے دنیا کی ہر نعمت سے منہ موڑ لیا ہے اور دنیا کا ہر دکھ اسلام اور ایمان کی خاطر برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ لوگ اس لائق ہیں کہ آپ کی صحبت سے فائدہ اٹھائیں یا وہ نابکار جنھیں آپ کی نبوت تک گوارا نہیں۔ وہ محض بہانے تراشتے ہیں تاکہ آپ کے لیے ایسے حالات پیدا کریں کہ آپ کے جانثار بھی آپ سے دور ہوجائیں۔ اس لیے آپ ان کو ہرگز اپنے سے دور نہ ہٹایئے۔ وہ لوگ جن کا آپ کے سوا دنیا میں کوئی نہیں اور وہ آپ کی صحبت میں اللہ کی رضا کو ڈھونڈتے ہیں ‘ وہی آپ کی عنایت کے ہر طرح مستحق اور آپ کی توجہ کے حقدار ہیں۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان غریبوں کو جس طرح اپنے سینے سے لگایا کہ انھوں نے اگر اپنی جانثاری میں کبھی کمی نہیں کی تو حضور کی شفقتیں بھی ہمیشہ ان پر پھوار کی طرح برستی رہیں۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ آپ نے غریبوں ہی میں زندگی گزارنا اور غریبوں ہی کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اپنا معمول بنا لیا اور یہاں تک اللہ کے حضور عرض کی کہ یا اللہ میں چاہتا ہوں کہ میں غریبوں کے ساتھ زندہ رہوں اور قیامت کے دن غریبوں کے ساتھ اٹھایا جاؤں۔ سردار دیوان سنگھ مفتون متحدہ ہندوستان میں ریاست اخبار کے ایڈیٹر تھے اور وہ اپنی طرز کے واحد آدمی تھے جب انھوں نے آنحضرت ﷺ کا یہ قول سنا تو بےساختہ کہا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ جن ہونٹوں سے یہ قول نکلا ہے میں ان ہونٹوں کو بوسہ دوں۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں غریبوں کا ساتھ دینے کے دعوے تو بہت رہے ہیں لیکن اگر کسی نے غربت کو عزت دی ہے اور فقر کو اپنا فخر فرمایا ہے اور فی الواقع غریبی امیری کا فرق مٹا کے رکھ دیا ہے اور طبقات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے تو وہ صرف رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ غیر مسلموں نے بھی جب کبھی غیر جانبداری سے آپ کے اس طرز عمل کو دیکھا ہے تو تسلیم کیے بغیر نہ رہ سکے۔ یوں تو اس کی مثالیں تاریخ میں بھری پڑی ہیں۔ لیکن ہماری قریبی تاریخ میں لاہور ہی میں ہری چند اختر کے نام سے ایک شاعر گزرے ہیں جو تقسیم کے بعد ہندوستان چلے گئے انھوں نے کہا تھا ؎
جس کی حکمت نے یتیموں کو کیا درِّ یتیم
اور غلاموں کو زمانے بھر کا مولا کردیا
آنحضرت ﷺ کے اس طرز عمل کے نتیجے میں مسلمانوں کا یہ حال تھا کہ یہ غریب لوگ جنکو اشراف قریش اپنے قریب نہیں آنے دیتے تھے انکا اس حد تک احترام کرتے تھے کہ دنیا شاید اس کی مثال لانے سے عاجز ہو۔ ان غریب غلاموں میں حضرت بلال ( رض) کا نام سب سے نمایاں ہے کیونکہ انھیں سب سے زیادہ آنحضرت کا قرب اور خدمت کا شرف میسر آیا۔ فتحِ مکہ کے موقع پر حضور نے انھیں کعبۃ اللہ کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان کہنے کا حکم دیا تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ کل کا غلام آج کا کس قدر نامور فرد بن چکا ہے اور خلافتِ راشدہ میں انکے مقام و مرتبہ کا عالم یہ تھا کہ ایک دفعہ حضرت ابوسفیان اور حضرت عکرمہ جیسے بڑے بڑے اشرافِ قریش حضرت عمر فاروق ( رض) کے گھر کے سامنے اذن باریابی کے انتظار میں کھڑے تھے۔ دروازے پر ایک لڑکا دربانی کے فرائض انجام دے رہا تھا کہ اتنے میں حضرت بلال ( رض) تشریف لائے انھیں دیکھ کر دربان ایک طرف ہٹ گیا وہ بغیر اجازت طلب کیے اندر داخل ہوئے۔ حضرت فاروق اعظم ( رض) نے جیسے ہی دیکھا کہ بلال آئے ہیں ‘ اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا : جاء سیدنا و خادم سید نا ” ہمارا آقا آگیا اور ہمارے آقا کا خادم آگیا “۔ ابوسفیان برداشت نہ کرسکے ‘ بول اٹھے کہ یہ دن بھی آنا تھا کہ اشراف قریش اجازت کے طلبگار ہیں اور ایک آزاد کردہ غلام آتا ہے تو بغیر اجازت طلب کیے اندر چلا جاتا ہے۔ حضرت عکرمہ جو ابوجہل کے بیٹے تھے کہنے لگے ابوسفیان ہمیں شکایت کرنے کا کوئی حق نہیں بلانے والے نے سب کو ایک ہی وقت میں بلایا تھا۔ اس پکار پر جس نے پہلے لبیک کہا وہ آگے رہے گا اور جو پیچھے رہا وہ پیچھے رہے گا اس لیے اس میں شکایت کا کوئی موقع نہیں۔
مَا عَلَیْکَ مِنْ حِسَابِھِمْ مِّنْ شَیْئٍ اس میں انبیاء کرام کی طبیعت کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ ہے اور اس حوالے سے یہ ہدایت دی گئی ہے۔ وہ پہلو یہ ہے کہ انبیاء کرام اللہ کے عطا کردہ مزاج کی وجہ سے اپنے اندر یہ امتیازی چیز رکھتے ہیں کہ انھیں دنیا کی ہر چیز سے زیادہ صرف ایک چیز کی خواہش اور طلب ہوتی ہے کہ جن لوگوں کی طرف وہ ہدایت لے کر آئے ہیں وہ ان کی ہدایت کو قبول کرلیں۔ یہ ان کی خواہش بعض دفعہ اس حد تک ان پر غالب آجاتی ہے کہ وہ زندگی کی تمام آسانیوں بلکہ ضروریات تک کو دعوت و تبلیغ کی نذر کردیتے ہیں اور راتوں کو اٹھ اٹھ کر ان کے ایمان اور ان کی مغفرت کے لیے دعائیں مانگتے ہیں اور ان کے ایمان کے لیے جو بھی مناسب تجویز ان کے سامنے آتی ہے وہ اس پر عمل کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں بعض دفعہ تو یہ صورت حال ہوتی ہے جس کی مثال انجیل میں دی گئی ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ لوگو ! تم نے دیکھا نہیں کہ جب کسی ریوڑ کے مالک کی ریوڑ میں سے کوئی بھیڑ گم ہوجاتی ہے تو وہ اس کی تلاش میں ندیوں ‘ نالوں اور صحرائوں تک میں مارا مارا پھرتا ہے اور وہ اس تگ و دو میں اپنے ریوڑ تک کو بھول جاتا ہے اور جب اسے وہ بھیڑ مل جاتی ہے تو پھر واپس اپنے لوگوں میں آکر کہتا ہے کہ لوگو میرے ساتھ خوشیاں منائو کہ مجھے اپنی بھیڑ مل گئی ہے۔ یہ کیفیت ایک پیغمبر کی ہوتی ہے۔ یہاں پروردگار اس طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ تمہیں اپنی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو تلاش کرنا چاہیے ‘ لیکن ایک ایک بھیڑ کے پیچھے اس قدر سرگرداں نہیں ہونا چاہیے کہ باقی ریوڑ کا خیال بھول جائے اور ممکن ہے کہ ان کو نقصان پہنچ جائے اس لیے کہ اگر آپ کی دعوت کے مخاطبین میں سے ایک ایک آدمی مسلمان نہیں ہوتا یعنی اگر آپ کی ایک ایک بھیڑ واپس اپنے گلے میں نہیں آتی تو آپ کو پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ جو بھیڑ اپنے گلے سے اتنی دور نکل جائے وہ حقیقت میں بھیڑیئے کا حصہ ہوتی ہے۔ اسی طرح جو آدمی ایمان کے لیے تبلیغ و دعوت کی ساری کاوشوں کو نظر انداز کردیتا ہے۔ آپ سے اس کے بارے میں بالکل نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ ایمان کیوں نہیں لایا۔ البتہ اگر آپ نے ان اشراف قریش کو قریب کرنے کے لیے ان غریب لوگوں کو اپنے سے دور کردیا تو قیامت کے دن جب اس بارے میں آپ سے سوال ہوگا تو یہ اشراف قریش جن کے لیے ایمان کی خواہش میں آپ یہ سب کچھ کر رہے ہیں وہ وہاں آپ کے کسی کام نہیں آئیں گے۔ وہاں آپ کو خود ہی اس کا جواب دینا پڑے گا۔ اس لیے فرمایا کہ آپ ان غریب لوگوں کو اپنے سے دور نہ کریں۔ یہی آپ کی مجلس کی زینت اور آپ کے قافلے کا زیور ہیں اور اگر آپ نے خدانخواستہ ان کو دور کردیا تو آپ ظالموں میں سے ہوجائیں گے۔
ظلم کا مفہوم
یہاں بظاہر ظالم کا لفظ آنحضرت ﷺ کے حوالے سے عجیب سا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ظلم کا معنی بےانصافی یعنی ایک کا حق دوسرے کو دے دینا ہے یہاں یہ لفظ محبت کے حوالے سے استعمال ہو رہا ہے کہ آپ کی محبت اور شفقت کے مستحق یہ غریب لوگ ہیں جنھوں نے سب کچھ آپ اور اسلام کے لیے قربان کردیا ہے وہی اس قابل ہیں کہ آپ کی صحبت سے فائدہ اٹھائیں اور آپ کی توجہ سے بہرہ ور ہوں۔ اگر آپ ان کی بجائے یہ حق اشراف قریش کو دے دیں گے تو یہ ان معنوں میں ظلم ہوگا کہ حق ان غریب صحابہ کا تھا آپ نے اشراف قریش کو دے دیا۔ یہ گویا ایک ایسا گلہ ہے جو کبھی کبھی محبت کرنے والوں کی زبان پر آجایا کرتا ہے۔ صحابہ چونکہ جاں نثار اور فداکار ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کے محب اور عشاق بھی تھے ‘ انھیں بجا طور پر یہ گلہ زیب دیتا تھا کیونکہ ان میں بعض تو ایسے تھے جن کے لیے حضور سے چند لمحے دور رہنا بھی بڑا گراں گزرتا تھا جیسے ایک مچھلی پانی سے باہر زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح یہ لوگ حضور کی صحبت سے باہر اپنے لیے زندگی دشوار سمجھتے تھے۔ ایک صحابی کا واقعہ اہل تفسیر نے نقل کیا ہے کہ انھوں نے ایک دن آنحضرت ﷺ نے عرض کیا کہ حضور جب تک میں آپ کی صحبت میں رہتا ہوں ‘ دل کو ایک اطمینان میسر رہتا ہے ‘ لیکن جب گھر چلا جاتا ہوں تو باوجود اس کے کہ اہل خانہ موجود ہوتے ہیں لیکن میرا دل اچاٹ ہوجاتا ہے ‘ میں جب تک آپ کو دیکھ نہیں لیتا مجھے چین نہیں پڑتا۔ کہا حضور یہاں تو ہمیں یہ نعمت میسر ہے کہ بار بار آپ کی زیارت ہوتی ہے لیکن قیامت کے دن جب آپ جنت کے اعلیٰ ترین درجے میں ہوں گے اور اگر ہمیں اللہ تعالیٰ نے جنت عطا کی بھی تو ظاہر ہے کہ ہم بہت نچلے درجے میں ہوں گے وہاں آپ کی زیارت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تو حضور اس جنت کا کیا فائدہ جس میں آپ کی زیارت نہ ہو سکے۔ اس پر قرآن کریم کی ایک آیت نازل ہوئی جس میں بتایا گیا کہ جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے انھیں قیامت کے دن حضور کا ساتھ نصیب ہوگا۔ حضور چاہے کتنے بھی بلند مقام پر ہوں حضور کی زیارت سے وہ برابر سعادت اندوز ہوتے رہیں گے۔
اشراف قریش کا یہ مطالبہ کہ ہم غریب مسلمانوں کے ساتھ آپ سے ملاقات نہیں کرسکتے یہ ہماری بڑائی اور عظمت کے خلاف ہے۔ آنے والی آیت کریمہ میں ان کے اس قول اور ان کی خواہش کے پیچھے جو چیز کارفرما تھی اور جو ان کی اصل بیماری تھی اس سے پردہ اٹھایا جا رہا ہے۔