6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsروح القرآن

Ayah 6:74

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:74 in the Quran reader

اور یاد کرو ! جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کیا : تم بتوں کو معبود بنائے بیٹھے ہو ؟ میں تو تم کو اور تمہاری قوم کو کھلی ہوئی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں

تمہید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شخصیت آپ کے زمانے کے حالات اور آپ کی دعوت کی ہمہ گیری اور اس کی تفصیل آپ دیکھ چکے ہیں۔ اب ایک اور بات جس کا سمجھنا بہت ضروری ہے ‘ وہ یہ ہے کہ کوئی قوم چاہے کس قدر بگڑی ہوئی بھی کیوں نہ ہو ‘ وہ اپنے غلط سے غلط طرز عمل کے بارے میں بھی یہ کوشش کرتی ہے کہ کسی نہ کسی دلیل کا سہارا تلاش کرے کیونکہ جاہل سے جاہل آدمی کی بھی فطرت میں اللہ نے حیاء کا ایک مادہ رکھا ہے ‘ جس کی وجہ سے بےدلیل بات پر اڑنا اس کے لیے آسان نہیں رہتا۔ جب بھی کوئی صحیح بات ‘ کسی غلط آدمی کو بھی سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ جواب میں یہ نہیں کہتا کہ میں تمہاری صحیح بات کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہوں اور مجھے اپنی غلط بات پر اصرار ہے بلکہ وہ اپنی غلط بات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے دلیل کی شکل میں یا کسی اور صورت میں سہارا تلاش کرتا ہے اور اس کو اپنے لیے پناہ بنا لیتا ہے۔ مشرکینِ مکہ بھی اپنی بت پرستی پر مبنی غلط طرز عمل میں ایسی ہی صورت حال سے گزر رہے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے جب مسلسل ان کی بت پرستی اور ان کے غلط طرز عمل پر بھرپور تنقید فرمائی تو انھوں نے جواب میں جس بات پر اصرار کیا اور جسے اپنے لیے بہت بڑا سہارا سمجھا ‘ وہ یہ بات تھی کہ ہم اصلاً ملت ابراہیمی پر قائم ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شخصیت صرف ان کی نگاہ ہی میں نہیں بلکہ تمام مذاہب کی نگاہ میں ایک مسلم واجب الاحترام قائد کی سی تھی ‘ جس سے کسی کو بھی انکار نہیں تھا کیونکہ بنی اسرائیل اس سے پہلے ہدایت کے دعویدار اور اللہ کی کتاب اور اس کے دین کے وارث تھے۔ وہ بھی اپنے آپ کو اپنے جدِّ امجد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے واسطے سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وارث سمجھتے تھے اور قریش بھی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث تھے اور خود اسلام کا دعویٰ بھی یہ ہے کہ نبی کریم کو ملت ابراہیم پر مبعوث کیا گیا ہے اور آپ ان کے دین کی تجدید کے لیے تشریف لائے ہیں۔ قریش مکہ چونکہ براہ راست حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد اور ان کے بنائے ہوئے اللہ کے گھر کے متولی ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو ان کا زیادہ وارث سمجھتے تھے اور غلط فہمی یہ تھی کہ وہ جو دین اپنے پیچھے چھوڑ کے گئے تھے ‘ ہم آج تک اس پر قائم ہیں اور یہ ہماری بت پرستی اصلاً حضرت ابراہیم کی وراثت ہی کا حصہ ہے۔ ظاہر ہے ‘ ایسی مسلمہ قیادت کی موجودگی میں ‘ وہ آنحضرت ﷺ کی بات سننے کے لیے بالکل تیار نہیں تھے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اسی حوالے سے کیا جا رہا ہے کہ تم اپنے آپ کو بیشک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے سمجھو ‘ اس میں کوئی غلط بات نہیں۔ لیکن تمہارا یہ کہنا کہ تم ان کے دین کے وارث ہو ‘ یہ سراسر ایک غلط فہمی ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ جس دعوت کو لے کر اٹھے تھے اور جس دین کی طرف لوگوں کو بلاتے تھے اور جس دین کا مرکز انھوں نے بیت اللہ کو بنایا تھا ‘ وہ وہ دین نہیں ‘ جس پر تم قائم ہو ‘ بلکہ اس کو زندہ کرنے کے لیے تو رسول اللہ ﷺ کو مبعوث کیا گیا۔ تمہارا جو طرز عمل ہے اور تم جس طرح بت پرستی کو اپنا دین بنا چکے ہو ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو اسے بدلنے کے لیے تشریف لائے تھے۔ تمہارا دین ٹھیک وہی ہے ‘ جو ان کی قوم کا تھا اور رسول اللہ ﷺ کا دین وہ ہے ‘ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تھا۔ اس لیے تم اپنے طرز عمل میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث نہیں ہو۔ بلکہ ان کی اس کافر قوم کے وارث ہو ‘ جس کے ساتھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کشمکش پیش آئی اور بالآخر انھیں اپنا وطن چھوڑ کر نجانے کہاں کہاں کی خاک چھاننی پڑی۔ اب اگر یہ بات قریش مکہ سمجھ جائیں کہ ان کا طرز عمل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کے بالکل برعکس ہے تو ان کا وہ سارا سرمایہ افتخار اور ان کی دینی زندگی کا سہارا ‘ یعنی ملت ابراہیمی پر ہونے کا دعویٰ اس کا طلسم پاش پاش ہوجاتا ہے کیونکہ ملت ابراہیمی بت پرستی نہیں ‘ بت شکنی ہے۔ تمام مشرکانہ عقائد کو چھوڑ کر اور مشرکانہ رویوں سے توبہ کر کے خالصتاً اللہ کے راستے کو اختیار کرنا ہے اور یہ وہ طریقہ ہے جس کی دعوت لے کر حضور ﷺ اٹھے ہیں۔ لیکن مشرکینِ مکہ آپ کے ساتھ وہی کچھ کر رہے تھے ‘ جو حضرت ابراہیم کی قوم نے ان کے ساتھ کیا تھا۔ چناچہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شخصیت اور ان کی دعوت اور دعوت کے اثبات کے لیے ان کی پیش کردہ دلیل کو بیان کیا جا رہا ہے۔ تاکہ مشرکینِ مکہ کو پوری طرح اپنی غلطی کو سمجھنے میں آسانی ہو سکے۔ چناچہ ارشاد فرمایا : وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھِیْمُ لِاَبِیْہِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِھَۃً ج اِنِّیْٓ اَرٰکَ وَ قَوْمَکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الانعام : 74) ” اور یاد کرو ! جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کیا : تم بتوں کو معبود بنائے بیٹھے ہو ؟ میں تو تم کو اور تمہاری قوم کو کھلی ہوئی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں “۔ اس آیت کریمہ میں متعدد باتیں توجہ طلب ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ کہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام صراحت کے انداز میں آزر لیا گیا ہے ‘ جبکہ ہمارے کئی محترم مفسرین نے یہ فرمایا ہے کہ حضرت ابراہیم کے والد کا نام آزر نہیں بلکہ تارخ ہے۔ آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد نہیں ‘ بلکہ چچا تھے اور عربی زبان میں چچا کو والد کے نام سے یاد کرنا ایک معروف بات ہے اور دوسری یہ بات کہ آزر کو بطور خاص اس لیے ذکر کیا جا رہا ہے کہ وہ نمرود کے وزیر اور اس شہر کے سب سے بڑے بت خانے کے نگران پجاری تھے اور وہ صرف بت پرست ہی نہیں تھے بلکہ بت گر بھی تھے اور اس معاشرے میں بت گری چونکہ ایک معزز اور وسیع ذریعہ معاش کے طور پر متعارف تھا اور پھر اس بت خانے کا انچارج پجاری ہونا ‘ یہ ایسے ہی تھا جیسے بادشاہ کے بعد دوسرے نمبر کا آدمی۔ تو آزر کی اس حیثیت کی وجہ سے جو اسے اس کے اپنے خاندان اور ملک میں حاصل تھی ‘ اس کو یہاں حضرت ابراہیم کے باپ کے طور پر ذکر فرمایا گیا ہے۔ بعض مفسرین کا خیال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کے والد کا نام اصل میں تارخ تھا ‘ لیکن آزر ان کا تخلص تھا اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی آدمی کا تخلص یا خطاب اس کے نام پر غالب آجاتا ہے اور اسی کی شہرت ہوجاتی ہے۔ جب بھی اس آدمی کا تذکرہ ہوتا ہے تو عموماً معروف لقب یا خطاب سے ہوتا ہے۔ نام بالعموم ذکر نہیں کیا جاتا۔ ہمارے یہاں اس کی بہت مثالیں ہیں۔ حسرت موہانی کے نام سے بہت کم لوگ واقف ہوں گے ‘ شورش کا شمیری کا نام کتنے لوگ جانتے ہیں ‘ نسیم حجازی کے نام کو گھر والوں کے سوا شاید ہی کوئی جانتا ہو ‘ نعیم صدیقی صاحب کے نام سے ان کے عمر بھر کے ساتھی واقف ہوں تو ہوں ‘ لیکن عام پڑھنے والے بالکل نہیں جانتے۔ اسی طرح آزر کا نام اگر متروک ہوگیا ہو تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ یہ دونوں رائیں اپنے نزدیک قابل احترام اور اہمیت کے قابل ہیں۔ لیکن قرآن کریم نے یہاں جس صراحت کے ساتھ آزر کو بطور نام کے ذکر کیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا عام انداز یہ نہیں کہ وہ اس قدر قطعی انداز میں کسی کا نام لے اور مزید یہ کہ قرآن کریم کی حیثیت چونکہ مہیمن کی ہے ‘ یعنی وہ پہلی آسمانی کتابوں کی غلطیوں کی اصلاح کرتا ہے ‘ جو ان کے حاملین نے ان میں پیدا کردی تھیں۔ یہاں بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ آج بھی اگر ہم تورات کے مختلف تراجم دیکھیں تو اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کے نام کا تلفظ ہر ترجمے میں ہمیں مختلف ملے گا۔ اس لیے یہاں قرآن کریم نے اصلاح فرماتے ہوئے قطعی انداز میں فرمایا کہ اس کا نام آزر تھا۔ اس لیے یہی بات زیادہ اپیل کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم کے والد کا نام تارخ نہیں ‘ بلکہ آزر تھا۔ دوسری بات جو اس آیت کریمہ سے سمجھ میں آتی ہے ‘ وہ یہ کہ یوں تو اللہ کے رسولوں کی تاریخِ دعوت اور ان کی شخصیتوں میں قدم قدم پر اللہ کی شان اور اس کی قدرت کا اظہار ہوتا ہے۔ لیکن ایک بات عموماً جو دکھائی دیتی ہے وہ یہ کہ جب قوموں کا بگاڑ انتہائی شدت اختیار کرجاتا ہے تو اس کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے کسی رسول کو بھیجتے ہیں اور اس کی معرفت کلمہ حق کی زندگی کا سامان کرتے ہیں تو یہ نعرہ حق بلند وہاں سے ہوتا ہے ‘ جہاں سے اس کا سان گمان بھی نہیں ہوتا۔ مثلاً حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اہل مصر کی اصلاح کے لیے بھیجا تو ان کی پرورش کا سروسامان وہاں کیا گیا جو اس معاشرے کی ساری خرابیوں کا مرکز تھا ‘ یعنی فرعون کا گھر۔ وہاں آپ کی تربیت ہوئی وہیں آپ پلے بڑھے اور وہیں سے کلمہ حق کا آغاز ہوا۔ اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں ہم دیکھتے ہیں کہ عراق میں جس طرح مظاہرِ فطرت کی پوجا ہو رہی تھی اور بت پرستی مختلف صورتوں میں جس طرح پورے جوبن پر تھی ‘ اس کو بدلنے کی کوئی کوشش اس بگڑے ہوئے معاشرے میں بظاہر ناممکن سی دکھائی دیتی تھی۔ لیکن اللہ نے جب اس قوم کی اصلاح کا ارادہ فرمایا تو اپنا رسول ‘ اپنی معروف سنت کے مطابق اور اپنی قدرت ِ بالغہ کے اظہار کے طور پر وہاں سے اٹھایا جو بت پرستی کا مرکز اور اس برائی کا سرچشمہ تھا۔ یعنی آزر کا گھر۔ جیسا کہ عرض کیا گیا کہ وہ سب سے بڑے بت خانے کا سب سے بڑا افسر تھا اور نمرود کے بعد اسے دوسری حیثیت حاصل تھی اور پھر جس جرأت کے ساتھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے سامنے کلمہ حق بلند فرمایا ‘ اس سے اللہ کی اس شان کا پوری طرح اظہار ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ دعوت حق تیسری بات جو اس آیت میں نمایاں ہے ‘ وہ یہ ہے کہ اللہ کے رسولوں کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ اپنی دعوت کا آغاز ہمیشہ اپنے خاندان اور اپنے گھر سے کرتے رہے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو بھی حکم دیا گیا تھا وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ اَلْاَقْرَبِیْنَ کہ سب سے پہلے اپنے خاندان کو اور اپنے قریبی عزیزوں کو ان کے برے انجام اور اللہ کے عذاب سے ڈرائو۔ چناچہ اسی لیے آپ نے اپنے خاندان کو اپنے گھر میں دعوت دی اور ان کے سامنے اپنی دعوت ہدایت پیش فرمائی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اسی سنت کے مطابق سب سے پہلے اپنے گھر سے اس کا آغاز کیا۔ گھر کے بڑے ہونے کی حیثیت سے اپنے باپ کے سامنے سب سے پہلے اس دعوت کو رکھا اور نہایت قطعیت و حکمت کے ساتھ اس کی اور اس کی قوم کی برائی کو واضح کیا اور اپنی دعوت کو صاف صاف پیش فرمایا۔ اس آیت کریمہ میں تو وہ دعوت اختصار کے ساتھ پیش کی گئی ہے لیکن سورة مریم میں اس کو زیادہ تفصیل سے بیان فرمایا گیا : اِذْ قَالَ لِاَبِیْہِ یٰٓاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَلَا یُبْصِرُ وَلَا یُغْنِیْ عَنْکَ شَیْئًا۔ یٰٓاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآئَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِکَ فَاتَّبِعْنِیْٓ اَھْدِکَ صِرَاطًا سَوِیًّا۔ یٰٓاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ ط اِنَّ الشَّیْطٰنَ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا۔ یٰٓاَبَتِ اِنِّیْٓ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّکَ عَذابٌمِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَکُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا۔ قَالَ اَرَاغِبٌاَنْتَ عَنْ اٰلِھَتِیْ یٰٓاِبْرٰھِیْمُج لَئِنْ لَّمْ تَنْتَہِ لَاَرْجُمَنَّکَ وَاھْجُرْنِیْ مَلِیًّا۔ (یاد کرو ! جب اس نے اپنے باپ سے کہا : اے میرے باپ ! آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں ‘ جو نہ سنتی ہیں ‘ نہ دیکھتی ہیں اور نہ کچھ آپ کے کام آنے والی ہیں ؟ اے میرے باپ ! میرے پاس وہ علم آیا ہے ‘ جو آپ کے پاس نہیں آیا ‘ تو میری پیروی کیجئے ‘ میں آپ کو سیدھی راہ دکھائوں گا۔ اے میرے باپ ! شیطان کی بندگی نہ کیجئے۔ شیطان خدائے رحمان کا بڑا نافرمان ہے۔ اے میرے باپ ! میں ڈرتا ہوں کہ آپ کو خدائے رحمان کی طرف سے کوئی عذاب نہ آپکڑے کہ آپ شیطان کے ساتھی بن کے رہ جائیں۔ اس نے جواب دیا ‘ ابراہیم ! کیا تم میرے معبودوں سے منحرف ہو رہے ہو ؟ اگر تم باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگسار کر دوں گا۔ اب تم میرے پاس سے یک دم دفع ہوجاؤ) (مریم : 42-46) یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کو دعوت دیتے ہوئے سب سے پہلے اس کی اور اس کی قوم کی بنیادی برائی کا ذکر فرمایا کہ آپ نے بتوں کو خدا بنا رکھا ہے ‘ لیکن یہاں جو بات اختصار سے کہی گئی ہے ‘ اسے سورة مریم میں اور بعض دوسرے مقامات پر کھول دیا گیا ہے ‘ تاکہ یہ بات سمجھنے میں آسانی ہو کہ بت پرستی محض بتوں کے سامنے جھک جانے کا نام نہیں ‘ بلکہ اس کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے۔ یہاں سب سے پہلے اس برائی کی جو ظاہری صورت ہے اس پر تنقید فرمائی اور اس کے بعد اسے کھلی کھلی ضلالت اور گمراہی قرار دے کر دوسرے مقامات پر اس کی وضاحت فرما دی گئی کہ یہ پتھر کے بتوں کے سامنے جھکنا ‘ محض ایک علامت ہے۔ حقیقت میں اس کے پیچھے ایک بہت بڑی گمراہی کارفرما ہے ‘ جس کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔ اس ظاہری گمراہی پر تنقید کرتے ہوئے دوسری جگہ بھی فرمایا : اَ تَعَبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ ” کیا تم پوجتے ہو ان چیزوں کو ‘ جن کو خود اپنے ہی ہاتھوں گھڑتے ہو “ ( الصّٰفّٰت : 95) اپنیگمراہی اور بےعقلی ملاحظہ کرو کہ پہاڑ سے پتھر اٹھا کر تم اپنے کارخانے میں لے آتے ہو اور ان کو ایک شکل دے کر اس کی پوجا کرنا شروع کردیتے ہو۔ حالانکہ خدا تو کائنات کا خالق ہے ‘ وہ ہر مخلوق کی تخلیق فرماتا ہے۔ خود تمہیں بھی اسی نے پیدا کیا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس کی ساتھ اپنے ہاتھوں سے گھڑے ہوئے بتوں کو شریک کرتے ہوئے تمہیں اپنی حماقت کا ذرا احساس نہیں ہوتا کہ ایک پتھر ‘ پتھر ہے چاہے اسے کیسی ہی خوبصورت شکل کیوں نہ دے دی جائے اور سورة مریم میں اس تنقید کو مزید کھول دیا گیا ہے کہ آدمی جب کسی کے سامنے جھکتا ہے اور اپنی بندگی اور اس کے الوہیت کا اقرار کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں مختلف مواقع پر ضرورتوں اور کمزوریوں کا شکار ہوتا ہے۔ کبھی مصیبتیں آگھیرتی ہیں ‘ کبھی مالی دشواریاں پریشان کرتی ہیں ‘ کبھی اور چند در چند ضرورتیں ہیں ‘ جو انسان کو بےبس کر کے رکھ دیتی ہیں۔ جس ذات کو انسان اپنا الہٰ اور خدا بناتا ہے ‘ اس کے بارے میں وہ یہ سمجھتا ہے کہ میری ایسی تمام ضرورتوں اور حاجتوں اور میری بےبسی اور بےکسی میں ‘ وہ ذات میرے لیے سہارا ہوگی۔ میں تکلیف میں ہوں گا تو وہ تکلیف دور کرے گی ‘ مجھے نقصان سے بچائے گی اور جب مجھے کسی فائدے کی ضرورت ہوگی اور میں دست سوال اس کے سامنے دراز کروں گا تو وہ مجھے مالا مال کر دے گی۔ لیکن ابا جان آپ اور آپ کی قوم اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے بتوں کے سامنے جھکتے ہو دست سوال دراز کرتے ہو مرادیں مانگتے ہو ‘ اپنی سب امیدیں ان سے وابستہ کرتے ہو۔ حالانکہ تم جانتے ہو وہ نہ تمہیں دیکھتے ہیں نہ وہ تمہاری بات سنتے ہیں اور نہ کسی ضرورت میں وہ تمہارے کام آسکتے ہیں تو پھر ان پتھروں سے سر پھوڑنے کا فائدہ۔ یہ تو وہ تنقید ہے جو ان کی ظاہری برائی پر کی گئی ہے کیونکہ دیکھنے والی نگاہ انھیں پتھروں کے سامنے ہی جھکتا ہوا دیکھتی ہے۔ بت پرستی کی آڑ میں دراصل شیطانی اور طاغوتی قوتیں اپنی پرستش کرواتی ہیں لیکن اگلی آیات میں اس کی حقیقت بھی کھولی گئی کہ یہ پتھروں کے خدا اصل میں یہ مقصود نہیں ہیں۔ ان کے پردے میں شیطانی اور طاغوتی قوتیں اپنی بندگی کرواتی ہیں۔ دنیا کا ہر استبدادی نظام اور تمام مفاد پرست گروہ اور مشیخیت کے دعوے دار اور مذہب کے نام پر فوائد حاصل کرنے والے لوگ سب اپنے اپنے دائرے میں ایسے ہی پردوں میں اپنی بندگی کرواتے ہیں۔ اپنی شخصیت کو دلوں میں اتار کر اپنی پوجا کروانا اپنی بڑائی اور عظمت کا ایک طلسم طاری کر کے اپنے مفادات کو محفوظ کرنا یہ اسی بت پرستی کی شاخیں ہیں۔ دنیا میں جب کبھی بت پرستی ہوئی ہے تو عوام کو تو جانے دیجئے خواص نے کبھی بھی پتھروں کو پتھر سمجھ کے نہیں پوجا وہ جانتے ہیں کہ یہ پتھر ‘ یہ مجسمے ‘ یہ بظاہر بت ‘ خدا رسیدہ شخصیتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے پردے میں ہم ان کو پوجتے ہیں اور جب وہ خوش ہوجاتے ہیں تو ہم پر انعامات کی بارش کرتے ہیں اور کبھی یہ سمجھا جاتا ہے کہ کچھ اوتار ہیں دیوتائوں کے جن کی یہ شکلیں ہیں اور بادشاہ بھی چونکہ کسی نہ کسی دیوتا کا اوتار سمجھا جاتا تھا اور اسی حوالے سے ان مذہبی پروہتوں سے ان کی ملی بھگت ہوتی تھی اور وہ انہی کا سہارا لے کر اپنی ربوبیت کا صور پھونکتے تھے اور آج کے دور میں اگر دیکھا جائے تو اس بت پرستی نے اگرچہ شکل بدل لی ہے ‘ لیکن اس کی روح آج بھی کار فرما ہے۔ یہ ہیرو ورشپ ‘ یعنی شخصیتوں کی پوجا۔ ان کے مجسموں کا احترام ‘ ایئر ٹائٹ شیشوں کے بکسوں میں ان کی لاشوں کی حفاظت اور پھر طریقے طریقے سے دلوں میں ان کے زندہ رکھنے کی کوشش اور سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو پر اپیگنڈے کے زور سے لوگوں کے سامنے معصوم بنا کر پیش کرنا اور سادہ دل عوام کو یہ یقین دلا دینا کہ تمہارا لیڈر کبھی غلطی نہیں کرسکتا اور ان سے ہر طرح کی قربانیوں کا مطالبہ کرنا اور انہی کے حوالے سے خیر و شر کی تمیز میں ان کو فیصلہ کن حیثیت دے دینا ‘ یہ آج کی وہ بت پرستی ہے ‘ جو پوری آب و تاب سے آج بھی زندہ ہے۔ مسلمان قوم جو توحید کی علمبردار اور اپنے پیغمبر کی ذات کی فداکار ہے ‘ وہ بھی اس سحر سے محفوظ نہیں۔ ہمارے معاشرے کی بت پرستی ہم آج بھی اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ ایک سیاسی لیڈر ‘ اسلامی مسلمات کا انکار کرتا ہے ‘ عبادات کا مذاق اڑاتا ہے ‘ اخلاص و عمل کو بنیاد پرستی اور رجعت پسندی کا نام دے کر مسترد کردیتا ہے اور صاف صاف باطل قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلتا ہے ‘ حتیٰ کہ ملک کی آئینی سرحدیں بھی اس کے ہاتھوں محفوظ نظر نہیں آتیں ‘ بایں ہمہ بیشمار لوگ اسے نہ صرف سپورٹ کرتے ہیں بلکہ اسے اپنی محبت و عقیدت کا مرجع سمجھتے ہیں۔ غور فرمایئے ! اس سے بڑی بت پرستی اور کیا ہوگی۔ اس زمانے کی بت پرستی بھی انسان سے خدا پرستی اور اس کا دین چھینتی تھی ‘ آج بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تنقید فرما رہے ہیں اور اس تنقید کا دائرہ چونکہ زندگی کے ہر زاویئے پر محیط تھا ‘ اس لیے ان کے والد نے شروع ہی میں سخت ترین طرز عمل اختیار کیا۔ آپ کو سنگسار کرنے کی دھمکی دی اور پوری قوم آپ کی دشمنی کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی اور آپ کی دعوت کا مطالعہ کرتے ہوئے ‘ دماغ میں ایک خیال پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ یہ کہا جاتا ہے کہ آدمی اپنے ماحول کی پیداوار ہوتا ہے۔ وہ اپنے گھر میں جو کچھ دیکھتا ہے ‘ اس کے والدین جیسی اس کی تربیت کرتے ہیں ‘ اس کی تعلیم جو اسے سکھاتی ہے اور معاشرے میں جن باتوں کا چلن ہوتا ہے ‘ ایک بچہ تربیت کے تمام مراحل میں انہی باتوں کو قبول کرتا ہے اور اس کی زندگی انہی کی تصویر بن جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم نے بت پرستی اور بت گری کے مرکز میں آنکھ کھولی ‘ اپنے چاروں طرف اسی کی کارفرمائی دیکھی ‘ ان کی تربیت انہی بنیادوں پر ہوئی ‘ معاشرے کو اسی دلدل میں دھنسا ہوا دیکھا اور پورے معاشرے میں اس کے برخلاف کہیں سے کوئی ایک آواز بھی کبھی سنائی نہ دی سوچنے کی بات ہے کہ شرک کے اس گھٹاٹوپ اندھیرے میں انھوں نے توحید کی روشنی کہاں سے لی ؟ وہ گندگی میں پلنے والے کیڑوں میں رہ کر خوشبو کے ذوق سے کیسے آشنا ہوئے۔ اگلی آیت میں اس کا جواب دیا گیا ہے :
Ayah 6:75

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ Open ayah 6:75 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین میں ملکوت الٰہی کا مشاہدہ کراتے تھے ‘ (تاکہ وہ اپنی قوم پر حجت قائم کرے) اور کاملین یقین میں سے بنے

وَکَذٰلِکَ نُرِیْٓ اِبْرٰھِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ ۔ (الانعام : 75) (اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین میں ملکوت الٰہی کا مشاہدہ کراتے تھے ‘ تاکہ وہ اپنی قوم پر حجت قائم کرے اور کاملین یقین میں سے بنے ) اس آیت کریمہ میں مختلف حقائق کی طرف راہنمائی فرمائی گئی ہے۔ ان کا ذکر کرنے سے پہلے صرف ایک لفظ کی وضاحت ضروری ہے۔ اس آیت میں ” ملکوت “ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ملکوت کا لفظی مفہوم عزت و اقتدار ‘ بادشاہی اور سلطنت ہے۔ لیکن قرآن کریم میں یہ لفظ خدا کی اس تکوینی بادشاہی کے لیے استعمال ہوا ہے ‘ جو آسمان اور زمین بلکہ ہر چیز پر قائم و دائم ہے۔ فطرت سلیم کے مالک انسان کو اللہ کی ذات کو پہچاننے میں دیر نہیں لگتی اس آیت میں غور کرنے سے سب سے پہلی جو چیز سمجھ میں آتی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب انسانی ارواح کو پیدا فرمایا تھا تو انسانی ارواح سے ایک عہد لیا تھا۔ آپ اسے عہد فطرت کہہ لیجئے یا عہد الست۔ اس میں روحوں سے پوچھا گیا تھا کہ بتلائو کیا میں تمہارا رب ہوں یا نہیں ؟ سب نے بیک زبان کہا تھا کہ آپ یقینا ہمارے رب ہیں اور ہم اس کی گواہی دیتے ہیں۔ دنیا میں جو شخص بھی پیدا ہوتا ہے ‘ وہ اپنے ساتھ اس عہد کی یادداشت لے کر آتا ہے۔ اگر ماحول ‘ والدین کی تربیت اور تعلیم اسے نہ بگاڑیں تو اس کے تحت الشعور ‘ اس عہد کی یاد زندہ رہتی ہے۔ جب کبھی وہ اس کائنات پر غور کرتا ہے تو وہ یقینا اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ومالک ہے۔ لیکن جب والدین کی تربیت ‘ تعلیم اور ماحول اس کی فطرت کو بگاڑ دیتے ہیں تو اس کا یہ عہد طاق نسیان میں چلا جاتا ہے اور اس وقت تک اس کے دل و دماغ میں تازہ نہیں ہوتا ‘ تاوقتیکہ پیغمبرانہ تبلیغ و دعوت سے دوبارہ اس عہد کو یاد نہ دلایا جائے۔ اللہ کے نبی چونکہ نخل فطرت کے بہترین ثمر ہوتے ہیں ‘ وہ ماحول کی گندگی میں رہنے کے باوجود اپنی فطرت سلیم کے اثرات سے کبھی بےنیاز نہیں ہوتے۔ وہ نبوت سے پہلے بھی عصمت کے حصار میں رہتے ہیں۔ قدرت ان کی حفاظت کرتی ہے۔ وہ پتھروں کے ڈھیر میں ‘ ہیرے کی مانند چمکتے رہتے ہیں چونکہ ان کی فطرت اپنی سلامتی پر قائم رہتی ہے ‘ اس لیے قدرت ان پر نبوت سے پہلے ایک انعام کا آغاز کرتی ہے اور پھر نبوت کے ساتھ اس انعام کی تکمیل کردیتی ہے۔ نبوت تو انبیاء کی خصوصیت ہے لیکن یہاں میں جس انعام کا ذکر کرنے لگا ہوں ‘ وہ صرف انبیاء کی خصوصیت نہیں ‘ بلکہ جس کی فطرت سلیم عہد الست پر قائم ہو قدرت کا یہ انعام برابر اس پر بھی جاری رہتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے قرآن کریم توجہ دلاتا ہے : اَوَلَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَکُوْتِ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْض (کیا انھوں نے آسمانوں اور زمین میں خدا کی بادشاہی پر غور نہیں کیا ؟ ) یعنی غور و فکر کا یہ انعام اللہ تعالیٰ ہر اس بندے پر فرماتے ہیں جو اپنی فطرت کی سلامتی پر قائم ہوتا ہے۔ اس کی فطرت چونکہ بار بار اس کے عہد الست کو یاد کراتی ہے اس لیے وہ بار بار اپنی اس متاع کو تلاش کرتا ہے ‘ جس کی یاد اس کے تحت الشعور سلگتی رہتی ہے اور وہ اللہ کے ملکوت میں برابر غور و فکر کرتا رہتا ہے جس کے نتیجے میں وہ کلید اس کے ہاتھ آتی ہے ‘ جس سے صحیح فکر اور صحیح عمل کے دروازے کھلتے ہیں۔ اسی سے زندگی کا سرا بھی ہاتھ آتا ہے اور اسی سے اس کے منتہا کا بھی پتا چلتا ہے۔ اقبال شاید ایسی ہی کسی کشمکش میں مبتلا تھا ‘ جب اس نے یہ بات کہی تھی ؎ خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتداء کیا ہے کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہاء کیا ہے اسی فکر میں سوچنے والا برابر یہ سوچتا ہے کہ اس دنیا کا کوئی خالق ہے یا خود بخود وجود میں آگئی ہے ؟ اگر کوئی خالق ہے تو کیا وحدہ لا شریک ہے یا اس کا کوئی اور شریک بھی ہے ؟ پھر یہ دنیا کبھی ختم بھی ہوگی یا ہمیشہ قائم رہے گی ؟ اگر اس کا کوئی خالق ومالک ہے تو اس کی صفات و خصوصیات کیا ہیں اور کس لیے اس نے اتنا بڑا عالم کھڑا کردیا ہے ؟ اس دنیا میں حق و باطل کے لیے کوئی معیار ہے یا یہ کوئی اندھیر نگری ہے ؟ آسمانوں اور زمین میں ایک ہی قادر قیوم کی تدبیر حکمت کارفرما ہے یا اس کے اندر الگ الگ مشیتیں اور الگ الگ ارادے زور آزمائی کر رہے ہیں ؟ یہ اور اسی قبیل کے دوسرے بہت سے سوالات ہیں جن کے صحیح حل پر ہی صحیح فکر اور صحیح عمل کی بنیاد ہے۔ ایک سلیم الفطرت آدمی اللہ کے اس انعام سے جب نوازا جاتا ہے تو برابر یہ غور و فکر جاری رکھتا ہے ‘ جس کے نتیجے میں وہ خالق کائنات کے وجود سے آشنا ہوتا ہے۔ اللہ کے نبی نبوت سے پہلے سب سے زیادہ اس انعام سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ وہ اپنے معصوم ہونے کی وجہ سے یوں تو ہر شرک اور ہر گناہ کی آلودگی سے محفوظ رہتے ہیں اور ان کی فطرت ہر طرح کے برے تاثر سے بچی رہتی ہے۔ لیکن غور و فکر کا یہ سلسلہ اللہ کی ذات کو جاننے کے لیے نہیں بلکہ اس کی صفات کو پہچاننے اور اپنے فرائض کو سمجھنے کے لیے برابر جاری رہتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی اللہ تعالیٰ نے اسی انعام سے نوازا تھا اور اس طرح نوازا تھا کہ وہ پتھروں کے اس ڈھیر میں ہیرے سے بڑھ کر روشنی دینے لگے تھے۔ یہاں رک کر ایک بات سمجھ لینی چاہیے کہ کائنات پر غور و فکر اور تفکر کا یہ انداز جس کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے ‘ یہ تو اللہ کے نیک بندوں اور انبیاء کرام کا حصہ ہے۔ لیکن جہاں تک کائنات پر محض غور و فکر کا تعلق ہے ‘ وہ تو ایک سائنسدان بھی کرتا ہے۔ لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ سائنسدان کی نگاہ اپنی ذات اور اپنے محدود ماحول کے محور تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ اسے صرف اشیاء کے خواص کو جاننے اور ان سے فائدہ اٹھانے کے سوا اور کسی بات کی فکر نہیں ہوتی۔ وہ چمن میں کھلے ہوئے گلاب کو دیکھتا ہے ‘ لیکن صرف اس کے فوائد کو تلاش کرتا ہے اور وہ صرف یہ جاننا چاہتا ہے کہ جس طرح اس سے گلقند تیار ہوتا ہے ‘ کیا کوئی اور چیز بھی اس سے بنائی جاسکتی ہے یا نہیں ؟ لیکن اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ اگر صرف اس سے گلقند بنانا ہی مقصود ہوتا تو اس کے لیے پھول کے حسن و جمال اور اس کی رعنائی و دلکشی اور اس کی عطر بیزی و شادابی کی آخر کیا ضرورت تھی ؟ پھول کی ایک ایک پنکھڑی پر جس طرح فیاضی کے ساتھ گلکاری کی گئی ہے کیا یہ بھی گلقند کے لیے ضروری تھی ؟ لیکن ایک سائنسدان ‘ ان باتوں پر غور نہیں کرتا کہ اس کا صانع کون ہے اور اس کو یہ رعنائی اور دلکشی عطا کرنے والی ذات کون سی ہے۔ وہ کبھی اس پردے کے پیچھے جھانک کر اس ہاتھ کو یکھنے کی کوشش نہیں کرتا ‘ جس نے پھول کو حسن و جمال سے نوازا ہے۔ نیوٹن نے سیب کے درخت سے سیب کو گرتے ہوئے دیکھا تو اس کے ذہن میں معاً یہ خیال آیا کہ آخر یہ سیب زمین ہی پر کیوں گرتا ہے ‘ خلا تو اس کے چاروں طرف ہے ‘ کسی اور طرف کیوں نہیں گرتا ؟ اس سے اس کے ذہن میں زمین کی کشش کا تصور پیدا ہوا ‘ جو آگے چل کر بہت سی تحقیقات اور انکشافات میں معاون ثابت ہوا اور اس نے یہ بات ثابت کی کہ زمین میں ایک کشش ہے اور یہاں ایک قانون جذب و کشش کارفرما ہے اور یہیں تک اس کی نگاہ رک کے رہ گئی۔ لیکن اس نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کہ آخر وہ کون ہے جس نے کائنات کی ایک ایک چیز کو جذب و کشش کے اس قانون سے باندھ رکھا ہے۔ بس سائنسدان اور اللہ والوں کے غور و فکر میں یہی فرق ہے کہ سائنسدان کی سوچ پر صرف مفاد کا غلبہ ہے اور ذمہ داری کے احساس کا فقدان ہے۔ لیکن اللہ والے ‘ جب اس تفکر اور تدبر سے کام لیتے ہیں تو وہ شے کی حقیقت کو تلاش کرتے ہیں اور بالآخر اس کے خالق تک پہنچ جاتے ہیں۔ اقبال نے ٹھیک کہا تھا ؎ اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ کی رحمت کے فیضان کی پہلی صورت یہی رہی ہے کہ باقی انبیاء کی طرح انھوں نے زمین و آسمان کے ملکوت پر غور جاری رکھا۔ وہ اللہ کے وجود سے عہد فطرت کے باعث آشنا تھے۔ لیکن اب اس کی تفصیلات جاننے کی فکر میں تھے۔ جیسے آنحضرت ﷺ عمر کے ساتھ ساتھ تنہائی پسند ہوتے گئے اور مسلسل تحنث میں مبتلا رہے۔ علماء کہتے ہیں ” تحنث “ اللہ کے ملکوت میں غور و فکر کا نام ہے۔ آپ اللہ کو یاد کرتے ‘ اس سے محبت کرتے تھے۔ لیکن محبت کے طریقے اور یاد کی ادائوں کو جاننا چاہتے تھے۔ آپ اس فکر میں تھے کہ آخر انسانی زندگی کے مقاصد کیا ہیں ؟ یہی حال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تھا۔ پھر اس انعام کی تکمیل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے انھیں نبوت سے مشرف فرمایا اور جس راز کو وہ جاننا چاہتے تھے وحی الٰہی کی صورت میں وہ راز ان پر واشگاف کردیا گیا۔ اب اس راز سے آگاہی کی ہر پیغمبر کے لیے ابتداء تو وحی الٰہی کی صورت میں ہوتی ہے جس سے وہ یقین کی دولت سے بہرہ ور ہوتے ہیں لیکن یقین کی چونکہ کیفیت ایک نہیں ‘ اس لیے یہ یقین آئے دن بڑھتا رہتا ہے ‘ تاآنکہ انھیں ان مراحل سے گزارا جاتا ہے جس کی ایک شکل معراج بھی ہے۔ ہر پیغمبر کو اس کی شان کے مطابق معراج سے نوازا گیا ہے۔ تاکہ وہ جب دنیا کی ہدایت کے لیے اٹھے تو اللہ کی ذات اس کی صفات ایمانیات سے متعلق تمام تفصیلات اللہ کے وعدوں اس کی وعیدوں اور آنے والی دنیا کے بارے میں ایک ایک چیز سے متعلق وہ اس یقین سے بہرہ ور ہو ‘ جو اللہ کے نبیوں کی خصوصیت رہی ہے۔ یقین کے تین درجات جہاں تک ایمان کا تعلق ہے ‘ وہ تو صرف زبان کے اقرار اور دل کی تصدیق کا نام ہے ‘ جس میں علمی اعتراف بھی کافی ہوتا ہے۔ لیکن یقین اس سے بڑھ کر ایک چیز کا نام ہے ‘ جسے اہل علم تین کیفیتوں کے حوالے سے جانتے ہیں۔ کبھی وہ علم الیقین ہوتا ہے ‘ کبھی عین الیقین اور کبھی حق الیقین۔ اس کو مثال سے یوں سمجھئے کہ آدمی دور سے کسی اٹھتے ہوئے دھوئیں کو دیکھتا ہے تو اس کے اندر ایک یقین پیدا ہوتا ہے کہ کہیں آگ سلگ رہی ہے اور اس یقین کی بنیاد یہ علم ہوتا ہے کہ دھواں ہمیشہ آگ ہی سے اٹھتا ہے۔ اسے علم الیقین کہتے ہیں۔ اگر یہ دیکھنے والا جہاں آگ سلگ رہی ہے وہاں جا کر اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ واقعی آگ سلگ رہی ہے۔ اب اسے جو آنکھوں سے دیکھنے کے بعد یقین حاصل ہوگا ‘ اسے عین الیقین کہتے ہیں۔ پھر اگر وہ اس آگ میں انگلی ڈال کر دیکھے اور اس کی انگلی جل جائے تو آگ کی یہ تپش اور انگلی کی جلن اس کو جو یقین دے گی ‘ اسے حق الیقین کہتے ہیں۔ اللہ کے نبی ان تینوں طرح کے یقینوں سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ فلسفی اور پیغمبر میں فرق یہاں ایک اور بات بھی ذہن میں رہے کہ اندازوں ‘ ظن وتخمین اور قیاسات کی مدد سے بعض علمی نتائج تک پہنچ جانا اور غور و فکر کے نتیجے میں بعض تصورات قائم کرلینا ‘ یہ کسی بھی پڑھے لکھے آدمی اور کسی بھی فلسفی کے لیے ہر وقت ممکن ہے اور تمام فلسفی ہمیشہ اسی سے کام لیتے ہیں۔ لیکن ایک فلسفی میں اور اللہ کے رسول میں یہ فرق ہوتا ہے کہ فلسفی اگر اپنی علمی حدود سے واقف ہے تو وہ اپنے نتائج فکر کو یہ کہہ کر پیش کرے گا کہ میرا گمان ہے کہ ایسا ہوگا۔ لیکن میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ واقعی ضرور ایسا ہوگا کیونکہ اس کی فکری کاوشیں اسے ایک گمان تو دے سکتی ہیں ‘ یقین نہیں دے سکتیں۔ لیکن اللہ کے نبی چونکہ غور و فکر کی نعمت کے ساتھ ساتھ وحی الٰہی اور ملکوت کے مشاہدے سے بھی نوازے جاتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ انھیں یقین و اذعان کی دولت سے مشرف فرماتے ہیں اور یہی وہ یقین کی قوت ہے ‘ جس کی وجہ سے وہ دنیا بھر کی مخالفتوں کا سامنا کرتے ‘ دکھ اٹھاتے اور مصیبتیں برداشت کرتے ہیں ‘ لیکن انھیں کبھی ایک لمحے کو بھی یہ خیال نہیں آتا کہ ممکن ہے ہماری دعوت وہ نتائج پیدا نہ کرے جس کا ہم دعویٰ کرتے ہیں کیونکہ وہ اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی ایک ایک بات کے بارے میں پوری طرح یقین کی دولت سے بھرپور ہوتے ہیں اور پھر یہی وہ دولت ہے ‘ جو دنیا میں تقسیم ہوتی اور برگ و بار پیدا کرتی ہے اور قیامت تک اسی سے ہدایت کے پھول کھلتے رہیں گے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو ایسے ہی یقین و اذعان کی دولت سے مالا مال فرمایا گیا تھا اور اسی کے نتیجے میں آپ سے وہ حیران کن کارنامے ظہور پذیر ہوئے جو اگر ایک طرف آپ کی عبدیت کی ہمیشہ زندہ رہنے والی مثالیں ہیں تو دوسری طرف اللہ پر بےپناہ یقین اور اذعان کا اظہار بھی ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اللہ پر یقین و ایمان اللہ کی توحید کی دعوت کے نتیجے میں جن اذیتوں سے آپ کو گزرنا پڑا ‘ حتیٰ کہ آپ کو آگ کے الائو میں ڈال کر جلانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن ایسے ہر نازک موقع پر آپ نے اللہ پر جس بےپناہ اعتماد کا ثبوت دیا وہ سراسر اللہ پر یقین اور اذعان ہی کا نتیجہ تھا۔ کیونکہ انسانی ہمت ‘ استقامت ‘ صبر اور استقلال کی ایک حد ہے جس سے آگے بڑھنا پڑے تو انسانی قوت کو شکست ہونے لگتی ہے۔ لیکن اللہ کا نبی بالخصوص حضرت ابراہیم۔ ‘ جس طرح ان مراحل سے آسانی سے گزرے ‘ وہ صرف اللہ کے ساتھ ان کے قریبی تعلق اور اس پر بےپناہ یقین اور اعتماد کا نتیجہ تھا۔ اس سے بڑھ کر اور زندہ مثال کیا ہوگی کہ جب آپ کو آگ کے الائو میں پھینکا جانے لگا تو روایات میں آتا ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور آکر کہا : ” اے اللہ کے خلیل ! سامنے آگ کا الائو روشن ہے۔ چند لمحوں کے بعد آپ اس کی نذر ہونے والے ہیں۔ اتنی بڑی آگ میں گرائے جانے کے بعد بچ جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تو کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ میں یہ آگ کا الائو بجھا دوں یا آپ کو اٹھاکر لے جاؤں یا کسی اور طرح آپ کی مدد کروں ؟ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس نازک موقع پر بھی کس قدر ایمان محکم کا ثبوت دیا ‘ نہایت اطمینان سے فرمایا : ” جبرائیل ! یہ بتایئے پروردگار میری حالت سے آگاہ ہیں یا نہیں ؟ اگر وہ آگاہ ہیں اور یقینا ہیں ‘ کیونکہ کوئی چیز ان کے علم سے باہر نہیں تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں ان کی بجائے آپ سے مدد طلب کروں ؟ اگر انھیں میرا بچانا منظور ہے تو خود بچا لیں گے اور اگر منظور نہیں تو پھر مجھے بھی منظور نہیں “۔ موت کو سامنے دیکھتے ہوئے یہ اطمینان اور اللہ پر بےپناہ بھروسہ ‘ یہ ابراہیمی یقین ہے ‘ جو آج بھی اس امت میں ایک ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اقبال نے اسی کی مثال دیتے ہوئے کہا ؎ یقیں مثل خلیل آتش نشینی یقیں اللہ مستی خود گزینی سن اے تہذیب حاضر کے گرفتار غلامی سے بتر ہے بےیقینی یہ یقین و اذعان کی اعلیٰ ترین مثال ہے ‘ جس سے اللہ کے رسول نوازے جاتے ہیں اور اسی قوت کے بل بوتے پر وہ اللہ کے دین کی دعوت دیتے ہیں اور اس راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کرتے ہیں۔ لیکن یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ یقین و اذعان کی یہ نعمت اللہ کے نبیوں کی معرفت اہل دنیا کو نصیب ہوتی ہے اور اسی دولت کو لٹانے کے لیے دنیا میں اللہ کے رسول مبعوث کیے جاتے ہیں۔ کیونکہ جب تک دنیا اس دولت سے بہرہ ور نہیں ہوتی ‘ اسے اللہ کی صفات کی معرفت تو کیا نصیب ہوگی ‘ وہ اس کی ذات سے معمولی تعلق بھی پیدا نہیں کرسکتی اور اس کے نتیجے میں ان کی زندگی کا پورا نظام اور زندگی کے تمام اہداف بےسمت اور بےمنزل ہو کر رہ جاتے ہیں۔ انسان اپنی زندگی کے حقیقی مقاصد سے بیگانہ ہو کر بہیمانہ زندگی اختیار کرلیتا ہے۔ لیکن اس کا آغاز اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اللہ کے نبی اور رسولوں پر ایمان لایا جائے۔ چناچہ ہر نبی سب سے پہلے ایمان کی دعوت دیتا ہے۔ جو اس دعوت کو قبول کرلیتا ہے ‘ وہ اس راستے کا مسافر بن جاتا ہے اور پھر بقدر ہمت اور بقدر توفیق اس راستے میں منازل طے کرتا چلا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی یہی دعوت اپنی قوم کے سامنے پیش کی اور انھیں اللہ پر آخرت پر اور اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دی اور انھیں سمجھانے کی کوشش کی کہ تم جو مشرکانہ زندگی اختیار کرچکے ہو ‘ اس کی تمہاری زندگی میں کوئی گنجائش نہیں جبکہ تم اللہ کو مانتے ہو اور یہ سمجھتے ہو کہ اس کائنات کا خالق وہی ہے اور ساری قوتیں اسی کے پاس ہیں تو پھر تم نے یہ چھوٹے بڑے اس کے ساتھ شریک کیوں بنا رکھے ہیں ؟ تم مظاہرِ قدرت کو کس طرح اس کی قوتوں میں شریک سمجھتے ہو ‘ حتیٰ کہ تم نے انہی کو اور ان کا اوتار سمجھ کر بادشاہ کو اپنا رب بنا رکھا ہے اور انہی کی پوجا کرتے ہو اور پوری زندگی کے معاملات تم نے انہی کے ہاتھ میں دے رکھے ہیں۔ جب آپ یہ دعوت لے کر اٹھے تو آپ نے اس کے لیے جو طریقہ اختیار فرمایا ‘ وہ دعوت کے عام طریقوں سے ہٹا ہوا طریقہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اپنے اندر چند خصوصیات رکھتی تھی اور دراصل یہ ان کی خصوصیت نہیں ہر قوم کا ایک خاص مزاج ہوتا ہے اور اس کی چند نمایاں خصوصیات ہوتی ہیں۔ اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کی بھی چند خصوصیات تھیں۔ ان میں سے دو بہت نمایاں تھیں۔ ایک یہ کہ وہ کسی بات کو قبول کرنے سے پہلے حجت بازی سے کام لیتی تھی۔ ہر بات کو سمجھنے کے لیے دلیل طلب کرنا اور پھر دلیل میں الجھائو پیدا کرنا اور میں میخ نکالنا ‘ یہ ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا اور معلوم ہوتا ہے کہ ہر چھوٹا بڑا اس عادت بد کا شکار تھا۔ چناچہ قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ خود بادشاہِ وقت ‘ جو نمرود کے نام سے معروف ہے۔ اس سے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملاقات ہوئی تو اس نے بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے اس بات پر دلیل طلب کی کہ رب تو میں ہوں ‘ تم کس رب کی ربوبیت کی دعوت دیتے ہو ؟ تو آپ نے فرمایا کہ میرا رب تو وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ یعنی زندگی اور موت اس کے قبضے میں ہے۔ تو اس الجھے ہوئے دماغ والے نے کہا کہ یہ دونوں کام تو میں بھی کرسکتا ہوں۔ ایک بےگناہ کو مار ڈالا اور ایک پھانسی کے مستحق کو رہا کردیا۔ کہا دیکھو ! میں بھی زندہ کرسکتا ہوں اور مار سکتا ہوں۔ حضرت ابراہیم سمجھ گئے کہ یہ شخص بات کو الجھانا چاہتا ہے اور سیدھے طریقے سے سمجھنا شاید اس کے بس میں نہیں۔ اس لیے آپ نے اپنی دلیل پر اصرار کی بجائے فوراً ایک دوسری دلیل پیش کی ‘ جس میں الجھائو پیدا کرنا نمرود کے لیے آسان نہ تھا۔ آپ نے فرمایا کہ میرا رب تو وہ ہے جو مشرق سے سورج کو نکالتا ہے۔ تم اگر رب ہو تو مغرب سے نکال کر دکھائو۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ اب یہ کافر مبہوت اور ہکا بکا ہو کر رہ گیا۔ اس واقعے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس قوم کے چھوٹے بڑے لوگوں کا یہ ایک مخصوص مزاج تھا۔ دوسری ان کی خصوصیت یہ تھی کہ جب وہ کسی بات کو ماننا نہیں چاہتے تھے یا دلیل سے مطمئن نہیں ہوتے تھے تو مشتعل ہو کر لڑنے مرنے کو تیار ہوجاتے تھے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ اصل بات اور اصل دعوت دھری کی دھری رہ جاتی اور لڑائی کا خاتمہ اور حالات کا سدھار ایک مسئلہ بن جاتا ‘ لوگ اسی میں الجھ کے رہ جاتے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چونکہ اپنی قوم کے مزاج سے آشنا تھے۔ اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے دعوت پیش کرتے ہوئے ان چیزوں کا پوری طرح خیال رکھا۔ انھوں نے کوشش کی کہ میں اپنی دعوت مدلل انداز میں قوم کے سامنے پیش کروں۔ لیکن دلیل کا انداز ایسا ہونا چاہیے ‘ جسے الجھانے کا ان کو موقع نہ مل سکے اور دھیرے دھیرے اپنی دلیل کو اس طرح آگے بڑھایا جائے کہ وہ خود اس کی گرفت میں آ کر رہ جائیں اور دوسری یہ بات کہ انداز ایسا اختیار کیا جائے ‘ جس میں ان کو مشتعل ہونے کا موقع نہ ملے۔ بجائے اس کے کہ براہ راست انھیں دعوت دی جائے اور ان کے عقائد باطلہ کی تردید کی جائے۔ بات کو خود کلامی کے انداز میں ‘ لیکن انھیں سنا کر پیش کیا جائے۔ چناچہ آگے آنے والی آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کو جس طرح مدلل انداز میں پیش فرمایا ہے ‘ اس میں یہ دونوں احتیاطیں صاف نظر آتی ہیں اور اگر ان کو ذہن میں رکھا جائے تو دلیل کا اسلوب سمجھنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔ اس سے پیشتر کہ ہم ان آیات کو پڑھیں اور اس پر غور کریں ایک اور بات بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ گزشتہ سے پیوستہ آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ پر ایمان لانے کی دعوت اپنے باپ کے سامنے پیش کرچکے ہیں اور ان کے عقائد باطلہ کی تردید بھی فرما چکے ہیں تو یہاں کیا اس کا اعادہ کیا جا رہا ہے یا کوئی نئی بات کہی جا رہی ہے ؟ بات اصل میں یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی جب ہم تاریخ دعوت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو سب سے پہلے خاموش تبلیغ کا حکم دیا گیا اور جستہ جستہ لوگوں تک بات پہنچانے کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد اپنے قریبی عزیزوں کو دعوت دینے کا حکم دیا گیا۔ عام دعوت کا حکم بہت دیر سے آیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بالعموم انبیاء کی دعوت ان تین مراحل سے ہو کر گزرتی ہے۔ یقینا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کو بھی انہی تینوں مراحل سے گزارا گیا ہوگا۔ یہاں اب جو دعوت پیش کی جا رہی ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تیسرا اور آخری مرحلہ ہے۔ یعنی عام لوگوں میں دعوت کا آغاز کیا گیا ہے۔ لیکن اس کی ابتداء آنحضرت ﷺ کی طرح ایک پہاڑی پر چڑھ کر نہیں کی گئی بلکہ آہستہ آہستہ خاص انداز میں لوگوں میں نفوذ اختیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسی لیے کبھی ہمیں یہاں رات کو دعوت دینے کا منظر نظر آتا ہے اور کبھی دن کو اور کبھی ستارے کو مدار دلیل بنایا جا رہا ہے اور کبھی چاند اور سورج کو۔ یہ وضاحتیں پیش نظر رہیں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے انداز تبلیغ کو سمجھنے میں دشواری پیش نہیں آتی۔ اب ہم ان آیات کو پڑھتے ہیں۔