Ayah 6:125تمہید
متذکرہ بالا پوری صورتحال کو سامنے رکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ مشرکین مکہ اور دیگر مشرکین نے اسلام قبول نہ کرنے کے بظاہر مختلف بہانے تراش رکھے تھے اور وہ اپنے انکار کے اصل سبب کو چھپانے کے لیے نئے سے نئے عذر اختراع کرتے رہتے تھے اور نئے نئے مطالبات رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کر کے لوگوں کو مطمئن رکھنے کی کوشش بھی کرتے اور اپنے انکار کے اصل سبب پر پردہ ڈالنے کی بھی سعی ناتمام کرتے۔ لیکن قرآن کریم نے ان کی اس حرکت کا پردہ بار بار چاک کیا اور گزشتہ آیت میں ‘ جیسا کہ اس کی تفصیل عرض کی گئی ‘ بتایا گیا کہ ان کے انکار کا اصل سبب ان کا استکبار ہے ‘ جس کی سزا ان کو دنیا میں بھی ملی اور آخرت میں وہ مزید اس کی سزا پائیں گے۔ لیکن مزید تدبر کی نگاہ سے دیکھا جائے تو قرآن کریم قدم قدم ہماری فکر کو غذا دیتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے اور توجہ دلا رہا ہے کہ استکبار اور تکبر کا پیدا ہونا اس کی بھی یقینا کوئی علت ہے۔ یہ بلا سبب پیدا نہیں ہوتی اور اگر یہ پیدا ہو بھی جائے تو آدمی اس میں اس حد تک اندھا نہیں ہوجاتا کہ وہ گردوپیش پھیلی ہوئی کھلی کھلی علامتوں کو دیکھنے کے باوجود ‘ اس سے کوئی سبق نہ لے سکے۔ اس کے سامنے دعوت اپنی حقانیت اور صداقت کی تابانیوں کے ساتھ جلوہ گر ہو ‘ لیکن وہ اس پر کوئی اثر نہ پیدا کرسکے۔ پھر اس دعوت کو پیش کرنے والا ‘ اپنی ذات میں بجائے خود ایک معجزانہ شخصیت رکھتا ہو ‘ لیکن یہ لوگ اس سے بھی متاثرہونے سے انکار کردیں۔ پھر دعوت پیش کرنے کا انداز اور دعوتی خطاب کے جاندار ‘ موثر اور خوبصورت اسالیب ‘ جو بجائے خود اپنے اندر نہایت جاذبیت اور اپیل رکھتے ہوں بھی اپنی تمام اثر آفرینی کے باوجود کام دکھانے سے عاجز نظر آئیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ استکبار اگرچہ انکار کی بظاہر علت ہے ‘ لیکن حقیقی علت نہیں ہے۔ حقیقی علت اس کے سوا کچھ اور ہے۔ لیکن اس کو شروع میں اس لیے ذکر نہیں کیا گیا کہ ظاہری علت کو نظر انداز کر کے کئی پردوں میں چھپی ہوئی علت کو بیان کرنا ‘ یہ اپنے سننے والوں اور اپنے مخاطب لوگوں کو امتحان میں ڈالنے سے کم نہیں اور کسی بھی صداقت کی دعوت چونکہ اپنے اندر ایک سادگی ‘ تسہیل اور وضاحت و صراحت رکھتی ہے ‘ جو دل و دماغ کو بدلنے کے لیے انتہائی ضروری ہے ‘ اس کے فطری اسلوب کے یہ بات خلاف ہے کہ آسانی سے سمجھ آنے والی علتوں کو نظر انداز کر کے ایک گہری اور دقیق علت کا ذکر کیا جائے۔ چناچہ پہلے اس علت کو بیان کیا گیا ‘ جو سمجھ میں آسکتی تھی اور جو یقینا ایک علت کے طور پر کارفرما بھی تھی اور اب اگلی آیت کریمہ میں اس حقیقی علت کو بیان کیا جا رہا ہے ‘ جس کی حیثیت علت العلل سے کم نہیں۔ لیکن یہ علت ابتداء میں پیدا نہیں ہوجاتی۔ اس کا شکار ہونے والا شخص ‘ رفتہ رفتہ اپنے کفر و انکار کی وجہ سے اس کی طرف بڑھتا ہے۔ کفر کے اس سفر میں بتدریج اس کے کفر کی علتیں سامنے آتی ہیں اور اس کی اصلاح کے لیے ایک داعی ان کی طرف توجہ بھی دلاتا ہے تاکہ خرابی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے ابھی سے اس کا علاج کرلیا جائے۔ لیکن جب مریض بدپرہیزی سے باز نہیں آتا اور علاج کو قبول کرنے کی بجائے ‘ علاج اور معالج سے دشمنی پر اتر آتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ اس حقیقی علت کا شکار ہوجاتا ہے ‘ جو یہاں کارفرما فطری قوانین میں سے ایک اہم قانون کی حیثیت رکھتی ہے۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں اس کی وضاحت کے لیے ارشاد فرمایا گیا :
فَمَنْ یُّرِدِ اللہ ُ اَنْ یَّھْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ ج وَمَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّہٗ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیِّقًا حَرَجًا کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآئِ ط کَذٰلِکَ یَجْعَلُ اللہ ُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُونَ ۔ (الانعام : 125)
( اللہ جس کسی کو ہدایت دینا چاہتا ہے ‘ اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جس کو گمراہ کرنا چاہتا ہے ‘ اس کے سینہ کو بالکل تنگ کردیتا ہے ‘ گویا اسے آسمان پر چڑھنا پڑ رہا ہے۔ اسی طرح اللہ ناپاکی مسلط کردیتا ہے ان لوگوں پر ‘ جو ایمان نہیں لاتے )
اس آیت کریمہ کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک جملہ گہرے تدبر کا تقاضہ کرتا ہے۔ اس لیے میں سب سے پہلے اس کے بعض الفاظ کے معانی کا ذکر کرتا ہوں۔ اس کے پہلے جملے میں ہدایت کا ذکر آیا ہے۔ میں گزشتہ کسی درس میں ہدایت کے مختلف معانی بیان کرچکا ہوں ‘ اب انھیں دہرانا نہیں چاہتا ‘ البتہ یاد دہانی کے لیے صرف اتنا عرض کرتا ہوں کہ ہدایت کا ایک معنی ہے راستہ دکھانا ‘ رہنمائی کرنا ‘ بات کو آسان کردینا ‘ قبولیت کے لیے آمادگی پیدا کرنا اور دوسرا اس کا معنی ہے ‘ قلبی نور و بصیرت۔ یعنی طبیعت میں اس طرح کی کیفیت پیدا کردینا جس سے بات قبول کرنے میں کوئی دقت باقی نہ رہے۔ اس کے بعد ذکر آیا ہے شرح صدر کا۔ شرح صدر اصل میں اسی ہدایت کا ثمر اور اس کا نتیجہ ہے۔ البتہ ہدایت کے دونوں معنوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا چاہیے کہ شرح صدر کی کیفیت دونوں معنوں میں الگ الگ ہوگی ‘ جس کا آگے وضاحت میں ذکر آئے گا۔
” حَرَجَ “ کا معنی ہوتا ہے ” جھاڑیوں سے بھری ہوئی تنگ جگہ “۔ یعنی ایک جگہ یا ایک راستہ جو پہلے ہی تنگ ہے ‘ اس کو جھاڑیاں اگ آنے کے باعث مزید تنگ کردیا گیا ہے۔ یہاں یہ لفظ ” ضَیِّقًا “ کی تاکید کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ یَصَّعَّدُ اس کا مصدر تصعد ہے۔ اس کا معنی ” بہ تکلف اور بہ مشقت کسی بلندی پر چڑھنا ہے “۔ یعنی آدمی کسی ایسی بلندی پر چڑھے جس میں اس کی سانس پھول جائے ‘ پھیپھڑے جواب دینے لگیں اور پسینہ پسینہ ہوجائے۔ ” السَمَآئِ “ یہ آسمان اور بادل پر بھی بولا جاتا ہے اور فضا پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے، یہاں یہ فضا ہی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس آیت کریمہ میں ‘ ان کے انکار کی اصل علت کو بیان کیا گیا ہے۔ لیکن انکار کی کیفیت پیش نظر رہنی چاہیے۔ بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ تمام مشرکین عرب ‘ شاید ایک طرح کی کیفیت میں مبتلا تھے۔ یعنی تمام کا حال یہ تھا کہ وہ کسی طرح بھی اسلام کا نام سننے کے روادار نہیں تھے۔ وہ اسلامی دعوت اور آنحضرت ﷺ کی ذات کو کسی طرح بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ یقینا عام مشرکین کا یہی طرز عمل تھا۔ لیکن اگر یہ بات کہی جائے تو یہ انسانی فطرت کی شاید صحیح ترجمانی ہو کہ انکار کرنے والوں میں انکار کی کیفیت یکساں نہیں ہوتی۔ اکثریت تو ایسے ہی لوگوں کی ہوتی ہے ‘ جن کا ابھی ذکر ہوا۔ لیکن ایک قابل ذکر تعداد ‘ ایسے لوگوں کی بھی ہوتی ہے ‘ جو اسلامی دعوت کو سنتے اور بعد میں اس پر غور بھی کرتے ہیں ‘ لیکن اس دعوت کی بعض باتیں ان کے فکری سانچے میں اترنے میں نہیں آتیں۔ انھوں نے اپنے ذہن اور دماغ کو جس طرح کے سانچے میں ڈھال لیا ہوتا ہے۔ اس میں صرف وہی بات داخل ہوسکتی ہے جو اس سانچے سے میل کھاتی ہو۔ رہی اس سے مختلف بات تو وہ کبھی اس میں داخل نہیں ہونے پاتی۔ اس لیے کہ وہ اپنے سانچے کو کبھی ٹوٹنے نہیں دیتے اور اپنی سوچ میں کسی تبدیلی کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتے ‘ بلکہ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے دل و دماغ کے کواڑ اس طرح قوت سے بند کریں کہ بہار کا موسم آ کر گزر جائے ‘ لیکن اس کی کوئی خوشبو اور اس کی خوشگوار ہوا کا کوئی جھونکا کبھی ان کے کو اڑوں سے گزر نہ سکے۔
کفار کا فکری جمود
اس صورت حال پر اگر آپ غور کریں تو صاف نظر آتا ہے کہ مرض دو طرح کا ہے۔ ایک جامد انکار کا اور دوسرا فکری جمود کا۔ اگرچہ انجام دونوں کا ایک ہے کہ دونوں ہی اسلام کی دولت کو قبول کرنے سے محروم رہتے ہیں ‘ لیکن یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ اس نے اپنی بلاغت لسانی سے دونوں باتوں کی طرف اشارہ کردیا ہے اور اس کی طرف راہنمائی آیت کے دوسرے حصے سے ہو رہی ہے۔ اس میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو گمراہ کرنا چاہتا ہے ‘ اس کے سینے کو تنگ کردیتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کفر اور شرک کی اس گندگی کو ‘ جو ایمان نہیں لاتے ‘ ان پر مسلط کردیتا ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ محرومی کی دو سزائیں ہیں ‘ جو دو الگ الگ مجرموں کے لیے تجویز کی گئی ہیں ‘ جن میں سے پہلا مجرم وہ ہے ‘ جو اسلامی دعوت پر کان تو دھرتا ہے ‘ لیکن اس کا فکری جمود اس کے دل و دماغ تک اسے پہنچنے نہیں دیتا چونکہ وہ اپنے دماغ کا کوئی دریچہ اور اپنے دل کا کوئی دروازہ ‘ اس کے لیے کھولنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ یوں محسوس کرتا ہے کہ اس دعوت اسلامی کے نتیجے میں ‘ اسے ایک بلند چڑھائی چڑھنے کے لیے کہا جا رہا ہے ‘ جس کا تصور ہی اس کو پسینہ پسینہ کردینے کے لیے کافی ہے۔ وہ اس کے لیے سوچتا ضرور ہے ‘ لیکن اس کے دل و دماغ کی تنگی اس کے احساس میں مزید شدت پیدا کردیتی ہے اور وہ محسوس کرتا ہے کہ یقینا یہ دعوت قابل توجہ تو ہے ‘ لیکن میرے دل و دماغ میں اس کے لیے کوئی گنجائش نہیں اور میری زندگی کے سفر میں چونکہ مفادات کے بندھن بہت مضبوط ہیں اور یہ دعوت ایثار و قربانی کا تقاضہ کرتی ہے ‘ میں اسے کسی طور قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوسکتا۔ میں اپنے دماغ اور نفس کے تقاضوں کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہوں اور یہاں مجھے اللہ کے احکام کے سامنے سپر انداز ہونے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اس لیے وہ جیسے جیسے اپنی سوچ میں آگے بڑھتا جاتا ہے ‘ اس کے دل کی گھٹن میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ وہ جب اس دعوت اور اپنی زندگی میں کوئی مطابقت نہیں دیکھتا تو محسوس کرتا ہے کہ یہ ایک ایسا بوجھ ہے ‘ جو مجھ سے کبھی اٹھایا نہ جائے گا۔ اس لیے وہ عافیت اسی میں سمجھتا ہے کہ وہ راہ فرار اختیار کرے۔
دوسرا وہ شخص ہے ‘ جو سرے سے دعوت اسلامی اور دین اسلام کے نام سے بھی چڑتا ہے۔ اسے اس کی ہر بات بری محسوس ہوتی ہے۔ وہ اپنے اعتقادات باطلہ میں اس حد تک راسخ ہے کہ اسلامی دعوت کی ایک ایک بات پر وہ لڑنے مرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ چناچہ اس کے اس رویے کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اپنے کفر و شرک کے ڈھیروں تلے دب کے رہ جاتا ہے اور اسلام کی صحت مند ہوا کا کوئی جھونکا کبھی اس کے قریب بھی نہیں بھٹک سکتا۔ اس طرح یہ دونوں گروہ اپنے اپنے احوال کے مطابق محرومی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اب سوال صرف یہ ہے کہ پروردگار نے یہاں اس محرومی کی نسبت اپنی ذات کی طرف کی ہے۔ اس سے یہ غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے کہ قدرت نے ان کی گمراہی کا سامان تو خود کیا ہے تو اس میں آخر ان کا قصور کیا ہے لیکن اگر گزشتہ مختلف آیات کی تفسیر کے ضمن میں ہماری وضاحتیں ذہن میں رہیں تو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ ان وضاحتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آدمی کا دل ایک آئینہ کی مانند ہے جب آدمی گناہ کرتا ہے تو اس آئینہ پر ایک داغ پڑجاتا ہے اگر یہ شخص توبہ کے آنسوئوں سے اس داغ کو دھو دیتا ہے تو آئینے کی اصل شکل و صورت اور حیثیت بحال ہوجاتی ہے لیکن اگر یہ گناہ پر گناہ جاری رکھتا ہے تو داغ پہ داغ بڑھتے چلے جاتے ہیں حتیٰ کہ ایک وقت آتا ہے کہ یہ آئینہ داغ داغ ہو کر اپنی آب و تاب کھو دیتا ہے اور بالکل بےنور ہوجاتا ہے ‘ یہی وہ وقت ہے جب قبولیت حق سے اس کی محرومی کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ اس کو مزید سمجھنے کے لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم اور اس کے دل و دماغ کی صلاحیتوں میں یہ قانون رکھا ہے کہ جب تک ان صلاحیتوں سے صحیح طریقے سے کام لیا جاتا رہے تو یہ صلاحیتیں زندہ رہتی ہیں لیکن جب ان کو ان کے اصل کام سے روک دیا جائے یا ان سے وہ کام لینا شروع کردیا جائے جس کام کے لیے ان کے خالق سے ان کو نہیں بنایا تو یہ صلاحیتیں دم توڑ جاتی ہیں مثلاً ہاتھ کو اللہ نے پکڑنے اور چھونے کے لیے پیدا کیا اس میں قوت لامسہ رکھی ہے۔ آدمی اس سے زندگی کے بہت سے کام لے سکتا ہے لیکن اگر آپ اس ہاتھ کو کسی چیز سے باندھ دیں اور اس کو عضو معطل بنا کے رکھ دیں تو ایک عرصہ گزرنے کے بعد آپ دیکھیں گے کہ ہاتھ مفلوج ہوگیا ہے ‘ یہی حال باقی اعضاء جسم اور ان کی صلاحیتوں کا ہے اور یہی کیفیت آدمی کے دل و دماغ کی بھی ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت اور دنیا اور زندگی کے حقائق کو دیکھنے اور سمجھنے کے لیے پیدا کیا۔ لیکن جب اسے شرک ‘ کفر اور ناشکری میں استعمال کیا جانے لگے تو آہستہ آہستہ وہ اپنی اصل خصوصیات سے محروم ہوجاتا ہے اس محرومی کا اصل سبب تو وہ شخص ہے جس نے اس کو اصل کام نہیں کرنے دیا اور اس کو معطل رکھ کر مفلوج کردیا لیکن یہ قوانین چونکہ اللہ کے بنائے ہوئے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف منسوب فرما کر یہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ایسا کیا ہے۔ چناچہ یہاں بھی یہی فرمایا جا رہا ہے کہ ہم نے عہد الست کی صورت میں ہر آدمی کی فطرت میں اپنی معرفت اور قبولیت حق کا مادہ رکھا ہے اور پھر اس عہد الست کی یاددہانی کے لیے ہم نے اس پوری کائنات کو اپنی نشانیوں سے بھر دیا اور ان نشانیوں کو سمجھنے کے لیے ہم نے انسانوں کو جوہر عقل سے نوازا لیکن ہم نے اسی پر اکتفا نہیں کیا ہم نے ان کی آسانی کے لیے اپنے رسول بھیجے ‘ اپنی کتابیں اتاریں۔ پھر ہر رسول سے معجزات کا ظہور کیا تاکہ لوگوں کو یہ بات سمجھنے میں آسانی ہو کہ یہ لوگ دنیا میں اللہ کے نمائندے ہیں۔ پھر اللہ نے اپنے آخری رسول کو بھیجا تو اس پر جو کتاب اتاری اس کو بجائے خود معجزہ بنادیا کہ دنیا اس کی مثال لانے سے عاجز ہوگئی اور خود پیغمبر کی اپنی ذات ‘ اپنی جاذب نظر شخصیت ‘ اپنے مکارم اخلاق ‘ اپنے پاکیزہ طور اطوار اور غیر معمولی صلاحیتوں کے باعث خود ایک عظیم معجزہ ٹھہری یہ سب کچھ اس لیے کیا تاکہ لوگ اس پیغمبر کی دعوت کو قبول کرنے میں دشواری محسوس نہ کریں۔ لیکن معدودے چند لوگوں کے سوا جب ایک بڑی تعداد نے اس دعوت پر کان دھرنے سے انکار کردیا یا اپنے دل و دماغ کے دروازے اس پر بند کرلیے تو اللہ کا وہ فطری قانون حرکت میں آیا جس کا پہلے ذکر ہوچکا جس کے نتیجے میں وہ قبولیت حق سے اس طرح محروم کیے گئے کہ کچھ لوگ تو سینہ کی انتہائی گھٹن اور تنگی کا شکار ہوئے اور کچھ پر کفر اور شرک کی گندگی اس طرح مسلط کردی گئی کہ وہ اسی کے نیچے دب کے رہ گئے۔ لیکن جن لوگوں نے اس دعوت کی قبولیت کے لیے کوشش کی ‘ اسے سمجھنا چاہا ‘ اگرچہ اسے قبول کرنے میں ہزار دشواریاں تھیں اور جسم و جان کے ساتھ ساتھ گھر اور مال کی قربانیاں بھی تھیں ‘ لیکن انھوں نے پھر بھی ہمت دکھائی تو اللہ نے ان کے لیے اس راستے کو اس طرح آسان فرمایا کہ ان کو دو طرح کی ہدایت سے نوازا۔ کسی کے لیے تو قبولیت آسان کردی گئی اور وہ اسلام کی آغوش میں آگیا اور کسی کے لیے دل اور ضمیر کی بصیرت کا راستہ کھولا اور اس کے شک و شبہ کے ایک ایک کانٹے کو اس طرح چن دیا کہ اس کے دل و دماغ ہر طرح کے شک و شبہات سے نجات پا گئے اور ان کے دل کو ایسی کشاد ملی کہ عالم غیب کی مشکل سے مشکل باتیں عالم الٰہیات کے مشکل مراحل اور ان دیکھی حقیقتوں کا سفر ان کے لیے انتہائی آسان ہوگیا اور شاید یہی وہ چیز ہے جس کی طرف ہمیں ایک حدیث سے بھی راہنمائی ملتی ہے۔ حاکم نے مستدرک میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں بروایت حضرت عبد اللہ ابن مسعودنقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے رسول اللہ ﷺ سے شرح صدر یعنی سینہ اسلام کے لیے کھول دینے کی تفسیر دریافت کی آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومن کے دل میں ایک روشنی ڈال دیتے ہیں جس سے اس کا دل حق بات کو دیکھنے سمجھنے اور قبول کرنے کے لیے کھل جاتا ہے (یعنی حق بات کو آسانی سے قبول کرنے لگتا ہے اور خلاف حق سے نفرت اور وحشت ہونے لگتی ہے) ۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ کیا اس کی کوئی علامت بھی ہے جس سے وہ شخص پہچانا جائے کہ اس کو شرح صدر حاصل ہوگیا ہے فرمایا علامت یہ ہے کہ اس شخص کی ساری رغبت آخرت اور اس کی نعمتوں کی طرف ہوجاتی ہے۔ دنیا کی بےجا خواہشات اور فانی لذتوں سے گھبراتا ہے اور موت کے آنے سے پہلے موت کی تیاری کرنے لگتا ہے۔
صحابہ کرام کو جب ہم دیکھتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایک صحابی کو شرح صدر سے نوازا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ خود قرآن کریم کہتا ہے کہ جب ان پر قرآن کریم کے احکام پڑھے جاتے ہیں تو ان کے دل کانپ جاتے اور جھک جاتے ہیں اور یہ بات ذہن میں رہے کہ قرآن پاک کے بعض احکام اس دور میں اپنے اندر شدید آزمائش بھی رکھتے تھے۔ مثلاً جب مسلمانوں کو راہ حق میں ایک سے ایک بڑی آزمائش درپیش تھی اور قرآن انھیں صبر کی تعلیم دے رہا تھا۔ مسلمان اکثریت کی مخالفت کے حصار کے باعث آئے دن مالی دشواریوں میں انتہاء درجہ پھنستے چلے جا رہے تھے لیکن قرآن کریم ان کو انفاق کا حکم دے رہا تھا اور پھر مدنی زندگی میں جہاد و قتال کا حکم اس مختصر سے گروہ کے لیے پوری دنیا سے لڑ جانے کے مترادف تھا۔ لیکن اس کے باوجود ہر اترنے والے حکم پر ان کے دلوں میں بجائے تنگی آنے کے انشراح میں اضافہ ہوتا تھا وہ ایک ایک حکم پر اللہ کا شکر بجا لاتے تھے اس صورت حال کو جب آدمی دیکھتا ہے تو ان کے طبعی اطمینان اور ہر حکم کی تعمیل کو شرح صدر کے سوا اور کسی نام سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا اور یہ اللہ کی وہ توفیق اور کرم ہے جو سراسر اسی کی عنایت سے نصیب ہوتا ہے اور اس کی بعض مثالیں تو خود دور صحابہ میں بھی حیران کن تھیں۔
حدیث کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عام الوفود میں جب پورے جزیرہ عرب سے اسلام قبول کرنے یا دین کا علم حاصل کرنے کے لیے وفد پر وفد آرہے تھے اور ملک کے کونے کونے سے لوگ مدینے کی طرف امڈے چلے آرہے تھے انہی وفود میں سے ایک وفد یمن سے بھی آیا جو چند افراد پر مشتمل تھا۔ آنحضرت کا معمول یہ تھا کہ جب کوئی وفد آتا تو آپ چند روز اسے ٹھہرنے کا حکم دیتے تاکہ وہ دین کی ضروری باتیں سیکھے اور مدینے کے اسلامی معاشرے میں رہ کر اسلامی معاشرتی زندگی سے پوری طرح آگاہی حاصل کرے۔ چناچہ یمن کے اس وفد کو بھی چند دن مدینے میں ٹھہرایا گیا اور دوسرے وفود کی طرح جب یہ لوگ روانہ ہونے لگے تو آنحضرت ﷺ نے ان کو تحائف اور ہدایا دینے کا حکم دیا۔ چناچہ جب سب لوگ اپنا اپنا تحفہ لے چکے تو آپ نے ان سے پوچھا کہ تم میں سے کوئی شخص رہ تو نہیں گیا جس کو یہ تحفے نہ ملے ہوں۔ انھوں نے عرض کی کہ حضور ایک نوجوان ہے جس کو ہم پیچھے سامان کی حفاظت کے لیے چھوڑ آئے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جاؤ اور اسے بھی بھیجو۔ چناچہ وہ نوجوان آیا جس کی ابھی مسیں بھی نہیں بھیگی تھیں اٹھتی جوانی تھی بالکل نوخیز اور الھڑ عمر آنحضرت سے آ کر ملا۔ حضور نے اس کو تحائف دینے کا حکم دیا اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا حضور میں اس مقصد کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا۔ آپ نے نہایت شفقت سے پوچھا کہ اچھا جوان تم بتائو تم کیا مقصد لے کر آئے ہو ؟ اس نے کہا حضور میری خواہش یہ ہے کہ آپ میرے لیے تین باتوں کی دعا فرما دیں۔ ایک یہ کہ اللہ مجھ پر اپنا رحم فرمائے اور دوسری یہ بات کہ اللہ مجھے بخش دے اور تیسری یہ بات کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کو مستغنی کر دے۔ چناچہ حضور نے ہاتھ اٹھائے اور بارگاہ خداوندی میں عرض کی۔ اَللّٰھُمَّ ارْحَمْہُ یا اللہ اس پر رحم فرما وَاغْفِرْلَہٗ اور اس کی مغفرت فرما وَاجْعَلْ غِنَاہُ فِی قَلْبِہِ اور اس کے دل کو مستغنی کر دے۔ چناچہ یہ وفد واپس چلا گیا۔ چند مہینوں کے بعد حضور حج پر تشریف لے گئے وہاں اسی وفد کے چند افراد آپ سے ملے لیکن وہ نوجوان ان میں نہیں تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اس نوجوان کی ادائیں اب تک یاد تھیں۔ چناچہ آپ نے اس نوجوان کے بارے میں پوچھا کہ اس کا کیا حال ہے ؟ انھوں نے کہا حضور اس کا آپ کیا پوچھتے ہیں اس جیسا کوئی نوجوان ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ وہ دنیا میں رہ کر آخرت کا مسافر ہے ہر وقت اس پر آخرت کا احساس مسلط رہتا ہے۔ وہ دنیا کی نعمتوں سے مستفید ہوتا ہے لیکن ان سے جی نہیں لگاتا وہ اللہ کے احکام کی تعمیل میں شب و روز اس طرح کوشاں رہتا ہے کہ وہ ہر دن کو آخری دن سمجھتا ہے اور ہر رات کو آخری رات۔ آپ نے ان کی باتیں سن کر فرمایا :
اِنِّی لَاَرْجُوْ اَنْ یَمُوْتَ جَمِیْعًا
(میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ اسے دل جمعی کی موت دے گا )
انھوں نے پوچھا حضور کیا ہر آدمی دل جمعی کی موت نہیں مرتا آپ نے فرمایا دل جمعی ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی مرنے والا دنیا سے جاتا ہوا بھی دنیا ہی کی محبت میں چیختا ہوا جاتا ہے اسے آخری وقت بھی فکر اگلی دنیا کی نہیں بلکہ پیچھے کی ہوتی ہے کہ میری اولاد کا کیا بنے گا میں جو کام شروع کرچکا تھا وہ تکمیل پذیر کیسے ہوگا۔ میں نے اتنی دولت جمع کی اب اس کا کیا بنے گا یعنی دنیا کی ایک ایک بات اس کی فکر مندی کا سبب ہوگی اسے وہ یکسوئی اور دلجمعی نصیب نہیں ہوگی جو منزل کی طرف بڑھنے والوں کی نصیب ہوتی ہے۔
اپنا اپنا جائزہ
اس آیت کریمہ کی اس پوری تفسیر کو سامنے رکھیں تو ہمارے لیے اس میں غور و فکر کا بہت سا سامان ہے کیونکہ اس میں بعض علامتیں ایسی بیان کردی گئی ہیں جو آدمی کو تفکر اور تدبر کی دعوت دیتی ہیں اور جس کی روشنی میں آدمی کو اپنا جائزہ لینا آسان ہوجاتا ہے۔ ہم اس آیت کی تفسیر کے ضمن میں پڑھ چکے ہیں کہ اللہ جب کسی کے سینے کو کھولتا ہے تو اس کی علامت یہ ہے کہ اس کے دل میں ایک نور پیدا کرتا ہے جس سے اس کا دل حق بات کو دیکھنے سمجھنے اور قبول کرنے کے لیے کھل جاتا ہے اور جب کسی کے بارے اللہ محرومی کا فیصلہ کرتا ہے تو حق کی قبولیت اور نیکی کی طرف میلان اس کے لیے ایک مشکل مسئلہ بن جاتا ہے یعنی جب وہ اللہ کا ذکر سنتا ہے تو اس کو وحشت ہونے لگتی ہے اور جب کفر و شرک کی باتیں سنتا ہے تو ان میں دل لگتا ہے اس علامت کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو اپنا احتساب اور اپنے اصل مقام کی پہچان آدمی کے لیے کس قدر آسان ہوجاتی ہے۔ وہ اپنے دل و دماغ کا جائزہ لے کر اچھی طرح اندازہ کرسکتا ہے کہ میرے دماغی رجحانات اور قلبی میلانات کا رخ کس طرف ہے کیا مجھے نیکی اچھی لگتی ہے یا برائی ؟ کیا میں نیک لوگوں کی صحبت پسند کرتا ہوں یا برے لوگوں کی ؟ کیا قرآن کی تلاوت میں میرا دل لگتا ہے یا افسانے پڑھنے اور ڈرامے دیکھنے میں ؟ کیا اسلامی قوتوں اور مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں میرے اندر فکر مندی پیدا ہوتی ہے یا محض اپنی ذات اور اپنی ضروریات کے حوالے سے میں فکر مند ہوتا ہوں۔ کیا مسلمانوں کی اجتماعی حالت میرے غور و فکر اور میری فکر مندی کا موضوع ہے یا صرف اپنی اور اپنے متعلقات کی فکر ہی میری سوچ کا اصل میدان ہے ؟ اس سے بڑی آسانی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ میں اللہ کی عنایات کا مورد ہوں یا اللہ کی التفات مجھ سے ہٹ چکی ہے۔ لیکن یہ سوچ یہ احتساب اور یہ جائزے کی خواہش یہ بھی تو اللہ کی دین ہے یہ اسی دل میں پیدا ہوتی ہے جس پر اللہ کا کرم ہوتا ہے اور جس میں کبھی ان باتوں کا گزر نہیں ہوتا اسے سمجھ لینا چاہیے کہ میں اللہ کی رحمت سے بہت دور ہوں۔
اسلام کی قبولیت کے راستے میں جو چیز سب سے بڑی رکاوٹ تھی اور جو مشرکین مکہ کے اسلام نہ قبول کرنے کی اصل علت تھی اس کو منکشف کرنے اور مشرکین مکہ کی حالت نفسی کو پوری طرح کھول دینے کے بعد پھر ہمارے تدبر کو دعوت دی گئی ہے کہ غور کرو اسلام کی دعوت کو قبول کرنا کس قدر آسان اور سہل ہے البتہ یہ ضروری ہے کہ اس راستے کی مشکلات جو مشرکین نے خود پیدا کی ہیں اور جس کے نتیجے میں اللہ کا قانون حرکت میں آتا ہے اس کو وہ سمجھیں اور اس سے تائب ہو کر اسلام کی طرف بڑھیں اور پھر وہ دیکھیں گے کہ اس کو سمجھنے اور اس کو قبول کرنے میں کوئی دشواری نہیں۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں اسی بات کو بیان کیا جا رہا ہے۔
Ayah 6:126وَھٰذَا صِرَاطُ رَبِّکَ مُسْتَقِیْمًا ط قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّکَّرُوْنَ ۔ (الانعام : 126)
(اور یہ تیرے رب کی راہ ہے ‘ سیدھی۔ ہم نے اپنی آیتیں تفصیل سے بیان کردی ہیں ان لوگوں کے لیے ‘ جو یاددہانی حاصل کریں)
اللہ کا راستہ سیدھا ہے جو چاہے اس پر چل کر فائدہ حاصل کر لے
اس آیت کا پہلا حصہ نہایت غور طلب ہے۔ عربیت کے لحاظ سے یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ اشارہ کے اندر فعل کے معنی پائے جا رہے ہیں۔ اس وجہ سے مستقیماً یہاں صراط کی صفت کی بجائے حال واقع ہو رہا ہے جس میں یہ زور دینا مقصود ہے کہ اے مشرکین مکہ تم جس دین کو قبول کرنے میں الجھ رہے ہو بلکہ تم اس کی دشمنی میں اندھے ہوئے جا رہے ہیں اور اس کی قبولیت کے لیے تم بار بار شرطیں عائد کر رہے ہو اور قسم قسم کے مطالبے کر رہے ہو وہ تو اپنے تئیں اس قدر واضح اور آسان ہے اور اس کا راستہ اس قدر مستقیم ہے کہ اس میں کوئی ایچ پیچ نہیں ‘ کوئی خطرناک موڑ نہیں ‘ کوئی ایسا الجھائو نہیں جس میں آدمی الجھ کر منزل کھوٹی کر بیٹھے۔ اس کی تعلیمات نہایت آسان ‘ نہایت واضح ‘ فطرت کے نہایت قریب اور قابل عمل ہیں۔ مرور زمانہ سے کبھی ان میں کہنگی پیدا نہیں ہوسکی۔ اس کا کوئی حکم انسانی استطاعت اور انسانی مزاج سے ہٹا ہوا نہیں۔ اس کا ہر قانون اعتدال کی شان لیے ہوئے ہے اور اس راستے پر چلتا ہوا آدمی قدم قدم پر اللہ کی رحمت محسوس کرتا ہے اور پھر مزید یہ کہ اسلام کے اس راستے کو فرمایا گیا ہے کہ یہ تیرے رب کا راستہ ہے جس میں بیک وقت دو باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ ایک تو لفظ رب کہہ کر یہ بتایا گیا ہے کہ جس ذات نے تمہیں پیدا کیا اور پھر تمہاری بےبسی کی عمر میں جس طرح اس نے تمہاری زندگی کے امکانات اور تمہاری ضرورتوں کو پورا کرنے کے سامان پیدا فرمائے اور پھر جس طرح اس نے تمہیں حواس اور جوہر عقل سے نوازا اور قدم قدم زندگی کی بدلتی ہوئی ضرورتوں میں اس نے جس طرح تمہاری راہنمائی کی بالکل اسی طرح زندگی کی ہمہ گیر ضرورتوں اور نوع انسانی کی ہمہ گیر تبدیلیوں اور اجتماعی زندگی کی ہمہ گیر وسعتوں میں ضرورت تھی کہ تمہیں ایک ایسا نظام زندگی دیا جاتا اور دل کی بیداری کے لیے ایک ایسا اعتقادی شعور دیا جاتا جس سے تم آسانی سے اپنی زندگی کا سفر انفرادی بھی اور اجتماعی بھی جاری وساری رکھ سکو چناچہ دین کا یہ کشادہ راستہ کھول کر اور صراط مستقیم عطا کر کے تمہاری اسی ضرورت کو پورا کیا گیا ہے اور مزید اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی کہ جس ذات نے اے پیغمبر آپ پر یہ دین اتارا ہے وہ آپ کا رب ہے یعنی صرف وہ رب ہی نہیں بلکہ آپ کا رب ہے چناچہ رب کی اضافت رسول اللہ ﷺ کی ذات کی طرف ایک طرف تو آنحضرت کی تسلی کا سامان ہے اور آپ کے لیے انتہائی اعزاز کا باعث ہے اور ساتھ ہی مشرکین مکہ کو یہ بتانا مقصود ہے کہ تم جس رب کی دی ہوئی نعمتوں سے مستفید ہو رہے ہو دنیا میں اگر اسے کسی سے خصوصی نسبت ہے تو وہ اس ذات با برکات سے ہے جسے تم مکہ کی گلیوں میں اذیت دے کر خوش ہوتے ہو اور جس کے لائے ہوئے دین کا تم تمسخر اڑاتے ہو اور تمہیں اندازہ نہیں کہ تم جو کچھ اس ذات کے ساتھ کر رہے ہو وہ اس کے ساتھ نہیں کر رہے بلکہ تم اللہ کے ساتھ کر رہے ہو کیونکہ محمد ﷺ کو اللہ سے اس قدر قریبی تعلق حاصل ہے کہ خود اللہ تعالیٰ اس کی نسبت اپنی طرف فرما رہے ہیں اس لیے اس کی دشمنی کرتے ہوئے اور اس کے بارے میں ناروا منصوبہ بندی کرتے ہوئے یہ کبھی نہ بھولنا کہ اس کے بارے میں جو بھی تم کرنا چاہو گے وہ اصلاً اللہ کے خلاف اقدام ہوگا سوچ لو اس کا انجام کیا ہوسکتا ہے۔ ان باتوں کے بعد فرمایا کہ ہم نے اللہ کے احکام اور قرآن کریم کی آیات کو نہایت تفصیل سے کھول کھول کر بیان کردیا ہے جس کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں۔ لیکن پھر اپنے متذکرہ قانون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دین اسلام اور اسلامی دعوت اپنی تمام تر وضاحت کے باوجود مفید اسی کے لیے ہوگی جو اس سے فائدہ اٹھانا چاہے گا یعنی جو اس سے نصیحت اور یاد دہانی حاصل کرے گا۔ لیکن جس طرح وہ شخص جو اپنی آنکھیں بند رکھے اللہ تعالیٰ کبھی اسے مشاہدات کی دولت عطا نہیں کرتا ‘ جو اپنے کان بند رکھے وہ کبھی خوبصورت نوائیں اور دل آویز صدائیں نہیں سن سکتا اور کبھی فطری موسیقی سے لذت اندوز نہیں ہوسکتا۔ اس طرح جو اسلام کی طرف سے اپنے دل و دماغ کو بند کرلیتا ہے ‘ وہ کبھی اس کی قبولیت سے بہرہ ور نہیں ہوسکتا۔
اگلی آیت کریمہ میں ان خوش قسمت لوگوں کا صلہ اور اجر بیان کیا جا رہا ہے جنھوں نے اللہ کی طرف سے عطا کردہ صلاحیتوں کو صحیح رخ پر لگایا اور صحیح راستے پر چلنے کی کوشش کی اور راستے کے موانع کے سلسلے میں اللہ نے ان کی مدد فرمائی اور انھیں شرح صدر کی دولت سے نوازا یہ بجائے خودبہت بڑا انعام ہے۔ لیکن اس انعام کے بعد پھر ایمان و عمل اور قربانیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جس میں پورا اترنے والوں کو اللہ تعالیٰ اس انعام سے نوازتے ہیں جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا جا رہا ہے
Ayah 6:127ارشاد ہوتا ہے :
لَھُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَھُوَ وَلِیُّھُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الانعام : 127)
(ان کے لیے ‘ ان کے رب کے پاس سکھ کا گھر ہے اور وہ ان کا کارساز ہے ‘ ان کے اعمال کے صلہ میں)
دارالسلام کا مطلب
اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ان کے اعمال کے صلہ میں جو انعام عطا فرمائیں گے اس کو اس آیت کریمہ میں دارالسلام کہا گیا ہے۔ اصحاب علم نے دارالسلام کے مختلف معانی بیان کیے ہیں۔ عِنْدَ رَبِّھِمْ کے قرینہ سے بعض اہل تأویل نے اس کا ترجمہ جنت کیا ہے یقینا جنت کا ایک نام دارالسلام بھی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے راستے پر چلنے والے لوگوں کو قیامت کے دن جنت عطا فرمائے گا اور وہ ایسا سلامتی کا گھر ہے جس میں نہ کوئی خوف ہوگا نہ پریشانی ہوگی کوئی غم اہل جنت کے قریب بھی نہیں پھٹک سکے گا کوئی ناخوشگوار بات ظہور میں نہیں آئے گی۔ ہر طرف سلامتی کے چرچے ہوں گے سلام سلام کی آوازیں ہوں گی اور آدمی ہر وقت خوشیوں اور مسرتوں کے جھولے میں جھولے گا۔ یقینا ایک شخص کے لیے جنت سے بڑھ کر کسی انعام کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔ اس لیے جب وہ وہاں کی نعمتوں کو دیکھے گا اور اپنے اجر وثواب کو ملاحظہ کرے گا تو اس دنیا میں اٹھائے ہوئے صدمے اور راہ حق میں برداشت کی ہوئی مشکلات اس کو نہایت ہیچ نظر آئیں گی کیونکہ ان مشکلات اور اذیتوں کو اس معاوضے اور اجر وثواب سے کوئی نسبت نہیں ہوگی۔ چناچہ اس صلے کو دیکھ کر آنحضرت کے ارشاد کے مصداق جنتی تمنا کریں گے کہ کاش ہم کو اس سے بڑھ کر اذیتیں دی جاتیں بلکہ ہماری کھالوں کو قینچیوں سے کاٹا جاتا تاکہ ہم یہاں بیش از بیش نعمتوں سے نوازے جاتے اور پھر یہ نعمتیں ایسی ہوں گی جن کو اس سے پہلے کسی آنکھ نے دیکھا نہیں ہوگا اور ان کی دلنوازی کا حال یہ ہوگا کہ کبھی ایسی دلنواز صدا کسی کان میں کبھی پڑی نہیں ہوگی اور انسانی حدود سے ماورا ہونے کا یہ حال ہوگا کہ کبھی ان نعمتوں کا تصور بھی انسانی دلوں میں نہیں گزرا ہوگا۔ ظاہر ہے اس سے بڑھ کر اور کون سا صلہ ہوسکتا ہے جس کی تمنا کی جاسکے۔ ع
یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے
بعض دوسرے اہل تاویل نے دارالسلام کو جنت تک محدود نہیں رکھا وہ عِنْدَ رَبِّھِمْ کو اس کا قرینہ نہیں سمجھتے۔ اس لیے کہ دنیا اور آخرت اور ان کی تمام نعمتیں اللہ ہی کی جانب سے عطا ہوتی ہیں اور اللہ ہی ان کا مالک اور عطا کرنے والا ہے اس لحاظ سے صرف جنت کا اسے قرینہ قرار دینا کسی طرح بھی مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دارالسلام جس طرح جنت ہے اسی طرح دنیا بھی ہے کیونکہ دارالسلام کا ایک معنی اللہ کا گھر بھی ہے کیونکہ سلام اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے تو اللہ کا گھر جس طرح جنت اور آخرت ہے اسی طرح دنیا بھی ہے دونوں پر اس کی تجلیات برستی ہیں ‘ دونوں اس کی تحویل میں ہیں ‘ دونوں کی نگرانی وہی فرماتا ہے اور دونوں کے امکانات اور دونوں کی نعمتوں کا وہی خالق ہے۔ اس لیے دارالسلام سے دونوں کو مراد لینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے اور مزید یہ بھی کہ آخرت میں جس طرح جنت ہے اسی طرح جہنم بھی ہے۔ جنت اگر دارالسلام ہے تو جہنم دارالعذاب ہے۔ اسی طرح دنیا بھی دو حصوں پر مشتمل ہے اللہ کے اطاعت گزاروں کے لیے یہ دارالسلام ہے اور اللہ کے نافرمانوں کے لیے یہ دارالمحن اور دارالابتلا ہے۔ جو لوگ اللہ کے راستے کے مسافر بن جاتے اور ایمان کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارتے اور شریعت کے احکام کی پابندی کرتے ہیں ‘ نفسانیت کو کبھی اپنے اوپر غالب نہیں آنے دیتے ‘ ہر کام کرنے سے پہلے شریعت اسلامی کے احکام کو یاد کرتے ہیں اور اللہ کی رضا کی طلب ان کا مقصود اور منتہا بن جاتی ہے ان کے لیے یہ دنیا یقینا دارالسلام ہے ایک تو اس وجہ سے کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ جو میری ہدایت کی پیروی کرتا ہے اس کے لیے اس دنیا میں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ کوئی حزن۔ ظاہر ہے کہ جسے خوف و حزن سے بچا لیا جائے اس کے لیے یہ دنیا یقینا دارالسلام ہے۔ ممکن ہے آپ کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو کہ اسلامی شریعت پر چلنے والے بھی تو ہمیشہ پریشانیوں سے محفوظ نہیں رہتے کبھی ذاتی پریشانیاں ‘ کبھی اولاد کی پریشانیاں ‘ کبھی معاشرتی اور معاشی پریشانیاں ‘ کبھی استبدادی قوتوں کی جانب سے داروگیر ‘ سو طرح کی پریشانیاں ہیں جن میں صاحب ایمان بھی مبتلا ہوتے ہیں تو پھر ان کے لیے یہ دنیا دارالسلام کیسے ہوئی ؟ بات یہ ہے کہ یہ سوچ غلط فہمی یا کم علمی کا نتیجہ ہے اگر دو باتوں کو سمجھ لیا جائے تو یہ غلط فہمی دور ہوجاتی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ جن پریشانیوں کا ہم نے تذکرہ کیا ہے جو صاحب ایمان لوگوں کو بھی پیش آتی ہیں ان کے بارے میں یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ یہ پریشانیاں کچھ تو فطری ہیں جنھیں اصل میں پریشانیاں نہیں کہنا چاہیے وہ اس زندگی کے لازمی تقاضے ہیں۔ جو کاروبار کرتا ہے اسے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے جو پیدا ہوتا ہے وہ کبھی نہ کبھی موت کی اذیت سے بھی دوچار ہوتا ہے ‘ جو صحت مند ہے وہ کبھی نہ کبھی بیمار بھی ہوتا ہے اور جو خوش ہے وہ کبھی نہ کبھی غمگین بھی ہوتا ہے۔ لیکن یہ چیزیں چونکہ زندگی کا لازمی تقاضہ ہیں اس لیے سلامتی کی ضد نہیں ہیں۔ بلکہ یہی تو وہ چیزیں ہیں جن سے زندگی کی قدر و قیمت کا احساس ہوتا ہے اور خوشی کا تصور ابھرتا ہے۔ غالب نے اسی کی وضاحت کرتے ہوئے شاید کہا تھا
ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
جو بیمار نہیں ہوتا اسے صحت کی قدر و قیمت کا احساس نہیں ہوتا ‘ جسے بھوک نہیں لگتی وہ کھانے پینے کی لذت سے بھی آشنا نہیں ہوتا جسے مسلسل کام سے تھکاوٹ نہیں ہوتی اسے آرام و راحت کی قدر بھی نہیں ہوتی جسے دھوپ پریشان نہیں کرتی وہ سائے کی آسودگی کو کبھی نہیں سمجھ سکتا۔ چیزوں کا صحیح احساس ہمیشہ تضادات سے پیدا ہوتا ہے ایک منفی چیز مثبت کا تصور ابھارتی ہے اس لیے جن چیزوں کو ہم خوف و حزن یا پریشانیوں کا نام دیتے ہیں اصلاً وہ اس کی متضاد چیزوں کا احساس دلانے کے لیے ضروری ہیں اور یا یوں کہنا چاہیے کہ خوشی اور مسرت کا احساس ان کے بغیر کبھی وجود میں نہیں آتاتو جو چیز کسی خوشگوارچیز کا باعث بنتی ہے وہ چیز ناگوار بھی ہو تو اسے ناگوار نہیں کہا جاسکتا اس لیے اس دنیا کو دارالسلام کہنا غلط نہیں اور دوسری یہ بات کہ یہاں کی مشکلات جو اچھے لوگوں کو پیش آتی ہیں وہ انھیں بطور سزا کے پیش نہیں آتیں بلکہ اس لیے پیش آتی ہیں کہ ان کے اندر جو مخفی صلاحیتیں اور جو مضمر اچھائیاں ہیں ان کو ابھارا اور نمایاں کیا جائے۔ جو شخص پانی میں کود کر غوطے نہیں کھاتا اور ڈبکیاں برداشت نہیں کرتا اس کے اندر چھپی ہوئی تیراکی کی قوت کبھی وجود میں نہیں آتی۔ جس شخص میں کوئی ہنر چھپا ہوا ہے یا کوئی خوبی پوشیدہ ہے ‘ اس کو نمایاں کرنے اور بروئے کار لانے کے لیے اس کو بعض مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ کچھ ایکسرسائزز کرائی جاتی ہیں ‘ کسی محنت کے عمل سے متعلق کیا جاتا ہے تب وہ ایک اچھا کھلاڑی بنتا ہے ‘ ایک اچھا خطیب بنتا ہے ‘ ایک اچھا ادیب بنتا ہے ‘ ایک اچھا مصور بنتا ہے ‘ ایک اچھا معلم بنتا ہے حتی کہ ایک اچھا کاشتکار بنتا ہے۔ اگر اسے اس محنت کے پر اسس سے نہ گزارا جاتا تو اس کی یہ مخفی صلاحیتیں کبھی بروئے کار نہ آتیں اسی طرح ایک مسلمان کو چونکہ ایک سچا انسان ‘ ایک مخلص مسلمان ‘ ایک ایثار پیشہ شخص دوسروں کے کام آنے والا کارکن اپنی خودی کی حفاظت کرنے والا اور خطرات سے کھیلنے والا اور محض اللہ کی رضا کا طالب اور آخرت کا مسافر بنانا مقصود ہے تو ان خوبیوں کو بروئے کار لانے کے لیے جن جن مراحل سے گزرنا ضروری ہے اور جن مشقتوں کو اٹھانا واجب ہے اور جن امتحانات سے سابقہ ضروری ہے ان سب سے ایک مومن کو گزارا جاتا ہے تاکہ ان صفات کا حامل ایک مومن تیار ہو سکے تو یہ چونکہ تیاری کے لیے لازمی مشقیں ہیں اس لیے ان سے گزرتے ہوئے ان کو سزائیں سمجھنا یہ کوتاہ فہمی کی دلیل ہے یا ان کو پریشانیاں خیال کر کے ان سے پریشان ہونا یہ کم ہمتی پر دلالت کرتا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ بعض اللہ والوں نے ایسے ایسے گوشوں کو واشگاف کیا ہے جن کی طرف عموماً دھیان نہیں جاتا۔ حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی نے ایک دفعہ ایک نشست میں ارشاد فرمایا کہ صحت بھی اللہ کی نعمت ہے اور بیماری بھی اللہ کی نعمت ہے بلکہ بیماری صحت سے بڑی نعمت ہے حالانکہ ہم بیماری کو ہمیشہ ایک پریشانی بلکہ مصیبت جانتے ہیں لیکن حاجی صاحب نے دلیل دیتے ہوئے فرمایا کہ بڑی نعمت وہ ہوتی ہے جو آدمی کو اپنے محبوب کے قریب کر دے اس کا مطلوب اس کے لیے آسان کر دے۔ صحت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے احساسات آدمی کو دوسری مصروفیات میں گم کر کے اللہ کی طرف سے غافل کردیتے ہیں اور آدمی بجائے اللہ کی محبت کا حق ادا کرنے کے دوسری محبتوں میں کھو جاتا ہے۔ اس لیے وہ نعمت ہونے کے باوجود آدمی کے اپنے غلط اعمال کے باعث بعض دفعہ مصیبت بن جاتی ہے۔ لیکن بیماری اس لیے اللہ کی بڑی نعمت ہے کہ جیسے جیسے بیماری کی شدت بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے آدمی اللہ کی طرف متوجہ ہوتا جاتا ہے۔ ہر کسک اور ہر ٹیس پر مریض اللہ کو یاد کرتا ہے اور جب بیماری کی شدت بےقابو ہونے لگتی ہے تو آدمی بےچین ہو کر اللہ سے دعا کرنے لگتا ہے اس وقت وہ سب سے زیادہ اللہ کے قریب ہوتا ہے۔ اس سے آپ اندازہ فرما لیجئے کہ جن چیزوں کو ہم پریشانیاں سمجھتے ہیں وہ ہمیشہ پریشانیاں نہیں ہوتیں بلکہ اگر انھیں صحیح تناظر میں دیکھا جائے تو وہ آسانیوں ‘ راحتوں اور بعض دفعہ کامرانیوں کا پیش خیمہ ہوتی ہیں اور مزید یہ بات بھی کہ ایک مومن کو اسلام کی طرف سے جو سوچ نصیب ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جب اس کو کوئی خوشی میسر آتی ہے تو وہ اللہ کا شکر بجا لاتا ہے کہ اس خوشی کو حاصل کرنے والا میں نہیں ہوں یعنی یہ میری کسی ذاتی خوبی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کا عطا کرنے والا میرا رب ہے اور جب اسے کوئی ناخوشی کی بات پیش آتی ہے تو وہ اسے بھی انہونی نہیں سمجھتا وہ جانتا ہے کہ کوئی بات بھی اللہ کے علم کے بغیر اور بدوں اس کی اجازت کے وقوع پذیر نہیں ہوتی تو یہ بظاہر جو پریشانی مجھے پیش آرہی ہے یہ یقینا اللہ کی جانب سے ہے تو جب اسے اس بات کا احساس ہوتا ہے تو پھر اس کی دور رس نظر اس پریشانی میں نہیں الجھتی بلکہ وہ اس سرچشمہ فیض کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ وہ چونکہ ہر مسلمان کا محبوب ہے اس لیے جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ میرے محبوب نے ایک پریشانی پیدا کر کے مجھے یاد فرمایا ہے تو اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا۔ کیونکہ وصال کے لمحے اس سے پہلے پیش آنے والی ناخوشگواریوں کو بھی لطف و لذت میں تبدیل کردیتے ہیں۔ وہ تو محبوب کی لاگ کو بھی بقول غالب لگائو سمجھتا ہے اللہ کی ذات کے ساتھ تو کسی لاگ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وہاں سے جو کچھ عطا ہوتا ہے چاہے کسی صورت میں ہو وہ تو لگائو ہی لگائو ہے۔ بلکہ محبت کے شن اور تو محبوب کی دشمنی کو بھی خوشی کا باعث سمجھتے ہیں۔ نجانے کس کا شعر ہے ؎
گو دشمنی سے دیکھتے ہیں دیکھتے تو ہیں
ہم خوش ہیں کہ ہیں کسی کی نگاہ میں
دشمنی کا تصور اللہ کے ساتھ تو ویسے ہی بےادبی ہے اس لیے وہ جس طرح بھی اپنے کسی بندے کو یاد کرتا ہے اس میں بندے کی عزت افزائی اور اس کی تربیت کا سامان ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں ایک مومن کو پیش آمدہ حالات کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو پھر اس دنیا کو کوئی وجہ نہیں ہے کہ دارالسلام نہ سمجھا جائے۔ علاوہ ازیں ایک اور حقیقت بھی ہے جس کا نگاہوں میں رہنا بہت ضروری ہے وہ یہ کہ اسلامی نظام زندگی ایک نہایت مربوط ‘ متوازن اور ایک اکائی کی شکل رکھتا ہے۔ یہ اپنے ماننے والوں کو اس صورت میں اپنی خیر و فلاح سے نوازتا ہے جب اس کو بلا کم وکاست مکمل طور پر مسلمانوں پر نافذ کیا جائے اور مسلمان پوری طرح اپنی زندگیاں اس نظام کی تحویل میں دے دیں اس کے بعد اللہ کی طرف سے کامرانیوں کے فیصلے ہوتے ہیں اور پھر کوئی حزن و ملال مسلمان معاشرے کو پریشان نہیں کرتا۔ جس گھر میں میاں بیوی ایک دوسرے کے حق آشنا اور ماں باپ اور اولاد شفقت اور احترام میں اپنا اپنا فرض انجام دینے والے ہوں وہ گھر جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا اور جس معاشرے میں حق ہمسائیگی ادا ہو رہا ہو اور اس معاشرے کے رہنے والے اللہ کی جانب سے معاشرتی فرائض کے ادا کرنے والے ہوں اور ایثار اور غمگساری ان کی معاشرت کا سب سے اہم حصہ ہو تو ایسا معاشرہ اولاً تو ناخوشگواریوں کا شکار نہیں ہوتا اور اگر کوئی ایک فرد یا کوئی ایک گھر کسی ناگہانی آفت کا شکار ہو بھی جائے تو اس کی مصیبت میں شریک ہونے والے اور اس کے غم کا بوجھ اٹھانے والے اتنی بڑی تعداد میں لوگ ہوتے ہیں کہ غم میں مبتلاہونے والا شخص اپنے غم کو بھول جاتا ہے اور پھر جب معاشرہ ایک ریاست میں تبدیل ہوتا ہے اور ریاست کے چلانے والے خلافت راشدہ کی روایات کے امین ثابت ہوں تو پوری ریاست دور خلافت راشدہ کی طرح ایک جنت کا نمونہ بن جاتی ہے جس میں سوائے سلامتی کے اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اس وجہ سے دارالسلام سے دنیا اور آخرت دونوں کو مراد لینا زیادہ قرین صواب معلوم ہوتا ہے۔
مومنوں کا اللہ ولی ہوگا
مسلمانوں کے اجر وثواب اور صلے کے سلسلے میں دوسری بات جو ارشاد فرمائی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ صرف ان کی دنیا اور آخرت دارالسلام ہی نہیں بنے گی بلکہ انکا پروردگار ان کا ولی بھی ہوگا۔ ولی آپ جانتے ہیں ہمدرد و غمگسار ‘ کارساز اور دوست کو کہتے ہیں ایمان کے راستے پر چلنے والے لوگوں کے لیے سب سے بڑا انعام یہ ہوگا کہ اللہ انھیں اپنی ولایت سے نوازے گا۔ یعنی انھیں اپنے دوستوں میں شامل فرما لے گا۔ اپنی دوستی اور رحمت کی چادر ان پر ڈال دے گا۔ دنیا میں ان کی ہر موقع پر مدد فرمائے گا اور آخرت میں اپنی رضا اور خوشنودی کا اعلان کر کے انھیں اپنی محبت میں مخمور کر دے گا اور یہ ایک ایسا انعام ہے کہ دنیا میں صحیح طور پر اس کے لطف و لذت کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا یہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ اللہ اور بندے میں محبت اور خُلّت کے لحاظ سے کوئی نسبت نہیں۔ کہاں خالق کائنات اور کہاں زمین کے چھوٹے سے کرّے کا باسی حضرت انسان۔ اسے کیا نسبت ہے خالق کائنات سے لیکن اللہ کے کرم کی کیا انتہاء ہے کہ وہ محض اس کے ایمان و عمل کے نتیجے میں اپنی دوستی سے اسے نواز دیتا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ یہ اتنے بڑے بڑے انعامات یاد رکھو اس وجہ سے نہیں ملیں گے کہ تم اس امت کے افراد ہو یا تم کسی خاص نسب سے تعلق رکھتے ہو یا تم کسی خاص علاقے میں پیدا ہوئے ہو بلکہ یہ سب کچھ اس لیے تمہیں عطا ہوگا کہ تم نے اعمال وہ کیے ہیں جو تمہارے اللہ کو پسند ہیں۔ اس لیے تمہارے اعمال کے باعث اور تمہاری قربانیوں کے صلے میں اللہ تعالیٰ تم پر اپنی عنایات فرمائیں گے۔
مسلمانوں پر عطا و بخشش اور انعامات کے تذکرے کے بعد روئے سخن انہی مشرکین اور ان کے اکابر مجرمین کی طرف پھر گیا ہے جو اس سے پہلے مخاطب تھے