6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsروح القرآن

Ayah 6:108

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:108 in the Quran reader

اور اللہ کے سوا یہ جن کو پکارتے ہیں ‘ ان کو گالی نہ دیجیو کہ وہ تجاوز کر کے بیخبر انہ اللہ کو گالیاں دینے لگیں۔ اسی طرح ہم نے ہر گروہ کی نگاہوں میں اس کا عمل کھبا رکھا ہے۔ پھر ان کے رب ہی کی طرف ‘ ان سب کا پلٹنا ہے تو وہ انہیں اس سے آگاہ کرے گا ‘ جو وہ کرتے رہے ہیں

تمہید گزشتہ آیات میں یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ جہاں تک نبی کریم ﷺ کی دعوت کو سمجھنے اور قبول کرنے کا تعلق ہے اور اس کے فہم اور سہولت کے لیے جس طرح کے دلائل درکار تھے انھیں ایک ایک کر کے اس طرح کھول کر بیان کردیا گیا ہے کہ اب اگر کوئی آدمی اس دعوت کو سمجھنا اور راہ ہدایت اختیار کرنا چاہے تو اس کے لیے کسی چیز کی کمی نہیں بلکہ صاف فرمایا گیا کہ تمہارے رب کی جانب سے بصیرتوں کا وافر سامان اور سوجھ بوجھ کے دلائل کا ایک ذخیرہ نازل کردیا گیا ہے۔ اب بجز اس کے کہ کوئی آدمی آنکھیں بند کرلے اور اندھا بن کر راستہ طے کرنا چاہے تو وہ تو ظاہر ہے کسی نہ کسی کھائی میں گر کر مرے گا ورنہ ان ہدایات اور ان دلائل کے آجانے کے بعد انسانی زندگی کا راستہ طے کرنے میں اب کوئی دشواری باقی نہیں رہی۔ یوں سمجھئے کہ دعوت دین کا ایک چمن ہے جو چاروں طرف کھل گیا ہے اور رنگ و بو کا ایک سیل ہے جو مشام جان کو معطر کرنے کے لیے پوری طرح بروئے کار آرہا ہے اور دلائل کی باد بہاری ہے جو ایک ایک پھول سے اٹھکیلیاں کرتی ہوئی چہل قدمی کرتی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اگر کسی کی قوت شامہ جواب دے چکی اور کسی کی بینائی گم ہوچکی ہے تو ایسے ہزاروں چمن بھی اس کے لیے بیکار ہیں۔ اس صورت حال کو واضح کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے اور ساتھ ساتھ تسلی بھی دی جا رہی ہے کہ زندگی کے سفر کے لیے آپ کو جو ہدایات دے دی گئی ہیں آپ نہایت اطمینان سے اس پر سفر جاری رکھیئے اور انسانی اصلاح کا جو طریقہ آپ پر نازل کردیا گیا ہے اس کے مطابق لوگوں کی اصلاح کی کوشش جاری رکھیئے لیکن اس کے باوجود بھی اگر لوگ ایمان قبول نہ کریں تو آپ ہرگز ان کی فکر نہ فرمائیں اور مخالفت کرنے والوں سے حق تبلیغ ادا کرنے کے بعد بالکل صرف نظر کرلیں۔ اس طرح سے ان آیات میں اتمام حجت ہوتا بھی نظر آتا ہے ایک ترک تعلق اور بےنیازی کے رویے کی بھی تلقین محسوس ہوتی ہے اور مشرکین کے عقائدباطلہ پر تنقید بھی مکمل ہوتی نظر آرہی ہے۔ اور اس صورت حال کے ساتھ ساتھ جب ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مشرکین مکہ کی جانب سے مخالفت تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی ہے اور اذیت رسانی کا عمل ظلم کی انتہائوں کو چھونے لگا ہے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ ایسی صورت حال میں یقینا مسلمانوں کے دلوں اور ان کے دماغوں میں ایک ہیجان کی کیفیت ہوگی اور وہ مشرکین مکہ کے خلاف اپنے جذبات میں ایک آگ لگی ہوئی محسوس کرتے ہوں گے تو یہ ایک فطرت کا اصول ہے کہ جب کبھی معاملہ اشتعال کی حدوں کو چھونے لگے تو پھر صحیح سے صحیح راستے کی دعوت دینے والے لوگ بھی اپنے مخالفوں کے بارے میں احتیاط کے تقاضوں کو پوری طرح بروئے کار لانے سے عاجز ہوجایا کرتے ہیں اور اس بات کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے کہ اگر جذبات میں اعتدال پیدا نہ کیا گیا تو اندیشہ ہے کہ طریق تخاطب میں تلخی کا زہر نہ پیدا ہوجائے اور تبلیغ و دعوت کا عمل بجائے نفوذ اختیار کرنے کے کھلے مقابلے کی شکل اختیار نہ کر جائے۔ چناچہ ایسے موقع پر انتہائی ضروری ہوتا ہے کہ اہل دعوت کو اپنے آپ پر قابو رکھنا اور احتیاط سے تقاضوں کو بروئے کار لانے کا حکم دیا جائے۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں ایسی ہی حکمت پرور ہدایات دی جا رہی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے : وَلَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ فَیَسُبُّوا اللہ َ عَدْوًا م بِغَیْرِ عِلْمٍ ط کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَھُمْص ثُمَّ اِلٰی رَبِّھِمْ مَّرْجِعُھُمْ فَیُنَبِّئُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الانعام : 108) (اور اللہ کے سوا یہ جن کو پکارتے ہیں ‘ ان کو گالی نہ دیجیو کہ وہ تجاوز کر کے بیخبر انہ اللہ کو گالیاں دینے لگیں۔ اسی طرح ہم نے ہر گروہ کی نگاہوں میں اس کا عمل پیوست کر رکھا ہے۔ پھر ان کے رب ہی کی طرف ‘ ان سب کا پلٹنا ہے تو وہ انھیں اس سے آگاہ کرے گا ‘ جو وہ کرتے رہے ہیں) مسلمانوں کو کفار کے معبودوں کو برا بھلا نہیں کہنا چاہیے اس آیت کریمہ کا سیاق کلام واضح کرتے ہوئے ہم نے جو گزارشات پیش کی ہیں ان کی تائید ابن جریر کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جسے اہل تأویل نے اس آیت کے شان نزول کے طور پر بیان کیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت ابوطالب بیمار پڑے اور اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ مرض ‘ مرض الوفات ثابت نہ ہو تو اشراف قریش جو اب اسلام اور مسلمانوں کی اذیت رسانی میں اس حد تک آگے بڑھ گئے تھے کہ آنحضرت ﷺ کے قتل کے منصوبے بنانے لگے تھے انھوں نے سوچا کہ ہم محمد ﷺ کو ابوطالب کی زندگی میں تو قتل نہ کرسکے۔ لیکن اگر ان کی وفات کے بعد ہم نے یہ اقدام کیا تو تمام عرب اپنی قومی روایات کے مطابق اسے نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھیں گے کہ جب تک بنو ہاشم کا سردار زندہ تھا تو تم یہ حرکت نہ کرسکے لیکن اب اس کے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد تم نے یہ کیا کمینی حرکت کی ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ حضرت ابو طالب کی زندگی ہی میں انہی کے ذریعے اس معاملے کا کوئی تصفیہ کر لیاجائے۔ چناچہ بڑے بڑے اشراف قریش حضرت ابوطالب کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کے بھتیجے نے ہمارے بتوں اور ہمارے دین پر مسلسل تنقید سے جو صورت حال پیدا کردی ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ ظاہر ہے کہ ہم اسے دیر تک برداشت نہیں کرسکتے۔ بجائے اس کے کہ اس کا کوئی خطرناک نتیجہ برآمد ہو آپ اپنے بھتیجے سے ہمارا کوئی تصفیہ کرا دیں ہم نہیں چاہتے کہ یہ معاملہ زیادہ آگے بڑھے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے معبودوں پر تنقید کرنا بند کر دے ہمارے دین کو غلط کہنا چھوڑ دے۔ وہ اس بات پر ہم سے معاہدہ کرلے کہ وہ ہمارے معبودوں کو کچھ نہیں کہے گا اور ہمارے دین کو تنقید کا نشانہ نہیں بنائے گا تو ہم اس کے معبود اور اس کے دین کے بارے میں کچھ نہیں کہیں گے وہ اپنا راستہ اختیار کرے لیکن ہم سے تعرض کرنا چھوڑ دے۔ چناچہ حضرت ابوطالب نے آنحضرت ﷺ کو بلا بھیجا اور کہا کہ دیکھو یہ قریش کے بڑے بڑے سردار آئے ہیں یہ تم سے کوئی بات کرنا چاہتے ہیں اسے غور سے سنو۔ آپ نے براہ راست ان سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ کیا چاہتے ہیں ؟ انھوں نے کہا کہ ہماری خواہش یہ ہے کہ آپ ہمیں اور ہمارے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ برا بھلا نہ کہیں اور ہم آپ کو اور آپ کے معبود کو چھوڑ دیں گے اس طرح باہمی مخالفت ختم ہوجائے گی۔ حضور نے فرمایا کہ اچھایہ بتلائو اگر میں تمہاری یہ بات مان لوں تو کیا تم ایک ایسا کلمہ کہنے کے لیے تیار ہوجاؤ گے جس کے کہنے سے تم سارے عرب کے مالک ہوجاؤ اور عجم کے لوگ تمہارے مطیع فرمان بن جائیں۔ ابو جہل نے کہا کہ ایسا کلمہ ایک نہیں ہم دس کہنے کو تیار ہیں بتلائو وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا { لا الہ الا اللہ } یہ سنتے ہی وہ لوگ بھڑک اٹھے۔ ابو طالب نے حضور سے کہا کہ میرے بھتیجے اس کلمہ کے سوا کوئی اور بات کہو کیونکہ تمہاری قوم اس کلمہ سے گھبرا گئی ہے۔ آپ نے فرمایا چچا جان میں تو اس کلمہ کے سوا کوئی دوسرا کلمہ نہیں کہہ سکتا۔ اگر یہ لوگ آسمان سے آفتاب اتار کر میرے ہاتھ پر بھی رکھ دیں میں جب بھی اس کلمہ کے سوا کوئی دوسری بات نہیں کہوں گا اس پر یہ لوگ ناراض ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ یا تو آپ ہمارے معبودوں کو برا کہنے سے رک جائیں ورنہ ہم آپ کو بھی گالیاں دیں گے اور آپ کے معبود کو بھی۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ اس آیت کریمہ میں بہت سی پر حکمت ہدایات ارشاد فرمائی گئی ہیں جن میں سے چند ایک کا ذکر کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں۔ سب سے پہلی بات جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ اس میں جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا یعنی خطاب مسلمانوں سے ہے نبی کریم ﷺ سے نہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ کو اللہ نے جس طرح مکارم اخلاق اور تحمل کا پیکر بنایا تھا اس کو دیکھتے ہوئے آپ سے تو اس بات کی امید نہیں کی جاسکتی تھی کہ ان کی کسی بات کا جواب دیتے ہوئے یا ان کی کسی بات پر مشتعل ہو کر گالی تو دور کی بات ہے کبھی کوئی درشت کلمہ بھی اپنی زبان سے نکالیں گے۔ البتہ مسلمانوں سے یہ اندیشہ کیا جاسکتا تھا کہ جب ان کے سامنے قریش دریدہ دہنی اور بدزبانی کا ارتکاب کریں وہ بھی جواب میں ان کے بتوں یا ان کے دوسرے معبودوں کے بارے میں کوئی سخت جملہ کہہ دیں۔ چناچہ انھیں خطاب کرکے یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ تم اسلام کا ہر اول دستہ ہو۔ اسلامی دعوت اور اسلامی قافلے کا دارومدار تمہاری تبلیغی مساعی پر ہے اور تمہاری تبلیغی مساعی کی کامیابی کا دارومدار تمہارے متحمل اور بردبار رویے پر ہے اگر تم نے مشرکین کے رویے سے مشتعل ہو کر کوئی سخت رویہ اختیار کرلیا اور انہی کی زبان میں جواب دینے لگے تو اس سے مقابلہ تو ممکن ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ بات بہت مشکل ہوجائے گی کہ مخالفین میں سے کوئی آدمی اپنے پرانے دین اور پرانے رویے سے کٹ کر آپ کی دعوت کو قبول کرلے۔ اس لیے جس فرد یا جس گروہ کے پیش نظر اپنے نقطہ نگاہ کو لوگوں تک صرف پہنچانا ہی نہیں بلکہ ان کے دل و دماغ میں اتارنا بھی مقصود ہو ‘ اس کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ وہ اپنی دعوت کو کبھی ذاتیات کا رنگ اختیار نہ کرنے دے۔ مخالفین اسے ہرچند مشتعل کر کے ذاتیات میں الجھانے کی کوشش کریں ‘ لیکن اس کی پوری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ بات اصول و عقائد ہی تک محدود رہے۔ تنقید ہو تو صرف مخالفین کے خیالات پر لیکن اس کا اسلوب اس قدر نرم اور محبت آمیز ہونا چاہیے جو طبیعتوں پر اثر انداز ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور اگر خدانخواستہ تلخ اسلوب اختیار کرلیا جائے اور انہی کی زبان میں جواب دینے کی کوشش کی جائے تو پھر اس بات کا شدید امکان پیدا ہوجاتا ہے کہ مخالفین میں جذبہ جاہلی بھڑک اٹھے اور وہ بجائے بات قبول کرنے کے اس دعوت کو ختم کرنے کا فیصلہ کرنے لگیں۔ آیت کے دوسرے جملے میں اس کی حکمت واضح کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ انسانی فطرت یہ ہے کہ ہر شخص اور ہر قوم کو اپنی روایات ‘ اپنی رسوم اور اپنے معتقدات حد درجہ عزیز ہوتے ہیں وہ اس پر کبھی کھلی تنقید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے بلکہ وہ ایسی کسی تنقید پر بھی مرنے مارنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ اس لیے ایک مبلغ اور ایک مصلح کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ وہ اپنی دعوت کے اسلوب سے جذبات میں اشتعال نہ پیدا ہونے دے۔ ایک تو اپنے اعتقادات کے خلاف کسی بات کو قبول کرنا بجائے خود کسی بھی آدمی کے لیے آسان نہیں ہوتا لیکن اگر وہ یہ محسوس کرے کہ میرے اعتقادات کے بارے میں نامناسب زبان استعمال کی جا رہی ہے تو پھر تو وہ اپنے اعتقادات کے خلاف کسی بات پر غور و فکر کرنا تو دور کی بات ہے سننا بھی برداشت نہیں کرتا۔ اس لیے جس شخص یا جس قوم کے پیش نظر یہ مقصد ہو کہ مجھے لوگوں کے غلط خیالات کی اصلاح کر کے صحیح خیالات ان کے دل و دماغ میں اتارنے ہیں۔ وہ کبھی یہ غلطی کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے درشت رویہ اختیار کریں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک دفعہ مکہ معظمہ میں بیت اللہ کے سامنے بیٹھے ہوئے پاکستان کے ایک بڑے عالم دین سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے باتوں باتوں میں بتایا کہ کل میرے پاس اسلام آباد سے ایک صاحب تشریف لائے۔ انھوں نے مجھے اپنی ایک تصنیف دی کہ میں اسے پڑھ کر اپنی رائے دوں۔ میں نے وہ تصنیف دیکھی تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس میں مولانا مودودی کے خلاف نہایت غیض و غضب کے انداز میں فتوے کی زبان میں بہت درشت باتیں کہی گئیں تھیں۔ دوسرے روز وہ مصنف ان محترم مولانا سے اپنی کتاب کے بارے میں رائے معلوم کرنے کے لیے آئے تو انھوں نے ان سے فرمایا کہ یہ کتاب پڑھ کر مجھے خیال ہوا ہے کہ آپ مولانا مودودی اور ان کی جماعت کو غالباً اولیاء کا گروہ سمجھتے ہیں جو نہایت خدا رسیدہ اور بےنفس لوگ ہیں تو مصنف یہ سن کر نہایت متعجب ہوئے کہنے لگے حضرت میں نے تو انھیں اپنی کتاب میں گمراہ لکھا ہے یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں تو یہ محترم مولانا کہنے لگے کہ میرا گمان ہے کہ آپ نے یہ کتاب اس غرض سے لکھی ہے کہ اسے پڑھ کرمولانا اور ان کے متبعین اپنے خیالات کی اصلاح کرلیں اور جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں اسے وہ مان لیں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں میں نے یہ کتاب تو اسی مقصد کے لیے لکھی ہے تو یہ مولانا کہنے لگے کہ آپ نے اس مقصد کے لیے جو زبان اختیار کی ہے اس زبان میں کوئی آدمی بھی اپنی مخالفانہ بات کو صرف اسی صورت میں قبول کرسکتا ہے کہ وہ انتہائی بےنفس اور خدا رسیدہ آدمی ہو اسے اپنی مخالفت میں کہی جانے والی بات پر نہ غصہ آئے نہ اشتعال پیدا ہو ورنہ جہاں تک انسانی فطرت کا تعلق ہے وہ تو یہ ہے کہ ہر انسان کو اپنے مالوفات اور اپنے معتقدات اس حد تک عزیز ہوتے ہیں کہ وہ اس کے خلاف بات سننے کا بھی رودارا نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے یہاں تبلیغ و دعوت کے کام میں جو ناکامیاں دیکھنے میں آتی ہیں ان کے چند در چند اسباب ہیں۔ ان میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم جب مخالف کے غلط خیالات پر تنقید کرتے ہیں تو ہماری تنقید صرف اس کے خیالات تک محدود نہیں رہتی بلکہ مخالف کی ذات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور دوسری یہ بات کہ ہمارا رویہ اس قدر جارحانہ ہوتا ہے کہ مخالف بات کو قبول کرنا تو درکنار ‘ سوچنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کرتا بلکہ عموماً اس کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کرلیا جاتا ہے اور پھر ایک ایسا تصادم وجود میں آتا ہے جو بعض دفعہ جانبین کی جانیں لے کر بھی ٹلتا نہیں اس لیے یہاں پر فرمایا جا رہا ہے کہ ہم نے ہر امت کے لیے ان کے اعمال کو ان کے دلوں میں کھبا دیا ہے اور یہ ہم نے کیا ہے یعنی یہ اللہ نے جو فطری قوانین بنائے ہیں یہ انہی قوانین فطرت میں سے ہے۔ کیونکہ یہ وہ چیز ہے جس کے بغیر انسانی اجتماعی زندگی میں شیرازہ بندی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہی وہ اپنی روایات اور اپنے مالوفات کے ساتھ گہری وابستگی ہے جو عصبیت کی شکل اختیار کر کے کسی بھی قوم کے اجتماعی وجود کو سہارا دیتی ہے اسی سے خاندان اور قومیں وجود میں آتی ہیں۔ اسی سے وطن کا دفاع کرنا انسان کا جزو ایمان بن جاتا ہے۔ اس لیے جہاں تک اس کی افادیت کا تعلق ہے اس سے انکار ممکن نہیں۔ اس لیے اس کو ختم کرنے کی کوئی کوشش بھی کبھی اچھے نتائج پیدا نہیں کرسکتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مفید عصبیت کو باقی رکھتے ہوئے اور اس فطری اصول کا لحاظ کرتے ہوئے جو غلط چیزیں اس میں شامل ہوگئی ہیں جس نے اس کی فطری افادیت کو بگاڑ کے رکھ دیا ہے انھیں دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس لیے یہاں مسلمانوں کو آگاہ کیا گیا کہ قوم کے عقائد و اعمال کی تطہیر تو ضروری ہے لیکن یہ کام نہایت حکمت و دانش کے ساتھ ہونا چاہیے۔ جارحانہ طریقے سے فطری تصادم شروع ہوتا ہے۔ اس سے بچتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ تنقید خیالات کی حد تک رہے۔ ذاتیات اس میں شامل نہ ہونے پائیں اور اسلوب ایسا میٹھا اور دل نشین ہو کہ سننے والا یہ محسوس کرے کہ میرے دل پر شبنم برس رہی ہے۔ اس کی ٹھنڈک کو محسوس کرتے ہوئے وہ اپنے تئیں کسی بھی تبدیلی کو شاید قبول کرنا گوارا کرلے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہر ایک کو صرف اپنا حساب دینا ہے اس آیت کریمہ کے تیسرے جملے میں مسلمانوں کو ایک طرح سے تسلی دی گئی ہے کہ تم نے آنحضرت ﷺ کی رفاقت میں تبلیغ دین اور دعوت الی اللہ کے سلسلے میں جو مساعی انجام دی ہے اور اس راستے میں جس طرح بڑی سے بڑی تکلیفیں برداشت کیں اس کے بعد بھی اگر لوگ دین کے مقابلے میں اپنی معاندانہ روش سے باز نہیں آتے تو یقینا آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے اور کبھی کبھی طبیعتوں میں اشتعال بھی پیدا ہونے لگتا ہے کہ یہ لوگ آخر اپنی انسانیت کہاں کھو بیٹھے ہیں کہ ہم ان کے سامنے وہ بات رکھ رہے ہیں جو انسانیت کا سرمایہ اور فطرت اور عقل کا تقاضہ ہے اور یہ اس کے مقابلے میں شرک کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور اس پر انھیں اصرار بھی ہے حالانکہ شرک کو نہ عقل قبول کرتی ہے اور نہ فطرت اسے برداشت کرتی ہے اور جہاں تک انسانی شرف کا تعلق ہے یہ کسی طرح اس سے میل نہیں کھاتا لیکن عجیب بات ہے کہ مشرکین کو اس پر پھر بھی اصرا رہے ایسی باتیں سوچ کر یقینا صحابہ کے جذبات میں ایک ہیجان پیدا ہوتا۔ انھیں تسلی دی جا رہی ہے کہ تمہیں اس صورت حال سے اس درجہ متاثر نہیں ہونا چاہیے کہ تم جذباتی ہیجان کا شکارہو جاؤ کیونکہ کہ تم ایک فرض انجام دے رہے ہو اور یہ سمجھ کر انجام دے رہے ہو کہ اسی پر عاقبت میں سرخرو ہونے کا دارومدار ہے اور ان کے بارے میں تم اس لیے متفکر ہو کہ اگر وہ تمہاری دعوت کو قبول نہیں کرتے تو عاقبت میں انھیں سخت انجام سے دوچار ہونا پڑے گا اس کا مطلب یہ ہے کہ عاقبت سے تمہیں بھی دوچار ہونا ہے اور انھیں بھی اور وہ لوگ اگر اس کی پرواہ نہیں کرتے تو تم ان کے اس رویے کو عاقبت پر چھوڑو۔ اللہ تعالیٰ وہاں ان سے خود پوچھ لے گا کہ وہ دنیا میں کیا کرتے رہے ہیں۔ تم نے اپنا فرض انجام دے کر اپنی عاقبت سنوار لی اور وہ لوگ اگر اپنی عاقبت کے بگاڑ پر تلے ہوئے ہیں تو تمہارا اس پر مشتعل ہونا یہ کسی طرح بھی مناسب نہیں ہر آدمی اپنے اعمال کا اللہ کے سامنے جواب دہ ہے یہ لوگ بھی جب اس کے پاس پہنچیں گے تو اپنے اعمال کا پورا سرمایہ لے کر جائیں گے وہاں انھیں اندازہ ہوجائے گا کہ ہم نے دنیا میں کس قدر خسارے کا سودا کیا۔ جس جائز کام کے کرنے سے مفاسد کا خطرہ ہو اسے چھوڑنا واجب ہوجاتا ہے یہ چند اہم نکات ہیں جو اس آیت کریمہ کی تشریح کے ضمن میں ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیے ہیں لیکن جب مجموعی طور پر اس آیت کریمہ کی ہدایات پر غور کرتے ہیں تو ہمیں اس سے چند مزید سبق حاصل ہوتے ہیں جن کا ذکر کردینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے۔ سب سے پہلے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اس آیت میں اس بات سے روکا گیا ہے کہ یہ مشرکین جن کو معبود کے طور پر پکار رہے ہیں تم انھیں گالی نہ دو کیونکہ ان کے معبود دو طرح کے ہیں ایک کا تعلق تو محض ان کے تصورات سے ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہی تصورات کو انھوں نے محسوس شکل دینے کے لیے ان کے بت بنائے ‘ ان کے مجسمے کھڑے کیے اور ان کی پوجا شروع کردی۔ اور دوسرے وہ ہیں جن کی واقعی شخصیتیں ہیں اور وہ ساتھ ساتھ تقدس اور احترام کا رشتہ بھی رکھتی ہیں مثلاً یہ مشرکین فرشتوں کو پوجتے تھے۔ وہ یقینا قابل احترام ہستیاں ہیں اسی طرح بعض انبیاء کرام کی یہ پوجا کرتے تھے اور ان کے بارے میں مافوق الفطرت احساسات رکھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کے اس مشرکانہ رویے پر تنقید تو ہوسکتی ہے لیکن جن کو انھوں نے شریک بنا رکھا ہے وہ انبیاء کرام ہونے کی وجہ سے ہمارے لیے بھی واجب الاحترام ہیں اس لیے ان کو گالیاں دینے یا برا کہنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور دوسری بات جو اس سے سمجھ میں آتی ہے وہ یہ کہ توحید کو مثبت انداز میں ثابت کرنا اور عقل و فطرت کے مطابق ٹھہرانا اور شرک کو بالکل بےثبات و بےبنیاد ثابت کرنا یہ دعوت کا اصل مقصود ہے اور جہاں تک تعلق ہے ان کے معبودوں کو برا کہنے کا اس کو زیادہ سے زیادہ ایک جائز کام کہا جاسکتا ہے لیکن مقصود تو بالکل نہیں کیونکہ ایک مبلغ کے پیش نظر ایک مشرک سے شرک کو چھڑا کر اسے توحید کے راستے پر ڈالنا ہے۔ دل شکنی اور دل آزاری تو کسی طرح بھی ایک مبلغ کے پیش نظر نہیں ہوسکتی ‘ بلکہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اگر ایسا کوئی عمل جو بظاہر جائز بھی ہو لیکن مقاصد شرعیہ میں شامل نہ ہو لیکن اس سے کچھ مفاسد کے پیدا ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ان مفاسد کے پیش نظر اس عمل کو ترک کردینا واجب ہوجاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے ایک ارشاد سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ آپ نے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی نہ دے۔ صحابہ نے کہا یا رسول اللہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی دے آپ نے فرمایا کہ ہاں کوئی انسان خود تو اپنے ماں باپ کو گالی نہیں دیتا لیکن جب وہ کسی دوسرے شخص کے ماں باپ کو گالی دے اور اس کے نتیجے میں وہ دوسرا اس کے ماں باپ کو گالی دے تو اس گالی دلوانے کا سبب چونکہ یہ خود بنا ہے اس لیے یوں سمجھو کہ اس نے خود گالی دی۔ ایک دوسری حدیث سے بھی ہمیں اس کی مثال ملتی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) سے فرمایا کہ بیت اللہ زمانہ جاہلیت میں کسی حادثہ میں منہدم ہوگیا تھا تو قریش مکہ نے اپنے وسائل سے اس کی دوبارہ تعمیر کی لیکن وسائل کی کمی کے باعث اس کا کچھ حصہ تعمیر سے باہر رکھنا پڑا جسے آج حطیم کہا جاتا ہے اور دوسرا کام انھوں نے یہ کیا کہ بیت اللہ کے مشرق اور مغرب میں دو دروازے تھے ایک نکلنے کے لیے تھا اور دوسرا داخل ہونے کے لیے۔ لیکن قریش نے مغربی دروازہ بند کردیا صرف مشرقی دروازہ کھلا رہنے دیا اور مزید انھوں نے یہ کیا کہ دروازے کو بجائے زمین کے برابر رکھنے کے سطح زمین سے خاصہ بلند رکھا تاکہ کوئی شخص بدوں اجازت داخل نہ ہو سکے۔ آنحضرت نے فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں بیت اللہ کی موجودہ تعمیر کو منہدم کر کے حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) کی تعمیر کے مطابق بنا دوں۔ مگر خطرہ یہ ہے کہ تمہاری قوم یعنی عرب نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں بیت اللہ کو منہدم کرنے سے کہیں ان کے دلوں میں کوئی شبہات نہ پیدا ہوجائیں اس لیے میں نے اپنے ارادہ ترک کردیا۔ ظاہر ہے کہ بیت اللہ کی تعمیر کو بنائِ ابراہیمی کے مطابق بنانا ایک کار ثواب تھا مگر اس پر لوگوں کی ناواقفیت کے سبب ایک خطرہ کا ترتب دیکھ کر آپ نے اس ارادہ کو ترک فرما دیا اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ اگر کسی جائز بلکہ ثواب کے کام پر کوئی غلط نتیجہ نکلنے کا اندیشہ ہو تو وہ جائز کام بھی ممنوع ہوجاتا ہے۔ لیکن یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ بہت ضروری ہے کہ کسی فساد اور خرابی کے اندیشے سے ہر کام نہیں چھوڑا جاسکتا بلکہ اس میں تقسیم یہ ہے کہ بعض اسلامی احکام مقاصد شرعیہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو اپنی ذات میں صرف اطاعت ہیں اور ان پر ثواب ملنے کی امید کی جاسکتی ہے۔ کسی فساد اور خرابی کے اندیشے سے صرف یہ ثواب اور اطاعت کے کام چھوڑے جاسکتے ہیں۔ رہے وہ کام جن کی حقیقت مقاصد شرعیہ کی ہے ان کو کسی طرح چھوڑا نہیں جاسکتا۔ مثلاً اگر جہاد فرض ہوجائے تو جہاد و قتال کو اس خیال سے نہیں چھوڑاجا سکتا کہ اس کے نتیجے میں خونریزی ہوگی آبادیاں برباد ہوں گی ‘ بہت سے بچے یتیم ہوجائیں گے۔ اسی طرح تبلیغ دین ایک فریضہ ہے وہ محض اس خیال سے روکا نہیں جاسکتا کہ لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں یا اس کے نتیجے میں کوئی حادثہ بھی ہوسکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت حسن بصری اور امام محمد بن سیرین ایک جنازہ کی نماز میں شرکت کے لیے گئے وہاں دیکھا کہ مردوں کے ساتھ عورتوں کا بھی اجتماع ہے۔ اس کو دیکھ کر ابن سیرین تو واپس آگئے مگر حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ لوگوں کی غلط روش کی وجہ سے ہم اپنے ضروری کام کیسے چھوڑ دیں۔ نماز جنازہ فرض ہے اس کو کسی دینی نقصان کے اندیشے سے چھوڑا نہیں جاسکتا۔ ہاں اس بات کی کوشش کی جائے کہ کی خرابی باقی نہ رہے۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ جو کام مقاصد اسلامیہ میں داخل ہیں اگر ان کو کرنے سے کچھ لوگ غلط فہمی یا غلط کاری کا شکار ہوتے ہوں تو ان کاموں کو ہرگز نہ چھوڑا جائے ہاں جو کام مقاصد اسلامیہ میں داخل نہیں اور ان کو ترک کردینے سے کوئی دینی مقصد فوت نہیں ہوتا ‘ ایسے کاموں کو دوسروں کی غلط فہمی یا غلط کاری کے اندیشے کی وجہ سے چھوڑ دینا چاہیے۔ مسلمانوں کو تبلیغ دین اور دعوت الی اللہ کے سلسلے میں نہایت گراں قدر پر از حکمت ہدایات دینے کے بعدروئے سخن پھر مشرکین کی طرف پھر گیا ہے اور اگلی آیت کریمہ میں ان کے مطالبات اور ان کی مشرکانہ روش کو بیان کیا گیا ہے جس کو دیکھ کر حیرت بھی ہوتی ہے اور انسانی فطرت کے بگاڑ کی انتہاء بھی معلوم ہوتی ہے۔
Ayah 6:109

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:109 in the Quran reader

اور وہ اللہ کی پکی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو وہ ضرور اس پر ایمان لائیں گے۔ کہہ دو کہ نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور (اے مسلمانو ! ) تمہیں کیا پتہ کہ جب وہ نشانی آجائے گی تو وہ ایمان نہیں لائیں گے

چناچہ ارشاد ہوتا ہے : وَاَقْسَمُوْا بِ اللہ ِ جَھْدَ اَیْمَانِھِمْ لَئِنْ جَآئَتْھُمْ اٰیَۃٌلَّیُؤْمِنُنَّ بِھَا ط قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللہِ وَمَا یُشْعِرُکُمْ لا اَنَّھَآ اِذَا جَآئَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ۔ (الانعام : 109) (اور وہ اللہ کی پکی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو وہ ضرور اس پر ایمان لائیں گے۔ کہہ دو کہ نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور (اے مسلمانو ! ) تمہیں کیا پتہ کہ جب وہ نشانی آجائے گی تو وہ ایمان نہیں لائیں گے) جہد کا معنی انتہائی کوشش اور بھرپور جدوجہد کے ہیں اور یہاں اس لفظ کا استعمال چونکہ قسم کے ساتھ ہوا ہے اس لیے اس کا مفہوم ہوگا پکی قسمیں کھانا۔ گزشتہ آیات کے تفصیلی مطالب اور بھرپور دعوت کو دیکھتے ہوئے مشرکین مکہ کا یہ نیا مطالبہ بجز اس کے اور کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ ان کے بگاڑ کی انتہا ہے کہ وہ کسی بڑی سے بڑی بات سے بھی اثر پذیر ہونے کے لیے تیار نہیں ان کے پہلوئوں میں دل نہیں پتھر معلوم ہوتے ہیں۔ پتھر بھی بعض دفعہ قرآن کریم کے بیان کے مطابق اللہ کے خوف سے پھٹ جاتے اور ان سے چشمے رواں ہوجاتے ہیں اور بعض دفعہ اللہ کی خشیت سے بلندیوں سے لڑھک جاتے ہیں ‘ لیکن انسانی دلوں کی سنگینی کا عالم یہ ہے کہ داعی اللہ کا نبی ہے جس کی شخصیت پتھروں کو موم کردیتی ہے اور جس زبان میں وہ دعوت دے رہا ہے وہ قرآن کریم کی زبان ہے یعنی خالق ومالک کا کلام اور پھر اس دعوت کے پیچھے جو ذات داعی کی حیثیت سے کھڑی ہے اس سے بڑھ کر اپنے مخالفین کا غمگسار اور ہمدرد یقینا اس دھرتی نے اور کوئی نہیں دیکھا۔ وہ خون جگر پی پی کر انھیں راہ ہدایت دکھا رہا ہے۔ ان کی گالیاں سن کر دعائوں سے نواز رہا ہے ان کے دکھ اٹھا کر ان کو برے انجام سے بچانا چاہتا ہے لیکن یہ اس کی دعوت کو قبول کرنے کی بجائے نئے نئے پینترے بدل کر نئے نئے مطالبات اس کے سامنے رکھ رہے ہیں ایک سے ایک بڑی نشانی دیکھ چکے ہیں پھر کائنات کا چپہ چپہ اللہ کی نشانیوں سے بھرپور ہے اور یہ نشانیاں ان کے گردو پیش میں پھیلی ہوئی ہیں۔ مزید یہ کہ اللہ کے رسول کی ذات بجائے خود سب سے بڑی نشانی ہے قرآن کریم اپنی معجزانہ شان میں اللہ کا نشان ہے پھر حضور کے معجزات ایک بڑی تعداد میں اب تک یہ لوگ دیکھ چکے ہیں۔ بایں ہمہ ! ان کا پھر نشانیوں کے لیے مطالبہ کرنا صاف بتارہا ہے کہ وہ ہدایت اختیار کرنا نہیں چاہتے بلکہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کو بےاثر کرنے کے لیے نئے نئے حربے ایجاد کر رہے ہیں۔ چناچہ ابن جریر نے نقل کیا ہے کہ قریشی سرداروں نے مطالبہ کیا کہ اگر ہمارے سامنے کوہ صفا سونا بن جائے تو ہم آپ کی نبوت اور رسالت کو مان لیں گے اور مسلمان ہوجائیں گے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اچھا معاہدہ کرو اگر یہ معجزہ ظاہر ہوگیا تو تم سب مسلمان ہوجاؤ گے۔ انھوں نے قسمیں کھا کھا کر یقین دلایا۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے کہ اس پہاڑ کو سونا بنا دیجئے لیکن حضرت جبرائیل (علیہ السلام) وحی لے کر نازل ہوئے کہ اگر آپ چاہیں تو ہم ابھی اس پورے پہاڑ کو سونا بنا دیتے ہیں لیکن قانون الٰہی کے مطابق اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اگر پھر بھی یہ لوگ ایمان نہ لائے تو اللہ کا عذاب آئے گا اور سب کو ہلاک کردیا جائے گا تاریخ بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ تاریخ کی تمام معذب قومیں اسی صورت حال سے دوچار ہوئیں۔ ان کے رسول ان کو دعوت دیتے رہے۔ وہ رسولوں کے ذریعہ معجزات بھی دیکھتی رہیں لیکن آئے دن اپنے منہ مانگے معجزات دیکھنے پر اصرار کرتی رہیں۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم نے آپ سے ایسے ہی معجزے کا مطالبہ کیا۔ ان کے سامنے پہاڑ پھٹا اس کے اندر سے ایک زندہ اونٹنی برآمد ہوئی لیکن یہ قوم اتنا بڑا معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائی۔ بالآخر اللہ کے عذاب کا شکار ہوئی کیونکہ پروردگار کا قانون یہ ہے کہ وہ قوموں کو یہ بتانے کے لیے کہ تمہاری طرف آنے والا رسول اللہ ہی کا رسول ہے کبھی کبھی رسول کے ہاتھ پر معجزات ظاہر کرتا ہے لیکن اگر وہ قوم ان معجزات کو دیکھنے کے بعد بھی منہ مانگے معجزات پر اصرار کرتی ہے تو انھیں ہرچند اس سے روکا جاتا ہے لیکن اگر ان کا اصرار جاری رہتا ہے تو یہ معجزہ دکھا دیا جاتا ہے اور پھر ان کے ایمان نہ لانے کی صورت میں ان پر اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔ یہاں بھی یہی صورت حال درپیش ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ حضور اللہ کے آخری رسول ہیں۔ آپ کے بعد انسانی اصلاح کے لیے کوئی رسول نہیں آئے گا۔ انسانی اصلاح کے انقلاب کو حضور کے ہاتھ پر مکمل ہونا ہے۔ اس لیے قریش مکہ کو سمجھایا جا رہا ہے کہ تم اتنا بڑا خطرہ انگیخت نہ کرو ‘ عذاب کو دعوت نہ دو ‘ اس انقلاب کو اپنی تکمیل کی طرف بڑھنے دو ۔ آنحضرت ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ انکے مطالبوں پر توجہ نہ فرمائیں بلکہ انکے مطالبوں پر صاف صاف انھیں بتادیں کہ جن نشانیوں کا تم مجھ سے مطالبہ کرتے ہو۔ انکے حوالے سے تمہیں یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ نشانیاں دکھانا یا نہ دکھانا یہ صرف اللہ کا کام ہے کیونکہ تخلیق کے عمل کا وہی مالک ہے دنیا میں ہر تبدیلی اسی کے حکم سے آتی ہے میں تو اللہ کا رسول ہوں ‘ میں نذیر اور بشیر بن کے آیا ہوں ‘ نشانیاں دکھانے والا بن کے نہیں آیا ‘ میرا کام تو یہ ہے کہ میں اللہ کی کتاب اور اسکا دین تم تک پہنچائوں ‘ تمہارے ذہنی اور قلبی کانٹوں کو چنوں ‘ تمہاری ذہنی آسودگی اور قلبی اطمینان کا سامان کروں اور اپنی شخصیت کا سارا سرمایہ اس راستے میں جھونک دوں کیونکہ دل و دماغ کی تبدیلی ہی سے انسانی تبدیلی کے امکانات پیدا ہوتے ہیں اور وہ انقلاب مکمل ہوسکتا ہے جس کے لیے میں آیا ہوں تمہیں میری کوئی بات اگر سمجھ نہیں آرہی یا میری کسی بات میں تمہیں کوئی اشتباہ پیش آیا ہو تو میں اسے دور کرنے کی پوری کوشش کروں گا کیونکہ یہ میری ذمہ داری ہے رہا نشانیاں دکھانا تو یہ سراسر میرے اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ بہت سی نشانیاں دکھا چکا اور آئندہ بھی چاہے گا تو دکھائے گا لیکن اسے مجھ پر ایمان لانے کیساتھ مشروط نہ کرو۔ یہاں رک کر ذرا غور فرمایئے کہ مشرکین مکہ اپنے ایمان کو ان نشانیوں کے ساتھ وابستہ کر رہے تھے اور قسمیں کھا کھا کر یقین بھی دلا رہے تھے اور ان نشانیوں کا ظاہر کردینا اللہ کی قدرت کے لیے نہایت معمولی بات ہے لیکن اس کے مقابلے میں جو کہا جا رہا ہے وہ آنحضرت ﷺ اور آپ کی دعوت کے لیے انتہائی مشکلات پیدا کرنے کا باعث بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن اللہ اور اللہ کے رسول کو چونکہ اس دعوت کا یقین پیدا کرنا ہے اور انسانی اصلاح کو مثبت بنیادوں پر اٹھانا ہے۔ اس لیے وہ کوئی ہیجان انگیز صورت حال پیدا کر کے وقتی اصلاح کی صورت پیدا کرنا پسند نہیں کرتا اور مزید یہ بات بھی کہ جنھیں اپنے برسرحق اور سچا ہونے کا پورا یقین ہوتا ہے وہ اسطرح کے سہاروں کے بل بوتے پر تبلیغ و دعوت کی عمارت استوار نہیں کیا کرتے۔ اس لیے صاف فرما دیا کہ اے پیغمبر کہہ دو کہ یہ آیات اور نشانیاں سراسر اللہ کے قبضے میں ہیں۔ تم مجھے اللہ کا ایک بندہ سمجھ کر اور اس کا رسول جان کر میری دعوت پر غور کرو اور پھر رد و قبول کا فیصلہ کرو۔ اس کے بعد وَمَا یُشْعِرُکُمْ سے مسلمانوں سے خطاب فرمایا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کی خواہش تھی کہ کافروں کو کوئی نشانی دکھا دی جائے تاکہ وہ ایمان لائیں اس میں مسلمانوں کی ایک دبی خواہش کی طرف اشارہ ہے۔ مسلمانوں نے آنحضرت ﷺ کی صحبت میں رہ کر جہاں اور بیشمار پاکیزہ صفات اپنے اندر پیدا کیں اور اپنے احساسات کو آنحضرت کے احساسات کا عکس بنایا انہی میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ ہم قرآن کریم میں بار بار پڑھ چکے ہیں کہ کفار کے ایمان لانے کی حرص آنحضرت ﷺ میں انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی۔ خود قرآن کریم نے اس کی شہادت دیتے ہوئے فرمایا : حَریْصٌعَلَیْکُمْ ہمارا پیغمبر تمہارے ایمان کا انتہاء درجہ حریص واقع ہوا ہے۔ وہ ہر وقت تمہارے ایمان کی حرص میں مبتلا رہتا ہے اس کے لیے کوششیں کرتا ہے سمجھاتا بجھاتا ہے ‘ خون جگر پی پی کر اور دکھ اٹھا اٹھا کر دل و دماغ کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے پھر راتوں کو بجائے آرام کرنے کے اللہ کے حضور تمہارے ایمان کے لیے دعائیں کرتا ہے۔ یہی احساس مسلمانوں میں بھی منتقل ہوگیا تھا وہ بھی ہر وقت اسی آگ میں جلتے تھے۔ وہ اس بات کے شدید خواہش مند تھے کہ کاش ہمارے یہ قومی بھائی امت اسلامیہ کا حصہ بن جائیں ‘ کاش یہ لوگ بھی ہمارے قافلے میں شریک ہو کر اپنی دنیا اور آخرت سنوار لیں اس لیے جب بھی ان کی جانب سے کوئی بھی نیا مطالبہ آتا اور وہ کسی نئی نشانی کو دیکھنے کی خواہش کرتے تو باوجود اس کے کہ وہ بارہا نشانیاں دیکھ بھی چکے لیکن پھر بھی مسلمانوں میں یہ خواہش انگڑائیاں لینے لگتی کہ ہم مانتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے دعوئوں میں سچے نہیں لیکن پھر بھی ایک تجربہ کرلینے میں کیا حرج ہے۔ اللہ کریم کے لیے کسی بڑی سے بڑی نشانی کو دکھا دینا بھی کوئی مشکل کام نہیں۔ ہوسکتا ہے یہ لوگ اگر پہلے متاثر نہیں ہو سکے ‘ اب ہوجائیں اور راہ راست اختیار کرلیں یہی پوشیدہ خواہش بعض دفعہ نہایت ادب و احترام لیے ہوئے زبان تک آجاتی اور دبی دبی زبان میں آنحضرت سے گزارشات شروع ہوجاتیں۔ کفار اپنے مطالبے میں مخلص نہیں ہیں یہاں اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ مسلمانوں تمہیں کیا خبر تم تو صرف ان کی چرب زبانی دیکھتے ہو اور ان کا بار بار قسمیں کھانا سنتے ہو لیکن ان کے دلوں کی جو کیفیت ہے اسے تو ہم جانتے ہیں اس لیے ہم تمہیں بتائے دیتے ہیں کہ اگر انھیں ان کی یہ منہ مانگی نشانی دکھا بھی دی گئی تو وہ ایمان پھر بھی نہیں لائیں گے اس لیے کہ ان کے ایمان نہ لانے کا سبب کسی نشانی کا نہ دیکھنا نہیں ہے بلکہ اس کا سبب اور ہے جس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں کیا جا رہا ہے۔ اگر ان کا ایمان نشانیوں کو دیکھنے سے وابستہ ہوتا تو اب تک انھوں نے ایک سے ایک بڑھ کر نشانی دیکھی ‘ کائنات کا ایک ایک گوشہ ایسی نشانیوں سے بھرپور ہے جو اللہ کی ذات وصفات پر دلالت کرتی ہیں اور پھر سب سے بڑی نشانی آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی ہے آپ کی جاذب نظر شخصیت ‘ آپ کی من موہنی عادات ‘ آپ کا بےمثل اخلاق ‘ آپ کی نہایت صاف ستھری سیرت ‘ پھر آپ کی محیر العقول صفات ‘ ان میں سے کون سے ایسی چیز ہے جس سے بڑھ کر کوئی اور نشانی ہوسکتی ہے اور مزید یہ بات بھی کہ خود حضور کے دست اقدس پر اب تک کس قدر معجزات کا ظہور ہوچکا اور جنھیں یہ لوگ اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھ چکے۔ ان کے سامنے چاند دو ٹکڑے ہوا ‘ ابوجہل کی مٹھی میں کنکریوں نے کلمہ پڑھا ‘ انھوں نے خود پتھروں کو حضور کو سلام کرتے سنا ‘ مختصر سا کھانا ان کے سامنے آنحضرت کی دعا سے سینکڑوں کے لیے کفایت کر گیا ‘ ان کی نظروں کے سامنے آنحضرت سے جانوروں نے سرگوشیاں کیں ‘ لیکن ان میں سے کوئی سی نشانی بھی انھیں اسلام کی طرف مائل نہ کرسکی تو اب جس نشانی کا یہ مطالبہ کر رہے ہیں یہ محض ان کا ایک فریب ہے جس سے وہ اپنے لوگوں کو مطمئن رکھنا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کی صفوں میں دراڑیں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ان کے ایمان نہ لانے کا یہ حقیقی سبب نہیں۔ اس لیے اگر اب ان کو یہ نشانی دکھا بھی دی گئی تو وہ ایمان پھر بھی نہیں لائیں گے۔ البتہ اس کا ایک خطرناک نتیجہ نکل سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں کیا جا چکا کہ اس کے نتیجے میں ان پر اللہ کا عذاب اتر سکتا ہے۔ رہی یہ بات کہ ان کے ایمان نہ لانے کا حقیقی سبب کیا ہے تو اس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں کیا جا رہا ہے۔
Ayah 6:110

وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠ Open ayah 6:110 in the Quran reader

اور ہم ان کے دلوں اور ان کی نگاہوں کو الٹ دیں گے ‘ جس طرح وہ پہلی بار ایمان نہیں لائے اور ان کو ان کی سرکشی میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیں گے

ارشاد فرمایا : وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَھُمْ وَ اَبْصَارَھُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِہٖٓ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ نَذَرُھُمْ فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَھُوْنَ ۔ (الانعام : 110) (اور ہم ان کے دلوں اور ان کی نگاہوں کو الٹ دیں گے ‘ جس طرح وہ پہلی بار ایمان نہیں لائے اور ان کو ان کی سرکشی میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیں گے ‘) سرکشوں پر دعوت و تبلیغ کوئی اثر نہیں کرتی اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان نہ لانے کا حقیقی سبب بیان کیا ہے اور ساتھ ہی اپنی سنت اور قانون کو بھی بیان فرمایا ہے۔ حقیقی سبب کا ذکر اس آیت کے آخری جملے میں ہے اور سنت اللہ کا بیان آیت کے شروع میں۔ ہم پہلے اس حقیقی سبب کا ذکر کرتے ہیں ان کے ایمان نہ لانے کا حقیقی سبب ان کا نشانی نہ دیکھنا نہیں ہے بلکہ ان کا وہ طغیان اور سرکشی ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ کی نعمتوں کو اپنی قوت و قابلیت کا کرشمہ سمجھتے ہیں اور پیغمبر کی دعوت ان کے غرور نفس اور ان کے پندار سیادت پر شاق گزرتی ہے جب بھی کوئی قوم اس مرض میں مبتلا ہوتی ہے تو وہ عموماً ہدایت قبول کرنے سے محروم رہتی ہے اس کا پندارِ نفس اسے کوئی بات سننے اس پر غور کرنے پھر اسے قبول کرنے سے رکاوٹ بن جاتا ہے اور جب اس کی یہ عادت طبیعت ثانیہ بن جاتی ہے اور وہ کسی طرح بھی اسے بدلنے کے لیے تیار نہیں ہوتی اور وہ اپنی ذات کے گنبد سے باہر نکلنے پر بالکل آمادہ نہیں ہوتی اور اپنے علم و دانش کے خول میں اس طرح اپنے آپ کو بند کرلیتی ہے کہ کوئی بھی سوجھ بوجھ کی بات اور عقل و دانش کا کوئی حصہ کبھی اس کے دل و دماغ میں اترنے نہیں پاتا تو پھر اللہ کا وہ قانون حرکت میں آتا ہے جس کے نتیجے میں ایسا فرد یا ایسی قوم ہدایت سے محروم کردی جاتی ہے۔ اللہ کے اس قانون کی وضاحت ایک سے زیادہ دفعہ ہم کرچکے ہیں۔ سلسلہ کلام کی وضاحت کے لیے مختصراً عرض کیے دیتے ہیں کہ اس کائنات میں بھی اور انسان کے اپنے وجود کے اندر بھی خالق کائنات نے اپنی جو ان گنت نشانیاں پھیلا دی ہیں جو لوگ ان پر غور کرتے اور اس غور و فکر سے جو بدیہی نتائج ان کے سامنے آتے ہیں ان کو حرز جان بناتے ہیں ان کو ایمان کی دولت نصیب ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ یہ تمام نشانیاں دیکھنے کے باوجود اندھے بہرے بنے اپنے طغیان اور سرکشی میں مگن رہتے ہیں اور قرآن اور پیغمبر کی بار بار تذکیر کے بعد بھی اپنی آنکھیں نہیں کھولتے اللہ تعالیٰ ان کے دلوں اور ان کی آنکھوں کو الٹ دیا کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ صحیح فکر و نظر کی صلاحیت سے محروم ہوجایا کرتے ہیں پھر بڑی سے بڑی نشانی اور بڑے سے بڑا معجزہ بھی ان پر اثرانداز نہیں ہوتا۔ یہاں دلوں اور نگاہوں کو الٹنے کا یہی مفہوم ہے کہ وہ سیدھے دیکھنے کی بجائے الٹے دیکھتے اور سیدھی راہ اختیار کرنے کی بجائے الٹی راہ چلتے ہیں ان کی فکر بھی کج روی کا شکار ہوجاتی ہے پھر وہ احول کی طرح ہر چیز کو بس اپنے مخصوص زاویئے ہی سے دیکھتے ہیں۔ ہم اپنی عام زندگی میں بھی بہت دفعہ اس صورت حال کو اپنی آنکھوں سے بھی دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی جب تک کسی کی محبت کا اسیر رہتا ہے تو وہ محبت اس کی آنکھوں اور دل پر ایسا فریب طاری کردیتی ہے کہ وہ اس کی برائیوں کو بھی نیکیاں سمجھتا ہے اور اس کی کمزوریاں بھی اسے خوبیاں معلوم ہوتی ہیں لیکن جب کسی حادثے یا واقعہ کی وجہ سے محبت کی جگہ نفرت لے لیتی ہے تو اس شخص کی نگاہوں کا زاویہ اور دل کا سانچہ اس طرح تبدیل ہوتا ہے کہ اب اس کی اچھی باتیں بھی اس کو بری لگنے لگتی ہیں جس کا ایک نظر دیکھ لینا کبھی اس کے لیے راحت بخش ہوتا تھا اب اس کا نام لینا بھی اسے گوارا نہیں ہوتا۔ بقول شاعر ؎ وہی کافر کہ جس کا نام تسکین دل و جاں تھا ستم ہے اب اسی کے نام سے تکلیف ہوتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی صحیح یا غلط راستے کو اختیار کرنے کے لیے بنیادی کردار جو چیز ادا کرتی ہے وہ دل اور نگاہوں کا صحیح سمت میں کام کرنا ہے جب ان کی سمت بدل جاتی ہے اور زاویہ ٹیڑھا ہوجاتا ہے تو پھر ہزار کوشش کرو صحیح بات بھی سمجھ میں آنا مشکل ہوجاتی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے کسی کا منہ کا ذائقہ بگڑ جائے تو اسے شہد بھی کڑوا معلوم ہوتا ہے تو اللہ کے دین اور پیغمبر کی دعوت کے بارے میں جب کوئی قوم طغیانی اور سرکشی میں مبتلا ہو کر اور مسلسل اس کی اسیر رہ کر اپنی دماغی قوتوں ‘ قلبی توانائیوں اور بصیرتوں کو زنگ آلود کرلیتی ہے تو اللہ کا قانون حرکت میں آتا ہے۔ اور اسے ایمان سے محروم کردیا جاتا ہے اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کو یہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ غیر مسلموں کے ایمان لانے کی خواہش جو مسلسل آپکے دلوں میں چٹکیاں لے رہی ہے اسکا وجود مبارک سہی لیکن جن لوگوں کے لیے آپ اس کی خواہش رکھتے ہیں انھوں نے اپنے طرز عمل سے اللہ کے قانون کو دعوت دی اور آخر کار وہ اس کے قانون کی گرفت میں ایسے آئے کہ ایمان سے محروم کردیئے گئے اس لیے اب اگر انھیں ہزاروں نشانیاں بھی دکھا دی جائیں تب بھی ان کے ایمان لانے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ وہ خود تو اس سے بالکل محروم ہوچکے البتہ اب ان کے ایمان لانے کی ایک ہی شکل ہے جس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں فرمایا جا رہا ہے۔
Ayah 6:111

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ Open ayah 6:111 in the Quran reader

اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے باتیں کرنے لگتے اور ساری چیزیں ان کے آگے گروہ در گروہ اکٹھی کردی جاتیں ‘ جب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے الا یہ کہ اللہ چاہے۔ لیکن ان کی اکثریت مبتلائے جہل ہے

ارشاد ہوتا ہے : وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَیْھِمُ الْمَلٰٓئِکَۃَ وَ کَلَّمَھُمُ الْمَوْتٰی وَ حَشَرْنَا عَلَیْھِمْ کُلَّ شَیٔئٍ قُبُلًا مَّا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْٓا اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللہ ُ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ یَجْھَلُوْنَ ۔ (الانعام : 111) (اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے باتیں کرنے لگتے اور ساری چیزیں ان کے آگے گروہ در گروہ اکٹھی کردی جاتیں ‘ جب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے الا آنکہ اللہ چاہے۔ لیکن ان کی اکثریت مبتلائے جہل ہے) جن کے دل الٹ دئیے جائیں ‘ وہ کسی صورت میں بھی ایمان نہیں لائیں گے اللہ کی طرف سے چونکہ ان کے طرز عمل کی وجہ سے ان کی ہدایت سے محرومی کا فیصلہ ہوچکا اب صرف وہی نشانی نہیں جس کا یہ مطالبہ کر رہے ہیں بلکہ اگر آپ ان پر فرشتے بھی اتار دیں جن کو یہ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور قبریں ان کے لیے کھول دیں اور یہ اپنے جس عزیز سے بات کرنا چاہیں اس سے باتیں بھی کریں اور دنیا بھر کی وہ تمام چیزیں یا تمام افراد جنھیں دیکھنے کی یہ خواہش کریں ہم انھیں گروہ در گروہ ان کی آنکھوں کے سامنے بھی لا کھڑا کریں یعنی ان کے مشاہدات کو ہم بےحد و کنار حد تک کھول دیں اور یہ ایسی ایسی نشانیاں ملاحظہ کریں جس کے بعد کسی بھی اپنے مشاہدات پر یقین رکھنے والے کے لیے اللہ کی ذات وصفات اور اس کے رسولوں کی حقانیت کا انکار کرنا مشکل ہوجائے تو یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ اس لیے کہ ایمان کے لیے قبولیت کی جس استعداد کی ضرورت ہے یہ اس سے محروم کیے جا چکے۔ ہاں اب اگر یہ ایمان لاسکتے ہیں تو اس کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ اللہ یہ چاہے کہ یہ لوگ ایمان لے آئیں لیکن اللہ کا چاہنا اور اس کی مشیت اس کی حکمت سے الگ نہیں۔ جس بات کو اس کی حکمت چاہتی ہے اسی بات کا تقاضا اس کی مشیت کرتی ہے اور اس کی حکمت نے رد و قبول کے جو پیمانے بنا دیئے ہیں اور مشیت کے جو ضابطے مقرر کردیئے ہیں ظاہر ہے مشیت اس کے خلاف کبھی کام نہیں کرتی ہم بار بار یہ بات پڑھ چکے ہیں کہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ ایمان اسے نصیب ہوتا ہے جس کے دل میں ایمان لانے کی خواہش ہوتی ہے پھر وہ اس خواہش کو بروئے کار لانے کے لیے محنت کرتا ہے اور اللہ سے توفیق مانگتا ہے لیکن جو آدمی ان بنیادی صفات سے عاری ہوجاتا ہے اللہ کی مشیت کبھی اس کے حسب حال نہیں ہوتی۔ اس کو بالکل اسی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ نے انسانی اعضاء میں کام کرنے کی صلاحیت پیدا فرمائی ہے۔ ہاتھ میں پکڑنے کی طاقت ہے ‘ آنکھ میں دیکھنے کی ‘ کان میں سننے کی ‘ ناک میں سونگھنے کی اور دل میں دھڑکنے کی۔ لیکن یہ طاقت اس وقت تک کام کرتی ہے جب تک ان اعضاء کو کام کرنے کا موقع دیا جائے اور آمادہ حرکت رکھا جائے اور اگر ان میں سے کوئی سا عضو بھی معطل کر کے رکھ دیا جائے۔ مثلاً ہاتھ باندھ دیا جائے تو ایک عرصہ گزرنے کے بعد آپ دیکھیں گے کہ ہاتھ مفلوج ہوگیا ہے کیونکہ اس کے کام کرنے کی صلاحیت کا دارومدار اس بات پر تھا کہ اسے نہ صرف کام کرنے دیا جاتا بلکہ صحیح طریقے سے اور حدود میں رہ کر اس سے کام لیا جاتا۔ یہی حال انسان کے دل و دماغ کی قوتوں کا ہے جب تک ان سے صحیح طریقے سے اور فطری حدود میں رہ کر کام لیا جاتا ہے تو وہ اللہ کو ‘ اللہ کے رسولوں کو اور صراط مستقیم کو پہچاننے میں کبھی غلطی نہیں کرتا لیکن جب سرکشی اور طغیان سے ان کا زاویہ بدل دیا جاتا ہے اور ان کی نہج تبدیل کردی جاتی ہے تو پھر اللہ کا قانون حرکت میں آتا ہے تو اللہ کی مشیت ان کی ایمان سے محرومی کا فیصلہ کردیتی ہے اب ان لوگوں کی محرومی کا چونکہ فیصلہ ہوچکا اب یہ اپنے طور پر تو کبھی ایمان نہیں لے سکتے اب ایک ہی راستہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا قانون واپس لے کر زبردستی ان کو ایمان سے نواز دے اور یہ ظاہر ہے اللہ کی مشیت کے خلاف ہے وہ جس طرح کسی کو زبردستی کافر نہیں بناتا اسی طرح وہ کسی کو زبردستی ایمان بھی نہیں دیتا لیکن لوگ چونکہ ان حقائق سے بیخبر ہیں اس لے وہ اپنی جہالت سے قسم قسم کی باتیں کہتے اور سنتے ہیں لیکن اگر یہ حقیقت پیش نظر رہے تو پھر وہ ہر چیز کو اس کے محمل میں رکھنے کا ہنر سیکھ جائیں۔ یہاں چونکہ بار بار مشیت کا لفظ استعمال ہوا ہے اس سے مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں ہمارے قارئین اس کی حقیقت سمجھنے میں غلطی نہ کر جائیں اور کہیں وہ مشیت کو اللہ کی رضا کے معنی میں نہ لینے لگیں اس لیے ہم ایک محقق کے قلم سے اس کی وضاحت مستعار لیتے ہیں۔ مشیت اور رضا کے مفہوم میں فرق قرآن کی رو سے اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی رضا میں بہت بڑا فرق ہے جس کو نظر انداز کردینے سے بالعموم شدید غلط فہمیاں واقع ہوتی ہیں۔ کسی چیز کا اللہ کی مشیت اور اس کے اذن کے تحت رونما ہونا لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ اللہ اس سے راضی بھی ہے اور اسے پسند بھی کرتا ہے۔ دنیا میں کوئی واقعہ کبھی صدور میں نہیں آتا جب تک اللہ اس کے صدور کا اذن نہ دے اور اپنی عظیم الشان اس کیم میں اس کے صدور کی گجائش نہ نکالے اور اسباب کو اس حد تک مساعد نہ کر دے کہ وہ واقعہ صادرہو سکے۔ کسی چور کی چوری ‘ کسی قاتل کا قتل ‘ کسی ظالم و مفسد کا ظلم و فساد اور کسی کافر و مشرک کا کفر و شرک اللہ کی مشیت کے بغیر ممکن نہیں ہے اور اسی طرح کسی مومن اور کسی متقی انسان کا ایمان وتقویٰ بھی مشیت الٰہی کے بغیر محال ہے۔ دونوں قسم کے واقعات یکساں طور پر مشیت کے تحت رونما ہوتے ہیں۔ مگر پہلی قسم کے واقعات سے اللہ راضی نہیں ہے اور اس کے برعکس دوسری قسم کے واقعات کو اس کی رضا اور اس کی پسندیدگی و محبوبیت کی سند حاصل ہے۔ اگرچہ آخرکار کسی خیر عظیم ہی کے لیے فرمانروائے کائنات کی مشیت کام کر رہی ہے لیکن اس خیر عظیم کے ظہور کا راستہ نور و ظلمت ‘ خیر و شر اور صلاح و فساد کی مختلف قوتوں کے ایک دوسرے کے مقابلہ میں نبرد آزما ہونے ہی سے صاف ہوتا ہے۔ اس لیے اپنی بزرگ تر مصلحتوں کی بنا پر وہ طاعت اور معصیت ‘ ابراہیمیت اور نمرودیت ‘ موسویت اور فرعونیت ‘ آدمیت اور شیطنت ‘ دونوں کو اپنا اپنا کام کرنے کا موقع دیتا ہے۔ اس نے اپنی ذی اختیار مخلوق (جن اور انسان) کو خیر اور شر میں سے کسی ایک کے انتخاب کرلینے کی آزادی عطا کردی ہے۔ جو چاہے اس کارگاہِ عالم میں اپنے لیے خیر کا کام پسند کرے اور جو چاہے شر کا کام۔ دونوں قسم کے کارکنوں کو ‘ جس حد تک خدائی مصلحتیں اجازت دیتی ہیں ‘ اسباب کی تائید نصیب ہوتی ہے۔ لیکن اللہ کی رضا اور اس کی پسندیدگی صرف خیر ہی کے لیے کام کرنے والوں کو حاصل ہے اور اللہ کو محبوب یہی بات ہے کہ اس کے بندے اپنی آزادیِ انتخاب سے فائدہ اٹھا کر خیر کو اختیار کریں نہ کہ شر کو۔ اس کے ساتھ یہ بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ یہ جو اللہ تعالیٰ دشمنانِ حق کی مخالفانہ کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے اپنی مشیت کا بار بار حوالہ دیتا ہے اس سے مقصود دراصل نبی ﷺ اور آپ کے ذریعہ سے اہل ایمان کو یہ سمجھانا ہے کہ تمہارے کام کی نوعیت فرشتوں کے کام کی سی نہیں ہے جو کسی مزاحمت کے بغیر احکامِ الٰہی کی تعمیل کر رہے ہیں۔ بلکہ تمہارا اصل کام شریروں اور باغیوں کے مقابلہ میں اللہ کے پسند کردہ طریقہ کو غالب کرنے کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔ اللہ اپنی مشیت کے تحت ان لوگوں کو بھی کام کرنے کا موقع دے رہا ہے جنھوں نے اپنی سعی و جہد کے لیے خود اللہ سے بغاوت کے راستے کو اختیار کیا ہے اور اسی طرح وہ تم کو بھی جنھوں نے طاعت و بندگی کے راستے کو اختیار کیا ہے ‘ کام کرنے کا پورا موقع دیتا ہے۔ اگرچہ اس کی رضا اور ہدایت و رہنمائی اور تائید و نصرت تمہارے ہی ساتھ ہے کیونکہ تم اس پہلو میں کام کر رہے ہو جسے وہ پسند کرتا ہے لیکن تمہیں یہ توقع نہ رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنی فوق الفطری مداخلت سے ان لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کر دے گا جو ایمان نہیں لانا چاہتے یا ان شیاطین جن و انس کو زبردستی تمہارے راستہ سے ہٹا دے گا جنھوں نے اپنے دل و دماغ اور دست و پا کی قوتوں کو اور اپنے وسائل و ذرائع کو حق کی راہ روکنے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ نہیں ‘ اگر تم نے واقعی حق اور نیکی اور صداقت کے لیے کام کرنے کا عزم کیا ہے تو تمہیں باطل پرستوں کے مقابلہ میں سخت کشمکش اور جدوجہد کر کے اپنی حق پرستی کا ثبوت دینا ہوگا۔ ورنہ معجزوں کے زور سے باطل کو مٹانا اور حق کو غالب کرنا ہوتا تو تمہاری ضرورت ہی کیا تھی ‘ اللہ خود ایسا انتظام کرسکتا تھا کہ دنیا میں کوئی شیطان نہ ہوتا اور کسی شرک و کفر کے ظہور کا امکان نہ ہوتا۔ گزشتہ آیات میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اسے اگر بیک نظر مجموعی شکل میں دیکھا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ جب یہ آیات نازل ہو رہی ہیں اس وقت اسلامی دعوت اور جاہلیت قدیمہ میں سخت کشمکش جاری ہے۔ ظلم اور اذیت کی چکی پوری شدت سے چل رہی ہے ایک طرف آنحضرت ﷺ اور مسلمان تبلیغ و دعوت میں پورا زور صرف کر رہے ہیں اور دوسری طرف مخالفین ان کا راستہ روکنے اور اس نئی تحریک کے آگے بڑھنے کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے پر تلے ہوئے ہیں اس لیے صرف اذیت اور مخالفت پر ہی اکتفا نہیں کیا جا رہا بلکہ لوگوں کو اپنے سابقہ خیالات پر مطمئن رکھنے کے لیے بار بار نشانیاں دکھانے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے اور پھر آئے دن اس کے لیے نئے نئے اسالیب اختیار کیے جا رہے ہیں اور اپنے ان مطالبات کو بظاہر اس شد و مد سے بیان کیا جا رہا ہے کہ مسلمان بھی بعض دفعہ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے ان کے دل میں بھی خیال آتا ہے کہ شاید یہ اب جس نشانی کا مطالبہ کر رہے ہیں اسے دیکھ کر ہی راہ راست پر آجائیں۔ اس لیے قرآن کریم مخالفین کے درپردہ عزائم کو ساتھ ساتھ بےنقاب کرتے ہوئے مسلمانوں کو اصل صورت حال سے آگاہ کر رہا ہے اور بالواسطہ انھیں موجودہ حالات میں اپنی مخلصانہ مساعی کے بل بوتے پر راستہ نکالنے کی ترغیب دے رہا ہے لیکن حالات چونکہ بہت بپھرے ہوئے ہیں اس لیے بار بار مختلف طریقوں سے مسلمانوں کی تسلی کا سامان بھی کیا جا رہا ہے۔ چناچہ پیش نظر آیات میں اس وقت کے معروضی حالات میں جس طرح کی تشفی اور اطمینان درکار تھا اس کا ایک خاص طریقے سے ذکر فرمایا جا رہا ہے۔