6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsروح القرآن

Ayahs 6:42–43

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سی امتوں کے پاس اپنے رسول بھیجے ‘ پس ان کو مالی اور جسمانی تکالیف میں مبتلا کیا۔ تاکہ وہ خدا کے آگے جھکیں

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

تو کیوں جب ان پر ہماری پکڑ آئی تو اللہ کی طرف نہ جھکے بلکہ ان کے دل سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کی نگاہوں میں اسی عمل کو کھبا دیا ‘ جو وہ کرتے رہے

تمہید سورة انعام میں آغاز سے اب تک مسلسل اساسی اور بنیادی عقائد پر نہایت مدلل انداز کے ساتھ زور دیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ مشرکین کی جانب سے پیش کیے جانے والے اعتراضات اور مطالبات کا بھی جواب دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ آیتوں میں بالخصوص ان کے مطالبہ عذاب کا ذکر کیا گیا اور اس کے نتائج پر ان کو توجہ دلا کر تنبیہ بھی کی گئی۔ بالخصوص آخری دو آیتوں میں ان کے مطالبے ہی کو ایک خوبصورت دلیل کی شکل دے کر ‘ ان پر ایک طرح سے اتمام حجت کردیا گیا ہے۔ لیکن اس رکوع کے آغاز ہی میں ‘ جو اس وقت ہمارے پیش نظر ہے ‘ پروردگار نے اپنے فضل و کرم سے ‘ باوجود اتمام حجت کرنے کے ‘ قوموں پر عذاب نازل ہونے کے پر اسس کو بیان کیا ہے ‘ جس کی حیثیت سنت اللہ کی ہے۔ یعنی وہ اللہ کا ایک ایسا قانون ہے اور ایک ایسی روایت ہے ‘ جس میں کبھی تخلف نہیں ہوتا۔ اس لیے مشرکین مکہ کے سامنے اسے بیان فرما کر انھیں یہ سمجھایا گیا ہے کہ تم جو بار بار اللہ کے عذاب کا مطالبہ کرتے ہو ‘ تمہیں اس کی اس سنت اور اس کے تدریجی عمل کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے ‘ تاکہ تمہیں یہ بات سمجھنے میں دشواری پیش نہ آئے کہ اب تک تم پر جو اللہ کا عذاب نہیں آیا تو اس کی حقیقی وجہ کیا ہے اور اگر تم نے اب بھی اپنا رویہ نہ بدلا تو عین ممکن ہے کہ تم اللہ کی اس سنت کی گرفت میں آجاؤ اور مزیدیہ بھی کہ صرف اس سنت اللہ ہی کو بیان نہیں کیا گیا ‘ بلکہ اس پر تاریخی روایت اور تاریخی شہادت کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ تاکہ مشرکین مکہ کو سمجھنے میں مزید آسانی ہو اور وہ ہدایت کا راستہ اختیار کرنا چاہیں تو انھیں کوئی عذر پیش نہ آئے۔ چناچہ ارشاد فرمایا : وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلیٰٓ اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَاَخَذْنٰھُمْ بِالْبَاْسَآئِ وَالضَّرَّآئِ لَعَلَّھُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ ۔ فَلَوْلَآ اِذْ جَآئَھُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰکِنْ قَسَتْ قُلُوْبُھُمْ وَ زَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الانعام : 42۔ 43) (اور ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سی امتوں کے پاس اپنے رسول بھیجے ‘ پس ان کو مالی اور جسمانی تکالیف میں مبتلا کیا۔ تاکہ وہ خدا کے آگے جھکیں تو کیوں جب ان پر ہماری پکڑ آئی تو خدا کی طرف نہ جھکے ‘ بلکہ ان کے دل سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کی نگاہوں میں اسی عمل کو کھبا دیا ‘ جو وہ کرتے رہے) عذاب الٰہی کے تدریجی مراحل ان دونوں آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے عذاب کے اس پر اسس اور اس تدریجی عمل کے پہلے حصے کو بیان فرمایا ہے ‘ جس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ کا عذاب کسی بھی قوم پر نازل ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس تاریخی روایت کو بھی بیان کیا ہے ‘ جو اس حقیقت پر شہادت کا درجہ رکھتی ہے۔ اسے تو ہم بعد میں بیان کریں گے ‘ سب سے پہلے اللہ کی اس سنت اور اس پر اسس کو سمجھ لینا چاہیے۔ یہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ اللہ نے اس زمین پر انسان کو بسایا ہے اور ان کو اس زمین پر خلافت کا تاج بھی پہنایا ہے۔ اس کو بہت ساری مخلوقات پر فضیلت بھی عطا فرمائی ہے۔ اس زمین پر درحقیقت اسی کی فرمانروائی ہے اور وہی اس گلشن ہستی کا گل سر سبد ہے ‘ جس سے اس چمن کو آراستہ کیا گیا ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ اسے عذاب کا شکار بنایا جائے اور بلاوجہ اسے تباہ کردیا جائے۔ مشرکین بار بار جو عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں ‘ انھوں نے عذاب کو بھی ایک کھیل سمجھ رکھا ہے۔ حالانکہ کسی بھی قوم پر اللہ کا عذاب اس کی مکمل تباہی اور اس کی جڑ کٹ جانے کے مترادف ہے۔ کسی بھی گلشن کا سجانے والا ‘ بلاوجہ کبھی اپنے گلشن کو اجاڑنا پسند نہیں کرتا۔ وہ تو ان لوگوں کو بھی پسند نہیں کرتا ‘ جو اس گلشن کی بربادی کا باعث بنتے ہیں۔ اسی لیے ہمیشہ فساد فی الارض کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ خود وہ اس چمن کو برباد کر دے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس نے قوموں پر عذاب بھیجے ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ دراصل کسی بھی قوم پر عذاب اس وقت بھیجتا ہے ‘ جب کہ اس قوم کا وجود اس گلشن کے لیے تباہی کا باعث بن جاتا ہے۔ اس لیے اس کے یہاں حقیقی ترجیح اس بات کو حاصل ہے کہ وہ انسانوں کے ہر گروہ کو حتی الامکان اس تباہی اور اس عذاب سے بچائے۔ اس لیے اس کی سنت یہ ہے کہ جب بھی کہیں بگاڑ پھیلتا ہے اور انسان گمراہی کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو وہ ان کی ہدایت اور اصلاح کے لیے اپنے رسول بھیجتا ہے ‘ اپنی کتابیں اتارتا ہے۔ رسول دنیا میں آکر اللہ کی کتاب کی دی ہوئی روشنی کے مطابق بگڑے ہوئے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں ‘ خون کے گھونٹ پی پی کر ان کے ساتھ خیر خواہی کرتے ہیں اور ان کی زندگی سنوارنے میں لگے رہتے ہیں۔ جب تک ان میں خیر کی کوئی امید باقی رہتی ہے اور کسی ایک آدمی کے اصلاح پذیر ہونے کی بھی امید کی جاسکتی ہے ‘ اللہ کے یہ فرستادہ لوگ اللہ کے حکم سے اپنے کام کو جاری رکھتے ہیں۔ لیکن جب یہ قوم ان کی دعوت کے ساتھ نامناسب طرز عمل اختیار کرتی ہے ‘ حتی کہ اپنے ان محسنوں کے ساتھ دشمنی کا رویہ اختیار کرلیتی ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں تنبیہ کرنے اور اپنے نبیوں اور رسولوں کی صداقت کو واضح کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً انھیں مصائب میں مبتلا کرتا ہے۔ ان مصائب کے لیے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو لفظ استعمال فرمائے { الْبَاْسَآئِ وَالضَّرَّآئِ }۔ بَاْسَآئِ کا معنی ہے ‘ مالی دشواریاں اور مالی مصیبتیں اور ضَرَّآئِ کا معنی ہے ‘ جسمانی عوارض اور جسمانی مصیبتیں یعنی اس قوم کو کبھی تو اس طرح مالی مشکلات میں مبتلا کیا جاتا ہے کہ ان کے کاروبار میں تعطل پیدا کردیا جاتا ہے۔ تجارتیں نقصان کا شکار ہوتی ہیں ‘ کھیتیاں ویران ہونے لگتی ہیں۔ بعض دفعہ ملک قحط سالی کا شکار ہوجاتا ہے ‘ بارشیں روک دی جاتی ہیں یا بارشوں کی کثرت سے سیلاب کی صورت پیدا کردی جاتی ہے۔ صنعتی اداروں میں باہمی خلفشار کے نتیجے میں پہیہ جام ہونے لگتا ہے۔ ملک سیاسی طور پر سیاسی انارکی کا شکار ہو کر بےاستحکامی کی طرف بڑھنے لگتا ہے اور کبھی بڑی سے بڑی توانا قوم کو بھی جو اپنے یہاں ایک مضبوط صحت کا نظام رکھتی ہے جسمانی بیماریوں میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ جب ان کے اخلاق بگڑتے ہیں تو اس کے نتیجے میں بعض ایسی بیماریاں جنم لیتی ہیں جن کی نہ تشخیص ہوسکتی ہے ‘ نہ تجویز ممکن ہوتی ہے۔ وبائیں پھیلنے لگتی ہیں ‘ متعدی امراض میں اضافہ ہوجاتا ہے اور یہ پہلے بھی ہوتا رہا ‘ آج بھی قدرت بعض دفعہ کہیں کہیں اس کے جھٹکے دیتی ہے۔ مغربی دنیا میں ایڈز کی بیماری کا پھیلنا آج تک ایک لا ینحل مسئلہ بنا ہوا ہے۔ کینسر نے پوری دنیا کو پریشان کر رکھا ہے اور اب مختلف قسم کا یرقان لا علاج ہوتا جا رہا ہے۔ اس طرح کے مصائب میں اللہ کی ہدایت کا راستہ روکنے والی قوموں اور رسولوں پر ایمان نہ لانے والوں کو اس لیے مبتلا کیا جاتا ہے تاکہ وہ اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کریں ‘ اس کی کبریائی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی بندگی کو سمجھیں اور اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کرتے ہوئے ‘ اس کی عبادت اور عبودیت کے لیے جھکیں یعنی یہ تکلیفیں اور مصائب محض ان کو پریشان کرنے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ یہ بتانے کے لیے ہوتے ہیں کہ تمہارا کوئی آقا ومالک بھی ہے۔ اس زمین کا کوئی نگران بھی ہے۔ تم اگر اس کی ہدایت کو قبول نہیں کر رہے اور تم نے اس کے ہر حکم کو ماننے سے انکار کردیا ہے اور اس کے رسولوں سے مسلسل بدسلوکی کر رہے ہو اور زمین کو تم نے فساد سے بھر دیا ہے تو اس طرح کی تکلیفوں میں انھیں مبتلا کر کے بتلایا جاتا ہے کہ تم یہ نہ سمجھو کہ تم کسی کی گرفت میں نہیں آسکتے ‘ یہی چھوٹی چھوٹی مصیبتیں کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ بھی ہوسکتی ہیں اس لیے اس کی ذات کے سامنے جھکو اور اس کے رسولوں پر ایمان لا کر اس کی اطاعت اور اس کی بندگی اختیار کرو۔ دل کی سختی سے مراد دوسری آیت میں بجائے اس کے کہ یہ بتایا جاتا کہ بگڑی ہوئی قومیں جب اس طرح کی تنبیہات کے بعد بھی راہ راست پر نہیں آتیں تو پھر اللہ ان کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔ اسی بات کو ایک سوال کی شکل دی گئی ‘ ہے جس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ انسانی فطرت لازماً اپنے پروردگار کے احساس سے بہرہ ور ہے۔ جب کبھی اس پر غفلت کے پردے پڑنے لگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مصائب کی صورت میں تنبیہات اس کے پردوں کو چاک کرتی ہیں تو انسان فوراً اپنی فطرت کو پہچانتا ہے اس کی آواز پر کان دھرنے لگتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایمان کی دعوت کو قبول کرلیتا ہے۔ لیکن جب کوئی قوم حد سے گزر جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے اس کی فطرت مردہ ہوچکی ہے۔ پھر وہ ان مصائب کی کوئی نہ کوئی تاویل کرتی ہے اور کوئی نہ کوئی عقلی توجیہ کر کے اپنی بےعملی بد عملی بلکہ بےدینی کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ فرمایا ان لوگوں کا بھی یہی حال معلوم ہوتا ہے کہ جب اللہ کی طرف سے مصائب کا ان پر نزول ہوا تو یہ کیوں نہیں اس کے سامنے جھکے۔ پھر خود ہی اس کا جواب دیا کہ اس لیے نہیں جھکے کہ یہ اپنی فطرت سے محروم ہوچکے ہیں۔ ان کے دل جہاں سے ان کو فطرت کی آواز سنائی دے سکتی ہے ‘ وہ اتنے سخت ہوگئے کہ انھوں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور انسان کا دل جب سخت ہوجاتا ہے ‘ یعنی اپنے اللہ کی اطاعت سے انکار کردیتا ہے تو پھر اس سے کسی خیر کی توقع نہیں رہتی۔ پھر ان کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ اللہ کی طرف سے نازل ہونے والے مصائب کو تنبیہ سمجھ کر اپنی غلطیوں سے توبہ کرنے کی کوشش کریں ‘ وہ کوئی نہ کوئی اس کی توجیہ کر کے اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو جن لوگوں سے واسطہ پڑا ‘ ان کو بھی وقتاً فوقتاً ایسے مصائب سے دوچار کیا گیا۔ لیکن قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ اس کے نتیجے میں اللہ کے سامنے جھکتے ‘ انھوں نے اس کی تاویلیں کیں اور اپنی روش پر قائم رہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم جن مصائب سے گزر رہے ہیں ‘ یہ غلط بات ہے کہ یہ اللہ کی نافرمانی کا نتیجہ ہے یا اللہ ہمیں اس سے تنبیہ کر رہا ہے۔ بلکہ یہ تو وقت کے وہ انقلابات اور وہ اتفاقی حوادث ہیں ‘ جن سے ہمیشہ انسانوں کو واسطہ پڑتا رہا ہے۔ کہا : قَدْ مَسَّ آبَائَ نَا الضَّرَّائُ وَ السَّرَّآئُ (الاعراف : 95) (اگلے بھی ایسے گرم اور نرم حالات سے دوچار ہوتے رہے ہیں) یہ تو دنیا کی ریت ہے ‘ ہم کوئی پہلی دفعہ اس طرح کے حالات سے دوچار نہیں ہوئے۔ برا وقت بھی اچھے وقت کی طرح گزر جاتا ہے ‘ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ عجیب بات ہے کہ جو بات آج کا دانشور اور ہمارا پڑھا لکھا طبقہ ایسے حالات میں کہا کرتا ہے ‘ وہی بات ساڑھے چودہ سو سال پہلے کا مشرک بھی کہتا تھا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ انسانی فطرت ہر دور میں ایک رہی ہے اور ایک ہی رہے گی۔ اس لیے جب بھی کبھی ایسے حالات پیدا ہوں گے اور اللہ اپنے بندوں پر مہربانی فرماتے ہوئے ان کو یہ چھوٹے چھوٹے مصائب کی صورت میں جھٹکے دے گا تاکہ وہ راہ راست پر آجائیں تو ہمیشہ کی طرح دو طرح کے گروہ پیدا ہوں گے۔ ایک وہ گروہ جو ان مصائب کو واقعی تنبیہات سمجھ کر ایمان کے راستے پر آجائے گا اور ہدایت اختیار کرلے گا اور دوسرا وہ گروہ جو مختلف اسباب کے تحت اپنے بگاڑ میں اور پختہ ہوتا جائے گا۔ اس کا سبب بھی یہاں بیان کیا گیا ہے کہ جب بھی اللہ کے نبی اور اس کے رسول یا مصلحین دنیا میں اصلاح کا عمل شروع کرتے ہیں تو ابلیس بھی اپنے لأ و لشکر سمیت ان کا راستہ روکنے اور انسانوں کو بگاڑ میں پختہ کرنے کا عمل شروع کردیتا ہے۔ چناچہ اس کا لشکر جس میں زندگی کے ہر طبقے کا نمائندہ موجود ہوتا ہے ‘ وہ ان کو زندگی کے ہر شعبے میں پھیلا دیتا ہے ‘ تاکہ لوگوں کو اصلاح کے عمل سے متاثرہونے سے روکے اور شیطان کا یہ لشکر سارا زور اس بات پر صرف کرتا ہے کہ تم جو کچھ کر رہے ہو ‘ یہ مت سمجھو کہ اس میں کسی غلطی یا بگاڑ کا شائبہ بھی ہوسکتا ہے۔ تمہارے تمام اعمال اور تمہاری زندگی کے تمام اطوار بالکل ٹھیک جہت پر جا رہے ہیں۔ تمہاری علمی کاوشیں ‘ تمہارے کاروبار کے طریقے ‘ تمہارے تہذیبی و ثقافتی ادارے ‘ تمہارے اجتماعی عوامل ان میں کہیں بھی ٹیڑھ نہیں پایا جاتا۔ اس لیے تمہیں اپنے طرز عمل میں تبدیلی پیدا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ چناچہ یہ شیطانی لشکر ‘ جب پوری طرح ان کے اعمال کو ان کے سامنے خوبصورت پیرائے میں پیش کر کے ان کو ہر طرح سے مطمئن کردیتا ہے تو یہ وہ موقع ہے جسے کہا جاسکتا ہے کہ ان کے دل سخت ہوگئے۔ اب وہ کسی ہدایت کو سننے کے بھی روادار نہیں ہوتے۔ ان کے اہل ِ علم اپنے علمی پندار کی وجہ سے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہماری علمی دریافتوں اور ہمارے علمی رویے کو کون چیلنج کرسکتا ہے ؟ وہ چونکہ کبھی اپنے علمی رویے پر نظر ثانی کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتے اس لیے یہ ان کا علمی پندار ان کو بالآخر محرومی کی دلدل میں اتار دیتا ہے۔ اقبال مرحوم نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ” بعض لوگوں کو کنج تنہائی میں بیٹھے بیٹھے ہمہ دانی کا دعویٰ ہونے لگتا ہے “ ظاہر ہے کہ یہ ہمہ دانی کا دعویٰ آدمی میں ایک ایسے پندار کو جنم دیتا ہے ‘ جس پر کسی نصیحت کے اثر کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی طرح دولت کانشہ ‘ دولت مندوں کو کسی کی بات سننے پر کبھی آمادہ نہیں ہونے دیتا۔ بیوروکریٹس میں اقتدار کا خمار کسی بات کے سمجھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ حکمرانوں میں حکومت کا طنطنہ ایک ایسا آہنی پردہ ثابت ہوتا ہے ‘ جس میں کسی صحیح بات کا دخل ممکن نہیں ہوتا۔ یہ دل کی وہ سختی ہے جو انسان کو ہدایت سے محروم کردیتی ہے۔ دل عجیب چیز ہے۔ یہ جب تک نرم ہے تو پھول کی پتی سے بھی زیادہ نرم ہے لیکن جب سخت ہوتا ہے تو پتھروں کی سنگینی بھی اس کے سامنے چھوٹ جاتی ہے۔ پتھر باوجود اس کے کہ ہماری نگاہوں میں اس قدر سخت چیز ہے کہ جس میں کسی چیز کی جوت لگنا ممکن نہیں۔ لیکن قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ کا خوف ان میں بھی اثرانداز ہوتا ہے۔ سورة البقرہ میں بتایا گیا ہے کہ ان میں بعض پتھر ایسے ہیں کہ جو اللہ کے خوف سے پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی رواں ہوجاتا ہے اور بعض پتھر پہاڑ کی بلندی سے اللہ کے خوف کے باعث لڑھک جاتے ہیں۔ لیکن انسان کا دل جو گوشت کا لوتھڑا ہے ‘ وہ اس قدر سخت ہوجاتا ہے کہ اس پر نہ اللہ کا کلام اثر کرتا ہے اور نہ اللہ کے رسول کی معجزبیانی۔ دل کی کیفیت کو پوری تفصیلات سے سمجھنا تو انسانی عقل کے بس کی بات نہیں۔ لیکن ہم اپنے معمولات میں بعض لوگوں کے طرز عمل کو دیکھ کر کچھ نہ کچھ ضرور سمجھ سکتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بیمار لوگوں میں بھی دو طرح کا طرز عمل پایا جاتا ہے۔ بعض مریض ایسے ہوتے ہیں کہ اپنے صحیح طرز فکر اور صحیح احساس کے باعث ‘ معمولی سے معمولی بیماری کو بر وقت محسوس کر کے ‘ اسے دور کرنے میں کوشاں رہتے ہیں۔ لیکن بعض بیمار ایسے بھی ہوتے ہیں کہ انھیں بیماری کا احساس دلانا بھی بجائے خود ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔ مولانا الطاف حسین حالی نے مسدس میں لکھا ہے کہ کسی شخص نے بقراط سے پوچھا کہ آپ کے نزدیک مہلک امراض کیا کیا ہیں ؟ اس نے جواب دیا کہ کوئی مرض ایسا نہیں ‘ جس کی دوا اللہ نے پیدا نہ کی ہو۔ لیکن ایک مرض ہے ‘ جو لا علاج ہے اور کوئی بڑے سے بڑا مسیحا بھی اس کا علاج نہیں کرسکتا۔ کہا ؎ مگر وہ مرض جس کو آسان سمجھیں کہے جو طبیب اس کو ہذیان سمجھیں سبب یا علامت گر اس کو سجھائیں تو تشخیص میں سو نکالے خطائیں یہ وہ شخص ہے ‘ جس کا اپنے مرض کی جانب سے دل سخت ہوگیا ہے اور اب اس کی یہ کیفیت باقی نہیں رہی کہ وہ اپنے مرض کا صحیح احساس کرسکے۔ بقراط نے کہا کہ ایسے مریض کا دنیا میں کوئی علاج نہیں۔ روح دل اور اخلاق کی بیماریاں بھی جسمانی بیماریوں کی طرح ہی ہیں ‘ صرف ناموں کا فرق ہے۔ جسمانی بیماریوں کو اگر ہم بخار ‘ نزلہ ‘ کینسر اور یرقان وغیرہ کے ناموں سے یاد کرتے ہیں تو روحانی بیماریاں اعتقادات ‘ اخلاقیات ‘ اعمال ‘ معاملات اور آداب زندگی کا بگاڑ کہلاتی ہیں۔ جس طرح ایک آدمی اپنی جسمانی بیماریوں سے بےحس ہوجاتا ہے ‘ اسی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بعض دفعہ آدمی اپنی روحانی اور اخلاقی بیماریوں کو سمجھنے سے عاری ہوجاتا ہے اور یہی وہ چیز ہے ‘ جس کو یہاں دل کا سخت ہونا کہا گیا ہے اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ جسمانی بےحسی پیدا کرنے کے لیے باقاعدہ کوششیں نہیں کی جاتیں ‘ لیکن روحانی بےحسی پیدا کرنے کے لیے تو پورا ایک ابلیسی لشکر ہے جو مختلف صورتوں میں ہر دور میں موجود رہا ہے۔ یہ مشرکینِ مکہ کے اندر بھی تھا جس کے آثار ہمیں ان کی تاریخ میں ملتے ہیں اور قرآن کریم نے بھی کئی جگہ ان کا ذکر کیا ہے اور آج ہمارے گرد و پیش میں بھی موجود ہے۔ اگر آدمی تھوڑی سی گہری نگاہ سے دیکھے تو اسے ہر اجتماعی ادارے میں اس ابلیسی لشکر کے ارکان کام کرتے دکھائی دیں گے۔ آپ یونیورسٹیوں تک میں دیکھیں گے کہ ایسے اساتذہ کرام موجود ہیں ‘ جو مسلمان کہلانے کے باوجود اسلام کے خلاف ایسی بدگمانیاں نوجوانوں کے دلوں میں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جس کی امید شاید کسی کافر سے بھی نہ کی جاسکے۔ وہ اس طرح اسلوب بدل بدل کر اور مختلف عنوانات کے تحت بچوں کی برین واشنگ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں یہی بچے بڑے ہو کر اخلاقی مفاسد کا بھی شکار ہوتے ہیں اور زندگی میں ذمہ دارانہ عہدوں پر فائز ہو کر قومی زندگی کو مسموم بھی کرتے ہیں۔ ہمارے اخبارات کے دامن ایسے کالموں سے بھرپور ہوتے ہیں ‘ جنھوں نے ہمارے قومی کردار اور افکار پر نہایت خطرناک اثرات ڈالے ہیں اور پھر ہمیں شاید معلوم نہیں کہ تمام لادینی قوتوں اور بیرونی ممالک کی جانب سے یہاں ہمیشہ ایک پانچواں کلام کام کرتا ہے ‘ جو بعض دفعہ غیر محسوس طریقے سے ایسے ایسے خیالات کو دل و دماغ میں راسخ کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے کہ جب تک گہری نظر سے نہ دیکھا جائے ‘ اس کی سُمیّت کا صحیح انداز کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ آج کل ہمارے اخبارات میں ایسی ہی قوتوں کے زیر اثر بعض ایسے ایسے اسلامی کلام لکھوائے جا رہے ہیں جو عام نگاہوں میں ممکن ہے اسلام کی کوئی خدمت دکھائی دیتی ہو ‘ لیکن حقیقت میں وہ ایسا مخفی زہر ہے جس سے ہماری پوری قومی زندگی متأثر ہو رہی ہے۔ اس طرح کے تمام کالموں میں اسلام کے مبلغ بن کر اور اسلامی قوتوں کے ساتھ قریبی تعلق کا اظہار کرنے کے بعد دینی سیاسی جماعتوں کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ اگر یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان آپ کو قبول کر کے آپ کو اسمبلی میں پہنچائیں اور وہاں پہنچ کر آپ اسلامی نظام لانے میں کامیاب ہوں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ جو چیزیں مسلمان قوم قبول کرچکی ہے ‘ آپ ان کی مخالفت نہ کریں۔ یہ صحیح ہے کہ وہ چیزیں غلط ہیں اور اسلام انھیں قبول نہیں کرتا ‘ لیکن سوال یہ ہے کہ ایک تو یہ بات کہ صحیح اور جائز کیا ہے اور ایک یہ کہ آج کے دور میں کیا چل سکتا ہے ؟ اس سلسلے میں ہمیں زیادہ آئیڈیلسٹ نہیں ہونا چاہیے ‘ بلکہ حقیقت پسند بن کر زمینی حقیقتوں کو سمجھ کر معروضی حقائق کو ذہن میں رکھتے ہوئے اسلام کی وہ تاویل لوگوں کے سامنے رکھنی چاہیے ‘ جو ان کے لیے قابل قبول ہوسکتی ہو۔ مثلاً آپ ان کے سامنے فنون لطیفہ کے بارے میں کچھ نہ کہیں ‘ اس لیے کہ یہ فنون ہماری ثقافتی بلکہ تہذیبی زندگی میں رچ بس گئے ہیں اور ہمارے مزاج کا اس طرح حصہ بن گئے ہیں کہ اب ان کی مخالفت کرنا گویا اپنی مخالفت کو دعوت دینا ہے۔ اسی طرح اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ خواتین کی رائے اپنے حق میں کرسکیں تو پھر ضروری ہے کہ آپ حجاب اور نقاب کے مسئلے کو نہ چھیڑیں۔ کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت اب نقاب پہننا اور حجاب میں رہنا پسند نہیں کرتی۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ملک کا کاروباری طبقہ آپ کے بارے میں بدگمان نہ ہو تو پھر سود کے بارے میں آپ کو کچھ نہیں کہنا چاہیے ‘ کیونکہ اس سے یہ غلط فہمی ہونے لگتی ہے کہ آپ ملک کی اقتصادیات کو تلپٹ کر کے رکھ دیں گے اور ظاہر ہے کاروباری طبقہ اس کو ایک لمحے کے لیے بھی گوارا نہیں کرسکتا۔ اسلام میں جہاد کی اہمیت کچھ بھی ہو ‘ آپ کبھی بھول کر بھی اسے زبان پر نہ لایئے۔ ورنہ دہشت گردی کا الزام آپ پر چسپاں ہوجائے گا اور آپ قابل قبول تو کیا ہوں گے ‘ لوگ آپ سے خوف کھانے لگیں گے۔ اندازہ کریں ! بظاہر یہ مشورے کس قدر پسندیدہ ہیں اور کس قدر مصلحت پر مبنی اور حکمت کے آئینہ دار ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آپ یہ اصول تسلیم کرلیں کہ آپ ہر وہ بات کہیں گے جو سننے والے کے لیے قابل قبول ہو تو پھر آپ بتایئے ! آپ کون سی بات کہیں گے ؟ ایک بےنماز کے لیے نماز قابل قبول نہیں ‘ رشوت لینے والے کے لیے حلال کمائی کا تصور وہشت ناک تصو رہے ‘ سیاست دانوں کو آداب سیاست کا وعظ کہنا بھینس کے آگے بین بجانے والی بات ہے ‘ حکمرانوں کو آداب حکومت سمجھانا دشمنی مول لینے والی بات ہے۔ اس کا تو مطلب یہ ہے کہ ہم شاید وہاں پہنچ گئے ہیں ‘ جس کے بارے میں مولانا روم نے ایک مثال دی تھی کہ کوئی آدمی کسی مصور کے پاس گیا اور اس سے کہنے لگا کہ صاحب میرے بازو پر شیر کی تصویر بنادیں۔ اس نے جب تصویر بنانے کے لیے پرکار کی سوئی چبھوئی تو اس نے تکلیف محسوس کر کے پوچھا کہ یہ آپ کیا بنانے لگے ہیں ؟ مصور نے کہا : شیر کی دم بنانے لگا ہوں۔ اس شخص نے کہا : چھوڑیئے ! کیا دم کٹے شیر نہیں ہوتے ؟ کچھ اور بنایئے۔ اس نے پھر سوئی چبھوئی ‘ تکلیف ہوئی تو اس نے پھر پوچھا کہ اب آپ کیا بنانے لگے ہیں ؟ مصور نے کہا : ٹانگیں بنانے لگا ہوں۔ اس نے کہا : یہ رہنے دیجئے ‘ اس شیر نے کہاں چل کر جانا ہے۔ اس نے پھر سوئی چبھوئی تو اس شخص نے پوچھا کہ اب آپ کیا بنا رہے ہیں ؟ انھوں نے کہا کہ اس کا پیٹ بنانے لگا ہوں۔ اس شخص نے کہا کہ یہ کوئی سچ مچ کا شیر تھوڑا ہے ‘ جس نے کچھ کھانا پینا بھی ہے۔ آپ اسے رہنے دیجئے کچھ اور بنایئے۔ مصور نے پرکار زمین پر رکھ دی اور کہا کہ اللہ نے ایسا شیر پیدا نہیں کیا ‘ جس کی نہ ٹانگیں ہوں ‘ نہ پیٹ ہو ‘ نہ دم ہو اور وہ پھر بھی شیر ہو۔ شیطانی قوتوں نے انسانوں کو ایمانی ہدایت سے دور رکھنے اور دل و دماغ کو مسموم کرنے کے لیے جو طریقے اختیار کیے ہیں اور جس طرح لوگوں کے افکار اور اعمال کو آراستہ کر کے انھیں دکھایا ہے اس کی یہ چند مثالیں ہیں جن کا میں نے آپ کے سامنے ذکر کیا ہے۔ شیطانی قوتوں کا یہ حربہ ہر دور میں کامیاب رہا ہے اور مشرکین مکہ اسی کی گرفت میں تھے۔ چناچہ قرآن کریم میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ شیطان کی اسی گرفت سے نکالنے کے لیے پروردگار لوگوں کو ان مصائب سے دوچار کرتا ہے کہ شاید وہ اللہ کی طرف رجوع کریں۔ لیکن جب وہ اللہ کے سامنے جھکنے سے انکار کردیتے ہیں اور ان مصائب کی بھی کوئی نہ کوئی تاویل کر کے ‘ اپنے آپ کو مطمئن کرلیتے ہیں تو پھر اللہ کی سنت کا دوسرا مرحلہ سامنے آتا ہے ‘ جس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں کیا گیا ہے :
Ayah 6:44

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

تو جب انہوں نے فراموش کردیا اس چیز کو ‘ جس سے ان کو یاد دہانی کی گئی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس چیز پر اترانے لگے ‘ جو انہیں دی گئی تو ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا۔ وہ بالکل ہک دک رہ گئے

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖ فَتَحْنَا عَلَیْہِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْئٍ ط حَتّٰٓی اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰھُمْ بَغْتَۃً فَاِذَاھُمْ مُّبْلِسُوْنَ ۔ (الانعام : 44) (تو جب انھوں نے فراموش کردیا اس چیز کو ‘ جس سے ان کو یاد دہانی کی گئی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس چیز پر اترانے لگے ‘ جو انھیں دی گئی تو ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا۔ وہ بالکل ہک دک رہ گئے ) مَا ذُکِّرُوْا بِہٖ سے مراد اس آیت کریمہ میں مَا ذُکِّرُوْا بِہٖ کے دو مطلب علماء نے مراد لیے ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے مراد وہ مصائب ہیں ‘ جن سے انھیں دوچار کیا گیا تھا کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ جب انھوں نے ان مصائب کی پرواہ نہ کی اور جس مقصد کے لیے ان مصائب میں انھیں مبتلا کیا گیا تھا اسے قبول نہ کیا تو پھر اگلا مرحلہ شروع ہوا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ انھیں جس بات سے نصیحت کی گئی تھی یعنی اللہ کے رسول کی دعوت اور اللہ کی کتاب کے واسطے سے ‘ جب انھوں نے اس پر کان نہ دھرے تو تب اس سنت کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔ دوسرامرحلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مصائب کو ختم کردیتا ہے اور لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ مصائب کا ایک وقتی دور آیا تھا ‘ جیسے ہر قوم پر آیا کرتا ہے ‘ وہ گزر گیا۔ اس لیے اس کا کوئی تعلق پیغمبر کی دعوت سے ہرگز نہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم پھر انھیں ڈھیل دے دیتے ہیں اور اس ڈھیل کو مزید موثر بنانے کے لیے ہر چیز کے دروازے ان پر کھول دیتے ہیں۔ یعنی وقت پر بارشیں ہونے لگتی ہیں ‘ کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں ‘ پیداوار میں اضافہ ہوجاتا ہے ‘ پھل دار درخت پھلوں سے گراں بار ہوجاتے ہیں ‘ زمین سبزے کا مخملی لباس پہن لیتی ہے ‘ جانوروں میں دودھ کی فراوانی ہوجاتی ہے ‘ صنعتوں کا پہیہ تیزی سے چلنے لگتا ہے ‘ کاروبار میں تیزی آجاتی ہے دولت کی ریل پیل ہوجاتی ہے اور ہن برسنے لگتا ہے ‘ جس چیز میں یہ قوم ہاتھ ڈالتی ہے وہ سونا بن جاتی ہے نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ اللہ سے اور دور ہوجاتے ہیں اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر شکر کرنے کی بجائے اترانے لگتے ہیں۔ دولت کے نشے میں تمام انسانی اقدار اور شرم و حیا کی تمام حدود کو پامال کردیتے ہیں۔ اخلاقیات کا ایک ایک بندھن ٹوٹ جاتا ہے۔ اللہ کے رسولوں کی دعوت ‘ ان کے لیے ایک اجنبی بلکہ مکروہ آوازبن جاتی ہے۔ پھر اللہ کا عذاب حرکت میں آتا ہے اور اچانک ان کو پکڑ لیا جاتا ہے۔ اب وہ ایسے ہوجاتے ہیں جیسے بارش والی رات میں باڑے کے ایک کونے میں سمٹی ہوئی بکریاں اور یا اس آدمی کی طرح جو اپنے جھونپڑے میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ پناہ لیے ہوئے ہو اور سر پر گھٹا تلی کھڑی ہو بادل کڑکتے ہوں اور بجلی کوند رہی ہو کہ اچانک اس کے سر سے چھت اڑ جائے اب وہ جس طرح بےبسی کی تصویر بن کر اور حواس باختہ ہو کر رہ جاتا ہے اسے کچھ نہیں سوجھتا کہ اب وہ کیا کرے یہ لوگ اس سے زیادہ بےبس ہوتے ہیں۔ ان کا سارا کروفر ‘ ان کا سارا ٹھاٹھ باٹھ ان کی ساری سطوتیں ان کی اس بےبسی میں کچھ کام نہیں آتیں ‘ اب موت ان کے شکار میں ہوتی ہے اور یہ موت کے انتظار میں ہوتے ہیں۔ اس کے بعد جو کچھ ان پر گزرتی ہے ‘ اس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں کیا جا رہا ہے۔
Ayah 6:45

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

بس ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی ‘ جنہوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور شکر کا سزاوار حقیقی ‘ اللہ ہے۔ تمام عالم کا رب

ارشاد فرمایا : فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ط وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الانعام : 45) ” بس ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی ‘ جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا تھا اور شکر کا سزاوار حقیقی اللہ ہے۔ تمام عالم کا رب “۔ پھر ان کی جڑ کاٹ کے رکھ دی جاتی ہے۔ یعنی ان کو دنیا سے مٹا دیا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنی بداطواریوں کے باعث شجرِ انسانیت کے برگ و بار تو پہلے ہی ضائع کر ڈالے تھے ‘ وہ زمین پر انسانوں کی طرح نہیں بلکہ حیوانوں یا درندوں کی طرح زندگی گزار رہے تھے۔ انھوں نے ایک ایک کر کے اقدار انسانیت کا جنازہ نکال دیا تھا۔ اب لے دے کے ان کی جڑ باقی تھی کیونکہ پہلے مصائب نے ان کو جڑ سے نہیں اکھاڑا تھا اس عذاب نے آکر انھیں جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور اس کی تاریخی شہادت دیکھنی ہو کہ کس طرح ایسی قومیں اللہ کے عذاب کا شکار ہو کر دنیا سے مٹائی جاتی رہی ہیں تو اس کے لیے قوم عاد ‘ قوم ثمود ‘ قوم صالح اور قوم لوط کے کھنڈرات کو دیکھ لینا کافی ہے۔ آغاز کلام میں اسی کا حوالہ دیا گیا تھا کہ اس تاریخی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے اچھی طرح سمجھ لو کہ تم بھی انہی راہوں پر چل رہے ہو ‘ جن راہوں پر وہ قومیں چلتی ہوئی تباہی کے انجام سے دوچار ہوئیں۔ اگر تم نے راہ ہدایت اختیار نہ کی تو تم بھی اس انجام سے بچ نہ سکو گے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا اللہ کا بسایا ہوا ایک چمن ہے ‘ جس میں قومیں رنگا رنگ پھولوں کی طرح بہار دے رہی ہیں۔ جب ان میں کوئی زہریلا درخت پیدا ہوجاتا ہے اور پھر اس کی ایک ایک چیز بدبو دینے لگتی ہے اس سے نکلنے والی گیس اس سے نکلنے والی شاخیں ‘ اس سے نکلنے والی بو ‘ جب سمیت پھیلانے لگتی ہے تو اللہ جو اس چمن کا نگران ہے وہ شروع شروع میں اسے پھیلنے سے روکتا ہے اور اس کے علاج کی فکر کرتا ہے۔ لیکن جب اس کا پھیلائو بڑھنے لگتا ہے تو پھر وہ اس کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے۔ قوموں کے ساتھ بھی ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں ایسی قوموں کو ظالم کہا گیا ہے۔ یعنی وہ ظلم کی وجہ سے اپنے برے انجام سے دوچار ہوئیں۔ ظلم کا معنی ہے کسی چیز کو ایسی جگہ رکھنا جو اس کے رکھنے کی جگہ نہیں ہے۔ اسے اس طرح استعمال کرنا جو اس کے استعمال کا طریقہ نہیں۔ یہ لوگ ان معنوں میں ظالم تھے کہ انھوں نے ایک ایک نعمت اور ایک ایک صلاحیت کا غلط استعمال کیا۔ اللہ نے ان کو سر دیا تھا اللہ کے سامنے جھکانے کے لیے انھوں نے غیر اللہ کے سامنے جھکا کر ظلم کیا۔ انھیں دل بخشا گیا تھا اللہ کے تصور اور اس کی محبت سے آباد رکھنے کے لیے۔ انھوں نے تمام طاغوتی قوتوں کو اپنے دل میں بسا کر اس دل سے ظلم کیا۔ اللہ نے ان کو ایک ایک نعمت عطا فرمائی تھی ‘ تاکہ یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کریں۔ انھوں نے کفران نعمت کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اس کے نتیجے میں یہ لوگ اپنے انجام کو پہنچے۔ آج اللہ ظالم قوتوں کی جڑ کیوں نہیں کاٹ رہا ؟ یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے۔ ممکن ہے آپ کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ آج دنیا میں کیسی کیسی ظالم قوتیں ہیں ‘ جنھوں نے انسانیت کا مستقبل ہولناک بنادیا ہے۔ انسانوں پر وہ وہ ظلم ڈھائے جا رہے ہیں کہ گزشتہ ادوار میں جنھیں ہم قرون مظلمہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ایسے ظلم کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا اور جب سے دنیا کی تاریخ معلوم ہے انسان دشمنی کی کوئی ایسی مثال ہمیں ڈھونڈے سے نہیں ملتی ‘ فلسطینیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے جو کچھ اس سے پہلے بوسینیا میں ہوچکا ہے ‘ چیچنیا میں جو قیامت گزر گئی ‘ افغانستان میں انسان دشمنی اور درندگی کے جو ریکارڈ قائم کیے گئے اور آج تک ان کا سلسلہ جاری ہے اور کرنے والے ہاتھ وہ ہیں جنھیں اپنی تہذیب و تمدن اور انسان دوستی کے بڑے دعوے ہیں۔ آخر ان ظالموں کی جڑ کیوں نہیں کاٹی جاتی۔ یہ ظالم قوتیں روز افزوں سرفراز کیوں ہیں دنیا ان کے سامنے کیوں بےبس ہوتی جا رہی ہے ؟ اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ اللہ کا ایک قانون ہے کہ جب وہ قومیں جو اللہ کے دین کی علمبردار ہیں اور جنھیں دنیا میں عدل و احسان قائم کرنا ہے۔ اپنے مقصد زندگی کو بھول جائیں اور خود اپنے اپنے ممالک میں اللہ کی نافرمانی اور انسانی ظلم کی داستانیں دھراتے ہوئے کبھی اللہ کا خوف محسوس نہ کریں ‘ اللہ اگر انھیں دنیوی جاہ و منزلت اور دولت دنیا کے خزانے حوالے کر دے تو انھیں کفر کی خدمت یا اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے استعمال کریں اور خود دینی قوتوں پر ایسے ایسے مظالم ڈھائیں کہ انھیں دیکھ کر کفر بھی شرمانے لگے تو پھر اللہ تعالیٰ ان ظالم قوتوں سے وہ کام لیتا ہے ‘ جو ایک ڈاکٹر ایک سڑ جانے والے عضو کو کاٹنے اور اسے انسانی جسم سے الگ کرنے کے لیے خنجر اور نشتر سے لیتا ہے۔ پھر دنیا میں بظاہر اسلامی خلافت بھی موجود ہو تو تقدیر چنگیز خان کے نشتر سے مسلمان امت کا آپریشن کرتی ہے ‘ تاکہ اس سے فاسد مادہ نکلے اور اس میں نشاۃ ثانیہ کے امکانات پیدا ہوں اور اگر مسلمان اپنی اصل حیثیت کو برصغیر میں گم کر دے تو تیمور جیسے لوگوں سے تقدیر آپریشن کے نشتر کا کام لیتی ہے۔ اسی کو اقبال مرحوم نے کہا تھا کہ ع تقدیر کے نشتر ہیں تیمور ہوں یا چنگیز قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے : وَ کَذَالِکَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظَّالِمِیْنَ بَعْضًا م بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ (الانعام : 129) (اسی طرح ہم ظالموں کو ظالموں پر مسلط کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے انھیں سزا دلواتے ہیں ) یہ آج جو کچھ ہو رہا ہے ‘ یہ امت مسلمہ کو ان کے اعمال کی سزا مل رہی ہے۔ عوام نے جس طرح ظالموں کو برداشت کیا یا ظالموں کی خوشامد کرتے ہوئے ہمیشہ ان کے ظلم کی تائید کی اور دونوں نے مل کر اللہ کے دین کا راستہ روکا اور بعض علاقوں میں دین کے حوالے سے بےحسی اور بےاعتنائی کا ثبوت دیا گیا اور مجموعی طور پر دنیا کو اپنا مقصد زندگی بنا کر دین کو اجتماعی زندگی سے خارج کردیا اور غضب خدا کا پورے عالم اسلام میں کہیں بھی اللہ کی حاکمیت کو نافذ کرنا تو دور کی بات ہے ‘ برداشت بھی نہیں کیا گیا اور جو قوتیں اس کے لیے کوشاں ہیں انھیں اپنے اپنے ملکوں میں نہ صرف اجنبی بنادیا گیا بلکہ انھیں اذیتوں کا نشانہ بنایا گیا اور اب رفتہ رفتہ انھیں ایک گالی بنادیا گیا ہے۔ یہ وہ اعمال ہیں ‘ جس کی پاداش میں امت مسلمہ آج عذاب کی گرفت میں ہے اور مغربی قوتوں سے ان کے اعمال کی سزا دلوائی جا رہی ہے۔ آج اس عذاب سے بچنے کی صرف ایک صورت ہے کہ امت مسلمہ مجموعی طور پر یا اس کا کوئی ایک ملک اسلام کا نمائندہ بن جائے۔ اسلام کو اپنا آئین بنا کر زندگی کے ہر شعبے کو اسلام کی تحویل میں دے دے اور پھر اول و آخر اسلام کا نمائندہ بن کر اپنے ملک کی ترقی کے اسباب پیدا کرے اور حکمت و بصیرت سے کام لیتے ہوئے مشکلات میں اپنے لیے راستہ نکالے۔ شروع میں قدرت کی طرف سے ان کے اخلاص کی آزمائش ہوگی ‘ لیکن بالآخر یہ ملک ایک عظیم قوت بن کر اٹھے گا اور قدرت ان کو اسی طرح نوازے گی جیسے قرون اولیٰ میں مسلمانوں کو نوازا گیا۔ پھر آج کی ظالم قوتیں یا اس کے سامنے جھک جائیں گی یا مٹ جائیں گی۔ تاریخ کے ہر دور میں قدرت کا یہی قانون کارفرما رہا ہے اور آج بھی اللہ کی اس سنت کے بدل جانے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ” وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ العَالَمِیْن “ یعنی ہر طرح کا شکر اور ہر طرح کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے ‘ جو جہانوں کا رب ہے۔ یعنی جس کی صفت ربوبیت نے تمام انسانوں کو زندگی کے امکانات عطا فرمائے ہیں۔ وہ ایک بچے سے لے کر بوڑھے تک اور ایک عام فرد سے لے کر ایک قوم تک اور قوم سے لے کر تمام اقوام دنیا تک صرف زندگی ہی نہیں دیتا بلکہ زندگی کے امکانات زندگی کے اسباب زندگی کے وسائل ظاہری اور معنوی ‘ ہر حیثیت سے عطا کرتا ہے کیونکہ وہ سب کا رب ہے ‘ سب کا پالنہار ہے۔ ظاہر ہے کہ جس نے اس طرح زندگی کے اسباب فراہم کر کے زندگی کو عام کیا ہے ‘ وہ کبھی یہ برداشت نہیں کرتا کہ دنیا میں زندگی دشوار بنادی جائے۔ چناچہ جب ایسی قومیں سر اٹھاتی ہیں ‘ جو دنیا میں زندگی کو دشوار کردیتی ہیں تو پھر ان کو مٹا دینے اور ان کی جڑ کاٹ دینے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ایک ایسی قوت کو ختم کردیا ہے جو انسانی زندگی کے لیے تباہ کن اور مہلک تھی اور جس کی موجودگی میں باقی انسانیت کے پھلنے پھولنے کے امکانات روز بروز کم ہوتے جا رہے تھے۔ ایسی قوت کی موت گویا دوسروں کے لیے زندگی کا پیغام ہے۔ اس لیے جب ایسا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو جس طرح ایک بدمعاش اور ڈاکو کے مرجانے سے پوری بستی سکھ کا سانس لیتی ہے اور اس پر اللہ کا شکربجا لاتی ہے ‘ اسی طرح ایسی قوم کے تباہ کردینے سے پوری نوع انسانی ‘ بلکہ کائنات کی دوسری مخلوقات بھی اللہ کی تعریف میں رطب اللساں ہوتی ہیں اور اس کا شکر ادا کرتی ہیں۔ سورة البقرہ اور دوسرے پارے کے آخر میں اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اگر ہم اس طرح بعض قوموں کو تباہ نہ کرتے تو زمین فساد سے بھر جاتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ اہل دنیا پر بہت فضل و کرم کی نگاہ رکھتا ہے۔ اس لیے وہ ظالم قوتوں کو ایک حد سے آگے نہیں بڑھنے دیتا۔ اس لحاظ سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مغربی قوموں کا ظلم جس حد تک پہنچ چکا ہے ‘ شاید وہ تاریخ میں زیادہ عرصہ تک اپنا رویہ باقی نہ رکھ سکیں۔ امت مسلمہ کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنے فرض کو پہچانے اور اللہ کے دین کی علمبردار بن کر شہادتِ حق کا فرض انجام دینے کے لیے اٹھ کھڑی ہو۔ اس کے نتیجے میں اللہ کا یہ قانون ضرور حرکت میں آئے گا کہ وہ کمزوروں کو طاقت عطا فرماتا ہے اور ظالم قوتوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ یہاں ایک اور بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ان آیات میں جو کچھ فرمایا جا رہا ہے اس کے مخاطب وہ لوگ ہیں ‘ جو بار بار اللہ کے عذاب کا مطالبہ کرتے تھے۔ ان کے سامنے اللہ نے اپنی سنت کو پوری تفصیل سے بیان فرما کر یہ واضح کردیا ہے کہ ہم کسی بھی قوم پر عذاب لانے سے پہلے پوری طرح اس پر اسس کو بروئے کار لاتے ہیں جو اس کے لیے ضروری ہے اور اس قوم پر پوری طرح اتمام حجت کرتے ہیں تاکہ کل کو وہ کوئی عذر پیش نہ کرسکیں۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ تاریخی طور پر پہلی معذب قوموں کا حوالہ دے کر مشرکین مکہ اور ان عذاب کا مطالبہ کرنے والوں پر یہ بات کھول دی گئی ہے کہ جو لوگ اس طرح عذاب کا مطالبہ جاری رکھتے ہیں انھیں کبھی ہدایت سے نو ازا نہیں جاتا۔ وہ بالآخر اس عذاب کی گرفت میں آ کر رہتے ہیں۔ اس لیے اے مشرکین مکہ ! اگر تم نے یہ سلسلہ جاری رکھا اور اپنی روش سے باز نہ آئے تو بالآخر تم بھی اسی انجام کو پہنچو گے ‘ جس انجام سے پہلی امتیں دوچار ہوچکی ہیں۔ مشرکین مکہ کے مطالبہ عذاب پر بہت کچھ کہا جا چکا ‘ لیکن اگلی آیت کریمہ میں ایک دوسرے پہلو سے اسی مطالبہ کا جواب دیا جا رہا ہے : ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 6:46

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

کہو ! بتائو اگر اللہ تمہارے سمع و بصر کو سلب کرلے اور تمہارے دلوں پر مہر کر دے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے ‘ جو اس کو واپس لا دے ؟ دیکھو ! کس طرح ہم اپنی آیتیں مختلف پہلوئوں سے پیش کرتے ہیں ‘ پھر بھی وہ اعراض کر رہے ہیں

قُلْ اَرَئَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللہ ُ سَمْعَکُمْ وَ اَبْصَارَکُمْ وَ خَتَمَ عَلٰی قُلُوْبِکُمْ مَّنْ اِلٰہٌغَیْرُ اللہِ یَاْتِیْکُمْ بِہٖ ط اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ ھُمْ یَصْدِفُوْنَ ۔ (الانعام : 46) (کہو ! بتائو اگر اللہ تمہارے سمع و بصر کو سلب کرلے اور تمہارے دلوں پر مہر کر دے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے ‘ جو اس کو واپس لا دے ؟ دیکھو ! کس طرح ہم اپنی آیتیں مختلف پہلوئوں سے پیش کرتے ہیں ‘ پھر بھی وہ اعراض کر رہے ہیں) رسول اللہ ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ آپ ان مشرکین مکہ سے کہئے کہ تم جو بار بار اللہ کے عذاب کا مطالبہ کر کے اپنی تباہی اور ہلاکت کو دعوت دے رہے ہو ‘ تمہیں شاید یہ گمان ہے کہ ایسے عذاب کا لانا شاید اللہ کی قدرت سے بہت مستبعد بات ہے حالانکہ اگر تم اپنی قوتوں اور صلاحیتوں پر غور کرو جن کی وجہ سے تم زندگی اور دنیا کے مزے لوٹ رہے ہو اور اس میں ایسے اندھے ہوئے ہو کہ نہ تمہیں اللہ کی نشانیاں نظر آتی ہیں اور نہ تمہیں اپنا انجام دکھائی دیتا ہے۔ ذرا ان قوتوں ہی پر تھوڑا سا غور کرلو کہ تمہاری تمام معلومات کا درومدار بنیادی طور پر تمہارے سمع و بصر پر ہے۔ تمہارے مشاہدات کی دنیا تمہاری قوت بصر کے نتیجے میں ہے اور تمہارے منقولات اور محسوسات کی تمام کائنات تمہاری قوت سمع سے وابستہ ہے۔ اگر یہ دو قوتیں تم سے چھین لی جائیں تو بتائو ! یہ اس دنیا میں تم کیسے زندگی گزارو گے ؟ تمہارے زندگی سے مزہ اٹھانے اور زندگی گزارنے کے یہی دو ذریعے ہیں۔ اگر تمہیں ان دونوں سے محروم کردیا جائے تو یہ زندگی تمہارے لیے عذاب بن جائے۔ تم ہر قدم اٹھانے اور ہر کام کرنے سے پہلے ‘ سو دفعہ اللہ سے پناہ مانگو گے کہ میں کس عذاب میں مبتلا کردیا گیا ہوں۔ پھر جہاں تک تمہاری معنوی رعنائیوں کا تعلق ہے اور تمہارے باطنی احساسات کی دنیا جس سے قائم ہے وہ تمہارا دل ہے۔ اگر اس پر مہر کردی جائے اور اس کو مائوف اور معطل کردیا جائے تو تمہارے اندر کی دنیا اندھیر ہو کر رہ جائے۔ آدمی بعض دفعہ کوئی بات نہ دیکھ سکتا ہے ‘ نہ سن سکتا ہے۔ لیکن اپنے باطنی احساسات میں مگن رہ کر تنہائی اور بےبسی میں بھی وقت گزار لیتا ہے۔ لیکن اگر یہ دولت اس سے چھین لی جائے تو اب اس میں اور جمادات میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ کیا ایسی زندگی کا تصور بھی ایک انسان کے لیے عذاب سے کم ہے۔ تم اللہ سے عذاب مانگتے ہو ‘ ذرا اندازہ تو کرو۔ اس بڑے عذاب کو تو چھوڑو ‘ خود تمہاری زندگی کس قدر عذاب کے قریب ہے اور تم کس قدر اپنے انجام کی گرفت میں ہو۔ لیکن تمہیں بجائے اس کے کہ اس کا ہوش پیدا ہو ‘ تم بار بار اللہ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہو۔ اس بات کی طرف بھی اشارہ محسوس ہوتا ہے کہ تم جو بار بار رسول اللہ ﷺ سے کوئی نہ کوئی نشانی مانگتے ہو ‘ حالانکہ تمہارے پاس یہ قوتیں ‘ جن کے ذریعے سے تم زندگی کی خوشیوں سے متمتع ہو رہے ہو ‘ بجائے خود اللہ کی کتنی بڑی نشانیاں ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک نشانی بھی تم سے چھن جائے ‘ تب تمہیں اندازہ ہو کہ اس کی قدر و قیمت کیا ہے۔ آنکھ ہی کو دیکھ لو۔ یہ اس کی رحمتوں کا خزانہ ہے ‘ جس کے نتیجے میں انسان پر لطف و لذت کی ایک ایسی بےکراں دنیا وجود میں آتی ہے کہ جس کی حقیقی قدر و قیمت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے ‘ جب آدمی اس نعمت سے محروم ہوجاتا ہے۔ کسی اندھے سے پوچھ کر دیکھیے کہ طلوع صبح کا حسن کیا ہوتا ہے۔ شام جب پردہ شب میں محجوب ہوتی ہے تو وہ کیسے کیسے تسکین و اطمینان کے خزانے لٹا کے جاتی ہے۔ رات کا آرام و راحت اپنے اندر قدرت کی کتنی بڑی دولت کا حامل ہے۔ زمین پر پھیلے ہوئے بےکراں مناظرِ حسن اور آسمان پر سورج چاند اور ستاروں کی پھیلی ہوئی خوبصورت کائنات اللہ کی کتنی بڑی عنایت ہے۔ آدمی ان میں سے کسی ایک بات پر بھی غور کرے تو وہ کبھی اس کی گرفت سے نکل نہ سکے۔ اسی طرح یہ کان کا ایک چھوٹا سا پرزہ ‘ جس کے نتیجے میں ہم چڑیوں کے چہچ ہوں سے لے کر آواز اور سُر کے بےکراں سمندر سے جس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں اور جس طرح کانوں کے ذریعے سرود و غنا کی آبشار آدمی کے اندر گرتی ہے کبھی آدمی اس نعمت کی وسعتوں پر غور کرے تو شاید اسے اس نعمت کی کسی حد تک قدر و قیمت کا احساس ہو سکے۔ اللہ نہ کرے کوئی آدمی خطرے میں گھر جائے اور قوت سماعت جواب دے جائے تو مدد دینے والے اس کو مدد دینے کے لیے چیختے رہیں وہ محض اس نعمت سے محرومی کے باعث کسی کو مدد کے لیے پکار بھی نہیں سکے گا۔ یہ بظاہر ایک مختصر سا آلہ سماعت ہے اور آنکھ بظاہر دو سوراخوں کا نام ہے ‘ لیکن اگر اللہ نہ کرے کوئی آدمی اس سے محروم ہوجائے تو دنیا بھر کے سائنسدان اس نعمت سے آدمی کو بہرہ ور نہیں کرسکتے۔ کسی سائنسدان کی پوتی کھیلتی ہوئی اس کی لیبارٹری میں چلی گئی۔ اس نے اس کی طرف دیکھا تو نجانے کیسے کان پر نظر آکر رک گئی۔ سائنسدان اٹھ کر اپنی اس بچی کے پاس آیا اور اس کے کان کو پکڑ کر کہنے لگا : بظاہر یہ ایک چھوٹا سا آلہ ہے ‘ لیکن یہ اتنی بڑی چیز ہے کہ اگر یہ ضائع ہوجائے تو ہم سارے سائنسدان مل کر اسے نہیں بنا سکتے اور پھر رک کر کہنے لگا کہ جس ذات نے یہ آلہ سماعت پیدا کیا ہے ‘ کیا وہ ذات خود نہیں سنتی ہوگی اور دل تو ایک ایسی عظیم نعمت ہے کہ نہ صرف کہ زندگی کا سررشتہ اس سے وابستہ ہے بلکہ انسانی احساسات ‘ تخیلات ‘ تصورات ‘ خوشی اور غم کی لہریں ‘ وہ سب اسی مرکز سے اٹھتی ہیں۔ نیکی اور بدی کے تصورات ‘ یہیں جنم لیتے اور یہیں جڑ پکڑتے ہیں۔ اگر یہ گھروندا مسمار ہوجائے تو انسانیت کا گھر اجڑ جاتا ہے۔ اندازہ فرمایئے ! یہ اللہ کی کتنی بڑی نشانیاں ہیں۔ کیا ان نشانیوں کے بعد بھی یہ لوگ اور نشانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں ؟ اگر نشانی کا مطالبہ کسی بات کو سمجھنے کے لیے ہے تو اس کے لیے تو یہی نشانیاں کافی ہیں اور اگر محض بات کو الجھانے کا ارادہ ہو تو پھر اس بکھیڑے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کے لیے آدمی کی فاسد نیت ہی کافی ہے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ دیکھو ! ہم کیسے مختلف پہلوئوں سے اپنی آیتیں پیش کرتے ہیں۔ کس طرح ہم بات کو سمجھاتے ہیں ‘ کس طرح ہر بات کو پانی کیے دیتے ہیں تاکہ سمجھنے میں دشواری نہ ہو۔ لیکن انکار کرنے والوں کو دیکھو کہ وہ پھر بھی اس سے اعراض کرتے ہیں۔ یعنی اللہ کی طرف سے تو ان کے سارے انکار کے باوجود افہام و تفہیم اور تبشیر و انذار کی صورت میں رحمت کی برکھا برس رہی ہے اور ادھر یہ پتھر بنے سنگدلی کا ثبوت دیتے ہوئے ہر بات کے انکار پر تلے ہوئے ہیں۔ بس ان کا حال ایسا ہی ہے ‘ جیسے کسی شاعر نے کہا کہ ؎ اِدھر لاکھ لاکھ سخن یوں اضطراب میں اُدھر ایک خاموشی میرے سب کے جواب میں انسانوں کا باہم یہ معاملہ تو سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ لیکن اللہ کی نظر التفات جس کو کائنات ترستی ہے اور جس کے نتیجے میں زندگی عطا ہوتی ہے ‘ اس کے ساتھ یہ معاملہ صرف بدنصیب ہی کرسکتے ہیں اور مشرکین مکہ ایسے ہی بدنصیب لوگ تھے۔ اسی مطالبہ عذاب کے حوالے سے اگلی آیت کریمہ میں ایک اور پہلو دار بات فرمائی جا رہی ہے۔
Ayah 6:47

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

پوچھو ! بتائو کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر بیخبر ی میں اچانک آدھمکے یا ڈنکے کی چوٹ آئے تو ظالموں کے سوا اور کون ہلاک ہوگا ؟

ارشاد ہوتا ہے : قُلْ اَرَئَیْتَکُمْ اِنْ اَتٰکُمْ عَذَابُ اللہِ بَغْتَۃً اَوْ جَھْرَۃً ھَلْ یُھْلَکُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (الانعام : 47) (پوچھو ! بتائو کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر بیخبر ی میں اچانک آدھمکے یا ڈنکے کی چوٹ آئے تو ظالموں کے سوا اور کون ہلاک ہوگا ؟ ) اس آیت کریمہ میں دو لفظ استعمال ہوئے ہیں بَغْتَۃً اَوْ جَھْرَۃً ۔ ” بَغْتَۃً “ کے معنی کسی چیز کے اچانک دفعتاً بغیر کسی نوٹس کے بالکل بیخبر ی میں آجانے کے ہیں ” جَھْرَۃً “ کے معنی ہیں ‘ کھلم کھلا ‘ ڈنکے کی چوٹ ‘ دن دھاڑے۔ یعنی اے پیغمبر ! ان سے پوچھئے کہ جس عذاب کا یہ مطالبہ کر رہے ہیں ‘ اگر وہ چپکے سے یا کھلم کھلا دن دھاڑے آجائے تو کیا انھوں نے اس کو روکنے کا کوئی انتظام کر رکھا ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اس سے بچنے کے لیے ایسے انتظامات کرلیے ہیں کہ وہ عذاب ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور اگر کچھ ایسے انتظامات نہیں ہیں اور ظاہر ہے اللہ کے عذاب سے بچنے کے لیے کوئی بھی انتظام ممکن نہیں تو پھر یہ آخر کس برتے پر اللہ کے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ تو ایک ایسی احمقانہ بات ہے ‘ جس کی امید کسی پاگل سے بھی نہیں کی جاسکتی۔ لیکن ان کی جسارت کی داد دیجئے کہ یہ مسلسل اس کا مطالبہ کیے جا رہے ہیں اور دوسری یہ بات کہ اگر یہ عذاب آجائے تو انھیں خوب معلوم ہے کہ اس کا نشانہ کون بنے گا یہ بجلی اگر گری تو انھیں خوب اندازہ ہے کہ کس کا گھر جلے گا۔ اس لیے کہ اللہ کا عذاب تو ہمیشہ اس کے نافرمانوں پر آتا ہے۔ ان لوگوں پر آتا ہے ‘ جو اللہ کی بجائے کسی اور کو خدا مانتے ہیں۔ جنھوں نے دنیا میں اس کے شریک بنا رکھے ہیں وہ زندگی اس کے احکام کے مطابق گزارنے کی بجائے ‘ اس کی معصیت میں گزارتے ہیں اور وہ کھلم کھلا اس کی عظمت وکبریائی کو تسلیم کرنے کی بجائے ‘ اس کی حاکمیت کو چیلنج کرتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ رویہ مسلمانوں کا تو نہیں مشرکین مکہ کا ہے تو پھر جب بھی عذاب آیا تو یہی لوگ اس کی زد میں آئیں گے تو یہ ظالم لوگ خود اپنی شامت کو دعوت کیوں دے رہے ہیں۔ دراصل یہاں جو بات فرمائی گئی ہے ‘ گزشتہ آیات میں جس سنت اللہ کا تذکرہ ہوا ہے یہ اسی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ جس قوم میں اللہ کے رسول آتے ہیں ‘ جب وہ قوم اللہ کے رسولوں کو ماننے سے انکار کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو متنبہ کرنے کے لیے ‘ ان کو مختلف قسم کی تکالیف میں مبتلا کرتا ہے۔ لیکن ان تکالیف میں جس طرح کافر مبتلا ہوتے ہیں ‘ اسی طرح مسلمان بھی مبتلا ہوتے ہیں۔ کافر یا تو ان تکلیفوں سے متاثر ہو کر راہ راست کی طرف آجاتے ہیں اور اللہ کو پہچان کر اس کا دین اختیار کرلیتے ہیں اور یا ان کے دل مزید سخت ہوجاتے ہیں اور وہ اللہ کے دین کے خلاف اور کھل کھیلتے ہیں۔ مسلمان ان تکالیف میں مبتلا ہو کر اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان تکلیفوں سے اللہ کے ساتھ ان کا رشتہ اور مضبوط ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان مصائب پر صبر کے نتیجے میں ان کی سیرت و کردار کی تعمیر ہوتی ہے اور اس میں اور زیادہ جلا پیدا ہوتی ہے۔ کہنا یہ ہے کہ ان تکالیف کا سامنا جس طرح کافروں کو کرنا پڑتا ہے مسلمان بھی کرتے ہیں۔ لیکن جب اللہ کا عذاب آجاتا ہے تو اللہ کے رسول اور ان پر ایمان لانے والوں کو اس علاقے سے نکال لیا جاتا ہے اور عذاب کا شکار صرف کافر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی قوم پر اللہ کا عذاب آیا تو ان کی طرف آنے والے رسول کو اپنے ماننے والوں سمیت ہجرت کر جانے کا حکم دیا گیا۔ تمام معذب قوموں کی تاریخ پڑھ جایئے ‘ آپ کو ہر طرف یہ اصول کارفرما دکھائی دے گا۔ سورة انفال میں اسی اصول کا تذکرہ کرتے ہوئے کافروں کے مطالبہ عذاب کے جواب میں پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اے پیغمبر ! جب تک آپ ان میں ہیں ‘ اس وقت تک ہم ان کو عذاب نہیں دیں گے۔ مطلب یہ کہ جب ہم ان کو عذاب دینے کا فیصلہ کریں گے تو آپ کو وہاں سے نکال لیں گے اور آپ کے متبعین بھی آپ کے ساتھ ہجرت کر کے عافیت کی جگہ پر چلے جائیں گے۔ یہاں اسی اصول کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ نادانوں اس عذاب کا شکار تو تمہیں ہی ہونا ہوگا ‘ مسلمان تو اس کے فضل و کرم سے بچا لیے جائیں گے تو پھر تم آخر کس کے لیے عذاب کا مطالبہ کرتے ہو۔ اگلی آیت کریمہ میں پیغمبروں کی اصل حیثیت کو واضح کیا جا رہا ہے تاکہ قومیں جو بار بار ان سے عذاب کا مطالبہ کرتی ہیں ‘ ہوسکتا ہے ان کی اصل حیثیت کو جاننے کے بعد اپنے رویے پر نظر ثانی کریں۔
Ayah 6:48

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

اور ہم رسولوں کو تو صرف خوشخبری دینے والے اور خبردار کرنے والے ہی بنا کر بھیجتے ہیں۔ تو جو ایمان لائے اور جنہوں نے اصلاح کرلی ‘ ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ کوئی غم ہوگا

ارشاد فرمایا : وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَج فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌعَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّھُمُ الْعَذَابُ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ۔ (الانعام : 48۔ 49) (اور ہم رسولوں کو تو صرف خوشخبری دینے والے اور خبردار کرنے والے ہی بنا کر بھیجتے ہیں۔ تو جو ایمان لائے اور جنھوں نے اصلاح کرلی ‘ ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ کوئی غم ہوگا ‘ اور جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ‘ ان کی نافرمانی کی پاداش میں ‘ ان کو عذاب پکڑے گا) انبیاء و رسل کی اصل حیثیت جب بھی اللہ کا کوئی رسول کسی قوم کی طرف ان کی ہدایت کے لیے آیا تو عموماً اس قوم کا رویہ یہ رہا کہ ان کے اندر شاید ان کا کوئی دشمن اتر آیا ہے یا کوئی ایسا اجنبی ہے جس نے ان سے ایسی باتیں کہنا شروع کردی ہیں ‘ جس کا سننا بھی ان کو گوارا نہیں حالانکہ رسول ان کے پاس ایک حیات بخش پیغام لے کر آتا ہے۔ وہ بالکل ان سے سامنے کی باتیں کہتا ہے کہ اللہ تمہارا خالق ہے ‘ تم اس کی مخلوق ہو ‘ تمہیں وہ رزق دیتا ہے ‘ اسی نے تمہیں اولاد دی ہے ‘ یہ زندگی کا سروسامان سارا اسی کا عطا کردہ ہے۔ خود یہ زمین ‘ یہ تمہارا ملک ‘ یہ اسی کی ملک ہے۔ تمہاری تمام صلاحیتیں ‘ تمہارے جسم و جان کی رعنائیاں ‘ سب اسی کی دین ہیں۔ میں تمہیں صرف یہ بتانے آیا ہوں کہ اس کی ان تمام نعمتوں اور تمام احسانات کا تم پر کوئی حق بھی ہے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس حق کو کس طرح ادا کرنا ہے اور اس کا کیا جواب دینا ہے۔ اسی طرح میں تمہیں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ تمہارا اس سے کیا تعلق ہے اور اس کا تم سے کیا رشتہ ہے۔ وہ تم سے کن باتوں کی وجہ سے راضی ہوتا ہے اور کن سے ناراض ہوتا ہے۔ خود تمہارے باہمی رشتوں کے حقوق و فرائض کیا ہیں۔ تمہیں یہاں کیسی زندگی گزارنی چاہیے ‘ جس کے نتیجے میں تمہیں یہاں ایک اچھی زندگی میسر آئے۔ تم خوف اور حزن سے بچ جاؤ ‘ تمہارے اندر آپس کی تلخیاں پیدا نہ ہوں ‘ جان مال اور عزت و آبرو ہر چیز سلامت رہے اور موت کے بعد بھی جو زندگی آنے والی ہے ‘ اس میں بھی تمہیں سرخروئی نصیب ہو۔ اندازہ فرمایئے ! ان میں سے ہر بات آدمی کی گم شدہ متاع ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ لوگ اس رسول کی طرف لپکتے ہوئے جائیں اور اپنی زندگی کے اسرار اور زندگی گزارنے کے طریقوں کا علم اس سے سیکھیں۔ لیکن بالکل اس کے برعکس نجانے اس سے کیوں دشمنی شروع کردی جاتی ہے اور کیوں ان کا راستہ روکنا ‘ وہ اپنی زندگی کا فرض سمجھ لیتے ہیں۔ اس لیے یہاں اس آیت کریمہ میں مشرکین مکہ کو یہی بات سمجھائی جا رہی ہے کہ نادانوں اللہ کا آخری رسول تمہیں زندگی دینے کے لیے آیا ہے اور ایک زندگی بخش پیغام لے کر تمہارے پاس آیا ہے۔ تم بجائے اس سے فائدہ اٹھانے کے اس سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہو۔ کہا باقی رسولوں کی طرح اس کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ تمہیں یہ بتانے کے لیے آیا ہے کہ دیکھو ! اگر اللہ کی فرمانبرداری میں زندگی گزارو گے تو ہم تمہارے پاس بشارتیں لے کر آئیں گے اور اگر اس کی نافرمانی کرو گے تو پھر ہم تمہارے انجام سے تمہیں خبردار کرنے کے لیے آئے ہیں ‘ یہ ہماری اصل حیثیت ہے۔ اس میں ہم سے لڑنے اور بار بار عذاب کا مطالبہ کرنے کی آخر کیا تُک ہے ؟ رہی یہ بات کہ اگر تم ہماری دعوت کو قبول کرلو گے تو ہم اس پر تمہیں کیا بشارت دیں گے۔ اس کی وضاحت اسی آیت کے دوسرے جملے میں فرمائی گئی۔ فرمایا : فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌعَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ (تو جو ایمان لائے اور جنھوں نے اصلاح کرلی تو ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ کوئی غم) میں نہیں سمجھا کہ اس سے بڑھ کر ایک آدمی کے لیے کیا بشارت ہوسکتی ہے۔ ایمان لا کر خود اس کی اپنی جہت متعین ہوجاتی ہے اور اصلاح کے نتیجے میں وہ ایک صاف ستھرے اور اجلے کردار کا مالک بن جاتا ہے اور اس کے بعد یہ بات کہ نہ اسے مستقبل کا کوئی خوف ہوگا اور نہ ماضی کی محرومیاں کبھی اسے پریشان کریں گی۔ یہی تو دو باتیں ہیں ‘ جن کے حصول کے لیے دنیا سرگرداں ہے۔ دنیا بھر کے علم و ادب کا حاصل اس کے سوا کچھ نہیں اور عقل و دانش کا سارا سرمایہ اسی کے حصول میں صرف ہو رہا ہے لیکن ناکامیاں ہیں کہ وہ بار بار انسان کا مقدر بنتی جا رہی ہیں تو جو اللہ کے رسول یہ عظیم نعمت لے کر آئے ہیں اور اتنی بڑی خوشخبری سنانے کے لیے آئے ہیں ‘ اس کی طرف تو یہ سمجھتے ہوئے لپکنا چاہیے کہ یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے اور دوسری ان کی حیثیت یہ ہے کہ وہ خبردار کرنے کے لیے آئے ہیں۔ اس کی وضاحت دوسری آیت میں فرمائی گئی ہے :