Ayah 6:53ارشاد فرمایا :
وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَھٰٓؤُلَآئِ مَنَّ اللہ ُ عَلَیْہِمْ مِّنْم بَیْنِنَا ط اَلَیْسَ اللہ ُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰکِرِیْنَ ۔ (الانعام : 53)
(اور اسی طرح ہم نے ان میں سے ایک کو دوسرے سے آزمایا ہے کہ وہ کہیں کہ کیا یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہمارے درمیان سے اپنے فضل کے لیے چنا کیا اللہ شکر گزاروں سے اچھی طرح واقف نہیں)
اللہ کی رضا کا معیار سیم و زر اور دنیا کا ٹھاٹھ باٹھ نہیں بلکہ اس کی شکر گزاری ہے
اس آیت کریمہ میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ ان کے ان تمام مطالبات کا سبب اور مسلمانوں کو بنظر حقارت دیکھنے کی وجہ ان کی یہ گمراہی ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی فرد یا کسی قوم کی عظمت اور بڑائی کا سبب اس فرد یا اس قوم کی خوشحالی ہے جس کے پاس درہم و دینار اور سیم و زر کی بہتات ہے ان کی نگاہ میں وہ آدمی عزت والا اور بڑا ہے اور جس بیچارے کو نان شبینہ کے سوا کچھ میسر نہیں اور وہ زندگی کی گاڑی کو بڑی مشکل سے گھسیٹ رہا ہے وہ چاہے اپنے سیرت و کردار کے اعتبار سے کیسا بھی عظیم کیوں نہ ہو ان کے نزدیک وہ ایک معمولی اور ناقابل ذکر آدمی ہے۔ عزت اور ذلت ‘ عظمت اور نکبت کے انھوں نے یہ جو معیارات بنا رکھے تھے انہی کی وجہ سے وہ ان گمراہیوں میں مبتلا تھے۔ وہ یہ بات کسی طرح سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھے کہ دولت آدمی کے لیے عزت کی علامت نہیں اور غربت آدمی کی ذلت کا نشان نہیں۔ یہ تو دنیا کی ضروریات ہیں اس سے عزت اور ذلت کا کیا تعلق ہوسکتا ہے۔ لیکن انھوں نے اسی کو حقیقی معیار سمجھ کر اپنی تمام فلاسفی کی عمارت تعمیر کی تھی۔ اور یہی وہ بنیادی خرابی تھی جس نے مکہ کے معاشرے کو طبقات میں تقسیم کردیا تھا۔ قرآن کریم ان کی اس گمراہی کا ذکر کرتے ہوئے اس حقیقت کو منکشف فرما رہا ہے کہ امارت اور غربت، عزت اور ذلت کی علامتیں نہیں بلکہ فی الحقیقت اللہ کی طرف سے آزمائش ہیں۔ امیر اس لیے امیر نہیں کہ وہ اس کا حقدار ہے اور غریب اس لیے غریب نہیں کہ وہ اس کا سزاوار ہے بلکہ اللہ کی مشیت دونوں حوالوں سے کارفرما ہے وہ جس کو امیر بناتا ہے تو اس کی امارت اس کے لیے آزمائش ہوتی ہے اور جسے غربت سے دوچار کرتا ہے اسے غربت کے ذریعے آزماتا ہے۔ امیر کو مال و دولت دے کر آزمایا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی بخشی ہوئی نعمت پا کر اس کا شکر گزار ‘ متواضع اور فرمانبردار بندہ بنتا ہے یا مغرور اور متکبر ہو کر اکڑنے والا ‘ اترانے والا ‘ غریبوں کو دھتکارنے والا اور خدائی نعمتوں کا اجارہ دار بن کر بیٹھ جاتا ہے۔ اسی طرح ایک غریب آدمی کو جب وہ غربت دیتا ہے تو یہ دیکھنے کے لیے دیتا ہے کہ کیا وہ اپنی غربت پر صابر اور اپنی نان جویں پر قانع ‘ اپنی تقدیر پر راضی اور اپنے فقر میں خوددار ہے یا مایوس و دل شکستہ ہو کر پست ہمت ‘ بےحوصلہ ‘ تقدیر سے شاکی ‘ خدا سے برہم اور ذلیل و خوار ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ وہ امتحان ہے جس میں امیر اور غریب دونوں کو مبتلا کیا جاتا ہے۔ جو اس امتحان میں پورا اترتا ہے وہ اللہ کے یہاں عزت پاتا ہے اور جو ناکام ہوتا ہے وہ ذلیل ہوجاتا ہے۔ رہی مال و دولت اس کا عزت اور ذلت سے کوئی تعلق نہیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا یہ تو ایک آزمائش ہے۔ اس آزمائش کے نتیجے میں جس نے تقویٰ کو پا لیا وہ عزت کا مستحق بن جاتا ہے اور جس نے تقویٰ کے برعکس زندگی گزاری اور ایمان و عمل کی بجائے درہم و دینار کی غلامی اختیار کرلی۔ دنیا چاہے اس کے بارے میں کچھ بھی سمجھے اللہ کی نگاہ میں وہ کسی طرح کی عزت کا مستحق نہیں ہوتا۔ آنحضرت ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں نہایت زور دار انداز میں فرمایا تھا کہ اے قریش کے لوگو ! تمہاری عزت و سطوت کے تمام جھوٹے دعوے آج میں اپنے قدموں تلے روندتا ہوں۔ آج کے بعد کسی عجمی کو کسی عربی پر ‘ کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت نہیں ‘ سوائے تقویٰ کے۔ یہ ایک ایسا زلزلہ آسا اعلان تھا جس نے پوری انسانی تہذیب و ثقافت کو متاثر کیا۔ امراء نے اس حقیقت کو جان کر دولت کو اللہ کی امانت سمجھا۔ اس پر بھروسہ کرنے کی بجائے اسے خلق خدا کی خدمت اور مکارمِ اخلاق کی تعمیر کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا اور اپنی ذات کی کمزوریوں کو درہم و دینار کی اوٹ میں چھپانے کی بجائے اللہ کے تقویٰ سے آراستہ غریب اور پسے ہوئے طبقے اس نوید جاں فزا کے بعد نئی قوت سے سرشار ہو کر اٹھے اور انھوں نے اقدار انسانیت کو راہنما بنا کر دنیا میں ایک ایسی تاریخ مرتب کی جس پر قیامت تک اسلام اور مسلمان فخر کرتے رہیں گے۔
قریش کی جس گمراہی کا ذکر کیا گیا ہے اس کا اثر یہیں تک محدود نہیں رہا کہ انھوں نے دولت دنیا کو صرف عزت و ذلت کا معیار سمجھا ہو بلکہ آگے بڑھ کر وہ ایک اور خباثت اور غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے کہ کسی کے پاس سیم و زر کی بہتات اور دولت کی ریل پیل یہ اللہ کی نگاہ میں اس کے مقبول ہونے کی علامت ہے ‘ جب اللہ کسی سے خوش ہوتا ہے تو وہ اسے خوشحال کردیتا ہے اور جب کسی سے ناراض ہوتا ہے تو اسے بدحال بنا کر دنیا کی تلخیوں میں مبتلا کردیتا ہے۔ اسی طرح وہ یہ بھی سمجھنے لگے کہ دولت دنیا چونکہ اللہ کی پسندیدگی کی علامت ہے اس لیے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہر خیر اور بھلائی کی بات وہ اللہ کی طرف سے جب عطا ہوتی ہے تو دولت مندوں کو ہوتی ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن اگر اللہ تعالیٰ اپنی رضا اور اپنی نعمتوں سے کسی کو نوازے گا تو وہ اس کے وہ بندے ہوں گے جن کو اس نے دنیا میں خوشحالی عطا فرمائی تھی۔ رہے وہ لوگ جو دنیا میں تنگی اور ترشی سے گزارا کرتے رہے وہ آخرت میں بھی اسی سلوک کے مستحق سمجھے جائیں گے اور دنیا میں بھی کسی خیر اور بھلائی سے کبھی ان کا تعلق نہیں ہوسکتا۔ چناچہ اپنے اسی فرسودہ فلسفے سے استدلال کرتے ہوئے وہ مسلمانوں پر طعن توڑتے تھے جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں اللہ نے جن پر احسان فرمایا ہے یعنی ان کو اپنے دین کی دولت سے نوازا ہے اور آخرت میں یہی لوگ کامیاب و کامران ہوں گے اور جنت کی نعمتیں ان کو عطا کی جائیں گی۔ اگر یہ لوگ کسی قابل ہوتے تو دنیا میں اللہ تعالیٰ ان کو اس طرح برے حالوں میں کیوں رکھتا۔ ان کی جسارتوں کا عالم یہ تھا وہ نبی کریم ﷺ سے بھی درگزر نہیں کرتے تھے بلکہ آپ کو بھی استہزاء کا نشانہ بناتے اور یہ کہتے کہ نبوت تو اللہ کا ایک بہت بڑا منصب ہے یہ تو کسی چھوٹے معمولی آدمی کو کبھی عطا ہونے والا نہیں اگر اللہ کی جانب سے نبوت آنا ہوتی تو یقینا مکہ کے رئوسا یا طائف کے امراء کو ملتی۔ تم ایک یتیم ‘ نادار اور غریب آدمی ہو تمہیں نبوت کیسے مل سکتی ہے۔ اصل بیماری وہی ہے کہ انھوں نے دنیا اور دولت دنیا کو عزت اور اللہ کی خوشنودی کا معیار سمجھا اور پھر اس سے نتائج نکالتے چلے گئے۔ پروردگار نے ان کی اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا : اَلَیْسَ اللہ ُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰکِرِیْنَ کیا اللہ تعالیٰ شکرگزار بندوں سے اچھی طرح واقف نہیں۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ تم نے دین کو دنیا پر قیاس کر کے یہ سمجھا ہے کہ جسے دنیا ملی ہے ظاہر ہے دین کا مستحق بھی وہی ہے حالانکہ خدا کا دین سونا ‘ چاندی یا ریشم اور مخمل نہیں ‘ جس کی کاٹھی اور جس کے جھول گدھوں ‘ خچروں ‘ گھوڑوں اور اونٹوں پر بھی نظر آجاتے ہیں۔ یہ تو آسمانی نعمت اور یزدانی رحمت ہے یہ صرف ان کا حصہ ہے جو ہرحال میں اپنے رب کے شکر گزار ہیں۔ جنھوں نے اللہ کی نعمتوں کی قدر کی ‘ جنھوں نے اپنی صلاحیتوں کا حق ادا کیا ‘ جنھوں نے اپنے کان کھلے رکھے ‘ جنھوں نے اپنی آنکھوں پر غرور کی پٹی نہیں باندھی اور جنھوں نے اپنے دلوں کو مردہ نہیں ہونے دیا۔ رہے وہ نابکار اور ناشکرے لوگ جنھوں نے خدا کی بخشی ہوئی تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کو اللہ ہی کے خلاف استعمال کیا ان کے لیے اس نعمت میں کوئی حصہ نہیں۔ دنیا نیک و بد دونوں کو مل جاتی ہے۔ یہ تو خزف ریزے ہیں جو کسی کے نصیب میں بھی ہوسکتے ہیں لیکن دین کی نعمت صرف انہی کو ملتی ہے جو اللہ کے شکرگزار بندے ہیں اور جن کا ظرف اس کا متحمل ہوسکتا ہے۔ جن کی زندگی صرف کھانے پینے ‘ نائو نوش ‘ اوڑھنے پہننے اور ضروریاتِ زندگی تک محدود ہے اور ان کی ساری اولوالعزمیاں عزت اور لذت کے حصول میں صرف ہوتی ہیں وہ بہتر حیوانی زندگی کو مقصد انسانیت سمجھتے ہیں۔ انھیں دنیا تو مل سکتی ہے لیکن ایسے انسانیت سے بیخبر لوگوں کو دین نصیب نہیں ہوتا۔ دین کے لیے حیوانی زندگی سے ہاتھ اٹھانا ‘ حیوانی خصائص سے ارفع و اعلیٰ ہونا ‘ حرص و ہوا سے ایثار و استغنا کی منزل تک پہنچنا ‘ دنیا اور دولت دنیا کو منتہا اور مقصود سمجھنے کی بجائے اللہ کی رضا کو اور خدمت انسانیت کو مقصود بنانا یہ وہ چند باتیں ہیں جن کے بغیر دین نہیں ملتا اور اگر مل بھی جائے تو اس کے مقاصدنصیب نہیں ہوتے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھیں یہاں شکرگزار کہہ کر یاد کیا گیا ہے۔ صحابہ کے پاس دولت دنیا نہ سہی ‘ ٹھاٹھ باٹھ اور کروفر نہ سہی ‘ انسانیت کے یہ جواہر ان کی گردنوں میں آویزاں تھے اور خوشنودیٔ مولیٰ ان کی پیشانی کا جھومر تھی یہ وجہ ہے کہ اشراف قریش کی نگاہ میں وہ کچھ بھی نہیں تھے اس لیے کہ یہ بصیرت سے محروم لوگ تھے۔ لیکن اللہ اور اس کے رسول کی نگاہ میں وہ انسانیت کا گل سر سبد تھے اور پوری اللہ کی زمین پر یہی وہ لوگ تھے جس کی وجہ سے اللہ کی دھرتی قائم تھی اور انسانیت جن پر فخر کرتی تھی۔ ظاہر ہے اس وقت کی تاریخ کے اتنے بڑے لوگوں کو اگر انھوں نے طعنوں اور حقارت بھرے طرز عمل سے پریشان و مغموم کیا ہے جس سے ان کی دل آزاری ہوئی ہے تو کیسے ممکن تھا کہ اللہ کی طرف سے ان کی اشک شوئی نہ ہوتی اور ان کے مرتبہ و مقام کے مطابق پروردگار کی رحمت ان پر نہ برستی۔ اس لیے آنحضرت ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے :
Ayah 6:54وَاِذَاجَآئَکَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌعَلَیْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ لا اَنَّہٗ مَنْ عَمِلَ مِنْکُمْ سُوْٓئًما بِجَھَالَۃِ ثُمَّ تَابَ مِنْم بَعْدِہٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّہٗ غَفُوْرٌرَّحِیْمُٗ ۔ (الانعام : 54)
(اور جب تمہارے پاس وہ لوگ آیا کریں جو ہماری آیات پر ایمان لائے تو تم ان کو کہو کہ تم پر سلامتی ہو تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے جو کوئی تم میں سے نادانی سے کوئی برائی کر بیٹھے گا پھر اس کے بعد وہ توبہ اور اصلاح کرلے گا تو وہ بخشنے والا اور مہربان ہے )
اللہ تعالیٰ اہل ایمان پر سلام بھیجتا ہے
اشراف قریش کا اصرار تو یہ تھا کہ آپ انھیں اپنے سے دور کریں تاکہ ہم آپ کے پاس آسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کو اس سے منع فرما دیا کہ آپ اشراف قریش کی خاطر ان صحابہ کو ہرگز اپنی صحبت سے دور نہ فرمائیں۔ تصور کیجئے کہ آنحضرت ﷺ نے جب یہ مژدہ صحابہ کو سنایا ہوگا تو صحابہ یہ سن کر اپنی قسمت پر ناز کرتے ہوئے یقینا آنحضرت کی بارگاہ کی طرف دیوانہ وار بڑھے ہوں گے۔ کیونکہ انھیں حضور سے چند لمحوں کی جدائی بھی گوارا نہ تھی اور پھر جب انھوں نے دیکھا کہ ان چند لمحوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے خود مداخلت فرمائی ہے تو اب ان کے شوق کی فراوانی اور اس کی وسعت کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے کہ وہ کس بےتابی اور بےچینی سے لپکتے ہوئے حضور کی خدمت میں آئے ہوں گے۔ بخدا ان غریب صحابہ کی عزت و حرمت کا کیا ٹھکانہ ہے اور دنیا میں شاید ہی کسی کو اس سے پہلے کبھی یہ عزت ملی ہو اور آئندہ تو ملنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وحی الٰہی کا سلسلہ بند ہوگیا کہ خود پروردگار اپنے عظیم رسول کو جس کے سامنے کائنات کی عظمتیں ہیچ ہیں حکم دے رہا ہے کہ جب آپ کے یہ غریب صحابہ آپ کے پاس آئیں تو آپ ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے ہماری طرف سے انھیں سلام پہنچائیں اور سلامتی کی نوید سنائیں۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے اتنے بڑے اعزاز پر صحابہ کی کیفیت کیا ہوگی۔ لیکن آج ہم جب ساڑھے چودہ سو سال کے بعد بھی اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت کرتے ہیں تو بےساختہ یہ خیال آتا ہے
ع یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے
اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر رحمت واجب کرلی ہے
اس آیت میں سَلٰمٌعَلَیْکُمْکا لفظ استعمال ہوا ہے ہم بھی اپنی مجلسی زندگی میں السلام علیکم استعمال کرتے ہیں یہ وہی لفظ ہے ہم اسے کسی مجلس میں آتے ہوئے سلامِ اجازت کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور یا کسی مجلس سے رخصت ہوتے ہوئے سلام رخصت کے طور پر بولتے ہیں لیکن عربوں میں اس کا ایک اور استعمال بھی ہے۔ قرآن کریم نے اسی معنی میں یہاں استعمال کیا ہے وہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی سے ملنے آتا ہے تو اس کا استقبال کرتے ہوئے اسے خود آگے بڑھ کر سلام کہا جاتا ہے اسے خیر مقدمی سلام کہتے ہیں۔ قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے کہ قیامت کے دن فرشتے اہل جنت کا استقبال اسی لفظ سے کریں گے اور ان کو خوش آمدید کہتے ہوئے انھیں جنت میں داخلے کی درخواست کریں گے۔ یہاں بھی حضور سے فرمایا جا رہا ہے کہ جب وہ آپ کی مجلس میں آئیں تو آپ سَلٰمٌعَلَیْکُمْ کہہ کر ان کا خیر مقدم کریں۔ اس سے ان کے دل میں جو کھٹکا پیدا ہوگیا تھا کہ شاید ہمیں حضور کی صحبت سے کبھی کبھی دور رہنا پڑے گا اور کہیں یہ ہمارے لیے محرومی کا باعث نہ بن جائے یہ کھٹکا ان کا دور ہوجائے گا۔ جب انھیں یہ معلوم ہوگا کہ پروردگار خود ان پر سلامتی بھیج رہے ہیں اور چونکہ رسول اللہ ﷺ کی زبان سے یہ سلامتی بھیجی جا رہی ہے اس لحاظ سے کہ سلامتی میں حضور کی دعا بھی شامل ہے۔ پھر اسی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ مزید ارشاد ہوا کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ ” تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کرلیا ہے “} اس میں مخاطب صحابہ ہیں اگرچہ یہ رحمت پوری کائنات کے لیے ہے ‘ لیکن صحابہ کو مخاطب کر کے بطور خاص نوازا جا رہا ہے۔ احادیث مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت کو بیان کرتے ہوئے حضرت سلمان فارسی فرماتے ہیں کہ ہم نے تورات میں یہ لکھا دیکھا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آسمان زمین اور اس کی ساری مخلوقات کو پیدا فرمایا تو صفت رحمت کے سو حصے کر کے اس میں سے ایک حصہ ساری مخلوقات کو تقسیم کردیا چناچہ انسان اور جانور اور دوسری مخلوقات میں جہاں بھی کوئی اثر رحمت کا پایا جاتا ہے وہ اسی حصہ تقسیم شدہ کا اثر ہے۔ ماں باپ اور اولاد میں ‘ بھائی بہنوں میں ‘ شوہر بیوی میں ‘ عام رشتہ داروں میں ‘ پڑوسیوں اور دوسرے دوستوں میں جو باہمی ہمدردی اور محبت و رحمت کے تعلقات مشاہدہ کیے جاتے ہیں وہ سب اسی ایک حصہ رحمت کے نتائج ہیں۔ باقی ننانوے حصے رحمت کے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے لیے رکھے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اپنی مخلوق پر کیسی اور کس درجے ہے۔ یہ تو عام مخلوقات کا حال ہے۔ لیکن جن خوش نصیب انسانوں سے خطاب فرما کر پروردگار اپنی رحمت کا ذکر فرما رہا ہے کیا کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کیسی کچھ رحمت ان کے حال پر ہوگی اور پھر مزید یہ کہ اس آیت کریمہ میں رحمت کے ذکر کے ساتھ ساتھ رَبُّکُمْ کا ذکر بھی ہے یعنی وہ ذات جس نے اپنے اوپر رحمت لازم کی ہے وہ صرف خالق کائنات اور تمہارا خالق ہی نہیں بلکہ تمہارا رب بھی ہے۔ رب کا معنی ہے زندگی کے ہر دور ‘ ہرحال اور ہر ضرورت کے مطابق تربیت کا سامان کرنے والا۔ اس کی ادنیٰ مثال دیکھنی ہو تو ماں کی ذات میں دیکھ لو اس کے اندر تربیت اور پرورش کا جو بےپناہ جذبہ ہمیں مامتا کی صورت میں دکھائی دیتا ہے کہ وہ دنیا کا ہر دکھ اٹھاکر اپنے بچے کے سکھ کا انتظام کرتی ہے وہ بڑے سے بڑے خطرے کا سامنا کرتے ہوئے اپنے بچے کو خطرے میں مبتلا نہیں دیکھ سکتی۔ وہ زندگی کی ہر راحت اپنے بچے پر قربان کردیتی ہے۔ اس کی نگرانی کی آنکھ اور اس کے دل میں محبت کے جوش سے اٹھنے والا ولولہ برابر اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ یہ پرورش کی ایک محدود مثال ہے ‘ پروردگار اس سے بڑھ کر اپنے بندوں کی ضروریات کو جاننے والا اور ایک ماں سے بڑھ کر پرورش کا جوش اپنے اندر رکھنے والا ہے۔ جب وہ کسی کو اپنی رحمت کا حوالہ دیتے ہوئے اپنا تعارف بھی کراتا ہے کہ میں تمہارا رب ہوں اور پھر میں نے اپنے اوپر رحمت لازم کرلی ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ پھر ان صحابہ کی قسمت اپنی سرفرازی اور اپنی گراں باری میں کیا قدر و قیمت رکھتی ہوگی۔
توبہ اور اصلاح کے بعد گناہ معاف ہوجاتے ہیں
انسانی زندگی کتنی بھی پاکیزہ کیوں نہ ہو ‘ اس میں کبھی کسی چال کا لڑکھڑاہٹ سے آشنا نہ ہونا اور کسی خیال میں گناہ کی آلودگی کا در نہ آنا یہ اللہ کے نبیوں کے سوا بہت مشکل بات ہے۔ اس لیے پروردگار نے اپنے بندوں کی فطری کمزوریوں کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنی رحمت کا اظہار توبہ کی صورت میں فرمایا۔ یہاں بطور خاص ان صحابہ کو سابقہ اور موجودہ غلطیوں اور کوتاہیوں کے حوالے سے یہ مژدہ سنایا جا رہا ہے کہ اس بات کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا کہ تم سے پہلے بھی غلطیاں ہوئی ہوں اور آئندہ بھی شاید ہوں لیکن گھبرانے کی بات نہیں ہم تمہارے لیے بطور خاص اور پوری نوع انسانی کے لیے بطور عام ایک ضابطہ عطا فرما رہے ہیں کہ
اَنَّہٗ مَنْ عَمِلَ مِنْکُمْ سُوْٓئًما بِجَھَالَۃِ ثُمَّ تَابَ مِنْم بَعْدِہٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّہٗ غَفُوْرٌرَّحِیْم
یعنی جو آدمی جہالت سے کوئی برا کام کر بیٹھے اور اس کے بعد وہ توبہ کرلے اور اپنے عمل کو درست کرلے تو اللہ تعالیٰ بہت مغفرت کرنے والے ہیں ‘ اس کے گناہ کو معاف فرما دیں گے اور بہت رحمت کرنے والے ہیں کہ صرف معافی پر کفایت نہ ہوگی بلکہ انعامات سے بھی نوازا جائے گا۔
اس آیت میں لفظ جہالت سے بظاہر یہ خیال ہوسکتا ہے کہ گناہ کی معافی کا وعدہ صرف اس صورت میں ہے جب کہ ناواقفیت اور جہل کے سبب سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے ‘ جان بوجھ کر گناہ کرنے والا اس حکم میں داخل نہیں ‘ لیکن حقیقت یہ نہیں کیونکہ جہالت سے مراد اس جگہ عمل جہالت ہے ‘ یعنی ایسا کام کر بیٹھے جیسا نتیجہ سے جاہل و بیخبر کیا کرتا ہے ‘ یہ ضرور نہیں کہ وہ واقع میں جاہل ہو ‘ اس کی تائید خود لفظ جہالت سے بھی ہوتی ہے کہ یہاں لفظ جہل کے بجائے جہالت کا لفظ شاید اسی کی طرف اشارہ کرنے کے لیے ہی استعمال کیا گیا ہے کیونکہ جہل تو علم کا مقابل ہے اور جہالت حلم و وقار کے مقابل ہے یعنی لفظ جہالت محاورات میں بولا ہی جاتا ہے عملی جہالت کے لیے اور اگر غور کیا جائے تو گناہ جب بھی کسی سے سرزد ہوتا ہے تو اس عملی جہالت ہی کی وجہ سے ہوتا ہے ‘ اسی لیے بعض بزرگوں کا قول ہے کہ جو شخص اللہ و رسول ﷺ کے کسی حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ جاہل ہے ‘ مراد اس سے یہی عملی جہالت ہے ناواقف اور بےعلم ہونا ضروری نہیں کیونکہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کی بیشمار نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں کہ توبہ کرنے سے ہر گناہ معاف ہوسکتا ہے خواہ غفلت و جہل کی وجہ سے سرزد ہوا ہو یا جان بوجھ کر شرارتِ نفس اور اتباعِ ہویٰ کی وجہ سے۔
اس جگہ یہ بات خاص طور پر قابل نظر ہے کہ اس آیت میں گناہگاروں سے مغفرت اور رحمت کا جو وعدہ فرمایا گیا ہے وہ دو چیزوں کے ساتھ مشروط ہے ایک توبہ ‘ دوسرے اصلاحِ عمل ‘ توبہ کے معنی ہیں گناہ پر ندامت۔ حدیث میں ارشاد ہے انما التوبہ الندم ” یعنی توبہ نام ہے ندامت کا “۔
دوسرے آئندہ کے لیے اصلاح عمل ‘ اس اصلاح عمل میں یہ بھی داخل ہے کہ آئندہ اس گناہ کے پاس نہ جانے کا عزم اور پورا اہتمام کرے اور یہ بھی شامل ہے کہ سابقہ گناہ سے جو حقوق کسی کے ضائع ہوئے ہیں تاحد اختیار ان کو ادا کرے خواہ وہ حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد ‘ حقوق اللہ کی مثال نماز ‘ روزہ ‘ زکوٰۃ ‘ حج وغیرہ فرائض میں کوتاہی کرنا ہے اور حقوق العباد کی مثال کسی کے مال پر ناجائز قبضہ و تصرف کرنا ‘ کسی کی آبرو پر حملہ کرنا ‘ کسی کو گالی گلوچ کے ذریعہ یا کسی دوسری صورت سے ایذاء پہنچانا ہے۔
اس لیے تکمیلِ توبہ کے لیے جس طرح یہ ضروری ہے کہ گزشتہ گناہ پر ندامت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے اور آئندہ کے لیے اپنے عمل کو درست رکھے ‘ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ جو نمازیں یا روزے غفلت سے ترک ہوگئے ہیں ان کی قضا کرے ‘ جو زکوٰۃ نہیں دی گئی وہ اب ادا کرے ‘ قربانی یا صدقۃ الفطر جیسے واجبات میں کوتاہی ہوئی ہے تو ان کو ادا کرے ‘ حج فرض ہونے کے باوجود ادا نہیں کیا تو اب ادا کرے اور خود نہ کرسکے تو حج بدل کرائے اور اگر اپنے سامنے حج بدل اور دوسری قضائوں کا موقع پورا نہ ملے تو وصیت کرے کہ اس کے وارث اس کے ذمہ عائد شدہ واجبات کا فدیہ یا حج بدل کا انتظام کریں ‘ خلاصہ یہ ہے کہ اصلاح عمل کے لیے صرف آئندہ کا عمل درست کرلینا کافی نہیں ‘ پچھلے فرائض و واجبات کو ادا کرنا بھی ضروری ہے۔
اسی طرح حقوق العباد میں اگر کسی کا مال ناجائز طور پر لیا ہے تو اس کو واپس کرے یا اس سے معاف کرائے اور کسی کو ہاتھ یا زبان سے ایذاء پہنچائی ہے تو اس سے معاف کرائے ‘ اور اگر اس سے معاف کرانا اختیار میں نہ ہو مثلاً وہ مرجائے یا ایسی جگہ چلا جائے جس کا اس کو پتہ معلوم نہیں تو اس کی تدبیر یہ ہے کہ اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائے مغفرت کرتے رہنے کا التزام کرے ‘ اس سے امید ہے کہ صاحب حق راضی ہوجائے گا اور یہ شخص سبکدوش ہوجائے گا۔ اگلی آیت کریمہ میں حاصل مضمون کے طور پر آخری بات فرمائی گئی۔
Ayah 6:55ارشاد فرمایا :
وَ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ (الانعام : 55)
(اور اسی طرح ہم اپنی آیات کی تفصیل کرتے ہیں تاکہ اہل ایمان کی روش بھی واضح ہوجائے اور مجرموں کا رویہ بھی بےنقاب ہوجائے )
اس آیت کریمہ میں لِتَسْتَبِیْنَ کا معطوف علیہ محذوف معلوم ہوتا ہے ہم نے اس کو ترجمے میں کھول دیا۔ اس طرح کی حذف کی مثالیں قرآن کریم میں عام ہیں اور قرآن کریم کا یہ خاص اسلوب ہے۔
آیاتِ الٰہی کی تفصیل سے اہل ایمان اپنی منزل متعین کرسکتے ہیں
حاصل مضمون کے طور پر یہ فرمایا جا رہا ہے کہ تم نے مشرکینِ مکہ کی روش کے ساتھ ساتھ ان کے مطالبات اور ان کے دلائل بھی دیکھے اور قرآن کریم نے ان کے الجھے ہوئے خیالات کے ازالے اور راہنمائی کے لیے نہایت موثر دلائل ارشاد فرمائے اور ساتھ ہی ساتھ قرآنی تعلیمات اور آنحضرت ﷺ کی تربیت کے نتیجے میں صحابہ کرام کی صورت میں جو نہایت خوبصورت اور دل آویز کردار تیار ہوا اس کی جھلک بھی ہم نے دیکھی۔ پھر دونوں کے انجام کو ہمارے سامنے کھول کے رکھ دیا گیا۔ ایک کا انجام دنیا میں رسوائی اور آخرت میں تباہی اور دوسرے کا انجام دنیا میں بھی کامرانی اور آخرت میں بھی فوز و فلاح ٹھہرا۔ ان دونوں کی تفصیلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے یہ تمام تفصیلات اس لیے کھول کر بیان کردی ہیں تاکہ قرآن کریم پڑھنے والوں اور اس سے راہنمائی حاصل کرنے والوں کو یہ سمجھنے میں دشواری پیش نہ آئے کہ قرآن کریم کی دعوت کیا ہے اور اس کے ماننے والوں کا سیرت و کردار کیسا ہوتا ہے اور مشرکین کی الجھنیں کیا ہیں اور ہر دور میں ان کا انجام کیا ہوا ان دونوں باتوں کے واضح ہوجانے کے بعد کسی بھی قرآن کریم کے طالب علم کے لیے ہدایت و ضلالت کے حوالے سے فیصلہ کرنا اس قدر آسان ہوگیا ہے کہ اب اس فیصلہ سے صرف وہی محروم رہ سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں پر تعصب کی پٹی باندھ رکھی ہو اور یا وہ ہوائِ نفس کا شکار ہوگیا ہو کیونکہ جو آدمی بھی نفس کی خواہشات کو اپنے راہنمابنا لیتا ہے اس کے لیے کسی بھی صحیح بات کو قبول کرنا اور خیر و شر میں تمیز کرنا سب سے مشکل کام ہوجاتا ہے۔
آنے والی آیت کریمہ میں شرک کی تردید کے ساتھ ساتھ اس سے پیدا ہونے والے نتائج اور اس کی ہمہ گیری کو ایک نئے پہلو سے نہایت موثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 6:56ارشاد ہوتا ہے :
قُلْ اِنِّیْ نُھِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ ط قُلْ لَّآ اَتَّبِعُ اَھْوَآئَکُمْ لا قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ ۔ (الانعام : 56)
(کہہ دو کہ مجھے تو ان کی عبادت سے روکا گیا ہے جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ‘ کہہ دو میں تمہاری خواہشوں کے پیچھے نہیں چل سکتا اگر میں نے ایسا کیا تو گمراہ ہوجاؤں گا اور پھر راہ پانے والوں میں سے نہ بن سکوں گا )
جو اللہ کے سوا کسی کو پکارتا ہے وہ گمراہ ہوجاتا ہے
اس آیت کریمہ میں دو دفعہ قُلْ کا لفظ آیا ہے جو اس بات کا قرینہ ہے کہ جو کچھ اس آیت کریمہ میں فرمایا جا رہا ہے وہ مشرکینِ مکہ کے سوالات ‘ شبہات ‘ اعتراضات اور مطالبات کے جواب میں فرمایا جا رہا ہے قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ عام طور پر معترضین کے سوالات و شبہات کا ذکر نہیں کرتا ‘ البتہ ! اس کے جواب سے ایک گہری نظر رکھنے والا سمجھ لیتا ہے کہ یہ کسی سوال کا جواب ہے یا محض براہ راست ایک ہدایت ہے۔ چناچہ گزشتہ آیات کے ہم جب پس منظر کو دیکھتے ہیں ‘ جس میں مسلسل عقائد پر بحث ہو رہی ہے اور توحید کو بطور خاص دلائل سے مدلل کیا جا رہا ہے تو جب ہم آیت نمبر 14 پر پہنچتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں رسول اللہ ﷺ کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ آپ مخالفت کے اس ہجوم اور انکار کرنے والوں کے طوفان میں استقامت کی تصویر بن کے کھڑے ہوجائیں اور ان کے سامنے دو ٹوک اعلان کردیں کہ تم میری دعوت کو قبول کرو یا نہ کرو اور شرک کو چھوڑو یا نہ چھوڑو لیکن مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام کا اعلان کروں۔ اور سب سے پہلا مسلمان بن کر کھڑا ہوجاؤں تاکہ لوگ میری استقامت کو دیکھتے ہوئے میری دعوت کو قبول کرنے کا شاید حوصلہ کرسکیں اور مزید یہ بھی فرمایا گیا کہ مجھے اس بات کا بھی حکم دیا گیا ہے کہ میں مشرکین کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھوں اور شرک کی معمولی آلائش بھی مجھے نہیں لگنی چاہیے۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں اسی بات کو اسی تسلسل میں ایک نئے پہلو سے ارشاد فرمایا جا رہا ہے اس میں سب سے پہلی بات تو یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ جن قوتوں کو تم اللہ کے شریک کے طور پر پکارتے ہو تم شاید یہ سمجھتے ہو کہ یہ شاید پوجا پاٹ کا معاملہ ہے۔ پوجا پاٹ تو کسی کی بھی کرلی جائے اور نام کسی کا بھی جپ لیا جائے اور سر کسی کے سامنے بھی جھکا لیا جائے اس سے باقی زندگی کے اسلوب میں کیا فرق پڑ سکتا ہے۔ اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے آیت کے آغاز ہی میں یہ واضح کردیا گیا ہے کہ مجھے صرف شرک سے ہی نہیں روکا گیا بلکہ اس کے نتیجے میں زندگی میں جو ایک ہمہ گیر تبدیلی آتی ہے اور جس سے منزل اور جہت سب کچھ بدل کے رہ جاتا ہے مجھے اس سے روکا گیا ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کا نام عبادت اور بندگی ہے یعنی میں اس بات کا پابند کیا گیا ہوں کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی اختیار نہ کروں ‘ یعنی میری زندگی کا ہر لمحہ اور میرے رویے کا ہر پہلو اور میرے فیصلے کا ہر گوشہ اور میرے اختیارات کا ہر فیصلہ اللہ کی بندگی کے سائے میں ہو اور کہیں بھی اس کے اختیار، اس کی بڑائی اور عظمت اور اس کی حاکمیت سے تجاوز کرنے کا شائبہ بھی نہ پایا جائے۔ میں جس طرح اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے سر نہ جھکائوں اسی طرح میں معاشرت ‘ معیشت ‘ تہذیب ‘ تمدن ‘ سیاست ‘ عدالت ‘ حتیٰ کہ حکومت میں بھی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروں۔ میری ذات اور میرے گھر سے لے کر اجتماعی زندگی تک میری معاشرت اور معیشت صرف اللہ کے حکم کے تابع ہو۔ میرا معاش چاہے وہ کسی ذریعے سے بھی ہو وہ اس نظام معاش کے تحت ہو جو ہمیں اسلامی شریعت نے عطا کیا ہے اور میری اجتماعی زندگی کے تمام مراحل چاہے اس کا تعلق عدالت سے ہو ‘ چاہے سیاست سے ہو ‘ چاہے پارلیمنٹ سے ہو اور چاہے ایوان ہائے حکومت سے ہر جگہ اللہ کا حکم اور اس کی خوشنودی میرے پیش نظر ہو اور وہی میری راہنما ہو۔ یہ وہ عبادت اور بندگی ہے جو اصلاً میرے پیش نظر ہے اور اس میں میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرنے سے روک دیا گیا ہوں چونکہ امر و نہی میں اللہ کے نبی اور رسول کی ذات فکری اور عملی نمونہ ہوتی ہے دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ اس روکے جانے کے نتیجے میں اللہ کا نبی اس کے مطابق عمل کا نمونہ بن کر اس طرح اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ تمام دنیا اس سے روشنی پاتی ہے۔ اس کے بعد دوسری دفعہ لفظ قُلْ کہہ کر تمام دنیا کے مشرکین کی ایک اور غلط فہمی دور کی گئی ہے جس کی طرف میں پہلے اشارہ کرچکا ہوں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے سے زندگی میں کیا تبدیلی آسکتی ہے ؟ اللہ کی بندگی کا مفہوم ان کے نزدیک اللہ کو خالق کائنات اور کائنات کی سب سے بڑی ذات اور اسی سے مصیبت اور ضرورت کے وقت تنہائی میں مناجات کے سوا اور کچھ نہیں اگر کوئی آدمی اللہ سے یہ تعلق رکھتا ہے تو وہ اللہ کو مانتا ہے چاہے اس کی زندگی کی منزل اور اس کے گزارنے کا طریقہ کچھ بھی ہو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ جو آدمی اپنے اللہ کی بندگی کرتا ہے وہ اپنی زندگی کے کسی بھی فیصلے کے وقت سب سے پہلے شریعت اسلامی کو دیکھے گا اور اس کے مطابق اپنا عمل تجویز کرے گا۔ لیکن جو آدمی اللہ کو ماننے کا صرف وہ تصور رکھتا ہے جس کا اس سے پہلے ذکر کیا گیا ہے وہ زندگی گزارتے ہوئے کبھی ایک لمحے کو بھی یہ سوچنا گوارا نہیں کرتا کہ اس بارے میں اللہ کا حکم کیا ہے کیونکہ اللہ اور بندے کا معاملہ اس کے نزدیک ایک پرائیویٹ معاملہ ہے جو صرف پوجا پاٹ کی حد تک محدود ہے۔ رہے انفرادی اور اجتماعی زندگی کے معالات ان کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں بلکہ انسان اس میں آزاد ہے۔ اس کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کے سامنے سب سے بڑا راہنما اس کے دل کی خواہشات ہیں وہ یہ سمجھتا ہے کہ میری زندگی میری اپنی زندگی ہے اس کو گزارنے کا حق مجھے ہے اسے کس طرح گزارا جانا چاہیے اس کا فیصلہ کرنے کا حق بھی مجھے ہی ہے۔ چناچہ میں اس کے لیے آزاد ہوں کہ میں زندگی میں ہر وہ کام کروں جو میری خواہش نفس کہتی ہے ‘ اسی کو یہاں اَھْوَآئَکُمْ کہہ کر ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی تم نے چونکہ اپنے آپ کو اللہ کے احکام اور اس کی شریعت سے آزاد سمجھ رکھا ہے اور تم صرف اس کو مصیبت کے وقت پکار کے یہ سمجھتے ہو کہ تم نے اس کو ماننے کا حق ادا کردیا اس حوالے سے اگر تم اس کے ساتھ کسی اور کو بھی شریک بنا لیتے ہو اور پھر تم ان کو بھی پکارنے لگتے ہو تو تمہارے نزدیک اس سے کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تمہارے اس تصور نے زندگی کے مجموعی رویے کو بدل کے رکھ دیا ہے۔ اب تم جو کام بھی کرتے ہو یا کرو گے وہ تو من مرضی سے کرو گے اور اگر تم پر کوئی باہر کی قوت کا دبائو ہوگا تو وقتی طور پر اسے مان لوگے لیکن جب بھی تمہیں اپنی مرضی بروئے کار لانے کا موقع ملے گا تو تم اس سے کبھی دریغ نہیں کرو گے کیونکہ تمہاری زندگی میں اصل حکمران اور اصل راہنما وہ تمہاری یہی ہوائِ نفس اور نفسانی خواہشیں ہیں۔ کہا میں چونکہ اللہ کا بندہ ہوں اور اللہ کی بندگی کی دعوت دینے کے لیے آیا ہوں اگر میں تمہاری بات کو کسی حد تک بھی قبول کرلوں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں بھی تمہاری طرح اللہ کی بندگی سے نکل کر اپنے نفس کی بندگی شروع کر دوں اور پھر میں اللہ کا بندہ ہونے کی بجائے بندہِ نفس یا بندہ شکم یا بندہ ہوس بن کر زندگی گزاروں اگر اللہ نہ کرے میں ایسا ہوجاؤں تو پھر میری گمراہی میں کیا دیر ہے اور پھر مجھے اس گمراہی سے کون بچا سکتا ہے ؟ اس تصور کو قبول کرلینے کے بعد اندازہ فرمایئے کہ اگر میں راہ راست اختیار کرنا بھی چاہوں تو مجھے ہدایت کون دے سکتا ہے ؟ کیونکہ بندگی رب اور بندگی نفس میں اتنا کھلا تضاد ہے کہ ایک معمولی عقل و خرد کا آدمی بھی اگر کبھی غیر جانبداری سے غور کرے تو اسے تضاد کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے۔ سامنے کی بات ہے کہ ہمیں اللہ نے پیدا کیا وہی ہمیں رزق دیتا ہے اسی نے ہمیں بیشمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں زندگی اس کی دین ہے اور زندگی گزارنے کے لیے جو اس نے حواس اور عقل کی نعمت عطا فرمائی ہے۔ یہ اس کا سب سے بڑا احسان ہے۔ پھر اس نے ہمیں خیر و شر کی تمیز سے بہرہ ور فرمایا ہے بلکہ ہمارا ایک ایک رونگٹا اس کے احسانات کا مرہونِ منت ہے۔ اب اگر پروردگار ہم سے یہ سوال کرے کہ جب تمہارے وجود اور تمہارے جسم و جان سے لے کر تمہاری ایک ایک نعمت میری دین اور میری عطا ہے تو پھر تم میرے احکام کی اطاعت کی بجائے اپنے ہوائِ نفس کی اطاعت کیوں کرتے ہو۔ یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی غلام اپنے آقا سے یہ کہنا شروع کر دے کہ میں ہر طرح آپ کا غلام اور آپکا بندہ ہوں میں آپ کو اپنا آقا تسلیم کرتا ہوں ‘ لیکن میں زندگی میں ہر کام اپنے نفس سے پوچھ کر کروں گا۔ آپ کی اطاعت کرنا میرے بس کی بات نہیں تو کیا یہ بات سمجھنا مشکل ہے کہ اس کے بعد اس کا آقا اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ قرآن کریم بار بار انسانوں سے اللہ کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد سوال کرتا ہے کہ بتائو تمہیں یہ سب کچھ کس نے دیا ہے اور اگر یہ اللہ ہی نے دیا ہے تو پھر تم خود ہی فیصلہ کرو کہ تمہیں بندگی کس کی کرنی چاہیے۔ اقبال نے ایسے ہی سوالات پر مشتمل چند آیات کا کیسا خوبصورت ترجمہ کیا ہے جس میں یہی بات پوچھی گئی ہے ؎
پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون
کون دریائوں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب
کون لایا کھینچ کر پچھم سے باد ساز گار
خاک یہ کس کی ہے کس کا ہے یہ نور آفتاب
کس نے بھر دی موتیوں سے خوشہ گندم کی جیب
موسموں کو کس نے سکھلائی یہ خوئے انقلاب
دہ خدایا یہ زمین تیری نہیں تیری نہیں
تیرے آباء کی نہیں تیری نہیں میری نہیں
یہ زمین بھی اور اس پر ساری نعمتیں بھی اللہ کی عطا ہیں تو پھر کیا اس زمین پر بسنے والوں کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کریں ؟
Ayah 6:57مشرکین مکہ کی جانب سے آنحضرت ﷺ سے نئے نئے مطالبات کیے جا رہے تھے۔ آنے والی آیت کریمہ میں انہی میں سے ایک مطالبے کا اشارۃً ذکر ہو رہا ہے اور نہایت موثر انداز میں اس کا جواب ارشاد فرمایا جا رہا ہے :
قُلْ اِنِّیْ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ کَذَّبْتُمْ بِہٖ ط مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِہٖ ط اِنِ الْحُکْمْ اِلَّا لِلّٰہِ ط یَقُصُّ الْحَقَّ وَھُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ ۔ (الانعام : 57)
(کہہ دو ! میں اپنے رب کی جانب سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے۔ وہ چیز میرے پاس نہیں ہے ‘ جس کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے ہو۔ اس کا فیصلہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ وہی حق کو واضح کرے گا اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے)
رسول ﷺ کا کام اللہ کا پیغام کھول کر بیان کرنا ہے
اس آیت کریمہ میں نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ چند باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ سب سے پہلی بات یہ کہ میں تمہاری اصلاح کے لیے اللہ کی طرف سے پیغمبر بن کے آیا ہوں اور تمہاری زندگی کی راہنمائی کے لیے اس نے مجھ پر جو کتاب اتاری ہے میں وہ بلا کم وکاست تم تک پہنچا رہا ہوں اور تمہاری ہدایت و اصلاح کے لیے جو کوشش بھی مجھ سے ممکن ہے ‘ میں اپنی ہمت سے بڑھ کر اسے ادا کر رہا ہوں۔ گویا میرے اور تمہارے درمیان جو معاملہ چل رہا ہے وہ یہ ہے کہ تمہارے عقائد تمہارے معاملات اور تمہارے اخلاق میں جو فساد پیدا ہوچکا ہے میں اس نسخہ کیمیا سے کام لے کر جو اللہ نے مجھ پر اتارا ہے تمہاری اصلاح کی کوشش کر رہا ہوں۔ اب ہونا تو یہ چاہیے کہ اس دعوت و تبلیغ یا اصلاح و ہدایت کے عمل میں تمہیں کسی بات پر اعتراض ہے یا تمہیں کوئی بات سمجھ نہیں آرہی تو سنجیدگی سے اسے پیش کرو میں پوری متانت اور توجہ سے اسے واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔ لیکن یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ اپنی زندگی کی اصلاح کرلو اس سے تمہاری دنیا بھی بہتر ہوجائے گی اور آخرت میں بھی کامیاب و کامران ٹھہرو گے۔ تم بجائے میری بات پر توجہ دینے کے مجھ سے عذاب کا مطالبہ کرنے لگتے ہو اور کبھی نئی نئی نشانیاں دیکھنا چاہتے ہو حالانکہ کسی بات کو سمجھنے یا اس کو باور کرنے کے لیے بینات اور دلائل کی ضرورت ہوتی ہے میں تمہارے سامنے ایک سے ایک بڑھ کر بینہ پیش کرچکا ہوں۔ حتیٰ کہ میں تمہیں بتاچکا ہوں کہ میرے پیغمبر ہونے اور میری دعوت و تبلیغ کے برسر حق ہونے کی سب سے بڑی گواہی خود اللہ کی ذات ہے۔ اس نے اپنی یہ گواہی قرآن کریم کی صورت میں پیش فرمائی ہے اور یہ بات بھی دلائل سے واضح ہوچکی کہ قرآن کریم کے منزل من اللہ ہونے میں کوئی عقل کا اندھا ہی شک کرسکتا ہے۔ اب بجائے اس بینہ کو قبول کرنے اور اس پر غور کرنے کے تم نے صاف صاف اسے ماننے سے انکار کردیا اور جب بینہ ہی قابل تسلیم نہ ٹھہرا تو جس کے ثبوت کے لیے وہ بینہ آیا ہے وہ خود قابل تسلیم کیسے ٹھہرے گا۔ اس لیے تم نے میری یعنی اللہ کے رسول کی تکذیب کردی اور بار بار عذاب کا مطالبہ کرنے لگے کہ اگر تم واقعی اللہ کے نبی ہو تو اللہ کا عذاب ہمیں دکھائو اور تم اتنی بات نہیں سمجھتے کہ عذاب تو تباہی اور ہلاکت کا ذریعہ ہے اس کے آجانے کے بعد مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے اور یہ عذاب قوم کی کمر توڑ کے رکھ دینا ہے۔ لیکن تم نے اسے ایک مذاق سمجھ رکھا ہے اور بار بار اس کا مطالبہ کر رہے ہو اگر تم اس بات پر غور کرو تو شاید تمہیں اپنی نامعقولیت کا خود ہی احساس ہونے لگے۔
عذاب کا فیصلہ صرف اللہ تعالیٰ کرتا ہے
دوسری بات جس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ یہ کہ تم عقل سے اس حد تک عاجز ہو اور یا شاید تم سنجیدگی سے سوچنا نہیں چاہتے کہ میں تمہارے سامنے اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں۔ رسول کا کام رسالت یعنی اللہ کا پیغام پہنچانا ہے اور اس کی عطا کردہ بصیرت کے مطابق لوگوں کی اصلاح کرنی ہے۔ اس کے لیے رسول کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تمہارے سامنے علمی استدلال ‘ اخلاقی بلندی اور عملی پاکیزگی سے اپنی بات اور اپنے مؤقف کو پوری طرح ثابت کرے اور اس میں کوئی کمی نہ رہے۔ رہی یہ بات کہ اگر تم اسے قبول نہیں کرتے ہو تو پھر تم پر خدا کا عذاب آتا ہے یا نہیں یہ اختیار تو صرف اللہ کا ہے۔ اللہ کا رسول تو دنیا میں عذاب لانے یا عذاب لانے کا اختیار لے کر نہیں آتا۔ چناچہ جس چیز کا اختیار میرے پاس نہیں اور جس کا میں نے دعویٰ بھی نہیں کیا۔ تم اس کا مطالبہ مجھ سے کیوں کرتے ہو میں تو اگر عذاب کا ذکر کرتا ہوں تو تمہارے سامنے تمہاری بھلائی اور تمہاری عافیت کے لیے سنت اللہ کو ذکر کرتا ہوں کہ پہلی قوموں کی تاریخ تمہارے سامنے ہے۔ دیکھ لو ان کی ہدایت کے لیے جب بھی رسول آئے اور انھوں نے جب ان کی تکذیب کی تو پھر اللہ کے عذاب نے انھیں تباہ کردیا۔ تم اللہ کی مملکت میں انہی کی طرح ایک قوم کی حیثیت رکھتے ہو۔ تم بھی اگر اس کے بھیجے ہوئے رسول اور اس کی دعوت کی تکذیب کرو گے تو یقینا تمہارے ساتھ بھی یہی سلوک ہوگا۔ میری اس بات کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے کہ تم میری دعوت پر غور کرو اور اللہ کے عذاب سے ڈر کر اللہ کے سامنے عاجزی اور ایمان کا راستہ اختیار کرو لیکن تم بار بار مجھ ہی سے عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو۔ خود اندازہ کرو کہ یہ بات عقل کے کس قدر خلاف ہے۔ اس لیے کہ اپنی تمام خرابیوں کے باوجود تم اتنی بات تو سمجھتے ہو کہ کسی قوم کو مہلت عمل دینایا کسی قوم پر عذاب بھیجنا اور ان کو ہلاک اور تباہ کردینا اس کا تعلق سراسر ایک حکم اور اختیار سے ہے اور تم جانتے ہو کہ اس طرح کے ہر حکم اور اختیار کا مالک صرف اللہ ہے۔ میں تو اس کا فرستادہ ہوں میں خود بھی اسی کے حکم کا پابند ہوں۔ جب تک اس نے تمہیں مہلت عمل دے رکھی ہے میں پابند ہوں کہ تم تک اس کا دین پہنچائوں اور تم اس بات کے پابند ہو کہ میری دعوت کو غور سے سنو اور اسے قبول کرو۔
تیسری بات جس کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جب کوئی رسول کسی قوم کی طرف مبعوث ہوتا ہے اور وہ قوم اس رسول کی دعوت کو قبول کرنے کی بجائے انکار اور تکذیب کا راستہ اختیار کرتی ہے تو کیا اس قوم کو یونہی چھوڑ دیا جائے اور وہ مسلسل تکذیب کرتی رہے اور آنے والی نسلیں ان کے اسی تکذیبی عمل کی وارث بنیں یا یہ ہونا چاہیے کہ اس قوم کو سزا کے طور پر تباہ کردیا جائے اور اس طرح حق کے حق ہونے کو واضح کر کے دنیا پر اس کی برتری اور سچائی کو ظاہر کردیا جائے۔ اگر پہلی صورت پر عمل کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کائنات کا کوئی حاکم نہیں یہ اپنے تئیں خود ہی پیدا ہوئی ہے اور اس میں رہنے والے خود رو پودوں کی طرح اپنی مرضی کی زندگی گزارنے میں آزاد ہیں اور اگر واقع میں ایسا نہیں تو پھر اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تکذیب کرنے والی قومیں ہمیشہ کے لیے تکذیب میں آزاد نہیں چھوڑی جاتیں بلکہ ایک خاص حد تک پہنچ کر ان کی گرفت ہوتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ خاص حد کیا ہے اور قوموں کے بارے میں اس طرح کے فیصلے کرنے کا اختیار کسے ہے ؟ اور کس کا علم اتنا وسیع ہے ؟ جو قوموں کے بارے میں اس طرح کے صحیح فیصلے کرسکتا ہے مشرکین مکہ کو یہ توجہ دلائی جا رہی ہے کہ تم اپنی تمام تر جہالت کے باوجود اتنا تو سمجھتے ہو کہ یہ اختیار اور علم کی یہ وسعت اور پاکیزگی اللہ کی صفت ہے اس لیے یہاں آیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ وہی حق کو واضح کرے گا۔ کیونکہ وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
اگلی آیت کریمہ میں اسی بات کو ایک اور پہلو اور ایک مختلف انداز میں بیان فرمایا گیا ہے۔
Ayah 6:58ارشاد فرمایا :
قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِہٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَکُمْ ط وَ اللہ ُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ ۔ (الانعام : 58)
(کہہ دو ! اگر وہ چیز میرے پاس ہوتی ‘ جس کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان جھگڑے کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور اللہ ظالموں سے خوب باخبر ہے )
اگر عذاب کا فیصلہ رسول کے پاس ہوتا تو جھگڑے کا فیصلہ ہوچکا ہوتا
اس آیت کریمہ میں علمی نکات تو کئی ہیں۔ لیکن بطور خاص دو باتوں کو نمایاں کیا گیا ہے ایک یہ بات کہ تم جو بار بار مجھ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہو اور اس کی جلدی مچا رہے ہو تم نے شاید اس بات پر غور نہیں کیا کہ اگر یہ اختیار میرے پاس ہوتا کہ میں جب چاہتا تمہیں عذاب سے تباہ کردیتا تو کچھ معلوم ہے اس کا نتیجہ کیا ہوتا۔ نتیجہ اس کا یہ ہوتا کہ تم اب تک تباہ ہوچکے ہوتے کیونکہ تم نے میری دعوت کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ہے تم خود بھی اگر غور کرو کہ ایسے سلوک کا نتیجہ کیا ہونا چاہیے تو یقینا تمہیں فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگے گی اس لیے کہ تم خوب جانتے ہو کہ میری ذاتی زندگی برس ہا برس تمہارے سامنے گزری ہے ‘ تم گواہی دیتے ہو کہ میں نے ایسی پاکیزہ زندگی گزاری ہے جس میں کسی اخلاقی عیب کا کبھی تمہیں سراغ تک نہ مل سکا تم ہمیشہ مجھے الصادق اور الامین کہہ کر پکارتے رہے ہو اور پھر تم یہ بھی جانتے ہو کہ جو کلام میں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں اس کا جواب لانا تمہارے بس میں نہیں۔ اگر وہ میرا کلام ہوتا تو میں بھی تمہاری ہی طرح ایک عرب ہوں اور اسی ماحول میں میں نے پرورش پائی ہے اس کلام کا جواب دینے میں تمہیں کبھی دشواری پیش نہ آتی۔ پھر جس طرح میں نے تمہارے ایک ایک دروازے پر دستک دی ہے اور کوئی سی ایسی مشکل نہیں جو اس راستے میں میرے لیے پیدا نہ کی گئی ہو اور میں نے اسے خندہ پیشانی سے برداشت نہ کیا ہو۔ تمہاری گالیاں سن کر میں نے دعائیں دیں ‘ تم نے مجھ پر اور میرے ساتھیوں پر اذیتوں کی انتہا کردی لیکن میں نے کبھی کوئی ناملائم جملہ تک تمہارے لیے نہیں کہا۔ تم نے میرے راستے میں کانٹے بچھائے ہیں میرے ساتھیوں کو دہکتے انگاروں پر لٹایا ہے لیکن میں نے ہمیشہ تمہارے سامنے پھول پیش کیے اور تمہیں جنت کا راستہ دکھایا۔ اس پوری کشمکش کا نتیجہ کیا ہونا چاہیے کہ میں تمہاری اذیتوں سے تنگ آکر تم پر عذاب کے بارے میں سوچنے لگوں کیونکہ بڑے سے بڑے انسان کے صبر کی بھی ایک انتہا ہوتی ہے اور میں نجانے کب سے اس انتہا کو چھو رہا ہوں۔ ذرا غور کرو اگر یہ عذاب لانا میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمہارے ان مظالم کی وجہ سے کیا تم پر عذاب وارد نہ کرچکا ہوتا اور بہت پہلے میں تمہیں تباہ کر کے اپنے دل کو ٹھنڈا کرچکا ہوتا۔ لیکن یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے عذاب کا اختیار صرف اپنے پاس رکھا ہے ‘ کسی انسان بلکہ اپنے پیغمبر تک کو نہیں دیا۔
دوسری بات جس کو ذکر کیا جا رہا ہے وہ اسی پہلی بات کا نتیجہ ہے وہ یہ کہ کسی قوم کو مہلت عمل کس حد تک ملنی چاہیے۔ اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ یہ معلوم ہو کہ اس قوم کے لوگوں میں قبولیتِ ایمان کی استعداد کہاں تک ہے جب تک اس بات کا اچھی طرح یقین نہ ہوجائے قوم کے بارے میں عذاب کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے اگر ان لوگوں میں ایک عنصر ایسا باقی ہو جن میں قبولیت ایمان کی استعداد ابھی تک بالکل ختم نہیں ہوئی اور اس کے سوتے بالکل خشک نہیں ہوگئے اس وقت تک اس پر عذاب لانے کا فیصلہ کرنا یقینا عدل کے تقاضے کے خلاف ہوگا اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھ لیجئے کہ گھی نکالنے کے لیے دودھ کو بلونے والا اس وقت تک بلوتا رہتا ہے جب تک اس دودھ میں گھی کا آخری حصہ باتی ہوتا ہے اور جب وہ دیکھتا ہے کہ گھی کی آخری تلچھٹ تک نکال لی گئی ہے تو پھر وہ بلونا بند کردیتا ہے اور اگر وہ اپنے بلونے کے عمل کو پہلے بند کر دے یہ سمجھ کر کہ دودھ لسی بن چکا ہے اسے ضائع کر دے تو یہ اللہ کی نعمت کی ناقدری ہوگی اور ایک غلط عمل ہوگا جس کا جواب دینا پڑے گا۔ اسی طرح ایک پیغمبر جس قوم کی طرف مبعوث ہوتا ہے اس کے ایک ایک فرد پر اس امید کے ساتھ محنت کرتا ہے کہ شاید اس میں قبولیت ایمان کی استعداد کا کوئی سوتا باقی رہ گیا ہو اور میری کوشش سے ممکن ہے وہ کھل جائے اور اس کو اللہ ایمان کی توفیق دے دے۔ اب یہ بات کہ اس نعمت سے وہ قوم آخری حد تک کب محروم ہوتی ہے اس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ چناچہ یہاں یہی بات فرمائی جا رہی ہے کہ تم جو عذاب کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہو۔ قدرت تم پر مہربان ہے وہ تمہیں آخری حد تک قبولیت ایمان کا موقع دینا چاہتی ہے لیکن تم ایسے بدنصیب ہو ‘ بجائے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے الٹا اس سے لڑ رہے ہو اور اس تاخیر کو اپنے لیے نعمت سمجھنے کی بجائے اللہ کے نبی پر طعن وتشنیع کا ذریعہ بنا رہے ہو۔
آیت کا آخری لفظ وَ اللہ ُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ کہ اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے اس کے تین مفہوم سمجھ میں آتے ہیں۔
واللّٰہُ اَعْلَمُ بِالظَّالِمیْنَ کا مفہوم
1 رسول اللہ ﷺ اپنی تمام تر مخلصانہ مساعی کے باوجود جب مشرکین کے تمرد اور طغیان کو دیکھ رہے ہیں کہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اور ان کی اذیتوں میں تیزی آتی جا رہی ہے اور یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اللہ کی طرف سے ان پر عذاب نازل نہیں ہو رہا تو آپ یہ معاملہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں کہ یا اللہ میں تو اپنے امکانی مساعی جاری رکھوں گا لیکن ان کا معاملہ تیرے سپرد ہے تو چاہے تو ان پر عذاب نازل فرما اور چاہے تو ان کو ایمان کی توفیق دے دے کیونکہ ان کی قسمت بدلنا تو میرے اختیار میں نہیں میں نے تو اپنی سی ساری کاوشیں کر کے دیکھ لیں لیکن ان کی بدنصیبی شاید ان کا مقدر بنتی جا رہی ہے۔ ان کی سنگدلی کی یہ انتہا ہے کہ میں تیری رحمت ان کے سامنے پیش کرتا ہوں لیکن یہ مسلسل اپنے اوپر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ میں ان کے سامنے تیری نعمتوں کی خوشخبریاں پیش کرتا ہوں لیکن یہ اس کے جواب میں پتھروں کے طلبگار ہوتے ہیں۔ میں ان کو مچھلی دیتا ہوں اور یہ سانپ پکڑنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ چیز ہے جسے علمی زبان میں تفویض کہا جاتا ہے۔
2 یہ دھمکی ہے کہ ظالمو تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارا یہ رویہ شاید مسلسل جاری رہے گا اور تم میری دعوت کے ساتھ یہی سلوک مسلسل جاری رکھو گے ‘ تمہیں اس سے بیخبر نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ تم میں سے ایک ایک آدمی کی کرتوتوں سے واقف ہے۔ وہ برابر تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے اس کی نگاہیں برابر تمہارا تعاقب کر رہی ہیں۔ وہ جو تمہیں مہلت پر مہلت دے رہا ہے اور تم بجائے اس سے فائدہ اٹھانے کے اپنی سرکشی سے رکنے کی بجائے بڑھتے جا رہے ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم اس طرح بچ جاؤ گے بلکہ تم اپنی فائل کو بھاری کرتے جا رہے ہو اور تمہارا نامہ عمل اور سیاہ ہوتا جا رہا ہے۔ تم جیسے جیسے آگے بڑھو گے ویسے ویسے قیامت کے دن تمہارے لیے جواب دہی مشکل ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام ظالموں کو پوری طرح جانتے ہیں ان کے اعمال سے واقف ہیں ان کے کرتوت اس کی نگاہوں میں ہیں اس لیے جب وہ ایک ایک کا حساب مانگے گا تو سوچ لو تمہارے ساتھ کیا گزرے گی اور اگر اس نے یہیں تم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ کرلیا تو یہ مت سمجھو کہ تم میں سے کوئی ظالم اس سے بچ نکلے گا کیونکہ تم میں سے ایک ایک اس کی نگاہوں میں ہے۔
3 پہلے بھی یہ تذکرہ ہوچکا ہے کہ مشرکین میں سے ایک بڑا طبقہ تو ایسا تھا جو قیامت کے آنے کو ویسے ہی خلاف عقل سمجھتا تھا اس لیے وہ اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھا۔ لیکن ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی تھی جو قیامت کے آنے کو ممکن تو سمجھتے تھے لیکن اس میں تمام لوگوں کا حساب اور ایک ایک عمل کی جواب دہی ان کے نزدیک ناقابل تصور تھی انھیں یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی کہ اربوں کھربوں مخلوق جب میدان حشر میں جمع ہوگی اولاً تو ان کا شمار ہی ممکن نہیں ہوگا اور پھر ان میں سے ہر ایک کے اعمال وہ اتنی بڑی تعداد میں ہوں گے کہ اس کا تصور بھی ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ پھر ان تمام اعمال کا ایک ایک کر کے حساب لینا اور اس پر جزا یا سزا کا فیصلہ کرنا یہ تو بالکل ہی ناممکن سی بات ہے۔ اس لیے جب انھیں قیامت کے دن جواب دہی سے ڈرایا جاتا تو وہ اس طرح کی باتوں سے قیامت کا مذاق اڑاتے اور بنیادی بات یہی کہتے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک ایک آدمی کے اعمال سے واقف ہو۔ چناچہ اس کی طرف اشارہ فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ ظالموں سے خوب واقف ہے۔ ان کے ایک ایک عمل کو جانتا ہے اس لیے تم جو سمجھتے ہو کہ بیخبر ی میں وہاں تم بچ نکلو گے۔ کہا یہ ممکن نہیں۔
یہاں چونکہ اللہ کے علم کی وسعت کی بات چھڑی ہے تو اگلی آیت کریمہ میں پروردگار نے کرم فرمایا کہ اپنے علم کی وسعتوں کو نہایت آسان انداز میں ہمارے سامنے واضح فرمایا ہے۔