Ayah 6:14قُلْ اَغَیْرَ اللہِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَھُوَ یُطْعِمُ وَلَا یُطْعَمُ ط قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ (الانعام : 14)
(کہو ! کیا میں اللہ کے سوا ‘ جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے ‘ کسی اور کو اپنا کارساز بنائوں ؟ اور وہ کھلاتا ہے ‘ کھاتا نہیں۔ کہہ دو ! مجھے تو حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا بنوں اور تم ہرگز مشرکوں میں سے نہ بنو)
سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ تم اس بات کو مان چکے ہو کہ آسمانوں اور زمین کا مالک اور حاکم حقیقی صرف اللہ ہے اور یہ بھی تسلیم کرتے ہو کہ رات اور دن کی تاریکی اور روشنی میں جو کچھ ہو رہا ہے ‘ وہ سب اس کی گرفت میں ہے۔ ہر چیز اس کے قبضہ اختیار میں ہے۔ وہ انسانوں کے ایک ایک عمل اور ایک ایک احساس سے واقف بھی ہے اور ان پر پوری طرح اختیار بھی رکھتا ہے اور مزید یہ کہ یہ بات بھی تم مان چکے ہو کہ انسانی زندگی ‘ اس کی بقا کے سامان ‘ اس کا رزق ‘ اس کے احساسات ‘ اس کی توانائیاں ‘ سب کچھ اللہ کی عطا کردہ ہیں۔ یعنی ہم صرف اس کی مخلوق ہی نہیں بلکہ اس کے محکوم اور اس کے ممنون احسان بھی ہیں۔ پوچھا یہ جا رہا ہے کہ جب تم یہ سب کچھ تسلیم کرتے ہو اور میں تمہیں جس بات کی دعوت دے رہا ہوں ‘ وہ انہی مسلمات کا لازمی نتیجہ ہے کیونکہ کسی ذات کو حاکم تسلیم کرنا اور پھر محکومیت سے انکار کرنا ‘ کسی کو اپنا مالک سمجھنا اور مملوکیت سے منحرف ہوجانا ‘ کسی کو رازق جاننا اور اس کے رزق کے تقاضوں کو پورا نہ کرنا ‘ یہ وہ تضاد ہے ‘ جس کی نہ کوئی قانون اجازت دے سکتا ہے اور نہ اخلاق اس کی توجیہ کرسکتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے یہ پوچھا جا رہا ہے کہ جب صورت حال یہی ہے ‘ جو میں نے بیان کی تو پھر کیا میں اس اللہ کو جسے میں حاکم حقیقی ‘ رازق حقیقی ‘ محسن حقیقی اور رحیم و کریم ذات کے طور پر مانتا ہوں ‘ کیا میں اسے چھوڑ کر کسی اور کو اپنا ولی بنا لوں ؟ یعنی میں یہ سمجھوں کہ اس کے سوا میرا اور کوئی ہمدرد و غمگسار ‘ کوئی اور پالنے والا اور کوئی اور میرا کارسازہو سکتا ہے۔ ظاہر ہے جو شخص بھی ان مقدمات پر غور کرے گا ‘ جس کا ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں تو وہ کبھی اس کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوگا کہ ایسا کرنا کسی طرح بھی مناسب ہے۔ پھر اس سوال کی حقانیت کو مزید واضح کرنے کے لیے ‘ دو باتیں ارشاد فرمائیں۔
ایک یہ کہ وہ صرف تمہارا ہی خالق نہیں ‘ وہ تمام آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور تم جانتے ہو کہ تمہاری زندگی اسی زمین و آسمان کی کارفرمائی کی مرہون منت ہے۔ تم جو غذا کھاتے ہو ‘ اس کا ایک دانہ اس وقت تک اگ نہیں سکتا ‘ جب تک زمین اپنی روئیدگی کے خزانے صرف نہیں کرتی اور وہ اس وقت تک برگ و بار نہیں لاسکتا ‘ جب تک موسموں کے تغیرات ‘ بادلوں کی کرم فرمائیاں ‘ ہوائوں کی چارہ جو ئیاں ‘ سورج اور چاند کی مہربانیاں ‘ پوری طرح بروئے کار نہیں آتیں۔ اس سے اندازہ کرو کہ جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے ‘ تم اس کی عنایات کے کس قدر حصار میں ہو۔ تو کیا یہ سب کچھ دیکھ کر بھی ‘ تم اسے چھوڑ کر کسی اور کو کارساز بنائو گے ؟
دوسری بات یہ فرمائی کہ وہ تمہیں کھلاتا ہے ‘ خود نہیں کھاتا یعنی وہ تمہارا رب ہے اور اس کی ربوبیت صلب پدر سے لے کر شکم مادر تک اور پھر مہد سے لے کر لحد تک مسلسل تمہاری نمود و پرداخت کا فرض انجام دیتی ہے۔ اس کی نگرانی کی نگاہ اگر ذرا تم سے تغافل برتے تو تم اپنے بچپنے کی بےبسی کے نذر ہوجاؤ اور اس کے عطا کردہ حواس و عقل ‘ تم سے اگر چھین لیے جائیں تو تم جیتے جی ذلت اور حرماں نصیبی کا پیکر بن جاؤ تو کیا یہ ربوبیت کا فیضان ‘ جو ہر وقت تمہیں اپنی آغوش میں لیے رہتا ہے ‘ اس کو نظر انداز کر کے تم کسی اور کو اپنا کارساز بنا لو گے ؟ یہ وہ سوالات ہیں ‘ جو آنحضرت ﷺ کے واسطے سے نوع انسانی کے سامنے رکھے جا رہے ہیں۔
ربوبیت کے اس حوالے کے ساتھ ساتھ ایک تعریض بھی ہے کہ وہ کھلاتا ہے ‘ خود نہیں کھاتا یعنی جو ذات تمہیں کھلاتی ہے ‘ اس کے تم شریک ٹھہراتے ہو اور اس کی اطاعت سے انکار کرتے ہو اور نادانی کی انتہا ہے کہ ان قوتوں کے سامنے جھکتے ہو اور ان بتوں کو سجدے کرتے ہو ‘ جنھوں نے نہ کسی چیز کو پیدا کیا اور نہ وہ تمہیں کھلانے پلانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ بلکہ عجیب بات یہ ہے کہ جن بتوں کے سامنے تم سر جھکاتے ہو ‘ تم ان کے کھانے پینے کے لیے ان کی خدمت میں حلوہ اور پوڑیوں کی نیازیں پیش کرتے ہو اور نجانے کن کن نعمتوں کے چڑھاوے چڑھاتے ہو اور تمہارا تصور یہ ہے کہ وہ ان کھانوں کی خوشبو سے محظوظ ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے کھانے پینے میں تمہارے محتاج ہیں۔ اسی طرح جن بڑے لوگوں کو تم نے تخت ربوبیت پر فائز کیا ‘ انھوں نے خود تمہیں کیا دیا۔ الٹا تم نے ان کے لیے تخت ربوبیت بچھایا کیونکہ کوئی فرعون یا نمرود ‘ دنیا میں خدائی کے ٹھاٹ نہیں جما سکتا ‘ جب تک اس کے نام نہاد بندے ‘ اسے ٹیکس اور نذرانے نہ دیں۔ اس طرح کسی صاحب قبر کی شان معبودیت قائم نہیں ہوسکتی ‘ جب تک اس کے پرستار ‘ اس کا شاندار مقبرہ تعمیر نہ کریں۔ کسی دیوتا کا دربار خداوندی سج نہیں سکتا ‘ جب تک اس کے پجاری اس کا مجسمہ بنا کر کسی عالی شان مندر میں نہ رکھیں اور اسے تزئین و آرائش کے سامانوں سے آراستہ نہ کریں۔ سارے بناوٹی خدا بچارے خود اپنے بندوں کے محتاج ہیں۔ صرف ایک خداوند عالم ہی وہ حقیقی خدا ہے۔ جس کی خدائی آپ اپنے بل بوتے پر قائم ہے اور جو کسی کی مدد کا محتاج نہیں بلکہ سب اسی کے محتاج ہیں۔
یہاں کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ اللہ بھی تو اپنے نام پر قربانیاں دینے کا حکم دیتا ہے۔ چناچہ ہم سال بہ سال اس کے نام پر قربانی دیتے ہیں اور مختلف وقتوں میں ‘ حسب توفیق اس کی رضا کے لیے جانور ذبح کرتے ہیں تو یہ بھی تو اس کو کھلانے کی ایک صورت ہوئی۔ یہ سراسر کم فہمی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جہاں بھی صدقات کا حکم دیا ہے ‘ وہاں انسانی ضرورتوں کا حوالہ بھی دیا ہے اور ساتھ ہدایات بھی جاری فرمائی ہیں کہ دیکھنا ! ان صدقات سے غریبوں کو فائدہ پہنچانا اور مستحقین کو کھلانا۔ غیر مستحق لوگوں کو ہرگز نہ دینا اور اپنے بارے میں بطور خاص فرمایا کہ تم جو قربانی دیتے ہو ‘ اللہ کو اس کا گوشت پوست نہیں پہنچتا بلکہ تمہارے دلوں کا تقویٰ اس تک پہنچتا ہے۔ یعنی وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ تم جو مخلوقِ خدا کی خدمت کرتے ہو اور ان کے کھانے پینے کا بندوبست کرتے ہو ‘ یہ ان پر احسان دھرتے ہو یا یہ سب کچھ اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہو۔ چناچہ یہ حصول رضاکا تصور اور صرف اسی کو خوش کرنے کی فکر ‘ یہ وہ تقویٰ ہے جو اللہ کو مطلوب ہے اور یہ اصلاً ذریعہ ہے ‘ جس کے نتیجے میں اعمال صحیح صورت اختیار کرتے ہیں۔
سوال کو بہمہ وجوہ پوری گہرائی کے ساتھ ذکر فرمانے کے بعد ‘ جواب کی ذمہ داری مخاطبوں پر ڈال دی گئی ہے۔ لیکن یہ معلوم ہے کہ مشرکینِ مکہ اس کا کیا جواب دیں گے کیونکہ گزشتہ کئی سالوں کی تبلیغ و دعوت کے نتیجے میں ان سعادت مندوں کے سوا ‘ جو ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہوئے ‘ باقی لوگوں نے سوائے ضد اور ہٹ دھرمی یا دشمنی اور شقاوت کے ‘ کسی بات کا اظہار نہیں کیا۔ اس لیے ان سے یہ بات بہت بعید ہے کہ وہ اس کے سوال کی افادیت کو محسوس کرتے ہوئے ‘ اپنے غلط رویے سے تائب ہو کر ایمان کا راستہ اختیار کریں گے۔ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ وہ اپنے مشرکانہ رویے کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔ اس لیے فرمایا جا رہا ہے کہ تم اگر اپنے رویے سے نہیں رک رہے ہو تو تم جانو اور تمہارا خدا جانے
قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ
(کہہ دیجئے ! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا بنوں)
اور اپنے آپ کو بالکلیہ اپنے رب کے حوالے کر دوں ‘ سو میں تو اسی کے حکم کی تعمیل کروں گا، تم میں سے کوئی میرا ساتھ دے یا نہ دے۔ آیت کے اس حصے سے ہمیں دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ بات کہ اللہ کے پیغمبر کو تبلیغ و دعوت کے سلسلے میں چاہے کیسے ہی نامساعد حالات سے واسطہ پڑے ‘ وہ کبھی بھی حالات سے متاثر ہو کر ‘ اپنی تبلیغی سرگرمیوں میں کمی نہیں آنے دیتا۔ مخالفتوں کا بڑے سے بڑا طوفان بھی ‘ اس کے عزم اور اس کی یکسوئی میں کبھی فرق پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ چناچہ یہاں بھی اسی عزم و ہمت کا اظہار کیا گیا ہے کہ تم جو کرسکتے ہو کرو ‘ میں تو اللہ کے حکم کی تعمیل میں کبھی کمی کرنے کو تیار نہیں۔
دوسری بات ‘ جو ہمیں معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ انسانی اصلاح کے لیے پیغمبروں کی طرح بعض دوسرے لوگ بھی محنت کرتے ہیں۔ ان میں بھی مصلحین ہیں ‘ شعراء ‘ مصنفین ‘ وعظ کہنے والے اور نصیحت کرنے والے بھی ہیں ‘ ذکر کی مجلسیں قائم کر کے تزکیے کا کام کرنے والے بھی ہیں۔ لیکن ان تمام میں بالعموم ایک بات دکھائی دیتی ہے کہ یہ جس بات کی دعوت دیتے ہیں ‘ عموماً خود ان کا عمل اس کی مکمل تصویر نہیں ہوتا۔ ایسا تو نہیں ہوتا کہ ان کا عمل اپنی دعوت کے بالکل برعکس ہو کیونکہ اگر ایسا ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنی دعوت میں مخلص نہیں ہیں۔ یہاں جو بات کہنی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ پوری طرح ان کا عمل ‘ ان کی دعوت کا عکاس نہیں ہوتا۔ ان کی کمزوریاں ‘ ان کی دعوت کے باوجود ‘ ان کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ وہ ہرچند کوشش کرتے ہیں کہ اپنے آپ کو بہتر طور پر لوگوں کے سامنے پیش کریں۔ لیکن کبھی وہ اس میں کامیاب ہوتے ہیں ‘ کبھی نہیں ہوتے۔ اللہ کے عظیم بندے جن کو ہم اولیائِ کرام کے نام سے جانتے ہیں ‘ وہ تو بہت حد تک اپنی دعوت کی تصویر ہوتے ہیں۔ لیکن عام طور پر دوسرے مصلحین ‘ وہ اپنی دعوت کے ترجمان تو ہوتے ہیں ‘ لیکن پوری طرح نمونہ نہیں ہوتے۔
ہماری قریبی تاریخ میں جن لوگوں نے ایک وسیع سطح پر مسلمانوں کے دل و دماغ پر اثر ڈالا ‘ ان میں علامہ اقبال کا نام بڑا محترم ہے۔ اقبال ایک نہایت قابل قدر اور قابل احترام شخصیت ہیں۔ میں ان کے بارے میں حسن ظن رکھتا ہوں اور جو انھوں نے کام کیا ہے ‘ دل کی گہرائی سے اس کا قدردان ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ بہت نیک آدمی تھے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ان کی اپنی زندگی ‘ ان کی دعوت کی تصویر نہیں تھی۔ وہ مسلمان نوجوانوں کو جہد مسلسل اور عمل پیہم کی تصویر دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کی آرزو تھی کہ ہر مسلمان نوجوان ‘ ستاروں پر کمندیں ڈالے۔ ہر نوجوان کی جوانی بےداغ ‘ ضرب کاری اور اس کے عزم کی توانائی راستے کی بڑی سے بڑی صعوبت کو پگھلاکر رکھ دے اور اس امت کا ہر چھوٹا بڑا آدمی ‘ اپنے آپ کو اللہ کا آخری پیغام جانے۔ ان کی یہ تمام باتیں ‘ ان کے اخلاص کی دلیل ہیں۔ لیکن ان کی ذاتی زندگی نہایت ڈھیلی ڈھالی ‘ آسانیوں میں ڈھلی ہوئی اور اضمحلال کا شکار تھی۔ چناچہ ایک دفعہ کسی نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ آپ مسلمان قوم کو جس بےپناہ قوت کا درس دیتے ہیں ‘ خود آپ کی زندگی میں تو وہ دکھائی نہیں دیتا ؟ انھوں نے جواب میں نہایت سچی بات فرمائی کہ آدمی جو بات کہے ‘ خود اس پر عمل بھی کر کے دکھائے ‘ یہ شان تو صرف پیغمبروں کی ہے ‘ ورنہ عام طور پر کہنے والے پیچھے رہ جاتے ہیں اور عمل کرنے والے اور ہوتے ہیں۔
چناچہ اسی سچائی کی تائید میں فرمایا جا رہا ہے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا بنوں یعنی میرا کام صرف دعوت دینا نہیں بلکہ میں اپنی دعوت کا نمونہ بھی ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ اس وقت اس دعوت پر عمل کرنا بہت مشکل کام ہے۔ لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود ‘ میں اس کے مطابق زندگی گزار کے دکھائوں گا تاکہ بعد میں لوگ اس نمونے سے فائدہ اٹھا سکیں اور یہ معلوم ہو سکے کہ ایک پیغمبر کی زندگی میں اور دوسرے لوگوں کی زندگی میں کیا فرق ہوتا ہے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کی پوری زندگی ‘ اس بات کی تصویر ہے کہ آپ نے جس بات کا حکم اپنی امت کو دیا ‘ اس پر نہ صرف خود عمل کر کے دکھایا بلکہ اصل حکم سے بھی بڑھ کر عمل کرکے دکھایا۔ مثال کے طور پر آپ نے امت کو پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا اور خود ہمیشہ آٹھ نمازیں پڑھیں۔ آپ نے امت پر زکوٰۃ فرض فرمائی اور باقی مال کو امت کے لیے حلال و طیب ٹھہرایا ‘ لیکن خود اپنے گھر میں مال رکھنے کو کبھی پسند نہ فرمایا ‘ جس کا نتیجہ یہ تھا کہ کبھی آپ پر زکوٰۃ فرض نہ ہوسکی۔ جو آیا اور جتنا آیا ‘ اس کو اللہ کے راستے میں لٹا دیا۔ مختلف علاقوں کے فتح ہوجانے کے بعد اسباب اور غلے کے اونٹ لدے ہوئے آتے ‘ لیکن آپ اس وقت تک گھر نہ جاتے ‘ جب تک اہل مدینہ میں انھیں تقسیم نہ فرما دیتے۔ اسی طرح بعض دفعہ خزانے تک آئے ‘ لیکن آپ نے اس کا ایک ایک درہم مسلمانوں میں تقسیم فرما دیا۔ لوگوں کو دنیا اور دولت دنیا سے بےرغبتی کا حکم دیا اور خود اپنا عمل یہ تھا کہ نماز عصر کے فوراً بعد گھر تشریف لے گئے ‘ تھوڑی دیر کے بعد واپس تشریف لائے تو لوگوں کو حیران دیکھ کر فرمایا کہ میں اس لیے چلا گیا تھا کہ مجھے یاد آیا کہ میرے بستر پر چند اشرفیاں پڑی رہ گئی تھیں ‘ میں نے سوچا کہ کیا خبر کس وقت اللہ کی طرف سے بلاوا آجائے تو کیا میں اس طرح اللہ سے ملوں گا کہ میرے گھر میں دنیا کا مال پڑا ہوا ہوگا۔ ظفر علی خاں نے ٹھیک کہا تھا
قدموں میں ڈھیر اشرفیوں کا لگا ہوا
ہیں دوسروں کے واسطے سیم و زر و گہر
اور تین دن سے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا
اپنا یہ حال کہ ہے چولہا بجھا ہوا
بد ترین حالات میں بھی اللہ کے رسول کو جو نمونہ بننے کا حکم دیا جاتا ہے ‘ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ انسانی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ جہاں کتابیں نازل فرماتا ہے ‘ وہیں اپنے رسول بھی بھیجتا ہے اور ہدایت الٰہی ‘ دونوں کے دم قدم سے پھیلتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کتاب اللہ یقینا ہدایت اور نور بن کے آتی ہے۔ اسی سے رسول کا دل روشن ہوتا ہے اور اسی سے امت کی راہوں کو جلا ملتی ہے۔ مگر اس ہدایت کے لیے دلوں کے راستے اس وقت کھلتے ہیں ‘ جب ان کے سامنے ایک ایسی شخصیت اپنا فرض انجام دیتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ‘ جس کا ایک ایک عمل اس کتاب کے نور سے روشن اور جس کی ایک ایک بات اس ہدایت کا ثبوت ہے۔ چناچہ جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ یہ شخصیت اپنی قربانی ‘ اپنی سرفروشی ‘ اپنی جاں سپاری اور اپنے مسلسل عمل سے ‘ اس ہدایت کو لوگوں تک پہنچا رہی ہے تو وہ اس شخصیت کے زور اور اس کے کردار و عمل کی تاثیر سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ چناچہ یہی وجہ ہے کہ امتیں ‘ صرف صداقتوں اور اچھائیوں سے وجود میں نہیں آتیں۔ بلکہ امت کی شخصیت کی تعمیر ‘ ہمیشہ داعی کی شخصیت کے نتیجے میں ہوتی ہے۔ اکبر نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کس قدر سادہ انداز میں اس بات کو واضح کیا ؎
کورس تو لفظ ہی سکھاتے ہیں
آدمی آدمی بناتے ہیں
نصابِ تعلیم چاہے کیسا بھی بنا لیا جائے۔ نونہالوں کی سیرت و کردار کی تعمیر اس نصاب تعلیم سے کبھی نہیں ہوتی بلکہ ان کی شخصیت کو بنانے اور ان کے خیالات کو صحیح جہت دینے اور ان کے عزائم میں رسوخ پیدا کرنے میں اصل کردار صرف استاد کا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے جس طرح آنحضرت ﷺ کو امت کے لیے نمونہ بنایا گیا ہے ‘ اسی طرح امت کے صالحین کو بھی اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ تم بھی حتی الامکان اپنے فکر و عمل سے ‘ اپنے ماحول میں نمونہ بننے کا فرض انجام دو ۔ نتیجہ اس کا یہ ہوگا کہ کمزور طبیعتیں جب دیکھیں گی کہ اس ماحول میں سچائیوں پر عمل کرنے والے اور اس کے نتیجے میں مختلف مصائب سے دوچار ہونے والے یہاں کچھ اور لوگ بھی ہیں تو ان کو ایک حوصلہ ملے گا اور وہ کچھ کر گزرنے پر آمادہ ہوجائیں گے۔ شاید اسی لیے ہمیں جو دعائیں سکھائی گئی ہیں ‘ ان میں ایک دعا یہ بھی ہے
وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا
(یا اللہ ! ہمیں متقین کا امام بنا)
ایک نیک آدمی کی بڑی سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ متقی بن جائے۔ لیکن یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ تم سے مطلوب صرف یہ نہیں ہے کہ تم نیکوکاری کی زندگی گزارو بلکہ اس سے بڑھ کر تمہارا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ تم دوسروں کے لیے نیکی میں نمونہ بن جاؤ تاکہ لوگ تمہاری مثال دے کر نیکی اور نیکوکاروں کو سپورٹ کرسکیں یعنی جب کبھی یہ بحث ہو کہ آج کل اپنی اصل تنخواہ میں رشوت لیے بغیر ‘ کوئی آدمی گزارا نہیں کرسکتا۔ تو ہر سطح پر ملازمین میں کچھ لوگ تو ایسے ہونے چاہئیں کہ جن کا حوالہ دے کر لوگ کہہ سکیں کہ اگر آج کے دور میں رشوت سے بچنا ممکن نہ ہوتا اور صرف تنخواہ میں گزارا کرنا ناممکن ہوتا تو فلاں فلاں لوگ کیسے گزارا کر رہے ہیں۔ یہ ہے نمونہ بننے کا مطلب کہ ہر شعبہ زندگی میں چاہے وہ مزدوروں کا شعبہ ہو ‘ چاہے کارخانہ داروں کا ‘ چاہے کاشتکاروں کا چاہے زمینداروں کا ‘ چاہے عام لوگوں کا چاہے حکمرانوں کا ‘ ہر سطح پر ایسے لوگوں کا وجود ضروری ہے ‘ جس سے دوسرے لوگوں کو حوصلہ ملے اور مایوس ہونے والوں کو اپنی مایوسی سے نکلنے کا موقع ملے۔
توحید کی اہمیت
اس آیت کے آخر میں فرمایا : وَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ” آپ مشرکوں میں سے نہ ہوجائیں “۔ تعجب کی بات ہے ‘ اللہ کا نبی تو دنیا میں توحید کا سب سے بڑا علمبردار ہوتا ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ وہ شرک میں مبتلا ہوجائے ؟ لیکن قرآن کریم کا ایک خاص اسلوب ہے کہ وہ بعض دفعہ خطاب آنحضرت ﷺ کو کرتا ہے ‘ لیکن روئے سخن مخالفین کی طرف ہوتا ہے اور عتاب کا ہدف بھی مخالفین ہوتے ہیں۔ یہاں بھی خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ کو ہے ‘ لیکن سنایا مخالفین کو جا رہا ہے کہ شرک ایسی منحوس چیز ہے کہ پیغمبر جو سراسر روشنی ہے ‘ ہم اس تاریکی کو اس کے قریب بھی پھٹکتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے تو تم خود اندازہ کرلو کہ تم جو سرتاپا شرک میں ملوث ہو ‘ تمہارا انجام کیا ہوگا ؟ پھر اگلی آیت میں آنحضرت ﷺ ہی کی زبان سے اس بات کو ایک دوسرے انداز میں مستحکم کیا جا رہا ہے۔
Ayah 6:15ارشاد ہوتا ہے :
قُلْ اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ (الانعام : 15)
” کہہ دو ! اگر میں نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی ‘ تو میں ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں “۔
توحید کے مختلف گوشوں کو مستحکم کرنے اور شرک کے ہر ممکن خطرے سے بچانے کے لیے ‘ جن جن ہدایات کی ضرورت تھی ‘ وہ ایک ایک کر کے عطا کی جا رہی ہیں اور اس طرح عقیدہ توحید کو ایک جامع اور کامل شکل دی جا رہی ہے۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ بار بار اس کا واسطہ ذات رسالت مآب ﷺ کو بنایا جا رہا ہے حالانکہ اللہ کے یہاں ان کا جو مقام و مرتبہ ہے ‘ اس کی گہرائی اور گیرائی کو سمجھنا بندوں کے لیے تو ویسے ہی ممکن نہیں۔ پوری کائنات ان کے پائوں کی دھول کے بھی برابر نہیں ہوسکتی۔ بایں ہمہ ! بار بار انہی کو خطاب کیا جا رہا ہے اور انہی سے ان باتوں کا اظہار کرایا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شاید ہمیں یہ سمجھانا مقصود ہے کہ تم توحید کی عظمتوں کو دل میں اتارنے کی کوشش کرو اور شرک کی شناعت کو پوری طرح سمجھنے اور اس کی گندگی سے بچنے کا پوری طرح اپنے اندر عزم پیدا کرو کیونکہ اگر اس میں ذرا بھی کمزوری قابل برداشت ہوتی تو نبی کریم ﷺ سے ان باتوں کا اظہار نہ کرایا جاتا۔ وہی ایک ذات والا صفات ایسی ہوسکتی ہے ‘ جنھیں شاید شریعت کی پابندیوں سے استثناء مل سکتا۔ لیکن اگر وہ بھی اللہ کی نافرمانی یا توحید میں کسی کمی بیشی کی صورت میں ‘ اللہ کے عذاب سے خوفزدہ ہیں تو پھر اور کون ہے ‘ جو اس سے مستثنیٰ ہوسکتا ہے ؟
ہر دور کے انسانوں میں ہم یہ کمزوری دیکھتے ہیں کہ وہ جن لوگوں کو عظمتوں کا پیکر سمجھتے ہیں۔ انھیں شرعی احکام کی پابندیوں سے بھی مستثنیٰ سمجھنے لگتے ہیں۔ چناچہ یہیں سے شرک کو راستہ ملتا ہے اور لوگ ایسے باعظمت لوگوں کے بارے میں آہستہ آہستہ خدائی صفات کا تصور کرنے لگتے ہیں اور بات یہاں تک پہنچتی ہے کہ یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ بعض لوگ شاید اللہ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ ‘ اس کی عبادت سے بھی مستثنیٰ ہوجاتے ہیں۔ ہمارے بزرگانِ دین میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ( رح) بڑے عظیم مقام و مرتبہ کے مالک ہیں۔ ان کے حالات میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ وہ جوانی میں کسی جنگل سے گزر رہے تھے کہ اچانک ان کے سامنے ایک روشنی نمودار ہوئی۔ سر اٹھا کے دیکھا تو ایک شہزادہ سا نظر آیا ‘ پھر آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔ لیکن اس کی آواز آئی کہ عبدالقادر ! جانتے ہو میں کون ہوں ؟ میں تمہارا خدا ہوں۔ میں تمہیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تم نے میری بہت عبادت کی ‘ میں تم سے بہت خوش ہوں ‘ چناچہ اس خوشی میں میں تمہیں اپنی عبادت سے رخصت دے رہا ہوں ‘ آج کے بعد تم پر کوئی پابندی نہیں۔ شیخ کہتے ہیں کہ مجھے معاً خیال آیا کہ عبادت سے رخصت تو آنحضرت ﷺ کو بھی نہ ملی ‘ آپ شدید بیماری میں بھی نماز کی پابندی فرماتے رہے اور زندگی میں کوئی نماز کبھی آپ کی قضا نہ ہوسکی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جس کی پابندی سے حضور ﷺ مستثنیٰ نہ ہوئے ‘ مجھے اس سے مستثنیٰ کیا جا رہا ہے ؟ اللہ نے میری مدد فرمائی۔ میں سمجھ گیا کہ یہ شیطان ہے ‘ جو مجھے ورغلانا چاہتا ہے۔ میں نے فوراً کہا لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ شیطان چیختا ہوا بھاگا۔ لیکن جاتے ہوئے اس نے پھر کمند پھینکی۔ کہنے لگا کہ عبدالقادر ! تمہیں تمہارے علم نے بچا لیا ‘ ورنہ نجانے اب تک میں کتنے زاہدوں کو برباد کرچکا ہوں۔ حضرت شیخ کہتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ یہ ظالم اب بھی باز نہیں آیا ‘ چناچہ میں نے کہا کہ مجھے میرے علم نے نہیں بچایا بلکہ میرے اللہ نے مجھے بچایا ہے۔ ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو خطاب اور آپ کے واسطے سے ان توحیدی کلمات کو کہلوانا شاید اس کا یہ مطلب ہے کہ لوگ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ یہ وہ بنیادی عقیدہ ہے ‘ جس میں کسی کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر تو دنیا میں کوئی ذات نہیں اور اگر آپ بھی اس کے پابند ہیں تو اور کوئی کس شمار قطار میں ہے۔
اسلام کا نظریہ توحید
اسلام نے مسلمانوں کو جس عقیدہ توحید کی تعلیم دی ہے۔ وہ محض ایک نظریاتی بحث اور علم کلام کا کوئی مسئلہ نہیں کہ جس کا تعلق صرف کتابی زندگی سے ہو اور عملی زندگی میں اس سے کوئی واسطہ نہ پڑے۔ حقیقت یہ ہے کہ عقیدہ توحید مسلمانوں کی زندگی میں ایک ایسی زندہ قوت کا نام ہے ‘ جس کی موجودگی سے مسلمان زندہ ہیں اور جس کے نکل جانے سے مسلمانوں کی اسلامی زندگی موت کا شکار ہوجاتی ہے۔ اس لحاظ سے جب ہم عقیدہ توحید پر غور کرتے ہیں تو اس کی بنیاد ‘ سب سے پہلے اس تصور پر اٹھائی گئی ہے کہ زمین و آسمان اور خود حضرت انسان کا خالق ومالک اور حاکم حقیقی ‘ صرف خداوند ذوالجلال ہے۔ اسی کو حق پہنچتا ہے کہ وہ اسے زندگی گزارنے کا ایک نظام دے اور اس نظام کے حوالے سے قیامت کے دن اس سے بازپرس کرے۔ اس بنیاد کو اگر سمجھ لیا جائے تو پھر یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں رہتا کہ ان بنیادی تصورات میں آخرت میں جواب دہی کا احساس اور اپنی بداعمالی کے نتیجے میں جہنم کے عذاب کے خوف کو اگر دل و دماغ میں راسخ نہ کیا جائے تو یہ بنیادی تصورات ‘ مذہبی ضرورت کو تو پورا کرسکتے ہیں ‘ لیکن اگر مذہب کا مقصد انسانی زندگی کی اصلاح ‘ شائستگی ‘ تطہیرِ فکر اور تہذیبِ نفس ہے تو یہ اس وقت تک انسانی زندگی میں پیدا نہیں کیے جاسکتے ‘ جب تک آدمی قیامت کے دن اپنی بداعمالی کے نتیجے سے فکر مند نہیں ہوگا اور اللہ کے عذاب سے لرزاں و ترساں نہیں ہوگا۔
مسلمانوں کی پوری تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ جب تک ان میں قیامت کے عذاب کا خوف باقی رہا اور اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس زندہ رہا ‘ ان کی زندگیاں بےعملی اور بد عملی کے اثرات سے محفوظ رہیں۔ وہ اگر تخت حکومت پر بھی بیٹھتے تھے تو اس یوم عظیم کا ڈر انھیں ظلم کرنے سے روکتا تھا اور معمولی سے معمولی آدمی بھی ‘ جب ان سے انصاف مانگنے آتا تھا تو وہ یہ سوچ کر سہم جاتے تھے کہ آج میں نے اگر اسے انصاف نہ دیا تو کل جب میں اللہ کی عدالت میں کھڑا ہوں گا تو میرے ساتھ کیا گزرے گی اور جب انھیں اپنوں کی خواہشیں یا حالات کا دبائو راہ راست سے ہٹانے کی کوشش کرتا تو ہمیشہ یہی فکر انھیں راہ راست پر رکھتی تھی۔ تاریخ کی نہایت ممتاز شخصیت حضرت عمر بن عبدالعزیز کے بارے میں تاریخ گواہی دیتی ہے کہ جب انھوں نے ظلم سے حاصل کی ہوئی تمام دولت اور تمام جائیداد خاندان سے چھین کر بیت المال کو واپس کردی اور خود خلفاء کی اولاد ہوتے ہوئے بھی اپنے پاس بھی کچھ نہ رہنے دیا تو گھر میں غربت نے بسیرا کرلیا۔ ایک دن گھر تشریف لائے تو بیٹیوں نے آگے بڑھ کر آپ کا اس طرح استقبال کیا کہ انھوں نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے۔ آپ نے یہ حالت دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا تو آپ کی پھوپھی صاحبہ نے بتایا کہ گھر میں سوائے مسور کی دال اور پیاز کے اور کچھ نہ تھا ‘ بچیوں نے دونوں چیزیں ابال کر اپنا پیٹ بھرا ہے ‘ آپ کو چونکہ پیاز کی بو سے بہت نفرت ہے ‘ ان کا گمان ہے کہ شاید ان کے منہ سے بو آتی ہے۔ اس لیے انھوں نے اپنے ہاتھ اپنے منہ پر رکھے ہوئے ہیں۔ آپ نے آبدیدہ ہو کر کہا کہ بیٹیو ! تم میں سے ایک ایک مجھے اپنی جان سے زیادہ پیاری ہے۔ میرے پاس جو کچھ ہے ‘ وہ سب تمہارے لیے ہے۔ لیکن اس سے زیادہ بیت المال سے لے کر اگر تمہاری نذر کر دوں تو یقینا گھر کی حالت بدل سکتی ہے۔ مگر کل کو مجھے اس کی جواب دہی کرنا ہوگی۔ پھر تمہارے باپ کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوگا۔ اس لیے میں یہ تو برداشت کرسکتا ہوں کہ ہم گھر میں فاقوں سے گزارا کرلیں ‘ لیکن میں قیامت کے عذاب کا سامنا نہیں کرسکتا اور اس کے بعد انھوں نے یہی آیت پڑھی کہ میں اس بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ چناچہ اسی زندہ توحید کو مسلمانوں کے دل و دماغ میں اتارنے کے لیے جہاں بنیادی تصورات پر زور دیا گیا ‘ وہیں اس عذاب عظیم کا احساس بھی دلایا گیا ‘ جس سے فی الواقع انسانی اعمال میں تبدیلی آتی ہے اور انسانی خواہشوں پر غلبہ پانے کی قوت پیدا ہوتی ہے۔
انسان کے اعمال اس کے مقصد حیات کے پرتو ہوتے ہیں
ایک اور حقیقت بھی قابل توجہ ہے کہ ان تمام تصورات اور بنیادی احساسات میں یقینا اتنی قوت ہے کہ ان کے قبول کرلینے کے بعد یہ ممکن نہیں ہے کہ زندگی میں تبدیلی نہ آئے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی امر واقعہ ہے کہ یہ تصورات کبھی دل و دماغ میں اترنے نہیں پاتے ‘ جب تک آدمی ایک اور بات کا فیصلہ نہ کرے۔ وہ بات یہ ہے کہ آخر زندگی گزارنے والا اپنے سامنے زندگی کی کامیابی اور اس کی کامرانی کسے قرار دیتا ہے اور اس کے سامنے وہ کون سی منزل اور کون سا ہدف ہے ‘ جس کو حاصل کرلینا ‘ اس کے نزدیک زندگی کی کامیابی ہے ؟ یہ وہ بات ہے ‘ جس کے فیصلے پر باقی تمام فیصلوں کا دارومدار ہے۔ ایک آدمی اگر حصول اقتدار کو اپنی کامیابی کی منزل قرار دیتا ہے تو اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوسکتی کہ اس کے اپنے اخلاق اور اللہ سے اس کا تعلق اور بنیادی اقدار سے اس کی وابستگی کا عالم کیا ہے۔ اسے تو اقتدار چاہیے ‘ چاہے اس کے لیے اسے بڑے سے بڑا ظلم اور بڑے سے بڑے گناہ کا ارتکاب ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ اسی طرح اگر ایک آدمی ‘ کامیابی دولت مندی کو سمجھتا ہے تو اس کے لیے یہ بات بےمعنی ہے کہ جائز ناجائز اور حلال اور حرام کی کیا اہمیت ہے۔ ہماری قریبی تاریخ میں غیر مسلم صحافیوں میں ایک مشہور صحافی سردار دیوان سنگھ مفتون گزرے ہیں۔ انھوں نے ایک زمانے میں خواجہ حسن نظامی مرحوم اور ملا واحدی مرحوم کے ساتھ مل کر ایک اخبار جاری کیا تھا۔ ملا واحدی لکھتے ہیں کہ میرا گھر دفتر اخبار سے متصل تھا۔ میں دفتر سے فارغ ہو کر اپنے گھر چلا جاتا اور کبھی ضرورت ہوتی تو دفتر کا چکر بھی لگا لیتا۔ میں نے ایک روز گئی رات دیکھا کہ دفتر میں لائٹ جل رہی ہے۔ میں دفتر آیا ‘ دیکھا سردار صاحب میز پر بیٹھے کام کر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا سردار صاحب ! کیا آپ صبح سے کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا جی ہاں ! تہجد کے وقت دیکھا تو پھر سردار صاحب کام کر رہے تھے۔ حتی کہ اگلی شام تک ناگزیر ضروریات کے علاوہ ‘ وہ مسلسل کام میں لگے رہے۔ میں نے حیران ہو کر ان سے کہا ! میں دیکھ کر پریشان ہو رہا ہوں کہ کل سے آپ مسلسل کام کر رہے ہیں۔ آخر آپ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں ؟ کہنے لگے تاکہ میں ایک کامیاب زندگی گزار سکوں۔ میں نے پوچھا آپ کے نزدیک کامیاب زندگی کا تصور کیا ہے ؟ کہنے لگے ‘ جب میں مروں تو کم از کم اپنے بینک میں ایک لاکھ روپیہ چھوڑ کر جاؤں۔ اس زمانے کا ایک لاکھ ممکن ہے آج کے ایک کروڑ کے برابر ہو۔ ممکن ہے آپ اسے ایک انفرادی واقعہ کہہ کر نظر انداز کردیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگ اسی طرح کے مقاصد زندگی ٹھہرا چکے ہیں اور پھر اسی کے لیے محنت کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے یہاں قرآن کریم نے توحید کے وسیع تر تصور کے ساتھ ساتھ ‘ اس بنیادی بات کو نظر انداز نہیں کیا کہ جہاں تمہارے لیے عقیدہ توحید کو دل و جان سے قبول کرنا ضروری ہے ‘ وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ پہلے اپنی کامیابی کا ہدف تو مقرر کرو۔ اسی پر باقی تمام باتوں کا دارومدار ہے۔ چناچہ اسی حوالے سے ارشاد فرمایا جا رہا ہے :
Ayah 6:16مَنْ یُّصْرَفْ عَنْہٗ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَہٗ ط وَ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ ۔ (الانعام : 16)
(جو شخص اس دن ‘ اس (عذاب) سے دور رکھا گیا ‘ در حقیقت وہی ہے ‘ جس پر خدا نے رحم فرمایا اور یہی کھلی کامیابی ہے ‘
اللہ کی نظر میں انسان کی اصل کامیابی
قرآن کریم نے اور بھی کئی جگہ انسان کی اس کامیابی کی خبر دی ہے کہ اقتدار کا حصول ‘ عزت و شہرت یا دولت مندی درحقیقت یہ کامیابیاں نہیں ہیں۔ یہ تو زندگی کی ضرورتوں کی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں۔ حقیقی کامیابی تو یہ ہے کہ ایک مسلمان زندگی اس طرح گزارے جس کے نتیجے میں وہ عذاب جہنم سے بچ جائے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے میں کامیاب ہو اور اللہ خوش ہو کر جنت کی نعمتوں کا اسے حقدار بنا دے۔ یہی وہ کھلی کامیابی ہے ‘ جس کے علاوہ اور کسی کامیابی کا تصور بھی صحیح نہیں۔ ظاہر ہے ‘ یہ کامیابی اسی خوش نصیب کو مل سکتی ہے ‘ جس نے اپنی پوری زندگی احکام شریعت کی تعمیل اور اللہ کی رضا کی طلب میں نہایت اخلاص اور دردمندی سے گزاری ہو۔ جس نے نہ کبھی حقوق اللہ کو پامال کیا ہو اور نہ حقوق العباد تلف کیے ہوں ‘ اس کے نتیجے میں اسے وہ ابدی زندگی نصیب ہوسکتی ہے ‘ جس کو یہاں الفوز المبین قرار دیا گیا ہے۔
انسانی زندگی چاہے انفرادی ہو یا اجتماعی۔ اس کی سمت سفر اور منزل کے صحیح تعین میں جو دشواریاں پیش آتی ہیں ‘ ان میں ایک بہت بڑی دشواری یہ ہے کہ آدمی یہ نہ سمجھ سکے کہ میرے نفع و ضرر کا مالک کون ہے۔ جیسے جیسے آدمی اس میں الجھتا جاتا ہے ‘ ویسے ویسے اس کے لیے آستانے بدلتے رہتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں اس کی زندگی شکست وریخت کا شکار ہوتی ہے۔ اس لیے اگلی آیت کریمہ میں انسانی زندگی کی اس بنیادی حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے ‘ جس کا سمجھنا اگرچہ آسان نہیں ‘ لیکن اسی پر انفرادی اور اجتماعی زندگی کی کامیابی کا دارومدار ہے۔
Ayah 6:17ارشاد فرمایا :
وَاِنْ یَّمْسَسْکَ اللہ ُ بِضُرِّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗٓ اِلَّا ھُوَ ط وَاِنْ یَّمْسَسْکَ بِخَیْرٍ فَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ (الانعام : 17)
(اور اگر اللہ تجھ کو کسی دکھ میں مبتلا کرے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو اس کا دور کرنے والا بن سکے اور اگر کسی خیر سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے ‘)
کامیاب زندگی گزارنے کی کنجی
جو بات اس آیت کریمہ میں کہی گئی ہے کہ آدمی اپنے نفع و ضرر کا مالک صرف اللہ ہی کو سمجھے۔ یہ عقیدہ توحید کی آخری بات ہے اور اس کے قبول کرنے اور اسے اختیار کرلینے کے بعد زندگی مکمل تبدیل ہوجاتی ہے۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسے قبول کرنے میں تو شاید دشواری نہ ہو ‘ مگر اس پر عمل کرنا آسان نہیں۔ دنیا میں بہت سے قوت کے آستانے ہیں ‘ بہت سے تخت اقتدار بچھے ہوئے ہیں ‘ بڑی بڑی حویلیاں ہیں ‘ جہاں و ڈیرے کبریائی کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ انسانی برادری میں کبر و نخوت کے بیشمار دعویدار ہیں ‘ جو دوسرے کا سر اٹھا کر چلنا برداشت نہیں کرتے اور کتنے ایسے معاشی ساہوکار ہیں ‘ جن کے حکم کی مخالفت انسان کے معاش کو تنگ کردیتی ہے۔ نتیجتاً اس کا جینا دوبھر ہوجاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اللہ تعالیٰ ہی کو نفع و ضرر کا مالک سمجھنا اور اس کے سوا کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا کسی کے سامنے سر نہ جھکانا ‘ کسی سے امیدیں وابستہ نہ کرنا اور کسی کی بندگی بجا نہ لانا ‘ یہ بہت مشکل کام ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے یہ بات فرمائی گئی ہے کہ آپ اپنے سارے مقامات اور مراتب کے باوجود جب تک اس بات کا یقین پیدا نہیں کریں گے کہ آپ کے نفع و ضرر کا مالک بھی اور آپ کی امیدوں کا پورا کرنے والا بھی ‘ صرف خداوند عالم ہے۔ اس وقت تک آپ توحید میں کامل نہیں ہوسکتے۔ حالانکہ آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر موحد کون ہوگا چونکہ یہ ایک مشکل بات تھی ‘ اس لیے بطور خاص آپ کو خطاب کر کے یہ بات کہی گئی ہے اور پھر اسی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ عام انسانوں کے حوالے سے بھی قرآن کریم نے جابجا اس کا ذکر کیا اور آنحضرت ﷺ نے اپنے ارشادات اور دعائوں میں بھی اسے دھرایا ‘ تاکہ اس مشکل ‘ لیکن ناگزیر احساس کو انسانی زندگی کا چلن بنادیا جائے۔ ارشاد فرمایا :
مَا یَفْتَحِ اللہ ُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَۃٍ فَلَا مُمْسِکَ لَھَا وَمَا یُمْسِکُ فَلَا مُرْسِلَ لَہٗ مِنْ بَعْدِہٖ
(یعنی اللہ تعالیٰ نے جو رحمت لوگوں کے لیے کھول دی اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جس کو روک دے اس کو کوئی کھولنے والا نہیں)
صحیح احادیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ اپنی دعائوں میں اکثر یہ کہا کرتے تھے :
اَللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ وَ لَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَا لجدِّ مِنْکَ الْجَدُّ
یعنی اے اللہ ! جو آپ نے دیا ‘ اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جو آپ نے روک دیا ‘ اس کا کوئی دینے والا نہیں اور کسی کوشش والے کی کوشش آپ کے مقابلہ میں نفع نہیں دے سکتی۔
امام بغوی ( رح) نے اس آیت کے تحت حضرت عبد اللہ ابن عباس ( رض) سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ ایک سواری پر سوار ہوئے اور مجھے اپنے پیچھے ردیف بنا لیا۔ کچھ دور چلنے کے بعد میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اے لڑکے !۔ میں نے عرض کیا ‘ حاضر ہوں۔ کیا حکم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اللہ کو یاد رکھو ! اللہ تم کو یاد رکھے گا۔ تم اللہ کو یاد رکھو گے تو اس کو ہرحال میں اپنے سامنے پائو گے ‘ تم امن و عافیت اور خوش عیشی کے وقت اللہ تعالیٰ کو پہچانو تو تمہاری مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ تم کو پہچانے گا ‘ جب تم کو سوال کرنا ہو تو صرف اللہ سے سوال کرو اور مدد مانگنی ہو تو صرف اللہ سے مدد مانگو۔ جو کچھ دنیا میں ہونے والا ہے ‘ قلم تقدیر اس کو لکھ چکا ہے۔ اگر ساری مخلوقات مل کر اس کی کوشش کریں کہ تم کو ایسا نفع پہنچا دیں ‘ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے حصہ میں نہیں رکھا تو وہ ہرگز ایسا نہ کرسکیں گے اور اگر وہ سب مل کر اس کی کوشش کریں کہ تم کو ایسا نقصان پہنچاویں ‘ جو تمہاری قسمت میں نہیں ہے تو ہرگز اس پر قدرت نہ پائیں گے۔ اگر تم کرسکتے ہو کہ یقین کے ساتھ اس پر عمل کرو تو ایسا ضرور کرلو ‘ اگر اس پر قدرت نہیں تو صبر کرو کیونکہ اپنی خلاف طبع چیز پر صبر کرنے میں بڑی خیر و برکت ہے اور خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کی مدد صبر کے ساتھ ہے اور مصیبت کے ساتھ ‘ راحت اور تنگی کے ساتھ ‘ فراخی ہے۔ (یہ حدیث ترمذی اور مسند احمد میں بھی بسند صحیح مذکور ہے)
افسوس کہ قرآن کے اس واضح اعلان اور رسول کریم ﷺ کی عمر بھر کی تعلیمات کے باوجود یہ امت پھر اس معاملہ میں بھٹکنے لگی۔ سارے خدائی اختیارات مخلوقات کو بانٹ دیئے۔ آج ایسے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد ہے ‘ جو مصیبت کے وقت بجائے اللہ تعالیٰ کو پکارنے اور اس سے دعا مانگنے کے مختلف ناموں کی دہائی دیتے اور انہی سے مدد مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف دھیان تک نہیں ہوتا۔ انبیاء و اولیاء کے توسل سے دعا مانگنا دوسری بات ہے ‘ وہ جائز ہے اور خود نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں اس کے شواہد موجود ہیں۔ لیکن براہ راست کسی مخلوق کو حاجت روائی کے لیے پکارنا ‘ اس سے اپنی حاجتیں مانگنا ‘ اس قرآنی حکم کے خلاف کھلی بغاوت ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو صراط مستقیم پر قائم رکھے۔ (آمین)
Ayah 6:18اسی بات کی تائید ‘ استحکام اور مزید وضاحت کے لیے ارشاد فرمایا :
وَھُوَ القَاھِرُ فَوْقَ عَبَادِہٖ ط وَھُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ ۔ (الانعام : 18)
(اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے اور وہ حکیم وخبیر ہے)
یعنی اللہ تعالیٰ ہی اپنے سب بندوں پر غالب و قاد رہے۔ سب اس کے قبضہ اختیار اور اس کے کنٹرول میں ہے ‘ سب اس کی قدرت کے تحت اور محتاج ہیں یہی وجہ ہے کہ دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا انسان خواہ اللہ کا رسول ہو اور خواہ وہ دنیا کا شہنشاہِ اعظم ہو ‘ اپنے ہر ارادہ میں کبھی کامیاب نہیں ہوتا اور اس کی ہر مراد کبھی پوری نہیں ہوتی۔
آیت میں قاھر کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کو سمجھ لینا چاہیے۔ قہر کا لفظ عربی میں اس معنی میں استعمال نہیں ہوتا جس معنی میں اردو میں استعمال ہوتا ہے بلکہ اس کے معنی اختیار قابو حکومت اور تسلط میں رکھنے کے آتے ہیں۔ انگریزی لفظ (Control) کا جو مفہوم ہے وہی مفہوم عربی میں اس لفظ کا ہے اسی سے لفظ قہار مبالغہ کا صیغہ ہے جو اسمائے حسنیٰ میں سے ہے جس کے معنی کنٹرولر کے ہیں یعنی تمام جہان اور اس کے تمام بندے ہر آن اس کی مٹھی اور اس کے قابو میں ہیں وہ ان کو قابو میں رکھنے کے لیے نہ کسی مددگار کا محتاج ہے اور نہ اس امر کا اندیشہ ہے کہ جب وہ ان کو پکڑنا یا اکٹھا کرنا چاہے تو کوئی اس کی گرفت سے نکل سکتا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ وہ حکیم بھی ہے اور خبیر بھی۔ حکیم اس لیے ہے کہ اس کے تمام افعال عین حکمت ہیں اور خبیر اس لیے کہ وہ ہر چیز کو جانے والا ہے۔